خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب1-4] <رومیوں۱: ۱۷- ۱۸> ر استباز ایمان کے وسیلہ جیتا ہے

<رومیوں۱: ۱۷- ۱۸>
 ”اِ س واسطے کہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کے لئے ظاہر ہوتی ہے جیسا لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔ کیونکہ خدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔“
 
 
 ضرور ہے کہ ہم ایمان سے جیتے رہیں
          
یہ لکھا ہے، ” راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔ “ کیا ہم ایمان کے ذریعے جیتے ہیں یا نہیں؟ وہ راستہ جس سے راستباز جیتا ہےصرف ایمان کا راستہ ہے۔ ایمان راستباز کو زندہ رہنے کی اجازت دیتا ہے۔جب ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو ہم سب چیزوں کے ساتھ چل سکتےاورزندہ رہ سکتے ہیں۔ راستباز صرف ایمان سے جیتاہے۔ لفظ ’ صرف ‘ کا مطلب ہے کہ راستباز کے علاوہ کوئی بھی ایمان سے زندہ نہیں رہ سکتا ہے۔ پھر ،گنہگاروں کے بارے میں کیا ہے؟گنہگار ایمان کے وسیلہ اپنی زندگی نہیں گذار سکتے۔ کیا اب آ پ ایمان سے زندہ ہیں؟ ضرور ہے کہ ہم ایمان سے جیتے رہیں۔
 حقیقی ایمان سے واقفیت کو ایک لمبا عرصہ درکار ہے۔ ضرور ہے کہ ہم اِس بات کو پہچانیں کہ جب ہم خدا پر ایمان رکھتے ہیں تو ہم جیتے ہیں اور جب ہم خدا پر ایمان نہیں رکھتے تو ہم مُردہ ہیں ۔ ضرور
ہے کہ ہم جانیں کہ ایمان سے جیتے رہنا راستباز کا مُقدر ہے۔
پرندوں کے پاس پَر ہوتے ہیں، لیکن اگر وہ اُنہیں استعمال نہ کریں، تو زمین پر اِدھر اُدھر پھرنے والے درندے اُنہیں پکڑ لینگے اور ہلاک کر دیں گے۔ اِسی طرح، راستباز کا مقُدر ایما ن کے وسیلہ جیتے رہنے پر ہے۔ خدا راستباز کو ایمان سے زندہ رہنے کی تقدیردے چکا ہے۔ اگر وہ ایمان سے زندہ رہنے میں ناکام ہو
جائیں، تو اُنکی روحیں مر جائیں گی۔
 ایک مسیحی کی زندگی اور راہِ حق ایمان سے شروع ہوتا ہے۔ کیسے راستبازاِس قابل ہے کہ وہ پانی اور روح القدس کے وسیلہ پیدا ہونے کے بعد معاشرے میں دوسرے راستباز کو پرکھ سکے؟ ہم کو جاننا چاہیے کہ ایمان سے جیتے رہنا ہمارے پاس صرف واحد راستہ ہے۔
کیا آپ راستباز کی اِس زندگی کو سمجھتے ہیں؟ ایمان کے بغیر، ہم مرُدہ ہیں اور مشکلات سے نمٹنے کے لئے ہمارے پاس کوئی قوت نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ،ایمان کے وسیلہ نہیں جیتا اور نہ ہی ایمان کا استعمال کرتا ہے ،تو وہ مشکلات میں گرِا رہتا ہے، اور پھر آخر کار مر جائے گا۔جب کوئی خدا پر ایمان لاتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ ، ” خداوند، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں، “ تو پھر اگر وہ لائق نہیں اور کمزور ہے تو بھی خدا پر ایمان لانے کے وسیلہ زندہ رہ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ خداوند پر ایمان لے آیا ہے اسلئے وہ زندہ رہ سکتا ہے۔جتنا زیادہ وہ اُس پر ایمان رکھتا ہے اُتنی ہی زیادہ خدا اُس شخص کی اور اُسکے کاموں میں مدد کرتا ہے۔
 
 
