خطبات

مضمون 8: رُوح القّدس

[8-20] <یوحنا ۲۱:۲۰ ۔۲۳> وہ جو رُوح القدس کی معمور ی کاتجربہ رکھتے ہیں دوسروں کی بھی رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کر تےہیں

<یوحنا ۲۱:۲۰ ۔۲۳>
”یسوع ؔ نے پِھر اُن سے کہا تُمہاری سلامتی ہو! جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے اُسی طرح میَں بھی تمہیں بھیجتا ہُوں۔ اور یہ کہہ کر اُن پر پُھونکا اور اُن سے کہا رُوح القدس لو۔ جنکے گناہ تم بخشو اُنکے بخشے گئے ہیں۔ جنکے گناہ تم قائم رکھو اُنکے قائم رکھے گئے ہیں۔“
 
 
خُداوند نے راستباز کو کیا اِختیار دیا؟
اُس نے اُنھیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے
کسی کے بھی گناہوں کو معاف کرنے کا اِختیار دیا۔
 
یوحناباب ۲۰ یسوعؔ کے جی اُٹھنے کے بیان پر مشتمل ہے۔ ہمارا خُداوند پھر مردوں میں سے جی اُٹھا اور اپنے شاگردوں سے کہا، ” رُوح القدس لو۔“ یسوعؔ کے شاگردوں نے اُس سے رُوح القدس کی معموری کو ایک نعمت کے طورپر حاصل کِیا۔ یسوعؔ نے رُوح القدس کی معموری اور ابدی زندگی اُن کو دی جو ایمان رکھتے تھے کہ اُس کے بپتسمہ اور خون نے اُن کے تمام گناہ دھو دئیے تھے۔ کتابِ مقد س کہتی ہے یسوعؔ کا بپتسمہ نجات کا مشابہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ اُس کے بپتسمہ نے تمام بنی نوع انسان کو اُن کے گناہوں سے بچایا (۱۔پطرس ۳:۲۱)۔
 
 
کیوں یسوعؔ نے بپتسمہ لیا؟
 
یسوعؔ نے کیوں یوحنا ؔ سے بپتسمہ لیا تھا؟ اِس سوال کا جواب متی ۳:۱۵میں یسوعؔ نے کیا کہا سے واضح طو رپر دیکھا جا سکتا ہے، ”کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔“ یہاں، ”اِسی طرح“ کا مطلب ہے کہ یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا تھا۔ اُس کا بپتسمہ اُسی طریقہ سے پورا ہُوا تھا یعنی جس طرح ہاتھوں کا رکھا جانا پُرانے عہد نامہ کے دَور میں کِیا جاتا تھا۔ اُس کے بپتسمہ کامقصد دُنیا کے گناہوں کو یسوعؔ پر لادنا تھا۔
”ساری راستبازی“ کا کیا مطلب ہے؟ لفظ ”مناسب“ کیا لاگوکرتا ہے؟ ”ساری راستبازی“ کا مطلب ہے کہ یسوعؔ کے لئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہوں کو اُٹھانا مناسب تھا۔ اور ”مناسب“ لاگو ہوتاہے کہ یہ سب خُدا کی نظروں میں مناسب ترین اور دُرست طریقہ تھا۔
یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کے لئے اُنھیں پاک کردیا جو اُس پر ایمان رکھتے تھے۔ یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اور اُن کے گناہوں کی عدالت کے لئے مصلو ب ہُوا۔ یہ گناہ کی معافی کی خوشخبری ہے۔ خُدا کی راستبازی گناہ کی معافی ہے جس نے گنہگاروں کے تمام گناہ مٹا دئیے۔
اگر لوگ یسوعؔ کے بپتسمہ کے بھید کو سمجھتے ہیں جس طرح یہ متی ۳:۱۳ ۔۱۷ میں لکھا ہُوا ہے، وہ گناہوں کی معافی اور رُوح القدس کوبھی حاصل کرنے کے قابل ہوں گے۔ یسوعؔ نے اپنی عوامی خدمت میں کیا کِیا — اُس کا بپتسمہ، مصلوبیت اور جی اُٹھنا—ہمیں نجات کی طرف راستباز راستہ،یعنی جس طرح خُد اکے وسیلہ سے پہلے سے مقرر تھا مہیا کرنا تھا۔ اِس طریقے سے، یسوعؔ تمام گنہگاروں کا سچا نجا ت دہندہ بن گیا۔ اُس کے بپتسمہ اور خون کی خوشخبری نجات کی خوشخبری ہے، جس نے ہمارے تمام گناہوں کو دھو دیا۔
 لوگ رُوح القدس حاصل کر سکتے ہیں صرف جب وہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون کی خوشخبری کو جانتے اور ایمان رکھتے ہیں۔ کیونکہ یسوعؔ کے بپتسمہ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، ہمارے گناہ اُس پر لاددئیے گئے تھے۔ بنی نوع انسان کی جگہ پر صلیب پر اُس کی موت میری ذاتی موت تھی، اور اُس کا جی اُٹھنا میرا ذاتی جی اُٹھناتھا۔ اِسی طرح، یسوعؔ کا بپتسمہ اور صلیبی خون گناہ کی معافی اور رُوح القدس کوحاصل کرنے کی خوشخبری ہے۔
میں اُمید کرتا ہُوں آپ یسوعؔ کے بپتسمہ کی وجہ سیکھیں گے اور خوشخبری پر ایمان رکھیں گے۔ تب، آپ کے گناہ مٹادئیے جائیں گے اور آپ رُوح القدس حاصل کریں گے۔ یسوعؔ نے کیوں بپتسمہ لیا تھا؟ یہ دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانا تھا۔ ”کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔“ (متی ۳:۱۵)۔ آمین، ہیلیلویاہ!
آج، بعض ایمان رکھتے ہیں کہ غیرزبانوں میں بولنا رُوح القدس کو حاصل کرنے کا ثبوت ہے۔ تاہم، اِس کا سچا ثبوت خوبصورت خوشخبری پر قیمتی ایمان ہے جو اُن کے دلوں پر کندہ کِیا گیا ہے جو واقعی رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں۔
 
