خطبات

مضمون 3: پانی اور رُوح کی خوشخبری

[3-3] <۱۔ یوحنا۵:۱-۱۲> یسوع مسیح پانی،خون، اور رُوح کےوسیلہ سے  یا

<۱۔ یوحنا۵:۱-۱۲>
’’جسکا یہ ایمان ہے کہ یسؔوع ہی مسیح ہے وہ خُدا سے پیدا ہواہے اور جو کوئی والد سے محبت رکھتا ہے وہ اسکی اولاد سے بھی محبت رکھتا ہے۔ جب ہم خُدا سے محبت رکھتے اور اسکے حکموں پر عمل کرتے ہیں تو اس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خُدا کے فرزندوں سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اور خُدا کی محبت یہ ہے کہ ہم اسکے حکموں پر عمل کریں اور اسکے حکم سخت نہیں۔ جوکوئی خُدا سے پیدا ہوا ہے وہ دُنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دُنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے۔ دُنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہے سوا اس شخص کے جسکا یہ ایمان ہے کہ یسؔوع خُدا کا بیٹا ہے ؟۔یہی ہے وہ جو پانی اورخُون کے وسیلہ سے سے آیا تھا یعنی یسؔوع مسیح۔ وہ نہ فقط پانی کے وسیلہ سے سے بلکہ پانی اور خُون دونوں کے وسیلہ سے سے آیا تھا۔ اور جو گواہی دیتا ہے وہ رُوح ہے کیونکہ رُوح سچائی ہے۔ اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ رُوح اور پانی اور خُون اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں۔ جب ہم آدمیوں کی گواہی قبول کرلیتے ہیں تو خُدا کی گواہی تو اس سے بڑھ کر ہے اور خد ا کی گواہی یہ ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کے حق میں گواہی دی ہے۔جو خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے ۔جس نے خُدا کا یقین نہیں کیا اس نے اسے جھوٹا ٹھہرایا کیونکہ وہ اس گواہی پر جوخُدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے ایمان نہیں لایا۔ اور وہ گواہی یہ ہے کہ خُدانے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشی اور یہ زندگی اسکے بیٹے میں ہے۔ جسکے پاس بیٹا ہے اس کے پاس زندگی ہے اور جسکے پاس خُدا کا بیٹا نہیں اسکے پاس زندگی بھی نہیں۔‘‘
 
 
 یسوؔع کس کے
وسیلہ سے آیا؟
پانی،خُون،اور رُوح کے وسیلہ سے
 
کیایسؔوع پانی کے وسیلہ سے سے آیا؟جی ہاں وہ پانی کے وسیلہ سے آیا۔ وہ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سےآیا ۔پانی دریائے یردؔن پر یوحنا اِصطباغی کی وساطت سےیسؔوع کے بپتسمہ کی رمزپیش کرتا ہے۔ یہ نجات کا بپتسمہ تھابمع جسکے اُس نے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھالئے۔
کیایسؔوع خُون کے وسیلہ سے آیا؟ جی ہاں وہ خُون کے وسیلہ سے آیا۔ وہ ایک آدمی کے جسم میں آیا اور دُنیا کے تمام گناہ دور کرنےکے لئے بپتسمہ لیا ،اِس کے بعد، صلیب پر خُون بہانے کے ذریعہ سےسے گناہ کی قیمت ادا کر دی۔یسؔوع خُون کے وسیلہ سے آیا۔
کیایسؔوع رُوح کے وسیلہ سے آیا؟جی ہاں وہ رُوح کے وسیلہ سے آیا۔یسؔوع خُدا تھا لیکن وہ گناہ گاروں کا نجات دہندہ بننے کی خاطر رُوح کے طور پر جسم میں آیا۔
بہت سے لوگ یہ ایمان نہیں رکھتےکہ یسؔوع پانی،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے سے آیا تھا۔ صرف چند لوگ ہی ایمان رکھتے ہیں کہ یسؔوع واقعی بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوند کاخدا ہے۔ لوگوں کی اکثریت تا حال حیران ہوتی ہے،’ کیایسؔوع حقیقی طور پر ابنِ خُدا یا ابنِ آدمؔ ہے؟‘ اوربہت سارے لوگ ،جن میں علمِ الہٰیات کے ماہرین اور خادمین بھی شامل ہیں،یسؔوع مسیح پر خداوند خدا، نجات دہندہ ، اور کامل ہستی کے طور پر ایمان رکھنے کی بجائےعام آدمی کے طورپر ایمان رکھتے ہیں۔
مگرخُدائے واحد نے فرمایا کہ جوکوئی ایمان رکھے گاکہ یسؔوع بادشاہوں کا بادشاہ، حقیقی خُدا اور حقیقی مکتی داتا ہے ،وہ اُس سے پیدا ہو گا ۔وہ لوگ جو خُدائے واحد سے محبت رکھتے ہیں وہ یسؔوع سے محبت رکھتے ہیں اور وہ لوگ جوواقعی خُدائے واحد پر ایمان رکھتے ہیں وہ اُسی طریقے سےیسوؔع پربھی ایمان رکھتے ہیں۔
لوگ دُنیا پر غالب نہیں آسکتے جب تک وہ اَز سرِ نَو پیدا نہیں ہوجاتے۔اِس طرح،یوؔحنارسول نے ہمیں بتایا کہ صرف حقیقی مسیحی دُنیا پر غالب آسکتے ہیں۔ اور ایمانداروں کے دُنیا پر غالب آنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ پانی ،خُون اور رُوح پر ایمان رکھتے ہیں۔ دُنیا پر غالب آنے کی قوت انسان کے ارادہ، سعیِ بلیغ ،اورشدید رغبت سے پیدا نہیں ہو سکتی۔
’’اگر میں آدمیوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں اور محبت نہ رکھوں تو میں ٹھنٹھناتاپیتل اور جھنجھناتی جانجھ ہوں۔ اور اگر مجھے نبوّت ملے اورسب بھیدوں اور کل علم کی واقفیت ہو اور میرا ایمان یہاں تک کامل ہو کہ پہاڑوں کو ہٹادوں اور محبت نہ رکھوں تو میں کچھ بھی نہیں۔اور اگر اپنا سارا مال غریبوں کو کھلادوں یا اپنا بدن جلانے کو دے دوں اور محبت نہ رکھوں تو مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں۔‘‘ (۱۔کرنتھیوں۱۳:۱۔۳)۔
یہاں بیان کی گئی’محبت ‘ کا مطلب ہے کہ یسؔوع پانی،خُون، اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔کتابِ مقدّس میں، لفظ ’محبت‘ہمیشہ’حق کی محبت‘کو بیان کرتا ہے(۲۔تھسلنیکیوں ۲:۱۰)۔در اَصل،خُدائے واحد کی محبت اُس کےواحد اکلوتے بیٹے کے وسیلہ سے ظاہر ہوئی تھی(۱۔یوحنا۴:۹)۔
 
 
فقط وہ آدمی جوپانی اور خُون پر ایمان رکھتا ہے دُنیا پر غالب آسکتا ہے
 
کون لوگ دُنیا پر غالب آسکتےہیں؟
وہ لوگ جویسؔوع کے بپتسمہ ،اُس کے خُون،اور
رُوح کی خلاصی پر ایمان لاتے ہیں
 
۱۔یوحنا۵:۵۔۶بیان کرتا ہے۔’’ دُنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہےسوا اس شخص کے جسکا یہ ایمان ہے کہ یسؔوع خُدا کا بیٹا ہے ؟یہی ہے وہ جو پانی اورخُون کے وسیلہ سے سے آیا تھا یعنی یسؔوع مسیح۔ ‘‘
ہم ایمان مسیحیو ،واحدِ حقیقی جو دُنیا اور شیطان پر غالب آیا یسوؔع المسیح تھا۔وہ لوگ جویسؔوع کے پانی، خُون اوررُوح کے کلام پر ایمان لاتے ہیں،دُنیا پربھی غالب آسکتے ہیں۔کیسے یسؔوع دُنیا پر غالب آیا؟پانی، خُون، اور رُوح کی نجات کے طُفیل سے۔
کتابِ مقدّس میں، پانی کا مطلب’یسوؔع کا بپتسمہ‘ہے(۱۔پطرس۳ :۲۱)۔ یسوؔع اِس دُنیاکی خاطرجسم میں آیا۔ وہ دُنیا کے گناہ گاروں کو بچانےکے لئے آیا؛ اُس نے تمام گناہ گاروں کے گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور اُن گناہوں کا کفارہ دینے کی خاطر صلیب پر مرگیا ۔
صلیبی خُون اِس امر کو بیان کرتا ہے کہ وہ اِس دُنیا میں آدمی کے جسم میں آیا۔ وہ گناہ گاروں کو بچانے کے لئے گناہ گار جسم کی ہیئت میں آیا اور پانی کے ساتھ بپتسمہ لیا ۔ لہٰذا، یسوؔع ہمارے پاس دونوں پانی اور خُون کے وسیلہ سے آیا۔ دوسرے لفظوں میں، اُس نے دونوں اپنے بپتسمہ کے پانی اور اپنی موت کے خُون کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کواُٹھالیا۔
کیسے شیطان نے دُنیا پر حکمرانی کی؟شیطان نے نوعِ بشر کے اندر کلامِ خُداکے لئے شک پیدا کیااور اُن کے باطنوں میں نافرمانی کے بیج بو دئیے۔شیطان لوگوں کوخُدا کے کلام کی نافرمانی کے لئےگمراہ کرنے کے سبب سے اُنہیں اپنے خادمین میں بدلنےکی کوشش کرتا ہے۔
تاہم،یسؔوع اِس دُنیا میں آیا اور اپنے بپتسمہ کے پانی اور اپنے صلیبی خُون کے ہمراہ اُن کے تمام گناہوں کومٹا ڈالا: وہ شیطان پر غالب آیا اور دُنیا کے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا۔
یہ اِس لئے ہوا کیونکہ یسؔوع مسیح گناہ گاروں کا مکتی داتا تھا۔ وہ ہمارا نجات دہندہ بن گیا کیونکہ وہ پانی اور رُوح کے وسیلہ سے آیا ۔
 
 
یسوؔع نے اپنے مخلصی کے بپتسمہ کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھالیا
 
اِس کا کیا مطلب ہے کہ
یسوؔع دُنیا پر غالب آیا؟
اِس کا مطلب ہے کہ اُس نے دُنیا کے
تمام گناہ اُٹھا لئے۔
 
چونکہ یسؔوع نےدُنیا کے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اوراُن کا کفارہ دینے کی خاطر مر گیا، وہ
 ہمیں تمام گناہوں سے رہائی بخشنے کے قابل تھا۔ کیونکہ یسوؔع نے دریائے یردؔن پریوؔحنا اِصطباغی،تمام نسلِ انسانی کے نمائندہ سے بپتسمہ لیا،اسلئے دُنیا کے تمام گناہ اُس پرمنتقل ہو گئے۔یسوؔع نے اپنی جان صلیب پر گناہ کی قیمت ادا کرنے کے لئے دی۔ وہ اپنی موت اور جی اُٹھنے سمیت شیطان کی طاقت پر غالب آیا۔یسوؔع نے اپنی موت کےہمراہ ہمارے تمام گناہوں کی قیمت ادا کردی۔
 