جب ہم اپنی حدوں کو محسوس کرتے ہیں، تو ہم ایمان کی طرف آتے ہیں۔
 
میری خواہش ہے کہ آپ سوچیں کہ آیا آپ ایمان سے زندہ ہیں یا نہیں۔ایک شخص نئے سرے سے پیدا ہونے کے فوراً بعد ایمان کے وسیلہ نہیں جیتا۔ پہلے پہل وہ حالات کے باعث زندہ رہتا ہے ،پس وہ سیکھ نہیں پاتا کہ کیسے ایمان کے وسیلہ جینا ہے۔کیوں؟ کیونکہ اِس زمین پر ہر کوئی اپنے ہاتھوں اور پاؤں سے کچھ کما نے کے باعث زندہ رہتا ہے، یہ خدا پر ایما ن کے استعمال میں غیر ضروری ہے۔ لیکن جب ہم حیرانگی سے محسوس کرتے ہیں کہ ہم صرف اپنی جسمانی قوت اور جدو جہد کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔ تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم زندہ نہیں رہ سکتے۔ پھر ہم کیسے زندگی کو پا سکتے ہیں؟ ضرور ہے کہ ہم ایمان کا استعمال کریں۔ ہم اُس وقت تک حقیقت میں زندہ نہیں رہ سکتے جب تک ہم ایمان کو استعمال نہ کریں اور خدا پر یقین نہ رکھیں۔
 ضرور ہے کہ ہم ایمان سے جیتے رہیں حتیٰ کہ چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی ،یہ کہنا چاہیے کہ، ” خداوند! میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں، مہربانی سے میری مدد کر۔“ جب ہم معمولی معاملات کے وسیلہ
خدا پر یہ کہتے ہوئے ایمان رکھتے ہیں، ”خداوند! میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں، میرا ایمان ہے کہ تو میری مدد کرتا ہے میں تجھ پر بھروسہ رکھتا ہوں،“ ہم ثابت کرتے ہیں کہ ہم چھوٹے معاملات میں بھی ایمان سے زندہ رہ سکتے ہیں۔
ہم اور زیادہ مضبوطی کا تجربہ کر سکتے ہیں اور جب ہم محض ایمان رکھیں تو ہم اپنی تمام توقعات کو پورا کر سکتے ہیں۔ تاہم، جب ہم خدا پر ایمان نہیں لاتے، تو ہم یہ خاطر میں نہیں لاتے کہ خدا ایسا کریگا،اسلئے ہم بھٹک جاتے ہیں کیونکہ ہم ایمان کا تجربہ نہیں رکھتے۔ اگرچہ یہ مشکل ایمان کے وسیلہ آسانی سے حل ہو سکتی ہے، تو بھی ہم اپنے طور پر اِسے حل نہیں کر سکتے۔ ایمان سے زندہ رہنا سب حالتوں میں خوب ہے اِسلئے ہمیں سیکھنا چاہیے کہ کیسے ایمان کے وسیلہ زندہ رہیں۔
پرانے عہد نامہ میں لوگ ایمان کے وسیلہ زندہ رہتے تھے اور نئے عہد نامہ کے لوگوں کیلئے بھی یہی ہے کہ وہ ایمان کے وسیلہ مخلصی پائیں۔ کیسے ہم اپنی نجات پر توکل کرسکتے ہیں؟ جو کچھ یسوع مسیح نے کِیا کیا ہم اُس پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہر چکے ہیں؟ ہاں، ہم راستباز ٹھہر چکے ہیں۔ جب ہم خدا پر ایمان لانے کے وسیلہ زندگی گذارتے ہیں تو خدا ہماری مدد کرتا ہے۔ سب سے پہلے، خدا پر ایمان رکھیں اور جو کچھ آپ پانا چاہتے اُس کے لئے خداسے پوچھیں اور پھر خدا ہماری مدد کرتا ہے۔جیسا کہ خدا نجات بخشتا ہے، بالکل اُسی طرح خدا دوسری چیزیں بھی عطا کرتا ہے۔ ایمان ہماری زندگیوں کے تمام حصوں میں موجود ہے۔ یہی زندگی ہے۔ راستباز کیلئے زندگی ہی ایمان ہے۔ ایمان زندگی ہے ۔یہ بالکل ایسا ہے جیسا کہ جسم میں خون۔ جب ایک نئے سرے سے پیدا ہونے والا شخص ایمان سے خالی ہے تو اُس کی روح بھی اُسی طرح ہلاک ہوگی جیسا کہ ایک انسان کے جسم سے خون نکال دیا جائے تو وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ہمیں خدا پر ایمان لانا اور اقرار کرنا چاہیے، ” اے خدا، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔ میں ایمان رکھتا ہوں کہ تو
