خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-5] <مُکاشفہ ۲: ۸- ۱۱> گُناہ سے کون بچایا گیاہے؟

<مُکاشفہ ۲: ۸- ۱۱>
 
 
یہ عبارت ایشیاکوچک میں سمُرنا کی کلیسیاکوخُداوند کا خط ہے ، ایک کلیسیا جو مادی طور پر غریب تھی ، لیکن اِس کے باوجود رُوحانی طور پر ایمان سے مالا مال تھی۔ اِس کے مقدسین اور خُدا کےخادم نےیہودیوں سے ستائےجانے کے باوجود اپنے ایمان کا دفاع کِیا ، اور یہاں تک کہ موت کی ایذارسانیوں میں بھی، اُنہوں نے خُداوند اور اُس کی پانی اور رُوح کی خوشخبری سے انکار نہیں کِیا۔ خُدا کے کلام پرایمان رکھ کر وہ لڑے اور جیت گئے۔
خُداوند نے سمُرنا کی کلیسیاکےمقدسین کو بتایا کہ وہ آنے والی تکالیف سے خوفزدہ نہ ہوں ، بلکہ موت تک وفادار رہیں ، اُن کےساتھ زندگی کےتاج کاوعدہ کرتے ہوئے۔
خُدا نے اپنے لوگوں کو اُن کے جھوٹے عقائد سے لڑنے اور ان پر غالب آنے کے لئے کہا جو خود کو نبی کہتے ہیں۔ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ ہمارے تمام گناہوں سے نجات پانے کے لئے کس طرح کے ایمان کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری ہی حقیقی خوشخبری ہے ، اور اِسی ایمان کے ساتھ ہمیں ان جھوٹے عقائد اور جھوٹوں کے خلاف لڑنا اور ان پر غالب آنا ہوگا جو آج کی مسیحی دُنیا کو آفت زدہ کررہے ہیں۔ جب ساری دُنیا شیطان کے ذریعہ دھوکہ کھا چکی تھی تو ، خُدا نے ہمارے خُداوند کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کو پورا کرنے کے لئے بھیجا۔ اُس نے اُن تمام لوگوں کو بھی جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو اُن کے تمام گناہوں سے بچایا ہے۔ ہمیں اس سچائی کو محسوس کرنا اور اس پر ایمان رکھنا چاہئے۔
وہ کون لوگ ہیں جو خُدا کے حضور اپنے تمام گناہوں سے نجات پا چکے ہیں؟ وہ مضبوط جسم یا صاحبِ ارادہ لوگ نہیں ہیں ، بلکہ وہ لوگ ہیں جو صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر اپنے تمام گناہوں سے نجات پا چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جانتے اور اِس پر ایمان رکھتے ہوئے جھوٹے عقائد اور جھوٹ سے لڑے اور غالب آئے ہیں۔ جو لوگ اس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور باطل عقائد پر غالب آتے ہیں ، خدا اُنہیں دوسری موت سے بچنے کی برکت عطا کرے گا۔
 
 
خُدا کی نجات غالب آنے والوں کودی گئی ہے
 
جیسا کہ مُکاشفہ کا کلام ہمیں بتاتا ہے ، "جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا ۔" صرف غالب آنے والوں کو خُدا ایک نئی زندگی اور اپنی نئی بادشاہی عطا کرے گا۔ جیسا کہ ہمارے دو کان ہیں ، ہم دو مختلف کہانیاں سُنتے ہیں—یعنی، ہم بیک وقت سچ اور باطل دونوں کو سُنتے ہیں۔ خُدا کے کلام اور شیطان کے کلام کےمابین ہماری تقدیر کا تعین اِس بات سے ہوتا ہے کہ ہم کس کے کلام کو قبول کرتے ہیں اور کس کے کلام کو مسترد کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہم سب کو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھناچاہئے ، اور ، اِس سچائی کےکلام اور اِس پر اپنے ایمان کے ساتھ ، جھوٹی تعلیمات کا مقابلہ کرنا اور ان پر غالب آناچاہئے۔ چونکہ اِس دُنیا میں ہر شخص گناہ کے بوجھ تلے دُکھ اُٹھا رہا ہے ، ہمیں مطالعہ کرنا اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کو تلاش کرناچاہئے جو ہمیں ہمارے گناہوں سے پوری طرح نجات دے سکتی ہے۔ لیکن بہت سارے ایسے بھی ہیں جو اُس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ جھوٹے اساتذہ سے پہلے ہی چارا پاچکےہیں سچائی کو قبول نہیں کرسکتے ہیں۔ اِن جھوٹے نبیوں کے ذریعہ منادی کی گئی فرضی نجات اِس دعویٰ پر مبنی ہے کہ اگر آپ گناہ نہیں کرتے ہیں تو آپ کو برکت ملےگی۔
لیکن ہم ، اپنے جوہر میں ، گناہ کا مقدررکھتے ہیں؛ گناہ کرنا ہماری ناگزیر فطرت ہے ، اور اِس طرح ہم صرف اس دُنیا کے گناہوں میں جکڑےرہ سکتے ہیں۔ اگر گنہگاروں کے دلوں کو اِس طرح جھوٹے نبیوں کے ذریعہ دُنیا کے گناہوں میں جکڑا جاتا ہے تو ، وہ کیسے کبھی خُدا پر یقین کریں گے اور اپنے گناہوں سے نجات پاسکتے ہیں؟ اُنہیں خُدا کی کلیسیا کی طرف رجوع لانا چاہئے ، پانی اور رُوح کی خوشخبری کا کلام سُننا چاہئے ، اور اپنے گناہوں کی معافی کے ذریعہ اپنےسچے دلوں کو حاصل کرنا چاہئے۔ اِس دُنیا میں بہت سارے لوگ خُدا کی حقیقی کلیسیا کی تلاش کرتے ہیں اور اپنی نجات کےلئے ترس رہےہیں ، لیکن ان میں سے بیشتر اسے تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اِس کے بجائے شریعت کی کلیسیا میں ہی ختم ہوجاتے ہیں— اور یہی وجہ ہے کہ وہ جہنم کے پابند ہیں۔
پھر ، خُدا کی کلیسیاکس طرح کی کلیسیاہے ، جسکی گنہگاروں کوواقعی ضرورت ہے؟ خدا کی کلیسیاجس کی ہر گنہگار کو ضرورت ہے وہی ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتی ہے۔ بائبل میں خُدا کی کلیسیاکے بارے میں بات کی گئی ہے جو یسوع کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون کی منادی کرتی ہے۔ خُدا کی حقیقی کلیسیا بالکل درست اور واضح طور پر یہ سکھاتی ہے کہ یسوع نے دُنیا کے سارے گناہوں کو کس طرح اپنے اوپر اُٹھالیا اور اُس نے اُن کو کس طرح معدوم کردیا ، یہ سب پانی اور رُوح کی خوشخبری میں ہیں۔ ہر گنہگار جو اپنے گناہوں سے نجات پاچُکا ہے وہ ایمان کے ذریعہ ایسا ہی کرتاہے جو خُدا کی کلیسیا کے وسیلے سے پانی اور رُوح کی خوشخبری سُننے سے آیا ہے۔
پھر بھی چونکہ بہت سارے مسیحی پانی اور رُوح کی خوشخبری کے بارے میں نہ تو سُن چکے ہیں اور نہ ہی اُس کے ساتھ اُنکا تعلق ہے ، وہ اپنے تمام گناہوں سے نجات پانے کےقابل نہیں ہوسکے ہیں۔ لیکن خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ اُن لوگوں کو گناہ سے نجات دے گا جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں اور جو جھوٹی خوشخبریوں کے خلاف لڑتے اور اُن پر غالب آتے ہیں۔ خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ وہ جوغالب آئیں گے اُنکودوسری موت سے تکلیف نہیں پہنچے گی۔