 
خُداوند نے تمام راستبازلوگوں کو گناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا
                    
خُداوند نے اپنے شاگردوں کو، یہ کہتے ہوئے، گناہ معاف کرنے کا اِختیار دیا، ”جنکے گناہ تم بخشو اُنکے بخشے گئے ہیں۔ جنکے گناہ تم قائم رکھو اُنکے قائم رکھے گئے ہیں۔“ (یوحنا ۲۰:۲۳)۔ اِس سے مراد ہے کہ جب شاگرد وں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کی، سب کے گناہ جنھوں نے سُنا اور ایمان رکھا معاف ہو گئے تھے۔ تاہم، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے وہ کسی کے بھی گناہ، پانی اور رُوح کی خوشخبری پر
اُن کے عقیدہ کے علاوہ معاف کر سکتے تھے۔
یسوعؔ کے شاگرد پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے کسی کے بھی گناہوں کو معاف کرنے کا اِختیار رکھتے ہیں۔ اِس لئے، اگر وہ منادی کرتے ہیں کیا لکھا ہُوا ہے، ہمیں یقینا اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ آپ کو یقینا ایمان رکھنا چاہیے کہ یسوعؔ مسیح نے آپ کو آپ کے تمام گناہوں سے پاک کرنے کے سلسلے میں پانی اور رُوح کی خوشخبری دی۔ صرف تب آپ گناہ کی معافی پا سکتے ہیں اور رُوح القدس کی معموری حاصل کر سکتے ہیں۔ یسوعؔ نے ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کر نے کے وسیلہ سے تمام لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچانے کے لئے اِختیار بھی دیا۔
 
 
دُنیا کے حاکم کی طاقت
 
ماضی میں، جہاں میں رہا کرتا تھا، ہمیں ناہموارسڑک پر بس لینی پڑتی تھی۔ لوگوں کو ایک نکتہ پر بس لے جانی پڑتی اور ایک پہاڑی پر اِسے دھکا لگانا پڑتا تھا۔ ایک دفعہ، کوریا کا صدر اُس سڑک پر ایک تھرمل پاور پلانٹ کے لئے افتتاعی تقریب پر آیا۔ لوگوں نے صدر کو سڑک صاف کرنے اور اِس کی اطراف پر ٹہنیاں رکھنے کے وسیلہ سے خوش آمدید کہا جب اُنھوں نے خبر سُنی۔ جب وہ دن آیا، موٹر سائیکلوں نے راستہ کی راہنمائی کی اور اُن کے پیچھے صدر کی کار آئی۔ لوگوں کا ہجوم اپنے ہاتھوں میں قومی جھنڈوں کے ساتھ اُس سے ملنے کے لئے آیا۔ یہ بتایا گیا کہ صدر نے رائے دی، ”یہ سڑک انتہائی ناہموار ہے، اِسے ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔“ چند دنوں کے بعد، سڑک کو تارکول کے ساتھ ہموار کِیا گیا۔
یہاں کیا واقع ہُوا؟ ایک گزرتے ہوئے صدر کی رائے سڑک کی حالت میں یہ مضبوط تبدیلی پیدا کرنے کے لئے کافی تھی۔ ایک صدر کا حُکم ایسی ایک عظیم طاقت رکھتا ہے۔ تاہم، ہم اچھی طرح واقف ہیں کہ مسیح کے وسیلہ سے ہمیں بخشی کی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری انتہائی زیادہ طاقتور ہے۔ ہمیں یقینا ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ خوشخبری ہماری تمام زندگیوں سے ہمارے سارے گناہوں سے ہمیں آزاد کرنے کی قُدرت رکھتی ہے۔
 
