خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب1-2] <رومیوں ١:١٦- ١٧> خُدا کی راستبازی جو خوشخبری میں ظاہر ہوئی

<رومیوں ١:١٦- ١٧>
”کیونکہ میں انجیل سے شرماتا نہیں۔ اِسلئے کہ وہ ہر ایک ایمان لانے والے کے واسطے پہلے یہودی پھر یونانی کے واسطے نجات کیلئے خدا کی قدرت ہے۔ اِس واسطے کے اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کیلئے ظاہر ہوتی ہے جیسا لِکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔ “
 
 
ضرور ہے کہ ہم خدا کی راستبازی کو حاصل کریں
 
 
پولوس رسول مسیح کی خوشخبری سے شرماتا نہیں تھا۔ اُس نے بڑی دلیری سے خوشخبری کی شہادت دی۔ تاہم ،یسوع پر ایمان لانے کے باوجود بہت سارے لوگوں کےرونے کے اسباب میں سے ایک سبب اُنکے گناہ ہیں۔ یہ اُنکے خدا کی راستبازی کو قبول نہ کرنے کی لا علمی کی وجہ سے بھی ہے۔ہم خدا کی راستبازی پر ایمان لانے اور اپنی انسانی راستبازی کے ایمان کو ترک کرنے کے باعث نجات پا سکتے ہیں۔
کیوں پولوس رسول خوشخبری سے نہ شرماتا تھا؟ اول تو یہ، کیونکہ خدا کی راستبازی اِ س خوشخبری میں ظاہر ہوئی تھی۔
خوشخبری جسکو یونانی میں ’ ایواجیلین ‘ ((euaggelion کہتے ہیں کا مطلب ’ خوشی کی بشارت‘ ہے۔جب یسوع مسیح بیت الحم میں پیدا ہوئے تو خدا کا فرشتہ چرواہوں پر جو رات کو اپنے گلہ کی نگہبانی کر رہے تھے ظاہر ہوا اور بتایا ” عالمِ بالا پر خدا کی تمجید ہو اور زمیں پر اُن آدمیوں میں جن سے وہ راضی ہے صلح۔ “ (لوقا۲:۱۴) یہ خوشی کی بشارت تھی کہ،—’ زمین پر جن آدمیوں سے وہ راضی ہے صلح۔‘ خداوند کی خوشخبری ہمیں سب گناہوں سے مخلصی دیتی اور دنیا کے گناہوں کو دور کر دیتی ہے۔یسوع نے ہمارے سب گناہ دھو ڈالے ہیں۔اُس ،نے آپ خود ، اُن سب کے گناہوں کو جو بدحواسی
کی غلاظت سے بھرے کپڑوں کی طرح گندگی میں پڑے ہوئے تھے اور وہ جو گناہ کی دلدل کی کیچڑ سے بھرے ہوئے تھے کے گناہوں کو دھو ڈالا۔
اَول ،تو پولوس نے کہا کہ خدا کی راستبازی خوشخبری میں ظاہر ہوئی تھی۔خُدا کی راستبازی خوشخبری میں ظاہر ہوئی جوہمارے تمام گناہوں کو مٹا چُکی ہے۔ خدا کی راستبازی ہمیں اِس لائق بناتی ہے کہ مقدس اور راست ٹھہریں۔ یہ ہمیں پاک ٹھہراتی اورابدی زندگی حاصل کرنے کے لائق بھی بناتی ہے۔
انسان کی راستبازی کیاہے ؟ جب ہمارے پاس فخر کرنے کیلئے کچھ ہوتا ہے تو ہم لوگ خدا کے نزدیک اپنے آپ کو نمایاں کرنا پسند کرتے ہیں۔ اگر کوئی اپنے نیک کاموں کے باعث اپنے آپ پر فخر کرتا ہے تو وہ انسانی راستبازی کی شبیہ بناتا ہے۔تاہم یسوع کا راست عمل جس نے ہمیں ہمارے سب گناہوں سے مخلصی دی خدا کی راستبازی کو خوشخبری میں ظاہر ہونے کی اجازت دیتا ہے۔یہی خدا کی راستبازی ہے۔
اِن دِنوں ،اکثر مسیحی خدا کی راستبازی کی خوشخبری سے واقفیت حاصل کرنے کے بغیر ہی انجیل کی منادی کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ، ” اگر آپ یسوع پر ایمان لائیں تو آپ مخلصی پائیں گے اور دولتمند ہو جائیں گے۔“ تاہم، ایسے لوگ خدا کی راستبازی کی منادی نہیں کر رہے ہیں۔ خوشخبری ہر ایک دوسری شے سے زیادہ مشہورو معروف دکھائی تودیتی ہے، لیکن اکثر لوگ جاہل ہیں اور خوشخبری سے ابھی تک بے بہرہ ہیں۔ یہ بالکل اِس حقیقت کی مانند ہے کہ بائبل دراصل سب سے زیادہ بکنے والی کتاب ہے،لیکن لوگ دراصل ابھی تک اِسکی فہرست کو بھی نہیں جانتے ہیں۔ اِس دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی اور سودمند چیز خوشخبری ہی ہے، جو ہمیں خدا سے ملی ہے۔
 ”اِس واسطے کے اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کیلئے ظاہر ہوتی ہے۔ “خدا کی خوشخبری بیابان میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے کُنویں کی مانند ہے۔ یسوع اُن گنہگاروں کیلئے آیا جو گناہ سے بھرے پڑے اور اَن گِنت گناہ کر چکے تھے اور اُن کے سب گناہوں کو ایک ہی بار دھو کر اُن سے دور کر دیا۔ تاہم، لوگ اُسکی اُس راستبازی کے، تحفہ کو رد کر رہے ہیں جس نے دنیا کے گناہوں کو دھو ڈالا،جبکہ اپنی انسانی راستبازی کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ لوگ جو اپنی راستی کو بلند کرنے کی جدو جہد میں (خدمت،اپنے آپکو وقف کرتے، جانفشانی،قربانی، توبہ کی دُعا، خداوند کا دن ماننا، خدا کے کلام کا ترجمہ کرنا) اور اِس طرح کا بہت کچھ تو کرتے ہیں مگر خدا کی اِس نعمت کا انکار کرتے ہیں تو پھر وہ بھی ایسے ہی لوگ ہیں جو اُسکی راستبازی کو رد کر دیتے ہیں۔کوئی بھی خدا کی راستبازی کو صرف تب ہی حاصل کر سکتا ہے جب وہ اپنی انسانی راستبازی کے وسیلہ نجات پانے کے ایمان کو ترک کر دے۔
 