گناہ سے حقیقی نجات صرف اُن لوگوں کو مہیا کی گئی ہے جو جھوٹےاساتذہ کے خلاف کھڑے ہوتے اور اُن پر غالب آتےہیں۔ چونکہ ہم گنہگاروں کی حیثیت سے پیدا ہوئے ہیں ، اگر ہم غلط تعلیمات پر غالب نہیں آسکتے ہیں تو ہم ، شیطان کے قیدی بن کر ختم ہوجائیں گے ، گناہ کے پابند ، اور آخر کار جہنم کا مقدر ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا نے ہم سب کو ہماری نجات کی رُوحانی جنگ میں دشمنوں پر غالب آنے کے لئے کہا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کچھ جانور ، جیسے شیر یا چیتے، جان بوجھ کر اپنے بچوں کوایک پہاڑی سےنیچےدھکیل کر اُنہیں اپنے آپ سے اوپر چڑھنے کی تربیت دیتے ہیں۔ صرف وہی بچےجو پہاڑی پر واپس اوپر آتے ہیں بلندہوں گے۔ اِسی طرح ، خُدا نے ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری دی ہے ، اور صرف اُن لوگوں کو جو اِس خوشخبری سے جھوٹی تعلیمات سے لڑتے اور اُن پر غالب آتے ہیں خُداآسمان کی اجازت دے گا۔
ہماری نجات ہمارے اپنے خون اور گوشت سے نہیں ملتی ہے۔ ہم صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر ہی گناہ سے نجات پا سکتے ہیں۔ حقیقی نجات یسوع کےبپتسمہ اور اُسکے صلیبی خون پرایمان رکھنےسے ملتی ہے۔ جب ہمارے دل بپتسمہ اور خدا کے بیٹے کے خون بہانے پر ایمان رکھتے ہیں جس نے دنیا کے گناہوں کو دور کِیا ہے ، تو ہم اپنے سارے گناہوں سے بچائےجائیں گے اور اپنی حتمی تباہی سے نجات حاصل کریں گے۔ جو بھی آسمان میں داخل ہوتا ہے وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر ایسا کرتا ہے ، اور جو بھی جہنم میں ختم ہوتا ہے وہ اِس خوشخبری پرایمان نہ رکھ کر ایسا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سب کو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہئے اور جھوٹی خوشخبریوں کو مسترد کرنا چاہئے۔
جھوٹی تعلیمات اور جھوٹ کو پھیلاتے ہوئے ، شیطان پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر لوگوں کو نجات حاصل کرنے سےروکنے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر یہ کون سی جھوٹی تعلیمات ہیں؟ جھوٹی خوشخبریاں وہ ہیں جو یہ تعلیم دیتی ہیں کہ یسوع نے دُنیا کے سارے گناہوں کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ نہیں اُٹھایا۔ وہ یہ سکھاتے ہیں کہ جبکہ یسوع نے ہماراگناہ ِاوّلین اُٹھالیا ، تو ہمارے روزانہ کے گناہوں کو ہماری توبہ کی روزانہ دعاؤں سے پاک کرنا چاہئے۔ شاید اِن تعلیمات کا مذہبی اصطلاحات میں کوئی مطلب ہو ، لیکن اِنہیں جب پانی اور رُوح کی حقیقی خوشخبری سے دیکھا جائے تو یہ محض غلط ہیں۔
پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے سے ہر ایک کو نجات ملتی ہے؛ جھوٹی خوشخبریاں ہمیں کبھی بھی گناہ سے نجات نہیں دیں گی ۔ اِس لئے ہمیں اِن جھوٹی تعلیمات سے لڑنا اور ان پر غالب آنا ہوگا۔ شیطان کے خلاف لڑنے کا مطلب ہے باطل کے خلاف کھڑا ہونا۔ ہمیں ضرور یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ کیا ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر بھروسہ کریں گے یا جھوٹی خوشخبریوں پر ، اور اپنا فیصلہ کرنے کے بعد ، ہمیں دوسرے کے خلاف لڑنا ہوگا۔ یہاں تک کہ جو لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ شیطان پرغالب نہیں آسکتے ہیں اگر اُن کا ایمان صرف نیم گرم رہتا ہے۔
