خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-1] <مُکا شفہ ۲: ۱۔۷> اِفِسُس کی کلِیسیا کے نام خط

<مُکا شفہ ۲: ۱۔۷>
اِفِسُس کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو اپنے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے لِئے ہُوئے ہے اور سونے کے ساتوں چراغ دانوں میں پِھرتا ہے وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ مَیں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسُول کہتے ہیں اور ہیں نہیں تُو نے اُن کو آزما کر جُھوٹا پایا۔ اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطِر مُصِیبت اُٹھاتے اُٹھاتے تھکا نہیں۔ مگر مُجھ کو تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اپنی پہلی سی مُحبّت چھوڑ دی۔پس خیال کر کہ تُو کہاں سے گِرا ہے اور تَوبہ کر کے پہلے کی طرح کام کر اور اگر تُو تَوبہ نہ کرے گا تو مَیں تیرے پاس آ کر تیرے چراغ دان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دُوں گا۔ البتّہ تُجھ میں یہ بات تو ہے کہ تُو نِیکُلیوں کے کاموں سے نفرت رکھتا ہے جِن سے مَیں بھی نفرت رکھتا ہُوں۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے درخت میں سے جو خُدا کے فِردوس میں ہے پَھل کھانے کو دُوں گا۔
 
 
تشریح
 
آیت ۱: ” اِفِسُس کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو اپنے دہنے ہاتھ میں سات سِتارے لِئے ہُوئے ہے اور سونے کے ساتوں چراغ دانوں میں پِھرتا ہے وہ یہ فرماتا ہے کہ۔“
اِفسُس کی کلیسیا خُدا کی کلیسیا تھی جس کی بنیاد پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلہ رکھی گئی جس کی پولوس رسول نے منادی کی تھی۔ "سونے کے سات چراغ دان"اِس عبارت میں خُدا کے کلیسیاؤں ،وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں کے اِجتماع، اور "سات سِتارے" خُدا کے خادموں کاحوالہ دیتے ہیں۔ دوسری طرف، " جو اپنے دہنے ہاتھ میں سات ستارے لئے ہوئے ہے" اِس جملے کا مطلب ہے
کہ خُدا خود اپنے خادموں کو سنبھالتااور استعمال کرتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خُدانےاپنے بندہ یوحنا کے ذریعہ آسیہ کی سات کلیسیاؤں سے جو کلام کِیا
وہ اُسکی موجودہ وقت کی تمام کلیسیاؤں سے بھی مخاطب ہےجو،اب آخری وقت کا سامنا کررہی ہیں۔اپنی کلیسیاؤں اور خادموں کے ذریعہ، خُدا ہم سے بات کرتا اور بتاتاہےکہ اُن مصیبتوں اور آزمائشوں پر کیسے غالب آئیں جو ہماری منتظر ہیں۔ہمیں مُکاشفہ کے کلام کوسُن کر اور اِس پرایمان رکھ کر شیطان پر غلبہ پانا چاہیے۔ خُدا اپنی کلیسیاؤں میں سے ہر ایک فردسےمُخاطب ہے۔
 