 
گناہوں کو معاف کرنے کا سچا اِختیار
          
”جنکے گناہ تم بخشو اُنکے بخشے گئے ہیں۔ جنکے گناہ تم قائم رکھو اُنکے قائم رکھے گئے ہیں۔“ یسوعؔ کے شاگردوں نے خوشخبری کی منادی کی جس سے اُن کے تمام گناہ معاف کیے گئے تھے۔ اُنھوں نے لوگوں کو بتایا، ”یسوعؔ نے اپنے بپتسمہ اور خون کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو مٹا دیا۔ پریشان ہونے کی کوئی بات موجود نہیں ہے۔ اگرچہ آپ مستقبل میں گناہ کرنے کا مقدر رکھتے ہیں، یسوعؔ نے پہلے ہی تمام تمھارے روز مرّہ کے گناہوں کو اُٹھا لیا اور یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے بعد صلیب پر آپ کے لئے خون بہا دیا۔ یسوعؔ نے آپ کو بچالیا! آپ کو یقینا اِس پر ایمان رکھنا چاہیے “!
گنہگاروں کو یسوعؔ کے شاگردوں کے وسیلہ سے پانی اور رُوح کی خوشخبری سُننے اور ایمان رکھنے کی
معرفت خلاصی بخشی گئی۔یسوعؔ نے اپنے شاگردوں کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ سے گناہ معاف کرنے کا اِختیار عطا کِیا۔ کیونکہ یسوعؔ کے شاگردوں نے دُنیا کے تمام لوگوں تک پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کی، ایماندار گناہ کی معافی حاصل کر سکتے تھے۔ یسوعؔ نے اُنھیں یہ نعمت گناہ معاف کرنے کے اِختیار کے ساتھ ساتھ عطا کی۔
بہت سارے لوگ کتابیں پڑھ چکے ہیں جو میں پہلے شائع کر چکا ہُوں، اور وہ اُنھیں پڑھنے کے بعد اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔بعض نے، حوالہ دیتے ہوئے، ”وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کُچلا گیا۔“ (یسعیاہ ۵۳:۵)اپنے احساس کو تسلیم کِیا کہ یسوعؔ کی صلیب پر مرنے کی وجہ دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے اُس کے بپتسمہ کا نتیجہ تھا۔
 اُس کے جی اُٹھنے کے بعد، یسوعؔ نے اپنے شاگردوں سے کہا، ” رُوح القدس لو۔ جنکے گناہ تم بخشو اُنکے بخشے گئے ہیں۔ جنکے گناہ تم قائم رکھو اُنکے قائم رکھے گئے ہیں۔“(یوحنا ۲۰:۲۲۔۲۳)۔ یسوعؔ نے اُنھیں لوگوں کے گناہوں کو معاف کرنے کا اِختیار عطا کِیا۔
ہم اِس سچائی پر ایمان رکھنے سے پہلے پریشانی، کھوکھلے پن اور گناہ کی وجہ سے بندھے ہوئے تھے۔ تاہم، اب یعنی ہم یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ایمان رکھ چکے ہیں، اور گناہ سے آزاد ہیں، اور ہم دوسروں تک اِس خوشخبری کی منادی کرنے والے لوگ ہیں۔ مزید برآں، ہمارے خُداوند نے اپنے شاگردوں کو سلامتی دی۔ ہمارے خُداوند نے ہمیں بھی سلامتی اور رُوح القدس کی برکت، دی۔ خُد اسے سلامتی اور رُوح القدس حاصل کرنے کے سلسلے میں، ہمیں یقینا یسوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی حاصل کرنی چاہیے۔
ہمیں گناہ سے کیا آزاد کرتا ہے پانی اوررُوح کی خوشخبری پر ایمان ہے۔ یہ رُوحانی ایمان ہے جو ہمارے پاس آسمانی برکات لاتاہے۔لیکن انسان کے ذاتی خیالات پر مبنی من مانی کا ایمان اُس کی تباہی کے لئے راہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خلاصی حاصل کرنی چاہیے اور اِس طرح رُوح القدس حاصل کرنا چاہیے۔ ایسا ایمان رکھنے کے سلسلے میں، ہمیں یقینا ہماری زمینی سوچیں چھوڑنی چاہیے اور ہمارے ایمان کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کی طرف پھیرنا چاہیے۔
 رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے ضروری ایمان رکھنے کے سلسلے میں، ہر شخص کو خوشخبری کو قبول کرنا چاہیے کہ یسوعؔ نے بپتسمہ لیا اور ہمارے لئے مصلوب ہو گیا۔ خُداوند نے ہمیں گناہ کی معافی، سلامتی اور رُوح القدس کی معموری مہیا کی کیونکہ ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ اُس نے اپنے شاگردوں کورُوح القدس کی معموری اور کسی کے بھی گناہوں کو معاف کرنے کا اِختیار بخشا جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا تھا۔
 ہم نے بھی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کو حاصل کیا۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری بہت سارے دوسروں کو یہی کرنے میں مدد دے چکی ہے۔ جب ہم ہمارے ہمسائیوں اور دُنیا تک خوشخبری کی منادی کرتے ہیں، وہ جو اِسے دل سے لیتے ہیں کورُوح القدس عطا کیا جاتا ہے۔اگر خوشخبری جس کی ہم منادی کرتے ہیں لوگوں کو رُوح القدس حاصل کرنے کے قابل نہیں کر سکتی ہے، یہ سچی خوشخبری نہیں ہے۔ دوسری طرف، اگر خوشخبری جس کی ہم منادی کرتے ہیں اُن کی رُوح القدس
حاصل کرنے میں راہنمائی کرسکتی ہے،تو یہ خوشخبری سچی ہے۔
ہمیں ایک ایسی خوشخبری رکھنے کے لئے کتنے بابرکت اور شکر گزار ہونا چاہیے۔ خوشخبری جس کی آپ کے اور میرے وسیلہ سے منادی ہو چکی ہے ایک ایسی کامل اور اونچی خوشخبری ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، ایک شخص کو ڈھونڈنا مشکل ہے جو واقعی جانتا ہے اور اِس خوشخبری پر آج ایمان رکھتا ہے۔ اِس لئے ہمیں یقینا تمام دُنیا تک خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے۔ ہمیں یقینا لوگوں کی رُوح القدس حاصل کرنے میں مدد کرنی چاہیے۔
 
 
وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کا اِنکار کرنے کے لئے شیطان کی معرفت دھوکہ کھاتے ہیں
                    
