خطبات

مضمون 8: رُوح القّدس

[8-10] < گلتیوں ۱۶:۵ ۔۲۶ ، ۶:۶۔۱۸ > رُوح کے مُوافق چلیں!

< گلتیوں ۱۶:۵ ۔۲۶ ، ۶:۶۔۱۸ >
مگر میَں یہ کہتا ہُوں کہ رُوح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہرگز پورا نہ کرو گے۔ کیونکہ جسم رُوح کے خلاف خواہش کرتا ہے اور رُوح جسم کے خلاف اور یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں تاکہ جو تم چاہتےہو وہ نہ کرو۔ اور اگر تم رُوح کی ہدایت سے چلتے ہو تو شریعت کے ماتحت نہیں رہے۔ اب جسم کے کام تو ظاہر ہیں یعنی حرامکاری۔ ناپاکی۔ شہوت پرستی۔ بت پرستی۔ جادوگری۔ عداوتیں۔ جھگڑا۔ حسد۔ غصہ۔ تفرقے۔ جُدائیاں۔ بِدعتیں۔ بُغض۔ نشہ بازی۔ ناچ رنگ اور اَور اِن کی مانند۔ اِن کی بابت تمہیں پہلے سے کہے دیتا ہُوں جیسا کہ پیشتر جتا چکا ہُوں کہ ایسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔ مگر رُوح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔ اور جو مسیح یسوعؔ کے ہیں اُنھوں نے جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت صلیب پر کھینچ دیا ہے۔ اگر ہم رُوح کے سبب سے زندہ ہیں تو رُوح کے موافق چلنا بھی چاہیے۔ ہم بے جا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“
 ”کلام کی تعلیم پانے والا تعلیم دینے والے کو سب اچھی چیزوں میں شریک کرے۔ فریب نہ کھاؤ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔ جو کوئی اپنے جسم کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو رُوح کے لئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بیدل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔ پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاص کر اہلِ ایمان کے ساتھ۔ دیکھو۔ میں نے کیسے بڑے بڑے حرفوں میں تم کو اپنے ہاتھ سے لکھا ہے۔ جتنے لوگ جسمانی نمود چاہتے ہیں وہ تمہیں ختنہ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔صرف اِس لئے کہ مسیح کی صلیب کے سبب سے ستائے نہ جائیں۔ کیونکہ ختنہ کرانے والے خود بھی شریعت پر عمل نہیں کرتے مگر تمہارا ختنہ اِس لئے کرانا چاہتے ہیں کہ تمہاری جسمانی حالت پر فخر کریں۔ لیکن خُد انہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اپنے خُداوند یسوعؔ مسیح کی صلیب کے جس سے دُنیا میرے اعتبار سے مصلو ب ہوئی اور میں دُنیا کے اعتبار سے ۔ کیونکہ نہ ختنہ کچھ چیز ہے نہ نامختونی
بلکہ نئے سِرے سے مخلوق ہونا۔ اور جتنے اِس قاعدہ پر چلیں اُنھیں اور خُدا کے اسرائیل کو اطمینان اور رحم حاصل ہوتا رہے۔ آگے کو کوئی مجھے تکلیف نہ دے کیونکہ میں اپنے جسم پر یسوعؔ کے داغ لئے ہوئے پھرتا ہُوں۔ اَے بھائیو! ہمارے خُداوند یسوعؔ مسیح کا فضل تمہاری رُوح کے ساتھ رہے۔آمین۔ “
 
 
ہمیں رُوح کے موافق چلنے کے لئے
کیا کرنا چاہیے؟
ہمیں خوبصورت خوشخبری کی منادی اور
پیروی کرنی چاہیے۔
 
پولوسؔ رسول نے گلتیوں کو اپنے خط میں رُوح القدس کے بارے میں لِکھا۔ گلتیوں ۵:۱۳ ۔۱۴ میں اُس نے کہا، ”اَے بھائیو! تم آزادی کے لئے بلائے تو گئے ہو مگر ایسا نہ ہو کہ وہ آزادی جسمانی باتوں کا موقع بنے بلکہ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو۔ کیونکہ ساری شریعت پر ایک ہی بات سے پورا عمل ہو جاتا ہے یعنی اِس سے کہ تُو اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔“
مختصر، پیغام یہ ہے کہ چونکہ ہم خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سے نجات یافتہ اور آزادہو چکے ہیں، ہمیں یقینا اِس آزادی کو جسم کی خواہش میں اپنے آپ کو شامل کرنے کے لئے ایک موقع کے طورپر نہیں لینا چاہیے، لیکن محبت کے وسیلہ سے ہمیں یقینا ایک دوسرے کی خدمت اور خوبصور ت خوشخبری کی پیروی کرنی چاہیے۔ جس طرح خُد اہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے، ہمارے لئے خوشخبری کی منادی کرنا مناسب ہے۔ پولوسؔ نے یہ بھی کہا، ”لیکن اگر تم ایک دوسرے کو کاٹتے اور پھاڑے کھاتے ہو تو خبردار رہنا کہ ایک دوسرے کا ستیاناس نہ کر دو۔“ (گلتیوں ۵:۱۵)۔
 
 
رُوح القدس کے ساتھ بھرنے کے لئے رُوح کے موافق چلیں
 
گلتیوں ۵:۱۶ میں پولوسؔ نے کہا، ”مگر میَں یہ کہتا ہُوں کہ رُوح کے موافق چلو تو جسم کی خواہش کو ہرگز پورا نہ کرو گے۔“ اور آیا ت ۲۲۔۲۶ میں اُس نے کہا، ”مگر رُوح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔ اور جو مسیح یسوعؔ کے ہیں اُنھوں نے جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت صلیب پر کھینچ دیا ہے۔ اگر ہم رُوح کے سبب سے زندہ ہیں تو رُوح کے موافق چلنا بھی چاہیے۔ ہم بے جا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“ یہاں، پولوس ؔ ہمیں بتاتا ہے کہ اگر ہم رُوح میں چلتے ہیں، ہم رُوح القدس کے پھل پیدا کریں گے۔ رُوح القدس ہم سے رُوح میں چلنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ لیکن ہم جسم میں زندہ رہتے ہیں۔
ہم بنی نوع انسان جسم کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں جو رُوح کے پھل پیدا نہیں کر سکتاہے۔ حتیٰ کہ اگر ہم رُوح کے موافق چلنے کی کوشش کرتے ہیں، ہماری فطرت تبدیل نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ ہے کیوں صرف وہ جو خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القد س کی معموری حاصل کرتے ہیں رُوح کے موافق چل سکتے ہیں اور رُوح کے پھل پید اکر سکتے ہیں۔
جب کتابِ مقدس ہمیں رُوح کے موافق چلنے کے لئے کہتی ہے، اِس کا مطلب ہے ہمیں خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے تاکہ دوسرے بھی اپنے گناہوں سے معاف ہو سکیں۔ اگر ہم اِس خوبصورت خوشخبری کے لئے زندہ رہتے ہیں، ہم رُوح کے پھل پید اکریں گے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ انسانی فطرت کو بدلنے کا ایک معاملہ نہیں ہے۔ جب ہم اِس خوبصورت خوشخبری کے ساتھ چلتے ہیں، ہم رُوح القدس کے پھل، بنام محبت، خوشی، سلامتی، مہربانی، بھلائی، وفاداری، نرم مزاجی اور ضبطِ نفس کے پھل پیدا کر سکتے ہیں۔ رُوح کے پھل ہمیں دوسروں کے ابدی زندگیاں حاصل کرنے کے لئے اُن کے گناہوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔
 
