خطبات

مضمون 9: رومیوں (رومیوں کی کتاب پر تفسیر)

[باب6-2] <رومیوں ۶:١۔٨> یسوع کے بپتسمہ کے حقیقی معنی

<رومیوں ۶:١۔٨>
”پس ہم کیا کہیں ؟کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ہرگزنہیں۔ہم جو گناہ کے اعتبار سے مرگئے کیونکر اُس میں آئندہ کو زندگی گزاریں؟کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح یسوع میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیاتواُسکی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا۔؟پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اُسکے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مُردوں میں سے جلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں ۔کیونکہ جب ہم اُسکی موت کی مشابہت سے اُسکے ساتھ پیوستہ ہوگئے تو بیشک اُسکے جی اُٹھنے کی مشابہت سے بھی اُسکے ساتھ پیوستہ ہونگے۔چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی انسانیت اُسکے ساتھ اِس لیے مصلوب کی گئی کہ گناہ کا بدن بیکار ہو جائے تاکہ ہم آگے کو گناہ کی غلامی میں نہ رہیں۔ کیونکہ جو مُواوہ گناہ سے بَری ہُوا ۔ پس جب ہم مسیح کے ساتھ مُوئے تو ہمیں یقین ہے کہ اُسکے ساتھ جئیں بھی ۔“
 
 
بپتسمہ کا کیا مطلب ہے؟
 
ہم یوحنا کو، جس نے یسوع کو بپتسمہ دیا،یوحنا بپتسمہ دینے والا کہتے ہیں ۔پھر بپتسمہ کا کیا مطلب ہے؟ ” بپتسمہ“ کو یونانی میں“βάφτισμα”کہتے ہیں۔ اسکا مطلب ،” ڈوبنا،غرق ہونا “ ہے ۔بپتسمہ کا سب سےاہم مطلب ” گناہ اور موت کو دُور کرنا “ہے۔
عبارت ” غرق ہونا “ موت پردلالت کرتا ہے۔دنیا کے سب گناہ یسوع پرمنتقل ہوگئےتھے جب یوحنا بپتسمہ دینے والے نے اُسے بپتسمہ دیا،اور اِس طرح اُس نے اُنہیں دُورکیِا اورہمارےتمام گناہوں کی اُجرت ادا کرنے کے لیے صلیب پرجان دے دی ۔یسوع ہماری خاطر مُوا۔ موت کا مطلب ہے گناہ کا نتیجہ کیونکہ ” گناہ کی مزدوری موت ہے ۔“) رومیوں۶:۲۳( ٣
بپتسمہ کا مطلب ” دھودینا “ بھی ہے ۔ ہمارے سب گناہ پوری طرح دُھل گئے تھےحتی کہ تھوڑاسابھی گناہ چھوڑےبغیر کیونکہ یسوع نے بپتسمہ کے وسیلہ اِس دنیا کے سب گناہ اپنے جسم پر اُٹھالیے۔ چونکہ اِنسان کے تمام دِلی گناہ بپتسمہ کے وسیلہ یسوع پر لاددیےگئے اِس لیے وہ دُھل گئے ۔
 بپتسمہ کے ایک ہی معنی ہیں جیسا کہ، ” ہاتھوں کا رکھنا۔ “ہاتھوں کے رکھنےکا مطلب ہے ” لاد دینا ۔“ یسوع کا یوحنا اصطباغی سے بپتسمہ لینے کا عمل دنیا کے تمام گناہوں کو برداشت کرنا تھا ۔ یہ خداکی نجات کی ابدی شریعت تھی کہ کاہن گناہ کی قربانی پرہاتھ رکھ کر اسرائیل کے سب گناہوں کو ساتویں مہینے کی دس تاریخ کو اُس پر لاد دیتا تھا ۔
احبار ١۶:۲١۔۲۲ میں لکھا ہے ۔ ” اور ہارون اپنے دونوں ہاتھ اُس زندہ بکرے کے سر پر رکھ کر اُسکے اوپر بنی اسرائیل کی سب بدکاریوں اور ان کے سب گناہوں اور خطاؤں کا قرار کرے اوراُنکو اُس بکرے کے سر پر دَھرکر اُسے کسی شخص کے ہاتھ جو اِس کا م کے لیے تیار ہو بیابان میں بھجوادے۔اور وہ بکرا اُن کی سب بدکاریاں اپنے اوپر لادے ہوئے کسی ویرانہ میں لے جائے گا۔سو وہ اُس بکرے کو بیابان میں چھوڑدے۔“جب ہارون، سردار کاہن، اپنے ہاتھ زندہ بکرے کے سرپر دَھردیتا تو، وہ بکرا اسرائیل کے سب گناہوں کو اُٹھا لیتا اور وہ لوگوں کے لیے ذبح ہوتا تھا ۔
 
