خطبات

مضمون 3: پانی اور رُوح کی خوشخبری

[3-9] <متی ۷:۲۱۔۲۳> آئیں ہم ایمان کے ساتھ باپ کی مرضی پوری کریں

<متی ۷:۲۱۔۲۳>
’’جو مجھ سے اَے خُداوند! اَے خُداوند ! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتاہے ۔ اُس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند ! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا او ر تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے ؟ ۔ اُس وقت میَں اُن سے صاف کہہ دُونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاوٴ۔ ‘‘
 
 
شاید ایک میں ہُوں ۔ ۔ ۔
 
کیا ہر ایک جو اَے خُداوند ، اَے خُداوند کہتا ہے
آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوتاہے ؟
نہیں ۔ صِرف وہی جو خُدا کی
مرضی پوری کرتے ہیں۔
 
یسوعؔ مسیح کہتا ہے ، ’’ جو مجھ سے اَے خُداوند ! اَے خُداوند ! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر
چلتا ہے ۔‘‘یہ الفاظ بہت سارے مسیحیوں کے دلوں میں خوف برپا کر چکے ہیں ، اور اُن کے لئے خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کے واسطے سخت محنت کا سبب بنے ہیں ۔
زیادہ ترمسیحی سوچتے ہیں آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے لئے اُنہیں صِرف واحد چیز جو کرنے کی ضرورت ہے۔ صِرف یسوعؔ پر ایمان رکھنا ہے ،لیکن متی ۷:۲۱ ہمیں بتاتاہے کہ ہر کوئی جو اُسے’’ اَے خُداوند ، اَے خُداوند‘‘کہتا ہے ہرگز آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا۔
بہت سارے جو اِس آیت کو پڑھتے ہیں حیرانی میں پڑ جاتے ہیں ، ’’شاید ایک میں ہوں ۔‘‘وہ اپنے آپ کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ’’نہیں ! یقینا یسوعؔ کا مطلب غیر ایماندار ہیں ۔ ‘‘ لیکن یہ سوچ اُن کے ذہنو ں میں قائم رہتی ہے اور ہر وقت اُن کی جھاڑ جھپاڑ جاری رکھتی ہے ۔
پس ، وہ اِس آیت کے آخری حصہ پر تکیہ کرتے ہیں جو فرماتی ہے ، ’’مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتاہے ۔‘‘وہ اِن الفاظ پر تکیہ کرتے ہیں ، ’’میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔ ‘‘ اورسوچتے ہیں کہ وہ اَیسا وفاداری سے دہ یکی دینے ، صبح سویرے دُعا کرنی، منادی کرنے ،ا وراچھے کام کرنے اور گناہ نہ کرنے کے وسیلہ سے کر سکتے ہیں …اور وہ بڑی جانفشانی سے کوشش کرتے ہیں ۔ اُنہیں یوں دیکھ کر مجھے بہت دُکھ ہوتاہے۔
بہت سارے لوگ غلطیاں کرتے ہیں کیونکہ وہ اِس آیت کو نہیں سمجھتے ہیں۔ اِس لئے میں اِس آیت کو صاف طورپر واضح کرنا پسند کرونگا تاکہ ہم سب خُدا کی مرضی کو جان سکیں اور اُس کے مطابق زندہ رہیں۔
پہلے ، ہمیں یقیناجاننا چاہیے کہ اپنے بیٹے کے لئے خُدا کی مرضی تمام لوگوں کے گناہوں کو اُٹھانا اور اِس طرح ہمیں گناہوں سے آزاد کرنا ہے۔
اِفسیوں ۱:۵ میں یوں لکھا ہے ’’اور اُس نے اپنی مرضی کے نیک ارادہ کے موافق ہمیں اپنے لئے پیشتر سے مقرر کیِا کہ یسوعؔ مسیح کے وسیلہ سے اُس کے لے پالک بیٹے ہوں ۔ ‘‘
دوسرے لفظوں میں ، ہمارے لئے اُس کا ارادہ سچی خوشخبری کو جاننا ہے کہ یسوعؔ مسیح نے ، اِس طرح ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کی اجازت دیتے ہوئے ہمارے تمام گناہ دھو ڈالے تھے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے تمام گناہوں کو اُس کے بیٹے یسوعؔ پر ڈالنے کے وسیلہ سے پانی اور روح کے ساتھ نئے سِرے سے پیدا ہوں ۔ یہ خُد اکی مرضی ہے۔
 
 
محض‘‘ اَے خُداوند !اَے خُداوند!کہنا ’’
          
جب ہم یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں
ہمیں یقینا کیا جاننا چاہیے ؟
باپ کی مرضی
 
