خطبات

مضمون 3: پانی اور رُوح کی خوشخبری

[3-5] <وحنا۳:۱ ۔۶> نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اَصل خوشخبری کا مطلب

<یوحنا۳:۱ ۔۶>
’’فریسیوں میں سے ایک شخص نیکدیمُسؔ نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔ْاُس نے رات کو یسوع ؔ کے پاس آکر اُس سے کہا اَے ربی ہم جانتے ہیں کہ تُو خُدا کی طرف سے اُستاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تُو دِکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دِکھا سکتا جب تک خُدا اُس کے ساتھ نہ ہو۔ْیسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا میَں تُجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سِرے سے پیدا نہ ہو وہ خُد اکی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔ْ نیکدیمُسؔ نے اُس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہوگیا تو کیونکر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہو سکتا ہے؟ ۔ْ یسوعؔ نے جواب دیا کہ میں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ْ جو جِسم سے پیدا ہو ا ہے جسِم ہے اور جو رُوح سے پیدا ہوا ہے رُوح ہے ۔‘‘     
 
 
کتابِ مقدس کے مطابق نئے سِرے سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے؟
 
اِس دُنیا میں، بہت سارے ہیں جو محض یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا چاہتے ہیں ۔ تاہم، میں اولاً آپ کو بتانا چاہوں گا کہ نئے سِرے سے پیدا ہونا ہم پر منحصر نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں، یہ کچھ اَیسا ہے جو صِرف ہمارے اعمال کی معرفت ایک نتیجہ کے طور پر واقع نہیں
 ہو سکتا ہے ۔
 
کیا نئے سِرے سے پیدا ہونے کا تعلق
جسمانی جذبہ اور تبدیلی سے ہے ؟
نہیں ۔نئے سِرے سے پیدا ہونے کا تعلق رُوحانی تبدیلی سے ہے ۔
یہ ایک گنہگارکے لئے ایک بے گناہ انسان کے طو رپر نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ۔
 
زیادہ تر مسیحی یہ غلط نظریہ رکھتے ہیں ۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ اُنہیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی یقین دہانی ہوتی ہے ۔ وہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بِناء پر، دوسروں کے درمیان اَیسا ایمان رکھتے ہیں ۔ بعض نجات کے لئے بہت سارے نئے گِرجا گھروں کی عمارتیں بنانے کے ذریعہ کوشش کرتے ہیں بعض اپنے آپ کو مسیح کی منادی کے لئے بطورمِشنری اُن لوگوں میں جہاں اب تک اُس کا کلام نہیں پہنچا دُور دراز جگہوں کے لئے وقف کرتے ہیں اور اَب تک دوسرے شادی کرنے سے اِنکار کرتے ہیں اور اپنی ساری قوت وہ کرنے میں صَرف کر دیتے ہیں جو وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ خُدا کا کام ہے ۔
یہی سب کچھ نہیں ہے ۔ وہاں اور بھی لوگ ہیں جو اپنی کلیسیا کے لئے بہت بڑی رقم عطّیہ میں دیتے ہیں، یا وہ شاید ہر روز اپنے گرجا گھر کا فرش صاف کرتے ہیں ۔ اپنا سب کچھ ، یعنی وہ اپنا وقت اور جائیداد کلیسیا کے لئے وقف کرتے ہیں ۔ اور وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یہ تمام کوششیں اُن کے لئے زندگی کا تاج جیتیں گی ۔ وہ اُمید رکھتے ہیں کہ خُدا اُن کی کوششوں کو پہچانے گا اور اُنہیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دے گا ۔
 نکتہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ وقف ہیں جو نئے سِرے سے پیدا ہونا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر جگہ پائے جاتے ہیں ۔ وہ یہ اُمید رکھ کر، سخت محنت کرتے ہیں کہ کسی دن وہ اُنہیں برکت دے گا اور نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دے گا ۔ وہ بہت سارے مختلف قِسم کے مذہبی اداروں، سیمنریوں، اور دَرالشِفا ء خانوں میں پائے جاتےہیں ۔ یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بارے میں سچ کو نہیں جانتے ہیں ۔
وہ اپنے اعمال کی اصطلاحوں میں یہ سب سوچتے ہیں، ’’ اگر میں یہ کاملیت کے ساتھ کرتا ہوں، میں نئے سِرے سے پیدا ہو جاوٴنگا ۔‘‘اِس لئے وہ اپنی تمام کوششیں اِن کاموں پر صَرف کرتے ہیں، ایمان رکھتے ہوئے کہ وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی ضروری بُنیاد رکھ رہے ہیں اور سوچتے ہوئے، ’’ میں، بھی، کسی دن ، ریورنڈ ویسلے ! کی طرح نئے سِرے سے پیدا ہو جاوٴنگا ! “یوحنا۳:۸ پڑھتے ہوئے وہ اِس آیت کی اِس مطلب کے لئے تشریح کرتے ہیں کہ کوئی نہیں بتا سکتا کہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکت کہاں سے آرہی ہے یا یہ کہاں کو جارہی ہے ۔
اِس لئے وہ صِرف اُمیدوں پر سخت محنت کر سکتے ہیں کہ یسوعؔ اُنہیں کسی دن نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دے گا ۔ بہت سارے جو سوچتے ہیں، ’’ اگر میں اِس طرح کرنے کی کوشش جاری رکھتا ہوں، یسوعؔ مجھے کسی دن نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دے گا ۔ میں حتیٰ کہ اِس سے باخبر ہوئے بغیر نئے سِرے سے پیدا ہو جاوٴ نگا ۔ کسی صبح میں سادگی سے نئے سِرے سے پیدا ہو کر اُٹھوں گا اور جانوں گا کہ میرا مقدر آسمان کے لئے ہے ۔‘‘اَیسی اُمیدیں اور ایمان کتنے بے پھل ہیں۔!         
ہم کبھی بھی اِس طریقہ سے نئے سِرے سے پیدا نہیں ہو سکتے ہیں! ہم کبھی بھی شراب اور سگریٹ سے دُور رہنے، یا مستعدی سے گرجا گھر میں شِرکت کرنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا نہیں ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح یسوعؔ نے کہا ، ہمیں خُدا کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے ’’پانی ا ور رُوح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا ‘‘ہے ۔ اور نئے سِرے سے پیدا ہونے کے لئے پانی اور رُوح واحد شرطیں ہیں۔
جب تک کوئی پانی اور رُوح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا نہ ہو، کسی کی یسوع ؔ کے سامنے راستباز بننے کی کوششیں بے فائدہ ہیں ۔ کوئی کبھی بھی ہدیہ جات، عطیات یا وقفیت کے ساتھ نئے سِرے سے پیدا نہیں ہو سکتا ہے ۔ کوئی شاید سوچ سکتا ہے کہ چونکہ صِرف خُدا جانتا ہے کون نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں، وہ نہیں جان سکتا آیا وہ نئے سِرے سے پیدا ہوا ہے یا نہیں ۔  
اِس طرح سوچنے سے شاید ایک تسلی مل سکتی ہے ، لیکن نئے سِرے سے پیدا ہونا میز کے نیچے نہیں چھپ سکتا ۔ کسی کو یقینا بذاتِ خود اِسے جاننا چاہیے اور دوسروں کو بھی اِسے محسوس کرنا چاہیے ۔
ہم غالباً اِسے جسمانی طور پر محسوس نہیں کریں گے، لیکن ہمیں یقینا اِسے رُوحانی طور پر بڑی اچھی طرح جاننا چاہیے ۔ حقیقی طور پر نئے سِرے سے پیدا ہوئے وہ ایماندار ہیں جو خُداکے کلام، پانی، خون اور رُوح کے کلام کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں ۔ تاہم، وہ جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں اِسے نہیں سمجھیں گے بالکل جس طرح نیکد یمُس ؔ نہ سمجھ سکا۔
 اِس لئے ہمیں سچائی کے کلام کو، یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کو سُننا ہے ۔ جونہی ہم سُنتے اور خُدا کے کلام سے سیکھتے ہیں ، ہم وہاں سے سچائی تلاش کر سکتے ہیں ۔ اِس لئے اپنے ذہنوں کو کھولنا اور احتیاط کے ساتھ سُننا اِنتہائی ضروری ہے ۔
 ’’ہَوا جِدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے ۔ جو کوئی رُوح سے پیدا ہوا اَیسا ہی ہے ۔ْ‘‘ (یوحنا۳:۸) ۔
جب ایک شخص جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوا اِس حوالہ کو پڑھتا ہے، وہ سوچتا ہے ’’ ہائے!یسوعؔ نے کہا کہ میں نہیں جان سکتا جب میں نئے سِرے سے پیدا ہوں گا! کوئی نہیں جانتا! ‘‘اور یہ سوچ تسلی دیتی ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے ۔ ہم شاید نہیں جانتے ہَوا کِدھر سے آتی یا کِدھر کو جاتی ہے، لیکن خُدا سب جانتا ہے ۔
حتیٰ کہ نئے سِرے سے پیدا ہوئے لوگوں کے درمیان، بعض موجود ہیں جو شروع میں اِسے محسوس نہیں کرتے ۔ یہ قابلِ فہم ہے ۔ لیکن اَ یسے ایک شخص کے دل میں، خوشخبری :یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کا کلا م موجود ہے ۔
یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی گواہی ہے ۔ وہ جو خوشخبری سُنتے ہیں اور احساس کرتے ہیں، ’’ اوہ، تب میں گناہ کے بغیر ہوں ۔ تب میں نجات یافتہ اور نئے سِرے سے پیدا ہو چکا ہوں ‘‘جب وہ ایمان رکھتے ہیں اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کو اپنے دِلوں میں قائم رکھتے ہیں، وہ راستباز، یعنی خُدا کے بیٹے بن جاتے ہیں ۔
کسی سے پوچھا جا سکتا ہے، ’’ کیا آپ نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں؟ ‘‘اور وہ جواب دے گا، ’’ ابھی نہیں ‘‘ ۔ ’’ تب آپ کیا نجات یافتہ ہیں ؟‘‘ ’’ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں کہ میں نجات یافتہ ہوں ‘‘۔ لیکن وہ ایک اُلٹ بیان دیتا ہے، کیا وہ نہیں دیتا؟ وہ اَیسا کرتا ہے کیونکہ وہ سوچتا ہے کہ جب ایک شخص نئے سِرے سے پیدا ہوتاہے، اُسے اپنے جِسم میں بھی تبدیل ہوجانا چاہیے ۔            
اَیسے لوگ نئے سِرے سے پیدا ہونے کو کسی چیز کی یکسر طور پر اندازِ زندگی میں تبدیلی کی مانند خیال کرتے ہیں۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ وہ پانی اور رُوح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کو نہیں سمجھتے ہیں۔
بہت سارے موجود ہیں جو نئے سِرے سے پیدا ہونے کے مطلب کو نہیں سمجھتے ہیں ۔ یہ انتہائی قابلِ ترس بات ہے ۔ یہ صِرف دُنیا دار آدمی نہیں ، لیکن زیادہ تر کلیسیائی راہنما ہیں جو اِس فریب کے تحت چل رہے ہیں ۔ ہم میں سے اُن کے دل جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں اِن لوگوں کے لئے ماتم کرتے ہیں ۔
 جب ہم اِس طرح محسوس کرتے ہیں ،تو یہ کتنی زیادہ یسوعؔ ہمارے آسمانی خُدا کے لئے درد کا سبب بنتی ہے؟ آئیں ہم سب یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوں۔
نئے سِرے سے پیدا ہونا اور نجات یافتہ ہونا ایک ہی چیزہے ۔ تاہم، بہت سارے موجود ہیں جو یہ سچ نہیں جانتے ہیں ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کے دل سے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گنا ہ دھوئے جا چکے ہیں ۔ اِس کا مطلب یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی قُربانی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے راستباز بننا ہے ۔
نئے سِرے سے پیدا ہونے سے پہلے ،لوگ گنہگار ہیں ، لیکن بعد میں ، وہ مکمل طور پر گناہ کے بغیر ہیں لفظی طور پر ، ایک نئے شخص کے طور پر نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں ۔ وہ نجات کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداکے بیٹے بن چکے ہیں۔
نئے سِرے سے پیدا ہونے کا مطلب ہے یسوعؔ کے بپتسمہ کے کپڑے پہننا ، یسوعؔ کے ساتھ صلیب پرمرنا، اور اُس کے ساتھ جی اُٹھنا۔ اِس کا مطلب ہے کہ کوئی یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب کے کلام کے وسیلہ سے راستباز بن چکا ہے۔      جب کوئی اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے ، وہ ایک گنہگا ر ہے ۔ لیکن جب وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی پانی اور رُوح کی سچی خوشخبری کو سُن چکا ہے ، تب وہ نئے سِرے سے پیدا ہو جاتا ہے اور راستباز بن جاتا ہے ۔
ظاہر اً اَیسا شخص مختلف نظر نہیں آتا ، لیکن اندر سے ، رُوح میں نئے سِرے سے پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے نئے سِرے سے پیدا ہونے کا کیا مطلب ہے ۔ لیکن بہت کم موجود ہیں جو اِس سچائی کو جانتے ہیں ؛ حتیٰ کہ دس ہزار میں سے ایک بھی نہیں ۔ کیا آپ میرے ساتھ متفِق ہو سکتے ہیں کہ اِنتہائی کم لوگ موجو دہیں جو نئے سِرے سے پیدا ہونے کے حقیقی مطلب کو سمجھتے ہیں ؟
وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں حقیقتاً نئے سِرے سے پیدا ہوئے لوگوں کو عام مسیحیوں سے الگ کر سکتے ہیں۔  
 
