خطبات

مضمون 2: شریعت

[2-1] <لوقا۱۰:۲۵۔۳۰> اگر ہم شریعت کے مطابق عمل کرتے ہیں، توکیا وہ ہمیں بچا سکتی ہے؟

<لوقا۱۰:۲۵۔۳۰>
دیکھو ایک عالمِ شرع اُٹھا اور یہ کہہ کر اُس کی آزمائش کرنے لگا کہ اے استاد! میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟ ۔اس نے اُس سے کہا توریت میں کیا لکھا ہے؟ تُو کس طرح پڑھتا ہے؟۔اُس نے جواب میں کہا کہ خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ اُس نے اُس سے کہا تو نے ٹھیک جواب دیا۔ یہی کر تو تو جیئے گا۔ مگر اس نے اپنے تئیں راست باز ٹھہرانے کی غرض سے یسوؔع سے پوچھا پھر میرا پڑوسی کون ہے؟۔یسوؔع نے جواب میں کہا کہ ایک آدمی یروشلیمؔ سے یرؔیحو کی طرف جارہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھر گیا۔ انہوں نے اُس کے کپڑے اتار لئے اور مارا بھی اور ادھمؤا چھوڑ کر چلے گئے۔
 
 
سارے اِنسانوںکا سب سے بڑا
مسئلہ کیا ہے؟
وہ بہت ساری سوء فہم غلط فہمیوں
کے ساتھ زندہ ہیں۔
 
لوقا ۱۰: ۲۸، ”یہی کر تو تُو جیئے گا۔“
لوگ بہت ساری سوء فہم غلط فہمیوں کے ساتھ زندہ ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ وہ خصوصی طور پر اِس لحاظ سے ضرر پذیر ہیں۔ وہ ذہین نظر آتے ہیں لیکن آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور اپنے بُرے پہلوؤں سے بے خبر رہتے ہیں۔ہم خود کو جاننے کے بغیر پیدا ہوئے ہیں،مگر ہم پھر بھی ایسے زندہ ہیں جیسے گویا ہم سب کچھ جانتے ہیں۔چونکہ لوگ خود کو نہیں جانتے،کتابِ مقدّس ہمیں بار بار بتاتی ہے کہ ہم گناہ گار ہیں۔
لوگ اپنے ہی گناہوں کے وجود کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ایسالگتا ہے کہ لوگ بھلائی کرنے کے قابل نہیں ، تاہم، وہ خود کوبطور نیک بیان کرنے کا رُجحان رکھتے ہیں۔وہ اپنے نیک اعمال کی ڈینگیں مارتے ہیں اوراِتراتے ہیں،اگرچہ وہ اپنے ہونٹوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ گناہ گار ہیں۔
وہ لوگ نہیں جانتے کہ اُن کے باطن میں نہ بھلائی ہے نہ ہی وہ بھلائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، ایسے وہ دوسروں کو فریب دینے کی کوشش کرتے ہیں اوریہاں تک کہ بعض اوقات خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔”ظاہر ہے، ہم مکمل طور پر بدکار نہیں ہوسکتے۔ہمارے باطن کے اندر کسی قدر اچھائی پائی جاتی ہے۔“
نتیجتاً، وہ دوسروں کی طرف دیکھتے ہیں اور خود کو بتاتے ہیں،آہا، کاش کے وہ ایسا نہ کرتا۔اُس کے لئے یہی بہتر ہوتا اگر وہ ایسا نہ کرتا۔وہ زیادہ بہتر ہو گا بشرطیکہ وہ اِس طرح بات کرے۔میرا خیال ہے کہ اُس کے لئے فلاں فلاں طریقے سے خُوشخبری کی بشارت دینا بہتر ہے۔وہ میرے سامنے نجات یافتہ ہوا تھا، لہٰذا میرا خیال ہے اُسے مزیداُس آدمی کی مانندعمل کرنا چاہئے جو چھڑایا جا چُکاہے۔میں نے ابھی حال ہی میں چھٹکارہ پایا،تاہم اگر میں اور سیکھ لوں، تومیں اُس سے کہیں زیادہ بہتر کام کروں گا۔“
وہ اپنے دلوں میں اُس وقت چھریاں تیز کرتے ہیں جب کبھی وہ زخمی ہوتے ہیں۔”تم تھوڑا صبر کرو۔تم دیکھو گے کہ میں تم سے الگ ہوں۔تم شاید سوچتے ہو کہ ابھی تم مجھ سے آگے ہو، لیکن تم ذرا صبر کرو۔کتابِ مقدّس میں یوں لکھا ہوا ہے کہ وہ جو آخر ہیں اَوّل ہو جائیں گے۔میں جانتا ہوں کہ یہ حوالہ مجھ پر لاگو ہوتا ہے۔صبر کرو اور میں تجھے دکھاؤں گا۔“یوں لوگ خود کو دھوکہ دیتے ہیں۔
حالانکہ گو وہ اُسی ردِ عمل کا مظاہرہ کرتا اگر وہ دوسرے شخص کی جگہ پر ہوتا، وہ پھر بھی اُسےسزا سُناتا ہے۔جب وہ منبرپر کھڑا ہوتاہے،تووہ اچانک خود کوبِلا مددہکلاتے ہوئے پاتا ہے کیونکہ وہ اپنی بڑھیا پوشاک سے بالکل بے خبر ہے۔جب سوال پوچھا جائے آیا لوگوں کے پاس بھلائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تو زیادہ تر لوگ اپنے ہونٹوں سے کہتے ہیں کہ وہ یہ صلاحیت نہیں رکھتے۔تاہم اپنے باطنوں میں،وہ اِس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ وہ خود ایسی صلاحیت رکھتے ہیں۔یوں، وہ اپنے مرمٹنے کے دن تک پارسا بننے کی سرتوڑ کوشش کرتے ہیں۔
وہ سوچتے ہیں کہ اُن کے باطنوں میں بھلائی موجود ہے اوریعنی کہ وہ نیکی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ خود ہی بہت نیک ہیں۔بِلا لحاظ وہ کتنی دیر سے مذہبی ہیں،بالخصوص اُن لوگوں کے درمیان جو خُدا کی خدمت میں نہایت عمدہ ترقی حاصل کر چُکے ہیں،وہ سوچتے ہیں ، ’ میں خُداوند کے لئے ایرہ وغیرہ کرسکتا ہوں۔‘
تاہم اگر ہم خُداوند کو اپنی زندگیوں میں سے باہر نکال دیتے ہیں ،تو کیا ہم واقعی بھلائی کر سکتے ہیں؟کیا نوعِ انسان میں بھلائی پائی جاتی ہے؟کیا ہم درحقیقت نیک کام کرکے زندہ رہ سکتے ہیں؟بنی نوع انسان کے پاس بھلائی کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔جب کبھی بھی وہ بذاتِ خود کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ گناہ کر تے ہیں۔بعض لوگ یسوؔع کو اُس پر ایمان لانے کے بعدپَرے دھکیلتے ہیں اورآپ ہی نیک بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ہم سب کے باطن میں ماسوائے بدی اور کچھ نہیں پایا جاتا، یوں ہم فقط بدی پرہی عمل کر سکتے ہیں۔ اپنی ذات کے مطابق،(یہاں تک کہ وہ لوگ بھی جو نجات پا چُکے ہیں)، ہم صرف گناہ ہی کر سکتے ہیں۔یہی ہمارے جسم کی اصل حقیقت ہے۔
 
