خطبات

مضمون 1 : گُناہ

[1-2] <مرقس۷:۲۰-۲۳> بنی نوع انسان گناہ گار پیدا ہوتے ہیں

<مرقس۷:۲۰-۲۳>
’’پھر اُس نے کہا جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی اُس کو ناپاک کرتا ہے۔کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے بُرے خیال نکلتےہیں۔حرامکاریاں۔چوریاں۔خُون ریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔شہوت پرستی۔بدنظری۔ بدگو ئی۔شیخی۔بیوقوفی۔ یہ سب بُری باتیں اندر سے نکل کرآدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔ ‘‘
 
 
لوگ اُلجھن کا شکار ہیں اور اپنی ہی غلط فہمیوں میں زندہ ہیں
 
کون سا آدمی حسبِ مراد
 نجات یافتہ ہوگا؟
وہ آدمی جو خود کو بد ترین گناہ گار
جانتا ہے
 
سب سے پہلے، میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہوں گا۔آپ اپنے آپ کوکیسے دیکھتے ہیں؟ کیا آپ کا خیال ہے کہ آپ نیک یابد ہیں؟بھلا آپ کیا سوچتے ہیں؟
تمامتر لوگ اپنی ہی غلط فہمیوں میں زندہ ہیں۔ آپ شایداتنے بدکار نہیں ہیں جس قدر آپ سوچتے ہیں،نہ ہی اتنے مکمل نیک ہیں جس قدر آپ سوچتے ہیں۔
لہٰذا، آپ کے خیال میں کون ایمان کی بہتر زندگی گزارے گا؟ کیا یہ وہ آدمی ہو گا جو خود کو نیک سمجھتاہے؟ یا کیا وہ آدمی ہو گا جو خود کوبدکار سمجھتا ہے؟
اِس بنا پر یہ مؤخرالذکرآدمی ہے۔ مجھے آپ سے ایک اور سوال پوچھنے کی اجازت دیں۔کون سا آدمی زیادہ حسبِ مراد نجات یافتہ ہے––آیا وہ آدمی جو زیادہ گناہ کر چُکا ہے یا وہ آدمی ہے جو محض چند ایک گناہ کر چُکا ہے؟ وہ آدمی جو اقرار کرتا ہے کہ وہ اَن گنت گناہ کر چُکا ہے زیادہ امکانی طور پرنجات یافتہ آدمی ہے کیونکہ وہ شخص قبول کرتا ہے کہ وہ ایک گمبیھر گناہ گارہے۔ایسا شخص یسوؔع کی طرف سے اُس کی خاطر تیار کیے گئے خلاصی کے کلام کو بہتر قبول کر سکتا ہے۔
جب ہم درحقیقت خود پر نظر کرتے ہیں،تویہ اَمرظاہر ہے کہ ہم فقط گناہ کاڈھیر ہیں۔ بنی نوع انسان کیا ہیں؟ انسان محض ’’بدکرداروں کی نسل‘‘ ہیں۔ یسعیاہ۵۹میں، کلام فرماتا ہے کہ لوگوں کے باطن میں ،تمام قسم کی بدیاں پائی جاتی ہیں۔ اِس لئے،یہ بات واضح ہے کہ لوگ گناہ کا ڈھیرہیں۔تاہم، اگر ہم نسلِ انسانی کو گناہ کے ڈھیر کے طور پر بیا ن کریں، تو بہت سارے لوگ اتفاق نہیں کریں گے۔لیکن، کسی شخص کو ’بدکرداروں کی نسل‘کے طور پر بیان کرنا ہی صحیح تعریف ہے۔ اگر ہم دیانتداری سے خود پر نظر کریں، تویہ بات مبینہ طور پر ظاہر ہے کہ ہم بدکارلوگ ہیں۔ وہ لوگ جو خود کے ساتھ دیانتدار ہیں اُنہیں یقیناًاِسی نتیجہ پر پہنچنا چاہئے۔
مگر، ایسا لگتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اِس بات کو ماننےسے انکار کریں گے کہ بِلا شک وہ گناہ کا ڈھیر ہیں۔ بہت سارے لوگ سکون سے زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ وہ خود کو گناہ گار خیال نہیں کرتے۔چونکہ ہم بدکردار ہیں، ہم نے ایک گناہ آلودہ معاشرہ خلق کر لیا ہے۔ اگریہ بات سچ نہیں ، تو ہم گناہ کرکے بے حد شرمندہ نہ ہوں ۔تاہم،ہم میں سے بہت سارے لوگ گناہ کرکے شرمندگی محسوس نہیں کرتے ۔
البتہ، اُن کے ضمیر اِس بات سے واقف ہیں۔ ہر شخص کے پاس ایک ضمیرہے جو اُسے بتاتا ہے کہ ’’یہ فعل شرمناک ہے۔‘‘ آدمؔ اور حواؔ نے گناہ کرنے کے بعد خود کو درختوں میں چھپایا۔ آج، بہت سارے گناہ گار خود کو اپنی گھناؤنی تہذیب–– یعنی اپنے گناہ آلودہ معاشرے کی آڑ میں چھپاتے ہیں۔ وہ خدا کے غضب سے بچنےکی خاطرخود کو اپنے ساتھی گناہ گاروں میں چھپاتے ہیں۔
لوگ اپنی ہی غلط فہمیوں کی وجہ سے دھوکا کھاتے ہیں۔ وہ خود کو دوسروں سے زیادہ نیک خیال کرتے ہیں۔پس، جب وہ کسی بُری خبرکے بارے میں سُنتے ہیں،تووہ طیش سے چلاتے ہیں،”بھلا کیسے کوئی آدمی ایسا کام کر سکتا ہے؟ کیسے کوئی آدمی ایسا کر سکتا ہے؟کیسےکوئی بیٹا اپنے ہی والدین کے ساتھ ایسا سلوک کر سکتا ہے؟“ وہ خود ہی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ایسی بُری حرکتیں نہیں کریں گے۔
پیارے دوستو، آپ کے لئےخود کو جاننابے حد مشکل ہے۔درحقیقت خود کو جاننے کے سلسلے
میں، ہمیں پہلے یقیناً گناہوں کی معافی حاصل کرنی چاہئے۔ہمیں اپنی انسانی فطرت کا درست علم حاصل کرنے میں لمبا عرصہ لگتا ہے، اور ہم میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جوکبھی بھی اِس سے اُس دن تک جب تک وہ مر کھپ نہیں جاتے آگاہ نہیں ہوں گے ۔
 
