خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب3-1] رومیوں ۳باب کا تعارف

پولوس نے فرمایا کہ لوگوں کی بے وفائی خدا کی وفاداری کو باطل نہیں کر سکتی۔ باب ۲سے اِسی نقطہ پر اپنی بحث کو مرکوز رکھتے ہوئے، پولوس اِس باب میں بھی اِسی نقطہ کو زیر بحث لاتا ہے کہ یہودیوں کو غیر قوموں پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ اس باب میں، پولوس شریعت اور خدا کی راستبازی کے اُس قانون کا مواز نہ کرتا اور جو گنہگاروں کو اِس کی راستبازی حاصل کرنے کے لائق بناتا اور اُنہیں حقیقی زندگی کی طرف لے چلتا ہے کے متعلق بات کرتا ہے۔ اِس باب میں وہ اِس بات پر بھی زور دیتا ہے کہ گناہوں سے نجات ہمارے کاموں کے وسیلہ نہیں، بلکہ خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ ہے۔
پولوس رسول نے فرمایا کہ اگرچہ یہودی اور دوسرے لوگ خدا کی راستبازی پر یقین نہیں رکھتے، تو بھی اُن کی بے اعتقادی خدا کی راستبازی کو باطل نہیں کر سکتی۔خدا جھوٹ نہیں کہہ سکتا، اور اُسکی راستبازی کی وفاداری کبھی باطل نہ ہو گی۔ اِس کا اثر صرف اِس لئے کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہودی اُس کی راستبازی پر ایمان نہیں لائے۔
 خدا کی جس راستبازی کے متعلق پولوس نے منادی کی وہ صر ف لوگوں کی بے اعتقادی کی وجہ سے کبھی کالعدم نہ ہوگی۔ جو کوئی خدا کی اُس نجات پر جو گنہگاروں کو دی گئی ایمان لاتا ہے وہ خدا کی راستبازی کو پالیتا،اور یہ راستبازی کامل ہے اور انسانی اصولوں اور خیالات سے بالاتر ہے۔
پولوس اُن پر خدا کو جھوٹا ٹھہرانے کا الزام لگاتا ہے جنہوں نے اُس کی راستبازی پر یقین نہ کیا۔ خدا نے کہا کہ اُس نے مکمل طور پر لوگوں کو اُن کے گناہوں سے اپنی راستبازی کے وسیلہ نجات بخشی ،لیکن اُنہوں نے اُس کا یقین نہیں کِیا۔اِسلئے، وہ اُسے جھوٹا ٹھہراتے تھے۔تاہم، اُن کی بے اعتقادی خداکی راستبازی کو باطل نہیں کر سکتی۔
 
 
خدا کی راستبازی کیسے ظاہر ہوئی؟
 
وہ جو خدا کی راستبازی پر ایمان نہیں لاتے اُن کو اپنے گناہوں کیلئے عدالت میں آنا ہو گا۔ ہم سب
خدا کی راستبازی کی اُس کی مہیا کردہ نجات کے ساتھ توثیق کر سکتے ہیں۔ وہ جو اُس کی راستبازی پر ایمان لاتے ہیں گناہوں کی معافی اور ابدی زندگی کو حا صل کرتے ہیں۔ اِس لئے ،ہر کوئی خدا کی راستبازی کی وفاداری پر ایمان لانے کے وسیلہ برکت پاسکتا ہے۔
خداکی راستبازی جھوٹی نہیں ،بلکہ سچی ہے۔ خدا کے نزدیک ہر کوئی جھوٹاہے۔ لیکن خدا اپنے وعدوں کے مطابق کام کرتا اور وعدوں کو پورا کرتا ہے۔ اِسلئے، خدا کی وفاداری انسانی بے وفائی پر غالب آتی ہے۔ بنی نوع انسان کو خداکی راستبازی پر یقین رکھنا ہے۔ خدا اپنے کلام کو تبدیل نہیں کرتا،حالانکہ انسان اکثر اپنے رویوں کو اپنی عدالت کی تفصیل کے مطابق تبدیل کر لیتے ہیں۔ خدا نے جو کچھ انسان کو بتایا وہ ہمیشہ اُسے سچا کر دکھاتا ہے۔
رومیوں۳:۵میں بیان کرتا ہے، ” اگر ہماری ناراستی خدا کی راستبازی کی خوبی کو ظاہر کرتی ہے تو ہم کیا کہیں؟ “ انسانی ناراستی خدا کی راستبازی کی خوبی کو ظاہر کرتی ہے۔
 خُداکی راستبازی ہماری کمزوریوں سے مزید ظاہر ہوتی ہے۔جیسا کہ مُندرج ہے کہ، یسوع نے گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے مخلصی دینے کے لئے اپنے آپ سے راست عمل کئے۔ اِس لئے، خدا کی راستبازی لوگو ں کی کمزوریوں کی وجہ سے اور روانگی سے چمکتی ہے۔ یہ حقیقت پانی اور روح کی خوشخبری میں جو کہ خدا کی راستبازی سے بھری ہے پائی جا سکتی ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کیونکہ سب لوگوں سے مرنے کے دن تک دانستہ یا غیر دانستہ طور پر گناہ ہو جاتا ہے،اور خدا کی محبت ان سب گناہوں سے بڑی ہے۔ خدا کی محبت ان کمزور گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے بچاتی ہے۔
ہمارا خداوند دنیا کے سب گناہوں پر غالب آیا اور گناہوں کی معافی کے وسیلہ اپنی نجات کو تمام کیِا۔ کوئی بھی شخص پاک زندگی بسر نہیں کر سکتا۔ جب سے لوگ جہنم کو جاتے تھے، تب سے خدا اپنی محبت سے مجبور ہو کر اُن کی پرواہ کرتا ہے، اور یہی اُس کی راستبازی ہے۔
ہم لوگ اپنے پیدا ہونے کے دن سے ہی جھوٹے اور خدا کے کلام پر ایمان نہ لانے کے سبب سےاُس کی راستبازی کو رد کر دیتے تھے۔ اِس وجہ سے انسان خداکے نزدیک ہلاکت کے دہانے پر ہی تھے کیونکہ اُنکے کام خدا کی نگاہ میں قابلِ قبول نہ تھے۔ لیکن خدا نے ہمیں اپنی محبت کے وسیلہ ہمارے گناہوں سے بچایاکیونکہ اُسے ہم پر رحم آیا۔تمام لوگوں کو جہنم میں جانا تھا کیونکہ وہ شیطان کے دھوکے سےدغاباز ہوئے تھے اور ان سب نے گناہ کیا تھا۔تاہم ،خدا نے لوگوں کو شیطان کے ہاتھ اور تاریکی کی قوت سے چھڑانے کیلئے اپنے اکلوتے بیٹے کو بھیجا۔
پولوس رسول نے کہا کہ ایک انسان ہر روز مناسب رویے کی کوشش کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنی تمام زندگی گناہ کو روک نہیں سکتا ہے۔ مگر، اُس شخص کی برائی خدا کی راستبازی اور محبت کو مزید ظاہر کریگی۔ حقیقت میں ،انسان کے پاس راستبازی نہیں ہے اور اُسے پولوس رسول کی طرح کے ایک پیغمبر کی ضرورت ہے۔ وہ خد اکی راستبازی کو جانتا اور اِسے پا چکا تھا ،اور اِس طرح روح القدس اُس میں بسا ہوُا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اُس کی راستبازی کی منادی کر سکتا تھا۔
 
