خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب3-3] <مُکاشفہ۳: ۷- ۱۳> فِلدِلفیہ کے کلِیسیا کے نام خط

<مُکاشفہ۳: ۷- ۱۳>
اور فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو قدُّوس اور بَرحق ہے اور داؤُد کی کُنجی رکھتا ہے جِس کے کھولے ہُوئے کو کوئی بند نہیں کرتا اور بند کِئے ہُوئے کو کوئی کھولتا نہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں (دیکھ مَیں نے تیرے سامنے ایک دروازہ کھول رکھّا ہے ۔ کوئی اُسے بند نہیں کر سکتا) کہ تُجھ میں تھوڑا سا زور ہے اور تُو نے میرے کلام پر عمل کِیا ہے اور میرے نام کا اِنکار نہیں کِیا۔ دیکھ مَیں شَیطان کے اُن جماعت والوں کو تیرے قابُو میں کر دُوں گاجو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ جُھوٹ بولتے ہیں ۔ دیکھ مَیں اَیسا کرُوں گاکہ وہ آ کر تیرے پاؤں میں سِجدہ کریں گے اور جانیں گے کہ مُجھے تُجھ سے مُحبّت ہے۔ چُونکہ تُو نے میرے صبر کے کلام پر عمل کِیا ہے اِس لِئے مَیں بھی آزمایش کے اُس وقت تیری حِفاظت کرُوں گاجو زمِین کے رہنے والوں کے آزمانے کے لِئے تمام دُنیا پر آنے والا ہے۔ مَیں جلد آنے والا ہُوں ۔ جو کُچھ تیرے پاس ہے اُسے تھامے رہ تاکہ کوئی تیرا تاج نہ چِھین لے۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے خُدا کے مَقدِس میں ایک سُتُون بناؤں گا۔ وہ پِھر کبھی باہر نہ نِکلےگا اور مَیں اپنے خُدا کا نام اور اپنے خُدا کے شہر یعنی اُس نئے یروشلِیم کا نام جو میرے خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترنے والا ہے اور اپنا نیا نام اُس پر لِکُھوں گا۔ جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔
 
 
تشریح
 
آیت ۷: ” اور فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کے فرِشتہ کو یہ لِکھ کہ جو قدُّوس اور بَرحق ہے اور داؤُد کی کُنجی رکھتا ہے جِس کے کھولے ہُوئے کو کوئی بند نہیں کرتا اور بند کِئے ہُوئے کو کوئی کھولتا نہیں وہ یہ فرماتا ہے کہ۔ “
خُداوند سب کےبادشاہ کی حیثیت سے آسمان کی بادشاہی پر سلطنت کرتا ہے۔ وہ مکمل اختیار اورقدرت والا خُدا ہے— جو کچھ وہ کھولتا ہے اُسے کوئی بند نہیں کرسکتا ، اور جوکچھ وہ بند کرتا ہے اُسے کوئی کھول نہیں سکتا۔ خُداوند کامل خُدا ہے جو اِس زمین پر آیا اور گنہگاروں کو پانی اور رُوح کی خوشخبری سے اُن کے سارے گناہوں سے نجات دلائی۔آسمان کا دروازہ صرف خُداوند کی طرف سے پانی اوررُوح کی خوشخبری کی عطا کردہ چابی کے ساتھ ہی کھولا جاسکتا ہے۔ اِس کے علاوہ اور کچھ نہیں اِسےکھول سکتا ، کیوں کہ اِس بادشاہی سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کا انحصار ہمارے خُداوند خُدا پر ہے۔
 