ہم حتیٰ کہ اُن کی مدد کر رہے ہیں جو پہلے ہی یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں۔ اُن میں سے بہت سارے اب تک رُوح القدس حاصل نہیں کر چکے ہیں حتیٰ کہ گو وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں۔ پس ہم اُن کی خوشخبری کی منادی کرنے کے وسیلہ سے مدد کرتے ہیں اور اِس طرح اُنھیں رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے مدد دے رہے ہیں۔
اگر ایک آدمی رُوح القدس حاصل نہیں کر چکا ہے حتیٰ کہ گو وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے، اُس کے عقیدہ میں کچھ مسائل ہو سکتے ہیں۔ صرف وہ جو یسوعؔ پر اپنے عقیدہ کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں اُن لوگوں کے طور پر خیال کیے جا سکتے ہیں جو سچا ایمان رکھتے ہیں۔ اِس لئے ہمیں یقینا سب ایمان کو قائم رکھنا چاہیے جو ہماری رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کرتا ہے۔ ہمیں یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جاننا چاہیے، کیونکہ صرف اِس خوشخبری کا سچ ہے جو ہمیں رُوح القدس حاصل کرنے کے قابل کرتا ہے۔
 ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں تاکہ دوسرے رُوح القدس حاصل کر سکیں۔ تاہم، وہ جو خوشخبری کی منادی کرتے ہیں بہت ساری مشکلات کا سامنا کر نے کے پابند ہیں۔ بعض مسیحی سوچتے ہیں وہ وقت کے ایک پھیلے ہوئے دَور کے لئے کوششیں کرنے کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل کر سکتے ہیں۔ وہ بہت سارے پریشان کن تجربات رکھتے ہیں جو رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لئے غیر ضروری ہیں۔ بہت سار ا وقت اور قربانی اِس طرح اُنھیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ساتھ روشن کرنے کے لئے ضروری ہے۔
کون پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھے گا اگر کسی نے سوچا کہ کوئی اِس خوشخبری پر ایمان کے وسیلہ سے رُوح القد س حاصل کر سکتا تھا؟ شیطان نے لوگوں کو سچی خوشخبری کے آنے سے پہلے ایک مختلف خوشخبری کے ساتھ دھوکہ دیا۔ ایسے لوگ حیران ہوتے ہیں مزید کیا ایمان رکھنا ہے جبکہ وہ پہلے ہی اپنے آپ کو یسوعؔ کی خوشخبری پر ایمان رکھنے والے خیال کرتے ہیں۔ اِس لئے وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کا اِنکار کرنے اور نفی کرنے کے لئے آتے ہیں۔
آ ج کے دن اور دَور میں بہت سارے لوگ پانی اوررُوح کی سچی خوشخبری کو مکمل طورپر قبول نہیں کرتے ہیں، کیونکہ شیطان پہلے ہی اُنھیں اندھا کر چکا ہے۔ نتیجہ کے طورپر، وہ سوچتے ہیں یسوعؔ پر ایمان رکھنا ایک سادہ کام ہے۔ تاہم، خوشخبری کی سچائی کو مکمل طو رپر سمجھنے کے لئے آنا کسی بھی طرح آسان نہیں ہے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری ایک جھوٹی خوشخبری کے وسیلہ سے ڈھانپی گئی ہے۔
لوگ سوچتے ہیں کہ ہر کوئی آسمان کی بادشاہت میں داخل ہو سکتے ہیں اگر وہ گرجا گھر جاتے اور اِقرار کرتے ہیں کہ وہ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہت سارے ایمان رکھتے ہیں کہ رُوح القدس کی معموری اُن کی ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے، مثلاً دُعا مانگنے اور روزہ، سے عطا ہوتی ہے۔ تاہم، ایسے عقائد رُوح القدس حاصل کرنے کی سچائی سے بہت دُور ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ غیرزبانوں میں بولنا اور دوسرے معجزات رُوح القدس کو حاصل کرنے کے نشانات ہیں۔
 اِس طرح وہ مشکل سے سمجھتے ہیں کہ رُوح القدس حاصل کرنے کے سلسلے میں، یہ پانی اور رُوح کی سچی خوشخبری پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ تاہم، کتابِ مقدس کہتی ہے کہ کوئی شخص صرف خُدا کے
کلام پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل کر سکتا ہے۔ خُد انے رُوح القدس کو حاصل کرنے کا بھید اپنے کلام میں چُھپایا۔
 