 
اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لباس بنایا
 
پیدائش ۳:۲۱ ،میں لکھا ہے” اور خداوند خدا نے آدم اور اُسکی بیوی کے واسطے چمڑے کے کُرتے بنا کر اُنکو پہنائے۔ “
پہلےآدمی، آدم ،نے شیطان کی مکاری میں پھنسنے کے سبب خدا کے خلاف گناہ کیِا ۔آدم اور حوا نے گناہ میں گرنے کے بعد فی الفور انجیر کے پتوں کو اکٹھا کر کے سی لیا اور اپنے آپکو چھپایا۔ انجیر کے پتوں کو سی کر بنایا گیا لباس چمڑے سے بنائے گئے کُرتوں سے ایک نمایاں فرق رکھتا تھا۔بالکل ایسا ہی فرق ’انسانی راستبازی ‘اور ’خدا کی راستبازی‘ میں ہے۔پیدائش ۳: ۷ ،میں لکھا ہے ” اور اُنہوں نے انجیر کے پتوں کو سی کر اپنے لئے لنگیاں بنائیں۔“ کیا آپ نے کبھی مولی کے پتوں کو آپس میں باندھا ہے؟ ہم کورین لوگ مولی کے پتوں کو مولی سے کاٹتے اور اُنہیں خشک کرنے کیلئے چاولوں کی مونجھی کے بھوسے کے ساتھ باندھ کر رکھتے اور سردیوں میں اِسکے ساتھ ہم پھلی کے پیسٹ کا سالن پکاتے ہیں۔یہ بہت ہی مزیدار ہوتا ہے!
آدم اور حوا نے گناہ میں گرنے کے بعد انجیر کے پتوں کو باندھ کر اپنے لئے لباس بنائے۔اس قسم
کےکام:نیک اعمال،اپنی آزمائش، اپنی قربانی ، انسانی راستبازی پر مشتمل ہیں۔یہ اُنکی اپنی راستبازی ہےنہ کہ خدا کی راستبازی۔حقیقت یہ ہے کہ اُنکا انجیر کے پتوں سے اپنے لباس کو سینا،خدا کے نزدیک ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے نیک کاموں کے ذریعے اپنے گناہوں کو چھپانے کی کوشش کر کے خدا کے نزدیک فخر کر رہے ہیں۔ اپنی راستبازی— اپنے ہدیوں، اپنی قربانی، اپنی آزمائش، اپنی خدمات، اور توبہ کی دُعاؤں کو ایک لباس میں باندھنا اور اپنے طور پر گناہوں کو ڈھانکنایہی وہ ’ بُت پرستی‘ ،ہے جو خدا کے نزدیک کسی کو انسانی راستبازی پر فخر دلاتی ہے۔
کیا ہم اپنے دل کے گناہوں کو انجیر کے پتوں کا لباس سی کرخدا کے نزدیک چھپا سکتے ہیں۔؟ کیا ہم اپنے نیک کاموں کے وسیلہ اپنے گناہوں کو چھپا سکتے ہیں؟ کبھی نہیں۔ پتے تو ایک ہی دن میں گرنا شروع ہو جائیں گے ،اور آخر کار تین دنوں میں سب پتے گر جائیں گے۔ نباتاتی لباس زیادہ دیر پا نہیں ہے۔وہ لوگ جوانجیر کے پتوں کو سی کراپنے لباس بناتے، یعنی، جو خدا کی راستبازی کوچھوڑ کر اپنے نیک کاموں کے ساتھ خدا کی اچھی خدمت کے وسیلہ راستباز ٹھہرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ آسمان کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتے۔ ہم اپنے اعمال کی راستبازی کے باعث گناہوں کی معافی کو حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔
جب آدم اور حوا نے انجیر کے پتوں سے اپنے گناہ کو چھپانے کی کوشش کی تو خدا نے آدم کو پکارا، ” اے آدم تو کہاں ہے۔“ حالانکہ آدم خود کو باغ کے درختوں کے درمیان چھپا رہا تھا اُس نے کہا ” میں ڈرا ،کیونکہ میں ننگا تھا :اور میں نے اپنے آپکو چھپایا۔ “ وہ شخص جو گناہ میں ہے خود کو درختوں میں چھپانے کی کوشش کرتا ہے درختو ں کی کثرت بائبل میں آدمیوں پر دلالت کرتی ہے۔وہ جو دل میں گناہ رکھتا ہے اپنے آپکو لوگوں کے درمیان چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی درمیان والی جگہ پر بیٹھنا پسند کرتا ہے، نہ ہی تو وہ بہت پیچھے بیٹھے گا اور نہ ہی گرجاگھرمیں آگے بیٹھنا پسند کرتا ہے جہاں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں _کیوں؟ کیونکہ وہ اپنے آپکو لوگوں کے درمیان چھپانا چاہتا ہے۔
تاہم، وہ خدا کے نزدیک اپنے گناہوں کو چھپا نہیں سکتا۔اُسکے نجات پانے کیلئے ضرور ہے کہ اُسکے گناہ اُسکی اپنی راستبازی کو ترک کرنے اور خداوند کی راستبازی پر ایمان لانے کے باعث معاف ہوں۔ وہ جو غیر واضح ایمان رکھتے ہیں اور سچائی پر ایمان نہیں رکھتے اور آسمان کی بادشاہت میں بھی داخل ہونا چاہتے ہیں، اپنے آپکو اِسطرح کے لوگوں کے درمیان چھپاتے ہیں، لیکن اُنکا انجام بھی اُن کی طرح دوزخ ہو گا جو اپنے نیک کاموں کے باعث اپنے گناہوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خدا کے سامنے گنہگاروں کو گنہگاروں کے طور پر ظاہر ہونا ہے اور خود کو خدا کے حوالے کرنا ہے۔
خدا نے آدم کو جس نے انجیر کے پتوں کا لباس بنایاکہا ” کیوں تو نے پھل کھایا؟کس نے تجھے یہ پھل کھلایا؟ “ آدم نے جواب دیا، ” اے خدا جس عورت کو تو نے میرے ساتھ کیِاہے، اُس نے مجھے اُس درخت کا پھل دیا اور میں نے کھایا۔ “ ”اے حوا ،تو نے یہ کیا کیِا؟ “ ” عورت نے کہا سانپ نے مجھے بہکایا ،اور میں نے کھایا۔ “ پس خداوند خدا نے سانپ سے کہا ” اِس لئے کہ تو نے یہ کیِا تو سب چوپایوں اور دشتی جانوروں میں ملعون ٹھہرا تو اپنے پیٹ کے بل چلے گا اور عمر بھر خاک چاٹے گا۔ “ یہی وجہ ہے کہ سانپوں کے پیٹ زمین پر کھسکتے ہیں ۔پھرخدا نے آدم اور حوا کو بتایا ” تم نےبھی گناہ کیِا۔تم نے فریب میں آکر گناہ کیِا اِس لئے تم بالکل گنہگاروں کی طرح گنہگار بلکہ گناہ کے سرغنہ ٹھہرے ہو۔“ آج کل ،جھوٹے انبیاء اپنی جھوٹی خوشخبریاں بھی یہ کہتے ہوئے پھیلا رہے ہیں۔ ” آگ کو پائیں! “ وہ لوگ جو اُنکے بہکاوئے میں ہیں اُنکے ساتھ بھی وہی سلوک کیِا جائیگا جو جھوٹے نبیوں کے ساتھ ہو گا اور وہ دوزخ میں جائیں گے۔
 