 
خودکو جانیں
 
 وہ کیسے لوگ ہوتے ہیں جوخودکو
جانے بغیر اُسی طرح سے زندگی بسر کرتے ہیں؟
کیونکہ وہ اپنی گناہ آلودہ ذات کو چھپانے کی کوشش کی غرض سے
ریا کار زندگیاں بسر کرتے ہیں۔
 
گاہے بگاہے ہم ایسے لوگوں سے ملتے ہیں جودراصل خود کو نہیں جانتے ۔سقراط نے کہا،’’ خود کو جانیں۔‘‘ تاہم، ہم میں سے زیادہ تر لوگ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے باطن میں کیا ہے:مثلاً خُون ریزیاں،چوریاں، زنا کاریاں، بدیاں، مکر،شہوت پرستی، بدنظری وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
وہ آدمی جواپنی ذات کو نہیں جانتااپنے لبوں پر سانپ کا زہر رکھتا ہے لیکن نیکی کی باتیں کرتا
ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کیونکہ وہ شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ ناگزیر گناہ گار کے طور پر پیدا ہوا تھا۔
اِس دُنیا میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جواپنی حقیقی فطرت کو نہیں جانتے۔ وہ خودکو دھوکا دےچُکے ہیں اور اپنی زندگیاں مکمل طورپراپنے ہی فریبوں میں لپٹی ہوئی بسرکرتے ہوئے فنا ہو جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ وہ اپنی خودفریبی کی وجہ سے اپنے آپ کو جہنم میں پھینک رہے ہیں۔
 
