خطبات

مضمون 8: رُوح القّدس

[8-7] < یسعیاہ ۹:۶۔۷> خوبصورت خوشخبری جو رُوح القدس کو آپ کےدل میں سکونت کرنے کی اجازت دیتی ہے

< یسعیاہ ۹:۶۔۷>
”اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولُّد ہُوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشاگیا اور سلطنت اُسکے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہو گا۔ اُسکی سلطنت کے اِقبال اور سلامتی کی کچھ انتہا نہ ہوگی۔ وہ داؤدؔ کے تخت اور اُس کی مملکت پر آج سے ابد تک حُکمران رہیگا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قِیام بخشیگا ربُ الافواج کی غیُوری یہ کریگی۔“
 
 
ایماندار وں میں کیا چیز رُوح القدس کوسکونت
کرنے کی اجازت دیتی ہے؟
پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری
 
رُوح القدس کو حاصل کرنے کے سلسلے میں، ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے خُداوند کو عجیب، مُشیر، اور خُدائے قادر کا نام دیا جاتا ہے۔ ہمارے خُداوند نے اپنے آپ کو آسمان کے راہ کے طور پر بیان کِیا۔ یسوعؔ مسیح نے ہر کسی کو خوبصورت خوشخبری کی بخشش کے ساتھ
پیشکش کی۔
تاہم، اِ س دُنیا میں، بہت سارے لوگ موجود ہیں جو اب تک تاریکی میں رہتے ہیں۔ وہ اِس تاریکی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کیونکہ وہ خوبصورت خوشخبری کے بارے میں نہیں جانتے ہیں، وہ کبھی اپنے گناہوں سے بچ نہیں سکتے ہیں۔ اِس کی بجائے وہ جھوٹی الہٰی تعلیم پر اپنے عقیدہ میں مُرجھا جاتے ہیں۔ مقابلے میں، اُن کے لئے جو سچائی کی تلا ش کرتے ہیں، وہ خوبصورت خوشخبری سے ملیں گے اور اپنی باقی زندگیاں خُداکی برکات کے ساتھ بھر ی ہوئی گزاریں گے۔ میں ایما ن رکھتا ہُوں یہ خُدا کی خاص برکت ہے جو مجھے اُن کو خوبصورت خوشخبر ی کو تلاش کرنے اور اُن کو اُن کے گناہوں سے دھونے کے لئے مدد دینے کے واسطے اجازت دیتی ہے۔
اِس لئے گناہ سے آزادی ناممکن ہوتی اگر یہ اُس کی برکت نہیں تھی۔ اگر ہم خُداوند سے مل چکے ہیں اور رُوح القدس کو حاصل کر چکے ہیں تب ہم بہت زیادہ برکت یافتہ ہیں۔ اَفسوس کے طور پر، بہت سارے لوگ باخبر نہیں ہیں کہ خُد اکی برکت اِس خوبصورت خوشخبری پر ایمان سے حاصل ہوتی ہے۔
خُد اکی برکت خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے سے مُنتج ہوتی ہے جو ہمیں یسوعؔ مسیح، اُس کے اکلوتے بیٹے، کے وسیلہ سے دی گئی تھی۔ یسوعؔ واحد ہے جو ہمیں دُنیا کے گناہوں سے بچاتا ہے اور ہمیں اپنے فضل کے ساتھ برکت دیتا ہے۔ کوئی دوسرا ہمیں ہمارے گناہوں سے نہیں بچا سکتا اور یا ہمارے دلوں سے گناہ کو مٹانے میں مدد نہیں دے سکتا۔ کون ممکنہ طو رپر اپنے آپ کو اپنے ذاتی گناہوں سے اور ابدی موت کے درد سے بچا سکتا تھا؟
خُدا ہمیں بتاتا ہے، ”ایسی راہ بھی ہے جو اِنسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہے۔ پر اُس کی انتہا میں موت کی راہیں ہیں۔“ (امثال۱۶: ۲۵)۔  لوگ اپنے ذاتی مذاہب قائم کرتے ہیں اور اپنے آپ کو تباہی اور موت کی طرف لے جاتے ہیں۔ بہت سارے مذاہب فخر کرتے ہیں کہ وہ راستبازی پر زور دیتے ہیں اور لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے اپنے ذاتی راستے دکھاتے ہیں لیکن یہ صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری ہے، جو ہمارے خُداوندنے ہمیں دی، جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا سکتی ہے۔ صرف یسوعؔ نجات دہند ہ ہے جو گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچا سکتا ہے۔
یوحنا۱۴:۶ میں، ہمارے خُداوند نے کہا، ”یسوعؔ نے اُ س سے کہا کہ راہ اور حق اور زندگی میَں ہُوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔“ اُس نے اُن کی موت کی راہ پر اُن کے واسطے اپنا ذاتی بدن اور خون دیا۔ اُس نے اپنے آپ کو سچی زندگی کی راہ کے طو رپر بھی بیان کِیا۔ خُدا کہتا ہے اگر کوئی شخص یسوعؔ کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتا ہے، وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا۔
 ہمیں یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے، ہمارے گناہوں سے معاف ہونا چاہیےاور آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے سلسلے میں ایمان رکھنا چاہیے کہ وہ ہمارا نجات دہندہ ہے۔
 
 
ایک دفعہ قدیم اسرائیل میں!
          
”اور شاہِ یہوداہؔ آخز بن یُوتام بن عزیاہؔ کے ایاّم میں یُوں ہُوا کہ رضین شاہِ ارامؔ اور فقح بن رملیاہؔ شاہِ اسرائیل نے یروشلیم ؔپر چڑھائی کی لیکن اُس پر غالب نہ آسکے۔“(یسعیاہ ۷:۱) ۔
اسرائیل بنیادی طو رپر ایک قوم تھا۔ تاہم، اسرائیل جنوب اور شمال میں تقسیم ہو گیا۔ خُدا کی ہیکل جنوبی یہوداہؔ کے یروشلیمؔ میں تھی، جہاں رحبعامؔ، سلیمان ؔ بادشاہ کا بیٹا، حکومت کرتا تھا۔ بعد میں، یربعامؔ، سلیمان ؔ کے خادموں میں سے ایک نے، شمال میں دوسری قوم کو قائم کِیا اور اِس طرح اسرائیل تقسیم ہو گیا۔ اُس وقت سے، خُدا پر ایمان زوال پذیر ہُوا۔ ایمان کی زوال پذیری آج کے بدعتی مذاہب کا ذریعہ بن گئی۔ اِس طرح یربعامؔ بدعتیوں کا باپ بن گیا۔ اُس نے خُدا کی شریعت میں ترمیم کی کیونکہ اُسے اپنا تخت قائم رکھنے کی ضرورت تھی اور اِس لئے، بدعتیوں کا باپ بن گیا۔ اُس نے اسرائیل کی شمالی بادشاہت میں، اپنے لوگوں کے لئے ایک مختلف مذہب تخلیق کِیا اور اُس نے حتیٰ کہ یہوداہؔ جنوبی بادشاہت پر حملہ کرنے کی کوشش کی۔ تقریباً ۲۰۰ سال گزر چکے تھے ، لیکن دو بادشاہوں کے درمیان مخالف
تعلقات لا تبدیل رہے۔
تاہم، خُدانے یسعیاہ کے وسیلہ سے کلام کیا، ”چونکہ ارامؔ اور اِفرائیمؔ اورر ملیاہؔ کا بیٹاتیرے خلاف مشورت کر کے کہتے ہیں۔ کہ آؤ ہم یہوداہؔ پر چڑھائی کریں اور اُسے تنگ کریں اور اپنے لئے اُس میں رخنہ پیدا کریں اور طابیلؔ کے بیٹے کو اُس کے درمیان تخت نشین کریں۔ اِس لئے خُداوندخُدا فرماتاہے کہ اس کو پائیداری نہیں بلکہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ ارامؔ کا دارُالسلطنت دمشقؔ ہی ہوگا اور دمشقؔ کا سردار رِضین ؔ اور پینسٹھ برس کے اندر اِفرائیم ؔ ایسا کٹ جائے گا کہ قوم نہ رہیگا۔ اِفرائیمؔ کا بھی دارُالسلطنت سامریہؔ ہی ہوگا اور سامریہ ؔ کا سردار رملیاہؔ کا بیٹا۔ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو یقینا تم بھی قائم نہ رہو گے“ (یسعیاہ ۷:۵۔۹)۔
 اُس وقت، خُدا نے آخزؔ بادشاہ کے لئے یسعیاہؔ کے وسیلہ سے پیشنگوئی کی، لیکن بادشاہ اُس پر کوئی ایمان نہیں رکھتا تھا۔ آخزؔ محض پریشان تھا کہ وہ حتیٰ کہ ارامؔ کی فوج کے خلاف کھڑے رہنے کے قابل نہیں ہوگا، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد میں ارامؔ اور اسرائیل کی چڑھائی کے بارے میں سُن کر، وہ خوف سے کانپ اُٹھا۔ لیکن خُدا کا خادم، یسعیاہ ؔ، آیا اور اُسے بتایا، ”پینسٹھ برس سے کم میں، شمالی اسرائیل
ٹوٹ جائے گا۔ اور بدکار سازش جو دو بادشا ہ کر چکے ہیں کبھی سچ ثابت نہیں ہوگی۔“
 خُدا کے خا دم نے آخزؔ بادشاہ کو خُدا سے ایک نشان مانگنے کے لئے کہا، ”خُداوند اپنے خُدا  سے کوئی نشان طلب کر خواہ نیچے پاتال میں خواہ اُوپر بلندی پر۔“ (یسعیاہ ۷:۱۱)۔ ”تب اُس نے کہا اَے داؤدؔ کے خاندان اب سُنو! کیا تمہارا اِنسان کو بیزار کرنا کوئی ہلکی بات ہے کہ میرے خُدا کو بھی بیزا ر کروگے؟۔ لیکن خُدا وند آپ تم کو ایک نشان بخشیگا۔ دیکھو ایک کُنواری حاملہ ہو گی اور بیٹا پیدا ہوگا اور وہ اُس کا نام عِمانوایلؔ رکھیگی۔ (یسعیاہ ۷:۱۳ ۔۱۴)۔ یہ اُس کی پیشنگوئی تھی: کہ وہ اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچائے گا۔
 
