خطبات

مضمون 8: رُوح القّدس

[8-5] <۱۔یوحنا ۱:۱۔۱۰> کیا آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا چاہتے ہیں؟

<۱۔یوحنا ۱:۱۔۱۰
”اُس زندگی کے کلام کی بابت جو اِبتدا سے تھا اور جِسے ہم نے سُنا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ غور سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چُھوا۔ (یہ زندگی ظاہر ہوئی اور ہم نے اُسے دیکھا اور اُس کی گواہی دیتے ہیں اور اِسی ہمیشہ کی زندگی کی تُمہیں خبر دیتے ہیں جوباپ کے ساتھ تھی اور ہم پر ظاہر ہوئی)۔ جو کچھ ہم نے دیکھا اور سُنا ہے تمہیں بھی اُس کی خبر دیتے ہیں تاکہ تم بھی ہمارے شریک ہو اور ہماری شراکت باپ کے ساتھ اور اُس کے بیٹے یسوعؔ مسیح کے ساتھ ہے۔ اور یہ باتیں ہم اِس لئے لکھتے ہیں کہ ہماری خوشی پوری ہو جائے۔ اُس سے سُن کر جو پیغام ہم تمہیں دیتے ہیں وہ یہ ہے کہ خُدا نُور ہے اور اُس میں ذرا بھی تاریکی نہیں۔ اگر ہم کہیں کہ ہماری اُس کے ساتھ شراکت ہے اور پھر تاریکی میں چلیں تو ہم جھوٹے ہیں اور حق پر عمل نہیں کرتے۔ لیکن اگر ہم نُور میں چلیں جس طرح کہ وہ نُور میں ہے تو ہماری آپس میں شراکت ہے اور اُس کے بیٹے یسوعؔ کا خون ہمیں تمام گناہ سے پاک کرتا ہے۔ اگر ہم کہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں۔ اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔ اگر کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کِیاتو اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُس کا کلام ہم میں نہیں ہے۔“
 
 
رُوح القدس کے ساتھ شراکت کا ایک شعور
رکھنے کے لئے ضروری بنیادی شرط کیا ہے؟
ہمیں پہلے پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جاننا اور ایمان رکھنا چاہیے
اور اپنے آپ کو ہمارے تمام گناہوں سے
ایمان کے وسیلہ سے دھونا چاہیے۔
 