 
پُرانے عہدنامہ میں ” گناہوں کی قربانی پرہاتھ دَھرنا “ نئے عہدنامہ میں ” بپتسمہ“ کی علامت ہے
 
بپتسمہ کے معنی ” غرق ہونا “ ہے۔ اِس میں ” دفن ہونا دھوڈالنایاپردھرنا،لاددینا “ شامل ہیں۔ پرانے عہد نامہ میں لوگ پاک بکرا یا برّہ کو لاتے اور اپنے ہاتھ اُس پر رکھ کر اپنے گناہ اُس پر لاددیتے ۔نئےعہدنامہ میں بالکل یہی عمل بپتسمہ کا ہے ۔ بکرا پر ” ہاتھ رکھنے سے “ وہ اُنکے گناہ اُٹھالیتا اور قربان ہوتاتھا۔ یسوع نے یوحنا اصطباغی سے، جو تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ ہے، دنیا کے تمام گناہوں کو دُور کرنے کے لیے بپتسمہ لیااور مصلوب ہُوا۔
 ہارون، جوسردارکاہن اور اسرائیل کا نمائندہ تھا، اسرائیل کے گناہوں کو دُور کرنے کے لیے اپنے ہاتھ بکرے کے سرپر رکھتا ،بکرے کو ذبح کرتا ،اور اُسکے خون میں اُنگلی ڈبوکر آتشین قربانی کے طورپر مذبح کے سینگوں پر لگاتا۔اس لیے ،لوقا نے کہا کہ یوحنا اصطباغی، جوہارون کے گھرانے سے پیدا ہواتھا، تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ تھا،اُسی طرح جیسا کہ سردارکاہن ہارون اسرائیلیوں کا نمائندہ تھا ۔
بائبل بیان کرتی ہے ” میَں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑاکوئی نہیں ہُوا “ (متی۱۱:۱۱) ۔ یوحنا بپتسمہ دینے والے کے پاس اختیار تھا کہ وہ دنیا کے گناہوں کو خدا کے دائمی قانون کے مطابق ایک ہی مرتبہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دنیا کا سردارکاہن ہونے کے سبب سے یسوع پرلاددے۔ یوحنا اصطباغی آخری سردارکاہن تھا ۔ جب میَں کہتا ہوں کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا سردارکاہن تھا ،تو بعض لوگ کہتے ہیں، ” بائبل میں کہاں لکھا ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا سردارکاہن تھا؟ “ کیا یہ نہیں لکھا ؟وہ آدمی جو زکریاہ سے پیداہوایوحنااصطباغی تھا۔ کاہن زکریاہ ابیاہ کاہن کےفریق سےتھا، جو سردار کاہن ہارون کا پوتا تھا ،وہ واضح طورپرہارون کے گھرانے کا تھا ۔
بائبل ١۔تواریخ ۲۴باب میں اُن کاہنوں کی تقسیم کے بارے بتاتی ہے جو سردار کاہن ہارون کے بیٹے تھے ۔ داؤد کے آخری ایام میں، بہت سے کاہن تھے اور ان کاانتظام کرنا ضروری تھا ۔اس طرح وہ قرعہ کے ذریعے ۲۴حصوں میں ہارون کے بڑے بیٹوں کے ۲۴ خاندانوں کے مطابق ہوئے۔ آٹھواں قرعہ ابیاہ کے نام کا تھا۔ ہر ا یک گروپ ہیکل اور خداوند کے گھر کی ١٥روزتک خدمت کرتا تھا ۔اور زکریاہ ابیاہ کے گھرانے کا کاہن تھا اور جب وہ اپنے حصہ کا قرض اداکررہا تھا تو خدا نے اُسے چُن لیا۔
لوقا ١:۹ فرماتا ہے ” کہ کہانت کے دستور کے موافق اُس کے نام کا قرعہ نکلا کہ خداوند کے مقدس میں جاکرخوشبو جلائے۔“ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ یوحنا اصطباغی سردار کاہن ہارون کے گھرانے میں پیداہوا تھا ،اور آخری سردار کاہن ہُوا جوتمام انسانوں کی نمائندگی کرے گا(١١:١١،٣:١٣۔١۷)۔شریعت کے مطابق صرف وہی آدمی سردار کاہن بن سکتا تھا جو سردار کاہن کے گھرانے میں پیدا ہُوا ہو۔ صرف شیر ہی ایک شیرکےبچے کوجنم دے سکتا ہے ۔یوحنا بپتسمہ دینے والے نے سردار کاہن ہارون کی کہانت لی کیونکہ وہ ہارون کے گھرانے کا مردتھا ۔
 
