خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-8] <مُکاشفہ ۲: ۱۸- ۲۹> تھواتِیرہ کی کلِیسیا کے نام خط

<مُکاشفہ ۲: ۱۸- ۲۹>
"اور تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ خُدا کا بیٹا جِس کی آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند اور پاؤں خالِص پِیتل کی مانِند ہیں یہ فرماتا ہے کہ۔ مَیں تیرے کاموں اور مُحبّت اور اِیمان اور خِدمت اورصبر کو تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تیرے پِچھلے کام پہلے کاموں سے زِیادہ ہیں۔ پر مُجھے تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اُس عَورت اِیزبِل کو رہنے دِیا ہے جو اپنے آپ کو نبِّیہ کہتی ہے اور میرے بندوں کو حرام کاری کرنے اور بُتوں کی قُربانِیاں کھانے کی تعلِیم دے کر گُمراہ کرتی ہے۔ مَیں نے اُس کو تَوبہ کرنے کی مُہلت دی مگر وہ اپنی حرام کاری سے تَوبہ کرنا نہیں چاہتی۔ دیکھ مَیں اُس کو بِستر پر ڈالتا ہُوں اور جو اُس کے ساتھ زِنا کرتے ہیں اگر اُس کے سے کاموں سے تَوبہ نہ کریں تو اُن کو بڑی مُصِیبت میں پھنساتا ہُوں۔ اور اُس کے فرزندوں کو جان سے مارُوں گا اور سب کلِیسیاؤں کو معلُوم ہو گا کہ گُردوں اور دِلوں کا جانچنے والا مَیں ہی ہُوں اور مَیں تُم میں سے ہر ایک کو اُس کے کاموں کے مُوافِق بدلہ دُوں گا۔ مگر تُم تھوا تِیرہ کے باقی لوگوں سے جو اُس تعلِیم کو نہیں مانتے اور اُن باتوں سے جِنہیں لوگ شَیطان کی گہری باتیں کہتے ہیں ناواقِف ہو یہ کہتا ہُوں کہ تُم پر اَور بوجھ نہ ڈالُوں گا۔ البتّہ جو تُمہارے پاس ہے میرے آنے تک اُس کو تھامے رہو۔ جوغالِب آئے اور جو میرے کاموں کے مُوافِق آخِر تک عمل کرے مَیں اُسے قَوموں پر اِختیار دُوں گا۔ اور وہ لوہے کے عَصا سے اُن پر حُکومت کرے گا ۔ جِس طرح کہ کُمہار کے برتن چکنا چُور ہو جاتے ہیں ۔ چُنانچہ مَیں نے بھی اَیسا اِختیار اپنے باپ سے پایا ہے۔ اور مَیں اُسے صُبح کا سِتارہ دُوں گا۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔
 
 
تشریح
 
آیت ۱۸: ” اور تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ خُدا کا بیٹا جِس کی آنکھیں
آگ کے شُعلہ کی مانِند اور پاؤں خالِص پِیتل کی مانِند ہیں یہ فرماتا ہے کہ۔ “
تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کی بداعمالی اِیزبل کی تعلیمات کو کلیسیامیں آنے کی اجازت دے رہی تھی۔ اخی اب کی بیوی ، اِیزبل ، بنی اسرائیل میں بت پرستی لائی اور اِسکےلوگوں کو حرامکاری کرنے اور بتوں کی قربانیاں کھانے کےلئےگمراہ کِیا۔ یسوع کی"آنکھیں آگ کے شُعلہ کی مانِند" ہونے کی وضاحت سے ، خُدا خبردارکر رہا ہے کہ وہ اُسکی کلیسیا میں غلط ایمان رکھنے والوں کی سرزنش کرے گا اور اُن کی عدالت کرے گا۔
 
آیت ۱۹: ” مَیں تیرے کاموں اور مُحبّت اور اِیمان اور خِدمت اورصبر کو تو جانتا ہُوں اور یہ بھی کہ تیرے پِچھلے کام پہلے کاموں سے زِیادہ ہیں۔ “
لیکن اِس کے ساتھ ہی ، خُدا نے اپنی تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کےخادم اور اِس کے مقدسین سے کہا کہ اُن کے کام اب پہلے سے بہتر تھے۔
 