آیت ۲: ” مَیں تیرے کام اور تیری مشقّت اور تیرا صبر تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تُو بدوں کو دیکھ نہیں سکتا اور جو اپنے آپ کو رسُول کہتے ہیں اور ہیں نہیں تُو نے اُن کو آزما کر جُھوٹا پایا۔“
خُداوند نے اِفسُس کی کلیسیا کی اِس کے کام ، محنت ، صبر ، برائی کی عدم برداشت ، جھوٹے رسولوں کو بے نقاب کرنے اور اِس کی پہچان کے لئے تعریف کی۔ ہم اِس حوالہ سے بخوبی جان سکتے ہیں کہ اِفسُس کی کلیسیا کا ایمان اور نذرانہ کتنا عظیم تھا۔ لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ قطع نظراِس کے کہ ایمان کا آغاز کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو ، اگر یہ ایمان بعد میں برگشتہ ہوجاتا ہے تو، یہ بیکار ہوجاتا ہے۔ ہمارا ایمان لازمی طور پر سچا ایمان ہونا چاہئے جس کا آغاز اور انجام مستقل طور پر ایک ہی رہتا ہے۔
لیکن اِفسُس کی کلیسیاکے خادم کا ایمان ایسا نہیں تھا ، اور اِسی لئےخُدا نے اُس کی سختی سے سرزنش کی اور خبردار کیا کہ وہ اُس کے چراغ دان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دے گا۔ جیسا کہ کلیسیا کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے ، آسیہ کوچک میں واقع سات کلیسیاؤں کو واقعتاًان کے چراغ دانوں کو ہٹانے سے ملعون کیاگیا تھا۔ ہمیں اِفسیوں کی کلیسیاکے اسباق سے سیکھنا چاہئے اور یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری کلیسیاؤں کی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ خدا کی طرف سے منظوری ہونی چاہئے ، اور ہمیں خدا کے خادم بننا چاہئے جو اِس ایمان کے وسیلہ سےہماری کلیسیاؤں کو سنبھالتے ہیں۔
 
آیت۳ :” اور تُو صبر کرتا ہے اور میرے نام کی خاطِر مُصِیبت اُٹھاتے اُٹھاتے تھکا نہیں۔“
ہمارا خُداوند اپنی تمام کلیسیاؤں پر نگاہ رکھتا ہے اور اچھی طرح جانتا ہے کہ اِس کےمقدسین اُس کے نام کی خاطرکس طرح محنت کرتے ہیں۔ لیکن اِفسیوں کی کلیسیا کے مقدسین اپنے پہلے ایمان کو چھوڑ
رہے تھے اور پانی اور رُوح کے خالص خوشخبری کو دوسرے عقائد کے ساتھ گھٹا کر غلط راستے میں پڑنے لگے تھے۔
 
آیت ۴ :” مگر مُجھ کو تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اپنی پہلی سی مُحبّت چھوڑ دی۔“
اِفسیوں کی کلیسیاکے خادم اور مقدسین کے ایمان کے کام اِس قدر اچھے تھے کہ خداوند نے بذاتِ خود اِن کے کاموں ، محنت اور صبر کے لئے اِن کی تعریف کی۔ اُنہوں نے جھوٹے رسولوں کو آزمایااور بےنقاب کِیا تھا ، انہوں نے خداوند کے نام کی خاطر صبر اور مشقت کی تھی ، اور وہ تھکتے نہیں تھے۔ لیکن اِن انتہائی قابل ستائش کاموں کے بیچ ، جو اِن میں سے کسی سے کہیں زیادہ اہم بات جو وہ کھو چکے تھے: انہوں نے یسوع مسیح کے وسیلہ عطا کی گئی اپنی پہلی سی محبت چھوڑ دی تھی۔