بہت سارے لوگ جو بچائے گئے ہیں وہ پہلے خُدا کے کلام اور شیطان کے کلام کے مابین بحث کر تے تھے۔ اُن کے گناہوں کو صرف تب ہی معاف کِیا گیا تھاجب اُنہوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کا فیصلہ کِیا۔ ہر کوئی جو نجات پاچُکا ہے ،دُنیا کی تخلیق کے آغاز سے لے کر اب تک ، وہ ایک ہے جوجھوٹی خوشخبریوں سے لڑا اور اُن پر غالب آیا۔ ہم سب کوضرور پانی اور رُوح کی خوشخبری کی تلاش کرنی چاہئے، جھوٹی خوشخبریوں کو مسترد کرنا چاہئے ، اور ایمان کے ذریعہ ہمارے سارے گناہوں سے نجات حاصل کرنی چاہئے۔
 
 
جھوٹی خوشخبریاں کیا ہیں؟
 
آئیے فرض کریں کہ، تشریح کے مقصد کے لئے ، ایک ایسا گاؤں ہے جہاں اِس میں رہنے
والے ہر شخص کی صرف ایک ہی آنکھ ہوتی ہے ، اور یہ کہ اِس گاؤں میں دو آنکھوں والا ایک ملاقاتی آتاہے۔ گاؤں کے لوگ اِس دو آنکھوں والے ملاقاتی کو "عجیب ،" "ناقص ،" "بہت مختلف ،" یا شاید "بدعتی" کہہ کر بلائیں گے۔ وجہ کیوں وہ مہمان کی عدالت بدعتی کے طور پر کرتے ہیں یہ ہےکیوں کہ وہ اُن سے مختلف ہے ، جو، اِس معاملے میں ،مطلق اکثریت کے حامل ہیں۔ اِسی طرح ، اِس دنیا میں ایک تعصب پایا جاتا ہے جہاں "اکثریت حکمرانی کرتی ہے ،" یا، اسے مختلف انداز میں پیش کرتے ہوئے ، جہاں "سچائی اکثریت کےساتھ ہے۔" لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ عدالت اور نتائج اخذ کرنے کے اس طرح کے معیارات بالکل غلط ہیں۔
ابدی دُنیا میں ، حقیقت کا فیصلہ اکثریت کی بنیادپر نہیں ہوتا ، بلکہ مطلق ، بنیادی معیارات پر ہوتا ہے۔ پھر ، یہ حقیقت کہاں سے مل سکتی ہے؟ یہ گنہگاروں کی نجات اور تباہی سے اُن کی رہائی میں مل سکتی ہے۔ وہ سارے جو راستباز بنے ہیں وہ اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہونے سے ایسا بنے ہیں—اُن کے اپنے کانوں سے ، پانی اور رُوح کی خوشخبری کی سچائی کو سُننے کے بعد ، اور اِس خوشخبری پر اپنے دلوں سے ایمان لائے ہیں۔
لیکن چونکہ لمبے عرصے سے بہت سارے لوگ جھوٹی خوشخبری میں پھنس چکے ہیں ، جب اُن کے سامنے اصل حقیقت ظاہر ہوتی ہے ، تو وہ اُسے عجیب ، حتیٰ کہ بدعتی بھی کہتے ہیں، اور اسے مسترد کردیتے ہیں۔ لیکن پانی اور رُوح کی خوشخبری جس کو اُنہوں نے مسترد کِیا وہ سچائی کی خوشخبری ہے جس پر خود رسولوں نے ، ایمان رکھا،ظاہرکِیا، اور اِسکی منادی کی تھی ، ہم ہرطرح سےرسولوں کے دور تک پیچھےجا تےہوئےدیکھ سکتےہیں۔ خُدا کے حضورصرف پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کےوسیلےہی گناہ کے مسئلےکوحل کِیاجاسکتا ہے۔
یسوع ، ہماری سچائی ، نے ہارون کی نسل میں سے، یوحناکے ذریعہ بپتسمہ لینے کے ساتھ دُنیا کے گناہوں کو ایک ہی بار اپنے اوپر لے لیا ، اور ہمارے لئے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ خُدا کا کلام گواہی دیتاہے کہ یسوع نے دُنیا کے سارے گناہوں کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُٹھایا۔ پھر وہ صلیب پر مرگیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا ، اور خُدا کے دہنے ہاتھ پر بیٹھنے کے لئے آسمان پر چڑھ گیا۔ یہ سچائی دو ہزار سال پہلے پوری ہوئی تھی ، جب یسوع اپنے بپتسمہ اور صلیب پر اپنے خون کے ساتھ دُنیا کے سارے گناہوں کو مٹا کرسچائی کاخُداوند بن گیا تھا۔