 
جسم کی خواہشات بمقابلہ رُوح کی خواہشات
 
پولوسؔ نے کہا، ” کیونکہ جسم رُوح کے خلاف خواہش کرتا ہے اور رُوح جسم کے خلاف اور یہ ایک دوسرے کے مخالف ہیں تاکہ جو تم چاہتے وہ نہ کرو۔“ (گلتیوں ۵:۱۷)۔ چونکہ ہم، جو چھڑائے جا چکے ہیں، ایک ہی وقت پر جسم اور رُوح کی خواہش رکھتے ہیں، یہ دو عناصر ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ عجیب دہانے پر ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک مکمل طورپر ہمارے دلوں کو بھر نہیں سکتاہے۔
رُوح ہماری خواہش کرنے میں،یعنی ہمارے دلوں کی گہرائیوں سے، خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے اور خُداوند کی خدمت کرنے کے لئے راہنمائی کرتا ہے۔ یہ ہمیں رُوحانی کاموں میں مصروف کرنے کے لئے گرم جوش بناتا ہے۔ یہ ہماری خُد اکی خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے کے وسیلہ سے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے چھڑانے میں مددکرتا ہے۔
لیکن دوسری طرف، ہماری خواہشات جسم کی خواہش کو جھنجھوڑتی ہیں تاکہ ہم رُوح کے موافق نہ چل سکیں۔ یہ رُوح اور جسم کی خواہشات کے درمیان ابدی کشمکش ہے۔ جب ایک شخص جسم کی خواہشات میں غرق ہو جاتا ہے، وہ جسم کے لئے چیزیں مہیاکرتے ہوئے ختم ہوجاتا ہے۔ جسم رُوح کے خلا ف اپنی خواہش کو قائم کرتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کی مخالفت میں ہیں، تاکہ ہم وہ چیزیں نہ کرسکیں جو ہم چاہتے ہیں۔
تب رُوح کے موافق چلنے میں کیا شامل ہے؟ اور کس قِسم کی اشیاخُدا کو خوش کر رہی ہیں؟ خُدا نے کہا کہ خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنا اور پیروی کرنا رُوح کے موافق چلنے کی زندگی ہے۔ وہ اُن کو رُوح کے موافق چلنے کے لئے دل عطا کرتا ہے جو رُوح القدس کی معموری رکھتے ہیں، تاکہ وہ ایک رُوحانی زندگی گزار سکیں۔ رُوح میں چلنے کے وسیلہ سے رُوح کے پھل پیدا کرنے کے لئے خُدا نے ہمیں جو حکم دیا ایک تنبیہ اور ہمارے لئے دوسروں تک خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے کے وسیلہ سے اُن کے گناہوں سے بچانے کے واسطے ایک فرمان تھا۔ رُوح القدس کے موافق چلنے کا مطلب ہے ایک زندگی گزارنا جو خُدا کو خوش کر رہی ہے۔
رُوح کے موافق چلنے کے سلسلے میں، ہمیں سب سے پہلے رُوح القدس کی معموری رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں پہلے خوبصورت خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے جو خُد انے ہمیں دی اگر ہم رُوح القدس کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو ہم میں سکونت کرتا ہے۔ اگر ہم ہمارے دلوں کی گہرائی میں خوبصور ت خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، ہم نہ رُوح القد س کی معموری حاصل کریں گے نہ ہی گناہ سے نجات حاصل کریں گے، جس کا مطلب ہے ہم رُوح کے موافق چلنے کے قابل نہیں ہو ں گے۔
 رُوح ہمیں خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے، خُدا وند کی خدمت کرنے اورخُدا کو جلال دینے کی خواہش عطا کرتاہے۔ یہ خواہش ایک دل سے حاصل ہوتی ہے جو خُداکے لئے اور تمام دُنیا میں خوبصور ت خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے وقف ہے۔ یہ ایک دل سے بھی حاصل ہوتی ہے جو کرنے کے لئے تیار ہے یعنی خوبصورت خوشخبری کی منادی پر جو کچھ بھی صَرف ہوتا ہے۔ وہ جو خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے گناہوں سے معاف ہونے کے بعد رُوح القدس کو حاصل کرتے ہیں رُوح کے موافق چلنے اور اپنے آپ کو خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے وقف کرنے کے قابل ہیں۔ یہ اوپر سے اُن کا رُوحانی ورثہ ہے۔
وہ جو رُوح القد س کی معموری رکھتے ہیں رُوح القدس کی فرمانبرداری کرنے اور رُوح کے موافق چلنے کے لئے آتے ہیں، حتیٰ کہ وہ اب تک جسم کی خواہشات رکھتے ہیں کیونکہ رُوح القدس اُن میں سکونت کرتاہے۔ پولوسؔ نے کہا، ” رُوح القدس کے موافق چلو اِس سے اُس کا کیا مطلب تھا یہ ہے کہ ہمیں یقینا پانی اور رُوح القدس کی خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے جو یسوعؔ نے ہمیں دی تاکہ ہم دوسروں کی اُن کے گناہوں سے معاف ہونے میں مدد کرسکیں۔
بعض اوقات جب کہ رُوح کے موافق چلتے ہوئے، ہم جسم کے مطابق چلتے ہیں۔ جسم کی خواہش
اور رُوح کی خواہش ہماری زندگیوں میں ایک دوسرے کے خلاف لڑتی ہیں، لیکن ہمیں کیا جاننا اور پہچاننا ہے واضح طور پر یہ ہے کہ وہ جو رُوح القد س کی معموری رکھتے ہیں کو رُوح کے موافق چلنے والی زندگی گزارنی چاہیے۔ صرف اِس طریقے سے ہم خُدا کی برکات کے ساتھ بھری ہوئی زندگیاں گزارنے کے قابل ہوں گے۔ اگر وہ جو رُوح القد س کی معموری رکھتے ہیں رُوح کے پھل پیدا کرنے سے انکار کرتے ہیں، وہ جسم کے پھل پیدا کرنے کے وسیلہ سے ہلاک ہو جائیں گے۔ اُن کا پھل ہلاکت اور ترس کے قابل ہے۔ اِس لحاظ سے ہمارے لئے رُوح کے موافق چلنے کے وسیلہ سے زندہ رہنے کی وجہ موجو دہے۔
ہم سُن چکے ہیں ”رُوح کے موافق چلو، لیکن ہم میں سے بعض شاید سوچ سکتے ہیں ”میں اِس طرح کیسے کر سکتا ہُوں، جبکہ میں میرے اندر رُوح القدس کو محسوس نہیں کر سکتا؟ ہم میں سے بعض سوچتے ہیں ہم صرف رُوح القدس کی معموری پہچان سکتے تھے اگر خُدا ظاہر ہوتا اور ہم سے براہِ راست کلام کرتا۔ لیکن یہ ایک غلط فہمی ہے۔ رُوح ہمیں پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کے لئے زندہ رہنے کی خواہش دیتا ہے۔ شاید مواقع موجود ہوں کہ ہم پُر یقین ہیں وہ ہم میں سکونت کرتا ہے لیکن اُسے محسوس نہیں کر سکتے کیونکہ ہم جسم کے مطابق چل رہے ہیں۔ بعض شاید حتیٰ کہ سوچ سکتے ہیں وہ ہمارے اندر سو رہا ہے۔ وہ وہ لوگ ہیں جو رُوح القد س حاصل کر چکے ہیں لیکن پھر بھی جسم کے ساتھ چلتے ہیں۔
یہ لوگ صرف اپنے ذاتی جسم کو تسکین دیتے ہیں اور عمل کرتے ہیں جس طرح یہ حکم کرتا ہے، لیکن آخر میں جسم کے زیادہ مطالبات کی وجہ سے دُکھ اُٹھائیں گے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو رُوح القدس کی معموری رکھتے ہیں اپنے جسم کی خواہشات کے مطابق زندہ رہنے کا رُجحان رکھتے ہیں، کیونکہ وہ سوچتے ہیں ایسا کرنا ایک فطری بات ہے۔ لیکن وہ جو جسم کی اطاعت کرتے ہیں آخرکار جسم کے غلام بن جاتے ہیں۔
خُدا وند ہمیں رُوح کے مطابق زندہ رہنے کے لئے کہتا ہے۔ اِس کا مطلب خوبصور ت خوشخبری کی خدمت کرنا ہے۔ اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ ہمیں یقینا اپنے آپ کو پانی اور رُوح کی خوبصورت خوشخبری کے لئے مکمل طورپر وقف کرنا چاہیے۔ خوشخبری سے لُطف اندوزہونا اور اِس کے وسیلہ سے زندہ رہنا رُوح کے مطابق زندہ رہنا ہے۔ ہمیں سیکھنے کے وسیلہ سے اُس کی مانند زندہ رہنا ہے کہ رُوح کے موافق چلنے کا
کیا مطلب ہے۔ کیا آپ رُوح کے موافق چل رہے ہیں؟
 
