خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب5-2] <رومیوں۵:۱۴> ایک آدمی کے وسیلے

<رومیوں۵:۱۴>
”تو بھی آدم سےلےکر موسیٰ تک موت نے اُن پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اُس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیِاتھا۔“
 
 
سب سے پہلے، گنہگاروں کو گناہ کے بارے عِلم ہونا چاہیے
 
آج، میں آپکو گناہ کی اصل کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔ آپ اپنے آپ سے مت سوچیں کہ، ” آپ بالکل یہی باتیں روزانہ بیان کرتے ہیں۔ مجھےدوسری چیزوں کے متعلق بتائیں۔“ میں چاہتا ہوں کہ آپ غور سے سُنیں۔ سب سے بیش قیمت چیز خوشخبری ہے۔ اگر ایک پاک شخص جس کے گناہوں کو مٹا دیا گیا ہے اگر خوشخبری کو روزانہ سُن کر اپنے ذہن میں نقش نہیں کر لیتا، تو وہ ہلاک ہو جائے گا۔ کیسے وہ پانی اور روح کی خوشخبری کو سُنے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ صرف خوشخبری کو سُننا ہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ زندہ رہ سکتا ہے۔ آئیں اپنی بائبل کو کھولیں اور اِس کے حقیقی مطلب کو سیکھتے ہیں۔
میں نے سوچا کہ، ” اُن گنہگاروں کے لئے جن کے گناہ ابھی تک مٹائے نہیں گئے اُن کیلئے سب سے ضروری چیز کیا ہے؟ “ پھر میری سمجھ میں آیا کہ اُن کو خدا کے کلام کے مطابق گناہ کے بارےصحیح علم کی ضرورت ہے کیونکہ وہ صرف اُس وقت ہی گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے ہیں جب وہ اپنے گناہ کو جانتے ہوں۔ میرا یقین ہے کہ گنہگاروں کو گناہ سے آگاہی سب سے ضروری اَمر ہے۔
بنی نوع انسان اپنی پیدائش کے وقت سے چاہتے یا نا چاہتے ہوئے اکثر اوقات گناہ کر بیٹھتا ہے۔
وہ گہرائی سے گناہ کے متعلق جو اُس میں بسا ہوُا ہے خیال نہیں کرتا یہاں تک کہ اگرچہ وہ خدا کے نزدیک گنہگار ہے کیونکہ وہ اپنی پرورش کے دوران ہی بہت زیادہ گناہ کر لیتا ہے۔ یہ ایک فطری بات ہے کہ ایک سیب کا درخت اپنی بڑھوتری کے دوران پہلے پھول نکالتا اور وقت کے ساتھ سیب پیدا کرتا ہے۔ تاہم ،
ضرور ہے کہ ہم جانیں کہ خدا کی شریعت کے مطابق گناہ کی مزدوری موت ہے۔
اگر کوئی واقعی گناہ کے متعلق سوچتا اور حقیقی طور پر اُس کے نتیجہ کو جانتاہے، تو وہ اِس گناہ سے اور خدا کی عدالت سے رہائی پا سکتا ہے، اور اُس کی روحانی نعمتوں کو حاصل کر سکتا ہے۔ اِسلئے گنہگار کیلئے سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ اُنہیں گناہ اور اُس کے نتیجہ کے متعلق ا ور گناہوں کی مخلصی کی سچائی کو جسے خدا نے مہیا کیا سیکھنا اور اِس کے متعلق آگاہی ہونی چاہیے۔
 
 
کیسے گناہ دنیا میں آیا؟
 
کیوں ایک انسان گناہ کرتا ہے؟ کیوں میں گناہ کرتا ہوں؟ بائبل مقدس رومیوں۵:۱۲ میں اِس کے متعلق اِس طرح بیان کرتی ہے، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گنا ہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِسلئے کہ سب نے گناہ کیا۔“ گناہ کے سبب سے اِس دنیا میں کیا آیا؟ موت۔ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ موت کا مطلب محض جسمانی موت ہے۔ تاہم،یہاں موت کا معنی روحانی طور پر خدا سے دور ی ہے۔ یہ جسم کی ہلاکت کے ساتھ خدا کی عدالت اور جہنم پر بھی دلالت کرتا ہے۔ رومیوں ۵:۱۲ہمیں بتاتا ہے کہ کیسے انسان گنہگار ٹھہرے۔
بائبل فرماتی ہے، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گنا ہ کیِا۔ “ خدا کا کلام سچائی ہے۔ ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا ، اور گناہ کے سبب سے موت آئی۔
ہم آدم کی اولاد کے طور پر پیدا ہوئے تھے۔ پھر کیا ہم آدم کی اولاد ہونے کے سبب سے گناہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ — ہاں، ہم گناہ رکھتے ہیں —کیا ہم گناہ آلودہ پیدا ہوتے ہیں؟ — ہاں، کیونکہ ہم آدم کی نسل ہیں ،جو ہمارے پہلے ماں باپ تھے—
آدم تمام انسانوں کا باپ ہے، تاہم ،آدم اور حوا نے جب وہ باغِ عدن میں تھے شیطان کے بہکاوے میں آ کر خدا کے خلاف گناہ کِیا۔ خدا نے اُنہیں بتایا کہ تم باغ کے ہر درخت کا پھل کھا سکتے ہو مگر نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل مت کھانا۔
لیکن وہ شیطان کے فریب کے باعث خدا کے کلام کو بھول گئے اور نیک وبد کی پہچان کے درخت
کے پھل کوکھا لیا۔ آدم اور حوا نے خدا کے کلام کو، جو کہ ابدی زندگی ہے ترک کرنے کا گناہ کِیا۔ آدم اور حوا کے گناہ کے بعد، آدم حوا کے پاس گیا ،اور اِس طرح آ دم اور حوا کے وسیلہ تمام دنیا پیدا ہوئی۔ ہم اُن کی اولاد ہیں۔ ہم صرف اُنکے ظاہری وجود کے ہی نہیں، بلکہ اُنکی گناہ آلودہ فطرت کے بھی وارث ٹھہرے۔
اِس لئے، بائبل مقدس فرماتی ہے کہ انسان ایک گنا ہ آلودہ نسل ہے۔ سب انسانوں نے آدم اور حوا سے گناہ کو وراثت میں پایا۔ بائبل فرماتی ہے، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِس لئے کہ سب نے گناہ کیِا۔ “ اِسیلئے تمام انسان گناہ آلودہ پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم، لوگ یہ نہیں جانتے کہ وہ گناہ آلودہ پید اہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ گناہ آلودہ پیدا ہوتے ہیں تو بھی وہ گناہ کو پہچان نہیں پاتے ہیں۔ ایک درخت اپنے بیج کے ذریعے بڑھتا کونپلیں نکالتا اور پھل لاتا ہے ،مگر لوگ خیال کرتے ہیں کہ گناہ اُن کیلئے عجیب ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ گناہ کی نسل کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ یہ عجیب ہے، بالکل سیب کے درخت پر سیب کا پھل لگنے سے اُس درخت کو یہ کہنے کے برابر ہے کہ کیوں میں سیب کا پھل پیدا کروں؟
اِسی طرح انسا ن کا گناہ کرنا ایک فطرت ہے۔ یہ سوچ کہ ایک شخص گناہوں کو ترک کر سکتا ہے یہ مکمل جھوٹ ہے۔ ایک انسان جسے گناہ وراثت میں ملا ہے اپنی تمام زندگی گناہوں کو روک نہیں سکتا اور گناہ کا پھل پیدا کرتا ہے، مگر وہ اِس کی گہرائی میں جا کر خیال ہی نہیں کر پاتا کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ خدا کیا کہتا ہے؟، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِسلئے کہ سب نے گناہ کیِا۔“
کیونکہ ہم گنہگار پید اہوئے تھے اِس لئے ہم اپنی تمام زندگی گنا ہ کرتے ہیں۔ اِس لئے، ہم خدا کی عدالت کے مستحق ہیں۔ آپ خیال کر سکتے ہیں کہ، کیا یہ خدا کیلئے بے انصافی نہیں کہ جب ہمارے پا س گناہ کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں تو وہ ہماری عدالت کرے؟ تاہم،گناہوں کی مخلصی پانے کے بعد، آپ جانیں گے کہ خدا ہمیں اپنے فرزند ٹھہرانے کیلئے اپنے منصوبہ کو تمام کرتا ہے۔
 