 
کون خُدا کا دشمن ہے؟
 
انسانیت کادُشمن گناہ ہے اور گنا ہ شیطان سے شروع ہوتا ہے۔ اور کون ہمارے گناہوں سے نجات دینے والا ہے۔ نجات دہندہ یسوعؔ مسیح، خُداکے بیٹے کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ انسان بنیادی طور پر جسمانی کمزوریاں رکھتا ہے اور اِس لئے بچ نہیں سکتا بلکہ گناہ کرتا ہے۔ وہ شیطان کے اختیار کے ماتحت ہے۔ بہت سارے لوگ اب تک غیب بینوں کے پاس جاتے ہیں اور اپنی زندگیاں بالکل اُسی طرح گزارنے کی کوشش کرتے ہیں جس طرح یہ جھوٹے نبی اُن کو ہدایت دیتے ہیں۔ یہ سیدھا ثبوت ہے کہ وہ شیطان کے تسلّط کے ماتحت ہیں۔
خُدا وند نے یسعیاہؔ کو، یہ کہتے ہوئے، نجات کا ثبو ت دیا کہ ایک کُنواری ایک بیٹے کو جنے گے اور اُس کا نام عمانوایلؔ رکھے گی۔ یسوعؔ کو ایک آدمی کے گنہگار بدن کی مانند بھیجنا یہ خُدا کا منصوبہ تھا اور اُس کے وسیلہ سے گنہگاروں کو شیطان کے ظلم سے بچانا تھا۔ پیشنگوئی کی مطابقت میں، یسوعؔ ایک کُنواری سے بنی نوع انسان کے طو رپر پیدا ہو کر اِس دُنیا میں آیا۔
 اگر یسوعؔ ہمارے پاس نہ آتا، ہم اب تک شیطان کی حکومت کے ماتحت زندہ رہ رہے ہوتے۔ لیکن یسوعؔ اِس دُنیا میں آیا اور یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اور ہمیں خوبصورت خوشخبری دینے کے سلسلے میں صلیب پر مر گیا جوتمام گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچائے گی۔ اِس لئے، بہت سارے لوگوں نے خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھا، اپنے گناہوں سے معافی حاصل کی اور خُدا کے بیٹے بن گئے۔
حتیٰ کہ آج کل، بہت سارے ماہرِ علمِ الہٰیات بحث کرتے ہیں آیا یسوعؔ مسیح خُدا ہے یا انسان۔ قدامت پسند ماہرِ علمِ الہٰیات کہتے ہیں ”یسوعؔ خُدا ہے،“ لیکن بعض نئے ماہرِ علمِ الہٰیات بحث کرتے ہوئے نظریہ بگاڑتے ہیں کہ یسوعؔ یوسفؔ کا ناجائز بیٹا تھا۔ یہ کیا ہی قابلِ افسوس دعویٰ ہے!
بعض نئے ماہرِ علمِ الہٰیات کہتے ہیں کہ وہ ایمان نہیں رکھ سکتے کہ یسوعؔ پانی پر چلنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ کہتے ہیں، ”یسوعؔ حقیقت میں اُفق پر ایک نیچی پہاڑی پر چلا اور اُس کے شاگردوں نے، اُسے دُور سے دیکھ کر، سوچا کہ وہ پانی پر چل رہا تھا۔“ موجودہ دور کے الہٰی تعلیم کے فلاسفر جو نئی الہٰی تعلیم کے سکولوں سے تعلق رکھتے ہیں سب الہٰی تعلیم کے اچھے آدمی نہیں ہیں۔ اُن میں زیادہ تر صرف ایما ن رکھنے کے لئے چُنتے ہیں وہ کتابِ مقدس میں سے کیا سمجھ سکتے ہیں۔
ایک اورمثال دینے کے لئے، کتابِ مقدس کہتی ہے کہ یسوعؔ نے دو مچھلیوں اور پانچ روٹیوں کے ساتھ پانچ ہزار لوگوں کو کھلایا۔ لیکن وہ اِس معجزے کے متعلق قوی شک پر قائم رہتے ہیں۔ وہ اِسے مندرجہ ذیل اصطلاحوں میں واضح کرتے ہیں۔ ” لوگ یسوعؔ کے پیچھے چل رہے تھے اور بھوکے مر رہے تھے۔ پس یسوعؔ نے اپنے شاگردوں سے تمام بچا ہُوا کھانا اکٹھا کرنے کے لئے کہا۔ تب ایک بچے نے رضاکارانہ طور پر اُسے اپنا کھانا دیا، اور تمام دوسرے بڑے چُھوئے گئے اور اپنا ذاتی کھانانکال کر کھایا۔ اِس طرح اُن کے سارا کھانا اکٹھا کرنے اور کھانے کے بعد، بارہ ٹوکریاں بچ گئیں تھیں۔“ اِن اقسام کے ماہرِ علم الہٰیات سادگی سے خُد اکے کلام کو اپنی ذاتی انتہائی محدود سوجھ بوجھ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔
خُدا کی سچائی پر ایمان رکھنا سادگی سے خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے جو خُدا نے دی۔ ایمان کا مطلب کسی چیز پر ایمان رکھنانہیں ہے محض کیونکہ یہ شعورکے قابل نظر آتی ہے بلکہ کسی دوسری چیز پر ایمان رکھنے میں ناکام ہوناہے کیونکہ یہ نہیں ہوتی۔ آیا ہم اِسے سمجھ سکتے ہیں یا نہیں، ہمیں یقینا اُس پر یقین کرنا چاہیے اور اُس کے کلام کو قبول کرنا چاہیے جس طرح وہ لکھا ہُوا ہے۔
 حقیقت کہ یسوعؔ آدم زادکے طو رپر ہمارے پاس آیا کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچانے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ یسوعؔ، جو خُدا ہے، ہمیں بچانے کے لئے اِس زمین پر آیا۔ یسعیاہ ؔپیشنگوئی کر چکا تھا کہ وہ ہمارے پاس آدمزاد کے طور پر، ایک کُنواری سے پیدا ہو کر آئے گا۔
پیدائش۳:۱۵میں، خُداوند خُدا نے سانپ سے کہا، ”اور میَں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالونگا۔ وہ تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔“ اِس کا مطلب ہے کہ خُد ایسوعؔ کو، ایک انسان کے طور پر ظاہریت میں، بنی نوع انسان کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے ہمارے نجات دہندہ کے طو رپر، بھیجنے کا منصوبہ بنا چکا تھا۔
کتابِ مقد س میں ، یہ لکھا ہُوا ہے ، ”اَے موت تیری فتح  کہاں رہی ؟  اَے
 موت تیرا ڈنک کہاں رہا؟۔ موت کا ڈنک گناہ ہے اور گناہ کا زور شریعت ہے۔“ (۱۔کرنتھیوں ۱۵:۵۵۔۵۶)۔ موت کا ڈنک گناہ ہے۔ جب ایک آدمی گناہ کرتا ہے، موت اُسے اپنا غلام بناتی ہے۔ لیکن ہمارے خُداوند نے وعدہ کِیا، ”عورت کی نسل تیرے سر کو کُچلے گی۔“ اِس کا مطلب ہے کہ یسوعؔ گناہ کے ڈنک کو تبا ہ کرے گا جو شیطان نے پیدا کِیاتھا۔
یسوعؔ اِس دُنیا میں آیا ،دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور مصلو ب ہُوا اوراُن کے لئے پرکھا گیا۔ اُس نے اُن سب کو اُن کے گناہوں سے بچایا جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ جب آدمؔ اور حواؔنے گنا ہ کِیا، خُدانے بنی نوع انسان کو شیطان کے اختیار سے بچانے کا وعدہ کِیا۔ جدید دُنیا میں، خُداکے دُشمن وہ ہیں جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔
 