پھر بھی جو لوگ جھوٹ کے ذریعہ دھوکے میں ہیں وہ نہیں جانتے ہیں کہ یسوع پر اُن کے ایمان کے ساتھ ہی اُن کوگناہ سے مکمل نجات ملتی ہے؛ بدترین بات یہ ہے کہ ، آج کی مسیحی دُنیا میں بہت سی جانیں جھوٹی خوشخبریوں سے اُلجھ کر گناہ میں گم ہو گئیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ پانی اور رُوح کی سچی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو ضرور اِس خوشخبری کی منادی حتیٰ کہ اور زیادہ کرنی چاہیے۔ صرف اِس سچی خوشخبری کو سُن کر ہی لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات مل سکتی ہے۔
بائبل میں ظاہرہونےوالی سچائی پانی اور رُوح کی خوشخبری ہے (متی ۳: ۱۳۔۱۷ ، اِفسیوں۱: ۱۳)۔ مذکورہ بالا عبارت میں ، خُدا نے سمُرنا کی کلیسیا کی تعریف کی ، یہ کہتے ہوئے کہ اُن کی مادی غربت کے باوجود ، وہ اپنے ایمان سے مالا مال ہیں۔ لیکن اُس نے یہودیوں کو شیطان کے خادمین کہا، کیوں کہ اگرچہ اُنہوں نے خُدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کِیا ، لیکن پھر بھی اُنہوں نے اُس کی نجات کی خوشخبری کو اپنے دلوں میں قبول کرنے سے انکار کِیا۔ وہ یسوع پر خُدا کےبیٹےاور اُن کے نجات دہندہ کے طور پرایمان نہیں رکھتے تھے ، حالانکہ ہمارے خُداوندنے اُن کے سارے گناہوں کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ساتھ دور کردیا تھا۔ کیونکہ اُنہوں نے پھر بھی اِس حقیقت کو قبول نہیں کِیا کہ یسوع نے اُن کے گناہوں کو دور کردیا تھا ، یہاں تک کہ وہ یہوواہ خدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتےہوئے ، اپنے دلوں میں گناہ کوجاری رکھتے ہیں۔
ایسے لوگ اپنے ہونٹوں سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں ، لیکن حقیقت میں وہ "شیطان کی جماعت" ہیں جو اُس پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ وہ لوگ ، یہاں تک کہ وہ یسوع پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، ابھی تک اپنے دلوں میں اُس کے فدیہ کو قبول نہیں کِیا ہے وہ بھی شیطان کے اِس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔
اِس دُنیا میں دو جماعتیں موجود ہیں: ایک شیطان کی ، اور دوسری خُدا کی جماعت۔ جب خُداوند واپس آجائے گا تو شیطان کی جماعت ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی ، اور خُدا کی جماعت ہمیشہ کے لئے برکت پائےگی۔ خُدا ، دوسرے لفظوں میں ، واضح طور پرراستبازوں کو گنہگاروں سے جُدا کرے گا۔ ہر کوئی جو یسوع پراپنے نجات دہندہ کےطور پرایمان رکھتاہے آسمان میں نہیں جائے گا۔
متّی ۷: ۲۱-۲۳میں یسوع نے ہمیں جو کچھ بتایا اس میں یہ صاف ظاہر ہے: " جو مُجھ سے اَے خُداوند اَے خُداوند! کہتے ہیں اُن میں سے ہر ایک آسمان کی بادشاہی میں داخِل نہ ہو گا مگروُہی جو میرے آسمانی باپ کی مرضی پر چلتا ہے۔ اُس دِن بُہتیرے مُجھ سے کہیں گے اَے خُداوند اَے خُداوند!کیا ہم نے تیرے نام سے نبُوّت نہیں کی اور تیرے نام سے بدرُوحوں کو نہیں نِکالا اور تیرے نام سے بُہت سے مُعجِزے نہیں دِکھائے؟ اُس وقت مَیں اُن سے صاف کہہ دُوں گا کہ میری کبھی تُم سے واقفِیّت نہ تھی ۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔"
