خطبات

مضمون 3: پانی اور رُوح کی خوشخبری

[3-1] <یوحنا۸:۱-۱۲> اَبدی چُھٹکارہ

<یوحنا۸:۱-۱۲>
’’مگر یسوؔ ع زیتون کے پہاڑ کو گیا۔صبح سویرے ہی وہ پھر ہیکل میں آیا اور سب لوگ اُس کے پاس آئے اور وہ بیٹھ کر اُنہیں تعلیم دینے لگا۔اور فقیہ اور فریسی ایک عورت کو لائے جو زنا میں پکڑی گئی تھی اور اُسے بیچ میں کھڑا کرکے یسوؔ ع سے کہا۔ اے استاد! یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔ توریت میں موسیٰؔ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔پس تُو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟ اُنہوں نے اُسے آزمانے کے لئے یہ کہا تاکہ اُس پر الزام لگانے کا کوئی سبب نکالیں مگر یسوؔ ع جھک کر انگلی سے زمین پر لکھنے لگا۔ جب وہ اُس سے سوال کرتے ہی رہے تو اُس نے سیدھے ہو کر اُن سے کہا جوتم میں بے گناہ ہو وُہی پہلے اُس کے پتھر مارے۔ اور پھر جھک کر زمین پر انگلی سے لکھنے لگا ۔وہ یہ سن کر بڑوں سے لیکر چھوٹوں تک ایک ایک کرکے نکل گئے اور یسوؔ ع اکیلا رہ گیا اور عورت وہیں بیچ میں رہ گئی۔ یسوؔ ع نے سیدھے ہو کر اُس سے کہا اَے عورت یہ لوگ کہاں گئے کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا؟۔اُس نے کہا اَے خداوند کسی نے نہیں۔ یسوؔ ع نے کہا میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔ جا۔ پھر گناہ نہ کرنا۔یسوؔع نے پھر اُن سے مخاطب ہو کر کہا دُنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا۔‘‘
 
 
یِسُوع نے کتنے گناہوں کو نیست کیا؟
دُنیا کے تمام گناہوں کو
 
یسو ؔع نے ہمیں ابدی خلاصی عطا کی۔عالمِ کل میں ایک بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو نجات یافتہ نہیں ہو سکتا بشرطیکہ وہ مرد/ عورت یسوؔع پر نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھتا ہو۔اُس نے ہم سب کو چُھڑا لیا۔اگر کوئی ایسا گناہ گار ہے جو اپنے گناہوں میں تڑپتا ہے، تو یہ اُس آدمی کے ناقص تصور کی وجہ سے ہے کہ کیسے یسوؔع مسیح ہر مذکرو مؤنث کو اُس کے تمام گناہوں سے اپنے بپتسمہ اور مصلوبیت کے ساتھ آزاد کر چُکا ہے۔
ہم سب کو اِسے جاننا چاہئے اور نجات کے بھید پر ایمان رکھنا چاہئے۔یسوؔع نے اپنے بپتسمہ کےسَنگ ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اورصلیب پر مرنے کی وجہ سے ہمارے گناہوں کی واجبی سزا جھیل چُکا ہے۔
آپ کو پانی اور رُوح کی نجات؛ یعنی تما م گناہوں کے اَبدی چُھٹکارےپر ایمان لانا چاہئے۔آپ کو اُس کی عظیم محبت پر ایمان لانا چاہئے جو آپ کو پہلے ہی راستباز بناچُکی ہے۔اِس بات پر ایمان رکھیں کہ وہ آپ کی نجات کی خاطر دریائے یردؔن اور صلیب پر کیا کر چُکا ہے۔
یسوؔع ہمارے تمام پوشیدہ گناہوں سے بھی واقف تھا۔بعض لوگ گناہ کے متعلق ناقص سوچ رکھتے ہیں۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ بعض گناہوں کی معافی نہیں مل سکتی۔ یسوؔ ع نے تمام گناہوں کو ، یعنی ہر ایک گناہ کوالگ الگ معاف کیا۔
اِس عالم میں کوئی ایسا گناہ نہیں جو اُس نے چھوڑ دیا ہو۔چونکہ وہ اِس عالم کے تمام گناہوں کو مٹا چُکا ہے، صداقت یہ ہے کہ اب گناہ گار نہیں ہیں۔کیا آپ پوری طرح آگاہ ہیں کہ خُوشخبری آپ کے تمام گناہوں کا ،بِلا شک آپ کے مستقبل کے گناہوں کا بھی دام چُکاچُکی ہے؟ اُس بات پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں اور سارا جلال خداوند خداکو دیں۔
 
 
وہ عورت جو زناکاری کے فعل میں پکڑی گئی
          
دُنیا میں کتنے لوگ زَناکاری کرتے ہیں؟
تمام لوگ
 
یوحنا۸باب میں، ایک عورت کی کہانی موجودہے جو زناکاری کے فعل میں پکڑی گئی تھی اور ہم
دیکھتے ہیں کہ کیسے یسوؔ ع نے اُسے بچالیا۔ ہم اُس فضل کو بانٹنا چاہیں گے جو اُس ناری نے حاصل کیا۔ یہ کہہ دینا قطعاً کافی نہیں ہے کہ تمام بنی نوع انسان اپنی زندگیوں میں کسی نہ کسی نکتے پر زناکاری کرتے ہیں۔ ہرفردِ واحدزناکاری کرتا ہے۔
اگر آپ اِس طر ح نہیں سوچتے، توبس وجہ یہ ہے کیونکہ ہم اکثرو بیشترایسا کرتے ہیں یعنی کہ ایسا لگتا ہے جیسے گویا ہم ایسا نہیں کرتے۔ کیوں؟ اِس لئے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بہت زیادہ زناکاری کے ساتھ زندہ ہیں۔
یوحنا ۸ میں، اُس عورت پر نظرکرکے،میں گہر ی نظر سے جائزہ لیتا ہوں کہ آیا ہمارے درمیان کوئی ایک بھی ایسا شخص ہے یا نہیں جس نے زناکاری نہ کی ہو۔ کوئی بھی ایک فردِ واحد نہیں ہے جو زنا کاری نہیں کرچُکا،بالکل اُس عورت کی مانند جو زناکاری کے فعل میں پکڑی گئی تھی۔ ہم سب ایسا کر چُکے ہیں،مگر ہم جھوٹا دعوی ٰ کرتے ہیں کہ ہم ایسا نہیں کر چُکے۔
کیا آپ گمان کرتے ہیں کہ میں غلط ہوں ؟جی نہیں، میں غلط نہیں ہوں ۔اپنے باطن میں غور سے دیکھیں۔ہر آدمی رُوئے زمین کے چہرے پر ایسا کرچُکاہے۔وہ گلیوں میں عورتوں پر ٹکٹکی باندھنے کے دوران،اپنی سوچوں اور اپنے عملوں میں کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ زناکاری کرتے ہیں۔
 وہ بالکل احساس نہیں کرتے کہ وہ ایسا کررہے ہیں ۔ایسے بے شمار لوگ ہیں جو تب تک احساس
نہیں کرتے جس دن تک کہ وہ مر نہیں جاتے کہ وہ اپنی کلِ زندگیوںمیں اَن گنت مرتبہ زناکاری کر چُکے ہیں۔نہ فقط وہ لوگ جو پکڑے جا چُکے ہیں ، بلکہ ہم سب شامل ہیں جو کسی موقع پر پکڑے نہیں گئے۔سبھی لوگ اِسے اپنے باطنوں ،اور اپنے عملوں میں کرتے ہیں۔ کیا یہ ہماری زندگیوں کا حصہ نہیں ہے؟
کیا آپ بوکھلا گئے ہیں؟یہ صداقت ہے۔ ہم اِس کے بارے میں بالکل چوکنا ہیں کیونکہ ہم ہراساں ہیں۔صداقت یہ ہےکہ اِن دنوں خلقت ہر وقت زناکاری کرتی ہے، مگر احساس نہیں کرتی کہ وہ ایسا کررہی ہے۔
لوگ اپنی جان کے اندر بھی زناکاری کرتے ہیں۔ ہم لوگ، جنہیں خداوند خدانے خلق کیا، اِس رُوئے زمین پرمطلق احساس کئے بغیر زندگی بسر کرتے ہیں کہ ہم رُوحانی زناکاری بھی کرتے ہیں۔ دوسرے معبودوں کی پوجا رُوحانی زناکاری کے بالکل برابرہےکیونکہ خُداوند کَرِیم تمام نسلِ انسانی کا واحد شوہر ہے۔
 جو عورت عین فعل میں پکڑی گئی تھی وہ بھی فی الحال ہم لوگوں کی مانند عام انسان تھی ،اور اُس
نے بھی خداوند خداکا فضل بالکل ویسے ہی حاصل کیا جیسے ہمارا فدیہ دیا گیا تھا۔اِس کے باوجود ریاکار فریسیوں نے اُسے اپنے درمیان میں کھڑا کیااور اُس پر یوں انگلیاں اُٹھائیں ،جیسے کہ وہ منصف تھے، اور اُس کو سنگسار کرنےپر آمادہ تھے۔ وہ اُس کو پھٹکارنے اور سزا دینے پر آمادہ تھےجیسے کہ وہ خود پارسا تھے، اور کبھی زناکاری نہیں کر چُکے تھے۔
ہم ایمان مسیحیو، وہ لوگ جو خود کو گناہ کا ڈھیر جانتے ہیں وہ کبھی خداوند خداکے آگے دوسروں کی عدالت نہیں کرتے۔اِ س کی بجائے، یہ جان کرکہ وہ بھی اپنی پوری زندگیوں میں زناکاری کرتے ہیں ، وہ خداوند خداکے اُس فضل کو حاصل کرتے ہیں جو ہم سب کو چُھڑا چُکا ہے۔ فقط وہ لوگ جو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ گناہ گار لوگ ہیں جو ہر حال میں زناکاری کر چُکے ہیں وُہی خداوند خداکے سامنے نجات پانے کے اہل ہیں۔
 
