خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-3] <مُکاشفہ ۸:۲-۱۱> سمُرنہ کی کلِیسیا کے نام خط

<مُکاشفہ ۸:۲-۱۱>
اور سمُر نہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو اَوّل و آخِر ہے اور جو مَر گیا تھا اور زِندہ ہُؤا وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ مَیں تیری مُصِیبت اور غرِیبی کو جانتا ہُوں (مگر تُو دَولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شَیطان کی جماعت ہیں اُن کے لَعن طَعن کو بھی جانتا ہُوں۔ جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر ۔ دیکھو اِبلِیس تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تُمہاری آزمایش ہو اور دس دِن تک مُصِیبت اُٹھاؤ گے ۔ جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا۔
 
 
تشریح
 
آیت ۸: ” اور سمُر نہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو اَوّل و آخِر ہے اور جو مَر گیا تھا اور زِندہ ہُؤا وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ “
سمُر نہ کی کلِیسیا کی بنیاد رکھی گئی تھی جب پولوس اِفسُس کی کلیسیامیں خدمت کر رہاتھا۔ مذکورہ بالاعبارت کے مطابق ، اِس کلیسیاکے اراکین غریب تھے ، جنکی ، اُنکے ایمان کی وجہ سے ، اُن کی برادری کے یہودی مخالفت کرتے تھے۔ یہودیوں کے ذریعہ اِس کلیسیا پر کتنا ظلم کِیا گیا ،کلیسیا کے فادرز کے دور میں ایک نگران، پولی کارپ کی شہادت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ ابتدائی کلیسیا کےمقدسین کو یہودی ایمانداروں سے مستقل ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا جنہوں نے مسیح کو اپنا مسیحا ماننے سے انکار کیا۔
سمُر نہ کی کلِیسیا کی بنیاد پولوس رسول نے رکھی تھی۔ " جو اَوّل و آخِر ہے اور جو مَر گیا تھا اور زِندہ ہُؤا ،" کی طرف سے ، یوحنا خُدا کا ذکر کررہا ہے ، جس نے کائنات کو تخلیق کِیا۔ ہماراخُداوند، کنواری مریم سے پیدا ہوا ، یوحنا سےاپنے بپتسمہ کے ذریعہ دُنیا کے گناہوں کوخود پراُٹھالیااور اُسکے صلیب پر خون بہانے سے ان گناہوں کے لئے عدالت ہوئی۔ پھر وہ تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا اور خُدا کے داہنے ہاتھ پر بیٹھا ہوا ہے۔ یسوع خُدا کی کلیسیا کے فرشتہ سے نہ صرف ہمارے نجات دہندہ کی حیثیت سے بلکہ قادرِمطلق خُدا کی حیثیت سے بھی بات کرتا ہے۔
 
 آیت۹: ” مَیں تیری مُصِیبت اور غرِیبی کو جانتا ہُوں (مگر تُو دَولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شَیطان کی جماعت ہیں اُن کے لَعن طَعن کو بھی جانتا ہُوں۔ “
خُداوند کو اُن تمام پریشانیوں اور مشکلات کا علم تھا جنکا سمُر نہ کی کلِیسیا سامنا کررہی تھی۔ اگرچہ یہ مادی لحاظ سے ایک غریب کلِیسیا تھی، سمُر نہ کی کلِیسیا روحانی طور پر مالدار تھی۔ سمُرنا میں بہت سے یہودی رہتے تھے ، جن کو خُدا نے " جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شَیطان کی جماعت ہیں ۔" کے طور پر بیان کِیا۔ اُن یہودیوں نے شیطان کےمقاصد کو انجام دینے کے لئے اپنے آپ کوشیطان کے آلہ کار کے طور پر اُسکے حوالہ کردیا ، اور اِس طرح پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی میں رکاوٹ بن گئے ، خُدا کی کلیسیا پر ظلم کرتے ہوئے۔ اُن کا ماننا تھا کہ وہ اکیلے ہی راسخ العقیدہ یہودی تھے ، اور یہ کہ صرف وہ ہی ابرہام کے فرزند تھے۔ لیکن حقیقت میں وہ نہ صرف ابرہام کے ایمان پر چلنے میں ناکام رہے بلکہ اِس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے باپ دادا کے خُدا کو ردّکردیا۔ اُن پریہودیوں نے بہت زیادہ ظلم و ستم کِیا ، سمُر نہ کی کلِیسیاغریب تھی، لیکن پھر بھی یہ ایک ایسی کلِیسیاتھی جو اپنی روحانیت میں مالا مال تھی۔
 