’’جو مجھ سے اَے خُداوند! اَے خُداوند ! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہو گا مگر وہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتاہے ۔‘‘(متی ۷:۲۱)۔
ہمیں باپ کی مرضی کو دو طریقوں سے سمجھناچاہیے ۔ اوّل ، ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ یہ اُس کی مرضی ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے معافی حاصل کریں اور پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے سے پیدا ہوں ۔ دوم، ہمیں ایمان کی اِس بُنیاد پر کام کرنا چاہیے۔
یہ اُس کی مرضی ہے کہ وہ زمین پر تمام لوگوں کے گناہوں کو مِٹائے ۔ اِبلیس ، گناہ کے وسیلہ سے ہمارے باپ دادا آدمؔ کی برطر فی لایا۔ لیکن ہمارے باپ کی مرضی انسان کے تمام گناہوں کو مٹانا ہے ۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے لئے ہمارے باپ کی مرضی یہ نہیں ہے کہ ہم وفاداری سے دہ یکی دیں اور صبح سویرے اُٹھ کر دُعائیں مانگیں ، بلکہ ہم سب کو گناہ سے بچانا ہے ۔ یہ اُس کی مرضی ہے کہ وہ ہم سب کو گناہ کے سمند ر میں ڈوبنے سے بچالے۔
 کتاب مقد س بتاتی ہے کہ ہر کوئی جو ’’ اَے خُداوند ، اَے خُداوند ‘‘ کہتا ہے ہرگز آسمان کی
بادشاہی میں داخل نہ ہوگا۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمیں یسوعؔ پر صِرف ایمان ہی نہیں رکھنا ہے بلکہ جانیں کہ ہمارا باپ ہمارے لئے کیا چاہتاہے ۔ یہ اُس کی مرضی ہے کہ ہمیں گناہ اور جہنم کی سزا سے نجات دلائے ، یہ جانتے ہوئے کہ آدم ؔ اور حواؔ کے ورثہ کا مطلب ہے کہ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ گناہ میں زندہ رہتے ہیں ۔
 
 
خُدا کی مرضی
          
خُدا کی مرضی کیا ہے ؟
ہمیں گنا ہ سے آزاد کرنے کی
وسیلہ سے اپنے بیٹے بنانا۔
 
متی ۳:۱۵بتاتا ہے ، ’’ہمیں اسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔‘‘ اِس طرح خُدا کا منصوبہ پورا کرنا تھا کہ یسوع ؔ ہم سب کواِس دُنیا میں گناہ سے بچانے کے لئے آیا۔ خُدا کی مرضی پوری ہو گئی تھی جب یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیاتھا ۔
وہ ہمیں بچانا چاہتا تھا اور اپنے بیٹے بنا تاہے ۔اَیسا کرنے کے سلسلے میں ، اُس کے بیٹے کو ہمارے تمام گناہ اُٹھانے تھے ۔ یہ اُس کی مرضی تھی کہ تما م لوگ اُس کے بیٹے بنیں۔ پس اُ س نے تمام لوگوں کے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے اپنے بیٹے کو بھیجا جو شیطان کے چُنگل میں پھنس چکے تھے ۔ یہ اُس کی مرضی تھی کہ تمام لوگوں کے لئے اپنے اِکلوتے بیٹے کی زندگی کو قربان کرے تاکہ وہ اُس کے بیٹے بن سکیں۔
جب یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر جان دی تو خُداکی مرضی پوری ہوگئی۔ اُس کی مرضی یہ بھی ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ ہمارے تمام گناہ یسوعؔ پر لا ددئیے گئے تھے جب اُس نے بپتسمہ لیا اور یہ کہ اُس نے صلیب پر اپنی موت کے وسیلہ سے ہماری تمام بدکاریوں کے لئے سزا برداشت کی۔
’’کیونکہ خُدانے دُنیا سے اَیسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اِکلوتا بیٹا بخشدِیا ‘‘ (یوحنا ۳ :۱۶)۔
خُدا نے اپنے لوگوں کو گنا ہ سے نجات دی ۔ اَیسا کرنے کے لئے یسوعؔ نے اپنی عوامی خدمت میں جو پہلی چیز کی ، یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینا تھا ۔
’’یسوعؔ نے جواب میں اُ س سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے ۔ اس پر اُس نے ہونے دیا ۔‘‘(متی ۳:۱۵) ۔یہ خُدا کی مرضی تھی کہ یسوعؔ اس دُنیا میں آیا ، اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ، صلیب پر مر گیا اور جی اُٹھا۔
ہمیں یہ واضح طورپر جان لینا چاہیے ۔ بہت سارے لوگ متی۷: ۲۱ پڑھتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ
 یہ اُس کی مرضی ہے کہ ہم ، حتیٰ کہ جان دینے تک ، گرجا گھروں کو تعمیر کرنے کے لئے اپنی تمام دُنیاوی جائیدادیں پیش کرنے کے وسیلہ سے خُداوند کی خدمت کریں ۔
ساتھی مسیحیو ہم جو یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں کو پہلے خُدا کی مرضی جاننی چاہیے اور تب اِسے کرنا چاہیے۔ آپ کے لئے یہ غلط ہے کہ آپ اُس کی مرضی جانے بغیر اپنے آپ کو کلیسیا کے لئے وقف کردیں۔
لوگ اپنے آپ سے پوچھتے ہیں اپنے دقیا نوسی گرجا گھروں کے ایمان میں زندہ رہنے کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے ۔ لیکن میں نے خود پریسبٹیر ین کلیسیا میں کیلون ؔ ازم کی تعلیم پڑھی اور ایک مُتبنٰی ماں کے ما تحت پرورش پائی جو کسی بڑے تجربہ کار پاسبان کی طرح سخت مذہبی تھی ۔ میں نے نام نہا د ’’صحیح العقیدہ کلیسیا ‘‘ میں سے سیکھا۔
پولو سؔ رسول نے کہا کہ وہ بھی اس بات پر فخر کر سکتا ہے کہ وہ بنیا مین ؔ کے قبیلہ سے تھا اورگملی ؔ ایل کی زیرِ نگرانی شریعت کو پڑھا ، جووقت کا ایک عظیم استاد تھا ۔ پولوسؔ نئی پیدائش سے پہلے ، اُن کو گرفتا ر کرنے کی راہ پر تھا جو یسوع ؔ پر ایمان رکھتے تھے ۔ لیکن اُس نے دمشقؔ ؔ کی راہ میں یسوعؔ پر ایمان پایا ، اور پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدائش کی برکت کے وسیلہ سے راستباز بن گیا۔
 