آیت ۸: ” مَیں تیرے کاموں کو جانتا ہُوں (دیکھ مَیں نے تیرے سامنے ایک دروازہ کھول رکھّا ہے ۔ کوئی اُسے بند نہیں کر سکتا) کہ تُجھ میں تھوڑا سا زور ہے اور تُو نے میرے کلام پر عمل کِیا ہے اور میرے نام کا اِنکار نہیں کِیا۔ “
خُداوند نے خُداکی کلیسیا کے ذریعہ انجیلی بشارت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اِس طرح، کوئی بھی خُداوند کی اجازت کے بغیر دروازہ بند نہیں کرسکتا ہے۔ اِس لئےمقدسین کو اپنے اوّلین ایمان کو آخری وقت تک قائم رکھنا چاہئے ، جب تک خُداوند واپس آجائے۔ یہ اُس قِسم کاایمان ہےجوخُدا کےخادمین اور اُس کے مقدسین کوضرور رکھناچاہئے۔ اُن کا ایمان اِس قِسم کا نہیں ہونا چاہئے جس کی شروعات عظیم ہو لیکن جس کا حتمی انجام مُردہ ہو گیا ہو۔ اُنہیں اپنے پہلے ، غیر متزلزل ایمان پر قائم رہنا چاہئے جو خُداوندنے اُنہیں دیا تھا۔
مقدسین کا ایمان پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان ہے ، وہ ایمان جو اِس حقیقت پر یقین رکھتا ہے کہ ہمارے خُداوند کی بادشاہی اِس زمین اور نئے آسمان اور زمین دونوں پر آئے گی ، اور یہ کہ ہم سب اِس بادشاہی میں ہمیشہ کے لئے زندہ رہیں گے۔مقدسین کو اُس دن تک اِس ایمان پر قائم رہنا چاہئے جب تک کہ وہ آنے والے خُداوند سے ملاقات نہیں کریں گے۔
فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کےخادم اور مقدسین تھوڑا سا زوررکھتےتھے۔ اُن میں بہت سی کوتاہیاں بھی تھیں۔ تاہم ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ،اُنہوں نے خُدا کے کلام کو قائم رکھا تھااور خُداوند کے نام کاانکار نہیں کِیا۔
 
آیت ۹: ” دیکھ مَیں شَیطان کے اُن جماعت والوں کو تیرے قابُو میں کر دُوں
گاجو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ جُھوٹ بولتے ہیں ۔ دیکھ مَیں اَیسا کرُوں گاکہ وہ آ کر تیرے پاؤں میں سِجدہ کریں گے اور جانیں گے کہ مُجھے تُجھ سے مُحبّت ہے۔ “
خُدا فرماتاہے کہ وہ کچھ جھوٹے ایمانداروں کو اُن کے گھٹنوں کے نیچے لائے گا تاکہ وہ جان لیں کہ خُدا واقعی فِلدِلفیہ کی کلِیسیاسےکتنی محبت کرتا ہے جو، اُس کی ایک کلیسیاہے۔
" شَیطان کی جماعت ، جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں " سے مُرادوہ یہودی ہیں جو اپنے ایمان سےاپنےآپ کو خُدا کی تمجیدکرنا سمجھتے تھے۔ لیکن اُن میں بہت سے ، حقیقت میں ،ایسا نہیں کرتے تھے۔ اِس کے برعکس ، وہ شیطان کے خادمین بن چکے تھے اور خُداکی کلیسیا اور اُس کے مقدسین میں رکاوٹ کاباعث بن رہے تھے۔
ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پہلے کی طرح آج بھی ، بہت سے لوگ جو یسوع کا نام لے کر اُس کی پرستش کرتے ہیں وہ بھی شیطان کے خادمین میں بدل چکے ہیں ، شیطان نے اُنہیں اپنا آلہ کار بنا لیا ہے۔ خُدا نے فِلدِلفیہ کی کلِیسیا کےخادم سے خصوصی محبت کا اظہار کِیا جس سے وہ محبت کرتا تھا اور اپنے عزت کے برتن کے طور پر استعمال کرتا تھا۔
 