 
یسوع کے رسولوں نے یسوع کے بپتسمہ کی گواہی دی
 
تمام رسول نے خاص کر پولوس،پطرس ،متی اور یوحنا نے یسوع کے بپتسمہ گواہی دی ۔ آئیں
پولوس رسول کی گواہی کے لکھے گئے آج کے خاص حوالہ جات پر ایک نظر دوڑائیں۔ ” پس ہم کیا کہیں ؟کیا گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟ہرگزنہیں۔ ہم جو گناہ کے اعتبار سے مرگئے کیونکر اُس میں آئندہ کو زندگی گزاریں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ ہم جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیاتواُسکی موت میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا؟پس موت میں شامل ہونے کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہم اُسکے ساتھ دفن ہوئے تاکہ جس طرح مسیح باپ کے جلال کے وسیلہ سے مُردوں میں سے جلایا گیا اُسی طرح ہم بھی نئی زندگی میں چلیں ۔کیونکہ جب ہم اُسکی موت کی مشابہت سے اُسکے ساتھ پیوستہ ہوگئے تو بیشک اُسکے جی اُٹھنے کی مشابہت سے بھی اُسکے ساتھ پیوستہ ہونگے۔چنانچہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری پرانی انسانیت اُسکے ساتھ اِس لیے مصلوب کی گئی کہ گناہ کا بدن بیکار ہو جائے تاکہ ہم آگے کو گناہ کی غلامی میں نہ رہیں کیونکہ جو مُواوہ گناہ سے بَری ہُوا ۔ پس جب ہم مسیح کے ساتھ مُوئے تو ہمیں یقین ہے کہ اُسکے ساتھ جئیں گے بھی ۔“ (رومیوں ۶ : ۱ ۔۷)
گلتیوں ٣:۲۷بھی بیان کرتا ہے ۔” اور تم سب جتنوں نے مسیح میں شامل ہونے کا بپتسمہ لیا مسیح کو پہن لیا۔“ آئیں پطرس رسول کی گواہی کو ١پطرس ٣:۲١میں دیکھتے ہیں ” اور اُسی پانی کا مشابہ بھی یعنی بپتسمہ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اَب تمہیں بچاتا ہے ۔ اُس سے جسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالص نیت سے خُداکا طالب ہونا مُراد ہے۔“
یوحنا رسول ١۔یوحنا ٥:٥۔٨ میں کہتا ہے ،” دُنیا کا مغلوب کرنے والا کون ہے سوااُس شخص کے جسکایہ ایمان ہےکہ یسوع خُداکا بیٹا ہے؟یہی ہے وہ جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا تھا یعنی یسوع مسیح ۔ وہ نہ فقط پانی کے وسیلہ سے بلکہ پانی اور خون دونوں کے وسیلہ سے آیا تھا۔ اور جو گواہی دیتا ہے وہ روح ہے کیونکہ روح سچائی ہے۔ اور گواہی دینے والے تین ہیں۔ روح اور پانی اور خون اور یہ تینوں ایک ہی بات پر متفق ہیں۔ “
متی کی گواہی متی ٣:١٣۔١۷ میں مرقوم ہے ۔” اُس وقت یسوع گلیل سے یردن کے کنارے
یوحنا کے پاس اُس سے بپتسمہ لینےآیا ۔ مگر یوحنا یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ میَں آپ تجھ سے بپتسمہ لینے کا محتاج ہوں اور تو میرے پاس آیا ہے ؟۔یسوع نے جواب میں اُس سے کہا اَب تو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دیا۔ اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اُس کے لیے آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپرآتے دیکھا۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میراپیارابیٹا ہے جس سے میَں خوش ہُوں۔ “
یسوع نے یوحنا اصطباغی سے بپتسمہ پانے سے دنیاکے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ ” کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے “ یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ پانے کے وسیلہ اِس دنیا کے سب گناہوں کو اپنے اُوپر اُٹھا لیا ،جو کہ نہایت اُتم طریقہ تھا ۔ خدا نےخود یہ گواہی دی۔ ” اور یسوع بپتسمہ لے کر فی الفور پانی کے پاس سے اوپر گیا اور دیکھو اُس کے لیے آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔ اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میراپیارابیٹا ہے جس سے میَں خوش ہُوں۔ “ یسوع نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ ہمارے سب گناہ اُٹھا لیے ،پانی اور روح کی خوشخبری کی تین برس تک گواہی دی اور مصلوب ہُوا اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا ۔ اَب وہ خدا کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے ۔
یسوع پھر اُن کو لینے آئے گاجو بغیر گناہ کے اُسکا انتظار کرتے ہیں ۔عبرانیوں ۹:۲٨ بیان کرتا ہے ۔ ” اُسی طرح مسیح بھی ایک بار بہت لوگوں کے گناہ اُٹھانے کے لیے قربان ہوکر دوسری بار بغیر گناہ کے نجات کے لیے اُن کو دکھائی دےگا جو اُسکی راہ دیکھتے ہیں۔ “خدا نےخود کہا ، ” یہ میراپیارابیٹا ہے جس سے میَں خوش ہُوں “ اور روح القدس نے گواہی دی ہے کہ وہ آدمی جس نے دنیا کے سب گناہ اُٹھا لیے وہ یسوع، نجات دہندہ تھا۔ مگر لوگ خدا کے کلام کو نہیں سمجھتے کیونکہ اُن کی روحانی آنکھیں بند ہیں ۔اُنکی روحانی آنکھیں کھولی جانی چاہیے اور اُنہیں پانی اور روح کے وسیلہ نئے سرے سے پیدا ہوناچاہیے (یوحنا٣:٥) ۔
اس لیے، وہ خیال کرتے ہیں کہ صرف یسوع اکیلے نے انسانیت کی نجات کی خدمت سر انجام دی ہے۔لیکن حقیقت میں ،یسوع خدا کا برّہ تھا اوراُسے یوحنا اصطباغی کی ضرورت تھی، جو تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ تھا اور جس نے دنیا کے سب گناہوں کو اُس پر لادا۔کیونکہ سردارکاہن ہارون اسی طرح گناہ کی قربانی پرہاتھ رکھ کر (زندہ بکرے پر)تمام اسرائیل کے گناہ ہاتھ رکھنے سے گناہ کی قربانی کے لیے اُس پر منتقل کر دیتاتھا۔اس لیےخُدا نے یسوع سے پہلے اپنے پیغمبر کو بھیجا۔
 
