خطبات

مضمون 8: رُوح القّدس

[8-9] <اِفسیوں۱۴:۲۔۲۲> یسوعؔ کے بپتسمہ کی خوشخبر ی جس نے ہمیں پاک بنا دیا

<اِفسیوں۱۴:۲۔۲۲>
 ”کیونکہ وہی ہماری صُلح ہے جس نے دونوں کو ایک کر لیا اور جُدائی کی دیوار کو جو بیچ میں تھی ڈھا دیا۔ چنانچہ اُس نے اپنے جسم کے ذریعہ سے دُشمنی یعنی وہ شریعت جس کے حُکم ضابطوں کے طورپر تھے موقوف کر دی تاکہ دونوں سے اپنے آپ میں ایک نیا انسان پیدا کرکے صُلح کر ا دے۔ اور صلیب پر دُشمنی کو مٹا کر اور اُس کے سبب سے دونوں کو ایک تن بنا کر خُداسے ملائے۔ اور اُس نے آکر تمہیں جو دُور تھے اور اُنہیں جو نزدیک تھے دونوں کو صُلح کی خوشخبری دی۔ کیونکہ اُسی کے وسیلہ سے ہم دونوں کی ایک ہی رُوح میں باپ کے پاس رسائی ہوتی ہے۔ پس اب تم پردیسی اور مسافر نہیں رہے بلکہ مقدسوں کے ہم وطن اور خُدا کے گھرانے کے ہوگئے۔ اور رسولوں اور نبیوں کی نیو پر جس کے کونے کے سِرے کا پتھر خود مسیح یسوعؔ ہے تعمیرکیے گئے ہو۔ اُسی میں ہر ایک عمارت مل ملا کر خُداوند میں ایک پاک مقدس بنتا جاتا ہے۔ اور تم بھی اُس میں باہم تعمیر کیے جاتے ہو تاکہ رُوح میں خُداکا مسکن بنو۔“
 
 
خُدا سے آدمی کو کیا جُدا کر چکا ہے؟
اُس کا گناہ جُداکر چکا ہے۔
 
 
غربت کی وجہ سے لے پالک بچی
 
کوریا کی جنگ کے خاتمے سے لے کر آدھی صدی گزر چکی ہے۔ لیکن اِس جنگ نے کوریا کے لوگوں کے درمیان بڑے بڑے زخم چھوڑے۔ کوریا کی جنگ کے نتائج میں، بہت سارے جوان بچے غیر ملکی ممالک میں لے پالک بنائے گئے۔ حتیٰ کہ گو اقوامِ متحدہ کی فوجیں کوریا میں آئیں اور اُس وقت ہماری بڑے پیمانے پر مدد کی، لیکن بہت سارے بچے سپاہیوں کے جانے کے بعد بن باپ چھوڑ دیئے گئے تھے۔
اقوامِ متحدہ کے بہت سارے فوجی جو بیویاں اور بچے رکھتے تھے نے اپنے پیچھے جب وہ گھرکو لوٹے خاندانوں کو چھوڑا۔ اِن بچوں میں سے بہت سارے تب پھر اُن کی ماؤں کی ذریعے یتیم خانوں میں چھوڑے گئے اورپھر غیر ملکی ممالک میں لے پالک ہونے کے لئے بھیجے گئے۔ یہ حقیقتاً بڑی خوش قسمتی تھی کہ یہ نوجوان لوگ پالنے والے والدین پاسکیں اور اچھی طرح پرورش ہوسکے۔
اِن لے پالک بچوں نے احساس کِیا کہ وہ اپنے والدین اور اپنے ہمسائیوں سے جونہی وہ بڑے ہوئے،بالکل مختلف نظر آتے تھے اور اُنھوں نے سیکھا کہ وہ ایک دُور کے ملک بنام کوریا سے لے کر پالے گئے تھے۔ ’کیوں میرے والدین نے مجھے چھوڑ دیا؟ کیا اُنھوں نے مجھے اِس ملک میں بھیجا کیونکہ وہ مجھ سے نفرت کرتے تھے؟‘ اپنے نوجوان ذہنوں کے ساتھ، یہ بچے محض سمجھ نہیں سکتے تھے کہ کیا واقع ہو چکا تھا۔
اُن کی اپنے حقیقی والدین کے لئے بے چینی اور نفرت اُن سے ملنے کی ایک خواہش کے ساتھ لگاتار بڑھنی شروع ہوگئی۔ ’میں حیران ہوتا ہُوں میرے والدین کیسے نظر آتے ہیں؟ وہ مجھے کیسے چھوڑ سکتے تھے؟ کیا اُنھوں نے یہ کِیا کیونکہ وہ مجھ سے نفرت کرتے تھے؟ نہیں، غالباً اِ س کی کوئی وجہ تھی۔‘ وہ غالباًبہت ساری غلط فہمیاں رکھتے تھے اور بعض اوقات حتیٰ کہ بے انتہانفرت محسوس کی۔ اور دوسرے موقعوں پر اُن سے اِسی طرح اِس کے بارے میں مزید سوچ کر حل نہ نکلا۔ حتیٰ کہ اُن کے اِس سے باخبر ہونے سے پہلے، وقت گزر چکا تھا اور بچے بڑے ہو کر جوان ہو گئے۔ اُنھوں نے شادیاں کیں، بچے پائے اور اپنے ذاتی خاندان بنائے۔