 
لوگ اپنی تمامترزندگی میں بِلا توقف گناہ کرتے رہتےہیں
 
ایسا لوگ کیوں جہنم میں جا رہے ہیں؟
کیونکہ وہ خودکو نہیں جانتے۔
 
آئیں ہم مرقس ۷:۲۱-۲۳پر نظر ڈالیں۔ ’’کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے بُرےخیال نکلتےہیں۔حرامکاریاں۔چوریاں۔خُون ریزیاں۔زناکاریاں۔لالچ۔بدیاں۔مکر۔ شہوت پرستی۔ بدنظری۔ بدگو ئی۔شیخی۔بیوقوفی۔یہ سب بُری باتیں اندر سے نکل کرآدمی کو ناپاک کرتی ہیں۔‘‘لوگوں کے باطن اُسی دن سے جس دن وہ ماں کے رَحم میں پڑتے ہیں بُرے خیالوں سے بھر جاتے ہیں۔
آئیں ہم ذرا تصور کریں کہ انسان کا دل شیشے کا بناہوا ہے اور کسی غلیظ مادے،اسماً،ہمارے گناہوں کے ساتھ،لبالب بھرا ہواہے۔اِس بنا پر بھلا کیا ہو گااگر وہ شخص آگےاور پیچھےحرکت کرے؟ بےشک غلیظ مادّہ( گناہ) ہر جگہ چھلک اُٹھے گا۔جونہی وہ شخص اِدھر اُدھرحرکت کرے گا ، توگناہ بار بار تمامتر جگہ پر چھلکے گا۔
ہم لوگ، جوکچھ نہیں بلکہ گناہ کاڈھیرہیں،بالکل اِسی طرح اپنی زندگیاں گزارتے ہیں ۔ ہم گناہ
چھلکاتے ہیں جہاں کہیں بھی ہم جاتے ہیں۔ ہم اپنی زندگیوں میں ہر لحاظ سے گناہ کریں گے کیونکہ ہم گناہ کاڈھیر ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ احساس نہیں کرتے کہ ہم گناہ کاڈھیر ہیں،یا دوسرے لفظوں میں، ہم گناہ کا تخم ہیں۔ ہم گناہ کا ڈھیر ہیں اورہم اپنی پیدائش کے دن ہی سے اپنے باطنوں میں گناہ رکھتے ہیں۔
گناہ کے ڈھیر چھلکنے کے لئے تیار ہیں۔ تاہم، لوگ ایمان نہیں رکھتے کہ وہ،درحقیقت ، ودیعتی طور پر گناہ گارہیں۔وہ سوچتے ہیں کہ دوسرے لوگ اُنہیں گناہ کی طرف راغب کرتے ہیں اوراِس لئے، وہ ایسےلوگ نہیں جوکےبدکار ہیں۔
بلا شک گناہ کرنے کے دوران ، لوگ گمان کرتے ہیں کہ خود کو دوبارہ پاک صاف کرنے کی واحد
ضروری شرط گناہ کا نام و نشان مٹانا ہے۔وہ ہر بار گناہ کرنے کے بعدخود کو پونچھتے ہیں، خود کو یہ بتاتے ہوئے کہ اُن کااپنا کوئی قصور نہیں ہے۔محض کیونکہ ہم خود کو صاف کر لیتے ہیں ،توکیا اِس کایہ مطلب ہے کہ گناہ چھلکاتے رہنا ٹھیک ہے؟ہمیں متواتربار بار صاف کرتے رہناپڑے گا۔
جب کوئی گلاس گناہ سے بھر اہوا ہے،تو وہ چھلکتارہے گا۔اُسےباہر سے صاف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ کتنی باراکثر اوقات ہم اپنے نیک اعمال سے باہر کوصاف کرتے ہیں، یہ عمل بے کار ہے، جب تک گلاس گناہ سے بھرا ہواہے۔
ہم اِس قدر گناہ کے ساتھ پیدا ہوئے ہیں کہ ہمارے دل کبھی خالی نہیں ہوں گے؛اِس بات کی کوئی وقعت نہیں کہ ہم کتنا زیادہ گناہ راہ میں چھلکاتے ہیں ۔چنانچہ، ہم اپنی ساری زندگیاں گناہ کرتے ہیں۔
جب کوئی آدمی یہ احساس نہیں کرتا کہ بے شک وہ صرف گناہ کاڈھیر ہے، تو وہ اپنی گناہ گار فطرت کو چھپانے میں لگارہتا ہے۔گناہ تمام لوگوں کے باطن میں پایا جاتا ہے اورظاہری سطح کوصاف کرنے سےرُخصت نہیں ہوتا۔جب ہم تھوڑا ساگناہ چھلکاتے ہیں،توہم اِسے کپڑے سے صاف کر تے ہیں اور جب ہم اِسے دوبارہ چھلکاتے ہیں،توہم اِسے پوچے ۔ ۔ ۔ کسی تو لئےاور تب کسی موٹے کھیس سے ۔ ۔ ۔ صاف کرتے ہیں۔ہم اُمید کرتے ہیں کہ اگرہم محض گندگی کوبار بار صاف کرتے ہیں، تویہ صاف ہو جائے گی،مگربِلا شُبہ یہ گھڑی گھڑی چھلکتی رہتی ہے۔
آپ کے خیال میں یہ سلسلہ کتنی دیر تک جاری رہے گا؟ یہ سلسلہ کسی شخص کے مرمٹنے کے دن تک جاری رہتا ہے۔لوگ اپنے مرنے کے ایام تک گناہ گاری پر عمل کرتے ہیں۔ اِسی لئے ہمیں آزاد ہونے کے لئے یسوعؔ پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ نجات یافتہ ہونے کے سلسلے میں، ہمیں پہلے خود کو جاننے کی ضرورت ہے ۔
 
