خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-9] <مُکاشفہ۲: ۱۸- ۲۹> کیا آپ پانی اور رُوح کے وسیلے نجات پاچُکےہیں؟

 
 
<مُکاشفہ۲: ۱۸- ۲۹>
 
تھواتِیر ہ کی کلِیسیا نے محبت ، ایمان اور صبر کے ساتھ خُدا کے کاموں کی خدمت کی تھی، اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اِس کے کام بہتر ہوتے جارہے تھے۔ لیکن اِسی دوران ، یہ ایک کلِیسیا تھی جو ایک جھوٹی نبِّیہ سے ہراساں ہو گئی تھی۔ اِس کی بدکاریاں، دوسرےالفاظ میں بیان کرتے ہوئے ، وہ یہ تھیں کہ اِس کے بعض اراکین بدقسمتی سے اِس غیر نجات یافتہ جھوٹی نبِّیہ سے گمراہ ہوکر بت پرستی اور حرامکاری کرنے لگےتھے۔ خُداوند نے اِس طرح تھواتِیر ہ کی کلِیسیا سے مطالبہ کِیا کہ وہ توبہ کریں اور آخر تک اپنے پہلےجیسے عقیدے پر قائم رہیں۔ خُداوند نے یہ وعدہ بھی کِیا کہ وہ جو اپنے عقیدے کا آخر تک دفاع کرتے ہیں ، وہ اُنہیں قوموں پراختیار1اور صبح کا ستارہ دے گا۔
 
