خطبات

مضمون 3: پانی اور رُوح کی خوشخبری

[3-6] <خروج ۱۲:۴۳۔ ۴۹> حقیقی رُوحانی ختنہ

<خروج ۱۲:۴۳۔ ۴۹>
 ’’ پھر خُداوند نے موسیٰؔ اور ہارونؔ سے کہا کہ فسح کی رسم یہ ہے کہ کوئی بیگانہ اُسے کھانے نہ پائے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کا زر خرید غلام ہو اور تُو نے اُس کا ختنہ کر دیا ہوتو وہ اُسے کھائے۔ پر اجنبی اور مزدور اُسے کھانے نہ پائے۔ اوراُسے ایک ہی گھر میں کھائیں یعنی اُس کاذر ا بھی گوشت تُو گھر سے باہر نہ لے جانا اور نہ تم اُس کی کوئی ہڈی توڑنا۔ اسرائیل کی ساری جماعت اِس پر عمل کرے ۔ اور اگر کوئی اجنبی تیرے ساتھ مقیم ہو اور خُداوند کی فسح کو ماننا چاہتاہو تو اُس کے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں ۔ تب وہ پاس آکر فسح کرے یوں وہ اَیسا سمجھا جائیگا گویا اُسی ملک کی اُس کی پیدائش ہے پرکوئی نامختون آدمی اُسے کھانے نہ پائے۔ وطنی اور اُ س اجنبی کے لئے جو تمہارے بیچ مقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی۔‘‘
 
       
پُرانے عہد نامہ میں خُد اکے بیٹے بننے کے لئے
اسرائیلیوں کے واسطے ناگزیر شر ط کیا تھی؟
اُنہیں ختنہ کروانا تھا ۔
 
خُد اکا کلام دونوں پُرانے عہدنامہ اور نئے عہد نامہ میں اہم ہے اور ہم میں سے اُن کے لئے جو خُد اپر ایمان رکھتے ہیں قیمتی ہے ۔ ہم حتیٰ کہ اُن الفاظ کے ایک جملے میں بھی کمی نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ خُد اکا کلام زندگی کا کلام ہے۔
آج کاحوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی جو فسح منانا چاہتاہے کو پہلے ختنہ کروانا  ہے ۔ ہمیں  وجہ  کے
بارے میں سوچنا چاہیے خُدا ہمیں کیوں یہ بتاتاہے ۔ جب تک کسی کا ختنہ نہ ہو وہ فسح نہیں منا سکتا۔
اگر ہمیں یسوعؔ پر ایمان رکھنا ہے ، ہمیں یہ فرمان عطا کرنے کے لئے خُد ا کے مقصد  کو  سمجھنا  چاہیے۔ختنہ کسی مرد کی کھلڑی کو کاٹنا ہے۔ کیوں خُد انے ابرہامؔ اوراُس کی نسل کو ختنہ کروانے کے لئے کہا ؟ وجہ
یہ ہے کہ اُس نے وعدہ کِیا کہ صِرف وہ جو اپنے گناہوں کو ’’کاٹتے ‘‘ہیں اُس کے لوگ بنیں گے ۔
یہی وجہ ہے کہ وہ پُرانے عہد نامہ میں اسرائیل کے لوگوں کو ختنہ کروانے کے لئے کہتاہے ۔ خُد اکے لوگ بننے کے لئے ، اسرائیل کے لوگوں کو ختنہ کروانا پڑتا تھا ۔ یہ اُس کا تقدیس کے بنیادی حقائق کے لئے ، فرمان تھا اوروہ اُن کا خُدابن گیا جنہوں نے ختنہ کے وسیلہ سے ایمان کے ساتھ اپنے گناہوں کوعلیٰحدہ کیِا ۔ مزید برآں ، نئے عہد نامہ ، میں وہ اُن کا خُد ابنتا ہے جو ایمان کے ساتھ گناہ کو کاٹتے ہیں۔
 
 
فَسح
 
فَسح کیاتھا؟
یہ اسرائیلیوں کے لئے مِصرؔ سے خروج کی یادگاری اور
خُداکی شکر گزاری اَدا کرنے کا دن تھا۔
 
اسرائیل کے لوگوں کے لئے اہم ترین مقدس دن فَسح تھا ۔ یہ مِصرؔ سے خروج کی یادگاری اور خُداکی شکر گزاری کا دن تھا ، جہاں اسرائیلی ۴۰۰ سال تک غلاموں کے طوپر رہ چکے تھے ۔ خُدا فرعونؔ کے سخت دل کو ہلانے کے لئےدس آفتیں برپا کر چکا تھا ۔ یہ اِس طریقہ کے وسیلہ سے ہوا تھا کہ اُس نے اسرائیل کے لوگوں کی مِصرؔ سے باہر اور کنعانؔ کی سرزمین کی طرف راہنمائی کی۔
 اسرائیل کے لوگ، پہلوٹھے کی موت ، یعنی آخری آفت سے ، قربانی کے برّہ کے خون  اور  ختنہ
کے وسیلہ سے بچ چکے تھے ۔ اِس لئے ، خُدا نے اُنہیں اپنی تمام نسلوں تک اُس کے فضل کی ایک یاد دہانی کے طورپر فسح منانے کا حکم دیا۔
 
 
فسح منانے کے سلسلے میں اسرائیلیوں کو کیا کرنا تھا؟
          
فسح منانے کے سلسلے میں اسرائیلیوں
کو کیا کرنا تھا ؟
اُنہیں ختنہ کروانا تھا۔
 
ہمیں سمجھنا ہے کہ روحانی طورپر فسح منانے کے سلسلے میں ، ہمیں اپنے دلوں کا ختنہ کروانا ہے ۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے لوگوں کو فسح منانے کے لئے ختنہ کروانا پڑتا تھا ۔
 خروج ۱۲:۴۳ ۔۴۹میں لکھا ہوا ہے ، ’’ فسح کی رسم یہ ہے کہ کوئی بیگانہ اُسے کھانے نہ پائے ۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی کا زر خرید غلام ہو اور تُو نے اُس کا ختنہ کر دیا ہوتو وہ اُسے کھائے۔ پر اجنبی اور مزدور اُسے کھانے نہ پائے۔ اوراُسے ایک ہی گھر میں کھائیں یعنی اُس کاذر ا بھی گوشت تُو گھر سے باہر نہ لے جانا اور نہ تم اُس کی کوئی ہڈی توڑنا۔ اسرائیل کی ساری جماعت اِس پر عمل کرے ۔ اور اگر کوئی اجنبی تیرے ساتھ مُقیم ہو اور خُداوند کی فسح کو ماننا چاہتاہو تو اُس کے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں ۔ تب وہ پاس آکر فسح کرے۔ یوں وہ اَیسا سمجھا جائیگا گویا اُسی ملک کی اُس کی پیدائش ہے پر کوئی نامختون آدمی اُسے کھانے نہ پائے۔ وطنی اور اُ س اجنبی کے لئے جو تمہارے بیچ مقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی۔‘‘ اِس طرح اُس نے ختنہ کرانے کے بعد اسرائیلیوں کو فسح منانے کا حکم دیا ۔
 فسح کے برّہ کا گوشت کھانے اور فسح منانے کی اجازت کن لوگوں کو تھی؟ صِرف وہ جن  کا  ختنہ ہو
چکا تھا فسح منا سکتےتھے ۔
فسح کا برّہ ، جس طرح ہم سب جانتے ہیں ، یسوعؔ مسیح ہے جس نے دُنیا کے گناہ کو اُٹھایا۔
تب ، پُرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ میں ختنہ کیا ہے ؟ ختنے کا مطلب کھلڑی کو کاٹنا ہے۔ اِس دُنیا میں اُس کے پیدا ہونے کے آٹھ دن بعد یسوعؔ مسیح کا بھی ختنہ کیا گیا ۔ خُد احکم دے چکا تھا کہ وہ سب جو فسح میں شمولیت کرتے تھے کو ختنہ کروانا تھا ، اور اِس طرح واضح کِیا کہ کوئی بھی جس کا  ختنہ  نہیں ہوا  کبھی
بھی فسح میں شمولیت اختیار نہیں کر سکتا تھا ۔
 اِس لئے ، ہر کسی کو ختنہ کروانا تھا بالکل جس طرح خُدا نے مخصوص کِیا۔ اگر آپ  یسوعؔ  پر  ایمان رکھتے ہیں ، آپ کو نئے عہد نامہ میں ختنے کے مطلب کو سمجھنا ہے ۔
 
 
 ختنہ کی رسم کیا تھی جسے اَدا کرنے کا حکم خُد انے اِبرہامؔ کو دیا ؟
 
ابرہام ؔ اور اُس کی نسل کیسے خُدا کے
بیٹے بن سکتے تھے ؟
ختنہ کروانے کے وسیلہ سے
 
پیدائش کی کتاب میں خُد اابرہامؔ پر ظاہر ہوا اور اُس کے اور اُس کی نسل کے ساتھ اپنا عہد باندھا ۔ ۱۵ باب میں ، خُدانے وعدہ کیا کہ ابرہامؔ کی نسل آسمان کے ستاروں کی مانند بڑھے گی اور کہ وہ اُنہیں اُن کی وراثت کے طورپر کنعان ؔ کی سرزمین دے گا۔
 اور ۱۷ باب میں ، اُ س نے ابرہامؔ کو بتایا کہ اگروہ اور اُس کی نسل اُس  کے  عہد  پر  قائم رہے اور ختنہ کروائے ، وہ اُن کا خُدا ہوگا اور وہ اُس کے لوگ بن جائیں گے۔ یہ خُد اکا  ابرہامؔ  اور  اُس  کی  نسل  کے
 ساتھ عہد تھا ۔ خُدانے وعدہ کِیا کہ جب اُنہوں نے عہد پر ایمان رکھا اور ختنہ کروایا ، اِس کا مطلب تھا کہ وہ اُس کے لوگ بن چکے تھے ، اور بے شک وہ اُن کا خُدا بن چکا ہوگا۔
پیدائش ۱۷:۷۔۸کہتی ہے ، ’’ اور میَں اپنے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان اُن کی سب پُشتوں کے لئے اپنا عہد جو ابدی عہد ہوگا باندھونگا تاکہ میَں تیرا اور تیرے بعد تیری نسل کا خُدا رہوں۔ اور میَں تجھ کو اور تیرے بعد تیری نسل کو کنعانؔ کا تمام مُلک جسمیں تُوپردیسی ہے اَیسادُونگا کہ وہ دائمی ملکیت ہوجائے۔ اور میَں اُن کا خُدا ہوُنگا۔‘‘
ختنہ ابرہامؔ اور اُس کی نسل کے ساتھ خُدا کے عہد کانشان تھا۔
 
 
روحانی ختنہ کے طریقہ کا کیا مطلب ہے ؟
          
روحانی ختنہ کیا ہے؟
یہ یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے
ہمارے دلوں میں سے تمام گناہوں کو کاٹناہے۔
 
کیونکہ ابرہامؔ نے خُداکے کلام پر ایمان رکھا، خُدانے اُسے راستباز بنایا اور اُسے اپنا بیٹا بنایا ۔ یہ ختنہ تھا جو خُدا اور ابرہامؔ کے درمیان عہد کا نشان تھا۔
 ’’اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانو گے سو یہ ہے کہ تم میں سے ہرایک فرزند ِ نرینہ کا ختنہ کِیا جائے۔ ‘‘ (پیدائش۱۷: ۱۰(
جسمانی ختنہ کا مطلب کھلڑی کا کاٹا جانا ہے : روحانی طورپر ، یہ ہمارے تمام گناہوں کو اُس کے بپتسمہ پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے یسوعؔ پرلادنے کو بھی ظاہر کرتاہے۔ ہمارا روحانی طورپر ختنہ ہوتا ہے جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ کی نجات کو قبول کرنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں کو کاٹتے ہیں ۔ نئے عہد نامہ میں ختنہ یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے تمام گناہوں کو کاٹنا ہے۔
اس لئے پرانے عہدنامہ میں ختنہ نئے عہدنامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ ہے ، اور دونوں خُداکے عہد ہیں ، جو ہمیں اُس کے لوگ بناتے ہیں ۔ اس لئے پُرانے عہدنامہ میں ختنہ اور نئے عہدنامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ ایک ہی اور ایک ہی جیسے ہیں۔
 بالکل جس طرح ابرہامؔ کی نسل خُد اکے لوگ بن گئے جب اُنہوں نے اپنی کھلڑیوں کو کاٹا ، ہم خُدا کے بیٹے بن جاتے ہیں جب ہم اپنے دلوں سے تمام گناہوں کو کاٹتے ہیں ۔ ہم یہ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کرتے ہیں کہ دُنیا میں کوئی گناہ موجود نہیں ہے کیونکہ یسوعؔ نے تمام گناہو ں کو اُٹھا لیا جب اُس نے یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا۔
یسوعؔ کا بپتسمہ تمام گنہگاروں کو اُن کے گناہ کاٹنے کے وسیلہ  سے  راستباز  بناتا ہے ۔  بالکل  جس
طرح ختنہ کے عمل میں کھلڑی کا ایک ٹکڑا اُتارا جاتاتھا اِسی طرح لوگوں کے دلوں سے بنی نوع انسان کے گناہ کاٹے گئے جب یردنؔ پر یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا ۔ وہ جو اس پر ایمان رکھتے ہیں روحانی طورپر ختنہ کروا سکتے ہیں اور خُدا کے لوگ یعنی راستباز بن سکتے ہیں۔
 
