خطبات

مضمون 1 : گُناہ

[1-1] <مرقس ۷ :۸- ۹, ۲۰- ۲۳> ہمیں یقیناً رہائی پانے کے لئےپہلے اپنے گناہوں کو جاننا چاہئے

<مرقس ۷ :۸- ۹>
’’’تم خُدا کے حکم کو ترک کر کے آدمیوں کی روایت کوقائم رکھتے ہو –– جیسے پیالوں اور لوٹوں اور تانبے کے برتنوں کو دھونا ۔اور اُس نے اُن سے کہا تم اپنی روایت کو ماننے کے لئے خُدا کے حکم کو بالکل رَدّکر دیتے ہو۔‘‘‘
 
 <مرقس ۷: ۲۰- ۲۳>
’’پھر اُس نے کہا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی اُس کو ناپاک کرتا ہے۔کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے بُرے خیال نکلتےہیں۔حرامکاریاں۔چوریاں۔خونریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔شہوت پرستی۔بدنظری۔بدگوئی۔شیخی۔بیوقوفی۔یہ سب بُری باتیں اندر سے نکل کرآدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔‘‘‘
 
 
سب سے پہلے، میں وضاحت کرنا چاہوں گاکہ گناہ کیا ہے۔ خُدا کی طرف سے بیان کیے گئے گناہ اورانسان کی طرف سے بیان کیے گئے گناہ موجود ہیں۔ قدیم یونانی زبان میں لفظ گناہ ، )ہیمرشیا( αμαρτία ‘ کا مطلب ’نشان سے ہٹ جاناہے۔دوسرے لفظوں میں،اِس کا مطلب کچھ غلط کام کرنا ہے۔ خُدا کے حکموں کی نافرمانی گناہ ہے۔آئیں ہم بنیادی طور پر گناہ کے بارے میں اِنسانی نقطۂ نگاہ کو دیکھیں۔
 
گناہ کیا ہے؟
گناہ خداوند خداکے حکموں کی
نافرمانی ہے۔
                    
ہم اپنے ضمیرکی وجہ سے گناہ کوپہچانتے ہیں۔تاہم، ہرانسان کا معیار کسی شخص کے معاشرتی پس
منظر، ذہنی حالت، موجودہ حالات اور ضمیر کے مطابق مختلف ہے۔
یوں، مختلف افراد کے درمیان گناہ کی تعریف مختلف ہے۔ ہر شخص کے ذاتی معیار پرانحصارکرتے ہوئے ایک ہی عمل گناہ خیال کیا جا سکتا ہے یا نہیں بھی کیا جا سکتا۔ اِس بنا پر یہ ہے کیوں خداوند خداہمیں گناہ کے حتمی معیار کے طور پراستعمال ہونے والی شریعت کی۶۱۳شقیں عطاکر چُکا ہے۔
زیرِ نظر خاکہ نسلِ انسانی کے گناہوں کوظاہر کرتا ہے۔
 
خُدا کی شریعت
آدمی کا ضمیر، اخلاق اور
 معاشرتی معیار
قومی آئین، معاشرتی آئین
 
ہمیں کبھی معاشرتی معیار پرمبنی یعنی اپنے ذاتی ضمیروں کے او پرگناہ کا معیارمقرر نہیں کرنا چاہئے۔
 ہمارے ضمیر وں کے گناہ اُن سےمیل نہیں کھاتے، جنہیں خداوند خدابطور گناہ بیان کر چُکا ہے۔ اِس لئے، ہمیں کبھی اپنے ضمیر کی بات نہیں سُننی چاہئے، بلکہ گناہ کے معیا ر کی بنیاد خداوند خداکے احکام پر رکھنی چاہئے۔
ہم میں سے ہر شخص کے پاس اپنا ذاتی خیال ہے کہ گناہ کیا ہے۔کچھ لوگ اِسے اپنی خامیاں خیال کرتے ہیں جبکہ دوسرے لوگ اِسے بگڑےہوئے روّیے کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کوریا میں، لوگ اپنے والدین کی قبروں پر گھاس اُگاتے ہیں اوربذاتِ خود اپنی موت تک اُس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری اُٹھاتے ہیں۔ لیکن پاپیونیوگنی کے قدیم قبیلوں میں سے ایک قبیلہ، اپنے مردہ والدین کا احترام اپنے خاندانی لوگوں کے ساتھ لاش کی ضیافت اُڑانے کے ذریعے کرتے ہیں(میں پُر یقین نہیں کہ آیاوہ لاش کو کھانے سے پہلے پکاتے ہیں یا نہیں )۔مجھے یقین ہے کہ وہ لاش کو کیڑوں کی خوراک بننے سے روکتے ہیں۔ ایسے رسم و رواج ثابت کرتے ہیں کہ گناہ کے متعلق انسانی خیالات وسیع پیمانہ پر اختلاف کرتے ہیں۔
کسی ایک معاشرے میں کوئی نیک عمل کسی دوسرے معاشرے میں جہالت خیال کیا جا سکتا ہے۔تاہم، کتابِ مقدّس ہمیں بتاتی ہے کہ خداوند خداکے احکام کی نافرمانی گناہ ہے۔’’’ تم خُدا کے حکم کو ترک کر کے آدمیوں کی روایت کوقائم رکھتے ہو––جیسے پیالوں اور لوٹوں اور تانبے کے برتنوں کو دھونا۔اور اُس نے اُن سے کہا تم اپنی روایت کو ماننے کے لئے خُداکے حکم کو بالکل رَدّکر دیتے ہو۔‘‘‘ (مرقس ۷: ۸- ۹)۔ خدا خداوند ٰ کے سامنے ہماری جسمانی شکل و صورت کی کوئی اہمیت نہیں کیونکہ وہ ہمارے باطنوں کے اندرجھانکتاہے۔
 