 
اِس سے پہلے کہ ہم اِسے کر سکیں ہمیں خُداکی مرضی جاننی ہے
         
یسوعؔ پر ایمان رکھنے سے پہلے
کیا ضروری ہے ؟
ہمیں یقینا پہلے اُس کی مرضی جاننی
چاہیے ۔
 
ہماری پاکیزگی خُدا کی مرضی ہے ۔ ’’چنانچہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تم پاک بنو یعنی
حرام کاری سے بچے رہو ۔‘‘ (۱۔تھسلُنیکیوں ۴:۳) ۔ہم جانتے ہیں کہ یہ خدا کی مرضی ہے کہ ہم پانی اور روح کے وسیلہ سے مکمل طورپر پاک ہوں اور اپنی تمام زندگیاں ایمان سے گزاریں ۔
 اگر کوئی شخص جو یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے اور ابھی بھی اپنے دل میں گناہ رکھتا ہے ، تو وہ خُدا کی مرضی کے مطابق زندگی نہیں گزار رہا ہے ۔ اُس کی مرضی کی پیروی مطالبہ کرتی ہے کہ ہم یسوعؔ میں پائی جانے والی نجات کے وسیلہ سے پاک ہوں۔ اُسے جاننا خُدا کی مرضی کو پورا کرنا ہے ۔
جب میں آپ سے پوچھتا ہوں ، ’’ کیا آپ اَب بھی اپنے دل میں گنا ہ رکھتے ہیں حتیٰ کہ آپ یسوعؔ پر بھی ایمان رکھتے ہیں ؟ اور آپ کا جواب ہے ہاں، تب آپ واضح طورپر اب تک خُدا کی مرضی کو نہیں جانتے ہیں ؟ ‘‘ یہ خُد اکی مرضی ہے کہ ہمیں پاک ہونا چاہیے اور پانی اور روح پر ایمان کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونا چاہیے۔
ایک دفعہ ایک آدمی تھا جو فرمانبردار بیٹے رکھتا تھا ۔ ایک دن اُ س نے بڑے بیٹے کو بلایا جو زیادہ فرمانبردار بھی تھا ، اور کہا ’’بیٹا ، کھیتوں سے پار گاوٴں میں جاوٴ ۔ ۔ ۔‘‘
اُس کی بات ختم ہونے سے پہلے ، بیٹے نے کہا ’’ہاں اَے باپ ‘‘ اور چلا گیا۔ اُس نے جاننے کا انتظار نہ کیِا کہ اُسے کیا کرنا تھا ۔ وہ صِرف چلا گیا ۔
اُس کے باپ نے اُسے پیچھے سے بلایا ، ’’بیٹا یہ سب بہت ہی اچھا اور خوب ہے کہ تم اتنے فرمانبردار ہو لیکن تمہیں جانناچاہیے کہ میں کیا چاہتاہوں کہ تم کرو۔‘‘
لیکن بیٹے نے کہا’’اَے باپ یہ بالکل ٹھیک ہے ۔ میں تمہاری فرمانبرداری کروں گا۔ مجھ سے بہتر کون فرمانبرداری کر سکتا ہے ؟ ‘‘
لیکن بے شک وہ خالی ہاتھ واپس آیا۔ وہ اپنے باپ کی مرضی کو جانے بغیر اُسے پوری کرنے کی کوئی راہ نہیں رکھتا تھا یعنی وہ کیا تھا جووہ چاہتا تھا ۔ اُس نے محض اندھا دُھند فرمانبرداری کی۔
ہم بھی اُ سکی طرح ہو سکتے ہیں اگر ہم یسوعؔ مسیح کو نہیں جانتے ہیں ۔ بہت سارے اپنے آپ کو وقف کر تے ہیں ، الہٰیاتی نظریات کی پیروی کرتے ہیں ، وفاداری سے دہ یکی دیتے ہیں ، ساری رات دُعا کرتے ، روزہ رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔سب کچھ خُدا کی مرضی کو جانے بغیر کرتے ہیں ۔
جب وہ اپنے دلوں میں گناہ کے ساتھ مرتے ہیں ، وہ آسمانی دروازے سے نکال دئیے جاتے ہیں ۔ وہ خُد اکی مرضی پوری کرنے کے لئے بالکل رضا مند تھے لیکن نہ جانا خُدا کیا چاہتا تھا۔
 