 
کیاکوئی شخص جو رُوح القد س کی معموری نہیں رکھتا رُوح کے موافق چل سکتا ہے؟
 
وہ جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں نہیں جانتے رُوح کے موافق چلنے کا کیا مطلب ہے۔ اِس طرح، بہت سارے لوگ رُوح القدس کو حاصل کرنے کی اور اپنے ذاتی طریقہ سے اُس کی خواہش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں رُوح القدس کی خواہش کرنے کا عمل وُہی ہے جس طرح رُوح القدس کے ساتھ بھرنا۔
مثال کے طورپر، جب لوگ عبادت کے لئے یقینی عبادت گاہوں میں جمع ہوتے ہیں، خادمین اونچی آواز میں دُعا مانگتے ہیں اور ہر کوئی خُداوند کے نام کوپُکارنا شروع کرتا ہے۔ اُن میں بعض غیرزبانوں میں بولتے ہیں جس طرح وہ رُوح القدس کے ساتھ بھر گئے تھے، لیکن کوئی بھی، حتیٰ کہ بذات ِ خود بھی نہیں، سمجھ سکتا وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اِسی اثناء میں، اُن میں بعض زمین پر گرتے ہیں اور اُن کے جسم ازحد خوشی میں کانپنا شروع ہو جاتے ہیں۔ وہ یقینا بدرُوحوں کی معرفت جکڑے جا چکے ہیں لیکن وہ سوچتے ہیں وہ رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں۔تب ہنگامہ برپا ہوتا ہے جب لوگ چِلاتے ہیں، ”اَے خُداوند، اَے خُداوند! وہ خُداوند کا نام پُکارتے ہیں، اپنے آنسو بہاتے اور اپنے ہاتھوں سے تالیاں بجاتے ہیں۔ یہ عمل عموماً ”رُوح القدس کے ساتھ بھر جانا کہلاتا ہے۔
خادم غیر زبانوں میں جبکہ پُلپٹ کو زور سے مارتے ہوئے بولتا ہے، اور لوگ چلاتے ہیں ”اَے خُداوند! اَے خُداوند!“ وہ اِس قسم کے ماحول سے محبت کرتے ہیں اور بعض حتیٰ کہ کہتے ہیں اُنھوں نے باغِ عدن ؔ میں نیک و بد کی پہچان کے درخت کی اور اپنے ناپاک وجد کے درمیان یسوعؔ کے چہرے کی ایک رویا دیکھی۔وہ اُن چیزوں کو رُوح القدس کے حاصل کرنے، اُس کے ساتھ بھرنے اور اُس کے ساتھ چلنے کے طریقوں کے طورپر غلط سمجھتے ہیں۔اُن کے غلط اعما ل خُدا کے کلام اور رُوح القدس کے بارے میں اُن کے غلط نظریات سے حاصل ہوتے ہیں۔
رُوح کے موافق چلو۔“یہ ہے جو خُد ااُن سے کہتا ہے جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ اِس کا مطلب وہ چیزیں کرنی ہیں جو اُسے خوش کررہی ہیں۔ پولوسؔ نے جسم کے اعمال سے رُوح القدس کے پھلوں کا موازنہ کِیا۔ اُس نے کہا،”’مگر رُوح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔“(گلتیوں ۵:۲۲۔۲۳) ۔
رُوح کے موافق چلنے کامطلب خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنا اور دوسروں کو اُن کے گناہوں سے بچانا ہے۔ اگر ہم اِس طرح کرتے ہیں، ہم رُوح کے پھل پید اکرنے کے قابل ہوں گے۔ رُوح کے پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم اورپرہیزگاری ہیں، اور ہم یہ پھل پیدا کرنے کے قابل ہوں گے صرف جب ہم خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے زندہ رہتے ہیں۔ اگر کوئی خوبصورت خوشخبری کی، اپنے آپ کو اِس کے لئے قربان کرتے ہوئے،خدمت اور منادی کر تاہے، تب وہ رُوح القدس کے ساتھ بھری ہوئی ایک رُوحانی زندگی گزار سکتاہے۔
رُوح کے ایک پھل کے طورپر، ”نیکی کا مطلب ہے اچھے کام کرنا۔ اِس کا مطلب بھلائی بھی ہے۔ خوبصورت خوشخبری کے لئے بھلائی کرنا اور دوسروں کے فائدہ کے لئے کچھ کرنا نیکی ہے۔ خُدا کی نظر میں اعلیٰ ترین نیکی دوسروں کے فائدے کے لئے خوشخبری کی منادی کرنا ہے۔
اور ”مہربانی لوگوں کے لئے ترس کو محسوس کرنا ہے۔ وہ جو دوسروں کے لئے رحیم ہے تحمل اور مہربانی کے ساتھ خوشخبری کی منادی کرتا ہے سلامتی میں رہے گا۔ وہ جو رُوح کے موافق چلتا ہے خُداوند کے مکمل کام کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے، اُس کا کام کرنے سے محبت کرتا ہے، دوسروں سے محبت کرتا ہے اور تمام چیزوں میں وفادار ہے۔ اگرچہ کسی شخص نے بھی اُنھیں ایسا کرنے کے لئے ایک ضروری ذمہ داری نہیں د ی، وہ جو رُوح القد س کی معموری رکھتا ہے اُس کے کام میں وفادار ہے جب تک یہ مکمل نہیں ہوجاتا۔ وہ نرم مزاج ہے اور ضبطِ نفس کو قائم کرتا ہے۔ وہ رُوح کا پھل رکھتا ہے۔ وہ شخص جو اپنے اندر رُوح القدس رکھتا ہے کو رُوح کے موافق چلنا ہے۔ صرف اگر وہ ایسا کرتا ہے، تب وہ رُوح کے پھل پیدا کرنے کے قابل ہو گا۔
آپ بھی رُوح کے پھل پید اکر سکتے ہیں اگر آپ رُوح کے موافق چلتے ہیں۔ اگر آپ نہیں کرتے
ہیں، آپ جسم کی خواہشات کے ساتھ چلتے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔ گلتیوں ۵:۱۹ ۔۲۱ میں نوشتہ کہتا ہے، ”اب جسم کے کام تو ظاہر ہیں یعنی حرامکاری۔ ناپاکی۔ شہوت پرستی۔ بت پرستی۔ جادوگری۔ عداوتیں۔ جھگڑا۔ حسد۔ غصہ۔ تفرقے۔ جُدائیاں۔ بِدعتیں۔ بُغض۔ نشہ بازی۔ ناچ رنگ اور اَور اِن کی مانند۔ اِن کی بابت تمہیں پہلے سے کہے دیتا ہُوں جیسا کہ پیشتر جتا چکا ہُوں کہ ایسے کام کرنے والے خُدا کی بادشاہی کے وارث نہ ہوں گے۔ “
 