ہم ہمیشہ ہی کیا کرتے ہیں،
 نیکی یا بدی؟
بدی
 
ہماری گیت کی کتاب میں، ’یسوؔع نام کی تمجید ہو،ِاس میں ایک گیت ہےجس کی شاعری یوں ہے، ”♪یسوؔع کے بغیر ہم صرف ٹھوکر ہی کھاتے ہیں۔ہم اِس قدر بے وقعت ہیں جس قدروہ جہاز ہے جو بادبان کے بغیر سُمندر کو پار کرتا ہے۔“بِلا یسوؔع، ہم صرف گناہ ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ہم بدکار وجودِبشر ہیں۔ہم صرف نجات یافتہ ہونے کے بعد ہی راست کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
پوؔلُس رسول نے فرمایا،’’چنانچہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اُسے کر لیتا ہوں۔‘‘(رومیوں۷: ۱۹)۔اگر کوئی آدمی یسوؔع کے ساتھ ہے، توکوئی فکر کی بات نہیں ،تاہم جب اُس مرد/ عورت کو اُس کے ساتھ کچھ سروکار نہیں، تو وہ عورت/ مرد خُدا کے حضور نیک اعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تاہم وہ آدمی جتنی زیادہ جُستجو کرتا ہے ،اُتنی ہی زیادہ وہ عورت/مردبدی کرتا ہے۔
بِلا شُبہ داؤؔد بادشاہ کے پاس یہی پیدائشی فطرت تھی۔ جب اُس کا ملک پُرامن اور خُوشحال تھا، تو ایک شام، وہ ٹہلنے کے لئے چھت پر گیا۔وہاں، اُس نے ورغلانے والامنظر دیکھا اور شہوانی خواہش کا شکار ہوگیا۔ وہ بھلا کس کی مانند ہوگیا جب وہ خُداوند کو بھول گیا؟وہ درحقیقت بدکار بن گیا۔اُس نے بت ؔسبع کے ساتھ زنا کاری کی اوراُوؔریاہ، اُس کے شوہر کو قتل کروا دیا، پھر بھی وہ اپنے باطن میں بدی کو نہ دیکھ سکا۔اِ س کی بجائے اُس نے اپنے کرتوت چھپانے کے لئے بہانے گھڑے۔
پھر ایک دن، ناتؔن نبی اُس کے پاس آیااور کہا، ” کسی شہر میں دو شخص تھے۔ ایک امیر اور دوسرا غریب۔اُس امیر کے پاس بہت سے ریوڑ اور گلّے تھے۔پر اُس غریب کے پاس بھیڑ کی ایک پٹھیا کے سوا کچھ نہ تھاجسے اُس نے خرید کر پالا تھااور وہ اُس کے اور اُس کے بال بچوں کے ساتھ بڑھی تھی۔وہ اُسی کے نوالہ میں سے کھاتی اوراُس کے پیالہ سے پیتی اور اُس کی گود میں سوتی تھی اور اُس کے لئے بطور بیٹی کے تھی۔ اوراُس امیر کے ہاں کوئی مسافر آیا۔ سو اُس نے اُس مسافر کے لئے جو اُسکے ہاں آیا تھا پکانے کو اپنے ریوڑ اور گلہ میں سے کچھ نہ لیا بلکہ اُس غریب کی بھیڑ لے لی اور اُس شخص کیلئے جو اُس کے ہاں آیا تھا پکائی۔“(۲۔سموئیل ۱۲:۱-۴)۔
داؤدؔ نے کہا،’’ وہ شخص جس نے یہ کام کیا واجب القتل ہے؟‘‘ اُس کا غصہ بشدت بھڑکا، یوں اُس نے کہا’’اُس کے پاس اپنی بہت سی بھیڑ یں تھیں؛ وہ یقیناً اُن میں سے ایک لے سکتا تھا۔ مگر اِس کی بجائے، اُس نے اپنے مہمان کا کھاناپکانے کے لئے غریب آدمی کی اکیلی اکیلی بھیڑ کو لے لیا۔وہ آدمی واجب القتل ہے!‘‘ اِس کے بعد، ناتنؔ نے اُسے بتایا، وہ شخص تو ہے۔“ اگر ہم یسوؔع کے پیچھے نہیں چلتےاور اُس کے ساتھ نہیں رہتے، تو بِلا شک نئے سرے سے پیدا ہوئے لوگ بھی ایسے گھناؤنے کام کر سکتے ہیں۔
یہ بات سب لوگوں یعنی، یہاں تک کہ وفادار لوگوں کے لئے بھی مساوی ہے۔ہم یسوؔع کے بغیر ہمیشہ ہی ٹھوکر کھاتے ہیں اور بدی پر چلتے ہیں۔پس ہم آج پھر شکرگزار ہیں کہ یسوؔع نے ہمیں، ہمارے باطن میں پائی جانے والی بدی سے قطع نظر بچا لیا۔”♪میں صلیب کے سائے تلےدم لینا چاہتا ہوں♪“ہمارے دل مسیح کی مخلصی کے سائے تلےدم لیتے ہیں،البتہ اگر ہم سائے کو چھوڑتے ہیں اور خود پر نظر کرتے ہیں، تو ہم کبھی دم نہیں لے سکتے۔
 