بدی کرتے رہنے کا کیا مطلب ہے ؟
بطور گنہگار یسوعؔ پر ایمان رکھنا جبکہ
پانی اور روح کی خوشخبری کو نہ جاننا
 
’’اُس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا او ر تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے ؟ ۔ اُس وقت میَں اُن سے صاف کہہ دُونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاوٴ ۔‘‘ (متی ۷ :۲۲۔۲۳)۔
کچھ چیزیں ہیں جو خُدا چاہتا ہے کہ ہم کریں اور یہ ایمان ہے جس کا وہ ہم سے مطالبہ کرتا ہے ۔ وہ
چاہتا ہے کہ ہم ایمان رکھیں کہ یسوعؔ نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے تھے ۔بہت سارے پانی اور روح کی خوشخبری کو جانے بغیر نبوت کرتے ، بدروحوں کو نکالتے اور اُس کے نام پر معجزات کرتے ہیں۔
 معجزات کرنے کا مطلب بہت سے گرجا گھروں کو تعمیر کرنا ، کسی کا اپنی تمام جائیداد کو بیچ کر کلیسیا کو دے دینا ، خُداوند کے لئے کسی کا اپنی زندگی کو پیش کرنا ، اُن چیزوں میں سے ہے ۔
اُس کے نام پر نبوت کرنے کا مطلب راہنما ہونا ہے۔ اَیسے لوگ فریسیوں کی مانند ہیں جو شریعت کے مطابق زندگی گزارنے پر فخر کرتے ہیں جبکہ یسوعؔ سے دشمنی رکھتے ہیں ۔ یہ روائتی مسیحی ممکن ہونے پر بھی لاگُوہوتا ہے۔
بدروحوں کو نکالنا طاقت کی مشق کرنا ہے۔ وہ سب اپنے ایمان میں اتنے پُرجوش ہیں لیکن آخر میں خُداونداُ نہیں بتائے گا کہ وہ اُنہیں نہیں جانتا ۔ وہ اُن سے پوچھے گا وہ اُسے کیسے جا ن سکتے ہیں جبکہ وہ اُنہیں نہیں جانتا ۔
خُداوند فرماتا ہے ، ’’ اُس وقت میَں اُن سے صاف کہہ دُونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جا وٴ ۔‘‘اُس دن لوگوں کی بھیڑ اُس کے سامنے چلائے گی ’’اَے خُداوند میں ایمان رکھتا ہوں ، میں ایمان رکھتا ہوں کہ تُو میرا نجات دہندہ ہے ۔‘‘ وہ کہیں گے کہ وہ اُس سے محبت کرتے ہیں لیکن وہ اپنے دلوں میں گنا ہ رکھتے ہیں ۔ خُداوند اُنہیں بدی کرنے والے
کہتا ہے (گنہگار جو آزاد نہیں کیے گئے ) اور اُنہیں اُس سے دُور جانے کے لئے کہے گا۔
اُس دن ، وہ جو نئے سِرے سے پیداہوئے بغیر مر گئے تھے یسوعؔ کے سامنے چلائیں گے ۔ ’’میں نے نبوت کی ، گرجا گھر تعمیر کیے اور ۵۰مشنریوں کو تیرے نام پر بھیجا۔‘‘
لیکن یسوع ؔ اُن گنہگاروں کے سامنے اعلان کرے گا، ’’ کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاوٴ ۔ ‘‘
’’ آپ کا کیا مطلب ہے ؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ میں نے آپ کے نام سے نبوت کی ؟ میں نے بہت سالوں تک کلیسیا میں خدمت کی۔ ۔ ۔ میں نے دوسروں کو سکھایا کہ آپ پر ایمان رکھیں ۔ آپ کیسے مجھے نہیں جانتے ؟‘‘
وہ جواب دے گا ، ’’میَں نے کبھی تجھے نہیں جانا ۔ تم جو مجھے جاننے کا دعوہٰ کرتے ہو اَب تک اپنے دل میں گناہ رکھتے ہو ، مجھ سے دُور ہو جاوٴ! ‘‘
اُس پر اپنے دل میں گناہ کی موجودگی کے ساتھ ایمان رکھنا یا اُس کی نجات کی شریعت کے مطابق ایمان نہ رکھناخُد اکے سامنے بدی ہے ۔ اُس کی مرضی کو نہ جاننا بدی ہے ۔ اُسے جانے بغیر اُس کی مرضی پوری کرنے کی کوشش کرنا یا پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدا ئش کی برکت کونہ جاننابدی ہے۔ اُس کی مرضی کی فرمانبرداری کئے بغیر اُسکی پیروی کرنا بھی بدی ہے ۔ بدی ایک گناہ ہے۔
 