 
اِیزبل کا بعل
 
اِیزبل ایک غیر یہودی شہزادی تھی جو اپنےکافر دیوتا ،بعل کو،بنی اسرائیل میں لائی تھی ، جب وہ اخی اب بادشاہ کی بیوی بنی (۱سلاطین۱۶: ۳۱)۔ بعل سورج کا دیوتا تھا ، فینیشینز کا ایک بت جسکی لوگ ترقی کی خواہش کے لئے پرستش کِیاکرتے تھے۔ اِس دیوتا کی تصاویر کندہ کی جاتی تھیں اور اِن کی پرستش کی جاتی، بعدازاں اِس کے پیروکار اپنے خاندان اور زمین کی زرخیزی کے لئے دُعا کِیاکرتے تھے۔ یہ پوری دُنیا میں پائے جانے والی زمین اور فطرت کی پرستش کی عام کُفر کی مشق سے ملتا جلتا تھا۔ مثال کے طور پر ، ایک بڑے پتھر پر دیوتا سے ہمکلام ہونا اور اِس کی دیوتا کے طور پر پرستش فطری عناصر کی پرستش کا1ایک1عام1کافر1رواج1تھا۔1اس
طرح کے مذہبی رواج اور عقیدے اُن لوگوں کے پاس ہیں جو پینتائزم کی پیروی کرتے ہیں۔
اِیزبل کے ذریعہ اِس بت پرست مذہب کو متعارف کروانے کے ساتھ ہی ، بعل بنی اسرائیل کے لوگوں کے لئے بت پرستی کا ایک بہت بڑا دیوتا بن گیا۔بادشاہ اخی اب ، جو صرف سچے یہوواہ خُدا کی عبادت کرتا تھا ، اس غیر قوم1کی عورت سے اُس کی شادی کی وجہ سے وہ بھی بعل کی پرستش کرنے لگاتھا۔ بہت سارے بنی اسرائیلی اِس کے نقش قدم پر چل پڑے ، اُنھوں نے اپنے حقیقی خُدا کو ترک کردیااور اس کے بجائے بعل کی پرستش کے ساتھ بت پرستی کا ارتکاب کِیا۔ اِس طرح اُنہوں نے خُدا کے غضب کو اپنے اوپرآنے کی دعوت دی۔
خُدا نے کلیسیا میں جھوٹی نبِّیہ اِیزبل کے ایمان کی اجازت دینے کے لئے تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے خادم کی سرزنش کی۔ اِیزبل اور اُس کے پیروکاروں کو توبہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ، خُدا نے خبردار کِیا کہ اگر وہ نافرمانی کریں گے تو وہ اُن پر عظیم ایذارسانیاں اور تباہی نازل کرے گا۔
اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا کی حقیقی کلیسیادولت اور مادی ملکیت کو اِس کے معاملات پر غالب آنےکی اجازت نہیں دے سکتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آج کے ایماندار دُنیا کی اپنے خُدا کی حیثیت سے پرستش نہیں کرسکتے ہیں ، جیسا کہ اسرائیلیوں نے زرخیزی اور ترقی کے لئے، سورج کے دیوتا ، بعل کی پرستش کی۔
۳-یوحنا ۱: ۲بیان کرتاہے ، "اَے پیارے! مَیں یہ دُعاکرتاہوں کہ جس طرح تُورُوحانی ترقی کررہاہےاُسی طرح تُو سب باتوں میں ترقی کرےاورتُندرُست رہے۔" جب ہم یوحنارسول کے ایمان پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اُس کی پہلی فکر رُوحانی ترقی تھی۔یوحناکورُوحوں کی ترقی کےلئےفکرہے،1دوسری تمام چیزوں کی ترقی بعدمیں آتی ہے ، پہلے نہیں ۔ تو ، پھر،آج کی دُنیا میں یہ ایمان کیسے تبدیل ہوا؟ یہ ایک ایمان میں خراب ہو چُکا ہے جو صرف جسمانی برکات کا حصول چاہتا ہے ، دُنیاوی ترقی کو ایمان کے اولین مقام پر رکھتا ہے اور رُوحانی بہبود کےلئےکسی بھی دوسرےمعاملےکو نظرانداز کردیتا ہے۔ بہت سے لوگ یسوع پراپنی رُوحوں کو مالدار بنانے کےلئےایمان نہیں رکھتے ہیں، بلکہ صرف پہلے اپنے جسم کو مالدار بنانےکےلئےایمان رکھتےہیں۔
ہمارے آس پاس بہت سارے مذہبی فرقے ہیں ، جو منشیات کی طرح زہریلے ہیں ، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پرستش کے بدلے میں وہ اپنے پیروکاروں کو دولت اور صحت بخشتے ہیں۔ اِیزبل کے بعل کی پرستش کچھ اِسی طرح تھی۔ لوگوں نے اپنے جسم کی ترقی اور زرخیزی کے حصول کے لئے اِس طرح کے فرقوں کی پیروی کی۔
اِن دنوں نئےسرےسےپیدا ہونے والی کلیسیاؤں میں ، کچھ اپنے اجتماعات کو بڑھانے کے لئے اِیزبل کے عقیدے کو اختیارکرنےکاسہارا لیتے ہیں۔ لیکن اُن کی منطق خُدا کی ہیکل میں بت رکھنے کے مترادف ہے۔
اِیزبل نہ صرف بنی اسرائیل میں بلکہ یہوواہ کی ہیکل میں بھی غیر قوموں کےدیوتا بعل کولےکرآئی۔ اِس قِسم کاایمان جو جسمانی اور دنیاوی فوائد کی ترقی کا پیچھا کرتا ہے جبکہ یسوع میں گناہ کے فدیہ سے غافل رہتا ہے اُتنا ہی غلط ایمان ہے جتنا خُدا کی آنکھوں کے سامنے بتوں کی پرستش کرناہے۔
آج پوری دُنیا کی کلیسیائیں یوحنا ۱: ۲۹کی یہ کہتےہوئےمنادی کرتی ہیں، "آپ کے سارے گناہ ختم ہوچکے ہیں ، کیونکہ یسوع نے اِنہیں صلیب پر اُٹھا لیاتھا۔"1اُنہوں نے یسوع کے بپتسمہ کو محض ایک معاون میں تبدیل کردیا ہے ،وہ دعویٰ کرتےہیں کہ یسوع پر کسی بھی طرح ایمان رکھ کر نجات حاصل کی جاسکتی ہے ، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص یسوع کے بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔ لیکن مسیح نے یوحناسے جو بپتسمہ لیا ، وہ بپتسمہ جس کے ساتھ اُس نے دُنیا کے سارے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا ، کوئی انتحابی چیز نہیں ہے جس کو ہم اپنی من مانی سے شامل یا خارج کرسکتے ہیں۔ یسوع کے بپتسمہ کے ساتھ محض ایک معاون کے طور پر برتاؤ کرنا اور اسکی منادی کرنا بعل کی پرستش کرنےکے مترادف ہے۔
تو پھر ، کیوں، یہ لوگ یسوع کے بپتسمہ کے بغیر خوشخبری کی منادی کرتے ہیں؟ وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ اُن کی اُمید خُدا کی بادشاہی میں نہیں، بلکہ اِس زمین میں اسکی دنیاوی دولت میں پائی جاتی ہے۔ ایسے لوگ جن کے پاس اِس طرح کا عقیدہ ہے بالکل اُنہی لوگوں کی طرح ہیں جوغیرقوموں کے دیوتا بعل کی پرستش کِیاکرتے تھے۔
وہ لوگ جو پہلے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے تھے ،اور اب وہ صرف صلیب کے خون کی منادی کررہے ہیں ، اِنہیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ بعل کی پرستش کی بت پرستی کرنے جیساسنگین گناہ کر رہے ہیں۔
کوئی بھی اِس دنیا کے مادی فوائد پر اپنا مقصد مقرر کرکے مناسب طریقے سے خدمت نہیں کرسکتا۔ اگر پادری یسوع کےبپتسمہ کو چھوڑتے ہوئےمحض صلیب پر اُس کے خون کی منادی کرتے ، توشاید وہ اِس دُنیا کے دنیاوی فوائد کو بٹورنے کےقابل ہوسکیں گے۔ لیکن انھیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ نہ تو ایساایمان حقیقی ایمان ہے اور نہ ہی وہ اِس طرح حقیقی منادی کررہےہیں۔
مُکاشفہ کےحوالہ کودیکھتے ہوئے ، ہم جان سکتے ہیں کہ تھواتِیر ہ کی کلِیسیا1کے1رہنما1نے بھی1اپنی
کلیسیا میں بعل کی پرستش کی تھی ، بالکل جس طرح اِیزبل نے بعل کی پرستش کی تھی۔
اگر لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے تو رُوح القدس نہ تو اُن کے دلوں میں سکونت کر سکتاہے اور نہ ہی اُن میں کام کر سکتاہے۔ جیسا کہ پولوس رسول ہمیں بتاتا ہے ، "مگرجس میں مسیح کا رُوح نہیں وہ اُسکا نہیں ،" آیاکوئی خُدا کا فرزند ہے یا نہیں اِس کا تعین اِس بات سے کِیا جاتا ہے کہ آیا اُس کے دل میں مسیح کا رُوح ہے یا نہیں۔بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ وہ لوگ جن کے پاس مسیح کی رُوح نہیں ہے وہ ردّ کردیئے گئے ہیں۔
 