 میں علاقائی ٹی وی نیٹ ورک کے ایک پروگرام کے ذریعہ سے اِن بچوں میں دلچسپی لینے لگا۔ اِس
پروگرام میں، ایک ٹی وی رپورٹر نے ایک عورت کا انٹرویو کِیا جو اَب جرمنی میں رہتی ہے یعنی جو لے پالک لی گئی تھی۔ یہ عورت اُس وقت اپنے بیسویں سال میں تھی اور الہٰی تعلیم پڑھ رہی تھی۔ پہلے تو، اُس عورت نے رپورٹروں سے ملنے سے بچنے کی بہت کوشش کی کیونکہ وہ کسی دوسرے کا باخبر ہونا نہیں چاہتی تھی کہ وہ لے پالک تھی۔ رپورٹر نے اُسے سمجھانے کے لئے راغب کِیا کہ انٹرویو دینا بیرونی ممالک میں بچوں کے پالنے کی لہر کو مضبوط کرنے میں مدد دے گا۔ وہ عورت متفق ہو گئی۔
رپورٹر کے سوالوں میں سے ایک یہ تھا، ’’آپ کیا کہیں گی اگر آپ اپنے حقیقی والدین سے مل سکیں ؟ آپ کس کے بارے میں سب سے زیادہ بے چین ہیں؟“ اُس عورت نے جواب دیا، ”میں محض سمجھ نہیں سکتی اُنھیں کیوں مجھے پالنے کے لئے دینا پڑا تھا۔ میں اُن سے پوچھنا چاہتی ہُوں آیا وہ مجھ سے نفرت کرتے تھے؟“ اُس کی جنم دینے والی ماں نے ٹی وی پر اُس عورت کا انٹرویو دیکھا نشریاتی اسٹیشن سے رابطہ کِیا اور کہا کہ وہ اپنی بیٹی سے ملنا چاہتی تھی۔ یہ ہے وہ دونوں کیسے ملیں۔
ماں بہت جلد ہوائی اَڈے پر پہنچ گئی اور اپنی بیٹی کے آنے کا انتظارکرنے لگی۔ جب نوجوان عورت باہر کے راستہ سے نظر آئی، اُس کی ماں صرف وہاں کھڑی ہو سکی اور رو سکی۔
یہ دو لوگ کبھی رُوبرُو نہیں مل چکے تھے۔ پہلی بار ماں نے اپنی جوان بیٹی کو دیکھا جب وہ ٹی وی پر ظاہر ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ گو وہ مختلف زبانیں بولتی تھیں، وہ اپنے دلوں کے ساتھ بات کر سکتی تھیں، اور جذباتی نظروں کے وسیلہ سے اُنھوں نے گفتگو کا تبادلہ کِیا۔ اُنھوں نے ایک دوسرے کے چہرے کو چُھوا جب کہ ماں نے معافی مانگی وہ کیا کر چکی تھی۔ سب جو وہ کر سکی چلانا اور دُہرانا تھا کہ وہ بہت اَفسردہ تھی۔
ماں اپنی بیٹی کو گھر میں لائی اور اُنھوں نے اکٹھے کھانا کھایا بیشک، بیٹی صرف جرمنی اور ماں صرف کورین زبان بولتی تھی۔ پس وہ زبانی طور پر گفت و شنید نہ کر سکیں۔ لیکن کسی طرح حقیقت میں کہ وہ ماں اور بیٹی تھی اپنے آپ کو سمجھنے کے قابل بننے کی اجازت دی۔ وہ بہت ساری بے الفاظ گفتگو رکھتی تھیں اور اشاروں، کے وسیلہ سے، ایک دوسرے کے چہروں کو چُھو کر اور اپنی آنکھوں اور دلوں کے ساتھ بات کر کے اپنے آپ کو ظاہر کِیا۔
 وقت کے ساتھ وہ جرمنی لوٹ گئی، بیٹی جانتی تھی کہ اُس کو جنم دینے والی ماں اُس سے محبت کرتی