 
یہ یسوعؔ ہے جو ہَوا پر اِختیار رکھتا ہے
 
کون جان سکتا ہے کہ کون نجات یافتہ ہے ؟
صِرف نئے سِرے سے پیدا ہُواشخص
 
’’ہَوا جِدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تُو اُسکی آواز سُنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے ۔ جو کوئی رُوح سے پیدا ہُوا اَیسا ہی ہے ۔ْ‘‘یسوعؔ اُن کے بارے میں بات کر رہا ہے جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔ نئے سِرے سے پیدا ہُوا شخص نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بارے میں جانتا ہے لیکن نیکد یمُسؔ نہیں جانتا تھا ۔ خُدا جانتا ہے کون نئے سِرے سے پیدا ہُوا ہے ، اور نئے سِرے سے پیدا ہُواشخص بھی اِسے جانتا ہے ۔
تاہم ، جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں نہیں جانتے ہیں کیسے ایک شخص نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا ہے بالکل جس طرح وہ نہیں جانتے کہ ہَوا کِد ھر سے آتی ہے اور یہ کِدھر کو جاتی ہے ۔
کیا آپ اِسے سمجھنے کے قابل ہیں ؟ کون ہَوا کو حرکت دیتا ہے ؟ خُدا دیتا ہے۔ کِس نے ہَوا کو پیدا کیا؟ آسمانی خُدا نے پیدا کیا ۔ کون زمین پر آب و ہَوا کو قابو میں رکھتا ہے ، ہَوا اور پانی کے رَاستے بناتا ہے ؟ اور کون تمام زندہ چیزوں میں زندگی کا دَم پھونکتا ہے ؟ دوسرے لفظوں میں ، کس نے اِس دُنیا میں ساری زندگی کو پیدا کِیا اور اِسے خُوب کامیابی سے چلایا ؟ یہ یسوعؔ مسیح کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا ۔ اور یسوع ؔ خُدا ہے ۔
جب ہم پانی ، خون اور رُوح کی خوشخبری کے کلام کو نہیں جانتے ہیں ، ہم نئے سِرے سے پیدا نہیں ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ، ہم دوسروں کو رُوحا نی طور پر سِکھا سکتے ہیں۔ یسوع ؔ نے ہمیں بتایا کہ جب تک کوئی پانی اور رُوح سے پیدا نہیں ہوتا ، کوئی نئے سِرے پیدا نہیں ہو سکتا ۔
ہمیں یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ، قُدرت والی خوشخبری پر جو ہمیں نئے سِرے سے پیدا کرتی ہے پر ایمان لانا چاہیے ۔ پاک روح داخل ہوتا اور اُن کے ذہنوں میں سکونت کرتا ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ۔
یسوعؔ مسیح نے نسلِ انسانی کے تما م گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا ، اور اُس نے اِن گناہوں کی قیمت اَدا کرنے کے لئے صلیب پر خون بہایا ۔ وہ تما م نسلِ انسانی کے دِلوں میں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی نجات بٹھا چکا ہے ۔ جب ہم اس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، روح القدس ہماری روح میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی نجات ہے ۔ جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں کے دھوئے جانے پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم حقیقتاً نئے سِرے سے پیدا ہو تے ہیں ۔
پیدائش ۱:۲،میں ، یہ لِکھا ہے ، ’’اور زمین ویران اور سنسان تھی، اور گہراوٴ کے اوپر اندھیرا تھا ۔ْ اور خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جُنبش کرتی تھی ۔ْ‘‘ یہ لکھا ہوا کہ خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جُنبش کر رہی تھی ۔ خُدا کی رُوح زمین کی سطح سے باہر حرکت کر رہی تھی ۔
اِس کا مطلب کہ رُوح گنہگاروں کے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اُس کا دل جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہُوا ہے سخت بد نظمی میں ہے ، یہ گناہ کی تاریکی کے ساتھ بھرا ہُوا ہے ۔ اِس لئے خُدا کا رُوح اَیسے کسی شخص کے دل میں سکونت کرنے کے قابل نہیں ہے ۔
خُدا نے گنہگاروں کے دلوں میں روشنی ڈالنے کے لئے اپنی خوشخبری کے نُور کو نیچے بھیجا ۔ خُدا نے کہا ، ’’روشنی ہو جا‘‘ اور روشنی ہو گئی ۔ تب ، اور صِرف تب ، خُدا کی رُوح تمام لوگوں کے دِلوں میں سکونت کر سکتی تھی ۔
اِس لئے ، نئے سِرے پیدا ہوئے لوگوں کے دلوں میں ، وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، خُدا کی رُوح سکونت کرتی ہے ۔ یہ اُن کے ’’نئے سِرے سے پیدا ‘‘ ہونے کا مطلب ہے ۔ وہ اپنے دلوں میں نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے پانی اور رُوح کی نجات کے کلام کو سُنا اور اُنہوں نے اِس پر ایمان رکھا!
 کیسے کوئی نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا ہے ؟ یسوعؔ نے نیکدیمُس ؔ ، فریسی پر یہ کہتے ہوئے واضح کِیا ، ’’جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ْ‘‘ نیکدیمُس ؔ نے کہا ، ’’ہم کیسے پانی اور رُوح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ؟ کیا ہم اپنی ماں کے پیٹ میں پھر داخل ہو سکتے ہیں اور تب نئے سِرے سے پیدا ہوں ؟ ‘‘ ظاہراً ، اُس نے اِسے لفظی طور پر لِیا اور نتیجہ اخذنہ کر سکا کیسے کوئی انسان نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا تھا ۔
 یسوعؔ نے اُس سے کہا، ’’ تُو ایک اُستا دہے ، اور تُو حتیٰ کہ نہیں جانتا اِس کا کیا مطلب ہے ؟ ‘‘ یسوعؔ نے اُسے بتایا کہ جب تک کوئی پانی اور رُوح سے نئے سِرے سے پیدا نہ ہو ، وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ہے نہ ہی حتیٰ کہ اِسے دیکھ سکتا ہے ۔ یسوعؔ نے نیکدیمُس ؔ کو نئے سِرے سے پیدا ہونے کی حقیقت بتائی ۔
یہ سچ ہے کہ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے بغیر یسوع ؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ زیادہ تر مسیحی نیکد یمُس ؔ کی طرح حقیقتاً نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔
 نیکد یمُسؔ اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک رُوحانی راہنما تھا بالکل آج کے کلیسیائی راہنماوٴں کی
طرح ۔ جدید اِصطلاحوں میں، وہ کسی ریاست کے مجلسی آدمی کے مدِ مقابل تھا ۔ مذہبی معیا ر کے مطابق وہ ایک اُستا د ، عبرانیوں کاایک ربی ، یہودیوں کا ایک مذہبی راہنما تھا ۔ وہ ایک باکمال عالم بھی تھا۔
اُن دِنوں اسرائیل ؔ میں ، آج کے سکولوں کے مقابلے میں کوئی ادارہ موجود نہ تھا ، پس تمام لوگ’’عالموں ‘‘سے پڑھنے کے لئے، ہیکل میں یادینی مجلسوں میں جاتے تھے ۔ وہ لوگوں کے اساتذہ تھے ۔ بالکل آ ج کی طرح ، بہت سارے جھوٹے اساتذہ تب بھی موجود تھے ۔ اور وہ بذاتِ خود نئے سِرے سے پیدا ہوئے بغیر لوگوں کو تعلیم دے رہے تھے ۔
آج کل بہت سارے مذہبی راہنما ، کلیسیائی سرکاری ملازم ، اساتذہ ، مبشران، بُزرگان اور ڈیکنز موجود ہیں ، جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں ۔ نیکدیمُسؔ کی طرح ، وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی حقیقت کو نہیں جانتے ہیں ۔ حتیٰ کہ بہت سارے سوچتے ہیں کہ ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کے لئے دوسری مرتبہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہونا ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اُنہیں نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے لیکن وہ نہیں جانتے ہیں کہ کیسے ۔
اور اپنی جہالت کی وجہ سے ،ایک اندھے شخص کی طرح صِرف اپنے ہاتھوں کے ساتھ ، ایک ہاتھی کو چھُو کر سمجھنے کی فضول کوشش کرتے ہیں ، اُن کی ہدایت اُن کے اپنے ذاتی احساسات اور جذبات پر مبنی ہے ۔ وہ کلیسیا میں دُنیاوی اِقدار کی منادی کرتے ہیں ۔ اِس وجہ سے ، بہت سارے وفادار لوگ نئے سِرے سے پیدا ہونے سے روک دئیے جاتے ہیں۔
نئے سِرے سے پیدا ہونے کو ہمارے اچھے اعمال کے ساتھ کچھ نہیں کرنا ہے ہم پانی ، خون اور رُوح کے کلام پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو خُدا نے ہمیں دیا ہے نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ خُداکی خوشخبری ہے کہ ہمیں ایک گنہگار کے وجود سے راستباز کے وجود میں تبدیل کرتا ہے ۔ یسوعؔ نے یہ الفاظ بولے، ’’ جب میں نے تُم سے زمین کی باتیں کہیں اور تُم نے یقین نہیں کیا تو اگر میَں تُم سے آسمان کی باتیں کہوں تو کیونکر یقین کروگے ؟ ۔ْ‘‘ بے شک ، لوگ ایمان نہ لائے جب یسوعؔ نے اُنہیں سچ بتایا کہ ہمارے تمام گناہوں کے لئے کفارّہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے مکمل ہو گیا تھا۔ اُنہوں نے کیا ایمان نہ رکھا؟اُنہوں نے ایمان نہ رکھا کہ اُن کی خلاصی یسوع ؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت کے وسیلہ سے
ممکن بنا دی گئی تھی۔یہ ہے اُس کا کیا مطلب ہے کہ لوگ اُس پر ایمان نہیں لائے اگر وہ اُن کو ’’آسمان کی باتیں بتاتا ۔ ‘‘
ہمیں تمام گناہوں سے پا ک کرنے کے لئے ، یسوعؔ نے یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا اور صلیب مَرگیا ، اور تب گنہگاروں کے لئے نئے سِرے سے پیدا ہونے کا راستہ ہموار کرنے کے لئے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔
اِس لئے یسوعؔ نے نیکد یمُس ؔ کو واضح کرنے کے لئے پُرانے عہد نامہ سے حوالہ دیا ۔ ’’ اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سِوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی ابنِ آدم جو آسمان میں ہے ۔ْ اور جس طرح موسیٰ ؔ نے سانپ کو اونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرو ر ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائی۔ْ تاکہ جو کوئی ایمان لائے اُس میں ہمیشہ کی زندگی پائے ۔ْ‘‘ (یوحنا ۳:۱۳۔۱۵)۔ جس طرح موسیٰؔ نے بیابان میں سانپ کو بُلند کِیا، حتیٰ کہ اُسی طرح یقینا ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جانا چاہیے تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان رکھے وہ اُسے ہمیشہ کی زندگی رکھنے کی اجازت دے ۔
یسوعؔ کا کیا مطلب ہے جب اُس نے کہا ، ’’جس طرح موسیٰ ؔ نے سانپ کو بیابان میں اونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے ۔ْ‘‘ اُس نے یہ حوالہ پُرانے عہد نامہ میں سے یہ سمجھانے کے لئے دیا کہ کیسے اُس کا بپتسمہ اور خون بنی نوع اِنسان کے تما م گناہوں کے لئے کفارّہ لائے گا۔
 کیونکہ یسوع ؔ کو صلیب پر مرنا ہے ،کیونکہ اُسے اونچے پر چڑھا یا جانا ہے ، اُسے پہلے یوحنا اصطباغی سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہ کو اُٹھاناتھا ۔ کیونکہ یسوعؔ گناہ کے بغیر تھا ، وہ صلیب پر مصلوب نہیں ہوسکتا تھا ۔ اُس کے صلیب پر مصلوب ہونے کے سلسلے میں ، اُسے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینا تھا اور اِس طرح اپنے آپ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانا تھا ۔
صِرف ہمارے گناہ اُٹھانے اور اپنے خون کے ساتھ اُن کی قیمت اَدا کرنے کے وسیلہ سے ، وہ تمام گنہگاروں کو سزا سے بچاسکتا تھا ۔ یسوعؔ نے ہمیں پانی اور رُوح سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی نجات دی۔
اِس لئے وہ جو یسوعؔ پر اپنے نجات دہندہ کے طو رپر ایمان رکھتے ہیں اُس کے بپتسمہ کے کپڑے پہنتے ہیں ، اُس کے ساتھ مرتے ہیں ، اور اُس کے ساتھ نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ بعد میں ، نیکدیمُس نے اِسے سمجھا ۔
 
 
جس طرح سانپ اونچے پر چڑھایا گیا
          
یسوعؔ کیوں مصلوب ہوا تھا ؟
کیونکہ اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے
تمام گناہ اُٹھا لئے تھے ۔
 