 
وہ جو یسوع کے بپتسمہ کوجانتے اوراُس کی منادی کرتے ہیں
 
جب کوئی یسوع کے بپتسمہ (پانی) پر ایمان رکھتا ہے ، جس کے ساتھ اُس نے دُنیا کے سارے گناہوں کو اپنے اوپرلے لیا ، اور صلیب پر اُس کے خون پرایمان رکھتا ہے ، تو رُوح القدس اُس کے دل میں سکونت پذیر ہوسکتا ہے۔
لیکن اگر کوئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتا ہے ، تب یہاں تک کہ اگر وہ یسوع کے لئےشہیدبھی ہو جائے ، تو یہ حقیقی شہادت نہیں ہوگی ، بلکہ صرف اپنی راستبازی کو قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کچھ لوگ ، صرف صلیب کے خون پر ایمان رکھتے ہیں ، خوشخبری کی منادی کرنےکے لئے دُنیا کے دور دراز کونوں میں جاتے ہیں ، اپنی ساری زندگی مشن کے لئے وقف کردیتے ہیں ، اور بعض اوقات اپنے عقیدے کے لئے شہید بھی ہوجاتے ہیں۔
مسیح کی محبت سے متاثر ہوکر ، لوگ اِس طرح شہید ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ اگر وہ صرف صلیب پر مسیح کے خون پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ متّی ۷: ۲۳ ہمیں بتاتا ہے ، یہ کیاخوب ہوگا اگر خُداوند خود اُن کے تمام کاموں اور قربانیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ اُنہوں نے کتنی بے تابی اور وفاداری کے ساتھ خوشخبری کی منادی کی—مثال کے طورپر، جیسے ،مورمون مشنری کرتے ہیں۔ کیونکہ اُنہوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی نہیں کی تھی ، لہذا اُن کےایمان اور اُن کی ساری کوششیں رائیگاں جائیں گی۔
خُدا نے تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے خادم کی سرزنش کی کیونکہ اُس نے1اِیزبل1کے1پیروکاروں1جیسے
ایمان کو کلِیسیامیں پھولنےپھلنے کی اجازت دی اور اُن کی نشوونما کو برداشت کِیا۔ آج کی دُنیا میں بہت سارے مذہبی رہنما موجود ہیں جو بالکل ایسے ہی ہیں ، جو جانوں کو دھوکہ دینے کے درپے ہیں۔ مسیح کی پیدائش میں ، اُس کا بپتسمہ ، اُس کی مصلوبیت ، اُس کی موت ، اُس کا جی اٹھنے ، اور اُس کا آسمان پر چڑھ جانا — اِن تمام چیزوں پر ، خُدا کی حقیقی کلیسیا کا درست ایمان ہونا چاہئے اوردرست خوشخبری کو پھیلانا چاہئے۔ دوسری صورت میں اُن کا ایمان بیکار ہوجائےگا۔
جھوٹے نبی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نجات پانے کے لئے،یسوع کے بپتسمہ کی اہمیت کا احساس کیےبغیرصرف یسوع کے خون پر ایمان رکھنا ہی کافی ہے۔ چونکہ اُنہوں نے پانی کی حقیقت کو چھوڑ دیا1ہے،اِس لئے مسیحیت بدعنوان ہوچکی ہے اور دُنیا کے بہت سے مذاہب میں سے ایک بن چکی ہے۔ یہ ہے کیوں مسیحیت دُنیا کے تمام لوگوں کے لئے نجات نہیں لاسکی۔
صلیب پر یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے خون کے بغیر ، مسیحیت محض ایک مذہب میں تبدیل ہوچکی ہے جو دُنیا کے اخلاقیات اورتہذیب پر زور دیتا ہے۔ یورپ اور شمالی امریکہ میں ، جہاں آبادی کی مطلق اکثریت مسیحی تھی ، مشرقی مذاہب اب کافی مشہور ہوچکے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ اس طرح کےمذہب پر مبنی مسیحیت گناہوں کی معافی اور خُدا پر حقیقی ایمان نہیں دے سکی تھی ، اور اِس طرح بہت سے لوگ مشرقی مذاہب کی صوفیانہ نوعیت کی طرف راغب ہوئے اور سوچتے ہیں کہ یہ مغربی مذاہب کی نسبت بہتر متبادل پیش کرتے ہیں۔ لیکن مسیحیت نہ تو مغربی ہے اور نہ ہی کوئی مشرقی مذہب ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری اور آج کی مسیحیت کی حالت پردوبارہ غور کریں۔ ہمیں یہ پوچھنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ مسیحیت کی سچائی کیوں بدعنوان ہوچکی ہے جیساکہ آج کے دور میں ہے ، اور آج کی مسیحیت بہت سارے لوگوں کی نظروں میں کیوں بیکار اور پریشان کن ہوچکی ہے۔ اِس کا جواب پانی اور رُوح کی خوشخبری میں ملتا ہے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جانے بغیر یسوع پر ایمان رکھنا خُدا کی آنکھوں کے سامنے بعل کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ خُدا کےسامنےسب سے بڑی بُرائی نجات کی سچائی کے طور پر پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھنے سے انکار کرنا ہے۔
آج کی مسیحیت پانی اور رُوح کی خوشخبری کی خوبصورتی سے نہیں بلکہ دُنیا کی خوبصورتی سے سحرانگیزہے۔آسیہ میں سات کلیسیاؤں نے یسوع کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون پر ایمان رکھ کر خُداوند کی خدمت کی تھی۔ لیکن ، جیسا کہ بائبل میں ظاہرکِیا گیا ہے ، وہ، بھی ، جزوی طور پر دُنیا کے سامنے دم توڑ گئیں ،جیساکہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کو تیزی سے برخاست کردیاگیا ، اور لوگوں کے دِلوں پر زیادہ سے زیادہ قابض ہونے کےلئے اِس کی جگہ دُنیانےلےلی۔
کیا ہوگا اگر کوئی کلیسیا نجات کی سچائی ،1111 پانی اور رُوح کے ذریعےنئےسرےسے پیدا ہونے کی خوشخبری کی منادی نہیں کرتی ہے،اور اِس کے بجائے صرف صلیب کے خون کی منادی کرتی ہے؟ مَیں نے یہ سوال اِس لئے اُٹھایا ہے کہ یہاں تک کہ خُدا کی کلیسیا،بھی اگر دُنیا کی پیروی کرتی ہے تو ، جلد ہی دُنیا کے ذریعے بدعنوان ہوجائے گی ، اوراِس کےکُچھ ہی دیر بعد یہ دعویٰ کرنا شروع کردےگی کہ نجات حاصل کرنےکے لئےیسوع کے بپتسمہ سےلاعلم رہناٹھیک ہے۔ یہ ہے کیوں میں کلام الہٰی کے ذریعہ اِس اہم نکتہ پر نظر ثانی کر رہا ہوں اور اس کو بارباردُہرا رہا ہوں۔
 