تھی۔ وہی رپورٹر جو سابقہ انٹرویو کر چکا تھا ایک بار پھر اُس کی روانگی سے پہلے اُ س سے ملا۔ ”میرے لئے یہ کہنے کی کوئی ضرورت موجود نہیں تھی کیوں میری ماں مجھے پالنے کے لئے دے چکی تھی۔ میری ماں حتیٰ کہ اب بھی غریب ہے۔ اِس مُلک میں دولت مند لوگ اتنے امیر ہیں کہ وہ بیرونی ممالک کی کاریں چلاتے ہیں، لیکن میری ماں اب تک غربت میں زندگی گزار رہی ہے۔“ اُس نے کہنا جاری رکھا، ”حتیٰ کہ گو میں نے اپنی ماں سے یہ سوال نہیں پوچھا اور اُس سے کوئی جواب حاصل نہیں کِیا، میں دیکھ سکتی تھی کہ اُس نے مجھے غربت سے بچانے کے لئے دُور بھیج دیاتھا۔ یہ ہے کیوں میں اُس سے وُہی سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی، اور کیوں تمام شک اور نفرت اَب جا چکے ہیں۔“
 
 
لوگ اپنے دلوں میں گناہ کی وجہ سے خُد اسے جُد اہوگئے
          
ہم کیوں خُد اسے جُدا ہو جاتے ہیں، اور کیوں ہم اُس کے قریب نہیں آسکتے ہیں؟ وہ عورت جو پرورش کے لئے دی گئی تھی نے سیکھا کہ اُس کو جنم دینے والی ماں نے اُسے غربت سے بچانے کے لئے دُور بھیجا تھا۔ کیا یہی خُد اکے بارے میں بھی سچ ہے؟ خُد انے ہمیں اپنی ذاتی شبیہ پر پیدا کِیا۔ ہمیں اُس سے کیا جُد اکرسکتا تھا؟ جواب یہ ہے کہ شیطان نے آدمی کو گناہ کرنے کے لئے ورغلایا، اور گناہ نے اُسے خُد ا سے جُدا کر دیا۔
حقیقی طور پر، خُد انے انسان کو اپنی ذاتی شبیہ پر پیدا کِیا تھا اور پیا ر سے اپنی تخلیق سے محبت کرتا تھا۔ آدمی خُد اکی محبت کے لئے ایک چیز کے طورپر بنائے گئے تھے اور کسی بھی دوسری تخلیق سے زیادہ شرافت رکھتے تھے۔ تاہم، ایک گِرے ہوئے فرشتہ بنام شیطان نے انسان کو خُدا سے جُدا کرنے کا کام کِیا۔ شیطان نے انسان کو خُدا کے کلام پر ایمان نہ رکھنے کے لئے بہکایا، اور اُسے نیک وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے کے لئے لُبھایا۔
 اِس طرح انسان اپنے گناہ کی وجہ سے خُدا سے جُدا ہو گیا۔ انسان خُدا کا نافرمان تھا ۔ انسان نے
زندگی کے درخت کا پھل نہیں کھایا جو ابدی زندگی دیتا ہے اور جس کی خُد انے اجازت دی، بلکہ اِس کی بجائے ممنوعہ پھل کو کھایا جس نے اُسے نیک وبد کی پہچان عطا کی۔ نتیجہ یہ تھا کہ انسان خُد اسے جُدا ہو گیا۔
گزشتہ خُدا کی محبت کا ہدف، انسان نے نافرمانی کی اور خودپسندی کی وجہ سے اُس سے جُد اہو گیا۔ گناہ کی وجہ سے جو اُس کے دل میں سکونت کرنے کے لئے آیا، انسان آخرکار خُدا سے دُور ہو گیا۔ اِس کے بعد، انسان ایک لمبے عرصہ کے لئے خُد ا سے جُدا رہا اور شکایت کی، ” کیوں خُد انے ہمیں بنانے کے بعد چھوڑ دیا؟ اُس نے کیوں ہمیں گناہ کرنے کی اجازت دی؟ وہ کیوں ہمیں کمزور بنانے کے بعد جہنم میں بھیجتاہے؟ یہ اچھا ہوتا اگر وہ ہمیں پہلی ہی جگہ پر نہ بنا چکا ہوتا۔“ ہم بہت سارے سوالات کے ساتھ، اِسی طرح ہمارے نئے سِرے سے پیداہونے سے پہلے بے چینی، شکوک، اور نفرت کے ساتھ رہتے تھے۔