 
خداوند خداکے سامنے کسی شخص کا ذاتی معیار گنا ہ ہے
 
سب سے زیادہ سنجیدہ گناہ کیا ہے؟
اِس بنا پر یہ خداوند خداکے کلام کی تحقیرہے۔
 
خداوند خداکے سامنے اُس کی مرضی کے مطابق جینے میں ناکام ہونا گناہ ہے۔ یہ عمل اُس کے کلام پر ایمان نہ لانے کے برابر ہے۔ خداوند خدانےفرمایا کہ فریسیوں کی مانند زندگی بسر کرنا گناہ ہےجنہوں نے خداوند خداکے احکام کورَدّ کردیا اور اپنی روایتی تعلیمات کو زیادہ اہمیت دی ۔ یسوؔع نے فریسیوں کو ریاکارکہا۔
کس خُداپرتم ایمان رکھتے ہو؟ کیا تم واقعی میری عزت و تمجید کرتے ہو؟ تم میرے نام پر توفخر کرتے ہو لیکن کیا تم دل سے میری تعظیم کرتے ہو؟‘‘ لوگ محض ظاہر ی صورت دیکھتے ہیں اور اُس کے کلام کی تحقیر کرتے ہیں۔سب سے بڑا گناہ اُس کے کلام کی تحقیر ہے۔کیا آپ اِس بات سے واقف ہیں؟
ہماری تقصیریں جو ہماری کمزوریوں سے پیدا ہوتی ہیں محض خطائیں ہیں۔ وہ غلطیاں جو ہم کر لیتے
ہیں اور وہ خطائیں جو ہم اپنی ناکاملیت کی وجہ سے کرتے ہیں کوئی بنیادی گناہ نہیں، بلکہ قصور ہیں۔ خداوند خداگناہوں اور خطاؤں میں امتیاز کرتا ہے۔وہ لوگ جو اُس کے کلام کی تحقیر کرتے ہیں گناہ گارلوگ ہیں،حالانکہ گو وہ کوئی قصور نہیں کرتے۔ وہ خداوند خداکے سامنے بہت بڑے گناہ گار ہیں۔یہ اِس بنا پر ہے کیوں یسوؔع فریسیوں کو ڈانٹتا تھا۔
توریت میں، پیدایش سے استثنا کی کتاب تک، ایسے احکام موجود ہیں جو ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرناچاہئے۔ وہ خداوند خداکا کلام یعنی اُس کے احکام ہیں۔شاید ہم اُن پر سو فیصد عمل کرنے کے قابل نہ ہوں،لیکن ہمیں اُنہیں اُس کے احکام کے طور پرماننا چاہئے۔ وہ ہمیں شروع ہی سے سارے احکام دے چُکا ہے اور ہمیں یقینا ً اُنہیں خداوند خداکے کلام کے طور پر قبول کرنا چاہئے۔
ابتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھااور کلام خُدا تھا۔“اِس موقع پر اُس نےفرمایا، ”روشنی ہو جا اور روشنی ہو گئی ( پیدائش۱:۳ )اُس نے سب چیزیں پیدا کیں۔اور اِس کے بعد،اُس نے شریعت کو قائم کیا۔
اور کلام مجسّم ہوا اور ہمارے درمیان رہا، اور کلا م خُدا تھا (یوحنا ۱ : ۱ ، ۱۴) ۔پھر کس طرح خداوند خداخودکو ہم پر ظاہرکرتاہے؟وہ اپنےآپ کو اپنے احکام کے وسیلہ سے ہم پر ظاہر کرتا ہے کیونکہ خُدا کلام اور رُوح ہے۔اِس لئے ہم کتابِ مقدّس کوبھلا کیا کہتے ہیں؟ ہم اُسے خداوند خداکا کلام کہتے ہیں ۔
یہاں یوں ارشاد ہے،تم خداوند خداکے حکم کو ترک کرکے آدمیوں کی روایت کو قائم رکھتے ہو۔“اُس کی شریعت میں ۶۱۳شِقیں ہیں۔مثلاً یہ کرو اور وہ نہ کرو، اپنے والدین کی عزت کرو۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ۔احبار کی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ مردوں اور عورتوں کو کیسے رہنا چاہئے اوراگر کوئی پالتو جانور گڑھے میں گر جائےتوکیاکرناچاہئے۔ ۔ ۔ یوں اُس کی شریعت میں ایسی۶۱۳شِقیں موجود ہیں۔
چونکہ وہ آدمیوں کے الفاظ نہیں ہیں، ہمیں اُن کے متعلق بار بارسوچناچاہئے۔گو ہم اُس کی ساری شریعت پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہیں،تو ہمیں کم ازکم اُنہیں ماننا چاہئے اور خداوند خداکی تابعداری کرنی چاہئے۔
کیا خداوند خداکے کلام میں کوئی ایک بھی حوالہ ہے جو درست نہیں؟ فریسیوں نےخداوند خداکے احکام کوبالائے طاق رکھ دیا اور اُس کے احکام سے بالاتر آدمیوں کی روایت کو قائم رکھا۔ اُن کے بزرگوں کی باتیں خداوند خداکے کلام سے زیادہ وزن رکھتی تھیں۔ جب یسوؔع زمین پر تھا،تویہی حالت تھی جواُس نے دیکھی،اور جس بات نے اُسے سب سے زیادہ تکلیف پہنچائی وہ یہ تھی کہ لوگ خداوند خدا کے
کلام کو نظر انداز کرتے تھے۔
خداوند خداہمیں شریعت کی۶۱۳شِقیں اپنے گناہ پہچاننے، اوریہ دکھانے کے لئے عطا کر چُکا ہے
کہ وہ سچا،یعنی ہمارا قدوس خُدا ہے۔چونکہ ہم سب اُسکے سامنے گناہ گار ہیں، ہمیں ایمان کےتوسط سے زندہ رہنا چاہئےاوریسوؔع پر ایمان لانا چاہئے، جوخداوند خداکی طرف سےہمارے پاس ہماری خاطر اُس کی محبت کی وجہ سے بھیجا گیا۔
ایسے لوگ جو اُس کے کلام کوبالائے طاق رکھتے ہیں اور اِس پر ایمان نہیں لاتے گناہ گارلوگ ہیں۔ وہ لوگ جو اُس کے کلام پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہیں وہ بھی گناہ گار ہیں، تاہم اُس کے کلام کوبالائے طاق رکھنا زیادہ بڑا گناہ ہے۔ وہ لوگ جو ایساگھناؤنا پاپ کرتے ہیں جہنم میں جائیں گے۔اُس کے کلام پرایمان نہ لانا،اُس کے سامنے گمبیھر گناہ ہے۔
 