 
ہم سب ایک شخص یعنی آدم کی اولاد ہیں
 
پھر، کیسے بنی نوع انسان جو ایک شخص،آدم،کی اولاد ہیں مختلف طرح کی جسمانی رنگت رکھتے ہیں؟کیا اُن کی نسل فرق ہے؟ کیوں یہاں سفید، براؤن اور کالے لوگ ہیں؟بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جب خدا نے آدم کو میدان کی خاک سے بنایا تو اُسے بھٹی میں تپایا ،اور جسے خدا نے فوراً بھٹی میں سے نکال لیا وہ سفید رنگ والا آدمی تھا ،اُس کے بعد جسے نکالا وہ زرد یعنی براؤن تھا اور جسے سب سے بعد میں نکالا وہ کالی رنگت والا آدمی تھا۔
آپ حیران ہو سکتے ہیں کہ کیوں یہاں کالے ،گورے ،او ربراؤن رنگ کی نسلیں ہیں اگرچہ تمام انسان ایک آدمی کے وسیلہ گنہگار ٹھہرے۔ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ اِبتدا میں خدا نے آدم کو خلق کیِا،جب اُس نے زمین و آسمان کو پید اکیِا ۔ ”آدم“ کا مطلب ایک آدمی ہے۔ خدا نے ایک ہی آدمی کو خلق کیِا۔ اگر خدا نے ایک ہی آدمی ،آدم،کو خلق کیِاتو دنیا میں مُختلف نسلیں کیوں ہیں حالانکہ دنیا کے تمام لوگ اُسی کے وسیلہ سے پیدا ہوئے تھے؟ ہم پوچھ سکتے ہیں کیوں ،لہذا جواب یہاں موجود ہے۔
 سائنس دان کہتے ہیں کہ جلد کے رنگ(روغن) کو میلانن کہتے ہیں جو جلد کو سورج کی شعاعوں سے جلنےسےمحفوظ رکھنے کیلئے خود بخود جلد سے باہر نکلتا ہے۔ جب زمین سورج کے گرد گردش کرتی ہے تو، وہ جو سورج کی تیز دھوپ والےعلاقوں میں رہتے ہیں کالے ہو جاتے ہیں، اوروہ جو سورج کی کم روشنی والےعلاقوں میں رہتے ہیں سفید ہیں، اور وہ جو ایسےعلاقوں میں رہتے ہیں جو نہ ہی زیادہ اور نہ ہی کم روشنی رکھتے ہیں وہ مناسب روشنی کی وجہ سے براؤن ہو گئے ہیں۔ تاہم، ہمارا باپ ابھی بھی ایک ہی شخص ،آدم ہے۔
سائنسدانو ں نے اعلان کِیا کہ میلانن خود بخود جلد سے باہر نکل آتی ہے اور جلد کو سورج کی روشنی سےمحفوظ رکھتی ہے۔ پس، میں اُسی وقت سے جان گیا۔ میں نے جانا کہ بنی نوع انسا ن ایک ہی آدم کی نسل تھے، مگر میں میلانن کے متعلق ابھی تک نہیں جان پایا کہ یہ کیا ہے۔ ہم صرف جسم کے وارث ہی نہیں، بلکہ گناہ کے بھی ہیں کیونکہ ہم ایک شخص ،آدم ،کی نسل سے ہیں۔
کیا آپ گنا ہ کو جانتے ہیں؟ آئیں اِس بات کی کھوج لگاتے ہیں کہ آیا جب ہم اِس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں تو ہم گنہگار ہوتے ہیں یا نہیں۔ ” اِسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور بُرا درخت بُرا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا نہ بُرا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے “ (متی۷: ۱۷۔۱۸)۔ خدا فرماتا ہے کہ جھوٹے نبی صرف جھوٹ کا پھل لاتے ہیں اور کبھی بھی اچھا پھل نہیں لا سکتے ہیں۔ ہم اصل میں بُرے درخت ہیں کیونکہ ہم گُناہ کے ساتھ پیدا ہوئےتھے،اس لئے ہم بُرے پھل پیدا کرنا روک نہیں سکتے کیونکہ ہم بُرے درخت کی طرح پیدا ہوئےتھے۔
ہم نے ایک شخص کے وسیلہ گناہ کو وراثت میں پایا۔ اگر ہم درختوں کے ساتھ موازنہ کریں تو ہم بُرے درخت ہیں۔ ایک انسان، جو گناہ میں پیدا ہواتھا، اگر وہ اپنی زندگی کو ایک اچھی زندگی کی طرف لےجانا چاہتا ہے اور گناہ کو کبھی نہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بھی گناہ اُس سے ہوجاتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسا کہ ایک بُرا درخت اچھا پھل نہیں لا سکتا ہے۔ کیا آپ سمجھ گئے ہیں؟ انسان حقیقی طور پر شریفانہ، حلیمی سے، اور پارسائی سے زندگی گذارنا چاہتے ہیں۔ تاہم ،ایک شخص جس نے گنا ہ کی مخلصی کو نہیں پایا اور گناہ میں پیدا ہُوا تھا ایک راست زندگی بسر نہیں کر سکتا ہے۔ وہ اپنی نہ ختم ہونے والی جدو جہد کو جاری رکھتا ہے، تو بھی راست نہیں بن سکتا ہے۔ بعض شرابی بہت زیادہ شراب پینے سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ،لیکن آخر کار وہ شراب سے بیمار ہو جاتے ہیں اور اُنکے گھر والے اُنہیں ہسپتال میں چھوڑ کر غائب ہو جاتے ہیں۔
ایک دن، میں نے ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھا جسکا عنوان تھا، ” میں یہ جاننا چاہتا ہوں“ ایک شخص جو مینٹل ہسپتا ل میں ۱۳برس سے علاج کی وجہ سے بستر پر تھا۔ جب ایک نامہ نگار نے اُسکے خاندان کے متعلق پوچھا، تو اُس نے کہا کہ اُس کے گھر والے باوجود اِسکے کہ وہ شراب نوشی ترک کر چکا ہے یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر کی اِس یقین دہانی کے بعد بھی کہ وہ اب بالکل ٹھیک ہے اُسے لینے نہیں آئے۔ نامہ نگار نے اُسے یہ بھی بتایا کہ تمہارے گھر والوں نے تمہیں ہسپتال سے واپس نہ بھیجنے کیلئے ڈاکٹر کو رشوت بھی دی تھی۔ اُس کی بے حُرمتی ہوئی تھی۔ اُس کے گھر والے اُسے اِس لئے چھوڑ گئے کیونکہ وہ اُس سے اُکتا چکے تھے۔ نامہ نگارنے کہا کہ اپنی مرضی سے قطع نظر ہسپتا ل میں مریض اپنے آپ کو شراب پینے سے روک نہیں پاتے ہیں اور اکثر اوقات کافی زیادہ شراب پیتے ہیں کیونکہ کوئی بھی اُن کو روکتا نہیں ہے۔
کیوں ایک شخص اپنی شراب پینے کی عادت پر قابو نہیں پا سکتا ہے؟ وہ یہ جانتا ہے کہ یہ اُس کی صحت کیلئے مُضر ہے اور اُسے چھوڑنا چاہتا ہے: مگر اِس کے باوجود بھی وہ بار بار اِسے پیتا ہے۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ وہ پہلے ہی ایک شرابی ہے ،لیکن اُس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اُس کا ذہن ہمیشہ خالی ہے۔ وہ اِس لئے شراب پیتا ہے کیونکہ وہ اپنے دل میں خالی پن محسوس کرتا ہے۔ ایک شخص ہمیشہ درد محسوس کرتا ہے اور اچھا بننے کے قابل نہیں کیونکہ وہ گناہ سے ہے۔ لہذا،وہ مایوسی کا شکار ہوجاتا ہےاور پھر شراب پینا شروع کر دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ ، ’ میں نہیں جانتا کہ میں ایسا کیوں کر رہا ہوں۔ میں تو ایسا نہیں کرنا چاہتا ہوں۔‘ پھر وہ احساس کرتا ہے کہ وہ تو اپنے آپ ہی اِس میں جکڑا جا رہا ہے ،اور زیادہ شراب پینا اُسے اپنے آپ سے زیادہ دور لےجا رہا ہے۔
کتنی ہی زیادہ کوئی جدوجہد کیوں نہ کر لے وہ شراب پینے سے بھاگ نہیں سکتا ہے۔ اِس طرح ،وہ شخص مایوسی محسوس کرتا ہے اور اُور زیادہ شراب پیتا ہےاورآخرکار، وہ ہسپتال میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ انسان کا کردار اور اوصاف محض اُس کی حقیقی فطرت کے تاثرات پر ہے۔ ایک انسان گنہگار پیدا ہوتا ہے اِس لئے باوجود اپنی مرضی کے وہ اپنی تمام زندگی میں گناہ کو روکنے کے قابل نہیں ہے،بالکل اُسی طرح جیسا کہ ایک سیب کا درخت کونپلیں نکالتا، پھول نکالتا او رپھر سیب کا پھل پیدا کرتا ہے کیونکہ وہ سیب کی نسل ہے، اُسی طرح انسان گناہ کرتا ہے کیونکہ وہ گناہ کا وارث ہے۔ لوگ اچھا بننا چاہتے ہیں، مگر جنکے پاس گناہوں کی مخلصی نہیں وہ اچھے نہیں بن سکتے کیونکہ اُن میں اچھے بننے کی قابلیت نہیں ہے۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ اُن کے گناہ سنگین نہیں، اِس لئے وہ انہیں چھپاتے ہیں ،اوریہ تب سنگین ہوجاتاہےجب ان کےگناہ ظاہر ہوجائیں۔
گنہگار کا گناہ کرنا فطرت اور جبِلت ہے کیونکہ وہ گناہوں کے اَنبار کے طورپر پیدا ہوتا ہے اور فطری طور پر اِس کا وارث ہے۔ انسان کے لئے گناہ کرنا مکمل طور پر ایک فطری بات ہے، بالکل اُسی طرح جیسا کہ ایک سرُخ مرِچ کے پودا کیلئے سُرخ مِرچ پیدا کرنا اور بیر کے درخت کے لئےبیرپیداکرناایک فطری بات ہے۔ اُسی طرح انسا ن کیلئے گنا ہ کرنا ایک فطری بات ہے کیونکہ وہ گناہ میں پیدا ہوُا ہے۔ کیسےایک انسان گُناہ کیے بغیر رہ سکتاہے جب وہ گناہ کے ساتھ پیدا ہواہے؟
 
 
آدمی بارہ اقسام کے بُرے خیالات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے
 
مرقس ۷باب میں یسوع نے کہا کہ ایک انسان بارہ اقسام کی بُرائیوں کےساتھ پیداہوتاہے یعنی، حرامکاریاں۔ چوریاں۔خونریزیاں۔ زنا کاریاں۔ لالچ۔ بدیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بدنظری۔ بد گوئی۔ شیخی۔ بیوقوفی۔ ہم چوری کی خواہش کےساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ چوری کے خیالات گناہ کی موروثیت میں شامل ہیں۔ کیا آپ چور ہیں؟ہر کوئی چوری کرتا ہے۔ اگر کوئی چوری نہیں کرتا ،تو اِسکی وجہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی اُسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔تاہم، جب اُس کے ارد گرد کوئی نہیں ہوتا ہے اور کوئی خاص چیز ہمارے سامنے ہو تو، چوری کرنے کا گناہ اُس میں سے پھوٹ نکلتا اور وہ اُس چیز کو چوری کرنے کے ذریعے ایک گناہ کرتا ہے۔
 اِسلئے انسان نے اخلاقیات اورقانون کو وجود بخشا اِس طرح یہ مقرر کِیاکہ اِس کی پاسداری ہونی
چاہیے۔ انسانوں نے اپنے قوائد وضوابط خود بنائے جو اِس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ دوسروں کو تکلیف پہنچانا اچھی بات نہیں ہے۔ جب بہت سارے لوگ جمع ہو کر ایک معاشرے میں رہتے ہیں تو وہاں قوانین کی ضرورت پڑتی ہے۔ ضرور ہے کہ ہم معاشرے کے قوائد کے مطابق رہیں۔ تاہم، جب ہم اکیلے ہوتے ہیں تو کسی کی چیز پر نظریں جما لیتے اور اِسے چُرا کر بھاگ نکلتے ہیں۔
کوئی ایسا نہیں جس نے اپنی زندگی میں کچھ نہ کچھ چوری نہ کِیاہو۔ سب چوری کرتے ہیں۔ بہت عرصہ پہلے، ایک دُعائیہ عبادت کے دوران میَں نے جماعت سے پوچھا کہ اُن میں سے وہ اپنا ہاتھ کھڑا کریں جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی گناہ نہیں کِیا۔ ایک بوڑھی عورت نے اپنا ہاتھ اُٹھایا اور کہا، ” میں نے اپنی زندگی میں کبھی کوئی چوری نہیں کی۔“ خیر میں نے اُس سے پوچھا کہ اگر آپ نے کبھی اپنے گھر جاتے ہُوے راستہ میں پڑی ہوئی کسی چیز کو اُٹھایا ہے تو مجھے بتائیں۔ پھر وہ اِس غیر متوقع سوال پر پریشان ہوئیں اور یہ کہتے ہُوئے جواب دیا، ” کہ ایک مرتبہ اپنے گھر کے راستہ پر جاتے ہُوئے ایک چھوٹا سا کدو میرے راستہ میں پڑا تھا۔ میں نے سوچا کہ یہ بہت مزیدار ہوگا لہذا میَں نے ارد گرد دیکھا اور کسی کو ارد گرد نہ پا یا۔ میں نے اُسے اوپر اُٹھا یا ،اور اپنی قمیض کے نیچے چھپایا ،اور برتن میں کاٹ کر اِس کا بین پیسٹ بنایا اور کھایا۔“ وہ یہ نہ جانتی تھی کہ اُس نے چوری کرنے کا گناہ کِیا۔
تاہم،خدا فرماتا ہے کہ کسی کی اجازت کے بغیر کسی چیز کو لینا ایک گناہ ہے۔ خدا نے موسیٰ کی شریعت میں حکم دیا، ” تو چوری نہ کرنا۔“ ہر کوئی کسی نہ کسی چیز کو چوری کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ ایک انسان کو جب کبھی بھی اُسے موقع ملتا ہے وہ خون کرنے اور چوری کرنے میں بہت خوب ہوتا ہے۔ وہ دوسرے لوگوں کے جانوروں کو ،جیسا کہ خرگوش، مُرغی وغیرہ کو دوسرے لوگوں کے گھروں سے چُرا لیتے ہیں۔ اسے چوری کہا جاتاہے۔ اگرچہ وہ خون کرتا اور چوری کرتا ہے تو بھی اُسے اِس گناہ کے متعلق کچھ خیال ہی نہیں ہے۔ یہ اُس کے لئےقدرتی بات ہے کیونکہ اپنی پیدائش کے دن سے اُنہیں یہ گناہ وراثت میں ملے ہیں۔
 
