خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب1-1] <مُکاشفہ ۱:۱- ۲۰> خُدا کے کلا م کے مُکاشفہ کو سُنیں

<مُکاشفہ ۱:۱- ۲۰>
”یِسُو ع مسِیح کا مُکاشفہ جو اُسے خُدا کی طرف سے اِس لِئے ہُؤا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جِن کا جلد ہونا ضرُور ہے اور اُس نے اپنے فرِشتہ کو بھیج کر اُس کی معرفت اُنہیں اپنے بندہ یُو حنّا پر ظاہِر کِیا۔ جِس نے خُدا کے کلام اور یِسُو ع مسِیح کی گواہی کی یعنی اُن سب چِیزوں کی جو اُس نے دیکھی تِھیں شہادت دی۔ اِس نبُوّت کی کِتاب کا پڑھنے والا اور اُس کے سُننے والے اور جو کُچھ اِس میں لِکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مُبارک ہیں کیونکہ وقت نزدِیک ہے۔یُوحنّا کی جانِب سے اُن سات کلِیسیاؤں کے نام جو آسیہ میں ہیں ۔ اُس کی طرف سے جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے اور اُن سات رُوحوں کی طرف سے جو اُس کے تخت کے سامنے ہیں۔اور یِسُو ع مسِیح کی طرف سے جو سچّا گواہ اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا اور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکِم ہے تُمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے ۔ جو ہم سے مُحبّت رکھتا ہے اور جِس نے اپنے خُون کے وسِیلہ سے ہم کو گُناہوں سے خلاصی بخشی۔اور ہم کو ایک بادشاہی بھی اور اپنے خُدا اور باپ کے لِئے کاہِن بھی بنا دِیا ۔ اُس کا جلال اور سلطنت ابدُالآباد رہے ۔ آمِین۔دیکھو وہ بادِلوں کے ساتھ آنے والا ہے اور ہر ایک آنکھ اُسے دیکھے گی اور جنہوں نے اُسے چھیدا تھا وہ بھی دیکھیں گے اور زمِین پر کے سب قبِیلے اُس کے سبب سے چھاتی پِیٹیں گے ۔ بیشک ۔ آمِین۔خُداوند خُدا جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادِرِ مُطلق فرماتا ہے کہ مَیں الفا اور اومیگا ہُوں۔مَیں یُو حنّا جو تُمہارا بھائی اور یِسُو ع کی مُصِیبت اور بادشاہی اور صبر میں تُمہارا شرِیک ہُوں خُدا کے کلام اور یِسُو ع کی نِسبت گواہی دینے کے باعِث اُس ٹاپُو میں تھا جو پتمُس کہلاتا ہے۔کہ خُداوند کے دِن رُوح میں آ گیا اور اپنے پِیچھے نرسِنگے کی سی یہ ایک بڑی آواز سُنی۔کہ جو کُچھ تُو دیکھتا ہے اُس کو کِتاب میں لِکھ کر ساتوں کلِیسیاؤں کے پاس بھیج دے یعنی اِفِسُس اور سمُر نہ اور پِرگمُن اور تھوا تِیرہ اور سردِیس اور فِلَدِلفیہ اور لَودِیکیہ میں۔مَیں نے اُس آواز دینے والے کو دیکھنے کے لِئے مُنہ پھیرا جِس نے مُجھ سے کہا تھا اور پِھر کر سونے کے سات چراغ دان دیکھے۔اور اُن چراغ دانوں کے بیچ میں آدم زاد سا ایک شخص دیکھا جو پاؤں تک کا جامہ پہنے اور سونے کا سِینہ بند سِینہ پر باندھے ہُوئے تھا۔اُس کا سر اور بال سفید اُون بلکہ برف کی مانِند سفید تھے اور اُس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند تِھیں۔اور اُس کے پاؤں اُس خالِص پِیتل کے سے تھے جو بھٹّی میں تپایا گیا ہو اور اُس کی آواز زور کے پانی کی سی تھی۔اور اُس کے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے تھے اور اُس کے مُنہ میں سے ایک دو دھاری تیز تلوار نِکلتی تھی اور اُس کاچِہرہ اَیسا چمکتا تھا جَیسے تیزی کے وقت آفتاب۔جب مَیں نے اُسے دیکھا تو اُس کے پاؤں میں مُردہ سا گِر پڑا اور اُس نے یہ کہہ کر مُجھ پر اپنا دہنا ہاتھ رکھّا کہ خَوف نہ کر ۔ مَیں اوّل اور آخِر۔اور زِندہ ہُوں ۔ مَیں مَر گیا تھا اور دیکھ ابدُالآباد زِندہ رہُوں گااور مَوت اور عالَمِ ارواح کی کُنجِیاں میرے پاس ہیں۔پس جو باتیں تُو نے دیکِھیں اور جو ہیں اور جو اِن کے بعد ہونے والی ہیں اُن سب کو لِکھ لے۔یعنی اُن سات سِتاروں کا بھید جِنہیں تُو نے میرے دہنے ہاتھ میں دیکھا تھا اور اُن سونے کے سات چراغ دانوں کا ۔ وہ سات سِتارے تو سات کلِیسیاؤں کے فرِشتے ہیں اور وہ سات چراغ دان کلِیسیائیں ہیں۔“
 