میری مدد کرتا ہے اور میری تمام مشکلات کو حل کرتا ہے۔“
 یہی وہ ایمان ہے جو اپنی ضروریات سے پہلے خدا کی بادشاہی کی تلاش کرتاہے اور بھروسہ رکھتا ہے کہ خدا یقیناً ہماری دعاؤں کا جواب دیگا۔ ہمیں ایمان کے وسیلہ زندہ رہنا چاہیے۔ راستباز صرف ایمان سے ہی زندہ رہ سکتا ہے۔ جو کچھ جسم میں رہتے ہوئے اِس دنیا میں ہمارے پاس ہے وہ سب ایک دن ختم ہو جائے گا۔اور ہمیں یقیناً ایک دن ایسی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اُس وقت، وہ اشد ضروری چیز جو ہمیں درکار ہوتی ہے وہ ایمان ہے، کہ خدا نے ہمیں مخلصی دی ، ہماری مدد کی ،اور یہ ایمان لانا کہ وہ بھلا ہے۔
مزید برآں ،ہمیں یہ ایمان رکھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم جو کچھ دعا کرتے اور تلاش کرتے ہیں اگر تو یہ خدا کےنزدیک مناسب ہے تو وہ سب کچھ خدا ہمیں مہیا کرتا ہے۔ جب ہمارے جسم کی دولت فنا ہو جائے تو ایمان ہمیں اُس کے فضل کے تحت زندگی بسر کرنے کا حق بخشتا ہے۔ خدا پر ایمان لانا ہمارے لئے اُس سب کو قائم کرنے کیلئے جو ہم خدا کے نزدیک اُمید کرتے ہیں ایک متحرکانہ قوت بنتی ہے۔
 
 
ضرور ہے کہ ہم اپنے چھوٹے معاملات میں بھی ایمان کا استعمال کریں
 
ہمیں کیسے زندہ رہنا ہے؟ہمیں اسطرح دُعا کرنی چاہیے۔ ” اے خدا، میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔میں اِس بات میں اور اُس میں کمزور ہوں، اِسلئے خداوند میری مدد کر۔“ میں اپنی خاص کمزوریوں کے بارے میں بات نہیں کر رہا۔ آ ئیں ہم یہ کہتے ہوئے ،ایمان سے زندہ رہیں، ” مجھے اپنے روز مرہ کی زندگی میں اِس کی اور اُس چیز کی ضرورت ہے۔ خداوند مہربانی سے میری مدد کر۔ میرا یہ ایمان ہے کہ تو میرے لئے ضرور ایسا کرے گا۔“ ایک شخص جو ایمان کے وسیلہ زندہ رہتا ہے ضرور ہے کہ وہ روز مرہ کے اِن چھوٹے کاموں سے شروع کر کے خداوند کو ڈھونڈنے کا آغاز کرتا ہے۔مثال کے طور پر ”خداوند،میرے پاس ٹوتھ پیسٹ نہیں ہے۔ مہربانی سے میرے لئے ٹوتھ پیسٹ مہیا کر ۔ میں تجھ پر توکل کرتا ہوں۔“ چنانچہ ہم اِس کا تجربہ کرتے ہیں کہ جب ہمارا یقین اُس پر ہے تو خدا ہمیں جواب دیتا ہے۔
کسِ کے ذریعے گنہگار زندگی بسر کرتا ہے؟ گنہگار اپنے جسمانی قوت کے بَل بوتے پر زندہ رہتے ہیں، مگر راستباز ایمان کے وسیلہ زندہ رہتا ہے۔ جب ہم جانتے ہیں کہ راستباز ایمان کے وسیلہ زندہ رہتا ہے تو ہم ایمان کو اپنی زندگیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم اُس قوت کے وسیلہ جو ہمارے پاس ہے زندہ نہیں رہتے بلکہ ایمان کے وسیلہ۔ کیا آپ اِسے دیکھتے ہیں؟”راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔“ راستباز کی جو اہم ضرورت ہے وہ ایمان ہے لیکن ہم ٖصرف ایمان کے استعمال کی طرف اُس وقت آتے ہیں جب ہمارے وسائل ختم ہونے کو ہوتے ہیں۔