کیسے لوگ شکرگزاری کے ساتھ یسوؔع کی اُلفت
 کو حاصل کر سکتے ہیں؟
ایسے گناہ گار لوگ جو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بہت ساری
غلط کاریاں کر چُکے ہیں
 
آئیں ہم فرض کریں کہ دو آدمی ہیں جن کا موازنہ گندے مادے سے بھرے ہوئے دو گلاسوں سے ہو سکتا ہے۔ دونوں ہی گلاس گناہ سے پُر ہیں۔ ایک خود پر نظر کرتا ہے اور کہتا ہے،’’ہائے، میں کس قدر گناہ گارآدمی ہوں۔‘‘ تب،وہ ہار مانتا ہے اور کسی ایسے شخص کی تلاش میں نکل پڑتا ہے جو اُس کی مدد کرسکے۔
تاہم دوسرا شخص سوچتا ہے کہ وہ بِلا شُبہ بدکار نہیں ہے۔ وہ اپنے باطن کے اندر گناہ کے انبار کو نہیں دیکھ سکتااور سوچتا ہے کہ وہ اتنا گناہ گار نہیں ہے۔اپنی ساری حیاتی میں، وہ چھلکاؤ کو صاف کرتا رہتا ہے۔ وہ ایک طرف کو،اور پھر دوسری طرف کو ۔۔۔۔یعنی فوراً ہی دوسری طرف بڑھ کر صفائی کرتا ہے۔
ایسے بے انتہا لوگ ہیں جو ہوشیاری سے اپنی ساری زندگیاں بسر کرتے ہیں،یعنی گناہ کے چھلکنے سے بچنے کی خاطراِس قدر کم گناہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس قدر ممکن ہے۔چونکہ ہنوز گناہ اُن کے باطنوں میں پایا جاتا ہے، تویہ کیا بھلاکرے گا؟’محتاط ہونا‘ اُنہیں آسمان کےذرا نزدیک نہیں کر دے گا۔اس کی بجائے’محتاط ہونا‘ اُنہیں جہنم کے راستہ پرڈال دیتا ہے۔
پیارے دوستو!’محتاط ہونا‘ صرف جہنم کو لے جاتا ہے۔ہمیں اِس سبق کو دل میں لینا چاہئے۔جب لوگ محتاط ہو جاتے ہیں ،تو اُن کے گناہ ہوسکتا ہے کچھ زیادہ نہ چھلکیں ،تاہم وہ پھر بھی گناہ گار ہی ہیں۔
نسلِ انسانی کے باطن میں کیا ہے؟گناہ؟ بداخلاقی؟ جی ہاں! بُرے خیال؟جی ہاں!کیا چوریاں ہیں؟جی ہاں!تکبر؟ جی ہاں!
ہم بچنے کے قابل نہیں ہیں بلکہ حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ ہم گناہ کے ڈھیر ہیں ، خصوصی طور پر جب ہم خود کو گناہ گاری اور بدی پر ، ایسا کرنے کی تعلیم پائے بغیرعمل کرتے دیکھتے ہیں۔