 
کیوں یسوعؔ اِس دُنیامیں پیدا ہُوا؟
 
خُد انے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے شریعت اور خوبصورت خوشخبری دی۔ خُدا کی شریعت کے ماتحت، لوگ اُس کی حضوری میں گنہگا ر بن گئے۔ اِسی طرح، شریعت دی گئی تھی تاکہ لو گ اپنے گناہوں کو جان سکیں۔ جب لوگ گناہ کے اور بذات ِخود شریعت کے غلام بن گئے، ہمارا خُداوند اِس دُنیا میں شریعت کی راستبازشرائط کو پوراکرنے کے لئے آیا۔
یسوعؔ شریعت کے ماتحت پیدا ہُوا تھا۔ وہ شریعت کے دَور میں پیدا ہُوا تھا۔ وجہ کہ لوگوں کو شریعت کی ضرورت تھی یہ تھی کہ اُنھیں اپنے گناہوں کو اُن سے معافی حاصل کرنے کے سلسلے میں جاننے کی ضرورت تھی۔ لو گ اپنے کپڑوں سے صرف گندگی صاف کرتے ہیں جب وہ احساس کرتے ہیں کہ وہ گندے ہیں۔ اِسی طرح، اپنے گناہوں کو پہچاننے کے سلسلے میں، لوگوں کو خُداکی شریعت کو جاننا چاہیے۔ اگر کوئی شریعت موجو دنہ ہوتی، گناہوں کا کوئی شعور موجود نہ ہوتا، اور یسوعؔ کو اِس دُنیا میں نہ آنا پڑتا۔
اگر آپ خُد اکی شریعت کو جانتے ہیں، تب آپ اُ س سے ملنے کا ایک موقع رکھتے ہیں ۔ ہم
شریعت کو جانتے تھے اور اِس لئے ہمارے گناہوں کے بارے میں سیکھنے کے قابل تھے۔ صرف ہمارے گناہ کو جاننے کے بعد یسوعؔ مسیح ہمارے پاس ایمان رکھنے کے لئے خوبصورت خوشخبری کو لایا۔ اگر خُدا ہمیں شریعت عطا نہ کرتا، تب ہم گنہگار نہیں ہوں گے اور عدالت وجود نہیں رکھے گی۔ اِس طرح خُدانے ہمیں شریعت دی اور تمام گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے ہمیں خوبصورت خوشخبری کے ساتھ پیشکش کی۔
شریعت جسے یقینا خالق اور اُس کی مخلوق کے درمیان وجود رکھنا چاہیے خُدا کی نجات کی شریعت ہے۔ یہ محبت کی شریعت ہے۔ خُد انے انسان کو بتایا، ”لیکن نیک و بد کی پہچان کے درخت کا کبھی نہ کھانا“ (پیدائش ۲:۱۷)۔ یہ شریعت تھی جو خُدا نے ہمیں عطا کی، اور شریعت محبت کی بنیاد بن گئی جس کے ساتھ خُدا نے ہم سب کو ہمارے گناہوں سے بچایا۔ نجا ت کی شریعت اپنی بنیاد ہمارے گناہوں کی معافی پر رکھتی تھی۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہمارا خالق ہے اور کہ ہر چیز اُس کی مرضی کے مطابق وجود میں آئی۔ اِس کامطلب ہے کہ خُدا حتمی شخصیت ہے اور کہ لوگوں کو نجا ت کی شریعت پر ایمان رکھنا چاہیے جو خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے مکمل ہوئی تھی۔
قادرِ مطلق خُدا حتمی طو رپر بھلا ہے۔ اِس دُنیا کے لئے خُد اکی محبت نے اُسے اپنے واحد اِکلوتے بیٹے کو قربان کرنے پر آمادہ کِیا، جو تمام گنہگاروں کا نجات دہندہ بن گیا۔اگر خُدا نے ہمیں بنایا ہوتااور ہمارے گناہوں سے ہمیں بچانے کے لئے خوبصورت خوشخبری نہ دی ہوتی، ہم اُس کے خلاف شکایتیں کرتے۔ لیکن خُدا ہمیں ہماری ذاتی تباہی سے بچانا چاہتا تھا اور اِس لئے نجا ت کی شریعت کو قائم کِیا۔ شریعت کی وجہ سے، ہم ہمارے گناہوں کا احساس کرنے کے قابل تھے اور اُن پر براہِ راست دیکھنے کے وسیلہ سے، یسوعؔ کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنا شروع کرتے ہیں۔ جب ہم خُداکے کلام کو نقصان پہنچاتے ہیں، ہم شریعت کے سامنے گنہگاروں کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں، اور آخر کار ہم گنہگار خُدا کے سامنے گناہ کی معافی کے واسطے اُس کا فضل مانگنے کے لئے گھٹنے ٹیکتے ہیں۔
 یسوعؔ ایک عورت سے پیدا ہُوا اور اِس دُنیا میں بنی نوع انسان کو گناہ سے بچانے کے لئے آیا۔ یسوعؔ ایک انسان کے طورپر اِس دُنیامیں ہمارے واسطے خُداکا منصوبہ پورا کرنے کے لئے آیا۔ ہم
اُس کی خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ اِس لئے، ہم خُداوند کی تعریف کرتے ہیں۔
 بعض لوگ شکایت کرتے ہیں، ” کیوں خُدانے مجھے اتنا کمزور بنایا کہ میں اتنی آسانی سے گناہ میں گرگیا اور اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے اتنی زیادہ اذیت اُٹھا چکا ہُوں؟“ لیکن خُد ا نے کبھی نہیں چاہاکہ ہم اَذّیت اُٹھائیں ۔ اُس نے ہمیں اَذّیت اُٹھانے کی اجازت دی کیونکہ ہم یسوعؔ کی خوشخبری کے بارے میں شک رکھتے تھے۔ خُدا نے ہمیں دونوں دُکھ اور خوبصورت خوشخبری دی تاکہ ہم اُس کے بیٹوں کے طور پر اُس کا وُہی اختیار رکھیں۔ یہ اُ س کامنصوبہ تھا۔
لیکن بدرُوحیں کہتی ہیں، ”نہیں! نہیں! خُدا ایک حُکمران ہے! آگے بڑھو اور زندہ رہو جس طرح آپ چاہتے ہیں۔ خود مختار بنیں! اپنی ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے اپنی قسمت بنائیں!“ بدرُوحیں خُدا پر بنی نوع انسان کے عقیدے کو بھی روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن وہ جو خُداسے جُدا رہنے کو چنتے ہیں نجات کے لئے اُس کے منصوبے میں رکاوٹیں ہیں۔ یسوعؔ اِس دُنیا میں آیا اور اُن کو جو شیطان کے اختیار کے ماتحت ہیں اُن کے گناہوں سے چھڑانے کے لئے بلایا۔ ہمیں خُدا سے جُدا نہیں رہنا چاہیے۔
 