 
تشریح
 
آیت ۱: ” یِسُو ع مسِیح کا مُکاشفہ جو اُسے خُدا کی طرف سے اِس لِئے ہُؤا کہ اپنے بندوں کو وہ باتیں دِکھائے جِن کا جلد ہونا ضرُور ہے اور اُس نے اپنے فرِشتہ کو بھیج کر اُس کی معرفت اُنہیں اپنے بندہ یُو حنّا پر ظاہِر کِیا۔“
مُکا شفہ کی کتاب کو یو حنا رسول نے تحریر کِیا ، جس نے یسو ع مسیح کے مکا شفہ کو پتُمس میں اپنے قیام کے دوران قلمبند کِیا، جو بحیرہ ایجیئن (Aegean Sea)کا ایک جزیرہ ہے جہاں اُسے رومن شہنشاہ دو میتیان(Domitian) کے دورِ حکومت کے زوال کے سالوں میں (تقریباً ۹۵بعد اَز مسیح) جلا وطن کِیا گیاتھا۔ یو حنا کو خُدا کے کلام اور یسوع کی گواہی دینے کے لئے پتمس کے جزیرہ پر جلا وطن کِیا گیاتھا ، اور یہ اُسی جزیرے میں ہے جہاں یوحنا رسول کو یسوع مسیح نے رُوح القدس اور اُس کے فرشتوں کے الہام کے ذریعہ خُدا کی بادشاہت دِکھائی۔
یہ "یسو ع مسیح کا مکاشفہ" کیا ہے؟ یسو ع مسیح کے مکا شفہ کے ذریعہ،اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنے نمائندہ یسوع مسیح کے ذریعہ، مستقبل میں آسمان کی بادشاہی اور اِس دُنیا کے ساتھ کیا ہوگا ہم پر ظاہر کرے گا۔ بنیا دی طور پر یسو ع مسیح کو ن ہے؟ وہ خالقِ خدا اور نجا ت دہند ہ ہے جس نے ساری نسل اِنسانی کو دُنیا کے گناہو ں سے نجا ت بخشی ہے۔
 یسو ع مسیح آنے والی نئی بادشاہت کا خدا ہے، ظاہر کر نے والا جو ہمیں اِس آنے والی نئی دُنیاکے بارے میں سب کچھ دِکھاتا ہے،اور خُدا باپ کا نمائندہ ہے۔یوحنا کے وسیلہ درج مکا شفہ کے کلام کے ذریعہ ،ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یسو ع مسیح پرانی دُنیا کے ساتھ کیسے بر تا ؤ کر ے گا اور ایک نئی دُنیا کا آغاز کر ے گا۔
 
آیت ۲: ” جِس نے خُدا کے کلام اور یِسُو ع مسِیح کی گواہی کی یعنی اُن سب چِیزوں کی جو اُس نے دیکھی تِھیں شہادت دی۔ “
یو حنا خاص طور پر سچائی کے کلام کا گواہ ہوسکتا ہے کیو نکہ اُس نے دیکھا کہ مستقبل میں خُدا باپ کے نمائندے کی حیثیت سے یسو ع مسیح کیا کر ے گا۔ یو حنا نے دیکھا اور سُنا کہ یسو ع مسیح کے وسیلے سےکیا پورا ہوگا، اور اِس طرح، وہ اِن تمام معاملات پر گواہی دے سکتا ہے۔
 