 
خدا وند نے آدم اور اُسکی بیوی کیلئے چمڑے کے کُرتے بنائے
 
خداوند نے خیال کیِا، ” میں آدم اور حواکو، جنہوں نے شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ کیِا گناہ میں نہ چھوڑوں گا۔ میں نے آدمیوں کو دراصل اپنی صورت پر خلق کیِا اور اُنہیں اپنے بیٹے ہونے کا حق بخشاہے، اِس لئے میں اپنے منصوبہ کو مکمل کرنے کیلئے اِنہیں مخلصی دونگا۔“ یہ منصوبہ خدا میں تھا۔ اِسلئے ،خدا نے اُنکے گناہوں کو ایک جانور پر لادا، اور جانور کو ذبح کیِا، اُسکی کھال سے لنگیاں بنائیں اور آدم اور حوا کو اُن لُنگیوں سے مُلبس کیِا۔ اُس نے ہماری نجات کیلئے یہی علامت ٹھہرائی۔ در حقیقت ،نباتاتی لباس جو انجیر کے پتوں کا بنا یا گیا ایک دن کیلئے بھی کافی نہ تھا، اور اِسے بار بار مرمت کروانا پڑتا۔ خدا آدم اور حوا کو یہ کہتے ہوئے ابدی زندگی سے مُلبس کرتا ہے، ” اے آدم اور حوا ،تم باہر آ جاؤ، میں نے تمہارے لئے ایک جانور کی کھال کے کرُتے بنائے ہیں کہ تمہیں اِس سے مُلبس کروں۔ یہ اُس جانور کی کھال کے کرُتے ہیں جو تمہارے لئے ذبح ہوُا ۔“ خداوند نے آدم اور حوا کو چمڑے کے کرُتے پہنائے جو آدم اور حوا کو نئی زندگی دینے کیلئے خدا کی راستبازی کے وسیلہ مبارک ٹھہرائے گئے تھے۔خداوند خدا نے آدم اور اُسکی بیوی حوا کیلئے چمڑے کے کرُتے بنائے اور اُنہیں پہنائے، اِسی طرح خدا ایمانداروں کو راستبازی کی نجات سے مُلبس کرتا ہے۔
تاہم ،انسان کی نجات جو خدا کی مہیا کردہ مخلصی سے جدا ہو گئی تھی انجیر کے پتوں سے بنے ہوئے نباتاتی لباس تھی۔ خدا نے ہمیں چمڑے کے کرُتوں سے مُلبس کیِاہے، جوکہ خدا کی راستبازی ہے۔ خداوند نے ہمیں اپنے جسم اور خون کے وسیلہ گناہوں کی معافی کے ذریعے خدا کی راستبازی سے مُلبس کیِا ہے۔ اُس نے اپنے بپتسمہ کے ذریعے ہمارے سب گناہوں کو دور کیِا اور ہمارے گناہوں کی خاطر اُس پر سیاست ہوئی اور وہ مصلوب ہو گیا۔جب ہم خدا کی راستبازی پر یسوع کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ ایمان لاتے ہیں تو خدا ہمیں گناہوں کی معافی سے آراستہ کرتا ہے۔ یہی وہ خوشخبری ہے جو گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے مخلصی دیتی ہے۔
اس دُنیامیں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو خدا کی راستبازی کو رد کرتے، اور اپنی راستبازی کو قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اُنہیں اپنی انسانی راستبازی اور خدا کی راستبازی میں امتیاز رکھنا چاہیے۔ رومیوں ۱٠: ۱-٤میں مرقوم ہے، ” اے بھائیو! میرے دل کی آرزو اور اُنکے لئے خدا سے میری دُعا یہ ہے کہ وہ نجات پائیں۔کیونکہ میں اُنکا گواہ ہوں کہ وہ خدا کے بارے میں غیرت تو رکھتے ہیں مگر سمجھ کے ساتھ نہیں۔ اِسلئے کہ وہ خدا کی راستبازی سے ناواقف ہو کر اور اپنی راستبازی کو قائم کرنے کی کوشش کر کے خدا کی راستبازی کے تابع نہ ہوئے۔ کیونکہ ہر ایک ایمان لانے والے کی راستبازی کے لئے مسیح شریعت کا انجام ہے۔ “
اسرا ئیلی اپنی راستبازی کو قائم کرنے کے لئے شریعت پر زور دیتے ہیں، جبکہ وہ خدا کی راستبازی سے ناواقف ہیں۔خدا نے آدمیوں کو شریعت اِس لئے عطا کی کہ وہ گناہ کو پہچانیں۔ لوگ دس احکام کے وسیلہ گناہ کو جان چکے ہیں اور اُسکی نجات کی راستبازی پر ایمان لانے سے گناہوں سے خلاصی پا گئے ہیں، جو خیمہ گاہ کے قربانی کے نظام کے وسیلہ اُنکو گناہوں سے بچاتی ہے۔ اسلئے ،خیمہ گاہ کی قربانی نئے عہد نامہ میں یسوع کے بالکل خدا ہونے کی نمائندگی پر دلالت کرتی ہے۔ تاہم، اسرائیلی خدا کی اِس راستبازی سے غافل ہیں۔
 
