خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب3-3]<رومیوں۱۰:۳ -۳۱ > کیا آپ خداوند کیلئے خدا کے شکر گزار ہیں؟

>رومیوں۱۰:۳ -۳۱ >
”چنانچہ لِکھا ہے کہ کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ کوئی سمجھدار نہیں۔ کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب گمراہ ہیں سب کے سب نکمے بن گئے۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ اُن کا گلا کھلی ہوئی قبر ہے۔ اُنہوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا۔ اُن کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے۔ اُن کا منہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھراہے۔ اُن کے قدم خون بہانے کیلئے تیز رو ہیں۔ اُن کی راہوں میں تباہی اور بد حالی ہے۔ اور وہ سلامتی کی راہ سے واقف نہ ہوئے۔ اُن کی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں۔ اَب ہم جانتے ہیں کہ شریعت جو کچھ کہتی ہے اُن سے کہتی ہے جو شریعت کے ماتحت ہیں تاکہ ہر ایک کا منہ بند ہو جائے اور ساری دنیا خدا کے نزدیک سزا کے لائق ٹھہرے۔ کیونکہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر اُس کے حضور راستباز نہیں ٹھہرے گا۔ اِس لئے کہ شریعت کے وسیلہ سے تو گناہ کی پہچان ہی ہوتی ہے۔ مگر اب شریعت کے بغیر خدا کی ایک راستبازی ظاہر ہوئی ہے جسکی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔ یعنی خدا کی وہ راستبازی جو یسوع مسیح پر ایمان لانے سے سب ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے کیونکہ کچھ فرق نہیں۔ اِ س لئے کہ سب نے گناہ کیِااور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔ مگر اُس کے فضل کے سبب سے اُس مخلصی کے وسیلہ سے جو مسیح یسوع میں ہے مُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اُسے خدانے اُس کے خون کے باعث ایک ایساکفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشتر ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کرکے طرح دی تھی اُن کے بارے میں وہ اپنی راستبازی ظاہر کرے۔ بلکہ اِسی وقت اُس کی راستبازی ظاہر ہو تاکہ وہ خود بھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایمان لائے اُس کو بھی راستباز ٹھہرانے والا ہو۔ پس فخر کہاں رہا؟ اِسکی گنجائش ہی نہیں۔ کونسی شریعت کے سبب سے؟کیا اعمال کی شریعت سے؟نہیں بلکہ ایمان کی شریعت سے۔ چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہرتا ہے۔ کیا خدا صرف یہودیوں ہی کا ہے غیر قوموں کا نہیں؟ بیشک غیر قوموں کا بھی ہے۔ کیونکہ ایک ہی خدا ہے جو مختونوں کو بھی ایمان سے اور نامختونو ں کو بھی ایمان ہی کے وسیلہ سے
راستباز ٹھہرائے گا۔“
 