 جب میں نے ٹی وی پروگرام میں اُس لے پالک عورت کو دیکھا، میں نے احساس کِیا کہ انسان اور خُدا کے درمیان تعلق وُہی ہے جس طرح وہ اپنی حقیقی ماں کے ساتھ تعلق رکھتی تھی۔ کوئی ایذار سانی، غلط فہمی، لعنت یا کسی قِسم کا گناہ کسی بھی حالات کے ماتحت انسان کو خُد ا سے جُداکر سکتا تھا۔ میں یہ بھی، سمجھا کہ حتیٰ کہ گو خُد ااور انسان کے درمیان تعلق محبت پر مبنی ہے، پھر بھی غلط فہمی کا واقع ہونا ممکن تھا۔
بالکل جس طرح ماں نفرت کے علاوہ اپنی بیٹی کو بھیج چکی تھی، اِسی طرح خُدا نے انسان کو اپنے آپ سے نفرت کی وجہ سے نہیں بلکہ گناہ کی وجہ سے جُد اکِیا۔ آدمی سے نفرت کرنے کے لئے خُد اکے پاس کوئی وجہ نہیں ہے اور آدمی کے لئے خُد ا سے نفرت کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ وجہ کہ انسان خُد اسے جُدا رہتا ہے یہ ہے کہ وہ شیطان کی ترکیب کا شکار ہونے کے بعد ایک گنہگار بن گیاتھا۔
 
 
خُدا ہمیں یسوعؔ کے وسیلہ سے قبول کر چکا ہے
 
”مگر تم جو پہلے دُور تھے اب مسیح یسوعؔ میں مسیح کے خون کے سبب سے نزدیک ہو
گئے ہو۔ کیونکہ وہی ہماری صُلح ہے جس نے دونوں کو ایک کر لیا اور جُدائی کی دیوار کو جو بیچ میں تھی ڈھا دیا۔ چنانچہ اُس نے اپنے جسم کے ذریعہ سے دُشمنی یعنی وہ شریعت جس کے حُکم ضابطوں کے طورپر تھے موقوف کر دی“ (افسیوں ۲:۱۳ ۔۱۵)۔ خُدا وند نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اور ضابطوں کی شریعت کو موقوف کرنے کے سلسلے میں دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ تب اُس نے انسان کو اُس کے گناہوں سے بچانے کے سلسلے میں صلیب پر اپنا خون بہایا اور اُسے خُدا کے وسیلہ سے قبول کیے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ خُدا اب اُن کو قبول کر چکا ہے جو اُس کے وسیلہ سے پاک ہوئے تھے۔
کیا آپ کبھی پانی کے بغیر کسی دُنیا کا تصور کر چکے ہیں؟ زیادہ عرصہ نہیں گُزرا، میں نے اِنچن (Inchon) شہر میں ایک کتابِ مقدس کی عبادت میں شرکت کی، کوریا میں بڑی ترین بندرگاہوں میں سے ایک جہاں نل کے پانی نے چند دنوں کے لئے اُس وقت کام نہ کِیا اور میں نے سوچا کہ، ’لوگ پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔‘
اگر خُدا اِس دُنیا کو ایک مہینے کے بغیر پانی بنا دے،تو بدبو، گندگی، اور سرایت کرنے والی پیاس کی وجہ سے شہروں میں زندہ رہنا ناممکن ہو گا۔ ہمیں پانی کی قدروقیمت کو سمجھنا چاہیے، جو خُدا نے ہمیں دیا۔ بالکل جس طرح پانی بنی نوع انسان کے لئے ایک حتمی ضرورت ہے، بپتسمہ جو یسوعؔ نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔ سے حاصل کِیا مساوی طور پر ناقابلِ گزیر ہے۔
اگر یسوعؔ اِس دُنیا میں یوحناؔ کی معرفت بپتسمہ لینے کے لئے نہ آیا ہوتا، تب کیسے یسوعؔ پر ایمان
 رکھنے والے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے تھے؟ بالکل جس طرح لوگ پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، اِس دُنیا میں ہر کوئی اپنے گناہوں سے مر جاتا اگر یوحناؔ یسوعؔ کو بپتسمہ نہ دے چکا ہوتا۔