 
انسان گنہگار پیدا ہوتا ہے جو جہنم کا مقدر رکھتا ہے
          
اِس زمین پر کوئی سچائی نہیں ہے جو تبدیل نہیں ہوتی۔ لیکن یسوعؔ کی خوبصورت خوشخبری ناقابلِ تبدیل سچائی ہے۔ اِس لئے، لوگ اِس سچائی پر انحصار کر سکتے ہیں اور شیطان کی طاقت سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ بنی نوع انسان کو آدم ؔاور حواؔ کا گناہ ورثے میں ملا اور مسیح کی مداخلت کے بغیر جہنم کے شعلوں کے حوالے ہو جائیں گے۔ اِس کی بجائے، اُس کی قربانی کا شکر ہو،یعنی انسان اختیار کے ساتھ خُد اکا ایک بیٹا بننے کے لئے برکت یافتہ ہُوا۔ ”لیکن اندوہگین کی تیرگی جاتی رہے گی۔“ (یسعیاہ ۹:۱)۔ خُدا نے اِس دُنیا میں اپنے بیٹے کو بھیجا اور اُن کو جلال دیا جو خوبصورت نجات پر ایمان رکھتے ہیں۔
 ”جو لو گ تاریکی میں چلتے تھے اُنھوں نے بڑی روشنی دیکھی۔ جو موت کے سایہ کے
مُلک میں رہتے تھے اُن پر نُور چمکا۔“(یسعیاہ ۹:۲)۔ آج، یہ کلام آپ پر اور مجھ پر سچ ثابت ہوتا ہے۔ خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم ابدی زندگی کے ساتھ برکت یافتہ ہوئے، جو ہم اِس زمین پر نہیں رکھ سکتے تھے۔ یسوعؔ مسیح نے بنی نوع انسان کو دُنیا کے تما م گناہوں سے بچایا اور اُن کو جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، اُس نے ابدی زندگی اور آسما ن کی بادشاہت دی۔
 