 
یسوع کےبپتسمہ کے ساتھ اوراُس کے بپتسمہ کے بغیرخوشخبری میں کیافرق ہے
 
آپ اور مَیں ، ہم سب نے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر اپنے سارے گناہوں سے معافی حاصل کی ہے۔ پانی اور رُوح کی یہ خوشخبری خُداوند کی سچائی ہے ، جبکہ یسوع کا بپتسمہ ، صلیب پر اُس کا خون ، اور رُوح القدس ہماری نجات کےشواہد ہیں۔
۱-یوحنا ۵: ۵۔۷ اور ۱-پطرس۳: ۲۱ہمیں بتاتےہیں کہ "پانی" —1بپتسمہ ، یعنی— ہماری نجات کا نشان ہے ، اور یہ وہی نجات کا کلام ہے جو متّی ۳: ۱۵ میں ظاہر ہوتا ہے جہاں یسوع اپنے بپتسمہ کے ساتھ بنی نوح انسان کے سارے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھالیتاہے۔ جب یسوع کا بپتسمہ اتنااہم ہے ، تو پھرکس طرح مسیح یسوع کےبپتسمہ کو نظرانداز کرنے اور صلیب پر صرف اُس کے خون کی منادی کرنے سے ہمیں پوری اور کامل نجات مل سکتی ہے؟ گناہ سے نجات پانے والوں کو کلام پر ایمان رکھ کر نجات کی واضح لکیر کھینچنی چاہئے۔ اُنہیں خود کو بار بار یاد دلانا چاہئے تاکہ یہ لکیر اور بھی واضح ہوتی جائے۔
اگر کوئی شخص اپنی نجات کی حد بندی کی واضح لکیر نہیں کھینچ سکتا تو، اِس کا صرف یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ ابھی تک وہ شخص نجات یافتہ نہیں ہوا ہے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ ہماری گناہ سے نجات محض ہمارے ایمان کا ایک اعلی درجے کا مرحلہ ہے۔ گناہ سے نجات رُوحانی تصدیق کا ایک مرحلہ نہیں ہے ، بلکہ یہ ہمارے عقیدے کی بنیاد ہے ، جو ہمارے ایمان کے گھر کو چٹان پر تعمیر کرنے کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔
نیز ، ہمیں نجات کے مسئلے کو محض مختلف فرقوں کے "نظریاتی پہلوؤں" کے معاملے کے طور پر نہیں سوچنا چاہئے۔ ایک فرقے کے نظریات دوسرےفرقے سےمختلف ہو سکتے ہیں ، لیکن بائبل کی سچائی ، یہ سچائی جو یسوع نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو اپنے اوپراُٹھا لیا ، یہ ایک ایمان سےدوسرےایمان تک مختلف نہیں ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کر رہے ہیں تو ہم یسوع کے بپتسمہ کی مرکزی اہمیت کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں۔
ہم مسیح کے بپتسمہ کو نہیں چھوڑ سکتے ہیں اور محض یسوع کی1"خُداکابرّہ جو دُنیاکاگُناہ اُٹھالےجاتاہے" کے طور پر منادی کرتے ہیں یا یہ منادی کرتے ہیں کہ صرف صلیب کے خون پرایمان رکھ کر ہی لوگوں کو نجات مل سکتی ہے۔ ہمیں یسوع مسیح کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون دونوں پر ایمان رکھ کر اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنی چاہیے۔یسوع کے بپتسمہ پر ایمان رکھنےکے بغیر صرف صلیب پر اُس کے خون پر ایمان رکھ کرکسی کے تمام گناہ کیسے ختم ہوسکتےہیں؟ جب لوگ صرف صلیب کے خون پر ایمان رکھتے ہیں ، تو کیا اُن کے ضمیر کے گناہ بھی ختم ہوجاتے ہیں؟یقیناً نہیں!
بائبل کے ذریعے، یسوع نے ہمارے گناہوں،اوراُن کی عدالت کو برداشت کِیا،یہ خُدا کی راستبازی کی گواہی ہے۔ حقیقی ایمان جو ہمارے پاس ہونا چاہئے وہ مسیح کے عہد نامے کے اِس سچے علم پر ایمان ہے۔میرا سچے علم سے کیا مطلب ہے؟ میرا مطلب یہ ہے کہ خُدا کے ذریعہ ہمارے گناہوں کی عدالت کو، اُس کی راستبازی کیا ہے ، اور خُدا کے سامنے برباد ہونے والا ایمان کس قِسم کاایمان ہے،کو واضح طور پر سمجھنا ہے۔ صرف اِن سب کو جاننے سے ہی ہمارے حقیقی علم سے حقیقی ایمان پھول پھل سکتا ہے۔
اگر ، خوشخبری کی منادی کرتے ہوئے ، ہم یسوع کے بپتسمہ یا صلیب پر اُس کے خون کو چھوڑ دیتے ہیں ، تب ہم جس کی منادی کرتے ہیں وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری نہیں ہوگی۔ اگر ہم خُدا کی سچائی کو اپنی انسانی اصطلاحوں سے پیش کرتے ہیں اور یہ منادی کرتے ہیں کہ ہر کوئی محض کسی طرح بھی یسوع پر ایمان لا کر نجات یافتہ ہوسکتا ہے تو منادی کرنے والے اور سُننے والے دونوں ہی گنہگار رہ جائیں گے۔ آیا ہم یسوع کے بپتسمہ پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں کےدرمیان فرق ہی، جانوں کو بچانے میں سارے فرق پیداکرتاہے۔
جب ہم رسولوں کے ایمان کو دیکھیں تو ،ہم دیکھتے ہیں کہ اُنہوں نے صرف صلیب کے خون کی منادی نہیں کی تھی۔ اُن سب نے نجات کے ایک ہی کام کے طور پر یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون دونوں پر ہی ایمان رکھاتھا۔ یہ بحث کرنا کہ یسوع نے صلیب پر ہمارے سارے گناہوں کواُٹھالیاتھااِس بات پرایمان رکھےبغیر کہ اُس نے پہلے ان کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے اوپر اُٹھایاتھا، نہ صرف انسانی استدلال میں غیر منطقی ہے ، بلکہ یہ پانی اور رُوح کی سچائی پر1بھی پورانہیں اُترتا ہے۔ جو لوگ اِس طرح کی آدھی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو اُن کے گناہوں سے نجات نہیں مل سکتی۔
 