آیت ۳: ” اِس نبُوّت کی کِتاب کا پڑھنے والا اور اُس کے سُننے والے اور جو کُچھ اِس میں لِکھا ہے اُس پر عمل کرنے والے مُبارک ہیں کیونکہ وقت نزدِیک ہے۔“
یہاں یہ کہا گیا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو خُدا کے کلام کو پڑھتےاور سُنتےہیں جس کی گواہی یوحنا نے دی ۔ کون مبارک ہیں؟اول اور سب سے اہم بات یہ کہ، یہ وہ ایماندار ہیں جو خُدا کے کلام پر اُن کے ایمان کے ذریعہ اپنے تمام گنا ہو ں سے نجات پاتے ہوئے خُدا کے لوگ بنتے ہیں۔ صر ف مقدسین ہی مبارک ہو سکتے ہیں کیو نکہ یہ ہیں وہ جنہوں نے خُدا کے کلام کو پڑھا، سُنا اور اُس کی گواہی کو برقرار رکھا— تمام چیزیں جو یسو ع مسیح کے وسیلہ سے ہو نے والی ہیں — جنہیں یوحنا نے قلمبند کِیا۔ جو لوگ اِس طرح سے خدا کے مقدسین بن گئے ہیں وہ خُدا کےکلام کو سُنتے اور اُس پر اپنا ایمان رکھتے ہوئےآسمانی برکا ت حاصل کر یں گے۔
اگر خدا نے ہم سب کو پیشتر ہی، یو حنا کے وسیلہ سے ، اُن تمام چیزوں کا بھید جو اِس زمین اور آسمان پر ہونے والی ہیں نہیں بتایا تھا تو، مقدسین اِسے ہمیشہ کیسے سُن اور دیکھ سکتے تھے ؟ کیسے وہ پیشتر سے جاننے کی برکت رکھ سکتے تھے اور اُن تمام تبدیلیوں پر جن سے دُنیا گزر رہی ہے ایمان رکھ سکتے تھے؟ مَیں خُدا کا ہمیں یوحنا کے وسیلہ سے اُن سب باتوں کوجو اِس آسمان اور زمین پر ہونے والی ہیں دِکھانے کے لئے شکر اور اُس کے نام کوجلال دیتا ہوں۔ ہمارے موجودہ دور میں، واقعی مبارک ہیں وہ جو یسوع مسیح کے وسیلہ سے خُدا کے مُکاشفہ کے کلام کو اپنی آنکھوں سے دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں۔
 
 آیت ۴: ” یُوحنّا کی جانِب سے اُن سات کلِیسیاؤں کے نام جو آسیہ میں ہیں۔اُس کی طرف سے جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے اور اُن سات رُوحوں کی طرف سے جو اُس کے تخت کے سامنے ہیں۔ “
یو حنا یہاں بتا تا ہے کہ وہ آسیہ کی سات کلیسیا ؤں کو اپنا خط بھیج رہا ہے۔ پتمس جزیرے میں جلاوطنی کے دور ان خُدا نے اُس سے اپنےمکا شفہ اور بنوتوں کو قلم بند کروایا ۔ یو حنا نے اِسے آسیہ کی سات کلیسیاؤ ں کے ،ساتھ ساتھ پوری دُنیا میں خُدا کی تمام کلیسیاؤ ں کو بھی بھیجا۔
 