 
اُس نے اُن پر خوشخبری کی خوبصورت روشنی ڈالی جو بے اُمید تھے
 
انسان، دُھند کی مانند، تھوڑی دیر کے لئے اِس زمین پر وجود رکھتا ہے لیکن جلد ہی غائب ہو جاتا ہے۔ اُس کی زندگی سالانہ پودوں اور گھاس کی مانند ہے۔ گھاس سال کے دوران صرف چند مہینوں کے لئے اپنی زندگی کی قو ت کو قائم رکھتی ہے اور خُدا کی کارسازی کے مطابق غائب ہو جاتی ہے۔ ہماری زندگیوں میں سب کچھ بے فائدہ ہے اِس طرح بے معنی جس طرح یہ گھاس ہے۔ لیکن خُد انے ہماری تھکی ہوئی جانوں کے لئے خوبصور ت خوشخبری دی اور اپنی راستبازی کے ساتھ، ہمیں اپنے بیٹے بنایا۔ یہ کیا ہی حیران کن فضل ہے! ہماری بے معنی زندگیاں ابدی زندگیاں بن گئیں خُدا کی محبت کا شکرہو اور ہم اُس کے بیٹے بننے کے حق کے ساتھ بھی برکت یافتہ ہوئے۔
یہاں ایک جان کا اِقرار ہے جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا کے فضل کے ساتھ برکت یافتہ ہوئی۔
”میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوا جو خُدا پر ایمان نہیں رکھتا تھا۔ اِس لئے، میں نے اِسے خوبصورت سوچتے ہوئے پرورش پائی کیونکہ میری ماں اپنے سامنے پانی کے ایک پیالے کے ساتھ ہر صبح میرے خاندان کی خیروبرکت کے لئے آسمان اور زمین کے دیوتاؤں سے دُعامانگتی تھی۔ جونہی میں جوان ہو رہا تھا، میں اپنی قدروقیمت یا میرے وجود کی وجہ کے بارے میں نہیں جانتا تھا، جس نے مجھے ایمان رکھنے کے قابل کِیا کہ حقیقت میں معاملہ یہ نہیں تھا آیا میں زندہ رہوں یا مرجاؤں۔ چونکہ میں اپنی قدر و قیمت
سے بے خبر تھا، میں تنہائی میں رہا۔
اِس قسم کی زندگی نے مجھے تھکا دیا اور اِس طرح میں نے شادی کی جلدی کی۔ میری ازدواجی زندگی ایک اچھی زندگی تھی۔ مجھے کسی چیز کی خواہش نہیں تھی، اِس لئے میں ایک خاموش اور پُرسکون زندگی گزارتا تھا۔ تب میرے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور اُس وقت سے میں نے پایا کہ میرے اندر محبت ظاہر ہونا شروع ہوئی۔ میں نے میری خودغرض خواہشات کو کھونا شروع کِیا لیکن میں نے اُن کے کھونے کا نقصان بھی محسوس کِیا جو میرے قریب ترین تھے۔
اِس طرح، میں نے خُدا کی تلا ش شروع کی۔ میں کمزور اور نااہل تھااور اِس لئے، ایک حتمی شخص کی میرے پیاروں کی نگہبانی کے لئے ضرورت رکھتا تھا۔ پس میں نے گرجا گھر جانا شروع کِیا لیکن میرا ایمان میری ماں کے ایمان سے تھوڑا مختلف تھا جس طرح وہ پانی کے پیالے کے سامنے دُعا مانگتی تھی — میری
دُعا صرف مبہم خدشات اور اُمیدوں پر مبنی تھی۔
ایک دفعہ، میں نے علاقائی گرجا گھر میں منعقد ہوئی چھوٹی عبادات میں سے ایک میں شرکت کی اور جب میں دُعامانگ رہا تھا، میری آنکھوں سے آنسو گرنے شروع ہو گئے۔ میں پریشان ہو گیا اور چلانے کو روکنے کی کوشش کی، لیکن آنسو گرنے جاری رہے۔ میرے ارد گرد کے لوگوں نے میرے سر پر اپنے ہاتھوں کو رکھا اور مجھے رُوح القدس حاصل کرنے پر مبارک باد دی۔ لیکن میں حیرت زدہ تھا۔ میں حتیٰ کہ خُدا کے کلام سے واقف نہیں تھا اور اُس پر میرا ایمان صرف گول مول تھا، پس میں کوئی اعتمادنہیں رکھتا تھا کہ یہ رُوح القدس کی قوت تھی۔
گرجا گھر جس میں شرکت کرتا تھا پنتیکاسٹل -کیرزمیٹک موومنٹ کے ساتھ ملحق تھا، اور بہت سارے میری طرح کے تجربا ت رکھتے تھے اور تقریباً ہر کوئی غیرزبانوں میں بولتا تھا۔ ایک دن، مجھے ایک بیداری کی عبادت میں دعوت دی گئی جو ایک پاسبان کے وسیلہ سے ہوتی تھی جسے لوگ کہتے تھے کہ وہ رُوح القدس کے ساتھ بھرا ہُوا تھا۔ پاسبان نے بے شمار لوگوں کو گرجا گھر میں جمع کِیا اور کہا وہ کسی کے گہرے پھوڑے کو شفا دے گا جس طرح یہ اُ س کے رُوحانی اختیار میں ایسا کرنا موجود تھا۔ تاہم، میں نے سوچا گہرا پھوڑا ایک بیمار ی تھا جو آسانی سے ہسپتالوں میں شفا یاب ہوتا تھا، پس میں زیادہ دلچسپی لینے لگا کیسے وہ رُوح القدس حاصل کر چکا تھا۔ لیکن پاسبان کا شفا کے لئے اپنی کوششوں میں کامیاب ہونے پر ظاہر ہونے کے بعد، اُس نے شیخی مارنی شروع کی کہ وہ پیشنگوئی کر سکتا تھا آیا ایک ہائی اسکول کا طالب علم اپنے یونیورسٹی کے داخلے کے امتحان میں کامیاب ہو گا یا نہیں۔ بہت سارے لوگوں نے اُس کے اختیارات کی تعریف کی جس طرح آیا وہ خُدا تھا۔
 لیکن میں اُسے سمجھ نہ سکا۔ اور میں کہہ نہ سکا کہ جو کوئی قُدرت پاسبان رکھتا تھا،کو رُوح القدس کے ساتھ کچھ کرنا تھا۔ میں نہیں سوچتا تھا یہ اہم تھا آیا وہ گہرے پھوڑے کو شفا یا کسی کے امتحان میں کامیابی کی پیشنگوئی کر سکتا تھا۔ پس، میں اُ س کے ظاہری معجزات کو رُوح القدس کے کاموں کے طورپر نہ لے سکا۔
قُدرت اور خُدا کی محبت جو میں ذہن میں رکھتا تھا اُس سے مختلف تھی جو میں نے دیکھا۔ اِس وجہ سے، میں نے اُ س گرجاگھر میں شرکت رو ک دی اور لوگوں سے بچا جو پاسبان کے اختیارات پر ایمان رکھتے تھے۔ اُ س کے بعد، میں نے ایک خاموش گرجاگھرمیں شرکت کی، جو میں نے چنا کیونکہ میں ایمان رکھتا تھا یہ خُد اکے کلام کے ساتھ زیادہ واسطہ رکھتا تھا۔ میں نے شریعت کے بارے میں اور اِس کے وسیلہ سے سیکھا کہ میں انتہائی ناراست تھا۔ خُد امیرے خوف کا موضوع بن گیا اور میں نے سیکھا کہ میں اُس کی حضور ی
میں قابلِ عزت نظر نہیں آسکتاتھا اور کہ اُس کا رُوح القدس مجھے نظر انداز کرنے کے لئے نظر آیا۔
یسعیاہ ۵۹:۱۔۲ میں یہ لکھا ہُوا ہے، ”دیکھو خُدا وند کا ہاتھ چھوٹا نہیں ہو گیا کہ بچا نہ سکے اور اُس کا کان بھار ی نہیں کہ سُن نہ سکے۔ بلکہ تمھاری بدکرداری نے تمھارے اور تمھارے خُدا کے درمیان جُدائی کر دی ہے اور تمھارے گناہوں نے اُسے تم سے روپوش کِیا ایسا کہ وہ نہیں سُنتا۔“ میری صورتِ حال پریہ ٹھیک نظر آیا۔ اُس کا بیٹا بننا اور رُوح القد س کو حاصل کرنا میرے لئے یہ ناممکن تھا کیونکہ ہر چیز جو میں نے کی یا سوچی گناہ سے بھری ہوئی تھی۔
میں خُد اسے ڈرا اور اِنتہائی مستقل مزاجی سے توبہ کی دُعائیں پیش کیں۔ کسی نے مجھے ایسا کرنے کے لئے نہیں کہاتھا، لیکن میں خُداکے سامنے عزت سے کھڑا ہونا چاہتا تھا۔ کیونکہ میں گنہگار تھا، میں نے جو ش سے حتیٰ کہ زیادہ توبہ کی دُعائیں پیش کیں۔ لیکن یہ دُعائیں میرے گناہوں کو دھونے کے لئے ناکام ہو گئیں۔ سب جو میں نے کِیا اُسے میرے خیالات اور خلوص کو دکھانا تھا پس میرے گناہ پھر بھی مجھ میں تھے۔ اُس وقت سے، میں نے خُدا کے خلاف شکایت کرنی شروع کی۔ میں اُس کی نظروں میں کامل بننا چاہتا تھا لیکن دُرست طور پر کامل نہیں ہو سکتا تھا، پس میری شکایات اور گناہ جمع ہو گئے۔
اِس مذہبی پریشانی کے وقت کے دوران، میرے باپ کو فالج ہو گیا ۔ وہ مرنے سے پہلے آپریشن کے کمروں اور ہسپتال کے بستروں پر چالیس دن کے لئے اَذّیت میں سے گزرا۔ لیکن میں ایک بار بھی اپنے باپ کے لئے دُعا نہ مانگ سکا۔ میں ایک گنہگار تھا، پس میں نے سوچا کہ اگر میں نے اپنے باپ کے لئے دُعا مانگی، اُس کے درد صرف مزید بُرے ہو جائیں گے۔ میں اپنے ایمان کی کمی پر غمزدہ تھا اور میں خُدا کی پیروی کرنے کی خواہش رکھتا تھا لیکن نہ کرسکا، پس میں نے شکایت کرنی جاری رکھی اور آخر کار اُس سے دُور ہو گیا۔ اِس طرح میری مذہبی زندگی ختم ہوگئی۔ میں نے سوچا اگر میں اُس پر ایمان رکھتا تھا، اُس کی رُوح مجھ میں سکونت کرے گی اور میں سکون پاؤں گا، لیکن صورتِ حال یہ نہیں تھی۔ اُس کے بعد، میری زندگی حتیٰ کہ زیادہ بے معنی بن گئی اور میں خوف اورغم میں زندہ رہا۔
لیکن خُداوند نے مجھے نہ چھوڑا۔ اُس نے مجھے ایک ایماندار سے ملوایا جو خُدا کے کلام کے وسیلہ سے واقعی رُوح القدس حاصل کر چکا تھا۔ میں نے اُس شخص سے سیکھا کہ یسوعؔ یوحناؔ کی معرفت اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا اور کہ وہ صلیب پر اُن کے لئے پرکھا جا چکا تھا۔ اِس لئے، اِس دُنیا کے تمام گناہ، میرے شامل کرتے ہوئے،یعنی تمام معاف ہو گئے تھے۔ جب میں نے سُنا اور اِسے سمجھا، میں دیکھ سکتا تھا کہ میرے تمام گناہ دھو دئیے گئے تھے۔ خُدانے مجھے میرے گناہوں سے معافی حاصل کرنے میں مدد دی ، اور مجھے رُو ح القدس کی برکت دی اور مجھے ایک پُرسکون زندگی عطا کی۔ اُس نے میری خاموشی سے راہنمائی کی، مجھے اچھے بُرے کی ایک واضح سوجھ بوجھ دی اور مجھے اِس دُنیا کی آزمایشوں پر غالب آنے کے لئے اختیار سے نوازا۔ اُس نے میری دُعاؤں کا جواب دیا اور مجھے ایک راست اور قابلِ قدر زندگی گزارنے کے لئے مدد دی۔ میں خُد اکا واقعی مجھے رُوح القدس دینے کے لئے شکر ادا کرتا ہُوں۔“
 ہم میں سے ہر کوئی خُد اکے فضل کے ساتھ برکت یافتہ ہوتاہے اور رُوح القدس حاصل کرنے
کے قابل ہے۔ میں خُداوند کا ہمیں اُس کی خوبصورت خوشخبری دینے کے لئے شکر ادا کرتا ہُوں۔ خُد انے راستباز کو ایسی خوشی کے ساتھ برکت دی۔ راستبازوں کے دل شادمان ہیں۔ خُداوند نے ہمیں ابدی خوشی عطاکی۔ ہم جانتے ہیں خُدا کی نجات، محبت اور فضل کتنے قیمتی ہیں اور ہم اُن کے لئے شکر ادا کرتے ہیں۔ خُداوند نے ہمیں آسمان کی خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے خوشی دی۔ یہ ایسی چیز ہے جو پیسوں کے ساتھ خرید ی نہیں جا سکتی۔ خُدا نے ہمارے پاس رُوح القدس کو اوراِسی طرح ہمیں خوش اورمضبوط بنانے کے سلسلے میں خوبصور ت خوشخبری کو بھیجا۔ خوبصورت خوشخبری وہ ہے جو ہماری زندگیوں کو بابرکت بناتی ہے۔ خُدا نے ہمیں خوبصورت خوشخبری دی اور وہ خوش ہے کہ راستباز لوگ ایک برکت یافتہ زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
جس طرح یہ لوقا میں بیان کِیا گیا ہے، مریمؔ نے کہا ”کیونکہ جو قول خُدا کی طرف سے ہے وہ ہرگز بے تاثیر نہ ہوگا۔ مریمؔ نے کہا دیکھ میں خُداوند کی بندی ہوں۔ میرے لئے تیرے قول کے موافق ہو۔“ (لوقا ۱:۳۷ ۔۳۸)۔ لمحہ جونہی مریمؔ نے خُد ا کے خوبصورت الفاظ پر ایمان رکھا، جس طرح اُس کے فرشتہ کے وسیلہ سے بولے گئے، یسوعؔ پیٹ میں پڑگیا۔ اِسی طرح، اُن کے ایمان کے وسیلہ سے، راستباز اپنے دلوں میں خوبصور ت خوشخبری کو جنم دیتے ہیں۔
”کیونکہ تُونے اُن کے بوجھ کے جُوئے اور اُن کے کندھے کے لٹھ اور اُن پر ظلم کرنے والے کے عصا کو ایسا توڑا ہے جیسا مدیان ؔ کے دن میں کِیا تھا۔“(یسعیاہ ۹:۴) ۔ شیطان تمام دُکھ، بیماریوں، اور ظلم کو ہماری زندگیوں میں پیدا کرتاہے بلکہ ہم اُس پر غالب آنے کے لئے انتہائی کمزور ہیں۔ لیکن خُد اہم سے محبت کرتا ہے اور اِس طرح وہ شیطان کے خلاف لڑا اور اُسے شکست دی۔
”اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولّد ہُوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔ اُس کی سلطنت کے اِقبا ل اور سلامتی کی کچھ انتہانہ ہوگی۔ وہ داؤدؔ کے تخت اور اُس کی مملکت پر آج سے ابد تک حُکمران رہے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشیگا ربُ الافواج کی غیوری یہ کریگی۔“(یسعیاہ ۹:۶۔۷) ۔
خُدا نے ہمیں خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے جو یسوعؔ لایا اپنے بیٹوں کے طور پر جلال دینے
کا وعدہ کِیا۔ اُس نے اپنے وعدہ کے مطابق شیطان کو شکست دی اور ہمیں شیطان کے اختیار سے چھڑایا۔
خُداوند زمین پر آیا اور اپنے اختیار کے ساتھ گناہ کی ساری تاریکی کو اُٹھانے کا وعدہ کِیا۔ پس ہم بھی
ہمارے خُداوند کو، عجیب مشیر کہتے ہیں۔ وہ ہمارے لئے بہت ساری عجیب چیزیں کر چکا ہے۔ خُدا کا انسان کے بیٹے کے طور پر اِس دُنیا میں آنے کا فیصلہ پُراسرار تھا۔ ”اب خُداوند فرماتا ہے آؤ ہم باہم حجت کریں۔ اگرچہ تمھارے گناہ قرمزی ہوں وہ برف کی مانند سفید ہو جائیں گے اور ہر چند وہ ارغوانی ہو ں توبھی اون کی مانند اُجلے ہوں گے۔“ (یسعیاہ ۱:۱۸)۔
 خُدا وند نے ہمیں ہمارے گناہ سے بچانے کا وعدہ کِیا اور ہمیں ابدی معافی دیتا ہے۔ یسوعؔ عجیب مشیر کے طورپر بیان کِیا جاتا ہے اور، اِس کی مطابقت میں، وہ ہمارے لئے معجزانہ کام کر چکا ہے۔ ”اُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قاد۔۔۔۔ہوگا۔“ خُدانے، ہمارے مشیر کے طور پر، خوبصورت خوشخبری کے ساتھ ہماری نجا ت کا منصوبہ بنایا اور ہمیں ہمارے گناہوں سے ابدی طور پر بچانے کے لئے اپنے منصوبے کو پورا کِیا۔
خُد اکی بیوقوفی انسان سے زیادہ عقلمند ہے۔ یوحناؔ کی معرفت یسوعؔ کو بپتسمہ دلوانا اور ہمارے تمام گناہوں سے ہمیں بچانے کے سلسلے میں صلیب پر مرنا یہ اُس کی حکمت تھا۔ یہ پُراسرار کام ہے جو اُس نے ہمارے لئے کِیا، لیکن یہ محبت کی شریعت ہے کہ ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچایا۔ محبت کی شریعت سچائی کی خوشخبری ہے جو ہماری پانی اور اُس کے خون کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔
خُداوند یسعیاہ ۵۳:۱۰میں کہتا ہے، ”لیکن خُداوند کو پسند آیا کہ اُسے کچلے۔ اُس نے اُسے غمگین کِیا۔“ یسوعؔ نے اپنی جان کو خُدا کی مرضی پوری کرنے کے سلسلے میں گناہ کے لئے ایک قربانی بنایا۔ اُس نے اپنے بیٹے، یسوعؔ مسیح پر دُنیا کے گناہوں کو لاد دیا، اورکہ وہ اُن کے لئے پرکھا جائے کے سلسلے میں اُسے مصلوبیت کی تکلیف میں سے گزرنے دیا۔ یہ خوبصورت خوشخبری ہے جس نے بنی نوع انسان کو اُن کے گناہوں سے ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے بچایا۔ مسیح نے ہمارے لئے اپنی زندگی پیش کی، گناہ کی قیمت ادا کی اور ہمیں نجات کے ساتھ برکت دی۔
 