تاہم، چونکہ یسوعؔ کے بپتسمہ نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، ہم اب علم میں اعتماد محسوس کر سکتے ہیں کہ ہمارے دل پاک ہو چکے ہیں اور ہم نجات کے ساتھ برکت یافتہ ہو چکے ہیں۔یسوعؔ کا بپتسمہ ہمارے ایمان کے لئے تشویشناک ہے۔ مزیدبرآں، اُس کا بپتسمہ رُوح القد س کی معموری کو حاصل کرنے کے لئے ہمارے واسطے بالکل ضروری ہے۔
 پطرسؔ، یسوعؔ کے شاگردوں میں سے ایک نے کہا، ”اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوعؔ
مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتاہے۔“ (۱۔پطرس ۳:۲۱)۔ پطرسؔ کا بیان کہتا ہے کہ یسوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا اور ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے سلسلے میں اپنا خون بہایا۔ یسوعؔ کا بپتسمہ، جس نے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھویا، سچی خوشخبری ہے۔
اب آئیں ہم پیتل کے حوض کے بارے میں خروج ۳۰:۱۷ ۔۲۱ میں لکھے ہوئے حوالے پر نظر کریں۔ ”پھر خُداوند نے موسیٰ ؔ سے کہا۔ تُو دھونے کے لئے پیتل کا ایک حوض اور پیتل ہی کی اُس کی کرسی بنانا اور اُسے خیمہء اجتماع اور قربانگاہ کے بیچ میں رکھ کر اُس میں پانی بھر دینا۔ اور ہارونؔ اور اُس کے بیٹے اپنے ہاتھ پاؤں اُس سے دھویا کریں۔ خیمہء اجتماع میں داخل ہوتے وقت پانی سے دھو لیا کریں تاکہ ہلاک نہ ہوں یا جب وہ قربانگاہ کے نزدیک خدمت کے واسطے یعنی خُداوند کے لئے سوختنی قربانی چڑھانے کو آئیں۔ تو اپنے اپنے ہاتھ پاؤں دھو لیں تاکہ مر نہ جائیں۔ یہ اُس کے اور اُس کی اولاد کے لئے نسل در نسل دائمی رسم ہو۔“
خیمہء اجتماع میں پیتل کا ایک حوض تھا، جو خیمہء اجتماع اور قربانگاہ کے بیچ میں رکھا ہُوا تھا، اور جو دھونے کے لئے پانی پر مشتمل تھا۔ اگر خیمہء اجتماع میں یہ حوض نہ ہوتا،تو قربانیاں پیش کرتے ہوئے کاہن کتنے گندے ہوتے۔
 کتنا زیادہ خون اور گندکاہنوں کو ناپاک کرتا جو لوگوں کے لئے اتنی ساری روزانہ قربانیاں پیش کر رہے تھے اور گناہ کی قربانیوں پر اپنے ہاتھ رکھ رہے اور تب اُنھیں ذبح کر رہے تھے؟ اگر خیمہء اجتماع میں حوض موجود نہ ہوتا، کاہن بہت زیادہ گندے رہتے۔
 یہ ہے کیوں خُدا نے اُ ن کے لئے حوض تیار کِیا تاکہ وہ صاف ہاتھوں کے ساتھ خُداکے قریب آسکیں۔ گنہگار وں نے اپنے گناہوں کو گناہ کی قربانیوں کے سر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے منتقل کِیا، اور تب کاہنوں نے اُن کی جگہ پر خُدا کے سامنے اُنھیں قربان کِیا۔ خُد انے پیتل کے حوض کو تیار کِیا تاکہ لوگ پاک مقام میں داخل ہو سکیں، اور اِس طرح وہ پانی کے ساتھ دھو سکیں، تاکہ وہ مرنہ جائیں۔ حتیٰ کہ ایک کاہن پاک مقام میں جب کہ ایک جانور کے خون کے ساتھ آلودہ ہو کرداخل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ ہے کیوں کاہن لوگوں کے لئے قربانیاں پیش کرنے کے بعد خُد اکے نزدیک آنے کے سلسلے میں حوض میں