 
جھوٹا ایمان جو لوگوں کو اُنہیں خُداسے کاٹ دیتاہے
          
کس چیز نے اسرائیلیوں کو خود
 خُدا سے کا ٹ دیا؟
نامختونی نے ۔
 
خُدا نے ابرہام ؔ سے کہا کہ ہر نامختون آدمی اُس کے لوگوں میں سے کاٹا جانا چاہیے۔ تب ، ختنہ کیا ہے ؟ اور روحانی ختنہ کیا ہے ؟ اگر ختنہ جسم کے ایک حصہ سے بدن کی کھال کا ایک چھوٹا ٹکڑا کاٹناہے ، تب روحانی ختنہ ہمارے دلوں سے تمام گناہوں کو کاٹنا اور اُنہیں اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یسوعؔ پر لادنا ہے۔
یسوعؔ کا بپتسمہ بنی نوع انسان کاروحانی ختنہ ہے ، جس کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہ ہم سے کاٹے گئے اور یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے ۔ یسوعؔ کی یوحنا ؔاصطباغی سے بپتسمہ لینے کی وجہ تمام بنی نوع انسان کو روحانی ختنہ کے وسیلہ سے نجات دینا تھا ، جس کے وسیلہ سے تمام گناہ اُٹھا یا گیاتھا۔
بنی نوع انسان کے تمام گناہ یسوعؔ پر لاددیئے گئے۔ خُدا،ابرہامؔ کا خُدا ، اِضحاقؔ کا خُدا ، یعقوبؔ کا خُدا اور اُن کی تمام نسل کا خُد ا بن کر ، ابرہامؔ اور اُس کی نسل کے ساتھ ایک عہد کر چکا تھا اور اُن کی کھلڑیاں کاٹ چکا تھا ۔ اس طرح، وہ اُن سب کا خُدا ، نجات دہندہ بن گیا جو ختنہ کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کوکاٹتے ہیں۔
ختنہ کیا ہے جو گناہوں کو کاٹتا ہے؟ یہ خُدا کاابرہام ؔ کے ساتھ اور اُن سب کے ساتھ جو یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت پر اپنی نجات کے طورپرایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوتے ہیں عہد ہے۔ اس طرح ، اُس نے ہمیں اپنے لوگ بننے کا حق بخشا ۔ اس طرح وہ اُن کا خُدا ہے جن کا ختنہ ہو چکا ہے۔
 خُد انے ابرہام ؔ سے کہا، ’’ تمہارے ہاں پشت در پشت ہر لڑکے کا  ختنہ  جب  وہ  آٹھ  روز  کا  ہو  کِیا جائے ۔ خواہ وہ گھر میں پیدا ہو خواہ اُسے کسی پردیسی سے خریدا ہو جو تیری نسل سے نہیں ۔ لازم ہے کہ تیرے خانہ زاد اور تیرے زر خرید کا ختنہ کِیا جائے اور میرا عہد تمہارے جسم میں اَبدی عہد ہوگا ۔ اوروہ فرزندِ نرینہ جس  کا  ختنہ  نہ  ہُوا  ہو  اپنے  لوگوں
میں سے کاٹ ڈالا جائے گا کیونکہ اُس نے میرا عہد توڑا۔ ‘‘ (پیدائش ۱۷:۱۲۔۱۴)۔
کوئی بھی جو روحانی ختنہ کے بغیر یسوعؔ کے پاس آنے کی کوشش کرتاہے اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے گا ۔ نئے عہد نامہ میں روحانی ختنہ یسوعؔ کا بپتسمہ ہے ، جس کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہ اُس پر لاد دیئے گئے تھے ۔
جوکوئی یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے اُس کو پُرانے عہد نامہ کے ختنہ اور نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کے بپتسمہ پر بھی ایمان رکھنا چاہیے ، تاکہ روح القدس کو حاصل کر سکے ، تمام گناہ سے نجات پا سکے ، اور خُداکا بیٹا بن سکے ۔ ہمارے لئے جو یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں پُرانے عہد نامہ میں ختنہ اور نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ ایک جیسے ہیں۔
 اگر ہم ختنہ کا حقیقی مطلب سمجھنے میں ناکام ہو جاتے ہیں یا روحانی ختنہ کے وسیلہ سے اپنے دلوں میں نجات کو قبول نہیں کر سکتے ہیں جو ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتی ہے ، ہمارا ایمان بے فائدہ ہو  جائیگا ۔ ہم شاید سوچ سکتے ہیں ہم خُدا سے وفادار ہیں ، لیکن یہ اس طرح ہے گویا ہم اپنے ایمان کا گھر ریت پرتعمیر کر چکے تھے ۔
خُدا اُن سب کو جو اُس پرایمان رکھتے ہیں ختنہ کروانے کیلئے کہتاہے، یسوعؔ کے بپتسمہ ، روحانی ختنہ کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی پرایمان رکھیں ۔ ختنہ کے بغیر ہم اُس کے لوگ نہیں بن سکتے ہیں ۔ ختنہ کے بغیر ، ہمیں اُس کے لوگوں کے مراتب میں سے نکال دیا جانا ہے ۔ اس لئے خُدانے مقرر کیا کہ کوئی بھی، آیا وہ پیسوں کے ساتھ خریدا گیا تھا یا ایک اجنبی تھا کا، فسح کی دعوت میں حصہ لینے سے پہلے ختنہ کیا جانا چاہیے۔
حتیٰ کہ اسرائیل کے آبائی پیدائشی کو اُس کے لوگوں سے کاٹ دیا جانا تھا اگر اُن کا ختنہ نہیں کیِا جا
چکا تھا۔ اسرائیل کے لوگوں کے ساتھ خُداکا عہد اُن سب پر بھی لاگو ہونا چاہیے جو یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔
خروج ۱۲باب میں، اسرائیل کے لوگ جِنہوں نے فسح کاگوشت اور کڑوی ترکاریاں کھائیں کو پہلے ہی ختنہ کروانا پڑتا تھا ۔ فسح کا گوشت کھانے کا حق صِرف اُن کو دیا جاتا تھا جن کا ختنہ ہو چکا ہوتا تھا۔
 یہ ہمارے لئے جاننا ضروری ہے کہ جب  اسرائیل  کے  لوگوں  نے  فسح  کا  گوشت  کھایا  اور 
 برّے  کا خون دروازوں کے بازوٴں اور اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر لگایا ، وہ پہلے ہی ختنہ کروا چکے تھے ۔
خُد اکے حکم کے مطابق ، اگرایک شخص کا ختنہ نہیں ہوتا تھا وہ اپنے لوگوں میں سے کاٹ دیا جاتا اور خُد اکے بیٹوں میں سے ایک ہونے کا حق کھو بیٹھتا ہے۔ اِس کا مطلب ہے روحانی ختنہ پرایمان نہ رکھنے کا گناہ ہلاکت کی طرف گامزن کرتاہے۔ صِرف وہ جو یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے روحانی طور پر ختنہ کروا چکے ہیں نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔
’’ اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ  سے  اب  تمہیں
بچاتاہے۔‘‘(۱۔پطرس ۳:۲۱) ۔ کیا آپ واقعی ایمان رکھتے ہیں کہ یردنؔ پر اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے آپ کے تمام گناہ یسوعؔ پر لاددیئے گئے ؟ اگر آپ واقعی سمجھتے اور سچ پر ایمان رکھتے ہیں یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر، آپ احساس کرینگے کہ آپ کا روحانی طور پر ختنہ ہو چکا ہے اور آپ ایک راستباز شخص بن چکے ہیں۔ اور آپ روحانی سچ پر بھی ایمان رکھیں گے کہ صلیب پر یسوعؔ کا خون اُس کے بپتسمہ کے بغیر بے معنی ہوگا۔
 اگر آپ کو یسوعؔ کے بپتسمہ پرایمان کے وسیلہ سے روحانی طو رپر ختنہ کروائے بغیریسوع کی صلیب پر ایمان رکھنا تھا، آپ اپنے آپ کو خُدا کے فضل سے باہر نکلا ہوا پائیں گے ۔ آپ پائیں گے کہ آپ اب تک اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں۔
ہمیں سچ پرایمان رکھنا ہے کہ خُدا کی گناہوں کی معافی یسوعؔ مسیح کے بپتسمہ کے ساتھ بیان کی گئی اور صلیب پر اُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل ہوئی تھی۔ اَیساکرنے کے لئے ، ہمیں سچائی کے کلام ، یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کو اپنی نجات کے طورپر اپنے دلوں میں لینا ہے۔
اِس ایمان کے ساتھ ہم تاریکی کی قوت سے آزاد ہو سکتے ہیں اور نُور کے فرزند بن سکتے ہیں ۔ یہ ایمان روحانی طور پر اُن کوجو واقعی نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں عام ایمانداروں کے مراتب سے جُدا کرتا ہے۔
ہمارا خُداوند ، یسوعؔ ، ہمیں اُس کے ساتھ متحد رہنے کے لئے کہتاہے۔ وہ پہلے  ہی  اپنے  بپتسمہ  اور
خون کے ساتھ دُنیا کے گناہوں کو دھو چکا ہے ۔ اس لئے ، خُداکے لوگ ہونے کے نشان کو رکھنے کے لئے ، ہمیں یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنا ہے۔ اگر ہم اَیسا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں ، ہم اُس سے کاٹ دیئے جائیں گے ۔
 گناہوں کی معافی کی نجات نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کے بپتسمہ اور پرانے عہد نامہ میں ختنہ کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ نجات صِرف مکمل ہوتی ہے جب ہم دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ (روحانی ختنہ ) اور اُس کے صلیبی خون پر (فسح کے برّے کے خون پر ) ایمان رکھتے ہیں ۔
پُرانے عہد نامہ میں جسم کا ختنہ نئے عہد نامہ میں یسوعؔ مسیح  کے  بپتسمہ  سے  منسلک  ہوتا  ہے۔
یسعیاہ ۳۴:۱۶ ہمیں بتاتا ہے کہ پوری کتابِ مقدس کے تمام کلمات اپنے جُفت رکھتے ہیں ۔ ’’تم خُداوند کی کتاب میں ڈھونڈو اور پڑھو۔ اِن میں سے ایک بھی کم نہ ہوگا اور کوئی بے جفت نہ ہوگا کیونکہ میرے مُنہ نے یہی حکم کیا ہے اور اُس کی روح نے اِن کو جمع کیا ہے۔‘‘پُرانے عہد نامہ میں ہر لفظ نئے عہد نامہ کے ساتھ جُڑا ہُوا ہے۔خُدا کاایک لفظ بھی اپنا ہمزاد نہیں کھوتا ۔
 
 
 اُن کے بارے میں کیا ہے جو احمقانہ طور پر ایک غلط معاملے پر ایمان رکھتے ہیں ؟
         
دُنیا میں تمام ایمانداروں کے درمیان
میں سے کون جہنم میں جائیں گے؟
وہ جو روحا نی ختنہ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔
 
آج بہت سارے موجود ہیں جو صِرف فسح کے برّے کے خون پرایمان رکھتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں ، ’’تمہارا ختنے سے کیا مطلب ہے ؟ یہ صِرف پُرانے عہد نامہ کے دَور میں یہودیوں پر لاگو ہوتا تھا ۔ ہمیں نئے عہد نامہ کے دَور میں اپنی کھلڑی کو کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘
بے شک یہ سچ ہے ۔ میں تجویز نہیں کر رہا  ہوں  کہ  ہمیں  جسمانی  طور پر ختنہ  کروانا چاہیے۔
پولوسؔ رسول نے بہت صاف طورپر روحانی ختنہ کی وضاحت کی ، اور یہ دل کا ختنہ ہے جس کا میں ابھی حوالہ دے رہا ہوں ۔
میں آپ کو جسمانی طو رپر ختنہ کروانے کے لئے نہیں کہہ رہا ہوں۔ جسم کا ختنہ ہمارے  لئے کوئی
معنی نہیں رکھتا، لیکن ہمیں یسوعؔ کے پاس آنا ہے اور اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے  کے سلسلے  میں  یسوعؔ  کے بپتسمہ پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے روحانی طور پر ختنہ کروانا ہے۔
کسی کو نئے سِرے سے پیدا ہونے کے سلسلے میں ، اُنہیں روحانی طورپر ختنہ کروانا ہے ۔ جو کوئی  یسوعؔ  پر ایمان رکھتا ہے کو روحانی طو رپر ختنہ کروانا ہے۔ یہ ہمارے تمام گناہوں کو کاٹنے کا واحد راستہ ہے ،یعنی راستباز بننے کا واحد راستہ ہے۔ صِرف ہمارے روحانی ختنہ کے بعد ہم مکمل طورپر گناہ کے بغیر ہیں۔ اس لئے ہمیں یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے دلوں میں روحانی ختنہ کوقبول کرنا ہے۔
پولوسؔ رسول نے بھی روحانی ختنہ کی اہمیت پر ایمان رکھا۔ اُس نے کہا، ’’ ختنہ وہی ہے جو دل کا اور روحانی ہے نہ کہ لفظی ۔‘‘ (رومیوں۲:۲۹)۔ ہم میں سے ہر کسی کو گناہ سے آزاد ہونے کیلئے روحانی طورپر ختنہ کروانا ہے۔
کیا آپ کے گناہ واقعی آپ سے کاٹے جانے کے بعد یسوعؔ پر لادے جا چکے ہیں ؟حتیٰ کہ نئے عہد نامہ میں ، کوئی جو یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے کو یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے دلوں کا ختنہ کروانا ہے۔
پولوسؔ رسول نے اِسے اپنے خط میں واضح کِیا ۔ خُدا نے ساری نسلِ انسانی کو دُنیا کے گناہوں سے نجات دی اُنہیں اپنے لوگ بنایا ۔ اسرائیل کے لوگ اپنی کھلڑیوں کو اتارنے کے وسیلہ سے خُدا کے لوگ بنتے ہیں اور ہم اُس کے بیٹے بنتے ہیں جب ہم اُس کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں کویسوعؔ پر لادتے ہیں۔
 خُداہمیں اپنے لوگوں کے طورپر قبول کرتا ہے جب وہ ہمارے ایمان کو یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر دیکھتا ہے ۔ یہ ایمان ہمارا روحانی طور پر ختنہ کرواتا ہے اور ہماری نجا ت کے لئے راہنمائی کرتا ہے۔
 
 
گنہگاروں کے لئے نجات یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے وجود رکھتی ہے
 
یسوعؔ کے وسیلہ سے نجات
 کیسے مکمل ہوئی تھی؟
اُس کے بپتسمہ اور صلیبی موت
 کے وسیلہ سے
 
یسوعؔ مسیح کی نجات جو اُس کے پانی کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل ہوئی گنہگاروں کے لئے ہے۔ برّے کا خون عدالت تھا ، اور یسوعؔ کا بپتسمہ روحانی ختنہ تھا جس نے ہمارے تما م گناہوں  کو اُس پر منتقل کر دیا۔
آج مسیحی کلیسیاؤں کو روحانی ختنہ کے اس تصور پر روشنی نہیں ڈالنی چاہیے۔ گو ان دنوں ہمارے لئے پرانے عہد نامہ کے ختنہ کا کم ہی مطلب ہے ،لیکن یسوعؔ کابپتسمہ کبھی نظراندا ز نہیں کِیا جانا چاہیے۔
 میں نے آپ کو بتایا کہ آپ کے تمام گناہ یسوعؔ کے  بپتسمہ  کے وسیلہ  سے اُٹھا لئے  گئے اور  یسوعؔ کے بپتسمہ نے آپ کے تمام گناہوں سے آپ کو نجات دی۔کیا آپ اس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ اگر آپ یسوعؔ کے بپتسمہ کو نظر انداز کرتے ہیں ، آپ کبھی نئے سِر ے سے پیدا ہونے کی خوشخبری ، یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی کی مکمل خوشخبری کو نہیں جانیں گے ۔
ہم کیسے یسوعؔ کے بپتسمہ ، روحانی ختنہ کوجس کے بارے میں خُدا ہمیں بتاتا ہے نظر انداز کر سکتے ہیں ؟ اگر ہم کتابِ مقدس پڑھتے ہیں ،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ختنہ اور فسح کے برّے کا خون قریبی تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ روحانی ختنہ ، یسوعؔ کے بپتسمہ کا بھید ہے۔
یوحنا ؔ رسول کی معرفت پیش کی گئی خوشخبری یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کی خوشخبری کے علاوہ کوئی دوسری نہ تھی ۔ اُس نے ۱۔یوحنا۵:۶ میں کہا، ’’ یہی ہےوہ جو پانی او ر خون کے وسیلہ سے آیا تھا یعنی یسوع ؔ مسیح ۔ وہ نہ فقط پانی کے وسیلہ سے بلکہ پانی اور خون دونوں کے وسیلہ سے آیا تھا ۔‘‘
اُس نے کہا کہ یسوعؔ پانی ، خون اور روح کے وسیلہ سے آیا تھا ۔ نہ فقط پانی کے  وسیلہ  سے ،  نہ  فقط
خون کے وسیلہ سے ، بلکہ پانی ، خون اور روح کے وسیلہ سے مل کر آیا تھا۔ یہ تین عناصر ، یسوعؔ کا بپتسمہ ، صلیب پر یسوعؔ کا خون اور مُردوں میں سے اُس کا جی اُٹھنا، ایک ہیں، یعنی ہماری نجات کا ثبوت ہیں ۔
 
 
کتابِ مقدس یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے بارے میں کیوں بتاتی  ہے؟
          
کیا اسرائیل کے لوگ صِرف فسح کے برّے کے
خون کے وسیلہ سے نجات پاتے تھے؟
نہیں ۔ وہ فسح منانے سے پیشتر ،پہلے ہی ختنہ کرواتے تھے۔
 