کیا آپ یہ کہانی جانتے ہیں کہ کیسے موسیٰ ؔ نے پیتل کے سانپ کو بیابان میں اونچے پر چڑھایا ؟ یہ کہانی گنتی ۲۱باب میں لکھی ہوئی ہے یہ بتاتی ہے کہ اسرائیلیوں کی جانیں مِصرؔ سے خروج کے بعد بہت خستہ حال ہو گئیں ، اُن کے لئے خُدا کے خلا ف اور موسیٰؔ کے خلاف بولنے کا سبب بنیں۔
نتیجتاً ، خُداوند نے لوگوں کے درمیان آتشی سانپ بھیجے ، جواُن کے خیموں میں داخل ہو گئے اور ڈسا اور اُنہیں ہلا ک کر دیا ۔ ڈسے جانے کے بعد ، اُن کے اجسام سوجھنے شروع ہوگئے اور بہت سارے مر گئے ۔
جب لوگ مرنے شروع ہوگئے ، موسیٰ ؔ ، اُن کے راہنما نے، خُد اسے دُعا مانگی ۔ ’’اَے خُداوند ، مہربانی سے ہمیں بچا ۔‘‘ خُدانے اُسے ایک پیتل کا آتشی سانپ بنانے اور اُسے ایک بلی پر لٹکانے کے لئے کہا ۔ اُ س نے اُسے بتایا جو کوئی اُس پر نگاہ کرے گا زندہ رہے گا ۔ موسیٰ ؔ نے اُسی طرح کِیا جیسے اُسے بتایا گیا تھا اور لوگوں کے سامنے خُد اکے کلام کا اعلان کِیا ۔
کسی نے بھی جس نے اُس کے الفاظ کا یقین کِیا اور پیتل کے سانپ پر نِگا ہ کی شِفا پا گیا ۔ اِسی طریقہ کار سے ،ہمیں اِبلیس کے زہریلے ڈنگوں سے شِفایاب ہونا ہے اسرائیل ؔ کے لوگوں نے موسیٰؔ کی سُنی اور بلی پر لٹکے پیتل کے سانپ پر نگاہ کی ، اور اس طرح وہ شفا یاب ہوگئے ۔
بلی پر لٹکے سانپ کا مکاشفہ یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی سزا کو ، اُس کے بپتسمہ اور صلیب پر موت کے وسیلہ سے یسوعؔ مسیح پر لاد دِیا گیا تھا ۔ اُس نے دُنیا کے تمام گنہگاروں کے گناہوں کی سزاکی قیمت اَدا کرنے کے لئے اُنہیں اپنے آپ پر اُٹھالیا۔ اِس طرح، اُس نے ہمارے تمام گناہوں کی سزا کا خاتمہ کر دیا۔
یسوعؔ مسیح اِس دُنیا میں تمام لوگوں کو نجات دینے کے لئے آیا ، جو ’’سانپ کے زہر‘‘ شیطان کی آزمائشوں کی وجہ سے موت کا مقدر بن گئے تھے۔ ہمارے تمام گناہوں کی قیمت اَدا کرنے کے لئے ، اُسے اُن کو جو اُس پر ایمان رکھتے تھے نجات دینے کے لئے جی اُٹھنے سے پہلے بپتسمہ لینا تھا اور صلیب پر مرنا تھا ۔
بالکل جس طرح پُرانے عہد نامہ میں اسرائیلیوں کی جان بخشی ہوئی جب اُنہوں نے بلی پر لٹکے ہوئے سانپ پر نِگاہ کی ، آج سب جو یسوعؔ پر اعتقاد اور ایمان رکھتے ہیں کہ اُس نے اپنے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے ہمارے گناہ کی قیمت اَد اکی نجات یافتہ اور نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔
یسوعؔ نے دریائے یردنؔ میں یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینے ، صلیب پر اپنی موت ، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کی پوری قیمت اَدا کردی ہے ۔ اب ، وہ سب جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں اُس کے فضل کے وسیلہ سے نجات کے ساتھ برکت یافتہ ہو سکتے ہیں ۔
 ’’اور آسمان پر کوئی نہیں چڑھا سِوا اُس کے جو آسمان سے اُترا یعنی ابنِ آدم جو آسمان میں ہے ۔ْ‘‘ (یوحنا ۳ : ۳ ۱)۔ ہمارے گناہوں کے فِدیہ کے طور پر ، یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر خون بہایا اور ہمارے لئے آسمان کے دروازے کھو ل دئیے ۔ یسوعؔ نے یوحنا۱۴:۶ میں کہا، ’’راہ اورحق اور زندگی میَں ہُوں ۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا ۔ْ‘‘
کیونکہ یسوعؔ نے ہمارے واسطے آسمان کے دروازے کھولنے کے لئے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مصلوب ہوا ، وہ سب جو اُس کے وسیلہ سے نجات پر ایمان رکھتے ہیں نجات یافتہ ہیں ۔ یسوعؔ پہلے ہی ہمارے گناہوں کی قیمت اَد اکر چکاہے، پس جوکوئی بھی پانی ، خون اور روح کی سچائی پر ایمان رکھتا ہے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتاہے ۔
یسوعؔ نے ہمیں پانی اور روح کی خوشخبری کے ساتھ نجات دی ہے ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونا یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون اور اِس حقیقت پر کہ وہ خُد اہے پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل ہوتا ہے ۔
’’ اور جس طرح مُوسیٰ ؔ نے سانپ کو بیابان میں اونچے پر چڑھایا اُسی طرح ضرور ہے کہ ابنِ آدم بھی اونچے پر چڑھایا جائے ۔ْ‘‘(یوحنا۳:۱۴)۔ اِس آیت کا مطلب کیا ہے؟ کیوں یسوعؔ کو مصلو ب ہونا تھا؟ کیا اُس نے ہماری طرح گنا ہ کئے؟ کیا وہ ہماری طرح کمزور تھا؟ کیا وہ ہماری طرح نامکمل تھا؟ نہیں، وہ ایسا نہیں تھا ۔
پھر کیوں اُسے مصلوب ہونا تھا؟ یہ ہمیں بچانا تھا اور ہمارے گناہوں کے لئے فِدیہ دینا تھا ۔ اُس نے ہم سب کو ہمارے تمام گناہوں سے بچانے کے لئے بپتسمہ لیا اور مصلوب ہُوا۔ یہ پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی ، نجات کی حقیقت ہے ۔ یسوع؎ؔ نے اُن سب کو نئی زندگی دی جِنہوں نے اُس کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت پر، جو ہمارے گناہوں کے لئے فِدیہ تھا ایمان رکھا ۔
 
 
پانی اور رُوح کا مطلب
 
پانی اور روح کا کیا مطلب ہے ؟
پانی کا مطلب یسوعؔ کا بپتسمہ
اور رُوح اُس کا خود خُدا ہونا ہے۔
 
کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم نئے سِرے سے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ خُد اکے بیٹے بننا ، نئے سِرے سے پیدا ہونا ، خُدا کے تحریری کلام ، پانی ، خون اور روح کی خوشخبری سے جو ہمارے گناہوں کے لئے فِدیہ ہے کے وسیلہ سے حاصل کیا جاتا ہے۔
 کتابِ مقدس کے مطابق ’’پانی ‘‘ کا مطلب یسوعؔ کا بپتسمہ ہے (۱۔پطرس ۳:۲۱)،اور ’’روح ‘‘کا مطلب ہے کہ یسوع ؔ خُدا ہے ۔ اور یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی حقیقت ہے کہ یسوعؔ اپنے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی قیمت اَداکرنے کے لئے اِس دُنیا میں بنی نوع انسان کا بدن لے کر آیا ۔
 وہ اپنے بپتسمہ کے ذریعہ ہمارے تمام تر گناہ اُٹھا لے گیااور صلیب پر مر کر گناہ کی قیمت ادا کر دی۔بپتسمہ لے کر اور صلیب پر خون بہاکر، اُس نے اُن سب کو بچایا جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔
ہمیں احساس کرنا ہے کہ یسوعؔ کا بپتسمہ اور خون ہماری نجات کی نمائندگی کرتے ہیں اِس طرح اُنہوں نے ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات دی ۔ صِرف وہ جو پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں آسمان کی بادشاہی دیکھ سکتے ہیں اور داخل ہو سکتے ہیں ۔ یسوعؔ نے ہمیں اپنے پانی کے بپتسمہ ، اپنے خون اور روح کے ساتھ نجات دی۔ کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں۔؟
یسوعؔ آسمانی سردا رکاہن ہے جو اِس دُنیا کے گناہوں کی قیمت اَد اکرنے کے لئے آیا ۔ اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر خون بہایا اور جی اُٹھا ، اِس طرح اُن سب کا جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں نجات دہند ہ بن گیا ۔
 یسوعؔ نے یوحنا ۱۰:۷میں کہا ، ’’بھیڑوں کا دروازہ میَں ہُوں ۔ْ‘‘ یسوع ؔ آسمان کے دروازہ پر کھڑا ہے ۔ کون ہمارے لئے دروازہ کھولتا ہے ؟ یہ یسوع ؔ مسیح ہے ۔
وہ اُن سے اپنا مُنہ پھیر لیتا ہے جو اُس کی نجات کی سچائی کو جانے بغیر اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ وہ اُن کو نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت نہیں دیتا جو اُس کے بپتسمہ ، خون اور روح پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔ وہ ہر کسی سے اپنا مُنہ پھیر لیتا ہے جو اُس کے تحریری کلام پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ، جو اُس کی قدوسیت کو قبول کرنے سے اِنکار کرتے ہیں اور جو اُسے خُداکے طورپر قبول نہیں کریں گے ۔
تحریری سچ یہ ہے کہ وہ اِس دُنیا میں بدن لے کر آیا ، بپتسمہ لیا اور دُنیا کے تمام گناہوں کا فِدیہ دینے کے لئے صلیب پر مر گیا ، یعنی وہ صلیب پر ہماری خاطر سزا سہنے کے لئے مَرا ، یعنی وہ مصلوبیت کے بعد تیسرے دِن مُردوں میں سے جی اُٹھا ۔ کوئی بھی جو اِس سچائی پر ایمان رکھنے سے اِنکار کرتا ہے اُس کے حُکم پر نکال دیا جاتا ہے اور ہلاک ہو جائے گا۔ جس طرح یہ لکھا ہے ، ’’کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ْ‘‘
تاہم ، وہ جو اُس کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کی برکت پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ جو اپنے دلوں پاک بن چکے ہیں ، کو آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی سچی خوشخبری ہے ، خوشخبری جو ہمارے پاس پانی ، خون اور روح کے وسیلہ سے آئی۔ پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا آسمانی خوشخبری ہے ۔ صِرف وہ جو یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ایمان رکھتے ہیں نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ وہ جو پانی ، خون اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں گناہ کے بغیر ہیں ؛ وہ اُن میں سے ہیں جو حقیقتاً نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں۔
آج ، بالکل جس طرح نیکدیمُسؔ سچ سے باخبر نہ تھا ، زیادہ تر لوگ سچی خوشخبری کو جانے بغیر یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ معاشرے کا اعلیٰ ترین رُکن نیکدیمُسؔ کیا تھا !تاہم، اُس نے یسوعؔ سے سچی خوشخبری سُنی ، اور بعد میں ، جب یسوعؔ مصلوب ہُوا ، وہ اُن میں سے ایک تھا جو اُس کے بدن کو دفنانے کے لئے آئے ۔ اُس وقت تک نیکدیمُسؔ مکمل طور پر ایمان لا چکا تھا ۔
آج کل، ہم میں سے بھی بہت سارے موجود ہیں جو یسوعؔ کے پانی اور روح کی بابت سچ کو نہیں جانتے ہیں ۔ مزید برآں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو سچائی کو قبول نہیں کرتے جب اُنہیں سچی خوشخبری سُننے کا کوئی موقع ملتا ہے ۔ یہ انتہائی قابلِ رحم بات ہے ۔
یسوعؔ نے ہم سب کے لئے نئے سِرے سے پیدا ہونے کو ممکن بنایا ۔ ہمیں کس نے نئے سِرے سے پیدا کیا؟ یہ پانی ، خون اور روح تھا ۔ یسوعؔ نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا ۔ وہ صلیب پر مر گیا اور تب مُردوں میں سے جی اُٹھا ۔
اور وہ اُن سب کو دیتا ہے جو اُس پر نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یسوعؔ نجات دہندہ ہے جو اُن سب کو نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتا ہے جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ دُعا کریں کہ آپ ہمیشہ یسوعؔ کے ساتھ رہیں، وہ جس نے آسمان اور زمین اور اِن کے درمیان سب
چیزوں کو پیدا کیا ۔
یوحنا ۳:۱۶ کہتا ہے ، ’’ تاکہ جو کوئی اُ س پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ۔ْ‘‘ ہم یسوع ؔ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی حاصل کر چکے ہیں ۔ ہم پانی اور روح پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اگر ہم نجات کی خوشخبری ، یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ، اور یہ کہ یسوعؔ نجات دہندہ اور خُدا ہے ، پر ایمان رکھتے ہیں ہم نجات پا سکتے ہیں۔
لیکن اگر ہم اِس سچ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ، ہم ہمیشہ کے لئے جہنم میں پھینک دئیے جائیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ یسوع نے نیکدیمُسؔ کو بتایا، ’’جب میَں نے تم سے زمین کی باتیں کہیں اور تُم نے یقین نہیں کیا تو اگر میَں تُم سے آسمان کی باتیں کہوں تو کیونکر یقین کروگے ؟ ۔ْ‘‘
خُدا نے ہمارے لئے کیا کِیا ؟ ہمیں یسوعؔ کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دی ۔ یسوعؔ نے ہمیں دُنیا، شیطان اور دُنیا کے گناہوں سے نجات دی ۔ گناہ کی سزا سے اِس دُنیا کے گنہگاروں کو بچانے کے لئے ، اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے ، صلیب پر مصلوب ہوا ،اور تب مُردوں میں سے جی اُٹھا۔
یہ ہماری مرضی ہے آیا ہم اِس نجات پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی نجات یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے نجات پر ایمان سے حاصل ہوتی ہے ۔
 یہ کہا جاتا ہے کہ دو برکات موجود ہیں جو خُدانے ہم پر اُنڈیلیں ۔ ایک عام برکت ہے جس میں فِطرت کی تمام اشیاء شامل ہیں ، بشمول سورج اور ہَوا ۔ یہ عام برکت کے طور پر جانی جاتی ہیں کیونکہ یہ سب لوگوں کو دی گئی ہیں آیا وہ گنہگار ہیں یا راستباز۔
تب ، یہ خاص برکت کیا ہے ؟ خاص برکت پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ، جو تمام گنہگاروں کو اُن کے گناہوں کی مو ت سے نجات دیتی ہے۔
 
 
خاص برکت
 
خُدا کی خاص برکت کیا ہے ؟
کہ اُس نے ہمیں اپنے بپتسمہ ، مصلوبیت اور جی اُٹھنے کے
وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا کیِا
 