 
خوشخبری کی منادی کرنے والے کے کام
 
بائبل کے مطابق بولتےہوئے، رُوحانی رشتےطےکرانےوالے وہ ہیں جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرتے ہیں۔ رُوحانی نجات کے رشتےطےکرانےوالوں کو خُداوند اور اُس کی دُلہنوں کے مابین ثالثی بنناچاہیے۔ پہلا کام جو اُنہیں کرنا چاہئے وہ گنہگاروں کو منادی کرنا ہے جو خُداوند نے اُن کے لئے کِیا ہے۔ اُنہیں اُن کو یہ تعلیم دینی چاہئے کہ یسوع نے اپنے اوپر اُن کےگناہوں کواُٹھانےکےلئےبپتسمہ لیا تھا ، اور یہ کہ اُسکی اُن تمام گناہوں کی خاطرصلیب پر عدالت ہوئی۔ اُنہیں یہ بھی درست طور پر پہچاننا ہوگا کہ آیادُلہنیں اِس پر یقین کرتی ہیں یا نہیں ، اور جب دُلہنیں یقین کرتی ہیں ، تو رشتےطےکرانےوالوں کا کردار مکمل طورپر پورا ہوجاتا ہے۔
اِسےانجام دینےکے لئے ، رشتےطےکرانےوالوں کو دُلہا کون ہے اور اُس نے اُن کے لئےجو کُچھ کِیا ہے دُلہنوں کواِس کی وضاحت کرنا بہت ضروری ہے ، تاکہ دُلہنیں آسانی کےساتھ اِس کو سمجھ سکیں۔ جب دُلہنوں کے دلوں کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ دُولہا نے اُن کے لئے کیا کِیا ہے ، تب رشتےطےکرانےوالوں کو اُنہیں یہ حقیقت سکھانی ہوگی کہ دُولہا اپنے پانی اور خون سے اُن کے سارے گناہوں کو دور کرچکا ہے۔
جب اِس طرح دُلہنوں نے وہ سارے کام قبول کرلیے جو دُولہا نے اُن کے لئےکِیےہیں ، تب وہ بن جاتی ہیں اورمسیح کی دُلہنیں کہلاتی ہیں۔ وہ جو یسوع مسیح کی دُلہن بن چکے ہیں اُنہیں یہ احساس کرنا چاہئے کہ دُلہا نے اُنہیں پانی اور رُوح کی خوشخبری کے فِدیہ کے ساتھ خریدا ہے۔ اُنہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ اُن کو اپنا بنانے کے لئے ،دُولہا نے اپنے پانی اور خون کےساتھ اُن کے تمام گناہوں کو پاک کردیا ہے ، اُن کو برف کی طرح سفید کردیا ہے ، اور اُنہیں اپنی دُلہنوں کے طور پر قبول کِیا ہے۔
صرف تب ہی دُلہن دُلہا کو ہمیشہ کے لئے عزت دے سکتی ہے اور پہچان سکتی ہے۔ وہ جو اپنے تمام گناہوں کی معافی حاصل کرچکےہیں وہ راستباز ہیں ، راستباز لوگ بے گناہ ہیں ، اور بے گناہ ہی یسوع مسیح کی دُلہنیں ہیں۔ جب دُلہنیں ایسا ایمان رکھتی ہیں تو ، وہ دُلہا کے ساتھ شادی کر سکتی ہیں ، اور دُلہا اُن کو اپنی بانہوں میں قبول کرسکتا ہے۔ اِسی طرح ، جب صرف رُوحانی رشتےطےکرانےوالے سچائی کےکلام کے ساتھ دُلہنوں کو تیار کرتے ہیں تو وہ کامیابی کے ساتھ اپنی شادی کا اہتمام کرسکتی ہیں۔
کامیاب ہونے کے لئے، رُوحانی نجات کے رشتےطےکرانےوالوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ دُلہا کس طرح کی دُلہنیں چاہتا ہے۔ یسوع ، ہمارا دُلہا ، کوئی گناہ نہیں رکھتاہے۔ وہ پاک ہے۔ یہ ہے کیوں یسوع کسی بھی عیب کےبغیر بے گناہ دُلہنیں چاہتاہے۔ اور یہ ہے کیوں رشتےطےکرانےوالے دُلہا کے کاموں کو دُلہنوں کی صفائی اور آرائش کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ دُلہنوں کی اِس آرائش سے مطلب یہ ہے کہ وہ صرف دُلہا کےوسیلے پوری ہوئی پانی اوررُوح کی خوشخبری کے ذریعےاپنے گناہوں سے مکمل طورپرپاک ہونے کے بعد دُلہاکےپاس لائی جائیں گی۔اگر وہ اُس کے پاس لائی جاتی ہیں جب اُن کے صرف آدھے گناہ پاک ہوئےہیں تو ، دُلہا اُنہیں قبول نہیں کرےگا، کیوں کہ وہ چاہتا ہے کہ اُس کی دلہنیں بے گناہ ہوں۔ خُدا کےخادمین جو یہ کردار ادا کرتے ہیں وہ رُوحانی نجات کے رشتےطےکرانےوالے ہیں۔
خُدا کے خادمین کو ، لہذا ، ان کی رُوحانی نجات کے لئے دُلہنوں کو تیار کرناجاری رکھنا چاہئے۔ اِسی کے ساتھ ، ہمیں یہ بھی احساس کرنا چاہئے کہ آج کی مسیحیت میں بہت سارے جسمانی رشتےطےکرانےوالےہیں جو ہر جگہ اپنے مادی فوائد کو فروغ دیتے ہیں اورمادی چیزوں کو زبردستی چھین لیتے ہیں۔ یہ جسمانی رشتےطےکرانےوالےیسوع مسیح اور ردّ شدہ دُلہنوں دونوں کی طرف سے باعثِ رسوائی ہوں گے۔ ہمیں
جسمانی رشتےطےکرانےوالےنہیں بننا چاہئے۔
 