اگر آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا چاہتے ہیں، اَوّل، آپ کویقینا جاننا چاہیے کہ خُداوند کے سامنے حتیٰ کہ ایک چھوٹا سا گناہ بھی ایسی ایک شراکت کو ناممکن بنا تا ہے۔ آپ سوچ سکتے ہیں، ’کیسے ایک آدمی خُداوند کے سامنے حتیٰ کہ گناہ کا ایک شائبہ بھی نہیں رکھ سکتا ہے؟‘ لیکن اگر آپ واقعی خُداوند کے ساتھ شراکت کی خواہش رکھتے ہیں تب آپ کے دل میں کوئی تاریکی نہیں ہونی چاہیے۔ اِس لئے، خُداوند کے ساتھ شراکت رکھنے کے سلسلے میں، آپ کو جاننے کی ضرورت ہے کہ آپ کو یقینا خلاصی کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے اور اپنے آپ کو تمام گناہوں سے دھونا چاہیے۔
اگر آپ واقعی رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، تب پہلے آپ کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جاننا اور ایمان رکھنا چاہیے اور ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کو دھونا چاہیے۔ اگر آپ پانی اور رُوح کی خوشخبری کو نہیں جانتے ہیں اور اِسے اپنے دل میں نہیں لیتے ہیں، تب آپ کو حتیٰ کہ خُدا وند کے ساتھ شراکت رکھنے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا صرف ممکن ہے جب تمام گناہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے آپ کے دل سے پاک ہو جاتے ہیں۔
تمام گناہ کسی کے ذہن سے اُس کی پانی اور رُوح کی سچائی کے ساتھ پاک ہو سکتے ہیں۔ خُداوند آپ کو رُوح القدس کے ساتھ برکت دیتا ہے جب آپ پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ کیا آپ واقعی خُداوند اور رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا چاہتے ہیں؟ تب اپنے گناہوں کو پہچانیں اور اپنے آپ کو گناہ سے پاک کرنے کے سلسلے میں خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھیں۔ اِس کے بعد آپ واقعی خُداوند کے ساتھ شراکت رکھ سکتےہیں۔
 اگر آپ خُداوند کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، آپ کو یقینا یسوعؔ کے بپتسمہ پر جو اُس نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔسے حاصل کیا اور اُس کے صلیبی خون پر بھی ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر لوگ واقعی رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں، اُنہیں جاننا چاہیے رُوح القدس کون ہے۔ رُوح القدس خُدائے قدوس ہے۔ اور اِس لئے وہ صرف اُن میں سکونت کر سکتا ہے جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔
آئیں ہم کسی کے ایک اِقرار پر نظر کریں جس کے گناہ یوحنا ؔ کی معرفت یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے پاک ہو گئے تھے، اور جو اَب رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھتا ہے۔”اِس دُنیا میں بہت سارے مختلف لوگ موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے ذاتی خیالات اور طریقوں کے ساتھ
زندگی بسرکرتا ہے۔ میں اُن کی مانند ایک تھا۔ میں ایک انتہائی عام زندگی رکھتا تھا اوراپنے بچپن سے، میں نے گرجا گھر کے لئے اپنی ماں کی پیروی کی اور فطرتاً خُد اپر ایمان رکھنے کے لئے آیا۔ میر اباپ ایک لامذہب تھا اور میرے عقائد کی وجہ سے مجھ پر کثرت سے تنقید کرتا تھا، لیکن خاندان کے باقی سب لوگ گرجا گھر جاتے تھے۔ گرجا گھر جانا میر ی زندگی کا ایک بہت بڑا حصہ تھا۔
تاہم، میری اُٹھتی جوانی کے دوران،اپنے بستر پر پڑے باپ کو دیکھ کر، بہت سارے خیالات مثلاً ایسی چیزیں زندگی اور موت، آسمان اور جہنم کے متعلق باتیں میرے ذہن میں آتی تھیں۔ زیادہ ترلوگوں نے کہا اگر میں خُدا پر ایمان رکھتا تھا میں آسمان میں داخل ہونے کے قابل ہُوں گا اور اُس کا بیٹا بن جاؤں گا، لیکن میں کبھی اِس سے پُریقین نہیں تھا۔ میں کبھی پُر یقین نہیں تھا کہ اُس کا بیٹا بن جاؤں گا۔ میں سیکھ چکا تھا اگر میں نے زمین پر نیکی کی تب میں آسمان میں داخل ہو سکتا تھا اور اِس طرح میں نے ضرورت مندوں کے ساتھ نیکی کرنے کی کوشش کی۔
 لیکن میرے دل کی ایک طرف، میں جانتا تھا میں گناہ کر چکا تھا۔ میں دوسروں کو ایک اچھے شخص کی مانند نظر آ سکتا تھا لیکن میں بچ نہ سکا بلکہ اپنے گناہوں کے لئے قصور محسوس کرتاتھا۔ اُس وقت، میں نے گرجا گھر جانے اور دُعا مانگنے کو عادت بنایا، ’برائے مہربانی مجھے واقعی اپنا بیٹا بننے کی اجازت دے۔ برائے مہربانی مجھے سچائی کو جاننے کی اجازت دے۔‘ جبکہ دُعامانگتے ہوئے، میں نے اپنے دل میں ایک لگن کو ترقی دی۔ جب کبھی میں نے اُس کے کلام کی تعلیمات کو سُنا، میں سمجھ نہ سکا نہ ہی الفاظ کو دیکھ سکا۔ میں میری زندگی میں، اپنے گناہ، موت، وغیرہ کے کھوکھلے پن سے ختم ہو گیا تھا۔
میں خیالات رکھتا تھا مثلاً، ’میں نئے سِرے سے پیدا ہو نا چاہتا ہُوں۔ اگر میں نئے سِرے سے پیدا ہو سکتا ہُوں میں اِس طرح زندہ نہیں رہوں گا۔‘ لیکن اِن خیالات کے باوجود میں کم کثرت سے گرجا گھر گیا اور میری اُٹھتی جوانی کے سال گزر گئے۔ اب مجھے ایک نوکری تلاش کرنے کی ضرورت تھی لیکن یہ زیادہ مشکل تھا جتنا میں نے سوچا۔ میں حتیٰ کہ زیادہ غمگین تھا اورکوئی معنی نہیں رکھتا میں نے کتنی سخت کوشش کی، میں مُسکرانہ سکا۔ ایک خالی دل کے ساتھ اپنے آپ پر نظر کرتے ہوئے، میں دباؤ کی حالت میں گر گیا۔ اُس وقت، میں نے اپنے بڑے بھائی سے خوشخبری کو سُنا۔
”پس توبہ کرو اور رجُوع لاؤ تاکہ تمھارے گناہ مٹائے جائیں اور اِس طرح خُداوند کے حضور سے تازگی کے دن آئیں۔“(اعمال ۳:۱۹) ۔ یہ بالکل پانی اور رُوح کی خوشخبری تھی۔ سب جو میں پچھلے گرجا گھر کی عبادتوں میں سیکھ چکا تھا یہ تھا کہ یسوعؔ ہمارے گناہوں کے لئے صلیب پر مر گیا۔ لیکن اِس خوشخبری نے مجھے بتایا کہ یسوعؔ نے ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے یوحنا ؔ اصطباغی کی معرفت بپتسمہ لیا اور صلیب پر ہمارے گناہوں کے لئے پرکھا گیا۔