آیت ۵: ” اور یِسُو ع مسِیح کی طرف سے جو سچّا گواہ اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلوٹھا اور دُنیا کے بادشاہوں پر حاکِم ہے تُمہیں فضل اور اِطمِینان حاصِل ہوتا رہے ۔ جو ہم سے مُحبّت رکھتا ہے اور جِس نے اپنے خُون کے وسِیلہ سے ہم کو گُناہوں سے خلاصی بخشی۔“
یو حنا یسو ع مسیح کو "سچا گواہ " کیو ں کہتا ہے؟ ہمارا خدا وند اِس دُنیا میں آیا اور اُس نے یو حنا اِصطبا غی سے بپتسمہ لیا تاکہ اُن سب کو نجات دے جو گناہ میں ہیں اور اپنی تباہی کے پابند ہیں۔یسوع نے اپنے بپتسمہ کے ذریعہ ایک ہی وقت میں دُنیا کے سارے گناہوں کو قبول کیا، اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ گناہوں کی اُجرت ادا کرنے کے لئے صلیب پر خون بہایا،اور تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا— تمام ایمانداروں کو بچانے اور اُن کے گناہوں کو صاف کرنے کے لئے۔ کیونکہ یہ بذاتِ خود یسوع کے سِوا کوئی نہیں ہے جس نے دُنیا کے سارے گنہگاروں کو اُن کے تمام گناہوں سے نجات دلائی، مسیح اِس نجات کا زندہ گواہ ہے۔
" مُردوں سے جی اُٹھنے والوں میں پہلو ٹھا" کے وسیلہ، یو حنا ہمیں بتا رہا ہے کہ یسوع شریعت کی تمام شرائط کو پوراکرنے اور اِس دُنیا میں آنے کے وسیلہ — دوسروں لفظوں میں، گناہوں کی قیمت ادا کرنے— اپنے بپتسمہ کے ساتھ تمام گناہوں کو اُٹھانے، صلیب پر مرنے، اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے سے پہلا پھل بن گیا۔ اور جیسا کہ مسیح نے " ہم سے محبت رکھی اور ہمیں اپنے ہی خون سےدھویا،"خُدا نے اُن لوگوں کو جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کے تمام گناہوں سے آزاد کِیا ہے۔
 
آیت ۶: ” اور ہم کو ایک بادشاہی بھی اور اپنے خُدا اور باپ کے لِئے کاہِن بھی بنا دِیا
۔ اُس کا جلال اور سلطنت ابدُالآباد رہے ۔ آمِین۔“
خُدا باپ کے نمائندے کی حیثیت سے، یسوع انسانی جسم میں اِس دُنیا میں آیا اور اپنے بپتسمہ اور صلیب پر خون کے ساتھ گنہگاروں کو نجات دی۔فضل کے اِن کاموں سے، یسوع نے ہمیں پاک کِیا اور ہمیں خُدا کے لوگ اور کاہن بنا دیا۔ اُس باپ کی جس نے ہمیں اپنے حیرت انگیز فضل سے یہ نعمتیں بخشی ہیں، اور بیٹے کی جو اُس کا نمائندہ اور ہمارا نجات دہندہ ہے ، سارا جلال،عزت اور تمجید ابدُالآباد تک ہوتی رہے! مسیح کے مجسم ہونے کا مقصد ہمیں باپ کے لئے خُدا کی بادشاہی کے لوگ اور کاہن بنانا تھا۔ ہم دوسرے لفظوں میں آسمان کی بادشاہی کے " بادشاہ" بنائے گئے ہیں جہاں ہم خُدا کے ساتھ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
 
آیت ۷: ” دیکھو وہ بادِلوں کے ساتھ آنے والا ہے اور ہر ایک آنکھ اُسے دیکھے گی اور جنہوں نے اُسے چھیدا تھا وہ بھی دیکھیں گے اور زمِین پر کے سب قبِیلے اُس کے سبب سے چھاتی پِیٹیں گے ۔ بیشک ۔ آمِین۔ “
یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ مسیح بادلوں کے ساتھ آئے گا ۔ اور میں اِس پر مکمل طور پرایمان رکھتا ہوں۔ یہ کوئی سائنسی افسانوی کہانی نہیں ہے۔ یہ پیشن گوئی ہے کہ یسوع مسیح یقیناً آسمان سے اِس زمین پر واپس آئے گا۔ یہاں یہ بھی کہا گیا ہے کہ "جنہوں نے اُسے چھیدا تھا" اُسے دیکھیں گے۔یہ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کو محض دُنیا کی بہت ساری مذہبی تعلیمات میں سے ایک کے طور پر دیکھا، حتیٰ کہ یہ کلام اُن سب کو بچانے کی طاقت رکھتا ہے۔
جب مسیح واپس آئے گا تو، وہ لوگ جنہوں نے اُسے اپنے کُفر سے چھیدا تھا وہ ضرور چھاتی پِیٹیں گے۔وہ روئیں اور ماتم کریں گے، کیوں کہ جب اُنہیں یہ پتہ چلے گا کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری ہی یقیناً اُن
کے گناہوں سے چھٹکارے اور نجات کی خوشخبری ہے، اور یہ کہ یسوع نے یوحنا اصطباغی سے بپتسمہ لے کر دُنیا کے سارے گناہوں کو اُٹھا لیا، اُنہیں بہت دیر ہوچُکی ہوگی۔
 