 
خُدا نے ہمیں شریعت سے قبل ایمان کی راستبازی عطا کی
 
ہمیں کس چیز کی پیروی پہلے کرنی چاہیے،
ایمان یا شریعت کی؟
ایمان کی
 
پوؔلُس رسول نے فرمایا کہ خُدا نے ہمیں ایمان کی راستبازی شروع ہی سے بخشی۔ اُس نے یہ ایمان آدؔم اورحؔوا، قاؔئن اور ہاؔبل، سؔیت اور حنوؔک، نوؔح، ابرؔہام،اضحاؔق اور بالآخریعؔقوب اور اُس کے بارہ بیٹوں کوعطا کیا۔یہاں تک کہ شریعت کے بغیر، وہ خُدا کے رُوبرُو راستبازی کے وسیلہ سے راستباز بن گئےجو اُس کے کلام پر ایمان سے پیدا ہوئی۔وہ مُبارک لوگ تھے اور اُنہیں اُس کے کلام پر ایمان کی بدولت آرام بخشا گیا ۔
وقت گزرتا گیا اور یعقوؔب کی نسل ملکِ مؔصر میں غلاموں کے طور پر ۴۰۰سال تک یوؔسف کی وجہ سے رہی۔اِس کے بعد، خُدا نے اُنہیں موؔسیٰ کے ذریعے کنعاؔن کی سرزمین میں پہنچایا۔تاہم، غلامی کے۴۰۰سال کے دوران، وہ ایمان کی راستبازی کو بھول چُکے تھے۔
بہرحال خُدا نے اُنہیں اپنے معجزہ کی بدولت بحرِقُلزؔم پار کرنے کی اجازت دی اور اُنہیں بیابان میں لے گیا۔جب وہ دشتِ سیؔنا میں پہنچے،تواُس نے کوہِ سیؔنا پر اُنہیں شریعت عطا کی۔اُس نے اُنہیں شریعت بخشی، جو دس احکام اور۶۱۳تفصیلی دفعات پر مشتمل تھی۔خُدا نے اعلان کیا،’’ میں خُداوند تمہارا خُدا، ابرہامؔ اور اضحاقؔ اور یعقوؔب کا خُدا ہوں۔ موسیؔ کو ہ سیناؔ پر آاور میں تجھے شریعت دوں گا۔‘‘ اِس کے بعد،اُس نے اسرائیل کو شریعت عطا کی۔
اُس نے اُنہیں شریعت بخشی تاکہ اُنہیں ’ گناہ کی پہچان ہو(رومیوں۳:۲۰)۔یوں اُنہیں آگاہ کرنا تھا کہ وہ کیا پسنداور کیاناپسند کرتا تھااوراُس کی راستبازی اور پاکیزگی کو ظاہر کرنا تھا۔
اسرائیل کے تمام لوگوں نے جو ملکِ مؔصر میں ۴۰۰سال تک غلام رہ چُکے تھےبحرِقُلزؔم کو پار کیا۔ وہ کبھی بھی ابرؔہام کے خُدا، اضحاؔق کے خُدا اور یعقوؔب کے خُدا سے نہیں ملے تھے۔وہ اُسے جانتے بھی نہیں تھے۔
جب وہ لوگ ۴۰۰سال تک بطور غلام زندگی گزار رہے تھے، تو وہ خُدا کی راستبازی کو بھول چُکے تھے۔اُس وقت، اُن کے پاس کوئی راہ نُما نہیں تھا۔یعقوؔب اور یوؔسف اُن کے پیشوا تھے،لیکن وہ بہت عرصہ پہلے مر چُکے تھے۔ایسا لگتا ہے کہ یوؔسف اپنے بیٹوں،منؔسی اور افراؔئیم میں ایمان منتقل کرنے میں ناکام ہوگیا۔
چنانچہ، اُنہیں اپنے خُدا کو دوبارہ پانے اور اُس سے ملنے کی ضرورت تھی کیونکہ وہ اُس کی راستبازی کو بھول چُکے تھے۔ہمیں ذہن نشین کرنا ہے کہ خُدا نے اُنہیں پہلے ایمان کی راستبازی بخشی اور تب اُنہیں ، ایمان کو بھول جانے کے بعد، شریعت عطا کی۔اُس نے اُنہیں اُس کی طرف واپس رجوع لانے کے لئے شریعت عطا کی۔
بنی اسرائیل کو بچانے اور اُنہیں اپنے لوگ بنانے کے لئے، اُس نےاُنہیں ختنہ کروانے کا حکم دیا۔
اُس کا انہیں بلانے کا اوّلین مقصد یہ تھا کہ وہ آگاہ ہو جائیں کہ وہ شریعت کو نافذ کرنے کی وجہ سے وجود رکھتا تھااور ثانیاً، وہ یہ جانیں کہ وہ اُس کے آگےگناہ گار تھے۔خُدا چاہتا تھا کہ وہ اُس کے سامنے آئیں اور قربانی کے نظام کے ذریعے چُھٹکارہ پانے کے باعث اُس کے لوگ بن جائیں جو وہ اُنہیں عنایت کر چُکا تھا۔اور اُس نے اُنہیں اپنے لوگ بنا لیا۔
اسرائیل کے لوگ مسیحا پر ایمان لانے کے سبب سے جو کہ آنے والا تھاشریعت کے قربانی کے نظام کے مطابق چھڑائے جاتے تھے۔دوسری جانب قربانی کا نظام بھی وقت کے ساتھ ساتھ مضمحل ہو گیا۔آئیں ہم دیکھیں ایسا کب ہوا۔
لوقا ۱۰:۲۵ میں، ایک عالمِ شرع جس نے یسوؔع کو آزمایا ظاہر ہوتا ہے۔وہ عالمِ شرع ایک فریسی تھا۔فریسی بےانتہا روایت پسند لوگ تھے جو خُدا کے کلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے تھے۔وہ پہلے ملک کا تحفظ کرنے اور اِس کے بعد شریعت کے عین مطابق زندہ رہنے کی کوشش کرتے تھے۔اُسی موقع پر زیلوتؔیس فرقہ کے لوگ بھی تھے، جو بے انتہا تشدد پسند تھے اور اپنےمقصد،یعنی اسرائیل کے روؔم سے آزادی حاصل کرنے کے سلسلے میں تشدد سے کام لینے کا رجحان رکھتے تھے۔
 
یسوؔع کن لوگوں سے ملنا چاہتا تھا؟
بِلاچوپان گناہ گاروں سے
 
کچھ ایسی مذہبی شخصیات بِلا مزاحمت آج بھی موجود ہیں۔وہ سماجی تحریکوں کی ایسے نعروں کے ساتھ راہ نُمائی کرتے ہیں جیسے ’رُوئے زمین کے مظلوم لوگوں کو بچاؤ۔‘ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوؔع مفلس اور مظلوم لوگوں کو بچانے کےلئے آیا۔یوں، سیمنریوں میں علم الالہٰیات سیکھنے کے بعد، وہ سیاست میں حصہ لیتے ہیں، اور معاشرے کے ہر حلقے میںمظلوموں کو چھڑانےکی کوشش کرتے ہیں۔
وہ ایسے لوگ ہیں جو اصرار کرتے ہیں، ”آئیں ہم سب پاک اور رحیم شریعت کے مطابق خُوش باش زندگی گزاریں ۔۔۔۔ شریعت کے مطابق ، یعنی اُس کے کلام کے مطابق جی کر دکھائیں۔“لیکن وہ شریعت کے حقیقی معنی کو نہیں سمجھتے۔وہ شریعت کے مطابق حرف بہ حرف زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ شریعت کے الہٰی مکاشفہ کو نہیں پہچانتے۔
چنانچہ ، ہم کہہ سکتے ہیں کہ تقریباً ۴۰۰سال قبل از مسیح تک اسرائیل میں، انبیا ئے اکرام، یا خُدا کے خادمین نہیں تھے۔اِسی وجہ سے، وہ بِلا چوپان بھیڑوں کا گلہ بن گئے۔
اُن کے پاس نہ شریعت تھی نہ ہی کوئی سچا راہ نُما تھا۔خُدا نے اُس وقت کے ریا کار مذہبی راہ نُماوں کے ذریعے خود کو ظاہر نہ کیا۔وہ ملک رومی شہنشاہت کی نو آبادی بن چُکا تھا۔اِس صورت میں ، یسوؔع نے اسرائیل کے اُن لوگوں سے فرمایاجو بیا بان میں اُس کے پیچھے گئے تھے کہ وہ اُنہیں بھوکے واپس نہیں بھیجے گا۔اُس نے بِلا چوپان گلے پر ترس کھایا کیونکہ بے انتہا ایسے لوگ تھے جو اُس وقت دُکھ اُٹھا رہے تھے۔
عالمینِ شرع اور دوسرے ایسے اعلیٰ مراتب والے وہ لازم لوگ تھے جنہیں مراعات کا حق حاصل تھا؛ فریسی یہودیت کےمسلمہ نسب نامہ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بہت زیادہ مغرور تھے۔
اِس عالمِ شرع نے یسوؔع سے لوقا ۱۰:۲۵ میں پوچھا، ’’میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟‘‘ایسا لگا کہ اُس نے سوچاکہ اسرائیل کے لوگوں کے درمیان اُس سے زیادہ بہتر شخص کوئی نہیں تھا۔لہٰذا اِس عالمِ شرع نے (ایسا آدمی جو نجات یافتہ نہیں تھا)،یوں کہہ کر، اُسے چیلنج کیا،’’میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟‘‘
یہ عالمِ شرع ہمارے باطن کے عکس کے سوا کچھ نہیں ہے۔اُس نے یسوؔع سے پوچھا، ’’میں کیا کروں کہ ہمیشہ کی زندگی کا وارث بنوں؟‘‘یسوؔع نے جواب دیا،’’توریت میں کیا لکھا ہے؟ تو کس طرح پڑھتا ہے؟‘‘
اِس کے بعد، اُس نے جواب دیا، ’’خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔‘‘    
یسوؔع نے اُسےارشاد فرمایا ’’تو نے ٹھیک جواب دیا۔ یہی کر تو تُو جیئے گا۔‘‘
اُس نے یسوؔع کو چیلنج کیاحالانکہ اُس نے خود کو بدکار،یعنی گناہ کے ڈھیلے کے طور پر نہ جانا جو کہ ہرگز نیکی نہیں کرسکتا تھا۔لہٰذایسوؔع نے اُس سے پوچھا،’’توریت میں کیا لکھا ہے؟ تو کس طرح پڑھتا ہے؟‘‘
 
