خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب7-2] <مُکاشفہ ۷: ۱- ۱۷> آئیے ہم وہ ایمان رکھیں جو لَڑ سکے

<مُکاشفہ ۷: ۱- ۱۷>
 
 
آج کے مسیحیوں کو بائبل کی سچائی کو بخوبی جاننا چاہئے۔ خاص طور پر ، مُکاشفہ کے کلام کےذریعے، ہمیں مقدسین کےاُٹھائےجانے کے بارے میں درست سَمجھ بُوجھ رکھنی چاہئے اور مناسب ایمان کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے ۔
سب سے پہلے ، ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ مقدسین کا اُٹھایاجانا عظیم ایذارسانیوں کے وسط نقطہ پر واقع ہوگی ، سات سالہ دورکے پہلے ساڑھے تین سالوں کے تھوڑا سا گزرنے کے بعد۔ کلیسیاؤں اور مقدسین کو اِس لئےلازماًآخری زمانے میں ایک لَڑنےوالا ایمان رکھنا چاہئے ، تاکہ بنی نوع انسان کو گناہ سے نجات دینے اور ابدی زندگی دینے کے لئے خُدا کی مرضی کو پورا کِیا جا ئےجس طرح اُس نے یسوع مسیح میں منصوبہ بنایا ہے۔
خُدا نے اپنی اِس مرضی کو پورا کرنے کےلئے مخالفِ مسیح کی سرگرمیوں کی اجازت دی ہے۔ مخالفِ مسیح جس عرصے کے دوران وہ سرگرم رہے گا وہ عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے پہلے ساڑھے تین سال ہیں۔ خُدا نے مخالفِ مسیح کو اِس مدت کے دوران بھر پور طریقے سے اپنے انجام کی پیروی کرنے کی اجازت دی۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے لئے تیار کردہ اپنے عظیم منصوبوں کو پورا کرنے کے لئے ، خُدا شیطان کو اتھاہ گڑھے میں باندھ دےگا، اور ایسا کرنے کے لئے خُداوند خود اِس زمین پرشخصی طور پر واپس آئے گا۔ یہ ہے کیوں ہمارے خُدا نے مخالفِ مسیح کو عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے پہلے ساڑھے تین سالوں کے دوران طاقتور طریقے سے اپنی سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی۔
خُدا نے سب کو گناہ سے نجات کا اپنا کلام اور ابدی زندگی دی ہے ، اور اِس کلام کو پورا کرنے کے لئے اُس نے عظیم ایذارسانیوں کا منصوبہ بنایا۔ مرکزی حوالہ میں ،یہ لکھا ہے ، " مَیں نے زمِین کے چاروں کونوں پر چار فرِشتے کھڑے دیکھے ۔ وہ زمِین کی چاروں ہواؤں کو تھامے ہُوئے تھے تاکہ زمِین یا سمُندر یا کِسی درخت پر ہوا نہ چلے۔" خُدا نےبنی اسرائیل کے ۰۰۰,۱۴۴ افراد کو بھی اُن کی تباہی سے نجات دینے کا منصوبہ بنایا ہے ، کیوں کہ اُس نے ابرہام سے وعدہ کِیا تھا کہ وہ اُس کااور اُس کی اولاد کا خُدا ہوگا۔ اِس وعدے کو پورا کرنے کے لئے ، خُدابنی اسرائیل پر اپنی نجات کا فضل اُنڈیلےگا اور آخری اوقات میں ابرہام کی اولاد میں سے ۰۰۰,۱۴۴ کو نجات دے گا۔
مقدسین کو اپنی ہزار سالہ بادشاہی اور ابدی نیا آسمان اور زمین دینے کے لئے، خُدا یقینی طور پر عظیم ایذارسانیوں کو اِس زمین پر آنے کی اجازت دے گا۔ عظیم ایذارسانیوں کے دوران مخالفِ مسیح کے دور کی اجازت دینے کے بعد ، خُدا تب شیطان کو اپنی گرِفت میں لے گا اور اِسے اتھاہ گڑھے میں بند کردے گا۔ خُدا مخالفِ مسیح اور عظیم ایذارسانیوں کےظہور کی کیوں اجازت دیتا ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو بچانے کے اپنے وعدے کو پورا کرے اور غیرقوموں کو ہمیشہ کی زندگی دینے کے اپنے فضل سے نوازے ، جو عظیم ایذارسانیوں کی بدولت سفید پوشاک سے ملبوس کی جائیں گے۔
اِسی طرح ، عظیم ایذارسانیاں اور مخالفِ مسیح کی حکومت وہ مراحل ہیں جن سےہمیں بےخطا گزرناہوگا۔ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ سب چیزیں جن کی خُدا نے اجازت دی ہے یہ ہم سب کو بچانے اور مسیح کی بادشاہی میں ہمیں اُس کے ابدی زندگی کے فضل سے ملبوس کرنے کے لئے اُس کے منصوبے کا ایک حصہ ہیں۔ لہذا ہمیں واضح طور پر یہ معلوم کرنا چاہئے کہ ہم کس دور میں رہ رہے ہیں ، اور خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ ہمیں کس قسم کے عقیدے پر زندہ رہنا ہوگا۔ ہمارا ایمان ، مختصراً، واضح اور یقینی ہونا چاہئے۔