 
شیطان کی گہرائیوں کوسمجھیں
          
یہاں تک کہ خُدا کے خادمین اور لوگوں میں ، بہت سارے ایسے بھی ہیں جو شیطان کی دھوکہ دہی کی گہرائی کو نہیں جانتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ، بہت سارے ہیں ، جنہیں اِس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ شیطان ہمیں کس قدر ٹھوکر کھلانے کی سخت کوشش کرتا ہے۔ خُدا کے بہت سارےخادمین یہ احساس کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ شیطان پانی اور رُوح کی خوشخبری کو کس طرح تبدیل اور بدعنوان کرچکا ہے ، اور اُس نے کس طرح ایمانداروں کو اُس کے جھوٹے عقیدے کی پیروی کرنے کے لئے دھوکہ دیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر ، یسوع میں بہت سارے ایماندار پانی اور رُوح کی حقیقی خوشخبری کی بجائے ایک بدعنوان خوشخبری کے ساتھ ختم ہوچکے ہیں ، اور خُدا کی خواہش کے برعکس، اُن کی رُوحیں بھی بربادہوچکی ہیں۔
خُدا ہمیں بتاتا ہے ،1"اِیزبل کی تعلیمات کی پیروی نہ کرو۔ میری واپسی تک پانی اور رُوح کی اپنی خوشخبری پرثابت قدمی سے ایمان رکھو اور منادی کرو۔ تب میں تمہیں قوموں پر اختیار دوں گا۔" لیکن وہ لوگ جو اِیزبل کے عقیدے سے دھوکہ کھا رہے ہیں ، خُدا ہمیں یہ بھی بتاتاہے ، وہ اُنھیں ایذارسانی اور آگ کی بھٹی میں پھینک دےگا۔
جب مسیح کی واپسی کا وقت آئے گا ، ہم اُن لوگوں کو دیکھیں گے جنہوں نےاِس پر ایمان رکھا اور صرف یسوع کے خون پر اپنے ایمان کو دھوکہ دے کرنجات کی منادی کی تھی۔ یہ لوگ اپنے عقیدے پر فخر کرنےکاشکار ہیں ، ہمیشہ باقی لوگوں سے برتر ہوتے ہوئے جن کا ایمان اُن سے مختلف ہوتا ہے۔ لیکن خُدا ان لوگوں کے ایمان اور اُن لوگوں کے ایمان جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں کے درمیان تفریق کرتا ہےاورالگ کرتاہے:1" جوغالِب آئے اور جو میرے کاموں کے مُوافِق آخِر تک عمل کرے مَیں اُسے قَوموں پر اِختیار دُوں گا۔اور وہ لوہے کے عَصا سے اُن پر حُکومت کرے گا ۔ جِس طرح کہ کُمہار کے برتن چکنا چُور ہو جاتے ہیں ۔ چُنانچہ مَیں نے1بھی1اَیسا اِختیار اپنے
باپ سے پایا ہے۔"
جب ہمارا خُداوند اِس زمین پر واپس آئےگا تو، بہت سارے مسیحی ہوں گے جونئےسرےسےپیدا ہوئے بغیر ہی خُداوندسے ملیں گے۔ کیونکہ اُنہوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھاتھا، لہذا وہ اپنے دِلوں میں گناہ کے ساتھ ہی خُداوند سے ملاقات کریں گے۔ لیکن وہ جن کے دلوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنےسےاپنے گناہوں کی معافی حاصل کرلی ہے، اِس کے برعکس ، وہ خُداوند کے آنے سے بدل جائیں گے ، اور اُس کے ساتھ بادشاہی کریں گے۔ جیسا کہ یہاں کہا گیاہے ، خُداوند اور اُس کے لوگوں کی طاقت لوہے کےعَصاکی طرح ہے جو کُمہار کے برتنوں کو چکناچُورکرتی ہے۔
خُدا یقیناً اقوام عالم پر اُن لوگوں کو طاقت عطا کرے گا جو آخر تک پانی اور رُوح1کی خوشخبری سے
اپنے ایمان کا دفاع کرتے ہیں۔ ہمارا خُداوند ہمیں بتاتا ہے کہ یہ طاقت ویسی ہی طاقت ہے جیسی اُس نے باپ سے حاصل کی ہے۔ ہمیں اِیزبل اور بلعام جیسے جھوٹے نبیوں کے خلاف لڑنا اور اُن پر غالب آنا چاہئے ، تاکہ ہم اُس طاقت کے ساتھ جو خُداوند ہمیں دےگا ان قوموں پر ہمیشہ بادشاہی کرسکیں۔
 
