خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب3-1] <مُکاشفہ۳:۱۔۶> سردِیس کی کلِیسیا کے نام خط

<مُکاشفہ۳:۱۔۶>
اور سردِیس کی کلیسیا کے فرشتہ کو یہ لکھ کہ جس کے پاس خُدا کی سات رُوحیں ہیں اور سات ستارے ہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں کہ تُو زِندہ کہلاتا ہے اور ہے مُردہ۔ جاگتا رہ اور اُن چِیزوں کو جو باقی ہیں اور جو مِٹنے کو تِھیں مضبُوط کر کیونکہ مَیں نے تیرے کِسی کام کو اپنے خُدا کے نزدِیک پُورا نہیں پایا۔ پس یاد کر کہ تُو نے کِس طرح تعلِیم پائی اور سُنی تھی اور اُس پر قائِم رہ اور تَوبہ کر اور اگر تُو جاگتا نہ رہے گا تو مَیں چور کی طرح آ جاؤں گا اور تُجھے ہرگِز معلُوم نہ ہو گا کہ کِس وقت تُجھ پر آ پڑُوں گا۔ البتّہ سردِیس میں تیرے ہاں تھوڑے سے اَیسے شخص ہیں جِنہوں نے اپنی پَوشاک آلُودہ نہیں کی ۔ وہ سفید پَوشاک پہنے ہُوئے میرے ساتھ سَیر کریں گے کیونکہ وہ اِس لائِق ہیں۔ جو غالِب آئے اُسے اِسی طرح سفید پَوشاک پہنائی جائے گی اور مَیں اُس کا نام کِتابِ حیات سے ہرگِز نہ کاٹُوں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرِشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کرُوں گا۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔
 
 
تشریح
 
آیت ۱: ” اور سردِیس کی کلیسیا کے فرشتہ کو یہ لکھ کہ جس کے پاس خُدا کی سات رُوحیں ہیں اور سات ستارے ہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں کہ تُو زِندہ کہلاتا ہے اور ہے مُردہ۔ “
خُداوند کے پاس سات رُوحیں اور سات ستارے ہیں۔ سردِیس کی کلیسیا اپنے ایمان کی زندگی میں بہت سی کوتاہیاں رکھتی تھی۔ لہذا خُدا نے کلیسیاکو ایمان کے ساتھ رہنے کی نصیحت کی۔ خُدا نے یہاں سردِیس کی کلیسیاکے خادم سے کہا ، " تُو زِندہ کہلاتا ہے اور ہے مُردہ۔" اِس سے ، خُدا کا مطلب یہ تھا کہ
سردِیس کی کلیسیا کے خادم کا ایمان تمام عملی مقاصد کے لئے مر گیا تھا۔
 
آیت ۲: ” جاگتا رہ اور اُن چِیزوں کو جو باقی ہیں اور جو مِٹنے کو تِھیں مضبُوط کر کیونکہ مَیں نے تیرے کِسی کام کو اپنے خُدا کے نزدِیک پُورا نہیں پایا۔ “
خُداوند سردِیس کی کلیسیاکے فرشتہ کو زیادہ عرصہ تک بے ایمانی پر چلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اُس نے اِس کلیسیا کی سرزنش کی کیونکہ وہ خُدا کے کلام پر پورے ایمان کے بغیر زندہ رہ رہی تھی۔ مقدسین کے لئے خُدا کے تمام تحریری کلام پر پورے دل سے ایمان رکھ کر اپنی زندگی بسرنہ کرنا خُدا کی حضوری میں گناہ کرتے ہوئے زندہ رہنے کے مترادف ہے۔
یہاں تک کہ جب وہ کمزور ہیں ، اگر مقدسین خُدا کےکلام پر اپنےایمان کے ساتھ زندہ رہیں تو ، وہ خُدا اور انسان دونوں کے سامنے سربلندکیے جائیں گے۔ ایسے مقدسین بننےکے لئے جن کا ایمان کامل ہے ، ہمیں خُدا کے کلام پروفاداری کے ساتھ ایمان رکھتے اور اِس کی پیروی کرتےہوئے اپنی زندگیاں بسرکرنی چاہئے جس نے مقدسین کو کامل بنایا ہے۔
 
آیت ۳: ” پس یاد کر کہ تُو نے کِس طرح تعلِیم پائی اور سُنی تھی اور اُس پر قائِم رہ اور تَوبہ کر اور اگر تُو جاگتا نہ رہے گا تو مَیں چور کی طرح آ جاؤں گا اور تُجھے ہرگِز معلُوم نہ ہو گا کہ کِس وقت تُجھ پر آ پڑُوں گا۔ “
ابتدائی کلیسیا کے مقدسین اور خادموں کو پانی اور رُوح کی خوشخبری سُننے اور اِس کو قائم رکھنے کے لئے بے پناہ قربانیاں دینی پڑیں۔ لہذا خُداوند نے اُنھیں پانی اور رُوح کی اِس قیمتی خوشخبری ، پر اپنا ایمان نہ کھونے کی ہدایت کی ، وہ خوشخبری جس کو حاصل کرنے کے لئےاُنہیں بہت ساری قربانیاں اور یہاں تک کہ اپنی جانیں بھی دینی پڑیں۔ مقدسین کو پانی اور رُوح کی کامل نجات کی اِس خوشخبری پر قائم رہ کر خُدا کے سامنے اپنے ایمان اور اِس کےکاموں کو واضح طور پر ظاہر کرنا چاہئے۔
نجات پانے والوں کو،نجات کے فضل کے لئےاپنی شکر گزارزندگیاں بسرکرتےہوئے ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اُنہوں نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کو کس طرح پہلی بار سُنا اور اِس پر ایمان رکھا۔ نئےسرےسے پیدا ہونے والےمقدسین اور خادموں کو ہمیشہ برقراررکھنا چاہئے کہ خُداوند کی طرف
سے جو خوشخبری اُن کو ملی وہ کتنی عظیم اور مبارک ہے۔ اگر وہ نہیں رکھتےہیں، تو وہ بے وقوفوں کی جگہ پر کھڑے ہوں گے ، یہ نہ جانتے ہوئےکہ خُداوند کب اِس زمین پر واپس آجائے گا۔
          