شاید یہ عمل اتنا واضح نہ ہو جب ہم چھوٹے ہوتے ہیں۔مگر یہ کیسا ہو گا، جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں؟جب ہم ہائی سکول، کالج، یا اور آگے بڑھتے ہیں تو ہم احساس کرتے ہیں کہ سب کچھ جو ہمارے باطن میں ہے وہ گناہ ہے ۔کیا یہ سچ نہیں ہے؟دیانت داری سے بولوں،تواپنی گناہ گار فطرت کو چھپانا ناممکن ہے۔ٹھیک؟ہم بچنے کے قابل نہیں بلکہ گناہ چھلکاتے ہیں۔تب ہم پچھتاتے ہیں،’’مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔‘‘ لیکن ہم درحقیقت تبدیلی کو ناممکن پاتے ہیں۔ایساکیوں ہے؟کیونکہ ہم میں سے ہر ایک آدمی گناہ کے ڈھیرکے طور پر پیدا ہوا ہے۔
ہم بِلا شُبہ محتاط ہونے کی وجہ سے پاک نہیں بن جاتے۔ہمیں مکمل طور پر نجات یافتہ ہونے کے
سلسلے میں، جو کچھ جاننے کی ضرورت ہے وہ یہ بات ہے کہ ہم گناہ کے ڈھیر کے طور پر پیدا ہوئے ہیں۔ صرف وہی گناہ گارلوگ نجات یافتہ ہو سکتے ہیں جویسوؔع کی معرفت تیارکی گئی مخلصی کوشکر گزاری کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔
وہ لوگ جو یہ سوچتے ہیں،’’ میں نے کوئی زیادہ غلط کام نہیں کیا یا زیادہ گناہ نہیں کیا ‘‘یہ ایمان نہیں رکھتے کہ یسوؔع نے اُن کے تمام گناہ اُٹھالئے اور اِس طرح اُن کا جہنم جانا پہلے سے طے ہے۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کے باطن میں گناہ کا یہ ڈھیر موجود ہے کیونکہ ہم سب اِس کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔
 اگر کوئی آدمی سوچے، ”میں کچھ زیادہ غلط کام نہیں کر چُکابشرطیکہ میں صرف اِس چھوٹے سے
گناہ سے نجات یافتہ ہو جاؤں۔“تب کیا وہ اِس کے بعدگناہ سے آزاد ہو جائے گا؟یہ صورتِ حال ہر گز نہیں ہو سکتی۔ وہ آدمی جو چھٹکاراپا سکتا ہے یہ بات جانتا ہے کہ وہ گناہ کاڈھیر ہے۔وہ در حقیقت ایمان رکھتاہے کہ یسوعؔ نے دریائے یردؔن میں بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ اُٹھالئے اوریعنی اُس نے گناہوں کی قیمت چُکا دی جب وہ ہماری خاطر مر گیاتھا۔
آیاہم نجات یافتہ ہیں یا نہیں، ہم سب غلط فہمی میں زندگی بسر کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ ہم گناہ کے ڈھیر ہیں۔ درحقیقت ہم کیا ہیں یہی ہے وہ سچائی ۔ ہم صرف تب ہی نجات پا سکتے ہیں جب ہم ایمان لاتے ہیں کہ یسوؔع نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے ہیں۔
 
 
خدانے ایسے لوگوں کو مخلصی نہیں بخشی جو ’تھوڑا سا گناہ‘ رکھتے ہیں
 
وہ کون سا آدمی ہے جو خُداوند کو
 دھوکہ دیتا ہے؟
وہ آدمی جو روز مرّہ کے گناہوں کی معافی
 مانگتا ہے
 