ہم خُدا کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور ہم یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ جسمانی اور رُوحانی ،دونوں طور پر یہ کلام پورا ہوگا۔ آج کا دور ایک ایسا دور ہے جو آخری اوقات کی طرف دوڑ رہا ہے۔ جب مخالفِ مسیح اور اِس کے بہت سے پیروکار آخری اوقات میں اُبھریں گے تو ہمیں اپنےایمان کا دفاع کرنے کے لئے اِن کے خلاف لڑنا چاہئے ، یہاں تک کہ شہادت کی صورت میں اپنی جانوں کا نذرانہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ یہ دور تیزی سے ہمارے قریب آرہا ہے۔ اگر ہم کلام پر ایمان رکھتے ہیں تو ہمیں مخالفِ مسیح، عظیم دشمن ،اور اِس کے پیروکاروں کے خلاف لڑنا چاہئے۔ یہی وہ ایمان ہے جو لڑتا ہے۔
جنگ کا مطلب لڑنا ہے۔ لیکن لڑنے سے میرا مطلب جسمانی تشدد ، مارپِیٹ اور توڑپھوڑنہیں ہے۔ بلکہ یہاں جنگ کا مطلب مخالفِ مسیح کےآگے ہتھیار نہ ڈالتے ہوئےایمان کا دفاع کرناہے ،جوایمانداروں پر ظلم و ستم ڈھائےگا، شیطان کا خادم جو نجات کی خوشخبری کے خلاف کھڑا ہوگا جو خُداوند نے ہمیں دی ہے ۔ آخری اوقات میں شہید ہونے والے وہی لوگ ہیں جن کے پاس یسوع کی گواہی ہے اور جنہوں نے کلام الٰہی کو برقرار رکھا ہے۔ وہ گواہی دیتے ہیں کہ وہ یسوع ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ذریعے آیا تھا۔
جنگ کرنا پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان کا دفاع کرنا ہے۔ اِس خوشخبری کے دفاع کے لئے ، جو لوگ خُدا کی طرف سے دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر نئےسرےسے پیدا ہوچکے ہیں، اُن کو خُدا کی نئےسرےسے پیدا ہونے والی کلیسیاؤں میں،نئےسرےسے پیدا ہونے والے دوسرے مقدسین کے ساتھ متحد ہوناچاہئے۔اور ہمیں پُر عزم ہونا چاہئے کہ ہم دوسروں تک اپنا ایمان پھیلانے اور اُن کی جانوں کو بچانے کے لئےکبھی نہ جھکنےوالےارادے کے ساتھ بہادری کےساتھ جنگ میں حصہ لیں۔مکمل طور پر لڑائی کے لئے تیار رہنے کا مطلب ہے اپنے ایمان کا دفاع کرنا اور دوسری جانوں کو بھی بچانا؛ کلیسیا کا یہ ایمان فتح کی راہ ہے جو خُدا کو راضی کرتا ہے۔ خُدا کے خادمین اور اُس کے مقدسین کو ہمیشہ اپنے لڑنے والے ایمان کو قائم رکھنا چاہئے۔
آج کا دور کیسا ہے ، جس میں ہمیں جنگ کے لئے تیار ذہنوں اور ایمان کے ساتھ رہنا چاہئے؟ موجودہ دور واضح طور پر بہت سی تبدیلیوں سے گزر رہا ہے۔ اُٹھائےجانے اور مسیح کی آمدِثانی پر بہت سے "نظریات" نمودار ہوئے اور غائب ہوچکے ہیں ، اور اِن کے ساتھ ہی لوگوں کا ایمان بھی انہی کے مطابق تبدیل ہوتا رہا ہے۔
اِس سے پہلے کہ ۱۸۰۰ء کے اوائل میں اُٹھائےجانے کے ایک نئے نظریہ کی وکالت کی گئی ، ہر کسی نےایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانے کے نظریے پر ایمان رکھا اور اِس کی منادی کی ، جس میں یہ دلیل پیش کی گئی کہ مسیح مقدسین کے ساری عظیم ایذارسانیوں میں سے گزرنے کے بعد واپس آئے گا ، اور یہ کہ اُن کاجی اُٹھنااوراُٹھایاجانا مسیح کی واپسی کے اُس وقت پرہی ہوگا۔ لیکن ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کا نظریہ ، جس نے ۱۸۰۰ء کے اوائل میں آہستہ آہستہ اپنا سِکہ جمایا، ایذارسانیوں کےبعد اُٹھائےجانے کے نظریہ کو مکمل طور پر ختم کردیا۔
ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کا نظریہ یہ بحث کرتا ہے کہ یسوع کے ماننے والے عظیم ایذارسانیوں کاسات سالہ دور شروع ہونے سے پہلے ہی آسمان پر اُٹھائے لیےجائیں گے۔ اگرچہ ابتدائی طور پر بہت سے لوگوں نے اِس نظریہ کو مسترد کردیا تھا ، لیکن اب عملی طور پر ہر شخص ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کے نظریہ پر،محض چندایک اعتراضات کےساتھ ایمان رکھ چکاہے ۔لیکن ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کا نظریہ نہ صرف خُدا کے کلام پرپورااُترتا ہے ، بلکہ یہ خُدا کے کلام اور اُس کے منصوبے کو بھی بے معنی قرار دیتا ہے۔ پھر بھی اِن لوگوں کے خیالات اور ذہنوں میں جو بائبل سے ناواقف ہیں ، ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کا یہ نظریہ پہلے ہی مضبوطی سے نصب ہوچکا ہے۔
پرانے زمانے کے رسولوں نے خُدا کےادوار کو دو ادوار میں تقسیم کِیا۔ یسوع مسیح پرایمان لاتے ہوئے یہ نجات کا پہلا دور تھا ، اور عظیم ایذارسانیوں کا دوسرا دور تھا جو پہلےدور کے گزرنے کے بعدآتا ہے۔ آج کے علمائے کرام کہتےہیں کہ جب وہ یسوع پر ایمان لے کر نجات کے پہلے دور کو سمجھتے ہیں تو ، عظیم ایذارسانیوں کا دوسرا دور ، مسیح کی واپسی کا دور اور مقدسین کےاُٹھائےجانےکےدورکاادراک کرنابہت ہی مشکل ہے۔
بیشتر مسیحی جو زمانوں میں اپنی لاعلمی کی وجہ سے ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کے نظریہ پر ایمان رکھتے ہیں وہ غلط ایمان رکھنےسےبچ نہیں سکتے ہیں۔نمائشی طورپر اپنےبنائےہوئےمسیح کی واپسی کے دن اور وقت کی پیشن گوئی کرنا ، یا اپنےایمان کو بیکارمیں اِس سوچ میں رہنےدینا کہ اُنہیں عظیم ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھالیاجائےگا—یہ سب ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے اِس نظریہ پر ایمان رکھنے کےنتیجے ہیں۔ بہت سارے مسیحی خود سے یہ سوچتے ہوئے ،رُوحانی کاہلی میں مبتلا ہوچکے ہیں ، "اگر دُنیامشکلات کا سامنا کرتی ہے تو اِنکی کون پرواہ کرتا ہے؟ مَیں توعظیم ایذارسانیوں کے آنے سے بہت پہلے ہی اُٹھالیاجاؤں گا ، اور اِس طرح سب کچھ ٹھیک ہے۔" یہ ساری اُلجھن اُٹھائےجانے کے بارے میں ، بائبل کے مطابق درست علم کی کمی کی وجہ سے پیداہوئی ہے۔
سکوفیلڈ نے ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانےکے نظریے کی حمایت کی ، اور اِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اِس نظریہ کو ماننے والوں کے ذہن اپنے ہی تسکین کی سمت میں بہتے ہوئے ختم ہوچکے ہیں ، یہ سوچتے ہوئے کہ ، "اِس زمین پرایذارسانیوں کے آنے سے پہلے ہی ہمیں اُٹھالیاجائےگا۔اور اِس لئےابھی کے لئے جتناممکن ہوسکے آرام سے زندگی گزارنے کی کوشش کریں۔" اِس طرح سے اُن کا ایمان بیکار ہوچکا ہے۔
لیکن بائبل عظیم ایذارسانیوں اور اُٹھائےجانے کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟ بائبل ایذارسانیوں کے وسط میں اُٹھائےجانے کی بات کرتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ غیرقومیں اور بنی اسرائیل دونوں ہی یسوع کی طرف سےدی گئی پانی اوررُوح کی خوشخبری پرایمان رکھنے کی وجہ سےمخالفِ مسیح کی طرف سے ظلم و ستم کا سامنا کریں گے جب وہ زَردگھوڑےکےدورکےدوران عظیم ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال میں سے گزر رہے ہوں گے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ عظیم ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال کے بعد ، مخالفِ مسیح مقدسین کو مار ڈالے گا —یعنی ، مقدسین کو شہید کردیا جائے گا۔ وہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ تمام مقدسین جن کو شہید کِیا گیا تھا اور جو نہیں ہوئےتھےدونوں ہی کو ، اُن کو جلالی بدنوں میں زندہ کِیا جائے گا ، اور بیک وقت اُن کے جی اٹھنے کے بعد ، اُنہیں ہوا میں اُٹھالیا جائے گا۔ جب مقدسین کو عظیم ایذارسانیوں کے وسط میں اُٹھالیا جائے گا ، تو یہ دُنیا سات پیالوں کی آفتوں کےاُنڈیلےجانے کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچے گی۔ پھر خُداوند شیطان ، مخالفِ مسیح اور اِس کے پیروکاروں کی عدالت کرنے کے لئے اِس زمین پر واپس آئے گا۔