 
خُدا کا قربانی کانظام
 
یسوعؔ نے یوحنا ؔ کی معرفت اپنے بپتسمہ کے
وسیلہ سے کتنے سارے گناہوں کو اُٹھا لیا؟
ماضی، حال اور مستقبل کے شروع کے وقت سے لے
کرآخری وقت تک کے گناہوں کو
 
کتابِ مقدس قربانی کے بارے میں فرماتی ہے جو ایک بار ایک دن کے گناہوں کے لئے معافی کا نتیجہ دیتی تھی۔ ایک گنہگار کو ایک بے عیب جانور لانا پڑتا تھا اور اپنے گناہوں کو جانور کے سر پر لادنے کے سلسلے میں اپنے ہاتھوں کو رکھنا پڑتا تھا۔ تب اُسے قربانی کو ذبح کرنا پڑتا تھا اور اس کا خون کاہن کو دینا پڑتا تھا۔ اور کاہن جانور کے خون میں کچھ لیتا اور سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگوں پر اِسے لگاتا اور باقی قربانگاہ کی بنیا د پر اُنڈیل دیتا تھا۔
اِس طریقہ سے، وہ ایک دن کے گناہوں کے لئے معاف ہو سکتا تھا۔ ہاتھوں کا رکھا جانا ایک گنہگار کے لئے قربانی پر اپنے گناہوں کو لادنے کا طریقہ تھا۔ وہ جو قربانی کے نظام کی مطابقت میں اپنی قربانیاں پیش کرتے تھے اپنے گناہوں سے معافی حاصل کر سکتے تھے۔ قربانی کا یہ نظام راستہ تھا جس سے ہم نے یسوعؔ کے تمام گناہ اُٹھانے سے پہلے کے وقت میں ہمارے گناہوں کے لئے فِدیہ دیا۔
خُدا یومِ کفارہ کو بھی مقرر کر چکا تھا تاکہ اسرائیل کے لوگ تمام سال کے وقت میں سرزد کیے گئے گناہوں کے لئے فِدیہ دے سکیں۔ یہ قربانی ساتویں مہینے کی دسویں تاریخ کو ہوتی تھی۔ خُدا نے ہارونؔ کو، سردار کاہن مقرر کِیا، اُس کے طور پر جو تمام اسرائیلیوں کے سال بھر کے گناہوں کو بکرے پر لادتا تھا۔ یہ رسم خُدا کے منصوبہ کی مطابقت میں پوری کی جاتی تھی۔ گناہوں کی معافی اُس کی حکمت اور بنی نوع انسان کے لئے محبت سے حاصل ہوئی۔ یہ اُس کا اِختیار ہے۔
”سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگ“”اعمال کی کتاب“(مکاشفہ ۲۰:۱۲) کو بیان کرتے ہیں ،
جہاں بنی نوع انسان کے گناہ لکھے جاتے ہیں۔ وجہ کاہن گناہ کی قربانی کا خون سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگوں پر لگاتا تھااعمال کی کتاب میں لکھے ہوئے ناموں اور اُن کی بدکرداریوں کو مٹانا تھا۔ خون تمام بدن کی زندگی ہے۔ قربانی اسرائیلیوں کے گناہوں کو اُٹھا لیتی تھی اور بکرا گناہ کی قیمت ادا کرنے کے لئے ذبح کیا جا تا تھا۔ خُدا اُن کے گناہوں کے لئے عدالت کو قبول کرنے کے واسطے اُن سے قربانی کاایک جانور ذبح کرواتا تھا۔ یہ ہمارے لئے اُس کی حکمت اور محبت کا ایک نشان تھا۔
یسوعؔ مسیح اِس دُنیا میں خُدا کے منصوبے کو مکمل کرنے کے سلسلے میں گناہ کے لئے ایک قربانی کے طور پر آیا۔ یسوعؔ نے اپنی قربانی کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اگر ہم اِس وعدے کے الفاظ کو دیکھتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں، ”لیکن خُداوند کو پسند آیا کہ اُسے کچلے؛اُس نے اُسے غمگین کِیا“یا ”اُس نے دُنیا کے گناہ کو اُٹھا لیا۔“
”اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولّد ہُوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔ اُس کی سلطنت کے اِقبا ل اور سلامتی کی کچھ انتہانہ ہوگی۔ وہ داؤدؔ کے تخت اور اُس کی مملکت پر آج سے ابد تک حُکمران رہے گا اور عدالت اور صداقت سے اُسے قیام بخشیگا ربُ الافواج کی غیوری یہ کریگی۔“(یسعیاہ ۹:۶۔۷) ۔
پُراسرار اور حیران کن وعدہ یہ تھا کہ یسوعؔ خُدا کی مرضی پوری کرے گا اور تمام ایمانداروں کو دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا نے کے وسیلہ سے سلامتی بخشے گا۔ خُدا کا وعدہ محبت کا ایک وعدہ تھا، جس کے وسیلہ سے اُس نے تمام بنی نوع انسان تک سلامتی لانے کا منصوبہ بنایا۔ یہ ہے خُدا نے ہم سے کیا وعدہ کِیا تھا، اور یہ ہے اُس نے کیا کِیا۔
متی ۱:۱۸ کہتاہے، ”اب یسوعؔ مسیح کی پیدائش اِس طرح ہوئی کہ جب اُس کی ماں مریمؔ کی منگنی یوسفؔ کے ساتھ ہو گئی تو اُن کے اکٹھے ہونے سے پہلے وہ رُوح القدس کی قُدرت سے حاملہ پائی گئی۔“ ”یسوعؔ“ کا مطلب ہے نجا ت دہندہ، ایک واحد جو اپنےلوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچائے گا۔”مسیح“ کا مطلب ہے بادشاہ، مسَح کِیاگیا بادشاہ ۔ یسوعؔ کوئی گناہ نہیں رکھتا تھا، اور وہ ہمارا بادشاہ اور نجات دہندہ ہے جو اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے سلسلے میں ایک
کُنواری سے پیدا ہُوا تھا۔
 ”اُس کے بیٹا ہو گا اور تُو اُس کا نام یسوعؔ رکھنا کیونکہ وہی اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات دیگا ۔ یہ سب کچھ اِس لئے ہُوا کہ جو خُداوند نے نبی کی معرفت کہا تھا وہ پوراہو“(متی ۱:۲۱ ۔۲۲) ۔
 