 
وہ جو رُوح القدس کی معموری چاہتے ہیں
 
ایک دفعہ میں اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ تائیوان میں گیا۔ وہاں لوگوں نے ہم سے رُوح القدس پر کتابوں کے لئے پوچھا۔ یہی با ت جاپان اور روس میں بھی واقع ہوئی۔ وجہ اِتنے سارے لو گ رُوح کی معموری پر کتابیں چاہتے ہیں یہ ہے کہ آ ج کے لوگ انتہائی دلی طور پر رُوح القدس کی معموری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بہت سارے لوگ یسوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں اور بعض دفعہ پُریقین نہیں ہیں آیا وہ واقعی رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں، کیونکہ وہ رُوح القدس کی معموری نہیں رکھتے ہیں۔
لوگوں کی کثرت موجود ہے جو یسوعؔ پر ایمان رکھتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں۔ تاہم، لوگ جو مستقل طور پر اور ابدیت کے لئے رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں کمیاب ہیں۔ بہت سارے لوگ یسوعؔ پر اپنے ایمان کے باوجود ایسا کرنے کے قابل نہیں ہیں، اور یہ ہے کیوں وہ اب ایسا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
دُنیا کے مسیحیوں کے درمیان، بہت سارے لوگ موجود ہیں جو سوچتے ہیں وہ رُوح القدس کا تجربہ کر چکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں وہ اپنے خوابوں میں یسوعؔ سے مل چکے ہیں، اور بعض دعویٰ کرتے ہیں وہ اُن کے اندر رُوح القدس رکھتے ہیں کیونکہ وہ بدرُوحوں کو نکالنے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اِسی طرح، بہت سارے لوگ موجود ہیں جن کا ایمان شخصی تجربے پر مبنی ہے۔ تاہم، کم ہی لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان کے وسیلہ سے واقعی رُوح القدس کی معموری حاصل کر چکے ہیں۔
میں نے ایک دفعہ اِسے عجیب سوچا کہ اِس دُنیا میں پانی اور رُوح کی خالص خوشخبری پر ایمان کے وسیلہ سے رُوح القدس کی معموری حاصل کرنے پر کتابیں نہیں تھیں۔ بہت سارے لوگ رُوح القدس کے ساتھ اپنے تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں، لیکن رُوح القدس کی معموری پر کتابیں کیوں نہیں ہیں ؟ ایسی کتابیں ڈھونڈنی مشکل ہیں۔ حتیٰ کہ اگر آپ دُنیا بھر میں دور دراز تلاش کرتے ہیں۔
وہ جو غلط طور پر اِصرار کرتے ہیں کہ وہ رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ انسانی
شکل میں حتیٰ کہ یسوعؔ سے مل چکے ہیں اور آسمان کی بادشاہت اور جہنم کی سیر کر چکے ہیں۔ وہ اِصرار کر تے ہیں کہ یسوعؔ نے کہا، ” تم وقت سے پہلے آ چکے ہو۔ تم اپنی دُنیا میں مکمل کرنے کے لئے بہت کچھ چھوڑ چکے ہو، پس واپس جانے کی جلدی کرو جہاں سے تم تعلق رکھتے ہو۔“ ایسا ایک تجربہ ناممکن نہیں ہے۔ تاہم، کیا یسوعؔ جس سے وہ ملے حقیقی یسوعؔ ہو سکتا تھا؟ کیا یسوعؔ اُن سے مل چکا ہو گا جب وہ تب تک اپنے دلوں میں گناہ رکھتے تھے؟ کیا یسوعؔ ایک گنہگار کے اندر سکونت کرتا ہے؟
یہ سچ ہے کہ آج زیادہ تر مسیحی رُوح القدس کی معموری نہیں رکھتے ہیں حتیٰ کہ گو وہ یسوعؔ پر ایمان کا ایک زاویہ قائم رکھتے ہیں۔ اِس لئے ہمیں، وہ جو ہمارے اندر رُوح القدس رکھتے ہیں، کو یقینا خوشخبری کو پھیلانا چاہیے جو دوسروں کی اِس نعمت کو حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کرے گی۔ ہر کسی کو رُوح القدس حاصل کرنے کی ضرورت ہے، اور ایسا کرنے کے سلسلے میں، پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان ازحد ضروری ہے۔ صرف خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کوئی شخص رُوح القدس حاصل کر سکتا ہے۔ سچائی کی خوشخبری کے وسیلہ سے جو ہم سب جانتے ہیں، ہم خُدا سے رُوح القدس کی نعمت حاصل کر سکتے ہیں۔
ہم سب کو یقینا ہمیں خُداوند کا پانی اور رُوح کی خوشخبری دینے کے لئے شکر ادا کرنا چاہیے اور تعریف کرنی چاہیے۔ میں رُوح القدس کی شادمانی کا تجربہ کر چکا ہُوں جب کہ یہ کتاب لکھتے ہوئے وہ مجھ پر چھا گیا۔ جب یہ کتاب شائع ہوگی، بہت سارے لوگ پانی اوررُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے رُوح القدس کی معموری حاصل کریں گے۔ ”کیا تم نے ایمان لاتے وقت رُوح القدس پایا“ (اعمال ۱۹:۲) پولوسؔ نے یہ اِفسسؔ میں ہونے والے شاگردوں سے کہا۔