دوسرے لفظوں میں ، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ آسمان ہر ایک کو یقینی طور پرملتا ہے جو یسوع پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اُس کے نام کو پکارتے ہیں۔ یہاں تک کہ اگر وہ یسوع کو اپنا نجات دہندہ مانتے ہیں ، اگر وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں تو ، وہ آخر کار شیطان کے خادمین ہیں ، جو بالآخر جہنم کے پابند ہیں۔ کیونکہ وہ جھوٹی خوشخبریوں کی پیروی کرتے ہیں حتیٰ کہ جیسے وہ یسوع پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، یہ صرف مناسب اور ٹھیک ہے کہ اُنہیں جہنم میں بھیجا جائے گا۔
وہ جو گناہ رکھتےہیں اور اِس لئے وہ شیطان سے تعلق رکھتے ہیں وہ جہنم کے پابند ہیں۔ لیکن ہم میں سےوہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کراپنے سارے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں اُن کے لئےآسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ ہر کوئی جو یسوع پرایمان رکھتا ہے اُس کو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر عالمِ قدس میں داخل ہونا چاہئے۔
دُنیا کے گناہوں سے نجات پانے کے لئے، ہمیں نہ صرف اپنے گناہوں کا واضح علم ہونا چاہئے ، بلکہ سچائی سے جھوٹ کو پہچاننے کی رُوحانی قابلیت بھی ہونی چاہیے۔ ایسا کرنے کے لئے، ہمیں خُدا کے لکھے ہوئے کلام میں رہنا چاہئے اور اِس کے مطابق ایمان رکھنا چاہئے۔ اگر آپ آگ کی جھیل میں پھینکےجانانہیں چاہتے ہیں تو، آپ کو ضرورایمان کے ساتھ جھوٹی خوشخبریوں کو مسترد کرنا ہوگا۔ آپ کو ضرورجھوٹی خوشخبریوں کے خلاف اپنی جنگ میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی۔ اور اپنے ایمان کی فتح کو محفوظ کرنے کے لئے، آپ کو یہ جان لینا چاہئے کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کیا ہے۔ صرف تب ہی آپ دوسری موت سے بچ سکتے ہیں ، اورصرف تب ہی آپ خُدا کے آسمان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
۲-یوحنا ۱: ۷ ہمیں بتاتا ہے ، " کیونکہ بُہت سے اَیسے گُمراہ کرنے والے دُنیا میں نِکل کھڑے ہُوئے ہیں جو یِسُوع مسِیح کے مُجسّم ہو کر آنے کا اِقرار نہیں کرتے ۔ گُمراہ کرنے والا اور مُخالِفِ مسِیح یِہی ہے۔" یہاں گمراہ کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اِس بات سے انکار کرتے ہیں کہ یسوع مسیح اِس دُنیا میں جسمانی طور پر آیا تھا۔ مختلف طریقے سےبیان کرتے ہوئے ، یہ ہےوہ جو انکار کرتے ہیں کہ خُداوند جو جسم میں آیا وہ خُدا کا بیٹا ہے ، کہ اُس نے دریائے یردن میں اپنے بپتسمہ کے ساتھ دُنیا کے سارے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا ، اور یہ کہ ہماری جگہ ہمارے گناہوں کےلئےاُسکے صلیبی خون سے اُس کی عدالت ہوئی۔