آیت ۸: ” خُداوند خُدا جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے یعنی قادِرِ مُطلق فرماتا ہے کہ مَیں الفا اور اومیگا ہُوں۔“
 "اِلفااور او میگا " کے ذریعہ ، یوحنا ہمیں بتاتا ہے ہمارا خُداوند انصاف کا خُدا ہے جس سے ساری
کائنات کی اِبتدا اور اِنتہا اور بنی نُوح اِنسان کی تاریخ ماخوذ ہوئی ہے۔خُداوند راستبازوں کو بدلہ دینے اور گنہگاروں کی عدالت کرنے واپس آئے گا۔وہ قادرِ مطلق خُدا ہے جو لوگوں کے گناہوں کی عدالت کرے گااور اُن لوگوں کی راستبازی کا بدلہ دے گا جو اُس کی راستبازی پر ایمان رکھتے ہیں۔
 
آیات ۹۔۱۰: ” مَیں یُو حنّا جو تُمہارا بھائی اور یِسُو ع کی مُصِیبت اور بادشاہی اور صبر میں تُمہارا شرِیک ہُوں خُدا کے کلام اور یِسُو ع کی نِسبت گواہی دینے کے باعِث اُس ٹاپُو میں تھا جو پتمُس کہلاتا ہے۔کہ خُداوند کے دِن رُوح میں آ گیا اور اپنے پِیچھے نرسِنگے کی سی یہ ایک بڑی آواز سُنی۔“
"بھائی" کا لفظ استعمال ہوتا ہے جب ساتھی ایماندار ایک دوسرے کو کہتے ہیں۔ خُدا کی نئے سرے سے پیدا ہوئی کلیسیا میں،وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر ایک خاندان بن چُکے ہیں، ایک دوسرے کو بھائی اور بہن کہہ کر بلاتے ہیں، اور یہ لقب ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ہمارے ایمان کے ذریعہ حاصل ہوئے ہیں۔
یہاں "خُداوند کے دن" سے مراد سبت کے بعد کا دن ہے، جب یسوع مُردوں سے جی اُٹھا تھا۔یہ ہفتے کا وہ دن ہے جب یسوع زندہ ہوا تھا، اور اِسی وجہ سے ہم اتوار کو "خُداوند کادن" کہتے ہیں۔ یہ دن شریعت کے دور کے خاتمے اور نجات کے نئے دور کے آغاز کا نشان ہے۔ نیز، اُس کے جی اُٹھنے کے ساتھ ، ہمارے خُداوند نے ہمیں بتایا کہ اُس کی بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں ہے۔
 
آیت ۱۱: ” کہ جو کُچھ تُو دیکھتا ہے اُس کو کِتاب میں لِکھ کر ساتوں کلِیسیاؤں کے
پاس بھیج دے یعنی اِفِسُس اور سمُر نہ اور پِرگمُن اور تھوا تِیرہ اور سردِیس اور فِلَدِلفیہ اور لَودِیکیہ میں۔ “
یوحنا نے یسوع مسیح کے مُکاشفہ کے ذریعہ جوکچھ دیکھا اِس کولکھا اور اِسے آسیہ کی ساتوں کلیسیاؤں کو بطورِ خطوط بھیجا۔یہ ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا اپنے خادمین کے وسیلہ پوری کلیسیا سے بات کرتا ہے جو ہمارے آگے چلتے ہیں۔
 