 
ایک انسان کو گناہ وراثت میں ملتا ہے
 
ایک انسان زنا کاری کو بھی اپنے والدین سے وراثت میں حاصل کرتاہے۔ وہ زناکاری کی ہوس کےساتھ پیدا ہوتا ہے۔ وہ یقیناًزناکاری کرتاہے جب اُسکے اردگردکوئی نہ ہو۔ لوگ تاریک مقامات جیسا کہ شراب خانے یا ریسٹورنٹ وغیرہ کو پسند کرتے ہیں۔وہ مقامات گنہگاروں کےلئےبہت مشہور ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مقامات اُن کی گناہ کی موروثیت کو دکھانے کیلئے کافی معقول ہیں۔
یہاں تک کہ شریف آدمی بھی اُن مقامات کو پسند کرتے ہیں۔ وہ گھر پر ایک اچھے باپ ہیں اور معاشرے میں ایک بلند مقام رکھتے ہیں، مگر وہ بھی چھپ کر اُن تاریک مقامات پر جاتے ہیں جو گناہ سے بھرے پڑے ہیں۔ وہ اُن مقامات پر جاتے ہیں جہاں وہ اپنی گناہ آلودہ فطرت کا اظہار کر سکتے اور گناہ کا پھل پیدا کرتے ہیں۔ وہ اُن مقامات پر اکٹھے ہوتے اور ایک دوسرے سے ملتے اور ایک گلاس شراب پینے کے بعد ایک دوسرے کے ایسے دوست بن جاتے ہیں جیسا کہ بڑی مُدت سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ جونہی وہ ایک دوسرے کو ملتےہیں وہ ایک دوسرے کے بہت قریب آجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک ہی طرح کے گناہ آلودہ اوصاف رکھتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتے ہیں، ” کیا آپ کے پاس بھی یہ ہے؟ ہا ں میرے پاس ہے۔“ ” کیا میں آپ کے ساتھ دوستی کر سکتا ہوں۔“ ” آپ کی عمر کتنی ہے؟“ ” عمر میں کیا رکھا ہے۔“ ” آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔“
آدمی جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہ اپنے موروثی گناہوں کو ایک دوسرے پر ظاہر کرتے ہیں کیونکہ وہ اِس دنیا میں گناہ آلودہ اوصاف کے ساتھ پیدا ہوئے تھے۔ اُن کے لئے گناہ کرنا ایک فطری بات ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اُن کے دِلوں میں گناہ ہے اور وہ فطری طور پر اِسی طرح خلق ہوئے تھے۔ گناہ نہ کرنا اُن کیلئے ایک غیرمعمولی بات ہے۔ تاہم، جب وہ معاشرے میں رہتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو اپنی گناہ آلودہ زندگیوں کو گناہ سے باز رکھتے ہیں کیونکہ ہر ایک معاشرہ اپنے اپنے معاشرتی قوانین رکھتا ہے۔ اِس طرح وہ ریا کاری سے کام لیتے اور اپنے معاشروں کے قائم کردہ معاشرتی قوائد کے مطابق عمل کرنے کا دکھاوا کرتے ہیں۔ اِس طرح لوگ معاشرے میں اُن کو عزت دیتے ہیں جو بُرے کام نہیں کرتے اور نہ ہی اِس طرح کی بیوقوفیاں کرتے ہیں۔ ایک انسان یقینی طور پر گنہگار پیدا ہوتا ہے ،جیسا کہ بائبل مقدس بیان کرتی ہے، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئے اِسلئے کہ سب نے گناہ کیِا “(رومیوں۵: ۱۲)۔
یہ درُست ہے۔ ایک آدمی یہ کہہ سکتا ہے، ” میں شہوت پرست نہیں ہوں۔ میں اُس عورت کو بہت بُرا سمجھتا ہوں جو اپنے آپ کو پوری طرح نہیں ڈھانکتی اور چھوٹی سکِرٹ پہنتی ہے۔“ کیا وہ واقعی اُنکے مخالف ہے؟ جب ایسے شخص کے ارد گرد بہت سارے لوگ ہوتے ہیں تو وہ اِسکے خلاف ہونے کا بہانہ کر سکتا ہے ،مگر جب اُس کے ارد گرد کوئی نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو شہوت پرستی کے گناہ سے باز نہیں رکھ سکتا ہے۔
ایک اچھا درخت بُرا پھل نہیں لا سکتا اِسی طرح ایک بُرا درخت کبھی بھی اچھا پھل نہیں لا سکتا۔ ایک انسا ن کو جاننا چاہیے کہ وہ ایک گنہگار ہے۔ اگر کو ئی اپنے گناہوں کو جان لیتا ہے، تو وہ یسوع مسیح پر حقیقی ایمان کے وسیلہ نجات پا سکتا ہے۔ تاہم اگر وہ گنا ہ نہ کرنے کا بہانہ کرتا اور گناہوں سے واقفیت کے بغیر اپنے گناہوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے ،تو پھر خدا اُس کی عدالت ضرور کریگا اور وہ جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ بنی نوع انسا ن گنہگار کے طور پر پیدا ہوتے ہیں۔ اِس لئے، وہ ایسے بُرے درخت ہیں جو اپنی پیدائش کے وقت سے ہی گناہ کا پھل پیدا کرتے ہیں۔
اِس لئے ،وہ جو اپنے بچپن سے اپنی گناہ کرنے کی فطرت کو پروان چڑھاتے ہیں وہ اپنی تمام زندگی گناہ کرنے میں بڑے خوب ہوتے ہیں۔ یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنی گناہ آلودہ فطرت کو دیر سے پروان چڑھاتے اور دیر سے بُرائی کا پھل پیدا کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی زندگی کے آخری چند سالوں میں۔ کوریا کے شہر ٹیگو (Teagu) میں ایک عورت خادمہ ہُوا کرتی تھی۔ جب وہ اپنی نوجوانی کی عُمر میں مسیحیت میں تبدیل ہوئی، تو اُس نے خادمہ کی حیثیت سے خداوند کی خدمت کرنے کیلئے اپنی تمام زندگی اکیلے رہنے کا عہد کِیا۔ تاہم اُس نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور ۶۰ سال کی عُمر کےبعد ایک رنڈے آدمی سے شادی کر لی۔ اُس نے اپنی گناہ آلودہ شخصیت کو بہت دیر بعد پروان چڑھنےدیا۔ اُس نے زنا کاری کی موروثیت کو دیر سے
ظاہر کِیا۔
اکثر لوگ عام طور پر بچپن سے ہی گناہ کی فطرت کو ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اِن دِنوں ،نوجوان لوگوں کا رُجحان اپنے بچپن سے ہی گناہ آلودہ فطرت ظاہر کرنے کے طرف ہے۔ وہ اپنے آپ میں اور پرانی نسل میں ایک نسلی خلا محسوس کرتے ہیں۔ اُنہیں پرانی نسل کہا جاتا ہے۔ بہرحال، ہم خدا کے کلام سے سیکھ چکے ہیں کہ ہم گنہگار پیدا ہوتے ہیں اور انسان ہوتے ہوئے ہماری تمام زندگیوں میں گناہ ہم سے ہو جاتا ہے۔ کیا آپ اِس کا اعتراف کرتے ہیں؟
 
 
کوڑھ کی شریعت
 
پھر، خدا فرماتا ہے، ” پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِسلئے کہ سب نے گناہ کیِا “ (رومیوں۵:۱۲)۔ گناہ خدا کی عدالت کا باعث بنتا ہے۔ ضرور ہے کہ ایک گنہگار اپنے آپ کو جانے اور گناہوں کی مخلصی پائے۔ کیسے وہ اپنے آپ کو جان سکتا ہے؟ کیسے اُس کے سب گناہ خدا کے نزدیک معاف ہو سکتے ہیں؟
خدا نے احبار ۱۳باب میں موسیٰ اور ہارون کو کوڑھی کا معائنہ کرنے کی تعلیم دی۔ پرانے عہد نامہ کے وقت سے ،وہا ں بہت سے کوڑھی تھے۔ میَں کوڑھ کے متعلق زیادہ تو نہیں جانتا ،مگر میں نے اپنی جوانی میں بہت سے کوڑھیوں کو دیکھا تھا۔ میر ے دوستوں میں سے ایک دوست بھی کوڑھ سے متاثرہُوا تھا۔
خدا نے موسیٰ او رہارون کو بتایا کہ کوڑھ کا معائنہ کریں اور کوڑھیوں کو اِسرائیل کی لشکر گاہ سے باہر چھوڑ آئیں۔ خدا نے اُنہیں تعلیم دی کہ کیسے ہر ایک کوڑھی کامعائنہ کرنا ہے۔ ” اگر کسی کے جسم کی جلد میں ورم یا پپڑی یا سفید چمکتا ہُوا داغ ہو اور اُس کے جسم کی جلد میں کوڑھ سی بلا ہو تو اُسے ہارون کاہن کے پاس یا اُس کے بیٹوں میں سے جو کاہن ہیں کسی کے پاس لےجائیں“ (احبار۱۳:۲)۔ جب کاہن معائنہ کرنے کے بعد خیال کرتا کہ اُسے جلد کی بیماری ہے، تو کاہن اُسے سات دن کیلئے خیمہ گاہ سے دور کر دیتا تھا۔ پھر، کاہن سات دن کے بعد دوبارہ اُس کی جلد کو دیکھتا تھا۔ جب بلا سفیدداغ جلد پر نہ پھیلے تو کاہن اُس پاک قرار دےدیتا، ” تم پاک ہو۔ تم خیمہ گاہ میں رہ سکتے ہو۔“
اگر جسم کی جلد میں ورم یا پپڑی سفید ہو، اور یہ بالوں کو سفید کر دے، اور یہ داغ جلد نیچے تک گہرا دکھائی دے ،تو یہ کوڑھ ہے، پھر کاہن اُسے ناپاک قرار دے گا۔ احبار۱۳:۹۔۱۱بیان کرتا ہے، ” اگر کسی شخص کو کوڑھ کا مرض ہو تو اُسے کاہن کے پاس لے جائیں۔ اور کاہن اُسے ملاحظہ کرے اور اگر دیکھے کہ جلد پر سفید ورم ہے اور اُس نے بالوں کو سفید کر دیا ہے اور اُس ورم کی جگہ کا گوشت جیتا اور کچا ہے۔ تو یہ اُسکے جسم کی جلد میں پرانا کوڑھ ہے۔ سو کاہن اُسے ناپاک قرار دے پر اُسے بند نہ کرے کیونکہ وہ ناپاک ہے۔“ کاہن نے اُسے اسرائیل کی لشکر گاہ سے الگ نہیں کیا۔
ہمارے مُلک میں بالکل یہی رواج ہے۔ کوریا میں کوڑھیوں کے لئے علیحدہ بستیاں ہیں جیسا کہ فلاور ویلج ((Flower Village یا سوروک جزیرہ(Sorok Island) ہے۔ کافی عرصہ پہلے، جب میں اور میری بیوی کار پر سوار اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے، تو جب اُس نے سُپر ہائی وے روڈ پر فلاور ویلج ((Flower Village کا بورڈ دیکھا تو اُس نے اِس وادی کو دیکھنے کیلئے میری ناک میں دم کر دیا۔ پھر میں نے سوچا، ” تم نہیں جانتی کہ، فلاور ویلج ((Flower Village کیا ہے؟ “ میں نے اُس سے کہا، ” ہنی، کیا تمہارا مطلب ہے کہ تم ’ اِس قصبہ ‘ کی سیر کرنا چاہتی ہو؟ اُس نے کہا ، ” ہاں۔“ تاہم، وہ یہ سُن کر حیران رہ گئی کہ، فلاور ویلج ((Flower Village اُس جگہ کا نام ہے جہاں کوڑھی رہتے تھے اور پھر دوبارہ کبھی اُس نے مُجھے فلاور ویلج ((Flower Village میں جانے کیلئے تنگ نہیں کیِا۔ کوڑھی معاشرے سے دور الگ بستیوں میں رہتے ہیں۔
یہاں، ہمیں جس بات پر توجہ دینی چاہے وہ یہ ہے کہ جب کوڑھ اُس کے پورے جسم پر پھیل گیااوراُسکی ساری جلد کو ڈھانپ لیاتو کاہن اُسے پاک قرار دیتا تھا۔ کیا آپ کولگتاہےکہ اسکاکوئی مطلب ہے؟ جب کوڑھ ایک شخص کے جسم پر تھوڑا سا ہوتا تو کاہن اُسے لشکر گاہ سے باہر نکال دیتا ،اورجب کوڑھی کی بلا ایک شخص کے سر سےلےکر پاؤں تک پورے جسم کو ڈھانک لیتی تو کاہن اُسے بتاتا کہ وہ اِسرائیل کی لشکر گاہ میں رہ سکتا ہے۔
خدا نے کاہن کو بتایا کہ کیسے کوڑھ کی درجہ بندی کرنی ہے۔ ” اور اگر کوڑھ جلد میں چاروں طرف پھوٹ آئے اور جہاں تک کاہن کو دکھائی دیتا ہو یہی معلوم ہو کہ اُس کی جلد سَر سے پاؤں تک ڈھک گئی ہے “ (احبار۱۳: ۱۲)۔ یہ وہ طریقہ تھا جو خدا نے کاہن کو درجہ بندی کرنےکےلئے بتایا تھا۔
 