 
 پولوس جس خوشخبری کی منادی کرتا وہ خدا کی راستبازی پر مُشتمل تھی
          
پولوس جس خوشخبری کی منادی کرتا اُس کا انحصار خدا کی راستبازی پر تھا۔ پولوس نے خوشخبری کی منادی کی کیونکہ خدا نے گنہگاروں سے محبت کی اور اُنہیں اُنکے گناہوں سے مخلصی دی۔ خدا کی مخلصی دینے والی محبت پانی اور روح کی خوشخبری میں پائی جاتی ہے۔ اِس لئے، گناہوں کی معافی خدا پر ہمارے ایمان لانے پر انحصار کرتی ہے۔ تاہم، مُشکل یہ ہے کہ لوگ عام طور پر خیال کرتے ہیں کہ اُنہیں خدا کے نزدیک نجات پانے کیلئے پارسائی کی زندگی بسر کرنی چاہیے۔ انسان اپنی بنیادی طبع پر انحصار کر کے راست نہیں بن سکتا :بلکہ جسمانی اچھائی خدا کی راستبازی کو قبول کرنے کے راستے میں صرف ایک رکاوٹ بنتی ہے۔ لوگوں کو اپنے سے جُڑ ے ہوئے اپنی پارسائی سے زندہ رہنے کے خیالات کو چکنا چور کرنا ہے تاکہ وہ روحانی ختنہ
کی خوشخبری کو جو خدا نے دی قبول کر سکیں۔
کوئی بشر زمین پر حقیقی طور سے پاک نہیں ٹھہر سکتا ہے۔ پھر کیسے گنہگار اپنے سب گناہوں سے نجات پا سکتے ہیں؟انہیں اِس خیا ل کو کہ انہیں نجات پانے کیلئے اچھی زندگیا ں گذارناچاہیے کو پرے پھینک دینا چاہیے۔ بہت سارے لوگ اپنے خیالات اور مرتبہ کو چھوڑنے سے انکار کر دیتے ہیں :اس لئے،وہ مکمل طور پر اپنے گناہوں سے نجات نہیں پا سکتے۔ خدا کی راستبازی ،جو روحانی ختنہ کی خوشخبری میں ظاہر ہوئی ہے ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ کیسے ہماری ناراستی خدا کی محبت کی خوبی کو ظاہر کرتی ہے اور اُس کی محبت کیسی عظیم تھی۔ اِسی وجہ سے ،وہ جو خدا کی راستبازی پر ایمان لاتے ہیں وہ اپنی راستبازی پر فخر نہیں کرتے بلکہ اُس کی راستبازی پر فخر کرتے ہیں۔ راستباز صرف خداکی راستبازی پر فخر کرتے ہیں اور اُس کی راستبازی کو آسمان کی طر ح بلند کر تے ہیں کیونکہ یہ خدا سے علاقہ رکھتی ہے۔
پولوس رسول شریعت کے ماننے والوں کو شریعت کے کردار کی تعلیم دیتا ہے او ر جو ایمان رکھتے ہیں کہ اگر وہ محض اچھے کام ہی کریں تو وہ آسمان میں جائیں گے، لیکن اگر وہ یسوع پر ایمان لانے کے بعدپارسائی کی زندگی بسر نہ کریں، تو وہ خدا کی راستبازی تک کبھی نہیں پہنچ سکتے۔ شریعت ایک شیشے کی مانند ہے جو انسان کے گناہوں کو ظاہر کرتی ہے۔ پولوس تعلیم دیتا ہے کہ لوگ شاہانہ ایمان رکھتے ہیں اور بتاتا ہے کہ اُن کے ایمان غلط ہیں۔ یہ پولوس کی تعلیم ہےخدا کی راستبازی کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔
پولوس اُن سے مخاطب ہے جو جھوٹے اُستادوں کی پیروی کرتے ہیں اور جو یہ نہیں سوچتے کہ وہ یسوع پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز اور پاک ٹھہر سکتے ہیں۔ وہ ایسے بے ایمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ خدا کی راستبازی پر ایمان لائیں اور سزا سے بری ہو جائیں۔ پولوس فرماتا ہے کہ وہ جو یسوع کے پانی اور خون کی نجات پر ایمان نہیں لاتے وہ عدالت کےما تحت ہیں اور چونکہ وہ خداپر ایمان نہیں لاتے، اسلئے اُن کیلئے عدالت میں آنا ہی مناسب ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ گنہگاروں کو خدا کی راستبازی کی طرف رجحان کرنا چاہیے اور خوفناک عدالت سے رہائی پانے کیلئے اُس کی راستبازی کو پا لینا چاہیے۔
 
 
کیونکہ ہم خدا کی راستبازی پر ایمان لائے ہیں تو کیا اِس وجہ سے ہم اور گناہ کر سکتے ہیں
          
ساتویں آیت یہ بیان کر تی ہے، ” اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی اُس کے جلال کے واسطے زیادہ ظاہر ہوئی تو پھر کیوں گنہگار کی طرح مجھ پر حکم دیا جاتا ہے؟ “ اگر ہم پاک کہلاتے ہیں تو پھر کیا ہم گناہ کرنے میں آزاد ہیں؟پولوس اِس نقطہ کو ظاہر کرتا ہے۔ جب سے خدا نے آپ کو اپنی راستبازی کے وسیلہ نجات دی، تب سے کیا آپکو اور زیادہ جھوٹ بولنے کی آزادی دے دی گئی ہے؟ اگر آپ ایسا ایمان رکھتے ہیں، تو پھر آپ کو جاننا چاہیے کہ آپ خدا کی راستبازی سے واقف نہیں اور یہ کہ آپ اُس کی راستبازی پر تہمت لگا رہے ہیں۔
یہاں تک کہ آج ، بہت سے لوگ ہیں جو اپنے دلوں میں خدا کی راستبازی پر تہمت لگاتے ہیں: یہ پرانے وقتوں سے بہت مختلف نہیں ہے۔ پولوس نے تقریباً ۲۰۰۰سال قبل اِس کتا بِ مقدس کو لکھا اور یہاں تک کہ اِس سے پیچھے، یہاں لوگ تھے جو اپنے خیالات میں لپٹے ہوئے تھے۔
آج تک، اکثر مسیحی، جو ابھی تک نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے ،اِسے غلط سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی پاک ٹھہرتا ہے، تو وہ قصداً گناہ کر سکتا ہے۔ وہ جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے، اُن راستبازوں پر جو پانی اور روح کے وسیلہ پیدا ہوئے ہیں، اپنے جسمانی خیالات کے مطابق تہمت لگاتے ہیں اور نئے سرے سے پیدا ہونے والے مقدسین کے بارے ہیں گھٹیا باتیں کہتے ہیں۔ صرف نام کے مسیحی حقیقی طور پر نئے سرے سے پیدا ہونے والے مسیحیوں پر اپنے بے ایمان خیالات سے بہتان لگاتے ہیں۔ حقیقی ایمان انسانی جسم کے وسیلہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ گنا ہ ایسا کام ہے جو آپ سے ساری زندگی ہو جاتا ہے۔ راستبازوں اور ناراستوں دونوں سے یقیناً گناہ ہو جاتا ہے۔ تاہم، وہ جو خدا کو راستبازی کو رد کرتے ہیں گناہ کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں جبکہ وہ جو اِس راستبازی پر ایمان رکھتے ہیں وہ پاک ہیں۔
پولوس نے بے ایمانوں سے کہا، ” اگر بعض بے وفا نکلے تو کیا ہوُا؟ کیا اُنکی بے وفائی خدا کی وفا داری کو باطل کر سکتی ہے؟۔ ہرگز نہیں “ (رومیوں۳:۳۔۴)۔
انسان کی بے اعتقادی صرف اسلئے خدا کی راستبازی کو باطل نہیں کر سکتی کیونکہ وہ اُس پر ایمان نہیں لاتے۔ اگر ایک شخص خدا کی راستبازی پر ایمان لاتا ہے، تووہ نجات یا فتہ ہے۔ تاہم ،اگر ایک شخص ایمان نہیں لاتا ،تو وہ اُس کی راستبازی تک نہیں پہنچ سکتا۔ ہاں ایسا ہی ہے۔ خدا کی محبت ہمیشہ کیلئے قائم و دائم اور اُستوار رہے گی۔ وہ جو یسوع کے بپتسمہ اور خون پر ایمان نہیں لاتے وہ کبھی بھی اپنے گناہوں سے نجات نہیں پا سکتے اور جہنم میں جائیں گے۔ خدا کی راستبازی، جو ایمانداروں کو نئے سرے سے پیداہونے کی طرف لے جاتی ہے،یہ صرف اِس وجہ سے باطل نہ ہو گی کہ لوگ اِس پر ایمان نہیں لاتے ہیں۔
 