 
یسوؔع گناہ گاروں کے پاس اپنے بپتسمہ کے پانی اور صلیبی خُون کے ذریعہ سےآیا  
 
 
کیسے وہ شیطان کی قوت پر
غالب آیا؟
اپنے بپتسمہ،خُون اور رُوح کے
 وسیلہ سے
 
یوؔحنارسول نے فرمایا کہ نجات محض پانی سے نہیں، بلکہ دونوں پانی اور خُون سے ہے ۔ غرض،
جس طرح یسؔوع تمام گناہوں کو اُٹھاچُکا تھا اور ہمارے گناہوں کو ہمیشہ کے لئےدُور کردیا، تمام گناہ گار اُس پر ایمان لانے، اور اُسکے کلام سے وفادار رہنے کےوسیلہ سے نجات پائیں گے۔
جب یسؔوع اِس دُنیا میں آیا، تو اُس نے نہ صرف ہمارے گناہوں کو اُٹھایا، بلکہ اُس نے صلیب پربمع موت خُون بہانے کے ذریعہ سے سے اُن کی قیمت بھی ادا کی۔اُس نے ہمارے تمام گناہ یردؔن پر اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُٹھالئے اور صلیب پر اُن گناہوں کی قیمت ادا کردی؛ اُس نے اپنی موت کے ساتھ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی۔ خُدائے واحد کی راست شریعت جس نے فرمایا کہ ’’ گناہ کی مزدوری موت ہے‘‘(رومیوں۶:۲۳)یوں پوری ہو گئی۔
اِس بنا پریسؔوع کے دُنیا پر غالب آنے کا کیامطلب ہے؟وہ ایمان جودُنیاپر غالب آتا ہےایسا نجات کی خُوشخبری پرایمان ہے ،جو یسوؔع نے ہمیں پانی اور خُون کے وسیلہ سے عطا کیا۔ وہ جسمانی صورت
میں آیا اور اُس نے اپنے پانی کے بپتسمہ اور صلیبی موت کےسَنگ نجات کی گواہی دی۔
یسوؔع دُنیا ،اسماً شیطان پر غالب آیا ۔ابتدائی کلیسیا کے شاگرد روؔمی سلطنت یا دُنیا کی کسی بھی آزمائش کے سامنے جھکے بغیربِلا شُبہ شہادت کے دہانےپرمضبوطی سے ڈٹے رہے۔
یہ سب اُن کے اِس عقیدہ کا نتیجہ تھا کہ یسؔوع پانی (اُس نے ہمارے تمام گناہ اُٹھانےکے لئے بپتسمہ لیا)اور اپنے صلیبی خُون کےوسیلہ سے آیا(یعنی اس نے اپنی موت کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کی قیمت ادا کردی)۔
 یسوؔع رُوح میں آیا(وہ آدمی کے جسم میں آیا)، اور اپنے بپتسمہ اور اپنےصلیبی خُون کے ساتھ گناہ گاروں کے گناہ اُٹھالئے تاکہ ہم سب جو نجات پانے والے ہیں دُنیا پر غالب آسکیں۔
 
 
اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسؔوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتا ہے<۱۔پطرس۳:۲۱>
 
نجات کا مشابہ
کیا ہے؟
یسوؔع کا بپتسمہ
 
۱۔پطرس۳:۲۱ میں ارشاد ہے،’’ اور اسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسؔوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتا ہے۔اُس سے جسم کی نجاست کا دورکرنا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خُدا کا طالب ہونا مراد ہے۔‘‘پطرؔس رسول نے گواہی دی کہ یسؔوع نجات دہندہ تھا اور وہ بپتسمہ کے پانی اور خُون کے وسیلہ سے آیا۔
نیتجہ کے طور پر، ہمیں یسؔوع پر ایمان لانا چاہئے ،جو پانی اور خُون کے وسیلہ سے آیا۔ ہمیں یہ بھی جاننا چاہئے کہ یسؔوع کا پانی کا بپتسمہ ہماری نجات کا مشابہ ہے۔ پطرؔس رسول نے ہمیں بتایا کہ بپتسمہ کا ’پانی ‘
،’ خُون‘ اور’ رُوح‘ نجات میں حتمی حقائق ہیں۔
یسؔوع کے شاگردیسؔوع کے بپتسمہ کے وسیلہ سے صلیبی خُون پر ایمان رکھتے تھے۔فقط خُون پر ایمان حقیقی ایمان کامحض نصف حصہ ہے۔ایسا ایمان جو نصف یا نامکمل سچائی پرمبنی ہو وقت کے ساتھ اُڑ جاتا ہے ۔مگر، اُن لوگوں کا ایمان جو پانی ،خُون اور رُوح کی خُوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔
اِن دنوں دُنیا میں فقط خُون کی خُوشخبری کی آوازمتواتر بڑھ رہی ہے۔ایسا کیوں ہے؟ لوگ کلامِ حق ،یعنی پانی اور رُوح کی مخلصی سے ناواقف ہیں ،لہٰذا وہ اَز سرِ نَو پیدانہیں ہوسکتے۔
ایک وقت میں، مغربی کلیسیائیں توہم پرستی کا شکار ہوگئیں۔ وہ کچھ دیرکے لئےتوخُوشحال نظر آئیں،تا ہم دوسری جانب شیطان کے خادموں نےاُن کے عقائدکو توہم پرستی کے اندر بدلنے میں مدد کی۔
توہم پرستی یوں ایمان رکھنا ہے کہ ابلیس بھاگ جائے گابالفرض اگر کوئی آدمی کاغذ کے ٹکڑے پر صلیب کا نشان بنائے یا اِسےلکڑی کے ساتھ بنائے ، اوریعنی کہ شیطان نکل جائے گابشرطیکہ کوئی شخص یسؔوع کے خُون پر ایمان رکھنے کا اقرار کرے۔ایسے ویسے توہم پرست عقائد کے وسیلہ سے، شیطان نے لوگوں کو جھوٹا ایمان رکھنے پر ورغلایا کہ اُنہیں صرف یسوؔع کے خُون پر ایمان رکھنا چاہئے تھا۔شیطان یوں کہتے ہوئے،خُون سے ڈرنے کا بہانہ کرتا ہے کہ واحد کام جویسوؔع نے گناہ گاروں کی خاطر کیادار پرخُون بہاناتھا۔
تاہم، پطرؔس اور دوسرے تمام شاگردوں نےیسؔوع کے بپتسمہ اور صلیبی خُون کی سچی خُوشخبری کی گواہی دی۔مگر، آج کے دَور میں مسیحی کیا گواہی دیتے ہیں؟وہ صرف یسؔوع کے خُون کی گواہی دیتے ہیں۔
ہمیں کتابِ مقدّس میں تحریر شُدہ الفاظ پر ایمان رکھنا چاہئے اور رُوح کی نجات،یسوؔع کے بپتسمہ،اور اُس کے خُون کی نجات پر ایمان رکھنا چاہئے۔ اگر ہم یسؔوع کے بپتسمہ کو نظر انداز کرتے ہیں اور صرف اِس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ یسؔوع صلیب پر ہماری خاطر مؤا، توہماری نجات مکمل نہیں ہو سکتی۔
 
 
خُدائے واحد کی پانی کی نجات کے لئے ’ گواہی کا کلام‘
 
کیا ثبوت ہے کہ خُدائے واحد
نے ہمیں بچایا؟
پانی، خُون ،اور رُوح
 
۱۔یوحنا۵:۸میں،خُدا وند کَرِیم فرماتا ہے،’’تین ہیں جو اس زمین پر گواہی دیتے ہیں۔‘‘پہلا رُوح ،دوسرایسؔوع کے بپتسمہ کا پانی، اور تیسرا اُس کا صلیبی خُون ہے۔یہ سب تین چیزیں یگانہ کے طور پر ہیں۔یسؔوع ہم سب کواِس دُنیا میں اِن گناہوں سے رہائی بخشنےکے لئے آیا۔ اُس نے اکیلے ہی اِن تینوں یعنی بپتسمہ،خُون اور رُوح کےہمراہ ایسا کیا۔
’’تین ہیں جو گواہی دیتے ہیں۔‘‘تین چیزیں ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ خُدائے واحد نے ہمیں بچایا ۔ یہ تینوں شہادت کے عناصریسؔوع کے بپتسمہ کا پانی،اُس کا خُون اور رُوح ہے ۔ یہی تین چیزیں ہیں جویسؔوع نے ہمارے لئے اِس دُنیا میں کیں۔
 اگر اِن تینوں میں سے کوئی ایک چیز خارج کر دی جائے ،تو نجات مکمل نہیں ہو گی۔ تین چیزیں ایسی ہیں جو اِس رُوئے زمین پر گواہی دیتی ہیں،یعنی رُوح ،پانی اور خُون ۔
یسوؔع مسیح ،جو ہمارے پاس جسم میں آیا،خُدائے خالق ،رُوح ، اور بیٹا ہے۔ وہ اِس دُنیا میں آدمی کے بدن میں رُوح کے طور پر آیا، اور دُنیا کے تمام گناہ اُٹھانےکے لئےپانی میں بپتسمہ لیا۔ اُس نے اپنے بدن پر تمام گناہ اُٹھالئے اور صلیب پرجان نکلنے تک خُون بہانے کے ذریعہ سے ہم گناہ گاروں کو بچا لیا۔ اُس نےہمارے تمام گناہوں کی پوری قیمت ادا کر دی۔ یہ پانی اور خُون اور رُوح کے وسیلہ سے نجات کی مکمل خُوشخبری ہے۔
بِلا مزاحمت اگر اِن میں سے صرف ایک کو خارج کر دیا جاتا، تو یہ خُدائے واحد کی نجات سے انکارکے برابر ہو گا جس نے ہمیں تمام گناہ سے رہائی بخشی ہے۔ اگر آج ہمیں ایمانداروں کی اکثریت سے متفق ہونا پڑے، تو ہمیں یہ کہنا پڑے گا ’دوچیزیں ہیں جورُوئے زمین پر گواہی دیتی ہیں:یعنی خُون اور رُوح ۔‘
مگریوؔحنارسول نے فرمایا کہ تین چیزیں تھیں جنہوں نے گواہی دی:یسؔوع کے بپتسمہ کا پانی ،صلیبی خُون اور رُوح۔ یوؔحنارسول اپنی گواہی میں بہت زیادہ بے کم و کاست تھا۔
وہ ایمان جو کسی گناہ گار کو چُھڑاتا ہے رُوح، پانی اور خُون پر ایمان ہے۔کس قسم کا ایمان کسی شخص کو اِس دُنیا پر غالب آنے کے قابل کرتا ہے؟اور ایسا ایمان ہم کہاں سے پا سکتے ہیں؟یہ یہیں کتابِ مقدّس
میں موجود ہے۔یہ ایمان یسؔوع پر ایمان رکھنا ہے، جو پانی،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔ اِن پر نجات
اور ابدی زندگی حاصل کرنے کے لئے ایمان رکھیں۔
                                