ہم ایمان کی طرف اُس وقت رُخ موڑتے ہیں جب ہم اپنی تمام قوت اور ذرائع کا استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔ تاہم، ہمیں جاننا چاہیے کہ ایمان سے زندگی گزارنا ایک سچائی ہے اور یہ خدا کا حکم ہے ،جسکی بنیاداُسکے اُس وعدہ پر ہے جسکے ہماری زندگیوں میں ہرگز ضرورت ہے۔ ایمان کے وسیلہ زندہ رہیں۔ خدا پر ایمان لائیں اور اُسکی تلاش کریں۔ پھر ہم کو وہ سب کچھ مِل سکتا ہے جسکی ہمیں ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے معاملات سے سیکھنا ہے کہ کیسے ایمان سے زندہ رہنا چاہیے ،پھر آہستہ آہستہ ہمارا ایمان اور زیادہ مضبوط ہوتا جائے گا۔
داؤد نے جاتی جولیت کو ایمان ہی سے ایک پتھراور فلاخن سے ہلاک کِیا ۔ اُس نے جاتی جولیت کو اِس ایمان کے وسیلہ ہلاک کیا کہ خدا اُس کے ساتھ ہے، اُس نے یہ خیال کیا کہ اُس کا توکل خداوند پر ہے اور اُس کو ہلاک کرنا خُدا کی مرضی ہے۔ تب اُس نے جاتی جولیت کو پکارا ، ” اور داؤد نے اُس فلستی سے کہا کہ تو تلوار بالا اور برچھی لئے ہوئے میرے پاس آتا ہے پر مَیں رب الاافواج کے نام سے جو اسرائیل کے لشکروں کا خدا ہے جس کی تو نے فضیحت کی ہے تیرے پاس آتاہوں“(۱سیموئیل۱۷ :۴۵)۔ ایمان کے وسیلہ ہی جب ابراہام ،کو پکارا گیا ،تو وہ اپنی وراثت کو چھوڑ کر اُس طرف چل پڑا جسکو وہ جانتا تک نہ تھا۔
           راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔ یہاں اسی طرح کی اور کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ہم انجیل پر ’ایمان لانے سے جیتے رہیں گے۔ ‘ تاہم،کتنے لوگ اِ س سے آگاہ ہیں کہ ایمان کی زندگی ہی راستباز کی زندگی ہے، اور یہی مسیحیوں کی زندگی ہے؟۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیں اپنی ساری جسمانی قوت اور جائیداد کو جس پر ہماری دنیاوی زندگی کا انحصار ہے کو یکسر چھوڑ دینا چاہیے۔ میں صرف آپ کونصحیت کرتا ہوں کہ کسی زمینی چیز پر ایمان کے وسیلہ زندہ رہنے کے ایمان کو یکسر ترک کر دیں۔ پھر ،کس پر ایمان رکھیں؟ خُدا پر۔جب ہم خُدا کو ڈھونڈتے اور اُس پر ایمان رکھتے تو خُدا ہمارے لئے وہ کا م کرتا ہے جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔ ایمان رکھیں کہ وہ ہماری دُعاؤں کا جواب دیتا ہے اور ایمان رکھیں کہ وہ کلیسیا کا سر ہے۔ کلیسیا میں شامل ہوں اور خدا وند کی خدمت کریں۔کیا آپ ایمان لاتے ہیں؟ ہم ایمان سے جیتے ہیں کیونکہ ہم انفرادی طور پرراستباز ہیں۔
