خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب6-1] <مُکا شفہ۶: ۱۔۱۷> خُدا کےوسیلے مقرر کرد ہ سا ت اَدوار 

<مُکا شفہ۶: ۱۔۱۷>

پِھر مَیں نے دیکھا کہ برّہ نے اُن سات مُہروں میں سے ایک کو کھولا اور اُن چاروں جان داروں میں سے ایک کی گرج کی سی یہ آواز سُنی کہ آ۔ اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اُس کا سوار کمان لِئے ہُوئے ہے ۔ اُسے ایک تاج دِیا گیا اور وہ فتح کرتا ہُؤا نِکلا تاکہ اَور بھی فتح کرے۔ اور جب اُس نے دُوسری مُہر کھولی تو مَیں نے دُوسرے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔ پِھر ایک اَور گھوڑا نکلا جِس کا رنگ لال تھا ۔ اُس کے سوار کو یہ اِختیار دِیا گیا کہ زمِین پر سے صُلح اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔ اور جب اُس نے تِیسری مُہر کھولی تو مَیں نے تِیسرے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آاور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک کالا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازُو ہے۔ اور مَیں نے گویا اُن چاروں جان داروں کے بِیچ میں سے یہ آواز آتی سُنی کہ گیہُوں دِینار کے سیر بھر اور جَو دِینار کے تِین سیر اور تیل اور مَے کا نُقصان نہ کر۔ اور جب اُس نے چَوتھی مُہر کھولی تو مَیں نے چَوتھے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔ اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک زَرد سا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کا نام مَوت ہے اور عالَمِ اَرواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے اور اِن کو چَوتھائی زمِین پر یہ اِختیار دِیا گیا کہ تلوار اور کال اور وَبا اور زمِین کے درِندوں سے لوگوں کو ہلاک کریں۔ اور جب اُس نے پانچوِیں مُہر کھولی تو مَیں نے قُربان گاہ کے نِیچے اُن کی رُوحیں دیکھیں جو خُدا کے کلام کے سبب سے اور گواہی پر قائِم رہنے کے باعِث مارے گئے تھے۔ اور وہ بڑی آواز سے چِلاّ کر بولِیں کہ اَے مالِک! اَے قدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟۔ اور اُن میں سے ہر ایک کو سفید جامہ دِیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ اَور تھوڑی مُدّت آرام کرو جب تک کہ تُمہارے ہم خِدمت اور بھائِیوں کا بھی شُمار پُورا نہ ہو لے جو تُمہاری طرح قتل ہونے والے ہیں۔ اور جب اُس نے چھٹی مُہر کھولی تو مَیں نے دیکھا کہ ایک بڑا بَھونچال آیا اور سُورج کَمّل کی مانِند کالا اور سارا چاند خُون سا ہو گیا۔ اور آسمان کے سِتارے اِس طرح زمِین پر گِر پڑے جِس طرح زور کی آندھی سے ہِل کر انجِیرکے درخت میں سے کچّے پَھل گِر پڑتے ہیں۔ اور آسمان اِس طرح سَرک گیا جِس طرح مکتُوب لپیٹنے سے سَرک جاتا ہے اور ہر ایک پہاڑ اور ٹاپُو اپنی جگہ سے ٹل گیا۔ اور زمِین کے بادشاہ اور امِیراور فَوجی سردار اور مال دار اور زور آور اور تمام غُلام اور آزاد پہاڑوں کے غاروں اور چٹانوں میں جا چُھپے۔ اور پہاڑوں اور چٹانوں سے کہنے لگے کہ ہم پر گِر پڑو اور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا ہے اور برّہ کے غضب سے چُھپا لو۔ کیونکہ اُن کے غضب کا روزِ عظِیم آ پُہنچا ۔ اب کَون ٹھہر سکتا ہے؟۔

 

 

تشریح

 

آیت ۱: ” پِھر مَیں نے دیکھا کہ برّہ نے اُن سات مُہروں میں سے ایک کو کھولا اور اُن چاروں جان داروں میں سے ایک کی گرج کی سی یہ آواز سُنی کہ آ۔ “