 
خدا کی راستبازی کو حاصل کرنا انسانی جدوجہد سے بالاتر ہے
 
ہمارے خدا وند کی راستبازی کا انسانی کوششوں سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ یہ محض ہمارے ایمان کی سچائی سے تعلق رکھتا ہے کہ خدا کی راستبازی ہمارے گناہوں کی معافی ہے۔ ایک شخص جو پانی اور روح کی سچائی پر یقین کرتا ہے وہ ایمان کے وسیلہ خدا کی راستبازی کو پا لیتا ہے، لیکن جو شخص خد ا کی راستبازی پر ایمان نہیں لاتا وہ خدا کے کلام کی سچائی کے مطابق عدالت کا سامنا کریگا۔
اِس لئے ،خدا نے یسوع کو اِس دنیا میں بھیجا اور جو خدا کی راستبازی کے نافرمان ہوئے اُن کیلئے
اُسے ایک ٹھیس لگنے کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹا ن ٹھہرایا۔بہت سارے لوگ ہیں جو رضاکارانہ طورپرجہنم کو پُکارتے ہیں کیونکہ وہ خدا کی راستبازی پر ایمان لانا ہی نہیں چاہتے، اگرچہ یسوع ،ٹھیس لگنے کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان، اُنکا نجات دہندہ جو کہ خدا کی راستبازی ہے انکو بخشا گیا تو بھی وہ اُس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہاں تک کہ بد ترین شخص کو بھی راستبازٹھہرنے اور ابدی زندگی حاصل کرنے کا راستہ دے دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک شخص جو بڑے نیک کام کرتا ہے اگر وہ خدا کی اُس راستبازی پر ایمان نہیں رکھتا جو اُسے گناہوں کی معافی کا حصول دیتی اور نئے سرے سے پیدا کرتی ہے تو ایسا بے ایمان شخص ہلاکت سے نہیں بچ سکتاہے۔
کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے ،ہر کوئی جو گناہ آلودہ ہے وہ عدالت میں آئے گا۔ یسوع اُن سب کیلئے ٹھیس لگنے کا پتھر اور ٹھوکر کھانے کی چٹان ہے جو اپنی راستبازی کو قائم کرنے کی کوشش کرتے اور خدا کی راستبازی پر ایمان لائے بغیر ہی آسمان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِس لئے، لوگوں کی بد حالی کا سبب یہ ہے ،کہ وہ کسی نہ کسی طرح یسوع پر ایمان تو رکھتے ہیں ،لیکن وہ اُس کی راستبازی کا یقین نہیں کرتے۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایسے گنہگار ہیں جن کے گناہ اُنہیں معاف کر دیئے گئے ہیں، لیکن یہاں اِس طرح کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ایسے گنہگاروں کو نجات دے سکے۔ کیسے کوئی گناہوں سے نجات پانے کے بعد پھر دوبارہ گنہگار ٹھہر سکتا ہے؟ اگر کسی کو گناہ سے نجات ملی ہے تو وہ پاک ہے، اور اگر کسی نے گناہوں کی مخلصی کو ابھی تک حاصل ہی نہیں کِیا تو وہ ابھی تک گناہ میں ہی ہے۔ آسمان کی بادشاہی میں ایک بھی گنہگار داخل نہیں ہو گا۔ خدا فرماتا ہے، ” اِس لئے شریر عدالت میں قائم نہ رہیں گے نہ خطاکا ر صادقوں کی جماعت میں “ (زبور۱:۵)۔
لوگ اپنے آپ کو اِس مشکل سوال میں اُلجھا لیتے ہیں کہ وہ کیسے راستباز ٹھہر سکتے ہیں حالانکہ ہم روزانہ گناہ کر رہے ہیں۔ تاہم، اُنہیں اِس کے متعلق پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔خدا کی راستبازی کے وسیلہ راستباز ٹھہرنا صرف اِس وجہ سے ممکن ہُوا کیونکہ خداوند نے پیشتر سے ہی ہمارے گناہوں کو مستقبل کے گناہوں کے ساتھ، دریائے یردن پر اپنے بپتسمہ کے وسیلہ اُٹھا کر صلیب پر اُنکا خاتمہ کر کے خدا کی راستبازی کو پورا کِیا۔ گنہگار محض خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہر سکتے ہیں۔ کیا آپ ابھی تک مقروض ہیں حالانکہ آپ کے تمام قرض ادا کر دئیے گئے ہیں؟
ہمارے خداوند نے ہمارے سب گناہوں کو اپنی راستبازی کے وسیلہ نکال باہر کر دیا ہے۔ قطع
نظر اِس کے کہ وہ کتنے کمزور ہیں خداوند نے اُن کو جو پانی اور روح کی خوشخبری پر مکمل ایمان رکھتے ہیں کامل نجات عطاکی ہے، اسلئے اُن پر سزا کا حُکم نہیں ہے۔ ہم سب خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہر سکتے ہیں۔
 
 
انسانی سوچ ہمیں موت کی طرف لےجاتی ہے
          
انسانی خیالات ہمیں موت کی طرف لے جاتے ہیں اور یہ نفسانی عقل کی پیداوار ہیں۔ روحانی خیالات خدا کی راستبازی پر ایمان لانے سے پیدا ہوتے ہیں۔ شیطان کیلئے یہ ممکن ہے کہ وہ انسانی خیالات پر حکومت کرے۔ بنی نوع انسان کے پاس جسم کے ساتھ گناہ کرنے کے سوا اور کوئی انتخاب نہیں ہے۔ تاہم، ایک شخص جو خدا کی راستبازی پر ایمان رکھتا ہے وہ یسوع کے بپتسمہ اور خون پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہرایا جاتاہے۔ کوئی بھی گناہ کرنے کو نظر انداز کرنے سے راستباز نہیں ہو سکتاہے۔ کوئی بھی مکمل طور پر جسمانی تبدیلی کے وسیلہ پاک ٹھہر کر ایک مقدس مقام تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ایک مسیحی کیلئے یہ خیال کرنا کہ وہ ایک ایسا مقدس شخص ہونے کے ذریعے جوخدا کے نزدیک کبھی گناہ نہیں کرتا آسمان میں داخل ہو سکتا ہے یہ خیال ایک بیوقوفی ہے۔
ہم خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ فی الفور اپنے گناہوں سے چھٹکارہ پا سکتے ہیں۔ مزید برآں، ہر ایک گنہگار اگر وہ پانی اور روح کی خوشخبری کے فضل پر ایمان لاتا ہے، جو ایمانداروں کو نئے سرے سے پیداہونے میں رہبری کرتاہے تو وہ مکمل طور پر اپنے گناہوں سے نجات پا سکتا ہے۔ پاک ٹھہرنا انسانی نقطہ نگاہ سے ناممکن دکھائی دیتا ہے۔تاہم، یہ خدا کے کلام پر ایمان لانے کے وسیلہ ممکن ہے۔ انسانی بدن کے وسیلہ کوئی بھی پاک نہیں رہ سکتا، لیکن اگر کوئی خداکی راستبازی پر سچائی سے ایمان لاتا ہے تو وہ اپنے دل میں پاک ٹھہر سکتا ہے۔ انسانی بدنوں کو اپنی خواہشات کو پورا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور گناہ سے بچنا جسم کیلئے ناممکن ہے چنانچہ وہ مُستقل طور پر خوشی کے آرزو مند ہیں۔خدا وند نے سچ فرمایا: کہ ہر کوئی پانی اور روح کی اُس خوشخبری پر ایمان لا کر، جو ہمارے خدا وند نے مہیا کی راستباز ٹھہر سکتا ہے۔ ہم آسمان کی بادشاہت میں صرف اپنے جسمانی کاموں کے وسیلہ داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ بلکہ ہم صرف خد ا کی راستبازی پر ایمان لانے سے آسمان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
 
 
ایک روحانی عقل اور ایک نفسانی عقل کے درمیان فرق ہے
 
نفسانی ذہن اِس حقیقت کو سمجھ نہیں سکتےکہ وہ صرف ایمان کے وسیلہ پاک ٹھہر سکتے اور یہ کہ وہ نئے سرے سے پیدا ہونے کے وسیلہ راستباز مسیحی ٹھہر نے کے قابل ہیں کیونکہ وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر ایک شخص اپنی برائی سے توبہ کرتا ہے، تو بھی آنے والے دنوں میں وہ پھر گناہ کرے گا۔
 تاہم، ایک شخص کیلئے اپنے انسانی کاموں کے وسیلہ راستباز ٹھہرنا ممکن نہیں ، یہ خدا کی راستبازی کے وسیلہ کامل طور پر ممکن ہے۔ اِسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی یسوع کے بپتسمہ اور اُسکے خون پر ایمان لانے کے ذریعے ہی خدا کی راستبازی کو حاصل کر سکتا ہے۔ خدا کی راستبازی سب لوگوں کے گناہوں کو باطل کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ ہمیں راستباز ٹھہرانے اور خدا کو باپ کہہ کر پکارنے کے لائق ٹھہراتی ہے۔ اِس لئے، آپکو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ حقیقی ایمان خدا کی راستبازی سے شروع ہوتا ہے۔ حقیقی ایمان نفسانی عقل سے نہیں، بلکہ سچائی کے کلام پر ایمان لانے سے شروع ہوتا ہے۔
بہت سارے لوگ جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے وہ اپنے خیالات کو ترک نہ کرنے کے سبب نجا ت نہ پا سکیں گے کیونکہ اُنہوں نے ہمیشہ اِن فرسودہ خیالات کو اپنے اندر بسا رکھا ہے۔ ایسے لوگ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ راستباز ہیں کیونکہ وہ یسوع پر ایمان تو رکھتے ہیں تو بھی وہ اپنی نفسانی عقل سے ہی سوچتے اور خیال کر سکتے ہیں۔کوئی بھی شخص یسوع کے نز دیک اپنے آپ کو صرف اُس وقت راستباز کہہ سکتا ہے جب وہ روحانی ختنہ کے کلام پر جس میں خدا کی راستبازی پائی جاتی ہے ایمان لاتا ہے۔
اِسلئے، اگر ایک شخص خدا کی راستبازی کو حاصل کر نا چاہتا ہے، تو اُسے حقیقی کلام کی سچائی کو نئے سرے سے پیدا ہونے والے لوگوں سے سُننا چاہیے اور اپنے دل سے اِس پر ایمان لانا چاہیے۔ روح القدس ہر ایک مقدس میں جو خد اکی راستبازی پر ایمان لاتا میں بسا ہوُا ہے۔ بھائیو میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ اِس حقیقت کو اپنے دل میں جگہ دیں گے۔اگرآپ واقعی ہی نئےسرے سے پیدا ہونے کی برکات کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں،توخُدا آپ کو ایک نئےسرے سے پیداہوئےشخص سے ملنے کی اجازت دے گاجو اُس کی راستبازی پر ایمان رکھتاہو۔
 