اِس کا کیا مطلب ہے؟ اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے تھے جس نے اُنہیں خداوند میں قبولیت اور اِیمان کے ذریعہ اُن کے تمام گناہوں سے ایک ہی مرتبہ نجات حاصل کرنے کی اجازت دی تھی۔ دوسری طرف، پانی اور رُوح کی خوشخبری کو ترک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے جھوٹی تعلیمات اور دیگر خوشخبریوں کو اپنی کلیسیا میں دبے پاؤں آنے کی اجازت دی تھی۔
پھر ، یہ دوسری خوشخبری اور تعلیمات کیا تھیں؟ وہ دنیاوی فلسفے اور انسانی نظریات تھے۔ یہ چیزیں اب بھی نجات کی سچائی کے منافی ہیں جو خدا نے بنی نُوح انسان کو دی ہے۔ یہ انسان کے جسم کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں ، یا پھرشاید لوگوں میں اتحاد اور امن لانےکے لئےبھی موزوں ہوں، لیکن یہ لوگوں کے دلوں کو خدا کے ساتھ متحد نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ ہے کیسے اِفسُس کی کلیسیا کاخادم اور مقدسین خدا کے حضور ملعون ہو کر مرتدوں کی مانند اپنے ایمان سےمنحرف ہوگئے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اُنہیں خداوند نے ملامت کی۔
کلیسیا کی تاریخ پر نظر ڈالتے وقت ، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری ابتدائی کلیسیاکے دور کے آغاز سے ہی تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوگئی۔ اِس سبق سے سیکھتے ہوئے ، ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کو ثابت قدمی سے تھامے رہنا چاہئے ، اپنے اٹل ایمان سے خداوند کو خوش کرنا چاہیے ، اور شیطان اور دُنیا کے خلاف ہماری کوشش میں اُن پرغلبہ پانا چاہیے۔
پھر ، اِفسُس کی کلیسیاکے خادم اور مقدسین کے لئے "پہلی محبت" کیا تھی؟ اُن کی پہلی محبت کوئی
اور نہیں بلکہ پانی اور رُوح کی خوشخبری تھی جو خدا نے اُنہیں دی تھی۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری نجات کا کلام ہے جو ہر ایک کو دُنیا کے سارے گناہوں سے نجات دلانے کی قدرت رکھتا ہے۔
خدا نے پولوس ، یوحنا ، اور آسیہ کی سات کلیسیاؤں کے خادموں پر پانی اور رُوح کی خوشخبری ظاہر کی اور اُن کو اِسےسمجھنے کی اجازت دی۔ یہ ہے کیسے وہ اِس خوشخبری پر ایمان رکھ سکتے ہیں ، اور کیسے اُن لوگوں نے جنہوں نے اِن کے ذریعہ منادی کی گئی خوشخبری کو سُنا اور ایمان رکھااِس دُنیا کے سارے گناہوں سے نجات پا سکے۔
ہمارے خداوند کے وسیلہ دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری مسیح کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون کے کلام میں پائی جاتی ہے۔ پھر بھی اِفسُس کی کلیسیا کا خادم ، اگرچہ وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ذریعہ خداوند سے ملا تھا اور شروع میں شکر گزاری کے ساتھ اِس کی منادی کی ،اُس نے بعد میں اِس خوشخبری کو ترک کردیا۔ اِس طرح ، خُداوند نے اِس حوالے میں اُس کے دھوکےپر اُسے ملامت کی۔
 