یسوعؔ کا بپتسمہ اور اُس کا خون ہمیں پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتا ہے ۔ خروج ۱۲باب کہتاہے ، ’’اپنے لئے ایک برّہ لے ، اور اُس کا کچھ خون لیکر اپنے گھروں کے دروازوں کے دونوں بازووٴوں اور چوکھٹوں پر لگا ۔ جب میں خون دیکھو ں گا ، میں تم سے گزر جاوٴنگا۔‘‘
اِسے جان کر ، کیا ممکن ہے کہ ہم صِرف فسح کے برّہ کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں ؟ تب نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں کیوں اِتنی زیادہ بات چیت کی گئی ہے ؟ رسولوں نے کہا، ’’ اور اُسی کے ساتھ بپتسمہ میں دفن ہوئے ‘‘ (کلسیوں۲: ۲ ۱ )۔ ’’اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا ۔ ‘‘(گلتیوں ۳ : ۲۷)۔ ’’۔۔۔یعنی بپتسمہ یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتاہے ۔ ‘‘ (۱۔پطرس ۳ :۲۱)۔
پطرسؔ اور پولوس ؔرسول اوریسوعؔ مسیح کے دوسرے شاگردوں نے یسوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں بات کی ۔ یہ یسوعؔ کا وہ دریائے یردنؔ پر بپتسمہ ہے جس کا وہ حوالہ دے رہے  تھے ،  اور وہ  یسوعؔ  کے
بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان ہے جو پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی سچائی ہے ۔
میں آپ کو سچائی بتاتا ہوں، میں یسوع ؔ پر ایمان رکھتا تھا لیکن صِرف دس سال کے لئے اُس کے خون پر، حتیٰ کہ یسوعؔ کے بپتسمہ کو تسلیم کئے بغیر ۔ لیکن اِس علم نے بذات ِ خود میرے دل میں سے گناہوں کونہیں اُٹھایا۔ میں نے اپنے پورے دل کے ساتھ یسوعؔ پر ایمان رکھا ، لیکن پھر بھی میرا دل گناہ سے بھرا ہُواتھا ۔
دس سال کے بعد، میں نے روحانی ختنہ (یسوعؔ کے بپتسمہ) کودریافت کِیا اور تب نئے سِرے سے پیدا ہُوا۔ صِرف تب میں نے سچائی کااحساس کِیا : پُرانے عہد نامہ میں ختنہ نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کے بپتسمہ کو ظاہر کرتا ہے ۔ میں نے اس پر ایمان رکھا اور اب تک رکھتا ہُوں ۔
’’نئے عہد نامہ میں کیا یسوعؔ کے خون اور اُس کے بپتسمہ دونوں پر ایمان رکھنا دُرست ہے ؟ کیا میرا ایمان کتابِ مقدس کے مطابق دُرست ہے ؟ ‘‘میرے نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بعد ، میں اِن چیزوں کے بارے میں حیران ہوُا ۔
 اگرچہ میں نے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُسکے خون کے پیغام پر ایمان رکھا، سوالا ت میرے ذہن میں قائم رہے ۔’’ کیا سچائی پر ایمان رکھنا دُرست ہے کہ یسوعؔ پر میرے گناہ لاد دئیے گئے جب اُس نے بپتسمہ لیا یا کیا یہ ایمان رکھنا دُرست ہے کہ یسوعؔ نے ہمیں صِرف صلیب پر ا پنی موت کے وسیلہ سے نجات دی۔ کیا محض یہ ایمان رکھنا کافی نہیں ہے کہ یسوع ؔ میرا خُدا اور نجات دہندہ ہے ؟ ‘‘ میں نے خروج ۱۲  باب پڑھتے وقت اِس پر غور کیِا۔
آج بہت سے سارے لوگ خروج ۱۲باب پڑھتے ہیں اور اعلان کرنے کے بارے میں دوسری مرتبہ نہیں سوچتے کہ یسوعؔ مسیح اُن کے نجات دہندہ کے طورپر صلیب پر مرگیا۔ وہ سوچتے ہیں کہ مسیح کے خون پرایمان رکھنا دُرست ہے اور وہ اپنے کامل ایمان کی سچائی کی گواہی د یتے ہیں۔ وہ بغیر پیچھے ہٹے ایمان رکھ سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ خُد اوند مسیح اور خُدا کا بیٹا ہے ، لیکن وہ اب تک گنہگار ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں اگر وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوعؔ مسیح نجا ت دہندہ ہے ، وہ نجا ت پا جائیں گے حتیٰ کہ وہ اپنے دلوں میں اب تک گناہ رکھتے ہیں۔
اس قسم کا ایمان سچا ایمان نہیں ہے۔ یہ ایمان تنہا اُن کی نئے سِرے سے پیدا ہونے میں مدد نہیں کرسکتا ہے ۔ صِرف یسوعؔ کا بپتسمہ اور اُس کا خون ہمیں راستباز بناتاہے۔
تب ، خروج ۱۲باب کا حقیقتاً کیا مطلب ہے ؟ میں نے یہ سوچتے ہوئے کتابِ مقدس میں سے دیکھا، ’’کیا صِرف یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھنے میں جب کہ اُس کا بپتسمہ نظرانداز کرتے ہوئے کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے ؟ ‘‘ حتیٰ کہ خروج کی پڑھائی ختم کرنے سے پہلے ، میں نے سچائی کو دریافت کیا کہ نجات صِرف مسیح کے خون میں نہیں بلکہ اُس کے بپتسمہ میں بھی ہے۔ کتابِ مقدس کے اندر  مجھے یقین دلایا  گیا
کہ ہمار ا یسوعؔ کے بپتسمہ سے اِسی طرح اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے ہمارے دلوں کا ختنہ ہوتا ہے۔
 
کیوں زیادہ تر مسیحی اب تک گنہگار ہیں؟
کیونکہ وہ یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں ۔
 
میں نے خروج۱۲:۴۷۔۴۹میں احساس کِیا کسی کو فسح کا گوشت کھانے کی اجازت ملنے سے پہلے، اُسے ختنہ کروانا پڑتا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا۴۹آیت میں کہتاہے ، ’’وطنی اور اُس اجنبی کے لیے جو تمہارے بیچ مقیم ہو ایک ہی شریعت ہوگی ۔ ‘‘
اِس لئے کوئی بھی جس کا ختنہ نہیں ہوا تھا فسح کا گوشت نہیں کھا سکتا تھا یہ سچ ہے جو میں نے پایا ۔ اِسی طرح، جب ہم یسوعؔ پر اپنے نجا ت دہندہ کے طورپر ایمان رکھتے ہیں ، ہمیں پہلے حقیقت کو قبول کرنا ہے کہ ہمارے تمام گناہ یردنؔ پر اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یسوعؔ پر لاد دیئے گئے تھے اور تب حقیقت قبول کریں کہ یسوعؔ مسیح اِن گناہوں کے لئے صلیب پر مَرا۔
جب میں نے احساس کیا کہ یسوعؔ تمام گناہوں کے لئے جو اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اُٹھائے تھے پرکھے جانے پر صلیب پر مر چکا تھا ، میں نے روحانی ختنہ کے مطلب کا بھی  احساس کیا  جس  نے  ہمیں تمام گناہوں اور دُنیا کی خطاوٴں سے بچایا۔
 اُسی لمحے میں نے احساس کیا کہ میرے تمام گناہ جا چکے  تھے ۔ میرا دل برف کی مانند  سفید ہو گیا
 اور آخر کار میں نے پانی ، خون اور روح کی خوشخبر ی کو اپنے دل میں لے لیا۔میں نے احساس کیا کہ دوچیزیں ہیں جو ہمیں بچاتی ہیں ، پرانے عہد نامہ میں ختنہ اور برّہ کا خون نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون کے وسیلہ سے اُس پر تمام گناہوں کو لادنا۔پرانے عہد نامہ میں ختنہ اور نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ حقیقتاً ایک ہی اور ایک ہی جیسے ہیں۔
 یسوع ؔ مسیح اِس لئے نہیں پرکھا گیا کیونکہ اُس نے بذاتِ خود کوئی گناہ کِیا تھا ، لیکن کیونکہ اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُ نیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا تھا ۔ وہ جو ایمان رکھتے ہیں کہ یوحناؔ اصطباغی نے ، بنی نوع انسان کے نمائندہ کے طور پر ، یسوعؔ کو بپتسمہ دیا اور یسوعؔ  پر  دُنیا  کے تمام  گناہوں کو  لاد  دیا دونوں
یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر بھی ایمان رکھتے ہیں ۔
کیوں بہت سارے لو گ یسوعؔ کے بپتسمہ کا اِنکار کرتے ہیں اگر چہ یہ کتابِ مقدس میں باربار بیان کیا گیا ہے ؟ اَیسا کرنے کی وجہ سے وہ اب تک گنہگار ہیں حتیٰ کہ وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ وہ شاید یسوعؔ پر ایمان رکھ سکتے ہیں لیکن اب تک خُداسے کاٹے ہوئے ہیں ۔ وہ قابلِ رحم گنہگار ہیں جو جہنم میں جائیں گے ۔اگرچہ وہ یسوعؔ پرایمان بھی رکھتے ہیں۔
 وہ کیسے اب تک گنہگار ہو سکتے ہیں اگر وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں؟ کیوں وہ گنہگار کے طور پر  زندہ  رہتے ہیں ؟ کیوں وہ تباہی کے رستے کی طرف جا رہے ہیں ؟ یہ انتہائی قابل ِ رحم بات ہے ۔ وہ گنہگار رہنا جاری رکھیں گے کیونکہ وہ حقیقت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں کہ دُنیا کے تمام گناہ یسوعؔ مسیح پر لاددیئے گئے تھے ، جو تمام لوگوں کے لئے اپنے روحانی بپتسمہ کے وسیلہ سے ابدی نجا ت لایا۔
لوگ سوچتے ہیں کہ وہ یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے چھڑائے جاتے ہیں ، لیکن اس قسم کا ایمان کبھی اُنہیں مکمل نہیں بناتا۔ کیوں ؟ کیونکہ وہ یسوعؔ پر اپنے گناہوں کو لادنے میں ناکام ہو گئے!
  ہم صرف پانی (مسیح کے بپتسمہ ) اور اُسکے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جس طریقہ سے خُدانے مخصوص کیِا : روحانی ختنہ کی نجات سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ تب ، اور صِرف تب ، ہم خُدا کے بیٹے بن سکتے ہیں۔
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا ہے ۔ ’’اگر ہم صِرف یسوعؔ کے خون پر روحانی ختنہ کے طورپر ایما ن رکھتے ہیں،کیا ہمارے گناہ مکمل طورپر دُھل سکتے ہیں ؟‘‘ ہمیں جواب تلاش کرنے کے لئے اپنے دلوں میں گہرائی تک نظر کرنی ہے۔
پرُانے عہد نامہ میں ،لوگ ختنہ اور فسح کے برّہ کے خون کے وسیلہ سے نجا ت یافتہ ہوتے تھے بالکل جس طرح ہم نے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے نجات پائی۔ اِس طریقہ سے ہم خُداکی عدالت اور اس گنہگاردُنیا سے نجات یافتہ ہو گئے ۔ وہ جو ایمان رکھتے ہیں خُداکے بیٹے بن جاتے ہیں اور خُدا اُن کا باپ بن جاتا ہے۔
کوئی شخص اِن دوباتوں پر : ختنہ اور فسح کے برّے کے خون ،یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایما ن رکھنے کے وسیلہ سے نجا ت یافتہ اور خُدا کے اپنوں میں سے ایک بن جانا ہے ۔ یہ یسوعؔ کے مطابق سچ ہے۔ یہ پانی ، خون اورروح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کا حقیقی مطلب ہے۔
 
 
کتابِ مقدس میں ظاہر کی گئی پانی اور روح کی خلاصی کیا ہے؟
 
کیا گنہگار صِرف یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھنے کے
وسیلہ سے راستباز بن سکتے ہیں ؟
کبھی نہیں۔
 
یسوعؔ نے آسمان پر اپنا تخت چھو ڑ دیا اور اِس دُنیا میں اُتر آیا ۔ اُس نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے تیس سال کی عمر میں یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا۔
صلیب پر یسوعؔ کا خون دُنیاکے تمام گنہگاروں کے لئے اُس کی سزا تھی۔ یسوعؔ مسیح اِس دُنیا میں نجات دہندہ کے طو رپر آیا اور تمام گنہگاروں کو پانی اور خون کے وسیلہ سے اُن کے گناہوں سے نجات دی ۔
 کیا ہم صِرف خون کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں ؟ نہیں ۔ ہم یسوع ؔ  کے  بپتسمہ  اور  اُس کے خون کے وسیلہ سے گناہ سے نجات یافتہ ہوئے ہیں ۔ میں اُن سے جو صِرف یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھتے ہیں ایک سوال پوچھنا چاہونگا ۔ ’’ کیا گنہگار صِرف مسیح کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے راستباز بن سکتے ہیں ، یا کیا یہ دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے ہے ؟ کیا یہ ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اپنے گناہوں کو اُس کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے یسوع پر لادتے ہیں یا صِرف اُس کے خون کے وسیلہ سے ؟ میں آپ سے پوچھتا ہو ں ، کون سی بات سچ ہے ؟‘‘
حقیقی طور پرپانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کے لئے ، ہمیں مندرجہ ذیل کو پورا کرنا ہے ۔ ہمیں یقینا ایمان رکھنا چاہیے کہ یسوعؔ اِس دُنیا میں بدن لے کرآیا ، یعنی اپنے بپتسمہ کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو اپنے آپ پر اُٹھا لیا اور صلیب پر ہمارے تمام گناہوں کے لئے پرکھا گیا ۔ یسوعؔ مسیح ، ہمارے سچے نجا ت دہندہ پر ، ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ، اِس طریقہ سے ، ہم واقعی نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں۔
میں آپ سے پھرپوچھتا  ہوں ۔ ایمان کیا ہے جس طرح کتابِ مقد س میں بیان کیا گیا ہے ؟ کیا یہ یسوعؔ کے خون پر ایمان ہے یا دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ؟
یسوعؔ کے خون پر ایمان مندرجہ ذیل کی طرح ہے ۔  یسوع ؔ نے  عدالت  سہی  اور  دُنیا  کے تمام
گناہوں کے لئے سزا اُٹھائی۔ کیونکہ وہ ہمارے گناہوں کے لئے کُچلا اور گھائل کیا گیا ، ہم ایک خوفناک عدالت سے بچائے گئے ۔ لیکن یہ مکمل سچ نہیں ہے ۔ اِس مذہبی تعلیم کو قبول کرنے سے پہلے ، ہمیں ایک نکتہ واضح کرنا ہے ۔ کیوں یسوعؔ کو صلیب پر مصلوب ہونا پڑاتھا ؟
کتابِ مقد س واضح طو رپر بتاتی ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ یسوعؔ نے اِس دُنیا میں کبھی کوئی گناہ سرزد نہیں کیا۔ وہ مریمؔ کے جسم کے وسیلہ سے ایک انسان کا بدن لے کر آیا ، لیکن وہ اُس کے لوگوں کی شبیہ کے اظہار میں قدوس خُدا کے بیٹے اور گنہگاروں کے نجات دہندہ کے طور پر آچکا تھا ۔ یہ وجہ تھی کہ اُسے صلیب پر مرنے سے پہلے یوحناؔاصطباغی کے وسیلہ سے بپتسمہ لینا تھا ۔ جب اُس نے بپتسمہ لیا ، اُس نے ہمارے تمام  گناہ اپنے اوپر اُٹھا لئے ۔ اِس طرح بپتسمہ کے بغیر ، اُسے صلیب پر خون بہانے کی سزا
نہیں مل سکتی تھی۔
 
 
پرانے عہد نامہ میں قربانی کا نظام
 
قربانی گذراننے کے لئے ناگزیر
شرطیں کیا تھیں؟
۱۔ایک بے عیب زندہ جانور
۲۔ہاتھو ں کا رکھا جانا
۳۔اُس کا خون
 