تُو کس طرح پڑھتا ہے؟
ہم گناہ گار لوگ ہیں جو ہرگز شریعت پر
عمل نہیں کر سکتے۔
 
’’تو کس طرح پڑھتا ہے؟‘‘اِس حوالے کے ساتھ،یسوؔع پوچھتا ہے کہ کیسے کوئی آدمی ، جس میں آپ اور میں شامل ہیں، شریعت کو جانتا اور سمجھتا ہے۔
جیسا کہ آجکل بہت سارے لوگ کرتے ہیں، اِس عالمِ شرع نے بھی سوچا کہ خُدا نے اُسے شریعت عمل کرنے کےلئے دی تھی۔یوں اُس نے جواب دیا، ’’خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔‘‘
شریعت بے نقص تھی۔اُس نے ہمیں کامل شریعت عطا کی۔اُس نے ہمیں حکم دیا کہ خُداوند سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ہمارے لئے اپنے خُدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری طاقت سے محبت رکھنا ٹھیک ہے، اَلبتہ یہ ایک پاک حکم ہے جس پر ہرگز عمل نہیں ہو سکتا۔
’’تو کس طرح پڑھتا ہے؟‘‘اِس کا مطلب ہے کہ شریعت صحیح اور دُرست ہے، تاہم آپ اِسے کیسے سمجھتے ہیں؟ اُس عالمِ شرع نے سوچا کہ خُدا نے اِسے اُسےعمل کرنے کے لئے دیاتھا۔البتہ، خُدا کی شریعت ہمیں اِس لئے بخشی گئی تھی تا کہ ہم اپنی خامیوں کو، مکمل طور پر اپنی بدیوں کو عیاں کرنے کے ذریعے ،جان سکیں۔” تُو نے گناہ کیا۔تُو نے خُون کیا جب کہ میں نے تجھے خُون کرنے سے منع
کیا تھا۔کیوں تُو نے میری نافرمانی کی؟
شریعت باطنِ خلق میں گناہوں کو بے پردہ کرتی ہے۔آئیں ہم فرض کریں کہ یہیں اپنی راہ میں،میں نے کھیت میں چند پکے ہوئے تربوز دیکھے۔خُدا نے مجھے شریعت کے مطابق تنبیہ کی، ”اُن تربوزوں کو کھانے کے لئے مت توڑو۔اگرتم ایسا کرو گے تو میں شرمندہ ہوں گا۔“ ”ہاں ، اَے باپ۔ ”یہ کھیت فلاں فلاں آدمی کا ہے، لہٰذا ، تمہیں اُنہیں ہرگز نہیں توڑنا چاہئے۔“ ”ہاں، اَے باپ۔“
اُسی لمحے جب ہم سُنتے ہیں کہ ہمیں اُنہیں ہرگز نہیں توڑنا چاہئے، تو ہم اُنہیں توڑنےکی رغبت محسوس کرتے ہیں۔اگر ہم کسی سپرنگ کو دباتے ہیں، تو وہ جواب میں واپس اُچھلتا ہے۔خلقِ خُدا کے گناہ بالکل ایسے ہی ہیں۔
خُدا نے ہمیں حکم دیا کہ ہرگز بُرے کام نہ کریں۔خُدا یسا فرما سکتا ہے کیونکہ وہ پاک،اور مکمل ہے اور ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔دوسری جانب، ہم ’ہرگز گناہ نہیں روک سکتے اور ’ہرگز خالصتاًنیک نہیں بن سکتے۔ہم ’ہرگز اپنے باطن میں اچھائی نہیں رکھتے۔شریعت لفظ ’ہرگزکو لازمی طورپر قبول کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔کیوں؟ کیونکہ لوگ اپنے باطنوں میں نفسانی خواہشات رکھتے ہیں۔ہم بالکل بچ نہیں سکتے بلکہ اپنی نفسانی خواہشات پر چلتے ہیں۔ہم زناکاری کرتے ہیں کیونکہ زناکاری ہمارے دلوں میں پائی جاتی ہے۔
ہمیں دھیان سے کتابِ مقدّس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔جب میں نے پہلی کوشش کی، تو میں نے حرف بہ حرف تجزیہ کیا۔میں نے پڑھا کہ یسوؔع میری خاطر صلیب پر مر گیا اور میں اپنے آنسوؤں کو بہنے سے نہ روک سکا۔میں اتنا بدکار آدمی تھا کہ وہ میری خاطر صلیب پر مرگیا۔۔۔۔۔میرا دِل اِتنی شدت سے تڑپا کہ میں اُس پر ایمان لے آیا۔اِس موقع پر میں نے سوچا، ’اگرمیں ایمان رکھوں گا، تو پھر میں کلام کے
عین مطابق ہی ایمان رکھوں گا۔‘
جب میں نے خروج ۲۰ باب کا مطالعہ کیا،تو اُس نے فرمایا،’’ میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔‘‘میں نے اِس حکم کے عین مطابق توبہ کی دُعا مانگی ۔میں نے یہ یاد کرنے کے لئے اپنے حافظے کی چھان بین کی آیا میں نے کسی بھی وقت اُس کے حضور غیر معبود کو مانا، کہیں اُس کا نام بے فائدہ لیا، یا بالفرض میں کبھی دوسرے معبودوں کے سامنے جھکا تھا۔میں نے جانا کہ میں اپنے آباؤاجداد کی تعظیم میں ہونے والی رسومات کے دوران کئی مرتبہ دوسرے معبودوں کے سامنے جھک چُکا تھا۔میں غیر معبودوں کو ماننے کا گناہ کر چُکا تھا۔
اِس کے بعد میں نےتوبہ کی دُعا مانگی، ”اَے خُداوند، میں بُتوں کی پوجا کر چُکا ہوں۔مجھے اِس کی سزا سہنی چاہئے۔مہربانی سے میرے گناہوں کو معاف فرما۔میں ایسا ہرگز دوبارہ نہیں کروں گا۔“بعد ازاں، ایسا لگا کہ ایک گناہ تو نبٹا لیا ہے۔
اِس کے بعد میں نے پھر یاد کرنے کی کوشش کی آیا کہیں میں اُس کا نام بے فائدہ لے چُکا تھا۔اِس صورت میں مجھے یاد آیا کہ جب میں نے پہلے پہل خُدا پر ایمان رکھنا شروع کیا تھا، تو میں نے سگریٹ نوشی کی۔میرے احباب نے مجھے بتایا، ” کیا تُو سگریٹ پی کر خُدا کو رُسوا نہیں کر رہا؟بھلا کیسے کوئی مسیحی سگریٹ پی سکتا ہے؟
یہ عین مین بات ہے جیسےکہ اُس کے نام کو بے فائدہ لینا، کیا ایسا نہیں ہے؟ لہٰذا میں نے پھر دُعا مانگی، ”اَے خُداوند ، میں نے تیرا نام بے فائدہ لیا۔براہِ کرم مجھے معاف فرما۔میں سگریٹ چھوڑ دوں گا۔“اِس طرح میں نے سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کی مگرسال بھر وقتاً فوقتاً، سگریٹ سُلگاتا رہا۔یہ کام سچ مُچ مشکل، تقریباً سگریٹ چھوڑنا ناممکن تھا۔لیکن بالآخر، میں نے مکمل طور پر سگریٹ چھوڑنے کابندوبست کر لیا۔میں نے محسوس کیا کہ ایک اور گناہ کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
اگلا حکم تھاکہ ’’سبت کے دن کو پاک ماننا۔‘‘اِس کا مطلب ہوا کہ مجھے اتوار کو دوسرے کام نہیں کرنے چاہئے؛مثلاًکام یا پیسہ کمانا۔۔۔۔اِس طرح میں نے اِس کام کو بھی روکا۔
اِس کے بعد، تُواپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کر کی باری تھی۔میں اُن کی عزت کر سکتا تھاجب میں دُور ہوتا تھا، تاہم درد کا سرچشمہ موجود ہوتا جب جب میں نزدیک ہوتا۔”ہائے میرے خُدایا، میں خُدا کے آگے گناہ کر چُکا ہوں۔اَ ے خُداوند براہِ کرم مجھے معاف فرما۔“میں نے توبہ کی التجا کی۔
 پرمیں اپنے والدین کی کچھ زیادہ تعظیم نہ کر سکاکیونکہ وہ دونوں تب تک وفات پا چُکے تھے۔تو میں
 کیا کر سکتاتھا؟اَے خُداوند ، براہِ کرم اِس ناچیزگناہ گار کو معاف فرما۔تُو میری خاطر صلیب پر مرگیا۔“میں کتنا شکر گزار تھا!
اِس طرح، میں نے سوچا کہ میں نے اپنے گناہوں کو ایک ایک کرکے نبٹا لیا تھا۔دوسرے احکام بھی موجود تھے مثلاًخُون نہ کر، زنا نہ کر، لالچ نہ کر۔۔۔۔۔اُس دن تک جب تک میں نے احسا س نہیں کیا کہ میں بِلا مزاحمت ایک حکم پر بھی عمل نہیں کر چُکا تھا، میں نے ہر رات ساری ساری رات دُعا مانگی۔البتہ آپ جانتے ہیں کہ توبہ کی التجا کرناسچ مُچ خُوشی کی بات نہیں ہے۔آئیں ہم اِس کے متعلق بات کریں۔
جب جب میں نے یسوؔع کی مصلوبیت کے متعلق سوچا، تو میں ہمدردی جتانے کے قابل تھا کہ وہ کتنی کربناک موت تھی۔اور وہ ہماری خاطر جو اُس کے کلام کے مطابق نہیں جی سکتے تھے مر گیا۔میں ساری رات یہ سوچ کر چلاتا رہاکہ اُس نے مجھ سے کتنی محبت کی اور مجھے حقیقی خُوشی عطا کرنے کی وجہ سے اُس کا شکربجا لایا۔
میرےلئے پہلے سال گرجا گھر جانا عمومی طور پر بالکل آسان تھا البتہ اگلے چند سالوں کے لئے میرے واسطے توبہ توبہ چلانا اور زیادہ دوبھر ہوگیاکیونکہ مجھے اپنے بہنے والے آنسوؤں کے متعلق کہیں زیادہ کٹھن سوچنا پڑتا تھاچونکہ میں ایسا اکثروبیشتر کرتا تھا۔
جب پھر بھی آنسو نہ نکلتے، تو اکثر اوقات میں پہاڑوں پر دُعا مانگنے جاتا اور ۳دن کا روزہ رکھتا۔اِس کے بعد، آنسو واپس آ جاتے۔میں اپنے آنسوؤں میں ڈوبا ہوا، معاشرے میں واپس آتا، اور گرجا گھر میں روتا۔
میرے اردگرد والے لوگ کہتے، ” تُو پہاڑوں پر اپنی دعاؤں کے ساتھ بہت زیادہ پارسا بن چُکا ہے۔“ تاہم میرے آنسو عین متوقع طور پر خشک ہو جاتے ۔تیسرے سال تو واقعی ہی بہت مشکل ہوگیا۔ میں اپنی غلطیوں کے متعلق سوچتا جو میں اپنے احباب اور ساتھی مسیحیوں کے ساتھ کر چُکا تھا اور پھر روتا۔اِس کے ۴سال بعد، آنسو پھر خشک ہوگئے ۔میری آنکھوں میں آنسو کی غدودیں تو موجود تھیں، مگر وہ کام نہ کرتی تھیں۔
۵سال بعد، میں رو نہ سکا، بِلا لحاظ چاہے میں نے جتنی بھی کوشش کی۔میری ناک بہنا شروع ہو گئی۔ اِس
کے چند سال اور بعد، میں اپنے آپ سے متنفر ہوگیا، لہٰذاخُدا نے مجھے پھر کتابِ مقدّس کی طرف اُلٹا دیا۔
 