 
کیوں یسوع نے بپتسمہ لیِاتھا؟
 
یسوع نے کیوں بپتسمہ لیا تھا؟یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یسوع کو اسلئے بپتسمہ دیا تاکہ اِس دنیا کے سب گناہوں کو دور کر دے۔یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کو بپتسمہ پانے سے چند لمحے پہلے بتایا کہ ، ” اَب تو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنامناسب ہے “ (متی ۳:۱۵)۔ یسوع کے بپتسمہ لینے کا یہی سبب تھا۔اُس نے بپتسمہ لیا تاکہ وہ بنی نوع انسان کے گناہوں کو دھو سکے۔ اُس نے بپتسمہ پانے کے وسیلہ اِس دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا۔ ” دیکھو یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے “ (یوحنا ۱:۲۹)۔ اُس نے گناہوں کو اپنے اوپر لاد لیِااور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کیلئے مصلوب ہو گیا۔ تاہم، اسرائیلی ابھی تک ایمان نہیں لائے کہ یسوع گنہگاروں کا کامل نجات دہندہ بن گیا ہے۔
اسرائیلیوں نے اپنے آپکو خدا کی راستبازی کے سپرد نہیں کیا ،لیکن ہر ایک ایمان لانے والے کیلئے یسوع شریعت کا انجام ہے۔ شریعت کے انجام کا مطلب ہے کہ یسوع نے دنیا کے تمام گناہوں کو دور کر دیا۔ شریعت کی لعنت سے سب ایمانداروں کو پاک ٹھہرانے کیلئے مسیح کی عدالت ہوئی تھی۔ اُس نے شریعت کی لعنت کو ختم کر دیا۔ اُس نے سب لوگوں کو اُنکے گناہوں سے آزاد کر دیا۔ یسوع نے ساری انسانیت کے گناہوں کو دور کرنے کیلئے بپتسمہ لیِاتھا۔ اُس نے دنیا کے تمام گناہوں کو اپنے جسم پر لینے کیلئے اِسے یوحنا بپتسمہ دینے والے کے سپرد کیِا کہ وہ اُسے بپتسمہ دے اور اِسکے وسیلہ دنیا کے تمام گناہوں کو اُسکے جسم پر لاد دے۔ اِسطرح اُس نے سب لوگوں کو اُنکے گناہوں سے رہائی بخشی۔ اُس نے شریعت کی لعنت کی عدالت کو بپتسمہ اور مصلوب ہونے کے وسیلہ ختم کیا اور دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا۔اُس نے ہمیں شریعت کی لعنت اور عدالت سے کامل طور پر مخلصی بخش دی ہے۔
یہی شریعت کا انجام اور خدا کی راستبازی کے ذریعے نجات کا آغاز تھا۔ یسوع نے یوحنابپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ پانے اور صلیب پر جان دینے کے ذریعے مکمل طور پر دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا۔کیسے ممکن ہے کہ کوئی یسوع کی راستبازی پرسچائی سے ایمان لاچُکا ہو تو بھی اُسکے دل میں گناہ موجود ہو؟ ” اِس واسطے کہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کیلئے ظاہر ہوتی ہے۔ “ یسوع کا بپتسمہ اور خون خدا کی راستبازی بن گیا ہے۔ خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کیلئے یسوع کے بپتسمہ اور خون پر ایمان لانا ضرور ہے۔
خداکی راستبازی یسوع کے بپتسمہ کے وسیلہ مناسب طور پر پوری ہوئی تھی۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِس پر ایمان لائیں۔پھر ہی آپ اپنے سب گناہوں سے مخلصی پائیں گے۔ گنہگاروں کو راستبازی اِسلئے عطا کی گئی تاکہ یسوع کے بپتسمہ کے وسیلہ پاک ٹھہریں۔مزیدبرآں، یسوع کا مصلوب ہونا خدا کی راستبازی کی عدالت تھا۔ ” مسیح شریعت کا انجام ہے۔“ خدا کی عدالت اُن سب پر آئے گی جنکی شریعت کے اعتبار سے ابھی تک عدالت نہیں ہوئی۔ خدا کی شریعت گناہ کو ظاہر کرتی ہے اور ثابت کرتی ہے کہ گناہ کی مزدوری از خود موت اور جہنم ہے۔اِسلئے ،یسوع کے بپتسمہ اور صلیبی خون نے شریعت کی لعنت کا خاتمہ کر دیا۔ یسوع نے ہمارے سب گناہوں کو دھو کر دور کر دیا اور ساری راستبازی کو پورا کر کے شریعت کو انجام دیا۔
 
 
بیوقوفوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر اُنکے ساتھ تیل نہ لیا
 
آئیں متی۲۵:۱-۱۳ کو دیکھیں یہاں دس کنواریوں کی ایک تمثیل ہے جو اپنے دُلہا یعنی ہمارے خداوند کی راہ دیکھ رہی تھیں۔ آئیں اِس کلام کے ذریعے دیکھیں کہ خدا کی راستبازی کیا ہے۔
” اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کنواریوں کی مانند ہو گی جو اپنی مشعلیں لیکر دُلہا کےاِستقبال کو نکلیں۔ اُن میں پانچ بیوقوف اور پانچ عقلمند تھیں۔ جو بیوقوف تھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر تیل اپنے ساتھ نہ لیا۔مگر عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنی کُپیوں میں تیل بھی لے لیا۔ اور جب دُلہا نے دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں۔ آدھی رات کو دھوم مچی کہ دیکھو دُلہا آگیا! اُسکے استقبال کو نکلو۔اُس وقت وہ سب کنواریاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعلیں درست کرنے لگیں۔ اور بیوقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہم کو بھی دے دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔عقل مندوں نے جواب دیا کہ شائد ہمارے تمہارے دونوں کیلئے کافی نہ ہو بہتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔جب وہ مول لینے جا رہی تھیں تو دلہا آپہنچا اور جو تیار تھیں وہ اُسکے ساتھ شادی کے جشن میں اندر چلی گئیں اور دروازہ بند ہوگیا۔پھر وہ باقی کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں اے خداوند! خداوند! ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ اُس نے جواب میں کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تم کو نہیں جانتا۔پس جاگتے رہوکیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو ۔ “ (متی۲۵:۱-۱۳)
یہ لکھا ہے کہ آسمان کی بادشاہی اُن دس کنواریوں کی مانند ہے جو اپنی مشعلیں لیکر دلہا کے استقبال کو نکلیں۔ مگر اُن میں سے کون آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوئیں؟ اُن دس کنواریوں میں سے کون آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوئیں؟ حالانکہ وہ یسوع (دُلہا) پر ایمان رکھتی تھیں تو بھی اُن میں سے کچھ کنواریاں کیوں آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے قابل نہ ہوئیں ؟خدا ہمیں اوپر بیان کی گئی عبارت کے وسیلہ اِس کے بارے بتاتا ہے۔ دس میں سے پانچ کنواریاں بیوقوف تھیں اور دوسری پانچ عقلمند تھیں۔جو بیوقوف تھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر اُنکے ساتھ تیل نہ لیا۔ مشعل سٹینڈ ’گرجاگھروں‘ کیلئے استعمال ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کے انہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں مگر اُنکے ساتھ تیل نہ لیا یہ اُن لوگو ں کو پیش کرتا ہے جو روح القدس کے بغیر گرگاگھرجاتے ہیں (تیل بائبل میں روح القدس پر دلالت کرتا ہے)۔
 وہ کیا کا م ہے جو بیوقوفوں نے کِیا؟ انہوں نے اپنی مشعلیں تو لے لیں، مگر تیل نہ لیا۔ایک آدمی نئےسرے سے نہیں پیدا ہوا، حتیٰ کہ وہ یسوع پر ایمان رکھتاہے،شاید جذبے سے گرجا گھر بھی جاتا ہے۔ ہر کوئی یہ کہتا ہے ” واقعی میرے چرچ کا عقیدہ سچا ہے۔ “ ہر ایک مسیحی جو اِس دنیا میں رہتا ہے اِسی طرح کہتا ہے۔ وہ اپنے فرقوں میں بعض کرداروں اور فادرز کو پا کر بڑا فخر کر رہے ہیں۔ وہ جو بیوقوف تھیں اُنہوں نے اپنی مشعلیں ساتھ لے لیں اور تیل اپنے ساتھ نہ لیا ،لیکن عقلمندوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ اپنے برتنوں میں تیل بھی لے لیا۔
انسان کیا ہے؟ انسان خدا کے نزدیک ایک برتن کی مانند ہے۔ وہ مٹی ہے۔ آدمی مٹی سے بنایا گیا۔ اِس لئے انسان ایک برتن ہے، جو خدا کے روح سے بھر سکتا ہے۔ مگر عقلمندوں نے مشعلوں کے ساتھ اپنے برتنوں میں تیل بھی لے لیا۔
 