میں اپنی ساری زندگی گر جا گھر جا چکا تھا اور میں خُدا کا ایک بیٹا ہونے کا بہانہ کر چکا تھا لیکن میں ناکام ہو چکا تھا۔ میں اُس کے کلام کے معنی سمجھنے کی کوشش کر چکا تھا لیکن میں ناکام ہو چکا تھا۔ تاہم، میرے پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کو سُننے اور اِس پر ایمان رکھنے کے بعد، میرے اندر گناہ اور تمام چیزیں جنہوں نے مجھے عذاب دیا غائب ہو گئیں اور میرا دل پُر سکون ہو گیا۔
میں نے سوچا کہ اگر میں صرف جوش و جذبے کے ساتھ خدا پر ایمان رکھوں اور کامل حاضری کے ساتھ گر جاگھر جاؤں، تب میں آسمان پر چلا جاؤں گا۔ لیکن خُدا نے میرے پاس پانی اور رُوح کی خوشخبری کو بھیجا اور میرے گنا ہ معاف ہو گئے۔ اُس نے مجھے رُوح القدس کا تحفہ دیا۔ اُس کی خلاصی حاصل کرنے سے پہلے، میں رُوح القدس کے بارے میں نہ ہی غیر زبانوں میں بولنے کے تصور کے بارے میں جانتا تھا ۔ میں محض گرجا گھر جاتا اور ایمان رکھتا تھا کہ اگر میں ایمانداری سے زندہ رہوں اور اپنے گرجا گھر کی خدمت کروں، تب خُدا مجھے برکت دے گا۔ لیکن میں نے احساس کِیا کہ میں صرف رُوح القدس حاصل کر سکتا تھا جب میرے گناہ پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے معاف ہو گئے تھے۔
 میری پچھلی زندگی میں، میں اب تک گناہ میں تھا حتیٰ کہ گو میں خُدا پر ایمان رکھتا تھا۔ اور میں زندگی کی ایک نیم گرم قِسم، رُوح القدس کو حاصل کرنے کی اہمیت کو نہ جانتے ہوئے گزارتا تھا۔ لیکن اُس کے خادم کے وسیلہ سے، جس نے کتابِ مقدس کے مطابق خوبصورت خوشخبری کی منادی کی، میں نے ایمان رکھا اور جانا کہ رُوح القدس مجھ میں بھی سکونت کر تا تھا۔
خلاصی حاصل کرنے کے بعد، پہلے پہل میں مطمئن نہ ہو سکا آیا مجھ میں رُوح القدس تھا یا نہیں۔ لیکن میں نے مسلسل اُس کے کلام کا مطالعہ کِیا اور احساس کِیا کہ میرے دل میں ایک نیا ایمان کِھل رہا تھا اور کہ میں رُوح القدس کی معموری حاصل کر چکا تھا۔ اب یہ سچ ہے، اور میں اطمینان محسوس کرتا ہُوں کہ رُوح القدس مجھ میں سکونت کرتا ہے! جب اُس نے میرے گناہوں کومعاف کِیا، میں جانتا تھا کہ صرف وہ جو گناہ سے آزاد ہیں خُدا کے بیٹے بن سکتے تھے اور رُوح القدس حاصل کر سکتے تھے۔
میں یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کی آنکھوں میں کامل نظر آنے کے لئے میر ی کوششیں یا کامل طو ر پر رہنا کبھی مجھے رُوح القدس کو حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ خُدا اُن کے پاس آتا ہے جو جانتے ہیں کہ وہ گنہگار ہیں اور اب تک نہیں جانتے ہیں اِس کے بارے میں کیا کرنا ہے۔ وہ اُنہیں ملتا ہے جو دل
سے تلاش کرتے اور اُس کی ضرورت رکھتے ہیں۔
اُس نے مجھے دیکھنے کے قابل بنایا کہ نیکی کرنا اور اندھا دُھند آوارگی کے ساتھ خُدا پر ایمان رکھنا مجھے آسمان پر نہیں لے جائیں گے اور کہ یسوعؔ مسیح اِس دُنیا میں مجھے میرے گناہوں سے پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے بچانے کے لئے آیاتھا۔ اُس نے مجھے رُوح القدس کو میرے اندر ہمیشہ سکونت کرنے کے لئے دے دیا۔
میں خُداوند کا مجھے اپنا بیٹا بنانے اور مجھے رُوح القدس کی معموری کے ساتھ برکت دینے کے لئے شکر اداکرتا ہُوں۔ اگر یہ خُداوندکی معرفت نہ ہوتا، میں اب تک میرے دل میں گناہ رکھتا اور جہنم میں ایک ابدی زندگی کی قید کے لئے لعنتی ٹھہرتا۔“
اِسی طرح، پہلے میں نے صرف صلیبی خون پر ایمان رکھا اور رُوح القدس کو حاصل نہ کر سکا حتیٰ کہ گو میں چاہتا تھا۔ اُس وقت، میں یسوعؔ پر ایمان رکھتا تھا لیکن میں اپنے دل میں گناہ رکھتا تھا جس نے مجھے رُوح القدس کو حاصل کرنے سے روکا۔ ایک گنہگار اپنے دل میں رُوح القدس کو حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی، بہت سارے گنہگار رُوح القدس کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں حتیٰ کہ جب اُن کے دل گناہ سے بھرے ہوئے ہیں۔
اگر آپ واقعی رُوح القدس کو حاصل کرنے اور اُس کے ساتھ شراکت کی خواہش رکھتے ہیں، آپ کو پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے اور خلاصی کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا آپ اب تک ایک گنہگا رہیں؟ تب آپ اُن سے سچی خوشخبری سُن سکتے ہیں جو پہلے ہی رُوح القدس کو حاصل کر چکے ہیں۔ وہ جو رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں کو یقینا ایک پیاسا دل رکھنا چاہیے اور پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
 صرف راستباز کلیسیا کے وسیلہ سے رُوح القدس کے الفاظ سُن سکتے ہیں۔ وہ خوبصورت خوشخبری کو سُننے کے وسیلہ سے اپنی وفادار زندگیاں گزار سکتے ہیں لیکن گنہگار ہمیشہ خوشخبری کو سننے کے بغیر جہنم کی طرف گامزن اپنی لعنتی زندگیاں گزارتے ہیں۔
اِس لئے، آپ کو یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری کے بارے میں سیکھنا چاہیے آپ کو کیوں اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے؟ یوں آپ کے لئے شریعت کے مذہب سے بچنا ضروری ہے اور خُداکے کلام پر مبنی اپنا ایمان خوبصورت خوشخبری پر تعمیر کریں۔ یسوعؔ کے شاگردوں نے اِس خوبصورت خوشخبری کی پیروی کی اور اب یہ اُن سے تعلق رکھتی ہے جو رُوح القدس کو حاصل کر چکے ہیں۔ پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری بالکل وُہی ہے جس کی اِبتدائی کلیسیا کے شروع میں رسولوں کی معرفت پیروی ہوئی۔ تمام مسیحیوں کو رُوح القدس حاصل کرنا چاہیے۔ صرف تب وہ خُدا کے بیٹے بن سکتے ہیں۔
وہ جو اب تک پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں یقینا اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں۔ وہ رُوح القدس کے ساتھ شراکت نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اُس کے ساتھ شراکت رکھنے کے سلسلے میں، اُنہیں پہلے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے جو خُدا نے اُنہیں دی اور رُوح القدس کو حاصل کریں۔
 