ہمیں اُن سب دنیاوی چیزوں کو ترک کرنا چاہیے جن پر ہم دل سے ایمان رکھتے ہیں۔ ضرور ہے کہ ہم خدا پر ایمان رکھیں ،اور اُسکی تلاش کریں اور اُسے ایمان کے وسیلہ حاصل کریں۔ ضرور ہے کہ ہم ایمان سے جیتے رہیں اور اس کا تجربہ کریں۔ پھر، ہم خداوند کے ساتھ بادشاہی کر سکیں گے اور دنیا کے لوگ ہمارا مذاق نہیں اُڑ اپائیں گے۔ خداوند فرماتا ہے ” تو میرے دشمنوں کے رُوبُرومیرےآگے دستر خوان بچھاتا ہے “ (زبور۲۳: ۵)۔اجرِعظیم پانے کیلئے خدا کے نزدیک
مبارک ٹھہرنا ہے۔ یہ صورتحال کی ترقی کے مطابق زندہ رہنے کے سبب نہیں، بلکہ ایمان کے باعث ہے۔
کیا آپ کبھی ایمان سے زندہ رہ چکے ہیں؟بے شمار لوگوں کو ایمان سے زندہ رہنے کا کبھی تجربہ ہی
نہیں ہوا، لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو جب بھی دعُا کرتے ہیں تو خدا کے کاموں کا تجربہ کرتے ہیں۔ ہمیں اس تجربہ میں بڑھتے رہنا چاہیے، نہ کہ صر ف ایک ہی مرتبہ تجربہ کرنا چاہیے۔ بار بار کرتے رہنا چاہیے ۔ یہ ہے وہ طریقہ جس سے راستباز جیتا رہے گا۔ ہمیں دنیا کی دنیاوی چیزوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے ،بلکہ خدا پر ایمان رکھنا چاہیے۔ یہی راستباز کی زندگی ہے۔ ہمیں اس طرح زندہ رہنا چاہیے۔ صرف ایمان کے وسیلہ ہم زندہ رہ سکتےاورخُدا سے تمام برکات حاصل کر سکتے ہیں۔
 
 
ہمیں خُدا کے سامنے سب سے ضروری ایمان لانا ہے
          
ایمان لانا کافی مشکل تو دکھائی دیتا ہے مگر در حقیقت ،یہ ہے بہت آسان۔ خدا پر اعتقاد رکھنے کے علاوہ کسی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم صرف خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ایمان لانا کافی مشکل ہے، لیکن اصل میں یہ کچھ مشکل نہیں ہے۔ میں اپنے باپ کو ” باپ “ پکارتا ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ میرا باپ ہے کیونکہ وہ واقعی میرا باپ ہے۔ لیکن اُسکے باپ ہونے کا انحصار میرے ذاتی عقیدے پر نہیں ہے ۔ خدا پر ایمان اِسی نقطہ سے شروع ہوتا ہے۔ میں خدا پر اعتقاد رکھتا ہوں کیوں؟ کیونکہ خدا ہمیشہ راستباز کیلئے مسُتعد رہتا، اُن سے محبت رکھتا اور اُن کا باپ اور نجات دہندہ بنا ہے۔ دوسرا ،یہ کہ اگر ہم اُس پر ایمان رکھتے ہیں، تو ہم اُسے اپنی ضروریات بتاتے ہیں بالکل اُسی طرح جیسا کہ ایک بچہ اپنے باپ کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرتا ہے۔ آخر میں ،خدا باپ ہماری سُنتا اور ہمیں جواب دیتا ہے کہ ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔خدا پر ایمان رکھنے کی بنیاد اور آغاز ایسا سادہ اعتقاد ہے۔
ہم ایمان لانے کے وسیلہ زندگی کو حاصل کر چکے ہیں کیونکہ خداوند ہمارا خدا الفا اور اومیگا، ابتدا اور انتہا ہے۔ہم سب کی زندگیاں ایمان سےتعلق رکھتی ہیں۔ہم ایمان کے ذریعے نجات پا چکےہیں اور وہ (خدا) ایمان کے وسیلہ ہماری فکر کرتا ہے۔ یہ ایمان ہی ہے جو ہمیں یہ کہنے کےلائق ٹھہراتا ہے، ” خداوند میں تُجھ پر ایمان رکھتا ہوں مجھے سنبھال اور میری مدد اور حفاظت کر۔“ جب ہم کمزور ہوں اور شیطان کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہوں تو ہم کو کیا کرنا چاہیے؟