 
بیوقوف کنواریاں جنہوں نے اپنی مشعلوں کے ساتھ تیل نہ لیا وہ محض اپنے جذبات سے جلتی ہیں
 
 
بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یہا ں لوگوں کے درمیان بیوقوف کنواریاں ہیں جو یسوع پر ایمان تو رکھتی ہیں۔ وہ اپنی مشعلیں تو لے لیتی ہیں ،مگر تیل نہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ وہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے۔ کیا ایک مشعل تیل کے بغیر جلے گی؟ ہمیں ضرور یہ جاننا چاہیے کہ ایک مشعل قطع نظر اِس کے کہ اُس کے اندر کتنی ہی اچھی لِٹ کیوں نہ ہوتیل کے بغیر تیزی سے جل کر ختم ہو جاتی ہے۔ نئے سرے سے پیدانہ ہونے والے ایمانداروں کے اندر شروع میں خداوند میں بڑھنے کا جذبہ بڑا گرمجوش ہوتا ہے۔ لیکن یہ صرف چار یا پانچ سالوں میں ہی ختم ہو جاتا ہے۔ بعد میں، خداوند کیلئے جلد بڑھنے والی محبت ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ ضرور ہے کہ وہ جانیں کہ اُنہوں نے ابھی تک گناہوں کی معافی نہیں پائی ہے۔
جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے، وہ تیل یعنی (روح القدس)کے بغیر ایسی باتیں کہتے ہیں، ”بہت عرصہ پہلے میں اچھا ایمان رکھتا تھا،پہلے پہل میں بہت اچھاتھا لیکن اَب نہیں ۔تم بھی جلد میری طرح ہو جاؤ گے۔“ وہ جھوٹے انبیاء اور جھوٹے مناد ہیں جو نئے سرے سے پیدا ہونے کے بغیر ہی مذہبی زندگیوں کی راہنمائی کرتے ہیں۔ضرور ہے کہ وہ نجات کا ایمان رکھیں کیونکہ اُن کے ایمان کی بنیاد تیل (روح القدس) پر نہیں ہے۔ اُنکے ایمان کی بنیاد محض اُنکے جذبات پر ہے۔ضرور ہے کہ وہ یسوع مسیح کے پانی اور خون پر ایمان لانے کے ذریعے نجات پائیں اور خدا سے تیل (روح القدس) کو ایک نعمت کے طور پر حاصل کریں۔ مشعل انسان کے دل کیلئے استعمال ہوا ہے۔
اوپر والی عبارت میں کنواریاں دُلہا کی راہ دیکھتی ہیں۔یہاں، ضرور ہے کہ ہم اسرائیلیوں کی ثقافت کے پس منظر کو اچھی طرح سمجھیں۔ وہ شادی کی رسومات رات کو کرتے اور یہ دُلہا کی آمد پر شروع ہوتی تھیں۔پس،ضرورہے کہ دُلہن اپنے دُلہے کا انتظار کرے۔ اسرائیلیوں کی شادی کی رسومات اِسی طرح کی ہُو ا کرتی تھیں۔
” اور دُلہا نے دیر لگائی تو سب اونگھنے لگیں اور سو گئیں۔ “ اور دھوم مچی کہ، ’’ دیکھو دُلہا آگیا “! پھر، دلہن اُٹھی اور اپنے آپکو سنوارا۔جب دس کنواریاں دُلہا کی راہ دیکھ رہی تھیں تو دھوم مچی کہ، ’’دیکھو دُلہا آگیا! “ ” اُس وقت وہ سب کنواریاں اُٹھ کر اپنی اپنی مشعل درست کرنے لگیں اور بیوقوفوں نے عقلمندوں سے کہا کہ اپنے تیل میں سے کچھ ہم کو بھی دے دوکیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں “ احمق ہمیشہ حماقتیں ہی کیِا کرتے تھے۔اُنہیں چاہیے تھا کہ دلہا کے آنے سے پہلے تیل تیار کرچکے ہوتے۔قطع نظر اِس کے کہ مشعل کی لِٹ کتنی کمزور تھی۔ مشعل کی لِٹ تیل کے ساتھ نہیں بجھے گی۔
بیوقوف کنواریاں جن کی مشعلیں تیل کے بغیر تھیں صرف اُن کی مشعلوں کے اندر جو لِٹیں تھیں وہی جلی تھیں۔ اِسکا مطلب ہے کہ محض اُنکے دل بڑھکتے تھے۔ ”میں نئے سرے سے پیدا ہو چکا ہو ں اور نئے سرے سے پیدا ہونے والے شخص کی زندگی گزارتا ہوں اور روح القدس سے بھرا ہوا ہوں“ وہ اِسطرح کہہ کر بے مثال طور پر اپنے دل کو جلاتے ہیں۔ اپنے بچپن میں ہم اپنے کمروں کو روشن کرنے کیلئے مٹی کے تیل سے جلنے والی مشعلیں استعمال کِیا کرتے تھے۔ اگر ہم کاغذ سے لِٹ کو جلاتے تو یہ پلک جھپکتے ہی جل جاتی تھی۔ آگ بہت روشن اور ایک فٹ تک بلند ہو جاتی مگر ایک دم ہی بجھ جاتی تھی۔
 بیوقوف کنواریاں جو جہنم میں جاتی ہیں ایسی ہیں جو اپنے دلوں کو(جذبات) تیل کے بغیر جلاتی اور
 جب وہ خداوند کے سامنے حاضر ہونگی تو اُنکے ایمان کی آگ بجھ چکی ہوگی۔ کیونکہ روح القد س اُن میں نہیں بسا ہُوا۔ اگرچہ اُن میں روح القدس نہیں تو بھی وہ خیال کرتے ہیں کے اُنکا ایمان درست ہے۔ جیسا کہ ایک گیت کے بول ہیں ” ♫آ۔۔ تو آگ کے روح۔۔آ۔♫ “ وہ بڑی کھلبلی میں ہیں۔ پھر ایک عورت خوب ناچتی ہے (وہ کہتے ہیں کہ روح القدس ناچ رہا ہے) اپنی چھاتیوں کو پھڑپھڑاتے ہوئے کہتی ہے ”آ۔۔ مہربانی سے آ ۔ “ وہ احمق اور پاگل ہیں اگر ہم اپنے نجات دہندہ کے نزدیک ابھی تک پاک نہیں تو پھر ضرور ہم بیوقوف کنواریوں کی مانند ہیں۔ اگر ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں تو بھی اگر گناہ ہمارے دلوں میں ہے، تو ہم بھی اُن بیوقوف کنواریوں کی مانند ہی ٹھہریں گے۔ بیوقوف کنواریوں کی مانند مت بنیں۔
 