ہم سب کو یقینا رُوح القدس حاصل کرنا چاہیے۔ عالمگیر مسیحی خاص طو رپر دُنیا کی تاریخ میں اِس پُرشور وقت پر رُوح القدس حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ میں رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے کتابِ مقدس کے مطابق طریقہ کی منادی کر رہا ہُوں بالکل جس طرح رُوح القدس مجھے کرنے کی راہنمائی دیتا ہے۔ ایک مطمئن زندگی گزارنے کے لئے، آپ کو یقینا رُوح القدس کی معموری کی سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے۔ کیونکہ یہ اپنے دل کی گہرائی میں رُوح القدس کو حاصل کرنے کے لئے آپ کا آخری موقع ہے۔
میں خوشخبری پھیلانے کے لئے دباؤ محسوس کرتاہُوں جو ہر کسی کی رُوح القدس حاصل کرنے میں مدد کرتی ہے کیونکہ یسوعؔ مسیح نے مجھے پانی اور رُوح کی خوشخبری دی اور مجھے رُوح القدس کی نعمت کے ساتھ نوازا۔
 
 
غیر قوموں کو بھی یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے
          
کتابِ مقدس کہتی ہے کیسے یسوعؔ کے شاگردوں نے دوسروں کو رُوح القدس کی معموری حاصل کرنے کی اجازت دی۔ حتیٰ کہ غیر قوموں کو رُوح القد س حاصل کرنے کے سلسلے میں شاگردوں کی طرح وہی ایمان رکھنا تھا۔ مزید برآں، غیر قوموں کو، خُدا کی دُنیا میں داخل ہونے کے سلسلے میں خاص طو رپر پانی اوررُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ضرورت تھی، جو شاگرد رکھتے تھے۔ اِس لئے ہمیں، جو غیر قوم ہیں، یقینا رُوح القدس حاصل کرنے کے سلسلے میں سچی خوشخبری پر بھی ایمان رکھنا چاہیے۔ خُدا نے پطرس ؔ کو کُرنیلیسؔ کے پاس بھیجا، جو ایک غیر قوم سے تھا، تاکہ وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ساتھ روشن ہو جائے، جو رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔
یہودی ایماندار سُن کر حیران ہو گئے کہ رُوح القدس کی نعمت غیر قوموں پر بھی نازل ہوئی تھی۔ جب پطرسؔ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنے کے بعد یروشلیمؔ کی کلیسیا میں واپس لوٹا، وہ جو مختون تھے نے اُس پر تنقید کی، ” کہ تُو نامختونوں کے پاس گیا اور اُن کے ساتھ کھانا کھایا۔“ (اعمال ۱۱:۳)۔ لیکن پطرسؔ نے اُن کے لئے شروع سے لے کر ہر چیز کی وضاحت کی۔
 اُس کی وضاحت اعمال ۱۱:۵۔۱۷ میں اچھی طرح قلمبند ہے ۔ ” میں یافاؔ شہر میں
دُعا کر رہا تھا اور بے خودی کی حالت میں ایک رویا دیکھی کہ کوئی چیز بڑی چادر کی طرح چاروں کونوں سے لٹکتی ہوئی آسمان سے اُتر کر مجھ تک آئی۔ اُس پر میں نے جب غور سے نظر کی تو زمین کے چوپائے اور جنگلی جانور اور کیڑے مکوڑے اور ہَوا کے پرندے دیکھے۔ اور یہ آواز بھی سُنی کہ اَے پطرسؔ اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔ لیکن میں نے کہا اَے خُداوند ہرگز نہیں کیونکہ کبھی کوئی حرام یا ناپاک چیز میرے مُنہ میں نہیں گئی۔ اِس کے جواب میں دوسری بار آسمان سے آواز آئی کہ جن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنھیں حرام نہ کہہ۔ تین بار ایسا ہی ہُو ا۔ پھر وہ سب چیزیں آسمان کی طرف کھینچ لی گئیں۔ اور دیکھو! اُسی دم تین آدمی جو قیصریہؔ سے میرے پاس بھیجے گئے تھے اُس گھر کے پاس آ کھڑے ہوئے جس میں ہم تھے۔ رُوح نے مجھ سے کہا کہ تُو بِلا اِمتیاز اُن کے ساتھ چلا جا اور یہ چھ بھائی بھی میرے ساتھ ہو لئے اور ہم اُس شخص کے گھر میں داخل ہوئے۔ اُس نے ہم سے بیان کِیا کہ میں نے فرشتہ کو اپنے گھر میں کھڑے ہوئے دیکھا۔ جس نے مجھ سے کہا کہ یافاؔ میں آدمی بھیج کر شمعوؔ ن کو بُلوا لے جو پطرسؔ کہلاتا ہے۔ وہ تجھ سے ایسی باتیں کہے گا جن سے تُو اور تیرا سارا گھرانہ نجات پائے گا۔ جب میں کلام کرنے لگا تو رُوح القد س اُن پر اِس طرح نازل ہُوا جس طرح شروع میں ہم پر نازل ہُوا تھا۔ اور مجھے خُداوند کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے کہی تھی کہ یوحنا ؔ نے تو پانی سے بپتسمہ دیا مگر تم رُوح القدس سے بپتسمہ پاؤ گے۔ پس جب خُد انے اُن کو بھی وہی نعمت دی جو ہم کو خُداوند یسوعؔ مسیح پر ایمان لا کر ملی تھی تو میں کون تھا کہ خُدا کو روک سکتا؟ “
پطرسؔ نے کہا کہ نہ صرف وہ نامختون آدمیوں کے پاس گیا اور اُن کے ساتھ کھایا، اُس نے اُنھیں خوشخبری بھی سُنائی رُوح القدس کی راہنمائی کا شکر ہو۔ جب اُنھوں نے یہ چیزیں سُنی وہ خامو ش ہوگئے، اور خُدا کے نام کو جلال دیا، جس نے اُن سب کو — کُرنیلیسؔ، اُس کے رشتہ داروں اور اُس کے قریبی دوستوں کو توبہ اور زندگی عطا کی۔
 