 
کتابِ مقدس رُوح القدس کو باربار ظاہر کرتی ہے
 
رُوح القدس کی معموری یسوع ؔ کے جی اُٹھنے کے بعد شروع ہوئی۔ اب نجات کا دن ہے اور اب اُس کے لامحدود فضل کا وقت ہے۔ لیکن یہ واقعی بدقسمتی ہے اگر ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری حاصل نہیں کرتے ہیں اور اگر ہم رُوح القدس کے ساتھ شراکت کے بغیر زندہ رہتے ہیں۔
 کیا آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھتے ہیں؟ کیا آپ اپنے گناہوں کی وجہ سے رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے سے روکے گئے ہیں؟ تب پانی اور رُوح کی خوشخبری کے بارے میں سیکھیں جو خُد انے آپ کو دی اور اِس پر ایمان رکھیں۔ اگر آپ پانی اوررُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، رُوح القدس آپ کے دل میں سکونت کرے گا اور آپ کا ساتھی ہو گا۔ رُوح القدس صِرف اُن کے دلوں میں سکونت کرتاہے جو پانی اوررُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ رُوح القدس اکثر راستبازوں کے دلوں میں اپنی مرضی ظاہر کرتا ہے۔ پولوسؔ کی رُوح القدس کے ساتھ خدمت خوبصورت خوشخبری کو پھیلانا تھی۔
آپ کیسے کسی کو پہچان سکتے ہیں جو رُوح القدس حاصل کر چکا ہے؟ بنیادی نشان کیا ہے؟ بنیادی نشان یہ ہے آیا وہ پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ شخص جانتا ہے اور پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے، تب وہ ایک شخص ہے جو رُوح القدس کی معموری رکھتا ہے۔
رُوح القد س اُن میں سکونت نہیں کرتا جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ رُوح
القدس صرف اُن میں سکونت کرتا ہے جو گناہ کی معافی پر ایمان رکھتے ہیں جو بپتسمہ سے جو یسوعؔ نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا اور صلیب پر اُس کے خون سے حاصل ہوتی ہے۔ کیا آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کِس قِسم کی خوشخبری کو آپ کورُوح القدس حاصل کرنے اور اُس کے ساتھ شراکت رکھنے کے سلسلے میں سمجھنے کی ضرورت ہے؟ خوبصورت خوشخبری یوحناؔ کے وسیلہ سے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان کے اندر پائی جاتی ہے۔ اگر آپ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، آپ کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے ہیں اور اِس لئے رُوح القدس آ پ میں سکونت نہیں کر سکتا ہے۔ رُوح القدس مطالبہ کرتا ہے کہ لوگوں کو اُسے حاصل کرنے کے سلسلے میں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔
رُوح القدس گنہگاروں کے دلوں کے اندر سکونت نہیں کرسکتا ہے۔ اگر آپ رُوح القدس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، پہلے آپ کو یقینا اپنے تمام گناہوں سے اپنے آپ کو دھونے کے سلسلے میں خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی بھی، خواہش رکھتے ہیں، آپ کو خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے میں وفادار ہونا چاہیے۔ اگر آپ رُوح القدس کے وسیلہ سے راہنمائی چاہتے ہیں، آپ کو یقینا ہمیشہ خوبصورت خوشخبری سے محبت کرنی چاہیے اور اِسے جہاں کہیں آپ جاتے ہیں پھیلانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رُوح القدس اُن کے ساتھ ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔
 رُوح القدس کی معموری صرف راستباز وں کو، وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں دی جاتی ہے۔صرف راستباز، وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھ سکتے ہیں۔ خوبصورت خوشخبری جسے رُوح القدس منظور کرتاہے وہ خوشخبری ہے جو یوحناؔ کی معرفت یسوع ؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل کی گئی تھی (۱۔یوحنا ۵:۳۔۷)۔
پطرسؔ نے بھی خوبصور ت خوشخبری پر ایمان رکھا اور کہا، ”اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ
یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتا ہے۔ اُس سے جسم کی نجاست کا دُور کرنا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خُدا کا طالب ہونا مراد ہے۔“(۱۔پطرس ۳:۲۱)۔ کتابِ مقدس میں، ”پانی“ کثرت سے بپتسمہ کو ظاہر کرتاہے جو یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے حاصل کِیاتھا۔
وہ جو رُوح القدس کو حاصل کرنے کے قابل ہیں خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے خلاصی
حاصل کر چکے ہیں اور تمام گناہ سے آزاد ہیں۔ وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں رُوح القدس کی راہنمائی کے وسیلہ سے رُوح اور سچائی سے باپ کی پرستش کر سکتے ہیں (یوحنا ۴:۲۳)۔ رُوح القدس راستبازوں کی رُوح القدس کے ساتھ بھری ہوئی اُ ن کی زندگیاں گزارنے کے لئے مدد دیتاہے۔ وہ جو رُوح القدس کی معموری رکھتے ہیں خُداوندکی تعریف کرتے ہوئے ہمیشہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ رُوح القدس ضمانت دیتا ہے کہ ہم خُد اکے بیٹے ہیں۔ ہم ہمیشہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کے اندر اور رُوح القدس کے اندر زندہ رہ سکتے ہیں۔
 
 
رُوح القدس اُن کے ساتھ شراکت نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں
 