 
یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا
          
 متی ۳:۱۳ ۔۱۶ میں یہ لِکھا ہُوا ہے، ” اُس وقت یسوعؔ گلیل ؔ سے یردنؔ کے کنارے یوحناؔ کے پاس اُس سے بپتسمہ لینے آیا۔ مگر یوحناؔ یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہُوں اور تُو میرے پاس آیا ہے؟۔ یسوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اس پر اُس نے ہونے دیا۔ اور یسوعؔ بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اُس کے لئے آسمان کُھل گیا اور اُس نے خُدا کے رُوح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔“
یوحنا ؔ اصطباغی اِس حوالہ میں ظاہر ہوتا ہے۔ کیوں یسوعؔ کو یوحناؔ سے بپتسمہ لینا تھا؟ یسوع ؔ کو دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے سلسلے میں بپتسمہ لینا تھا، اور اُن سب کو خُدا کے منصوبہ کے مطابق اُٹھانا تھا۔
”اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی“ (یسعیاہ ۹:۶)۔ یہاں ”سلطنت“ کا مطلب ہے کہ یسوعؔ واحد ہے جو آسمان کے مالک کے طو رپر، دُنیا کے بادشاہ کے طورپر اِختیار اور طاقت رکھتا ہے۔ یہ اِختیار صرف یسوعؔ مسیح کو بخشا گیا تھا۔ یسوعؔ نے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے ایک حیران کن کام کِیا۔ یہ حیران کن کام اُس کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لینا تھا۔ یسوعؔ کاکہنے کے وسیلہ سے ”کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔“ کیا مطلب تھایہ ہے کہ دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانا دُرست اور مناسب تھا۔
 رومیوں ۱:۱۷ کہتا ہے، ”اِس واسطے کہ اُس میں خُدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان
کے لئے ظاہر ہوتی ہے“ ۔ خُدا کی راستبازی خوشخبری میں ظاہر ہوتی ہے۔ کیا پانی اور رُوح کی سچی خوشخبری واقعی خُدا کی راستبازی کو ظاہر کرتی ہے؟ ہاں! سچی خوشخبری یہ ہے کہ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ اور مصلوبیت کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری خوبصورت خوشخبری ہے جس میں خُدا کی راستبازی ظاہر ہوتی ہے۔ یسوعؔ نے کیسے دُنیاکے گناہوں کو اُٹھایا؟ اُس نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا جب یوحناؔ نے اُسے دریائے یردنؔ پر بپتسمہ دیا۔
”ساری راستبازی“یونانی میں“πᾶσαν δικαιοσύνην (pasan dikaiosune)”ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ یسوعؔ نے عادل ترین اور حیران کن طریقے سے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اِس کا مطلب ہے کہ یسوعؔ کا دُنیا کے تمام گناہوں کو دھونا حتمی طور پر منصفانہ اور ٹھیک تھا۔ یسوعؔ کو
 دُنیا کے گناہوں کو مٹانے کے سلسلے میں یوحناؔ سے بپتسمہ لینا تھا۔
خُد اجانتا تھا کہ یسوعؔ کا بپتسمہ بنی نوع انسا ن کے لئے سلامتی لانے کے سلسلے میں حتمی طورپر ضروری تھا۔ یسوعؔ ہمارا نجات دہندہ نہ بن سکتا، اگر وہ یوحناؔ سے بپتسمہ نہ لیتا اور صلیب پر اپنا خون نہ بہاتا ۔ یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے گناہ کی قربانی کے طورپر خدمت کی۔
خُد ایسعیاہ ۵۳:۶ میں کہتا ہے، ”ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔“ یسوعؔ کو خُدا کی مرضی پوری کرنے کے سلسلے میں دُنیا کے تمام گناہوں کو قبول کرنا تھا۔ یہ وجہ ہے کہ یسوعؔ ایک آدمی کے جسم میں ایک گناہ کی قربانی کے طو رپر آیا اور یوحنا ؔ سے بپتسمہ لیا۔
یسوعؔ کو بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو قبول کرنا اور اُن کے لئے پرکھے جانا تھا تاکہ وہ خُدا کے منصوبہ کو پور ا کر سکے اور اُس کی لافانی محبت کو ظاہر کر سکے۔ جب یسوع ؔ اپنے بپتسمہ کے بعد پانی سے باہر نکلا، خُد انے کہا، ”یہ میرا پیارا بیٹا ہے جس سے میَں خوش ہُوں۔“ (متی ۳:۱۷)۔
 
 
ہمارے لئے ایک لڑکاتولّد ہُوا
          
”اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولّد ہُوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خُدایِ قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شہزادہ ہوگا۔“(یسعیاہ ۹:۶) ۔ یسوع ؔ خُدا کا بیٹا ہے۔ یسوعؔ تخلیق کا خُدا ہے جس نے تمام کائنات کو پیدا کِیا۔ نہ صرف وہ قادرِ مُطلق خُدا کا بیٹا ہے، وہ خالق اور سلامتی کا شہزادہ بھی ہے۔ یسوعؔ خُد اہے جس نے بنی نوع انسان کو خوشی دی۔
یسوعؔ سچائی کا خُدا ہے۔ اُس نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، ہمیں بچایا، اور ہمیں سلامتی بخشی۔ کیا اِ س دُنیا میں گناہ موجود ہے؟ نہیں، کوئی گناہ موجود نہیں ہے۔ وجہ کہ ہم اعتماد کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ کوئی گناہ موجود نہیں ہے یہ ہے کہ ہم خوبصور ت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، جو کہتی ہے کہ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو ڈالا۔ یسوعؔ ہم سے جھوٹ نہیں بولتا۔ یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ اور خون کے ساتھ گناہ کی قیمت ادا کی۔ اُس نے ہر کسی کو جس نے اِس پر ایمان رکھا اُس کا بیٹا بننے کی اجازت دی اور ہم سب کو سلامتی بخشی۔ اُ س نے ہمیں ابدیت تک ایمان سے اُس کے پاک ٹھہرائے ہوئے بیٹوں کے طور پر زندہ رہنے کے قابل بنایا۔ میں خُدا وند کی تعریف کرتا ہُوں اور اُس کا شکر ادا کرتاہُوں۔
 
 
دیکھو! یہ خُدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے!
          