خُدا تھوڑا سابھی گناہ رکھنے والوں کو نجات نہیں دیتایہاں تک کہ خُدا اُن لوگوں پر نظر بھی نہیں ڈالتاجو یہ کہتے ہیں ،’’ اے خُدایا، میرے پاس صرف ذرا سا گناہ ہے۔‘‘ جن لوگوں پروہ رحم کھاتا ہے وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں،’’اے خُدایا، میں گناہ کا ڈھیر ہوں۔ میں جہنم میں جارہا ہوں۔ مہربانی سے مجھے بچا۔‘‘ مکمل گناہ گار جو کہتے ہیں،’’اے خُدایا،میں نجات پاؤں گا بشرطیکہ تُو مجھے بچائے۔ میں مزید توبہ کے لئے خدا’ تھوڑا سا گناہ رکھنے والوں‘ کو خلاصی نہیں بخشتا۔ یہاں تک کہ خداوند خدااُن لوگوں پرسرسری نظر دعا مانگنے کے قابل نہیں ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں بچنے کے قابل نہیں بلکہ بار بار گناہ کروں گا۔مہربانی سے مجھے بچا۔‘‘
خداوند خدااُن لوگوں کو بچاتا ہے جو پورے طور سے اُس پر انحصار کرتے ہیں۔ میں نے بھی خودہر روز توبہ کی دعائیں مانگنے کی کوشش کی لیکن توبہ کی دعاؤں نے مجھے کبھی گناہوں سے آزادنہیں کیا۔اِس کے بعد، میں خداوند خداکے سامنے گھٹنوں کے بل جھکا اور دعا مانگی،’’اے خُدایا مجھ پر ترس کھا اور مجھے میرے تمام گناہوں سے بچا۔‘‘ وہ لوگ جو ایسی دعا مانگیں گے نجات پائیں گے۔ وہ لوگ جو خداوند خداکی مخلصی اور یوحناؔ اصطباغی سے یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان لانے کے لئے ہوش میں آتے ہیں۔وہی نجات یافتہ ہوں گے۔
خداوند خداصرف ایسے لوگوں کو چھڑاتا ہے جو خود کوگناہ کا ڈھیر، بدکرداروں کی نسل سمجھتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں،’’میں نےصرف یہ چھوٹا سا گناہ کیاہے۔ مہربانی سے مجھے اِس گناہ سے معاف کر،‘‘ وہ لوگ ہنوز گناہ گار ہیں اور خداوند خدااُنہیں بچا نہیں سکتا۔ خداوند خداصرف اُن لوگوں کو بچاتا ہے جوخود اقرار کرتے ہیں کہ وہ مکمل طور پر گناہ کا ڈھیر ہیں۔
 یسعیاہ۵۹:۱-۲میں،یوں مرقوم ہے،”دیکھو خُداوندکا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گیاکہ بچانہ سکے اور اُس کا کان بھاری نہیں کہ سن نہ سکے ۔’ بلکہ تمہاری بدکرداری نے تمہارے اور تمہارے خُدا کے درمیان جدائی کردی ہے اور تمہارے گناہوں نے اسے تم سے رُوپوش کیا ایسا کہ وہ نہیں سنتا۔“
کیونکہ ہم بطورگناہ کےڈھیر پیدا ہوئے ہیں اِس لئے خداوند خداہمیں چاؤ سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہ مسئلہ اِس وجہ سے نہیں ہےکہ اُس کا ہاتھ چھوٹا ہو گیاہے، اوراُس کا کان بھاری ہو گیا ہے،یا کہ وہ اُس کی معافی کے طلب گاروں کی درخواست نہیں سُن سکتا۔