ہم خدا پر یہ کہتے ہوئے ایمان لا چکے ہیں، ” اے خداوند میں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔“ ہماری سوچ غلط بھی ہو سکتی ہے اور نتیجہ کے طور پر ہو سکتا ہے کہ ہم شیطان کے جال میں پھنس جائیں اور شکست کھا ئیں۔ اِس معاملہ میں، کیونکہ ہم یہ کہتے ہوئے ایمان لاتے اور دُعا کرتے ہیں کہ، ” خداوند مہربانی سے مجھے سنبھال میرا یقین ہے کہ تو مجھے ضرور سنبھالیگا “ اور کیونکہ خداوند ہمارا باپ ہے اِسلئے وہ ضرور ہمیں سنبھالتا ہے۔خدا ہر طرح سے ہماری حفاظت کرتا ہے ، اگر ہم نامناسب دُعا بھی کر بیٹھتے ہیں تو بھی خدا ہر طرح سے ہماری حفاظت کرتا ہے، کیونکہ وہ اچھی طرح سے ہمیں جانتاہے۔ سب سے اہم چیز ایمان ہے۔ یہ بہت سادہ ہے۔ صرف خدا کے مہیا کردہ ایمان کو اپنائیں اور پھر خدا آپ کی ایمان سے ایمان کیلئے راہنمائی کریگا۔یہ بیکارہے اگر ہم ایمان نہیں رکھتے، حتیٰ کہ خُدا وجود رکھتا ہے۔ اگر ہم خداپر ایمان رکھیں توہم ایمان سے جیتے ہیں ۔
 
 
ایمان سے اور ایمان کیلئے
          
 رومیوں۱:۱۷ بیان کرتا ہے، ” اِس واسطے کہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ “ جب ہم اپنے ایمان کا ستعمال بار بار کرتے ہیں، تو ہم ایمان سے جینے والے لوگ کہلاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ اِسے سمجھیں۔اگر ہم خُدا پر ایمان نہیں رکھتے تو خُدا ہمارے لئے کوئی وجود نہیں رکھتا ، حتیٰ کہ اگر وہ حقیقی وجود رکھتا ہو۔ جب آپ ثابت قدمی سے ایمان لائیں کہ خدا وند زندہ خدا ہے اور آپکو نجا ت دے چکا ہے تو آپ اِس ایمان کے ذریعے ایمان تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
جب آپ ایک ایماندار شخص میں تبدیل ہو جاتے ہیں، تو ایمان کے وسیلہ خدا کی سب چیزیں بھی آپ کی ہو جاتی ہیں۔ بائبل مقدس رومیوں۱:۱۷ میں جو آپ کو بتاتی ہے وہ یہ ہے کہ ایمان کی اِبتدااور انتہا ایمان ہے، ” اِس واسطے کہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کیلئے ظاہر ہوتی ہے۔“ اسلئے، اگر ہم خدا پر یہ ایمان لائیں کہ خدا نے ہمیں نجات بخشی ہے تو ہم بھی مخلصی یافتہ اور ایمان کے لوگ ٹھہر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ایمان نہ لائیں تو ہم ایمان کے فرزندنہیں ٹھہر سکتے ہیں۔جب ہم بے مثال طور پر اُس پر ایمان لا کر اِن چیزوں کی تلاش کرتے ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہے تو خدا ہمیں ضرور
جواب دیتا ہے۔
 پولوس رسول رومیوں۱: ۱۷ میں جس موضوع پر بات کرتا ہے اگرچہ یہ عبارت بہت مختصر ہے
تو بھی بہت زیادہ با معنیٰ ہے۔کیا آپ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ راستباز کیسے جیتا ہے؟ ” راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔“ ایمان راستباز کیلئے ہرگز ضروری ہے نہ کہ گنہگاروں کے لئے۔