 
سچائی کی واضح نجات!
 
گنہگاروں کو بچانے کے لئے، ہمارےخُداوند کو اِس زمین پر آنا پڑا ، اور بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو خود پر لینے کے لئے، اُسے یوحناسے بپتسمہ لینا پڑا۔ کیونکہ ہمارے گناہوں کو قبول کرنے کے لئے خُداوند نے بپتسمہ لیا تھا ، لہذا وہ اِن گناہوں کو صلیب تک لے جا سکتا تھا ، اُس پر مر سکتا تھا ، اور مُردوں میں سے جی اُٹھ سکتا تھا۔ اُس نے یہ راستبازکام ہمارے لئے انجام دئیےتھے ، کیوں کہ اب وہ یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ بنی نوع انسان مسلسل اپنے گناہوں میں رہتے اور اِن کےساتھ جدوجہد کرتےرہتے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری وہ سچائی ہے جو آپ کو آپ کے تمام گناہوں سے نجات دلا سکتی ہے۔
اور ہمارا خُداوند اُن سب کے لئے نجات دہندہ بن سکتا ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں۔ چونکہ خُداوند نے یوحناسے بپتسمہ لیاتھا ، لہذا وہ اِس حیرت انگیز حاصل کا پھل دےسکتاتھا جس کی گواہی یوحنا ۱: ۲۹اور یوحنا۱۹: ۳۰میں ملتی ہے: "دیکھو!یہ خُدا کا برّہ ہےجو دُنیا کاگُناہ اُٹھالےجاتاہے!"1اور "تمام ہؤا!"1جو لوگ خُدا کے اِس کلام کے ذریعہ اپنی عدالت کےقائل ہیں وہ اُس پر پختہ ایمان رکھنے کے قابل ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یسوع نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُن کے تمام گناہوں کی فکرکی۔ ہمیں اپنے دلوں میں خلوص دلی سے جھانکناچاہئے ، کیونکہ اگر ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے تو، ہمارے گناہ ہمارے دلوں میں اپنی موجودگی جاری رکھنے کا پابند ہیں۔
جب ہم اُن لوگوں کے دلوں پر گہری نظرڈالتے ہیں جو یسوع کے بپتسمہ کو نظر انداز کرتے ہیں اور صلیب پر صرف اُس کے خون پر ایمان رکھتے ہیں تو ،ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کے دلوں میں گناہ کے وجود سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں یوحنابپتسمہ دینے والے کے ذریعہ یسوع کے بپتسمہ پر خصوصی طور پر دھیان دینا چاہئے اور اِس پر اور بھی مضبوطی سےایمان رکھنا چاہئے ، کیوں کہ ہم خُدا کے کلام میں اپنے خیالات کےمطابق کچھ شامل یا منحرف نہیں کرسکتے ہیں۔ ہم سب کو جھوٹی خوشخبریوں کا مقابلہ کرنا1چاہئے
، کیونکہ یہ اُن لوگوں کے ایمان کو تباہ کرسکتی ہیں جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں۔
یسوع نے خود ہمیں بتایا ہے ، " خبردارفرِیسِیوں کے خمِیر سے ہوشیار رہنا۔" یہاں "خمیر"سےمراد وہ نہیں ہے جو شراب یا روٹی بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ، بلکہ اِس1سے مراد ایسی خوشخبری ہےجس میں یسوع کا بپتسمہ شامل نہ ہو۔ ہمیں اِس حقیقت کو جاننا اور اِس پر ایمان رکھنا چاہئے کہ یسوع نے دُنیا کے گناہوں کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے اوپر اُٹھایا اور اِنہیں صلیب پرلےگیا ، اور یہ کہ صلیب پر مصلوب ہو کر اورمُردوں میں سے جی اُٹھ کر ہمارا حقیقی نجات دہندہ بن گیا ہے۔
اپنی طرف سے ، یسوع نے یوحنا کے ذریعہ بپتسمہ لینے کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو حاصل کِیا ، اور اِن سب کواپنے صلیبی خون سے مٹادیا۔ لیکن لوگوں کی طرف سے، کیوں کہ وہ بپتسمہ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جو یسوع نے یوحنا سے حاصل کِیا تھا ، اُن کے گناہ محض اُسی طرح قائم رہتے ہیں۔ اِس سچائی پر ایمان رکھے بغیر کہ یوحنا نے دُنیا کے سارے گناہوں کو یسوع پر منتقل کرنےکےلئے اُسے بپتسمہ دیا تھا ، اُن کے گناہوں کو بنیادی طور پر مٹایا نہیں جاسکتا۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری قدرت والی خوشخبری ہے جو ہمارے تمام گناہوں کو دھودیتی ہے اور ہمیں برف کی مانندسفید بنا دیتی ہے، جب ہم یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون دونوں پر ہی ایمان رکھتے ہیں۔
  