 
انسان کے پاس جسم پر فخر کرنے کیلئے کچھ بھی نہیں
 
رومیوں۳:۱۰-۱۲بیان کرتا ہے، ” کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ کوئی سمجھدار نہیں۔ کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب گمراہ ہیں سب کے سب نکمے بن گئے۔ کوئی بھلائی کرنے والا نہیں۔ایک بھی نہیں۔“ جسم کے اعتبار سے ہم سب خدا کے نزدیک گنا ہ سے بھرے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی جسم کے اعتبار سے خود کو راستباز ٹھہرا سکتا ہے؟ کیا کوئی جسم کے اعتبار سے خدا کے نزدیک راستباز ٹھہر سکتا ہے؟ایک انسان جسم کے اعتبار سے کبھی راستباز نہیں بن سکتا۔ جسم کبھی بھی یسوع کی مہیا کردہ نجات کے بغیر راستباز نہیں ٹھہرایا جا سکتا ہے۔
جن کے گناہ مٹِا دیئے گئے ہیں اُن کے پاس بھی اپنے جسم پر فخر کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ ہم بھی جنکے گناہ مٹِ چکے ہیں بھلائی کرنے کی کوئی قابلیت نہیں رکھتے بلکہ ہم اپنے جسم کا رجحان بدل لیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم بھلی زندگیاں بسرکررہےہیں سوائےاسکے جب ہم خداوند کی خدمت اور روحانی کام کرتے ہیں ۔ جیسا کہ یسوع نے کہا، ” جو جسم سے پیدا ہوُا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہُوا ہے روح ہے“ (یوحنا۳:۶)۔ جسم جسمانی خواہشات میں اور روح روحانی خواہشات میں چلنے سے خوش ہوتے ہیں۔ جسم کبھی بھی روح میں تبدیل نہیں ہو سکتا ہے۔
تمام بنی نوع انسان گناہ میں پیدا ہوتے ،اور گناہ کے تحت زندگی بسر کرتے، اور بیکار میں مر َ جاتے اور آخر کا ر جہنم کی آگ کی جھیل میں ڈالے جاتے ہیں۔ اگر خدا اپنے اکلوتے بیٹے کو دنیا کےتمام گناہوں سے بچانے کیلئے نہ بھیجتا تو دنیا کے پاس کوئی اُمید باقی نہ ہوتی۔ اگر ہمارے پاس کوئی اُمید باقی ہے، تویہ اِسلئے ہےکیونکہ خدا نے ہمیں حقیقی اُمید بخشی ہے۔ اگر خدا ایسا نہ کرتا ،تو نہ ہی تو ہمارے پاس کوئی اُمید باقی ہوتی اور نہ ہی ہم راستباز ٹھہرائے جا سکتے تھے۔ جب ہم ہر ایک فرد کے مقدر کے متعلق کھوج کرتے ہیں جس میں میَں اور آپ بھی شامل ہیں تو ہم اِسی حقیقت کو پاتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگرچہ ہم ” تمام مخلوقات کے خداوند“ مانےجاتےہیں تو بھی جسمانی طور پر گناہ آلودہ پیدا ہونا ،اور اپنی مرضی کے بغیر ہی لا حاصل زندگی بسر کرنا، اور جہنم میں جانا یہی ہمارا مقدر ہے۔ہم کیسے مسافر ہے! عام طور پر ہم انسانوں کی زندگی کو ایک دن کی زندگی سے تشبیہہ دیتے ہیں جو ایک ہی دن میں پیدا ہوتا ایک ہی دن میں عارضی زندگی بسر کرتا، مر جاتا اور پھر خاک میں لوٹ جاتا ہے۔ یسوع کے بغیر ہمارے پاس کوئی کامل اُمید نہیں ہے۔ بنی نوع انسان چاہے اُن کے کارنامے کتنے ہی مشہور اور عظیم کیوں نہ ہوں وہ اپنی زندگی میں صرف یہی کام کرتے ہیں، پیدا ہونا، کھانا، پینا، مرنا، اور پھر دوزخ میں چلے جانا۔ ہم لا حاصل زند گی گذارتے اور لا حاصل ہی مرَ جاتے اور ابدی عدالت کا سامنا کرنا ہمارا مقدرہے۔
تاہم، خدا نے ہمیں گناہ کو پہچاننے کیلئے شریعت بخشی اور تب سے ہم یسوع مسیح کی گناہ سے بخشش اور فضل کے وسیلہ مُفت راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ اُس نے اپنے اکلوتےبیٹےیسوع کوبھیجا،جس نے ہمارے تمام تر گناہوں کواُٹھالیا،اورصلیب پر مصلوب ہوکر اُن کے لئے کفارہ دیا جو اُس کے بپتسمہ اورصلیبی خون پر ایمان لاتے ہیں۔خدانے یسوع کو ہمارے لئے ایک کفارہ مقرر کِیا جس نے ہمیں راستباز ٹھہرایا۔
 وہ جو گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں کیسے راستباز ٹھہرائے جا سکتے ہیں؟ ہم ،جو گناہوں کی بخشش پا چکے ہیں کیا بدنی راستبازی رکھتے ہیں؟کیا ہم خدا کے نزدیک کسی طور فخر کر سکتے ہیں؟ ہم جسم پر کسی طور بھی فخر نہیں کر سکتے ہیں۔ خدا کی وسیلہ، جو کہ خداوند ہے ،ہم خدا کے شکر گذار ہیں جس نے ہمیں گناہوں کی معافی نجات اور ابدی زندگی عنایت کی ہے۔
ہم جو گناہ کی معافی پا چکے ہیں خدا کے بغیر کچھ نہیں ہیں۔ کیا انسان کے پاس فخر کی کوئی جگہ ہے؟کیا جسم بالکل راستباز ہے؟ کیا ہمارے پاس۷۰-۸۰ برس کی زندگی میں فخر کی کوئی جگہ ہے؟ انسان کے پاس راستباز ٹھہرنے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔ کیا خداکے نزدیک فخر کرنے کو ہمارے پاس کچھ ہے؟جسم کے پاس فخر کرنے کیلئے واقعی کچھ نہیں ہے۔ جسم کے پاس فخر کرنے کو کچھ بھی نہیں، یہاں تک کے ٪۱.۰ بھی نہیں۔
 
 
خدا کی راستبازی ہی وہ واحد چیز ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں
          