 
کیسے خدا ایسی دُلہن سے جو گناہ آلودہ ہے شادی کر سکتا ہے؟
 
 
خداوند قدوس اور پاک خدا ہے۔ دُلہا خدا اور خدا کا بیٹا ہے جو گناہ نہیں رکھتاہے۔ خدا ہمارا دلہا ہے۔تاہم، کیسے آپ خدا کو ملنے کی کوشش کر سکتے ہیں جبکہ آپ پاک ہی نہیں؟ کیا آپ بغیر پاک دل کے ہی خدا سے ملنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ ایک احمقانہ کام ہو گا۔
ہمارا دُلہا یسوع ،اِ س دنیا میں آیا اور دُلہن کو پاک ٹھہرایا۔ اُس نے اپنی دلہن کو بپتسمہ کے وسیلہ اُنکے گناہ دھو کر راست لوگوں میں تبدیل کر دیا۔وہ اُس میں انہیں اپنی دلہن کے طور پر چُنتا ہے۔ جب وقت پورا ہوُا تو اُن میں سے پانچ سے کہا گیا ” مہربانی سے میرے ساتھ چلو “ تاہم، اُن میں سے باقی پانچ ابھی تک اندھیرے میں کھڑی ہورہی تھیں۔ کیسے وہ شادی کی تقریبات میں شامل ہو سکتی ہیں جبکہ اُنکے چہرے تاریک ہیں۔ دلہا آ پہنچا اور کہا، ” اے میرے باپ کے مبارک لوگو آؤ ۔“ بعد کی پانچ دلہنوں کے چہرے اُنکے گناہوں کی وجہ سے سیاہ تھے۔ وہ بڑی غمزدہ تھیں کیونکہ اُنکے گناہ اُنکے دلوں سے جڑے ہوئے تھے۔
کیسے خدا ایک ایسی دلہن سے شادی کر سکتا ہے جو اپنے گناہوں کی وجہ سے ماتم کر رہی ہو؟مگر جو شخص خداوندپر توکل کرتا اور کہتا ہے، ” خداوند مجھے اِسطرح پاک ٹھہرانے کیلئے میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں۔“ تو اِسطرح کا شخص ہی اپنے روحانی دلہا کے ساتھ خوشی میں رہے گا۔ اگرچہ وہ کمزور ہے، تو بھی دلہا نے اُس سے اپنی محبت کی وجہ سے اُسکی سب کمزوریوں اور گناہوں کو دور کر دیا ہے۔ دُلہا عام طور پر سجنے سنورنے کا سامان، ملبوسات، تمام بہترین خوشبویں اور ہا ر سنگھاربھیج کر اپنی دلہن کی راہنمائی کرتا ہے۔پھر ،دلہن اپنے آپکو اُن تمام چیزوں سے آراستہ کرتی ہے تاکہ وہ دُلہا کے استقبال کیلئے تیار رہے۔
ہمارا خداونددُلہا کے طور پر اِس دنیا میں ہماری راہنمائی کیلئے بھیجا گیا تاکہ ہم جو اُس کی دلہن ہیں اُس سے مل سکیں۔ اُس نے اپنا جسم دریائے یردن پر ہمارے گناہوں کی مخلصی کیلئے بخش دیا۔ ” اور کلام مجُسّم ہوُ ا اور فضل اور سچائی سے معمور ہوکر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُسکا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلوتے کا جلال“ (یوحنا۱:۱۴)۔خداوند نے خود ہمارے گناہوں کو دور کر دیاتاکہ ہم خداوند پر ایمان لانے کہ وسیلہ فضل اور سچائی کی معموری اور گناہوں کی معافی پائیں۔ دُلہا نے یردن پر اپنی دُلہن کے گناہ دور کر دیئے۔ خداوند نے صلیب پر اپنی دلہن کی خاطر عدالت برداشت کرنے کے ذریعے اُسے اُسکے سب گناہوں سے مخلصی بخشی۔
 