 
جسم کے کام تو ظاہر ہیں
 
جسم کے کام تو ظاہر ہیں۔ جسم کا پہلا کام ” حرامکاری ہے، جس کا مطلب مخالفِ جنس کے ساتھ نامناسب تعلق کو قائم کرنا ہے۔ دوسرا ”زناکاری ہے۔تیسرا ”ناپا کی‘‘ہے۔ چوتھا”’شہوت پرستی ہے جس کا مطلب جسمانی خواہش رکھناہے۔ پانچواں ”بت پرستی ہے جس کا مطلب خُدا کی بجائے بتوں کی خدمت کر نا ہے۔ چھٹا ”جادوگری “ ہے۔ ساتواں ”عداوتیں ہے۔ اگر ایک شخص رُوح القدس کے بغیر جسم کے مطابق چلتاہے، وہ بچ نہیں سکتا بلکہ دوسروں کے لئے یعنی اپنی گنہگار فطرت کے مطابق اپنی نفرت دکھاتا ہے۔ آٹھواں ”جھگڑا ہے۔ اِس کا مطلب ہمارے دوستوں یا خاندان کے ساتھ دنگا فساد ہے۔ دوسرےحسد، غصہ کے نتائج اور خود غرض خواہشات ہیں۔“ یہ تمام اُن لوگوں کی خصوصیات ہیں جو جسم کے مطابق چلتے ہیں۔
دسواں ”جُدائیاں ہیں۔ جب ایک شخص صرف جسم کے مطابق چلتا ہے، تو اُس کے لئے
 گرجا گھر کا کام کرنا ناممکن ہے اور آخر کار وہ اپنی ذاتی مرضی کی کلیسیا چھوڑتے ہوئے ختم ہو جائے گا۔ گیارہواں ”بِدعتیں ہیں۔ وہ جو جسم میں چلتاہے اپنی ذاتی مرضی کو مطمئن کرنے کے لئے ایسا کرتا ہے۔ لیکن وہ زندگی خُدا کی مرضی سے بالکل مختلف ہے یعنی وہ آخرکار خوبصورت خوشخبری سے پِھر جاتا ہے۔ بِدعت کا مطلب کتابِ مقدس کی سچائی سے انحراف کرنا ہے۔ کوئی جو خُدا کے کلام پر ایمان رکھتا ہے اور رُوح کے موافق چلتاہے خُد اکی مرضی سے مڑنے کے لئے نہیں آتا ہے۔ ”بُغض، نشہ بازی، ناچ رنگ اور اَور اِن کی مانند بھی جسم کے کام ہیں۔ وہ جو صرف جسم کے مطابق چلتے ہیں آخر میں ایسی چیزوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ہے کیوں خُد اوند کہتا ہے، ”رُوح کے موافق چلو۔ ہم جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں کو رُوح کے موافق چلنا ہے۔
وہ جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں کچھ نہیں بلکہ اپنے دلوں میں جسم کی خواہشات رکھتے ہیں۔ یہ ہے کیوں وہ ” حرامکاری، ناپاکی، شہوت پرستی، اور بت پرستی میں مصروف رہنے کے لئے آتے ہیں۔ جھوٹے خادمین جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں اپنے پیروکاروں پر اُنھیں بہت سارا پیسہ دینے کے لئے راغب کرنے کے واسطے ”جادوگری کاعمل کرتے ہیں۔ وہ گرجا گھر کی اہم ذمہ داریاں اور اعلیٰ مرتبے اُن کو دیتے ہیں جو سب سے زیادہ عطیہ دیتے ہیں۔ وہ جو جسم کے وسیلہ سے زندہ رہتے ہیں دوسروں کے لئے اپنی ” عداوتیں ظاہر کرتے ہیں۔ وہ کلیسیاؤں کو بہت سارے فرقوں میں تقسیم کرتے ہیں، اپنے فرقے پر فخر کرتے ہیں اور دوسروں کو بدعتوں کے طو رپر ملامت کرتے ہیں۔ ”جھگڑا، حسد، غصہ، تفرقے، جُدائیاں، بِدعتیں، بُغض سب اُن کے دلوں میں ہیں جو نئے سِرے سے پید انہیں ہوئے ہیں۔ یہ ہم مقدسین کے لئے بھی اِسی طرح ہو گا اگر ہم صرف جسم کے مطابق چلتے ہیں۔
 