مُکاشفہ۱۳باب ہمیں بتاتا ہے کہ وہ لوگ جن کے نام کتابِ حیات میں نہیں لکھے گئے ہیں وہ سب مخالفِ مسیح اور اُس کے بتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے۔ صرف وہی جن کے نام کتابِ حیات میں لکھے گئے ہیں ، دوسرے لفظوں میں، وہ جو مخالفِ مسیح اور اُس کے پیروکاروں کو قَبول نہیں کریں گے۔ وہ لوگ جن کے نام اُن کے دلوں میں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے سے انکار کرنے کی وجہ سےکتابِ حیات میں نہیں لکھے گئے ہیں وہ سب شیطان اور اُس کے بتوں کی پرستش کریں گےاور اُس کےآگےہتھیارڈال دیں گے۔
یہ ہےکیوں بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ مقدسین عظیم ایذارسانیوں کے دوران زمین پر موجود رہیں گے ، اور عظیم ایذارسانیوں کے وسط سے تھوڑاسا گزرنے کےبعد، اُن سب کو اُن کے اُٹھائےجانے کے ساتھ ہوا میں اُٹھالیا جائے گا۔ وہ لوگ جو شیطان کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں اور عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور میں مخالفِ مسیح کےنام کا نشان پاتے ہیں ، اُن سب کو آگ اور گندھک کی جھیل میں پھینک دیا جائے گا ، لیکن وہ لوگ جن کے نام کتاب ِحیات میں لکھے گئے ہیں اور جنہوں نے اُس کے بت کے سامنے ہتھیارنہیں ڈالےاُن کوعظیم ایذارسانیوں کے وسط میں اُٹھالیاجائے گا۔
حقیقی اُٹھایاجاناعظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دورانیے کے وسط نقطہ سے تھوڑا سا بعدہوگا۔ اُٹھائےجانے کے وقت پر بائبل کے تفصیلی باہمی حوالہ جات کی پیروی کرنےکےلئےاِس کتاب کی دوسری جلد میں بیان کِیا جائے گا۔ پھر بھی بہت سارے لوگ موجود ہیں ، جو بہت جلد ہی اُٹھائےجانے کوترتیب دیتے ہیں ، ایذارسانیوں سےپہلےہی اُٹھائےجانے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، یا بصورت دیگر اِس کو بہت ہی ڈھیل سے ترتیب دیتے ہیں اور ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانےکےنظریے کی بات کرتے ہیں۔ علماءایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے نظریہ کی بات کرتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ خود بھی اِس کی اچھائی کے قائل نہیں ہیں ، اور ابھی تک بہت سارےگرجاگھرجانے والے اِس نظریہ پر قائم ہیں اور اِس پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ لوگ تواپناسارا مال و دولت اپنےگرجا گھروں کو عطیہ کر دیتے ہیں ، یا مسیح کی
واپسی کا اپنی من مانی سےتصور کی جانےوالی تاریخ کے مطابق جنونیت میں انتظار کرتے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے، ایک مخصوص فرقے کے ممبران نے ایک بار ایک تاریخ منتخب کی اور اِنہیں یقین تھا کہ مسیح اِن کی منتخب کردہ تاریخ پر واپس آجائے گا۔ چنانچہ وہ سب ایک پہاڑ پر چڑھ گئے ، اپنے جسم کو رسوں سے باندھ کر آدھی رات تک اپنے اُٹھائےجانے کا انتظار کِیا۔ وقت گزرتا گیا ، لیکن اِس سے قطع نظر کہ اُنہوں نےکتنی بے تابی سے انتظار کِیاتھا ، یسوع واپس نہیں آیا۔ چنانچہ آخر کاروہ ہمت ہار گئے، خود کو رسوں سے آزاد کِیا ، اور شرم کے مارے پہاڑ سےنیچےآ گئے۔ بدقسمتی سے، اِس قسم کی شرمناک ناکامی مسیحی دُنیا میں اب کافی عام ہوگئی ہے۔ اِس طرح کے مضحکہ خیز واقعات صرف کوریا تک ہی محدود نہیں ہیں ، بلکہ یہ پوری دُنیا میں ، یورپ ، امریکہ ، ایشیاء ، ہر جگہ ، کثرت سے پائے جاتے ہیں۔