 
کیا ہم کوششوں اور دولت کے ذریعے روح القدس کو خرید سکتے ہیں؟
 
 
تاہم، جب دُلہا نزدیک تھا تو بیوقوف کنواریوں نے عقلمندوں سے کہا کہ ہمیں بھی کچھ تیل دو کیونکہ ہماری مشعلیں بجھی جاتی ہیں۔ کیا ہم روح القدس کو بانٹ سکتے ہیں؟ کیا ہم روح القدس کو دولت سے خرید سکتے ہیں؟ کیا ہم گناہوں کی معافی کونیک کاموں، آزمائشوں یا مال ودولت سے خرید سکتے ہیں؟ عقلمندوں نے بتایا کہ احیا ئے دین سے روح القدس مول لے لو۔ بیوقوفوں نے خیال کیِا کہ وہ تو پہلے ہی اُن سے مول لے چکی ہیں۔ اُنہوں نے تصور کیِا کہ وہ تیل (روح القّدس) کو دولت سے خرید سکتی ہیں۔وہ سرگرمی سے مذہبی زندگیوں کی پیروی یہ سوچ کر کرتے ہیں کہ اُنکی لمبی عبادات، ہدیے اور اُنکے عقیدے کہ گرجاگھر میں جانا اور بار بار کی دعائیں ہی اُنہیں کچھ دیں گی۔
لیکن قطع نظر، اِسکے کوئی بھی گناہوں کی معافی جو خداوند نے مہیا کی اِس دنیا کی کسی بھی چیز سے خرید نہیں سکتا۔ بیوقوف جب تک خدا کے نزدیک کھڑےرہتےہیں اپنے جذبات کو سرگرم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اُن میں سے پانچ بیوقوف کنواریوں نے ایک مذہبی زندگی کے آغاز کویہ کہتے شروع کیِا، ” میں تیرے پیچھے آؤنگی، میں خدمت میں جانے کیلئے توبہ کی دعا کو پہاڑوں پر جا کر، اور دور جا کر دعا کو پڑھاکرونگی۔ آ ؤاُسکی خدمت کریں،آ ؤ خوشخبری کی منادی کیلئے بیرون ممالک چلیں۔“
آخر کار دُلہا ایک عظیم شور کے ساتھ آپہنچا۔جب دُلہا آ یا تو بیوقوف تیل مول لینے کو چلی گئیں لیکن وہ کنواریاں جنہوں نے گناہوں کی مخلصی کو پا لیِااور تیل (روح القدس) کو اپنے اندر بسا لیِاتھاشادی کی فسح میں شریک ہو گئیں۔دُلہا ہر چیز تیار کرنے کے بعد دُلہن سے ملا۔پھر اُس نے دروازہ بند کر دیا۔ یسوع نے بغیر سوچے سمجھے ہی پانچ کنواریو ں کو نہ چُن لیاِ تھا۔ بائبل میں عدد پانچ کا مطلب’ فضل ‘ ہے۔ پانچ کنواریاں اُنکی علامت ہیں جو فضل کے وسیلہ اپنے گناہوں سے مخلصی پاچکیں اور اُسکے فضل اور راست کاموں پر ایمان لانے کے ذریعے چھٹکارا حاصل کر چکیں ہیں۔ وہ اُن کاموں کو پہچانتی ہیں جو دلہا اُنکے لئے انجام دے چکا ہے ،اور خداوند کی راستبازی پر ایمان رکھتی ہیں جو اُنہیں راستباز ٹھہراتی ہے۔ تاہم ،دوسری کنواریاں آئیں اور کہا، ” خداوند، خداوند ہمارے لئے دروازہ کھول دے۔ “ لیکن اُس نے جواب دیا، ” میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تمکو نہیں جانتا۔“
 
 
جب ہمارے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں توصرف اِسی صورت میں ہم روح القدس کےتحفہ کوحاصل کر سکتے ہیں
 
جو تیل یعنی روح القدس کو اپنے ساتھ نہیں لینگے وہ خدا وند سے نہیں مل سکتے۔ خدا وند صرف اُن کو جو گناہوں کی اصل معافی اور آسمان کی بادشاہت کو اپنے دلوں میں پا چکے ہونگے اور اُن کو جو راستبازی پر ایمان لا کر بڑی بیتابی سے آسمان کی بادشاہت کی راہ دیکھ رہے ہونگے کو اپنے ساتھ لے جائیگا۔ خداوند نے وعدہ کے کلام کے ذریعے بتایا، ” توبہ کرو اور تم میں سے ہر ایک اپنے گناہوں کی معافی کیلئے یسوع مسیح کے نام پر بپتسمہ لے۔“ پھر، گناہوں کی معافی کے بعد کیا واقع ہوتا ہے؟ بائبل مقدس فرماتی ہے ”تو تم روح القدس انعام میں پاؤ گے “ (اعمال۲:۳۸)۔ اگر آپ خدا کی راستبازی کی خوشخبری کو پا لیتے ہیں، تو روح القدس آپکے دل میں بسیرا کریگا اور آپکے دل میں موجود تمام گناہ مٹِ جائیں گے۔ ہم جسمانی طور پر روح القدس کا احساس نہیں کر سکتے۔ تاہم، روح موجود ضرور ہوتا ہے۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم گناہ نہیں رکھتے کیونکہ روح القدس،کلامِ خدا ہمارے دلوں میں بسا ہوُا ہے۔ یہ واقعی موجود ہے۔ جو کوئی خداوند کی راستبازی کو حاصل کر لیتا ہے اگرچہ وہ کمزور ہے تو بھی راستباز ٹھہریگا۔ تاہم، جسکے پاس خدا کی راستبازی نہیں وہ گنہگار ہی رہیگا۔
 