 
شریعت گناہ کی پہچان کے واسطے ہے
 
ہمیں یقیناً شریعت کے متعلق
اچھی طرح کیا جاننا چاہئے؟
ہم ہرگز شریعت پر عمل نہیں کر سکتے۔
 
رومیوں ۳:۲۰میں ، ہم پڑھتے ہیں، ’’ شریعت کے وسیلہ سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے۔‘‘ پہلے پہل،میں نے اِس آیت کو پولُؔس رسول کے لئے محض ایک شخصی پیغام کےطور پر دیکھا اور صرف اُن الفاظ پر ایمان رکھنے کی کوشش کی جنہیں میں نے ترجیح دی۔مگر اپنے آنسو خشک ہونے کے بعد، میں اپنی ایمان کی مذہبی زندگی جاری نہ رکھ سکا۔
لہٰذا، میں بار بار گناہ کرتا رہا اور معلوم کیا کہ میرےباطن میں گناہ پایا جاتا ہےاوریعنی کہ شریعت کے مطابق زندہ رہنا ناممکن تھا۔میں اِسے برداشت نہ کرسکا،دوسری جانب میں شریعت کوترک بھی نہ کر سکاکیونکہ میں ایمان رکھتا تھا کہ شریعت تابعداری کے لئے دی گئی تھی۔آخر کار، میں، اُن لوگوں کی مانند عالمِ شرع بن گیا جو صحائف میں مذکور ہیں۔میرے لئے ایمان کی زندگی کو جاری رکھنا حد سے زیادہ مشکل ہو گیا۔
میرے پاس اِتنا زیادہ گناہ تھا کہ،اُسی دوران شریعت کو پڑھتے ہوئے، میں نے اُن گناہوں کا احساس کرنا شروع کر دیا جب بھی میں نے دس احکام میں سے کسی ایک حکم کواپنے دل میں توڑا۔باطن میں گناہ بھی گناہ کرنا ہی ہے، اور میں غیر ارادی طور پر شریعت پر ایمان رکھنے والا بن چُکا تھا۔
جب میں شریعت پر عمل کرتا، تو میں خُوش ہوتا۔البتہ جب بھی میں شریعت پر عمل نہ کر سکا،تو میں بدحال، آزاردہ،اوررنجیدہ ہو گیا۔بالآخر ، میں ، اِس سے بالکل مایوس ہوگیا۔کاش کے زندگی کتنی با سہولت ہوتی اگر شروع ہی سے مجھےشریعت کے بالکل حقیقی علم کی ایسی تعلیم سکھائی جاتی،نہیں، نہیں۔شریعت کا ایک اور مطلب بھی ہے۔یہ عیاں کرتی ہے کہ تم گناہ کا ڈھیلا ہو؛تم پیسے، جنسِ مخالف اور اُن چیزوں سے محبت رکھتے ہوجو دیکھنے میں خوبصورت ہیں۔تمہارے پاس ایسی چیزیں ہیں جن سے تم خُدا سے زیادہ محبت کرتے ہو۔تم کل عالم کی چیزوں کے پیچھے دوڑنا چاہتے ہو۔شریعت تمہیں عمل کرنے کے لئے نہیں، بلکہ خود کو اپنے باطن میں بدی کے ہمراہ ایک گناہ گار کے طور پرپہچاننے کے لئے دی گئی ہے۔“
کاش مجھے کوئی آدمی اُس وقت سچ سکھا دیتا، تو مجھے۱۰ سال تک اَذّیت نہ جھیلنی پڑتی۔نتیجے میں، میں اِس اصلیت تک پہنچنے سے قبل۱۰سال تک شریعت کے ماتحت رہا۔
چوتھا حکم یہ ہے کہ،’’یاد کر کے تُو سبت کا دن پاک ماننا۔‘‘یعنی اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں سبت کے دن کام نہیں کرنا چاہئے۔وہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں پیدل چلنا چاہئے،یعنی سوار ی استعمال نہیں کرنی چاہئے،اِس صورت میں کہ اگر ہم اتوار کو لمبا سفر کر رہے ہیں۔میں نے سوچا کہ اُس جگہ پر پیدل چل کر جانازیادہ موزوں اور زیادہ قابلِ احترام تھاجہاں میں نےمنادی کرنا تھی۔آخر کار، میں بھی شریعت کی تبلیغ کرنے والا تھا۔حسبِ معمول ، میں نے محسوس کیاکہ مجھے اُس پر عمل کرنا چاہئے جس کی میں منادی کرتا تھا۔یہ کام اِتنا کٹھن تھا کہ میں ہمت ہار گیا۔
جیسا کہ یہاں قلمبند ہے،’’تو کس طرح پڑھتا ہے؟ ‘‘میں اِس سوال کو نہ سمجھ سکا اور ۱۰ سال تک اَذّیت برداشت کی۔نیز عالمِ شرع بھی اِسے غلط ہی سمجھا۔اُس نے سوچا کہ اگر وہ شریعت کے تابع رہے اور احتیاط سے جیئے، تو وہ خُدا کے آگے مُبارک ہو گا۔
البتہ یسوؔع نے اُسے بتایا، ’’تو کس طرح پڑھتا ہے؟ ‘‘اُس آدمی نے اپنے شریعی ایمان کے مطابق جواب دیا۔اور اِس کے بعد اُس نے اُس آدمی سے فرمایا،ہاں، تمہارا جواب ٹھیک ہے؛تم اِسے ایسے لے رہے ہو جیسے لکھا ہوا ہے۔اِسے آزماؤ اور اِس پر عمل کرو۔تم عمل کرنے کی صورت میں زندہ رہو گے، تاہم اگر تم عمل نہیں کرو گے تو مر جاؤ گے۔گناہ کی مزدوری موت ہے۔ اگر تم عمل نہیں کرو گے تو
تم مر جاؤگے۔“(زندگی کا متضاد موت ہے، کیا نہیں ہے؟)۔
اِس کے باوجود عالمِ شرع پھر بھی نہ سمجھا۔یہ عالمِ شرع ہم میں سے ہر آدمی ، یعنی آپ کے اور میرے جیسا ہے۔میں نے علم الالہٰیات کا ۱۰سال تک مطالعہ کیا۔میں نےہر چیز کو آزمایا، ہر چیز پڑھی اور ہر کام کیا؛روزے رکھے، خواب دیکھے، غیر زبانیں بولیں۔۔۔۔میں نے ۱۰سال تک کتابِ مقدس کا مطالعہ کیااور کسی نامعلوم شے کو مکمل کرنے کی توقع کی۔البتہ رُوحانی طور پر،میں اب بھی اندھا آدمی تھا۔اِسی بنا پر کسی گناہ گار کو یقیناًکسی ایسے شخص سے ملنا چاہئے جو اُس مذومث کی آنکھیں کھول سکے، اور وہ شخص صرف ہمارا خُداوند یسوؔع ہے۔