 
کون خداوند خداکا فضل حاصل کرتا ہے؟
 
کون خُدا کا فضل حاصل
 کرتا ہے؟
نااہل شخص
 
کیا وہ آدمی جوپارسائی سے زناکاری کے بغیرجیتا ہےاُس کے فضل کو حاصل کرتاہے، یاوہ ناچیز آدمی جوخودکونہایت گناہ گار تسلیم کرتا ہےوہی اُس کے فضل کو حاصل کرتا ہے؟ وہ شخص جو اُس کا فضل حاصل کرتا ہےوہی ہے جواُس کی خلاصی کے فراواں فضل کوحاصل کرتا ہے۔وہ لوگ جو اپنی ہی مدد نہیں کرسکتے، کمزور اور بے یارو مدد گارہیں، وہی خلاصی حاصل کرتے ہیں۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو اُس کے فضل میں شامل ہیں۔
وہ لوگ جو گمان کرتے ہیں کہ وہ بِلا گناہ ہیں نجات یافتہ نہیں ہو سکتے۔ کس طرح وہ اُس کی مخلصی کا فضل حاصل کر سکتے ہیں جبکہ معاف کرنے کے لئےکچھ بھی نہیں ہے؟
فقیہ اور فریسی زناکاری کے فعل میں پکڑی جانے والی عورت کو گھسیٹ کر یسوؔ ع کے سامنے لائے اوراُسے اپنے بیچ میں کھڑا کیا اور اُس سے پوچھا،’’ اے استاد! یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔پس تُو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟ ۔‘‘وہ کیوں اُس عورت کو اُس کے سامنے لائے اور اُسے آزمایا؟
وہ کئی بار خود بھی زناکاری کر چُکے تھے، البتہ وہ اُس کی عدالت کرنے اور یسوؔع کے ذریعے اُسے مارنے کی کوشش کر رہے تھےاور اِسی اثنا میں اُس پر إلزام لگانے کی کوشش میں تھے۔
 یسوؔ ع جانتا تھا کہ اُن کے باطنوں میں کیا تھا اور اُس عورت کے متعلق بھی سب کچھ جانتا تھا ۔ لہذا اُس نے فرمایا،’’ جوتم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔‘‘ اِس کے بعد فقیہ اور فریسی،
بڑوں سے شروع کرکے چھوٹوں تک، ایک ایک کرکے نکل گئے، اورفقط یسوؔ ع اور وہ عورت رہ گئی۔
وہاں سے بھاگنے والے لوگ فقیہ اور فریسی، یعنی مذہبی قائد تھے ۔وہ زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی جانے والی عورت کا انصاف کرنے پرتُلے ہوئے تھے، جیسے گو کہ وہ خود گناہ گار نہیں تھے۔
یسوؔ ع نے اِس عالم میں اپنی محبت کا کھلم کھلااعلان کیا۔ وہ محبت کا میزبان تھا۔یسوؔع نے خلقِ خُدا کو کھانا کھلایا، مردوں کو زندہ کیا، بیوہ کے بیٹے کو دوبارہ زندگی بخشی، بیت عنیاؔہ کے لعزؔر کو زندہ کیا، کوڑھیوں کو شفا دی، اور غریبوں کے لئے معجزے کئے ۔اُس نے تمام گناہ گاروں کے گناہ اُٹھا لئے اور اُنہیں نجات بخشی۔
یسوؔع ہمیں پیار کرتا ہے۔ وہ قادرِ مطلق ہے جو کچھ بھی کر سکتا ہے، تاہم فقیہوں اور فریسیوں نے اُسے اپنا دُشمن خیال کیا۔ اِسی بنا پر وہ اُس عورت کو اُس کے سامنےلائے اور اُسےآزمایا۔
اُنہوں نے پوچھا،’’ اے استاد! یہ عورت زنا میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی ہے۔ توریت میں موسیٰؔ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔پس تُو اِس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟ ‘‘اُنہوں نے سوچا کہ وہ اُنہیں اُسے سنگسار کرنے کا حکم دے گا۔ کیوں؟ اگر ہم اِس کے عین مطابق فیصلہ کریں جوکچھ خداند خداکی شریعت میں درج ہے، توہر آدمی جو زناکاری کر چُکا ہےبِلا مستثنیٰ موت کے لئے سنگسار کردیا جائے گا۔
سب لوگوں کومرنے کے لئے سنگسارہونا پڑےگا اور سب جہنم میں جانے کے لائق ٹھہر چُکے ہیں۔ گناہ کی مزدوری موت ہے۔تا ہم، یسوؔ ع نے اُنہیں اُسے سنگسار کرنے کا حکم نہیں دیا۔ اِس کی بجائے، اُس نے فرمایا،’’ جوتم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اس کے پتھر مارے۔‘‘
 
خُدا نے کیوں ہمیں شریعت کی
۶۱۳ دفعات بخشی ہیں؟
تاکہ ہمیں باور کروائے کہ ہم گنہگار ہیں
 
شریعت غضب پیداکرتی ہے۔ خداوند خداپاک ہے اوراُس کی شریعت بھی اِسی طرح پاک ہے۔ یہ پاک شریعت ہمارے پاس۶۱۳دفعات میں آئی۔اِس بات کی وجہ کہ خداوند خداہمیں شریعت کی۶۱۳دفعات عطا کر چُکا ہے ہمیں اچھی طرح سمجھانا ہے کہ ہم گناہ گار ہیں؛ یعنی ہم اُدھورے انسان ہیں۔ یہ ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ ہمیں نجات یافتہ ہونے کے لئے خداوند خداکے فضل کی خواہش رکھنی چاہئے۔اگر ہم اِسے نہیں جانتے اور فقط اُس کے متعلق سوچیں جوکچھ شریعت میں لکھا ہوا تھا، توہمیں مرنے کے لئےسنگسار ہونا پڑے گا، بالکل جیسے وہ عورت تھی جو عین فعل میں پکڑی گئی تھی۔
شاید فقیہ اور فریسی جو اُس کی شریعت کی صداقت سے ناواقف تھے یہ سوچ چُکے تھے کہ وہ اُس عورت پراور غالباً ہم پر، بھی، پتھر پھینک سکتے تھے۔البتہ، کونسا آدمی اُس بےآسرا عورت پر پتھر پھینک سکتا تھا جو ویسی ہی گناہ گارانسان تھی؟ بِلا شک اگرچہ وہ فعل میں پکڑی گئی تھی، تو بھی اِس کائنات کا کوئی بشراُس کوپتھر نہیں مارسکتا تھا۔
بالفرض اگر اُس عورت کی اور ہم میں سے ہر آدمی کی بس شریعت کے عین مطابق عدالت ہو، توہم بھی، اور وہ عورت بھی، ہولناک سزا پائیں گے۔مگر یسوؔ ع نے ہمیں، جو گناہ گار ہیں، ہمارے گناہوں اور واجبی سزا سے بچا لیا۔اپنے تمام گناہوں کے ساتھ،اگر خداوند خداکی شریعت کو حرف بہ حرف سختی سے لاگو کیا جائے، تو ہمارے درمیان کون زندہ رہ سکے گا؟ہم میں سے ہرواحد فردِ جہنم میں غرق ہو جائے گا۔
دوسری جانب فقیہ اور فریسی شریعت کو فقط جیسے وہ لکھی ہوئی تھی جانتےتھے۔ اگر اُس کی شریعت کا درستگی سے إطلاق کیا جائے، تو بالکل اُسی طرح اُن کے مطابق جس کسی آدمی کی بھی عدالت ہوگی یہ اُنہیں مارڈالے گی۔ حقیقت میں، خدا کی شریعت انسانوں کو اِس لئے بخشی گئی تھی کہ وہ اپنے گناہوں سے اچھی طرح واقف ہو سکیں، البتہ اُنہوں نے مصیبت جھیلی کیونکہ وہ اِسے غلط سمجھ چُکے ہیں اور
اِس کا غلط إطلاق کر چُکے ہیں۔
آج کے فریسی بھی، بالکل جس طرح کتابِ مقدّس میں موجود ہیں، بس شریعت کو ویسے ہی جانتے ہیں جیسے لکھی ہو ئی ہے۔اُنہیں اُس کے فضل، اُس کے انصاف اور خداوند خداکی صداقت کو سمجھنا چاہئے۔ اُنہیں رہائی پانے کے لئے نجات بخش خُوشخبری کی تعلیم پانی چاہئے۔
فریسیوں نے کہا،’’ توریت میں موسیٰؔ نے ہم کو حکم دیا ہے کہ ایسی عورتوں کو سنگسار کریں۔پس تو اس عورت کی نسبت کیا کہتا ہے؟‘‘ انہوں نےاپنے پتھر پکڑ کربا اعتماد طریقہ سے سوال پوچھا۔ اُنہوں نے پُریقین ہو کرسوچا کہ یسوؔ ع کے پاس اِس کے متعلق کہنے کو کچھ بھی نہیں ہوگا ۔وہ انتظار کر رہے تھے کہ یسوؔ ع اُن کے لاسے میں پھنس جائے۔
اگر یسوؔ ع شریعت کے مطابق انصاف کرتا، تو وہ اُس کو بھی سنگسار کر ڈالتے۔ اُن کا مقصد دونوں یعنی عورت اور یسوؔ ع کو سنگسار کرنا تھا۔اگر یسوؔ ع عورت کو سنگسار نہ کرنے کا حکم کرتا، تووہ فتویٰ دیتے کہ یسوؔ ع نے خداوند خداکی شریعت کی توہین کی ، اور اُسے کُفرکی بنا پر سنگسار کر ڈالتے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک سازش تھی۔
لیکن یسوؔ ع جھک گیااور اپنی انگلی کے ساتھ زمین پر لکھنے لگا،اور وہ اُس سے سوال کرتے ہی رہے ،’’ تو اِس کی نسبت کیا فرماتاہے؟تو زمین پر کیا لکھ رہا ہے؟فقط ہمارے سوال کا جواب دے۔ تو کیا فرماتا ہے؟‘‘اُنہیں نے یسوؔ ع پراپنی انگلیاں اُٹھائیں اوراُسے تنگ کرتے رہے۔
اِس کے بعد، یسوؔ ع اٹھااور اُن سے فرمایاکہ اُن کے درمیان جو بے گناہ ہو وہی پہلے اِس کے پتھر مارے۔وہ پھر جھکا اور زمین پر لکھنے لگا۔ جن لوگوں نے یہ سنا، اپنے ضمیروں کے سبب سے مجرم ٹھہرکر، وہ ایک ایک کرکے، سب سے بڑے سےشروع کر کے، بالکل آخری شخص تک چلے گئے۔ یسوؔ ع اپنی حضوری میں کھڑی ہوئی عورت کے ساتھ وہاں اکیلا رہ گیا۔
 