 
 رُوح نئے سِرے سے پیدا ہوئے مسیحیوں کو رُوح القدس کے پھل پیدا کرنے کے قابل کرتا ہے
 
وہ جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں کو یقینا خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے زندہ رہنا چاہیے۔ جس طرح یہ ہمارے لئے تنہا خُداوند کی پیروی کرنا انتہائی مشکل ہے، ہمیں یقینا خُداکی کلیسیا میں ملنے کے وسیلہ سے خوبصورت خوشخبری کی خدمت کا کام کرنا چاہیے۔ ہمیں مل کر دُعا مانگنی اور ہماری توانائیوں کو ایسا شخص بننے کے لئے وقف کرنا ہے جو رُوح کی خوبصورت خوشخبری کے وسیلہ سے چلتا ہے۔ لوگ جو رُوح کے موافق چلتے ہیں پانی اوررُوح کی خوشخبری کی منادی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، جسم کے مطابق چلنے کا مطلب صرف اپنے آپ کے لئے ایک زندگی گزارنا ہے جب کہ رُوح کے موافق چلنے کا مطلب دوسروں کی جانوں کو بچانے کے لئے کام کرنا ہے۔ بہت سارے نئے سِرے سے پیدا ہوئے مسیحی خوبصورت زندگی کی یہ قِسم گزارتے ہیں۔ وہ دوسروں کی بھلائی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔
اردگرد دُنیا میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہے جو کبھی خوبصورت خوشخبری نہیں سُن چکی۔ ہم افریقہ اور ایشیا میں لوگوں سے محبت کرتے ہیں۔ ہم یورپ اور امریکہ میں اِسی طرح الگ تھلگ جزیروں میں ہرکسی سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیں ہماری محبت اُنھیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کو متعارف کروانے کے وسیلہ سے دکھانی چاہیے۔
ہمیں یقینا رُوح کے موافق چلنا چاہیے۔ اِس کے خلاف کوئی شریعت موجود نہیں ہے۔ ”مگر رُوح کا پھل محبت۔ خوشی۔ اطمینان۔ تحمل۔ مہربانی۔ نیکی۔ ایمانداری۔ حلم۔ پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں۔“ (گلتیوں ۵:۲۲۔۲۳)۔ کیا کوئی شریعت ہے جو اِس کے خلا ف ہو سکتی ہے؟ نہیں ۔یہ رُوح کی شریعت ہے یعنی ہمیں یقینا فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ پولوسؔ نے ہمیں رُوح کے موافق چلنے کے لئے بتایا۔ بالکل جس طرح ہمارے خُداوند نے ہم گنہگاروں کے لئے اپنی زندگی دی، ہمیں یقینا دوسروں تک خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے۔ دوسروں کو اُن کے گناہوں سے بچانا
رُوح کے موافق چلنا ہے۔ ہمیں رُوح کے موافق چلنا چاہیے۔
پولوسؔ نے گلتیوں ۵:۲۴ ۔۲۶ میں کہا، ”اور جو مسیح یسوعؔ کے ہیں اُنھوں نے جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت صلیب پر کھینچ دیا ہے۔ اگر ہم رُوح کے سبب سے زندہ ہیں تو رُوح کے موافق چلنا بھی چاہیے۔ ہم بے جا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“ ہمیں یقینا کھوئی ہوئی جانوں کو بچانے کے لئے زندہ رہنا چاہیے اگرہمیں رُوح میں زندہ رہنا ہے۔ ہمیں رُوح کے کام کرنے چاہیے اور اُس کے ساتھ چلنا چاہیے۔ رُوح القدس جو خُدانے ہمیں دیا ہمارے دلوں میں یسوعؔ مسیح کے ساتھ زندہ رہنے کے لئے راہنمائی کرتاہے۔ رُوح القدس محبت کا بادشاہ ہے۔ خُدا ہمیں اپنی محبت کے لئے گاڑیوں کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
پولوس ؔنے کہا، ”اور جو مسیح یسوعؔ کے ہیں اُنھوں نے جسم کو اُس کی رغبتوں اور خواہشوں سمیت
صلیب پر کھینچ دیا ہے۔“ (گلتیوں ۵:۲۴)۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں یسوعؔ مسیح کے ساتھ مر چکے ہیں۔ وہ جو واقعی نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں پہلے ہی یسوعؔ کے ساتھ مر چکے ہیں۔ ہم اِس کا احساس نہیں کرتے،لیکن ہم یسوعؔ مسیح کے ساتھ مر گئے جب وہ ہمارے گناہوں کے لئے قیمت ادا کرنے کے واسطے مصلوب ہُوا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، حقیقت کہ یسوعؔ مسیح مصلوب ہُوا تھا کا مطلب ہے کہ آپ اور میں صلیب پر اُس کے ساتھ مر گئے تھے۔ اُس کی موت ہماری موت تھی اور اُس کا جی اُٹھنا ہمارے جی اُٹھنے کی ضمانت کو ظاہر کرتا ہے۔آپ اور میں ہمارے ایمان کے وسیلہ سے یسوعؔ مسیح میں زندہ رہتے ہیں اور مرتے ہیں۔ ہمیں ایمان رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ایمان ہماری رُوح کے موافق چلنے کے لئے راہنمائی کرتا ہے۔
خُدا ہمیں رُوح کے موافق چلنے کی طاقت دے چکا ہے۔ اِس لئے، ہم جو ہمارے تمام گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں کو رُوح کے موافق چلنا چاہیے۔ وہ جو رُوح القدس کو حاصل کرچکے ہیں کو یقینا شکر گزار ہوناچاہیے کہ اُن کے گناہ معاف ہو گئے تھے اور اپنے آپ کو کھوئے ہوؤں کی نجات کے لئے خوبصورت خوشخبری کی منادی کرنے کے واسطے وقف کرنا چاہیے۔ حتیٰ کہ گو کوئی اُس کے گناہوں سے معاف ہوتا ہے اور نئے سِرے سے پیدا ہوتا ہے، وہ خُداوند کی کلیسیا سے جُدا ہو جائے گا اور اُس کی خدمت کرنے کے قابل نہیں ہوگا اگر وہ جسم کی خواہشات کے مطابق زندہ رہتا ہے۔ آپ کو اور مجھے پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے ہمارے خُداوند یسوعؔ مسیح کے آنے کے دن تک زندہ رہنا چاہیے۔
 
