خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-6] <مُکاشفہ۲: ۱۲-۱۷> پِرگُمن کی کلِیسیا کے نام خط

<مُکاشفہ۲: ۱۲-۱۷>
اور پِرگُمن کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جِس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے وہ فرماتا ہے کہ۔ مَیں یہ تو جانتا ہُوں کہ تُو شَیطان کی تخت گاہ میں سکُونت رکھتا ہے اور میرے نام پر قائِم رہتا ہے اور جِن دِنوں میں میرا وفادار شہِید انِتپا س تُم میں اُس جگہ قتل ہُؤا تھا جہاں شَیطان رہتا ہے اُن دِنوں میں بھی تُو نے مُجھ پر اِیمان رکھنے سے اِنکار نہیں کِیا۔ لیکن مُجھے چند باتوں کی تُجھ سے شِکایت ہے ۔ اِس لِئے کہ تیرے ہاں بعض لوگ بلعا م کی تعلِیم ماننے والے ہیں جِس نے بلق کو بنی اِسرائیل کے سامنے ٹھوکر کِھلانے والی چِیز رکھنے کی تعلِیم دی یعنی یہ کہ وہ بُتوں کی قُربانِیاں کھائیں اور حرام کاری کریں۔ چُنانچہ تیرے ہاں بھی بعض لوگ اِسی طرح نِیکُلیوں کی تعلِیم کے ماننے والے ہیں۔ پس تَوبہ کر ۔ نہیں تو مَیں تیرے پاس جلد آ کر اپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑُوں گا۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ۔ اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔
 
 
تشریح
 
آیت ۱۲: ” اور پِرگُمن کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جِس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے وہ فرماتا ہے کہ۔ “
پرگمن ایشیاء کوچک کا ایک انتظامی دارالحکومت شہر تھا ، جہاں کے باشندے بہت سے کافر دیوتاؤں کی پوجا کرتے تھے۔ خاص طور پر ، یہ شہنشاہ کی پرستش کا مرکز تھا۔ "جس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے" کے ذریعہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُداوند خُدا کے دشمنوں سے لڑتا ہے۔
 
آیت ۱۳: ” مَیں یہ تو جانتا ہُوں کہ تُو شَیطان کی تخت گاہ میں سکُونت رکھتا ہے اور میرے نام پر قائِم رہتا ہے اور جِن دِنوں میں میرا وفادار شہِید انِتپا س تُم میں اُس جگہ قتل ہُؤا تھا جہاں شَیطان رہتا ہے اُن دِنوں میں بھی تُو نے مُجھ پر اِیمان رکھنے سے اِنکار نہیں کِیا۔ “
جب کہ پرگمن شہنشاہ کی پرستش کا ایک مضبوط گڑھ تھا ،یہ وہی جگہ بھی تھی جہاں خُدا کےاِنتپاس نامی ایک خادم کو خُداوند پر اپنے عقیدے کے دفاع کے لئے شاہی بت پرستی سے انکار کرنے پر شہید کردیا گیاتھا۔ وہ وقت ایک بار پھر آئے گا جب لوگوں کو مخالفِ مسیح کی پرستش کرنے پر مجبور کِیا جائے گا ، لیکن خُدا کے مقدسین اور خادمین آخر تک اپنے ایمان کا دفاع کریں گے ، جس طرح اِنتپاس نے اپنی جان سے اپنے ایمان کا دفاع کِیا تھا۔ ایسانڈر ایمان رکھنے کے لئے، ہمیں اب اپنے عمل پر اپنا ایمان رکھنا شروع کردینا چاہئے ، چاہے ہم چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہی آغاز کریں۔ جب ظلم و ستم کا وقت آتا ہے ، خُدا کے مقدسین اور خادمین کو خاص طور پر رُوح القدس پر انحصار کرنا چاہئے۔ اُنہیں خُدا پر بھروسہ کرنا چاہئے اور اپنی مرضی سے اپنی شہادت کو اُمید کے ساتھ گلے لگانا چاہئے، تاکہ وہ خُدا کوجلال دےسکیں اور اُس سے نیا آسمان اور زمین حاصل کرسکیں۔
 
آیت ۱۴: ” لیکن مُجھے چند باتوں کی تُجھ سے شِکایت ہے ۔ اِس لِئے کہ تیرے ہاں بعض لوگ بلعا م کی تعلِیم ماننے والے ہیں جِس نے بلق کو بنی اِسرائیل کے سامنے ٹھوکر کِھلانے والی چِیز رکھنے کی تعلِیم دی یعنی یہ کہ وہ بُتوں کی قُربانِیاں کھائیں اور حرام کاری کریں۔ “
خُدا نے پرگمن کی کلیسیا کی سرزنش کی کیونکہ اُس کے کچھ اراکین بلعام کے عقیدےکی گرِفت میں تھے۔ بلعام ایک جھوٹا نبی تھا جس نےبنی اسرائیل کو خُدا سے دور کردیا اور بتوں کی پوجا کرنے والی غیر یہودی راہباؤں کے ساتھ تعلق کا جھانسا دے کر اُن کو حرامکاری کےحوالے کِیا۔ خُداوند نے اُن لوگوں کو ڈانٹا جن کے ایمان نے خُدا کو چھوڑ دیا تھا۔ لوگوں کے دلوں نے اُسے چھوڑ دیا تھا اور اس کے بجائے جھوٹے بتوں کی پوجا کی تھی۔ اور بت پرستی کا گناہ خُدا کے حضورنہایت سنگین گناہ ہے۔
 