آئیں ہم اِس سچائی پر پاک خیمہء اِجتماع کے قربانی کے نظام کے وسیلہ سے نظر کریں۔ پرانے عہد نامہ میں ، آیا ایک گنہگار یا سردار کاہن قربانی کے برّے یا بکرے پر اپنے ذاتی گناہ یا اسرائیل کے گناہوں کو اُس کے سر پر لادنے کے لئے اپنے ہاتھوں کو رکھتا تھا ۔ تب قربانیاں ذبح کی جاتی اور قربانگاہ کے سامنے گذرانی جاتی تھیں۔ پرانا عہد نامہ نئے عہد نامہ کا پیشرو تھا ، یسوعؔ مسیح قربانی کا برّہ تھا جسے خُد ابھیجنے کا وعدہ کر
چکا تھا ۔
 کب آپ کے تمام گناہ یسوعؔ پر لا د دئیے گئے تھے ؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس  سوال  کے  بارے  میں سوچیں اور جواب دیں ۔ پرانے عہد نامہ میں ، اسرائیلی ہاتھوں کے رکھے جانے کے بغیر (ہاتھوں کے رکھے جانے کا مطلب گناہ کی قربانی پر گناہ کو لادنا تھا)قربانی کے جانوروں کو ذبح نہیں کر سکتے تھے ۔ گناہ کی قربانیاں پہلے قربانگاہ کے سامنے لائی جاتی تھیں ، ہاتھوں کے رکھے جانے کو قربانی کے جانوروں پر گناہ لادنے کے سلسلے میں واقع ہونا پڑتا تھا ۔
 ’’اور وہ سوختنی قربانی کے جانور کے سر پر اپنا ہاتھ رکھے۔‘‘(احبار ۱:۴) ۔ یہ احبار میں
لکھا ہوا ہے کہ تمام قربانیوں کو ہاتھوں کے رکھے جانے کی ضرور ت تھی ۔ قربانی کے سر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے ، اور خُدا کے سامنے ایمان کے ساتھ اُس کا خون اور گوشت پیش کرنے کے وسیلہ سے اسرائیل کے لوگ اُس پر اپنے گناہوں کو لادنے کے قابل تھے ، وہ اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے تھے ۔ پرانے عہد نامہ کے دَور میں اسرائیلی ایمان کے وسیلہ سے بھی نجا ت یافتہ ہوتے تھے ۔
جب خُدا کے سامنے ایک سوختنی قربانی گذرانی جاتی تھی، گنہگار کو اس کے سر پر اپنے ہاتھ اس طرح گنہگار کے گناہ لادنے کے لئے رکھنے پڑتے تھے ۔ تب قربانی گنہگار کی جگہ ذبح کی جاتی تھی۔ اِس کا خون مذبح کے چاروں سینگوں پر چھڑکا جاتا تھا اور باقی مذبح کی بُنیاد پر زمین پر اُنڈیل دیا جاتا تھا ۔ یہ تھا کیسے گنہگار گناہوں سے آزاد کیے جاتے        تھے ۔
 نئے عہد نامہ میں گنہگار یسوعؔ کے پانی اور خون پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے آزاد ہو سکتے ہیں۔۱۔یوحنا ۵:۱۔۱۰ کہتا ہے کہ ایک گنہگار آزاد کیا جا چکا ہے جب وہ یسوعؔ کے بپتسمہ پر اور برّہ کے خون پر(صلیب پر ) ایمان رکھتا ہے۔
اس لئے کوئی بھی گنہگارجہاں تک وہ دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان رکھتا ہے آزاد ہو سکتا ہے ۔ یسوعؔ کابپتسمہ اور اُس کا خون ، روح القدس کے ساتھ مل کر ،پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کے لئے ناگزیر ہیں۔
جان سے پیارو، کیا آپ صِرف یسوع ؔ مسیح کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے آزاد ہو سکتے ہیں ؟ وہ جو سوچتے ہیں کہ وہ صِرف صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں اب تک اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم نئے عہد نامہ کے روحانی ختنہ کے طور پر یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں ، جو پرانے  عہد  نامہ میں  بیان کیے  گئے
ختنہ  کے بعد  از زمانہ کے مساوی ہے۔
تمام فرقہ جات اپنے ذاتی الہٰی نظریات رکھتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ سب جہنم کا مقدر رکھتے ہیں یعنی جب تک وہ اپنے جھوٹے عقائد نہیں چھوڑتے ۔ پریسبٹیرین کلیسیا تقدیر کے الہٰی نظریے پر ، میتھو ڈسٹ کلیسیا ئی اخلاقیات مثلاً انسانیت پر ، بپٹسٹ کلیسیا ، بپتسمہ پر اور ہولینس کلیسیا ، پاکیزہ زندگی پر  زور دیتی ہے ، یہ
سب سچ کے کلام سے منحرف ہو چکی ہیں۔
 لیکن نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بارے میں کتابِ مقدس میں حق کا کلام کیا کہتا ہے ؟ کتابِ مقدس کہتی ہے کہ سچائی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون میں پائی جاتی ہے ۔ کوئی بھی جو ایمان رکھتا ہے اور خُداکے کلام کی پیروی کرتا ہے اور پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے پر ایمان رکھتا ہے گناہوں کی معافی پائیگا۔
 
 
یسوعؔ کے بپتسمہ کا بھید کیا ہے ؟
                    
نئے عہد نامہ میں روحانی ختنہ
 کیا ہے ؟
یسوعؔ کا بپتسمہ
 
یسوع ؔکابپتسمہ روحانی ختنہ تھا ۔ پرانے عہد نامہ میں، خُدا نے کہا کہ کوئی بھی جس کا ختنہ نہیں ہوا تھا اپنے لوگوں میں سے کاٹ دیا جانا چاہیے۔
ہمیں جاننا اور ایمان رکھنا ہے کہ بیشک نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ روحانی ختنہ ہے ۔ کیونکہ یسوعؔ نے اپنی عوامی خدمت کی ابتدا میں یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا ، ہم روحانی طورپر اُس کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ختنہ یافتہ ہو سکتے ہیں ۔ ہمیں وجوہات پر احتیاط کے  ساتھ غور  کرنا چاہیے  کیوں
یسوعؔ کو  یوحناؔ اصطباغی  سے بپتسمہ لینا پڑا۔
”اُس وقت یسوعؔ گلیل ؔ سے یردنؔ کے کنارے یوحناؔ کے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔ مگر یوحناؔ یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میں آپ تجھے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تُو میر ے پاس آیا ہے ؟ ۔ یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔ اِس پر اُس نے ہونے دیا۔ ‘‘ (متی۳:۱۳۔۱۵)۔
یسوعؔ نے یوحنا ؔ اصطباغی سے یردن ؔ ، ’’موت کے دریا‘‘ پر بپتسمہ لیا ۔ یوحنا ؔ اصطباغی نے یسوعؔ کے سر پر اپنے ہاتھوں کو رکھا اور اُس نے پوری طرح غوطہ لیا۔ یہ بپتسمہ (بپتسمہ : پانی میں غوطہ لینا) لینے کا دُرست طریقہ ہے ۔ یسوعؔ کے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے سلسلے میں، اُسے اِسی طریقہ سے بپتسمہ لینا پڑا تھا ، ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ پرانے عہد نامہ کا حوالہ ملتاہے۔
یسوعؔ کابپتسمہ اُن کا روحانی ختنہ ہے جو یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ ’’کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔‘‘ (متی ۳:۱۵)۔ یہ مناسب تھا کہ یسوعؔ نے دُنیا کے تما م گناہوں کو اُٹھا لیا اور ہمارا خُدا اور نجات دہندہ بن گیا۔ اِسی طرح یہ مناسب تھا ، جس طرح لکھا گیا تھا ، کہ وہ اپنے سر پر ہمارے تمام گناہوں کے ساتھ صلیب پر مر گیا۔
یسوعؔ کا بپتسمہ تمام گنہگاروں کو نئی پیدائش دینے کی قُدرت رکھتا ہے ۔ یہ پانی اور روح کی خوشخبری کا بھید ہے۔
پہلی چیز جو یسوعؔ نے اپنی عوامی خدمت میں گنہگاروں کواُن کے تمام گناہوں سے بچانے کے لئے کی یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینا تھا ۔ بپتسمہ کا مطلب  ’’دھو یا جانا ، دفن ہونا ، لاداجانا ‘‘ہے۔
خُدا کے مقرر کر دہ معاملہ کے مطابق بپتسمہ لینے کے بعد ، یسوعؔ نے تمام دُنیا کا گناہ اپنے اوپراُٹھا لیا۔ ’’دیکھو یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے ۔ ‘‘ (یوحنا۱:۲۹)۔ یسوعؔ کے بپتسمہ کا مطلب ہے کہ دُنیا کے تما م لوگوں کا جو اُس پرایمان لاتے ہیں روحانی طورپر ختنہ کیا گیا ہے۔
 بعد میں، وہ خُداکے برّہ کے طورپر صلیب پر گیا جس نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیااور تمام گنہگاروں کے لئے سزا کو قبول کیا۔ اِس طرح، اُس نے تمام نسلِ انسانی کو گناہ سے نجات دی ۔
 اس لئے وہ سب جو یسوعؔ مسیح کے بپتسمہ ، پرانے عہد نامہ کے ختنہ ، اوراُس کے صلیبی خون پر اپنی نجات کے طورپر ایمان رکھتے ہیں اپنے تمام گناہوں سے نجات پاتے ہیں ۔ یسوعؔ مسیح نے اپنے  بپتسمہ  اور  اپنے  خون کے ساتھ گنہگاروں کو نجات دی ۔ یہ روحانی ختنہ کی سچائی ہے ۔
 
 
کیا صِرف خون کے وسیلہ سے نجات ہے ؟ نہیں ، اَیسا نہیں ہے
          
یسوعؔ کس طرح دُنیا میں آیا؟
پانی اور خون کے وسیلہ سے
 
۱۔یوحنا ۵:۴۔ ۸ کہتا ہے ، ’’ جو کوئی خُدا سے پیدا ہوا ہے وہ دُنیا پر غالب آتا ہے اور وہ غلبہ جس سے دُنیا مغلوب ہوئی ہے ہمارا ایمان ہے ۔دُنیا کا مغلوب کرنیوالا کون ہے سِوا اُس شخص کے جس کا یہ ایما ن ہے کہ یسوعؔ خُداکا بیٹا ہے ؟۔ یہی ہے وہ جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا تھا یعنی یسوعؔ مسیح ، وہ نہ فقط پانی کے وسیلہ سے بلکہ پانی اور خون دونوں کے وسیلہ سے آیا تھا۔ اور جوگواہی دیتا ہے وہ روح ہے کیونکہ روح سچائی ہے ۔ اور گواہی دینے والے تین ہیں ۔ روح اور پانی اور خون اور یہ تینوں ایک ہی بات پر مُتفِق ہیں ۔‘‘
پیارے مسیحیو، آپ کی اپنے نجات دہندہ کے طورپر اُس کے لئے ذاتی گواہی کیا ہے ؟ یہ خُد اکے بیٹے پرایمان کے علاوہ کچھ نہیں ہے جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا۔
کیا غلبہ ہے جو دُنیا پر غالب آتا ہے ؟ یہ پانی اور خون اور ایمان کی قُدرت کے علاوہ کچھ نہیں ہے ، یہ یسوعؔ مسیح ہے جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا اور یہ روح ہے جو گواہی دیتا ہے ، کیونکہ روح سچائی ہے ۔
یہ تین چیزیں ہیں جو زمین پر گواہی دیتی ہیں : پانی اور خون اور روح ۔ اور یہ تین ایک کے طور پر متفق   ہیں ۔ یسوعؔ اِس دُنیا میں بدن لے کر آیا ، ابدی سزا سے ہمیں بچانے کے لئے اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مر گیا ۔
یہ ثبوت ہے کہ خُدا ، ہمارا خالق ، پانی اور روح کی خوشخبر ی جو ہم سب کو بچاتی ہے کے ساتھ تمام گنہگاروں کا نجات دہندہ بن گیا۔ یہ ہمارا ثبو ت ہے کہ یسوعؔ نے ، جو روح کے طورپر بدن میں اِس دُنیا میں آیا ، ہمارے تمام گناہوں کو اپنے اوپر لینے کے لئے یردنؔ میں بپتسمہ لیا ، اورہمارے گناہوں  کے  لئے  سزا
قبول کرتے ہوئے صلیب پر خون بہایا ۔ اِس طرح اُس نے سب کو نجات دی جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ یہ پانی اور روح کی اصل خوشخبری ہے۔
 