 
یہ وجہ کہ کیوں خداوند خدانے ہمیں شریعت عطا فرمائی
 
کیوں خداوند خدانےہمیں شریعت
عطا فرمائی؟
تاکہ ہم اپنے گناہوں اور اُن کی سزا کو
اچھی طرح جان لیں
 
اِس بنا پر کیا وجہ تھی کہ خداوند خدانے ہمیں شریعت عطا فرمائی؟اِس بنا پر ہمیں اپنے گناہوں کو اچھی طرح جاننا اور اُس کی طرف رجوع لانا تھا۔ اُس نے ہمیں شریعت کی۶۱۳شِقیں عنایت کیں تاکہ ہم اپنے گناہوں کو جان سکیں اور یسوؔع مسیح کے وسیلہ سے چُھٹکارا حاصل کرسکیں۔ اِس بنا پر یہ ہے کیوں خداوند خدانے ہمیں شریعت عطا فرمائی ۔
رومیوں ۳: ۲۰ بیان کرتا ہے،’’ شریعت کے وسیلہ سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے ۔‘‘
لہٰذا ہم جانتے ہیں کہ خداوند خداکا ہمیں شریعت دینے کا مقصد یہ نہیں تھاکہ ہم مجبوراًاِس کے مطابق زندگی بسر کریں۔
اِس صورت میں ،وہ کونسا علم ہے جو ہم شریعت سے حاصل کرتے ہیں؟ہم سیکھتے ہیں کہ ہم شریعت کی پوری پیروی میں مکمل طور پر کمزور ہیں اور ہم خداوند خداکے سامنے گمبیھرگناہ گار ہیں۔اِس بنا پر ہم اُس کی شریعت کی ۶۱۳شِقوں سےبخوبی کیا جانتےہیں؟ ہم اپنی خامیوں اوراُس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے میں اپنی نااہلی کو اچھی طرح سے جانتے ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہم، خداوند خداکی مخلوق،یعنی انتہائی کمزور لوگ ہیں اوراِسی طرح ہم، اُس کے سامنے گمبیھر گناہ گاربھی ہیں۔ ہم سب کو اُس کی شریعت کے عین مطابق جہنم میں ختم ہو جاناچاہئے۔
جب ہم اپنے گناہوں اور اُس کی شریعت کے مطابق زندہ رہنے کی نا اہلیت کو پہچانتے ہیں، تو پھر
ہم کیا کرتے ہیں؟کیا ہم کامل انسان بننے کی کوشش کرتے ہیں؟ جی نہیں۔ ہمیں یقینا ً تسلیم کرنا چاہئے کہ ہم گناہ گار ہیں، یسوؔع پر ایمان لاناچاہئے، اُس کی پانی اور رُوح کی نجات کی بدولت چُھٹکارہ پانا چاہئےاوراُس کا شکرادا کرناچاہئے۔
اُس کے پاس ہمیں شریعت دینے کا سبب یہ تھا کہ ہم اپنے گناہوں کو جانیں اور اُن گناہوں کی سزا سے واقف ہو جائیں ۔یوں، ہم جانتے ہیں کہ یسوؔع کے بغیر جہنم سے بچنا ناممکن تھا۔ اگر ہم یسوؔع پر نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتے ہیں، تو ہم نجات پائیں گے۔ اُس نے ہمیں نجات دہندہ یسوؔع کے پاس لے جانے کے لئے شریعت عطا کی ۔
خداوند خدانے ہمیں یہ احساس دلانے کے لئے کہ ہم کس قدر گناہ گار ہیں اورہماری جانوں کو ایسے گناہ سے بچانے کی خاطر شریعت خلق کی۔ اُس نے ہمیں شریعت بخشی اور ہمیں بچانےکی خاطر ،اُس نے اپنے اکلوتے بیٹے، یسوؔع کو بھیجا کہ اپنے بپتسمہ کی وساطت سے ہمارے گناہ کو اپنے اوپر اُٹھالے۔ اُس پر ایمان لانا ہمیں بچا سکتا ہے۔
ہم نااُمید گناہ گار ہیں جنہیں یقیناً گناہ سے آزاد ہو نے،اُس کی اولاد بننے اور خداوند خداکو سارا جلال دینے کے لئے یسوؔع پر ایمان لانا چاہئے۔
ہمیں اُس کے کلام کے وسیلہ سے سمجھنا،سوچنا اور پرکھنا چاہئے کیونکہ ہر چیز اُسی سے شروع ہوتی ہے۔ہمیں ضرور ہی اُس کے کلام کے وسیلہ سے کفارہ کی سچائی کوسمجھنا چاہئے۔ یہی درست اور سچا ایمان ہے۔
 