آیت ۵: ” پس خیال کر کہ تُو کہاں سے گِرا ہے اور تَوبہ کر کے پہلے کی طرح کام کر اور اگر تُو تَوبہ نہ کرے گا تو مَیں تیرے پاس آ کر تیرے چراغ دان کو اُس کی جگہ سے ہٹا دُوں گا۔“
اِفسُس کی کلیسیا کا خادم خدا کی محبت سے گِر گیا تھا اِس کا مطلب یہ تھا کہ جماعت نے پانی اور رُوح کی خوشخبری ترک کردی تھی۔ یہ ہے کیوں خداوند نے ان سے کہا کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ جہاں انہوں نے اپنا ایمان کھو دیا ہے ، توبہ کریں ، اور پہلے جیسے کام کریں ۔
تب ، اِفسُس کی کلیسیاکے پانی اور رُوح کی خوشخبری کو کھونے کی کیا وجہ تھی؟ اِفسُس کی کلیسیاکےایمان کی کمزوری ، جو اِس کے خادم کے جسمانی خیالات کا پتہ لگاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ کلیسیا گمراہ ہوئی۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری خدا کی طرف سے ہے ، ایک مطلق سچائی جس نے اِس دنیا کے تمام مذاہب کے جھوٹے عقائد اور تعلیمات کے سارے جھوٹ کو ظاہر کِیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب اِفسُس کی کلیسیا نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کی اور اِس کو پھیلادیا ، تو دنیاوی لوگوں کے ساتھ تنازعہ ناگزیر تھا۔
اِس تنازعہ کے نتیجے میں ، اِفسُس کی کلیسیا کے ایمانداروں کے لئے دنیاوی لوگوں کے ساتھ معاملات اور زیادہ مشکل ہوگئے ، یہاں تک کہ اِن کو اپنے ایمان کے لئے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس سے
بچنے کے لئے ، اور لوگوں کو خُدا کی کلیسیا میں داخل ہونا آسان بنانے کے لئے، اِفسُس کی کلیسیا کا خادم پانی اور رُوح کی خوشخبری سے رُخصت ہوا اور مزید فلسفیانہ خوشخبری کی تعلیم دینے کی اجازت دی۔
یہاں "فلسفیانہ خوشخبری" ایک ایسی جھوٹی خوشخبری ہے جو انسانی خیالات سے اخذ کی گئی ہے جو نہ صرف خدا اور انسان کے مابین تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ مردوں کے مابین رشتے میں امن لانے کی بھی کوشش کرتی ہے۔ اِس قسم کا عمودی اور افقی ایمان وہ ایمان نہیں ہے جو خدا ہم سے چاہتا ہے۔ وہ ایمان جو خدا چاہتا ہے وہ ایک ایمان ہے جو ، خدا کے ساتھ ہمارے فرمانبردار تعلقات کے ذریعہ ، اُس کے ساتھ ہمارے امن کو بحال کرتا ہے۔
اِفسُس کی کلیسیا کےخادم کی پانی اور رُوح کی خوشخبری سے محروم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اُس نے ایسی بات کو قبول کرنے کی کوشش کی جس کو خدا کے کلیسیامیں قبول نہیں کیا جاسکتا — یعنی یہ دنیاوی لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں— اور اِس کی تعلیمات کو اپنی خواہشوں کے مطابق کر دیتے ہیں۔ خدا کی کلیسیاکی بنیاد پانی اور رُوح کی خوشخبری کے کلام پر ہی رکھی جاسکتی ہے۔
موجودہ دور میں ابتدائی کلیسیا کے دور کی طرح ، ابھی بھی بہت سارے لوگ موجود ہیں ، جو یہ سمجھتے ہیں کہ نجات حاصل کرنے کے لئےیسوع پرکسی طرح بھی ایمان رکھنا کافی ہے ، اور جو نہیں دیکھتے کیوں وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھیں۔ لیکن خُدا کی طرف سے دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری کو نظرانداز کرتے ہوئے یسوع پر ایمان لانا ایک بہت ہی غلط عقیدہ ہے۔ جو لوگ صرف ایک مذہبی عمل کے طور پر خداوند پر ایمان رکھتے ہیں ، آدھے دل سے حرکت میں آتے ہیں ، وہ خدا کے دشمن بن جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خداوند نے اِفسُس کے خادم کو ڈانٹا اور نصیحت کی کہ وہ اپنے غلط ایمان سے توبہ کرے اور اپنے پہلے ، سچے اور مستحکم ایمان کی طرف لوٹ آئے ، جب اُس نے پانی اور رُوح کی خوشخبری پہلی دفعہ سُنی تھی۔
ہمارے لئے یہاں ایک اہم سبق ہے: اگر خُدا کی کلیسیا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان
سے دور ہوجاتی ہے تو خُدا اُسے اب اپنی کلیسیانہیں کہے گا۔ یہ ہے کیوں خداوند نے کہا کہ وہ چراغ دان کو اس کی جگہ سے ہٹا دے گا اور اِسے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے والوں کو دے گا۔
ایک کلیسیا جو ردّ کر چکی ہے اور اب پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی نہیں کرتی ہے خدا کی کلیسیانہیں ہے۔ ہمارے لئے یہ سمجھنا قطعی ناگزیر ہے کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا ، دفاع کرنا ، اور منادی کرنا کسی دوسرے کاموں سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
مذکورہ بالا عبارت میں آسیہ کوچک جہاں سات کلیسیائیں واقع تھیں اب ایک مُسلم خطہ ہے۔
خُداوند نے اِس طرح یہاں کے چراغ دان، خدا کی کلیسیا، کو ہٹا دیا ہے ، اور ہمیں ساری دنیا میں پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرنےدی ہے۔ لیکن خدا کی سچی کلیسیامیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کی سچائی ہے۔ خُدا کی کلیسیاکا اِس کے بغیر وجودنہیں ہوسکتا۔ یسوع کے بارہ شاگردوں نے رسولوں کے دورکے دوران پانی اور رُوح کی خوشخبری پر مستقل ایمان رکھا تھا (۱-پطرس ۳: ۲۱ ، رومیوں کا باب ۶ ، ۱-یوحنا باب ۵)۔
بہر حال ،نہایت بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ آسیہ کوچک میں خدا کی کلیسیاؤں نے ابتدائی کلیسیاکے دورسے ہی پانی اور رُوح کی حقیقی خوشخبری کھو دی تھی، اور اِس کے نتیجے میں یہ مسلمان خطہ بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ ، حتیٰ کہ روم کی کلیسیا ، رومی شہنشاہ قسطنطین کے ذریعہ جاری کردہ میلان ایڈ کٹ (Edict of Milan (کے ساتھ پانی اور رُوح کی خوشخبری سے محروم ہونے کے المیے سے متاثر ہوئی تھے۔
 