رُوح القدس ۱۔یوحنا ۱: ۸ میں گُنہگاروں کو بتاتاہے، ”اگر ہم کہیں کہ ہم بے گناہ ہیں تو اپنے آپ کو فریب دیتے ہیں اور ہم میں سچائی نہیں۔“ رُوح القدس اُن میں سکونت نہیں کر سکتاجو اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ رُوح القدس گنہگاروں کو، یہ کہتے ہوئے، ملامت کرتا ہے، ” تم نے کیوں یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل کی گئی خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھا؟“
ہم ایک نئے سِرے سے پیدا ہوئے مسیحی کے اِقرار پر نظر کریں گے جس نے پہلے ایمان رکھا کہ اُس نے یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے ثبوت کے بغیر رُوح القدس کو حاصل کِیاتھا۔ یہ آدمی اب پانی اور خون کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے اور رُوح القدس کو حاصل کر چکا ہے۔ یہاں، ہمیں حتمی طو رپر اخذ کرنا چاہیے کن میں رُوح القدس سکونت کرتاہے۔
” خُدا نے میرے دل میں رہنا شروع کِیا جب میں نے اِس دُنیا میں اپنے وجود کی وجہ کا احساس کِیا۔ اپنے آپ پر نظر کرتے ہوئے، میں سوچتا ہُوں میری اِس ظالم دُنیا میں زندہ رہنے کے لئے کمزوری صرف خُدا کی ایک دلی آرزو کے طور پر حاصل ہوئی۔ میں نے خُدا کی تلاش نہیں کی بلکہ فطری طور پر اُس کے وجود کو قبول کِیا کیونکہ وہ نظر آنے والا نہیں ہے، لیکن وہ موجود ہے۔بے شک میں نے اپنے آپ سے پوچھا، ’کیا وہ واقعی موجودہے؟‘لیکن حتیٰ کہ اِس کی سوچ نے مجھے خوفزدہ کِیا کیونکہ میں مضبوطی سے ایمان رکھتا ہُوں کہ وہ سب کا خالق ہے۔
وہ جنہوں نے خُد اکو رد کِیا بیوقوف نظر آتے ہیں، مگر بعض طریقو ں میں مجھ سے زیادہ طاقتور۔ وہ
اِس کی مانند نظر آئے کہ وہ اپنی ذات میں کسی بھی چیز میں سے گزر سکتے تھے اور دوسری طرف میں ایک کمزور بیوقوف کی مانند نظر آیا۔ لیکن کیونکہ میں موت کے بعد زندگی کے لئے اُمید رکھتا تھا، میں نے حتیٰ کہ زیادہ عزت کے ساتھ خُداکی طرف دیکھا۔ میں حیران ہُوا آیا آسمان میرے جیسے لوگوں کے لئے ایک جگہ تھا جو محسوس کرتے ہیں وہ ہمیشہ کم ہیں۔ اور اِس سوال نے مجھے آسمانی جنت کے لئے زیادہ دلی طور پر خواہش دی۔
میرے والدین نے مذہبی لوگوں پر حقیر نظر کی اور میرے بہن بھائی کسی خلوص کے بغیر گرجا گھر گئے۔ اُنہوں نے سوچا کہ گرجاگھر کے لئے میرا خلوص جلد ہی مرجائے گا پس اُنہوں نے مجھے گرجا گھر جانے سے نہ روکاجب تک کہ میں مڈل سکول میں تھا۔ پس میں ایک گرجا گھر سے دوسرے گرجا گھر تک گیا اور آخر کار میرے گھر کے نزدیک ایک چھوٹے سے گرجا گھر میں جانا شروع کِیا جب کہ میں کالج میں تھا۔
وجہ میں نے اِس گرجا گھر میں شرکت کرنے کو چُنا یہ تھی کہ یہ خوشخبری پر بہت زور دیتا تھا۔ اُس گرجاگھر کا پاسبان ایک مبشرانہ بیدار ی پیدا کرنے والا تھا جو ظاہراً کچھ نہ کر تا تھا جو کتابِ مقدس کے کلام کو نقصان پہنچائے گا۔ میں ایمانداری سے ایک مذہبی زندگی گزارنے کے لئے وجوہات رکھتا تھا، حتیٰ کہ جب میں اپنی پڑھائی کی وجہ سے تناؤ اور دباؤ کا شکار ہُوا۔
وجہ یہ تھی کہ جب لوگوں نے میرے گرجاگھر کے ساتھی ارکان کو کافر کہا، میں نے ایمان رکھا کہ میرا گرجا گھر صحیح تھا اور میں پُریقین تھا کہ میں آسمان پر جاؤں گا۔ یہ یقین دہانی خوشخبری پر مبنی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ گنہگار آسمان کے دروازوں میں داخل نہیں ہو سکتے لیکن دوسرے گرجا گھروں کے لوگوں نے بھی کہا اُن کے دل گناہ سے بھرے ہوئے تھے۔میں نے اپنے گرجا گھر میں شرکت کرنے سے پہلے یہ بھی ایمان رکھا کہ میرے گرجا گھرکے لوگ گنہگار تھے، پس میں نے اِس تنقید کے بارے میں زیادہ نہ سوچا۔
لیکن وہ نام نہاد مبشرانہ بیداری پیداکرنے والے مختلف تھے جس کا میں ماضی میں تجربہ کر چکا تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ہم دُرست طریقے سے یسوعؔ پر ایمان رکھتے تھے، ہم بے گناہ تھے۔ اور صرف وہ جو بے گناہ ہیں آسمان پر جا سکتے ہیں۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ یسوعؔ ہمارے لئے صلیب پر انصاف لایا اور اِس لئے ہم گنہگار نہیں تھے بلکہ راستباز لوگ ہیں۔ میں نے پہلے اِس پر ایمان نہ رکھا، لیکن جب میں نے اِس کے بارے میں سوچا، اِس نے ایک شعور رکھا۔ میں جوان تھا اور میں نے سوچا کہ اگر میں آسمان پر جانا
چاہتا تھا، صرف خُدا مجھے جانے کی اجازت دے گا اگر میں بے گناہ تھا، کیونکہ خُد ا گناہ سے نفرت کرتا ہے۔
یہ گرجا گھر مختلف عقائد رکھتا تھا جومیں رکھا کرتا تھا اور پرستشی عبادات کی رسم بھی تھوڑی مختلف تھی۔ لیکن کیونکہ آسمان ایک جگہ ہے جہاں صرف چند چُنے ہوئے داخل ہو سکتے ہیں، یہ نظر آیا کہ اِس گرجا گھر میں لوگ دُرست عقائد اختیار کر چکے تھے۔ کیونکہ اِس گرجا گھر نے یسوعؔ کے بدن اور خون پر زور دیا، ہر اتوار ہم نے ایک روٹی کا ٹکڑا لیا اور مے پی۔ کیونکہ یہ رسم کتابِ مقدس کے الفاظ پر مبنی تھی، میں نے اِسے قبول کِیا۔ میں نے بعد میں پایا کہ لوگ اِس کا سچا مطلب جانے بغیر محض اِس رسم میں حصہ لیتے تھے۔
میں ایمان رکھتا تھا کہ رُوح القدس ایمانداروں کے دلوں میں اور راستبازوں کے دلوں میں سکونت کرتا تھا اوریعنی وہ اُن کی تمام دُعائیں سُنتا تھا۔ پس میں نے ایمان رکھا کہ رُوح القد س مجھ میں سکونت کرتا تھا۔ میں اتنا پُریقین تھا کہ خُدا میرا ساتھی تھا اور میں نے کبھی خوشخبری پر شک نہ کِیا جس پر میں ایمان رکھتا تھا۔ جب میں مشکل اوقات میں سے گزر رہاتھا، میں نے خُداسے اِس طرح بات کی جس طرح وہ مجھ سے آگے تھا۔ میں نے ایمان رکھا کہ اُس نے مجھے سُنا جب میں نے اُسے چیزیں بتائی جو میں کسی دوسرے کو نہیں بتا سکتا تھا۔ پس میں نے اُس پر یقین کِیا اور اُس پر انحصار کِیا۔
میں اُن کو نہ سمجھ سکا جوغیر زبانوں میں بولنے کے لئے بیداری کی عبادتوں میں گئے اور میں اُن پر ہنسا جنہوں نے روزے کی دُعائیہ عبادتوں میں شرکت کی۔ ایسی کوششوں کو دیکھ کر میں نے سوچا، ’وہ کیوں رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لئے ایسی بے معنی کوشش میں سے گزرتے ہیں؟ رُوح القدس اُن پر آتا ہے صرف جب وہ بے گناہ ہیں اور آپ کے ساتھ ہمیشہ رہتاہے۔ وہ یقینا گنہگار ہیں۔ وہ اُن پر حتیٰ کہ اُن کی تمام کوششوں کے ساتھ بھی نہیں آئے گا۔‘ میں نے اُن کے لئے رحم محسوس کِیا۔ میں نے سوچا وہ انتہائی بیوقوف تھے۔ ذہن میں اِس بات کے ساتھ، میں نے سوچا کہ خوشخبری پر میر ا عقیدہ بہترین تھا اور دوسروں کے عقائد سب ایک جھوٹ تھے۔