یوحنا۳:۱۶ میں لکھا ہے ، ’’ کیونکہ خُد انے دُنیا سے اَیسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخشدیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ وہ بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے ۔ْ‘‘ یہ آیت خُدا کی خاص برکت کو بیان کرتی ہے : یسوع ؔ ایک اِنسا ن کا جِسم لے کر اِس دُنیا میں آیا اور ہمارے لئے بپتسمہ لینے اور مصلوب ہونے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو دھو ڈالا ۔ یہ خُداکی خاص برکت ہے ، سچ ، کہ ہم تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ یسوعؔ ہمیں بچا چکا ہے اور ہمیں گنہگار سے راستباز میں تبدیل کر چکا ہے ۔ آپ صِرف اِس حقیقت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداکی خاص برکت کو حاصل کر سکتے ہیں ۔ کیا آپ سب ایمان رکھتے ہیں ؟
آپ کا سارا ایمان بے فائدہ ہو گا اگر آپ خُداکی اِس خاص برکت سے اِنکار کرتے ہیں کوئی معنی نہیں رکھتا آپ نے کِتنی وفاداری کے ساتھ ساری زندگی گزاری۔
میں ہر وقت منادی کرتا ہوں اور میں کبھی یہ منادی کرنا نہیں بھولا کہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیب پر اعتقاد رکھنا نئے سِرے سے پیدا ہونے کا واحد راستہ ہے ۔کتابِ مقدس کی ہر کتاب ظاہر کرتی ہے کہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکت ’’خُدا کی خاص برکت یسوعؔ کے وسیلہ سے ہے ‘‘ جس کے بارے میں ہم بات کر رہے ہیں ۔ کچھ بھی موجود نہیں ہے جو خُد اکی خاص برکت کو یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی مصلوبیت کے وسیلہ سے گنہگاروں کی نجات کو زیادہ بہتر واضح کرتاہے ۔
یسوعؔ کا بپتسمہ اور اُس کی مصلوبیت خُدا کی خاص برکت ہیں ۔ اِس دُنیا میں جھوٹے مبشر ان کو اِس کے بارے میں کچھ نہیں کہنا ہے ۔ یہ جھوٹے مبشر ان نُو ر کے فرشتوں کے کپڑوں میں ظاہر ہوتے ہیں ، یعنی مسیحیت اور انسانی اخلاقی اِقدار کے ساتھ لیَس۔ ہاں، یہ سچ ہے ۔ وہ معجزات کرتے ہیں ، اگر اُنہیں خُدا کی خاص برکت کے ساتھ کچھ نہیں کرنا ہے تو بیماروں کی شفا سب بدی کی چیزیں ہیں ۔
یہ خُداکی خاص برکت ہے جس نے ہم گنہگاروں کو کفارّہ کی خوشخبری دی ۔ اُس کی خاص برکت کے ساتھ ، خُدانے ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دی ۔ اُس نے ہمیں اُس کے بپتسمہ ، خون ، موت اورجی اُٹھنے کے وسیلہ سے نیا بنایا ۔ اُس نے ہمیں اپنے بیٹے ، یعنی گناہ سے آزاد بنایا ۔
کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ —ـ ہاں —ـکیا آپ حقیقی طور پر برکت یافتہ ہو چکے ہیں ؟ —ـ ہاں —ـ یسوع ؔ کا بپتسمہ اور اُس کا خون ، موت اور جی اُٹھنا خاص برکت ہیں جو خُدانے ہمیں پانی اور خون کے وسیلہ سے دی ۔ یہ خاص برکت کی خوشخبری ہے ۔ ہمیں اُس کی خاص برکت کے وسیلہ سے بچانے کے لئے خُداوند کی تعریف کریں۔
یہ اِنتہائی قابلِ رحم بات ہے کہ آج بہت سارے وفادار مسیحی خُدا کی خاص برکت سے باخبر نہیں ہیں ، یعنی بپتسمہ اور خون کی خوشخبری ، پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا ۔ وہ اندھا دُھند اپنے ذاتی الہٰی نظریات اور مذہبی اِقدارات میں راستے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ کتنے جاہل ہیں !
مسیحیت ہمارے ساتھ بہت دیرسے ہے اور اصلاح کاری کے تقریباً پانچ سو سال گزر چکے ہیں ، لیکن اب تک ، کوریا اور باقی ساری دُنیا میں بہت سارے موجود ہیں جو نئے سِرے سے پیدا ہونے کی حقیقت اور خُدا کی خاص برکت کے بارے میں واقف نہیں ہیں ۔
تاہم، میَں اُمید اور ایمان رکھتا ہُوں کہ وہ اب اُنہیں سچ کو جاننے کی اجازت دے گا کیونکہ ہم اَیسے دَور میں ہیں جو اِس دُنیا کے خاتمہ کے قریب ہے۔
 گنہگاروں کو راستباز بننے اور آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے سلسلے میں نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے اور پانی اور روح کے سچ کو قبول کرنا ہے ۔ بہت سارے مسیحی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی
سخت کوشش کر رہے ہیں ۔
تاہم ، اگر وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کے سچے مطلب کو جانے بغیر کوشش کرتے ہیں اُن کا ایمان بے فائدہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے لئے نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ، لیکن وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کے سچ کے بارے میں کوئی اِشارہ نہیں رکھتے ہیں ۔
 وہ محض تصوّر کرتے ہیں کہ چونکہ وہ اِتنی وفاداری سے ایمان رکھتے ہیں ، چونکہ وہ اپنے دلوں میں آگ کو محسوس کرتے ہیں ، یعنی وہ نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں۔لیکن ذاتی محسوسات پر مبنی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی کوشش یا جذباتی مذہبی اعمال صِرف غلط ایمان کی طرف راہنمائی کرسکتے ہیں ۔
 
 
خُدا کا کلام جو حقیقتاً ہماری نئے سِرے پیدا ہونے میں راہنمائی کرتا ہے
 
 ایمان اور مذہب کے درمیان کیا فرق ہے ؟
ایمان اعتقاد رکھنا ہے یسوعؔ نے ہمیں نجات دینے کے لئے کیا کِیا ، جب کہ
مذہب کسی کا اپنے ذاتی خیالات اور اعمال پر انحصار کرنا ہے ۔
 
یہ ۱۔ یوحنا ۵:۴۔۸ میں واضح طو رپر لکھا ہے کہ ہم صِر ف پانی ، خون اور روح پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ اگر ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ، ہمیں ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہم صِرف خُدا کے تحریری کلام ، حقیقی کلام کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ ہمیں جاننا چاہیے کہ خواب، غیر زبانیں بولنا یا جذباتی تجربات کبھی بھی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی طرف راہنمائی نہیں کر سکتے ہیں ۔
 یسوعؔ نے یوحنا ۳ باب میں کہا کہ کوئی آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ پانی
اور روح سے نئے سِرے سے پیدا نہ ہو ۔ اگر کسی کو نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ، اُس کو عام طور پر یسوعؔ پر دو مرتبہ ایمان رکھنا ہے ۔ اوّل ، کوئی یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے لئے مذہبی طریقہ کارکا رُجحان رکھتا ہے ، یعنی اپنے گناہوں کو خُداکی شریعت کی معرفت پہچانتے ہوئے ۔ پہلی مرتبہ کوئی یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے ، یہ خُداکی شریعت کی معرفت ہے اور احساس ہے کہ حقیقتاً وہ کِتنا خوفناک گنہگار ہے ۔
ہمیں اِس دُنیا کے بہت سارے مذاہب میں سے کسی کی مطابقت میں یسوع ؔ پر ایمان نہیں رکھنا چاہیے ۔ مسیحیت محض دوسرا مذہب نہیں ہے ۔ یہ ایمان کے وسیلہ سے ابدی زندگی حاصل کرنے کے لئے واحد راستہ ہے ۔ ہر کوئی جو یسوعؔ پر ایک مذہب کے طور پر ایمان رکھتا ہے خالی ہاتھ ختم ہو جائے گا ۔ وہ ایک گناہ ، سخت بدنظمی اور کھوکھلے پن سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گا ۔ کیا یہ سچ نہیں ہے ؟ آپ کتابِ مقدس میں فریسیوں کی طرح ایک ریا کار کی مانند ختم ہونا پسند نہیں کریں گے ۔
ہر کوئی نئے سِرے سے پیدا ہُوا مسیحی بننا چاہتا ہے ۔ تاہم ، جب کوئی مسیحیت پر ایک مذہب کے طورپر ایمان رکھتا ہے ، وہ ایک گناہ سے بھرے دل کے ساتھ رَیا کار بن کر ختم ہو جاتا ہے ۔ ہمیں یقینا نئے سِرے سے پیدا ہونے کے سچ کو جاننا چاہیے ۔
ہر کوئی جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے بغیر مسیحیت پر ایک مذہب کے طورپر ایمان رکھتا ہے اپنے دل میں پریشانی اور کھوکھلے پن کے ساتھ یقینا ختم ہو جاتا ہے ۔اگر کوئی یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے اور نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوا ہے ، اُس کا ایمان غلط ہے ۔ اس لئے وہ ایک ناکارہ چیز کے طورپر ختم ہو جا تا ہے ، وہ ہر کسی کے سامنے پاک ظاہر ہونے کی سخت کوشش کر رہا ہے لیکن سخت غمزدگی سے ختم ہو رہا ہے ۔
جہاں تک آپ مسیحیت پر ایک مذہب کے طو رپر ایمان رکھتے ہیں ، آپ ہمیشہ ایک گنہگار ، ایک رَیاکار رہیں گے ،ا وراپنے دِن ، اپنے گناہوں کے پچھتاوے میں گزاریں گے ۔ اگر آپ اپنے گناہوں سے آزاد ہونا چاہتے ہیں ، آپ کو تحریری سچ ، پانی ، خون اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے۔
 
 
یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کا بھید تلاش کرنا
  
ہمیں کیا نئے سِرے سے پیدا کرتا ہے ؟
یسوع ؔ کا بپتسمہ ، اُس کی صلیبی موت اور اُس کا جی اُٹھنا
 
کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ کوئی بھی خُدا کے کلا م کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا ہے ، جو کبھی نہیں بدلتا۔ اب ، آئیں ہم پطرس رسول کے الفاظ پر ۱۔پطرس۳:۲۱ پر نظر کریں ، ’’ اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اَب تمہیں بچاتاہے ۔ْ‘‘
کتابِ مقدس میں ، یہ بیان کیا گیا ہے کہ یسوعؔ کا بپتسمہ پانی کا مشابہ ہے جو ہمیں بچاتا ہے ۔ تمام لوگ جو یسوع ؔ پر ایمان رکھتے ہیں کو، ہمارے اپنے بپتسمہ کے بارے میں نہیں ، بلکہ یسوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں جاننا چاہیے ۔ یسوعؔ کا بپتسمہ ہم گنہگاروں کو نئی زندگی دیتاہے۔ اِس پر ایمان رکھیں ، اور آپ نئے سِرے سے پیدا ہوں گے اور نجات کی برکت حاصل کریں گے ۔
سمجھنے کے وسیلہ سے کہ نجات یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے سے حاصل کی جاتی ہے ، ہم نجات یافتہ ہو سکتے ہیں ، راستباز بن سکتے ہیں اور اَبدی زندگی حاصل کر سکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ، جب ہم خُد اکے کلام کے وسیلہ سے نجات کے سچ پر ایمان رکھتے ہیں ، ہمارے گناہ ہمیشہ کے لئے صاف ہو جائیں گے ۔
نئے سِرے سے پیدا ہونا دوسری مرتبہ پیدا ہونا ہے۔ ہم میں سے زیادہ تر ایک مذہب کے طورپر یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے شروع کرتے ہیں ، اور تب جب ہم سچ کا احساس کرتے ہیں تو ایمان کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوجاتے ہیں ۔ یسوع ؔ نام کا مطلب ہے ’’کیونکہ وہی اپنے لوگوں کواُن کے گناہوں سے نجات دے گا ۔ْ‘‘ (متی ۱: ۱ ۲)۔
جب ہم یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں اور صحیح طو رپر جانتے ہیں کہ وہ تمام بنی نوع انسان کے لئے کیا کر چکا ہے ، ہم اپنے گناہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں اور بالکل نئے لوگوں کے طو رپر نئے سِرے سے پیدا ہو جاتے ہیں ۔ پہلے ہم یسوعؔ پر ایک مذہب کے طورپر ایمان رکھتے ہیں ، تب ، جب ہم سُنتے اور یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم نئے سِرے سے پیدا ہو جاتے ہیں۔
کیا حقیقت ہے جو ہمیں نئے سِرے سے پیدا کرتی ہے ؟ اوّل ، یہ یسوع کا بپتسمہ ہے ، تب خون جو اُس نے صلیب پر بہایا ، اور آخر کار اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونے کا مطلب ہے یسوعؔ پر اپنے خُدا ، اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنا ۔ آئیں ہم دیکھیں پُرانے عہد نامہ کے لوگ کیسے نئے سِرے سے پیدا ہوتے تھے ۔
 