آیت ۲۰: ” پر مُجھے تُجھ سے یہ شِکایت ہے کہ تُو نے اُس عَورت اِیزبِل کو رہنے دِیا ہے جو اپنے آپ کو نبِّیہ کہتی ہے اور میرے بندوں کو حرام کاری کرنے اور بُتوں کی قُربانِیاں کھانے کی تعلِیم دے کر گُمراہ کرتی ہے۔ “
تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کا مسئلہ یہ تھا کہ اِس نے جھوٹی نبِّیہ کی تعلیمات کو قبول کِیا۔ ایک کسبی، اِیزبل جیسی جھوٹی نبِّیہ کوکلیسیا میں آنے کی اجازت دے کر اور اِس کی تعلیمات کی پیروی کرنے سے ، اِس کے مقدسین کےدِل آخرکار اپنے جسم کی خواہشوں کو تلاش کرنے میں پڑ گئے۔ جس کے نتیجے میں ، خُدا کا غضب ناک قہر اُن پر اُنڈیلا جانا تھا۔
خُدا کی حقیقی کلیسیااُن لوگوں کو جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں مقدسین کہہ کر نہیں پکارتی ہے۔ اور نہ ہی یہ اُن لوگوں کو جو اپنے دِلوں میں رُوح القدس نہیں رکھتے ہیں کلیسیائی قیادت کے عہدے دیتی ہے ۔ کیونکہ جو رُوح القدس کے بغیر خدا کے بجائے اپنے جسم اور دُنیا کی تلاش کرتے ہیں ، خُدا کی حقیقی کلیسیا میں اِنہیں کبھی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی اور برداشت نہیں کِیا جاسکتاہے۔
آیت ۲۱: ” مَیں نے اُس کو تَوبہ کرنے کی مُہلت دی مگر وہ اپنی حرام کاری سے
تَوبہ کرنا نہیں چاہتی۔ “
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ جوجسمانی ہیں جنہیں رُوح القدس نہیں ملا ہے وہ رُوح القدس کی آواز کو پہچان اور سُن نہیں سکتے ہیں۔ یہ ہے کیوں جھوٹی نبِّیہ اپنی حرامکاری سے توبہ نہیں کرسکی۔جس کے نتیجے میں ، وہ رُوح القدس کی تلوار سے ماری گئی اور جسم اور رُوح دونوں میں برباد ہوگئی۔
خُدا کی سچی کلیسیا میں ، صرف وہی لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کے خادمین کی حیثیت سے قائم رہ سکتے ہیں۔ وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے، قطع نظراِس سے کہ وہ اِس دُنیا میں کتنے ہی بہترین پادری کی حیثیت رکھتے ہوں ، وہ وفادار رہنما نہیں بن سکتے ہیں جو خُدا کے فرزندوں کی اُس تک رہنمائی کرسکیں۔ لہذا ہمیں جھوٹے نبیوں کی پہچان کرنی چاہئے اور اُنہیں اپنی کلیسیاؤں سےباہر نکالنا چاہئے ۔ صرف ایسا کرنے سے ہی خُدا کی کلیسیا شیطان کی تمام چالوں سے بچ سکتی ہے اور رُوحانی طور پر اُس کی پیروی کرسکتی ہے۔
 
آیت ۲۲: ” دیکھ مَیں اُس کو بِستر پر ڈالتا ہُوں اور جو اُس کے ساتھ زِنا کرتے ہیں اگر اُس کے سے کاموں سے تَوبہ نہ کریں تو اُن کو بڑی مُصِیبت میں پھنساتا ہُوں۔ “
یہ عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر خُدا کا کوئی خادم جھوٹوں کی پہچان اوراُنہیں بےنقاب نہیں کرتا ہے تو ،خُدا بذاتِ خود اُن لوگوں کو تلاش کرے گا جو رُوحانی زِنا کرتے ہیں اور اُنہیں عظیم ایذارسانیوں میں ڈالےگا۔ خُدا کےمقدسین اور خادمین کو یہ سمجھنا چاہئے کہ خُدا خود اپنی کلیسیاؤں کوپاک رکھتا ہے اور صحیح راہ تک اُنکی رہنمائی کرتا ہے۔
خُدا کی حقیقی کلیسیا میں جھوٹے نبیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔ اگر جھوٹےنبی ہوتے ہیں تو خُدا خود اُنھیں ڈھونڈتا اور اُن کی عدالت کرتاہے۔ جب ان جھوٹے نبیوں کے ذریعہ خُدا کے کلیسیا میں اُلجھن پیدا ہوتی ہے تو ، خُدا یقیناً انہیں عظیم ایذارسانیوں کےساتھ سزا دے گا۔
 
آیت ۲۳: ” اور اُس کے فرزندوں کو جان سے مارُوں گا اور سب کلِیسیاؤں کو معلُوم ہو گا کہ گُردوں اور دِلوں کا جانچنے والا مَیں ہی ہُوں اور مَیں تُم میں سے ہر ایک کو اُس
کے کاموں کے مُوافِق بدلہ دُوں گا۔ “
خُدا اپنی کلیسیا سے جھوٹے نبیوں کو باہر نکال دیتا ہے ، تاکہ سب جان لیں کہ وہ اپنی کلیسیا کی
حفاظت کرتا ہے۔ مقدسین کو پتہ چل جائے گا کہ خُدا اُن کی کلیسیا کی دیکھ بھال کرتا ہے ، اور وہ اُن کے اچھے کاموں کا بدلہ دیتا ہے۔
 