کیا خُدائے واحد کی نجات
یسوؔع کے بپتسمہ کے بغیر مکمل ہے؟
جی نہیں
 
بہت عرصہ پہلے،اَز سرِ نَو پیدا ہونے سے پیشتر، میں، بھی، ایسا مسیحی تھا جو صرف صلیبی خُون اور رُوح پر ایمان رکھتا تھا۔میں نے ایمان رکھا کہ وہ رُوح کے طور پر نیچےاُترآیا اور صلیب پر میری خاطر مجھے میرے تمام گناہوں سے رہائی بخشنےکے لئے مرگیا۔ میں نے صرف اِن دو چیزوں پر ایمان رکھا اور تمام لوگوں تک اُن کی منادی کرنےکے لئےحسبِ ضرورت بر خود غلط تھا۔
میں مشنری بننےکے لئے علمِ الہٰیات کا مطالعہ کرنے، تمام کھوئی ہوئی جانوں کے لئے کام کرنے اور مرنے کے سلسلے میں ، ہو بہو جیسا یسوؔع کر چُکا تھامنصوبہ بناچُکا تھا۔ میں تما م عمدہ قسم کی باتوں کا منصوبہ بناچُکا تھا۔
مگر، چونکہ میں فقط دو چیزوں پر ایمان رکھتا تھا، میرے باطن میں ہمیشہ گناہ موجود رہتا تھا۔ نتیجے میں، میں دُنیا پر غالب نہیں آسکتا تھا۔ میں گناہ سے آزاد نہیں ہوسکتا تھا۔ جب تک میں نے صرف خُون اور رُوح پر ایمان رکھا تب تک گناہ میرے دل میں موجودتھا۔
اِس بنا پر وجہ یہ تھی کہ کیوں میرے دل میں گناہ ابھی تک موجودتھا، حالانکہ گو میں یسوؔع پر ایمان تو رکھتا تھا،مگر میں پانی ،یعنی یسوؔع کے بپتسمہ کے متعلق نہیں جانتا تھا۔ میری رہائی اُس وقت تک نامکمل تھی جب تک میں بپتسمہ کے پانی ،خُون اور رُوح پر اپنے مکمل ایمان کے وسیلہ سے چُھٹکارہ حاصل نہ کرلیتا۔
 میں جسم کے گناہوں پر غالب آنے کے قابل نہ تھاکیونکہ میں یسؔوع کے بپتسمہ کے مفہوم کو
نہیں جانتا تھا۔ بِلا شُبہ ابھی بھی بہت سے لوگ یسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں،مگر تاحال جسم کے گناہ سرزد کرتے ہیں۔ اُن کے باطنوں میں ابھی تک گناہ پایا جاتا ہے اور پہلی محبت میں دَم پھونکنے کی بے سود کوشش کرتے ہیں جو وہ یسؔوع کے لئے رکھتے ہیں۔
وہ اپنے پہلے اشتیاق کی شدید رغبت میں دَم نہیں پھونک سکتے کیونکہ وہ اپنے گناہوں سے مکمل طور پر پانی کے ساتھ کبھی نہیں دُھل چُکے۔ وہ اچھی طرح نہیں سمجھتے کہ اُن کے تمام گناہ سلسلہ وار یسؔوع پر منتقل ہو گئے تھے جب اُس نے بپتسمہ لیا، اور وہ گرنےکے بعددوبارہ اپنے عقائد کو بحال نہیں کر سکتے۔
میں آپ سب پر یہ واضح کرنا چاہوں گا۔ جب ہم یسؔوع پر ایمان لاتے ہیں تو ہم ایمان سے جی سکتےہیں اور دُنیا پر غالب آسکتے ہیں۔ تاہم ہم ناکافی ہیں،اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ ہم اِس دُنیا میں کتنی ہی بار گناہ کرتے ہیں جتنی دیر تک ہم یسؔوع پر اپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں جس نے ہمیں مکمل طور پر اپنے بپتسمہ اور خُون بہے کے ساتھ گناہ سے آزاد کیا، ہم بمع فتح کھڑے ہو سکتے ہیں۔
باوجودیکہ، اگر ہم اُس کے بپتسمہ کےپانی کے بغیریسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں، توہم مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتے۔یوؔحنا رسول نے ہمیں بتایا کہ وہ ایمان جودُنیاپر غالب آتا ہے یسؔوع مسیح پر ایمان ہے، جو پانی کے بپتسمہ ،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔
خُدائے واحد نےاُن لوگوں کو چُھڑانے کے لئے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجاجو بپتسمہ اور اُس کے خُون پر ایمان لاتے ہیں۔یسؔوع نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔یسؔوع ، خُدائے واحد کا واحد بیٹا،ہمارے پاس رُوح میں (یعنی آدمی کے جسم میں )آیا۔اِس کے بعد، اُس نے گناہ کی قیمت ادا کرنےکے لئے صلیب پرخُون بہایا۔ اِس طرح، یسؔوع نے تمام بنی نوع انسان کو گناہ سے آزاد کر دیا۔
وہ ایمان جو دُنیا پر غالب آنے کی طرف راہ نُمائی کرتا ہےاِس سچائی پر ایمان رکھنے سے حاصل ہوتا ہے کہ یسؔوع ہمارے پاس پانی ،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیاجس نے مکمل طور پرہمیں تمام گناہوں سے آزاد کر دیا۔
 اگر بپتسمہ کا پانی اور صلیبی خُون نہ ہو،تو کوئی حقیقی نجات نہیں ہوگی۔تینوں اجزاء میں سے کسی ایک یا دوسرے کے بغیر، ہم حقیقی نجات حاصل نہیں کرسکتے ۔حقیقی نجات پانی ، خُون اور رُوح کے بغیر
حاصل نہیں ہوسکتی۔ غرض، ہمیں پانی،خُون اور رُوح پر ایمان رکھنا پڑےگا۔ اِس بات کو جانیں اور آپ حقیقی ایمان پا لیں گے۔
 
 
میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پانی، خُون اور رُوح کی گواہی کے بغیر کوئی حقیقی نجات نہیں
 
وہ کیا تین اہم عناصر ہیں جو
نجات کی گواہی دیتے ہیں؟
پانی، خُون ، اور رُوح
 
کوئی آدمی بالائی سوال کے متعلق اِسطرح سوچ سکتا ہے۔’’یسوؔع میرا نجات دہندہ ہے ۔میں صلیبی خُون پر ایمان رکھتا ہوں اور ایک شہید کے طور پر مرنا چاہتا ہوں۔میں یسؔوع پر ایمان رکھتا ہوں اِس کے باوجود کہ بِلا شک میرے باطن میں گناہ پایا جاتا ہے ۔ میں خلوصِ دِل سے توبہ کر چُکا ہوں اور ہر روز نیک، راست اور مخّیرانہ اُسلوب پر چلنے کے لئے سرتوڑ محنت کر چُکا ہوں۔ میں اپنی زندگی اور اپناسارا دُنیاوی مال و متاع تجھے دے چُکا ہوں۔ یہاں تک کہ میں نے بے بیاہی زندگی چُن لی۔کیسےخُدائے واحد مجھے نہیں جان سکتا؟یسوؔع میری خاطر صلیب پر مؤا۔ہمارا خُدائے قدوس آدمی کے رُوپ میں نیچےاُتر آیا اور ہماری خاطر صلیب پر مر گیا۔ میں نے تجھ پر ایمان رکھا،تیری خاطر قربانی دی، اورتیری خاطر اپنے کام کو دیانتداری سے کیا۔ اگرچہ میں نامعقول ہو سکتا ہوں اورابھی تک اپنے باطن میں کچھ گناہ رکھتا ہوں،توکیا یسوؔع مجھے اِس بنا پر جہنم میں بھیج دے گا؟نہیں، وہ ایسا نہیں کرے گا۔‘‘
 ایسے بہت سے لوگ ہیں جو اِسی طرح سوچتے ہیں ۔ وہ یہ ایمان نہیں رکھتے کہ یسؔوع نے دُنیا کے
تمام گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا۔جب یہ فرضی مسیحی ،جویسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں تاہم اِس کے باوجود
ابھی تک گناہ رکھتے ہیں ، مرتے ہیں ، تو وہ کہاں جاتے ہیں؟وہ جہنم میں جاتے ہیں۔ وہ محض گناہ گار ہیں!
وہ لوگ ،جو ایسے سوچتے ہیں جیسے وہ خُوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ خُدائے واحد کو بھی یقیناً اِسی طرح
سوچنا چاہئے، جہنم میں جائیں گے۔مزید برآں، کچھ لوگ کہتے ہیں کیونکہ یسؔوع نے تمام گناہ اُٹھا لئے جب وہ صلیب پر مؤا،اِسلئے دُنیا میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ تاہم، یہ صرف خُون اور رُوح کے ڈھب کی بات ہے۔ یہ وہ ایمان نہیں ہےجو لوگوں کی مکمل نجات تک راہ نُمائی کرتا ہے۔
ہمیں ایمان لانا چاہئے کہ یسؔوع نے اپنے بپتسمہ کےساتھ ہمارے گناہ اُٹھالئے،سزا برداشت کی اور ہماری خاطرصلیب پر مر گیا، اوریعنی وہ اپنی موت کےبعدتیسرے دن دوبارہ جی اُٹھا۔
ایسے ایمان کے بغیر، مکمل چُھٹکارہ ممکن نہیں ہو گا ۔یسوؔع مسیح نے بپتسمہ لیا ، صلیب پر مرگیا، اور جی اُٹھا۔یسؔوع مسیح ہمارے پاس پانی،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔ اُس نے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھالئے۔
تین اہم عناصر ہیں جورُوئے زمین پراُس کی نجات کی گواہی دیتے ہیں:یعنی رُوح، پانی ،اور خُون۔
 اَوّلاً،رُوح القدّس گواہی دیتا ہے کہ یسؔوع خُدا ہے اور یعنی وہ آدمی کے جسم میں اُتر آیا۔
دُوسرا عنصر’پانی ‘ کی گواہی ہے۔ پانی یوؔحنا اِصطباغی کے ذریعہ سے یردؔن میں یسؔوع کا بپتسمہ ہے، جس کی وساطت سے ہمارے گناہ سلسلہ واریسؔوع پر منتقل ہو گئے۔ جب اُس نے بپتسمہ لیا تو ہمارے تمام گناہ اُس پرسلسلہ وار منتقل ہو گئے (متی۳:۱۵)۔
تیسرا گواہ ’ خُون‘ ہے جوہمارے گناہوں کی سزا کے لئے یسوؔع کے ذمے باضابطہ قبولیت کی ترجمانی کرتا ہے۔یسؔوع مرگیا، ہماری خاطر اپنے باپ کا فیصلہ قبول کیا اورہمیں نئی زندگیاں بخشنے کے لئے تین روز بعد مردوں میں سے جی اُٹھا۔
خُدا باپ اُن لوگوں کے دلوں میں رُوح بھیجتا ہے جو ہماری نجات کی گواہی کے لئے اُسکے بیٹے کے بپتسمہ اور خُون پر ایمان رکھتے ہیں ۔
وہ لوگ جو اَز سرِ نَو پیدا ہو چُکے ہیں اُن کے پاس کلام ہے، جسکےساتھ وہ دُنیا پر غالب آتے ہیں۔ نجات یافتہ لوگ شیطان ،جھوٹے نبیوں کے بطلان ، رکاوٹوں ،یادُنیا کے دباؤ پر غالب آتے ہیں جو بِلا توقف
اُن پر حملہ کرتے ہیں۔اِس بنا پر کہ یہ طاقت ہمارے پاس ہےاُس کی وجہ یہ ہے کیونکہ ہمارے باطن میں تین گواہ ہیں: یعنی یسؔوع کا پانی،اُسکا خُون اور رُوح۔
 
کیسے ہم دُنیا اور شیطان پر
 غالب آتے ہیں؟
تین گواہوں پر ایمان لانے کے طُفیل سے
 
ہم شیطان اور دُنیا پر اِسلئے غالب آسکتے ہیں کیونکہ ہم رُوح ،پانی اور خُون پر ایمان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جویسؔوع کے بپتسمہ اور خُون پر ایمان رکھتے ہیں جھوٹے نبیوں کے تمام فریبوں پر غالب آنے کے قابل ہیں ۔ہمارا ایمان ،اِس غالب آنے والی قوت کے ساتھ ،پانی،خُون اور رُوح میں پایا جاتا ہے۔ کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں؟
آپ نہ تو نئے سرے سے پیدا ہو سکتے ہیں نہ ہی دُنیا پر غالب آسکتے ہیں اگر آپ یسؔوع کے بپتسمہ ،اُسکے خُون، اور اِس عقیدہ کی وساطت سے مخلصی پر ایمان نہیں رکھتے کہ یسوؔع ابنِ خُدا اور ہمارا نجات دہندہ ہے۔ کیاایسا ایمان آپ کے باطن میں ہے؟
کیاآپ کے باطن میں رُوح اور پانی ہے؟ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کے تمام گناہ سلسلہ وار یسؔوع پرمنتقل ہو گئےتھے؟ کیاآپ کے باطن میں صلیبی خُون ہے ؟
آپ دُنیا پر غالب آئیں گےاگرآپ اپنے باطن میں یسؔوع کے پانی اور خُون پر ایمان رکھتے ہیں۔ اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یسؔوع صلیب پرآپ کی خاطر مؤا اورآپ کی خاطر سزاسہی،توآپ غالب آئیں گے۔
یوؔحنارسول دُنیاپر غالب آیا اِسلئے کہ وہ اپنے باطن میں یہ تینوں بنیادی عناصر رکھتا تھا۔ اُس نے اپنےتمام ہم ایمان بھائیوں کے متعلق نجات کی بھی بات کی جنہوں نے اپنے کام میں رکاوٹیں اور دھمکیاں برداشت کیں۔اُس نے گواہی دی، ”یہ ہے کیسے تم بھی اِس دُنیا پر غالب آ سکتےہو۔یسوؔع رُوح، پانی ، اور خُون کے وسیلہ سے آیا۔جس طرح وہ دُنیا پر غالب آیا، اُسی طرح سچے پیروکار بھی دُنیا پر غالب آئیں گے۔یہ سچے پیروکاروں کے پاس دُنیا پر غالب آنے کی واحد راہ ہے۔“
۱۔یوحنا۵:۸میں،ارشاد ہے،”اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ رُوح اور پانی اور خُون اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں۔“بہت سے لوگ ابھی تک صرف خُون اور رُوح کے متعلق بات کرتے ہیں اُسی دوران وہ یسؔوع کے بپتسمہ کے پانی کو خارج کر دیتے ہیں۔ اگر وہ' پانی' کو باہر نکالتے ہیں، تو اب بھی وہ شیطان سے دھوکہ کھاتےہیں۔ اُنہیں اپنی ہی خود فریبیوں کے عقب سے باہر نکلنا چاہئے اور توبہ کرنی چاہئے؛ اُنہیں اَز سرِ نَو پیدا کرنے والے ،یسؔوع کے بپتسمہ کے' پانی' پر ایمان لانا چاہئے۔
کوئی آدمی پانی اوریسوؔع کےخُون پر ایمان لانے کےبغیر دُنیا پر غالب نہیں آسکتا ۔میں آپ سے دوبارہ یہ کہونگا،کوئی آدمی نہیں !ہمیں یسؔوع کے پانی اور خُون کو اپنے طاقتورہتھیاروں کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنگ لڑنی ہے۔ اُسکا کلام رُوح کی تلوار،یعنی نور ہے۔
دُنیا میں اب بھی بہت سے لوگ ہیں جویسؔوع کے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے،جس نے ہمارے تمام گناہ دھو ڈالے۔ اب بھی بہت سے لوگ ہیں جو صرف دو چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ لہٰذا،جب یسؔوع انہیں ’اُٹھنے اور منور ہونے ‘کیلئے فرماتا ہے، تو وہ بالکل منور نہیں ہوسکتے۔وہ ہنوز اپنے باطنوں میں گناہ رکھتے ہیں۔اگرچہ وہ یسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں ،تو بھی وہ جہنم میں پہنچیں گے۔
 