 
کلام کیا کہتا ہے کہ کو ئی راستباز نہیں
 
آیت ۹اور ۱۰بیان کرتی ہیں، ” پس کیا ہُوا؟ کیا ہم کچھ فضیلت رکھتے ہیں؟ بالکل نہیں کیونکہ ہم یہودیوں اور یونانیوں دونوں پر پیشتر ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ وہ سب کے سب گناہ کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ لکھا ہے کہ کو ئی راستبازنہیں۔ ایک بھی نہیں۔“ یہ لکھا ہے کہ کوئی راستباز نہیں،نہیں، ایک بھی نہیں۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟کیا یہ الفاظ ہمارے نئے سرے سے پیدا ہونے سے پہلے کی یا بعد کی حالت کو بیا ن کرتے ہیں؟ ہم سب نئے سرے سے پیدا ہونے سے پہلے گنہگار تھے۔ یہ الفاظ” کوئی راستبازنہیں“ یسوع مسیح کے ساری دنیا کے گناہوں کو نکال باہر کرنے سے پیشتر کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یسوع پر ایمان لائے بغیر کوئی بھی راستباز نہیں ٹھہر سکتا ہے۔
اِس لئے ، ’ سال بسال بڑھتی ہوئی پاکیزگی ‘ کے الفاظ اُن لوگوں کے وسیلہ وجود میں آئے ہیں جو بدعتی مذاہب کی خدمت کرتے ہیں۔ ” کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ “ کیا آپ کے خیال میں یہ ممکن ہے کہ ایک گنہگار اپنی تہذیب کے ذریعے اپنے آپ کو سدھار کر راستباز ٹھہر سکے؟ کوئی بھی اپنے آپ سے راستباز نہیں ٹھہر سکتا ہے۔
” کوئی راستباز نہیں۔ایک بھی نہیں۔“ کوئی نہیں جو اپنی مہذب زندگی کے وسیلہ راستباز ٹھہرایا جائے گا۔ کوئی ایک شخص بھی نہیں جو اپنی ذاتی کوششوں کے وسیلہ پاک ٹھہرایا جا چکا ہو۔ یہ صرف روحانی ختنہ پر ایمان لانے کے وسیلہ ہی ممکن ہے جوخدا کی راستبازی پرمشتمل ہے۔
آیت ۱۱بھی بیان کرتی ہے کہ، ” کوئی سمجھدار نہیں۔ کوئی خدا کا طالب نہیں۔“ کوئی نہیں جو اپنی برائی کو سمجھتا ہو۔ دوسرے لفظوں میں، کوئی نہیں جو سمجھتا ہو کہ اُسے جہنم میں جانا پڑے گا۔ یہاں تک کے ایک گنہگار یہ سمجھنے سے قاصِر ہے کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ ایک گنہگار زندہ تو ہے مگر اُسے یہ فہم ہی نہیں کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے یقینی طور پر جہنم میں جائے گا۔ تاہم، یہاں ایک بھی نہیں جو خدا
کے نزدیک اپنی گناہ آلودہ فطرت کو یا یہ سمجھ چکا ہو کہ جہنم میں جانا ایسے لوگوں کا مقدر ہے۔
کیا ہم خدا کے نزدیک نکمے یا سودمندانسان ہیں۔ سب انسان جب تک وہ نئے سرے سے پیدا نہ ہو جائیں وہ سب کے سب بیکار ہیں۔ ہم جو راستباز ٹھہرے ہیں ہم اُس خدائے واحد کا شکریہ ادا کرتے ہیں، لیکن اِس سے پہلے کیا ہم بھی ایسے لوگ نہ تھے جو خدا سے جنگ لڑ رہے تھے، یہا ں تک کہ ہم اُس پر الزام
لگاتے اور اور اُس کی سچائی کو ماننے سے انکار کرتے تھے؟
پھر، کیسے ایک گنہگار خدا کے نام کو جلال دے سکتا ہے؟ایک گنہگار جو اپنے گناہ کے مسئلہ کو حل ہی نہیں کر پایا ،کیسے خدا کی تعریف کر سکتا ہے؟ایک گنہگار حالت میں خدا کی تعریف کرنا تو سچی ستائش نہیں ہوسکتی ہے؟کیسے ایک گنہگار خُدا کی تعریف کر سکتا ہے؟ ایک گنہگار کبھی خد ا کو جلال نہیں دے سکتا ،اور خدا ایسے شخص کے کسی ہدیہ کو قبول نہیں کر تا ہے۔
آج کل ، پرستشی منسٹریاں پوری دُنیا میں پھیل گئی ہیں۔ تاہم،صرف وہی لوگ خدا کی پرستش کر سکتے ہیں جو خدا کی راستبازی پر ایمان لاتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں خدا گنہگار کے پرستش کرنے سے خوش ہوگا؟ایک گنہگار کی پرستش قائن کے ہدیہ کی مانند ہے۔ کیوں خدا گنہگاروں کی بے معنیٰ پرستشی اور گناہ آلودہ دلوں کو قبول کریگا؟
آیت ۱۲بیان کرتی ہے، ” سب گمراہ ہیں سب کے سب نکِمے بن گئے۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ “ وہ گنہگار جو ” گمراہ ہیں “ خدا کے اُن عظیم کاموں سے نا واقف ہیں جو اُس نے اُن کیلئے انجام دیئے ،اور وہ اِس سچائی کے کلام پر ایمان نہیں لائے ہیں۔ مزید برآں، گنہگار نہ صرف خدا کے کلام پرایمان لانے سے انکار کرتے ہیں ،بلکہ وہ ہمیشہ جسمانی بنیاد پر مبنی اپنے خیالات کے مطابق سوچتے ہیں۔ اسلئے، وہ کبھی بھی خُدا کے سامنے کیا صحیح اور غلط ہےکے درمیان امتیاز نہیں کر سکتے ہیں۔
درست عدالت کرنا صرف حق کے اُس کلام کہ وسیلہ ہی ممکن ہے جو خدا کی راستبازی سے بھرا ہوا ہے۔ درست فیصلہ اور درست عدالت صرف خدا کی راستبازی کے وسیلہ ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ ضرور ہے کہ آپ جانیں کے شرعی عدالت انسان پر نہیں بلکہ خدا پر تکیہ کرتی ہے۔انسانی خیالات خدا کی راستبازی کو رد کرتے اور گمراہ ہوچکے ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے ” قطع نظر اِس کے کہ بائبل کیا کہتی ہے میں اِس طرح سے سوچتا ہوں اور میں اپنے خیالات کے مطابق ایمان رکھتا ہوں “ لیکن ،میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ سمجھ چکے ہیں کہ جو اپنے جھوٹے خیالات کو ترک نہیں کرتا وہ اُس کی مانند ہے جو اپنی انا پرستی کی وجہ سے خدا کی راستبازی کو رد کر دیتا ہے۔ اِس لئے ،یہ سوچ کسی کو بھی خدا کی راستبازی کی طرف رُجحان کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔
 