 
پُرانے عہد نامہ میں گناہ کے لئے فِدیہ : ہاتھوں کا رکھا جانا اور خون کی قربانی
 
پُرانے عہد نامہ میں نئے سِرے سے پیداہونے کی خوشخبری کیا ہے ؟ پہلے ، آئیں ہم احبار ایک باب پڑھیں اور یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بارے میں کیا کہتاہے ۔
احبار ۱:۱۔۵ میں ہے ، ’’ اور خُداوند نے خیمہء اِجتماع میں سے موسیٰ ؔ کو بُلا کر اُس سے کہا۔ْبنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم میں سے کوئی خُداوند کے لئے چڑھاوا چڑھائے تو تم چوپایوں یعنی گائے بیل اور بھیڑ بکری کا چڑھاوا چڑھانا ۔ْاگر اُس کا چڑھاوا گائے بیل کی سوختنی قربانی ہو تو وہ بے عیب نَر کو لا کر اُسے خیمہء اِجتماع کے دروازہ پر چڑھائے تاکہ وہ خود خُداوند کے حضور مقبول ٹھہری۔ْ اور وہ سوختنی قربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے تب وہ اُس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اُسکے لئے کفارہ ہو ۔ْ اور وہ بچھڑے کو خُداوند کے حضور ذبح کرے اور ہارونؔ کے بیٹے جو کاہن ہیں خون کو لا کر اُسے اُس مذبح پر گِردا گرِد چھڑکیں جو خیمہ اجتماع کے دروازہ پر ہے ۔ْ‘‘
خُدا ہمیں احبار کی کتاب میں بتاتا ہے کہ کیسے اسرائیلی قربانی کے نظام کے وسیلہ سے خُداکے ساتھ متحد ہو سکتے تھے ۔ یہ سچ ہے کہ ہم سب کو جاننا اور سمجھنا چاہیے ۔ اِس لئے آئیں ہم اِن آیات کا جائزہ لیں۔
خُدا نے موسیٰؔ کو بلایا اور اُس کے ساتھ خیمہء اِجتماع کی ملا قات کے وسیلہ سے کلام کیا ۔ یہ اسرائیلیوں کے گناہوں کے لئے کفارہ کے بارے میں تھا ۔ جب اسرائیل کے لوگوں نے خُد اکی شریعت کی نافرمانی میں گناہ سرزد کئے ، وہ خُدا کے سامنے بے عیب چوپایوں کی قربانی پیش کرنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کے واسطے کفارہ دینے کے قابل تھے ۔
اِن قربانی کے جانوروں کو خُداکی معرفت منظورِ نظر اور اُنہیں عیب کے بغیر ہونا تھا۔ اُنہیں خُدا کی معرفت مقرر کر دہ رسم کے مطابق بھی گذرانا جاتا تھا ۔ قربانی کی شکل مندرجہ ذیل کی مانند تھی۔
اگر کوئی پُرانے عہد نامہ کے دَور میں گناہ کرتا ، اُسے اپنے گناہ کی معافی کے لئے خُدا کے سامنے قربانی گذراننی پڑتی تھی ۔ اوّل ، قربانی کو بے عیب ہونا تھا اور تب اُس کے سَر پر اپنے گناہ لادنے کے سلسلے میں گنہگار کو اُس کے سَر پر اپنے ہاتھ رکھنے پڑتے تھے ۔
 اُسے ذبح کرنے کے بعد ، اُس کا خون قربانگاہ کے سینگوں پر لگایا جاتا تھا ، اور اُس میں سے باقی زمین پر اُنڈیل دیا جاتاتھا ۔ یہ پاک خیمہء اِجتماع کی رسم تھی جو خُدا پنے لوگوں کو خلاصی کی برکت کے طو رپر دے چکا تھا۔
شریعت اور خُدا کے احکام تحریری طورپر اُنہیں کیا ’’کرنا چاہیے ‘‘ اور ’’کیانہیں کر نا چاہیے ‘‘۶۱۳شِقوں پر مشتمل تھی۔ خُدانے اسرائیل کے لوگوں کو شریعت اور اپنے احکام دئیے ۔ اگرچہ لوگ جانتے تھے کہ شریعت اور خُد اکے احکام دُرست تھے ، وہ اُن کے مطابق نہ رہ سکے کیونکہ ہر کوئی آدم کی وراثت میں بارہ قِسم کے گناہوں کے ساتھ پیدا ہوتاتھا ۔
اِس لئے ، وہ خُداکے سامنے راستبازی پر چلنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ۔ اسرائیلی راستباز بننے کی صلاحیت کھو بیٹھے ۔ بلکہ ، وہ بچ نہ سکے لیکن گناہ کرتے رہے ، حتیٰ کہ جب وہ گناہ سے دُور رہنے کی سخت کوشش کر رہے تھے ۔ یہ تما م نسلِ انسانی کا مقد ر ہے کہ پیدا ہوں اور گنہگار کے طور پر مَر جائیں ۔
لیکن خُدا نے ، اپنے لامحدود فضل کے ساتھ ، اپنے لوگوں کوقربانی کانظام دیا جس کے وسیلہ سے وہ اپنے گناہوں کے لئے کفارہ دے سکتے تھے ۔ اُس نے خیمہء اِجتماع کی پاک رسم مہیا کی تاکہ اسرائیل کے لوگ اور دُنیا کے تمام لوگ اپنے گناہوں سے چھٹکارہ حاصل کر سکیں ۔ اُس نے قربانی کے نظام کے وسیلہ سے اپنی راستباز محبت کو پوری بنی نوع انسان پر ظاہر کیا۔ اُس نے دُنیا کو نجات کا رستہ دِکھایا۔
خُدانے لوگوں کو قربانی کا نظام دیا اور قربانی کا نظام چلانے کے لئے لاویؔ کے گھرانے کومخصوص کیا۔ اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے صِرف لادی ؔ کا گھرانہ اسرائیل کے لوگوں کے واسطے قربانی کا نظام چلانے کے لئے مخصوص تھا ۔
موسیٰ ؔ اور ہارونؔ لاوی کے گھرانے سے تھے اور بائبل مقدس پاک خیمہء اِجتماع کی قربانی گذراننے کے قوانین اورقواعد بیان کرتی ہے ، کفارہ کی خوشخبری ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے تھی ۔
اس لئے ، جب ہم واقعی لاویوں کے قربانی کے دستور کو سمجھتے ہیں ، ہم خود نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پاک خیمہء اِجتماع کی قربانی کے بارے میں خُدا کے کلا م سے پڑھنا ہے۔ یہ پُرانے عہد نامہ کا اہم ترین حصہ ہے ۔ نتیجتاً ، جب ہم نئے عہد نامہ میں آتے ہیں ، ہم نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکات پانی اور روح کے وسیلہ سے رکھتے ہیں ۔
 
 
پُرانے عہد نامہ میں گنا ہ کے لئے کفّارہ
                    
خُدا کی خصوصیات کیا ہیں؟
انصاف اورمحبت
 
خُدانے لاویؔ کے گھرانے سے ، موسیٰ ؔ کو، پاک خیمہء اِجتماع میں مُلاقات کے لئے بُلایا اور اُس کے بھائی ہارونؔ کو سردار کاہن کے طورپر مخصوص کیا ۔ہارونؔ کو گناہ کی قربانی پر لوگوں کے گناہوں کو لادنا تھا ۔
یہ ہے خُدانے موسیٰؔ سے کیا کہا، جس طرح احبار ۱:۲ میں لکھا ہے ، ’’بنی اسرائیل سے کہہ کہ جب تم میں سے کوئی خُداوند کے لئے چڑھاوا چڑھائے تو تم چوپایوں یعنی گائے، بیل اور بھیڑ بکری کا چڑھا وا چڑھانا ۔ْ‘‘ خُدا یہاں قربانی کے جانوروں کو مخصوص کرتاہے ۔ اگر کوئی لوگوں میں سے اپنے گناہوں کے لئے کفارہ کی تلاش کرے ، اُسے اپنے چوپایوں میں سے ایک بیل یاایک بھیڑ گذراننی پڑتی تھی۔
خُدانے اُنہیں یہ بھی بتایا ہے ، ’’اگر اُس کا چڑھاوا گائے یابیل کی سوختنی قربانی ہو تو وہ بے عیب نَر کو لاکر اُسے خیمہء اِجتما ع کے دروازہ پر چڑھائے تاکہ وہ خود خُداوند کے حضور مقبول ٹھہرے ْ‘‘ (احبار ۱:۳)۔
خُدا اُس شخص کی زندگی کے عِوض قربانی قبول کرتا تھا جسے اپنے گناہوں کے لئے مَر جانا تھا ۔ اسرائیلی جانوروں کے سَروں پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہ لاد سکتے تھے ۔ قربانی کے جانوروں کو اُس شخص کی ذاتی آزاد مرضی پر گذرانا جا تا تھا ۔ اَب ، آئیں ہم دیکھیں آیت ۴ کیا کہتی ہے۔
’’ اور وہ سوختنی قربانی کے جانور کے سَر پر اپنا ہاتھ رکھے تب و ہ اُس کی طرف سے مقبول ہوگا تاکہ اُس کے لئے کفارہ ہو ۔ْ‘‘ اِس طرح خُد اقربانی کو قبول کرتا تھا ۔ جب ایک گنہگار سوختنی قربانی کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھتا تھا اُس کے گناہ جانور کے سَر پر لاد دئیے جاتے تھے ۔ اِس لئے ایک گنہگار کو خُداکے سامنے قربانی کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنا پڑتا تھا ،تب وہ اِس طرح اِسے قبول کرے گا اور اُس کے گناہوں کے لئے کفارہ منظور کرے گا ۔
 قربانی دینے والاشخص تب جانورکو ذبح کرتا ارو قربا نگاہ کے سینگوں پر خون چھِڑکتا اور باقی قربانگاہ کے سامنے زمین پر اُنڈیل دیتا ۔ اپنے گناہوں کی قیمت اَدا کرنے اور اُن سے چھٹکارہ پانے کے سلسلے میں کسی کو خُدا کے مقرر کر دہ قوانین کے مطابق قربانی گذراننی پڑتی تھی ۔
 یہ احبار ۱:۵ میں لکھا ہوا ہے ، ’’اور وہ اُس بچھڑے کو خُداوند کے حضور ذبح کرے اور ہارون ؔ کے بیٹے جو کاہن ہیں خون کو لا کر اُسے اُس مذبح پر گرِدا گرِد چھڑکیں جو خیمہء اِجتماع کے دروازہ پر ہے ۔ْ‘‘
خیمہء اِجتماع کے اندر ، دروازہ کے پاس چاروں کونوں پر سینگوں کے ساتھ سوختنی قربانی کی قربانگاہ تھی۔
اپنے گناہ لادنے کے لئے سوختنی قربانی کے سَر پر اپنے ہاتھ رکھنے کے بعد، گنہگار کو قربانی کے جانور کو ذبح کرنا پڑتا تھا ، اور کاہن اُس کا خون سینگوں پر چھِڑکتا تھا ۔ قربان گناہ کے سینگ گناہ کے لئے سزا کا حوالہ دیتے ہیں ۔ اس طرح سینگوں پر خون لگانے کا مطلب تھا کہ جانور گنہگار کی جگہ پر گناہوں کی قیمت اَدا کرنے کے لئے خون بہا چکا تھا ۔ جب خُداقربان گاہ کے سینگوں پر خون دیکھتا تھا ، وہ گنہگار کے گناہوں کا کفارہ دے دیتا تھا۔
گناہ کی قربانی کا خون کیوں بہایا جاتا تھا ؟ کیونکہ ’’ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ْ‘‘ (رومیوں ۶ : ۲۳)۔ چونکہ بدن کی زندگی بھی خون ہے ۔ اِس لئے عبرانیوں کے خط میں لکھا ہے ’’بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی ۔ْ‘‘ (عبرانیوں ۹: ۲۲)۔ اِس طرح ، گناہ کی قربانی کے خون کے بہائے جانے نے خُدا کی شریعت کو پورا کیا ، جو کہتی ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔
تمام قاعدوں کے مطابق ، قربانی کا خون گنہگارکی طرف سے ہونا چاہیے ، لیکن گناہ کی قربانی کفارہ کے لئے اُس کی جگہ پر خون بہاتی تھی ۔ کاہن تب قربانگاہ کے سینگوں پر خون لگا کر ظاہر کرتا تھا کہ گناہ کی مزدوری اَدا کر دی گئی تھی ۔اگر ہم نئے عہد نامہ میں سے مکاشفہ ۲۰:۱۱۔۱۵پڑھتے ہیں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سینگ فیصلے کی کتاب کو ظاہر کر تے ہیں ۔ اِس لئے سینگوں پر خون لگانا فیصلے کی کتاب پر خون لگانا ہے ۔ یہ گواہی دینا ہے کہ ہاتھو ں کے رکھے جانے اور گناہ کی قربانی کے خون کے وسیلہ سے گناہوں کی عدالت پوری ہو جاتی تھی۔
 
 
گناہ دو جگہوں پر لکھے جاتے ہیں
 
خُد اکے سامنے نسلِ انسانی کے تمام گناہ دو جگہوں پر لکھے جاتے ہیں ۔ ایک اُن کے دلوں کی تختیاں ہیں ، اور دوسری فیصلے کی کتاب ہے جو خُد اکے سامنے کھولی جاتی ہے ۔
 یرمیاہ ۱۷:۱میں یوں لکھا ہُوا ہے ،’’یہُوداہؔ کا گناہ لوہے کے قلم اور ہیرے کی نوک سے
لکھا گیا ہے۔اُنکے دِل کی تختی پراور اُنکے مذبحوں کے سینگوں پرکندہ کیا گیا ہے۔‘‘
احبار۱۷:۱۱ میں، یہ فرماتا ہے ، ’ ’کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے ۔ْ‘‘ خون جسم کی جان ہے ، اور ہمارے گناہوں کی قیمت صِرف اِس خون کے ساتھ اَدا کی جا سکتی ہے ۔ اِس لئے ، خون قربانگاہ کے سینگوں پر لگا یا جاتا تھا ۔ شریعت کے مطابق ، تقریبا ً تمام چیزیں خون کے ساتھ پاک کی جاتی ہیں ، اور بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی(عبرانیوں ۹: ۲۲)۔
’’ تب وہ اُس سوختنی قربانی کے جانور کی کھال کھینچے اور اُس کے عَضو عَضو کو کاٹ کر جُدا جُدا کرے ۔ْ پھر ہارونؔ کاہن کے بیٹے مذبح پر آگ رکھیں اور آگ پر لکڑیاں ترتیب سے چُن دیں۔ْ اور ہارون ؔ کے بیٹے جو کاہن ہیں اُس کے اعضا کو اور سَر اور چربی کو اُن لکڑیوں پر جو مذبح کی آگ پر ہوں گی ترتیب سے رکھ دیں۔ْ لیکن وہ اُس کی انتڑیوں اور پایوں کو پانی سے دھو لے تب کاہن سب کو مذبح پر جلائے کہ وہ سوختنی قربانی یعنی خُداوند کے لئے راحت انگیز خوشبو کی آتشین قربانی ہو ۔ْ‘‘(احبار ۱:۶۔۹)۔
 تب کاہن سوختنی قربانی کو ٹکڑوں میں کاٹے اور اُنہیں قربانگاہ کی آگ پر رکھے ۔ اِس دستور کا مطلب یہ ظاہر کرتا تھا کہ جب لوگ خُداکے سامنے گناہ کرتے ، اُنہیں اِسی طرح مرنا اور خون بہانا اور جہنم کے شعلوں میں پھینکا جانا تھا ۔ تاہم ، سزا گناہ کی قربانی کے وسیلہ سے پوری ہوتی تھی ، تاکہ لوگ اپنے گناہوں کے لئے کفارہ دے سکیں۔
سوختنی قربانی کی قربانی خُدا کی راستباز شریعت کے فیصلے کی رَسم تھی۔ خُدانے اپنے دونوں قوانین کو ، راستبازی کی شریعت اور محبت کی شریعت کے ساتھ متحد کر دیا ، یعنی تمام نسلِ انسانی کے کفارہ کی رَسم کے ساتھ ۔
کیونکہ خُداراست ہے ، اُسے پَرکھنا اور اُنہیں موت کی سزا دینی تھی۔ لیکن ، کیونکہ اُس نے اپنے لوگوں سے محبت بھی رکھی ، اُس نے اُنہیں اُن کے گناہوں کو گناہ کی قربانی پر لادنے کی اجازت دی ۔ نئے عہد نامہ میں، کیونکہ خُداوند نے ہم سے اِتنی محبت رکھی ، اُس نے ہم گنہگاروں کے لئے گناہ کی قربانی بن کر بپتسمہ لیا اور مصلوب ہُوا۔ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیب پر موت نے دُنیا کے تمام گناہوں کو مِٹا دیا ۔
 