 
پانی اور خون کیا ہیں جو خُدا کی نجا ت کی گواہی دیتے ہیں ؟
         
پرانے عہد نامہ میں بیان کیے گئے
ختنہ کا ہمزاد کیا ہے ؟
یسوعؔ کا بپتسمہ
 
پانی یسوعؔ مسیح کے بپتسمہ کوبیان کرتا ہے ۔ پرانے عہد نامہ میں ، یسوعؔ کے بپتسمہ کا مطلب ختنہ تھا ۔ پرانے عہد نامہ میں ختنہ کا ہمزاد نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ ہے ۔ یہ ثبوت کہ دُنیا کے تما م گناہ یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے یسوعؔ کے بپتسمہ میں موجود ہے۔
جوکوئی اس سچائی پر ایمان رکھتا ہے خُد اکے سامنے کھڑا ہونے کے قابل ہے اور ایک اچھے ضمیر کے ساتھ کہہ سکتا ہے ، ’’ تُو میرا نجات دہندہ ہے ، میرا خُداوند کیونکہ میں تیرے بپتسمہ اور خون پر ایمان رکھتاہوں یعنی پانی اور روح کی خوشخبری پر ۔ اس لئے ، میں کوئی گناہ نہیں رکھتا۔ میں خُد اکا بیٹا ہوں اور تُو میر انجات دہندہ ہے ۔‘‘ ہم ایمان کے ساتھ یہ اِقرار کرنے کے قابل ہیں ۔ وجہ کیوں ہم یہ کہنے کے قابل ہیں کیونکہ ہمارا ایمان یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ہے ۔
کیا کلمہ ہے جو ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتاہے ؟یہ یسوع ؔ کا بپتسمہ اور اُس کا صلیبی خون ہے ، جو ہمارے دلوں میں نجا ت کی گواہی ہے ۔ یہ پانی اورروح کی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری ہے ۔
پیارے مسیحیو، میں آپ سے پھر پوچھتاہوں ، ’’ کیا ایک گنہگار صِرف مسیح کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتا ہے ؟ نہیں۔ نجات صِرف صلیب پر اُس کی موت کا مطالبہ نہیں کرتی ہے ۔ یہ صِرف دونوں پانی اور خون پر ایمان کے وسیلہ سے ہے— یعنی پانی اور روح کی خوشخبری — جس سے گنہگار نئے سِرے سے پیدا ہو سکتے ہیں ۔ آئیں مجھے آپ کو کتاب ِ مقدس سے حوالہ دینے دیں ، جو پانی یا دوسرے لفظوں میں یسوعؔ کے بپتسمہ کے با رے میں بات کرتاہے۔
۱۔پطرس ۳:۲۱۔۲۲  کہتاہے ، ’’اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی  بپتسمہ  یسوعؔ  مسیح  کے  جی  اُٹھنے
کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتاہے ۔  اُس سے جسم کی نجاست کادُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خُداکا طالب ہونا مراد ہے ۔ وہ آسمان پر جا کر خُداکی دہنی طرف بیٹھا ہے اور فرشتے اور اختیارات اور قُدرتیں اُس کے تابع کی گئیں ہیں ۔ ‘‘
پطرسؔ رسول نے گواہی دی کہ یسوعؔ کا بپتسمہ مشابہ تھا جو ہمیں نجات دیتا ہے اور یہ گناہ سے نجات کا ثبوت بھی تھا ۔ یسوعؔ کا بپتسمہ پرانے عہد نامہ میں ختنہ کے مساوی ہے ۔ بالکل جس طرح اسرائیل کے لوگوں نے خُدا کے کلام پر ایمان رکھا اور پرانے عہد نامہ کے دَور میں خُد اکے بیٹے بننے کے لئے اپنی کھلڑی کو کاٹا ، یسوعؔ کا بپتسمہ ہمیں نئے عہد نامہ کے دَور میں ہمارے تمام گناہوں سے نجات دیتا ہے ۔
 اس لئے پرانے عہد نامہ میں ختنہ اور نئے عہد نامہ میں یسوعؔ کا بپتسمہ ایک ہی اورایک جیسے  ہیں ۔کیا اب آپ سب ایمان رکھتے ہیں کہ یسوعؔ کا بپتسمہ ختنہ کے طورپر بیشک وَیسا ہی ہے ؟ جس طر ح یہ ۱۔پطرس۳:۲۱میں لکھا ہوا ہے ، ایک مشابہ بھی جو اب ہمیں بچاتاہے موجود ہے ،یعنی نام کے طورپر بپتسمہ۔ کیا آپ خُداکے تحریر ی کلام کے ساتھ بحث کر سکتے ہیں ؟
یہ کیسے ہے کہ ہم ، جو اس دُنیا میں رہتے ہیں ، گناہ سے آزادہو سکتے ہیں ؟ یہ صِرف ممکن ہے کیونکہ یسوعؔ مسیح نے ہمارے لئے ساری راستبازی پوری کرنے کے واسطے بپتسمہ یعنی گناہ سے نجات مہیاکی ہے ۔ متی ۳:۱۵ کہتاہے ، ’’کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔‘‘
کیونکہ دُنیا کے تمام گناہ یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے،سب جو اُس پرایمان رکھتے ہیں اب گناہ کے بغیر ہیں ۔ ہم سب سچائی کو قبول کرنے کے وسیلہ سے راستباز بن سکتے ہیں کہ ہمارے گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یسوع ؔ پر لاددیئے گئے تھے ۔ یسوعؔ مسیح نے ہمارے تمام گناہ اپنے اوپر اُٹھا لئے اور ہمیں بچانے کے واسطے ساری عدالت کے لئے صلیب پر مر گیا۔
پیارے دوستو، دو چیزیں جو سب گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچاتی ہیں ، پانی اور خون ہیں۔ اُس کا ہمارے گناہ اُٹھانا او رہمارے لئے صلیب پر مرنا دوخاص چیزیں ہیں جو یسوعؔ مسیح نے اِس دُنیا میں اپنی تین سالہ عوامی خدمت کے دوران ہمارے لئے کیِں۔
یوحنا۱:۲۹ کہتاہے ، ’’دیکھو !یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتاہے! ‘‘ یسوعؔ مسیح نے دُنیا کے گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور ہماری بدکرداریوں کی خاطر فِدیہ دینے کے لئے صلیب پر مر گیا ۔ یسوعؔ خُداکا بیٹا ہے ، اور خالق کے طورپر ، اُس نے دُنیا کا گناہ اُٹھانے کے وسیلہ سے ختنے کا عہد پورا کیا جو خُدانے پرانے عہد نامہ میں باندھا تھا ۔
کوئی بھی جو اپنے دل میں یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھتے ہیں پانی اور خون ،پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونگے ۔ اور خُداوند اُن سب کا نجات دہندہ بن جائے گا جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ خُدا وند کا شکر ہو ہیلیلویاہ ! یسوعؔ نے ہماری نجات مکمل کی جس طرح خُدا وعدہ کر چکا تھا ، اور اُس نے ہمیں دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات دی ۔
 
 
جس سے جسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں
          
کیا وقت کے ساتھ جسم پاک ہو جاتا ہے ؟
نہیں ۔ جسم اُ س دن تک جب تک ہم مرتے ہیں
گناہ میں اضافہ کرنا جاری رکھتا ہے ۔
 
۱۔پطرس۳:۲۱ بتاتا ہے ، ’’اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتا ہے ۔اُس سے جسم کی نجاست کا دُور کرنا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خُدا کا طالب ہونا مراد ہے ۔‘‘
جب کوئی یسوعؔ مسیح پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنے کے لئے آتا ہے ، اس کا مطلب نہیں کہ وہ جسم کے گناہ سرزد کرنے سے رُک جاتاہے ۔ ہم شاید گناہ جاری رکھیں، لیکن یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے و سیلہ سے ہم اپنے تمام دُنیاوی گناہ یسوعؔ پرلاد سکتے ہیں ، جس نے صلیب پر اپنے خون کے ساتھ اُن کی قیمت اَدا کی۔ ہماری نجات کے ناگزیر عناصر کے طورپر ان دوچیزوں پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے ، ہم اپنے گناہوں سے نجا ت یافتہ ہو تے ہیں۔
نئے سِرے سے پیداہونے کا مطلب یسوعؔ کو اپنے دلوں میں نسلِ انسانی کے نجات دہندہ کے طورپر خوش آمدید کہنا ہے ۔ گناہوں کی معافی بھی ہمارے دلوں میں حاصل کی جاتی ہے ۔ جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں ، ہمارے دل نئے سِرے سے پیداہوتے ہیں ، لیکن ہم اپنے جسم کے ساتھ گناہ اور خطائیں سرزد کرنا جاری رکھتے ہیں ۔ لیکن ، ہمارے جسم کے تمام گناہ پہلے ہی معاف ہو چکے ہیں ۔
یسوعؔ کا بپتسمہ اُن سب کے لئے گواہی ہے جو نجات یافتہ ہو چکے ہیں ۔ ہم گناہ کے بغیر ہیں جب ہم مسیح کے بپتسمہ کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی پرایمان رکھتے ہیں ۔ ہم نئے سِرے سے پید اہوتے ہیں جب ہم اپنے دلوں میں یسوع ؔکے بپتسمہ کے وسیلہ سے نجات کی سچائی کو قبول کرتے ہیں اور پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے راستباز بنتے ہیں ۔
یہ پرانے عہد نامہ میں ابرہام ؔ کا ایمان ہے ،یعنی راستباز بننے کا ایمان جس کے بارے میں پولوس ؔرسول بات کرتا ہے ، اور نجات کا مشابہ جس کے بارے میں پطرس ؔرسول نے گواہی دی۔
بالکل جس طرح ابرہامؔ نے سنا اور خُداکے کلام پر ایمان رکھا اورراستباز بن گیا، ہم نجات یافتہ ہوتے ہیں جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت پر ایمان رکھتے ہیں ۔
 یوحنا ۱:۱۲ کہتا ہے ، ’’لیکن جتنوں نے اُسے قبول کِیا اُس  نے  اُنہیں  خُدا  کے  فرزند
بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُ س کے نام پرایمان لاتے ہیں۔‘‘ کیا آپ یسوعؔ مسیح کو قبول کرتے ہیں ، اُسے جس نے ہمیں اپنے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں سے آپ کے نجات دہندہ کے طورپر نجات دی ؟ ہمیں یقینا خُد اکے بیٹے کی ہمیں پانی اور خون کے وسیلہ سے دی گئی نجات کو قبول کرنا چاہیے ۔
کیا نجات صِرف یسوعؔ مسیح کے خون کے وسیلہ سے ہے ؟ نہیں ۔ یہ یسوعؔ کے پانی اور خون کے وسیلہ سے ہے ۔ کتابِ مقدس میں ، یہ واضح طورپر بیا ن کیا گیا ہے کہ نجا ت تنہا یسوعؔ کے خون کے وسیلہ سے نہیں ہے ۔یہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے ہے ۔
یسوعؔ کا بپتسمہ نئے عہد نامہ کا روحانی ختنہ ہے ۔ یہ نجات کا سچ ہے جو ہم سے ہمارے تما م گناہ کاٹتا ہے۔ اس حقیقت کا مطلب کہ اُس نے دُنیا کے گناہوں کے لئے سزا سہی یہ ہے کہ وہ ہمارے ، تمہار ے اورمیرے لئے پرکھا گیا۔
گناہوں کی معافی کی خوشخبری ،یعنی یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے خون کو قبول کرنے کے وسیلہ سے ہم ہمارے تمام گناہوں کی عدالت سے آزاد ہو جاتے ہیں ۔ اپنے ایمان کے ساتھ، ہم تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو تے ہیں جوہم دُنیا میں سرزد کرتے ہیں ۔ جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کو اپنی نجات کے طورپر لیتے ہیں ، ہمارے دلوں سے تمام گناہ دھوئے جاتے ہیں ۔کیا آپ ایمان رکھتے ہیں ؟ اور اِسے سچ سمجھتے ہیں ؟ میں پورے دل سے اُمید کرتاہوں کہ آپ سب پانی اور روح  کی  خوشخبری  پر  ایمان
رکھیں گے ۔ ایمان رکھیں اورہمیشہ کی زندگی حاصل کریں۔
پولو سؔ رسول نے کہا، ’’خنتہ وہی ہے جو دل کا اور روحانی ہے نہ کہ لفظی۔‘‘ (رومیوں ۲:۲۹ ) ۔ کیسے ہمارے دلوں کا ختنہ ہوتا ہے ؟ ہم روحانی طورپر ختنہ کروا سکتے ہیں جب ہم یسوعؔ مسیح کے اس دُنیا میں بدن لے کر آنے، دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے اُس کے بپتسمہ لینے، ہمارے گناہوں کے لئے صلیب پر اُس کی موت اور مُردوں میں سے اُس کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتے ہیں ۔
 پولوسؔ رسول نے کہا ختنہ وہی ہے جو دل کا ہو ۔ دل کے ختنہ کا مطلب ہے کہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُسکے خون پرایمان رکھنا ۔ اگر آپ اپنے دل کا ختنہ کروانا چاہتے ہیں ، آپ کو اپنے  دل  میں  یسوعؔ کے
بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری کو لینا ہے ۔ تب ، اور صِرف تب، آپ واقعی خُد اکے بیٹے بن سکتے ہیں۔
 
 
کیا یوحنا ؔ اصطباغی کو خُدانے بھیجا ؟
          
یوحنا ؔ اصطباغی کون تھا ؟
وہ نسلِ انسانی کا نمائندہ اور ہارون ؔ کے نسب نامہ
کے مطابق آخری سردار کاہن تھا۔
 
یہاں، ہمیں پوچھنے کی ضرور ت ہے کہ یوحنا ؔ اصطباغی کون تھا جس نے یسوعؔ مسیح کو بپتسمہ دیا۔ یوحناؔ اصطباغی پوری نسلِ انسانی کا نمائندہ تھا ۔ متی ۱۱:۱۱۔۱۴کہتا ہے ، ’’میَں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحناؔ بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُوا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑاہے ۔اور یوحنا ؔ بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اورزور آور اُسے چھین لیتے ہیں ۔ کیونکہ سب نبیوں اور توریت نے یوحناؔ تک نبوت کی۔ اورچاہو تو مانو۔ ایلیاہؔ جو آنیوالا تھا یہی ہے ۔ ‘‘
پیارے مسیحیو، یسوعؔ کہتا ہے کہ عورتوں میں سے پیدا ہونے والوں  کے  درمیان  یوحناؔ  اصطباغی
سے بڑا کوئی نہیں ۔ یوحنا ؔ اصطباغی کی پیدائش کے ساتھ ، خُدا کے پہلے عہد کی معیاد ، یعنی پرانے عہد نامہ کی معیاد ختم ہوگئی تھی۔ یہ ختم ہو گئی کیونکہ یسوعؔ مسیح جسے خُداکا عہد پورا کرنا تھا بالآخرآ چکا تھا ۔
 تب یہ کون تھا ، جسے خُدا کا عہد پورا کرنا تھا؟ یسوعؔ مسیح اور یوحناؔ اصطباغی ۔ یوحناؔ اصطباغی نے دُنیا کے تمام گناہوں کو یسوعؔ پر لاد دیا۔ پرانے عہد نامہ کا آخری سردار کاہن کون تھا ؟ کون ہارونؔ کی نسل سے تھا ؟ یسوعؔ مسیح نے خو دگواہی دی کہ یہ یوحناؔ اصطباغی کے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا ۔ یوحنا ؔ اصطباغی نسلِ انسانی کانمائندہ تھا ، یعنی عورتوںمیں سے پیدا ہونے والوں کے درمیان سب سے بڑا ۔
آئیں ہم حقائق پر غور کریں جو ہم رکھتے ہیں ۔موسیٰ ؔ، ابرہامؔ ، اضحاقؔ اور یعقوبؔ تمام عورتوں سے پیدا ہوئے تھے ۔ لیکن دونوں پرانے عہد نامہ اور نئے عہد نامہ کے لوگوں کے درمیان سب عورتوں سے پیدا ہونے والوں کے درمیان سب سے بڑ اکون ہے؟ یہ یوحنا ؔ اصطباغی ہے ۔
یوحنا ؔ اصطباغی نے ، پرانے عہد نامہ کے آخری نبی اور ہارونؔ کی نسل میں سے ایک کے طور پر ، اُسی طرح جیسے ہارونؔ پرانے عہد نامہ میں یومِ کفارہ پرؔ اپنے ہاتھوں کو قربانی کے  جانور وں پر رکھتا تھا نئے عہد نامہ میں خُداکے برّے کو بپتسمہ دیا ۔ اُس نے یسوع ؔمسیح کو بپتسمہ دیا اور دُنیا کے تمام گناہ لاددیئے ۔ وہ خُدا کا ایک خادم تھا۔ اُس نے یسوعؔ مسیح کو بپتسمہ دینے کے وسیلہ سے تمام نسلِ انسانی کے دِلوں میں روحانی ختنہ کو پورا کِیا ۔
یسوعؔ مسیح کے بپتسمہ کے ساتھ ملکر ، ہمیں یقینا اپنی نجات کی گواہی کے طورپر اُس کے خون پر ایمان رکھنا چاہیے۔ یسوعؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھا لئے اوراُن کے لئے پرکھا گیا اور ہمارے کرنے کے لئے صِرف جو چیز ہے سادگی سے اُس پر ایمان رکھنا ہے ۔ یہ خُداکی مرضی ہے کہ ہم ایمان رکھیں کہ یسوعؔ نے کیا  کیِا ۔
ایک بار آپ اپنے دل میں پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خوشخبری کو لیتے ہیں ، آپ ابرہامؔ کی نسل میں سے اور خُدا کے بیٹے بن سکتے ہیں ۔ صِرف چند ایک موجود ہیں جو مسیح میں ہیں جب کہ بہت سارے موجود ہیں جِنہوں نے اب تک اُسے اپنے دلوں میں قبول نہیں کیاہے ۔
 دن تقریباً ختم ہو گیا ہے اور تاریکی چھار ہی ہے ۔ یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھیں اور اُسے اپنے دل میں آنے کی اجازت دیں ۔ آپ کا یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان آپ  کو  روحانی  نجات  کے  ساتھ برکت دے گا ۔
ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ روحانی مسح آتا ہے جب آپ نجات کی خوشخبری ، یسوعؔ کے بپتسمہ  اور
اُس کے خون کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ۔ میں بتانا چاہتاہوں کہ آپ روحانی مشعل (کلیسیا) او رتیل (روح) عقلمند کنواریوں کی طرح (متی ۲۵:۴) یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے تیار کر سکتے ہیں ۔ وہ جو یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں اپنے دلوں میں روح کے ساتھ گرجا گھر جاتے ہیں ۔
 