اِس صورت میں، کوئی آدمی احساس کر سکتا ہے کہاو ہو! ہم ہرگز شریعت پر عمل نہیں کر سکتے۔
اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ہم شریعت پر کتنی جانفشانی سے عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ہم بس مرجائیں گےچاہے کتنی سرتوڑ کوشش کریں۔مگر یسوؔع ہمیں پانی اور رُوح کے ساتھ بچانے کے لئے آیا! ہیلیلویاہ!“پانی اور رُوح ہی ہمیں چھڑاسکتے ہیں۔یہ فضل، یعنی خُدا کی نعمت ہے۔لہٰذا ہم خُداوند کی تمجید کرتے ہیں۔
میں شریعت کی نااُمید حد سے ڈگری حاصل کرنے میں اچھا خاصا خُوش قسمت تھا ، مگر بعض لوگ اپنی پوری زندگیاں الہٰی تعلیم پڑھنے میں بے فائدہ گزار دیتے ہیں اور ہرگز سچائی کو نہیں جانتےیعنی اُس دن تک جب تک وہ مر کھپ نہیں جاتے ۔ بعض لوگ دہائیوں سے یا نسل در نسل ایمان رکھتے ہیں ، اِس کے باوجود ہرگز نئے سرے سے پیدا نہیں ہوتے۔
ہم گناہ گارہونے کی ڈگری حاصل کرتے ہیں جب کبھی ہم احساس کرتے ہیں کہ ہم ہرگز شریعت پر عمل نہیں کر سکتے ، اِس کے بعد یسوؔع کے آگے کھڑے ہوتے ہیں اور پانی اور رُوح کی خُوشخبری کو سُنتے ہیں۔ جب ہم یسوؔع سے ملتے ہیں ، تو ہم تمام سزاؤں اور لعنتوں سے چھوٹ جاتے ہیں۔ ہم بد ترین گناہ گار لوگ ہیں ، لیکن ہم راستباز بن جاتے ہیں کیونکہ اُس نے ہمیں پانی اور خُون کے ذریعے سے بچا لیا ۔
یسوؔع نے ہمیں بتایا کہ ہم ہرگز اُس کی مرضی کے مطابق نہیں جی سکتے۔ اُس نے یہی بات عالم ِ
شرع کو بتائی ، مگر وہ پھر بھی نہ سمجھا ۔ اِس کے بعد یسوؔع نے اُسے اُس کی یہ بات سمجھنے میں مدد کرنے کے لئے ایک کہانی بتائی ۔
 
آدمیوں کو ایمان کی زندگی میں
کونسی چیز گراتی ہے؟
گناہ
 
’’ایک آدمی یروشلیمؔ سے یریحو ؔکی طرف جارہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھر گیا۔ انہوں نے اُس کے کپڑے اتار لئے اور مارا بھی اور ادھمٔوا چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘(لوقا۱۰:۳۰)۔ یسوؔع نے اُس عالمِ شرع کو یہ تمثیل اُسے اِس حقیقت سے جگانے کے لئے بتائی کہ اُس نے اپنی ساری حیاتی میں دُکھ برداشت کیا ، بالکل جس طرح اِس آدمی کو ڈاکوؤں نے مارا ادھمٔواکر دیا ۔
ایک آدمی یروشلیمؔ سے یرؔیحو کی طرف گیا ۔ یرؔیحو نفسانی دُنیا کی نمائندگی کرتا ہے اِسی اثنا میں یروشلؔیم مذہبی شہر ؛ ایمان کے شہرکی نمائندگی کرتا ہے ، جو شریعت کی شیخی سے پُر لوگوں کے ساتھ بسا ہُوا تھا ۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر ہم مسیح پر محض مذہبی طریقے سے ایمان لاتے ہیں ، تو ہم برباد ہو جائیں گے ۔
’’ایک آدمی یروشلیمؔ سے یریحو ؔکی طرف جارہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھرگیا۔ انہوں نے اُس کے کپڑے اتار لئے اور مارا بھی اور ادھمٔوا چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘ یروشلؔیم وسیع آبادی کے ساتھ بہت بڑا شہر تھا۔ وہاں ایک سردار کاہن ، کاہنوں کا لشکر ، لاوی اور کئی ممتاز مذہبی ہستیاں رہتی تھیں۔ وہاں بہت سارے لوگ تھے جو شریعت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہاں ، اُنہوں نے شریعت کے مطابق جینے کی کوشش کی ، تاہم بالآخر ناکام ہو گئے اور یرؔیحو کی طرف چلے گئے ۔ وہ دُنیا (یرؔیحو) میں گرگئے اور ڈاکوؤں کی
مڈبھیڑ سے نہ بچ سکے۔
یہ آدمی یروشلؔیم سے یرؔیحو کی راہ پر بھی ڈاکوؤں میں گھرگیا اور اُس کے کپڑے اُتار لئے گئے ۔ ’ اُس کے کپڑے اتار لئے ۔‘ اِس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی راستبازی کھو بیٹھا ۔ ہمارے لئے شریعت کے معیار پر زندہ رہنا ، یعنی شریعت کے مطابق جینا ناممکن ہے ۔ پولُؔس رسول نے رومیوں ۷: ۱۹۔۲۰ میں فرمایا، ’’چنانچہ جس نیکی کا ارادہ کرتا ہوں وہ تو نہیں کرتا مگر جس بدی کا ارادہ نہیں کرتا اسے کر لیتا ہوں۔پس اگر میں وہ کرتا ہوں جس کا ارادہ نہیں کرتا تو اس کا کرنے والا میں نہ رہا بلکہ گناہ ہے جو مجھ میں بسا ہوا ہے۔‘‘
کاش میں نیکی کر سکتا اور اُس کے کلام کے مطابق زندہ رہ سکتا ۔ مگر انسان کے باطن میں بُرے خیال ، حرامکاریاں ، زناکاریا ں ، خُون ریزیاں، چوریاں، لالچ ، بدیاں ، مکر، شہوت پرستی ، بدنظری ، بدگوئی ، شیخی اور بیوقوفیاں ہیں (مرقس ۷:۲۱۔۲۳ )۔
 کیونکہ وہ ہمارے دلوں میں ہیں اور وقتاً فوقتاً باہر نکلتی ہیں ، ہم وہی کرتے ہیں جو ہمیں نہیں کرنا چاہئے اور ہم وہ نہیں کرتے جو ہمیں کرنا چاہئے ۔ ہم اپنے باطنوں میں اُن بدیوں کو بار بار دُہراتے ہیں ۔ اِبلیس کو ہمیں صرف گناہ کرنے کی چھوٹی سی تحریک دینے کی ضرورت ہے۔
 