ہم خدا کی اُس نجات پر فخر کرتے ہیں جس نے ہمیں ہمارے سب گناہوں سے نجات دی، جیسا کہ لِکھا ہے، ” مگر اَب شریعت کے بغیر خداکی ایک راستبازی ظاہر ہوئی ہے جس کی گواہی شریعت اور نبیوں سے ہوتی ہے۔“ خداوند ہمارا نجات دہندہ اور ہماری ابدی زندگی ہے۔ اُس نے ہمیں راستباز ٹھہرایا ہے۔ کیونکہ یسوع نے ہمیں کامل طور پر نجات دی اِسلئے ہم راستباز ہیں۔ ہم جسم کے کاموں یا شریعت کے کاموں پر فخر نہیں کرتے۔ ہم خداوند کے شکر گذار ہیں اور اُس کے نام کی
تعریف کرتے ہیں کہ اُس نے اپنی بپتسمہ کے وسیلہ ساری دنیا کے گناہوں کو دھو ڈالا اور ساری راستبازی کو پورا کِیا ۔
ہم ایمان کے وسیلے راستبازی کو پا چکے ہیں۔ خداوند نے دنیا کے سب لوگوں کو اُنکے گناہوں سے مخلصی بخشی اور ایک کو بھی گناہ میں رہنے نہ دِیا۔ خدا کی نجات ہمیں خوشی بخشتی اور اُمید عطاکرتی ہے۔ یہ ہمیں نئی قوت سے ہمکنار کرتی ہے۔ ہم خود پر نہیں بلکہ خداوند پر فخر کرتے ہیں۔ خدا کے نزدیک اپنی راستبازی پر فخر کرنے سے ،ہم شرمندہ ہونگے۔ بہت سارے لوگ اپنے کامو ں اور جدوجہد سے پائی گئی راستی کو خدا کی نذر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اُن کی یہ اَنا پرستی گندے کپڑوں کی مانند ہے۔وہ ایک دوسرے کے سامنے تو فخر کر سکتے ہیں ،مگر خدا کے سامنے نہیں۔
خداوند نے ہمیں کامل نجات بخشی، ’یسوع‘ کا مطلب ’نجات دہندہ‘ ہے اور اُسے مسیح بھی کہا گیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ جو نجات دہندہ آدمی کی صورت میں آیا وہ خدا تھا۔ وہ اُسے ” یسوع مسیح “ پکارتا ہے۔ یسوع ہمارا نجات دہندہ اور خدا ہے۔ ہم خداوند کا شکر ادا کرتے، اُس کے نا م کو مبارک کہتے، اور اُس کے نزدیک راست عمل کرتے اور ایمان سے بھری زندگی گذارتے ہیں کیونکہ خدا نے ہمیں کامل طور پر نجات دی ہے۔صرف خدا پر ایمان رکھنے والے ہی راستبازی کے کام کر سکتے ہیں۔
ہم پاک ہیں اور راستبازی کے کاموں کو کر سکتے ہیں کیونکہ خداوند نے ساری دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا اور ہمار ا نجات دہندہ ٹھہرا جس نے ہمیں تمام گناہوں سے مخلصی دی ۔ ہم اپنے آپ سے اپنے گناہوں کا مسئلہ حل نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان نہ تو اپنے گناہوں کو نکال باہر کر سکتا اور نہ ہی اپنے نیک کاموں کے وسیلہ خداکی راستبازی کو پورا کر سکتا ہے۔
خدا نے ہمارے سب گناہوں کو مٹِا ڈالا اور ہم نے خداوند سے راستبازی کو حاصل کِیا۔ہم راستبازہیں۔ کیا ہم نیک کام کرنے کے ذریعے پاک ٹھہر کر اپنی راستبازی کو قائم کر سکتے ہیں؟ اگر کو ئی ایسا کر سکے تو، پھر وہ یسوع کا بڑا بھائی /بہن ہی ہو گا۔ یسوع ایسے شخص کا کبھی نجات دہندہ نہ ٹھہر سکے گا۔ہم اپنی انسانی راستبازی کے ساتھ اپنے جسم کی قابلیت کو نہ پہچاننے کی ایک جبِلت رکھتے ہیں۔جسمانی اعمال جبلت پر ہیں۔ ہماری فطرت ہے کہ جب ہم خطرہ سے دوچار ہوتے ہیں تو ہم خطرہ سےبچنے کیلئے جدوجہد کرتے ہیں، جب بھی ہم مزیدار کھانا دیکھتے ہیں تو بہت سا کھانا کھا لینا چاہتے ہیں، اور جب ہم کوئی دلچسپ کھیل دیکھتے ہیں تو اُسے کھیلنا چاہتے ہیں۔
ہم فطری طور پر خدا کی راستبازی پر اپنے جسمانی کاموں سے عمل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ جسم کے
اعمال جبِلت پر ہیں۔ تاہم، ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمارا نجات پانا ہماری اپنی راستبازی کے باعث نہیں ہے۔ ہم شریعت پر اچھی طرح عمل کر کے جسم کے ساتھ نیک کام کر کے یا اپنے آپ کو خداکیلئے وقف کر کے کبھی بھی نجات نہیں پا سکتے ہیں۔ ہمارے کارنامے خدا کی راستبازی میں شامل نہیں ہیں ،یہاں تک کہ%۱.۰بھی نہیں۔ ہم اِس ایمان کے وسیلہ راستباز ٹھہرائے گئے کہ خدا آدمی کی صورت پر دنیا میں آیا اور مصلوب ہونے سے پہلے یوحنا سے بپتسمہ لیا اور ساری راستبازی کو جو ہمیں کامل طور پر ہمارے سب گناہوں سے مخلصی بخشتی ہے پورا کیا۔
 