 
نفسانی عقل روحانی موت کی طرف لے جاتی ہے
          
جو کوئی نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا وہ اپنا مُنصف آپ ہے۔ اِس طرح کے لوگ اِس بات کی قطاً پرواہ نہیں کرتے کہ خُدا کے کلام میں کیا لکھا گیا ہے ،بلکہ اِس کی بجائے ،اُنکے خیالات سے اگر کچھ مختلف ہو تو ،وہ کہتے ہیں کہ یہ غلط ہے اور وہ صرف کلام کے اُس حصے سے مُتفق ہوتے ہیں جو اُنکے اپنے خیالات سے میل کھاتا ہے۔ بائبل بیان کرتی ہے کہ انسان کا رجحان ہمیشہ اپنے خیالات اور مرکزیت پر ہے۔ اگر کو ئی مناسب طور سے اپنے گناہوں کی معافی کی اُمید کرتا ہے، تو اُس کوخدا کی راستبازی اور انصاف کی ضرورت ہے۔ پھر اُس کا انصاف کیا ہے۔
خدا کا عدل خدا کی راستبازی ہے اور آپکو جاننا چاہیے کہ خد اکا کلام اُسکے لئے اُس کا راست پیمانہ ء عدل ہے۔ ” ابتدا میں کلام تھا اورکلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا “ (یوحنا۱:۱)۔ کون ہے یہ شخص جسکو ” کلام “ پکارا گیا ہے؟ وہ شخص کو ن تھا جو خدا باپ اور روح القدس کے ساتھ تھا؟وہ ہمارا نجات دہندہ ،یسوع مسیح ہے۔ یسوع مسیح ہمارا نجات دہندہ اور بادشاہوں کا بادشاہ بن گیا۔یسوع خُدا ہے۔
 یوحنا کی انجیل میں یہ بیا ن قلمبندکِیاگیا کہ ابتدا میں کلام تھا،اور کلام خدا کے ساتھ تھا۔ ہاں، خداوند یسوع المسیح ہمارا نجات دہندہ ہے۔ کلام خدا ہے اور وہ اُس کی ذات کا نقش ہے۔ (عبرانیوں۱:۳)۔ خدا ہی نجات دہندہ ہے۔ کیونکہ کلام خود خدا ہے، اِسلئے اُسکی راستبازی کا کلام ہم انسانوں کے خیالات سے مختلف اور بلندو بالا ہے۔ جب گنہگار اُس کی راستبازی سے ناواقف ہیں تو آپکو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ گنہگاروں کو اپنے ادراک کے وسیلہ خدا کی راستبازی کو سمجھنے کی جُرات کرنی ہے۔ ایک شخص جو اپنے ایمان کے وسیلہ خداکی راستبازی پر مضبوطی سے قائم رہتا ہے ایسا شخص خدا کے نزدیک ہرگز نکما نہیں بلکہ خدا ایسے شخص کو بھلائی کیلئے استعمال کریگا۔ جو شخص مضبوطی سے قائم رہتا اور خدا کے کلام کو اپنے دل میں مضبوطی سے قائم رکھتا ہے وہ ایمان کا شخص کہلاتا ہے اور ایساایماندار خدا کے نزدیک ہرگز نِکما نہیں ہے۔
اِس طرح کا شخص مبارک بھی ٹھہرتا ہے۔
سب لوگ اپنی سوچوں اور گناہوں سے خدا کے خلاف جنگ میں ہیں۔آپ کو جاننا چاہیے کہ پاک ہونے اور نیک کاموں کا دعویٰ ،یا دوسروں پر رحم کر کے رحیم ہونے کا کا دعویٰ کرنا، اور پھر اِس کا چرچاکرنا یہ سب ایسے منافقانہ کام ہیں جو انسانی خیالات سے نکلتے اور خدا کو دھوکا دیتے ہیں۔نیک ہونے کا دعویٰ کرنا خدا کی مخالفت ہے۔ سوائے اُس کے کوئی نیک نہیں ہے ۔ اگر ایک مسیحی اُس کی کامل محبت کو قبول نہیں کرتا اور اُس کی نجات کی راستبازی کو نئے سرے سے پیدا ہونے کے بغیرحاصل کرتا ہے،یہ خدا کی مخالفت اور حق کی نافرمانی ہے۔
کیا آپ کے خیال میں صرف کبیرہ گناہوں کو کرنے والے ہی خدا سے سزا پانے کے مستحق ہیں؟ وہ سب جو خدا کی راستبازی پرایمان نہیں رکھتے وہ بھی خدا کے غضبناک قہر سے بچ نہ پائیں گے۔
 وہ جو یسوع پر حقیقت میں ایمان نہیں رکھتا وہ نیکو کاری کی زندگی کے تخئیل کے امر سے بھراہوا ہے۔ کون ایسے خیالات سکھاتا تھا؟یہ شیطان ہی ہے جو ایسا کرتا تھا۔ تاہم، انسان اپنی پیدائش کے دن سے ہی نیکو کا ر زندگی بسر کرنے کا قابل نہیں ہیں۔ پس ،خدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ ضرور ہے کہ ہم گناہوں کی مخلصی حاصل کریں۔ کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں جان بوجھ کر برائی کرنی چاہیے تاکہ فضل زیادہ ہو؟ ہرگز نہیں۔ جب سے بنی نوع انسان پیدا ہوااُس دن سے گناہ اُن میں سرایت کر گیاتھا، اور گناہ کی ناپاکی کی وجہ سے جہنم میں جانا اُن کا مقدر بن گیا تھا۔ اِس لئے ،خدا نے اُنہیں بتایا کہ گناہوں کی اُس مخلصی کو حاصل کریں جو یسوع نے پیشتر سے ہی اُن کیلئے تیا ر کی تھی۔ وہ نجات کا خدا ہے اور ہم سب کو نصیحت کرتا ہے کہ اُس کی راستبازی کے کلام کو قبول کرنے کے وسیلہ مخلصی پائیں، جو ہمارے دلوں میں پائی جانے والی سچائی ہے۔
 