 
ُپُرانے عہد نامہ میں روز کے گناہ کے لئے کفارہ
          
پُرانے عہد نامہ میں بے عیب گناہ کی قُربانی
کس کو ظاہر کرتی ہے ؟
یسوع ؔمسیح کو
 
آئیں ہم ا حبار ۴:۲۷ سے پڑھیں۔ ’’اگر کوئی عام آدمیوں میں سے نادانستہ خطا کرے اور اُن کاموں میں سے جِنہیں خُدا وند نے منع کیا ہے کسی کام کو کر کے مجرم ہو جائے ۔ْتو جب وہ خطا جو اُس نے کی اُسے بتا دی جائے تو وہ اپنی اُ س خطا کے واسطے جو اُس سے سَرزد ہوئی ہے ایک بے عیب بکر ی لائے۔ْ اور وہ اپنا ہاتھ خطاکی قربانی کے جانور کے سَر پر رکھے اور خطا کی قربانی کے اُس جانور کو سوختنی قربانی کی جگہ پر ذبح کرے ۔ْ۔ اور کاہن اُس کا کچھ خون اپنی اُنگلی پر لے کر اُس سوختنی قربانی کے مذبح کے سینگوں پر لگائے اوراُس کا باقی سب خون مذبح کے پایہ پر اُنڈیل دے ۔ْاو ر وہ اُ سکی ساری چربی کو الگ کر ے جیسے سلامتی کے ذبیحہ کی چربی الگ کی جاتی ہے اور کاہن اُسے مذبح پر راحت انگیز خوشبو کے طور پر خُداوند کے لئے جلائے ۔ یوں کاہن اُس کے لئے کفارہ دے تو اُسے معافی مِلے گی ۔ْ‘‘ (احبار ۴:۲۷۔۱ ۳)۔
آدم ؔکی نسل سے ، اسرائیل کے لوگ ، اور پوری دُنیا کے تمام لوگ اِس دُنیا میں گناہ سے بھرے ہوئے پیدا ہوئے تھے۔ اِس لئے ہمارے دل گناہ سے بھرے ہوئے ہیں ۔ ایک انسان کے دل میں تمام قِسم کے گناہ موجود ہیں :یعنی بُرے خیالات ، حرامکاریاں ، زناکاریاں ، شہوت پرستی ، خونریزیاں ، چوریاں ، لالچ اور بیوقوفی ۔
جب ایک گنہگار کسی دن کے گناہ کے لئے کفارہ دینا چاہتا تھا ، اُسے پاک خیمہء اِجتماع میں ایک بے عیب جانور لانا پڑتا تھا ۔ تب اُسے اُس جانور کے سَر پر ہاتھوںکو رکھ کر اپنے تمام گناہوں کو لادنا ، ذبح کرنا اور اُس کا خون خُد اکے سامنے پیش کرنے کے لئے کاہن کو دینا پڑتا تھا ۔ تب کاہن باقی قربانی کو جاری رکھتا تاکہ گنہگار
اپنے گناہوں سے معافی حاصل کر سکے ۔
خُد اکی شریعت اور احکام کے بغیر ، لوگ نہ جانتے آیا اُنہوں نے گناہ کِیا تھا یا نہیں ۔ جب ہم اپنے آپ کو خُدا کی شریعت اور احکام کے وسیلہ سے دیکھتے ہیں ، ہم اپنے گناہوں کو پہچانتے ہیں ۔ ہمارے گناہ ہمارے معیار کے مطابق نہیں ، بلکہ خُد اکی شریعت اور احکام کے وسیلہ سے پرکھے جاتے۔
اسرائیل کے عام لوگوں نے گناہ کِیا ، اِس وجہ سے نہیں کہ وہ چاہتے تھے ، بلکہ اِس وجہ سے کہ وہ اپنے دلوں میں تمام اقسام کے گناہ کے ساتھ پیدا ہوئے تھے ۔ گناہ جو انسان اپنی کمزوریوں کی وجہ سے سَر زد کرتاہے خطائیں کہلاتی ہیں ۔ گناہ بنی نوع انسان کی تمام خطاوٴں اور بدکر داریوں کو شامل کرتاہے ۔
تمام انسان نامکمل جانیں ہیں ۔ جس طرح بنی اسرائیل کے لوگ بھی نامکمل تھے ، وہ گنہگار تھے اورگناہ سَرزد کرتے تھے ۔ ہماری تمام خطاوٴں اور بد کرداریوں کی مندرجہ ذیل طر یقہ کے ساتھ فہر ست بنائی جا سکتی ہے ۔ جب ہم اپنے ذہنوں میں بُرے خیالات رکھتے ہیں ، وہ گناہ کہلاتے ہیں ،او رجب ہم اُن پر عمل کرتے ہیں ، وہ مجرمانہ مداخلت کہلاتے ہیں۔ دُنیا کا گناہ دونوں اقسام کو شامل کرتاہے ۔
پُرانے عہد نامہ میں ، گناہ ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے گناہ کی قربانی کے سَر پر لادے جاتےتھے ۔ اِس کے بعد ، گنہگار گناہ کے بغیر ہوتا تھا اور اِس لئے اُسے اپنے گناہوں کے لئے مرنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اِس طرح قربانی کا نظام خُداکی عدالت اور محبت کا سایہ ہے ۔
کیونکہ خُدا نے ہمیں زمین سے پید ا کیا ، ہم شروع میں محض خاک تھے ۔ قُربانگاہ کے سینگوں پر خون لگانے اور باقی کو قربانگاہ کی بُنیا د پر اُنڈیلنے کا مطلب تھا کہ اسرائیلی اپنے گناہوں کے واسطے فِدیہ دے چکے تھے اور اپنے دِلوں کی تختیوں سے تمام گناہوں کو مِٹا چکے تھے ۔
’’کاہن چربی کو مذبح پر راحت انگیز خوشبو کے طورپر خُداوند کے لئے جلائے ۔ْ‘‘ کتابِ مقدس میں چربی کامطلب رُوح القدس ہے ۔ اِس لئے،ہمارے گناہوں کے کفارہ کے سلسلے میں ، ہمیں خُد اکے مقرر کردہ طریقہ کے ساتھ اِسے کرنا ہے ۔ ہمیں اپنے گناہوں کے کفارہ کو اپنے دلوں میں بھی خُدا کے خیال کردہ مناسب طریقہ کے ساتھ لینا ہے ۔
 خُد انے اسرائیل کے لوگوں کو بتایا کہ گناہ کی قربانیاں ایک برّہ ، بکری یا بچھڑا ہونا چاہیے ۔
پُرانے عہد نامہ کی گناہ کی قربانیاں مخصوص تھیں ۔ بچھڑا ایک صاف جانور ہے ۔ گناہ کی قربانیوں کے بے عیب ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ یسوعؔ مسیح کو ظاہر کر رہی تھیں جو رُوح القدس کے وسیلہ سے تمام بنی نوع انسان کے واسطے گناہ کی قربانی بننے کے لئے پیدا ہُوا۔
پُرانے عہد نامہ میں لوگوں نے بے عیب گناہ کی قربانی کے سَر پر اپنے ہاتھ رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہ لاد دئیے ۔ کاہنوں نے اُن کے گناہوں کے لئے فِدیہ دینے کی قربانی کا اِنتظام کیا۔ یہ تھا اسرائیل کے لوگوں نے اپنے گناہوں کے لئے کیسے کفارہ دیا۔
 
 
یومِ کفّارہ کی رَسم
          
اسرائیل کے لوگوں کو یومِ کفارہ پر کیوں قربانی گذراننے
کی ضرورت تھی ؟
کیونکہ اُنہوں نے مرتے دم تک گناہ جاری رکھا۔
روز مرہ کی قربانیاں اُنہیں خُدا کے سامنے پاک نہ کر سکیں۔
 
تاہم جس طرح اُنہیں ہر وقت جب بھی وہ گناہ کرتے ایک قربانی گذراننی پڑتی تھی ، تمام قربانیوں کو فراہم کرنا ناممکن تھا جو اُن کے گناہوں کے کفارہ کے لئے ضروری تھیں۔ پس ، آہستہ آہستہ ، وہ لاپرواہ بن گئے ۔ یہ ہر دن اُن کے گناہوں کے کفارہ کے لئے ایک لااختتام کام کی مانند نظر آیا اور اُنہیں احساس ہُوا کہ وہ اِس رسم کو اتحاد کے ساتھ کر سکتے تھے ۔
 کوئی معنی نہیں رکھتا کہ ہم کتنی کوشش کرتے ہیں ، ہم اپنے گناہوں کے لئے کافی قربانی کبھی نہیں گذران سکتے ۔ اِس لئے ہمارے گناہوں کے لئے سچا کفارہ ہماری نجات کی شریعت کے دِلی عقیدہ کے
وسیلہ سے جو خُدانے ہمارے لئے تیار کیا تھا دیا جانا ہے ۔
ہماری کمزوریوں کی وجہ سے ، کوئی معنی نہیں رکھتا ہم کتنی سخت کوشش کے وسیلہ سے خُدا کی شریعت کے مطابق زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں ، ہم صِرف زیادہ باخبر ہوتے ہیں ہم کتنے نامکمل اور کمزور ہیں ۔ اِس لئے خُدانے اسرائیل کے لوگوں کو ایک ہی مرتبہ سال کے تمام گناہوں کا کفارہ دینے کے لئے ایک طریقہ بتا دیا(احبار۶ ۱ :۱۷۔۲۲)۔
احبار میں یہ لکھا ہے ، ’’اور یہ تمہارے لئے ایک دائمی قانون ہو کہ ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو تم اپنی اپنی جان کو دُکھ دینا اور اُس دن کوئی خواہ وہ دیسی ہو یا پردیسی جو تمہارے بیچ بُودوباش رکھتا ہو کسی طرح کا کام نہ کرے ۔ْکیونکہ اُس روز تمہارے واسطے تم کو پاک کرنے کے لئے کفارہ دیا جائے گا ۔ سوتم اپنے سب گناہوں سے خُداوند کے حضور پاک ٹھہرو گے ۔ْ یہ تمہارے لئے خاص آرام کا سبت ہوگا ۔ تم اُس دن اپنی اپنی جان کو دُکھ دینا ۔ یہ دائمی قانون ہے ۔ْ ‘‘ (احبار۱۶: ۲۹۔۱ ۳)۔
اِس طرح اسرائیل کے لوگ سال میں ایک مرتبہ ذہنی اطمینان رکھتے تھے جب سردار کاہن ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو لوگوں کے سال بھر کے تمام گناہوں کے لئے جوہ وہ سَرزد کرتے تھے کفارہ کی قربانی گذرانتا تھا ۔ اُن کے گناہ دُھلنے کے ساتھ اُن کے ذہن اُس دِن پُرا طمینان رہتے تھے ۔
ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ پر ، سردار کاہن ہارونؔ کو ، تمام اسرائیل کے نمائندہ کے طورپر ، کفارہ کی قربانی گذراننی پڑتی تھی ۔ اُس وقت ، دوسرے کاہن پاک خیمہء اِجتماع میں داخل نہیں ہو سکتے تھے ۔ سب سے پہلے ہارونؔ کو اپنے آپ اور اپنے گھرانے کے لئے کفارہ کی قربانی گذراننی پڑتی تھی ۔ اِس سے پہلے کہ وہ اسرائیل کے باقی لوگوں کے لئے اَیسا کر سکتا کیونکہ وہ اور اُس کا گھرانہ بھی گناہ کر چکے تھے ۔
اُس نے لوگوں کے لئے اِس قسم کی قربانی گذرانی ، ’’ پھر اُن دونوں بکروں کو لے کر اُن کو خیمہء اِجتماع کے دروازہ پر خُداوند کے حضور کھڑا کرے ۔ْ اور ہارونؔ اُن دونوں بکروں پر چِٹھیاں ڈالی۔ ایک چِٹھی خُداوند کے لئے اور دوسر ی عزازؔیل کے لئے ہو ۔ْ اور جس بکرے پر خُداوند کے نام کی چِٹھی نکلے اُسے ہارونؔ لے کر خطا کی قربانی کے لئے چڑھائے ۔ْ لیکن جس بکرے پر عزازؔیل کے نام کی چِٹھی نکلے وہ خُداوند کے حضور زندہ کھڑا کیا جائے تاکہ اُس سے کفارہ دیا جائے اور وہ عزازؔیل کے لئے
بیابان میں چھوڑ دیا جائے۔ْ‘‘ (احبار ۱۶ :۷۔۱۰)۔
ہارون ؔ اپنے گھرانے اور اپنے آپ کے لئے کفارہ کی رسم اَدا کرنے کے بعد ’’دونوں بکروں پر چِٹھیاں ڈالے ۔ْ‘‘ ایک چِٹھی خُداوند کے لئے اور دوسری ’’عزازؔیل ‘‘ کے لئے ہو ۔
اوّل ، دو میں سے ایک بکرا خُداوند کے لئے گذرانا جاناتھا ۔ یہاں سردار کاہن لوگوں کی خاطر سال بھر کے گناہوں کو لادنے کے لئے بکرے پر اپنے ہاتھ رکھتا تھا جو وہ سرزد کرتے تھے ۔
خون پاک ترین مقام کے اندررحم گاہ پر لے جایا جاتا اور سات مرتبہ چھڑکا جاتا تھا ۔ اسرائیل کے لوگوں کو اپنے گزرے سال کے تمام گناہوں سے معافی مل جاتی تھی ۔ اسرائیل کے لوگ اپنے گناہوں کے لئے مرنے کی بجائے ، سردار کاہن ،یعنی ہارون ؔ اُن کے گناہ ، گناہ کی قربانی کے سَر پر لاد دیتا تھااور اُسے اُن کے لئے سزا اُٹھانے دیتا تھا ۔ تب وہ خُدا کے سامنے دوسرا زندہ بکرا گذرانتا ۔ یہ قربانی تھی جو لوگوں کے لئے گذرانی جاتی تھی۔
 