 
یسوعؔ نے کس لئے بپتسمہ لیا تھا ؟
         
کس مقصد کے لئے یسوعؔ نے بپتسمہ
 لیا تھا ؟
نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو مٹانے
کے لئے ۔
          
’’میَں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تُو میرے پاس آیا ہے ؟ ۔ یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اَب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔ اِس پر اُس نے ہونے دیا ۔‘‘ (متی  ۳:۱۴۔۱۵)۔
یسوعؔ نے نسلِ انسانی کے تمام گناہ دھو نے کے لئے بپتسمہ لیا، یسوعؔ مسیح خُداکا بیٹا اور ہمارا نجات دہندہ  ہے ۔ وہ خالق ہے جس نے ہمیں بنایا ۔ یسوعؔ مسیح خُدا، باپ کی مرضی کے وسیلہ سے ہمیں اُس کے لوگ بنانے کے لئے آیا۔
 پرانے عہد نامہ کے تمام نبیوں نے کس کے بارے میں بات کی؟ اُنہوں نے یسوعؔ  مسیح کے  بارے  میں بات کی ۔ پرانے عہد نامہ کے تمام نبیوں نے یسوعؔ کی اِس دُنیا میں آمد کے بارے میں یعنی ہمارے گناہوں کو اُٹھانے اور ہمیں ہمیشہ کے لئے گناہ سے آزاد کرنے کے بارے میں بات کی ۔
یسوعؔ مسیح اِس دُنیا میں آیا جس طرح پرانے عہد نامہ میں پیشنگوئی کی گئی تھی اور نسلِ انسانی ، آدمؔ اور حواؔ سے لے کر اِ س زمین پر آخری شخص تک کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔
ابھی ،نجات یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے اپنے دلوں میں لیں۔ کیا آپ اب تک بے یقین ہیں کہ یہ سچائی ہے؟ کیا آپ اب تک اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں ؟ ’’کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔‘‘ یسوعؔ نے ساری راستبازی  پوری کرنے کے لئے یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا۔
لفظ ’’بپتسمہ ‘‘ کا بذاتِ خود مطلب ’’دھو یاجانا ‘‘ہے۔ یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے پرانے عہد نامہ میں بیان کیے گئے ہاتھوں کے رکھے جانے کے طریقہ کے مطابق بپتسمہ لیا۔
 نسلِ انسانی کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے بعد، اُس نے اپنے آپ کو یردنؔ میں غوطہ دیا۔ دریا، مو ت اور گنہگاروں کی عدالت کو ظاہر کرتاہے ۔ مسیح کا پانی میں غوطہ صلیب پر اُس کی موت کو ظاہر کرتا ہے۔ اُس کا پانی میں سے اُبھرنا جی اُٹھنے کو قائم کرتا ہے ۔ یسوعؔ صلیب پر مرنے کے تین دن بعد جی اُٹھا۔
یسوعؔ ہمارا خُدا اور نجات دہندہ ہے۔ یہ حقیقت کہ یسوعؔ اِس دُنیا میں آیا ، بپتسمہ لیا ، صلیب پر موت تک خون بہایا ، تیسرے دن جی اُٹھا اور اب خُدا کے دہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے ، ایک واضح ثبوت ہے کہ اُس نے تمام نسلِ انسانی کو موت سے بچایا ۔ کیا آپ اپنے پورے دل سے اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں ۔
 یسوعؔ کا بپتسمہ نئے عہد نامہ کا روحانی ختنہ ہے ، ’’ختنہ وہی ہے جو دل کا ہو۔ ‘‘ دل کا ختنہ مکمل ہوتا ہے جب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ ، یسوعؔ پر ہمارے تما م گناہوں کے لادے جانے کے سچ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ دل کا ختنہ یسوعؔ کے بپتسمہ کا اعتراف ہے جس کے وسیلہ سے ہم نے اپنے گناہ یسوع ؔ پر لاد دیے ۔
کیا آپ کے دل کا ختنہ ہو چکا ہے ؟ اگر آپ دل کے ختنہ پر ایمان رکھتے ہیں ، آپ کے گناہ ایک ہی باراور ہمیشہ کے لئے دُھل جائیں گے ۔ اِس مقصد کے لئے یسوعؔ نے ساری راستبازی قبول کی اور تمام گنہگاروں کونجات کا یقین دلایا۔
پیار ے مسیحیو، نجات کے اِس ثبوت کو اپنے دلوں اور ذہن میں لیں۔ یہ سچائی ہے ۔ ایک بار آپ یسوعؔ کی نجات کو اپنے دل میں لیتے ہیں آپ اپنے تمام گناہوں سے آزاد ہو جائینگے ۔ ’’ لیکن جتنوں نے اُسے قبول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند  بننے کا حق بخشایعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں ۔‘‘ (یوحنا۱ : ۱۲)۔ 
اب کیا آپ دیکھ سکتے ہیں کیوں یسوعؔ کو اِس دُنیا میں آنا اور بپتسمہ لینا پڑا تھا؟ کیا آپ اب اِس پر ایمان رکھتے ہیں ؟ یسوعؔ نے تمام نسلِ انسانی کے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا ۔ یہ ختنے کا بپتسمہ تھا ۔ یسوعؔ کا بپتسمہ ہمیں روحانی ختنہ دیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے پولوسؔ رسول ہمیں ہمارے دلوں کا ختنہ کروانے کے لئے کہتاہے ۔ یسوعؔ نے اتنے صاف طورپر اپنے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے ہمیں نجات دی کہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں لیکن اپنے دلوں میں ایمان رکھیں ۔ ہمیں اپنے دلوں میں خُدا کے کلام کو ’’ہاں۔آمین‘‘ کہنا چاہیے ۔ کیا یہ سچائی نہیں ہے ؟ کیا آپ اس پر ایمان رکھتے ہیں ؟
 
 
کیا آپ اپنے دل میں اِس سچائی کو قبول کرتے ہیں ؟
                    
یسوعؔ کی پرستش کرنے سے
پہلے ہمیں کیا کرنا ہے ؟
ہمیں اپنے دلوں میں پانی اور خون
کی سچائی کولینا ہے۔
 
تقریباً ۲۰۰۰؁ سال گزر چکے ہیں جب یسوعؔ اس دُنیا میں آیا ۔ اِس دن اور خُداکے فضل کے دَور میں ، ہمیں یقینا اپنے دلوں میں، سچائی ، یعنی یسوعؔ کے پانی اور خون کو لینا چاہیے ۔ ہمارے کرنے کے لئے کچھ اور موجود نہیں  ہے ۔
 ’’ختنہ وہی ہے جو دل کا ہو ‘‘ ہمیں اپنے دلوں میں ایمان کے وسیلہ سے ختنہ کروانا ہے ۔ ہم صِر ف ایمان کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں ۔ پرانے عہد نامہ میں، اسرائیلی ختنہ اور فسح کے برّے کے خون کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہوتے تھے جو اُن کے دروازے کے بازوو ں اوراُن کے گھروں کی چوکھٹوں پر لگایا جاتا تھا ۔
 وہ جو یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر اپنی نجات کے طور پرایمان رکھتے ہیں خُدا کی عدالت سے خوفزدہ نہیں ہیں کیونکہ یہ اُن سے گزر جائیگی ، لیکن خُدا کی عدالت اُن سب پر نازل ہو گی جو اپنے دلوں میں سچائی قبول نہیں کرتے ہیں ۔ بہت سارے موجود ہیں جو یسوعؔ پر بے  فائدہ  ایمان  رکھتے  ہیں اور  اِس
طرح اب تک اپنے گناہوں کے غلام ہیں۔
وہ اِس حال تک کیسے پہنچے ہیں ؟ کیوں وہ اب تک گناہ سے دُکھ اُٹھاتے ہیں؟ یہ صِرف ہے کیونکہ وہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُ س کے خون کی سچائی کو نہیں جانتے ہیں ۔ وہ اُس کے بپتسمہ کو نکالتے ہوئے یا پہلو تہی کرتے ہوئے ، صِر ف یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھتے ہیں۔
کیا صِرف یسوع ؔ کے خون پرسادہ عقیدہ کے وسیلہ سے نجات قابلِ حصول ہے ؟ کیا کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ یہ اِسی طرح ہے ؟ اِس کے بارے میں پرانا عہد نامہ اور نیا عہد نامہ کیا کہتے ہیں ؟ کتابِ مقدس کے مطابق ، یہ صِرف خُدا کے برّے کے خون سے نہیں ہے بلکہ یسوعؔ کے بپتسمہ  کے وسیلہ سے بھی یعنی نجات حاصل کی جاتی ہے (۱۔یوحنا۵: ۳ ۔۶)۔
کیا آپ صِرف تنہا یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھتے ہیں ؟ وہ جو یقینا کرتے ہیں اب تک اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں ۔ اُنہیں یقینا اپنے غلط ایمان پر غالب آنا چاہیے اور سچی خوشخبری کی طرف لوٹنا چاہیے۔
 وہ جو ایمان نہیں رکھتے ہیں کو اب یقینا تسلیم کرنا چاہیے کہ اُن کی غلط راہنمائی ہو چکی ہے ،وہ نہیں جانتے کہ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے یردنؔ پرتمام گناہ اُٹھا لئے تھے ۔ اُنہیں یقینا تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ یسوعؔ کے بپتسمہ کو نظر انداز کرنے یعنی قبول کرنے میں غلط ہو چکے ہیں ۔ اُنہیں یقینا اِسے اپنے دلوں میں لینا چاہیے کہ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ۔ نجات صِرف فراہم ہوتی ہے جب ہم دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھتے  ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں ، صرِف پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے ہم ہمیشہ کی زندگی حاصل کرنے کے قابل ہیں۔
پیارے مسیحیو، کیا آپ اَب تک صِرف یسوعؔ کے خون پرایمان کا انحصار کر چکے ہیں ؟ اگر یہ صورتحال ہے، یقینا آپ اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں ۔ اگر آپ گناہ کرتے ہیں تب آپ اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں۔ اگر آپ سوچتے ہیں آپ گناہ سے آزاد ہیں جب آپ خُداکی شریعت کے مطابق زندگی گزارتے ہیں ، یہ صِرف ایک احساس ہے جو آپ کے جذبات میں سے پیدا ہوتاہے۔ یہ کامل ایمان خُدا کے کلام کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتاہے۔
 
 
ابھی بھی بہت دیر نہیں ہوئی ہے
          
سچائی ہمیں کس چیز سے آزاد کرتی ہے؟
گناہ اور موت کی شریعت سے
 
ابھی بھی بہت دیرنہیں ہوئی ہے ۔ آپ کو جو سب یقینا کرنا چاہیے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پرایمان رکھنا ہے ، اور آپ کے دل کا ختنہ ہو جائیگا اورآپ اپنے تمام گناہ سے آزاد ہو جائینگے ۔ تمام گناہ سے آزاد ہو نے کا مطلب ہے کہ آپ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُ س کے خون کی خوشخبری پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو گئے ہیں۔
کیا آپ اپنے گناہوں سے نجات کے لئے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں ؟ ایک بار آپ اس پر ایمان رکھتے ہیں آپ سیکھیں گے نجات کیسی ہے ۔ آپ ذہنی اطمینان حاصل کرینگے ۔ تب، اور صرف تب، آپ راستباز بنیں گے ۔ اپنے اعمال کے وسیلہ سے نہیں لیکن خُدا کے کلام پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے ، اگر آپ میں سے کوئی نجات کے لئے صِرف یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھتا اور انحصار کرتا ہے میں ،آپ کی دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کے لئے دلجوئی کرنا چاہونگا۔
پیارے مسیحیو، گناہ سے نسلِ انسانی کی نجات یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری کے وسیلہ سے پوری ہوئی تھی ۔ روح خُدا ہے۔ خُدا اس دُنیا میں ایک انسانی جسم میں آیا۔
 خُدا نے اپنے نبیوں کے وسیلہ سے کہا کہ ہمیں اُس کا نام یسوعؔ بُلانا چاہیے ، کیونکہ اُسے اپنے لوگوں کو گناہوں سے نجات دینی تھی۔ خُدا نے کہا، ’’دیکھو ایک کنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانو ایلؔ رکھینگے جس کا ترجمہ ہےخُدا ہمارے ساتھ ۔ ‘‘ (متی  ۱:۲۳)۔
خُدا اِس دُنیا میں گنہگاروں کو نجات دینے کے لئے آیا ۔ اُس نے  دُنیا  کے تمام  گناہوں کو  اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور اس طرح تمام گنہگاروں کو نجات دی۔ یہ سچ ہے اور پانی اور خون کی نجات ہے ۔ میں آپ کو یہاں یہ بتانے کے لئے ہوں ۔ کیا ہم نے صِرف یسوع ؔ  کے خون  کے  وسیلہ  سے نجات  پائی  ہے ؟ 
بیشک نہیں۔ ہم نے  یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے نجات پائی ہے ۔
آج بہت سارے جھوٹے نبی اور بدعتی موجود ہیں جو یسوعؔ کے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے ۔ یسوعؔ نے کہا ، ’’ اور سچائی سے واقف ہو گے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی ۔‘‘(یوحنا  ۸: ۳۲)۔                
ہمیں یقینا سچائی کو جاننا چاہیے ۔ ہمیں یقینا جاننا چاہیے کیوں یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے بارے میں بات کی اور ہمیں کیوں اس پر ایمان رکھنا چاہیے ۔ ہمیں جاننا چاہیے کیوں خُدا نے اسرائیل کے لوگوں کو پرانے عہد نامہ میں ختنہ کروانے کے لئے کہا اوراُس نے کیوں فسح کے برّہ کے خون کے بارے میں بات کی۔
جب ہم کہانی کا صِرف ایک حصہ جانتے ہیں ، ہم کبھی بھی سچائی کو پہچان نہیں سکتے ہیں ۔ یسوعؔ نے کہا، ’’کہ میَں تجھ سے سچ کہتاہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خُداکی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ۔ ‘‘(یوحنا ۳ :۵)۔
 
 
 مسیح میں بپتسمہ لینا
 
ہم کیسے مسیح کی موت کے ساتھ متحد
ہو سکتے ہیں ؟
اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو
یسوعؔ پر لادنے کے وسیلہ سے
 
کتابِ مقدس نے نجات کے بھید کی گواہی دی ۔ کیا یہ صِرف یسوعؔ کے خون کے وسیلہ سے ہے ؟ نہیں ۔ یہ اکٹھے اُس کے خون اور اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے  ہے۔ پولوسؔ رسول نے اکثر اِس کے بارے
میں رومیوں ۶باب میں اور پھر کئی دوسرے خطوط میں بات کی ۔
 آئیں ہم رومیوں۶:۳۔۸ سے پڑھیں، ’’کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح یسوعؔ میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا تو اُس کی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟ ۔ پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اُس کے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مردوں میں سے جلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں۔ کیونکہ جب ہم اُس کی موت کی مشابہت سے اُس کیساتھ پیوستہ ہو گئے تو بیشک اُس کے جی اُٹھنے کی مشابہت سے بھی اُس کے ساتھ پیوستہ ہونگے ۔چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی انسانیت اُس کے ساتھ اِس لئے مصلوب کی گئی کہ گناہ کا بدن بیکار ہو جائے تاکہ ہم آگے کو گناہ کی غلامی میں نہ رہیں۔ کیونکہ جو مُوا وہ گناہ سے بری ہُوا ۔ پس جب ہم مسیح کے ساتھ موئے تو ہمیں یقین ہے کہ اُس کے ساتھ جئیں گے بھی ۔ ‘‘
آئیں ہم آیت ۵ دیکھیں ۔ یہ کہتی ہے ،’’ کیونکہ جب ہم اُس کی موت کی مشابہت سے اُس کے ساتھ پیوستہ ہو گئے تو بیشک اُس کے جی اُٹھنے کی مشابہت سے بھی اُس کے ساتھ پیوستہ ہو نگے ۔ ‘‘
اُس کی موت ہماری موت تھی کیونکہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ اُس پر لاددیئے   گئے ۔ اس لئے یسوعؔ کا بپتسمہ ہمارے ساتھ اُس کے صلیبی خون کو جوڑتا ہے ۔
 ہمارا یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان ہمیں یسوعؔ کے ساتھ متحد ہونے کی اجازت دیتا ہے ۔ ’’کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ ‘‘  (رومیوں ۶:۲۳)۔ اس لئے صلیب پر یسوعؔ کی موت ہماری موت تھی۔ اُس نے اپنے آپ پر ہمارے تما م گناہوں کو لینے کے لئے بپتسمہ لیا ۔ اس سچائی پر ایمان رکھنا یسوعؔ مسیح ، ہمارے نجات دہندہ کے ساتھ اپنے آپ کو متحد کرنا ہے ۔
 