 
انسان کی فطرت کیا ہے؟
 
۱۳۔۱۸آیات بیان کرتی ہیں،” اُن کا گلا کھلی ہوئی قبر ہے۔ اُنہوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا۔ اُنکے ہونٹو ں میں سانپوں کا زہر ہے۔ اُن کا منہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھرا ہے۔ اُن کے قدم خون بہانے کے لئے تیز رو ہیں۔ اُن کی راہوں میں تباہی اور بدحالی ہے اور وہ
سلامتی کی راہ سے واقف نہ ہوئے اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں۔“
 ”اُنہوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا۔ “ سب فریب دینے والے لوگ کیسے خوب ہیں! یوحنا کی انجیل میں یہ لکھا گیا ہے، ”جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے“ (یوحنا۸:۴۴)۔ ” میں سچائی بیان کر رہا ہوں ،کہ سچائی یہ ہے۔ کیا آپ مجھے سمجھ رہے ہیں؟ “ ایک شخص جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا اُس کے الفاظ جن پر وہ زور دے کر بڑے وثوق سے کہتا ہے وہ سب جھوٹے ہیں۔
ایک شخص جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا جب کبھی وہ لوگوں سے گفتگو کرتا ہے وہ جھوٹ بولنے کے علاوہ اور کچھ کر ہی نہیں سکتا ہے۔ وہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ جو کچھ وہ کہہ چکا ہے وہ حرف با حرف سچ ہے، مگر یہ ایک متناقص ثبوت ہے جو ثابت کرتا ہے کہ وہ ہر وقت جھوٹ بولتا ہے، وہ یہ کہہ کر لوگوں کو فریب دیتا ہے کہ یہی سچ ہے۔ ایک شخص جو ابھی تک نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا سب باتوں میں جھوٹا ہے کیونکہ وہ خدا کی راستبازی پر ایمان نہیں رکھتا۔
ایک فریبی کبھی بھی لوگوں کےجاننےکے بعد فریب نہیں دےسکتا کہ وہ ابھی تک اُنہیں فریب دے رہا ہے۔ وہ لوگوں کو حقیقت پسندانہ طور سے پُر خلوص طور سے باتیں کرکے اُنکا اعتما د جیتتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ” میں آپکو بالکل سچ بتاتا ہوں۔ اگر آپ اِس میں کچھ رقم لگائیں، تو آپ اِس کے بدلہ میں ایک بہت بڑی رقم کما لیں گے۔ صرف دس لاکھ ڈالر لگائیں، اور ایک سال کے اندر ،آپ جتنی رقم لگا چکے ہیں اُس سے دوگنی رقم یعنی بیس لاکھ ڈالر حاصل کریں گے۔ اور آئندہ برسوں میں ،آپ ایک بڑی رقم کمائیں گے۔ یہ نئے قسم کا بزنس ہے، اور یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ آگے بڑھیں، آپکو دیر نہیں کرنی چاہیے، اپنے ذہن کو تیار کریں کیونکہ بہت سے دوسرے اِس کام کا انتظار کر رہے ہیں۔“ یہ وہ کچھ ہے جو ایک فریبی لوگوں کو بتا تا ہے۔ آپکو یہ بات یا د رکھنی چاہیے کہ ایک شخص جس نے گناہوں کی معافی کو نہیں پایا ہے وہ اپنی زبان سے فریب دیتا ہے۔
بائبل فرماتی ہے کہ جب شیطان جھوٹ بولتا ہے ،تو وہ اپنی سی ہی کہتا ہے۔ ہر ایک بات جو نئے سرے سے پیدا نہ ہونے والا شخص گناہ کی بنا پر کرتا ہے وہ جھوٹی ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ایک خادم جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوُا وہ اپنی کلیسیا ئی ارکان کو یہ کہہ کر فریب دیتے ہیں کہ اگر وہ گرجاگھر کو ایک بہت بڑی دہ یکی کی رقم ہدیہ کے طور پر دیں تو وہ دولت مند ہو جائیں گے۔ مزید برآں، شائد وہ کہتا کہ جونہی ایک شخص کلیسیا کا ایلڈر بنتا ہے، تو وہ شخص خدا کی ’بے اِنتہا برکات ‘ کے وسیلہ دولت مند ہو جا ئے گا۔ کیوں لوگ ایلڈر بننے کیلئے اتنی سخت کوشش کر تے ہیں؟ یہ جھوٹے خادموں کے جھوٹ کی وجہ سے ہے جو دعویٰ کرتے ہیں کہ جونہی وہ ایک ایلڈر بنتا ہے خد ا اُسے مادی دولت سے مالا مال کر دیتا ہے۔یہاں بہت سے مسیحی ہیں جو ایلڈر بننے کی کوشش کرنے کے بعد اپنی جائیداد سے محروم ہوگئے ہیں۔ کیونکہ وہ ایلڈر بننے کی خواہش میں اپنے فریبی خادمین کو بے حد نذرانے ادا کر چکے ہیں۔
آئیں پھر رومیوں۳: ۱۰ کی طرف متوجہ ہو ں۔ یہ عبارت، ” چنانچہ لِکھا ہے کہ“ ہمیں اشارہ دیتا ہے کہ نیچے دی گئی آیات پرانے عہد نامہ سے دہرائی جا رہی ہیں۔ پولوس مزید وضاحت کر نے کی بجائے ،کتابِ مقدس میں سے بالکل اصل عبارت دہراتا ہے: ” کیونکہ اُن کے منہ میں ذرا سچائی نہیں۔ اُنکا باطن محض شرارت ہے۔ اُنکا گلا کھلی قبر ہے۔ وہ اپنی زبان سے خوشامد کرتے ہیں “ (زبور۵: ۹)۔ ” اُنکے پاؤں بدی کی طرف دوڑتے ہیں اور وہ بیگناہ کا خون بہانے کےلئے جلدی کرتے ہیں۔ اُنکے خیالات بدکرداری کے ہیں۔ تباہی اور ہلاکت اُنکی راہوں میں ہے“ (یسعیاہ۵۹: ۷)۔ وہ لوگ جو خدا کی راستبازی سے آگاہی نہ پانے کی وجہ سے جہنم کو جاتے ہیں وہ بڑے قابلِ رحم ہیں۔
۱۹آیت بیان کرتی ہے، ” اب ہم جانتے ہیں کہ شریعت جو کچھ کہتی ہے اُن سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ہر ایک کا منہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرے۔“
” شریعت خدا کے قہر کا باعث بنتی ہے “ (رومیوں۴:۱۵)۔ خدا اُن کو جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے اُنہیں شریعت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو گنہگار ہونے کا ادراک کر سکیں۔شریعت ہر ایک گنہگار کو تعلیم دیتی ہے کہ وہ اُس کی شریعت کے موافق زند گی گذارنے کے قابل نہیں ہے۔ یہ واضح طور پر بیان کِیا گیا کہ خدا نے شریعت اِس لئے نہیں بخشی کہ ہم اُس کے وسیلہ زندہ رہیں۔ تو پھر کیا خدا شریعت کو باطل کرتا ہے؟نہیں ،وہ ایسا نہیں کرتا۔ خدا فرماتا ہے کہ اُس نے موسیٰ کے وسیلہ ہم تک شریعت کو اس لئے پہنچایا کہ ہمیں یہ تعلیم دے کہ ہم گنہگار ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم شریعت کے وسیلہ اپنی گناہگارفطرت کو پہچان سکیں اور یہ اِس لئے نہیں دی گئی کہ ہم اِس پر عمل کریں۔ شریعت کا کردار ہم بنی نوع کو یہ پہچان کرانا ہے کہ ہم کتنے حقیر اور کمزور ہیں۔
اِسلئے، ۲۰آیت بیان کرتی ہے، ” کیونکہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر اُس کے حضور راستباز نہیں ٹھہرے گا۔ اِس لئے کہ شریعت کے وسیلہ سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے۔“ کوئی بشر بھی شریعت کے اعمال سے اُس کے حضور راستبازنہیں ٹھہریگا۔ نہ صرف پولوس خود، بلکہ خدا کے دوسرے خادمین بھی، ” شریعت کے اعمال سے کوئی بشر راستباز نہ ٹھہریگا۔“ کوئی بھی شریعت پر عمل نہیں کرسکتا ،اور نہ ہی کو ئی اِس پر عمل کرنے کے قابل ہو گا اور نہ ہی کو ئی اِس پر عمل کر چکا ہے۔ اِس لئے ،حاصل کلام یہ ہے کہ کوئی بھی شریعت کے اعمال سے راستباز نہیں ٹھہر سکتا ہے۔
کیا ہم شریعت پر عمل کرنے سے راستباز لوگوں میں بدل جاتے ہیں؟ جب ہم اِن حوالہ جات کو دیکھتے ہیں ،تو ہم آسانی سے یہ خیال کر سکتے ہیں کہ ہم یسوع پر ایمان لانے کے بعد اپنے نیک اعمال کے ذریعے اور نیک زندگی بسر کرنے کے وسیلہ آخر کار آہستہ آہستہ پاکیزگی تک پہنچنے کے ذریعے پاک ٹھہر سکتے ہیں۔ مگر ،یہ بالکل سچ نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ کوئی آسمان کی بادشاہی میں رفتہ رفتہ پاکیزگی میں بڑھنے کے ذریعے داخل ہو سکتا ہے یہ بالکل جھوٹ ہے۔
وہ سب جو ابھی تک نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے خداکی شریعت، گناہ کی شریعت اور موت کے ماتحت ہیں (رومیوں۸:۲)۔ اِس لئے کیونکہ جونہی ایک شخص مسیحی ٹھہرتا ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ ضرور ہے کہ وہ خدا کے کلام کے وسیلہ زندہ رہے۔ مسیحی محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنے شرعی اعمال کی ذمہ داری کو پورا کرتے ہیں ،لیکن حقیقت میں، وہ بالکل شریعت کے وسیلہ زندہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ اِسی لئے ،وہ روزانہ توبہ کی دُعاوں کو بار بار پڑ ھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہی نہیں کہ وہ محض نام کی مسیحیت کی ایک مذہبی نا اُمیدی کی دلدل میں گرتے جا رہے ہیں۔ اِس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اِس قسم کی مذہبی زندگی سرے سے ہی غلط ہے۔ شریعت کے مطلب کو غلط سمجھنے کے بعد شریعت پر عمل کرنے کی کوشش کرنا مذہبی مسیحیوں کو خدا کی راستبازی کا مقابلہ کرنے کی طرف لے جاتی ہے، حالانکہ شریعت تو لوگوں کو صرف یہ تعلیم دیتی ہے کہ وہ گنہگار ہیں۔
مسیحیت میں بڑھتی ہوئی مذہبی پاکیزگی کی تعلیم بالکل ایسی ہے جیسی کے دنیا کے بُت پرست مذاہب کی ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسا کہ بُدھ اِزم میں نروانا میں داخل ہونے کی تعلیم ہے، اُسی طرح مسیحیت میں، بڑھتی ہوئی مذہبی پاکیزگی کی تعلیم ہے جو بیان کرتی ہے کہ ایک شخص کے یسوع پر ایمان شروع ہونے کے بعد اُس شخص کا جسم اورروح آہستہ آہستہ پاک سے پا ک تر ہوتا جاتا ہے، اور آخر کار وہ شخص اِتنا پاک ہو جاتا ہے کہ وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے۔
ہر کوئی جو گناہ کی متعدی مرض سے پیدا ہُوا ہے اپنی زندگی کے تمام وقت کے دوران صر ف گناہ کو پھیلانے کا کام ہی کر سکتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ ہر کوئی پیشتر سے ہی گناہ کے مرض میں مُبتلا ہو چکا ہے۔ اگر کسی کا مطلب گناہ کو پھیلانا نہیں ہوتا تو بھی یہ ایسا وائرس ہے جو انسانی بدن سے خود بخود باہر نکل آتا ہے۔ اِس بیماری کا صرف ایک ہی علاج ہے۔ ا ور وہ یہ ہے کہ حقیقی خوشخبری کے کلام کو جو خدا کی راستبازی پر مُشتمل ہے کو سُننا اور اِس کلام پر ایمان لانا۔ اگر کوئی گناہوں کی مخلصی کے حقیقی کلام کو سُن کر ایمان لائے تو وہ اپنے گناہوں سے نجات پا سکتا ہے، جس سے ہم روحانی ختنہ کو حاصل کرنے کے قابل ہو
جاتے ہیں۔
کیسے ایک شخص اِس دنیا میں نئے سرے سے پیدا ہونے کے بعد کامل طور پر شریعت کے مطابق
زندگی بسر کر سکتا ہے؟ کوئی نہیں۔ بائبل بیان کرتی ہے، ” اِس لئے کہ شریعت کے وسیلہ تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے “ (رومیوں۳ :۲۰)۔کیا یہ سچائی سادہ اور واضح نہیں ہے؟ آدم اور حوا اپنی معصومیت کی زندگی میں ،شیطان کے بہکاوے میں آکر گناہ میں گِر گئے اور خدا کے کلام کو ترک کر دیا اور اِس واقع کے بعد گناہ اُن کی تمام اولاد میں نسل در نسل مُنتقل ہو گیا۔ تاہم ،اگرچہ سب انسان اپنے باپ آدم سے گناہ کے وارث بنے، تو بھی وہ یہ سمجھنے سے قاصِر ہیں کہ حقیقی طور پر وہ ایک گنہگار کی طرح پیدا ہُوئے تھے۔
 ابراہام کے وقت سے، خدا نے انسان کو اپنی راستبازی کا مضبوط علم بخشا تاکہ سب لوگ خدا کے کلام پر ایمان لانے کے وسیلہ گناہوں کی مخلصی کو حاصل کریں۔
 