 
نوع اِنسان کےباطن میں کیا ہے؟
 
ہمیں خداوند خداکے سامنے کیا کرنا چاہئے؟
ہمیں اپنے گناہوں کو ماننا چاہئے اور
خداوند خداسےہمیں بچانے کی درخواست کرنی چاہئے۔
 
ایمان کا آغاز خداوند خداکے کلام کے سَنگ ہونا چاہئے اور ہمیں اُس کے کلام کے وسیلہ سے اُس پر ایمان لانا چاہئے۔اگر ایسا نہیں ہو گا، تو ہم فریب کا شکا ر ہو جائیں گے۔ یعنی ایسا ایمان غلط اور جھوٹاایمان ہوگا۔
جب فقیہوں اور فریسیوں نے یسوؔع کے شاگردوں کوگندے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھاتے دیکھا تو وہ ہرگز اُ ن پر ملامت نہ کرتے اگر وہ خداوند خداکے کلام کے نقطہء نگاہ سے اُن پر نظر کر چُکے ہوتے۔ کلام ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی چیز جو باہر سے آدمی کے اندر جاتی ہے اُسے ناپاک نہیں کر سکتی اِس لئے کہ وہ دل میں نہیں جاتی بلکہ پیٹ میں جاتی ہے اور مزبلہ میں سے نکل جاتی ہے۔
جیسا کہ مرقس ۷ : ۲۰- ۲۳میں ارشاد ہے،پھر اُس نے کہا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی اُس کو ناپاک کرتا ہے ۔کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے برےخیال نکلتے ہیں ۔حرامکاریاں۔چوریاں۔خُون ریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔شہوت پرستی ۔ بدگوئی۔ شیخی۔بیوقوفی۔یہ سب بُری باتیں اندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔“ یسوؔع نے فرمایا کہ سب لوگ گناہ گارہیں کیونکہ وہ گناہ کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اِس کا کیامفہوم ہے۔ ہم سب گناہ گاروں کے طور پر پیدا ہوتے ہیں کیونکہ ہم سب آدؔم کی نسل ہیں۔لیکن ہم سچائی کو دیکھ نہیں سکتے اِس لئے کہ ہم اُس کے پورے کلام کو نہ قبول کرتے ہیں اور نہ ہی اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔تب،انسانی دل کے اندر کیا ہے؟
بالائی حوالہ بیان کرتا ہے،’’ کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے برے خیال نکلتے ہیں۔ حرامکاریاں۔
چوریاں۔خونریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔شہوت پرستی۔بدگوئی۔ شیخی۔ بیوقوفی۔یہ سب بری باتیں اندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔‘‘ تمام قسم کی بدیاں لوگوں کے دل میں سے نکلتی ہیں اور اُنہیں ناپاک کرتی ہیں۔
زبور میں یہ بات درج ہے،’’ جب میں تیرے آسمان پر جو تیری دستکاری ہے اور چاند اور ستاروں پر جن کو تُو نے مقرر کیا غور کرتا ہوں تو پھر انسان کیا ہے کہ تُو اسے یاد رکھے اور آدم زاد کیا ہے کہ تُو اُس کی خبر لے؟‘‘(زبور ۸ : ۳ - ۴)۔
خداوند خداکیوں خودہم سے ملتا ہے؟وہ ہم سے اِس لئےملتا ہے کیونکہ اُس نے ہم سے محبت کی، ہمیں خلق کیا اور ہم گناہ گاروں پر ترس کھایا۔ اُس نے ہمارے تمام گناہ دھوڈالے اور ہمیں اپنے لوگ بنا لیا۔’’اے خُداوندہمارے خُدا! تیرا نام ساری زمین اور آسمانوں پر کس قدر سر بلند ہے‘‘داؤؔد بادشاہ نے عہدِ عتیق میں یہ زبور اُس وقت گایا جب اُسےبخوبی معلوم ہوا کہ خداوند خداگناہ گاروں کا نجات دہندہ بننے والا ہے ۔
اور عہدِ جدید میں ،پولسؔ رسول نے بھی یہی زبور دہرایا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ہم،خداوند خداکی مخلوق،خالقِ حقیقی کے فرزند بن سکتے ہیں۔ یہ صرف اُس کےہماری خاطر ترس کے باعث ہوا ہے۔یہی خداوند خداکی محبت ہے۔
ہمیں یہ احساس کرنا چاہئے کہ خداوند خداکی شریعت کے مطابق مکمل طور پر زندگی بسر کرنے کی کوشش کرنا ہی اُسے کھلم کھلا چیلنج ہے۔ یہ ایک خود پسند رُجحان بھی ہے جو ہماری جہالت سے پیدا ہوتا ہے۔اُس کی محبت سے باہر زندگی بسر کرنا جبکہ اپنی ذات کے لئے خودہی شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کرنا اور ایسی زندگی کے لئے صبح و شام لگاتار دعا مانگتے رہنا ٹھیک نہیں ہے ۔یہ خداوند خداکی مرضی ہے کہ ہم شریعت کے ماتحت گناہ گاروں کے طور پر اپنے آپ کو پہچانیں اوریسوؔع کے پانی اورخُون کی خلاصی پر ایمان رکھیں۔