لہذا ، ہمیں جو کچھ بھی واضح طور پر جاننا چاہئے ، وہ یہ ہے کہ خُدا اپنے ایمان کےمقدسین کو بھی حتیٰ کہ عظیم ایذارسانیوں کی واضح طور پر اجازت دے گا۔ یہ خُدا کا منصوبہ ہے۔ خُدا کےمقدسین کو عظیم ایذارسانیوں کی اجازت دینے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے تمام وعدوں کو پورا کرتا ہے — عظیم ایذارسانیوں کے ذریعے شیطان کو ابدی آگ میں پھینکنا، ہزار سال کے لئے مسیح کی بادشاہی قائم کرکے اِس زمین کو ایک نئی دُنیا میں تبدیل کرنا ، جہاں مقدسین اُس کے ساتھ راج کریں گے ، اور یسوع کے ماننے والوں کو نیا آسمان اور زمین عطا کرنا۔ یہ خُدا کی مرضی ہے جو عظیم ایذارسانیوں کوایک مقصدکےطورپرہمارے پاس آنے کی اجازت دیتی ہے۔
عظیم ایذارسانیوں کا سات سالہ دور ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ اگر ہم فرض کریں کہ ابھی تک جن قدرتی آفات کا ہمیں سامنا کرنا پڑا ہے اِس کا موازنہ اوسَط آگ سے کیا جاسکتا ہے جس کوآگ بجھانےوالے آسانی سے بجھا سکتے ہوں تو ، عظیم ایذارسانیوں میں جو تباہی دُنیا پر آنے والی ہے،یہ غیرمعمولی ہے ، اُس آگ کے مقابلہ میں جو دُنیا کے ایک تہائی جنگلات کو جلا ڈالے گی۔
جب دُنیاپراِس طرح کی تباہیاں اورآفتیں نازل ہوں توآپ کومتزلزل نہیں ہونا چاہئےاور ثابت قدم رہناچاہئے، خُدا کے خادمین اور مقدسین کو سب وہ ایمان رکھنا چاہئے جولَڑسکے۔ چونکہ ہم اِس زمین پر عظیم ایذارسانیوں کے وسط تک موجود رہیں گے ، لہذا ہمیں آخری ا وقات میں اِس ایمان کے ساتھ زندہ رہنا ہوگا جو کبھی بھی مخالفِ مسیح اور اِس کے پیروکاروں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ہے۔ایک سپاہی پُرعزم دل کے ساتھ جنگ میں داخل ہوتاہے، آپ کو اپنے کنبے سمیت زیادہ سےزیادہ جانوں کو بچانے کے لئے پانی اور رُوح کی خوشخبری کی پوری دُنیا میں منادی کرنی ہوگی۔
دُنیا ہمیشہ یہ امن نہیں رکھےگی۔لیکن حتیٰ کہ جب اُلجھنیں دُنیا پر حکمرانی کرتی ہیں اور ہماری زندگیوں میں مشکلات بہت زیادہ ہیں ، ہمیں ہمیشہ اِس بات پر ایمان رکھنا چاہئے کہ خُدا ہمیں آخری دن تک محفوظ رکھے گا۔ دُنیا کے مذاہب اور شیطان لوگوں کو ہر طرح کے بہکانےوالے الفاظ سے دھوکہ دیتے ہیں ، اُن سے چوراتے ہیں اور بالآخر اُن کی جانیں دوزخ میں ڈال دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ اب بھی ، ان گنت لوگ اور جو بڑے فرقوں سے تعلق رکھتے ہیں ، سکوفیلڈ کے ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کے نظریے پر ایمان رکھتے ہیں ، اور بہت سے لوگوں کو اپنے غلط عقیدے کی طرف گمراہ کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ عظیم ایذارسانیوں سے پہلے ہی اُن کواُٹھالیاجائے گا، انہیں عظیم ایذارسانیوں کے ساتھ ثابت قدم رہنے کے لئے اپنے ایمان کو تیار کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ اُن کو جو کچھ کرنا ہے وہ صرف اُن کی موجودہ زندگیوں میں وفادار بنناہے اور جب خُداوند اُنہیں بلائےگا تو سادگی سے ہوا میں اٹھائے جاناہے۔ لیکن مقدسین کا اُٹھایاجانادرحقیقت عظیم ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال گزرجانےکےبعدواقع ہوگا، اور اس لئے اس سے قطع نظر کہ مسیح کی آمد کب ہوگی اُن کو عظیم ایذارسانیوں کےلئےاپنے ایمان کو تیار کرنا ہوگا۔ ہمیں ایمان رکھنا چاہئے کہ خُدا نے بنی اسرائیل کے لوگوں اور بہت ساری غیر قوموں کو عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور میں بچایا ہے۔