 
کوڑھ کی شریعت ہمیں کیا بتاتی ہے۔۔۔۔
 
یہ شریعت ہمیں بتاتی ہے۔لوگ گناہ سے بھرے اوصاف سے پیدا ہوتے ہیں اور اپنی تمام زندگی گناہ کرتے ہیں ،مگر بعض لوگ صرف اپنے چند ایک گناہ ہی ظاہر کرتے ہیں۔ وہ پہلے اپنے ہاتھوں پھر پاؤں سے اور پھر اگلی مرتبہ اپنی سوچوں سے اور پھر تھوڑی مُدت کے بعد کسی اور طریقہ سے گناہ کرتے ہیں، اِس لئے وہ اپنے جسمانی گناہوں کو دنیا وی طور پر ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ کون یہ کہے گا جب کوڑھ صرف ایک دھبے پر پھیلتا ہے اور ایک چھوٹا سا دھبہ جلد پر پھیلے تو یہ سنگین ہے؟ کوئی اُس کے کوڑھ کی علامت کو نہیں
جانتا ہے۔
ایک انسان موروثی گناہ کی وجہ سے گناہ میں پیدا ہوتا ہے۔ مگر وہ اپنے گنہگار ہونے سے اُس وقت تک بے خبر رہتا ہے جب تک وہ بے شمار اوقات میں گناہوں میں نہیں گرتا ،اگرچہ خدا تو اُسے پہلے ہی گنہگار قرار دے چکا ہے۔ آخر کار وہ جان لیتا ہے کہ وہ دنیا میں ایک گنہگار ہے۔
تاہم ایک شخص جو اپنے آپ کو بڑا پارسا خیا ل کرتا، ا چھی برداشت رکھتا اور بہت کم گناہ کرتا یہ نہیں جانتا کہ اصل میں وہ ایک گنہگار ہے۔ خدا نے کاہن کو بتایا کہ اُس شخص کو جس کا کوڑھ ابھی تھوڑا سا پھیلا ہے ناپاک قرار دے اور اُسے اسرائیل کی لشکر گاہ سے دور کر دے۔ گنہگار خدا سے دور کر دیئے جاتے ہیں۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں؟ خدا قدوس ہے۔ ایک شخص جو خیال کرتا ہے کہ اُس کے گناہ ایک ذرے جتنے،بہت کم ہیں ایسا شخص خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔
کو ن آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے؟ صرف وہی جو یہ پہچانتے ہیں کہ وہ یقینی طور پر گنہگار ہیں اور اُن کے گناہ اُن کے تمام بدن پر پھیلے ہُوئے ہیں آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اُن کے سب گناہ یسوع پر ایمان لانے کے وسیلہ معاف کر دیئے گئے ہیں ،اور وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو کر خدا کے ساتھ سلطنت کریں گے۔
بائبل فرماتی ہے کہ خدا اُس شخص کو جو یہ سمجھتا ہے کہ اُس کے گناہ بہت کم پھیلے ہوئے سفید ورم کے دھبے یعنی کوڑھ کی مانند ہیں تو خدا ایسے شخص کو ناپاک قرار دیتا ہے۔ خدا اُس شخص کو پکارتا ہے جوگُناہ نہ کرنے کی خواہش کے باوجود بار بار گناہ میں گِر جاتا،اور اِقرار کرتا ہےکہ وہ مکمل طور پر گنہگار ہے۔ یسوع نے کہا، ” مگر تم جا کر اِ س کے معنی دریافت کرو کہ میں قربانی نہیں بلکہ رحم پسند کرتا ہوں کیونکہ میں راستبازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو بُلانے آیا ہوں “ (متی۹:۱۳)۔ خدا گنہگاروں کو بُلاتا اور اُن کےسب گناہوں کو دھو ڈالتا ہے۔ خدا اُن کے سب گناہوں کو معاف کر چکا ہے۔ خدا نے پیشتر سے ایک ہی بار اُن کے سب گناہوں کو دھو کر اُن سے دور کر دیا ہے۔ یسوع نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ اُن کے سب گناہوں کو اُٹھا لیا، اور اُنہیں آسمان کی بادشاہی میں لےجانے کیلئے مُردوں میں سے زندہ ہونے کے وسیلہ سے اُنہیں راستباز ٹھہرایا۔
 
 
ضرور ہے کہ ہم اپنے آپ کو جانیں
 
ضرور ہے کہ ہم جانیں کہ آیا ہم سارے کے سارے یا جزوی گنہگار ہیں۔ خدا نے اُس شخص کو پاک قرار دیا جس کے پورے جسم کی جلد پر کوڑھ پھیل چکا تھا۔ خدا نے اِس طرح کو ڑھ کی شریعت مقرر کی۔ ایک شخص جو یہ جانتا ہے کہ وہ گناہوں سے بھرا ہے لیکن پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان لے آتا ہے تو وہ اُس وقت گناہوں کی مخلصی پاتا ہے جب یسوع اُس کے پاس آ کر اُس سے فرماتا ہے کہ وہ اُس کے تمام گناہوں کو اپنے بپتسمہ اور صلیب کے وسیلہ دور کر چکا ہے۔ تاہم، کم گناہ کرنے والا خیال کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے نہیں بھرا ہے اور خوشخبری کو قبول نہیں کرتا بلکہ خوشخبری کا تمسخر اُڑا تا ہے۔
اگر یسوع گناہوں کو دھو کر دور کر چکا تھا تو کیا یہاں گنا ہ موجود ہیں؟ نہیں۔ ہم گناہوں کی مخلصی
کو ایک ہی بار ہمیشہ کیلئے حاصل کر سکتے ہیں۔ اِس لئے ،ایک گنہگار کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو جانے۔ جب وہ اپنے آپ کو جان لیتا ہے تو ہی اُس کے سب گناہ دور کئے جا سکتے ہیں۔ لوگ خُداکےحضورصرف چھوٹےگُناہوں کو لینےکے لئے تیارہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”خداوند، میں نے گناہ کِیا۔ میں یہ کرنا تو نہیں چاہتا تھا، مگر مجھ سے ہو گیا۔ مُجھے صرف اِس معاملہ میں مہربانی سے معاف فرما دے، اور میں پھر کبھی بھی گناہ نہیں کروں گا“ وہ صرف اپنے صغیرہ گناہوں کو خدا کے پاس لاتے ہیں۔ پھر خدا فرماتا ہے،” تم ناپاک ہو۔“
انسان خدا کے نزدیک کوئی راستبازی نہیں رکھتا ہے۔” آپ کا راستباز ٹھہرنا یا نہ ٹھہرنا مکمل طور پر خدا پر انحصار کرتا ہے۔ میں ایک گنہگار ہوں اورجہنم میں جانا میرا مقدر ہے۔مہربانی سے مجھ سے ویسا ہی کر جس سے تو خوش ہوتا ہے ،لیکن میرے خدایا مُجھ پر رحم کر اور مہربانی سے مُجھے بچا۔ اگر تو خدا ہے تو مہربانی سے مُجھے بچا۔ پھر میں تجھ پر ایمان لاؤں گا اور تیری مرضی کے مطابق زندگی بسر کرونگا ۔“ خدا ایسے شخص کو بچاتا ہے جو اِقرار کرتا ہے کہ وہ گناہوں سے بھر ا ہے۔
 