میرا خود پسند دل اپنی چوٹی پر پہنچ گیا۔ دس سال سے میں اپنی ذاتی مذہبی زندگی گزار چکا تھا لیکن جونہی وقت گزرا میرے ذہن اور میرے دل میں سوالات اُٹھنے شروع ہوئے۔ میں نے سوچا، ’میں صلیبی خون کی خوشخبری کی وجہ سے بے گناہ ہُوں، لیکن کیا دوسرے تمام ایماندار اِسی طرح بے گناہ ہیں؟ کیا وہ بھی واقعی اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں؟‘ میں نہیں جانتاتھا میں نے کیوں یہ سوالات پوچھنے شروع کیے۔ سوالات محض میرے ذہن میں آئے اور میں کسی سے نہ پوچھ سکا۔ یہ ایک شخصی عقیدہ تھا اور خراب
نہیں ہونا چاہیے۔ اور یہ کسی دوسرے سے پوچھنا ایک گستاخانہ سوال ہو گا۔
لیکن میں نے اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھنے شروع کیے۔ جب کہ میں کالج میں تھا، میں نے ایسی چیزیں کرنی شروع کیں جو مذہبی نظریات کے وسیلہ سے سختی سے منع ہُوا کرتی تھیں اور میرا دل اتنا تاریک ہوگیا کہ میرے عقائد ختم ہو نا شروع ہو گئے۔ میں مزید میرے عقائد کے بارے میں پُریقین نہیں تھا۔ ’ کیا میں اپنے آ پ کو ایک راستباز آدمی کہہ سکتا ہُوں؟ کیا یسوعؔ نے واقعی مجھے میرے تمام گناہوں سے دھو دیا؟‘ اِس تمام پریشانی کے درمیان، میں نے اپنے آپ کو صلیب کی خوشخبری کے بارے میں سوچنے کے لئے مجبور کِیا اور اِس کے ساتھ اپنے ذاتی ذہن کو صاف کِیا۔ لیکن جتنا میں نے اپنے آپ کو دبایا، اُتنا زیادہ میں گمشدہ بن گیا اور مزید گرجا گھر کی عبادات میں شرکت نہ کی۔ میں نے ایک بہانے کے طو رپر اپنی کلب کی سرگرمیوں کو استعمال کِیا۔
 تمام پریشانی اور ابتری کے درمیان، آخر کار میں سچائی سے ملا۔ میں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری
کے بارے میں سُنا اور یہ میرے پاس روشنی کے ایک تیر کی مانند آئی۔ تصادم اتنا عظیم تھا کہ میں نے چیخنے کی مانند محسوس کِیا۔ لیکن خوشخبری کو سن کر، مجھے تسلیم کرنا پڑا کہ سب جو میں تب تک ایمان رکھ چکا تھا جھوٹ تھا۔
میں کبھی یسوعؔ پر میرے گناہوں کو منتقل نہیں کر چکا تھا۔ میں گول مول ایمان رکھ چکا تھا کہ وہ میرے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا اور کہ میں ایک بے گناہ آدمی تھا، لیکن یہ صورتحال نہیں تھی۔ کیوں یسوعؔ اِس دُنیا میں بپتسمہ لینے کے لئے آیا؟ کیونکہ اُ س نے ہمیں دکھانا چاہا کہ وہ ایک برّے کی مانند حقیر تھا؟ یہ ثابت کرنے کے لئے وہ ایک آدمی کے طور پر آیا؟ یا اپنی ناقابلِ بچاؤ موت کی نبوت کرنے کے لئے؟ میں نے کبھی خواب نہ دیکھا کہ جوکچھ بھی بپتسمہ کا مبہم علم میں رکھتا تھا اتنی اہمیت کا حامل تھا۔ سچائی یہ تھی کہ یسوعؔ نے یوحنا ؔ سے، تمام بنی نوع انسان کے نمائند ہ سے، بپتسمہ لیا اور اُس بپتسمہ کے ساتھ، ہمارے تمام گناہ اُس پر منتقل ہو گئے تھے۔
’اوہ! یہ ہے کیوں یسوعؔ خُدا کا برّہ بن گیا جس نے اُس کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا!‘ اب ہر چیز نے شعور دکھایا۔ ’یسوعؔ صلیب پر میرے گناہوں کے لئے پرکھا گیا تھایہ ہے کیوں میں اپنے دل میں بے گناہ ہُوں۔‘ لمحہ جونہی میں نے پانی (یسوعؔ کے بپتسمہ)، خون (صلیب)، اور رُوح القدس (یسوعؔ خُداہے) کی خوشخبری کو جانا، گناہ جو میں رکھتا تھا میں نے محسوس کِیا میرے دل میں سے غائب ہو گیا۔
اب میں واقعی ایک بے گناہ اور راستباز آدمی ہُوں اور رُوح القدس حتمی طو ر پر میرے دل میں سکونت کرتا ہے۔ عقیدہ جو میں صلیب پر رکھتا تھا میرے گناہوں کو دھونے کے لئے کافی نہیں تھا جو میں
میرے دل میں رکھتاتھا۔ اگر آپ دُرست طور پر نہیں جانتے ہیں کیسے آپ کے گناہ یسوعؔ پر منتقل ہُوئے تھے آپ کے گناہ معاف نہیں ہو سکتے ہیں اور رُوح القد س آپ میں سکونت نہیں کر سکتا ہے۔ میں خُداوند کا شکر ادا کرتاہُوں۔ میں خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے رُوح القدس کو حاصل کرنے کے قابل تھا۔
کسی کوشش کے بغیر، میں پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے معاف کِیا گیا اور رُوح القد س اب اور ہمیشہ کے لئے مجھ میں سکونت کرتا ہے۔ اب، میں فخر سے اپنے آپ کوبے گناہ آدمی بلا سکتا ہُوں اور فخر کر سکتا ہُوں کہ آسمان کی بادشاہی میری ہے۔ میں اِ س موقع کو مجھے اخراجات کے بغیر ایسی برکت دینے کے لئے خُداوند کا شکرادا کرنے کے واسطے لیتا ہُوں۔ ہیلیلویاہ “!
وہ جو رُوح القدس کو حاصل کرتے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ وہ خُد اکی حضوری میں بے گناہ ہیں۔ کوئی معنی نہیں رکھتا آپ کتنی دیر سے یسوعؔ پرایمان رکھ چکے ہیں، اگر آپ خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جو خُد انے ہمیں دی ہے، آپ یقینا اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ یعنی اپنے آپ کو اِسی طرح خُد اکو دھوکا دے رہے ہیں۔ یہ لوگ کبھی خُداوند سے نہیں مل چکے۔ اگر ایک گنہگار رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتا ہے، اُسے یقینا اپنے آپ کو دھوکہ دینے سے روکنا چاہیے اور اِقرار کرنا چاہیے کہ وہ گناہ کر چکا ہے۔ صرف تب وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے قابل ہو گا۔ وہ جو اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں رُوح القدس کو حاصل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔
 رُوح القدس گنہگاروں سے کیا کہتاہے؟ وہ انہیں خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے معافی حاصل کرنے کی نصیحت کرتاہے جو یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل ہوئی تھی۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ آپ ایک گنہگار نہیں ہیں جب آپ گناہ کر چکے ہیں، تب آپ کبھی رُوح القدس حاصل نہیں کریں گے۔ وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ وہ گنا ہ نہیں کر چکے دونوں خُدا اور اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ گنہگاروں کو یقینا پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کو جاننا چاہیے اوررُوح القدس کو حاصل کرنا چاہیے۔ صرف تب وہ خُداکی سخت عدالت سے آزاد ہو سکتے ہیں۔
 