 
’’ جوتم میں بے گناہ ہو وُہی پہلے اُسکوپتھر مارے‘‘
 
گناہ کہاں لکھےجاتے ہیں؟
ہمارے دِل کی تختیوں اور ہمارے اعمال کی کتاب میں
 
یسوؔع نے اُن سے فرمایا، ’’ جوتم میں بے گناہ ہو وہی پہلے اُس کے پتھر مارے۔‘‘اوروہ زمین پر لکھتارہا۔ چند بوڑھے لوگ جانا شروع ہوئے۔بوڑھے فریسی، جو زیادہ گناہ کر چُکے تھے، شاید سب سےپہلے گئے۔اِسی طرح نوجوان بھی چلے گئے۔ فرض کریں کہ یسوؔ ع ہمارے درمیان کھڑاہواتھا اور ہم اُس عورت کے اردگرد کھڑے ہوئے تھے۔ بالفرض اگر یسوؔ ع ہم سے کہتا کہ وہ آدمی جو ہمارے درمیان ہے پہلے وہی پتھر مارے، تو آپ کیاکر چُکے ہوتے؟
یسوؔع زمین پر کیا لکھ رہا تھا؟ خداوند خدا جس نے ہمیں خلق کیا، ہمارے گناہوں کو دو مختلف جگہوں پر لکھتا ہے۔
اَوّل، وہ ہمارے گناہوں کوہمارے دل کی تختی پر لکھتا ہے،’’ یہودؔاہ کا گناہ لوہے کی قلم اور ہیرے کی نوک سے لکھا گیا ہے۔ انکے دل کی تختی پر اور ان کے مذبحوں کے سینگوں پر کندہ کیا گیا ہے۔‘‘(یرمیاہ۱۷:۱)۔
خدا یہودؔاہ کے ذریعے سے ہم سے کلام کرتاہے، جو ہمارا ہی نمائندہ ہے۔ نسلِ انسانی کے گناہ لوہے کے قلم، اور ہیرے کی نوک سے کندہ کئے گئے ہیں۔ وہ ہمارے دل کی تختی پر لکھے گئے ہیں۔ یسوؔ ع جھکا اور اُس نے زمین پر لکھا کہ تمام آدمی گناہ گار ہیں۔
خدا جانتا ہے کہ ہم گناہ کرتے ہیں اور وہ ہمارے دلوں کی تختی پر گناہ کندہ کرتا ہے۔ اَوّل، وہ ہمارے اعمال، یعنی گناہوں کو لکھتا ہے جوہم سرزد کرتے ہیں، کیونکہ ہم شریعت کے آگے کمزور ہیں۔ جیسے کہ گناہ ہمارے دلوں پر لکھے جاتے ہیں، تو ہم بخوبی سمجھتے ہیں کہ ہم گناہ گار ہیں جب بھی ہم شریعت پر نظر کرتے ہیں۔چونکہ اُس نے انہیں ہمارے دلوں اور ضمیروں پرکنّدہ کیا، توہم جانتے ہیں کہ ہم اُس کے آگے گناہ گار ہیں۔
اور یسوؔ ع دوسری مرتبہ زمین پر لکھنے کیلئے جھکا۔صحیفہ یہ بھی فرماتا ہے کہ ہمارے تمام گناہ خدا
وند خداکے حضور اعمال نامے میں لکھے ہوئے ہیں (مکاشفہ۲۰:۱۲) ۔ہرگناہ گار کا نام اور اُس مرد /عورت کے گناہ اعمال نامے میں درج ہیں۔وہ اُس آدمی کے دل کی تختی پر بھی درج ہیں۔ ہمارے گناہ دونوں اعمال نامے اور ہمارےدلوں کی تختی پردرج ہیں۔
 گناہ ہرآدمی کے، یعنی بڑے چھوٹے، کے دل کی تختی پر درج ہوتے ہیں۔ اِسی بنا پرُان کے پاس یسوؔ ع کے آگے اپنے گناہ سے متعلق کچھ بھی کہنے کو نہیں تھا۔ وہ لوگ، جنہوں نے عورت کو سنگسار کرنے کی کوشش کی، اُس کے کلام کے سامنے بے بس ہو گئے۔
 
ہمارے گناہ جو دو جگہ لکھے ہیں کب مٹتےہیں
جب ہم اپنے دِلوں میں پانی اوریِسُوع کے خُون کی
مخلصی کو قبول کرتے ہیں ۔
 
تاہم، جب آپ اُس کی نجات کو حاصل کرتے ہیں، توآپ کے تمام گناہ اعمال نامے سے مٹ جاتے ہیں اور آپ کا نام کتابِ حیات کی فہرست میں درج ہو جائے گا۔وہ لوگ جن کے نام کتابِ حیات میں ظاہر ہوتے ہیں وہی آسمان پر جاتے ہیں۔ اُن کے نیک اعمال، یعنی ایسے کام جووہ اِس دُنیا میں خداوند خداکی بادشاہی اور اُسکی راستبازی کے واسطے کر چُکے ہیں وہ بھی کتابِ حیات میں درج ہیں۔وہ آسمان پر اپنائے جاتے ہیں۔وہ لوگ جو اپنے گناہوں سے آزاد ہیں وہی ابدی گھر میں داخل ہوں گے۔
یاد رکھیں ہر شخص کے تمام گناہ دو جگہ پرلکھے ہوئے ہیں، اِس وجہ سے کوئی شخص خداوند خداکو فریب نہیں دے سکتا۔ کوئی بھی شخص ایسانہیں ہے جو اپنے نر یا ناری باطن میں گناہ یا زناکاری نہیں کر چُکا۔ تمام خلقِ خُدا گناہ گار اوراُدھورے ہیں۔
جن لوگوں نے اپنے باطنوں میں یسوؔ ع کی مخلصی کو قبول نہیں کیا وہ اپنے گناہوںمیں تڑپنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ وہ پُر یقین نہیں ہیں ۔وہ اپنے گناہوں کے باعث خداوند خدااور دوسروں سے خوف زدہ ہیں ۔لیکن اُسی لمحے جب وہ اپنے دل میں پانی اور رُوح کی خُوشخبری کی مخلصی کو قبول کرتے ہیں،تو وہ تمام گناہ جو اُن کے دلوں کی تختیوں اور اعمال نامے میں درج ہوتے ہیں بالکل صاف ہوجاتے ہیں۔ وہ اپنے تمام گناہوں سے آزادہو جاتے ہیں۔
آسمان پر ایک کتابِ حیات ہے۔ اِس کتاب میں اُن لوگوں کے نام درج ہیں جو پانی اور رُوح کی مخلصی پر ایمان لاتے ہیں ،پس وہ ہرحال میں عالمِ بالا پر داخل ہوں گے۔وہ اِس بناپرعالمِ بالا پر داخل نہیں ہوتے کہ اُنہوں نے اِس فانی دنیا میں گناہ نہیں کیا تھا،البتہ اِس شرط پر کیونکہ وہ پانی اور رُوح کی راستبازی پر ایمان لانے کے باعث اپنے تمام گناہوں سے مکت ہو چُکے ہیں۔ یہ’ایمان کی شریعت‘ (رومیوں۳:۲۷)ہے۔
ہم ایمان مسیحیو، فقیہ اور فریسی بھی گناہ گار ہی تھے بالکل جس طرح وہ عورت گناہ گارتھی جو زناکاری کے فعل میں پکڑی گئی تھی۔
درحقیقت، وہ شاید زیادہ گناہ کر چُکے تھےکیونکہ اُنہوں نے خود کواور دوسرے لوگوں کویہ جھوٹا دلاسا دے کر فریب دیا کہ وہ گناہ گار نہیں تھے۔ وہ مذہبی راہ بَرحسبِ دستور بااجازت چور تھے۔دوسرے لفظوں میں، وہ جانوں کے چور یعنی زندگی کے چور تھے۔ اُنہوں نے دوسروں کوبا اختیار تعلیم دینے کی جرأت کی، حالانکہ گو وہ خود ابھی تک نجات یافتہ نہیں تھے۔
کوئی بھی آدمی ایسا نہیں ہے جو شریعت کے مطابق بے گناہ ہو۔البتہ کوئی آدمی راستباز بن سکتا ہے، اِس وجہ سے نہیں کہ وہ نروناری گناہ نہیں کر چُکا، بلکہ اِس بنا پر کیونکہ وہ نروناری تما م گناہوں سے چُھوٹ چُکا ہے۔ ایسے شخص کا نام کتابِ حیات میں درج ہوتاہے ۔سب سےاہم بات یہ ہے کہ آیا اُس شخص کا نام کتابِ حیات میں لکھا ہوا ہے یا نہیں۔ چونکہ لوگ اپنی تمام زندگیوں میں گناہ سے خالی نہیں رہ سکتے، اُنہیں یقیناً کتابِ حیات میں نام لکھوانے کے سلسلے میں دوامی طور پر معاف ہونا چاہئے۔
 آیا آپ عالمِ بالا پر اپنائے جائیں گے اِس بات پرتکیہ کرتا ہے کہ آیا آپ سچی خُوشخبری پر ایمان
لاتے ہیں یا نہیں۔آیا آپ خداوند خداکا فضل حاصل کرتے ہیں یا نہیں آپ کے یسوؔ ع کی نجات کو قبول کرنے پراِس کا انحصار ہے۔ اُس عورت کے ساتھ کیا ہوا جو پکڑی گئی تھی؟ شاید وہ خود کو اپنے گھٹنوں پر جھکاچُکی تھی اور اپنی آنکھیں بند کرچُکی تھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ مرنے والی ہے۔ شایدوہ خوف اورپشیمانی کے عالم میں چلا رہی تھی۔لوگ اپنے آپ کے ساتھ ایماندار بن جاتے ہیں جب وہ موت کا سامنا کرتے ہیں۔
’’ اے خداوند خدا یہ بات جائز ہے کہ میں مر جاؤں۔ مہربانی سے میری رُوح کو اپنے ہاتھوں میں قبول فرما، اور مجھ پر رحم فرما۔ اے یسوؔع مہربانی سے مجھ پر ترس کھا۔‘‘اُس نے یسوؔ ع کی مغفرت کی محبت کے واسطےالتجا کی۔’’اے خداوند خدا اگر تومجھے سزا دے،تومجھے سزا ملے گی، اور اگرتو فرمائے کہ میں بے گناہ ہوں، تو اِس کے بعد میرے گناہ مٹ جائیں گے۔ آپ ہی پر اِس کا دار ومدار ہے۔‘‘ وہ غالباً یہ تمام باتیں کہہ رہی تھی۔وہ شاید اقرارکرچُکی تھی کہ ہر بات کا فیصلہ یسوؔ ع پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
وہ عورت جو یسوؔ ع کے پاس لائی گئی تھی اُس نے یہ نہیں کہا ،’’میں نے غلط کیا۔، مہربانی سے مجھے میری زنا کاری سے معاف کردے۔‘‘اس نے کہا،’’ مہربانی سے مجھے میرے گناہوں سے بچا۔اگر تو میرے گناہوں کومعاف کرے گا، تو میں بچ جاؤں گی۔ اگر تم نہیں بچاؤ گے، تو میں جہنم میں چلی جاؤں گی۔ مجھے تیرے فدیہ کی ضرورت ہے۔ مجھے خداوند خداکی محبت کی ضرورت ہے، اور مجھے اُس کی ضرورت ہےکہ مجھ پر ترس کھائے۔‘‘ اُس نے اپنی آنکھوں کو بند کر لیا اور اپنی گناہ گاری کا اقرار کیا۔
اور یسوؔ ع نے اُس سے پوچھا، ’’ اے عورت یہ لوگ کہاں گئے کیا کسی نے تجھ پر حکم نہیں لگایا۔‘‘ اُس نے جواب دیا، ’’اےخُداوندکسی نے نہیں۔‘‘
اور یسوؔ ع نے اُسے فرمایا،’’ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔‘‘ یسوؔ ع نے اُس پر حکم نہیں لگا یاکیونکہ وہ دریائے یردنؔ پر اپنے بپتسمہ کے باعث پہلے ہی اُس کے تمام گناہوں کو اُٹھا چُکا تھا ، اور وہ پہلے ہی مُکت ہوچُکی تھی ۔اب،اُس عورت کو نہیں بلکہ ، یسوؔ ع کو اُس کے گناہوں کی بنا پر سزا جھیلنا تھی۔
 