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یسوع باپ سے حاصل کردہ اِس کتاب کا پہلا منصوبہ کھولتا ہے ، جس میں بنی نوع انسان کے لئے خُدا کا سارامنصوبہ درج کِیا گیا ہے۔

 

آیت ۲: ” اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک سفید گھوڑا ہے اور اُس کا سوار کمان لِئے ہُوئے ہے ۔ اُسے ایک تاج دِیا گیا اور وہ فتح کرتا ہُؤا نِکلا تاکہ اَور بھی فتح کرے۔ “

خُدا کی پہلی مہر یسوع مسیح میں پانی اور رُوح کی خوشخبری کے قیام کے بارے میں فرماتی ہے جیسا کہ خُدا کا منصوبہ انسانوں کو گناہ سے نجات دیناہے،اورفتح کا منصوبہ ہے۔ خُدا باپ کےبنی نوع انسان کواُن کے گناہوں سے نجات دیتے ہوئےاپنے لوگ بنانےکے منصوبے کی ابتدا یسوع مسیح میں پانی اور رُوح کی خوشخبری کےساتھ ہوئی تھی—یعنی ، یسوع کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کےوسیلے بنی نوع انسان کی گناہ سے رہائی کےساتھ۔

خُدا نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلے رُوحوں کو دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات دی ہے ، اور وہ اب بھی اِسی طرح کام کرناجاری رکھتا ہے جیسا کہ اب ہم بات کر رہے ہیں۔ یہ پہلا منصوبہ ہے جو خُدا نے بنی نوع انسان کے لئے مرتب کِیا ہے۔ خُدا کا یہ پہلا منصوبہ بنی نوع انسان کی نجات کے لئے یسوع مسیح کی اِس زمین پر آمد ، اُس کےبپتسمہ ، مصلوبیت اور جی اُٹھنےکے ذریعے ہے۔

سفید گھوڑے کا یہ دور خوشخبری کی راستباز جنگ میں خُدا کی فتح سے مراد ہے جو اُس نے بنی نوع انسان کو اُن کے تمام گناہوں سے نجات دینے کے لئے پورا کِیا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی فتح جاری رہے گی۔

 

آیات ۳۔۴: ” اور جب اُس نے دُوسری مُہر کھولی تو مَیں نے دُوسرے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔ پِھر ایک اَور گھوڑا نکلا جِس کا رنگ لال تھا ۔ اُس کے سوار کو یہ اِختیار دِیا گیا کہ زمِین پر سے صُلح اُٹھا لے تاکہ لوگ ایک دُوسرے کو قتل کریں اور اُسے ایک بڑی تلوار دی گئی۔ “

یہ ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا کے مقرر کردہ دوسرے دور کے دوران ، دُنیا شیطان کی دُنیا میں تبدیل ہوجائے گی۔ یہاں لال گھوڑے کے ظہور کا مطلب یہ ہے کہ دُنیا شیطان کے زیرِ تسلط آجائے گی۔

شیطان اِس دُنیا کاامن چھین کر اِس میں جنگ لایا ہے۔ اُسی کی وجہ سے ، دُنیا دو عالمی جنگوں سے گزری ، اِس کے نتیجے میں بےشمار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ، اور جو لوگ زندہ بچ گئے اُنہوں نےغیر مستحکم، اورامن سے خالی زندگی گزار ی۔حتیٰ کہ اب بھی ، پوری دُنیا میں قومیں اور ریاستیں ایک دوسرے پر عدم اعتماد کرتی ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ لڑتی ہیں ، وہ بہت ساری جگہوں پر امن کوچَکناچُورکردیتی ہیں۔ یہ دور جنگ اور نسل کشی کا دور ہے۔

 