 
یوحنا بپتسمہ دینے والا کون ہے؟
 
یوحنا بپتسمہ دینے والا خدا کا پیغمبر ہےجس کےمتعلق ملاکی ٣:١۔٣ میں پیشن گوئی کی گئی ہے ۔خداوند کو اپنے خادم یوحنا بپتسمہ دینے والے کی ضرورت تھی جوتمام بنی نوع انسان کی نمائندگی کرےگا۔یسوع مسیح ،خدا کے بیٹے نے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو ابدی طورپر یوحنا اصطباغی کے وسیلہ دُور کیا اور نئے عہدنامہ میں گناہوں کی مزدوری اداکرنے کے لیے مصلوب ہُوا ۔ لیکن پُرانے عہد نامہ میں بھیڑ پر ایک محدود وقت کے گناہوں کو ہی رکھا جاتا اور اسے ذبح کیا جاتا تھا۔اس لئے، یسوع نے تمام لوگوں کو ابدی گناہوں سے چھُٹکارہ دیا۔
یسو ع کی پیدائش سے پہلے دو عظیم واقعات رُونما ہوئے ۔ ایک یہ تھا کہ مقدسہ مریم روح القدس کی قدرت سے حاملہ ہوئی اور دوسرا یہ تھا کہ یوحنا اصطباغی ابیاہ کے گھرانے میں پیدا ہُوا تھا ۔ یہ دو واقعات الٰہی فضل کے طورپررُونما ہوئے ۔یہ ایک کا مل کھیل تھا جو خدا نے خود تحریر کیا ۔خدا نے یوحنا بپتسمہ دینے والے کو یسوع سے چھ ماہ پہلے دنیا میں بھیجا اورپھر اپنے اِکلوتے بیٹے کو بھیجا کہ ہمیں اِس جنگ اور دردسے آزاد کرائے ۔ کیا آپ سمجھ گئے ہیں ؟ آئیں بائبل مقدس میں سے اور زیادہ گہرائی سے دیکھتے ہیں۔
آئیں ہم متی ١١:۷۔١۴،میں دیکھیں جس میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کے متعلق گواہی ہے۔ ”جب وہ روانہ ہولئے تو یسوع نے یوحنا کی بابت لوگوں سے کہنا شروع کیاکہ تم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے ؟کیا ہَوا سے ہلتے ہوئے سرکنڈے کو؟تو پھر کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا مہین کپڑے پہنے ہوئے شخص کو ؟دیکھو جو مہین کپڑے پہنتے ہیں وہ بادشاہوں کے گھروں میں ہوتے ہیں۔تو پھر کیوں گئے تھے ؟کیا ایک نبی دیکھنے کو؟ہاں میَں تم سے کہتاہوں بلکہ نبی سے بڑے کو ۔یہ وہی ہے جسکی بابت لکھا ہے کہ دیکھ میَں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگے تیار کرےگا۔ میَں تم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عورتوں سے پیدا ہُوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑاکوئی نہیں ہُوا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے ۔اور یوحنا بپتسمہ دینے والے کے دنوں سےاَب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زور آور اُسے چھین لیتے ہیں ۔کیونکہ سب نبیوں اور توریت نے یوحنا تک نبُوّت کی اور چاہوتومانو ۔ایلیاہ جو آنے والا تھا یہی ہے۔“