آیت ۱۰: ” چُونکہ تُو نے میرے صبر کے کلام پر عمل کِیا ہے اِس لِئے مَیں بھی آزمایش کے اُس وقت تیری حِفاظت کرُوں گاجو زمِین کے رہنے والوں کے آزمانے کے لِئے تمام دُنیا پر آنے والا ہے۔ “
خاص طور پر ، خُداوندنے فِلدِلفیہ کی کلِیسیاکے خادم کی اُس کے حکم پر صبرسےقائم رہنےپرتعریف کی۔ اِس قسم کے خاص صبر کے بغیر ، در حقیقت ، ہم خُدا کے کلام کےتمام وعدوں کی تکمیل کا انتظار نہیں کرسکتے ہیں۔ اُس کے حکم پرصبرسے قائم رہنے کے لئے، ہمیں لازماًاِس لئےخُدا کے کلام پر مکمل ایمان رکھنا چاہئے۔ اِس کےصبر کے لئے ،خُداوند نے فِلدِلفیہ کی کلِیسیاکے کو ایک خاص انعام دیا۔ یہ خاص انعام آزمائش کے وقت میں فِلدِلفیہ کی کلِیسیاکی حفاظت کی صورت میں ملا تھا۔ یہاں آزمائش کےوقت سے مراد مخالفِ مسیح کی رُکاوٹیں ہیں۔
 
آیت ۱۱: ” مَیں جلد آنے والا ہُوں ۔ جو کُچھ تیرے پاس ہے اُسے تھامے رہ تاکہ کوئی تیرا تاج نہ چِھین لے۔ “
چونکہ خُداوند کی واپسی قریب آچکی ہے ، مقدسین کو پانی اور رُوح کی خوشخبری کا دفاع کرنا چاہئے اور اِس پر اپنے ایمان کو برقرار رکھنا چاہئے۔ اُن کو خُداوند کی طرف سے وعدہ کئے گئےنئے آسمان اور زمین کی اپنی اُمید پرضرورایمان رکھنا چاہئے اور انتظار کرنا چاہئے۔ خُدا کے خادمین کو مقدسین کےساتھ رہناچاہئے اور اُنہیں اپنا ایمان کھودینے سے باز رکھنا چاہئے ، تاکہ خُدا کاطرف سے اُن کےانعام کو چھین نہ لیاجائے۔
 
آیت ۱۲: ” جو غالِب آئے مَیں اُسے اپنے خُدا کے مَقدِس میں ایک سُتُون بناؤں گا۔ وہ پِھر کبھی باہر نہ نِکلے گا اور مَیں اپنے خُدا کا نام اور اپنے خُدا کے شہر یعنی اُس نئے یروشلِیم کا نام جو میرے خُدا کے پاس سے آسمان سے اُترنے والا ہے اور اپنا نیا نام اُس پر لِکُھوں گا۔ “
شیطان پر غالب آنے والے شہیدوں کی قطارمیں شامل ہوں گے۔ اُن کے نام خُدا کی بادشاہی کی مقدس ہیکل میں بھی لکھے جائیں گے۔ یہاں تک کہ اب بھی ، وہ خُدا کی کلیسیاکے عظیم کارکنوں کی حیثیت سے استعمال ہورہے ہیں ، اور وہ خُداوند کے ذریعہ اِس طرح آلات کے طور پر استعمال ہوتے رہیں گے۔
 
آیت ۱۳: ” جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے۔ “
وہ جو خُدا کے کلام کو سُننے کےلئے کان رکھتے ہیں وہ خُدا کےخادمین اور اُس کے مقدسین ہیں۔ وہ سُنتے ہیں کہ خُدا کی کلیسیا کے ذریعہ رُوح اُن سے کیا فرماتا ہے۔ اِس طرح ، خُدا کے خادمین اور اُس کے مقدسین کو کلیسیاکے اندر رہنا چاہئے جس کی خُدا نے اُنھیں اجازت دی ہے ، اور اُنہیں اِس کلیسیاکی حفاظت اور دفاع کرنا چاہئے۔