 اُس کا کلام مرقس ۷ : ۲۰ - ۲۳ میں یوں مرقوم ہے،پھر اس نے کہا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی اس کو ناپاک کرتا ہے ۔کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے برے خیال
نکلتے ہیں۔حرامکاریاں۔چوریاں۔خونریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔شہوت پرستی ۔ بدگوئی۔ شیخی۔بیوقوفی۔یہ سب بری باتیں اندر سے نکل کر آدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔“
یسوؔع نے فرمایا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے،یعنی اندر کے گناہ ہی اُسے نا پاک کرتے ہیں۔ بِلا
شک گندا کھاناجو خداوند خداہمیں دیتا ہے ہمیں ناپاک نہیں کرسکتا۔تمام مخلوقات پاک ہیں، لیکن صرف وہ چیزیں جو آدمی میں سے نکلتی ہیں، یعنی ہمارے گناہ ،ہی ہمیں ناپاک کرتے ہیں۔ ہم سب پیدائشی طور پر آدمؔ کی نسل ہیں۔ پس، ہم کس کے ہمراہ پیدا ہوتے ہیں؟ہم بارہ قسم کے گناہوں کےسَنگ پیدا ہوتے ہیں ۔کیا یہ بات درست نہیں ہے؟
تب،کیا ہم گناہ کرنےکے بغیر زندگی بسر کرسکتے ہیں؟ ہم گناہ کرنا جاری رکھیں گے اِس لئے کہ ہم گناہ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں۔کیا ہم گناہ کو روک سکتے ہیں محض کیونکہ ہم شریعت سے واقف ہیں؟ کیا ہم حکموں کے مطابق زندگی بسر کر سکتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔
جس قدر ہم زیادہ کوشش کرتے ہیں اُسی قدر یہ ہمارے لئے مشکل ہوتا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی حدود کو جاننا چاہئے اوراپنے پُرانے روّیے کو ترک کر دیناچاہئے۔تب، عاجزانہ ذہن کے ساتھ، ہم یسوؔع کے بپتسمہ اورخُون کو قبول کر سکتے ہیں، جو کہ ہمیں بچاتا ہے۔
شریعت کی تمام۶۱۳شِقیں درست اور راست ہیں۔ لیکن لوگ اپنی ماں کے رَحم میں پڑنے کے وقت ہی سے گناہ گار ہیں۔ جب ہم احساس کرتے ہیں کہ خداوند خداکی شریعت راست ہے مگر ہم بطور گناہ گار پیدا ہوتے ہیں جو کبھی اپنی ذاتی کوشش سے راستباز نہیں بن سکتےتو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمیں خداوند خداکے رحیم ترس اورپانی،خُون اور رُوح کی خُوشخبری کے اندر یسوؔع کی مخلصی کی ضرورت ہے۔جب ہم اپنی حدود کا احساس کریں گے--- یعنی کہ ہم اپنی ذاتی کوشش سے راستبازنہیں بن سکتے اورہم اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے--- تو ہم رہ نہیں پائیں گے بلکہ یسوؔع کی خلاصی پر تکیہ کریں گے۔
ہم آزاد ہو سکتے ہیں۔ہمیں جان لیناچاہئے کہ ہم خداوند خدا کے سامنے اپنی ذاتی کوشش سے راست یا نیک بننے کے قابل نہیں ہیں۔ اِس لئے ،ہمیں خداوند خداکے سامنے اقرار کرنا چاہئے کہ ہم گناہ گار
ہیں جو جہنم جانے کے لائق ہیں اور ہم اُس کے فضل کی خاطر دعا مانگ سکتے ہیں،اے خُدایا مجھے مہربانی سے میرے گناہوں سے بچا اور مجھ پر ترس کھا۔“تب، خداوند خدایقیناًاپنے کلام میں سے ہوکر ہم سے ملے گا۔صرف اِسی طریقہ سے ،ہم آزاد ہو سکتے ہیں۔
آئیں ہم داؤدؔ کی دُعاکو دیکھیں۔’’تاکہ تو اپنی باتوں میں راست ٹھہر ے اور اپنی عدالت میں بے عیب رہے۔‘‘(زبور ۵۱ : ۴)۔
داؤدؔ کومعلوم تھا کہ وہ گناہ کاڈھیرتھا جو اِس قدر بدکار تھا کہ وہ جہنم میں پھینک دیا جاتا، لیکن اُس
نے خداوند خداکے سامنے اقرار کیا،اے خُداوند،اگر تو مجھے گناہ گار کہے تو میں گناہ گارہی ہوں۔ اگر تو مجھے راستباز کہے تو میں راستباز ہوں۔ اگر تو مجھے بچائے تو میں بچوں گا؛ اور اگر تو مجھے جہنم میں بھیج دے تو میں جہنم میں مرجاؤں گا۔“یہی درست ایمان اور نجات پانے کا طریقۂ کار ہے۔
اگر ہم یسوؔع کے کفارہ پر ایمان لانے کی اُمید کرتے ہیں تو یہی طریقہ ہے کہ ہمیں کیسے ہوناچاہئے۔
 