 آیت نمبر ۱۴ ہمیں بتاتی ہے ، " اُس نے مُجھ سے کہا یہ وُہی ہیں جو اُس بڑی مُصِیبت میں سے نِکل کر آئے ہیں ۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔" اِس سے مُراد شہادت ہے۔ شہادت کا مطلب کسی کاایمان کے مطابق راستبازکام کے لئے مرناہے۔ گناہوں سے نجات پانے والے مقدسین کے لئے سب سے زیادہ درست ایمان خوشخبری پر ایمان کہ، خُداوند نے ہمارے سارے گناہوں کو ختم کردیا ہے ، اور اِس ایمان کوقائم رکھنا ہے۔ لیکن شیطان ہمیشہ مقدسین کے ایمان کو منہدم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لہذا ہمیں شیطان کے خلاف ایمان کی جنگ لڑنی چاہئے۔
اگر ہم اِس لَڑائی میں شیطان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتےہیں تو ہم شیطان کے ساتھ اِس کے خادم بن کر دوزخ میں پھینک دیئے جائیں گے ، لیکن اگر ہم حتیٰ کہ اپنی جانوں کی قیمت پر بھی لَڑتے اور اپنے ایمان کادفاع کرتے ہیں تو، ہم شہید ہوجائیں گے اور شہادت کے اِس ایمان کےوسیلے خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوجائیں گے۔ چونکہ ہم اپنے عقیدے کا دفاع کرنے کے لئے یہ ایمان کی جنگ لڑ رہے ہیں ، لہذا ہماری موت راستباز اور عظیمُ الشان ہوگی۔
لہذا ، ہمیں وہ ایمان رکھنا چاہئے جوراستباز کاموں کے لئے لڑتا ہے۔ ہمیں ضرور یہ ایمان رکھنا
چاہئے کہ ہم دوسروں کی جانوں کو بچانے کے لئے کسی جنگ میں مصروف ہیں ، اور ہمیں اِن جانوں کو آسمان پر بھیجنے کے لئے اِس جنگ کے خاتمے اور فتح تک اپنے ایمان کا دفاع کرنا چاہئے۔ جب تک کہ ہمیں فتح کا تاج نہیں مل جاتا ، ہمیں اپنے خُداوند کے کلام کی تلوار سے شیطان کے خلاف لڑائی میں اُس پر غالب آنا چاہئے۔
لوگ ایک بار پیدا ہوتے ہیں اور وہ ایک ہی بار مر جاتے ہیں۔ اِس سے قطع نظر کہ طبی سائنس نے کتنی زیادہ ترقی کی ہو ، ہر شخص بالآخرمرجاتا ہے۔ چاہے لوگ ۱۰ یا ۸۰سال کی عمر میں مرجائیں ، اُن سب کو خُدا کی طرف سے گناہ کی عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ وہ لوگ جو اِس زمین پر رہتے ہوئے خُدا کی طرف سے دی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھے بغیر ہی مر جاتے ہیں،اُن کی عدالت ہوگی اور اُنھیں دائمی آگ میں پھینکنےکی سزادی جائے گی۔ اگرچہ اُن کے سارے گناہ یسوع کے پانی اور خون سےدُھل گئےتھے ، اُن کو برف کی طرح سفید بنا دیا گیاتھا، پھربھی اُن کا اِس سچائی پر یقین نہ کرنے کا گناہ معاف نہیں کِیا گیا تھا ، اُن غیرایمانداروں کی اُن تمام گناہوں کےلئےعدالت کی جائے گی جو اُنھوں نے خُدا اورآدمی کے حضور سرزدکیے،اوراُنہیں اُن گناہوں کی قیمت اداکرنی پڑےگی۔
خُدا کے حضور جہنم کی آگ کی سزا سے بچنے کے لئے، ہمیں یسوع کی طرف سےدی گئی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہئے جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے نجات دلاتی ہے۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری جو ہمارے سارے گناہوں کے لئے ہمارا کفارہ دیتی ہے اُس خوشخبری سے مختلف ہے جو صرف صلیبی خون پر ایمان رکھتی ہے۔ میں نے ہمیشہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کی ہے ، چاہےعام وقت ہو یا کوئی اور وقت ہو۔ صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے سے ہی ہم رُوح القدس پاسکتے ہیں اور خُدا کے فرزند بننے کی برکت سے نوازے جاتے ہیں۔ جب ہم یسوع پر ایمان رکھتے ہیں تو ، ہمیں لازمی طور پر دور رہنا چاہئے اور محض صلیبی خون سے بنی ہوئی جھوٹی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھنا چاہئے۔