پانی کے ساتھ تمام گندگی کو دھوتے تھے۔
 
 
یسوعؔ کے بپتسمہ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو دیا
 
دریائے یردنؔ پر یوحناؔ کی معرفت یسوعؔ کے بپتسمہ کے وسیلہ سے، دُنیا کے تمام گناہ اُس پر منتقل ہو گئے تھے۔ اور اُس کے پانی میں مکمل غوطے نے اُس کی موت کوظاہر کِیا اور اُس کے پانی میں سے نکلنے نے اُس کے جی اُٹھنے کو پیش کِیا۔ دوسرے لفظوں میں، یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھانے کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، گناہ کی مزدوری ادا کی اور صلیب پر مر گیا۔ اُس کی موت ہمارے گناہوں کے لئے قیمت ادا کرنا تھی اور اُس کے جی اُٹھنے نے ہمیں ابدی زندگی دی۔
اگر ہم ایمان نہیں رکھتے کہ یسوع ؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، ہمارے دل گناہ سے بھرے ہوئے رہیں گے۔ اِس صورتِ حال میں، ہم کیسے ممکنہ طورپرخُداکے قریب آ سکتے ہیں؟ گناہوں کی معافی کی خوشخبری ایک فرقے کی الہٰی تعلیم نہیں ہے بلکہ خُد اکی سچائی ہے۔
دوسرے لفظوں میں، ہم مکمل علم کے بغیر ہمارے ایمان کی راہنمائی نہیں کر سکتے ہیں، ہم دُنیا پر غالب نہیں آسکتے اگر ہم واقعی پرواہ نہیں کرتے آیا یسوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا تھا۔ بالکل جس طرح تمام زندہ جانداروں کو اپنی زندگیاں بچانے کے سلسلے میں پانی کی ضرورت ہے، ہمیں ایما ن کے وسیلہ سے زندہ رہنے اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے سلسلے میں گناہو ں کی معافی اور یسوعؔ کے بپتسمہ کے پانی کی ضرورت ہے۔ یسوعؔ کا بپتسمہ لینا، صلیب پر مرنا اور جی اُٹھنا ہمارے گناہوں سے ہمیں بچانے کے سلسلے میں تھا۔ یہ پانی اور رُوح کی خوشخبری ہے، جس پر ہمیں یقینا ہمارے پورے دلوں کے ساتھ ایمان رکھنا چاہیے۔
حتیٰ کہ گو یسوعؔ صلیب پر موت کے لئے مصلو ب ہُوا تھا، وہ اِس سزا کے حق کے لئے کچھ بھی
نہیں کر چکا تھا۔ وہ ہمارے گناہوں کو دھونے کے لئے اِس دُنیا میں آیا، ۳۰ سال کی عمر میں بپتسمہ لیا، اور ۳۳سال کی عمرمیں صلیب پر اپنی موت کے وسیلہ سے ہمارا نجات دہندہ بن گیا۔ خُدا بنی نوع انسان کو اپنے بیٹے بنانا چاہتا تھا کوئی معنی نہیں رکھتا ہم کتنے کمزور اور گنہگار تھے۔ یہ ہے کیوں یسوعؔ نے بپتسمہ لیا تھا۔ خُدا نے ہمیں ایک ہی وقت پر گناہوں کی معافی اور رُوح القدس کی بخشش عطا کی۔
”جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پیدا نہ ہووہ خُد اکی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا۔“ (یوحنا ۳:۳۔۵)۔ آپ کو جاننا اور ایمان رکھنا ہے کہ یسوعؔ نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے سلسلے میں بپتسمہ لیا تھا۔ حتیٰ کہ اگر کوئی ایک نئے سِرے سے پیدا ہُوا مسیحی ہے، اگر وہ سچائی پر غور نہیں کرتا کہ یسوعؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا تھا، اُس کا دل جلد ہی ناپاک ہو جائے گا۔ چونکہ ہم جسمانی انسان ہیں، ہم حتیٰ کہ روزمرّہ زندگی میں گناہ کے وسیلہ سے ناپاک ہونے کے قابل ہیں۔ یہ ہے کیو ں ہم ہمیشہ ایمان کے وسیلہ سے، یسوعؔ کے بپتسمہ، اُس کے خون، اور اُس کے جی اُٹھنے پر غور کرکے زند ہ رہتے ہیں۔ یہ ایمان ہمیں قائم رکھتا ہے جب تک ہم آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہوجاتے۔