 
اُس نےفرمایا،’’میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔‘‘    
 
کیا یِسُوع نے اُس عورت
 پر حکم لگایا؟
نہیں
 
یہ عورت یسوؔ ع میں، نجات کے ساتھ مُبارک ٹھہری۔ اُسےاپنے تمام گناہوں سے رہائی مل گئی۔ ہماراخُداوند کَرِیم یسوؔ ع ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہمارے تمام گناہ معاف کرچُکا ہے اور ہم سب راستبازہیں۔
وہ کتابِ مقدّس میں ہمیں بہر حال ایسے ہی بتاتا ہے۔ وہ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے
لئےصلیب پر مؤا، جن کو اُس نے دریائے یردنؔ پراپنے بپتسمہ کے ساتھ اُٹھالیا تھا۔ وہ ہمیں صاف صاف بتاتا ہے کہ اُس نے اُن سب لوگوں کا فدیہ دے دیا جو اُس کے بپتسمہ کی مخلصی اور صلیبی عدالت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ہم سب کو یسوؔ ع کے تحریری کلام کی ضرورت ہے اوراُس کے کلام پر قائم رہنے کی ضرورت ہے۔ اِس کے بعد، ہم مخلصی کے ساتھ مُبار ک ٹھہریں گے۔
’’ اے خداوند خدا تیرے آگے میری کوئی خوبی نہیں ہے۔ میرے باطن میں کوئی نیکی نہیں ہے ۔ میرے پاس تجھے دِکھانے کے لئے اپنے گناہوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔اِس کے باوجود میں ایمان رکھتا ہوں کہ یسوؔ ع میری مخلصی کاخُداوندہے۔ اُس نے دریائے یردنؔ پر میرے تمام گناہ اٹھالئے اوراُن کا صلیب پرفدیہ دے دیا۔ اُس نےاپنے بپتسمہ اور اپنےخُون کے سَنگ میرے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اے خُداوند، میں تجھ ہی پر ایمان لاتا ہوں۔‘‘
اِس بنا پر آپ نجات حاصل کرتے ہیں۔ یسوؔع’ ہم پر لعنت‘نہیں کرتا۔ اس نے ہمیں خداوند خداکےطفل بننے کا حق بخشا: وہ لوگ جو پانی اور رُوح کی خلاصی پر ایمان رکھتے ہیں،وہ اُن کے تمام گناہ اُٹھا چُکا ہے اور اُنہیں راستباز ٹھہراچُکا ہے۔
پیارے دوستو! اُس عورت کو مخلصی مل گئی۔ وہ عورت جو زناکاری میں پکڑی گئی تھی ہمارےخُداوند
یسوؔع کی مخلصی کے باعث مُبارک ٹھہری۔ہم بھی اُسی طرح مُبارک ٹھہر سکتے ہیں۔ہر کوئی جو اپنے گناہوں کو جانتاہے اور خداوند خداسےاُس پر رحم کی درخواست کرتا ہے،اور جوکوئی یسوؔ ع میں پانی اور رُوح کی مخلصی پر ایمان لاتا ہے، خداوند خداکی طرف سے معافی کی برکت حاصل کرتا ہے۔وہ لوگ جو خداوند خداکے آگے اپنی گناہ گاری تسلیم کرتے ہیں بانجات ہو سکتے ہیں،مگر وہ لوگ جو اپنےگناہوں کا احساس نہیں کرتےمخلصی کے ساتھ مُبارک نہیں ٹھہر سکتے۔
 یسوؔع نے دنیا کے گناہ اُٹھالئے (یوحنا۱:۲۹) ۔کل عالم کاکوئی بھی گناہ گاربانجات ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ یسوؔ ع پر ایمان لائے۔ یسوؔع نے اُس عورت سے فرمایا،’’ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔‘‘ اس نے فرمایا کہ وہ اُس پر حکم نہیں لگاتاکیونکہ اُس کے تمام گناہ پہلے ہی اُس کے بپتسمہ کی بدولت اُس پرمنتقل ہو چُکے تھے۔ اُس نے اپنے اوپرہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے، اور اُس نے اُن کی خاطر ہماری جگہ پر سزا سہی۔
 
 
ہمیں یسوؔ ع کے آگے نجات یافتہ ہو نا چاہئے
                    
خُدا کی محبت اور خُدا کی عدالت
 میں کونسی بات عظیم ہے؟
خُدا کی محبت
 
           اپنے ہاتھوں میں پتھرتھامے ہوئے فریسی بھی، اوراِسی طرح دورِ حاضر کے مذہبی راہ بَر بھی شریعت کی حرف بہ حرف تشریح کرتے ہیں۔ وہ ایمان رکھتے ہیں چونکہ شریعت ہمیں زنا کاری نہ کرنے کا
حکم دیتی ہے، تو جو کوئی ایسے گناہ کرے گا وہ نوبتِ مرگ تک سنگسار ہو گا۔ وہ چوری چھپے شہوانی نظر وں سے عورتوں کو تکتے ہیں اوراِس کے باوجود زناکاری نہ کرنے کا بہانا کرتے ہیں۔ وہ نہ معافی پا سکتے ہیں نہ ہی نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ فریسی اور فقیہ اِس دنیاوی عالم کےمعلمِ اخلاق تھے۔وہ ایسے لوگ نہیں تھے جنہیں یسوؔع بُلاتا تھا۔اِن لوگوں نے قطعاً اُس سے نہیں سنا،’’میں تم پر حکم نہیں لگاؤں گا۔‘‘
فقط اُس عورت نےجو زناکاری میں پکڑی گئی تھی وہ پُرمسرت الفاظ سنے۔اگر آپ اُس کے آگے دیانتدار ہیں، تو آپ بھی اُسی کی طرح برکت پاسکتے ہیں۔’’ اے خداوند خدا میں بچ نہیں سکتابلکہ اپنی ساری زندگی میں زناکاری کروں گا۔یعنی میں اِس سے واقف نہیں ہوں فقط اِس وجہ سے ہے کیونکہ میں ایسا اکثروبیشتر کرتا ہوں۔ میں ہر دن کئی مرتبہ ایسا گناہ کرتا ہوں۔‘‘
جب ہم شریعت کو اور اِس حقیقت کو قبول کرتے ہیں کہ ہم گناہ گار ہیں جو یقیناً مر جائیں گے اور دیانتداری سےیوں کہہ کر، خداوند خداکا سامناکرتے ہیں،’’ اے خداوند خدا،یہ اِس بنا پر ہے کہ میں کیا ہوں۔ مہربانی سے مجھے بچا، ‘‘ تو خداوند خداہمیں اپنی مکتی کے ساتھ برکت دے گا۔
یسوؔع کی محبت، یعنی پانی اور رُوح کی خُوشخبری، خداند خداکی راست عدالت پر غالب آچکی ہے۔ ’’ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔‘‘ وہ ہم پر حکم نہیں لگاتا۔وہ فرماتا ہے،’’ تم نجات یافتہ ہو۔‘‘ ہماراخُداوند کَرِیم یسوؔ ع مسیح رحم کا خداند خداہے۔وہ ہمیں دنیا کے تمام گناہوں سے رہائی بخش چُکا ہے۔
ہمارا خُدا انصاف کا خُدا اور محبت کارب ہے۔پانی اور رُوح کی محبت بِلا شک اُس کی عدالت سے
کہیں بڑی ہے۔
 
 
اُس کی محبت اُس کے عدل سے کہیں بڑی ہے
          
اُس نے ہمیں کیوں نجات بخشی؟
کیونکہ اُسکی محبت اُسکے انصاف
 سے عظیم ہے
 
اِس صورت میں کہ اگر خداوند خدااپنا عدل مکمل کرنے کے لئے اپنی عدالت پر زور دے، تو وہ تمام گناہ گاروں کی عدالت کرے گا اوراُنہیں جہنم میں بھیج دے گا۔مگر کیونکہ یسوؔ ع کی محبت، جو ہمیں عدالت سے بچاتی ہے،کہیں بڑی ہے، اِسی لئے خداقادرِ مطلق نے اپنے واحد بیٹے، یسوؔع، کو بھیجا۔ یسوؔ ع نے ہمارے تمام گناہ اپنےآپ پرلےلئے اور ہم سب کی خاطر ساری سزا برداشت کی۔ اب، ہرآدمی جویسوؔع پراپنے نجات دہندہ کے طور پرایمان لاتا ہے وہ اُس کا طفل اور راستباز بن جاتا ہے ۔چونکہ اُس کی محبت اُس کےعدل سے کہیں بڑی ہے، اُس نے ہم سب کو چُھڑا لیا۔
 ہمیں ضرور ہی خداوند خداکا شکر ادا کرنا چاہئے کہ وہ فقط اپنےعدل کے ساتھ ہماری عدالت نہیں کرتا۔ ایک موقع پر یسوؔ ع نے فقیہوں، فریسیوں ،اور ان کے شاگردوں کو بتایا،’’لیکن جاؤ اور اِس کے معنی دریافت کرو:’میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں۔‘میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گناہ گاروں کو توبہ کے لئے بلانے آیا ہوں‘‘(متی۹:۱۳)۔بعض لوگ ابھی تک ہر روزکسی گائے یا کسی بکری کو ذبح کرسکتے ہیں اور اُسے خداند خداکے حضور، یہ دعا مانگ کر، گزران سکتے ہیں،’’اے خداوند خدا ، ہر روزہی میرے گناہوں کو معاف کر۔‘‘خدا ہماری قربانیاں نہیں چاہتا، بلکہ اِس کی بجائے وہ پانی اور رُوح کی مخلصی پر ہمارا عقیدہ چاہتا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم چھٹکارا حاصل کریں اور آزاد ہوجائیں۔ وہ ہمیں اپنی محبت بخشناچاہتا ہےاور ہمارے پختہ اعتقاد کو قبول کرنا چاہتا ہے ۔کیا آپ سب کچھ سمجھ سکتے ہیں؟ یسوؔع
ہمیں اپنی کامل نجات بخش چُکا ہے۔
یسوؔع گناہ سے نفرت کرتا ہے، اِس کے باوجود وہ نسلِ انسانی کے لئےشعلہ زن محبت رکھتا ہے،
جو خداوند خداکی شبیہ پر خلق ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ اُس نے بنائے عالم سے پیشر ہمیں اپنے فرزند بنانے کا فیصلہ کر لیااور ہمارے گناہوں کو اپنے بپتسمہ اور خُون کے ساتھ مٹاڈالا۔خُدانے آخر کار ہمیں چُھٹکارہ دینے، یسوؔ ع سے مُلبس کرنے ،اورہمیں اپنے اطفال بنانے کے لئے خلق کیا۔یہ وُہی محبت ہے جووہ ہمارے لئے یعنی اپنی مخلوقات کے لئے رکھتا ہے۔
اگرخُداوند کَرِیم فقط اپنی عادل شریعت کے مطابق ہماری عدالت کرے، تو ہم، سب گناہ گاروں کو مرنا پڑے گا ۔مگر اُس نے ہمیں اپنے بیٹے کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی عدالت کرنے کےسبب سے
رہائی بخشی ۔کیا آپ ایمان لاتے ہیں؟ آئیں ہم عہدِ عتیق سے اِس بات کی تصدیق کریں۔
 