 
لوگوں کے لئے
 
تمام لوگوں کے سامنے ، ہارونؔ دوسرے بکرے پر اپنے ہاتھوں کورکھتا اور خُدا کے سامنے اِقرار کرتا ۔ ’’اَ ے خُداوند ، اسرائیل کے لوگ خونریزیاں ، زناکاریاں ، چوریاں ، لالچ ، دھوکادہی سَرزد کر چکے ہیں …اور وہ بُتوں کے سامنے سجدہ کر چکے ہیں ۔ اُنہوں نے سبت کو پاک نہیں رکھا ، اُنہوں نے تیرا نام بے فائدہ لیا ، اور وہ تیرے قوانین اور احکامات کی تما م شِقوں کو توڑ چکے ہیں ۔‘‘ تب وہ اپنے ہاتھوں کو اُٹھا لیتا ۔ اِس کے ساتھ لوگوں کے پورے سال کے سارے گناہ ، گناہ کی قربانی پر لاد دئیے جاتے تھے ۔
آئیں ہم احبار۱۶:۲۱ میں سے پڑھیں ، ’’اور ہارونؔ اپنے دونوں ہاتھ اُس زندہ بکرے کے سَر پر رکھ کر اُس کے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور اُن کے سب گناہوں اور خطاوٴں کا اِقرار کرے اور اُن کو اُ س بکرے کے سَر پر دھر کر اُسے کسی شخص کے ہاتھ جو اِس کام کے لئے تیار ہو بیابان میں بھجوا دے ۔ْ ‘‘ تب قربانی کا بکرا بیابان میں اِدھراُدھر پھرتا اور اپنے سَر پر اسرائیل کے لوگوں کے گناہوں کے ساتھ مرجاتا ۔ عبرانی میں قربانی کے بکرے ’’عزازؔیل ‘‘ کا مطلب ’’ بُجھانا ہے ‘‘ اِس کا مطلب ہے کہ اسرائیل کے تمام لوگوں کی جگہ پر گناہ کی قربانی خُداوند کے سامنے سے نکال دی جاتی تھی ۔
اِ س لئے اسرائیل کے گناہ ہارونؔ کے ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے قربانی کے بکرے پر لاد دئیے جاتے تھے ۔ اِس طرح اسرئیلیوں کو اپنے گناہوں سے معافی ملتی تھی ۔ جب اُنہوں نے سردار کاہن کو بکرے پر اپنے ہاتھوں کو رکھتے ہوئے دیکھا اور اُسے بیابان میں بھِجواتے دیکھا ، اسرائیل کے تمام لوگ جو کفارہ کی رسم پر ایمان رکھتے تھے اپنے گناہوں کے کفارہ کے لئے پُریقین تھے ۔ پُرانے عہد نامہ کی تمام رسومات ، نئے عہد نامہ میں ’ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری ‘ کا سایہ تھیں۔
پُرانے عہد نامہ میں ، ہاتھوں کا رکھا جانا اور قربانی کا خون گناہ سے نجات کی خوشخبری تھی۔ بُنیادی طور پر یہ نئے عہد نامہ میں اِسی طرح قائم رہی ۔
 
 
نئے عہدنامہ میں گناہوں سے معافی کی خوشخبری
 
نئے عہد نامہ میں ، لوگوں کے تمام گناہوں کا کفارہ کیسے دیا گیاتھا ؟
متی ۱:۲۱۔۲۵ میں لکھا ہوا ہے ، ’’ اُس کے بیٹا ہوگا اور تُو اُس کا نام یسوعؔ رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دے گا ۔ْ یہ سب کچھ اِس لئے ہُوا کہ جو خُداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پورا ہو کہ ۔ْدیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانوایلؔ رکھینگے جس کا ترجمہ ہے خُدا ہمارے ساتھ ۔ْ پس یوسفؔ نے نیند سے جاگ کر وَیسا ہی کیا جیسا خُداوند کے فرشتہ نے اُسے حُکم دیا تھا اور اپنی بیو ی کو اپنے ہاں لے آیا ۔ْ او راُس کو نہ جانا جب تک اُ س کے بیٹا نہ ہُوا اور اُس کا نام یسوعؔ رکھا ۔ْ‘‘
ہمارا خُداوند یسوعؔ اِس دُنیا میں عمانوایلؔ نام کے ساتھ تما م نسلِ انسانی کو گناہ سے نجات دینے کے لئےآیا ۔ اِس لئے اُس کا نام یسوعؔ رکھا گیا ۔ یسوعؔ دُنیا کے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے آیا ۔ وہ نسلِ انسانی کا نجات دہندہ بننے کے لئے ایک انسان کے بدن میں آیا اُس نے ہماری نجات مکمل کی اور ہمیں ہمیشہ کے لئے گناہ سے آزاد کر دیا ۔
 
 
نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری
 
اور کیسے یسوعؔ نے ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے آزاد کِیا ؟ اُس نے یہ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے کِیا ۔ آئیں ہم متی ۳:۱۳ دیکھیں۔ ’’اُس وقت یسوعؔ گلیل ؔ سے یردن ؔ کے کنارے یوحنا ؔ کے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔ْ مگر یوحناؔ یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میں آپ تُجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہُوں اور تُو میرے پاس آیا ہے ؟۔ْ یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اَب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔ اِس پر اُس نے ہونے دیا۔ْ اور یسوعؔ بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اُسکے لئے آسمان کُھل گیا اور اُس نے خُدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا ۔ْ اور دیکھوآسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میَں خوش ہُوں ۔ْ‘‘ (متی ۳ :۱۳۔۱۷)۔
نئے عہد نامہ میں ، جب یسوعؔ تیس سال کا ہو گیا ، وہ یردنؔ پر یوحناؔ اصطباغی کے پاس آیا۔ اُس نے اُس سے بپتسمہ لیا اور تمام گنہگاروں کے گناہوں کو اُٹھا لیا ۔ یوں کرنے کے وسیلہ سے، اُس نے خُداکی راستبازی کو پورا کِیا ۔
 
 
یسوعؔ کو کیوں یردنؔ میں بپتسمہ دیا گیا تھا ؟
 
خوشخبری میں کیا ظاہر کیا گیا ہے ؟
خُداکی راستبازی
 
آئیں اَب ہم منظر پر ایک نظر ڈالیں جب آسمانی سردار کاہن بنی نوع انسان کے آخری سردار کاہن سے مِلا ۔ یہاں ، ہم بپتسمہ کے وسیلہ سے خُداکی راستبازی دیکھ سکتے ہیں جس نے دُنیا کے تمام گناہوں کے لئے کفارہ کو محفوظ کیا۔
یوحنا ؔ اصطباغی ، وہ جس نے یسوعؔ کو بپتسمہ دیا ، عورتوں سے پیدا ہونے والوں کے درمیان عظیم ترین تھا ۔ یسوعؔ نے متی ۱۱:۱۱ میں ؛گواہی دی ، ’’میں تم سے سچ کہتاہُوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحناؔ بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُوا۔ْ‘‘ بالکل جس طرح لوگوں کے گناہوں کا کفار ہ دیا جاتا تھا جب سردار کاہن ہارونؔ یومِ کفارہ پر گناہ کی قربانی کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھتا تھا ، نئے عہد نامہ میں دُنیا کے تمام گناہوں کا کفارہ دیا گیا جب یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا ۔
نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری ہمارے تمام گناہوں ماضی ، حال اور مستقبل کے لئے مکمل کفارے کی خوشخبری ہے ۔ اِس لئے یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کی خوشخبری اُس کی راستبازی کو پورا کرنے کے لئے خُدا کی مقرر کر دہ خوشخبری تھی ، جس نے دُنیا کے تمام لوگوں کو نجات دی ۔ یسوعؔ کو دُنیا کے گناہوں کے کفارے کے لئے مناسب ترین طریقہ سے بپتسمہ دیا گیا ۔
’’ساری راستبازی ‘‘پوری کرنا کا کیا مطلب ہے ؟ اِس کا مطلب ہے کہ خُدانے مناسب ترین طریقہ کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو دیا ۔ یسوعؔ نے نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو دھونے کے لئے بپتسمہ لیا ۔’’اِس واسطے کہ اُس میں خُداکی راستبازی ایمان سے اور ایمان کے لئے ظاہر ہوتی
ہے ۔ْ‘‘(رومیوں ۱ :۷ ۱)۔
خُدا کی راستبازی اُس کے فیصلے میں دکھائی گئی یعنی اِس دُنیا میں اپنے ذاتی بیٹے یسوعؔ کو بھیجنا ، یوحناؔ اصطباغی کے معرفت اپنے بپتسمہ اور صلیب پر اپنی موت کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھونا ۔
نئے عہد نامہ میں ، خُدا کی راستبازی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون وسیلہ سے ظاہر کی گئی ۔ ہم راستباز بن گئے کیونکہ یسوعؔ نے تقریباً دو ہزار سال پہلے دریائے یردنؔ پر نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو اُٹھالیا۔ جب ہم اپنے دلوں میں خُدا کی نجات کو قبول کرتے ہیں ، خُداکی راستبازی حقیقتاً پوری ہوتی ہے۔
’’یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اَب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی کو پوری کرنا مناسب ہے ۔ اِس پر اُ س نے ہونے دیا ۔ْ اور یسوعؔ بپتسمہ لے کر فی الفو ر پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اُس کے لئے آسمان کھل گیا اور اُس نے خُدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا ۔ْ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیار ا بیٹا ہے جس سے میں خوش ہوں ۔ْ ‘‘ (متی ۳ :۱۵۔۱۷)۔
یہ حوالہ ظاہر کرتا ہے کہ خُدا نے بذات ِ خود حقیقت کی گواہی دی کہ اُس کے بیٹے کے بپتسمہ نے نجات کی ساری راستبازی پوری کی۔ وہ ہمیں بتا رہا تھا ، ’’یسوعؔ ، جس نے یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا ، اب حقیقتاً میرا بیٹا ہے ‘‘ خُد انے گواہی دی کہ اُس کے بیٹے نے تمام بنی نوع انسان کے کفارہ کے لئے بپتسمہ لیا ۔ اُس نے اَیسا کِیا ، تاکہ اُس کے بیٹے یسوع کا پاک کام بے فائدہ نہ رہے ۔
یسوع ؔ خُدا کا بیٹا ہے اور دُنیا کے گنہگاروں کا نجات دہند ہ بھی ہے ، ’’ جس سے میَں خوش ہُوں ‘‘ خُد انے کہا ۔ یہ سچ ہے کہ یسوع ؔ نے باپ کی مرضی کی فرمانبرداری کی اور اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ۔
لفظ بپتسمہ کا مطلب ’’ دھو یا جانا ، لادا جانا ، دفن ہونا ‘‘ہے ۔ کیونکہ یسوعؔ پر ہمارے تمام گناہ لاد دئیے گئے تھے جب اُس نے بپتسمہ لیا ، ہمیں سب جو کرنا ہے دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے کے لئے خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے ۔
پُرانے عہد نامہ میں نجات کی تمام پیشنگوئیوں کی تکمیل نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے مکمل ہوئی ۔ اِس لئے پُرا نے عہد نامہ کی پیشنگوئیاں بالآخر نئے عہدنامہ میں ہمزاد پا چکی ہیں ۔ بالکل جس طرح اسرائیل کے لوگ پُرانے عہد نامہ میں اپنے گناہوں کے لئے سال میں ایک مرتبہ کفارہ دیتے تھے ، لوگوں کے گناہ یسوعؔ پر لادے گئے اور ہمیشہ کے لئے نئے عہدنامہ میں کفارہ دیا گیا ۔
 احبار ۱۶:۲۹ ، متی ۳:۱۵ کا مشابہ ہے ۔ یسوع ؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا ۔ اُس کے بپتسمہ کا شکر ہو ، وہ سب جو اُس کی گنا ہ کی اَبدی معافی پر ایمان رکھتے ہیں نجات پاتے ہیں ؛ اُن کے تمام گناہ اُن کی دلوں کی تخیتوں سے مِٹا دئیے گئے ۔
اگر آپ نہیں پہچانتے اور یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت کے سچ پر اپنے دل میں ایمان نہیں رکھتے ، آپ کبھی اپنے گناہوں سے پاک نہیں ہو سکتے ۔ کوئی معنی نہیں رکھتا آپ کتنی پاکیزہ زندگی گزارتے ہیں ۔ صِرف یسوع ؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے خُدا کا کلام پورا ہوتا ہے اور ہمارے گناہ مِٹتے ہیں ۔ سچی نجات ہمارے تمام گناہوں کی معافی کے وسیلہ سے حاصل کی جاتی ہے ، دوسرے لفظوں میں ، یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ۔
ذہن میں اِس بات کے ساتھ ، آپ کیا کریں گے ؟ کیا آپ اپنے دل میں اِس نجات کو قبول کریں گے ؟ یا نہیں کریں گے ؟ یہ انسان کا کلام نہیں ہے ، بلکہ بذات ِ خود خُدا کاکلام ہے ۔ یسوعؔ صلیب پر مَرا کیونکہ وہ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے آپ کے تمام گناہوں کو اُٹھا چکا تھا ۔ کیا آپ اتفاق نہیں کرتے کہ یسوع  ؔ کی مصلوبیت اُس کے بپتسمہ کا نتیجہ تھی ؟
رومیوں ۸:۳۔۴ میں لکھا ہُوا ہے ، ’’ اِس لئے کہ جو کام شریعت جسم کے سبب سے کمزور ہو کر نہ کرسکی وہ خُدانے کِیا یعنی اُس نے اپنے بیٹے کو گناہ آلودہ جسم کی صورت میں اور گناہ کی قربانی کے لئے بھیج کر جسم میں گناہ کی سزا کا حُکم دیا ۔ْ تاکہ شریعت کا تقاضا ہم میں پور ا ہو جو جسم کے مطابق نہیں بلکہ جو روح کے مطابق چلتےہیں ۔ْ‘‘
 کیونکہ ہم انسانی کام کے طور پر شریعت اور خُدا کے احکامات کو جسم کی کمزوری کی وجہ سے قائم نہیں رکھ سکتے ، یسوعؔ نے جسم کے تمام گناہوں کو اُنہیں اپنے آپ پر لینے کے وسیلہ سے اُٹھا لیا ۔ یہ یسوعؔ کے بپتسمہ کی حقیقت ہے ۔ یسوعؔ کے بپتسمہ نے صلیب پر اُس کی موت کو پیشتر مخصوص کیِا ۔ یہ خُدا کی اَصل خوشخبری کی حکمت ہے ۔
اگر آپ صِر ف یسوع ؔ کی صلیبی موت پر ایمان رکھ رہے ہیں ابھی لوٹیں اور اپنے دِل میں یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے نجات کی خوشخبری کو قبول کریں ۔ تب اور صِرف تب، آپ خُدا کے حقیقی بیٹے بن سکتے ہیں ۔
 