 
 کبھی دھوکا مت کھائیں بلکہ رُوح القدس کی معموری کے وسیلہ سے زندہ رہیں
 
پولوسؔ نے کہا، ”ہم بے جا فخر کرکے نہ ایک دوسرے کو چڑائیں نہ ایک دوسرے سے جلیں۔“ بے جا فخر کیا ہے؟ یہ جسم کی خواہشات کے مطابق چلنا ہے۔ اِس دُنیا میں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو اپنے بے جا فخر کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ بہت سارے لوگ پیسہ جمع کرتے ہیں، برتری کے لئے لڑتے ہیں، دُنیاوی خوبصورتی سے محبت کرتے ہیں اور اِس اور اُس کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ اِن میں کوئی وفاداری نہیں ہے، اور جونہی وقت گزرتا ہے وہ برباد اور غائب ہو جائیں گے۔ یہ ہے کیوں لوگ جو جسم کے مطابق چلتے ہیں بے جافخر کرنے والے کہلاتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر لوگ دولت رکھتے ہیں، کیا حقیقی سلامتی اور اطمینان اُن کے دلوں میں موجود ہے؟ جسم کا پھل آخر کار تباہ ہو جاتا ہے۔ زمینی اشیادوسروں کی جانوں کے لئے کسی فائدہ کی نہیں ہیں اور صرف کسی کی اپنی ذات کے لئے ہیں۔ وہ صرف کسی شخص کے اپنے ذاتی جسم کے لئے اچھی ہیں۔
کتابِ مقد س کہتی ہے، ” کوئی تو بِتھراتا ہے پر تو بھی ترقی کرتا ہے۔اور کوئی واجبی خرچ سے دریغ کرتا ہے پر توبھی کنگال ہے۔“ (امثال ۱۱:۲۴)۔ وہ جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں پیسوں کو بہت زیادہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ دُنیاوی اشیا اُن کے لئے ہر چیز ہیں، وہ دوسروں کی دیکھ بھال کے واسطے اپنے اندر جگہ نہیں رکھتے ہیں۔ یہ ہے کیوں وہ صرف اپنی ذاتی زندگیوں کو چاہتے اور دیکھ بھال کرتے ہیں۔ لیکن کتابِ مقدس میں یہ کہا گیا ہے کہ کوئی شخص واجبی خرچ سے دریغ کرتا ہے، پر تو بھی کنگال ہے۔ لوگ جسم کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں، لیکن نتیجہ وہی ہے جس طرح ایک ڈاکو سے ٹکرانا اور مر کر ختم ہو جانا۔ یہ تمام اشیا بے جا فخر کے نتائج ہیں۔
 