 
ہاروؔن بکرے پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا
          
کس نے اسرائیل کے نمائندہ کی حیثیت
 سے زِندہ بکرے پر اُنکے گناہ منتقل کئے؟
سردار کاہن نے
 
اِس جگ کے تمام گناہوں کا کفارہ عہدِ عتیق کی تخصیص اور عہدِ جدید کے بپتسمہ پر ایمان کے وسیلہ سے دیا گیاتھا۔ عہدِ عتیق میں، اسراؔئیل کے تمام سال بھرکے گناہوں کا فدیہ سردار کاہن کے ذریعے سے دیا جاتا تھا، جو بے عیب زندہ بکرے کے سر پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا۔
’’اور ہاروؔن اپنے دونوں ہاتھ اُس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اُس کے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور ان کے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور ان کو اس بکرے کے سر پر دھر کر اسے کسی شخص کے ہاتھ جو اس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھیجوا دے۔‘‘ (احبار۱۶: ۲۱)۔
یہ ہے کس بنا پر عہدِ عتیق کے دنوں میں کفارہ دیا جاتا تھا۔اپنے روز مرّہ کے گناہوں سے رہائی پانے کے لئے ،ہر آدمی کوئی بے عیب برّہ یاکوئی بکرا خیمہء اجتماع میں لاتاتھا اور اُسے قربانگاہ پر چڑھاتاتھا۔ وہ قربانی کے جانور کے سر پر اپنے ہاتھ رکھتا،اوراِس کے بعداُس کے گناہ اُس قربانی پر منتقل ہو جاتےتھے۔اِس موقع پر، قربانی کے جانور کو ذبح کیا جاتا اور سردار کاہن اُس کے خُون کوقربانگاہ کے سینگوں پر لگاتاتھا۔
قربانگاہ کے چاروں کونوں پر سینگ تھے۔ یہ سینگ مکاشفہ۲۰: ۱۲میں درج اعمال ناموں کو ظاہر
کرتے ہیں۔قربانی کا بقیہ خُون زمین پرہی چھڑکایا جاتا تھا۔ زمین آدمی کے دل کو پیش کرتی تھی اِس لئے کہ انسان مٹی سے بناتھا۔یوں حسبِ دستور لوگ اپنے روز مرّہ کے گناہوں کا فدیہ دیتے تھے۔ البتہ، وہ ہر روز گناہ کی قربانیاں نہیں گزران سکتے تھے،
بہر حال، خداوند خدانے اُنہیں اپنے پورے سال کے گناہوں کاسال میں ایک مرتبہ فدیہ دینے کی اجازت دی۔یہ رسم ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کویعنی یومِ کفارہ پر اداہوتی تھی۔ اُس دن، سردار کاہن،تمام اسرائیلیوں کا نمائندہ،دو بکرے لاتا تھااور لوگوں کے تمام گناہ اُن پرسلسلہ وار منتقل کرنے کے لئے اُن پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا اور اُنہیں خداوند خداکے سامنے بنی اسرائیل کے لوگوں کاکفارہ دینے کے لئے قربان کرتاتھا۔
’’اور ہاروؔن اپنے دونوں ہاتھ اُس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اُس کے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور اُن کے سب گناہوں اور خطاؤں کا اقرار کرے اور اُن کو اُس بکرے کے سر پر دھرے۔‘‘
خدا نے ہارو ؔن ، اسرائیل کے سردار کاہن،کو نمائندہ کے طور پر مقرر کیا۔اِس کی بجائے کہ ہر آدمی فرداً فرداً جانوروں پر ہاتھ رکھے ،سردار کاہن، تمام لوگوں کے نمائندہ کے طور پر، سال بھر کے گناہوں کی معافی کے لئے زندہ بکرے کے سر پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا۔
اور وہ اسرائیل کے تمام گناہوں کو خداوند خداکے حضور بیان کرتا تھا،’’اے خداوند خدا ، تیرے اسرائیلی اَطفال گناہ چُکے ہیں۔ہم بت پرستی کر چُکے ہیں، تیری شریعت کی تمام دفعات کی خلاف ورزی کی، تیرا نام بےفائدہ لیا،دوسرے بُت تراشے اور تجھ سے بڑھ کر اُن سے محبت کی۔ ہم نے سبت کے دن کو پاک نہیں مانا،اپنے والدین کی عزت نہیں کی،خُون کیا ،زناکاری اور چوری کی۔۔۔۔ ہم حسد اور جھگڑوں میں ملوث ہوئے۔‘‘
وہ تمام گناہوں کا ذکر کرتاتھا۔ ”اے خداوند خدا ، نہ اسرائیل کے لوگ نہ ہی میں خود شریعت کی کسی بات پر عمل کرنے کے لائق نہیں ۔اِن تمام گناہوں سے چُھٹکارہ پانے کے لئے ،میں اپنے ہاتھ اِس بکرے کے سر پر رکھتا ہوں اور اُن تمام گناہوں کوسلسلہ وار منتقل کرتا ہوں۔“ سردار کاہن قربانی کے جانور پرتمام لوگوں کی جگہ پراپنے ہاتھ رکھتاتھا اور قربانی کے جانور کے سر پر تمام گناہوں کوسلسلہ وار منتقل کر دیتاتھا۔ تخصیص یا ہاتھ رکھنےکا مطلب ’سلسلہ وار منتقل کرنا‘ہے (احبار۱:۱-۴، ۱۶:۲۰-۲۱)۔
 
عہدِعتیق میں کفارہ کی تکمیل کس
 طرح ہوتی تھی؟
گناہ کی قربانی کے جانور کے سر پرہاتھ رکھنے
 کے ذریعہ سے
 
خُدائے خالق اسرائیل کے لوگوں کو گناہ کی قربانی کا نظام اِس لئے عطا کر چُکا تھا تاکہ وہ اپنے تمام گناہوں کوسلسلہ وار منتقل کرسکیں اور چُھٹکارہ پائیں۔ اس نے بالخصوص یہ بات واضح کی کہ ہر آدمی کا گناہ کی قربانی کا جانور بے عیب ہونا چاہئے اوریعنی کہ اُس آدمی کی جگہ پر گناہ کی قربانی کا جانور مرنا چاہئے۔ہر انفرادی گناہ گار کا چُھٹکارہ حسبِ دستور ایسے ہی ہوتا تھا۔
تاہم،یومِ کفارہ پر ،گناہ کی قربانی کے جانور کو ذبح کیا جاتاتھا اور اُس کا خُون پاک مقام کے اندر لے جایاجاتاتھا اور رحم گاہ کے اوپر سات مرتبہ چھڑکا جاتاتھا۔اِس طریقے سے، اسرائیل کے لوگ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو سال بھر کے گناہ کا کفارہ دیتے تھے۔ سردار کاہن اکیلا قربانی گزارننے کے لئے
پاک مقام میں داخل ہوتاتھا،دوسری جانب لوگ باہر جمع ہوتے تھے۔
اور سردار کاہن کے افودکے جُبے کی جھالر پر لگی ہوئی سونے کی گھنٹیوں کی آواز سنتے تھے۔سونے کی گھنٹیاں سات بار بجتی تھیں جیسے جیسے رحم گاہ پر خُون چھڑکا جاتا تھا۔اِس کے بعد، لوگ جشن مناتے تھے کہ اُن کے تمام گناہوں کا کفارہ ہو گیاہے۔ سونے کی گھنٹیوں کی آواز پُرمسرت خُوشخبری کو عائد کرتی ہے۔
یہ بات سچ نہیں ہے کہ یسوؔ ع خاص چُنے ہوئے لوگوں سے محبت کرتا ہے اور فقط اُنہیں خلاصی
دیتا ہے۔ یسوؔ ع نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ جگ کے تمام گناہوں کوسب ایک ہی ساتھ اُٹھا لیا۔ وہ ہمیں سرتاسر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چُھڑانا چاہتا تھا۔ ہمارے گناہوں کا ہر روز کفارہ نہیں ہو سکتاتھا،اِس لئے ، وہ سب بیک وقت مٹا دیئے گئے۔
عہدِ عتیق میں، کفارہ تخصیص اور گناہ کی قربانی کے خُون کے وسیلہ سے دیا جاتا تھا۔ ہارونؔ تمام لوگوں کے رُوبُروزندہ بکرے کے سر پر اپنے ہاتھ رکھتاتھا اور تمام گناہوں کا ذکر کرتا تھاجو لوگ اُس سال کے دوران کر چُکے تھے۔وہ تمام اسرائیلیوں کے رُوبرُو گناہوں کو بکرے پرسلسلہ وار منتقل کردیتا تھا۔ لہٰذابکرے پر سردار کاہن کے ہاتھ رکھنے کے بعد لوگوں کے گناہ کہاں چلے جاتے تھے؟ وہ سب اُس بکرے پرسلسلہ وار منتقل ہو جاتے تھے۔
اِس کے بعد، وہ بکرا کسی’ مناسب شخص‘کے ہاتھ دُور بھجوا دیا جاتا تھا۔ وہ بکرا، اپنے اوپراسرائیل کے تمام گناہوں سمیت ،بیابان میں بھیجا جاتاتھا، جہاں نہ پانی اورنہ ہی گھاس ہوتی تھی۔اِس صورت میں، وہ بکرا بیابان کی جلتی دھوپ میں بھٹکتا رہتا اور بالآخر مرجاتاتھا۔وہ بکرا اسرائیل کے گناہوں کی بنا پر مرجاتاتھا۔
 یہ خداوند خداکی محبت، یعنی چُھٹکارے کی محبت ہے۔ اِسی بنا پر کہ کیسے اُس زمانے میں وہ سال بھر کے مساوی گناہوں کا کفارہ دیا کرتے تھے۔مگر ہم عہدِ جدید کے زمانے میں زندہ ہیں۔ تقریباً۲۰۰۰سال گزر چُکے ہیں جب یسوؔ ع ہمارے سنسار میں آیا۔ وہ آیا اور اُس وعدہ کو پورا کر دیاجس کا وعدہ اُس نے عہدِ عتیق میں کیا تھا ۔ وہ آیا اور اُس نے ہمارے تمام گناہوں کا چُھٹکارہ دے دیا۔
 