خداوند خداہمیں بتاتا ہے،’’تمہاری بدکرداری نے تمہارے اور تمہارے خُدا کے درمیان
جدائی کردی ہے اور تمہارے گناہوں نے اُسے تم سے رُوپوش کیا ایسا کہ وہ نہیں سنتا۔‘‘ کیونکہ ہمارے باطنوں میں بہت زیادہ گناہ پائے جاتے ہیں،ہم عالمِ بالا پر داخل نہیں ہو سکتے، بلا شک چاہے دروازے چوپٹ کھلے ہوں۔
اگرہم لوگ،جو کچھ نہیں بلکہ گناہ کا ڈھیرہیں، ہر بارمعافی مانگتے ہیں جب بھی ہم گناہ کرتے ہیں ، تو خداوند خداکو بار بار اپنے بیٹے کو مارنا پڑے گا۔ خداوند خداتو ایسا کرنا نہیں چاہتا۔ وہ فرماتا ہے،’’میرے پاس اپنے گناہوں کے ساتھ ہر روز مت آؤ۔ میں نے تمہارے پاس اپنے بیٹے کو تمہیں تمہارے تمام گناہوں سے چھڑانے کی خاطر بھیجا ۔ سب کچھ جو تمہیں کرنا ہو گا یہ اَمر سمجھنا چاہئے کیسے اُس نے تمہارے گناہ اُٹھا لئے اور اِسے قبول کرو کہ یہی سچ ہے۔ اِس کے بعد ، نجات یافتہ ہونے کے لئے پانی اور رُوح کی خُوشخبری پر ایمان لاؤ ۔ یہ عظیم ترین محبت ہے جو میں تمہیں، یعنی اپنی مخلوقات کو عطا کر چُکا ہوں۔ “
اِس بنا پر یہ ہے وہ ہمیں کیا بتاتا ہے۔ ”میرے بیٹے پر ایمان لاؤ اور اپنے گناہوں کی معافی پاؤ۔ میں ، تمہارےرب تعالیٰ نے ، اپنے ہی بیٹے کو تمہارے سارے گناہوں اور بدکرداریوں کا فدیہ دینے کی خاطر بھیجا ۔ میرے بیٹے پر ایمان لاؤ اور نجات پاؤ۔ “
وہ لوگ جو خود کو گناہ کا ڈھیر نہیں جانتے اپنے ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ کی خاطر اُس کی معافی کے طلبگار ہیں ۔ وہ اپنے گناہوں کا خوفناک وزن جاننے کے بغیر اُس کے حضور میں جاتے ہیں اور یہی دُعا مانگتے ہیں ، ”مہربانی سے اِس رَتّی بھر گناہ کو معاف کر دے ۔ میں اِسےہرگز دوبارہ نہیں کروں گا ۔ “
وہ اُسے ایسی دُعاؤں کے ساتھ فریب دینے کی بھی کوشش کرتے ہیں ۔ ہم کوئی ایک بار گناہ نہیں کرتے ، بلکہ اِس طرح متواتر کرتے ہیں جب تک ہم مر نہیں جاتے ۔ ہمیں اپنی زندگیوں کے بالکل آخری دن تک معافی کی درخواست جاری رکھنی پڑے گی ، کیونکہ ہم گناہ کو روک نہیں سکتے اور ہمارے جسم گناہ کی شریعت کی خدمت کرتے ہیں جب تک ہم مر نہیں جاتے ۔
کسی چھوٹے سے گناہ کی معافی پا کر ہم گناہ کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے کیونکہ ہم ہر روز اَن گِنت گناہ کرتے ہیں ۔ اِس طرح ،ہمارے پاس گناہ سے آزاد ہونے کی واحد راہ یہ ہے کہ ہم اپنے تمام گناہ یسوؔع پر منتقل کردیں ۔
 