 
خداوند جس نے ہمیں نجات دی کامل نجات دہندہ ہے
          
خداوند نے انسان کے سب گناہوں کو جنہیں وہ اپنے مرنے کے دن تک کر بیٹھتے ہیں ،اُنہیں اُن سے دور کر دیا اور اُن سب کا کامل نجات دہندہ بنا،اور ہمیں راستبازٹھہراکر ساری راستبازی کو پورا کیا۔ خدا نے ساری راستبازی کو پورا کرنے کے وسیلہ ہمیں کامل ٹھہرایا۔ خدا نے ہمیں روحانی کام کرنے کے قابلِ کِیا۔ ہم روحانی کام کرنے کا حق رکھتے ہیں ،کیونکہ ہم اُس کی راستبازی کو حاصل کر چکے ہیں اگرچہ ہمارا جسم نفسانی کاموں کو جاری رکھتا ہے تو بھی ہم پاک ٹھہرائے گئے ہیں۔تاہم ،جن کے گنا ہ مِٹائے نہیں گئے ابھی تک روحانی کام نہیں کر سکتے۔ وہ ایسا کرنے کے اہل نہیں ہیں۔
 ہم خدا کے وسیلہ روحانی کاموں کو کرنے کے اہل ٹھہرے ہیں۔ اب ہم روح کے کام کر سکتے ہیں۔ ہم جسم کے کاموں کے علاوہ خدا کے راستبازی کے کاموں کو کر سکتے ہیں۔ کیسا کامل ہے یہ خدا جو ہمارا نجات دہند ہ بنا ہے! خدا ،جس نے سب چیزوں او رانسان کو خلق کیا نجات کے خداوند کے طور پر ہم پر ظاہر ہوُا کیونکہ وہ دنیا میں آیا اور ساری راستبازی کو پورا کِیا۔ ہمارے ساتھ اُس کے تعلق میں، خدا ہمارا خداوند اور نجات دہندہ بنا جس نے ہمیں رہائی دی۔
نجات ناقص ہو سکتی تھی اگر نجات دینے والا کمزور ہوتا اور مخلصی دینے کی خاصیت کے بغیر ہوتا۔
پھر ناکامی کا کوئی امکان موجود ہو سکتا تھا۔ اِس کے بر عکس، جس نے ہمیں نجات دی وہ کوئی شخص نہیں ہے۔ وہ خداوند خدا اور ہمار ا خالق ہے جس نے سب چیزیں خلق کیں۔یوحنا۱:۳بیان کرتا ہے کہ، ” سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کچھ پیدا ہوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدانہیں ہوئی۔ “ یسوع کون ہے؟ وہ ہمارا نجات دہندہ ہے۔ نجات دہندہ کون ہے؟ وہ خدائے خالق ہے۔ خدانے ہمیں کامل طورپرنجات دی ہے۔ ہماری نجات کامل ہے کیونکہ اُس خدائے واحد نے ہمیں نجات دی ہے۔ یہ ہمیشہ کیلئے قائم و دائم ہے۔ تاہم تب ہماری نجات بے اثر ہوگی اگر وہ ہمارے خالق کی بجائے اُس کی مخلوق میں سے کسی شخص کے وسیلہ آتی۔ ایسی نجات دیر پا نہ ہوتی ،اور اُس کی راستبازی گھناؤنے قہر کی مانند ہوتی۔ اگر کوئی چمڑے کا بہترین لباس پہنے ہو تو اگر وہ فٹ بال کھیلے یا پھُسلان سے پھسل کر نیچے آئے تو بھی یہ نہیں پھٹے گا۔ لیکن اگر وہ شاندار لباس کامل نہ ہونگے، تو وہ ضرور ایک ہی مرتبہ پہننے سے پھٹ جائیں گے۔
خداوند جس نے ہمیں ہمارے سب گناہوں سے نجات دی ناکامل نہیں ہے۔ خداوند جس نے ہمیں نجات دی کامل خدا ہے۔ یسوع جس نے بپتسمہ کے وسیلہ ہمارے سب گناہوں کو اُٹھا لیا ،مصلوب ہوُا، مرُدوں میں سے جی اُٹھا اور خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھا ہے اُس کی نجات کبھی بے اثر نہ ہو گی، چاہے ایمان لانے والے جسمانی طور پر کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں۔ یہی ہے وہ نجات جو خدا نے ہمیں دی ہے۔
 