 
ایک انسان گناہ کا وارث ہے جو ۱۲ اقسام کے بُرے خیالات رکھتا ہے
          
آئیں مرقس۷:۲۰۔۲۳پر ایک نظر غور کرتے ہیں، ” پھر اُس نے کہا کہ جو کچھ آدمی میں سے نکلتا ہے وہی اُس کو نا پاک کرتا ہے، کیونکہ اندر سے یعنی آدمی کے دل سے بُرے خیال نکلتے ہیں۔ حرامکاریاں۔ چوریاں۔ خونریزیاں۔ زنا کاریاں۔ لالچ۔ بدیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بد نظری۔ بد گوئی۔ شیخی۔ بیوقوفی۔“ آدمی کے دل سے بُرے خیالات نکلتے ہیں۔ ایک انسان پیدائشی طور پر گناہ کا وارث ہے۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں؟ایک شخص اپنی پوری زندگی بُری سوچیں رکھتا ہے۔ اگر اُس کے سب گناہ ایک ہی بار ہمیشہ کیلئے معاف نہیں کر دیئے جاتے ہیں تو پھر اُس کیلئے رہائی کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
ایک انسان اِن ۱۲اقسام کے بُرے خیالات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے: حرامکاریاں۔ چوریاں۔ خونریزیاں۔ زنا کاریاں۔ لالچ۔ بدیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بد نظری۔ بد گوئی۔ شیخی۔ بیوقوفی۔ اِسلئے، وہ
اپنی تمام زندگی کسی نہ کسی طرح گناہ کی طرف چلا جاتا ہے۔ ایک شخص جس نے گناہوں کی معافی کو نہیں پایا اگرچہ وہ گناہ میں زندگی گذارنا نہیں چاہتا تو بھی وہ گناہ آلودہ زندگی ہی بسر کرتا ہے۔ ایک انسان کی تمام چیزیں ،جیسا کہ خیالات اور رویے خدا کے نزدیک گناہ آلودہ ہیں۔
ایک گنہگار کیلئے اچھا بننا منافقت ہے۔ وہ محض پارسا بننے کا بہانہ کرتے ہیں۔ یہ خدا کو دھوکہ دینا ہے۔ انسان کیلئے جو گناہ آلودہ پیدا ہوتا ہے ضرور ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانیں کہ یسوع اُنہیں نجات دے چکا ہے۔ تاہم اگر ایک شخص اپنے گناہ آلودہ ہونے سے آگا ہ ہی نہیں ہے، تو جب کبھی بھی گناہ اُس سے ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو بد بخت محسوس کرتا اور کہتا ہے، ” اوہ، کیوں میں نے ایسے کام کیے؟ “ وہ خود فریبی میں جکڑا ہوُا ہے۔
ایک انسان بُرے خیالات رکھتا ہے۔ ایک شخص پوچھ سکتا ہے کہ، ’ میں کیوں بُرے خیالات کرتاہوں؟ ‘ نہیں، مُجھے ایسے خیالات نہیں رکھنے چاہیے۔ کیوں میں ناپاک چیزوں کا خیال رکھتا ہوں؟ میر ے اُستاد نے مُجھے بتا یا ہے کہ بھلائی کرو۔ ‘ وہ اِس طرح خیال کرتا ہوں کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کیوں وہ یقینی کاموں کو کرتا ہے۔ وہ اپنی چوریوں اور حرامکاریوں کی وجہ سے بڑی اذیت کا احساس کرتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ اُس نے تو گناہ کی اِن اقسام کو ورثہ میں پایا ہے۔ خونریزیاں۔ زنا کاریاں۔ لالچ۔ بدیاں۔ مکر۔ شہوت پرستی۔ بد نظری۔ بدگوئی۔ شیخی۔ اور بیوقوفی۔ مسلسل طور پر اُس میں سے نکلتی اور وہ اِس وجہ سے گناہ میں گرِ جاتا ہے۔ اِس طرح، وہ اپنے آپ سے نفرت کرتا اور اِسے جانے بغیر ہی کہ ایسا کیوں ہے شرمندہ اور پریشان ہوتا ہے۔
 ہم ۱۲اقسام کے گناہوں کا انبار ہیں اور اپنی تمام زندگیوں میں اِن اقسام کے برائی کے پھل پیدا کرتے ہیں کیونکہ ہم اپنے باپ آدم کی وجہ سے گنہگار پیدا ہوتے اِس لئے ہم گنہگار ہیں۔ مبارک ہیں وہ جو
جانتے ہیں کہ وہ گنہگار ہیں۔
ایک انسان کو چاہیے کہ جب وہ جان لیتا ہے کہ وہ بے یارو مدد گار ہے تو اُسے نجات دہندہ یسوع کو ڈھونڈنا چاہیے، جو اُسے اُس کے سب گناہوں سے نجات دیتا ہے۔ خدا کے وسیلہ مبارک ٹھہرنے کا صرف یہی ایک واحد راستہ ہے۔ تاہم، اگر ایک شخص اپنے آپ کو نہیں جانتا تو وہ اپنے نجات دہندہ کو ڈھونڈ نہیں پاتا ہے۔ مگر ایک شخص جو اپنے آ پ کو خوب جانتا ہے، اپنی خودی کا انکار کرتا، اپنی جدو جہد پر توکل کو تر ک کرتا، انسان پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتا، اور یسوع مسیح کو جو کہ نجات دہندہ، خدا، اور نبی ہے تلاش کرتا ہے تو وہ شخص یسوع مسیح کے فضل کے وسیلہ معاف کِیاجاتا ہے۔
گنہگاروں کو اپنے آپ کو پہچاننے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ جو اپنے آپ سے آگا ہ ہیں وہی خدا کے نزدیک مبارک ٹھہرسکتے ہیں۔ ایک شخص جو اپنے آپ کو نہیں پہچانتا وہ مبارک نہیں ٹھہر سکتا ہے۔ اِسلئے ،گنہگاروں کو اپنے آپ کو پہچاننا ہے کہ اُن کی اصل کیا ہے۔ کیا آپ سمجھ رہے ہیں؟ کیا آپ گناہوں سے مخلصی پانے سے پہلےہمیشہ بُرے کام کر چکے ہیں؟ اگر آپ گناہ کر چکے ہیں، تو کیا آپ جانتے ہیں کہ کیوں؟ آپ نے اپنی مرضی کے خلاف بُر ے کام کیے اِس لئے کیونکہ گناہ آپ کو ورثہ میں ملا ہے۔
 
 
ایک آدمی کے وسیلہ گناہ دنیا میں آیا، اور گناہ کے وسیلہ سے موت آئی
          
انسان کی موت اٹل حقیقت ہے کیونکہ گناہ اُن میں پایا جاتا ہے۔ ایک انسان کو گناہوں سے رہائی پانے کیلئے یسوع کی تلاش کر کے اُس سے مُلاقات کرنی چاہیے تاکہ اُس کے گناہ مِٹائے جا سکیں۔ پھرہی وہ ہمیشہ کی زندگی پا سکتا ہے۔ کیا آپ اپنے سب گناہوں سے رہائی پانا چاہتے ہیں؟
”تو بھی آدم سے لےکر موسیٰ تک موت نے اُن پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اُس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیِا۔ مگر گناہ کا جو حال ہے وہ فضل کی نعمت کا نہیں کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ سے بہت سے آدمی مرَ گئے تو خدا کا فضل اور اُس کی جو بخشش ایک ہی آدمی یعنی یسوع مسیح کے فضل سے پیدا ہوئی بہت سے آدمیوں پر ضرور ہی اِفراط سے نازل ہوئی۔ اور جیسا ایک شخص کے گناہ کا انجام ہوُا بخشش کا ویسا حال نہیں کیونکہ ایک ہی کہ سبب سے وہ فیصلہ ہُوا جس کا نتیجہ سزا کا حکم تھا مگر بہتیرے گناہوں سے ایسی نعمت پیدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوُا کہ لوگ راستباز ٹھہرے۔ کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ کے سبب سے موت نے اُس ایک کے ذریعہ سے بادشاہی کی تو جو لوگ فضل اور راستبازی کی بخشش اِفراط سے حاصل کرتے ہیں وہ ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کرینگے۔ غرض جیسا ایک گناہ کے سبب سے وہ فیصلہ ہُوا جس کا نتیجہ سب آدمیوں کی سزا کا حکم تھا ویسا ہی راستبازی کے ایک کام کے وسیلہ سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جس سے راستباز ٹھہر کر زندگی پائیں۔ کیونکہ جس طرح ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لوگ گنہگار ٹھہرے اُسی طرح ایک کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرینگے۔ اور بیچ میں شریعت آموجود ہوئی تاکہ گناہ زیادہ ہوجائے مگر جہاں گناہ زیادہ ہوُا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہوُا۔ تاکہ جس طرح گناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اُسی طرح فضل بھی ہمارے خدا وند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی کیلئے راستبازی کے ذریعہ سے بادشاہی کرے“ (رومیوں۵:۱۴۔۲۱)۔
”پس جس طرح ایک آدمی کے سبب سے گناہ دنیا میں آیا اور گناہ کے سبب سے موت آئی اور یوں موت سب آدمیوں میں پھیل گئی اِسلئے کہ سب نے گنا ہ کیِا “ (رومیوں۵:۱۲)۔یہاں، ایک آدمی کون ہے؟ آدم ۔ حوا بھی اِسی ایک شخص ،آدم میں سے نکلی تھی۔ بائبل اِس طرح فرماتی ہے، ’ ایک آدمی کے وسیلے۔‘ خدا نے اِبتدا میں ایک آدمی کو پیدا کِیااور ایک آدمی کے وسیلے ہی گناہ دنیا میں آیا۔ ہماری نگا ہ میں باغِ عدن کے اندر دو اشخاص تھے ،مگر ،در حقیقت ،خدا کی نگاہ میں وہاں ایک ہی آدمی تھا۔ تمام انسانی نسلیں ایک ہی آدمی،آدم کے وسیلےپھیلیں۔
 ”ایک آدمی کے وسیلے گناہ اِس دنیا میں آیا “ اِس کلام کا مطلب ہے کہ آدم کی تمام اولاد آدم کے گناہ کی وجہ سے گنہگار ٹھہر چکی تھی۔موت تمام انسانیت پر گزری ، کیونکہ سب نے گناہ کیا ہے۔ گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو موت کی سزا دی گئی۔خدا ایسے شخص کی برداشت نہیں کر سکتا جو اپنے دل میں گناہ رکھتا ہو۔
خدا قادرِ مُطلق خدا ہے مگر خدا بھی دو کاموں کو نہیں کر سکتا: نہ تو وہ جھوٹ بول سکتا اور نہ ہی اپنے دل میں گناہ رکھنے والے شخص کو آسمان کی بادشاہی میں داخل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اُس نے وعدہ کِیا ہے اُسی طرح وہ اپنی شریعت کی تعمیل کرتا ہے۔ خدا اُس شخص کی یقینی طور پر عدالت کرتا ہے جو گنا ہ کو اپنے دل میں رکھتا ہے کیونکہ خدا نہ تو جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اپنی قائم کردہ شریعت کو نظر اندا ز کر سکتا ہے ۔
تمام انسان ایک شخص ،آدم ،کے وسیلہ گنہگار ٹھہرے جو شیطان کے فریب کے سبب گِر گیا اور خدا کی نگاہ میں گناہ کِیا۔ خدا کی عدالت اور موت اِس طرح تمام انسانوں میں پھیل گئی کیونکہ وہ گنہگار تھے اور ایک شخص، آدم ،کی اولاد کے طور پر پیدا ہوئےتھے۔اِس وجہ سے موت اُن سب میں پھیل گئی۔
جب خدا نے اِبتدا میں آدم کو خلق کِیا،تو وہاں موت نہ تھی۔ وہاں صرف نیک و بد کی پہچان کا درخت ہی نہیں تھابلکہ زندگی کا درخت بھی تھا۔ خدا نے آدم کو حکم دیا کہ زندگی کے درخت کا پھل کھائے اور ہمیشہ تک جیتا رہے۔تاہم، آدم شیطان کے فریب میں آگیا اور نیک و بد کی پہچان کے اُس درخت کا پھل لیا اور کھایا جس کے بارے میں خدا نے حکم دیا تھاکہ اِسے مت کھانا اور اُس نے اُسی پھل کو کھا کر خدا کے کلام کو چیلنج کِیا، اِس طرح موت گناہ کے باعث سب لوگوں میں پھیل گئی۔ ایک شخص ،آدم کے وسیلےموت اِس دنیا میں آئی۔
 