 
کتابِ مقد س میں خُداکی مرضی
          
خُدا کے بیٹے کو ن ہیں ؟
راستباز جو کوئی گناہ نہیں رکھتے ہیں
          
ہمارے لئے یہ اُس کی مرضی ہے کہ ہم پانی اور روح کی نئے سِرے سے پیدائش کی خوشخبری پر ایمان رکھیں ۔ سچی خوشخبری ہماری دوسری پیدائش کی پرورش کرتی ہے ۔ یہ بھی اُس کی مرضی ہے کہ ہم اس کے بیٹوں کے طو ر پر خوشخبری کے لئے زندہ رہیں۔ ہمیں خُدا کی مرضی جاننی چاہیے لیکن بہت
سارے لوگ پانی اور روح کی نئی پیدائش کی خوشخبری کو نہیں جانتے ہیں ۔
جب میں لوگوں سے پوچھتاہُوں ، وہ کیوں یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ، بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ وہ اپنے گناہوں سے نجات پانے کے لئے یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ۔
میں پوچھتا ہوں، ’’ تب کیا آپ اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں ؟ ‘‘
وہ کہتے ہیں ’’بے شک میں گناہ رکھتا ہوں ۔‘‘
 ” تب کیا آپ نجات یافتہ ہیں یا نہیں۔“
’’ بے شک میں ہوں۔‘‘
’’ کیا ایک گنہگار جو اپنے دل میں گناہ رکھتا ہے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے ؟‘‘
 ’’نہیں ، وہ داخل نہیں ہو سکتا ۔‘‘
’’ تب، کیا آپ آسمان کی بادشاہی میں جار ہے ہیں یا جہنم کے شعلوں میں؟ ‘‘
وہ کہتے ہیں وہ آسمان کی بادشاہی میں جارہے ہیں لیکن کیا وہ ایساکر سکتے ہیں ؟ وہ جہنم میں جائیں گے ۔
بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کیونکہ وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں ، وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ اگر وہ اپنے دلوں میں گناہ بھی رکھتے ہیں اور اُن کا اَیسا کرنا یہ خُد اکی مرضی ہے ۔ لیکن خُد اآسمان کی بادشاہی میں گنہگاروں کو قبول نہیں کرتا۔
خُد اکی مرضی کیا ہے ؟ کتابِ مقدس یہ فرماتی ہے کہ ہمارے لئے خُداکی مرضی اُس کے بیٹے پر ایمان رکھنا ، یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ سے چھڑائے جانے کی برکت پر ایمان رکھنا ہے ۔
وہ جوپانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکت پر ایمان رکھتے ہیں اُس کے بیٹے بن جاتے ہیں ۔ اُس کے بیٹے بن جانے میں ہمارا جلال ہے۔ اُس کے بیٹے راستبازہیں۔
جب خُد اہمیں راستباز کہتا ہے، کیا وہ ایک گنہگارمسیحی کو راستباز کے طو ر پرعزت دیتا ہے ؟خُدا کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا ۔ پس اُسکے سامنے ، آپ آیا گنہگار یا ایک راستباز شخص ہیں۔وہاں کبھی کوئی ’ گناہ کے بغیر خیال‘ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ صِرف اُنہیں بلاتا ہے جو پاک ہونے کے لئے پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔
  
ہم کس طرح خُد اکے بیٹے بن سکتے ہیں ؟
پانی اور خون کی خوشخبری کو قبول
کرنے کے وسیلہ سے
 
کیونکہ خُدانے دُنیا کے تمام گناہوں کو اپنے بیٹے پر ڈال دیا ، حتیٰ کہ اُس کے اپنے بیٹے نے صلیب پر سزا برداشت کی۔ خُدا کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا۔ وہ کہتا ہے ’’گناہ کی مزدوری موت ہے ۔ ‘‘(رومیوں۶:۲۳)۔جب اُس کا بیٹا مر ا تو زمین پر تین گھنٹے کے لئے تاریکی چھا گئی تھی۔
’’اور تیسرے پہر کے قریب یسوعؔ نے بڑی آواز سے چلا کر کہا ایلی ایلی ۔لما شبقتنی؟یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا ! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟ ۔‘‘ (متی ۲۷:۴۶)۔
 یسوعؔ نے تمام لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ۔ اُس نے بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا ، یہ جانتے ہوئے کہ اُسے مصلوب ہونا تھا اور خُدا یعنی اپنے باپ کے وسیلہ سے چھوڑے جانا تھا ۔ پس خُدانے اپنے بیٹے کو گناہوں کے لئے سزا دی جو اُس نے یردنؔ پر اُٹھائے تھے ،یعنی اپنے بیٹے سے تین گھنٹے کے لئے اپنا مُنہ پھیر لیا۔
’’لیکن جتنوں نے اُسے قبول کِیا اُس نے اُنہیں خُد اکے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں ۔‘‘(یوحنا ۱:۱۲) ۔
کیا آپ خُدا کے فرزند ہیں ؟ ہم نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں کیونکہ ہم پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیداہونے کی خوشخبری کو قبول کرچکے ہیں۔ وہ لوگ جو پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیداہوئے ہیں راستباز ہیں۔ اب ہم سب راستباز بن چکے ہیں ۔
’’اگر خُداہماری طرف ہے تو کون ہمار ا مخالف ہے ؟۔‘‘(رومیوں ۸: ۳۱) ۔ جب راستباز شخص اپنے آپ کو خُد اکے اور لوگوں کے سامنے راستبا زکہتا ہے ، وہ جو نجات یافتہ نہیں ہیں اسے پرکھنے کا رُجحان رکھتے ہیں ۔ پس پولوسؔ رسول کہتاہے ، ’’خُدا کے برگزیدوں پر کون نالش کرے گا ؟ خُداوہ ہے جو اُن کو راستباز ٹھہراتاہے ۔‘‘ (رومیوں ۸ :۳۳)۔خُد انے یسوعؔ کے وسیلہ سے ہمار ے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا اور ہمیں پاک ، راستباز اور اپنے بیٹے کہہ بلایا ۔ اُس نے ہمیں خُدا کے جلالی فرزند ہونے کا حق دیا ۔
 وہ لوگ جو پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں اُس کے فرزند ہیں۔ وہ ابد تک اُس کے ساتھ رہیں گے ۔ وہ محض اس دُنیا میں کوئی مخلوقات نہیں ہیں لیکن خُدا کے
فرزند ہیں جن کا تعلق آسمان سے ہے۔
 اب وہ خُد اکے راستباز بیٹے ہیں ، کوئی نہیں ہے جو اُن کے خلاف الزام لگا سکے، یا عدالت کر سکے، یا اُنہیں خُدا سے جُد اکر سکے ۔
ہمیں یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے سلسلے میں پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننا ہے۔ ہمیں کتابِ مقدس کو جاننا ہے ۔ اُس کی مرضی کے مطابق اِسے جاری رکھنے کے قابل ہونے کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ ہم خُداکی مرضی کو جانیں اور ایمان رکھیں۔
 