آیت ۴: ” البتّہ سردِیس میں تیرے ہاں تھوڑے سے اَیسے شخص ہیں جِنہوں نے اپنی پَوشاک آلُودہ نہیں کی ۔ وہ سفید پَوشاک پہنے ہُوئے میرے ساتھ سَیر کریں گے کیونکہ وہ اِس لائِق ہیں۔ “
بہر حال ، خُداوند ہمیں یہاں یہ بتاتا ہے کہ سردِیس کی کلیسیامیں ابھی بھی کچھ ایماندار موجود تھے ،جنہوں نے اپنےایمان کو قائم رکھتےہوئے،اپنی پوشاک کو آلودہ نہیں کِیا تھا۔ خُداوند یہ بھی فرماتاہے کہ یہ وفادار مقدسین خُدا کے خادموں کی طرح زندگیاں گزاریں گے ، جو، اُس کی راستبازی میں ملبوس ہوکر، خُداوند کے ساتھ سَیرکریں گے۔ وہ خُداوند کے ساتھ سَیرکر سکتے تھے کیونکہ اُن کا ایمان اُس کے ساتھ سَیرکرنےکے لائق تھا۔
خُدا نے جن مقدسین کا ایمان منظور کِیاہے وہ خُداوند کی پیروی کرتے ہیں جہاں کہیں بھی وہ اُن کی رہنمائی کرسکتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اُنہوں نے اپنی پوشاک کو آلودہ نہیں کِیا ہے اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہوں نے ، خُداوند کے کلام پر بھروسہ کرتے ہوئے، دُنیا کی چیزوں کے آگے ہتھیارنہیں ڈالےہیں۔ وہ جوخُداوند کی طرف سے دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ذریعہ راستبازی کی پوشاک میں ملبوس ہوچکے ہیں وہ اُس کے کلام پر قائم رہتے ہیں اور دُنیا کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے ہیں۔ وہ دوسرے لفظوں میں ، جھوٹی خوشخبریوں سے علیحدگی کی واضح لکیر کھینچتے ہیں۔
وہ جو خُدا وندکی خوشخبری پر ایمان رکھتےہوئے سفید پوشاک میں ملبوس ہو چکے ہیں وہ اُس کی خوشخبری کےلئےمحنت کرتے ہیں اور اِس دُنیا میں ایسی زندگی بسر کرتے ہیں جو اُس کے ساتھ سَیرکرتی ہے۔ یہ ہے کیوں خُداوند ہمیشہ اُن کے ساتھ ہے ، کیوں کہ وہ ہمیشہ اُس کے کلام پر ایمان رکھتے ہوئے اُس کی پیروی کرتے ہیں۔
 
آیت ۵: ” جو غالِب آئے اُسے اِسی طرح سفید پَوشاک پہنائی جائے گی اور مَیں اُس کا نام کِتابِ حیات سے ہرگِز نہ کاٹُوں گا بلکہ اپنے باپ اور اُس کے فرِشتوں
کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کرُوں گا۔ “
وہ جو خُدا کے کلام پر ایمان رکھ کر دُنیا پر غالب آئیں گے وہ ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گے ، خُدا کی راستبازی سےاُس کےمقدسین کی حیثیت سے ملبوس ہوں گے اور خُداوند کے کاموں کی خدمت کریں گے۔ خُداوند اُن کے ایمان کو بھی منظور کرے گا اور اُن کے نام کتاب ِحیات میں لکھ دے گا ، اور یہ نام
کبھی بھی نہیں کاٹے جائیں گے۔
ہمارے خُداوندکا وعدہ کاکلام ہمیں بتاتا ہے کہ وہ لوگ جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں وہ خُدا کے دشمنوں کے خلاف اُن کی جدوجہد میں ایمان کےساتھ فتح پائیں گے۔ " جو غالِب آئے اُسے اِسی طرح سفید پَوشاک پہنائی جائے گی ۔" یہاں سفیدپوشاک کا مطلب خُدا کے دشمنوں کے خلاف ایمان کی جنگ میں فتح ہے۔ ایمان کے فاتحین کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے جس کے ذریعہ اُن کے نام کتاب ِحیات سے کبھی بھی نہیں کاٹےجاتے ہیں۔ اور اُن کے نام نئے یروشلیم میں بھی لکھے جائیں گے۔ "مَیں اپنے باپ اور اُس کے فرِشتوں کے سامنے اُس کے نام کا اِقرار کرُوں گا۔" یہاں "اِقرار" سے ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُداوند اُن کے ایمان کو منظور کرے گا۔
 
آیت ۶: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ “
وہ لوگ جو حقیقی ایمان رکھتے ہیں ہمیشہ سُنتے ہیں کہ رُوح القدس اپنی کلیسیاؤں کے ذریعہ اُن سے کیافرماتا ہے۔ یوں ، وہ خُدا کے ساتھ رہتے ہیں ، اور مستقل طور پر رُوح القدس سے رہنمائی پاتے ہیں۔