 
ہمیں پوری طرح جاننا چاہئےکہ ہمارے گناہ کیا ہیں
 
چونکہ ہم سب آدؔم کی اولاد ہیں،اِس لئے ہم سب اپنے دل میں بری خواہشات رکھتے ہیں۔ تاہم، خداوند خداہمیں کیا بتاتا ہے؟وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم زناکاری نہ کریں گوکہ ہمارے دل میں زناکاری پائی جاتی ہے۔ہمارے دل میں خُون پایا جاتا ہے، لیکن خداوند خداہمیں کیا بتاتاہے؟وہ ہمیں خُون نہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ہم سب اپنے دل میں اپنے والدین کی تحقیر کرتے ہیں، مگر وہ ہمیں اُن کی عزت کر نے کا حکم دیتا ہے۔ہمیں احساس کرناچاہئے کہ اُس کا کلام راست اور اچھا ہے،لیکن ہم سب کے دلوں میں گناہ پائے جاتے ہیں۔
کیایہ بات ٹھیک ہے یا نہیں؟یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔اِس لئے، ہمیں خداوند خداکے سامنے یقیناً کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں تسلیم کرناپڑے گاکہ ہم سب گناہ کا ڈھیراوربے آسراگناہ گار ہیں۔ ایسا سوچنا درست نہیں کہ کل ہم راستباز تھے اِس لئے کہ ہم نے کل گناہ نہیں کیاتھا،مگر آج ہم گناہ گار ہیں کیونکہ آج ہم گناہ کر چُکے ہیں۔ ہم گناہ گارکے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔چاہے ہم کچھ بھی کرلیں،ہم پھر بھی گناہ گار ہی رہیں گے۔اِس بنا پر یہ ہے کیوں ہمیں یسوؔع کے بپتسمہ پرایمان کے طُفیل سے مخلصی پانی چاہئے۔
ہم اپنے اعمال کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہیں:مثلاًزنا کاری،خُون ، چوری،حرامکاری ۔ ۔ ۔بلکہ ہم اِس لئے گناہ گار ہیں کیونکہ ہم گناہ گار ہی پیدا ہوئے تھے۔ہم بارہ قسم کے گناہوں کےہمراہ پیدا ہوئے تھے اور چونکہ ہم خداوند خداکی نظر میں گناہ گار پیدا ہوتے ہیں،اِس لئے ہم اپنی ذاتی کوششوں کی وجہ سے کبھی نیک نہیں بن سکتے۔ ہم صرف نیک بننے کادکھاوا کر سکتے ہیں۔
ہم گناہ گار ذہنوں کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں،تو ہم کیسے راستبازبن سکتے ہیں حتٰی کہ گو ہم حقیقت
میں اِن گناہوں کونہیں کرتے؟ہم کبھی اپنی ذاتی کوشش سے خداوند خداکے سامنے راستباز نہیں بن سکتے۔ اگر ہم راستباز ہو نے کا دعویٰ کرتے ہیں تویہ ریاکاری ہے۔ یسوؔع نے فقیہوں اور فریسیوں کو ’’اے ریا کارفقیہو اور فریسیو‘‘(متی ۲۳:۲۳)کہا۔بنی نوع انسان گناہ گارکے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنی ساری زندگی خداوند خداکے سامنے گناہ کرتے ہیں۔
ایسا دعویٰ کرنے والا شخص کہ اُس نے کبھی جھگڑا نہیں کیا نہ ہی کسی کو مارایاحتٰی کہ اپنی پوری حیاتی میں کسی کی سوئی تک نہیں چرائی ، جھوٹ بول رہا ہے اِس لئے کہ نوعِ انسان گناہ گاروں کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ ایسا شخص جھوٹا، گناہ گار اور ریاکار ہے۔ اِس بنا پر یہ ہے کہ خداوند خدااُسے کیسےدیکھتا ہے۔
ہرکوئی اپنی پیدائش ہی سے گناہ گار ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ ایک بھی گناہ آلودہ کام نہیں کرتے، تو بھی آپ جہنم کے لائق ہیں۔حتٰی کہ اگر آپ شریعت اور اُسکے بیشتر احکام پر عمل کر چُکے ہیں، تو پھربھی آپ جہنم جانے کے لائق گناہ گار ہیں۔
 تب، ہمیں ایسی منازل کے پیشِ نظر کیا کرنا چاہئے؟ ہمیں ضرور ہی خداوند خداکا فضل مانگنا چاہئےاوراپنے گناہوں سے رہائی پانےکے لئے اُس پرتکیہ کرنا چاہئے۔ اگر وہ ہمیں نہ بچائے، تو ہم جہنم
میں چلے جائیں گے۔یہی ہماری منزل ہے۔
صرف وہ لوگ جو اُس کا کلام قبول کرتے ہیں یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ بے شک گناہ گار تھے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ ایمان کے وسیلہ سے راستبازبن جاتے ہیں۔ لہٰذا، وہ اِس بات سے واقف ہیں کہ ُاس کے کلام کوپہچاننے کے بغیرنظر انداز کرنا اوربالائے طاق رکھنا بالکل گمبیھر گناہ ہے۔وہ لوگ جو اُس کے کلام کو قبول کرتے ہیں راستباز لوگ ہیں ،اگر چہ وہ پہلے گناہ گار تھے۔ وہ اُس کےفضل کےاندراُس کے کلام کے باعث نئے سرے سے پیدا ہوئے تھے اورسب سے زیادہ مبارک لوگ ہیں۔
 