 
کیوں خدا نے آدمی کو شریعت دی؟
 
اگر گناہ آدم کے وسیلہ دنیا میں نہ آتا ،تو موت تمام انسانوں میں نہیں پھیل سکتی تھی۔ کیوں ایک انسان مرتا ہے؟ وہ گناہ کے سبب سے مرتاہے۔ ایک شخص کے وسیلےگناہ اِس دنیا میں آیا ،اور یوں موت سب لوگوں میں پھیل گئی۔ شریعت کے آنے تک، گناہ تودُنیامیں تھا، مگر شریعت سے پہلے انسانوں کے پاس گناہ کی پہچان کا علم نہ تھا۔
خدا کی شریعت موسیٰ کے وسیلےسب لوگوں تک پہنچی۔ یہاں تک کہ آدم اور نوح کے وقت سے ہی ،یہاں گناہ تو تھا، مگر خدا نے موسیٰ کے زمانہ تک شریعت کو قائم نہ کِیاتھا۔ تاہم، بائبل بیان کرتی ہے کہ اُس وقت جتنے بھی لوگ زندہ تھے سب کے دِلوں میں گناہ موجود تھا۔
آیئے رومیوں۵:۱۳پر ایک نظر دیکھتے ہیں، ” کیونکہ شریعت کے دیئے جانے تک دنیا میں گناہ تو تھا مگر جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا۔“ جب یہاں کوئی شریعت نہ تھی گناہ اُس وقت بھی دنیا میں موجود تھا۔ اِ س لئے ،سب لوگ مرتے تھے کیونکہ وہ خدا کے نزدیک گنہگار تھے۔ خدا نے اُنہیں شریعت دی جو ۶۱۳اقسام کے احکامات پر مُشتمل ہے، جواُس کے سامنے لوگوں کے درمیان گُناہ کی پہچان کے لئے دیئے گئے تھے۔ لوگوں نے خدا کی شریعت کے وسیلہ کیا پہچان کی؟ اُنہوں نے محسوس کِیا کہ وہ خدا کی نگاہ میں گنہگار تھے اور جانا کہ وہ گنا ہ کو اپنے دِلوں میں رکھتے تھے۔ لوگوں نے پہچانا کہ وہ خدا کی شریعت پر پوری طرح عمل نہیں کر سکتے تھے۔
اِسطرح، لوگوں کو اپنے گناہوں کی پہچان ہوئی۔ آدم اور حوا کی اولاد نے جانا کہ وہ گنہگار تھے اور یہ کہ صرف خدا ہی اُنکے گناہوں کو معاف کریگا۔ لیکن وہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ بھول گئے کہ وہ گنہگارتھے اور اپنے باپ آدم سے گناہ کو ورثہ میں پا چکے تھے۔ اُس وقت ،وہ ایسا سمجھتے تھے کہ جب وہ گناہ کرتے تھے تو گنہگار ٹھہرتے ،لیکن اگر وہ گناہ نہیں کرتے تو وہ گنہگار نہیں ٹھہرتے تھے۔ مگر وہ غلط تھے۔ اِن دنوں، میں بھی بہت سے لوگ ابھی تک یہی خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ گناہ کریں تو وہ گنہگار ٹھہرتے ہیں ،اور اگر وہ گناہ نہ کریں تو وہ گنہگار نہیں ٹھہرتے ہیں۔ در حقیقت ،تمام لوگ خواہ وہ گناہ کرتے ہیں یا نہیں، گنہگار ہیں کیونکہ وہ اپنی پیدائش کے دن سے موروثی گناہ کو ورثہ میں حاصل کرتے ہیں۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان اپنے گناہوں سے رہائی پانے سے پہلے گنہگار ہوتے ہیں۔ اِسلئے خدا نے گناہ کی پہچان کیلئے اُنہیں اپنی شریعت بخشی۔ ایک شخص جوشریعت کے وسیلہ خدا کو جانتا اور شریعت کو جان کر یہ اعتراف کرتا ہے کہ وہ گنہگار ہے۔ ایک شخص جتنا زیادہ خدا کی شریعت سے آگاہی پاتا جاتا ہے وہ اُتنا ہی سنگین گنہگار ٹھہرتا ہے۔
 
 
ایک شخص کے وسیلہ موت سب آدمیوں میں پھیل گئی
          
رومیوں ۵:۱۳۔۱۴بیان کرتا ہے، ” کیونکہ شریعت کے دیئے جانے تک دنیا میں گناہ تو تھا مگر جہاں شریعت نہیں وہاں گناہ محسوب نہیں ہوتا۔ تو بھی آدم سے لےکر موسیٰ تک موت نے اُن پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اُس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیِاتھا۔“
خدا فرماتا ہے کہ ایک آدمی کے گناہ کے وسیلےسب لوگ گنہگار ٹھہرے اور ایک آدمی کے وسیلےسے موت اُن میں پھیل گئی۔ گناہ کے وسیلےسے موت اُن سب میں پھیل گئی۔ یہ ایک ہی آدمی کے سبب سے تھا۔ یہ ایک شخص کو ن ہے؟ آدم۔ عام طور پر ہم یہ جانتے ہیں۔ لیکن،بہت سارے لوگ اِسے نہیں جانتے ہیں۔یہاں تک کہ بہت سے مسیحی اِسے نہیں جانتے ہیں۔ وہ کبیرہ گناہوں اور صغیرہ گناہوں کو الگ الگ کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اُن کے صغیرہ گناہ روزانہ توبہ کی دُعاؤں کو پڑھنے سے معاف کیے جا سکتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ وہ آدم کے گناہ کے سبب سے عدالت میں آتے اور جہنم میں ڈالے جاتے ہیں۔
آدم کی اولاد اپنے گناہوں کی وجہ سے خدا کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے ہیں قطع نظر اِس کے کہ وہ نیک بننے کی کتنی سخت جدوجہد کیوں نہ کریں ۔ خدا آدم کی اولاد ہونے کے سبب سے اُن سب کی عدالت کرتا ہے ،تاہم وہ اچھی زندگی بسر کرنے کی کتنی ہی کوشش کریں ۔ وہ اپنے باپ آدم کے گناہ کی وجہ سے جہنم کی ابدی آگ میں ڈالے جائیں گے۔
 
 
آدم اُس کی ایک مثیل ہےجوآنے والے تھا
 
یہ لکھا ہے کہ آدم آنے والے کی مثیل تھا۔ سب لوگ ایک آدمی کے وسیلہ گنہگار ٹھہرے اور
موت سب میں پھیل گئی۔تاہم،ایک آدمی، یعنی یسوع مسیح کے وسیلےتمام انسانیت راستباز ٹھہرتی ہے جس طرح ایک شخص آدم کے سبب سے سب لوگ گنہگار ٹھہرے ۔ یہ خدا کا قانون ہے۔
لوگوں نے مذاہب تخلیق کئے کیونکہ وہ خدا کے قانون سے واقف نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یسو ع پر ایما ن لانے کے بعد بھی اُنہیں نجات پانے کیلئے نیک کاموں کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ دنیا میں کتنی وسعت سے پھیلے ہُوئے ہیں اور اکثر وہ کتنے زیادہ جھوٹ بولتے ہیں! وہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے تعلیم دیتے ہیں کہ، ” آپ کو مسیحیوں کی طرح اچھا بننا چاہیے۔“ ہمارے گناہ ہمارے کاموں کے وسیلہ کبھی بھی مٹائے نہیں جاتے ہیں۔
 ”آدم آنے والے کا مثیل ہے۔“ کون ہے وہ آدمی جو ہمیں گناہوں سے نجات دینے کیلئے آنے والا تھا؟ وہ یسوع مسیح تھا۔ یسوع کو اِس دنیا میں بھیجا گیا اور اُس نے بپتسمہ کے وسیلہ ایک ہی بار شریعت کے مطابق دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا اور ہم سب کو راستباز ٹھہرایا اور ہمیں عدالت سے بچانے کیلئے مصلوب ہو گیا تھا۔
گناہ دنیا میں اِسلئے آیا کیونکہ شیطان نے آدم کو جو ایک مخلوق تھا اپنے فریب میں پھنسا لیا۔ گناہ دنیا میں آدم کے وسیلہ داخل ہُوا۔تاہم یسوع مسیح، نجا ت دہندہ، خالقِ کائنات، اور بادشاہوں کا بادشاہ جو قادرِ مُطلق ہے آدمی کی صورت پر انسانوں کو اُنکے گناہوں سے ایک ہی بار نجات دینے کیلئے اِس دنیا میں آ گیا۔ اُس نے ایک ہی بار ہمیشہ کیلئے دنیا کے گناہوں کو مٹا ڈالا۔ اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کیلئے گناہوں کو اُٹھا لیا اور مصلوب ہو کر اِن تمام گناہوں کی مزدوری ادا کی۔
 ایک انسان اگرچہ اُس کے گناہ کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں اگر وہ ایمان لائے کہ یسوع دنیا کے گناہوں کو مٹانے آیا تو وہ نئی زندگی کو پاتا اور مخلصی کو حاصل کرتا ہے۔خدا نے قصد کیا اور ہمیں اپنے فرزند ٹھہرانے کیلئے زمین و آسمان کو خلق کرنےکامنصوبہ بنایا۔ وہ دنیا میں آیا اور اپنے وعدہ کو مکمل طور پر پورا کیِا۔ اِس لئے یقیناً ہم گناہ کے بغیر ہیں۔ خدا کبھی غلطی نہیں کرتا ہے۔ آدم آنے والے کا مثیل تھا۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگ کیوں اپنے کاموں پر نجات کیلئے بھروسہ کرتے ہیں۔ ہماری نجات کا انحصار مکمل طور پر یسوع پر ہے۔ انسان ایک شخص، آدم ،کے وسیلےگنہگار ٹھہرے اور ایک ہی شخص، یسوع مسیح ،کے وسیلہ خلاصی پا گئے تھے۔
ہمیں جو کام کرنا چاہیے وہ صرف یہی ہے کہ گناہوں کی مخلصی پانے کیلئے یسوع مسیح پر ایمان لائیں۔ یہی وہ کام ہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔ ہمیں کُچھ نہیں کرنا لیکن اس سچائی میں رہ کر خوشی منانی چاہیے کہ یسوع نے ہمارے گناہوں کو مٹا دیا ہے۔ بحرحال، کیوں آپ دوسرے لوگوں کو جوش میں آ کر صرف جسمانی نیکیاں کرنے پر مجبور کرتے ہیں؟ کیا لوگ اپنے کاموں کےذریعےگناہوں سے رہائی پا سکتے ہیں؟ نہیں۔ نجات صرف گناہوں کی مخلصی پر ایمان لانے پر ہی انحصار کرتی ہے۔
 