آیات ۵۔۶: ” اور جب اُس نے تِیسری مُہر کھولی تو مَیں نے تِیسرے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آاور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک کالا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کے ہاتھ میں ایک ترازُو ہے۔اور مَیں نے گویا اُن چاروں جان داروں کے بِیچ میں سے یہ آواز آتی سُنی کہ گیہُوں دِینار کے سیر بھر اور جَو دِینار کے تِین سیر اور تیل اور مَے کا نُقصان نہ کر۔ “

تیسرا دور جس کےبارے میں خُدا فرماتا ہے وہ کالےگھوڑے کا دور ہے ، بنی نوع انسان کے لئے

جسمانی اور رُوحانی قحط کا دور۔ آج پوری دُنیا میں ، بہت سے لوگ اپنے رُوحانی قحط کی وجہ سے نہیں بچائے جاچکے ہیں ، اور بہت سارے جسمانی فاقہ کشی سے بھی مر رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اب ہم اِس تیسرے دور میں جی رہے ہیں۔ اِس دور کے گزرنے کے ساتھ ہی ، زَرد گھوڑے کا دور آ جائے گا۔

 

آیات ۷۔۸: ” اور جب اُس نے چَوتھی مُہر کھولی تو مَیں نے چَوتھے جان دار کو یہ کہتے سُنا کہ آ۔اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک زَرد سا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کا نام مَوت ہے اور عالَمِ اَرواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے اور اِن کو چَوتھائی زمِین پر یہ اِختیار دِیا گیا کہ تلوار اور کال اور وَبا اور زمِین کے درِندوں سے لوگوں کو ہلاک کریں۔ “

خُدا کا مقرر کردہ چوتھا دورزَرد گھوڑے کا دور ہے۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اِسی دور میں مخالفِ مسیح اپنی سرگرمیاں شروع کردے گا ، اور یہ دور مقدسین کے لئے شہادت کا دور بھی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب مخالفِ مسیح مقدسین کےسچے ایمان کو چرائے گا ، اُنہیں ستائے گااور مار ڈالے گا جو اُس کی پرستش نہیں کریں گےیا اُس کے نشان کو نہیں لیں گے۔ تب سے ، دُنیا سات نرسنگوں کی آفتوں کی لپیٹ میں آجائے گی۔ اُس وقت ،مقدسین کی شہادت ناگزیر ہے۔

 

آیات ۹۔۱۱: ” اور جب اُس نے پانچوِیں مُہر کھولی تو مَیں نے قُربان گاہ کے نِیچے اُن کی رُوحیں دیکھیں جو خُدا کے کلام کے سبب سے اور گواہی پر قائِم رہنے کے باعِث مارے گئے تھے۔اور وہ بڑی آواز سے چِلاّ کر بولِیں کہ اَے مالِک! اَے قدُّوس و برحق! تُو کب تک اِنصاف نہ کرے گا اور زمِین کے رہنے والوں سے ہمارے خُون کا بدلہ نہ لے گا؟اور اُن میں سے ہر ایک کو سفید جامہ دِیا گیا اور اُن سے کہا گیا کہ اَور تھوڑی مُدّت آرام کرو جب تک کہ تُمہارے ہم خِدمت اور بھائِیوں کا بھی شُمار پُورا نہ ہو لے جو تُمہاری طرح قتل ہونے والے ہیں۔ “

خُدا کا پانچواں دور مقدسین کے جی اُٹھنے اور اُٹھائےجانے کا دور ہے۔ اِس دور کے بعد ہزارسالہ بادشاہی کا آغاز ہوگا۔یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم سب کو شہادت ، جی اُٹھنےاور اُٹھائے جانے پر ایمان رکھنا چاہئے جوجلد ہم پر آنے والے ہیں ، اور یہ کہ ہمیں نئے آسمان اور زمین پر اپنے ایمان اور اُمید کے ساتھ

زندہ رہنا چاہئے جس کا خُدا نےہم سے وعدہ کِیا ہے۔

 

آیت ۱۲: ” اور جب اُس نے چھٹی مُہر کھولی تو مَیں نے دیکھا کہ ایک بڑا بَھونچال آیا اور سُورج کَمّل کی مانِند کالا اور سارا چاند خُون سا ہو گیا۔ “