پرانا عہدنامہ ہاتھوں کےرکھےجانے اور حوض کی حقیقی خوشخبری کی بات کرتا ہے۔ نئے عہد نامہ میں ، خُدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے گناہ ایک ہی وقت میں بپتسمہ کے ذریعے مسیح پرمنتقل ہوگئےتھے۔ پرانے عہدنامہ کاحوض اور نئے عہد نامہ کا بپتسمہ دونوں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایک ہی ایمان کا حوالہ دیتے ہیں جس نے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے بچایا ہے—یسوع کے بپتسمہ کے ذریعہ جس نے ہمارے تمام گناہوں کو اُس کے حوالے کِیا، صلیب پر اُس کی موت ، اور اُس کا جی اُٹھنا۔ پانی اور
رُوح کی اِس خوشخبری کےسوا کوئی نہیں بچ سکتا ہے۔
ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے مطابق زندگی بسر کرتے رہنا چاہئے جب تک کہ ہم ایذارسانیوں کے وسط میں نہ پہنچ جائیں۔ ہمیں لازم ہے کہ ہم اس زمانے کی پہچان کریں، اور باقی کُچھ بچےہوئےدن اُس طرح گزاریں جس طرح خُدا ہم سے چاہتاہے ، خُدا کی بادشاہی کی منادی کریں اور سب کو خوشخبری سُنائیں۔ خُداوند نے ہمیں بتاتاہےکہ بہت سے لوگ حتیٰ کہ اِن آخری دنوں میں بھی بچائے جائیں گے۔
کچھ پودے صحرا میں زندہ رہ سکتے ہیں ،جہاں پانی نہیں ہوتا، بلکہ صرف ریت اور جلتی دھوپ کی روشنی ہوتی ہے۔ لیکن حتیٰ کہ یہ ویران صحرا صرف گرم اور خشک دھول اور ریت سےبھرا ہوتاہے ، جب بارش سے پانی آتا ہے ، پودےصرف ایک ہفتہ میں پھوٹ،پھول اور پھل سکتے ہیں۔ صحرا کی کمی کی ساری وجہ پانی ہے؛ ریت کے نیچے دبے ہوئے بیج ، اگرچہ ابھی پھوٹنےمیں ناکام ہیں ، وہ مرے نہیں ہیں بلکہ ابھی تک زندہ ہیں ،اور بارش کے منتظر ہیں۔ اور جب اِن خشک بیجوں تک نمی پہنچتی ہے تو ، وہ فوراً ہی پھوٹ جاتے ہیں۔ بیج ایک دن میں پھوٹتےہیں ، اگلے دن بڑھتے ہیں ، اور تیسرے دن پھولتے اور پھل لاتے ہیں۔ اور اپنے آخری دن یہ پودے زمین پر اپنے بیج گِرا دیتے ہیں، اور سخت بیج ایک بار پھر ریت کے نیچے چھپ جاتے ہیں۔
جس طرح صحرا میں ایسے پودوں کاسنبھلنا ناممکن دکھائی دیتا ہے حتیٰ کہ ایک واحدتنا یا کونپل بھی ابھی پانی کی فراہمی کے وقت بھی سنبھل کر بڑھنا ناممکن دکھائی دیتی ہے ، ، ہمارا ایمان ہے کہ آخری اوقات میں بھی صحرا جیسے دُنیا کے اِرد گرد رُوحیں پھوٹیں گی ، پھولیں گی اور پھل لائیں گی اگر وہ حتیٰ کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ساتھ ذرا سےبھی رابطے میں آجائیں۔ ہم ایمان رکھتےہیں کہ جب سات نرسنگوں کی آفتیں حقیقت میں سامنے آئیں گی ، بہت سے لوگ جنہوں نے کلام کے ذریعے اس سے پہلے عظیم ایذارسانیوں کے بارے میں سُنا تھا ، اُن میں نصب خوشخبری کا احساس کریں گے ، اِسے برقرار رکھیں گے ، اور کُچھ ہی وقت میں شہادت کےایمان کوبڑھائیں گے۔
اِسی طرح ، جب آپ اور مَیں اپنے ایمان کا دفاع کرنے کے لئے شہید ہو جائیں گے تو، بہت سارے ایمان کےلوگ، صحرا کے پودوں کی طرح اُبھریں گے جوحتیٰ کہ خشک زمین پر بھی فوری طور پر اُگتے ہیں ، جومخالفِ مسیح کا نشان پانےاوراُسکے بت کا انکار کرنے پر ہماری شہادت میں ہمارے ساتھ شامل ہوں گے ۔ پانی اور رُوح کی یہ خوشخبری جس کو ہم اب پھیلا رہے ہیں بہت سے لوگوں کو قلیل مدت میں
اپنےایمان کو بڑھاتے ہوئےشہادت قبول کرنے کا اہل بنائے گی، اور اُنہیں خُدا کے کارکنوں میں بدل دےگی جو لَڑیں گے۔
بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ، ہم سب خُداوند کی فوج میں سپاہی ہیں۔ ہمیشہ اپنے دلوں کو جنگ کے لئےتیار کرتے رہنا چاہئے، ہمیں مسیح کے لوگوں کی طرح ، کسی بھی جھوٹ کا شکارہوئے بغیر ،درست ایمان کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے۔ ہم میں سے وہ جو جنگ جیت جائیں گے، خُدا ہمیں فتح کا تاج اور ناقابل بیان انعامات عطا کرے گا۔ لہذا ہمیں اپنی زندگیاں خُدا کے راستباز کاموں کی خدمت میں گزارنی چاہئیں ، اِس ایمان کے ساتھ جو شیطان ، اُس کے سارے جھوٹوں، اور دُنیا کی تمام برائیوں کے خلاف لڑتاہے۔
 
 