 
گناہ کا جو حال ہے وہ فضل کی نعمت کا نہیں
 
رومیوں۵:۱۴۔۱۶بیان کرتا ہے، ” تو بھی آدم سے لےکر موسیٰ تک موت نے اُن پر بھی بادشاہی کی جنہوں نے اُس آدم کی نافرمانی کی طرح جو آنے والے کا مثیل تھا گناہ نہ کیِا تھا۔ لیکن گناہ کا جو حال ہے وہ فضل کی نعمت کا نہیں کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ سے بہت سے آدمی مرَ گئے تو خدا کا فضل اور اُس کی جو بخشش ایک ہی آدمی یعنی یسوع مسیح کے فضل سے پیدا ہوئی بہت سے آدمیوں پر ضرو ر ہی اِفراط سے نازل ہوئی۔ اور جیسا ایک شخص کے گناہ کرنے کا انجام ہُوا بخشش کا ویسا حال نہیں کیونکہ ایک ہی کے سبب سے وہ فیصلہ ہُوا جس کا نتیجہ سزا کا حکم تھامگر بہتیرے گناہو ں سے ایسی نعمت پیدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہُواکہ لوگ راستباز ٹھہرے۔“       
اِن حوالہ جات کا کیا مطلب ہے؟ بائبل فرماتی ہے، ” مگر گناہ کا جو حال ہے وہ فضل کی نعمت کا نہیں۔“ فضل کی نعمت خدا کی نجا ت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ تمام لوگ جنہوں نے آدم کے وسیلہ گناہ کو وراثت میں حاصل کیِاجہنم میں جانا ہی اُن کا مقدر تھا،مگر یسوع پر ایمان لانے کے وسیلہ جس نے اُن کے سب گناہوں کو مٹا ڈالا بلِا اِمتیاز اُن کے گناہ معاف کیے جاسکتے ہیں۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ یسوع نے پیشتر سے ہی ہمارے مُستقبل کے سب گناہوں کو بھی مٹا دیا۔
ایک انسان اگر وہ گناہ نہیں کرتا تو بھی وہ آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے ایک گنہگار ہے۔ اِس لئے ،اگر وہ گناہ نہیں بھی کرتا تو بھی وہ موروثی گناہ کی وجہ سے جہنم سے بچ نہیں سکتاہے۔ یسوع اِس دنیا میں آیا اور ہمارا نجات دہندہ بنا۔ فضل کی نعمت یہ ہے کہ یسوع نے ہمیں اُن گناہوں سےجو لوگ دنیا کے شروع سے لےکر آخر تک کرتے آئے ہیں اُن سب گناہوں کو معاف کرنے کی کثرت سے مخلصی بخشی ہے۔
اِس لئے، ایک آدم کے فضل کی نعمت ایک آدمی کے گناہ سے بہت بڑھ کر ہے۔ اگر کو ئی شخص
خدا کے خلاف گناہ کرتا ہے، تو یہ ایک گناہ ہی انسان کو خدا کی عدالت تک پہنچانے اور جہنم میں بھیجنے کیلئے کافی ہے۔تاہم، خداوند کے فضل کی نعمت، جس نے پیشتر سے ہی ہمارے گناہوں اور خطاؤں کو مٹا ڈالا ،ایک آدمی کے گناہ سے بہت بڑی ہے۔
اِس کا مطلب ہے کہ یسوع‘ کی محبت اور گناہوں سے مخلصی کی نعمت سب انسانوں کے گناہوں سے بڑھ کر اِفراط سے نازل ہوئی ہے۔ خداوند نے کثرت کے ساتھ دنیا کےتمام گناہوں کو مٹا ڈالا۔ یسوع کی محبت، جس نے ہمیں نجات دی، اور نجات کی نعمت با اِفراط اور ایک آدمی کے گناہ سے نہایت بڑھ کر ہے۔ اگرچہ ہم اپنے جسم کے ساتھ اُس کے مخالف تھے تو بھی یسوع نے ہمارے خدا کے خلاف لڑائی کرنے کے گناہ کو بھی مٹا ڈالا۔ اَب خداوند چاہتا ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ وہ پیشتر سے دنیا کے سب گناہوں کو ایک ہی بار مٹا چکا ہے۔ اِسطرح اُس نے گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے خدا کے برّہ کے طور پر رہائی دی ،جس نے دنیا کے گناہوں کو دور کر دیا۔
یہ نظریہ جو کہتا ہے کہ جب ہم خدا پر ایمان لاتے ہیں تو ہمارے گناہ مِٹ جاتے ہیں، اور جب ہم خدا پر ایمان نہیں لاتے تو ہمارے گناہ برقرار رہتے ہیں، حقیقی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ خدا نے بے ایمانوں کے گناہوں کو بھی مٹا دیا کیونکہ وہ دنیا کے سب لوگوں سے محبت کرتا ہے ،جبکہ لوگ خدا کی محبت کو حاصل نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص خدا کی محبت اور نجات سے باہر نہیں ہے۔ خدا کی نجات اُن سب پر ظاہر ہوتی ہے جو حقیقی خوشخبری پر ایمان لاتے ہیں ،جو بیان کرتی ہے کہ یسوع نے ہمارے سب گناہوں کو مٹا دیا ہے۔
ہم بہت کمزور مخلوق ہیں۔ خدا اُن کو جو ایمان لاتے ہیں کہ یسوع نے اُن کے گناہ مٹا دیئے بغیر
گناہ کے شمار میں لاتا ہے۔ ہمارے سب گناہوں کے معاف ہونے کے بعد بھی ہم اپنے جسم میں بہت سی کمزوریاں رکھتے ہیں۔ بہت دفعہ، ہم خدا کے خلاف لڑائی کرتے ہیں اور یہاں تک کہ جب ہم اُس کی مرضی کے ساتھ مُتفق نہیں ہوتے تو ہم اُس کی راستبازی کو اپنے آپ سے دور پھینک دیتے ہیں۔ مگر خدا فرماتا ہے، ” میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میں نے تمہیں نجات دی ہے۔ میں پیشتر سے اُن گناہوں کو جو تم کرتے رہے ہو بلکہ اِس وقت تک کے گناہوں کوبھی مٹا چکا ہوں۔ اوہ! کیا یہ سچ ہے خداوند؟ ہاں، میں سب گناہوں کو مٹا چکا ہوں۔“ خداوند آپ کا شکر ہو۔ میں تیری تعریف کرتا ہوں۔ میرے پاس تیری تعریف کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں کیونکہ تو نے مجھ سے بے پنا ہ محبت کی، یہاں تک کہ تیرے نام کا انکار کرنے کے گناہ کو بھی مٹا دیا۔
وہ جو گنہگار تھے راستباز ٹھہرے اور محبت کے غلام بن گئے۔ اُنہوں نے اپنے آپ کو اُس کی محبت کے سامنے جھکا دیا ہے۔ اگرچہ اُنہوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے پطرس کی طرح اُس کا انکار کیِا تو بھی خداوند نے اُنکے اِنکار کے گناہ کو مٹا ڈالا ہے،اِس لئے وہ خداوند یسوع کا شُکر ادا کرنے سے اپنے آپ کو روک نہیں پاتے ہیں۔ یہ خوشخبری اُنہیں خداوند کی تعریف کرنے کے لائق بناتی ہے۔ اِ سلئے پولوس رسول نے کہا کہ خدا کی نجات ایک آدمی کے گناہ سے بہت بڑی ہے۔
یسوع نے موروثی گناہ کو جو اُن کو وراثت میں ملتا اور اصل گناہ جو دنیا کے آخر تک اپنے کاموں کے ذریعے کرتے تھے اِن سب گناہوں کو دور کر دیا۔ پس،کیسی عظیم ہے خدا کی محبت! اِسلئے ،بائبل نتیجہ کے طور پر بیان کرتی ہے، ” دیکھو! یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لئے جاتا ہے “ (یوحنا۱:۲۹)۔
 
 
راستباز ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ ہمیشہ کی زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کرینگے
          
دنیا کے گناہوں کو توبہ کی لفظی دعاؤں کے وسیلہ معاف نہیں کیِاجا سکتا ہے۔ ایماندار اِس لئے
پاک ہیں اورتمام گناہوں سے نجات پا چکے ہیں کیونکہ خداوند نے پیشتر ہی گناہوں کو دور پھینک دیا یہاں تک کہ وہ گناہ جو مُستقبل میں ہونے والے تھے اُن کو بھی دور کر دیا۔ رومیوں۵:۱۷بیان کرتا ہے، ” کیونکہ جب ایک شخص کے گناہ کے سبب سے موت نے اُس ایک کے ذریعہ سے بادشاہی کی تو جو لوگ فضل اور راستبازی کی بخشش اِفراط سے حاصل کرتے ہیں وہ ایک شخص یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کرینگے۔“
ہم فضل کے ساتھ مبارک ٹھہرے ہیں۔ وہ کون ہیں جو فضل اور راستبازی کی بخشش کو اِفراط
سے حاصل کرتے ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا وند پر ایمان لائے اور جن کے گناہ اُس پر ایمان لانے کے وسیلہ معاف ہو چکے ہیں۔ ہم خداوند کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم فضل اور گناہوں کی مخلصی کو اِفراط سے حاصل کرتے ہیں۔ ” تو جو لوگ فضل اور راستبازی کی بخشش اِفراط سے حاصل کرتے ہیں وہ ایک شخص، یعنی یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کرینگے۔“ ہم وہ بادشاہ ہیں جو ہمیشہ کہ زندگی میں ضرور ہی بادشاہی کرینگے۔
 صرف بادشاہ ہی بادشاہی کرتے ہیں۔ ہم اَب بادشاہی کرتے ہیں۔ کون بادشاہوں کے خلاف لڑائی کر سکتاہے؟ ہم، وہ لوگ ہیں جو فضل اور راستبازی کی بخشش کو اِفراط سے حاصل کرتے ،اور ہر روز بادشاہی کرتے ہیں۔ ہم آج بادشاہی کرتےہیں اور ہم کل بھی بادشاہی کرینگے۔ ہر کوئی جو ہم بادشاہوں کے ساتھ مہربانی دکھائے مبارک ہے اور ہمارے ساتھ بادشاہ بن سکتا ہے۔ تاہم ،جو کوئی اِس حقیقی خوشخبری پر ایمان نہیں لاتا جس کی منادی بادشاہ کرتے ہیں تو وہ لوگ جہنم میں جائیں گے۔
دنیا میں بہت سے بادشاہ ہیں جو رہائی پا چکےہیں اور یہاں بہت سے لوگ ہو چکے ہیں جو جہنم کو گئے کیونکہ وہ اِن بادشاہوں کے مخالف تھے۔اُنہیں بادشاہوں پر رحم کرنا چاہیے تھا ،لیکن اُنہوں نے نہیں کیا۔ اگر وہ سچائی اور دل کی آنکھوں سے دیکھ چکے ہوتے تو وہ بھی بادشاہ ہو سکتے تھے۔
کیا آپ بادشاہی کرتے ہیں؟ ہم دنیا میں اپنے بادشاہ ہونے پر اعتماد رکھتے اور مسرور ہیں۔ ہم اعلانیہ کہتے ہیں کہ جب بے ایمان ہمارے خلاف لڑائی کرتے ہیں تو وہ ضرور ہی جہنم میں جائیں گے۔ صرف بادشاہ ہی ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم حقیقی بادشاہ ہیں۔ کیا یہاں کوئی راستبازوں کے درمیان ایسا شخص ہے جو بادشاہی نہ کرتا ہو؟ بادشاہوں کے طور بادشاہی نہ کرنا یہ اُن کیلئے بے ادبی اور شرم کی بات ہے۔ ایک بادشاہ، بادشاہ کی طرح بادشاہی کرتا ہے۔
 ”آپ خیالات رکھتے ہیں۔“ آپ جہنم میں جائیں گے اگر آپ اِس سچائی کو قبول نہیں کرتے۔“
ایک بادشاہ کا رویہ بادشاہوں کی طرح کا ہوتا ہے۔ ضرور ہے کہ ایک بادشاہ با رُعب ہو اور گنہگاروں کو حکم دے کہ سچائی پر ایمان لائیں۔
ایک بادشاہ مقدمہ کا فیصلہ کر سکتا ہے، وہ گنہگاروں کو جو خدا کی راستبازی کے مخالف ہیں جہنم میں جانے کا حکم دے سکتا ہے ،تاہم ایک بادشاہ کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو ۔ وہ خدا کے نزدیک بے ایمانوں کو جہنم میں جانے کاحکم دینے کا اختیار رکھتا ہے، لیکن اِس کا مطلب یہ نہیں کہ بادشاہ جس طرح چاہے اِ س اختیار کو غلط استعمال کرے۔ خداوند ہمیں بتاتا ہے کہ دنیا پر بادشاہی کرو۔ اِس لئے، آئیں ہم بادشاہی کریں اور آسمان کی ابدی بادشاہت میں داخل ہوں۔
تاہم،بعض راستباز اپنی قوت کے استعمال میں بڑےشائستہ ہیں۔ جب خداوند دوبارہ آئے گا تو اُن کو جھڑکے گا اور کہے گا، ” تم نے اپنا ایمان ترک کر دیا۔ کیوں تم نے غلاموں کی طرح کا برتاؤ رکھا؟ میں نے تمہیں ایک بادشاہ بنایا۔“ بعض لوگ یہاں ایسے ہیں جو دنیا میں غلاموں کی طرح زندگی گذارتے ہیں۔ کیا ایک بادشاہ کو ایسا کہنا زیب دیتا ہے کہ، ”سرَ “ ،کیا یہ مضمون اِسطرح ہے؟ اگرچہ ،یہ اُن کو زیب نہیں دیتا تو بھی بعض راستباز اِسی طرح بولتے ہیں۔ وہ دنیا کے سامنے گھٹنے ٹیک کر معافی مانگتے ہیں یہاں تک کہ خدا کے اُنہیں گناہ سے رہائی دینے کے بعد بھی ۔ ایک بادشاہ کا معیار شاہی ہونا چاہیے۔
 جونہی میں ایک بادشاہ بنا میں نے دنیا کے خلاف اپنی آزاد بادشاہت کا دعویٰ کیِا۔ میں ایمان لایا کہ میں ایک بادشاہ ہوں اور میں نے اپنا رویہ شاہانہ رکھا،اگرچہ میں جوان تھا ۔
 