 
اس وقت کے لئے خدا کی راستبازی ظاہر ہوئی ہے
 
 
خداوندپانی اور روح کے وسیلہ آیا۔ اُس نے ہمیں اپنے بپتسمہ کے ذریعے ہمارے سب گناہوں سے رہائی بخشی۔جب اُس نے بپتسمہ لیا تو ہمارے سب گناہوں کی خاطر صلیب پر خون بہاکر بالواسطہ سزا برداشت کرنے کے ذریعے، اُس نے ہمارے سب گناہوں کو دور کر دیا۔یوحنا، پطرس اور پولوس اِن سب رسولوں نے اِسکے متعلق کیا بیان کیِا ہے؟ وہ سب مل کر یسوع کے جسم اور خون کے متعلق بیان کرتے ہیں۔ وہ سب ہی یسوع کے بپتسمہ اور خون کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ متی۳:۱۳-۱۷واضح طور پر یسوع کے بپتسمہ کو بیان کرتا ہے۔ یسوع نے بپتسمہ اسلئے لیا کہ گنہگاروں کو پاک ٹھہرائے اور دنیا کے تمام گناہوں کو یردن پر دھو کر اُن سے دور کر دے۔
آئیں۱ پطرس۳:۲۱پر ایک نظر دیکھتے ہیں، پطرس گواہی دیتا ہے کہ اُس کا بپتسمہ نجات کا مشابہ ہے، ” اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اَب تمہیں بچاتا ہے اُس سے جسم کی نجاست کا دور کرنا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خدا کا طالب ہونا مراد ہے۔ وہ آسمان پر جا کر خدا کی دہنی طرف بیٹھاہے اور فرشتے اور اختیارات اور قدرتیں اُسکے تابع کی گئی ہیں“ (۱ پطر س۳:۲۱-۲۲)۔
یہ لکھا گیا ہے، ” اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ اَب تمہیں بچاتا ہے۔ “ یسوع‘ کا بپتسمہ، جس نے ہمارے سب گناہوں کو اُسکے جسم پر لاد دیا ہماری نجات کو ثابت کرچکا ہے۔ صلیب پر اُسکے خون بہانے کی حقیقت اِس سچائی کو ثابت کرتی ہے کہ اُس کی ہما رے سب گناہوں کی خاطر عدالت ہو چکی ہے۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں جو میں کہہ رہا ہوں۔ اسلئے ،بائبل مقدس بیان کرتی ہے کہ یسوع وہ ہے جو پانی، خون اور روح کے وسیلہ آیا(۱ یوحنا۵:۶-۹)۔یسوع انسانی جسم میں اِس لئے اِس دنیا میں بھیجا گیا تاکہ ہمارے گناہوں کو اُسی طرح اُٹھا لے جیسا کہ سردار کاہن ہارون اپنے لوگوں کے گناہ قربانی کے جانور کے سر پر ہاتھ رکھ کر اُس پر لاد دیتا تھا۔
پانی اُس کا مشابہ ہے جو ہمیں بچاتا ہے: بپتسمہ۔ یہ لکھا ہے کہ اِس سےجسم کی نجاست کا دور کرنا مرادنہیں۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے بعد ہم گناہ نہیں کرتے ۔ ہم یسوع کے بپتسمہ پر ایمان لانے کے ذریعے گناہوں کی معافی حاصل کرتے ہیں۔ پھر، کیا ہم جسمانی طور پر گناہ نہیں کرتے ہیں؟ ہا ں یہ ہم سے ہو جاتا ہے۔بہت سارے لوگ گناہوں کی معافی کو سمجھ ہی نہیں پاتے اور ایسی من گھڑت باتیں کہتے ہیں ”اگر آپ اپنے دل میں گناہ نہیں رکھتے، تو آپ دوبارہ گناہ نہیں کریں گے“ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ بائبل مقدس فرماتی ہے، ” کیونکہ زمین پر کوئی ایسا راستباز انسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے“ (واعظ۷:۲۰)۔جسم ابھی تک کمزور ہے جب تک یہ مر نہیں جاتا یہ کمزور ہی رہتا ہے۔ جب تک یہ مر نہ جائے گناہ کرنا اِس کی خوبی ہے۔ ” اُس سے جسم کی نجاست کا دور کرنا مراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خدا کا طالب ہونا مراد ہے۔“ یسوع کے بپتسمہ اور خون پر ایمان لانے کے وسیلہ خالص نیت سے خدا کا طالب ہونا مراد ہے۔ ہماری خالص نیت ہی اِس حقیقت پر ایمان لانے کے وسیلہ کہ خداوند نے ہمارے سب گناہوں کو اپنے بپتسمہ کہ ذریعے دور کر دیا اور یہی خالص نیت ہی خداوند ہمارے خدا کو نجات دہندہ پکار سکتی ہے۔
 
 
یسوع کا بپتسمہ اور خون ہمارے دِلوں کیلئے روحانی خوراک ہے
 
یسوع کا بپتسمہ اور خون دل کیلئے غذا ہے۔ یسوع کا بپتسمہ دل کی خوراک اور گناہوں کو دور کرنے کا مشابہ ہے۔اِسطرح، پطرس رسول نے کہا کہ بپتسمہ اُس کا مشابہ ہے جو ہمیں بچاتا ہے۔
 آئیں۱ پطرس۱:۲۲-۲۳ کو دیکھیں ” چونکہ تم نے حق کی تابعداری سے اپنے دلوں کو پاک کِیا ہے جس سے بھائیوں کی بے ریا محبت پیدا ہوئی اِسلئے دل و جان سے آپس میں بہت محبت رکھو کیونکہ تم فانی تُخم سے نہیں بلکہ غیر فانی سے خدا کےکلام کے وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے نئے سرے سے پیدا ہوئے ہو۔ “ آمین۔
ہم یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان لانے کے وسیلہ نئے سرے سے پیدا ہوئے اور گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ ہم خدا کے تحریر شدہ کلام پر ایمان لانے کے وسیلہ نئے سرے سے پیدا ہوئے ہیں۔ ’ ہم خدا کے کلام کے وسیلہ جو زندہ اور قائم ہے ‘ نئے سرے سے پیدا ہو چکے ہیں۔ ہیلیلویاہ !نئے سرے سے پیدا ہونا کلام کے وسیلہ واقع ہوتا ہے جو زندہ اور قائم ہے۔ خدا کا کلام ایک ایسا قانون ہے جو پیمائش کے پیمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔یہ نجات کے لئے بے حد اہم ہے۔ خدا کی نجات کا پیمانہ پیمائش کبھی تبدیل نہیں ہوتا ہے۔
یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یوحنا ۱:۲۹میں کہا ” دیکھو! یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔“ خدا کا برّہ جس نے دریائے یردن پر بپتسمہ لیا تھا زندگی کی حقیقی روٹی ہے، جس نے ہمیں اپنے گوشت اور خون کے وسیلہ نجات دی۔
ہم خدا کے کلام پر ایمان لانے کے ذریعے پاک کئے جاتے اور نجات پاتے ہیں۔ بائبل مقدس کہتی ہے ” پس ایمان سننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے “ اور ” اِس واسطے کہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کیلئے ظاہر ہوتی ہےجیسا لکھاہے کہ راستبازاِیمان سے جِیتارہیگا “ (رومیوں۱۰: ۷۱،۱:۱۷)۔ ہم خوشخبری پر ایمان لانے کے وسیلہ راست ٹھہر سکتے ہیں۔
کیا آپ پاک ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو کہیں— آمین— کیا آپ میں کوئی گناہ نہیں ہے؟ یہی خوشخبری، خوشی کی بشارت، اور یونانی میں ” ایواجیلین “ ((euaggelionہے۔خدا کی راستبازی کیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ خداوند اپنے خون اور گوشت کے وسیلہ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ خدا کی راستبازی ہمیں اجازت دیتی ہے کہ پاک بنیں۔ خدا کی راستبازی یہ ہے کہ یسوع،جو گناہ کے بغیر تھا اُس نے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا اور گنہگا روں کی خاطر مصلوب ہو گیاتھا۔ یہ یسوع کا پانی، بپتسمہ ہے جو دنیا کہ سب گناہوں کو دھوتا ہے۔ خدا کی راستبازی اِس حقیقت کے وسیلہ دی گئی کہ یسوع نے بپتسمہ کے وسیلہ اِس دنیا کے سب گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا اور مصلوب ہو گیا۔ خدا کی راستبازی اُس کے بپتسمہ اور موت اور صلیب پر مشتمل ہے ،جو ہماری عدالت کا مشابہ ہے۔ یہ ہے خدا کی راستبازی جو خوشخبری میں ظاہر ہوئی ہے۔