 
ہم سب کو چُھڑانے کے لئے
          
یِسُوع کا کیا مطلب ہے؟
نجات دِہندہ جو اپنے لوگوں کو اُنکے گناہوں
سے نجات دے گا
 
آئیں ہم متی ۱:۲۰-۲۱ کا مطالعہ کریں۔’’وہ اِن باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ خُداوند کے فرشتے نے خواب میں دکھائی دے کر کہا اے یوسفؔ ابنِ داؤدؔ اپنی بیوی مریمؔ کو اپنے ہاں لے آنے سے نہ ڈر کیونکہ جو اُس کے پیٹ میں ہے وہ رُوح کی قدرت سے ہے ۔اُسکے بیٹا ہوگا اور تو اُس کا نام یسوؔ ع رکھنا کیونکہ وُہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا۔‘‘(متی۱:۲۰-۲۱)۔
عالم ِ بالا پر ہمارے باپ نے اپنے بیٹے کو اِس جگ میں بھیجنے یعنی کل عالم کے تمام گناہ دھونے کے لئے، کنواری مریمؔ کا بدن اُدھارلیا۔ اس نے ایک فرشتہ مریمؔ کے پاس بھیجا اور اُسے فرمایا۔’’دیکھ تُوحاملہ ہو گی اور تیرے بیٹا ہو گا۔ اسکا نام یسوؔ ع رکھنا۔‘‘اِس کا مطلب ہے کہ مریمؔ کے ذریعے آنے والا بیٹا نجات دہندہ بن جائے گا۔ یسوؔ ع مسیح کا مطلب وہ شخص ہےجو اپنے لوگوں کو نجات دے گا، یا دوسرے لفظوں میں، اِس کا مطلب نجات دہندہ ہے۔
اِس کے بعد،کس بنا پر یسوؔع نے ہم سب کو گنا ہ سے بچایا؟وہ طریقہ جس سے یسوؔ ع نے جگ کے تمام گناہوں کو اُٹھالیا دریائے یردنؔ پر اُس کے بپتسمہ کی بدولت ممکن تھا۔جونہی یوحناؔ اصطباغی نے اُسے بپتسمہ دیا ، تو جگ کے تمام گناہ اُس پر منتقل ہو گئے۔ آئیں ہم متی۳:۱۳-۱۷ کا مطالعہ کریں۔
’’اُس وقت یسوؔ ع گلیلؔ سے یردنؔ کے کنارے یوحنا ؔکے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔مگر یوحناؔ یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تومیرے پاس آیا ہے؟۔یسوؔع نے جواب میں اُس سے کہا اب تو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دیا۔اور یسوؔ ع بپتسمہ لے کرفی الفور پانی کے پاس سے اُوپر گیا اور دیکھو اُس کے لئے آسمان کھل گیا اور اُس نے خُداکے رُوح کو کبوتر کی مانند اترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا ۔اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔‘‘
یسوؔع یوحناؔ بپتسمہ دینے والے کے پاس ہم سب کو ہمارے گناہوں سے چُھڑانے کے لئے گیا۔وہ پانی میں گیا اور یوحناؔ کے سامنے سر کوجھکا دیا،’’یوؔحنا، مجھے ابھی بپتسمہ دے۔ ہمارے لئے اِسی طرح ساری راستبازی کو پورا کرنا مناسب ہے۔ جیسے کہ میں جگ کے تمام گناہ اٹھانے اور تمام گناہ گاروں کو اُن کے گناہوں سے رہائی بخشنے کے لئے ہوں، مجھے بپتسمہ کےسَنگ اُن کے گناہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ مجھےابھی بپتسمہ دے! ایسا ہونے دے!‘‘ اِسی طریقے سے، ساری راستبازی کو پورا کرنا مناسب تھا۔ یسوؔ ع نے یوحناؔ اصطباغی سے دریائے یردنؔ میں بپتسمہ لیا اوربالکل اُسی لمحے، خداند خداکی ساری راستبازی جس نے ہمارے
گناہوں کا چُھٹکارہ دیا پوری ہو گئی ۔
یہ اِس بنا پر ہے کہ کیسے اُس نے ہمارے تمام گناہ اٹھالئے۔آپ کے بھی ،تمام گناہ یسوؔ ع پرمنتقل ہو گئے ۔ کیا آپ اِس امرکو سمجھتے ہیں؟
یسوؔعؔ کے بپتسمہ اور رُوح کے چُھٹکارے پر ایمان لائیں اور نجات یافتہ ہوں۔
 
ساری راستبازی کو کیسے پُورا کیا گیا؟
یِسُوع کے بپتسمہ کے ذریعہ
 
اِس سے پیشتر خداند خدااسرائیل سے وعدہ کر چُکا تھا کہ عالم کے کل گناہ ہاتھوں کے رکھے جانے اور سوختنی قربانی کے جانور کے ساتھ دُھل جائیں گے۔تاہم، جیسا کہ ہر ایک آدمی کے لئے فرداًفرداً بکرے کے سر پر ہاتھ رکھنا ناممکن تھا ،اس لئے خداوند خدانے ہاروؔن کو سردار کاہن ہونے کے لئےمقدّس گیا تاکہ وہ تمام لوگوں کی جگہ پر قربانی گزران سکے۔ اِس طرح، وہ اُن کے سال بسال کے تمامترگناہ قربانی کے جانور کے سر پرسلسلہ وار منتقل کر تا تھا۔ یہ اُس کی حکمت اور چُھٹکارے کی قدرت تھی ۔
خدا فہیم اور عجیب ہے۔
اُس نے کل عالم کو بچانے کے لئے اپنا بیٹا یسوؔ ع بھیجا۔یوں حسبِ ضرورت گناہ کی قربانی تیار تھی۔ لہٰذا اب ،تمام بنی نوع انسان کو نمائندہ کی ضرورت تھی، یعنی ایسے شخص کی جو یسوؔ ع کے سر پراپنے ہاتھ رکھے اورکل عالم کے تمامتر گناہ اُس پرسلسلہ وار منتقل کر دے۔وہ نمائندہ یوحنا ؔ اصطباغی تھا ۔کتابِ مقدّس میں یوں قلمبند ہے کہ خداوند خدانے یسوؔ ع کے آگے تمام نسلِ انسانی کے نمائندہ کو بھیجا ۔
یوحناؔ ؔ اصطباغی، نسبِ انسان کا آخری سردار کاہن تھا۔ جیسا کہ متی۱۱:۱۱میں رقمطراز ہے،’’جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحناؔ بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔‘‘ وہ نسلِ انسان کا واحد نمائندہ ہے۔اُس نے یوحناؔ ؔ اصطباغی کوتمام نوعِ انسان کے نمائندہ کے طور پر بھیجا تاکہ وہ یسوؔ ع کو بپتسمہ دے سکے اوراُس پر کل عالم کے تمامتر گناہ لاد سکے۔
اِس صورت میں کہ اگر اب رُوئے زمین کے چھ ارب لوگ یسوؔ ع کے پاس جائیں اور ہرفرد کو یسوؔ ع پر
اپنے گناہ لادنے کے لئےاپنے ہاتھ رکھنے پڑیں، تو اُس کے سرکا کیا بنے گا؟ اگر اِس جگ میں موجود چھ ارب سے زیادہ لوگوں کو یسوؔ ع پر اپنے ہاتھ رکھنے پڑیں، تو یہ کوئی دلکش منظر نہیں ہو گا۔بعض جوشیلے لوگ شاید اُس کے سر کو اتنی شدت سے دبائیں گے کہ اُسکے تمام بال گر جائیں گے۔لہٰذا،خدائے واحد نے، اپنی حکمت کے باعث یوحناؔ کو ہمارا نمائندہ مقرر کیا اورکُل جہان کے تمامتر گناہ سرتا سر آخری اور حتمی طور پر،یسوؔع پر سلسلہ وار منتقل کر دئیے۔
متی۳:۱۳ میں یوں قلمبند ہے،’’ اُس وقت یسوؔ ع گلیلؔ سے یردنؔ کے کنارے یوحنا ؔکے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔‘‘ یوں اُس وقت ہواتھا جب یسوؔ ع ۳۰برس کا ہو گیا تھا۔ یسوؔ ع کا اُس کی پیدائش کے آٹھ روزبعد ختنہ ہوا، اور اِس کےبعد اُس کے چند ایک ہی واقعات ملتے ہیں جب تک کہ وہ تیس برس کا نہ ہو گیا ۔
اِس بنا پر وجہ کہ یسوؔع کوتب تک انتظار کرنا پڑا جب تک وہ ۳۰ برس کا نہیں ہو گیایعنی عہد ِعتیق کے مطابق مطلق شرعی آسمانی سردار کاہن بنا تھا۔ اِستثنا کی کتاب میں، خدا نے موؔسیٰ کو حکم دیا کہ سردار کاہن کہانت کی اعلیٰ خدمت سرانجام دینے سے پہلےکم از کم۳۰برس کا ہونا چاہئے۔ یسوؔ ع آسمانی
سردار کاہن تھا۔ کیا آپ اِس بات پر ایمان لاتے ہیں؟
           عہدِ جدید میں، متی۳:۱۳-۱۴یوں ارشاد ہے، ’’ اُس وقت یسوؔ ع گلیلؔ سے یردنؔ کے کنارے یوحنا ؔکے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔ مگر یوحناؔ یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں۔‘‘نسلِ انسانی کا نمائندہ کون ہے؟ یوحنا ؔاصطباغی۔ چنانچہ، عالمِ بالاکا نمائندہ کون ہے؟ یسوؔع مسیح ہے۔ دونوں نمائندےملے۔ کون اِس کے مطابق بڑا ہے؟ بےشک، عالمِ بالا کا نمائندہ بڑا ہے۔
لہٰذا، یوحناؔاصطباغی، جو اتنا دلیرتھا کہ اُس دَور کے مذہبی قائدین کے سامنے یوں چلاتا تھا تھا،’’ اےسانپ کے بچو!توبہ کرو۔‘‘وہ اچانک یسوؔ ع کے آگے حلیم بن گیا۔’’میں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تومیرے پاس آیا ہے؟ ‘‘
اِس موقع پر، یسو عؔ نے فرمایا،’’اب تو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔‘‘یسو عؔ اِس جگ میں خداوند خداکی راستبازی کو پورا کرنے کے لئے آیا ،اور یہ اُس وقت پوری ہوگئی جب یوحناؔاصطباغی نے اُ سے بپتسمہ دیا۔
”اِس پر اُس نے ہونے دیا۔ اور یسوؔ ع بپتسمہ لے کرفی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو
اُس کے لئے آسمان کھل گیا اور اُس نے خُداکے رُوح کو کبوتر کی مانند اترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا ۔اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں۔“
یہ واقعہ تب رُونما ہواجب اُس نے بپتسمہ لیا۔عالمِ بالا کے دروازے کھل گئے جب اُس نے یوحناؔاصطباغی سے بپتسمہ لیا اورکل جہان کے تمامتر گناہوں کو اُٹھا لیا۔
’’ اور یوحناؔ بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پرزور ہوتا رہا ہے اور زور آور اسے چھین لیتے ہیں۔‘‘(متی۱۱:۱۲)۔
تمام نبیوں اورخُدا کی توریت نے یوحناؔ اصطباغی تک نبوّت کی۔’’ اور یوحناؔ بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہو تا ہے اور زور آور اسے چھین لیتے ہیں۔‘‘ہر آدمی جو
اُس کے بپتسمہ پر ایمان رکھتا ہے وہ بِلا مستثنیٰ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے۔
 
 
’’ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا‘‘
          
کیوں یسوع نے صلیب پر سزا سہی؟
کیوں کہ اُس نے ہمارے تمام تر گنا ہوں
کواُٹھا لیا تھا
 