 
یہ خُدا کی مرضی ہے کہ گنہگار پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیداہوں
         
کیوں خُد انے اپنے بیٹے کو گنہگار
اِنسان کی مانند بھیجا؟
تما م گناہوں کو اُس پر لادنے کے لئے
 
یہ خُد اکی مرضی ہے کہ ہم آزاد ہوں ، پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوں ۔’’چنانچہ خُدا کی مرضی یہ ہے کہ تم پاک بنو یعنی حرام کاری سے بچے رہو۔“(۱۔تھسلنیکیوں ۴ :۳)۔
یہ خُد اکی مرضی تھی کہ اپنے بیٹے کو بھیجے تاکہ تمام گناہ اُس پر لادے جائیں اور ہم نجات پا سکیں ۔ یہ روح کی شریعت ہے جو ہمیں پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیداہونے کی اجازت دیتی ہے ۔ اُس نے ہمیں تمام گناہو ں سے آزادکِیا۔ ہم چھڑائے جا چکے ہیں اب کیا آپ سب خُدا کی مرضی کو پہچان سکتے ہیں؟ یہ اُ س کی مرضی ہے کہ ہم سب کو چھڑا ئے ۔ وہ ہم سے یہ نہیں چاہتا کہ ہم دُنیا سے سودے بازی کریں بلکہ صِرف یہ کہ اُس کے کلام پر ایمان رکھیں اور صِرف اُس کی پرستش کریں۔
خُد اکی مرضی یہ بھی ہے کہ وہ جو نئے سِر ے سے پیدا ہو چکے ہیں خوشخبری کی گواہی دیں اور
کلیسیا میں رہیں ، اوراپنے آپ کو دوسری روحوں کو خُد اکے پاس واپس لانے کے کام کے لئے وقف کریں۔
ہم گناہ اِس لئے نہیں کرتے کیونکہ ہم اَیسا چاہتے ہیں بلکہ چونکہ ہم کمزور ہیں ۔ یسوعؔ نے اُن گناہوں کو اُٹھا لیا تھا۔ خُد انے یوحناؔ اصطباغی کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو یسوعؔ پر لاد دیا۔ اُس نے اپنے ذاتی بیٹے کو اس مقصد کے لئے بھیجا اُسے یوحناؔ کے وسیلہ سے بپتسمہ دلایا۔ ہم اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہوتے ہیں ۔ یہ خُداکی مرضی ہے۔
 
 
ہمارے لئے خُدا کی مرضی یہ ہے کہ ہم یسوعؔ پر ایمان رکھیں، جسے اُس نے بھیجا
         
کیوں یسوعؔ گنہگار اِنسان کی مانند آیا؟
بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو ا
ُٹھانے کے لئے
 