 لوگ بیابان میں یوحنا بپتسمہ دینے والے کودیکھنے گئے ،جوپکارتا تھا، ” توبہ کرو کیونکہ آسمان کی بادشاہی نزدیک آگئی ہے (متی۳:۲) “ یسوع نے اُن سے پوچھا، ” کہ تم بیابان میں کیا دیکھنے گئے تھے ؟کیا ہَوا سے ہلتے ہوئے سرکنڈے کو؟تو پھر کیا دیکھنے گئے تھے ؟ کیا مہین کپڑے پہنے ہوئے شخص کو ؟دیکھو جو مہین کپڑے پہنتے ہیں وہ بادشاہوں کے گھروں میں ہوتے ہیں۔تو پھر کیوں گئے تھے ؟کیا ایک نبی دیکھنے کو؟ہاں میَں تم سے کہتاہوں بلکہ نبی سے بڑے کو ۔“
پُرانے عہدنامہ میں ،ایک نبی کے پاس بادشاہوں سے زیادہ طاقت ہوتی تھی ۔ بادشاہوں نے جو
کچھ نبیوں نے کہا اُس کی فرمانبرداری کی تھی ۔ کون پُرانے عہدنامہ میں بادشاہوں اور نبیوں سے بڑھ کر طاقت رکھتا تھا ۔ وہ یوحنا اصطباغی تھا ۔ یسوع نے خود اُسکی گواہی دی ۔ کون سب انسانوں کا نمائندہ تھا۔یسوع کے علاوہ ،وہ کون تھا جو جسم رکھتا اور تمام نبی نوع انسان کا نمائندہ تھا؟وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا تھا۔یوحنا اصطباغی نبی نوع انسان کا زمینی سردارکاہن تھا ۔ خداوند نے خود اُسے مقرر کیا اور دنیا میں بھیجا اور اُس نے اپنا کردار ادا کیا۔
” توپھرکیوں گئے تھے؟کیا ایک نبی دیکھنے کو؟ہاںمیَں تم سے کہتاہوں بلکہ نبی سے بڑے کو یہ وہی ہے جسکی بابت لکھا ہے کہ دیکھ میَں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگےتیار کرےگا۔ “
یسعیاہ نے نبُوّت کی کہ یروشلیم میں لڑائی ختم ہوجائے گی ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشن گوئی اُس وقت پوری ہُوئی جب یوحنا بپتسمہ دینے والے نے کہا ” دیکھو یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لےجاتا ہے ۔“ (یوحنا۱١:۲۹)یوحنا اصطباغی نے گواہی دی کہ یسوع خدا کا بیٹا تھا اور وہ دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھالے گیا۔
دوسری جانب ،یسوع نے گواہی دی کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا خدا کا وہ پیغمبر تھاجو آنے والا تھا ۔ متی ١١:١١ میں رقم ہے ” جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑاکوئی نہیں۔“ کیاجوعورتوں سے پیداہوئے اُن میں سے کوئی یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا ہے؟نہیں ۔ پھر ” جو عورت سے پیداہوئے ہیں۔ “ کاکیا مطلب ہے ؟اِس کا مطلب ہے ” دنیاکےتمام لوگ۔“ ” جو عورتوں سے پیدا ہوئے اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑاکوئی نہیں۔ “کے الفاظ کا مطلب ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والا اِس دنیا کے تمام لوگوں کا نمائندہ تھا ۔ کیونکہ وہ ہارون کے گھرانے میں پیداہُوا اِس لیے وہ سردارکاہن تھا ۔
 