 
یسوؔع کے بپتسمہ اور خُون کی خُوشخبری کی باوثوق گواہی دینی چاہئے تاکہ لوگ سن سکیں، ایمان لاسکیں ،اور نجات پاسکیں
                      
کیا اُس کے بپتسمہ پر ایمان محض
ایک کٹّر قسم کا عقیدہ ہے؟
نہیں، یہ کوئی کٹّر عقیدہ نہیں ہے
بلکہ یہ صداقت ہے۔
 
جب ہم خُوشخبری کی گواہی دیتے ہیں، تو اسے جامع ہونا چاہئے ۔یسوؔع رُوح ،بپتسمہ(جس نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے)، اور خُون(جس نے ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی) کے ذریعہ سے آیا۔ ہمیں یقیناً اِن سب تینوں پر ایمان لانا چاہئے۔
اگر ہم ایسا نہیں کرتے،تو ہم خُوشخبری کی منادی نہیں، بلکہ اِس کی بجائے محض مذہب کی منادی کررہے ہیں۔زیادہ تر مسیحی آج کی مسیحیت کومحض ایک مذہب کے طور پر خیال کرتے ہیں،مگرمسیحیت کی مذہب کے طور پر جماعت بندی نہیں کی جا سکتی۔یہ حق پر تعمیر ہوا مخلصی کا ایمان ہے ،یہ خُدائے واحد کی طرف دیکھنے کا ایمان ہے۔یہ کوئی مذہب نہیں ہو سکتا۔
مذہب انسانی تخلیق ہے، جبکہ ایمان نجات کی طرف دیکھنا ہے جو خُدائے واحد نے ہمیں عنایت کی۔ یہی اختلاف و امتیاز ہے ۔اگر آپ اِس سچائی کو نظر انداز کریں گے تو آپ مسیحیت کو بالکل کسی دوسرے مذہب کی طرح دیکھتے ہیں اور ضابطۂ اخلاق اور علم الاخلاق کے ذریعہ سے اُس کاپرچار کرتے ہیں۔
یسوؔع مسیح اِس دُنیا میں ایک مذہب قائم کرنےکے لئے نہیں آیا تھا۔ اُس نےمسیحیت نامی مذہب کوہرگز قائم نہیں کیا ۔ آپ کیوں ایمان رکھتے ہیں کہ یہ ایک مذہب ہے؟ اگر یہ سب برابر ہیں تو اِس کی بجائے ہم بدھ مت پر کیو ں نہ ایمان رکھیں ؟کیا آپ گمان کر تے ہیں کہ میں ایسا کہنےکی بنا پر غلط ہوں؟
بعض لوگ یسؔوع پرمذہبی زندگی کی راہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں، اوریوں کہتے ہوئے ختم ہو جاتے ہیں، ’’ کیا فرق ہے؟ آسمان،نروانہ ،فردوس۔۔۔۔یہ سب ایک ہی چیزہیں، وہ صرف مختلف نام رکھتے ہیں۔ بہرحال ہم سب اُسی جگہ پہنچیں گے۔‘‘
ہم ایمان مسیحیو، ہمیں حق پر مضبوطی سے ڈٹ جاناچاہئے۔ ہمیں”اُٹھنا اورمنورہونا“چاہئے۔ ہمیں بِلا ہچکچاہٹ حق بتانے کے قابل ہو نا چاہئے۔
جب کوئی یوں کہے،” یہ آسمان کی واحد راہ نہیں ہو سکتی،“ تو آپکو باوثوق لہجےسے کہنا چاہئے، ’’جی ہاں ،یہی واحد راہ ہے۔ آپ صرف اُسی وقت آسمان پر جاسکتے ہیں جب آپ یسؔوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں، جو پانی ،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔‘‘ آپ کو اِس قدر آب وتابی سے چمکنا چاہئے کہ دوسری جانیں مخلصی کا کلام سننا،اَزسرِ نَو پیداہونا،اور آسمان میں جانا چاہیں۔
 
 
دُرست ایمان رکھیں:
یسؔوع کے بے رُخے عاشق جویسؔوع کے بپتسمہ اور اسکے خُون کے چُھٹکارے سے واقف نہیں ہلاک ہوجائیں گے
                
کون لوگ ہلاک ہوں گےحالانکہ گو
وہ یسوؔع پر ایمان رکھتے ہیں؟
وہ لوگ جو یسوؔع کے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے
 
فقط یسؔوع پر ایمان رکھنے کا اندھا دُھنددعویٰ یسوؔع کےلئے بے رُخی محبت ہے،اور مذہبی انتہا پسند مسیحی بننے کی مختصر راہ ہے۔
بحرالکاہل کو پار کرنے والا ایک بحری جہاز غرق ہو گیا اور چند ایک زندہ بچنے والے لوگ ربڑ کے
بیڑے پربے ٹھکانا بہتے پھرے ۔اُنہوں نے ایس۔ او۔ایس یعنی مدد کا پیغام بھیجا،لیکن موجزن سمندر نے دوسرے جہازوں کو اُنکی مددکے لئے آنے سے روک دیا۔ اِس کے بعد، ایک ہیلی کا پٹرآیااور اُس نے نیچے رسا پھینکا ۔اگر ان آدمیوں میں سے کوئی ایک شخص اُس رسے کو اپنے گرد لپیٹنے کی بجائے اپنے ہاتھوں سے پکڑنے کی کوشش کرے،تویہ عمل یسوؔع کے ساتھ بے رُخی محبت میں مبتلا ہونے کی مانند ہو گا؛یعنی خُدائے واحد پر ویسے ایمان رکھنا جیسےکسی کو بھاتا ہے۔ وہ ابھی تک محفوظ نہیں ہے،البتہ وہ یہ کہتا ہے،”میں ایمان رکھتا ہوں۔ مجھے بچا لو۔میں ایمان رکھتاہوں،لہٰذا میرا اندازہ ہے کہ میں بچ جاؤں گا۔‘‘
وہ آدمی جویسؔوع کے بپتسمہ اور اسکے خُون کی صداقت کو نہیں سمجھتا ایمان رکھتا ہے کہ وہ صرف رسے کو تھامنے کی وجہ سے بچ جائے گا۔
مگر جونہی اُسے اُوپرکھینچا جائے گا، تو اُسکے ہاتھ رسےپراپنی گرفت کھو دیں گے۔ وہ بس اپنی ہی قوت سے رسے کو تھامے رہے گا۔اُس کے لئے ساحلِ سمندر تک پہنچنایعنی منزل ِ مقصود تک رسے کو تھام کر رکھنا بڑی دُور کی بات ہے۔ جب اُس کی قوت ختم ہوجائے گی ،تو وہ اپنی گرفت کھو بیٹھے گا اور واپس سمندر میں گر جائے گا۔
یسوؔع کے ساتھ بے رُخی محبت رکھنا بالکل ایسے ہی ہے ۔بہت سے لوگ کہہ سکتے ہیں کہ وہ خُدائے واحد اوریسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں؛یعنی وہ یسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں جو رُوح کے وسیلہ سے آیا،مگر یہ پوری مساوات کا صرف ایک حصہ ہے۔ وہ نہ تو حقیقی طور پر ایمان رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کامل خُوشخبری میں سکونت کرسکتے ہیں،لہٰذا وہ خود کو باربار یہ کہنے پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ اُس پر’ایمان‘ رکھتے ہیں۔
ایمان رکھنا اور ایمان رکھنے کی کوشش کرنا کوئی ایک ہی چیز نہیں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ آخر تک یسؔوع کی پیروی کریں گے،مگر وہ آخری دن اُن گناہوں کی وجہ سے رَدّہو جائیں گےجواُن کے باطنوں میں موجود ہیں ۔وہ یہ جانے بغیریسؔوع سے محبت کرتے ہیں کہ وہ اپنےبپتسمہ ،خُون اوررُوح کے وسیلہ سے آیا۔ اگر وہ یسؔوع سے صرف اُسکے خُون کی خاطر محبت کرتے ہیں، تو وہ جہنم میں جائیں گے۔
اپنی جان کوسچی خُوشخبری کے رسے کے سَنگ، یعنی پانی اورخُون کی خُوشخبری کے ساتھ باندھ لیں۔ جب یسؔوع نجات کا رسا نیچے پھینکتا ہے ،تووہ لوگ جو خود کو پانی، خُون اور رُوح کے ساتھ باندھ لیں
گے بچ جائیں گے۔
ہیلی کاپٹر سے بچانے والا لاؤڈسپیکرکے ذریعےزور سے چلاتا ہے،” برائے مہربانی میری بات غور سے سنیں، جب میں رسے کو نیچے پھینکوں گا، تو اِسے اپنی چھاتی کے گرد، یعنی اپنے بازوؤں کے نیچے لپیٹ لیں۔ پھر، آپ جس حالت میں ہیں اُسی حالت میں رہیں۔ اپنے ہاتھوں کےبَل رسے سے مت لٹکیں۔ صرف اِسے اپنی چھاتی کےگرد لپیٹ لیں اورڈھیلا چھوڑ دیں۔اِس کے بعد، آپ بچ جائیں گے۔“
پہلے آدمی نے ہدایات پر عمل کیااورخود کو رسے کے ساتھ باندھ لیا،اور وہ بچ گیا۔مگر دوسرے آدمی نے کہا،’’فکرمت کر و۔ میں بہت مضبوط ہوں۔ میں ہیلتھ کلب میں ورزش کرتا رہا ہوں۔ دیکھو!کیا تم میرے پٹّھے دیکھ سکتے ہو؟میں میلوں تک لٹک سکتا ہوں۔‘‘لہٰذااُس نے اپنے ہاتھوں کے ساتھ رسے کو پکڑ لیاجونہی رسا اوپر کو کھینچا گیا۔
شروع میں دونوں آدمیوں کو اوپر کھینچا گیا۔مگر فرق یہ تھاکہ وہ آدمی جس نے ہدایات کو سنا اور
رسے کو اپنی چھاتی کے گرد باندھا وہ بِلا جھٹکا اوپر کھینچا گیا۔بِلا شک وہ راہ میں اپنے ہوش کھو بیٹھا،تاہم وہ اِسکے باوجود کھینچ لیا گیا۔
وہ آدمی جو اپنی ذاتی قوت پر فخر کرتا تھا بالآخر اپنی گرفت کھو بیٹھاکیونکہ اُسکی قوت جواب دے گئی۔ وہ مرگیا کیونکہ اُس نے سننے سے انکار کر دیا اور ہدایات کونظر انداز کر دیاتھا۔
مکمل مخلصی حاصل کرنےکے لئے، ایک آدمی کویقیناً اُسکے بپتسمہ کے پانی اور خُون کے چُھٹکارے
پر ایمان رکھنا چاہئے جس نے تمام جانوں کو گناہ سے بچالیا۔ نجات اُن لوگوں کو میّسر ہےجو پورے دل سے کلام پر ایمان لاتے ہیں: ’’میں نے یوؔحنا اِصطباغی کے ذریعہ سےاپنے بپتسمہ کےسَنگ اور صلیب پردَم نکلنے تک اپناخُون بہانے کے ساتھ تمہیں مکمل طور پربچا لیا۔‘‘
وہ لوگ جوصرف خُون پر ایمان رکھتے ہیں یہ کہتے ہیں،’’فکر مت کرو،میں ایمان رکھتا ہوں۔ میں اپنی زندگی کے آخری دم تک یسؔوع کے خُونکاشکر گزار رہوں گا۔ میں آخر تک یسؔوع کی پیروی کروں گا اورفقط خُون پر میرا عقیدہ دُنیا اورمیری بقیہ زندگی کے سب گناہوں پر غالب آنےکے لئے کافی سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔‘‘
تاہم، یہ کافی نہیں ہے۔وہ لوگ جنہیں خُدائے واحد اپنے لوگ تسلیم کرتا ہےایسے لوگ ہیں جوسبھی تینوں گواہوں پر ایمان رکھتے ہیں: کہ یسؔوع رُوح کے وسیلہ سے آیا، یعنی اُس نے بپتسمہ لیا (یسوؔع نے یردؔن پر اپنے بپتسمہ کے ساتھ تمام گناہوں کو اُٹھالیا) ،یعنی وہ تمام گناہوں کی قیمت ادا کرنےکے لئے صلیب پر مرگیا، اور یعنی وہ مردوں میں سے تیسرے دن جی اُٹھا۔ رُوح صرف اُن پرآتا ہے جو اِن تینوں پر ایمان لاتے ہیں اور اُنکی خاطر گواہی دیتا ہے۔’’ہاں ، میں تمہارا نجات دہندہ ہوں۔ میں نے تمہیں پانی اور خُون کےساتھ بچایا۔ میں تمہارا خُدائے واحد ہوں۔‘‘
اُن لوگوں کو جو سبھی تینوں پر ایمان نہیں رکھتے ،خُدائے واحد نجات نہیں بخشتا۔حتٰی کہ اگر صرف ایک کو خارج کر دیا جائے ، توخُدائے واحد ارشاد فرماتا ہے، نہیں ،تم نجات یافتہ نہیں ہو۔ اُسکے تمام شاگرد سب تینوں پر ایمان رکھتے تھے۔یسؔوع فرماتا ہے کہ اُسکا بپتسمہ نجات کامشابہ ہے ، اوریعنی اُسکا خُون یومِ سزاہے۔
 