کتابِ مقدس بتاتی ہے خُدا کی مرضی کو پورا کرنا اُس پر ایمان رکھنا ہے جسے اُس نے بھیجا۔ ’’پس اُنہوں نے اُس سے کہا کہ ہم کیا کریں تاکہ خُدا کے کام انجام دیں ؟۔ یسوعؔ نے جواب میں اُن سے کہا، خُدا کا کام یہ ہے کہ جسے اُس نے بھیجا ہے اُس پر ایمان لاوٴ ۔ پس اُنہوں ے اُس سے کہا پھر تُو کونسا نشان دکھاتاہے تاکہ ہم دیکھ کر تیرا یقین کریں ؟ تُو کونسا کام کرتا ہے ؟ ۔ہمارے باپ دادا نے بیابان میں من کھایا ۔ چنانچہ لکھا ہے کہ اُ س نے اُنہیں کھانے کے لئے آسمان سے روٹی دی ۔‘‘ (یوحنا ۶:۲۸۔۳۱)۔
لوگوں نے یسوعؔ کو بتایا کہ خُدا نے موسیٰ ؔکو نشان دیا تھا جب وہ ملکِ کنعانؔ کی راہ پر تھا ، اسرائیلیوں پر آسمان سے من برسایا اور نتیجہ کے طورپر وہ خُد ا پر ایمان لائے (یوحنا۶:۳۲۔۳۹) ۔ لوگوں نے یسوع ؔسے پوچھا ، ’’ہم کیا کریں تاکہ خُدا کے کام انجام دیں؟ ‘‘
یسوعؔ نے جواب دیا کہ اُنہیں خُد اکے کام کرنے کے لئے اُس پر ایمان رکھنا چاہیے ۔ اگر ہمیں
خُدا کا کام کرنا ہے ہمیں یسوعؔ مسیح کے کاموں پر ایمان رکھنا ہے ۔ ہمارے لئے یہ خُدا کی مرضی ہے کہ ہم نہ صِر ف ایمان رکھیں اور خوشخبری کی منادی کریں بلکہ اِس کے مطابق زندگی بھی بسر کریں۔
خُداہمیں حکم دیتا ہے ’’پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناوٴاور اُ ن کوباپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔ اوراُن کو یہ تعلیم دو کہ اُن سب باتوں پر عمل کریں جن کا میں نے تم کو حکم دیا‘‘ (متی۲۸:۱۹۔۲۰)۔
یسوعؔ واضح طور پر ہمیں باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ لینے کے لئے کہتاہے ۔ ہر چیز جو اُس نے باپ اور روح القدس کے لئے کی اُس کے بپتسمہ کا حاصل ہے۔ جب ہم یہ سمجھتے ہیں ، ہم خُدا پر ایمان رکھ سکتے ہیں اور ہر چیز دیکھتے ہیں جو یسوعؔ نے اس دُنیا میں کی اور کس طرح رُوح نے اُس کی گواہی دی۔
یسوعؔ خُدا کی معرفت پانی او ررُوح کی خوشخبری کی گواہی دینے کے لئے بھیجا گیاتھا ۔ اِس لئے جب ہم صِرف خُد اکے کلام اور اُس کے خادم پر ایمان رکھتے ہیں ہم نجات یافتہ ہو سکتے ہیں ۔
 
 
خُدا کا کام کرنا
         
ہماری زندگیوں کا کیا مقصد ہے ؟
پوری دُنیا میں خوشخبری پھیلانے کی
وسیلہ سے خُد اکی مرضی پوری کرنا۔
 
اگر ہمیں خُدا کا کام کرنا ہے ، ہمیں یقینا پہلے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت کی خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے ۔ اُس پر ایمان رکھنا جسے اُس نے بھیجا خُد اکا کام ہے۔ یسوعؔ پر ایمان رکھنا چاہیے کہ اُس
نے ہمیں پانی اور خون کے ساتھ نجات دی ۔
خُداکی مرضی ہم میں پوری ہوتی ہے جب ہم یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں اور خوشخبری کی منادی کرتے ہیں ۔ اِس طرح ہم خُد اکاکام کرتے ہیں ۔ اُس نے ہمیں بتایا ہے کہ صِرف وہ جو پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی برکت پرایمان رکھتے ہیں آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
آئیں مندرجہ ذیل سچائیوں کو پہچاننے کے وسیلہ سے ہم سب آسمان کی بادشاہی میں اپنی جگہیں سنبھالیں ۔ خُدا کی حقیقی مرضی کوپہچاننے ، جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ یسوعؔ کے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے تما م گناہ اُس پر لاد دئیے گئے تھے ۔ اُس کی بادشاہت کی وُسعت کیلئے زندہ رہیں ۔ نتیجتاً اپنی موت کے دن تک خوشخبری کی منادی کریں۔
ساتھی مسیحیو! وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہیں جو خُدا کا کام کرتے ہیں ۔ اُس پر ایمان رکھنا جسے اُس نے بھیجا ہے یہ خُد اکاکام ہے ۔ یہ ایمان رکھنا اُس کی مرضی پوری کرنا ہے کہ اُس پر تمام گناہ لاد دئیے گئے تھے جسے خُدا نے بھیجا اور یہ کہ یسوعؔ مسیح ہمارا نجات دہندہ ہے۔
انسان کو گناہ سے آزاد کرنے کاکام اُس وقت مکمل ہُوا جب یسوعؔ نے دریائے یردنؔ میں بپتسمہ لیا اور ہم سب کے لئے صلیب پرمر گیا۔ خُداکے کام کا دوسرا حصہ اُس پر ایمان رکھنا ہے جسے خُدانے بھیجا یعنی نجات دہندہ پر ایمان رکھنا ہے جس نے پوری دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا اور پوری دُنیا میں منادی کرنی ہے۔
اب ہم جو نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں کو دُنیا کی انتہا تک خوشخبر ی کی منادی کرنی چاہیے اور زندہ رہنا چاہیے۔
          