 
ہمیں یسوعؔ پر محض ایک مذہبی زندگی کے ایک حصہ کے طور پر ایمان نہیں رکھنا چاہیے
 
 
’’ وہ سچا اور عادل ہے ‘‘کا کیا مطلب ہے ؟
اِس کا مطلب ہے کہ یسوعؔ نے ہمارے گناہ ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے
دھو دئیے اور ہر کسی کوبچاتا ہے جو سچائی پر ایمان رکھتا ہے ۔
 
بہت سارے لوگ یسوعؔ پر ایک مذہبی زندگی کے طورپر ایمان رکھتے ہیں ، اس لئے وہ گرجا گھر جاتے ہیں اور اپنی آنکھوں سے دُعا اور توبہ کرنے کے لئے چلاتے ہیں وہ ہر روز اپنے گناہوں کا اِقرار کرتے اور معافی مانگتے  ہیں ۔ وہ دُعا کرتے ہیں ، ’’اَے یسوعؔ ، میں جانتا اور ایمان رکھتا ہوں کہ تو صلیب پر میرے لئے مرا ۔ ہاں ، میں ایمان رکھتا ہوں ۔‘‘ 
صاف طورپر ، وہ مندرجہ ذیل حوالے کو غلط سمجھتے ہیں ، ’’اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے ۔‘‘ (۱۔ یوحنا  ۱:۹)۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنہیں اپنے گناہوں سے روزمرّہ کے گناہ کے اِقرار کے وسیلہ سے معاف کِیا جانا چاہیے ۔ لیکن اوپر والے حوالہ میں گناہ کا مطلب روز مرّہ کی معمولی خطائیں نہیں ہیں ۔ حوالے کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے معاف ہوتے ہیں جب ہم اِقرار کرتے ہیں کہ ہم اب تک نجات یافتہ نہیں ہوئے ہیں ۔ 
’’پس ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے ۔‘‘ (رومیوں ۱۰ :۱۷)، ’’ اور سچائی سے واقف ہوگے اور سچائی تم کو آزاد کرے گی ۔ ‘‘ (یوحنا ۸:۳۲)۔
پیارے مسیحیو، سچائی صاف ہے ۔ اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یردنؔ پر اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ اُٹھائے بغیر یسوعؔ صلیب پر مرا ، آپ کا ایمان بے فائدہ  ہے ۔ اگر  کوئی  مسیحی  اپنے  تمام
 گناہوں سے نجات یافتہ ہونا چاہتا ہے ، اُسے یقینا ایمان رکھنا چاہیے کہ اُس کے گناہ یردنؔ پر ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے اور یہ کہ اُس نے ہمارے تمام گناہوں کے لئے صلیب پر سزا برداشت کی۔ دوسرے لفظوں میں ، ہمیں دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنا چاہیے۔
’’اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں ۔‘‘ (اعمال۴:۱۲)۔ یسوعؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے اورہمارا نجا ت دہندہ بن گیا ۔ یسوعؔ ہمیں ابدی ہلاکت سے بچانے کے لئے پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا ۔ ’’کیونکہ راستبازی کے لئے ایمان لانا دل سے ہوتا ہے اورنجات کے لئے اِقرار مُنہ سے کیا جاتا ہے ۔‘‘ (رومیوں ۱۰:۱۰)۔ کیا آپ ایک راستباز یا گنہگار شخص ہیں؟
گلتیوں ۳:۲۷ کہتاہے ، ’’اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا
مسیح کو پہن لیا ۔ ‘‘ یہ آیت ہمیں سچائی بتاتی ہے کہ یسوعؔ اپنےبپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھانے کے بعد مصلوب ہُوا تھا ۔ وہ تین دن بعد مردوں میں سے جی اُٹھا اور اب خُدا کے دہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے ۔ وہ اُن سب کا جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں نجات کا مالک بن گیا۔
اگر یسوعؔ مسیح بپتسمہ نہ لیتا ، اگر وہ ہمارے لئے صلیب پر خون نہ بہاتا ، وہ ہمارا نجات دہندہ بھی نہ بنتا ۔ ہم صِرف نجات یافتہ ہو سکتے ہیں جب ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ۔
 
 
 حتیٰ کہ موسیٰ ؔکا بیٹا
 
اُس کے مِصرؔ کے راستہ پر خُدا
نے موسیٰ ؔ کو کیوںمارنے کی کوشش کی؟
کیونکہ اُس نے اپنے بیٹوں کا ختنہ نہیں
کیا تھا ۔
 
جان سے پیارو، آپ یسوعؔ کے پانی اور خون کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں کی  معافی کے بھید کو سُن رہے ہیں ۔ خُدا کے اِن الفاظ کو سُننے کے قابل ہونا ایک حیران کن برکت ہے ۔
کیا یہ صِرف یسوعؔ مسیح کا خون ہے ؟ پرانے عہد نامہ کے دَور میں ، لوگ ختنہ اور برّے کے خون کے وسیلہ سے ابرہامؔ کی اولاد بن گئے ۔ اب ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا کے لوگ بن جاتے ہیں ۔ خُدا ہمیں پرانے عہد نامہ میں موسیٰؔ کی معرفت اِس کا ثبوت دکھا چکا ہے ۔
 اسرائیل کے لوگوں کو نجات دینے کے لئے خُدا نے موسیٰ ؔ سے کلام کِیا اور اُسے اپنے لوگوں کو مِصرؔ سے باہر لانے کا حُکم دیا۔ پس موسیٰؔ نے ، اپنے سُسر، یتروؔ کی اجازت کے ساتھ مدیان ؔ کی سرزمین چھوڑدی اور اپنی بیوی اور بیٹوں کے ساتھ مِصرؔ کی طرف روانہ ہُوا۔ جب اُس نے اپنے خاندان کو ایک گدھے پر بٹھایا ، خُداونداُسے اُس کے خیمہ کے نزدیک مِلا اوراُسے مارنا چاہا۔
لیکن اُس کی عقلمند بیوی صفورہؔ اِس کی وجہ جانتی تھی۔ اُس نے ایک تیز پتھر اُٹھایا اور اپنے  بیٹے  کی
 کھلڑی کو اُتار دیا اورموسیٰؔ کے پاوٴں میں پھینکا اور کہا ،’’ تو بیشک میرے لئے خونی دلہا ٹھہرا۔ ‘‘ پس خُدا نے اُسے جانے دیا ۔
یہ اُس کا کہنے کا طریقہ تھا کہ یقینا وہ ہر کسی کو مار دے گا ، حتیٰ کہ موسیٰؔ کے بیٹے کو بھی ، اگر اُس کا ختنہ نہیں ہُوا تھا ۔ اسرائیل کے لوگوں کے لئے ، ختنہ خُدا کے عہد کا نشان تھا وہ جانتے تھے کہ خُدا یقینا ہر کسی کو اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالے گا ، حتیٰ کہ راہنماکے بیٹے کو بھی،  اگر  وہ  نامختون  رہے ۔ اس  لئے،
  اِسی طرح اُس کے بیٹے کو کاٹنے سے بچانے کے لئے ، خُدا نے موسیٰؔ  کو اِس طریقے سے خبر دار کِیا ۔
کتابِ مقدس وجہ بتاتی ہے کہ صفورہ نے اپنے بیٹے کی کھلڑی کو اُتار دیا اور یہ کہتے ہوئے موسیٰؔ کے پاوٴں میں اُسے پھینکا ’’  تو خونی دولہا ہے! ‘‘ یعنی ختنہ کے لئے خُد اکی مرضی کو پورا کرنا تھا (خروج ۴: ۲۶)۔
کوئی بھی جس کا اسرائیلیوں کے درمیا ن ختنہ نہیں ہوتا تھا اپنے لوگوں میں سے کاٹ دیا جاتا تھا ۔ صِرف اُن کو جن کا ختنہ ہوتا تھا فسح کے برّے کا گوشت کھانے کی اجازت تھی اور خُدا کے لوگوں کے طورپر عبادت میں شریک ہونے کی اجازت تھی۔
پولوس ؔرسول ایک عبرانی تھا ۔ اُس کا اُس کی پیدائش کے آٹھ دن بعد ختنہ ہُو ا، عظیم ربی ، گملی ؔایل کے زیرِ تعلیم رہا ، اور صحیح طورپر سمجھا کیوں یسوعؔ مسیح نے یردن ؔپر بپتسمہ لیا تھا اور اُسے کیوں مصلوب ہونا پڑا تھا ۔ اس لئے پولوسؔ رسول نے اپنے تمام خطوں میں یسوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں لکھا۔
 پولوسؔ رسول نے اکثر یسوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں بھی ہماری نجات کی کاملیت کے طورپر بات کی۔ خون صِرف اُس کی خلاصی کا حتمی مرحلہ تھاجبکہ حقیقی روحانی ختنہ یسوعؔ کا بپتسمہ تھا۔ اُس کے بپتسمہ کے بغیر یسوعؔ کے خون پر زور دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
 پولوسؔ رسول نے اکثر براہِ راست یسوعؔ مسیح کے بارے میں بات کی ۔ یہ ِاس طرح کیوں تھا ؟ کیونکہ یہ ہماری نجات کا حتمی ثبوت ہے ۔ اگر یسوعؔ دُنیا کے تمام گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا چکا تھا اور ہمارے واسطے سزا کوقبول کرنے کے لئے صلیب پر خون بہانے میں ناکام ہوجاتا ، ہم مکمل طور پر نجات یافتہ نہ ہوتے ۔ یہی وجہ ہے پولوس ؔرسول نے اکثر صلیب کے بارے میں بات کی۔ صلیب ہماری نجا ت کا حتمی قدم ہے ۔
اگر نجات کا سچ بگاڑے بغیر اِس نسل کے سُپر د کیا جاتا ، اب تک بہت سارے زیادہ لوگ گناہ کے بغیر موجود ہوتے ۔لیکن بد قسمتی سے ، سچ بڑے عرصے سے کھو چکا ہے اور بہت سارے لوگ صِرف اُس کے بپتسمہ کے سچے مطلب کا احساس کیے بغیر صلیب کے بارے میں جانتے ہیں ۔
کیونکہ وہ صِرف خوشخبری کے خالی خول پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ گنہگار ہی رہیں گے کوئی معنی  نہیں  رکھتا  وہ کتنے سالوں سے جوش و جذبے کے ساتھ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ وہ  ۱۰سال  بعد بھی  اب  تک
گنہگار رہیں گے حتیٰ کہ ۵۰ سالہ مذہبی زندگی کے بعد بھی۔
 
 
 میر ی گواہی
          
کیا خُدا گنہگاروں کو راستباز خیال کرتا ہے ؟
نہیں ۔ وہ عادل ہے ۔ راستباز وہ ہیں جو گناہ سے آزاد ہیں ،
یعنی اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یسوعؔ پر
اپنے تمام گناہوں کو لاد چکے ہیں ۔
 