یسوعؔ کوئی انتخاب نہ رکھتا تھا بلکہ بپتسمہ لینا اور ہمارے گناہوں کے لئے مرنا، اِس طرح ہمیں یقینا ایمان رکھنا چاہیے کہ یوں کرنے کے وسیلہ سے وہ ہمارے پاس نجات لایا۔ دُنیا کے تمام گناہوں سے آزاد ہونے کے سلسلے میں اِس خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے علاوہ ہمیں کوئی اور چیز نہیں کرنی ہے۔
ہم خُداوند کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری دی۔ عظیم ترین تحفہ جو خُد انے ہمیں دیا اپنے واحد اِکلوتے بیٹے کو ہمارے تمام گناہوں سے ہمیں بچانے کے لئے اُس کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے بھیجنا تھا۔
وجہ ہم خُدا کے قریب نہ آسکے اور اُس سے جُدا زندہ رہنے پر مجبور تھے یہ تھی کہ ہم ہمارے دلوں میں گناہ رکھتے تھے۔ یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اور اُس دیوار کو جو خُد ااور انسان کو جُدا کر رہی تھی ڈھانے کے سلسلے میں صلیب پر مر گیا۔ خُدا اور انسان کے درمیان تعلق اُس کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے بحال ہُوا تھا۔ ہم اِن بخششوں کے لئے اُس کا شکر ادا کرتے ہیں۔ جسمانی والدین کی محبت اپنے بچے کے لئے عظیم ہے، لیکن یہ خُدا کی محبت کے سامنے موازنے
کے قابل نہیں ہے، جس کے وسیلہ سے یسوعؔ نے ہم گنہگاروں کو بچا لیا۔
یسوعؔ کا بپتسمہ اور خون دونوں اہم ہیں۔ اگر اِس دُنیا میں کوئی پانی نہ ہوتا، کیا کوئی چیز زندہ بچ سکتی
 تھی؟ یسوعؔ کے بپتسمہ کے بغیر، کوئی شخص اپنے دل میں گناہ کے بغیر موجود نہیں ہوگا۔ اگر یسوعؔ بپتسمہ نہ لیتا اور اگر وہ صلیب پر نہ مرچکا ہوتا، کوئی گناہوں کی معافی حاصل نہ کرچکا ہوتا۔ خوش قسمتی سے، یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اورہمارے لئے حتمی قربانی دی۔ حتیٰ کہ گو ہم کم اور خطا کار ہیں، ہم اُس کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کو حاصل کر سکتے ہیں۔
وہ لو گ جو یسوعؔ مسیح کے بپتسمہ اور صلیبی موت پر ایما ن رکھتے ہیں خُد اکے نزدیک آسکتے ہیں، دُعا مانگ سکتے ہیں اور اُس کی تعریف کر سکتے ہیں۔ اب ہم خُداوند کی تعریف کرنے اور اُس کی پرستش کرنے کے قابل ہیں کیونکہ ہم اُس کے بیٹے بن چکے ہیں۔ یہ خُداکا فضل اور برکت ہے۔ یسوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کی خوشخبری واقعی حیران کن ہے۔ ہم سب اِس خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات اور رُوح القدس کی معموری حاصل کر سکتے ہیں۔