وہ لوگ کہاں جاتے ہیں جو خُداکی مرضی
جانے بغیر یسوعؔ پرایمان رکھتے ہیں ؟
وہ جہنم میں جاتے ہیں۔
 
’’اُس دن بہتیرے مجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند! کیا ہم نے تیرے نام سے نبوت نہیں کی اور تیرے نام سے بدروحوں کو نہیں نکالا او ر تیرے نام سے بہت سے معجزے نہیں دکھائے ؟ ۔ اُس وقت میَں اُن سے صاف کہہ دُونگا کہ میری کبھی تم سے واقفیت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جا وٴ ۔‘‘ (متی۷: ۲۲۔۲۳)۔
یہ حوالہ ہمیں واضح طورپر بتاتاہے کون لوگ خُداکے سامنے گنہگا ر ہیں اور کون بدی کرنے والے ہیں ۔ بہت سارے موجود ہیں جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں اُن میں سے جو کہتے ہیں ’’ اَےخُداوند،اَے خُداوند ‘‘وہ تکلیف میں ہیں کیونکہ وہ اپنے دلوں میں اب تک گناہ رکھتے ہیں ۔ پس وہ خُداکے سامنے ایک آدھ شکایتی اسلوب میں ، پرستش کی غیر موثر سچی دُعاوٴں میں یہ پکارتے ہوئے چلاتے ہیں ، ’’اَے خُداوند ، اَے خُداوند ۔‘‘
وہ ایمان رکھتے ہیں اُن کے ضمیر صاف ہو جائیں گے اگر وہ دُعا میں چلاتے ہیں ، لیکن یہ ناممکن ہے کیونکہ اُن کے دلوںمیں گناہ قائم رہتاہے۔ وہ پہاڑوں پر دُعا مانگتے ہیں ، غصے سے چیختے چلاتے ہیں ، جیسے خُدا بہت دُور ہے ۔ جب ہم مکمل ایمان نہیں رکھتے ہیں ، ہم اکثر ’’اَے خُداوند ، اَے خُداوند ‘‘ پکارنے کا رُجحان رکھتے ہیں ۔
بعض کلیسیاوٴں میں جہاں اجتماع نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں ، وہ اتنے جوش و خروش سے دُعا مانگتے ہیں کہ پُلپٹ ٹوٹ جاتا ہے۔
لیکن ہم کتابِ مقدس میں سے دیکھ سکتے ہیں کہ وہ سب جو ’’اَے خُداوند ، اَے خُداوند ‘‘کہتے ہیں آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہونگے ۔ صِرف وہ لوگ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان لاتے ہیں اَیسا ایمان رکھتے ہیں جو خُد اکے کام کے لئے اُن کی راہنمائی کرتا ہے۔
کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ کسی کا اپنے دل میں گناہ کے ساتھ اُ س کے نام کو پُکارنا بدی ہے ۔کیا آپ کبھی پہاڑوں پر دُعائیہ مجلسو ں میں گئے ہیں ؟ کچھ بوڑھی خدمت گزار عورتیں چلاتی اور پکارتی ہیں ، اُس کا نام پکارتی ہیں کیونکہ نہ ہی حقیقت میں وہ یسوعؔ سے مِلیں ہیں ، نہ اپنے دلوں میں روح کو قبول کِیا ہے ، نہ ہی پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوئیں ہیں ۔ وہ اُس کا نام پکارتی ہیں کیونکہ وہ ایک مستقل خوف میں مبتلا
رہتی ہیں کہ وہ جہنم میں چلی جائینگی ۔
فرض کریں کوئی شخص جس نے ایک مشنری یا پاسبان کے طورپر کلیسیا کی خدمت کے لئے اپنی زندگی وقف کی تھی خُدا وند کی حضوری سے بُری طرح نکالا گیا ۔ والدین یا شریکِ حیات سے چھوٹ جانا ، کسی کا دل توڑنے کے لئے کافی ہوگا ، لیکن خُدا کی معرفت بادشاہوں کے بادشاہ او رہماری روحوں کے مُنصف سے چھوٹ جانا ، ہم کہاں جائیں گے ؟
میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ آپ میں سے کسی کے ساتھ کبھی واقع نہیں ہو گا ۔ برائے کرم پانی اور روح کی خوشخبری کو سُنیں اور ایمان رکھیں ۔ ہمارے لئے یہ خُدا کی مرضی ہے کہ ہم نئے سِرے سے پیدا
ہوں اور پانی اور روح کی خوشخبری کے مطابق زندگی گزاریں ۔
ہم مسیحیوں کوواقعی پانی اور روح کی خوشخبری پرایمان رکھنا ہے اور کتابِ مقدس کی سچائی سے قو ت پانی ہے ۔ صرف تب ہی ہم خُد اکی عدالت سے بچ سکتے ہیں۔