یسوؔع نے یوؔحنااِصطباغی سے بپتسمہ لیا اور عالم کے تمام گناہ اُٹھا لئے۔ بعد ازاں، اُس نے اُس عورت کو فرمایا جو زناکاری کے فعل میں پکڑی گئی تھی،’’ میں بھی تجھ پر حکم نہیں لگاتا۔‘‘ اُس نے اُس عورت پر اِس لئے لعنت نہیں کی کیونکہ اُس نے یردنؔ پر جگ کے تمامترگناہوں کواُٹھا لیا تھا اوراُسےبذاتِ خود ،نہ کہ اُس عورت کو، اُن گناہوں کی سزاسہنا تھی۔
یسوؔع نے کل عالم کے تمامتر گناہ مٹاڈالے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اُس درد سے کس قدر خائف تھا
جو اُسے صلیب پر برداشت کرنا پڑے گا اِس لئے کہ’ گناہ کی مزدوری موت ہے۔‘اُس نے کوہِ زیتوؔن پر خداوند خداسے تین بار دعا مانگی کہ اُس سزا کو اُس سے دُور کر دے۔ یسوؔع، بالکل دوسرے انسانوں کی مانندخُون اور گوشت تھا، لہٰذا یہ بات قابلِ فہم ہے کہ وہ درد سے خائف تھا۔ یسوؔ ع کوسزا پوری کرنے کے لئے خُون بہانا پڑا۔
بالکل عہدِ عتیق کی گناہ کی قربانیوں کی طرح جنہیں گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے خُون بہانا پڑتا تھا، اُسے بھی صلیب پر قربان ہوناپڑا۔ وہ پیشتر ہی جگ کے تمامترگناہوں کو اُٹھا چُکا تھا اور اب اُسے ہماری مخلصی کے لئے اپنی جان قربان کرناتھی۔ وہ جانتاتھا کہ اُسے خداوند خدا کے آگے سزا برداشت
کرنی پڑے گی۔
یسوؔع اپنے باطن میں کوئی گناہ نہیں رکھتاتھامگر جیسا کہ تمامتر گناہ اُس کے بپتسمہ کے ذریعہ سے اُس پر منتقل ہو گئےتھے، تو اب خداوند خداکو اپنے ہی بیٹے کی عدالت کرنی پڑی۔اِس طریقے سے،پہلی فرصت میں ، خداوند خداکا عدل پورا ہوا اورثانیاً،اُس نے ہم پرہماری نجات کی خاطر اپنی محبت نچھاور کی۔ غرض، یسوؔع کو صلیب پر سزاجھیلنی پڑی۔
’’ نہ میں تجھ پر لعنت کرتا ہوں، نہ ہی میں تجھ پر حکم لگاتا ہوں۔‘‘ ہمارے تمامتر ، دانستہ یا غیر دانستہ،ظاہری یا پوشیدہ، گناہوں کی خداند خداکی طرف سے عدالت ہونا تھی۔
اِس کے باوجود، خدا نے ہمیں سزا نہیں دی۔خدا نے یسوؔ ع کو سزا دی ، جس نے اپنے بپتسمہ کے ذریعہ سے ہمارے تمامتر گناہ اپنے اوپر اُٹھا لئے تھے۔ خداوند خدااپنی محبت اور ترس کی وجہ سے گناہ گاروں کو سزا دینا نہیں چاہتا۔ ہمارے لئے بپتسمہ اور صلیبی خُون اُس کی نجات بخش محبت تھی۔’’ کیونکہ خُدا نے دُنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔‘‘(یوحنا۳:۱۶)۔ یہ اِس بنا پر ہے کہ کیسے ہم اُسکی محبت سے واقف ہوتے ہیں۔ یسوؔ ع نے اُس عورت پر لعنت نہیں کی جو زنا کاری کے فعل میں پکڑی گئی تھی۔
وہ جانتی تھی کہ وہ گناہ گار ہےکیونکہ وہ زناکاری میں عین فعل کے وقت پکڑی گئی تھی۔ نہ صرف وہ اپنے باطن میں گناہ رکھتی تھی، دوسری جانب وہ اِسے اپنے جسم میں بھی لئے پھرتی تھی۔ اُس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اپنے گناہ سے منحرف ہو سکتی ۔اِس موقع پر، کیونکہ اُس نے ایمان رکھا کہ یسوؔع نےاُس کے تمامتر گناہ اٹھالئے تھے،اِس لئے وہ نجات پا گئی۔اِس شرط پر اگر ہم یسوؔ ع کے چُھٹکارے پر ایمان رکھیں، تو ہم بچ جائیں گے۔اُس پر ایما ن لائیں! یہ ہمارے ہی فائدہ کی بات ہے۔
          
کون لوگ سب سے زیادہ
مبارک ہیں؟
وہ لوگ جو کوئی گُناہ نہیں رکھتے
 
ساری خلقت گناہ کرتی ہے۔ساری خلقِ دُنیا زناکاری کرتی ہے۔مگر سب لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا نہیں پاتے۔ ہم سب گناہ کر چُکے ہیں، مگر وہ لوگ جو یسوؔ ع مسیح کے چُھٹکارے پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنے باطنوں میں بے گناہ ہیں۔وہ آدمی جو یسوؔ ع کی نجات پر ایمان لاتا ہے وہ سب سے زیادہ خوش قسمت آدمی ہے۔وہ لوگ جو اپنے تمامتر گناہوں سے آزاد ہیں سب سے زیادہ مُبارک لوگ ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اب یسوؔ ع میں راستباز ہیں۔
خُدا تعالیٰ ہمیں رومیوں۴:۷ خوشی کے متعلق بتاتاہے،’’ مبارک وہ ہیں جن کی بدکاریاں معاف ہوئیں اور جن کے گناہ ڈھانکے گئے۔‘‘ہم سب مرتے دم تک گناہ کرتے ہیں۔ ہم خداوند خداکے آگے بے شرع اور اُدھورے ہیں۔ہم بِلا شُبہ اُسکی شریعت سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد بھی گناہ کرتے ہیں۔ ہم بے حد کمزور ہیں۔
 اِس کے باوجود خداوند خدانے ہمیں اپنے اکلوتے بیٹے کے بپتسمہ اور خُون کے ساتھ رہائی بخشی اور ہم سے فرماتاہے، آپ اور میں، آئندہ گناہ گار نہیں ہیں، اوریعنی اب ہم اُس کے آگےراستباز ہیں۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اُس کے طِفل ہیں
پانی اور خُون کی خُوشخبری ابدی چُھٹکارے کی خُوشخبری ہے۔کیا آپ اِس پر ایمان لاتے ہیں؟ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں، وہ اُنہیں راستباز،چُھڑائے ہوئے،اور اپنے طِفل پُکارتا ہے۔کون اِس فانی جگ میں سب سے زیادہ خوش نصیب آدمی ہے؟ وہ آدمی جو ایمان لاتا ہے اور سچی خُوشخبری پر ایمان لانے کے وسیلہ سے رہا ہو چُکا ہے ۔ کیا آپ رہاہوچُکے ہیں؟
کیا یسوؔ ع آپ کے گناہ اُٹھانا بھول گیا؟ ہر گز نہیں، اُس نےاپنے بپتسمہ کےساتھ آپ کے تمامتر گناہ اُٹھا لئے۔ اِس بات پر ایمان لائیں۔ایمان لائیں اور اپنے تمام گناہوں سے نجات پائیں۔ آئیں ہم یوحنا۱:۲۹کا مطالعہ کریں۔
 