 
راستباز اپنے گناہوں کا اِقرارکرنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھ سکتے ہیں
 
میں اُن سے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور اِس طرح، رُوح القدس حاصل
کر چکے ہیں کہتا ہُوں۔ آئیں ہم دیکھیں خُدا راستبازوں کو کیا بتا چکا ہے۔ ۱۔یوحنا ۱:۹ میں، یہ کہا گیا ہے، ”اگر اپنے گناہوں کا اِقرار کریں تووہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے۔“ اِس آیت کا مطلب ہے کہ ہم ہمارے روزمرّہ کے گناہ اپنے آپ کو یاد دلانے اور خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمارے ناپاک دلوں سے دھو سکتے ہیں جو اعلان کرتی ہے یسوعؔ نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا اور اُس نے مصلوب ہونے کے وسیلہ سے اُن کے لئے فِدیہ دیا۔ راستباز کو خُداکے سامنے اپنے روزمرّہ کے گناہوں کا اِقرار کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف تب وہ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھ سکتے ہیں۔ راستبا زکو اپنے روزمرّہ کے گناہوں کا اِقرار کرنا چاہیے اور خوبصورت خوشخبری پر ایمان جاری رکھنا چاہیے۔
بہت پہلے، یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون کی خوبصورت خوشخبری نے ہمارے تمام گناہوں کو دھو دیا اور اِس لئے، راستباز کو اِس خوشخبری پرایمان رکھنا چاہیے اور اپنے تمام گناہوں سے آزاد ہونا چاہیے۔ خُداوند پہلے ہی پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے اُن کے تمام گناہوں کو معاف کر چکاہے۔ راستباز کو یقینا اپنے گناہوں سے آزاد ہونے کے لئے خوبصور ت خوشخبری پر ایمان رکھناچاہیے۔ راستباز پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے دلوں کو پاک کر سکتے ہیں جب وہ اُن کے روزمرّہ کے گناہوں کے ساتھ آلودہ ہو جاتے ہیں۔
ہمارے خُداوند نے اپنے بپتسمہ اور اپنے خون کے ساتھ بہت پہلے راستبازکے تمام گناہوں کو دھو دیا۔ اِس لئے وہ جو ایمان رکھتے ہیں اپنے تمام گناہوں سے واقعی آزاد ہیں۔ تاہم، راستباز کو اِقرار کرنا چاہیے اور خُداکی حضوری میں اپنے گناہوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اور تب راستباز کو یقینا یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون میں، اپنے تمام گناہوں سے آزادہونے کے سلسلے میں ایمان پر واپس آنا چاہیے، جو خوبصورت خوشخبری پر مشتمل ہے۔ اِس لئے، وہ ہمیشہ رُوح القدس کی قربت میں رہتے ہوئے ایک تازہ نئی زندگی گزار سکتے ہیں۔ وہ جو اپنی کمزوری کی وجہ سے پریشانی کے بغیر پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کا شکر اداکرتے ہوئے خُداوند کی طرف دیکھ سکتے ہیں خُدا کے ساتھ سچی شراکت رکھ سکتے ہیں۔
 
 
کیسے ہم رُوح القدس کے ساتھ شراکت کا ایک سچا شعور حاصل کرسکتے ہیں؟
 
بہت سارے لوگ موجود ہیں جو رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن وہ نہیں جانتے ہیں کہ اِ س خواہش کو کیسے سچی کرنا ہے، حتیٰ کہ گو وہ یسوعؔ پر ایما ن رکھتے ہیں۔ تمام لوگ رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لئے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے آتے ہیں اور اُس وقت سے رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا شروع کرتے ہیں۔
اِسی طرح، واحد طریقہ ایک راستباز شخص رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھ سکتاہے پانی اور رُوح کی خوشخبری کی سچائی کو جاننا اور ایمان رکھنا ہے۔ راستباز اور رُوح القدس کے درمیان شراکت سچی خوشخبری کے بغیر حاصل نہیں کی جاسکتی ہے۔ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ یہ صرف خوبصورت خوشخبری کے سچ پر ایما ن رکھنے کے وسیلہ سے ممکن ہے۔
 