انسانی فطرت کیا ہے؟
گناہوں کا ڈھیر
 
کتابِ مقدّس بنی نوع انسان کے گناہوں کو ایک ایک کر کے گنواتی ہے: ”کیونکہ تمہارے ہاتھ خُون سے اور تمہاری انگلیاں بدکرداری سے آلودہ ہیں۔ تمہارے لب جھوٹ بولتے اور تمہاری زبان شرارت کی باتیں بکتی ہے۔کوئی انصاف کی بات پیش نہیں کرتا اور کوئی سچائی سے حجت نہیں کرتا۔ وہ بطالت پر توکل کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔وہ زیان کاری سے باردار ہو کربدکرداری کو جنم دیتے ہیں۔ وہ افعی کے انڈے سیتے اور مکڑی کا جالا تنتے ہیں۔ جو اُن کے انڈوں میں سے کچھ کھائے مر جائیگا اور جواُن میں سے توڑا جائے اس سے افعی نکلے گا۔ ان کے جالے سے پوشاک نہیں بنے گی۔ وہ اپنی دستکاری سے مُلّبس نہ ہوں گے۔ ان کے اعمال بدکرداری کے ہیں اور ظلم کاکام ان کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کے پاؤں بدی کی طرف دوڑتے ہیں اوروہ بے گناہ کا خُون بہانے کے لئے جلدی کرتے ہیں ۔انکے خیالات بدکرداری کے ہیں۔ تباہی اور ہلاکت انکی راہوں میں ہے۔ وہ سلامتی کا راستہ نہیں جانتے اور ان کی روش میں انصاف نہیں۔ وہ اپنے لئے ٹیٹرھی راہ بناتے ہیں۔ جو کوئی اس میں جائے گا سلامتی کو نہ دیکھے گا۔‘‘(یسعیاہ ۵۹: ۳۔۸)۔
لوگوں کی انگلیاں بدکرداری سے آلودہ ہیں اور وہ اپنی پوری زندگیوں میں جو کچھ کرتے ہیں گناہ سے پُر ہے۔ ہر کام جسے وہ کرتے ہیں بدی ہے۔ اور ہماری زبانیں 'شرارت کی باتیں بکتی ' ہیں۔ تمام باتیں جو ہمارے منہ سے نکلتی ہیں بطالت ہیں۔
’’جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے‘‘(یوحنا۸: ۴۴)۔ وہ لوگ جو نئے سرے سے پید ا نہیں ہوئے یوں کہنا پسند کرتے ہیں ، ”میں تمہیں سچ بتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ میں تمہیں حقیقت بتا رہا ہوں ۔ میں جو کچھ بتار ہا ہوں وہ سچ ہے ۔۔۔۔۔ “ تاہم ، ہربات جو وہ کہتے ہیں اِس کے باوجود باطل ہے۔ یہ بات ایسے ہے جیسے لکھا ہوا ہے ۔’’جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے۔“
لوگ اپنا توکل کھوکھلے الفاظ پررکھتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں ۔ لوگ بدیوں کو جنم دیتے ہیں اور
بدکرداریاں پیدا کرتے ہیں ۔ وہ افعی کے انڈے سیتے ہیں اور مکڑی کا جالا تنتے ہیں۔ خداوند خدافرماتا ہے ، ’’جو اُن کے انڈوں میں سے کچھ کھائے مر جائیگا اور جواُن سے توڑا جائے اس سے افعی نکلے گا۔‘‘ وہ فرماتا ہے کہ تمہارے باطن میں افعی کے انڈے ہیں ۔ افعی کے انڈے ! آپ کے باطن میں بدی موجود ہے ۔ اِس بنا پر یہ وجہ ہے کیوں ہمیں پانی اور خُون کی خُوشخبر ی پر ایمان لانے کی معرفت نجات یافتہ ہونا ہے ۔
جب کبھی میں خداوند خداکے متعلق بولنا شروع کرتا ہوں ، تو ایسےلوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں ، ”اوہ، پیارے ! مہربانی سے مجھ سے خداوند خداکے متعلق بات مت کر و۔ ہر بار جب میں کچھ کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو مجھ میں سے گناہ چھلکتا ہے۔ یہ محض سیلاب کی طرح نکلتا ہے ۔ یہاں تک کہ میں ہر جگہ گناہ چھلکانے کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اُٹھا سکتا ۔ میں اِس سے بچنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں لبالب گناہ سے بھرا ہُوا ہوں۔ میں بالکل نااُمید ہوں ۔ اِس لئے میرے ساتھ خُدائے قدوس کے متعلق بالکل بات مت کرو ۔ “
وہ شخص وثوق سے جانتا ہے کہ وہ صرف گناہ کا ڈھیر ہے ، مگر یہ بات نہیں جانتا کہ خداوند خدا اپنی محبت کی خُوشخبری کے وسیلہ سے اُسے مکمل طور پر بچا چُکا ہے ۔ صرف وہ لوگ جو خود کو گناہ کا ڈھیر جانتے ہیں نجات پا سکتے ہیں۔
درحقیقت ،ہر آدمی ایسا ہی ہے ۔ ہر ذی نفس مسلسل گناہ چھلکاتا ہے جہاں کہیں بھی وہ جاتا ہے ۔ گناہ ہی باہر نکلتا ہے کیونکہ سب لوگ گناہ کا ڈھیر ہیں۔ ہمارے پاس ایسے وجود سے بچنے کی واحد راہ خداوند خداکی قُدرت کے وسیلہ سے ہے ۔ کیا یہ بات سادگی سے حیران کن نہیں ہے ؟ وہ لوگ جو گناہ چھلکاتے ہیں جب بھی وہ بوکھلاتے ، خُوش ہوتے ، یا حتٰی کہ پرسکون ہوتے ہیں فقط ہمارے خُداوند یسوؔع مسیح کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ یسوؔع ہمیں بچانے کی خاطر آیا۔
وہ ہمارے تمام گناہوں کو مکمل طور پر مٹا چُکا ہے ۔ اقرار کریں کہ آپ گناہ کا ڈھیر ہیں اور پھر آپ اِس اقرار سے نجات یا فتہ ہوجائیں گئے۔