آیت ۱۲: ” مَیں نے اُس آواز دینے والے کو دیکھنے کے لِئے مُنہ پھیرا جِس نے مُجھ سے کہا تھا اور پِھر کر سونے کے سات چراغ دان دیکھے۔ “
چونکہ رسولوں کے دِنوں میں خُدا کا کلام ابھی مکمل نہیں ہوا تھا،اِس لئے شاگردوں کو نشانات اور رویا کی ضرورت تھی۔جب یوحنا نے خُدا کی آواز سُننے کے لئے مُنہ پھیراتو، اُس نے "سونے کے سات چراغ دان" دیکھے۔یہاں چراغ دان خُدا کی کلیسیا کی علامت ہیں،مقدسین کا اجتماع جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے مُکاشفہ پر ایمان رکھتے ہیں۔خُدا آسیہ کی سات کلیسیاؤں کا خُداوند تھا،اور وہ چرواہا تھا اور ہے جو تمام مقدسین کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
 
آیت ۱۳: ” اور اُن چراغ دانوں کے بیچ میں آدم زاد سا ایک شخص دیکھا جو پاؤں تک کا جامہ پہنے اور سونے کا سِینہ بند سِینہ پر باندھے ہُوئے تھا۔ “
"آد م زادسا ایک شخص " جسے یوحنا نے "سات چراغ دانوں کے بیچ میں دیکھا" سے مراد یسوع مسیح ہے۔مقدسین کے چرواہے کے طور پر،یسوع اُن لوگوں سے ملتا ہے اور اُن سے گفتگو کرتاہے جو اُس کے بپتسمہ اور صلیب کے سچائی کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ یوحنا مسیح کی تفصیل " پاؤں تک کا جامہ پہنے اور سونے کا سِینہ بند سِینہ پر باندھے "بیان کرتا ہے جو خُدا باپ کے نمائندے کے طور پر ہمارے خُداوند کے مرتبے کی علامت ہے۔
 
آیت ۱۴: ” اُس کا سر اور بال سفید اُون بلکہ برف کی مانِند سفید تھے اور اُس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند تِھیں۔ “
ہمارا خدا وند کامل ، پاک، جلالی اور قابل ِتعظیم ہے۔" اُس کی آنکھیں آگ کے شعلہ کی مانند ہیں "
کا مطلب ہے کہ وہ، بطور قادر مطلق خدا ، سب کا انصاف کرنےوالاہے۔
 
آیت ۱۵: ” اور اُس کے پاؤں اُس خالِص پِیتل کے سے تھے جو بھٹّی میں تپایا گیا ہو اور اُس کی آواز زور کے پانی کی سی تھی۔“
ہم کیا سمجھتے ہیں کہ یسوع کون ہے؟ مقدسین ایمان رکھتے ہیں کہ وہ سراسر اور مکمل طور پر خُدا ہے۔ہماری خُداوند قادرمطلق ہےاور کوئی کمزوری نہیں رکھتاہے۔ لیکن چونکہ اِس زمین پر رہتے ہوئےاُس نے ہماری کمزوریوں کو پہچانا، لہذا وہ ہماری کیفیت اور حالات کی گہری سمجھ رکھتا ہے، اور اِس طرح وہ ہماری بہتر مدد کر سکتا ہے۔اُس کی آواز زور کے پانی کی سی تھی ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا خُداوند کتنا مقدس اور قادر مطلق ہے۔ ہمارے خُداوند میں ناکاملیت اورکمزوری کا کوئی سراغ نہیں ملتاہے، اور وہ صرف اپنی پاکیزگی، محبت ، عظمت اور عزت سے معمور ہے۔
 
آیت ۱۶: ” اور اُس کے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے تھے اور اُس کے مُنہ میں سے ایک دو دھاری تیز تلوار نِکلتی تھی اور اُس کاچِہرہ اَیسا چمکتا تھا جَیسے تیزی کے وقت آفتاب۔“
یہ کہ "اُس کے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے تھے" کا مطلب یہ ہے کہ خُداوند خُدا کی کلیسیا کو سنبھالے ہوئے ہے۔اُس کے مُنہ میں سے "دو دھاری تیز تلوار" دوسرے لفظوں، میں اِس بات کی علامت ہے کہ یسوع قادرمطلق خُدا ہے جو خُدا کے اختیار اور قدرت والے کلام کے ساتھ کام کرتا ہے۔ " جیسے تیزی کے وقت آفتاب چمکتا ہے،"ہمارا خُداوند کلام کا خُدا ہے، جو بے حد طاقت والا ہے۔
 