 
پوؔلس رسول اور پطرؔس نے بھی دونوں یسؔوع کے بپتسمہ اور خُون کی گواہی دی
 
یسوؔع کے شاگردوں نے
کس کی گواہی دی؟
یسوؔع کے بپتسمہ اور اُس کے خُون کی
 
کیا پوؔلُس رسول نےیسؔوع کے بپتسمہ کے متعلق بات کی ؟ آئیں ہم دیکھیں اُس نے کتنی باریسؔوع کے بپتسمہ کے متعلق بات کی۔ اُس نے رومیوں ۶:۳ میں فرمایا،’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح یسؔوع میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اُسکی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟‘‘ اور رومیوں۶:۵میں ،’’کیونکہ جب ہم اسکی موت کی مشابہت سے اسکے ساتھ پیوستہ ہوگئے تو بیشک اسکے جی اُٹھنے کی مشابہت سے بھی اسکے ساتھ پیوستہ ہونگے۔‘‘
اُس نے گلتیوں۳:۲۷ میں بھی فرمایا،’’اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔‘‘ یسؔوع کے تمامتررسولوں نے’پانی ‘یعنی یسؔوع کے بپتسمہ کی گواہی دی۔’’اور اُسی پانی کامشابہ بھی یعنی بپتسمہ اب تمہیں بچاتا ہے۔(۱۔پطرس۳:۲۱)۔
 
 
خُداوند کَرِیم کے چُھٹکارے کی نجات پانی اوریسؔوع کے خُون کے طُفیل سےحاصل ہوئی
  
خُدائے واحد کن لوگوں کو
 راستباز بُلاتا ہے؟
وہ لوگ جو اپنے باطنوں میں
کوئی گناہ نہیں رکھتے
 
چُھٹکارہ جو یسوؔع نے انسان کو عطا کیا یسوؔع کے پانی کے بپتسمہ اور صلیبی خُون کا حاصل ہے۔ اِس مخلصی کے طُفیل سے ، ہم اُٹھ سکتےہیں اور منوربھی ہو سکتے ہیں۔ کیسے؟اِن تین چیزوں کی گواہی دینے کے ذریعہ سے۔
’’اُٹھ منور ہوکیونکہ تیرا نُور آگیااور خُدا وند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔ ‘‘(یسعیاہ۶۰:۱)۔خُدائے واحد ہم پر نور چمکاچُکا ہے اور ہمیں بھی منور ہونے کا حکم دیتا ہے۔ ہمیں اُس حکم کی اطاعت کرنی چاہئے۔
ہم اپنی پوری قوت کے ساتھ خُوشخبری کی منادی کررہے ہیں ۔اِس کے باوجود، بہت سے لوگ ابھی تک نہیں سنُتے ۔یسؔوع پر ایمان لائیں اور آپ نجات پائیں گے۔ آپ راستباز ہوں گے۔ اگر ابھی تک آپ کے دل میں گناہ موجودہے ،تو آپ ہنوز راستباز نہیں ہیں۔ آپ ہنوز دُنیا کے گناہوں پر غالب نہیں
آئے۔
آپ ہرگز اپنے باطن کے گناہ سے چُھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتےاگر آپ یسؔوع کے پانی (یسوؔع کے بپتسمہ) پر ایمان نہیں رکھتے ۔آپ ہرگز سزا سے نہیں بچ سکتے اگر آپ یسؔوع کے خُون پر ایمان نہیں رکھتے۔آپ ہرگز نجات یافیہ نہیں ہو سکتے اگر آپ یسؔوع مسیح پر ایمان نہیں رکھتے ،جو رُوح کے وسیلہ سے آیا۔آپ ہرگزمکمل طور پر راستباز نہیں بن سکتےجب تک آپ اُن تین گواہوں پر ایمان نہیں لاتے ۔
اُدھوری راستبازی صرف ’ برائے نام راستبازی‘ کی طرف راہ نُمائی کرتی ہے۔ اگر کوئی آدمی کہتا ہے کہ وہ ابھی تک گناہ کھتا ہے،دوسری طرف وہ نروناری خود کو راستباز گمان کرتا ہے ،تووہ آدمی ابھی تک یسوؔع میں نہیں ہے ۔ اِن دنوں بعض لوگ’ برائے نام راستبازی‘ کے وسیلہ سے مخلصی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ اِس مضمون پر کئی ٹن اَلم غلم مضامین لکھ چُکے ہیں۔
کیا خُدائے واحد کسی آدمی کو بے گناہ کہتا ہے جب اُس کے باطن میں ابھی تک گناہ موجود ہے؟ وہ ایسا نہیں کرتا ۔ وہ اُسے ویسے بُلاتا ہے جیسے وہ اُسے دیکھتا ہے۔ وہ قادرِمُطلق ہے ، مگر وہ ہرگز جھوٹ نہیں بولتا۔ خلقِ دُنیا حقیقی راستبازی کے معنی کو نہیں سمجھتی ۔ ہم کسی چیز کو تب 'پاک' کہتے ہیں فقط جب وہ پاک ہوتی ہے ۔ ہم اُسےتب’ راستباز‘ نہیں کہتے جب گناہ موجود ہوتا ہے ۔
آپ شاید گمان کریں کہ آپ یسوؔع کے وسیلہ سے راستباز کہلاتے ہیں اِس کے باوجود کہ بِلاشک آپ کے باطن میں گنا ہ ہے، مگر یہ غلط ہے ۔
یسوؔع فقط ہمیں راستباز فرماتے ہیں جب ہم اُس پر اُس واحدِ حقیقی کے طورپر ایمان لاتے ہیں جو رُوح ، پانی(یعنی اُس نے ہمارے تمامتر گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا )، اور خُون(وہ جسم میں آیا اور ہماری
خاطر مر گیا ) کے وسیلہ سے آیا ۔
ہم ایمان مسیحیو ، ’ برائے نام راستبازی‘ کا پانی اور خُون کی خُوشخبری کے ساتھ کچھ تعلق نہیں ہے ۔ ’ برائے نام راستبازی‘ یا ’راستباز کہلانا ‘ ایک کٹّر عقیدہ ہے جسے آدمیوں نے گھڑا تھا ۔ کیا خُدائے واحد آپ کو راستباز کہتا ہے جب آپ اپنے باطن میں گناہ رکھتے ہیں؟ خُدائے واحد کسی آدمی کو راستباز نہیں بُلاتا جب وہ اپنے باطن میں گناہ رکھتا ہے ، اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ وہ آدمی کس قدر شدت سے یسوؔع پر ایمان رکھ سکتا ہے ۔ یسوؔع ہرگز جھوٹ نہیں بول سکتا ۔
پھر بھی ، کیا آپ ابھی تک سوچتے ہیں کہ وہ کسی آدمی کو راستباز بُلاتا ہے جب کہ اُس کے باطن میں گناہ موجود ہے ؟ یہ ہے لوگ کیا گمان کرتے ہیں ، مگرخُدائے واحد نہیں۔ خُدائے واحد جھوٹ سے نفرت کرتا ہے ۔ کیا خُدائے واحد آپ کو راستباز بُلائے گا جب آپ فقط ’ رُوح ‘ اور ’ خُون‘ پر ایمان رکھتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔
 لوگوں کی بس ایک قسم ہے جنہیں خُدائے واحد راستباز بُلاتا ہے ۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے باطنوں میں کوئی گنا ہ نہیں رکھتے ۔وہ فقط اُن لوگوں کو پہچانتا ہے جو سبھی تین چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں: یعنی یسوؔع ، جو خُدا ہے ، جسم لے کر دُنیا میں اُتر آیا، یردؔن میں بپتسمہ لیا ، اور ہمارے تمامتر گناہوں کو نابود کرنے کے لئے صلیب پر خُون بہایا ۔
صرف وہ لوگ جو چُھٹکارے کی خُوشخبری پر ایمان لاتے ہیں خُدائے واحد کی طرف سے راستبازوں کے طورپر تسلیم ہوتے ہیں ۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو دُرست عقیدہ رکھتے ہیں ۔ وہ مکمل طورپر اُن تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو اُس نے ہماری خاطر کیں۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوؔع آیا ، ہمارے تمامتر گناہ منہا کرنے کے لئے بپتسمہ لیا ، ہماری خاطر صلیب پر مرنے کی بدولت سزا سہی ، اور مردوں میں سے جی اُٹھا ۔
یہ تمام چیزیں خُدائے واحد کی محبت کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ یسوؔع آسمان سے اُتر آیا اور فرمایا ، اے محنت اُٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔میں تم کو آرام دونگا‘‘(متی۱۱:۲۸)۔ اُس نے ایسا ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے کیا ۔
خُدائے واحد اُن لوگوں کوتسلیم نہیں کرتا جو فقط یسوؔع کے خُون پر ایمان لاتے ہیں ۔ وہ لوگ جو فقط یسوؔع کے خُون پر ایمان لاتے ہیں ہنوز اپنے باطنوں میں گناہ رکھتے ہیں ۔ کن لوگوں کو یسوؔع رَستگار تسلیم کرتا ہے ؟
یسوؔع کے بپتسمہ ، اُس کے خُون ، اور حقیقت پر ایمان کہ وہ خُدائے واحد ہے سبھی نجات کے لئے ناگزیر اشیا ہیں ۔ میں نے تمہارے تمامتر گناہوں کو اُٹھا لیا جب میں اِس عالم میں آیا اور یوؔحنا اصطباغی سے بپتسمہ لیا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ دُنیا کے تمامتر گناہ مجھ پر سلسلہ وار منتقل ہوئے تھے ۔ میں نے صلیب پر گناہوں کا دام چُکایا ۔ اِس طریقے سے میں نے تمہیں بچا لیا ۔
اُن لوگوں کو جواِن سبھی تینوں پر ایمان رکھتے ہیں ، یسوؔع فرماتا ہے ، تم نجات یافتہ ہو ۔ تم راستباز اور خُدائے واحد کی اولاد ہو ۔ تم ، بھی ، نجات یا فتہ ہو سکتے ہو اگر تم یسوؔع کے بپتسمہ ، اُس کے خُون، اور رُوح پر اکٹھا ایمان رکھو ۔ وہ لوگ جو فقط خُون اور رُوح پر ایمان رکھتے ہیں ہنوز اپنے باطنوں میں گناہ رکھتے ہیں ۔
خُدائے واحد کی بادشاہی میں ، صرف ایک سچ ہے ۔ وہاں انصاف ، ایمانداری ، محبت اور مہربانی ہے ۔ وہاں جھوٹ کا کوئی دھبا بھی نہیں ہے ۔ جھوٹ اور جھانسے آسمان پر وجود نہیں رکھتے ۔
 