 
وہ جو رُوح کی خواہشات کی پیروی کرنے سے محبت کرتے ہیں
          
پولوسؔ رُوح میں ایک زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ اور اُس نے ایسا ہی کِیا۔ اُس نے ہمیں خُدا کے کلام کے وسیلہ سے اچھی طرح رہنے کی تعلیم دی۔ اُس نے گلتیوں ۶:۶۔ ۱۰ میں کہا، ”کلام کی تعلیم پانے والا تعلیم دینے والے کو سب اچھی چیزوں میں شریک کرے۔ فریب نہ کھاؤ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔ جو کوئی اپنے جسم کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹے گا اور جو رُوح کے لئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بیدل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔ پس جہاں تک موقع ملے سب کے ساتھ نیکی کریں خاص کر اہلِ ایمان کے ساتھ۔“
پولوسؔ نے اُن کو جو خُدا کے کلام کو جانتے ہیں اپنے اساتذہ کے ساتھ تمام اچھی چیزیں بانٹنے کی نصیحت کی۔ اُس کا ”سب اچھی چیزوں کے وسیلہ سے کیا مطلب تھا یہ تھا رُوح کے موافق چلنے اور خوشخبری کی منادی کرنے کی زندگی کے وسیلہ سے کھوئی ہوئی جانوں کو بچانے کی معرفت خُداوند کو خوش کرنا تھا۔ وہ جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں کو اُن میں شامل ہونا چاہیے جو وہی ذہن، محبت اور وہی شناخت
رکھتے ہوئے سکھاتے اور رُوح کے موافق چلتے ہیں۔
کلام کی تعلیم پانے والا تعلیم دینے والے کو سب اچھی چیزوں میں شریک کرے۔“اچھی چیزوں کا مطلب دوسروں کو کلیسیا کے وسیلہ سے اُن کے گناہوں سے بچانا ہے۔ پولوسؔ نے ہمیں ہر چیز اُسی ذہن، اُسی دُعا، اور اُسی جذبے سے کرنے کے لئے کہا۔ ہمیں یقینا مل کر خُداوند کا کام کرنا چاہیے۔
پولوسؔ نے کہا، ” فریب نہ کھاؤ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔“ یہاں، ”ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے کا مطلب ”مذاق اُڑانا اور حقارت کی نظر سے دیکھنا ہے۔ پس ” فریب نہ کھاؤ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کا مطلب ہے خُدا کا مذاق مت اُڑائیں اور حقارت کی نظر سے مت دیکھیں۔ مثال کے طور پر، کسی شخص کو یقینا خُدا کے کلام کو، اُس کا اپنے ذاتی الفاظ میں ترجمہ کر کے ااور اُس پر ایمان رکھنے میں ناکام ہو کرہلکا نہیں لینا چاہیے۔ پولوسؔ نے کہا، ”کیونکہ آدمی جوکچھ بوتا ہے وہی کاٹے گا۔“ اِس کا مطلب ہے کہ وہ جو جسم کو بوتاہے برائی کو کاٹے گا، لیکن وہ جو رُوح کو بوتا ہے ہمیشہ کی زندگی کو کاٹے گا۔
ہم کیا کاٹیں گے اگر ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے زندہ رہتے ہیں؟ ہم ابدی زندگی اور ہمارے گناہوں سے نجات حاصل کریں گے۔ ہم دوسروں کی جانوں کی اُن کے گناہوں سے خلاصی کے لئے راہنمائی کرنے کے وسیلہ سے رُوح کے پھل اور خُدا کی برکات کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی کاٹیں گے۔
لیکن اُن لوگوں کے بارے میں کیا ہے جو اپنے ذاتی جسم کے لئے زندہ رہتے ہیں؟ وہ برائی کاٹتے ہیں لیکن کچھ موجود نہیں ہے بلکہ آخر میں موت۔ اُن کی موت کے بعد اُن کے لئے کچھ بھی باقی نہیں ہے۔ انسان خالی ہاتھوں کے ساتھ پیدا ہوتاہے اور خالی ہاتھوں کے ساتھ مرجاتا ہے۔
 اگروہ دوسروں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کا کام کرتا ہے، وہ رُوح کے پھل کاٹے گا اور ابدی زندگی رکھے گا۔لیکن اگر وہ جسم کی خواہشات کے مطابق چلنا جاری رکھتا ہے، وہ برائی کو کاٹتا ہُوا ختم ہوجاتا ہے۔ تب وہ لعنتیں کاٹتاہے اور لعنتوں کو دوسروں تک منتقل کرتا ہے۔ اِس لئے، پولوسؔ نے، جو ایمان کے وسیلہ سے جینے کے بارے میں ہر چیز جانتا تھا، ہمیں جسم کے مطابق نہ چلنے کی نصیحت کی۔
ہم نیک کام کرنے میں ہمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بیدل نہ ہونگے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔“پولوسؔ خُدا کا ایک خادم تھا جو رُوح کے موافق چلا۔ جب لوگ کتابِ مقد س میں دیکھتے ہیں کہ وہ رُوح کے موافق چلتا تھا، بعض شاید سو چ سکتے ہیں رُوح القدس نے اُسے ایسی چیزیں کرنے کے لئے براہِ راست حکم دیا ہوگا،پولوس، باقیوں کے پاس جاؤ اور کسی سے مِلویاتمہیں اُس شخص سے بچنا چاہیے۔“لیکن یہ سچ نہیں ہے۔
وہ دوسروں تک نجا ت کی خوشخبری کی منادی کرنے اوراُن کی جانوں کو بچانے میں مدد دینے کے وسیلہ سے رُوح کے موافق چلتا تھا۔ پولوسؔ نے اُن کے ساتھ ملنے کے وسیلہ سے بھی خُداوند کی خدمت کی جو رُوح کے موافق چلتے تھے۔ مسیحیوں کے درمیان، لوگ موجود ہیں جو رُوح کے موافق نہیں چلتے بلکہ جسم کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں۔ اُنھوں نے پولوسؔ کو خوش آمدید نہیں کہا بلکہ مخالفت کی اور حتیٰ کہ اُس پر اِلزام تراشی کی۔ پولوسؔ نے کہاوہ اُن کے ساتھ کوئی چیز کرنا نہیں چاہتا جو یسوعؔ مسیح کے شاگردوں کے خلاف لڑتے اور اِلزام لگاتے تھے۔
اگر آپ رُوح کے موافق چلنا چاہتے ہیں، آپ کو خوشخبری کے وسیلہ سے زندہ رہنا ہے۔ مختونوں نے پولوسؔ کو ستایا۔ گلتیوں ۵:۱۱ میں وہ کہتاہے، ”اور اَے بھائیو! میں اگر اب تک ختنہ کی منادی کرتا ہُوں تو اب تک ستایا کیوں جاتا ہُوں؟ اِس صورت میں صلیب کی ٹھوکر تو جاتی رہی۔“مختون وہ تھے جو، یہ کہتے ہوئے، ختنہ کی مشق کے پہلوان تھے، ”حتیٰ کہ اگر کوئی یسوعؔ پر ایمان کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو جاتا ہے، اُسے ختنہ کروانا ہے۔اگر وہ اپنے جسم کی کھلڑی میں ختنہ نہیں کرواتا ہے، وہ خُدا کا بیٹا نہیں ہے۔“ اُنھوں نے کیوں اُسے ستایا؟ پولوسؔ ایمان رکھتا تھا کہ خلاصی اور ابدی زندگی کی برکت صرف یسوعؔ کے بپتسمہ اوراُس کے صلیبی خون پر ایمان سے حاصل ہوتی تھی۔ یہ ہے اُس نے کیا منادی کی۔
ایمان جو لوگوں کو راستباز بناتاہے سچائی کو سیکھنے اور اِس کی منادی کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ پولوسؔ نے پانی اور رُوح کی سچائی کو انتہائی اہم خیال کِیا۔ اُس نے ایمان رکھا کہ وہ جو سچائی کو جانتے تھے رُوح کے موافق چل سکتے تھے اور کہ ختنہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ یہ ہے اُس نے کیا منادی کی۔ لیکن مختون ایمان رکھتے تھے کہ ختنہ نجات میں ایک شخص کے ایمان کا ایک انتہائی اہم حصہ تھا۔ تاہم، خُدا کی معرفت سُپر د کی گئی خوشخبری کے علاوہ کوئی دوسری چیز موجود نہیں ہے اور اِس لئے ہمیں یقینا اِس میں کسی چیز کو نہ جمع کرنا چاہیے نہ ہی منفی کرنا چاہیے۔