جو لوگ اِن حقائق کو نہیں مانتے ،کہ اُس نےہمارے گناہوں کی ساری عدالت کوہم سے دور کِیا، وہ گمراہ کرنےوالے اور شیطان کےخادمین ہیں۔ یہ لوگ خُدا کے دشمن اور شیطان کے وفادار خادمین ہیں۔ وہ اپنی جھوٹی خوشخبریوں کی تعلیم دینے اور پھیلانے اور پانی اور رُوح کی حقیقی خوشخبری کے خلاف کھڑے ہو کر بہت سے لوگوں کو اُلجھا کر تباہی کی طرف لے جاتے ہیں۔
وہ لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کادعویٰ کرتے ہیں اور پھر بھی شیطان کی جھوٹی خوشخبری کے خلاف روحانی جنگ میں نہیں لڑتے ہیں وہ آخر کار خُدا کی بادشاہی اور اُس کے لوگوں کے دشمن بن کر ختم ہوجائیں گے۔ ایسے لوگوں کو اِس کی پرواہ نہیں ہے کہ اُن کے پیروکار پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔ وہ سب کچھ جسکی اُن کو پرواہ ہے صرف اُن کی اپنی شان و شوکت اور دولت ہے۔ یہ وہ جھوٹے خادمین ہیں جو صرف اپنا پیٹ بھرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ مختصر طور پر ، وہ لوگ ہیں جو مخالفِ مسیح سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں بائبل بیان کرتی ہے۔
 
 
بدعتیوں کی مکاریاں
 
حزقی ایل ۱۳: ۱۷-۱۸ کہتا ہے ، " اور اَے آدم زاد تُو اپنی قَوم کی بیٹِیوں کی طرف جواپنے دِل سے بات بنا کر نبُوّت کرتی ہیں مُتوجّہِ ہوکر اُن کے خِلاف نبُوّت کر۔ اور کہہ خُداوند خُدا یُوں فرماتا ہے کہ افسوس تُم پر جو سب کُہنِیوں کے نِیچے کی گدّی سِیتی ہو اور ہرایک قد کے مُوافِق سر کے لِئے بُرقع بناتی ہو کہ جانوں کو شِکار کرو! کیا تُم میرے لوگوں کی جانوں کا شِکارکرو گی اور اپنی جان بچاؤ گی؟" اس عبارت سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح شیطان کے خادمین لوگوں کی جانیں چھیننے کی تلاش کرتے ہیں۔
عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ شیطان کے خادمین لوگوں کی کُہنِیوں کے نِیچے کی گدّی سِیتے ہیں۔
کنگ جیمز ورژن میں ، اِس حوالہ کا ترجمہ اِس طرح ہواہے"اُن عورتوں پر افسوس جو سب کُہنِیوں کے نِیچے کی گدّی سِیتی ہیں۔"آپ کی کُہنِیوں کے نِیچے کی گدّی سِیناکتنا بدسلیقہ اور غیرآرام دہ ہوگا ، اور یہ دوسروں کو کتنا گھناؤنا لگے گا؟ وہ ، جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کو نہ تو جانتے ہیں اور نہ ہی اِس پر ایمان رکھتے ہیں ، کلیسیا میں رہنما کی حیثیت دی گئی ہے ، بالکل اِسی طرح ہیں: غیرآرام دہ، بدسلیقہ اور گھناؤنے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ کلیسیا میں اِن عہدوں کےلائق نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ وہ جانتے ہیں کہ وہ راست یانئےسرےسےپیدا نہیں ہوئےہیں، کیوں کہ وہ ابھی تک پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔
پھر ، وہ کبھی خُداوند کے لئے کیسے کام کر سکتے ہیں؟ خُدا کے کام انجام دینے کے لئے، اس لئے،سب سے پہلے آپ کو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر اپنے گناہوں سے نجات حاصل کرنی چاہیے ،پھر اِس بات کا پتہ لگائیں کہ رُوح القدس آپ کے دل میں سکونت کرتاہے ، اور پھر کلیسیا میں کوئی بھی عہدہ سنبھالنے سے پہلے خُدا کے کلام اور اُس کی سچائی میں کافی طور پر تربیت حاصل کرنی چاہیے۔