 
اَصل خوشخبری
 
اَصل خوشخبری کیا ہے ؟
پانی اور روح کی خوشخبری
 
اَصل خوشخبری گناہوں کے کفارہ کی خوشخبری ہے ۔ یہ یسوعؔ کے بپتسمہ، اُس کی موت اور جی اُٹھنے کی خوشخبری ہے جو خُدا نے ہم پر ظاہر کی ۔ یسوعؔ مسیح نے یردنؔ میں بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے گناہ کو دھو دیا اور اِس کے وسیلہ سے اُن سب کو نجات دی جو اِس حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ہمارے ایمان کی وجہ سے ، ہمارے مستقبل کے تمام گناہ بھی دھوئے جاچکے ہیں ۔
اَب جو کوئی یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت پر ایمان رکھتا ہے ہمیشہ کے لئے دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو گیا ہے ۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں ؟ اگر آپ کا جواب ’’ہاں ، میں رکھتاہُوں‘‘ تب آپ واقعی راستباز بن جائیں گے ۔
آئیں ہم مختصر اً واقعات کی تلخیص کریں جو یسوعؔ کے بپتسمہ لینے کے بعد ہوئے ۔ یوحنا ۱:۲۹ میں لکھا ہے ، ’’دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے ۔ْ‘‘
یوحناؔاصطباغی نے گواہی دی کہ یسوعؔ خُدا کا برّہ تھا جس نے دُنیا کا گناہ اُٹھا لیا ۔ یوحنا ؔ اصطباغی یسوعؔ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو لا د چکا تھا جب اُس نے اُسے یردن ؔ میں بپتسمہ دیا۔ مزید برآں ، یوحنا ؔ اصطباغی نے خود یسوع ؔ کو بپتسمہ دیا ،و ہ گواہی دے سکتا تھا ، ’’ دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے ۔ْ‘‘ یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اور دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا ، اور یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری ہے ۔
 
 
’’ دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے ۔ْ ‘‘(یوحنا ۱:۲۹) ۔ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔
 گناہ جو آپ نے اپنی پیدائش سے لیکر دسویں سالگرہ تک سرزد کیے دُنیا کے گناہوں میں شامل ہیں ۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ گناہ یسوعؔ پر لا د دئیے گئے تھے ؟ — ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں آپ کی گیارہ سے بیس سال کی عمر تک کی خطاوٴ ں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ گناہ بھی یسوع ؔ پر لاد دئیے گئے تھے ؟ — ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں —
کیا آپ مستقبل میں جو گناہ سرزد کریں گے دُنیا کے گناہ میں شامل ہیں ؟ — ہاں، وہ بھی شامل ہیں — تب ، کیا وہ یسوعؔ پر لادے گئے تھے ؟ — ہاں ، وہ لاددیئے گئے تھےکیا آپ واقعی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کے تمام گنا ہ یسوعؔ پر لادے جا چکے ہیں ؟ — ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں —کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہ یسوع ؔ پر لاددیئے گئے تھے ؟ — ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں
کیا آپ واقعی دُنیا کے گناہ سے نجات یافتہ ہونا چاہتے ہیں ؟ اگر آپ چاہتے ہیں ، یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کی خوشخبری پر ایمان رکھیں ۔ ایک بار آپ ایمان رکھتے ہیں آپ نجات پا جاتے ہیں ۔ کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی سچی نجات ہے ۔ یسوعؔ کا بپتسمہ اور اُس کا خون نئے سِرے سے پیداہونے کی اَصل خوشخبری ہے ۔ یہ دُنیا کے تمام گنہگاروں کے لئے خُد اکی طرف سے برکت ہے ۔
یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی نجا ت پر ایمان رکھنا ، اُس کی محبت کی طرف دیکھنا ، سچا ایمان رکھنا ہے اور واقعی نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی علامات پانی اور یسوعؔ کا خون ہیں ۔ آپ کو صِرف کتابِ مقدس میں لکھے سچ کے کلام کو قبول کرنا ہے ۔
 
 
مذہب اور ایمان
 
ہم نئے سِرے سے پیدا ہوئے دِل
میں کیا گواہی رکھتے ہیں ؟
کہ یسوع ؔ نے اپنے بپتسمہ اور خون
کے ساتھ تمام گناہوں کو مٹا دیا
 
مذہب کا مطلب کسی کا اپنے خیالات کے مطابق یسوعؔ پر ایمان رکھنا ، خُداکے خالص کلام کو رَد کرنا ہے ۔ تاہم، گناہ سے نجات کسی کے ذاتی خیالات سے علیٰحدہ ہے ۔ ایمان پُرانے اور نئے عہدنامہ کے تمام الفاظ پر ایمان رکھنا ہے یعنی کسی کے ذاتی خیالات کا اِنکار کرنا ہے ۔ یہ بالکل اِس طرح لینا ہے جس طرح یہ کتابِ مقدس میں لکھا گیا تھا اور پانی اور خون کے وسیلہ سے: یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت کے وسیلہ سے نجات کو قبول کرنا ہے ۔ کوئی بھی اَصل خوشخبری کی حِکمت کو اپنے دل میں لینے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتاہے ۔
یسوعؔ کے بپتسمہ کے بغیر ہمارے گناہوں کا لادا جانا موجود نہیں ہے ، اور خون کے بہائے جانے کے بغیر گناہوں کی کوئی معافی موجود نہیں ہے ۔ اُنہیں صلیب پر لے جانے اور ہمارے لئے خون بہانے سے پہلے ہمارے تمام گناہ یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے ۔ جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کی خوشخبری کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم دُنیا کے تمام گناہوں سے آزاد ہو جاتے ہیں ۔
سچاایمان ایمان رکھنا ہے کہ یسوعؔ مسیح نے ہمیں مکمل طور پر ہمارے تمام گناہوں سے پاک کر دیا جب اُس نے بپتسمہ لیا ؛ یہ ایمان رکھنا ہے کہ اُس نے ہمارے گناہوں کے لئے صلیب پر سزا برداشت کی ۔ ہمیں خُدا کی راستباز نجات پر ایمان رکھنا ہے ۔ خُد انے ہم سب سے اِتنی محبت رکھی کہ اُس نے ہمیں یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون کے وسیلہ سے نجا ت دی ۔ جب ہم اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم اپنے تمام گناہوں سے نجات پاتے ہیں ، عدالت سے آزاد ہوجاتے ہیں اور خُدا کے سامنے راستباز بن جاتے ہیں۔
’’اَے خُداوند ، میں ایمان رکھتا ہوں ۔ میں نجات کا مستحق نہیں ہو ں لیکن میں یسوعؔ کے بپتسمہ ، اُس کی مصلوبیت اور جی اُٹھنے کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہوں ۔ ‘‘ ہمیں صِرف نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کی برکت کے لئے خُداوند کا شکر کرنا ہے ۔
نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اصل خوشخبری پر ایمان رکھنا سچاایمان ہے ۔ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی سچائی یہ ہے ، ’’پس ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے ۔ْ‘‘ (رومیوںِ۱۰ :۱۷’’اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کریگی ۔ْ‘‘(یوحنا ۸:۳۲)۔ ہمیں صحیح طورپر سچ کو جاننا ہے اور ہمیں پانی ، خون اور روح پر ایمان رکھنا ہے جو اِس کی گواہی دیتے ہیں (۱۔یوحنا ۵:۵۔۸)۔
’’سچائی تم کو آزاد کریگی ۔ْ‘‘ یہ یسوعؔ کے پانی اور خون کے بارے میں الفاظ ہیں ۔ کیا آپ آزاد ہو چکے ہیں ؟ کیا ہم مذہبی یا ایماندار ہیں ؟ یسوعؔ صِرف اُنہیں چاہتا ہے جو پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ۔
اگر آپ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، آپ اپنے دل میں گناہ کے بغیر ہیں ۔ تاہم ، اگر آپ محض یسوع ؔ پر کسی مذہب کے کسی حصہ کے طورپر ایمان رکھتے ہیں ، آپ اَب تک گناہ میں رہ رہے ہیں ۔ کیونکہ آپ یسوعؔ کی نجات پر مکمل ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔ مذہبی لوگ اپنے گناہوں کے لئے ہر وقت جب وہ توبہ کے لئے دُعا مانگتے ہیں معافی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اِس طرح ، اَیسے لوگ اپنے گناہوں سے مکمل طور پر کبھی بھی نجات یافتہ نہیں ہو سکتے ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر وہ ساری زندگی توبہ کرتے ، یہ کبھی بھی یسوع ؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت کے وسیلہ سے گناہوں کی مکمل معافی کو بدل نہیں سکتی ۔ آئیں ہم یسوعؔ کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہوں ، جس نے دُنیا کے تمام گناہ دھو دیئے حتیٰ کہ مستقبل کے بھی۔
میں آپ کو دوبار ہ بتاوٴنگا ہر روز توبہ کرنا نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کے لئے کبھی نعم البدل نہیں بن سکتا۔ تمام مسیحیوں کو اَب نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی پر ایمان رکھنا چاہیے ۔
ہم اپنے گناہوں کے لئے مکمل طورپر کبھی توبہ نہیں کر سکتے ۔ جھوٹی توبہ کسی کو خُداکے پاس نہیں لے جاتی ، لیکن صِرف اُس کی روح کو تسلی دیتی ہے ۔ جھوٹی توبہ ایک یک طرفہ اِقرار ہے جو کبھی خُد اکی مرضی کے مطابق خیال نہیں کیا جاتا ۔ یہ کوئی اَیسی چیز نہیں جس کی خُدا ہم سے توقع رکھتا ہے ۔
 سچی توبہ کیا ہے ؟ یہ خُد اکی طرف لوٹنا ہے ۔ یسوعؔ کی نجات کے کلام کی طرف واپس لوٹنا اور کلام پر ایمان رکھنا جس طرح یہ لکھا گیا تھا ۔ خوشخبری جو ہمیں نجات دیتی ہے یسوعؔ کے بپتسمہ اُس کی مصلوبیت اور جی اُٹھنے کی خوشخبری ہے ۔ جب ہم مکمل طورپر اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، تب ہم نجات یافتہ ہوتے ہیں اوراَبدی زندگی حاصل کرتے ہیں ۔
یہ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کی حِکمت ہے ؛ یہ یسوع ؔ کے بپتسمہ اور اُسکے خون اور خُدا کی بادشاہی کی خوشخبری جو ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتی ہے پر ایمان رکھنا ہے ۔
جب یسوعؔ نے ہمیں بتایا ہمیں پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونا چاہیے ، اُس کا مطلب تھا ہمیں اُس کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پید اہونا چاہیے ۔ تب ہم خُداکی بادشاہت میں داخل ہونے اور سکونت کرنے کے قابل ہوتے ہیں ۔ ہمیں اُس کے کلام پر ایمان رکھنا ہے ۔ دو چیزیں جو ہمارے گناہوں کی معافی کی گواہی دیتی ہیں ، یسوع کاؔ بپتسمہ اور اُس کاصلیبی خون ، وہ کلام ہے جوہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتا ہے ۔
کیا آپ نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری اور گناہوں کی معافی پر ایمان رکھتے ہیں ؟ یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون پر ایمان ہمیں دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات دیتا ہے ۔ ہم اِس ایمان کے ساتھ نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ چونکہ کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ یسوعؔ نے دُنیا میں تمام گنہگاروں کے گناہوں کو دھو ڈالا ہمیں کیوں ایمان نہیں رکھنا چاہیے اور نئے سِرے سے پیدا ہونا چاہیے ؟
وہ جو دو چیزوں پر جو ہمارے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی گواہی دیتی ہے ،یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی مصلوبیت پر ایمان رکھتے ہیں، واقعی نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ جو خُدا کے بیٹے پر ایمان رکھتا ہے اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے (۱۔یوحنا ۵ :۳۔۱۰)۔ جب آپ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ، آپ کو پانی، خون اور روح کی خوشخبری کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔
بالکل جس طرح لشکر کے سردار نعمانؔ نے کوڑھ سے مکمل طورپر شفا یاب ہونے کے لئے یردنؔ میں سات بار غوطہ لیا (۲۔سلاطین ۵باب)، ہمیں ایمان رکھنا چاہیے کہ یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کوایک ہی مرتبہ اور سب کے لئے یردن ؔ پر دھو دیا اور نتیجہ کے طورپر ہمیں اَبدی نجات دے دی ہے۔
 کیونکہ یسوعؔ نے ہم سے محبت رکھی ، ہم دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں اور گناہ کی معافی کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ابدی زندگی رکھ سکتے ہیں۔آئیں ہم سب نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری پر ایمان رکھیں اور خُد اکی نجات حاصل کریں۔