جب پولوسؔ رُوح کے موافق چلا، وہ نظر انداز کِیاگیا اور اپنے ساتھی یہودیوں کی معرفت ستایا گیا، ”جتنے لوگ جسمانی نمود چاہتے ہیں وہ تمہیں ختنہ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔صرف اِس لئے کہ مسیح کی صلیب کے سبب سے ستائے نہ جائیں۔ کیونکہ ختنہ کرانے والے خود بھی شریعت پر عمل نہیں کرتے مگر تمہارا ختنہ اِس لئے کرانا چاہتے ہیں کہ تمہاری جسمانی حالت پر فخر کریں۔ لیکن خُد انہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اپنے خُداوند یسوعؔ مسیح کی صلیب کے جس سے دُنیا میرے اعتبار سے مصلو ب ہوئی اور میں دُنیا کے اعتبار سے۔ کیونکہ نہ ختنہ کچھ چیز ہے نہ نامختونی بلکہ نئے سِرے سے مخلوق ہونا۔“(گلتیوں ۶:۱۲ ۔۱۵)۔ اور پولوسؔ نے مختونوں سے کہا، ”جتنے لوگ جسمانی نمود چاہتے ہیں وہ تمہیں ختنہ کرانے پر مجبور کرتے ہیں۔صرف اِس لئے کہ مسیح کی صلیب کے سبب سے ستائے نہ جائیں۔ “
پولوسؔ نے اُن پر ملامت کی جو جسم کی خواہشات کے مطابق چلتے تھے۔ وہ بے شک جسم کی خواہشات کے مطابق چلے اور اُن کی مانند بہت سارے لوگ موجود تھے۔ لیکن پولوس ؔنے اُن کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر لئے۔ پولوسؔ نے کہا، ” لیکن خُدا نہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اپنے خُداوند یسوعؔ مسیح کی صلیب کے۔“ یسوعؔ مسیح نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے یوحناؔ کی معرفت بپتسمہ لیا اور پولوسؔ اور تمام لوگوں کویعنی جتنوں کو ہمارا خُداوند خُدا بُلاتا ہے بچانے کے لئے صلیب پر مرگیا۔ پولوسؔ نے کہا، ”لیکن خُد انہ کرے کہ میں کسی چیز پر فخر کروں سِوا اپنے خُداوند یسوعؔ مسیح کی صلیب کے جس سے دُنیا میرے اعتبار سے مصلو ب ہوئی اور میں دُنیا کے اعتبار سے۔ کیونکہ نہ ختنہ کچھ چیز ہے نہ نامختونی بلکہ نئے سِرے سے مخلوق ہونا۔“ پولوسؔ، جو دُنیا کے لئے مُردہ تھا، یسوعؔ مسیح کے وسیلہ سے پھر زندہ رہا۔
ہم حقیقتاً یسوعؔ مسیح میں مُردہ ہیں۔ لیکن بعض اوقات ہم اِس سچائی کو بھول جاتے ہیں۔ ہمیں یقینا اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر ہم اِس سچائی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، ہم اپنے جسم کی خواہشات کے وسیلہ سے اور ہمارے خاندانوں کے وسیلہ سے قید ہیں، اور یہ ہمیں خُداوند کے ساتھ چلنے سے روکتا ہے۔ ہمارا جسم اتنا کمزور ہے کہ حتیٰ کہ ہمارے خاندان اُس کی پیروی میں ہماری مدد نہیں کر سکتے ہیں۔ صرف خُداوند ہماری مدد کرسکتا ہے۔ لیکن اب ہم دُنیا کے اعتبار سے مصلوب ہو گئے ہیں۔ کیسے ایک مُردہ آدمی زمینی لوگوں کی زمینی معاملات میں مدد کر سکتا ہے؟ لوگ جو اِس دُنیا میں مُردہ ہیں دُنیا کی چیزوں کے مالک نہیں ہو سکتے ہیں۔
یسوعؔ جی اُٹھا تھا۔ اُ س کے جی اُٹھنے نے ہمیں نئے سِرے سے پیدا ہونے کے لئے ایک نئی رُوحانی
 زندگی کی اجازت دی۔یہاں ہم نیا کام، نیا خاندان، نئی اُمید رکھتے ہیں۔ ہم نئے سِرے سے پیدا ہوئے لوگ ہیں۔ ہم، آسمان کے سپاہیوں کے طورپر، خُدا کے کلام کی منادی کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ پولوسؔ نے اِقرار کِیا کہ وہ دوسروں کو نجات حاصل کرنے میں مدد دینے کے وسیلہ سے جسمانی طریقوں کے وسیلہ سے نہیں بلکہ رُوحانی طریقوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک مرد بن گیا۔ اُس نے کہا وہ پہلے ہی مرچکاتھا اور یسوع ؔ مسیح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہُوا۔ آئیں ہم اُسی قسم کے لوگ ہونے کے لئے جدوجہد کریں جو ہمارے عقائد کا وُہی اِقرار کرنے کی جراٗت رکھتے ہیں۔
پولوسؔ نے گلتیوں ۶:۱۷ ۔ ۱۸ میں کہا، ”آگے کو کوئی مجھے تکلیف نہ دے کیونکہ میں اپنے جسم پر یسوعؔ کے داغ لئے ہوئے پھرتا ہُوں۔ اَے بھائیو! ہمارے خُداوند یسوعؔ مسیح کا فضل تمہاری رُوح کے ساتھ رہے۔آمین “ پولوسؔ نے خُداوند یسوعؔ کے داغ لے لئے۔ وہ رُوح کے موافق چلنے کے سلسلے میں خُداوندکے لئے اپنی صحت کی فکر نہیں کرتا تھا۔ وہ حتیٰ کہ لکھ نہ سکا، جونہی اُس نے آہستہ آہستہ اپنی نظر کھو دی۔ پس اُس کے ساتھیوں مثلاً طِطُسؔ کے وسیلہ سے پولوسؔ کے چند ہی خطوط تحریر کیے گئے تھے جب وہ خُدا کا کلام بول رہا تھا۔ حتیٰ کہ گو وہ جسمانی طورپر کمزور تھا، وہ رُوح کے موافق چلنے کے قابل ہونے کے لئے خوش تھا اور کہا، ”بلکہ گو ہماری ظاہری انسانیت زائل ہوتی جاتی ہے پھر بھی ہماری باطنی انسانیت روزبروزنئی ہوتی جاتی ہے۔“ (۲۔کرنتھیوں ۴:۱۶)۔
پولوسؔ اُس قِسم کے لوگ ہونے کی نصیحت کرتا ہے جو رُوح کے موافق چلتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتاہے، ”رُوح کے موافق چلنے کا مطلب خوشخبری کے لئے زندہ رہنا ہے۔“ آپ کو او رمجھے یقینا اِسے ذہن میں رکھنا چاہیے کہ رُوح کے موافق چلنے کا کیا مطلب ہے۔ ہمیں یقینا جھوٹی اشیا کا پیچھا نہیں کرنا چاہیے اور اِس کی بجائے خدمت کرنی چاہیے اور خوشخبری کے لئے زندہ رہنا چاہیے۔ آئیں ہم ہماری باقی زندگیوں کے لئے ایمان کے وسیلہ سے رُوح کے موافق چلیں۔
اب پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، حقیقی رُوح ہمارے دلوں میں ہے۔ خُداخوشی سے جواب دے گا اگرہم خوشخبری کی مطابقت میں دُعا مانگتے ہیں۔ رُوح القدس کے پھل پیدا کرنے کا مطلب رُوح میں چلنا اور جانوں کو آزادکرنا ہے۔ آپ رُوح کے پھل، بنام محبت، خوشی، اطمینان،تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم اور پرہیزگاری پیدا کر سکتے ہیں، جب آپ رُوح کے موافق چلتے ہیں اور خوشخبری کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنے کے لئے، ہمیں یقینا دُکھ اُٹھانا چاہیے، تحمل بردار رہنا چاہیے، مہربانی کی مشق کرنی چاہیے، اور کھوئے ہوؤں کے لئے نیکی کرنی
چاہیے۔
رُوح کے پھل اُن سے پیدا ہوتے ہیں جو نیکی کرنے اور خوشخبری کی منادی کرنے کے وسیلہ سے کھوئی ہوئی جانوں کو بچاتے ہیں جو اُن کے لئے رُوح القدس کی معموری کو حاصل کرنے کا سبب بنتی ہے۔ یہ ہے رُوح کے پھل پیدا کرنے اور رُوح کے موافق چلنے میں کیا خرچ ہوتا ہے۔