بائبل کے ذریعہ خُدا ہمیں ، اپنے لوگوں سے کہتا ہے کہ، ہمیں اُس کی سچائی پر ایمان رکھ کر جھوٹےنبیوں سے لڑنا اور اُن پر غالب آناچاہیے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر نئے سرے سےپیدا ہونا کچھ بھی نہ کرنے سے حاصل نہیں ہوتا ہے۔ یہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر خُدا کی راستبازی جیتنےسےحاصل ہوتا ہے۔ متّی ۱۱: ۱۲ بیان کرتا ہے ، "اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے دِنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اُسے چِھین لیتے ہیں۔" وہ جو زورآور ہیں خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوتے ہیں— زورآور، یعنی، جھوٹ کے خلاف اُنکی لڑائی۔آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری کو اپنے دل میں قبول کرنے اور جھوٹی تعلیمات پر غالب آنے سے ہی آپ کو پوری طرح نجات مل سکتی ہے ،اور صرف تب ہی رُوح القدس آپ کے دل میں سکونت کرسکتا ہے۔
کسی کو مکمل نجات تک پہنچنے کے لئے، ہر کوئی جو بھی اِس زمین پر پیدا ہوا ہے ، کو خُدا کے سچائی کےکلام کے ساتھ لڑنا اور غالب آنا چاہیے۔ یہ دُنیا سچائی کی افواج اور جھوٹ کی افواج کے درمیان میدانِ جنگ ہے ، اُن لوگوں کے درمیان جونئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں اور جو نہیں ہوئے ہیں۔ یہ دُنیا خُدا اور شیطان کے مابین میدان جنگ بن گئی کیونکہ آدم اور حوا ، اگرچہ خُدا کے وسیلے زندگی حاصل کرتے ہیں ،
خُدا کے کلام کے مقابلے میں شیطان کے جھوٹ پر زیادہ ایمان رکھتےہوئےختم ہوگئے۔
آج کا دور خاص طور پر زیادہ خطرناک ہے ، کیوں کہ شیطان جانتا ہے کہ اُس کے دن گنے گئے ہیں ، وہ لوگوں کو جھوٹے نبیوں سے اُلجھا کر ،اُنہیں جھوٹے معجزات کےساتھ دھوکہ دے کر ، اور رُوح القدس کےجیسےکاموں میں ملبوس ہوکر اپنے جھوٹےکاموں کے ساتھ اُنہیں گمراہ کرتےہوئے ، پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔"اور کُچھ عجب نہیں کیونکہ شَیطان بھی اپنے آپ کو نُورانی فرِشتہ کا ہم شکل بنا لیتا ہے۔" (۲-کرنتھیوں ۱۱: ۱۴)۔ مرکزی دھارے کے مذاہب پر فتح حاصل کرنے کے بعد ، شیطان راستباز لوگوں کے خلاف کھڑا ہے۔ اگرچہ اب ایک ایسا دور ہے جہاں جھوٹ سچ کو ڈھانپ رہے ہیں ،لیکن وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں آخر کار اُن سب جھوٹوں سےآزاد ہوجائیں گے اور بالآخر اُن پر فتح پائیں گے۔
ہمارے سارے گناہوں سے نجات پانے کے لئے، ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہئے ، اور ایسی جھوٹی تعلیمات سے دور رہنا چاہئے جو یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ہمیں اپنے گناہوں سے معافی حاصل کرنے کے لئے روزانہ توبہ کرنا ضروری ہے۔ خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ جو لوگ اُس کی سچائی کے ساتھ اس طرح کے جھوٹ پر غالب آئیں گے اُنہیں دوسری موت سےنقصان نہ پہنچے گا۔ آئیے، ہمارےسامنےسمُرناکی کلیسیاکے مقدسین کی طرح جدوجہد کریں ، خُدا کے سامنے اپنے ایمان کا دفاع کریں ، تاکہ ہم بھی ، خُداوند کے لئےاپنی وفاداری پر اُس کی طرف سے سراھےجائیں۔