وہ آدمی کون ہے ’ جوبدی پر
چلتا ہے ؟ ‘
وہ بشر جو یسوؔع کے بپتسمہ
پر ایمان نہیں لاتا
 
اس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اے خُدا وند اے خُدا وند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نکالا اور تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے۔(متی۷:۲۲)
خُدائے واحد ہرگز لوگوں کے اُن کاموں کو اُس کی بادشاہی میں داخل ہونے کےقابل تسلیم نہیں کرتا ۔اس وقت میں ان سے صاف کہہ دونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی!(متی ۷: ۲۳)۔
میں نے تیری خاطر دو گھر قربان کر دئیے ۔ بلاشک میں نے اپنی زندگی تیری خاطر ترک کر دی ۔ کیا
تُو مجھے نہیں دیکھتا ؟ میں نے اپنی آخری سانس تک کبھی تیرا انکار نہیں کیا ۔ کیا تُو مجھے نہیں دیکھتا؟
یوں ، کیا تم اپنے باطن میں گناہ رکھتے ہو؟
جی ہاں، اَے خُدا وند کَرِیم میں معمولی سا گناہ کرتا ہُوں۔
لہذا اِس صورت میں ، مجھ سے دُور رہو! کسی گناہ گار کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے ۔
مگر میں اپنے ایمان کی خاطر اَے خُدا وند کَرِیم تجھ میں بطور شہید مر گیا!
تمہارا کیا مطلب ہے ، کہ ایک شہید کے طورپر مر گئے ؟ تم فقط اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے مرےتھے۔ کیا تم میرے بپتسمہ اور خُون کو مانتے ہو ؟ کیا میں نے تمہارے باطن میں گواہی دی کہ تم میرے طفل ہو ؟ تم میرے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے اور میں نے ہرگز گواہی نہیں دی کہ تم میرے طفل ہو ، مگر تم اپنے عقیدے پر اَڑے رہے اور اُس کی خاطر مرمٹے ۔ کب میں نے کبھی تمہاری خاطر گواہی دی ؟ تم اِس مصیبت کو اپنے آپ خود پر لائے ۔ تم نے محبت کی اور اپنی ذاتی مخلصی کے لئے تن تنہا کوشش کی ۔ کیا تم سمجھتے ہو ؟ اب ، تم اپنی راہ لو ۔
یسوؔع نے ہمیں اُٹھنے اور منور ہونے کا حکم دیا ۔ چھڑائے ہوئے لوگ بہت سارے نامی مسیحیوں اور بہت سارے جھوٹے نبیوں کے آگے سر نہوڑ سکتے ہیں ، اور آب و تابی سے منور ہونے میں ناکام ہو سکتے ہیں ! البتہ چھوٹی سی چنگاری کسی بڑی آگ کو شروع کر سکتی ہے ۔ اگر کوئی آدمی دلیری سے کھڑ ا ہوتا ہے اور حق کی گواہی دیتا ہے ، تو پوری دُنیا چمک اُٹھے گی ۔
یسعیاہ ۶۰:۱۔۲ میں، وہ فرماتا ہے، اُٹھ منور ہو کیونکہ تیرا نور آگیا اور خُدا وند کا جلال تجھ پر ظاہر ہوا۔ کیونکہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائیگی اور تیرگی اُمتوں پر لیکن خُدا وند تجھ پر طالع ہوگا اور اسکا جلال تجھ پر نمایا ں ہو گا۔
خُدائے واحد ہمیں اُٹھنے اور منور ہونے کا حکم دیتا ہے کیونکہ بطالت کی تاریکی ، یعنی ، جھوٹی خُوشخبری ، کل عالم پر پردہ ڈال چُکی ہے ۔ صرف وہ لوگ جو یسوؔع پر ایمان لاتے ہیں اُس سے محبت کر سکتے ہیں ۔ وہ لوگ جو چُھڑائے ہوئے نہیں ہیں ہرگز یسوؔع سے محبت نہیں کر سکتے ۔ کیسے وہ کر سکتے ہیں ؟ وہ فقط محبت کی بات کرتے ہیں ، مگر وہ ہرگز واقعتاً اُس سے محبت نہیں کر سکتے جب تک وہ پوری صداقت پر ایمان نہیں لاتے ۔
 
 
تین چیزیں موجود ہیں جو گناہ گاروں کی نجات کی گواہی دیتی ہیں
 
ہمارے باطن میں نجات
کی گواہی کیا ہے؟
یسوؔع کا بپتسمہ
 
اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ رُوح اور پانی اور خُون اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں۔یسوؔع اِس رُوئے زمین پر آیا اور اُس نے اپنا کام پانی اور خُون کے ساتھ کیا ۔ اُس نے ایسا کیا اور ہمیں بچالیا ۔
جب ہم آدمیوں کی گواہی قبول کر لیتے ہیں تو خُدا کی گواہی تو اس سے بڑھ کر ہے۔اور خُدا کی گواہی یہ ہے کہ اس نے اپنے بیٹے کے حق میں گواہی دی ہے۔جو خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے۔ جس نے خُدا کا یقین نہیں کیا اس نے اسے جھوٹا ٹھہرایاکیونکہ وہ اس گواہی پر جو خُدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے ایمان نہیں لایا (۱۔ یوحنا ۵: ۹۔۱۲)
نئے سرے سے پیدا ہونے والا آدمی نسلِ انسانی کی گواہی حاصل کرتا ہے ۔ ہم راستبازوں کے طور پر پہچانے جاتے ہیں ۔ جب نئے سرے سے پیدا ہوئے لوگ ، جو چھڑائے ہوئے ہیں ، مخلصی کے متعلق حق کی بات کرتے ہیں ، تو لوگ اِس پر جھگڑا نہیں کر سکتے ۔ وہ اِسے قبول کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ہم دُرست طور پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی ہم اپنے عقائد میں دُرست ہیں ۔ اگر ہم اُنھیں بتائیں کہ کیسے ہم اِزسرِ نَو پیدا ہوئے تھے تو کوئی آدمی حقیقی خُوشخبری کے برخلاف کھڑا نہیں ہو سکتا جس کی ہم گواہی دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ہم ٹھیک ہیں ۔ ہم آدمیوں کی گواہی حاصل کرتے ہیں ۔
مگر یہ حوالہ یوں بھی فرماتا ہے ، خُدا کی گواہی بڑھ کر ہے اِسلئے کہ یہ خُدا کی گواہی ہے۔ یہ صحیفہ فرماتا ہے کہ خُدائے واحد کی گواہی اُس کے بیٹے کی گواہی ہے ۔ ٹھیک ؟ اُس کے بیٹے کی گواہی کیا ہے ؟ یہ گواہی کہ خُدائے واحد نے ہمیں بچا لیا یوں ہے کہ یسوؔع رُوح ، مخلصی کے پانی ، اور صلیبی خُون کے وسیلہ سے آیا ۔ خُدائے واحد گواہی دیتا ہے کہ یہ وہ طریقہ ہے جس سے اُس نے ہمیں بچایا ، اور یعنی ہم اُس کے لوگ
ہیں کیونکہ ہم اِس پر ایمان رکھتے ہیں ۔
’’جو خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے۔جس نے خُدا کا یقین نہیں کیااس نے اسے جھوٹاٹھہرایاکیونکہ وہ اس گواہی پر جو خُدا نے اپنے بیٹے کے حق میں دی ہے ایمان نہیں لایا۔
یہ حوالہ ہمیں اختصار سے بتاتا ہے کہ کون لوگ چھڑائے ہوئے لوگ ہیں ۔ یہ فرماتا ہے کہ وہ آدمی جو خُدائے واحد کے بیٹے پر ایمان لاتا ہے خود میں گواہی رکھتا ہے ۔ کیا آپ اپنے باطن میں گواہی رکھتے ہیں ؟ یہ آپ کے اندر ہے اور یہ میرے بھی اندر ہے۔ یسوؔع ہماری خاطر روئے زمین پر آیا ۔ (وہ رُوح القدّس کے وسیلہ سے مریم کے بدن کی وساطت سے جسم میں آیا)۔ جب وہ تیس سال کا ہوا ، تو اُس نے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا ۔ اور ہمارے تمام گناہوں کے ساتھ ، اُس نے صلیب پر سزا برداشت کی ۔ وہ ہمیں ابدی زندگی عطا کرنے کے لئے تیسرے دن جی اُٹھا ۔ اِس طریقے سے یسوؔع نے ہمیں بچا لیا ۔
اِس بنا پر کیا ہو جاتا اگر وہ زندہ نہ ہوتا ؟ کیسے وہ میرے لئے قبر میں گواہی دے سکتا تھا ؟ یہ اِس بنا پر ہے کہ کیوں وہ میرا نجات دہندہ ہے۔ یہ اِس بنا پر ہے کہ ہم کیا ایمان رکھتے ہیں۔
بالکل جیسا کہ اُس نے فرمایا ، اُس نے ہمیں اپنے بپتسمہ اور خُون کے ساتھ بچا لیا ۔ اور کیونکہ ہم ایمان لاتے ہیں ، تو آپ اور میں نجات یافتہ ہیں ۔ یہ گواہی میرے باطن میں ہے اور یہ آپ کے اندر بھی ہے ۔ رَستگار لوگ ہرگز اُس کے بپتسمہ کے ’پانی ‘ کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔ ہم ہرگز اُن چیزوں کو خارج نہیں کرتے جو اُس نے ہمیں بچانے کی خاطر کیں۔
’’کیونکہ ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے(متی۳:۱۵ ہم ہرگز انکار نہیں کرتے کہ یسوؔع نے یردؔن پر ہمارے تمامتر گناہ اُٹھا لئے جب یوؔحنا اصطباغی نے اُسے بپتسمہ دیا ۔ چُھڑائے ہوئے لوگ ہرگز یسوؔع کے بپتسمہ کے ’پانی ‘ کا انکار نہیں کر سکتے ۔
 
 
وہ لوگ جو ایمان تو رکھتے ہیں ، مگر نجات یافتہ نہیں ہیں ، آخری دم تک یسوؔع کے بپتسمہ کا انکار کرتے ہیں
 
کون خُدائے واحد کو جھوٹا
 ٹھہراتا ہے ؟
وہ آدمی جو یسوؔع کے بپتسمہ پر
 ایما ن نہیں لاتا
 
وہ کتنا بے کم و کاست تھا جب یوؔحنا رسول نے فرمایا ، جس نے خُدا کا یقین نہیں کیا اس نے اسے جھوٹا ٹھہرایا۔اگر یوؔحنا رسول ابھی اِسی وقت زندہ ہوتا ، تو وہ ہم کو، آج کے مسیحیوں کو کیا بتاتا ؟ وہ پوچھتا آیا ’ یسوؔع نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا ‘ یا نہیں۔
کیا یوؔحنا اصطباغی نے بھی اِس خُوشخبری کی گواہی نہیں دی کہ یسوؔع نے ہمیں اپنے بپتسمہ کے ساتھ چھڑا لیا ؟ کیا آپ کے گناہ یسوؔع کے سر پر سلسلہ وار منتقل نہیں ہوئے اور کیا اُس نے آپ کے گناہ اپنی پیٹھ پر برداشت نہیں کئے جب اُس نے مجھ سے بپتسمہ لیا ؟ اِس طریقے سے اُس نے بِلا جھجک گواہی دی کہ یسوؔع نے ہم سب کو بچانے کی خاطر بپتسمہ لیا تھا (یوحنا ۱:۲۹ ۔ ۱۔ یوحنا ۵:۴۔۸)۔
دوسرے لفظوں میں ، وہ لوگ جو خُدائے واحد پر ایمان نہیں لاتے ، یعنی جو ہر چیز پر ایمان نہیں لاتے جو اُس نے ہمیں بچانے کے لئے کی ، وہ اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یسوؔع نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا ، تو وہ کہتے ہیں کہ ، اوہ، میرے عزیزم ! وہ ہمارے تمام گناہوں کو نہیں اُٹھا سکتا تھا ! اُس نے فقط موروثی گناہ اُٹھایا ، چنانچہ ہمارے سب روزمرّہ کے گناہ ہنوز موجود ہیں۔ لہٰذا، وہ اِصرار کرتے ہیں کہ اُنھیں نجات یافتہ ہونے کے سلسلے میں اپنے روز مرّہ کے گناہوں کی خاطر توبہ کی دُعائیں مانگنی ہیں ۔
یہ اِس بنا پر ہے کہ وہ کیا ایمان رکھتے ہیں ۔ کیا آپ سب بھی اِسی طرح ایمان رکھتے ہیں ؟ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے کہ ہمارے گناہ یسوؔع کے بپتسمہ کے ساتھ دُھل گئے تھے خُدائے واحد کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں ۔
 