 
ایمان سے زندہ رہنے کیلئے ہمیں اپنی جسمانی راستبازی کے ایمان کو شکستہ کرنا ہوگا
          
بائبل میں،وہ جو اپنی راستبازی سے بھرے ہوئے تھے وہ کئی طرح کی مشُکلات میں گرِے ہوئے تھے کیونکہ خدا اُن مشکلات کے وسیلہ اُن کی راستبازی کو شکستہ کرنا چاہتا تھا۔ یہاں اِس طرح کے بہت سے حوالہ جات ہیں، ” تاہم ہنوز اونچے مقام ڈھائے نہ گئے تھے “ سلاطین کی کتِاب میں قلمبندہے۔اِس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے آپ میں کامل نہیں، بلکہ وہ خداوند پر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہرایا جاتاہے۔
میرے پیارے مقدسو، قطع نظر اِس کے کہ ہم کتنے کمزور ہیں خدانے ہمیں کامل نجات دی ہے۔
اگرہم صرف اپنی راستبازی سے زندہ ہیں تو ہم مرَ جائیں گے۔ مگر خداوند ہمارے خدانے ہمیں کامل نجات بخشی ہے۔ اگر ہم خداوند کی راستبازی کیلئے زندہ رہیں تو ہم کمزورہی کیوں نہ ہوں وہ ہم سے خوش ہو گا۔
یسعیاہ۵۳: ۵بیان کرتا ہے، ” حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیِا گیا اور ہماری بدکاری کے باعث کچُلا گیا ہماری ہی سلامتی کیلئے اُس پر سیاست ہوئی تا کہ اُس کے مار کھا نے سے ہم شفا پائیں۔ “ خدا نے ہماری بدکاریا ں ایک ہی مرتبہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دور کر دیں۔ ہمیں اِس کے متعلق خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں کہ ہماری راستبازی شکستہ کی جائے گی۔
بعض لوگوں کی شخصیت بالکل گلازویسلز (ایک بہن کا نام) کی طرح ہے۔ میں ایک بہن کو جانتاہوں جو امریکہ جا چکی ہے۔ وہ بڑی اعلیٰ ظرف تھی: جب کبھی میں اُس سے ملتا وہ بڑی احتیاط سے بولتی اور کبھی بُرے الفاظ منہ سے نہ نکالتی تھی۔ و ہ ایک بہت بُرے آدمی کو بھی صرف ” مسٹر بُرے آدمی “ ، کہہ کر پکارتی تھی اگرچہ وہ گناہوں کی معافی حاصل کرچکی تھی۔ اُس نے یسوع کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان لانے کے وسیلہ گناہوں کی معافی حاصل کی، تو بھی اپنے راست کاموں سے بھری ہوئی تھی۔ تاہم ،گناہوں سے معافی حاصل کرنے کے بعد، ابھی تک وہ اپنی راستبازی سے پُر تھی، اس طرح وہ اِس بات کے اظہار میں نہایت احتیاط برتتی اور کبھی اُس خوف کا اظہا کرنے کی کوشش نہ کرتی کہ اُس کی راستبازی ختم ہو جائے گی۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو اُس کی طرح ہیں۔ کیا اُن کی راستبازی دیر پا نہیں ہے؟یہ جلد ختم ہو جائے گی۔
اگرچہ آپ نجات پا چکے ہیں تو بھی کیا آپ کا جسم کمزور ہے؟ ہاں۔ کیا آپ کامل طور پر ایک اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں؟ ہم گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے بعد جب روح میں چلتے ہیں تو پھر ہم کامل رہ سکتے ہیں۔صرف راستباز کے کام خدا کے نزدیک راست ٹھہرنے کے اہل ہوتے ہیں۔جب ہم روح کے ساتھ کام کرتے اور روح کے مطابق چلتے ہیں تو ہم قابلِ تعریف ہیں۔ ہمارے جسم کے پاس فخر کرنے کیلئے کچھ نہیں ہے۔ مقدسین کے درمیان بعض لوگ ایسے ہیں جو گناہوں کی معافی پا چکے ہیں تو بھی اُنہیں یہ خوف رہتا ہے کہ یہ کہیں شکستہ نہ ہو جائے۔
تاہم ،خداوند ایسے مقدسوں سے خوش نہیں ہے۔ بہر حال انسانی راستبازی شکستہ ہو جائے گی۔ جتنی جلدی یہ شکستہ ہو جائے یہ اُتنا ہی بہتر ہے۔ بہر صورت یہ ۱۰یا ۲۰برس کے بعد شکستہ ہو جائے گی۔ اِسلئے، اب جسمانی آدم کا ٹوٹنا بہتر ہوگاتاکہ باطنی آدم ایمان کے وسیلہ زند ہ رہ سکے۔ لوگ اپنی اِس راستبازی کو شکست دینے کی کوشش نہیں کرتے ،اگرچہ یہ کسی نہ کسی طرح شکستہ ہو جائے گی ۔
خداوند ہمارا نجات دہندہ بنا۔ ہمارا نجات دہندہ کیسا کامل ہے! خداوند خدا ہمارا نجات دہند ہ بن چکا ہے۔ اُس نے مجھے اور آپ کو دونوں کو ہی نجات دی ہے۔ کیا آپ اپنے جسم کی خطاؤں کے سبب سے پھر گنہگار ہو جاتے ہیں؟ نہیں ۔خدانے ساری راستبازی کو پوراکر دیا ہے۔ پانی اور روح کے وسیلہ ہمارے نئے سرے سے پیدا ہونے کے بعد کئی مرتبہ ہماری راستبازی شکستہ ہو جاتی ہے۔ اکثر اوقات ہماری بدی ظاہر ہو جاتی ہے جیسے ہی ہم خداوندکی پیروی کرتے ہیں ۔باطن کی صورت میں ، جبکہ ہم اسے اپنے آپ میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ ظاہر ہوجاتی ہے اور ظاہر پرستی کی صورت میں یہ دوسرے لوگوں پر ظاہر ہوتی ہے۔جب ہماری راستبازی ظاہر ہوتی ہے، تو صرف ہماری راستبازی ہی شکستہ ہوتی ہے حالانکہ خدا کی راستبازی مضبوطی سے قائم رہتی ہے۔
 