وہ بنیادی بات جس پر گنہگاروں کو ایمان لانے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ یسوع اُنکا نجات دہندہ ہے۔ چنانچہ ،ہم ،نئے سرے سے پیدا ہونے والے مسیحی، اپنی زندگیوں میں ایمان لا سکتے ہیں۔ کیا جب ہم زندہ ہیں تو ہمیں صرف ایک یا دو چیزوں کی ہی ضرورت ہے؟نہیں۔ یہاں بہت سے کام ہیں جو کرنے کے لئے ہیں گو وہ معمولی ہوں یا غیر معمولی۔ راستباز اپنے سب کاموں میں اپنے ایمان کے وسیلہ جیتا رہے گا۔ کیا آپ اِسکو سمجھ رہے ہیں؟ضرور ہے کہ ہم ایمان سے جیتے رہیں۔ ہم نے ایمان سے نجات پائی اور ایمان کے وسیلہ ہر خطرہ سے محفوظ کئے گئے ہیں۔ جب ہم ایمان سے دُعا کرتے ہیں ،تو خدا ہمیں ضرور جواب دیتا ہے۔یہاں تک کہ اگر ہم کمزور ہیں تو بھی ہمیں ایمان سے زندہ رہنا چاہیے اور دُعا کرنی چاہیے۔شادی سے لےکر انجیل کی منادی تک ،سب باتوں میں ہمیں ایمان کی ضرورت ہے۔ جب ہم کِسی تک خوشخبری کو پہنچاتے ہیں، تو ایمان ہماری راہنمائی کرتا ہے کہ اِس طور پر دُعا کریں۔” اے خدا، میں ایمان رکھتا ہو ں کہ تو نے اِس روح کو نجات دی ہے۔“ ہمیں ہر کام ایمان سے کرنا چاہیے۔
ہم ایمان کے بغیر خوشخبری کی منادی نہیں کر سکتے۔ہم صرف ایمان کے وسیلہ ہی اِس خوشخبری کی منادی کر سکتے ہیں۔جب ہم ایمان کے وسیلہ خوشخبری کی منادی کرتے ہیں تو بہت سے لوگ نجات پاتے ہیں۔کیا آپ نے کبھی ایمان کی زندگی کا تجربہ کیا ہے؟ لوگ اِس بات سے بے خبر ہیں کہ وہ تو ایمان کے بغیر ہی زندگی گذار رہے ہیں جبکہ اُنکو ایمان سے جیتے رہنا ضرور ہے۔ اسلئے، جب مشکلات اُن پر آن پڑتی ہیں تو وہ پتھروں سے اپنا سر ٹکراتے ہیں۔اور جب وہ اپنی تمام قوت کو آزما لیتے ہیں تو پھر وہ کسی اور راستہ کی تلاش کرتے ہیں اور اِس طرح آخر کار وہ ہمیشہ کمزور ہی رہتے ہیں۔ وہ ایمان پر توکل نہیں کرتے اور بغیر مرضی کے جیتے ہیں ،جیسا کہ ایسے شخص کہتے ہیں، ” کیونکہ میں اپنی مرضی سے نہیں جیتا اسلئے میں مر نہیں سکتا۔“
لیکن راستباز اپنی ایمان سے بھری زندگیاں بڑے وثوق اور بیساختگی سے گذارتے ہیں: وہ اعتقاد رکھتے،ڈھونڈتے اور جواب پا لیتے ہیں۔اگر ہم ایمان نہیں رکھتے تو بیہودہ خیالات اور بے اعتقادی آموجود ہوتی ہے۔ پھر ،ہم کلیسیا کے ساتھ چل نہیں سکتے۔ کیسے ہم خداوند کے ساتھ بغیر ایمان کےچل سکتے ہیں؟ کیا ہم جسم پر ایمان رکھ سکتے ہیں؟کبھی نہیں۔ ہم کیسے ایمان رکھ سکتے ہیں؟اگر ہم خدا پر یقین رکھتے نہیں رکھتے تو ہم ایمان سے خالی ہیں۔ ہم کلیسیا کے ساتھ اُس وقت ہی چل سکتے ہیں جب ہم ایمان سے جیتے ہیں، اور ایمان سے زندہ رہنا ایمان کی وجہ سے ہے۔ کیا آپ ایسا دیکھتے ہیں؟ کیا آپ خدا پر ایمان رکھتے ہیں؟ پھر ڈھونڈیں کہ آپکو کِس چیز کی ضرورت ہے۔ خدا پر ایمان رکھیں، تو پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ہمارا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم اِسکو خاطر میں ہی نہیں لاتے کہ ہمیں ایمان سے جیتے رہنا چاہیے۔
میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں جس نے ہماری مدد اور راہنمائی کی کہ ہم اپنی زندگی کا بقیہ ایمان سے گذار سکیں۔