 
یوحنا بپتسمہ دینے والا اِس دنیا کے تمام لوگوں کا نمائندہ تھا
 
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں یوحنا بپتسمہ دینے والادنیا کے سب لوگوں کا نمائندہ اور سردار کاہن تھا جس نے ہمارے گناہوں کو یہ جانتے ہوئے یسوع پرلادا کہ خدا نے ہارون اور اس کے گھرانے کو پرانے عہد نامہ میں ہمیشہ کے لئے کہانت کی خدمت انجام دینے کے لیے مقررکیا تھا ؟
کون تمام بنی نوع انسان کا نمائندہ تھا؟اور یسوع کے علاوہ ،تمام لوگو ں کا جو جسم میں ہیں نمائندہ کون تھا ؟ وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا تھا،جس نے یسوع کو بپتسمہ دیا۔
” ہاںمیَں تم سے کہتاہوں بلکہ نبی سے بڑے کو یہ وہی ہے جسکی بابت لکھا ہے کہ دیکھ میَں اپنا پیغمبر تیرے آگے بھیجتا ہُوں جو تیری راہ تیرے آگےتیار کرےگا۔“
اور وہی آدمی ہے جس نے گواہی دی ، ” دیکھویہ خداکابرّہ ہے جو دنیاکا گناہ اُٹھا لےجاتا ہے ! “ (یوحنا ۱:۲۹)، یوحنا بپتسمہ دینے والا تھا۔
یسوع نے کہا ” اور یوحنا بپتسمہ دینے والے کے دنوں سے اَب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے۔ اور زورآوراُسے چھین لیتے ہیں کیونکہ سب نبیوں اور توریت نے یوحنا تک نبُوّت کی۔ “ (متی ۱۱١:۱۲۔۱۳) ۔یہ حوالہ دکھاتا ہے کہ یسوع نے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ دنیا کے سب گناہوں کو اُٹھا لیا اور تمام بنی نوع انسان کا مخلصی دینے والابن گیا۔یہ بھی دکھاتا ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے دنیا کے تمام گناہوں کو یسوع پر لاددیا ۔ یسوع نے خود بالکل اِسی طرح کہا۔ اِس کا مطلب ہے کہ یوحنا بپتسمہ دینے والے نے ساری دنیا کے گناہ یسوع پرلاددیے اور جو کوئی اِس حقیقت پر ایمان رکھتا ہے اپنے سب گناہوں سے نجات پاچکا ہے اور آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوگا۔ کیایہ صحیح ہے یا غلط؟یہ خدا کے کلام کے مطابق بالکل درست ہے، اور اس طرح ہم جو بائبل کی سچائی کے مناد ہیں باوقار طریقہ سے اِسے دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ جوکوئی بھی سچائی پرایمان لائے وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہوگا۔
 
 
یوحنا بپتسمہ دینے والے نے پُرانے عہدنامہ کے آخری سردارکاہن کے طورپردنیا کے گناہوں کو یسوع پر لاددیا
 