آیت ۲۴: ” مگر تُم تھوا تِیرہ کے باقی لوگوں سے جو اُس تعلِیم کو نہیں مانتے اور اُن باتوں سے جِنہیں لوگ شَیطان کی گہری باتیں کہتے ہیں ناواقِف ہو یہ کہتا ہُوں کہ تُم پر اَور بوجھ نہ ڈالُوں گا۔ “
اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اُس کی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر خُدا کے مقدسین بن چکے ہیں اُنہیں دُنیا کے خاتمے تک اپنے ایمان پر قائم رہنا چاہئے۔ جو لوگ اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کے پاس خُدا کی کلیسیااور مقدسین کے ساتھ اپنے دِلوں کو متحد رکھنے اور آخر تک اپنے ایمان کا دفاع کرکے اپنی زندگی بسر کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ خُدا کی حقیقی کلیسیا کو نہ صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری کی ہمیشہ منادی کرنا چاہئے ، بلکہ اِسےجھوٹوں کو بھی اِس خوشخبری پر ایمان کے ساتھ بے نقاب کرنا چاہئے۔
 
آیت۲۵: ” البتّہ جو تُمہارے پاس ہے میرے آنے تک اُس کو تھامے رہو۔ “
مقدسین کو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر کبھی بھی اپنا ایمان نہیں کھونا چاہئے اور ہمارے خُداوند کی واپسی کے دن تک اِس پر قائم رہنا چاہئے۔ ان کی پانی اور رُوح کی خوشخبری میں بڑی طاقت اور اختیار ہے جو شیطان پر غالب آنے کے لئے کافی سے بڑھ کرہے۔ مقدسین اِس ایمان کےساتھ خُدا کو خوش کرسکتے ہیں۔ اگر مقدسین پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے ساتھ زندہ رہتے ہیں اور خُدا کی سچی کلیسیا کے اندر رہتے ہیں تو ، وہ آخری زمانوں میں بھی غالب آسکتے ہیں اور فتح حاصل کرسکتے ہیں۔
 
آیت ۲۶: ” جوغالِب آئے اور جو میرے کاموں کے مُوافِق آخِر تک عمل کرے مَیں اُسے قَوموں پر اِختیار دُوں گا۔ “
مقدسین پانی اوررُوح کی خوشخبری جو خُدانےاُنہیں دی ہےپر ایمان رکھنے کے وسیلے اپنے تمام دشمنوں پر غالب آسکتے ہیں۔ ایمان کی یہ جنگ ایک ایسی جنگ ہے جو ہمیشہ ہمیں فتح دیتی ہے۔ تمام مقدسین اِس طرح مخالفِ مسیح کے خلاف لڑیں گے اور آخری ا وقات میں شہید ہو جائیں گے ، اور اِس
 کے نتیجے میں ، اُنہیں خُداوند کے ساتھ راج کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
 
آیت ۲۷: ” اور وہ لوہے کے عَصا سے اُن پر حُکومت کرے گا ۔ جِس طرح کہ کُمہار کے برتن چکنا چُور ہو جاتے ہیں ۔ چُنانچہ مَیں نے بھی اَیسا اِختیار اپنے باپ سے پایا ہے۔ “
خُداوند شہید ہونے والےمقدسین کو اپنی بادشاہت کا اختیار دے گا۔ جو لوگ اِس طرح غالب آتے ہیں وہ ایک طاقت کے ساتھ حکومت کریں گےجو ، جیسا کہ حوالہ بیان کرتا ہے ، لوہے کے عَصاکی طرح مضبوط ہے جو کمہار کے برتنوں کو چکنا چُور کر سکتا ہے۔
 
آیت ۲۸: ” اور مَیں اُسے صُبح کا سِتارہ دُوں گا۔ “
پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر دشمنوں کے خلاف لڑنے والوں کو خُدا کے کلام کی سچائی کا ادراک کرنے کی برکت نصیب ہوگی۔
 
آیت ۲۹: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ “
خُدا کی کلیسیاکے وسیلے سے تمام مقدسین رُوح القدس کی آواز سُن سکتے ہیں ، کیوں کہ رُوح خُدا کے خادمین کے ذریعےتمام مقدسین سے بات کرتا ہے۔مقدسین کو خُدا کی کلیسیا کے ذریعے سُننے والی باتوں کوخُدا کی آواز کے بطور پہچاننا چاہئے۔