 
جو جسم سے پیداہوا وہ جسم ہے، اور جو روح سے پیدا ہوا وہ روح ہے
 
میں چاہتا ہوں کے آپ ایمان رکھیں کہ خداوند خدا ہماراکامل نجات دہندہ بنا۔ اِس لئے، ہمیں ایمان کے وسیلہ زندہ رہنا چاہیے۔خدا ہماری راستبازی کو شکستہ کرنا چاہتا ہے اور وہ اِ سی سے خوش ہے۔ یوحنا ۳:۶میں لِکھا ہے، ” جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوُا روح ہے۔“ جسم کبھی روح نہیں بن سکتا۔ بدُھ مت میں، ” نجات کی تعلیم دنیاوی وجود سے تعلق رکھتی ہے “ یہ زور دیتی ہے کہ جسم روح میں تبدیل ہو سکتا۔ جسم کبھی ایک روح نہیں بن سکتاہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ کون یہ کر سکتاہے؟ سامنے آئے۔ کوئی شخص بھی یہ نہیں کر سکتا ہے۔
سنگ چُل، کوریا کا ایک بہت مشہور ہم عصَر بدھ مت راہب تھا ،جو چند سال قبل انتقال کر گیا ۔ اُس نے سچائی پر غور کرنے سے یہ پایا حالانکہ وہ دو دہائیوں سے بڑے نیک کام کر رہا تھا۔ وہ روحانی آگاہی حاصل کرنے کے لئے پچھلے دس برسوں سے لیٹ کر نہ سویا تھا۔ وہ تقریباً اِن دس سالوں میں بیٹھ کر ہی سویا کرتا ،اور صرف اپنے ذہن کو پاک کرنے کی کوشش کرتا، برُے خیالات، شہوت پرستی، بدکاری، خون کرنا، چوری کرنا، برائی کرنا، فخر اور حماقت جو اُسکے اندر تھی کو شکست دینے کی کوشش کرتا تھا۔ بہت سے لوگوں کا اُس کے متعلق یہ خیال تھا کہ وہ ایک زندہ بدُھا تھا۔ مگر ،وہ اپنے آپ میں جانتا تھا کہ وہ بالکل جسم کی خواہشات کو ختم نہ کر سکتا تھا ۔اِسلئے ،اُس نے اپنے مرَنے سے پہلے پہاڑوں کے دل میں تقریباً دو دہائیا ں
گذارنے کے بعد اپنی عقل کا نچوڑ نروانا نظم کے ایک ٹکڑے کی صورت میں پیش کیا:
 ”میں اپنی زندگی میں بہت سے مردوں اور عورتوں کی گمراہی کا سبب بنا، میرے گناہ سب سے اونچے پہاڑسے بھی بلند ہیں۔ میں جہنم کے نہ ختم ہونے والے گڑے میں ڈالا جاؤں گااور میرا ماتم دس ہزار
راستوں میں بٹ جائے گا۔ سرُخ سورج کا ٹکڑا نیلے پہاڑوں کے پیچھے چُھپ جاتا ہے۔“
تمام مذہبی لوگ اُسکی پُر جمال شخصیت اور اُسکی مہیا کردہ تعلیمات کو بڑا سراہتے ہیں۔ مگر، دراصل اُس نے اپنے آپ یہ اقرار کِیاکہ وہ جہنم میں جائے گا۔
 ہمارا جسم کبھی بھی روح نہیں بن سکتا ،لیکن جب ہم اُس کی نجات پر ایمان لانے کے وسیلہ نئے سرے سے پیداہوتے ہیں تو ہماری روح خداوند کی فرزند ٹھہرتی ہے۔ ہم صرف خد ا کے الہٰی فضل کے وسیلہ جس نے ہمیں اپنی راستبازی میں زندہ کِیا ہے نئی مخلوق بن سکتے ہیں۔
خادمین، راہب اور کیتھولک راہب قیدی منسٹریوں میں شامل ہو کر قیدیوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی کے آرام کے لئے نیک زندگی بسر کریں۔ تاہم ،جسم کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ خدا چاہتا ہے کہ ہم اپنی جسمانی راستبازی کے اعتقاد کو چھوڑ دیں اور پختہ ایمان رکھیں کہ خداوند ہی ہمارا نجات دہندہ ہے۔ یسوع کے بپتسمہ اور صلیب پر ایمان رکھیں۔ پھر ، آپ کے پاس نجات کا عظیم ایمان ہو گا۔
 