 
یسوؔع نے ہمیں آخری اور حتمی طورپر چھڑا لیا جب اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر خُون بہایا
 
کون جھوٹ بول رہا ہے ؟
وہ آدمی جو یسوؔع کے بپتسمہ پر
ایمان نہیں لاتا
                                        
یسوؔع نے بپتسمہ لیا اور تمام گناہوں کو آخری اور حتمی طورپر اُٹھا لیا ۔ خُدائے واحد اُن لوگوں کو بچاتا ہے جو یسوؔع کے بپتسمہ اور خُون ایمان لاتے ہیں ، مگر اُن لوگوں کو چھوڑ دیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ وہ جہنم چلے جاتے ہیں ۔ غرض ، آیا ہم نجات یافتہ ہیں یا نہیں اِس بات پرمبنی ہے کہ ہم کیا ایمان رکھتے ہیں ۔ یسوؔع نے دُنیا کو تمام گناہوں سے آزاد کیا ۔ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں نجات یافتہ ہیں ، اور وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ہنوز نجات یافتہ نہیں ہیں کیونکہ وہ خُدائے واحد کو جھوٹا ٹھہرا چُکے ہیں ۔
لوگ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے جہنم میں نہیں جاتے ، مگر اپنے ایمان کی کمی کے باعث جاتے ہیں۔جس نے خُداکا یقین نہیں کیا اُس نے اُسے جھوٹا ٹھہرایا۔ (۱۔ یوحنا ۵:۱۰)۔
وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے کہ اُن کے سارے گناہ یسوؔع پر سلسلہ وار منتقل ہو گئے تھے اپنے باطنوں میں ہنوز گناہ رکھتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ گناہ نہیں رکھتے ۔
 ایک دفعہ ، میں ایک ڈیکن سے ملا اور اُس سےپوچھا ، ڈیکن صاحب ، کیا تمہارے تمام گناہ چلے
گئے تھے جب تم نے یسوؔع پر ایمان رکھا ؟
بے شک وہ چلے گئے ۔
اِس کے بعد ، چونکہ یسوؔع نے دُنیا کے گناہ اُٹھا لئے اور فرمایا کہ 'تمام ہُوا،' تم نجات پا چُکے ہو ۔ کیا یہ بات ٹھیک نہیں ہے ؟
جی ہاں ، میں نجات پا چُکا ہوں ۔
اِس طرح تمہیں یقینا ً گناہ کے بغیر ہونا چاہئے۔
جی ہاں ، میں بے گناہ ہوں۔
اِس بنا پر کیا ہو گا اگر تم دوبارہ گناہ کرو گے ؟
ہم فقط انسان ہیں ۔ کیسے ہم دوبارہ گناہ نہیں کر سکتے ؟ اِس طرح ہمیں توبہ کرنی چاہئے اور ہر روز اپنے گناہ دھونے چاہئے۔
یہ ڈیکن ہنوز اپنے باطن میں گناہ رکھتا ہے کیونکہ وہ مخلصی کی کامل سچائی سے واقف نہیں ہے۔
اُس کی ترجیحات ایسی ہیں جو خُدائے واحد کا مذاق اُڑاتی ہیں اور اُسے جھوٹا ٹھہراتی ہیں ۔ کیا یسوؔع ، جو خُدا ہے ، دُنیا کے تمام گناہوں سے چھٹکارہ پانے میں ناکام ہو گیا ؟ یہ ازحد بوکھلا دینے والی بات ہے ۔ اگر یسوؔع تمام گناہوں سے چھٹکارہ نہیں پا چُکا ، تو کیسے وہ نجات کا خُدا بن سکتا تھا؟ کیسے وہ ہمیں اُس پر ایمان لانے کو کہہ سکتا تھا ؟ کیا آپ اُسے جھوٹا ٹھہرا رہے ہیں ؟ میں آپ کو ایسا نہ کرنے کی نصیحت کرتا ہوں!
کتا بِ مقدّس ہمیں اُس کا مذاق نہ اُڑانے کا حکم کرتی ہے ۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُسے جھوٹا مت ٹھہرائیں اور اُسے فریب دینے کی کوشش مت کریں۔ وہ ہم جیسا نہیں ہے ۔
یوؔحنا رسول ہمیں بے کم و کاست مخلصی کی خُوشخبری کے متعلق بتاتا ہے ۔ بہت سارے لوگ اُن چیزوں پر ایمان رکھنا نہیں چاہتے جو خُدائے واحد نے ہماری خاطر کیں –– اِس حقیقت پر کہ یسوؔع مسیح ، پانی، خُون، اور رُوح کے وسیلہ سے آیا ۔
مسیحیوں کے دو گروپ ہیں : وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے جیسے کتا بِ مقدّس فرماتی ہے اور اقرار کرتے ہیں ، میں گناہ گار ہوں ، اور وہ لوگ جو تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جنھیں خُدائے واحد اُن کی خاطر کر چُکا ہے اور ایمان کے ساتھ اِقرار کرتے ہیں ، میں راستباز ہوں ۔ اِس بنا پر کونسا گروپ آپ کے خیال میں سچ بول رہا ہے ؟
دوسرے لفظوں میں ، وہ لوگ جو اُن چیزوں پر ایمان نہیں لاتے جو خُد انے کیں ، یعنی جو پانی ، خُون، اور روح کی گواہی کو نہیں مانتے ، جھوٹ بول رہے ہیں ۔ وہ جھوٹے عقائد رکھتے ہیں ۔ وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے خُد ا کو جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔
 اُسے جھوٹا مت ٹھہرائیں ۔ یسوؔع دریائے یردؔن پر آیا اور اِس طریقے سے ، (بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ) ساری راستباز ی پوری کر دی (یعنی دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا )۔
  
 
غیر ایماندار یسوؔع کے بپتسمہ اور اُس کے تقدس کا انکار کرتے ہیں
 
شیطان اور اِبلیس کس کا
 انکار کرتے ہیں ؟
یسوؔع کے بپتسمہ کا
 
اُس کے بیٹے پر ایمان رکھنے والا اپنے اندر گواہی رکھتا ہے۔اَز سرِ نَو پیدا ہوا آدمی ایمان رکھتا ہے کہ اُسکے گناہ یسؔوع پرمنتقل ہو گئےتھے جب اُس نےبپتسمہ لیا،اور یعنی وہ یسؔوع کےپانی اور خُون کے ساتھ آزاد ہوا تھا۔ نئے سرے سے پیدا ہوئے مسیحی ایمان رکھتے ہیں کہ یسؔوع اِس دُنیا میں مریم کے بدن کی معرفت پیدا ہواتھا ،یعنی اُس نے صلیب پرمرنے سے پیشتر یردؔن میں بپتسمہ لیا،اور اِس طرح وہ مردوں میں سے جی اُٹھا۔
راستبازلوگ اپنے باطنوں میں گواہی رکھتے ہیں ۔ہماری نجات کا ثبوت یسؔوع پرہمارےایمان میں
پایا جاتا ہے، جو پانی ،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔گواہی آپ کے اندر ہے ۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ اپنے اندر گواہی رکھیں۔میں آپ سے کہتا ہوں ۔یہ کوئی نجات نہیں ہے اگر آپ کے باطن میں کوئی گواہی، یعنی نجات کا ثبوت نہیں ہے ۔
یوؔحنارسول نے فرمایا،جو خُدا کے بیٹے پرایمان لاتا ہے وہ اپنے اندر گواہی رکھتا ہے۔(۱۔یوحنا۵:۱۰)۔ کیا صرف صلیبی خُون پر ایمان لانے کے لئے گواہی رکھنی ہے؟ یا، پانی پر ایمان رکھنا ہے،مگرخُون پرنہیں؟آپ کو خُدائے واحد کے مقبولِ نظرٹھہرنےکے لئےسبھی تین چیزوں پر ایمان رکھنا چاہئے۔
فقط اِس کے بعدیسؔوع آپ کی خاطر گواہی د ے گا کہ ’ آپ نجات یافتہ ہیں۔‘ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ گواہی رکھیں گے اگر آپ تین میں سے صرف دو چیزوں پرایمان رکھتے ہیں؟ یہ خُدائے واحد پر اپنے ذاتی طورطریقے سے ایمان رکھناہو گا۔یہ ’ اپنی گواہی آپ دینا ‘ہو گا۔
ایسے بہت سارے لوگ موجود ہیں۔ دُنیا میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جوفقط تین میں سے دو پر
ایمان رکھتے ہیں۔ وہ گواہی دیتے ہیں کہ اُنہوں نے نجات حاصل کی ہے اور اِس کے متعلق کتب تحریر کرتے ہیں۔ وہ کس قدر چرب زبان ہیں! یہ کتنی حوصلہ شکن بات ہے۔ وہ خود کو’ بشارتی مُبلغین‘ کہتے ہیں۔وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ نہ صرف ’ بشارتی مُبلغین‘ ہیں بلکہ ’مذہبی ‘ بھی ہیں۔ وہ ’پانی‘پر ایمان نہیں رکھتے،مگر پھر بھی اپنی نجات کی ڈینگیں مارتے ہیں! وہ استدلالی نظر آسکتے ہیں،مگر وہ اپنے ذہنوں میں خُدائے واحد کی گواہی نہیں رکھتے ۔یہ صرف ایک مفروضہ ہے۔
آپ کیسے اِسے نجات کہہ سکتے ہیں ؟ صرف وہ لوگ جویسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں ،جورُوح،پانی اور خُون کے وسیلہ سے آیا،وُہی خُدائے واحد اور آدمیوں کی گواہی رکھتے ہیں۔
پولُس رسول نے فرمایا،اسلئے کہ ہماری خُوشخبری تمہارے پاس نہ فقط لفظی طورپر پہنچی بلکہ قدرت اور رُوح القدّس اور پورے اعتقاد کے ساتھ بھی(۱تھسلنیکیوں۱:۵)۔شیطان خُوش ہوتا ہے جب لوگ صرف یسؔوع کے خو ن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اوہ،اے احمقو، تم مجھ سے دھوکا کھا گئے،ہا ہا! بہت سے ایسے لوگ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں کہ جب لوگ یسؔوع کے خُون کی تعریف کرتے ہیں، تو شیطان بھاگ جاتا ہے ۔وہ گمان کرتے ہیں کہ شیطان صلیب سے ڈرسکتا ہے۔البتہ آپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ شیطان صرف ڈرامہ رچاتا ہے۔ہمیں اُس کے ہاتھوں بیوقوف نہیں بننا چاہئے۔
جب کوئی بدروح کسی آدمی پر قبضہ کرتی ہے ، توشاید وہ دیوانہ بن جائے اور منہ سے جھاگ نکالنا شروع کردے ۔یہ ابلیس کے لئےکوئی مشکل کارنامہ نہیں ہےکیونکہ اُس کے پاس انسان سے تقریباً کچھ بھی کروانے کا اختیار ہے۔ ابلیس کوفقط تھوڑا سا دماغ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔خُدائے واحد نے ابلیس کو ہر قسم کی قوت ،ماسوائےجان لینے کے، عطا کی۔ ابلیس کسی آدمی کوسفیدے کے پتے کی طرح لہرا سکتا ہے، چیخیں اور اُسکے منہ سے جھاگ نکلوا سکتا ہے۔
جب ایسا ہوتا ہے، تو ایمان دارچلا اُٹھتے ہیں ’’،یسوؔع کے نام میں چلا جا!چلاجا!‘‘اورجب اُس آدمی کےحواس بحال ہوتے ہیں اور اپنی عمومی حالت میں واپس آتا ہے، وہ اُسے کہتے ہیں کہ یہ یسؔوع کا خُون تھاجو اُسے بچانے کی قدرت رکھتا تھا۔مگر یہ اُسکے خُون کی قدرت نہیں ہے۔یہ فقط ابلیس ہے جو 'تماشا' لگارہا ہے۔
شیطان اُن لوگوں سے سرتاسر خوفزدہ ہے جویسؔوع پر ایمان رکھتے ہیں ،جو ہمیں اپنے بپتسمہ کے ساتھ پاک کر چُکا ہے، جس نے ہماری خاطر اپنے خُون کےساتھ سزا اُٹھالی اور تین دن کےبعد، مردوں میں سے جی اٹھا۔ ابلیس یسؔوع کے بپتسمہ اور خُون کی نجات کے گواہ کے گرد منڈلا نہیں سکتا۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں ،کیتھولک راہب گاہے بگاہےدفع بَلا کا عمل پڑھتےہیں۔ہم اِسے فلموں میں دیکھ چُکے ہیں۔فلم’ دی او مین ‘(The Omen) میں، ایک راہب ہاتھ میں لکڑی کی صلیب پکڑتا ہےاوراِسے ہلاتا ہے ،مگر دُوسری جانب وہ راہب مرجاتا ہے۔ایسا آدمی جواَزسرِ نَو پیداہوچُکا ہے اِس طرح پَسپا نہیں ہوگا۔
نئے سرے سے پیدا ہوا ایماندارخوداعتمادی سےیسؔوع کے پانی اور خُون کے متعلق بات کرے گا۔ جب ابلیس اُسے اذیت دینے کی کوشش کرے گا،تو وہ ابلیس سے پوچھے گا، کیا تُو جانتا ہےکہ یسؔوع نےمیرے تمام گناہوں کو اٹھالیا؟ تب ابلیس بھاگ جائے گا۔ ابلیس ’اَزسرِ نَو پیدا ہوئے‘آدمی کے گرد منڈلانے سے نفرت کرتا ہے۔ اگر ’نئے سرے سے پیداہوا‘ شخص محض وہاں بیٹھے گا، تو ابلیس چِھپنے کی کوشش کرے گا۔یہ ارشاد ہے کہ جولوگ خُدائے واحد پر ایمان نہیں رکھتے وہ اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں۔ وہ اُسکے بیٹے کی گواہی، یعنی پانی اور خُون کی گواہی پر ایمان نہیں رکھتے۔
 