 
رُوح القدس کوحاصل کرنے کے لئے رسولی خوشخبری
 
رسولوں کاقبر تک مقصد کیا ہے؟
اُن کے لئے رُوح القدس حاصل کرنے کے سلسلے میں
پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنا۔
 
کیا رسولوں نے واقعی اِسی پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کی؟ ہمیں پہلے یقینا تصدیق کرنی چاہیے آیا پطرسؔ رسول پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا تھا۔ کتابِ مقدس میں، پطرسؔ نے کہا، ”اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوعؔ مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اب تمہیں بچاتا ہے۔“ (۱۔پطرس۳:۲۱)۔ پطرسؔ رسول واقعی ایمان رکھتا تھا کہ یسوعؔ نے تمام گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچایا جب اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مرگیا۔ وہ یہ بھی ایمان رکھتا تھا کہ جب یسوعؔ نے بپتسمہ لیا (متی ۳:۱۵)، تمام گناہ اُس پر لاد دئیے گئے تھے، یعنی وہ مصلوب ہُوا اور بعد میں ہم سب کو بچانےکے لئے
جی اُٹھا۔
 اِن دنوں لوگ موجود ہیں جو پطرسؔ کی طرح وہی ایمان رکھتے ہیں۔ وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو اُسی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں جس طرح پطرس ؔ نے کی۔ یہ سچائی سُننے والوں کو رُوح القدس کی معموری حاصل کرنے کی اجازت دینے کے واسطے کافی ہے۔
بالکل جس طرح بہت سارے لوگوں نے رُوح القدس کو حاصل کِیا جب پطرسؔ نے پانی اور رُوح کی خوشخبر ی کی منادی کی، ہم بھی لوگوں کو خوشخبری پر ایمان رکھتے اور رُوح القدس حاصل کرتے دیکھتے ہیں جب ہم اُسی سچائی کی منادی کرتے ہیں۔ ایک شخص اندھا دُھند ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل نہیں کرتا ہے کہ کوئی شخص آسمان پر جائے گا اگر وہ صرف اپنے خُداوند کے طورپر یسوعؔ پر ایمان رکھتا ہے، بلکہ اِ س کی بجائے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کو حاصل
کرتا ہے۔
پہلے پطرسؔ غیر قوموں کو کیڑوں مکوڑوں سے کچھ زیادہ کے طورپر خیال نہیں کرتا تھا جو زمین پر رینگتے ہیں۔ شریعت کے مطابق، وہ یسوعؔ کے بپتسمہ لینے، صلیب پر مرنے اور جی اُٹھنے سے پہلے ناپاک جانوروں کی مانند تھے۔ تاہم، حتیٰ کہ غیر قوم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کی معموری کے ساتھ برکت یافتہ ہو سکتے تھے۔ پس ایک آواز پطرسؔ کو، یہ کہتے ہوئے، آئی، ”جن کو خُد انے پاک ٹھہرایا ہے تُواُنھیں حرام نہ کہہ۔“ (اعمال ۱۰:۱۵)۔
ہم، غیر قوموں کے طورپر، رُوح القد س حاصل کرنے کے کبھی قابل نہیں تھے لیکن ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے رُوح القدس کی معمور ی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے ذاتی خیالات سے بھرپور لوگوں کے پاس تحمل سے خوشخبری کی منادی کرتے ہیں، اکثر ہم اُنھیں خوشخبری پر ایمان رکھنے کے لئے اور حتمی طو رپر آخر میں رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے آتا دیکھتے ہیں۔ ہم اُنھیں اِقرار کرتے بھی دیکھ سکتے ہیں کہ وہ یسوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ایمان لانے کے بعد اپنے دلوں میں گناہ نہیں رکھتے ہیں۔ صرف تب اُن میں رُوح القدس سکونت کرتا ہے۔
 اِس خوشخبری کی منادی کرنے میں ہمارا مقصد محض دوسروں کو اِسے سمجھنے کے قابل کرنا نہیں ہے ، بلکہ رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے اُن کی راہنمائی کرنا ہے۔ حقیقت کہ وہ جو خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں جس کی ہم منادی کرتے ہیں اپنے تمام گناہوں سے معاف ہوتے ہیں انتہائی اہم ہے۔ اور حقیقت کہ وہ اُسی وقت رُوح القدس کی معموری حاصل کرتے ہیں حتیٰ کہ زیادہ اہم ہے۔ ہم دُنیا کے لوگوں تک صرف خوشخبری کی منادی نہیں کرتے ہیں، بلکہ اِسے ایک قدم اورآگے بھی لے جاتے ہیں اور اُن کی اُسی وقت رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کرتے ہیں۔
ہمیں یقینا اُن کے لئے اِس سیاق و سباق میں پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے جو اِس کے ضرورت مند ہیں۔ اگر ہمیں محض خوشخبری کی منادی کرنے کے بعد رُکنا تھا، ہماری محنتوں کا سارا مطلب ضائع ہو جائے گا۔ ہمیں یقینا باخبر ہونا چاہیے کہ یہ خوشخبری لوگوں کی رُوح القدس کی معموری رکھنے کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔ جب ہم اِسے ذہن میں رکھتے ہوئے خوشخبری کی منادی کرتے ہیں، رُوح
القدس کے شعلے تمام دُنیا میں جنگلی آگ کی مانند پھیل جائیں گے۔
جب ایک مبشر ایمان رکھتا ہے کہ یہ خوشخبری دُنیا کے لوگوں کی رُوح القدس حاصل کرنے میں راہنمائی کر سکتی ہے، وہ گہرائی سے خبردار ہونا محسوس کرتا ہے کہ اُس کی خدمت سادگی سے لوگوں کو یسوعؔ مسیح پر ایمان رکھنے کے لئے راغب کرنا نہیں ہے بلکہ اُنھیں رُوح القدس کی معموری حاصل کرنے میں مدد دینے کے بارے میں ہے۔ اِس لئے ہمارے لئے اِس وقت پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنا انتہائی اہم ہے۔
کسی کو صرف اپنے کانوں کے ساتھ سُننے اور اپنے دل کے ساتھ خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے جس کی ہم رُوح القدس حاصل کرنے کے سلسلے میں منادی کرتے ہیں۔ واضح طورپر، خوشخبری جس کی ہم منادی کرتے ہیں لوگوں کی زندگیوں پر ایک عظیم اثر رکھتی ہے۔ رُوح القدس کی طاقت خُدا کے وسیلہ سے عطا کیا گیا اِختیار اور برکت ہے۔
پطرسؔ یہودیوں کا مبشر تھا، جب کہ پولوسؔ غیر قوموں کا مبشر تھا۔ جب پطرسؔ ایک گھر کی چھت پر دُعا مانگ رہا تھا، اُس نے آسمان کو کُھلا اور ایک بڑی چادر کی مانند چاروں کونوں سے بندھی ہوئی ایک چیز کو اُس پر اُترتے دیکھا۔ اِس میں تمام قِسم کے ناپاک جانور تھے جنھیں کتابِ مقدس نے کھانے سے منع کیا تھا۔
پطرسؔ کبھی کوئی حرام یا ناپاک چیز نہیں کھا چکا تھا۔ تاہم، خُدانے اُسے ذبح کرنے اور اُنھیں کھانے کا حُکم دیا۔ پطرسؔ نے، یہ کہتے ہوئے، انکار کیا، ’’اَے خُداوند ہرگز نہیں کیونکہ کبھی کوئی حرام یا ناپاک چیز میرے مُنہ میں نہیں گئی۔“ اور ایک آوازنے اُس سے کہا، ’ جن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنھیں حرام نہ کہہ۔“ یہ کیا تجویز کرتا ہے؟ خُدا کہہ رہا ہے کہ یسوعؔ نے دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو دیا، حتیٰ کہ غیر قوموں کے گناہوں کو دھو دیا،یعنی جب اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر
مر گیا۔
 اُس کو ذبح کرنے اور ناپاک جانوروں کو کھانے کے لئے خُدا کے حُکم کا رُوحانی مطلب پطرس ؔ کو سکھانا تھا کہ حتیٰ کہ غیر قومیں ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے بیٹے بن سکتے ہیں یعنی یسوعؔ اِس دُنیا میں بھیجا گیا، ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور ا ُن کے لئے پرکھے جانے کے واسطےمصلوب ہُو اتھا۔
 پطرسؔ اب تک ایمان کی رُوحانی آنکھوں کے ساتھ اُنھیں دیکھنے کی بجائے شریعت کے قواعد پر، حتیٰ کہ رُوح حاصل کرنے کے بعدبھی چل رہا تھا۔ لیکن پطرسؔ نے توبہ کی اورایمان رکھا کہ خُدا پہلے ہی حتیٰ کہ غیر قوموں کے گناہوں کو دھو چکا تھا۔ پطرسؔ زیادہ گہرائی سے خوبصورت خوشخبری کی امارت کا احساس کرنے کے لئے آیا۔ اُس نے اپنے سُننے والوں پر رُوح القدس کے نزول کو دیکھا جب اُ س نے خُد اکے کلام کی منادی کی۔
کیسے ہم شناخت کرسکتے ہیں آیا آج کے مبشران رُوح القدس حاصل کر چکے ہیں یا نہیں؟ یہ انحصار کرتا ہے آیا وہ پانی اوررُوح کی خوشخبری کو قبول کرتے ہیں۔وہ شخص جو خوبصورت خوشخبر ی پر ایمان رکھتا ہے جس طرح یہ ہے جب وہ مبشر خُد اکے کلام کی اُسی طرح منادی کرتا ہے تو وہ رُوح القدس کی معموری حاصل کر چکا ہے۔ رُوح القدس جو مبشر کے دل میں سکونت کرتا ہے اُس میں بھی سکونت کرنے کے لئے آتا ہے۔ مبشر اور سُننے والا بچپن کے دوستوں کی مانند ایک دوسرے کے ساتھ شراکت رکھنے کے لئے آئیں گے۔ وہ ایک دوسرے میں خُدا کی محبت کو بسا ہُوا دیکھیں گے۔ مبشر سُننے والے کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کو قبول کرنے کے وسیلہ سے خُداکے لوگوں میں سے ایک کے طورپر دیکھے گا۔
جب ہم خوشخبر ی کی منادی کرتے ہیں، ہم رُوح القدس کو ایمانداروں پر نازل ہوتا دیکھ سکتے ہیں جتنی جلدی وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ نجات سے ایک علیٰحدہ تجربہ نہیں ہے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کیوں ہمیں یقینا پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے۔ خوشخبری جس کی ہم منادی کرتے ہیں واحد ہے جو دوسروں کی رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔
وہ جو رُوح القدس کی معموری رکھتے ہیں خُدا کے بیٹے ہیں۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری کسی فرقہ کی نظریاتی الہٰی تعلیم نہیں ہے، اور اِس لئے جب ہم اِس کی دوسروں تک منادی کرتے ہیں، وہ ایمان رکھنے کے لئے، رُوح القد س حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں اور خُدا کے بیٹے بن جاتے ہیں۔ یہ کتنی عظیم برکت ہے! یہ کیا ہی حیران کن خوشخبری ہے! اور اُس کا کام کتنا شاندار ہے! وہ جو پانی اوررُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں خُدا کی بادشاہت کوتعمیر کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ ہم محض خوشخبری کی منادی کرتے ہیں لیکن وہ رُوح القدس حاصل کرتے ہیں۔
بعض لوگ یسوعؔ پر ایمان رکھنے کو ایک چیز سوچتے ہیں اور رُوح القدس حاصل کرنے کو دوسری چیز۔ اِس لئے، مسیحی اب تک رُوح القدس کے لئے دُعا مانگتے ہیں۔ تاہم، کتاب ِمقدس کہتی ہے کہ رُوح القدس اُن پر آتا ہے جب وہ اُس کے خادمین کے وسیلہ سے منادی کی گئی خوشخبری کو سُنتے اور ایمان رکھتے ہیں۔ تما م دُنیا سے لوگ رُوح القدس کے لئے التجا کر رہے ہیں۔ خوشخبری جس کی ہم منادی کرتے ہیں اُن کی خواہش کو مطمئن کرنے کے لئے راہنمائی کرتی ہے۔ یہ ہے کیوں ہم تمام دُنیا میں خوشخبری کو پھیلانے کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ ہم باپ کے بیٹے اور اُس کے وارث ہیں، جو اُس کے ارشادِ اعظم سے وفادار ہیں۔
ہمیں یقینا ایمان کے ساتھ جب کہ ذہن میں رکھتے ہوئے خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے کہ ہمارا مقصد لوگوں کو رُوح القدس حاصل کرنے کی اجازت دینا ہے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری ایسی چیز ہے جس پر مبشر کو دوسروں تک اِس کی منادی کرنے سے پہلے یقینا حقیقی طو رپر خودایمان رکھنا چاہیے۔ تب اُن کے سننے والے خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے رُوح القدس حاصل کریں گے۔ اِ س طریقے سے،ہم اُن سب میں ابدی زندگی کا سانس دے سکتے ہیں جو خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمارا مقصد اُنھیں تاریکی کی قوت سے چھڑانا اور خُدا کی بادشاہت میں پہنچانا ہے۔ مبشران تاریکی کی قوت کے ماتحت مرنے کا مقدر رکھنے والے گنہگاروں کو خُدا کے بیٹے کی بادشاہت میں منتقل کرتے ہیں۔ گنہگاروں کو خُدا کے بیٹوں میں بدلنا ایک انتہائی اہم کام ہے۔
بہت سارے لوگ رُوح القدس کو حاصل کرنے کی کنجی کو نہیں جانتے ہیں اور اُسے اپنی ذاتی کوشش کے ساتھ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم، یہ بے فائدہ ثابت ہوگا۔ صرف خوشخبری پر ایمان ضروری ہے، کیونکہ ایمان کسی کو تمام گناہوں سے آزاد کرتا ہے۔
آپ نے کیسے رُوح القدس حاصل کیا؟ دُعا کے وسیلہ سے؟ یا شاید ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے؟ نہیں، یہ طریقہ نہیں ہے۔ ہم رُوح القدس حاصل کرتے ہیں صرف جب ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہمیں یقینا دُعا مانگنی چاہیے اور خوشخبری کی منادی کرنی چاہیے تا کہ دُنیا کے
تمام لوگ رُوح القدس حاصل کر سکیں۔
 لفظ ” رسول“ کا مطلب ” خُدا کی معرفت بھیجا ہُوا کوئی شخص“ ہے۔ رسول کیا کرتے ہیں ؟ وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں تاکہ لوگ رُوح القدس حاصل کر سکیں۔ کیا آپ اِسی طرح ہمارے ساتھ ساتھ اِس کام کی ذمہ داری لینا پسند نہیں کریں گے؟ ہم سب کو یقینا رُوح القدس کی معموری رکھنی چاہیے اور تمام لوگوں تک اِس کی منادی کرنی چاہیے۔ ہیلیلویاہ!خوشخبری کے حتمی سچ کی تعریف کریں جو خُدا نے ہمیں رُوح القدس حاصل کرنے کے لئے بخشا!