خُدا کا چھٹا دور خُدا کی تخلیق کردہ پہلی دُنیا کی تباہی کا دور ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب دُنیا پر سات

پیالوں کی آفتیں نازل ہوں گی ، جب سورج ، چاند اور ستارے اپنی روشنی کھو دیں گے ، اور زمین زلزلوں سےتباہ ہوکر پانی کے نیچے ڈوب جائے گی۔

 

آیت ۱۳: ” اور آسمان کے سِتارے اِس طرح زمِین پر گِر پڑے جِس طرح زور کی آندھی سے ہِل کر انجِیرکے درخت میں سے کچّے پَھل گِر پڑتے ہیں۔ “

اِس چھٹے دور کے دوران ، خُدا کی تخلیق کردہ کائنات کی تباہی سات پیالوں کی آفتوں سے ہوگی۔ ستارے آسمان سے گرتےہی ایک عظیم افراتفری دُنیا کو نگل لے گی اور زمین اُلٹ جائے گی۔

 

آیت ۱۴: ” اور آسمان اِس طرح سَرک گیا جِس طرح مکتُوب لپیٹنے سے سَرک جاتا ہے اور ہر ایک پہاڑ اور ٹاپُو اپنی جگہ سے ٹل گیا۔ “

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ جب سات پیالوں کی آفتیں نازل ہوں گی ، آسمان سَرک جائے گا جیسےمکتوب لپیٹنے سے سَرک جاتا ہے ، اور تمام پہاڑ اور ٹاپو اپنی جگہوں سے ٹل جائیں گے— آفتیں جوزمین کے چَکنا چُورہونے کی نشاندہی کرتی ہیں دُنیا کےطبعی ڈھانچےکو بدل دیں گی۔

 

آیت ۱۵: ” اور زمِین کے بادشاہ اور امِیراور فَوجی سردار اور مال دار اور زور آور اور تمام غُلام اور آزاد پہاڑوں کے غاروں اور چٹانوں میں جا چُھپے۔ “

چھٹی مُہر کے اِس دور کے دوران ، جب خُدا نے سات پیالوں کی آفتوں کو اُنڈیلا تو ، اِس زمین پر کوئی زندہ نہیں رہے گا ، نہ بادشاہ اور نہ ہی طاقتور ، جو برّےکے غضب کے خوف سے نہیں کانپےتھے۔

 

آیت ۱۶: ” اور پہاڑوں اور چٹانوں سے کہنے لگے کہ ہم پر گِر پڑو اور ہمیں اُس کی نظر سے جو تخت پر بَیٹھا ہُؤا ہے اور برّہ کے غضب سے چُھپا لو۔ “

خُدا کا قہر اتنا عظیم ہوگا کہ تمام انسان خوف کے مارے کانپ اُٹھیں گے۔ یہ پہلا اور آخری وقت ہوگا جب ہر انسان اِس قدر خوف سے متاثر ہو گا۔

 

آیت ۱۷: ” کیونکہ اُن کے غضب کا روزِ عظِیم آ پُہنچا ۔ اب کَون ٹھہر سکتا ہے؟ “

جب سات پیالوں کی آفتوں کو اُنڈیلاجائے گا تو ، ہر ایک ،قطع نظراِس کے کہ وہ کتنا ہی بااثریا طاقتور کیوں نہ ہو، خُدا کی طرف سے نازل ہونے والی عظیم تباہیوں کے خوف سے کانپ اُٹھےگا۔ کوئی بھی نہیں جو بلا خوف خُدا کے قہر کے سامنے کھڑا ہوسکتا ہے۔

پھر،ساتواں دور کیا ہے؟ خُدا کا مقرر کردہ ساتواں دور وہ دور ہے جس میں مقدسین ہزارسالہ بادشاہی میں رہیں گے ، اِس کے بعد نیا آسمان اور زمین آئے گا جس میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