آیت ۱۷: ” جب مَیں نے اُسے دیکھا تو اُس کے پاؤں میں مُردہ سا گِر پڑا اور اُس نے یہ کہہ کر مُجھ پر اپنا دہنا ہاتھ رکھّا کہ خَوف نہ کر ۔ مَیں اوّل اور آخِر۔“
یہ آیت ہمیں دِکھاتی ہےکہ ہم خُدا کی پاکیزگی کے سامنے کتنے کمزور اور تاریک ہیں۔ہمارا خُداوند ہمیشہ کامل اور قادر مطلق ہے، اور وہ خُدا کے خادمین پربعض اوقات دوست کے طور پر ظاہر ہوتا ہے، اور دوسرے اوقات میں سخت منصف کے طور پر۔
آیت۱۸: ” اور زِندہ ہُوں ۔ مَیں مَر گیا تھا اور دیکھ ابدُالآباد زِندہ رہُوں گااور مَوت اور عالَمِ ارواح کی کُنجِیاں میرے پاس ہیں۔“
ہمارا خُداوند ہمیشہ کے لئے زندہ ہےاور خُدا باپ کے نمائندے کی حثییت سے آسمان کا سارا اختیار رکھتاہے۔ بنی نُوح انسان کے نجات دہندہ اور منصف دونوں کی حثییت سے،وہ خُدا ہے جو ہمیشہ کی زندگی اور موت پر اختیار رکھتاہے۔
 
آیت ۱۹: ” پس جو باتیں تُو نے دیکِھیں اور جو ہیں اور جو اِن کے بعد ہونے والی ہیں اُن سب کو لِکھ لے۔“
خُدا کے خادمین کا فرض ہے کہ وہ خُدا کے مقصد اور کاموں کو موجودہ اور مستقبل دونوں کے
بارے میں محفوظ کریں۔خُداوند نے اِس لئے یوحنا سے ایمان پھیلانے کےلئے کہاجو وہ اُس پر نازل کر چُکا تھا،خُدا کی کلیسیاکا ایمان جو ابدی زندگی پائے گا، اور اُن تمام چیزوں کو جو مستقبل میں آنے والی ہیں۔یہ ہے کیا خُدا، یوحنا کے وسیلہ، ہمیں بھی ایسا ہی کرنے کے لئے فرماتا ہے۔
 
آیت۲۰: ” یعنی اُن سات سِتاروں کا بھید جِنہیں تُو نے میرے دہنے ہاتھ میں دیکھا تھا اور اُن سونے کے سات چراغ دانوں کا ۔ وہ سات سِتارے تو سات کلِیسیاؤں کے فرِشتے ہیں اور وہ سات چراغ دان کلِیسیائیں ہیں۔“
"سات سِتاروں کا بھید" کیا ہے؟ یہ ہے کہ خُدا اپنے خادمین کے وسیلہ ہمیں اپنے لوگ بنا کر اپنی بادشاہی کی تعمیر کرے گا۔ " سونے کے چراغ دان" مقدسین کے وسیلہ خُدا کی کلیسیا کی تعمیر کی علامت ہے،جو خُدا کی بنی نُوح انسان کو دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔
خُدا نے اپنے خادمین اور اپنی کلیسیاؤں کے وسیلہ، ایمانداروں کو دِکھایا ہے کہ اُن کا مقصد کیا ہےاور مستقبل میں اِس دُنیا کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔مُکاشفہ کے کلام کے ذریعہ جو اُس نے یوحنا پر ظاہر کِیااور اُسے قلم بندکِیا، ہم، بھی، جلد ہی اُسکے کاموں کو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھیں گے۔میں خُدا کا شکر گزار ہوں اور اُس کی الٰہی دوراندیشی کے لئے اُس کی تعریف کرتا ہوں جس نے اُن تمام باتوں کو ظاہر کِیا ہے جو اِس دُنیا میں ہونے والی ہیں۔