میں نے یسوعؔ پر ایمان رکھنا شروع کیا جب میں بیس سال کا تھا ۔ اُس وقت سے پہلے، مجھے کوئی اندازہ نہیں تھا میں اپنی زندگی میں کتنے گناہ سرزد کر چکا تھا کیونکہ میں خُد اکی شریعت کو نہیں جانتا تھا ۔ اُس وقت تک خُدا کو کبھی بھی جانے بغیر میں ذاتی طورپراپنے  طریقہ کے مطابق زندگی گزار چکا تھا۔
 تب میں بیمار ہوگیا۔ میں اتنا بیمار ہو گیا کہ میں نے سوچا میں مرنے والا تھا ۔ پس میں نے فیصلہ کیا کہ کم ازکم مجھے اپنی موت سے پہلے اپنے تمام گناہوں سے چھٹکارہ پالینا چاہیے۔ کیونکہ میں سُن چکا تھا کہ یسوعؔ میری طرح کے گنہگاروں کے لئے مُوا تھا ، میں نے اُ س پر ایمان رکھنے کا فیصلہ کِیا ۔ شروع شروع میں ، میں شادمانی اور شکر گزاری سے بہت بھرپور تھا۔
لیکن کچھ دیر کے بعد یہ احساس پھیکا پڑنا شروع ہو گیا ۔ چند سالوں کے بعد، میں بچ نہ سکا بلکہ ہر روز نئے گناہ کرتا ۔ میں باربار گنہگار بنتا گیا۔ دس سال کے بعد، میں پھر بھی ایک گنہگار تھا ، حقیقتاً پہلے سے بڑا بدکار۔ میں دس سال سے یسوعؔ پر ایمان رکھتا تھا ، اور حقیقت یہ تھی کہ میں کبھی بھی تبدیل ہوئے بغیر ایک گنہگار تھا ۔ میں دونوں ایماندار اور گنہگار تھا۔
 اگرچہ میں نے گایا،  ’’ ♪رونا مجھے نہیں بچائے گا !اگرچہ  میرا  چہرا  آنسووٴں  سے  نہا
گیا ، جومیرے خدشات کو بجھا نہ سکے ، برسوں کے گناہوں کو دھو نہ سکے ! رونا مجھے نہیں  بچائے  گا! ♪‘‘میں ہر دفعہ چلایا جب میں نے گناہ کِیا ۔
’’پیارے خُدا ، مہربانی سے مجھے اِس ایک گناہ کے لئے معاف کر دے ۔ مجھے یہ ایک بار معاف کر دے ، اور میں پھر کبھی گناہ نہیں کرونگا۔ ‘‘ گناہ کرنے کے بعد، میں تین دن کے لئے دُعا کیا کرتا تھا ۔ میں کمرے کے ایک کونے میں اپنے آپ کو بند کر لیتا اور دُعا کرتا جبکہ تین دن کے لئے روزہ بھی رکھتا تھا ۔ کیونکہ میرا ضمیر اتنا بھاری تھا ، میں چلایا اور خُدا سے معافی مانگی ۔ تین دن کے بعد، میں بہتر محسوس کرتا اور سوچتا میں اُس کی حضوری میں پھر داخل ہو سکتا تھا۔
 ’’پھر ، میں اپنے گناہوں کو دھو چکا ہوں ۔ ہیلیلویاہ!‘‘ میں کچھ دیر کے لئے اُبھرتا اور مستعدی سے زندگی بسر کرتا ۔ لیکن میں جلد ہی پھر گناہ کرتا اور مایوسی بڑھ جاتی ۔ میں یہ غمگین عمل باربار دُہرایا کرتا تھا ۔ شروع شروع میں ، یسوعؔ پر ایمان رکھنا بہت عظیم محسوس ہوا ، لیکن جتنا زیادہ میں نے ایمان رکھا اُتنے ہی میرے گناہ ایک بند کمرے کی دُھول کی مانند جمع ہوتے گئے ۔
۱۰سال بعد ، میں ایک زیادہ بڑا بدکار بن گیا یعنی جس وجود سے میں نے شروع کیا تھا ۔ ’’میں نے کیوں اپنی زندگی کی ابتدا میں یسوعؔ پرایمان رکھا؟‘‘ یسوعؔ پر ایمان رکھنا زیادہ آسان ہوتا اگر میں انتظار کرتا جبکہ میں ۸۰ سال کا ہوجاتا ، یعنی بالکل اپنے مرنے سے پہلے ۔ تب، میں گناہ کا شعور نہ رکھتا اورہر روز توبہ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ ‘‘ میں سوچتا تھا کہ مجھے خُد اکی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرنی چاہیے ، لیکن ناممکن تھا ۔ میں نے محسوس کیا میں پاگل ہو رہا ہوں !
میں نے تلاش اور خُدا کے لئے نئی تلاش شروع کی۔ میں نے بہت سارا وقت علم الہٰیات کامطالعہ کرنے میں گزارا لیکن چند سالوں کے بعد، میرا دل حتیٰ کہ زیادہ بنجر بن گیا۔ مذہبی نظریات پر کتابیں پڑھنی شروع کرنے سے پہلے ، میں کہا کرتا تھا میں مقدس ڈیمین کی مانند ، ایک گرم بستر پر کبھی بھی آرام دہ نیند نہ سوتے ہوئے زندہ رہوں گا۔ میں عہد کر چکا تھا کہ میں کبھی بذات ِ خود عیش وعشرت نہیں کروں گا ، بلکہ اپنے آپ کو مکمل طور پر ضرورت مندوں کے لئے وقف کروں گا ۔
 جس طرح میں نے اِس مقدس کی زندگی کے بارے میں پڑھا، میں نے بالکل اُس کی مانند  زندگی
بسر کرنے کا عہد کِیا۔ میں نے اپنے آپ کے لئے ترکِ دُنیا زندگی اپنانے کی کوشش کی۔ میں سیمنٹ کے سخت فرشوں پر گھٹنے ٹیک کر دُعا کرتا تھا اور ایک وقت میں گھنٹوں دُعا کیا کرتا تھا ۔ تب ، میں محسوس کرتا جیسے اگر میری دُعائیں زیادہ معنی رکھتی تھیں اور اِس کے بعد ، میں  اپنے  آپ  کے  بارے  میں  زیادہ  بہتر
محسوس کرتا تھا ۔
لیکن۱۰ سال بعد ، میں اِسے مزید جاری نہ رکھ سکا۔ پس میں نے خُد اسے دُعا مانگی ۔ ’’آسمان کے پیارے خُدا ، مہربانی سے مجھے بچا۔ میں اپنے پورے دل کے ساتھ تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ۔ میں جانتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ اپنے خلوص کو نہیں بدلوں گا حتیٰ کہ اگر کوئی میری گردن پر چاقو رکھتا ہے۔ لیکن حتیٰ کہ میں اپنے پورے دل کے ساتھ تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ، میں کیوں اب تک اپنے اندر خالی پن محسوس کرتا ہوں ؟ میں کیوں اِتنا پریشان ہوں ؟ میں کیوں پہلے سے زیادہ بڑا گنہگار بن رہا ہوں؟ میں نے پہلے گناہ کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا تھا ۔ میں تجھ پر ایمان رکھنے کیلئے آیا ، اور اب میں حیران ہوتا ہوں کیو ں میں تجھ پر سالوں سے ایمان رکھنے کے بعد بھی اتنا زیادہ بدکار بن چکا ہوں ؟ میرے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟‘‘
  یہ اِس نکتہ پر تھا کہ میں نے وجہ کو جانا ۔ میں اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہوئے بغیر خُدا پر ایمان رکھ چکا تھا ۔ میں اُس وقت سچائی کو نہیں جانتا تھا اور ، یہ مجھے پاگل کرنے کے لئے کافی تھا۔
اپنے دل میں گناہ کے ساتھ ، میں کیسے دوسروں کو خُدا کے فضل کی خلاصی کے بارے میں بتا سکتا تھا ؟ میں کیسے دوسروں کو یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے بارے میں بتا سکتا تھا ؟ میں نے باربار دُعا مانگی ۔ ’’پیارے خُدا، میں جلدہی سیمنیری سے گریجویٹ ہو جاؤنگا اور ایک خادم کے طورپر مخصو ص کیا جاؤنگا ۔ لیکن اگر میں گناہ کے ساتھ لدا ہوا ایک خادم بنتا ہوں، میں کیسے دوسرے گنہگاروں کو گناہوں کی معافی کے بارے میں بتانے کے قابل ہوں گا؟ میں بذاتِ خود ایک گنہگار ہوں اور جب میں نے پولوسؔ رسول کے خطوط پڑھے میں نے پایا کہ اگر کوئی مسیح کی رُوح نہیں رکھتا ، وہ خُدا کا بیٹا نہیں ہے۔ لیکن کوئی معنی نہیں رکھتا میں نے کتنی دل سے تلاش کی ، رُوح القدس مجھ میں نہیں ہے ۔ میں نے محسو س کِیا یہ شروع میں موجود تھا ، لیکن اَب یہ غائب ہو چکا ہے ۔ کیا واقع ہُوا؟ مہربانی سے اَے خُداوند ، مجھے بتا کیوں۔‘‘
 حقیقت میں ، وجہ یہ تھی کہ میں بذاتِ خود اِس سوچ سے دھوکا کھا چکا تھا کہ  میں  یسوعؔ  پر سادہ
ایمان کے وسیلہ سے چھڑایا جا چکا تھا ۔ میں نے ایک عرصہ تک اِس سے ذہنی روحانی اذیت اُٹھائی۔
خُدانے اپنے آپ کو ظاہر کرنے کا وعدہ کِیا جو پورے دل سے اُس کی تلاش کرتے ہیں ۔ آخر کار وہ اپنی سچائی کے ساتھ مجھے ملا۔ میں ۱۰ سال کے بعد بھی اب تک ایک گنہگا ر تھا جب میں نے یسوعؔ پر ایمان رکھنا شروع کِیا ، لیکن جب میں نے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کابھید سیکھا ، جب میں نے پرانے عہد نامہ میں ختنہ اور نئے عہد نامہ میں روحانی ختنہ کا مطلب دریافت کیا ، جب میں نے احساس کیا اور مسیح کے بپتسمہ کے وسیلہ سے نجات کے بھید پر ایمان رکھا ، میری تمام تکلیفیں ختم  ہو  گئیں ۔ میری  روح برف  کی
مانند سفید ہوگئی۔
یہ آپ کے لئے اَیساہی ہو جائیگا ۔ اگر آپ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُسکے خون کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں ، آپ بھی بے گناہ بن جائیں گی۔ آپ شاید اب تک نامکمل ہوں ، لیکن آپ راستباز ہوں گے۔ جب آپ اِس سچائی کو اپنے دلوں میں لیتے ہیں اوردوسروں کو اِسے بتاتے ہیں ، وہ بھی نجات یافتہ ہو جائیں گے اور ’’ہیلیلویاہ!‘‘ چلاتے ہوئے ، خُداکی تعریف کریں گے ۔
میں تما م بھائیوں اور بہنوں کومبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں جو چھڑائے جا چکے ہیں۔ ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے میں یسوعؔ کی تعریف کرتا ہوں۔ ہیلیلویاہ ! ہم شادمانی کے ساتھ اپنے تمام گناہوں سے چھٹکارہ پاچکے ہیں۔
یہ اَیسی عظیم برکت ہے کہ ہم محض الفاظ کے ساتھ اپنی ساری خوشی کو بیان کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ آئیں ہم مل کر ایک گیت گائیں۔ ’’ ♪ اُ س کا نام ایک بھید بن چکا ہے ، کیونکہ ہم نے اب تک ہر مخلوق کے سامنے اُن بھیدوں کی منادی نہیں کی ہے۔وہ معماروں کے رد کیے ہوئے پتھر کی مانند باہر پھینکا گیا تھا ، لیکن اُس کا نام میرے دل میں قیمتی ترین موتی بن گیا♪۔ ‘‘
 
 
یسوعؔ کابپتسمہ اور اُس کا خون تما م گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے نجات دینے کے لئے ضرورت سے زیادہ ہے
 
کیاہمارے دلو ں سے تمام
گناہوں کو دُور کرتاہے؟
یسوعؔ کا بپتسمہ
 
یسوع ؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو ڈالا ۔ اُس نے ہمارا روحانی طورپر ختنہ کِیا اور ہمیں اُس کے لوگ بنایا۔ وہ نئے سِرے سے پیدا ہونے والوں کاخُد اہے۔
گناہ کے لئے ہمیشہ عدالت موجو دہے۔ لیکن یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اورہمیں بچانے کے لئے صلیب
 پر پرکھا گیا۔اپنے خون کے ساتھ ، اُس نے ہم سب کو نجات دی اور تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا ۔ یہ خُداباپ تھا جس نے یسوعؔ کو مردوں میں سے زندہ کیِا۔
یسوعؔ کی زندگی ہماری زندگی ہے اور خُدا کے بیٹوں کے طورپر ہمارے وجود کا نشان ہے۔ اُس  کے  بپتسمہ نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور صلیب پر یسوعؔ کا قیمتی خون ثبوت ہے کہ اُس نے ہماری خاطر سزا برداشت کی۔
 پیارے دوستو، کیا آپ اپنے دلوں میں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُ س کے خون کا یہ ثبوت رکھتے ہیں ؟ میں آپ سے پھر پوچھتا ہوں ۔ کیا ہماری نجات صِرف یسوعؔ کے خون کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے ؟ نہیں۔ یہ اکٹھی یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے۔
 
 
بدعتی کون ہے؟
 
بدعتی کون ہے؟
وہ جو یسوع ؔ کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے میں ناکام
ہو نے پر اپنے آپ کو مجرم ٹھہراتاہے۔
 
پیارے دوستو، کیا آپ اپنی زندگی کے ہر دن میں یسوعؔ پراپنے ایمان کا اِقرار کرنے کے باوجود اب تک ایک گنہگار ہیں؟ اگر آپ ایک گنہگار ہیں حتیٰ کہ آپ یسوعؔ پر بھی ایمان رکھتے ہیں، تب آپ ایک بدعتی ہیں ۔ خُداکی سچائی پرایمان نہ رکھنا بدعت ہے۔طِطُس۳:۱۰۔۱۱بدعتی کے بارے میں بات کرتا ہے ، ’’ایک دوبار نصیحت کرکے بدعتی شخص سے کنارہ کر ۔ یہ جان کر کہ اَیسا شخص برگشتہ ہو گیا ہے اور اپنے آپ کو مجر م ٹھہر اکر گناہ کرتا رہتا ہے ۔ ‘‘
 اپنے آپ کو مجرم ٹھہرانے والا شخص کہتا ہے ،’’ پیارے خُدا! میں ایک گنہگا ر ہوں ۔ میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں ، لیکن اب تک ایک گنہگا رہوں ۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کوئی کیا کہتا ہے ، میں ایک گنہگار  ہوں  اور میں  جانتا ہوں یہ سچائی ہے۔‘‘
خُدا اُس سے کہتا ہے ، ’’ کیا تم اب تک گنہگار ہو اور ابھی تک میرے بیٹے نہیں ہو ؟ تب، تم ایک بدعتی ہو ، ا ور تم جہنم کے شعلوں میں پھینکے جاؤگے ۔‘‘
اگر آپ اپنے دل میں یسوعؔ کے بپتسمہ کی خوشخبری پر ایمان رکھے بغیر یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں،اگر آپ اپنے آپ کو ایک گنہگار کے طورپر مجرم ٹھہراتے ہیں اور خُدا کے سامنے اِقرار کرتے ہیں کہ آپ کی روح گناہ کے ساتھ ہے ، آپ خُدا کے سامنے ایک بدعتی ہیں ۔
 
 
کون حقیقی ایماندار ہیں؟
 
نجات کے بارے میں خُدا کی گواہی
کیا ہے؟
پانی ،خون اور روح
 
وہ سب لوگ جو یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں ، وہ سب جو خُدا کے لوگ بن چکے ہیں ، اور وہ سب جو اپنے گناہوں کو دھو چکے ہیں راستباز ہیں۔آپ کیسے اب تک گنہگار ہو سکتے ہیں جبکہ آپ یسوعؔ پرایمان رکھتے ہیں؟ایک گنہگار خُد اکی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔
وہ جو یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے راستباز بن گئے اپنے دلوں میں خُدا کی گواہی رکھتے ہیں ۔ گواہی یسوعؔ کا بپتسمہ اور اُس کا خون ہے۔ یہ نجات کا کام ہے کہ یسوعؔ مسیح نے اس دُنیا میں کیا کِیا تھا۔
اس لیے ، کوئی بھی جو بپتسمہ کی خوشخبری پرایمان رکھنے سے انکار کرتا جس کے وسیلہ سے یسوعؔ نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا خُد اکے پاس سے کاٹ دیا جائے گا۔
 ایمان میں پیارے بھائیواور بہنو، کیا آپ اپنے دلوں میں خوشخبری کو قبول کرتے  ہیں  کہ  گنہگاروں کی نجات محض یسوعؔ کے خون سے نہیں ہے ، بلکہ پانی سے بھی ہے جو یسوعؔ کابپتسمہ ہے؟
جوکوئی بھی کام پر ایمان رکھتا ہے جو یسوع ؔ نے اس دُنیامیں کِیا ، اور جو کوئی پانی ، خون اور روح کو قبول کرتا ہے تمام گناہوں سے نجا ت پائیگا ۔ یہ سچائی اور پانی ،خون اور روح کی حکمت ہے ۔
یسوعؔ نے ہمیں تمام گناہ سے مکمل طورپر اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے پاک کیا تاکہ ساری نسلِ انسانی اُس کے وسیلہ سے نجات پا سکے۔ اگر آپ واقعی یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ، آپ کے لئے کوئی راستہ موجو دنہیں ہے کہ آپ ایک گنہگار ہوں ۔
یسوعؔ نے ہمیں مردوں میں سے زندہ کیا۔ اُس نے تمام جانوں کو بچایا ،جو کھِسک چکی تھیں اور اِبلیس کے دھوکوں کی وجہ سے خُدا سے دُور جاچکی تھیں۔یسوعؔ تمام کھوئی ہوئی جانوں کو ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ خُد ایسوعؔ کے وسیلہ سے پانی ، خون اور روح کی خوشخبری کے ساتھ کام کرتا ہے۔ وہ ہمیں بلا چکا ہے اور اب ہم آزاد اور اُس کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔
کیا آپ اس گہرے ترین سچ پرایمان رکھتے ہیں ؟ میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ نجات محض خون کے وسیلہ سے نہیں ہے ، بلکہ دونوں یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے ہے ۔ وہ جو کہتے ہیں کہ وہ صِرف خون کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں کو یقینا پہچاننا چاہیے کہ وہ اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں ۔
ہم سب سوچا کرتے تھے کہ اپنی نجات کے لئے یسوعؔ کے خون پر ایمان رکھنا ہی کافی تھا۔ ہم نے بہت پہلے سوچا تھا ، لیکن اب ہمیں احساس کرنا چاہیے کہ یہ کافی نہیں ہے۔ ہم یسوع ؔ مسیح پرایمان رکھنے کی معرفت ، جو پانی ، خون اور روح کے وسیلہ سے آیا تھا نجات یافتہ اور نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں ۔
ہر گنہگار یسوع ؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا ہے (۱۔یوحنا۵:۵۔۱۰)۔آئیں ہم خُد اکی تعریف کریں ۔  ہیلیلویاہ!