 
اب خدا ایمانداروں کی تلاش کرتا ہے
          
خداوند ہمارے لئے ایک کفارہ بنا۔ اُس نے بپتسمہ لیا تاکہ اُن سب چیزوں کو دور کرے جو انسان کو خدا سے جُداکرتی تھیں۔ اُسکی ہماری خاطر عدالت ہوئی، اور ہمارے گناہوں کی مزدور ی اداکرنے کیلئے وہ مصلوب ہو گیا، اور ہمیں ہمارے سب گناہوں سے چھڑا لیا۔ خداہمارا لئےکفارہ بن گیا۔
وہ فرماتا ہے، ” اُسے خدا نے اُس کے خون کے باعث ایک ایسا کفارہ ٹھہرایا جو ایمان لانے سے فائدہ مند ہو تاکہ جو گناہ پیشتر ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی اُن کے بارے میں وہ اپنی راستبازی ظاہر کرے بلکہ اِسی وقت اُس کی راستبازی ظاہر ہو تاکہ وہ خود بھی عادل رہے اور جو یسوع پر ایمان لائے اُسکو بھی راستباز ٹھہرانے والا ہو۔“ )رومیوں ۳: ۲۵۔۲۶(
خدا دنیا میں آیا اور ساری راستبازی کو پورا کِیا ۔ اِس دنیا میں ہر کوئی گُناہ کے بغیرہے۔ ہر کوئی خداکی کامل نجات پر ایمان لانے کے وسیلہ بچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ جہنم میں جاتا ہے تو اپنی بے اعتقادی کی وجہ سے جاتا ہے۔ ہر کوئی اپنی جسمانی راستبازی پرایمان اور ریا کاری کو ترک کرے اور خداکو یسوع کے بپتسمہ اور صلیبی موت کے وسیلہ اپنا نجات دہندہ کے طور پر قبول کرے تو وہ نجات پا سکتا ہے۔ ہم خدا کے نقطہ نگاہ سے پاک حالت میں رہتے ہیں کیونکہ اُس نے تمام دنیا کے تمام گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا اور اُنہیں نکال باہر پھینک دیا۔
میں خدا پر ایمان رکھتا ہوں۔ کیا آپ بھی ایمان رکھتے ہیں۔ وہ نجات دہندہ ہے۔ ہم پاک ہیں۔ خداوند خدا نے ہمیں کامل طور پر مخلصی دی ہے۔ ہمارے لئے صرف یہی مشکل رہ جاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کیسے بسر کریں۔ کیسے ہم کو زندہ رہنا چاہیے؟ ہم کو روح میں چلنا چاہیے۔ ہمارے پاس کوئی اپنے گناہوں کو نکال باہر کرنے کے لئے پریشان ہونے کا کوئی عُذر باقی نہیں رہا ہے۔ ” جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے اور جن سے خدا نے تحمل کر کے طرح دی تھی “کے کلام کا مطلب ہے کہ خدا ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہمیں ملعون نہیں ٹھہراتا ہے۔ ہم پاک ہیں اور ہماری عدالت نہیں ہو گی کیونکہ خدا نے پیشتر سے ہی یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لے کر ہمارے گناہوں کو دور کر دیا اورصلیب پر مصلوب ہو کر ہمیں رہائی دی۔ اِس لئے ،خدا ہمارے گناہوں کیلئے ہمیں مُجرم نہیں ٹھہراتا ہے۔ وہ اُن کی راہ دیکھتا ہے جو اِس سچائی پر اپنے پورے دل سے ایمان لاتے ہیں۔
بائبل کہتی ہے کہ کوئی راستباز نہیں ،لیکن ہم خداپر ایمان لانے کے وسیلہ راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ خدا کہتا ہے، ” کوئی راستباز نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ کوئی سمجھدار نہیں۔ کوئی خدا کا طالب نہیں۔ سب گمراہ ہیں سب کے سب نکمے بن گئے۔کو ئی بھلائی کرنے والا نہیں۔ ایک بھی نہیں۔ اُن کا گلا کھُلی ہوئی قبر ہے اُنہوں نے اپنی زبانوں سے فریب دیا۔ اُن کے ہونٹوں میں سانپوں کا زہر ہے۔ اُن کا منہ لعنت اور کڑواہٹ سے بھرا ہے۔ اُنکے قدم خون بہانے کیلئے تیز رو ہیں۔ اُن کی راہوں میں تباہی اور بدحالی ہے۔ اور وہ سلامتی کی راہ سے واقف نہ ہوئے۔ اُنکی آنکھوں میں خدا کا خوف نہیں۔ “ (رومیوں۳:۱۰ ۔۱۸)۔
خدا دنیا میں آیا اور اُن سب کے گناہوں کو جو اِس دنیا میں رہتے ہوئے ہر طرح کی برائی کر چکے اور کوئی راستبازی نہیں رکھتے اور بےسودبن گئےتھے،دریائےیردن میں دور کر دیا ۔ کیا آپ یہ ایمان رکھتے ہیں؟
 اب، خدا کی نگاہ اُن لوگوں پر ہے جو یہ ایمان رکھتے ہیں کہ اُس نے اُن کو اُنکے تمام گناہوں سے نجات دی ہے۔ خداوند کی آنکھیں راستبازوں پر لگی ہوئی ہیں۔ وہ ہم راستبازوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وہ ہماری فکر کرتا، اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتاہے۔ ہمیں قوت دیتااور ہمارے ساتھ کام کرتا ہے۔ خدا ہمیں راست کاموں کی تحویل میں دیتاہے۔ اگر ہم اپنے جسم کی برائی پر غمناک ہوتے ہیں تو یسوع ہم سے بھی زیادہ غمناک ہو جاتا ہے، ” کیوں تم اپنے دل کی خطاؤں سے افسردہ ہو جبکہ میں پیشتر ہی سے تمہیں تمہارے سب گناہوں سے نجات دے چکا ہوں؟ “
اب وہ کچھ جو ہمیں کرنا ہے وہ یہ ہے خدا پر ایمان لائیں، روح کے مطابق چلیں اور روحانی فصل کی کٹائی کیلئے خوشخبری کی منادی کریں۔ یہی ہے وہ چیزیں جو ہمیں کرنی ہیں۔ کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں؟ آپ اپنی راستبازی کو نمایا ں یا اِسے قائم کرنے کی کوشش نہ کریں، اپنی راستبازی کا موازنہ اِس نمایاں کرنے کے لئے دوسروں کے ساتھ مت کریں۔ اُس شخص پر تہمت مت لگائیں جو خود سے راستباز نہیں ٹھہر سکتا۔ در حقیقت، یہاں کو ئی ایسا انسان نہیں جو فطری طور پر راستباز ہو۔
 