 
آئیے ہم غالب آنےوالےبنیں
 
اِس اہم حوالہ سے ، ہم نے خُدا کے کلام کو تھواتِیر ہ کی کلِیسیا سے مخاطب ہوتے دیکھا ہے۔ خُدا نے تھواتِیر ہ کی کلِیسیا کے خادم سے وعدہ کِیا تھا کہ وہ اِسے قوموں پراختیار دے گا۔ ہر نئےسرےسےپیداہونےوالامقدس رُوحانی جنگ میں مصروف رُوحانی میدانِ جنگ میں رہتا ہے۔ ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنےایمان کے ساتھ ہمیشہ اِس رُوحانی میدان جنگ میں فتح حاصل کرنا چاہئے۔ یہ رُوحانی جنگ اُسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب کوئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتا ہے۔
جو لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو شیطان کےخلاف اپنی لڑائی میں اُس پرغالب آنا چاہئے۔ ہم میں سے کچھ ہی شیطان کے خلاف لڑتے ہیں اور خُدا کے حضور کھڑے ہونے تک باطل خوشخبریوں پر غالب آجائیں گے۔ جو لوگ غالب آتے ہیں اُن کا ایمان ہے کہ ہمارے خُداوندنے ہمارےتمام گناہوں کو اِس زمین پر آکر ، بپتسمہ لے کر ، صلیب پر مرنے اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے ذریعہ مٹا دیا ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ دوسرے کیا کہتے ہیں ، وہ اپنے عقیدے پر اٹل ہیں کہ اُن کے گناہوں کو پاک کرنے کا مقام دریائے یردن ہے ، اور یہ کہ اُن کے تمام گناہوں کو بپتسمہ کے ذریعے یسوع کے حوالے کِیا گیا تھا جو اُس نے یوحنا سے لیا تھا۔
ہمارے خُداوندنے ہمیں شیطان سے لڑنے اور اُس پرغالب آنے کا حکم دیا ہے۔ ہمارا جسم کبھی کبھار سخت محنت کرتےہوئے تھکاوٹ کا شکار ہوسکتا ہے ، لیکن پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ہمارا ایمان جھوٹی خوشخبریوں کے خلاف اپنی جنگ کبھی نہیں ہار سکتا۔
خُداوند ہمیں بتاتا ہے ،1" تنگ دروازہ سے داخِل ہو کیونکہ وہ دروازہ چَوڑا ہے اور وہ راستہ کُشادہ ہے جو ہلاکت کو پُہنچاتا ہے اور اُس سے داخِل ہونے والے بُہت ہیں۔ کیونکہ وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سُکڑا ہے جوزِندگی کو پُہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں۔" (متّی ۷: ۱۳۔۱۴)۔ پرانےعہد نامہ کا نبی ایلیاہ بعل کے ۸۵۰ سے زیادہ کاہنوں سے لڑااور غالب آیا۔
پولوس رسول نے بھی کہا کہ اِس کے علاوہ کوئی دوسری خوشخبری نہیں ہےبلکہ جس کو اُنہوں نے پھیلایا ایک ہی خوشخبری تھی(گلتیوں۱: ۷)۔ پولوس کی یہ خوشخبری یسوع کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون پر ایمان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھی۔ وہ لوگ جو اِس خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں ، جبکہ اُن کے نئےسرےسےپیدا ہونے کے بعد بھی اُن میں کچھ کوتاہیاں ہوسکتی ہیں ، اُن کے دلوں میں ہمیشہ کےلئےکوئی گناہ نہیں ہے۔ ہمارے خُداوند نے ہمارے تمام گناہوں کو اپنے پانی سے پاک کردیا اور اِن گناہوں کے لئے اپنے خون سے اُن کی جگہ ساری عدالت حاصل کی۔ یسوع کا بپتسمہ اور صلیب پر اُس کا خون ایمان لانے والوں کے لئے ابدی چھٹکارا لایا ہے۔
نجات پانے والوں کو ، خُداوند اپنے ایمان کا دفاع کرنے ، لڑنے اور آخر تک غالب آنے کی طاقت دیتا ہے۔