 
وہ لوگ جو اپنے اعمال کی بدولت راستبازی پانے کی کوشش کرتے ہیں ہنوز گناہ گار ہیں
 
 کون لوگ حتیٰ کہ یسوؔع پر ایمان رکھنے
کےبعد بھی ہنوز گناہ گار ہیں؟
وہ لوگ جو اپنے اعمال کی بدولت راستبازی
پا نے کی کوشش کرتے ہیں
 
آئیں ہم گلتیوں۳ : ۱۰ اور ۱۱ آیت کا مطالعہ کریں۔”کیونکہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں ۔چنانچہ لکھا ہے کہ جو کوئی ان سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے۔ اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خُدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔“
  یہاں ارشاد ہے ،’’ ۔ ۔ ۔ جو کوئی ان سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے۔‘‘وہ لوگ جو سوچتے ہیں کہ وہ یسوؔع پر ایمان رکھتے ہیں، مگراپنے اعمال کی وجہ سے راستباز ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں لعنتی لوگ ہیں۔وہ لوگ کہاں ہیں جو اپنے اعمال سے راستباز ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں ؟وہ خداوند خداکی لعنت کے ماتحت ہیں۔
کیوں خداوند خدانے ہمیں شریعت دی؟ اُس نے ہمیں اِس لئے شریعت دی تاکہ ہم اپنے گناہوں کو پہچان سکیں(رومیوں۳ :۲۰ )۔وہ ہم سے یہ بھی چاہتا تھاکہ ہم جانیں کہ ہم مکمل طور پر گناہ گار ہیں جو جہنم جانے کے لائق ہیں۔
یسوعؔ،ابنِ خُدا کے بپتسمہ پر ایمان لائیں،اور پانی اور رُوح سے اَز سرِ نَو پیدا ہوں۔تب، آپ اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہوں گے، راستباز بن جائیں گے، ابدی زندگی حاصل کریں گے، اور آسمان پر چلے جائیں گے۔ اِس بات پراپنے دلوں میں ایمان رکھیں۔
 
 
دُنیامیں سب سے زیادہ بڑا گناہ کیا ہے
  
دُنیامیں سب سے زیادہ
بڑا گناہ کیا ہے؟
شریعت کے مطابق جینے کی کوشش کرنا
 
ہم اُس کی برکت پر ایمان لانے کی وجہ سے مبارک لوگ ہیں۔خداوند خدااُن لوگوں کو بچاتا ہے جو اُس کے کلام پر ایمان لاتے ہیں۔
لیکن آج، ایمانداروں کے درمیان،بہت سارے ایسے مسیحی لوگ ہیں جو خداوند خداکی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ قابلِ تعریف بات ہے کہ وہ شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟
ہمیں یقیناًاحساس کرنا چاہئے کہ اُس کی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کس قدر احمقانہ بات ہے۔ جس قدر ہم زیادہ کوشش کرتے ہیں اُسی قدر یہ کوشش مشکل ہوتی جاتی ہے۔اُس نے فرمایا،’’ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے۔‘‘ ہمیں نجات حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنے تکبر کو دُور کرنے کی ضرورت ہے۔
 
 
ہمیں نجات یافتہ ہونے کے لئے اپنےذاتی معیار ترک کرنے پڑیں گے
 
ہمیں نجات یافتہ ہونے کے
 لئےکیا کرنا چاہئے؟
ہمیں یقیناً اپنے ذاتی معیار ترک کر دینے چاہئے۔
 