 
بالکل ایسے جیسے کہ کسی لمبےجھاڑو کے ساتھ صاف کیے گئے ہیں
          
یِسُوع نے کتنے گناہ اُٹھائے؟
دُنیا کے تمام گناہ
 
’’ دوسرے دن اُس نے یسوؔ ع کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جودُنیا کا گناہ اٹھا لے جاتا ہے۔‘‘(یوحنا۱:۲۹)۔
’’ دیکھو یہ خُدا کا بّرہ ہے جودُنیا کاگناہ اٹھا لے جاتا ہے۔‘‘
یوحناؔ اصطباغی نے دریائے یردنؔ پر جگ کے تمام گناہ یسوؔ ع پر منتقل کر دئیے۔ اگلے ہی دن ،اُس نے گواہی دی کہ یسوؔ ع خداوند خداکا برّہ تھا جس نے جگ کے تمامتر گناہ اُٹھا لئے ۔ اُس نے کل عالم کے تمامتر گناہ اپنے کندھوں پر اٹھا لئے۔
کل عالم کے تمامتر گناہ اُن سرتاسر گناہوں کو بیان کرتے ہیں جو نسلِ انسانی اِس فانی جگ میں ، اپنی تخلیق سے لے کر اپنے خاتمے تک ،سرزد کرتے ہیں۔ تقریباً دو ہزار سال پہلے، یسوؔ ع نے جہانِ فانی کے تمامتر گناہ اُٹھا لئے اور ہمیں چُھڑا لیا۔ خداوند خداکے برّہ کے طور پر،اُس نے ہمارے کل گناہ اُٹھا لئے اور ہماری جگہ پر سزا برداشت کی۔
ہر ایک گناہ جو ہم وجودِ بشری کرتے ہیں یسوؔ ع پر منتقل ہو گیا تھا۔وہ خداوند خداکا برّہ بن گیا جس نے جہانِ فانی کے تمامتر گناہوں کو اُٹھا لیا ۔
یسوؔعؔ اِس جگ میں ایک حلیم خادم کے طور پر آیا،اُس خدمت گزار کی طرح جو جہانِ فانی کے تمام گناہ گاروں کو نجات بخشے گا۔ہم اِس لئے گناہ کرتے ہیں کیونکہ ہم کمزور، بدچلن، اُجڈ ہیں، اورکیونکہ ہم ناسمجھ اور اُدھورے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں،ہم گناہ کرتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنے مشترکہ باپ ،آدمؔ سے گناہ ورثہ میں پایا۔یہ تمامتر گناہ صاف کر دیئے گئے تھے اور یسوؔ ع کے سر پردریائے یردن ؔ پراُس کے بپتسمہ کے ذریعہ سےدھر دیئے گئے تھے ۔ اُس نےاُن سب کا صلیب پر اپنی بدنی موت کے ساتھ خاتمہ کر دیا۔ وہ دفن ہوا، مگر خداوند خدانے اُسے تین دن بعد مردوں میں سے زندہ کردیا۔
تمام گناہ گاروں کے نجات دہندہ کے طور پر،فاتح کے طور پر،منصف کے طور پر، اب وہ خداوند خداکے دہنے ہاتھ پربیٹھاہوا ہے۔اُسے ہمیں گھڑی گھڑی چُھڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔اِس بنا پر ہمیں نجات یافتہ ہونے کے لئےجو کرنا ہے صرف اُس پر ایمان رکھنا ہے۔حیاتِ ابدی اُن لوگوں کی منتظر ہے جو ایمان لاتے ہیں، اورابدی ہلاکت اُن کی منتظر ہے جو ایمان نہیں لاتے۔اِس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔
یسوؔع نے آپ سب کو رہائی بخشی۔ آپ رُوئے زمین پر سب سے زیادہ خوش قسمت مخلوق ہیں ۔آپ مستقبل میں اپنی کمزوریوں کی وجہ سے یقینا ً گناہ کریں گے،البتہ اُس نے اُن تمام گناہوں کو بھی اٹھالیا۔
کیا آپ کے باطن میں کوئی گناہ باقی ہے؟ ––جی نہیں––
کیا یسوؔ ع نے سب کو اُٹھا لیا ہے؟ ––جی ہاں!اُسی نے کیا––
 تمام لوگ ایک جیسے ہیں۔ کوئی بھی شخص اپنے پڑوسی سے زیادہ پاک نہیں ہے۔مگرچونکہ بہت سارے لوگ ریاکارہیں، وہ پُر یقین ہیں کہ وہ گناہ گارنہیں ہیں، جبکہ بِلا شُبہ، وہ بھی گناہ گار ہیں۔ یہ جہانِ فانی خضراخانہ ہے جو گناہ کی پرورش کرتا ہے۔
جب خواتین اپنے گھروں سےباہر نکلتی ہیں تو وہ ہونٹوں پر سرخی لگاتی ہیں، اپنے چہروں پر سفیدپاؤڈر لگاتی ہیں، اپنے بالوں کو گنگھریالے بناتی ہیں، خوبصورت لباس زیب تن کرتی ہیں، اور اونچی ایڑی والی جوتی پہنتی ہیں۔۔۔۔مردحضرات بھی حجام کے پاس جا کر اپنے بال کٹواتے ہیں، خود کو بناتے سنوارتے ہیں،صاف قمیض پہنتے ہیں،فیشن دار ٹائی لگاتےہیں، اور اپنے جوتے خوب چمکاتے ہیں۔
اِس کے باوجود اگرچہ وہ ظاہر میں شہزادے اور شہزادیوں جیسے نظر آ سکتے ہیں،البتہ باطن میں وہ بالکل گندے ہیں۔
کیاپیسہ انسان کو خوش کرتا ہے؟ کیا تندرستی انسان کو خوش کرتی ہے؟ہر گز نہیں،فقط ابدی چُھٹکارہ ،یعنی تمامتر گناہوں کی معافی،خلقِ خُدا کوسچ مُچ خوش کرتی ہے۔ اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ
کوئی آدمی باہر سے کتنا خوش نظر آتا ہے، اگروہ اپنے باطن میں گناہ رکھتا ہے تو وہ آدمی قابلِ رحم ہے۔ ایسا آدمی ابدی عدالت کے خوف میں زندگی بسر کرتا ہے۔
نجات یافتہ آدمی،بِلا شک چیتھڑوں میں بھی ببر شیر کی مانند بہادر ہے۔ اُس کے باطن میں کوئی گناہ نہیں۔’’اے خُداوند، تیرا شکر ہو۔آپ نے میرے جیسے گناہ گار کو بچالیا۔آپ نے میرے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا۔ میں جانتا ہوں کہ میں آپ کی محبت کے لائق نہیں ہوں،پھر بھی میں آپ کی مجھے بچانے کے لئے
تمجید کرتا ہوں۔ میں دوامی طور پر اپنے تمامتر گناہوں سے نجات یافتہ ہوں۔ خداند خداکو جلال ملے۔‘‘
وہ آدمی جو رہائی پاتا ہے سچ مُچ خوش نصیب انسان ہے ۔وہ آدمی جو اُس کے چُھٹکارے کے فضل کے باعث مُبارک ٹھہر چُکا ہے سچ مُچ خوش نصیب انسان ہے۔
کیونکہ یسوؔع،’’ خُدا کا برّہ ہے جودُنیا کاگناہ اٹھا لے جاتا ہے۔‘‘وہ ہمارے تمامتر گناہوں کو اُٹھاچُکا ہے،اِس لئے ہم گناہ سے منّزہ ہیں۔ اُس نے ہماری خاطرصلیب پر نجات کے کام کو’ تمام‘ کیا۔ ہمارے تمامترگناہ، جن میں آپ کےاورمیرے گناہ مشمول ہیں، ’دُنیا کےگناہ ‘ میں شامل ہیں، اور اِسی بنا پر، ہم سب نجات یافتہ ہیں۔
 
 
 خدا کی مرضی کے مطابق
            
کیا ہمارے باطنوں میں گناہ پا ئے جا تے ہیں
جب ہم یسوع مسیح میں ہو تے ہیں؟
نہیں، ایسا نہیں ہے
 
پیارے دوستو، زنا کے فعل میں پکڑی جانے والی عورت یسوؔ ع کےکلمات پر ایمان لائی اور وہ
نجات پاگئی۔ اُس کی کہانی کتابِ مقدّس میں قلمبند ہے کیونکہ وہ اُس کے ابدی چُھٹکارے کے باعث مُبارک ٹھہری ۔البتہ ریا کار فقیہ اور فریسی، یسوؔ ع کے حضور سے بھاگ گئے۔
اگر آپ یسوؔ ع پر ایمان لائیں تو عالمِ بالا آپ کا منتظر ہے، دوسری جانب اگر آپ یسوؔ ع کو چھوڑ دیں گے، تو جہنم میں جائیں گے۔اگر آپ اُس کے راست عملوں پر ایمان لاتے ہیں، تو یہ عالمِ بالا کی مانند ہے، دوسری جانب اگر آپ اُس کے کاموں پر ایمان نہیں لاتے، تو یہ جہنم کی مانند ہے۔ مخلصی کا انحصار کسی شخص کی دوڑ دُھوپ پر نہیں، بلکہ یسوؔ ع کی نجات پر منحصر ہے۔
آئیں ہم عبرانیوں۱۰ کا مطالعہ کریں۔’’ کیونکہ شریعت جس میں آئندہ کی اچھی چیزوں کا عکس ہے اور ان چیزوں کی اصلی صورت نہیں ان ایک ہی طرح کی قربانیوں سے جو ہر سال بلاناغہ گذرانی جاتی ہیں پاس آنے والوں کو ہرگز کامل نہیں کر سکتی۔ورنہ ان کا گزراننا موقوف نہ ہو جاتا؟ کیونکہ جب عبادت کرنے والے ایک بار پاک ہو جاتے ہیں تو پھر ان کا دل انہیں گنہگارنہ ٹھہراتا۔بلکہ وہ قربانیاں سال بہ سال گناہوں کو یاد دلاتی ہیں۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ بیلوں اور بکروں کا خُون گناہوں کو دور کرے۔ اِسی لئے وہ دُنیا میں آتے وقت کہتا ہے کہ تو نے قربانی اور نذر کو پسندنہ کیا۔ بلکہ میرے لئے ایک بدن تیار کیا۔ پوری سوختنی قربانیوں اور گناہ کی قربانیوں سے تو خوش نہ ہوا۔ اس وقت میں نے کہا کہ دیکھ میں آیا ہوں۔ (کتاب کے ورقوں میں میری نسبت لکھا ہوا ہے) تاکہ اے خُدا! تیری مرضی پوری کروں۔ اوپر تو وہ فرماتا ہے کہ نہ تو نے قربانیوں اور نذروں اور پوری سوختنی قربانیوں اور گناہ کی قربانیوں کو پسند کیا اور نہ ان سے خوش ہوا حالانکہ وہ قربانیاں شریعت کے موافق گذرانی جاتی ہیں۔ اور پھر یہ کہتا ہے کہ دیکھ میں آیا ہوں تاکہ تیری مرضی پوری کروں۔غرض وہ پہلے کو موقوف کرتا ہے تاکہ دوسرے کو قائم کرے۔ اسی مرضی کے سبب سے ہم یسوؔ ع مسیح کے جسم کے ایک ہی قربان ہونے کے وسیلہ سے پاک کئے گئے ہیں۔‘‘(عبرانیوں۱۰:۱-۱۰)۔
’’ اُسی مرضی کے سبب سے‘‘یسوؔع نے ہمارے گناہ سب ایک ہی ساتھ اُٹھانے کے لئے اپنی جان قربان کی اورسب ایک ہی ساتھ سزابرداشت کی اور جی اُٹھا۔
 چنانچہ، ہم پاک ٹھہر چُکے ہیں۔’’ پاک کئے گئے ہیں۔‘‘ (عبرانیوں ۱۰:۱۰)،یہ فقرہ فعل حال مکمل
میں لکھا ہوا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہماری نجات آخری اور حتمی طور پر مکمل ہو گئی تھی، اوراِسے دوبارہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔لہٰذا آپ پاک ٹھہرچُکے ہیں۔
’’ اور ہر ایک کاہن تو کھڑا ہو کر ہر روز عبادت کرتا ہے اور ایک ہی طرح کی قربانیاں بار بار گذرانتا ہے جو ہر گز گناہوں کو دور نہیں کر سکتیں۔لیکن یہ شخص ہمیشہ کے لئے گناہوں کے واسطے ایک ہی قربانی گذران کر خُدا کی دہنی طرف جا بیٹھا۔اور اسی وقت سے منتظرہے کہ اس کے دشمن اس کے پاؤں تلے کی چوکی بنیں۔کیونکہ اس نے ایک ہی قربانی چڑھانے سے ان کو ہمیشہ کے لئے کامل کر دیا ہے جو پاک کئے جاتے ہیں۔‘‘ (عبرانیوں۱۰:۱۱-۱۴)۔
آپ سب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاک ہو گئے ہیں۔ اگر آپ کل گناہ کرو گے، تو کیا آپ دوبارہ
گناہ گاربن جاؤگے؟ کیا یسوؔ ع نےاُن گناہوں کو بھی نہیں اُٹھایا؟ اُس نےاُٹھایا۔ اُس نے مستقبل کے گناہ، بھی، اُٹھا لئے۔
’’ اور رُوح القدس بھی ہم کو یہی بتاتا ہے کیونکہ یہ کہنے کے بعد کہ۔خداوند فرماتا ہے جو عہد میں ان دنوں کے بعد ان سے باندھونگا وہ یہ ہے کہ میں اپنے قانون ان کے دلوں پر لکھوں گا اور ان کے ذہن میں ڈالوں گا۔ پھر وہ یہ کہتا ہے کہ ان کے گناہوں اور بے دینیوں کو پھر کبھی یاد نہ کروں گا۔اور جب اِن کی معافی ہو گئی ہے تو پھر گناہ کی قربانی نہیں رہی۔‘‘(عبرانیوں۱۰:۱۵- ۱۸)۔’’ جب اِن کی معافی ہو گئی ہے‘‘
اس محاورے کا مطلب ہے کہ اُس نے جہانِ فانی کے تمامتر گناہوں کا کفارہ دے دیا۔ یسوؔ ع ہمارا نجات دہندہ ہے، یعنی دونوں میرانجات دہندہ اور آپ کابھی نجات دہندہ ہے۔ ہمیں یسوؔ ع پر ایمان لانا بچاچُکا ہے۔یہی یسوؔ ع میں چُھٹکارہ اورسب سے اعلیٰ فضل اورخُدائے واحد کی طرف سے تحفہ ہے۔ آپ اور میں، جواپنے تمامتر گناہوں سے چُھوٹ چُکے ہیں، یعنی سب سے بڑھ کر مُبارک لوگ ہیں!