 
آیت ۱۵: ” چُنانچہ تیرے ہاں بھی بعض لوگ اِسی طرح نِیکُلیوں کی تعلِیم کے ماننے والے ہیں۔ “
بائبل میں "نِیکُلیوں" اور "بلعام" کے الفاظ بنیادی طور پر مترادف ہیں ، جس کا مطلب ہے "وہ جو لوگوں پر غالب آتے ہیں۔" جب خُدا نے کہا کہ "وہ لوگ جو نِیکُلیوںکی تعلیمات کوتھامےہوئے ہیں ،" تو یہ کہنے کا ایک اور طریقہ تھا کہ خُدا کی کلیسیا کو اُن لوگوں کو مسترد کرنا چاہئے" جو بلعام کی تعلیمات کوتھامےہوئے ہیں۔" وہ لوگ جو نِیکُلیوں اور بلعام کی اِن تعلیمات کی پیروی کرتے تھے وہی لوگ تھے جنہوں نے مادی فوائد حاصل کرنےاور حرامکاری کرنے کوجاری رکھا۔ ایسے لوگوں کو یقیناًخُدا کی کلیسیاسے نکالنا ہوگا۔
 
آیت ۱۶: ” پس تَوبہ کر ۔ نہیں تو مَیں تیرے پاس جلد آ کر اپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑُوں گا۔ “
اِس لئےخُدا نے پرگمن کی کلیسیا سے کہا کہ وہ اپنے جھوٹے دیوتاؤں کی عبادت اور دنیاوی فوائد کے حصول سے باز آجائیں اور صحیح ایمان کی طرف لوٹ آئیں ، اُن کو خبردار کِیا کہ جب تک کہ وہ توبہ نہ کریں ، وہ اپنے منہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑےگا۔ یہ دوسرے لفظوں میں ، ایک شدیدسختی ہے جس میں خُدا نےخبردار کِیا ہے کہ وہ اُن لوگوں کو سزا دے گا جو بلعام کے عقائد کی پیروی کرنے سے توبہ نہیں کرتے ، چاہے وہ ایماندار ہی کیوں نہ تھے۔ جن لوگوں نے خُدا کی یہ تنبیہ سُنی اور اُس کی طرف لوٹ آئے اُنہیں جسمانی اور رُوحانی طور پر زندہ رہنا تھا ، لیکن جنہوں نےایسا نہیں کِیا،اُن لوگوں کواپنی جسمانی اور روحانی تباہی کے لئے خود کو تیارکرنا تھا۔ خُدا کے مقدسین اور خادمین کو اِس زمین اور اِس سے آگے بھی برکت یافتہ ہونے کے لئے،اُنہیں یقیناً خُدا کا کلام سُننا اور اپنے ایمان کے ساتھ خداوند کی پیروی کرنی چاہیے۔
 
آیت ۱۷: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ۔ اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔ “
سچے مقدسین حتیٰ کہ اُن کی اپنی شہادت کو بھی گلے لگائیں گے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ جو لوگ اُس کے نام پر شہید ہو گئے ہیں ، وہ اُنہیں آسمان کےکھانےدے گا اور اُن کے نام اپنی بادشاہی میں درج کرے گا۔ جسمانی اور رُوحانی طور پر زندگی گزارنے کے لئے، ہمیں ضرور سُنناچاہیےکہ رُوح القدس خُدا کی کلیسیا سےکیافرماتاہے۔ غالب آنے والوں کے لئے — یعنی ، جو لوگ شیطان کے پیروکاروں کے خلاف اپنی جنگ جیتتے ہیں —خُدا ایمان کی راستبازی عطا کرے گا جو اُنہیں گناہ سے نجات دلاتا ہے ، اور ، اُن کے ایمان کے لئے، وہ اُن کے نام زندگی کی کتاب میں لکھ دے گا۔
بائبل ہمیں متعدد مختلف عبارتوں میں بار بار بتاتی ہے کہ آخر تک برداشت کرنے والے کو نجات ملے گی۔ مقدسین کو ، دوسرے الفاظ میں ، آخری اوقات میں صبر کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کا دفاع کرسکیں۔ نئےسرےسے پیدا ہونے والوں کے نام زندگی کی کتاب میں لکھے گئے ہیں۔ لہذا ، مقدسین کو یقیناً ماد ی اور دنیاوی فوائدکوحاصل کرنے کی پیروی نہیں کرنی چاہیے بلکہ ایمان کے ذریعہ اُن پر غالب آنا چاہیے ، اُس دن تک جب وہ بالآخر خُدا کے حضور کھڑے ہوں گے۔