خُدائے واحد کے بیٹے کی گواہی
کیا ہے؟
اُس کا بپتسمہ، اُس کا خُون،
اور رُوح
 
خُدائے واحد کے بیٹے کی گواہی کیاہے ؟ اِس بنا پر گواہی یہ ہے کہ وہ رُوح کے وسیلہ سے آیا اور اُس نے پانی کے ساتھ ہمارے گناہ اُٹھا لئے۔اُس نے دُنیا کے تمام گناہ اپنے اوپر اُٹھا لئے اور ہم سب کی خاطر صلیب پر خُون بہا دیا۔کیا یہ پانی ،خُون اور رُوح کی نجات نہیں ہے؟
لوگ خُدائے واحد کے آگے جھوٹ بولتے ہیں کیونکہ وہ پانی اور خُون کی سچی خُوشخبری،یعنی چُھٹکارے کی خُوشخبری پر ایمان نہیں لاتے۔دوسری تمام خُوشخبریاں جھوٹی ہیں۔اُن کے عقائد جھوٹے ہیں، اور وہ اِن جھوٹی خُوشخبریوں کو فضول میں پھیلاتے ہیں۔
آئیں ہم۱۔یوحنا ۵باب کی طرف پِھر رُجوع کریں۔گیارھویں آیت فرماتی ہے،اور وہ گواہی یہ
ہے کہ خُدا نے ہمیں ہمیشہ کی زندگی بخشی اور یہ زندگی اسکے بیٹے میں ہے۔یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ خُدائے واحد ہمیں ابدی زندگی عطا کر چُکا ہے اور یہ زندگی اُس شخص میں ہے جو اُسے قبول کرتا ہے۔نیز، یہ زندگی اُس کے بیٹے میں ہے۔
وہ لوگ جو ابدی زندگی حاصل کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو یسؔوع کے بپتسمہ اور اُس کےخُون پر ایمان لانے کے طُفیل سے نجات یافتہ ہیں۔ نجات یافتہ لوگ ابدی زندگی حاصل کرتےہیں اور ابد تک جیتے ہیں۔کیا آپ ابدی زندگی حاصل کر چُکے ہیں۔
بارھویں آیت میں ہے،جس کے پاس بیٹا ہے اسکے پاس زندگی ہے اور جس کے پاس خُدا کا بیٹا نہیں اسکے پاس زندگی بھی نہیں۔ دوسرے لفظوں میں،وہ آدمی جو اُن چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جو بیٹے نے اِس رُوئے زمین پرکیں–– یعنی اُسکا بپتسمہ ، صلیبی موت، اوراُس کا جی اُٹھنا–– وہ ابدی زندگی رکھتا ہے۔مگر وہ آدمی جو بِلا شک اِن میں سے کسی ایک کو خارج کرتا ہےابدی زندگی نہیں پائے گا، نہ ہی کبھی نجات یافتہ ہو گا۔
یوؔحنارسول نے خُدائے واحد کے لوگوں میں اُن چیزوں پراُن کے عقیدہ کی بنیاد پر امتیاز کیاجویسؔوع نے کیں: یعنی پانی، خُون اور رُوح۔یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں آیا وہ اپنے اندر کلام رکھتے ہیں یا نہیں۔وہ نجات یافتہ لوگوں کی یسوؔع کے بپتسمہ کے پانی، اُس کے خُون، اوررُوح پر اُن کے عقیدہ کی وساطت سے شناخت کرتا ہے۔
 
 
وہ لوگ جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے بھیڑ کو بکری سے علیٰحدہ نہیں کر سکتے
 
کونسا آدمی نجات یافتہ کو غیر نجات یافتہ
لوگوں سے علیٰحدہ کر سکتا ہے؟
وہ آدمی جو اَز سرِ نَو پیدا ہوا ہے
 
یوؔحنارسول نے واضح طور پر راستبازوں کی پہچان کی جو چُھڑائے ہوئے لوگ تھے۔ پوؔلُس رسول نے بھی ایسا کیا۔کیسے خُدائے واحد کے خادمین بھیڑ اور بکری میں اچھی طرح امتیاز کرسکتے ہیں؟کیسے وہ خُدائے واحد کے حقیقی خادموں اورحیلہ بازوں میں امتیاز کرتے ہیں؟وہ لوگ جو یسؔوع کے پانی اور خو ن پر ایمان لانے کے ذریعہ سے نجات یافتہ ہیں اِسے پرکھنے کی قدرت حاصل کرتے ہیں۔ آیا کوئی آدمی پاسبان ،مبشر یا ایلڈر ہے، اگر وہ نجات یافتہ لوگوں میں شناخت نہیں کرسکتا،یا اگر وہ کسی بھیڑ اور بکری کے درمیان امتیاز نہیں کر سکتا، تووہ ہنوز نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا، اور وہ اپنے اندر زندگی نہیں رکھتا۔مگروہ لوگ جو حقیقی طورپر نئے سرے سے پیدا ہو چُکے ہیں بے کم و کاست فرق کودیکھ سکتے ہیں۔وہ لوگ جوبے زندگی ہیں نہ تو فرق دیکھ سکتے ہیں نہ ہی اِسے تسلیم کر سکتے ہیں۔
اگرچہ ہم اندھیرے میں مختلف رنگوں میں امتیاز نہیں کرسکتے، مگر پھر بھی سبز رنگ سبز ہے اور سفید رنگ سفیدہے۔البتہ، اگر آپ اپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں تو آپ نہ تودیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی رنگوں کی پہچان کر سکتے ہیں۔
مگر کھلی آنکھوں والے لوگ بِلا شُبہ رنگ میں معمولی سے اَدل بدل کو پہچان سکتے ہیں۔ وہ بتا سکتے ہیں کہ کونسارنگ سبز ہے اور کونسا سفیدہے۔بالکل اِسی طرح،نجات یافتہ لوگوں کے درمیان اور اُن میں جوغیر نجات یافتہ ہیں ایک نمایاں فرق ہے۔
ہمیں نجات کی خُوشخبری ، یعنی پانی،خُون اور رُوح کی خُوشخبری کی منادی کرنی چاہئے۔ہمیں اُٹھنا اور منور ہوناچاہئے۔ جب ہم حقیقی ایمان کو پھیلانے کے لئے اپنے ارد گرد لوگوں کو جمع کرتے ہیں، تو ہم انسانی لفظوں کے ساتھ نہیں بولتے۔کتابِ مقدّس میں،۱۔یوحنا ۵باب اِسکے مفہوم کی وضاحت کرتا ہے۔ہمیں اِس کی درجہ بدرجہ وضاحت کرنی چاہئے تا کہ کسی طرح کی الجھن نہ ہو۔
وہ کلام جس کی ہم منادی کر رہے ہیں، یعنی وہ، یسؔوع کے پانی،خُون ، رُوح کا کلام ہےجو نجات کا نُور ہے۔لوگوں میں یسؔوع کا’ پانی‘مشہور کرنے کے لئے،ہمیں یقیناً آب و تابی سے چمکنا چاہئے۔یسوؔع کے 'خُون 'کو مشہور کرنا،آب و تابی سے چمکنا ہے۔ہمیں اِسے بالکل بیّن کرنا ہے تاکہ رُوئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہ ہوجو اِس سچائی سے واقف نہ ہو۔
اگر نئے سرے پیدا ہوئے لوگ نہیں اُٹھتے اور منور نہیں ہوتے،تو بہت سے لوگ نجات کے بغیر ہلاک ہوجائیں گے اور خُدائے واحد خُوش نہیں ہو گا۔ وہ ہمیں سُست نوکر کہے گا۔ہمیں یقیناً یسؔوع کے پانی اور خُون کی خُوشخبری کو پھیلانا چاہئے۔ اِس کی وجہ کہ کیوں میں خود بخود بار بار دہرا رہا ہوں یہ ہےکیونکہ یسؔوع کا بپتسمہ ہماری نجات کے لئے بہت زیادہ اہم ہے۔ جب ہم بچوں سے بولتے ہیں، تو ہمیں بار بار باتوں کی وضاحت کرنی چاہئے، ہر نکتے میں گزرناچاہئے تاکہ ہمیں یقین ہو کہ وہ سمجھ گئے ہیں۔
اگر ہم کسی اَن پڑھ آدمی کو سِکھانے کی کوشش کرتے ،تو ہم غالباً حروفِ تہجی سے آغاز کرتے۔اِس کے بعد، ہم اُسے رفتہ رفتہ سکھا سکتے تھے کہ حروفِ تہجی کےساتھ کیسے الفاظ لکھنے ہیں۔ جب وہ حروف کو ملانے کے قابل ہو گامثلاً سزا تو ہم اُن الفاظ کے معنی کی وضاحت کرنا شروع کریں گے۔یہی مِن و عَن ہے کیسے ہمیں لوگوں سےیسؔوع کے متعلق یقین دہانی کرنے کے لئے گفتگو کرنی چاہئے کہ وہ واقعی سمجھ گئے ہیں۔
ہمیں مبینہ طور پریسؔوع کے بپتسمہ کی وضاحت کرنی چاہئے۔وہ اِس جہان میں پانی ،خُون اور رُوح کے وسیلہ سے آیا۔میں دعا مانگتا ہوں کہ آپ یسؔوع پراپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھیں گے اور نجات یافتہ ہوں گے۔
پانی اور رُوح کی مخلصی،یسوؔع کے بپتسمہ،یعنی اُس کے صلیبی خُون پر ایمان سے، اور اِس عقیدہ سےپُھوٹ پڑتی ہے کہ یسؔوع خُدا،یعنی ہمارا نجات دہندہ ہے۔