 
پولوس شریعت کے بغیر خدا کی راستبازی کے متعلق بات کرتا ہے
          
۲۱۔۲۲آیات بیان کرتی ہیں، ” مگر اب شریعت کے بغیر خدا کے ایک راستبازی ظاہر ہوئی ہے جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔ یعنی خدا کی وہ راستبازی جو یسوع پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ کچھ فرق نہیں۔“
 یہ فرمایا گیا کہ خدا کی راستبازی ظاہر ہوئی ہے، ” جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔“ ” شریعت اور نبیوں“ سے مُراد پرانا عہد نامہ ہے۔ اَب ،پولوس خد ا کی راستبازی کی اُس خوشخبری کے متعلق بیان کرتا ہے جو خیمہ گاہ کے قربانی کے نظام کے وسیلہ ظاہر ہوئی تھی۔ کتابِ مقدس واضح طور پر خدا کی راستبازی کو ہم پر ظاہر کرتی ہے جس سے ہر کوئی گناہ کی قربانی کے وسیلہ گناہوں کی معافی کو حاصل کر سکتا ہے ،اور پولوس کا ایمان بھی خدا کی اُس راستبازی پر بنیاد رکھتا تھا جو کتابِ مقدس میں ظاہر ہوئی ہے۔
پولوس اعلان کرتا ہے کہ ہر کوئی جو یسوع پر ایمان لا چکا ہے بِلا اِمتیاز خدا کی راستبازی کو حاصل کر سکتا ہے۔ کِسی کا نجات پانا یا نہ پانا یہ مکمل طور پر اُس کے اپنے اعتقاد اور بے اعتقادی پر ہے۔ پس، اُس نے کہا کہ خدا کی راستبازی ظاہر ہوئی ہے، ” جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ کچھ فرق نہیں۔“
حقیقی ایمان کیا ہے؟ کون ایمان کا منباہ ہے؟ یہ یسوع مسیح ہے ۔ عبرانیوں۱۲: ۲ میں لِکھا ہے،
” ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے یسوع کو تکتے رہیں۔“ ہمیں نئے سرے سے پیدا ہونے والے مقدسوں سے خدا کی راستبازی کے متعلق سیکھنا چاہیے اور اِس سچائی پر ایمان لا کر یسوع مسیح کی مہیا کردہ نجات کو حاصل کرنا ہے اور پھر خدا کے کلام پر ایمان لانے سے زندہ رہنا چاہیے۔ خدا وند کی راستبازی پر ایمان لانا ہی حقیقی ایمان ہے۔
رومیوں ۱۰:۱۰میں لِکھا ہے، ” کیونکہ راستبازی کیلئے ایمان لانا دل سے ہوتا ہے اور نجات کیلئے اِقرار مُنہ سے کیِا جاتا ہے۔“ ہم یسوع کے بپتسمہ اور خون پر اپنے دلوں سے ایمان لانے کے ذریعے راستباز ٹھہر سکتے ہیں اور ایمان سے اپنے مُنہ کے ساتھ نجات کا اِقرار کرنے سے ہم اپنی نجات کی توثیق کر سکتے ہیں۔ہم گناہوں کی مخلصی کو اپنی کاموں کے وسیلہ حاصل نہیں کر سکتے، بلکہ صرف خداکی راستبازی پر ایمان لانے سے۔
۲۳۔۲۵آیات بیان کرتی ہیں،” اِسلئے کہ سب نے گناہ کِیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔ مگر اُس کے فضل کے سبب سے اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اُسے خدا نے اُس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشر سے ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی اُنکے بارے میں وہ اپنی راستبازی ظاہر کرے۔“
بائبل بیان کرتی ہے اِسلئے کہ سب نے گناہ کِیا،اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔ گنہگاروں کے پاس جہنم میں جانے کے سِوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مگر، مخلصی کے وسیلہ جو مسیح یسوع اور خدا کی راستبازی میں ہے، لوگ مُفت گناہوں کی مخلصی حاصل کرتے ہیں۔ لوگ اِس لئے پاک ٹھہرے کیونکہ اُنہوں نے خدا کی راستبازی کا یقین کِیا۔ اُسے خدا نے اُس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ
مند ہو۔
جب ہم ۲۵۔۲۶آیات پر ایک نظر دیکھتے ہیں تو یہ لِکھا ہے، ” اُسے خدا نے اُس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تا کہ جو گناہ پیشتر ہو چکے تھےاور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی اُن کے بارے میں وہ اپنی راستبازی ظاہر کرے۔ بلکہ اِسی وقت اُس کی راستبازی ظاہر ہو تاکہ وہ خود بھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایمان لائے اُس کو بھی راستباز ٹھہرانے والا ہو۔“
یہاں ،یہ عبارت، ” اپنی راستبازی ظاہر کرے “ خدا کی اُس راستبازی کو بیان کرتی ہے، جو یسوع مسیح کے راست عمل کے وسیلہ قائم ہوئی تھی۔ یسوع کے صلیب پر خون بہانے سے پہلے اور اُس کی موت سے پہلے اُس کا دریائے یردن پر یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینے کایہ سبب تھا، اُس نے خدا کی ساری راستبازی کو پورا کیِا تھا (متی۳: ۱۳۔۱۷کا حوالہ دیکھیں)۔ خدا باپ نے یسوع کو اِس دنیا کے گناہوں کی قربانی کیلئے اپنے اور بنی نوع انسان کے درمیان ایک ابدی کفارہ ٹھہرایا ہے۔ یسوع خدا کی راستبازی کا تجسیم تھا۔
یسوع نے اِس دنیا کے گناہوں کو یوحنا سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ دور کر دیا۔ یسوع الفا اور اومیگا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہر کوئی اگر اِس کلام پر ایمان لائے جو بیان کرتا ہے کہ خداوند نے اِس دنیا کے شروع سے لےکر آخر تک کے سب گناہوں کو مِٹا دیا، وہ نجات حاصل کر سکتا ہے۔
خدا کی راستبازی جو یسوع نے پوری کی ہمیں اجازت دیتی ہے کہ خدا کے ساتھ سلامتی میں قیام کریں۔ یہ اِ سلئے مقرر ہوئی تاکہ صرف وہی شخص جو خدا کے ساتھ آرام میں ہے آسمان میں داخل ہونے کے قابل ہو جائے۔ صرف سچائی کی خوشخبری پر ایمان لانے کے بعد ہی میں اِ س آیت کو سمجھ سکا۔” اُسے خدا نے اُس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی اُن کے بارے میں وہ اپنی راستبازی ظاہر کرے۔“ اُس کے تحمل کے زمانہ میں میَں خدا کی راستبازی کو یسوع کے وسیلہ سمجھ پایا اور ایمان لایا ہوں۔
خدا کی راستبازی فعل ماضی بعیدمکمل میں پوری ہوئی جو یہ اشارہ کرتی ہے کہ یہ پیشتر سے پوری ہوچکی تھی۔ ہم نے حقیقی کلام پر ایمان لانے کے وسیلہ گناہوں سے مخلصی حاصل کی جو یہ کہتاہے کہ یسوع نے اپنے بپتسمہ اور خون کے ذریعے ہمارے سب گناہوں کو ہم سے دور پھینک دیا ہے۔ یہاں تک کہ ،اگرچہ ہم اپنے جسموں کو گناہ سے مکمل طور پر ابھی تک نہیں روک سکتے تو بھی ہماری روحو ں کو اُن گناہوں سے ایک ہی بار معافی مل گئی ہے۔ خدا ہمارے اِس موجودہ جہان کے گناہوں کو جو ہم کرتے ہیں ’ پیشتر سے کئے گئے گناہوں‘کے طورپر اشارہ دیتاہے۔
کیوں؟ خدا نے یسوع کے بپتسمہ کو نجات کا نقطہ ء آغاز مقرر کِیا۔ اِسلئے، خدا کی راستبازی کے وسیلہ گناہوں کی مخلصی ایک ہی بار پوری ہوئی ،جس کو یسوع نے تمام کِیا۔ خدا کے نزدیک وہ سب گناہ جو ہم اَب جسم کے اعتبار سے کرتے ہیں وہ سب پیشتر سے ہی یسوع کے بپتسمہ کے وسیلے مِٹا دیئے گئےہیں۔ خدا کی نگاہ میں اِس دنیا کے گناہ تو پیشتر سے ہی معاف کر دیئے گئے ہیں۔ ’جو گنا ہ پیشترسے ہو چکے تھے‘ کا مطلب ہے کہ ’ گناہوں کی اُس مزدوری کو خاطر میں لانا ہے جو پیشتر سے ادا کر دی گئی ہے‘۔ اِ س دنیا کےسب گناہ ایسے ہیں جو خداوند کے بپتسمہ پانے اور اُس کے صلیبی خون کے وسیلہ پیشتر سے ہی دھو دیئے گئے ہیں۔
اِ سلئے ،دنیا کے شروع سے لےکر آخر تک، آدم سے لےکرزمین کے آخری دن تک یہاں تک کہ وہ گناہ جو موجودہ زمانہ میں لوگوں سے سرزد ہو رہے ہیں ایسے گناہ ہیں جو یسوع پیشتر سے ہی مٹا چکا تھا۔ جو خدا کی راستبازی پر ایمان لاتے ہیں وہ بغیر گناہ کے ہیں۔ یہ حقیقت ہےکہ جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے طرح دی تھی پیشتر سے مٹا دیئے گئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گناہ جو اَبھی ہم کررہےہیں وہ بھی خدا کے نقطہ نگاہ سے اُن گناہوں کا حصہ ہیں جو پیشتر سے ہو چکے تھے اور جومعاف ہوچکےہیں۔ اِس دنیا کے لوگ وہی گناہ کر رہے ہیں جو خدا کے بیٹے کے وسیلہ پیشتر سے دور کر دیئے گئے تھے، جو اِس دنیا میں اِس لئے بھیجا گیا کہ دنیا کے گناہوں کو دور کر دے۔ وہ گناہ جو ہم ابھی سرزد کر رہے ہیں وہ ایسے گناہ ہیں جو ہمارا خداوند پیشتر سے دور کر چکا تھا۔ کیا آپکی سمجھ میں آ رہا ہے کہ اِ س کا مطلب کیا ہے؟
یسوع نے فرمایا کہ اُس نے پیشتر سے ہی خدا کی راستبازی کے وسیلہ اِس دنیا کے گناہوں کو مِٹا دیا تھا۔ اگر کو ئی اِس عبارت کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پاتا تو شائد وہ اِس کا غلط مطلب نکال سکتا ہے۔ خداوند کے نقطہ نظرمیں، گناہ جو ہم کر رہے ہیں ایسے گناہ ہیں جن کی پیشتر سے ہی جب اُس نے دریائے یردن پر بپتسمہ لیا اور صلیب پر پرکھےجانےکے وسیلہ اُن کی عدالت ہو چکی تھی۔ یہی سبب ہے کہ خدا ہمیں کہتا ہے کہ گناہوں کے متعلق فکر مت کرو کیونکہ یسوع مسیح اِس دنیا میں آیا اور لوگوں کو ایک ہی بار مکمل طور پر پاک ٹھہرایا۔
اِس عبارت میں پولوس اُس حقیقت کی اہمیت کے متعلق بات کرتا ہے جس نے ایمان سے خدا کی
راستبازی کے باعث نجات دی ہے۔ تاہم ،وہ لوگ جو نئے سرے سے پیدا نہیں ہوئے خدا کی راستبازی سے نظریں چُرا لیتے ہیں اور ایسے لوگ جہنم میں جائیں گے۔ بھائیو، آپ کو شنوا ہونا چاہیے اور مکمل طور پر خدا کے کلام کو سمجھنا چاہیے۔ صرف تب ہی یہ آپکے ایما ن کی تعمیر میں اور دوسرے شخص تک خوشخبری کی منادی کرنے میں خوب ہو گا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ خدا نے اِس گناہ کی دنیا پر ،راستبازی، کو ثابت کِیااور آخر کار اپنی راستبازی کو ظاہر کرنے کیلئےاُسکی عدالت ہوئی؟(یوحنا۱۶: ۸)
خدا نے یسوع کو اُس کے خون کے باعث، ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی اُنکے بارے میں وہ اپنی راستبازی کو ظاہر کرے۔ جب سے خدا نے یسوع کو ایک کفارہ ٹھہرایا ،تب سے وہ ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے وہ دور کر دیئے گئے تھے۔اسلئے، ہم خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہرے ہیں۔
آیت۲۶میں لکھا ہے، ” بلکہ اِسی وقت اُس کی راستبازی ظاہر ہو تاکہ وہ خود بھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایمان لائے اُس کو بھی راستباز ٹھہرانے والا ہو۔“ ’ اِس وقت ‘ ،خدا ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ابدی زندگی پائیں،اور وہ دنیا کو رد کرنا نہیں چاہتا ہے۔ ’اِسی وقت‘، جب خدا نے یسوع مسیح کو بھیجا کہ’ اُس کی راستبازی ظاہر کرے‘،خداوند نے اپنے بپتسمہ اور خون سے خدا کی راستبازی کو ظاہر کِیا۔ خدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو اِس دنیا میں بھیجا کہ بپتسمہ لے اور مصلوب ہو اور یوں ہم پر اُس کی راستبازی اور محبت کو ظاہر کرے۔
خدا نے اپنی ساری راستبازی کو یسوع کے وسیلہ پورا کِیا۔ خدا کی راستبازی پر ایمان لانے والا ہر ایک ایماندار راستباز ہے۔ ہمارا خدا ایک ہی بار ہمیشہ کیلئے اِس دنیا کے گناہوں کو مٹانے کیلئے راست عمل انجام دے چکا ہے۔ کیا پھر ہم خدا کی راستبازی پر دل سے ایمان لا سکتے ہیں؟ خدا فرماتا ہے کہ جب ہم اُس کی راستبازی پر ایمان رکھتے ہیں تو ہم راستباز اور بغیر گناہ کے ہیں۔ کیوں؟ یسوع پر ایمان لانے والا ایک شخص پا ک نہیں جبکہ وہ پیشتر سے ہی اپنے راست عمل کے وسیلہ تمام دنیا کے گناہوں کو دھو کر اُن سے دور کر چکا ہے؟ خدا کی راستبازی پر ایمان لانے والا شخص راستباز ہے کیونکہ اُس میں کوئی گناہ نہیں۔ کیونکہ ہمارا خدا وند پیشتر سے ہمارے سب گناہوں کو جو ہم نے اپنی ساری زندگی میں کئے مٹا چکا تھا، اِس لئے ہم خدا کی راستبازی کے وسیلہ ایمان لانے کے قابل ہیں۔ وگرنہ ،ہم کبھی بھی خد اکی راستبازی کو پانے کے قابل نہ ہو پائیں گے۔
 