 
ہم خداوند کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں بپتسمہ اور صلیب کے وسیلہ مخلصی بخشی
 
ہمارے پاس خدا کی اُس محبت کے سوا فخر کرنے کو کچھ نہیں ،جس نے ہمیں کامل طور پر نجات دی
۔ہمارے پاس فخر کرنے کے لئے جو سب کچھ ہے وہ خدا کی مہیا کردہ نجات ہے، اُسی کی حمد کریں، اُس کو جلال دیں اور پانی اور رو ح کی خوشخبری کی منادی کریں۔ہمیں گناہ اور دوزخ میں جانے کے متعلق پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ” پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں“ (رومیوں۸:۱)۔کبھی نہیں۔کیا آپ اِ سے جانتے ہیں؟ ہر کوئی اگر اِس حقیقت کے ساتھ پیوستہ نہیں کہ خداوند نے اُسے اپنے راست عمل سے نجات دی تو پھر وہ جہنم میں ہی جاتا ہے۔تاہم، اگر وہ یہ ایمان رکھتاہے تو اُسے جہنم کے متعلق فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
خداوند خدا نے ہمیں یسوع کے بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سب گناہوں سے مخلصی دی۔ ہم کتنے شکر گذار ہیں! ” چنانچہ ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ انسان شریعت کے اعمال کے بغیر ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہرتا ہے۔ کیا خدا صرف یہودیوں ہی کا ہے غیر قوموں کا نہیں؟ بیشک غیر قوموں کا بھی ہے “ (رومیوں۳:۲۸ ۔۲۹)۔
خدا صرف یہودیوں ہی کا خدا نہیں ہے، بلکہ غیر قوموں کا بھی خدا ہے۔ وہ تمام بنی نوع انسان کا
خدا ہے۔ خداوند خدا نے ہمیں ہمارے گناہوں سے مخلصی بخشی۔ وہ ہمیں چھڑانے کیلئے دنیا میں آ گیا، ہمارے سب گناہوں کو اُٹھانے کیلئے بپتسمہ لیا ،او ر ہمارے سب گناہوں مزدوری ادا کرنے کے لئے مصلوب ہوُا۔ اِس لئے ،وہ تمام بنی نوع انسان کا نجات دہندہ اورخدا گنِا گیا ہے۔ یہی رومیوں ۳باب کا خلاصہ ہے۔ پولوس رسول یہ ایمان رکھتاتھا۔اِسلئے ہم کو بھی یہ ایمان رکھنا چاہیے۔
پولوس رسول نہ صرف جسمانی کمزوری بلکہ شریعت کے اعمال کے بغیر خدا کی راستبازی کے متعلق بات کرتا ہے۔ ہم شریعت کے اعمال سے نجات یا فتہ نہیں ٹھہر سکتے ہیں۔ کسِ کے وسیلہ ہم رہائی پا سکتے ہیں؟ خدا کی نجات پر ایمان لانے کے وسیلہ ہم نجات پا سکتے ہیں۔ جو گناہ پیشتر سے ہو چکے تھے اور جن سے خداوند خدا نے طرح دی تھی اُن سب کے لئے خداوند ہمارا کفارہ ٹھہرا۔ اِسلئے، بے ایمانوں کی روح القدس کی مخالفت کرنے کے جُرم میں عدالت ہو گی۔ وہ جسمانی کمزوری کے گناہ کے باعث عدالت نہ کریگا کیونکہ دنیا میں کو ئی گناہ نہیں ہے۔
اِسلئے ہمیں خداوند خدا پر ایمان لانا ضرور ہے۔ ایمان لانے والوں کیلئے کو ئی عدالت یاعذاب نہیں
ہے۔ خدا ایمانداروں کا خدا ہے، اِس لئے ہمیں اپنی زندگی کا بقیہ روح کے ساتھ چلتے ہوئے گذارنا چاہیے۔ ہم ہمیشہ روحانی کام کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے گناہ پیشتر سے معاف کئے گئے تھے ،تو بھی ہمارا جسم جسمانی خواہشات میں رہ کر زندگی گذارنا چاہتا ہے۔ خداوند خدا یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کا خدا ہے۔ وہ ایمانداروں اور بے ایمانوں دونوں کا خدا ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ خدا چاہتا ہے کہ تمام انسان اپنے گناہوں سے مخلصی پائیں۔ وہ بے ایمانوں کا نجات دہندہ ٹھہر سکتا ہے۔ وہ ایمانداروں کا تو پہلے ہی خدا ٹھہر چکا ہے۔
 میں خدا وند خدا کا تہہِ دل سے شُکر گزار ہوں۔ اگروہ جسمانی صورت میں اِس دنیا میں نہ آتا اور اگر وہ دریائے یردن پر تمام گناہوں کو دور کرنے کیلئے بپتسمہ نہ لیتا،تو میں کیسا بے بس اور بے یارو مدد گار ہوتا۔ اگر وہ ہمارا کامل نجات دہند ہ نہیں ٹھہرتا، توہم گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے بعد پھر گنہگار ہو جاتے کیونکہ ہم اپنی موت کے دن تک کمزور ہیں۔ میں خداوند کا شُکر ادا کرتا ہوں۔