آیت۱۰: ” جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر ۔ دیکھو اِبلِیس تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تُمہاری آزمایش ہو اور دس دِن تک مُصِیبت اُٹھاؤ گے ۔ جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔ “
خدا نے سمُر نہ کی کلِیسیا کو کہا کہ " جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر ۔" اُس نے اُنہیں " جان دینے تک بھی وفادار رہ " کا بھی کہا اور وعدہ کِیا کہ وہ اُنھیں "زِندگی کا تاج" عطا کرے گا۔ خداوند کو پہلے ہی معلوم تھا کہ شیطان سمُر نہ کی کلِیسیا کے چند مقدسین کو دھمکیاں دے گا اور اُن کا ایمان توڑنے کی کوشش کرے گا۔ اِسی لئے اُس نے وعدہ کِیا تھا کہ اگر وہ موت تک اُس کے وفادار
رہیں تو ، وہ اُنھیں زندگی کا تاج عطا کرے گا۔
خداوند ہمیں اِس حوالہ سے جو کچھ بتا رہا ہے وہ یہ ہے کہ خُدا کے خادمین اور اُس کے مقدسین جو آخری وقت میں رہتے ہیں وہ بھی شیطان اور اس کے پیروکاروں کے ذریعہ ستائےجائیں گے۔ لیکن ہمارے پاس موت کے وقت تک خُدا کے ساتھ وفادار رہنے کی طاقت ہوگی ، کیونکہ یہ طاقت ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ہمارے ایمان سے اور نئے آسمان ا و رزمین کے لئے ہماری اُمید سے بکثرت ملتی ہے جسکا خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے۔
 
آیت ۱۱: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا۔ “
آخری وقت کے ایماندار مخالفِ مسیح اور خُدا کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیں گے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ جن لوگوں کےپاس حقیقی خوشخبری اور آسمان کی اُمید ہے وہ اپنے ایمان کے ساتھ فاتح ہوں گے۔ ہمیں اپنا کلام حق اور ایمان عطا کرکے ، خُدا نے ہر ایماندار کو اپنے دشمنوں پر غالب آنے کے قابل بنا دیا ہے۔ صرف ایک سوال باقی ہے کہ آیا ہم خُدا اور اُس کے خادمین کی طرف رہیں گے۔
رومیوں ۸: ۱۸ہمیں بتاتا ہے کہ "کیونکہ میری دانِست میں اِس زمانہ کےدُکھ درداِس لائق نہیں کہ اُس جلال کے مُقابِل ہوسکیں جو ہم پر ظاہر ہونے والاہے" مخالفِ مسیح اور اُس کے پیروکاروں کے ذریعہ ہمارا ظلم و ستم صرف کچھ دن ہی جاری رہے گا، شاید صرف ۱۰دن۔خُدا پر بھروسہ کرتے ہوئے ، آپ مصائب کی اِس مختصر مدت کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، مخالفِ مسیح پر غالب آ سکتے ہیں ، اور خُدا کوجلال دے سکتے ہیں اور اُس کی ابدی بادشاہی اپنے انعام کے طور پر حاصل کرسکتے ہیں۔ خُدا نےمقدسین کو مخالفِ مسیح کے خلاف اُن کی جنگ جیتنے کی طاقت دی ہے۔
آئیے ہم سب پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے ساتھ مخالفِ مسیح پر فتح حاصل کریں ، اور آئیے ہم سب ہزارسالہ بادشاہی اور نئے آسمان اور زمین میں دوبارہ مل کر ہمیشہ کے لئے اکٹھے زندگی گزاریں۔ یہاں پہلی موت سے مراد ہماری جسمانی موت ہے ، جبکہ دوسری موت سے مراد رُوحانی موت جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ مقدسین کے لئے ، شہادت ہے ، اُن کی جسمانی موت ہے ، لیکن رُوحانی موت نہیں ہے۔
مَیں خُدا کا شکر گزار ہوں کہ اُس نے اِس آخری وقت میں ہم ، مقدسین کو شہادت کی عزت اور جلال عطا کِیا ، جیسا کہ اُس نے ابتدائی کلیسیا کے شہیدوں کو عطا کِیا تھا۔