 
تمام نوع ِ بشر کے باطن میں گناہ
 
کیا ہم شریعت کے
 مطابق جی سکتے ہیں ؟
نہیں
 
مرقس ۷ میں یوں ارشاد ہے ، ’’ کوئی چیزباہرسے آدمی میں داخل ہو کر اسے ناپاک نہیں کرسکتی مگر جو چیزیں آدمی میں سے نکلتی ہیں وہی اس کو ناپاک کرتی ہیں۔‘‘
یسوؔع ہمیں بتا رہا ہے کہ آدمی کے دل میں بُرے خیال ، حرامکاریاں ، زناکاریا ں ، خُون ریزیاں، چوریاں، لالچ ، بدیاں ، مکر، شہوت پرستی ، بدنظری ، بدگوئی ، شیخی اور بیوقوفی پائے جاتے ہیں۔
 ہم سب اپنے باطنوں میں خُون کر چُکے ہیں۔ کوئی ایسا بشر نہیں ہے جو خُون نہیں کرتا ۔ مائیں اپنے
بچوں پر چلاتی ہیں، ”نہیں ، ایسا مت کر و ۔ میں نے تجھے کہا ایسا مت کرو ، لعنت تم پر ۔ میں نے تمہیں بار بار بتایا کہ ایسا مت کرو۔ میں تمہیں مار دُونگی اگر تم نے ایسا دوبارہ کیا۔ میں نے کہا ایسا مت کرو ۔“یہ خُون ہے ۔ آپ شاید اپنے ذہن میں اپنے بِلا سوچے سمجھے الفاظ کے ساتھ اپنے بچوں کا خُون کر چُکے ہیں ۔
ہمارے بچے یقیناً زندہ ہی ہیں کیونکہ وہ ہم سے بڑی تیزی سے دُور بھاگ جاتے ہیں ؛ البتہ اگر ہم اپنا پورا غصہ اُن پر نکالیں ، تو شاید ہم اُنھیں قتل کر دیں۔ کبھی کبھی ہم خود کو ڈراتے ہیں ۔ ”ہائے میرے خُدایا ! میں نے ایسا کیوں کیا؟ “ ہم اپنے بچوں کو مارنے کے بعد اُن کے نیل دیکھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم یقیناً ایسا کرنے کی وجہ سے پاگل ہو چُکے ہیں۔ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ اِس طرح عمل کرتے ہیں کیونکہ ہمارے باطنوں میں خُون پایا جاتا ہے ۔
فی الحال ، پس اگر میں وہ کرتا ہوں جس کا میں ارادہ نہیں کرتا، تو اِس کا مطلب ہے کہ ہم بدی کرتے ہیں کیونکہ ہم بدکار ہیں۔اِس بنا پر شیطان کے لئے ہمیں گناہ کرنے پر ورغلانا کتناسہل ہے ۔
آئیں ہم فرض کریں کہ ایک آدمی جو کے غیر نجات یافتہ ہے۱۰سال سے ایک جھونپڑی میں بیٹھا ہوا ہے،اُس کا رُخ دیوار کی طرف ہےاور عظیم مرحوم کورین راہب،سنگچول کی مانند ریاضت کر رہا ہے۔یہ بات تو ٹھیک ہے جب تک وہ دیوار کی طرف اپنا چہرہ کرکے بیٹھا ہوا ہے،مگر کسی نہ کسی کو اُس کا کھانے لانے اوراُس کا فُضلہ اُٹھا نے کی ضرورت ہے۔
اُسے کسی نہ کسی سے رابطہ رکھنے کی ضرورت ہے۔کوئی مسئلہ نہیں ہو گا بالفرض اگر کوئی آدمی ہو، مگر آئیں ہم فرض کریں کہ وہ کوئی خوبصورت عورت ہے۔اگر وہ اتفاق سے اُسے دیکھ لے ، تو وہ سارا وقت جو اُس نے بیٹھ کر گزاراتھا برباد ہو جائے گا۔وہ شاید سوچے، ”مجھے زنانہیں کرنا چاہئے؛یہ میرے باطن میں موجود ہے،تاہم مجھے اِسے کسی طرح مٹانا ہے۔مجھے اِسے ہر حال میں باہر نکالنا ہے۔نہیں !میرے ذہن سے نکل جا!“
تاہم اُس کا مستقل عزم اُسی لمحے اُڑ جاتا ہے جونہی وہ اُس عورت کو دیکھتا ہے۔اُس عورت کے جانے کے بعد، وہ اپنے دل میں جھانکتا ہے۔ اُس کی ۵سالہ درویشی مشقیں ،سب دو کوڑی کی، سوا میں بدل جاتی ہیں۔
شیطان کے لئے کسی شخص کی راستبازی کو چھیننابے حد آسان ہے۔ سب کچھ جو شیطان کو کرنے کی ضرورت ہے اُس مرد/ عورت کو اُنگلی لگانی ہے۔جب کوئی آدمی نجات پانے کے بغیر گناہ نہ کرنے کی کوشش کرتا ہے ،تو وہ مذومث اِس کی بجائے گناہ کا شکار بنتا رہتا ہے۔وہ آدمی ہر اتوار کو باقاعدگی سے دہ یکی ادا کر سکتا ہے، ۴۰ دن کا روزہ رکھ سکتا ہے، ۱۰۰دن تک علی الصبح دُعائیں مانگ سکتا ہے، تاہم شیطان اُس مرد/ عورت کو زندگی میں نیک نظر آنے والےکاموں کے ساتھ ورغلاتا اور فریب دیتا ہے۔
           ”میں تمہیں کمپنی میں نہایت اعلیٰ مرتبے پر فائز کروں گا،مگر تُو تو ایک مسیحی ہےاور تم اتوار کے دن کام نہیں کر سکتے، کیا تم کرسکتے ہو؟یہ کتنا اعلیٰ عہدہ ہے۔شاید آپ ۳ اتوار کام کر سکیں اور بس مہینے میں ایک ہی بار گرجا گھر جا سکیں۔اِس شرط پر، آپ ایسے اعلیٰ وقار سے محظوظ ہوں گے اوربہت بڑاتنخواہ کا چیک پائیں گے۔اِس کی بابت کیا خیال ہے؟اِس موقع پر، غالباً سو میں سے سو لوگ بِک جائیں گے۔
اگر یہ وار کام نہ کرے، تو شیطان اُن لوگوں پرایک اور چال چلتا ہے جو باآسانی عورتوں کی بنا پر شہوت کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔شیطان اُس کے سامنےکسی عورت کو لاتا ہے اور وہ سر تا پاؤں تک محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے ، وہ آناًفاناً خُدا کو بھول جاتا ہے۔اِس بنا پر یہ ہے کیسے کسی آدمی کی راستبازی تار تار ہو جاتی ہے۔
اگر ہم شریعت کےمطابق جینے کی کوشش کرتے ہیں ، تو ہمارے پاس آخر میں جو سب ہوں گے وہ گناہ، درد اور رُوحانی غربت کے زخم ہوں گے؛ہم ساری راستبازی کھو بیٹھتے ہیں۔’’ایک آدمی یروشلیمؔ سے یریحو ؔ کی طرف جارہا تھا کہ ڈاکوؤں میں گھرگیا۔ انہوں نے اُس کے کپڑے اتار لئے اور مارا بھی اور ادھمٔوا چھوڑ کر چلے گئے۔‘‘
 اِس کا مطلب ہے کہ گویا ہم خُدائے قدوس کی مرضی کے مطابق زندہ رہنے کے ذریعے سے یروشلیؔم میں ٹھہرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، ہم اپنی کمزوریوں کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ٹھوکر کھائیں گے اور بالآخر تباہ ہو جائیں گے۔
شاید آپ اب بھی خُدا کے آگے توبہ کی دعا مانگیں۔”اَے خُداوند، میں نے گناہ کیا ہے۔براہِ کرم مجھے معاف فرما؛میں ایسا دوبارہ ہرگز نہیں کروں گا۔میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ یہ در حقیقت آخری موقع ہو گا۔میں بھیک مانگتا ہوں اور آپ کی منت کرتا ہوں کہ مجھے بس اِسی مرتبہ معاف فرما دیں۔“
مگر ایسا ہرگز نہیں ہوتا۔خلقِ دُنیا اِس جہان میں بِلا گناہ نہیں رہ سکتے۔ہو سکتا ہے وہ چند مرتبہ اِس سے بچنے کے قابل ہوں،مگر دوبارہ گناہ نہ کرنا ناممکن ہوگا۔لہٰذا ، ہم بچ نہیں سکتے بلکہ بار بار گناہ کرتے ہیں۔”اَے خُداوند ، مجھے براہِ کرم معاف فرما۔“اگر یہی سلسلہ جاری رہے گا، تو وہ گرجا گھر اور اپنی مذہبی زندگیوں سے دُور بھاگ جائیں گے۔وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے خُدا سے دُور بھاگتے ہیں اور بالآخر جہنم میں فنا ہو جاتے ہیں۔
یرؔیحو کی طرف جانے کا مطلب ہے کہ مادی دُنیا میں پھنس جانا؛جہان کے زیادہ نزدیک ہونا اور یروؔشلیم سے کہیں دُور چلے جانا ۔شروع شروع میں، یروشلیؔم ابھی تک نزدیک ہی ہوتا ہے، مگر جوں جوں گناہ اور توبہ کا چکردہرایا جاتا ہے ، تو ہم خود کو یرؔیحو شہر کے مرکز میں کھڑے ہوئے پاتے ہیں؛یعنی دلی طور پر دُنیا میں مبتلا پاتے ہیں۔
          