زکریا ہ، یوحنا بپتسمہ دینے والے کے باپ نے، خداوند کے ایک فرشتہ سے سُنا ۔ آئیں زکریاہ کی اپنے بیٹے کے متعلق گواہی کا تجزیہ کرتے ہیں۔ کیا اُسکے باپ کی گواہی باقی لوگوں سے بڑھ کردرست نہیں ؟ آئیں ہم اُسکی گواہی کو جو ایک زبور کی طرح گائی گئی دیکھتے ہیں۔ ” اور اُسکا باپ زکریاہ روح القدس سے بھرگیا اور نبُوّت کی راہ سے کہنے لگا کہ خداوند اسرائیل کے خدا کی حمد ہوکیونکہ اُس نے اپنی اُمت پر توجہ کرکےاُسے چھٹکارادیااور اپنے خادم داؤد کے گھرانے میں ہمارے لیے نجات کا سینگ نکالا(جیسا اُس نے اپنے پاک نبیوں کی زبانی کہا تھا جوکہ دنیا کے شروع سے ہوتے آئے ہیں)یعنی ہم کو ہمارے دشمنوں سے اور سب کینہ رکھنے والوں کے ہاتھ سے نجات بخشی ۔ تاکہ ہمارے باپ دادا پررحم کرے۔ اور اپنے پاک عہد کویادفرمائے ۔یعنی اُس قسم کوجواُس نے ہمارے باپ ابرہام سے کھائی تھی ۔ کہ وہ ہمیں یہ عنایت کرےگا کہ اپنے دشمنوں کے ہاتھ سے چھوٹ کر۔اُسکے حضور پاکیزگی اور راستبازی سے عمربھر بےخوف اُس کی عبادت کریں۔ اور اے لڑکے تُو خدا تعالیٰ کا نبی کہلائے گا کیونکہ تو خدا وند کی راہیں تیارکرنے کو اُسکے آگے آگے چلے گا تاکہ اُسکی اُمت کونجات کا علم بخشے جو اُنکو گناہوں کی معافی سے حاصل ہو۔ یہ ہمارے خدا کی عین رحمت سے ہوگاجسکے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پر طلوع کریگا۔تاکہ اُنکو جو اندھیرے اور موت کے سایہ میں بیٹھے ہیں روشنی بخشے اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالے اور وہ لڑکا بڑھتا اور روح میں قوت پاتا گیا اور اسرائیل پرظاہرہونے کے دن تک جنگلوں میں رہا۔ “ (لوقا ۱:۶۷۔ ۸۰)۔
١ اُس کے باپ نے پیشن گوئی کی کہ یوحناکس قسم کانبی اور کاہن ہوگا۔ آئیں اُس پیشن گوئی کو دیکھیں جو اُس نےاپنے بیٹے کے لیے کی ” اور اے لڑکے تُو خداتعالیٰ کا نبی کہلائے گا ۔ کیونکہ تُو خداوند کی
راہیں تیار کرنے کو اُسکے آگے آگے چلے گا تاکہ اُس کی اُمت کو نجات کا علم بخشے جو اُنکو گناہوں کی معافی سے حاصل ہو۔ یہ ہمارے خدا کی عین رحمت سے ہوگا جسکے سبب سے عالمِ بالا کا آفتاب ہم پرطلوع کرےگا۔ تاکہ اُنکو جو اندھیرے اور موت کے سایہ میں بیٹھے ہیں روشنی بخشے اور ہمارے قدموں کو سلامتی کی راہ پر ڈالے۔ “ (لوقا ۱:۷۶۔۷۹)۔
یہاں،بائبل واضح طور پرکہتی ہے ” تاکہ اُس کی اُمت کو نجات کا علم بخشے جو اُنکو گناہوں کی معافی سے حاصل ہو۔“ کون ہمیں نجات کا علم بخشے گا؟لوقا ١:۷۶ اشارہ کرتا ہے کہ وہ یوحنا بپتسمہ دینے والا ہے ۔ہم یسوع کو جان گئے اور اُس پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ یوحنا نے گواہی دی کہ یسوع مسیح نے گناہگاروں کو اُن کے گناہوں سے اُس سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ رہائی دی کہ اُنکے گناہوں کو دُور کرے، جو اُس نے بڑے عادل اور منصفانہ طریقہ سے انجام دیا ۔یوحنا بپتسمہ دینے والا ، ” یہ گواہی کے لیے آیا کہ نور کی گواہی دےتاکہ سب اُسکے وسیلہ سے ایمان لائیں۔ وہ خود تو نُور نہ تھا مگر نُور کی گواہی دینے کو آیا تھا ۔ “ (یوحنا۱:۷۔۸)۔ ١
 