 
صرف خدا کی راستبازی ہی فخر کے لائق ہے
 
۲۷-۳۱آیات بیان کرتی ہیں، ” پس فخر کہاں رہا؟ اِسکی گُنجائش ہی نہیں۔ کونسی شریعت کے سبب سے؟ کیا اعما ل کی شریعت سے؟ نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے۔ چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہرتا ہے۔ کیا خدا صر ف یہودیوں ہی کا ہےغیرقوموں کانہیں؟ بیشک غیر قوموں کا بھی ہے۔ کیونکہ خدا ایک ہی ہے جو مختونوں کو بھی ایمان سے اور نامختونوں کو بھی ایمان ہی کے وسیلہ سےراستباز ٹھہرائے گا۔ پس کیا ہم شریعت کو ایمان سے باطل کرتے ہیں؟ ہر گز نہیں بلکہ شریعت کو قائم رکھتے ہیں۔“
شریعت کو قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہم اپنے کاموں سے نجات نہیں پا سکتے ہیں۔ ہم کمزور اور بے تمام مخلوق ہیں ،مگر خدا کی راستبازی اُس کے کلام کے وسیلہ ہمیں کامل ٹھہراتی ہے ۔خدا کی راستبازی کے کلام پر ایمان لانا ہمیں نجات دے چکا ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے گناہوں سے نجات پانے کے بعد، ہمارا خدا وند ہم سے باتیں کرنا جاری رکھتا ہے، ایسا کہتے ہوئے، ” تم ناکافی ہو ،مگر میں نے تمہیں پاک ٹھہرایا ہے۔ اِس لئے، آپ کو خدا کی راستبازی کے ساتھ اُس کے قریب جانا چاہیے۔“
۲۷آیت میں یہ لکھا ہے،” پس فخر کہا ں رہا؟ اِس کی گنجائش ہی نہیں۔ کونسی شریعت کے سبب سے؟ کیا اعمال کی شریعت سے؟ نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے۔ “ ہر ایک کو چاہیے کہ خدا کی راستبازی کی شریعت کو جانے جو خدا نےقائم کی اور اُس کی راستبازی کی شریعت پر ایمان لائے۔ ” کونسی شریعت کے سبب سے؟ کیا اعمال کی شریعت سے؟ نہیں بلکہ ایما ن کی شریعت سے“
آپ کو جاننا چاہیے کہ ہم صرف اُس وقت اپنے گناہوں سے رہائی پاتے ہیں جب ہم خدا کی راستبازی پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے کاموں کے باعث ہم نجات نہیں پا سکتے ہیں۔ رومیوں ۳باب پولوس رسول کے وسیلہ اِس حصہ کے متعلق گفتگو کرتا ہے۔ ” کیا اُنکی بے وفائی خدا کی وفاداری کو باطل کر سکتی ہے؟ ہر گز نہیں! “ خدا کی راستبازی پر ایمان لانے والا قائم رہے گا ،مگر جو خدا کی راستبازی پر ایمان نہیں لاتا وہ گِر جائے گا۔
رومیوں ۳ باب میں خدا کی راستبازی واضح طور پر ظاہر ہوئی ہے۔ آپ کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے
کہ خدا نے اپنی راستبازی اُن کو گِرانے کیلئے قائم کی جو اپنے خیالات پر یقین کرتے ہیں۔ خدا نے مکمل طور پر ہمیں گناہ سے مخلصی بخشی۔ اِسلئے ،ہم خدا کے کلام پر جو اُس کی راستبازی میں ظاہر ہُوا ایمان لا کر نجات پا سکتے ہیں۔ ہم خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے ذریعے اُس کے ساتھ صلُح رکھتے اور اُس کی بادشاہی کے وارث ٹھہرائے جاتےہیں۔
 جو خدا کی راستبازی پر ایمان نہیں رکھتے وہ اپنے دلوں میں اطمینان کو نہیں پا سکتے۔ کسی کے مبارک یا لعنتی ٹھہرنے کے سوال کا نحصار اِس پر ہے کہ آیا وہ خدا کی راستبازی پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں۔ اگر کوئی خدا کی راستبازی کے کلام کو قبول نہیں کرتا ،تو اُس کی عدالت بالکل خدا کے کلام کی سزا کے مطابق ہوگی۔نجات خدا کی محبت سے پید اہوتی ہے اور پھر ہم اُس کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ اپنے گناہوں سے نجات حاصل کرتے ہیں۔ ہم خدا وند کی تعریف کرتے ہیں جس نے ہمیں خدا کی راستبازی پر ایمان عطا کِیا۔ آئیں اِس حقیقت کیلئے اُس کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ پولوس رسول کا تھا! ہم خداوند کی تعریف کرتے ہیں۔
ہم اُس کی تعریف اورشُکریہ ادا اسلئےبھی کرتےہیں کہ ہم یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان لانے کے ذریعےتمام گناہوں سے رہائی پا چکے ہیں۔ اگر ہم نے اِس ایمان کو خدا کی کلیسیا کی نجات پر نہیں رکھا، تو ہم کبھی بھی گناہوں سے مخلصی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ہم واقعی خدا کی راستبازی پر ایمان رکھتےہیں اور نجات کیلئے اِقرار مُنہ سے کیاگیاتھا۔ ہم خُداکاشکراداکرتے ہیں جس نے اپنی راستبازی کے ساتھ ہمیں تمام گناہوں سے نجات بخشی۔