 
خُدا کہتا ہے کہ اِنسان اپنی تمام عمر میں گناہ کرتاہے
 
۱۔یوحنا ۱:۱۰ میں، یہ کہتا ہے، ”اگر کہیں کہ ہم نے گناہ نہیں کِیا تو اُسے جھوٹا ٹھہراتے ہیں اور اُسکا کلام ہم میں نہیں ہے۔“ کوئی شخص موجو دنہیں ہوگا جو خُداکے سامنے گناہ نہیں کر چکا ہے۔ حتیٰ کہ کتابِ مقدس کہتی ہے، ”کیونکہ زمین پر کوئی ایسا راستباز انسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے۔“(واعظ ۷:۲۰)۔ تمام انسان خُداکے سامنے گناہ کرتے ہیں۔ اگرکوئی شخص کہتا ہے کہ وہ گناہ نہیں کر چکا، تب وہ ایک جھوٹاہے۔ لوگ اپنی تمام زندگیوں میں اپنے مرنے کے لمحات تک گناہ کرتے ہیں اور یہ ہے کیوں یسوعؔ نے یوحناؔ کی معرفت اُن کے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا تھا۔ اگر ہم گناہ نہیں کرتے ہیں، تب ہمیں خُدا پر ہمارے نجات دہندہ کے طورپر ایما ن رکھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
خُداوند اُن سے کہتاہے، ”میرا کلام تم میں نہیں ہے“ جو سوچتے ہیں جیسے اگروہ گناہ نہیں کر چکے ہیں۔ اگر کوئی شخص پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتا ہے، تب وہ تباہی کا مستحق ہے۔ اگر ایک راستباز انسان یا ایک گنہگار کہتاہے کہ وہ خُداکی حضوری میں گناہ نہیں کر چکاہے، تب وہ خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کا حق نہیں رکھتاہے۔
خُداوند نے ہر کسی کو خوبصورت خوشخبری کی حیران کن بخشش عطا کی۔ ہم نے ہمارے تمام گناہوں کا اِقرار کِیا اور خوبصورت خوشخبری کے ساتھ گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے سلسلے میں توبہ کی۔ ہم خوبصورت خوشخبری پرواپس آسکتے تھے جو خُدا نے ہمارے گناہوں کے لئے معافی کے طو رپرہم پر اُنڈیلی اور اِس پر رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کے سلسلے میں ایما ن رکھا۔ رُوح القدس کے ساتھ شراکت کا ایک سچاشعور پانی اور رُوح کی خوشخبری میں ہے، اور صرف وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری رکھتے ہیں خُداکے ساتھ شراکت رکھ سکتے ہیں۔
بنی نوع انسان آدمؔ اور حواؔ کی گناہوں کی وراثت کی وجہ سے خُداسے دُور تھے۔ لیکن اب ہم، جو گناہ کا موروثی بیج رکھ چکے ہیں، پھر خُد اکے ساتھ شراکت رکھنے کے لئے آگے دیکھ سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے سلسلے میں، ہمیں یقینا یسوعؔ مسیح کی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان کی طرف واپس آنا چاہیے اور گناہوں کے لئے معاف ہونا چاہیے جو ہمیں خُدا سے بہت دُور کر چکے ہیں۔
وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہوں گے اور خُد ااُنہیں رُوح القدس کے ساتھ بھرے گا۔ راستباز خُداکے ساتھ شراکت رکھ سکتے ہیں، کیونکہ وہ رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں۔ اِس لئے، وہ جو اپنے گناہوں کے لئے خُدا سے منقطع ہو چکے ہیں کو یقینا پانی اور رُوح کی خوبصور ت خوشخبری پر واپس آنا چاہیے اور اِ س پر ایمان رکھنا چاہیے۔صرف تب وہ اُس کے ساتھ سچی شراکت رکھنا شروع کر سکتے ہیں۔
 رُوح القدس کی معموری خوبصور ت خوشخبری پر ایمان کے ساتھ آتی ہے۔ ہمیں یقینا جاننا چاہیے کہ رُوح القدس کی معموری صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے۔ خوبصورت خوشخبری پر ایمان نے خُدا کی طرف ایک نئے راستے کو پیدا کِیا۔ خُد اوند نے درمیانی دیوار کو توڑ دیا جس نے ہمیں اُس سے دونوں موروثی اور حقیقی گناہوں کی وجہ سے جُدا کر دیاتھا، اور ہمیں پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے ساتھ شراکت رکھنے کی اجازت دی۔
ہمیں یقینا ایک بار پھر رُوح القدس کے ساتھ شراکت قائم کرنی چاہیے۔ رُوح القدس کے ساتھ سچی شراکت ایمان سے فرمانبرداری کے لئے پانی اور رُوح کی خوشخبری کو سمجھنے کے وسیلہ سے حاصل کی جاتی ہے۔ رُوح القدس کے ساتھ شراکت واقع ہوتی ہے جب ہم حقیقت پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے گناہوں کی معافی خوبصورت خوشخبری سے حاصل ہوتی ہے۔ وہ جو اپنے گناہوں کے لئے معافی حاصل نہیں کرچکے ہیں رُوح القدس کے ساتھ شراکت نہیں رکھ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی شخص پانی
اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے بغیر رُوح القدس کے ساتھ شراکت نہیں رکھ سکتاہے۔
اگر رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنا آپ کے لئے مشکل ہے، تب آپ کو پہلے تسلیم کرنا چاہیے کہ آپ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور کہ آپ کے گناہ معاف نہیں ہوئے ہیں۔ کیا آپ رُوح القدس کے ساتھ شراکت رکھنے کی خواہش رکھتے ہیں؟ تب، خوشخبری پرایمان رکھیں جو یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے خون کے وسیلہ سے مکمل ہوئی تھی۔ صرف تب آپ اپنے تمام گناہوں سے معاف ہوں گے اور اجر کے طور پراپنے دل میں رُوح القدس کو حاصل کریں گے۔ یہ خوبصورت خوشخبری یقینا آ پ کو رُوح القدس کے ساتھ شراکت عطا کر سکتی ہے۔