 
ضرورہےکہ ہم نجات پائیں ۔
          
ہم اِس ایمان کے وسیلہ نجات پا چکے ہیں کہ یسوع نے تمام دنیا کے لوگوں کو اعلیٰ انصاف اور منصفانہ طریقہ کے وسیلہ یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ لینے کے ذریعے نجات اور خلاصی بخشی ۔خدا کی راستبازی کہتی ہے کہ یسوع دنیا میں آدمی کی صورت آیا، گنہگاروں کو اُنکے گناہوں سے بڑے خوبصورت اور منصفانہ طریقہ سے یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بپتسمہ کے وسیلہ رہائی دی اور مصلوب ہونے سے ابدی زندگی کو اِنسانوں تک پھر واپس لایا۔ خدا کی راستبازی پانی اور روح کی خوشخبری میں پوشیدہ ہے ۔
خدا کی راستبازی جو خوشخبری میں ظاہر ہوئی ہمیں سکھاتی ہے کہ یسوع آدمی کی صورت پر آیا،بپتسمہ لیا ، مصلوب ہُوا اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ہم یوحنا کی گواہی کے وسیلہ یسوع پر ایمان لائے اور یسوع کی راستبازی پر ایمان لانے کے وسیلہ اپنے سب گناہوں سے چھٹکاراپایا۔ تمام لوگوں کے گناہ مٹادیے گئے، اور وہ ایمان کے وسیلہ یوحنا بپتسمہ دینے والے سے یسوع کے بپتسمہ پانے کے ذریعے ابدی زندگی پا چکے ہیں۔ وہ روح القدس کو حاصل کرچکے ہیں، جو ہمیں انعام میں خدا کے فرزند ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