آیت ۶: ” البتّہ تُجھ میں یہ بات تو ہے کہ تُو نِیکُلیوں کے کاموں سے نفرت رکھتا ہے جِن سے مَیں بھی نفرت رکھتا ہُوں۔“
نِیکُلیوں وہی لوگ تھے جنہوں نے یسوع کا نام اپنے دنیاوی اور مادی فوائد کے حصول کے لئے استعمال کیا۔ لیکن اِفسُس کی کلیسیاکو نِیکُلیوں کی تعلیمات اور کاموں سے نفرت تھی۔ اِفسُس کی کلیسیا کے لئے، یہ ایک ایسی چیز تھی جو خدا کے ذریعہ انتہائی قابلِ تعریف تھی۔
 
آیت۷: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب
آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے درخت میں سے جو خُدا کے فِردوس میں ہے پَھل کھانے کو دُوں گا۔“
خُدا کے خادموں اور مقدسین کو یہ سُننا چاہیےکہ رُوح القدس اُن سے کیافرماتا ہے۔ رُوح القدس جو کچھ انہیں فرماتا ہے وہ اُن کے ایمان کا دفاع اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کو آخر تک پھیلاناہے۔ ایسا کرنے کے لئے، اُن کو جھوٹ پھیلانے والےلوگوں کے خلاف لڑنا اور غلبہ پاناہوگا ۔ جھوٹ کے خلاف جنگ ہارنے کا مطلب تباہی ہے ۔ ایماندار اور خُدا کے بندوں کو اپنے دشمنوں پر اپنے
بازوؤں سے فتح اور غلبہ پانا چاہئے— یعنی، خُدا کے کلام اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ساتھ۔
خُدا نے فرمایا ، " جو غالِب آئے مَیں اُسے اُس زِندگی کے درخت میں سے جو خُدا کے فِردوس میں ہے پَھل کھانے کو دُوں گا۔" خدا زندگی کے درخت کا پھل صرف اس کو دے گا "جو غالب آئے۔" لیکن کیا یا کس پر غالب آئیں؟ ہمیں اپنے ایمان کے ساتھ اُن پرغالب آنا ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ ایمانداروں کو اُن لوگوں کے ساتھ مستقل روحانی لڑائیوں میں حصہ لینا چاہئے جو جھوٹ سے تعلق رکھتے ہیں ، اور اُن کو اُن کے ایمان کے ذریعہ اِن لڑائیوں میں فاتح بن کر ابھرنا چاہیے۔اُنہیں سارا جلال بھی خُداہی کو دینا چاہئے اور پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے ساتھ فتح کی زندگی بسر کرنا چاہئے۔ صرف وہی لوگ ، جو سچائی پر ایمان کے ساتھ ، اپنی جدوجہد میں اپنے دشمنوں پر غالب آئیں گے ، خدا کے ذریعہ دیئے گئے نئے آسمان اور زمین میں رہنے کے قابل ہوں گے۔
ابتدائی کلیسیا کے دور میں ، پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے اور اِس کا دفاع کرنے کی کوشش کرنے والوں کو شہادت کا سامنا کرنا پڑا۔ اِسی طرح ، جب مخالفِ مسیح کے ظہور کا وقت آجائے گا ، بہت ساری شہادتیں ہوں گے۔