 
ایک شخص یسوع مسیح کی فرمانبرداری کے وسیلہ
 
رومیوں۵: ۱۸۔۱۹بیان کرتا ہے، ” غرض جیسا ایک گناہ کے سبب سے وہ فیصلہ ہُوا جس کا نتیجہ سب آدمیوں کی سزا کا حکم تھا ویسا ہی راستبازی کے ایک کام کے وسیلہ سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جس سے راستباز ٹھہر کر زندگی پائیں۔ کیونکہ جس طرح ایک ہی شخص کی نافرمانی سے بہت سے لو گ گنہگار ٹھہرے اُسی طرح ایک کی فرمانبرداری سے بہت سے لوگ راستباز ٹھہرینگے۔“
 ”غرض جیسا ایک گناہ کے سبب سے وہ فیصلہ ہُوا جس کا نتیجہ سب آدمیوں کی سزا
کا حکم تھا “ یہاں، سزا کا مطلب عدالت ہے۔ ایک شخص جو آدم کی اولاد کے طور پر پیدا ہوتا ہے اور وہ پانی اور روح کے وسیلہ نئے سرے سے پیدا نہیں ہوا ،اگرچہ وہ یسوع پر ایمان لاتا ہے،تووہ عدالت کے لائق ہے ۔ ” ویسا ہی راستبازی کے ایک کام کے وسیلہ سے سب آدمیوں کو وہ نعمت ملی جس سے راستباز ٹھہر کر زندگی پائیں۔“
 سب لوگ یسوع کےایک راست کام کے وسیلہ راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں،جو کنواری مریم سے پیدا ہُوا، اور دنیا کے سب گناہوں کو بپتسمہ کے وسیلہ اُٹھا لیا تھا ۔ اُس نے اُن کی خاطر مصلوب ہو کر اپنی جان قربان کر دی تاکہ وہ اِنہیں راستباز ٹھہرائے۔ ایک شخص کی خدا باپ کی مرضی کی فرمانبرداری سے ،بہتیرے راستباز ٹھہرئے گئے۔
بڑی سختی سےبولتےہوئے، دنیا کے سب لوگ گنہگار ہیں، یا راستباز اگر ہم ایمان کے نقطہ نظرسےمشاہدہ کریں؟ وہ سب راستباز ہیں۔ بعض لوگ جنہیں میں ایمان کے وسیلےایسا کہتا ہوں فوراً غصہ میں آجاتے اور مجھ سے جھگڑتے ہیں۔ درحقیقت ،یہاں کوئی بھی ایسا نہیں جو خدا کے نقطہ نگاہ سے گناہ رکھتاہو۔ خدا نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور دنیاکے سب گناہوں کو اُس پر لاد دیا اور تمام لوگوں کے نمائندہ کے طور پر اُس کی عدالت ہوئی اور وہ مصلوب ہُوا۔
 
 
لوگ اپنے ایمانوں کے مطابق آسمان کی بادشاہی یا جہنم میں داخل ہوتے ہیں
          
خدا اب مزیددنیا کی عدالت نہیں کرتا کیونکہ اُس نے سب لوگوں کی خاطر یسوع کی عدالت کی۔ تاہم،بعض لوگ ایمان لاتے ہیں اور بعض نہیں اگرچہ خدا کابیٹا اِس دنیا کے سب گناہوں کو اُٹھا لے گیا اور اُنہیں اُس نے خدا کی مرضی کی فرمانبرداری کے ذریعے مٹا ڈالا ۔ ایماندار خدا کی راستبازی پر ایمان لانے کے ذریعے آسمان کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ خدا اُنہیں راستباز شمار کرتا اور فرماتا ہے، ”تم راستباز ہو۔ تم ایمان لائے ہو کہ میں نے واقعی تمہارے سب گناہوں کو مٹا ڈالا۔میرے پاس آؤ۔ میں نے
تمہارے لئے آسمان کی بادشاہی تیار کی ہے۔“ وہ اِفراط سےآسمان کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔
مگر بعض لوگ اُس پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور یہ کہتے ہوئے خوشخبری کو رد کرتے ہیں، ” خداوند ،کیا یہ سچ ہے؟ میں اِس پر ایمان نہیں لا سکتا۔ کیا یہ سچ ہے؟میں اِسے واقعی سمجھ نہیں پایا۔“ خدا فرمائے گا ” کیوں تم نے مُجھے ناراض کیِا؟ اگر تم ایمان لانا چاہتےہوتو مُجھ پر توکل کرو، لیکن اگر تم ایمان نہیں لانا چاہتے تو مت ایمان لاؤ۔“ کیا خداوند، پانی اور روح کی خوشخبری سچی ہے؟ ” میں نے تمہیں نجات دی۔“ ” میں اِس پر ایمان نہیں لا سکتا۔ میں %۹۰تو ایمان لا سکتا ہوں مگر مجھے باقی %۱۰پر شک ہے۔“
پھر خداوند اُنہیں فرمائے گا، ” اگرچہ میں نے تمہیں پیشتر ہی نجات دی مگر تم ایمان نہیں لائے اِسلئے میں تمہارے ایمان کے مطابق تم سے سلوک کرونگا۔ میں نے اُن سب کو جو آدم کی اولاد کے طور پر گناہوں میں ہیں جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ کیِاہے۔ میں نے آسمان کی بادشاہی بھی تیار کی ہے۔ اگر تم چاہوتو آسمان کی بادشاہی میں ایمان لانے کے وسیلہ داخل ہو سکتے ہو، اور اگر تم چاہوتوجہنم میں آگ کی اِس جھیل میں پھینکے جاؤ گے۔“ یہ اُن کے ایمان پر مُنحصر ہے کہ آیا وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں یا جہنم میں۔
کیا آپ یقین رکھتے ہیں کہ یسوع نے اپنے بپتسمہ اور اُس خون کے وسیلہ جو اُس نے صلیب پر بہایا آپ کو آپکے سب گناہوں سے نجات بخشی؟ یہ آپکے ایمان پر منحصر ہے۔ آسمان کی بادشاہی اور جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا خلا ہے۔ خدا کے نزدیک ”نہیں“ کی طرح کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وہاں صرف ”ہاں“ہے۔ خدا ہمیں کبھی نہیں بتاتا کہ، ” نہیں۔“ خدا نے جن باتوں کا وعدہ کیِااُن سب کو پورا کیِا۔ اُس نے تمام گنہگاروں کے سب گناہوں کو مٹا دیا۔
 
 
جہاں گناہ زیادہ ہُوا، وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا
          
آئیں رومیوں۵ : ۲۰ ۔۲۱آیات کو دیکھتے ہیں، ” اور بیچ میں شریعت آموجود ہوئی تاکہ گناہ زیادہ ہو جائے مگر جہاں گناہ زیادہ ہُوا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا۔ تاکہ جس طرح گناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اُسی طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریعہ سے بادشاہی کرے۔“ کیوں شریعت آموجود ہوئی؟ تاکہ گناہ زیادہ ہو جائے۔ بنی نوع انسان آدم کی اولاد کے طور پر پیدا ہونے کے سبب سے یقیناً فطری طور پر گناہ رکھتے ہیں۔ مگر وہ اپنی گنہگار طبع سے واقف نہ تھے، اور اِسلئے خدا نے بنی نوع انسان کو شریعت دی تاکہ وہ گناہ کو پہچانیں کیونکہ شریعت اُنہیں حکم دیتی ہے کہ کیا کچھ کرنا ہے اور کیا
نہیں کرنا ہے، اورا پنے کاموں اور سوچوں کے ساتھ شریعت کی نافرمانی گناہ ہے۔
 شریعت اِسلئے آموجود ہوئی کہ گناہ اور زیادہ ہو جائے۔ خدا نے ہمیں شریعت دی کہ ہم جانیں کہ ہم سخت گنہگار اور گناہ کاانبار ہیں۔ تاہم،جہاں گناہ زیادہ ہُوا، وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا۔ اِس کا مطلب ہے کہ ایک شخص جو آدم کے موروثی گناہ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے ،لیکن اُس کا اپنے آپ کے متعلق کم گنہگار خیال کرنا یسوع مسیح کی نجات کی حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے۔
تاہم، ایک شخص جو خیال کرتا ہے کہ اُس میں بہت سی کمزوریاں ہیں اور وہ جسم کے ساتھ خدا کے کلام کے عین مطابق زندہ نہیں رہ سکتا وہ خدا کی نجات کیلئے اُس کا شکر ادا کرتا ہے۔ خوشخبری جو کہتی ہے کہ خداوند نے ایک ہی بار دنیا کے سب گناہوں کو اُٹھاکر دور کر دیا اِس طرح کے شخص کیلئے ایک عظیم نعمت ہے۔ ” مگر جہاں گناہ زیادہ ہُوا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا۔“ فضل کی نعمت با اِفراط ہے اِسلئے سنگین گنہگار بھی راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔ قدرے کم گنہگار جو خیال کرتے ہیں کہ اُن میں بہت کم گناہ ہے جہنم میں جائیں گے۔صر ف سنگین گنہگار وں کو ہی مکمل طور پر راستباز بنایاگیاہے۔
پس ایک شخص جو جانتا ہے کہ وہ ایک سنگین گنہگار ہے یسوع کی نجات کیلئے عظیم طور پر اُس کی ستائش کرتا ہے۔ اِس دنیا میں خوشخبری کی منادی کرنےوالے خادموں کے درمیان اچھی فطرت رکھنے والے منادچندایک ہیں۔ ” جہاں گناہ زیادہ ہُوا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا۔ “ اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم جان بوجھ کر گناہ کریں تاکہ فضل نہایت زیادہ ہو۔
 پولوس رسول رومیوں ۶ :۱ میں فرماتا ہے، ” پس ہم کیا کہیں؟ کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ “ پولوس کا مطلب ہے کہ ، ” اگر ہم صرف خدا کی راستباز ی پر ایمان رکھیں تو ہم نجات پا تے ہیں۔ خداوند نے پیشتر سے ہمارے سب گناہوں کو مٹا ڈالا اور گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے کثرت سے نجات بخشی۔ ہم اپنے دلوں کے ساتھ ایمان لانے سے راستباز ٹھہرائےجاتے ہیں۔خداوند نے جو کچھ کیِااگر ہم اُس پر ایمان لائیں تو ہم نجات پا سکتے ہیں۔ قطع نظر اِس کے کہ ہم کتنے ہی گنہگار کیوں نہ تھے یا ہم نے کتنے ہی گناہ کیوں نہ کیے ہوں، ہم اِس سچائی پر ایمان لانے کے ذریعے راستباز ٹھہرتے ہیں۔“
ہم ایمان سے راستباز ٹھہرتے ہیں۔ کیسے بُرے ہیں ہمارے کام؟ ہم کتنی بار گناہ میں گرِتے ہیں؟
 ہم کتنی کمزور یاں رکھتےہیں،اگرخُدا،جوکہ بےعیب ہے،ہمارےکاموں پرنگاہ کرے؟ میں خداوند کی تعریف کےعلاوہ کچھ نہیں کرسکتا۔ رومیوں۵: ۲۰۔۲۱بیان کرتاہے، ” مگر جہاں گناہ زیادہ ہُوا وہاں فضل اُس سے بھی نہایت زیادہ ہُوا۔ تاکہ جس طرح گناہ نے موت کے سبب سے بادشاہی کی اُسی طرح فضل بھی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے وسیلہ سے ہمیشہ کی زندگی کے لئے راستبازی کے ذریعہ سے بادشاہی کرے“
خداوند نے ہمیں یسوع مسیح کے وسیلہ ابدی زندگیاں عنایت کی ہیں۔ خداوند کی راستبازی ہمیں اِس لائق ٹھہراتی ہے کہ اُس کے ساتھ بادشاہی کریں۔ میں خداوند کی تعریف کرتا ہوں، جس نے گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے کثرت سے نجات بخشی ہے۔ شکریہ،خداوند ۔