کیسے کوئی آدمی نجات یافتہ ہو سکتا ہے؟ یہ صرف تب ممکن ہے جب وہ خود کو گناہ گارآدمی کے طور پر پہچانتا ہے ۔ بہت سارے لوگ ہیں جو ابھی تک نجات یافتہ نہیں ہوئے کیونکہ وہ اپنے غلط عقائد اور کوششوں کو ترک نہیں کر سکتے ہیں ۔
خداوند خدافرماتا ہے کہ جو لوگ شریعت سےلپٹے رہتے ہیں وہ لعنتی ہیں۔ وہ لوگ جواعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ یسوؔع پر ایمان رکھنے کے بعدآہستہ آہستہ شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کے وسیلہ سے راستباز بن سکتے ہیں لعنتی لوگ ہیں۔ وہ لوگ خداوند خداپرتو ایمان رکھتے ہیں ،مگر پھر بھی سوچتے ہیں کہ اُنہیں نجات یافتہ ہونے کے لئے شریعت کے عین مطابق زندہ رہنا پڑےگا۔
پیارے دوستو، کیا ہم اپنے اعمال کی وجہ سے راستبازبن سکتے ہیں؟ ہم صرف یسوؔع کے کلام پر ایمان لانے سے راستباز بنتے ہیں؛ اورصرف تب ہی ہم نجات یافتہ ہوتے ہیں۔ صرف یسوؔع کے بپتسمہ،
اُس کےخُون اور اُس کی الوہیت پر ایمان لانے کی وساطت سے، ہم رَستگار ہوتے ہیں۔
اِس بنا پر یہ ہے کیوں خداوند خدانے ہماری خاطر ایمان کی شریعت کو راستبازبننے کے طریقہ کے طورپر تیار کیا۔ پانی اور رُوح کی مخلصی لوگوں کے اعمال میں نہیں پائی جاتی، بلکہ خداوند خداکے کلام پر ایمان کے اندر پائی جاتی ہے۔ خداوند خدانے ہمیں ایمان کی معرفت آزاد کیا،اور یہ ہے کہ کیسے خداوند خدانے ہماری نجات کا منصوبہ بنایا اوراِسے مکمل کیا۔
کیوں اُن لوگوں نے جو یسوؔع پر ایمان لائے تھے نجات حاصل نہیں کی؟ کیونکہ اُنہوں نے پانی اور رُوح کی خلاصی کے کلام کو قبول نہیں کیا۔ لیکن ہم لوگ جواتنے ہی کمزور ہیں جتنے وہ لوگ تھے ،خداوند خداکے کلام پر اپنے ایمان کی معرفت چُھڑائے جا چُکے ہیں۔
اگر دو شخص چکی پر کام کر تے ہوں گے ، تو حتٰی کہ دوسرے شخص کے اُٹھائے جانے کے بعدبھی
پیچھے رہ جانے والا شخص کام کرتا رہے گا۔پیچھے رہ جانے والا شخص اُس آدمی کی نمائندگی کرتا ہے جو ابھی تک نجات یافتہ نہیں ہوا ۔کیوں ایک شخص اُٹھا لیا گیا اور دوسرا پیچھے چھوڑ دیاگیا ؟
اِس کی وجہ یہ ہے کیونکہ ایک آدمی نے خداوند خداکا کلام سُنااور اُس پر ایمان لایا، لیکن دوسرے آدمی نے شریعت پر عمل کرنے کے لئے سخت محنت کی اور آخر کار جہنم میں پھینک دیا گیا۔وہ شخص خداوند خداتک پہنچنے کی کوشش کررہا تھا، لیکن خداوند خدانے اُسے جھٹک دیا، جیسے کہ گووہ اُس کی ٹانگ پررینگنے والا کیڑا تھا۔اگرکوئی آدمی شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کی بدولت خداوند خداتک پہنچنے کی جدوجہد کرتا ہے، تووہ بِلا شک جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
اِس بنا پر یہ ہے کیوں ہمیں پانی اور رُوح پرایمان کے طُفیل سے مخلصی حاصل کرنی چاہئے ۔
کیونکہ جتنے شریعت کے اعمال پر تکیہ کرتے ہیں وہ سب لعنت کے ماتحت ہیں چنانچہ لکھا ہے کہ جو کوئی ان سب باتوں کے کرنے پر قائم نہیں رہتا جو شریعت کی کتاب میں لکھی ہیں وہ لعنتی ہے۔ اس واسطے کے اس میں خُدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔جیسالکھاہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔“ (گلتیوں۳ : ۱۰- ۱۱ ،رومیوں۱: ۱۷)۔
خداوند خداکے کلام پر ایمان نہ لانا اُس کے سامنے گناہ ہے۔مزید برآں، کسی شخص کےاپنے ذاتی
معیار کی وجہ سے خداوند خداکے کلام کورَدّ کرنا بھی گناہ ہے۔ ہم نوعِ انسان اُسکی شریعت کےمطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے کیونکہ ہم سب گناہ گاروں کے طور پر پیدا ہوتے ہیں اور اپنی پوری زندگیوں میں بِلا توقف گناہ کرتے ہیں۔ اور ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہیں،ہم تھوڑا یہاں ، تھوڑا وہاں گناہ کرتے ہیں۔ ہمیں احساس کرنا چاہئے کہ ہم جسم کی پیداوارہیں اوربچ نہیں سکتے بلکہ گناہ کرتے ہیں۔
بنی نوع انسان پھل کی ایک بڑی بالٹی کی مانند ہیں۔ اگر ہم اُسے اُٹھانے کی کوشش کریں ،تو وہ سارے راستہ میں بکھر جائے گی۔ ہم بھی ایسے ہی ہیں۔ ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہیں ہم گناہ بکھیرتے ہیں۔ کیا آپ اِس کا تصور کر سکتے ہیں؟
کیاآپ اب بھی دکھاوا کریں گے کہ آپ پاک ہیں؟ اگر آپ صریحاً اپنی ذات سے واقف ہیں، تو آپ بےکار میں پاک بننے کی کوشش چھوڑدیں گے اور یسوؔع کے پانی اورخُون پر ایمان لائیں گے۔
وہ لوگ جو ہنوز اَز سرِ نَو پیدا نہیں ہوئے وہ اپنی ضد چھوڑ دیں اور یہ اقرار کریں کہ وہ خداوند خداکے سامنے گمبیھر گناہ گار ہیں۔ تب، اُنہیں لازمی طور پراُس کے کلام کی طرف رُجُوع کرنا چاہئے اور دریافت کرنا چاہئے کہ اُس نے کس طرح اُنہیں پانی اور رُوح کے ساتھ نجات بخشی دی ہے۔