کون لوگ نجات یافتہ ہو سکتے ہیں؟
وہ لوگ جو اپنی ذاتی راستبازی کو
تشکیل دینا ترک کرتے ہیں
          
وہ آدمی اپنی یرؔیحو کی راہ پر کن لوگوں میں گھر گیا؟ وہ ڈاکوؤں میں گھر گیا۔وہ آدمی جو بِلا شک شریعت کو نہیں جانتا اور اِس کے مطابق نہیں جیتا وہ آدمی کسی آوارہ کتے سے ملتی جلتی زندگی گزارتا ہے۔وہ مذومث پیتا ہے، کہیں بھی سو جاتا ہےاور کہیں بھی پیشاب کر دیتا ہے۔یہ کتا اگلے دن جاگتا ہے اور پھر پیتا ہے۔آوارہ کتا اپنی ہی قے کھائے گا۔اِسی بنا پر ایسا آدمی کتاکہلاتا ہے۔وہ مرد/ عورت پینا نہیں جانتا ،مگر اُسی طر ح کرتا ہےاور اگلی صبح توبہ کرتا ہے،یعنی کہ بار بار اُسی عمل کو دہراتا ہے۔
وہ اُس آدمی کی مانند ہےجو یرؔیحو کی راہ پرڈکوؤں میں گھر گیا۔وہ پیچھے ، گھائل اور تقریباًمردہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔اِس کا مطلب ہے کہ فقط اُس کے دل میں گنا ہ ہے۔یہی ہے کہ نوعِ انسان کیا ہیں۔
لوگ یسوؔع پر ایمان رکھتے ہیں اور اِسی اثنا میں یروشلیؔم،یعنی مذہبی طبقے میں شریعت کے مطابق زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں،البتہ اپنے باطنوں میں فقط گناہ کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیئے جاتے ہیں۔وہ سب جو اُن کے پاس اپنی مذہبی زندگیوں میں دکھانے کے لئے باقی ہے گناہ کے گھاؤ ہیں۔وہ لوگ جو اپنے باطنوں میں گناہ کے ساتھ ہیں بالآخر جہنم میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔وہ اِس بات کو جانتے ہیں ،تاہم یہ نہیں جانتے کہ آگے کیا کریں۔کیا آپ اور میں بھی اِسی ملتے جلتے مذہبی شہر میں نہیں رہتے؟جی ہاں۔ہم سب اُسی جگہ پر تھے۔
وہ عالمِ شرع جس نے خُدا کی شریعت کو غلط سمجھا اپنی پوری زندگی میں ہاتھ پاؤں مارے گا، اِس کے باوجود گھاؤ کھا کر،جہنم میں مر جائے گا۔وہ ہم میں سے، یعنی آپ میں سے اور مجھ میں سے ایک ہے۔
فقط یسوؔع ہمیں بچا سکتا ہے۔ہمارے گردونواح میں بہت سارے ذہین لوگ ہیں اور وہ صبح وشام شیخی بگھارتے ہیں کہ وہ کیا جانتے ہیں۔وہ سب خُدا کی شریعت کے مطابق جینے کا جھوٹا دعوہٰ کرتے ہیں اور اپنی ہی ذات کے ساتھ دیانتدار نہیں ہیں۔وہ دو ٹوک بات نہیں کرسکتے ،مگر وفادار نظر آنے کے لئے اپنی ظاہری شکل وصورت کو سنوارنے میں ہمیشہ لگے رہتے ہیں۔
اُن لوگوں کے درمیان یرؔیحو کی راہ پرگامزن گناہ گار لوگ ہیں،یعنی ایسے لوگ جنہیں ڈاکو مارتے ہیں اور ادھمؤا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ہمیں جان لینا چاہئے کہ ہم خُدا کے سامنے کتنے پُھو ٹک ہیں۔
ہمیں اُس کے آگے ماننا چاہئے، ”اَے خُداوند، اگر تُو مجھے نہ بچائے تو میں جہنم میں چلا جاؤں گا۔براہِ کرم مجھے بچا۔ آیا آندھی آئے یا طوفان،میں وہیں جاؤں گا جہاں تُو چاہتا ہے، بشرطیکہ میں صرف سچی خُوشخبری کو سُن سکوں۔اگر تُو مجھے تنہا چھوڑ دے ، تو میں جہنم میں جاؤں گا۔ میں تجھ سے بھیک مانگتا
ہوں کہ مجھے بچا لے۔“
وہ لوگ جو جانتے ہیں کہ وہ جہنم کی طرف جارہے ہیں اور اپنی ذاتی راستبازی کے تعاقب کی جُستجو ترک کرتے ہیں، یعنی اِسی اثنا میں خُداوند پرتوکل کرتے ہیں، وہی ایسے لوگ ہیں جو نجات یافتہ ہو
سکتے ہیں۔ ہم اپنی ذاتی کوششوں کی بدولت ہرگز نجات یافتہ نہیں ہوسکتے۔
ہمیں ہر حال میں سمجھنا چاہئے کہ ہم اُس آدمی کی مانند ہیں جو ڈاکوؤں میں گھر گیاتھا۔