یوحنا ۱:۲۹ کہتا ہے، ”دوسرے دن اُس نے یسوعؔ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر کہا دیکھو !یہ خُد اکا برہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے !۔“یسوعؔ مسیح پھر اُس دن کے بعد جب اُ س نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا یوحناؔ اصطباغی کے سامنے ظاہر ہُوا۔ یوحناؔ اصطباغی نے یہ کہتے ہوئے یسوعؔ کی گواہی دی، ”دیکھو !یہ خُد اکا برہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے!۔“ اُس نے پھر یوحنا ۱:۳۵ ۔۳۶ میں گواہی دی، ”دوسرے دن پھر یوحناؔ اور اُس کے شاگردوں میں سے دو شخص کھڑے تھے۔ اُ س نے یسوعؔ پر جو جار ہا تھا نگا ہ کر کے کہا دیکھو یہ خُداکا برّہ ہے! “
یسوعؔ مسیحا تھا جو خُد اکے برّہ کے طورپر آیا، بالکل جس طرح خُدا پرانے عہد نامہ میں وعدہ کر چکا تھا۔ مسیحا یسوعؔؔ مسیح ہمارے پاس عجیب مشیر اور خُدا یِ قادر کے طور پر آیا، اور ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچانے کے لئے بپتسمہ لیا۔ ہمارے لئے ایک لڑکا تولّد ہُوا۔ اُس نے یوحناؔ سے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو قبول کِیا، گناہ کی مزدوری ادا کی، اور سلامتی کا شہزادہ بن گیا جو ہمیں سلامتی او رہمارے تمام گناہوں کی معافی بخشتا ہے۔ ”دیکھو !یہ خُداکا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے “
لوگ ایک بار پھر کوئی چارہ نہیں رکھتے تھے بلکہ اپنے گناہوں کے لئے مرنا۔ بنی نوع انسان اپنی گنہگار فطرت کی وجہ سے بے شمار گناہ سرزد کرنے اور آخر کار جہنم کے لئے لعنتی ہونے کا مقدر رکھتے تھے۔ اُنھوں نے قابلِ رحم زندگیاں گزاری؛ اُن میں سے ایک بھی داخل نہ ہو سکا یا حتیٰ کہ اپنی کمزوریوں کی وجہ سے خُدا کی بادشاہت کا خواب نہ دیکھ سکتا تھا۔ یسوعؔ مسیح نے، جو ہمارا خُدا ہے، ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا جب اُس نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اور اُن کی بد اعمالیوں کے لئے پرکھے جانے کے واسطے مصلوب ہُوا۔ اپنی موت پر، مسیح نے کہا، ”تمام ہُوا“ (یوحنا ۱۹:۳۰)۔ یہ حقیقت کے لئے اُس کی گواہی کی پُکار تھی کہ یسوعؔ نے تمام بنی نوع انسان کو اُن کے گناہوں اور موت سے بچا لیا، اور کہ اُس نے حتمی طور پر ہر کسی کو چھڑا لیا جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتا تھا۔
”دیکھو! یہ خُد اکا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔“کیا آپ جانتے ہیں دُنیاکے تمام گناہ کہاں ہیں؟ کیا وہ یسوعؔ مسیح کے بدن پر نہیں ہیں؟ تمام گناہ اور خطائیں کہاں ہیں جو ہمیں اِس دُنیا میں عاجز کرتی ہیں؟ وہ سب یسوعؔ مسیح پر منتقل ہو گئے تھے۔ ہمارے سب گناہ کہاں ہیں؟ وہ اُس واحد کے بدن پر ہیں جس کے کندھے پر سلطنت ہے؛ وہ قادرِ مُطلق خُداکے بدن پر ہیں۔
 
 
پیدائش سے لے قبر تک کے تمام گناہ!
          
ہم ہمار ی تمام زندگیوں میں گناہ کرتے ہیں۔ ہم ہمارے پیدا ہونے کے دن سے لے کر جب تک ہم بیس سال کے ہو جاتے ہیں گناہ سرزد کرتے ہیں۔ بیس سال تک سرزد کیے گئے وہ تمام گناہ کہاں ہیں؟ وہ یسوعؔ مسیح کے بدن پر منتقل ہو گئے تھے۔ گناہ جو ہم نے ۲۱ اور ۴۰ کی عمر کے درمیان سرزد کیے بھی یسوعؔ پر لاددیئے گئے تھے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کتنے سال کوئی شخص زندہ رہتا ہے، گناہ جواُ س نے اپنی زندگی کے شروع سے لے کر آخرتک کیے یسوعؔ مسیح پر منتقل ہو گئے تھے۔تمام گناہ جو بنی نوع انسان نے سرزد کیے، آدمؔ سے شروع ہو کر اِس زمین پر آخری شخص تک، یسوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے۔ حتیٰ کہ ہمارے بچوں اور پوتوں کے گناہ بھی پہلے ہی یسوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے۔ تمام گناہ اُس وقت یسوعؔ پر منتقل ہو گئے جب اُس نے بپتسمہ لیا۔
کیا اَب تک اِس دُنیا میں گناہ موجود ہیں؟ نہیں۔ ایک بھی باقی نہیں ہے۔ اِس دُنیا میں کوئی گناہ باقی نہیں ہے کیونکہ ہم خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں جو یسوعؔ نے ہمیں دی۔ کیا آپ اپنے دل میں گناہ رکھتے ہیں؟ نہیں۔ آمین! ہم خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں جو کہتی ہے یسوعؔ مسیح نے ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچالیا۔ ہمارے لئے یہ حیران کن کام کرنے کے واسطے ہم قادرِ مُطلق یسوعؔ کی تمجید کرتے ہیں۔
 یسوعؔ نے ہمارے لئے ہماری کھوئی ہوئی زندگیاں بحال کیں۔ اب ہم خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اِس طرح ہم خُدا کے ساتھ زندہ رہنے کے قابل ہیں۔ حتیٰ کہ لوگ جو خُدا کے دشمن تھے -
گنہگار جو کوئی چارہ نہیں رکھتے تھے بلکہ تاریک جنگلوں میں چھپنا -اب خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔
خوبصورت خوشخبری ہمیں سکھاتی ہے کہ خُداوندنے ہمارے تمام گناہوں کو صاف دھو دیا جب اُ س نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، مصلوب ہُوا، اور جی اُٹھا۔ ہم یسوعؔ کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُد اکے پاک بیٹے بن گئے۔ یسوعؔ نے اپنے ذاتی بدن کو ہمارے گناہوں کے لئے قربانی کے طورپر پیش کِیا۔ اُس، خُد اقادرِ مُطلق کے بیٹے نے جس نے کبھی اِس دُنیا میں ایک واحد گناہ بھی نہ کِیا، تمام دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا اور ہر کسی کو بچالیا جو اُس پر ایمان رکھتا ہے۔ یسعیاہ ۵۳:۵ کہتا ہے، ”حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کِیا گیا اورہماری بدکرداری کے باعث کُچلا گیا۔“
یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو، دونوں موروثی گناہ اور روزمرہ کے گناہوں کو شامل کرتے ہوئے اُٹھا لیا اور ایک بھی واحدگناہ باقی نہ چھوڑا۔ اُس نے صلیب پر اپنی موت کے ساتھ گناہ کی مزدوری ادا کی اور یوں ہمیں ہمارے تما م گناہوں سے بچالیا۔ یسوعؔ نے اِس خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو دیا۔ ہم یسوعؔ کے وسیلہ سے نئی زندگی پا چکے ہیں۔ وہ جو اِس خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں مزید رُوح میں مُردہ نہیں ہیں۔ اب ہم نئی اور ابدی زندگی رکھتے ہیں، کیونکہ یسوع ؔ نے ہمارے گناہ کی ساری قیمت ادا کی۔ ہم یسوعؔ مسیح کی خوبصور ت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُد اکے بیٹے بن چکے ہیں۔
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ یسوعؔ مسیح خُدا بیٹا ہے؟ کیا آپ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ آپ کا نجات دہندہ ہے؟ میں ایمان رکھتا ہُوں۔ یسوعؔ مسیح ہمارے لئے زندگی ہے۔ ہم نے اُس کے وسیلہ سے نئی زندگی پائی۔ ہم ہما رے گناہوں اور خطاؤ ں کی وجہ سے مرنے کا مقدر رکھتے تھے۔ لیکن یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ اور صلیب پر اپنی موت کے وسیلہ سے گناہ کی مزدور ی ادا کی۔ اُ س نے ہمیں ہماری گناہ کی غلامی، موت کے اِختیار، اور شیطان کے بندھنوں سے چھڑا لیا۔
خُداوند خُد اہے جس نے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچایا اور ہر کسی کا نجات دہندہ بن گیا جو یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے۔ جب ہم عبرانیوں ۱۰:۱۰ ۔۱۲ ، ۱۴اور ۱۸ کو دیکھتے ہیں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خُداوند نے ہمیں پاک کِیا تاکہ گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے لئے مزید کوئی ضرورت موجود نہ ہو۔ ہم یسوعؔ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداوند کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ ہم ہمارے گناہوں اور خطاؤں کی وجہ سے مرنے کا مقدر رکھتے تھے، لیکن اب ہم آسمان میں داخل ہونے اور یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر
ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ابدی زندگی سے لطف اندوز ہونے کے قابل ہیں۔
 ”اچھا چرواہا بھیڑوں کے لئے اپنی جان دیتا ہے۔“(یوحنا ۱۰:۱۱) ۔ ہمارا خُداوند ہمیں دُنیا کے گناہوں سے بچانے کے سلسلے میں اِس دُنیا میں اپنے بپتسمہ، صلیب پر اپنی موت، اور اپنے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے آیا۔ وہ اُن کو رُوح القدس کی معموری بھی دیتا ہے جو اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ اَے خُداوند، تیرا شکر ہو۔ تیری خوشخبری خوبصورت خوشخبری ہے، جو ایمانداروں کو رُوح القدس کی معمور ی دے سکتی ہے۔ ہیلیلویاہ! میں خُداوند کی تعریف کرتا ہُوں۔