خُداایذارسانیوں کے وقت ہمیں جرات مندانہ ایمان عطا کرے گا
 
جب زَرد گھوڑے کا دور آجائے گا ، خُدا ہمیں اِس کےنشانات دے گا۔آیت نمبر ۱ میں کہا گیا ہے ، " اِس کے بعد مَیں نے زمِین کے چاروں کونوں پر چار فرِشتے کھڑے دیکھے ۔ وہ زمِین کی چاروں ہواؤں کو تھامے ہُوئے تھے تاکہ زمِین یا سمُندر یا کِسی درخت پر ہوا نہ چلے۔" یہاں ہوا سے مُراد عظیم ایذارسانیوں کی ہوا ہے جسے خُداچلائےگا۔ مُکاشفہ ۷:۱-۸ ہمیں بتاتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں کو بچانے کے لئے ، خُدااُن پر مہر کرے گا اور یوں ہوا کو تھوڑی دیر کے لئے تھامےرکھے گا۔ لیکن جب وقت آئےگا—یعنی، جب کالے گھوڑے کا دور ، خُدا کے ساتوں ادوارمیں سے قحط کا دور گزرےگاتو، خُدا زَردگھوڑے کا دور کھول دے گا۔ تب زمین کی چار ہواؤں کو چلایاجائے گا ، جو دُنیا میں ایذارسانیوں کی ہوا لائیں گی۔
جب زَرد گھوڑے کا دور کھُلنے کا وقت آجائےگا، ایذارسانیوں کی خوفناک ہوائیں چلناشروع ہوجائیں گی، اور بہت سے اسرائیلی مر جائیں گے ، اور ہم سمیت ،بہت سی غیرقومیں بھی ماری جائیں گی۔ جب زَرد گھوڑے کا یہ دور آجائے گا ، ایذارسانیوں کا دور حقیقی طورپر شروع ہوجائےگا۔
کیونکہ اب کالے گھوڑے کا دور ہے ، پوری دُنیا میں قحط کی ہوا چل رہی ہے۔ جب یہ دور ختم ہو جائے گا ، زَرد گھوڑے کا دور شروع ہوجائےگا ،اورایذارسانیوں کی ہوا اُبھرے گی۔ایذارسانیوں کی ہوا عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کی مکمل پیمانے پر شروعات کا نشان دیتی ہے۔ جب خُدا کائنات کی اپنی تخلیق اور انسانی تاریخ کے آغاز کے بعد پہلی بار اِس دُنیاپر عظیم ایذارسانیوں لے کر آئےگا—یعنی، جب زَرد گھوڑے کے دور کے آغاز کے ساتھ عظیم ایذارسانیوں کی ہوا چل گی تو—سب کچھ ختم ہوجائے گا۔ اور ہر چیزپھرسے نئی ہوجائےگی اور دوبارہ شروع ہوجائے گی۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ جب زَرد گھوڑے کا دور آئےگاتو ایذارسانیوں کا دور بھی کُھل جائےگا۔ چونکہ دُنیا بھر کے حکمران متحد ہوجائیں گے ، کچھ مخصوص سیاستدان مطلق اقتدار پر قبضہ کرلیں گے ، اور جو لوگ اُن کے قوانین اور احکام کی فرمانبرداری نہیں کریں گےوہ ایذارسانیوں اور موت میں پھینک دیئے جائیں گے۔ لوگوں کو زَردگھوڑے کے دور میں زندگی گزارنا بہت مشکل ہوگا کیونکہ اُنہیں سات نرسنگوں کی آفتوں کے نتیجے میں جاری قدرتی آفات سے بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، لیکن اِن مشکلات کو مزید بڑھانا اس وقت کے سیاسی حالات ہوں گے جوبہت دھمکی آمیزبھی ہوں گے۔ لیکن اِس صورتحال میں بھی ، خُدا لوگوں کے درمیان کام جاری رکھے گا ، اور ان گنت غیر قوموں کو اُن کی نجات کی طرف لے جائے گا۔
جب زَرد گھوڑے کے دور میں ایذارسانیوں کی ہوا چل رہی ہے تو، اُمید صرف ایک جگہ پر مل سکتی ہے۔ جیسا کہ کلام ہمیں بتاتا ہے ، کہ " نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے،" یہ واحد اُمید ہمارے خُدا باپ اور یسوع مسیح میں پائی جاتی ہے۔ جب ایذارسانیوں کی غضبناک ہواچلےگی تو ، مخالفِ مسیح اِس زمین پر اُبھرے گاتو ، وہ نہ صرف دُنیا کے سیاسی شعبے بلکہ معاشرے سے لیکر مذہب تک ، عالمی یکجہتی میں ، تمام معاشرتی شعبوں کوبھی متحد کرے گا۔ ایذارسانیوں کا مطلب خوفناک ظلم و ستم سے گزرنا ہے۔ یہ ہوا ہے جو چلے گی۔ اور یہ ساری چیزیں اچانک ہی ہوجائیں گی۔
معاشی یکجہتی کی ہوا آج کی پوری دُنیا میں چل رہی ہے۔ آزادانہ تجارت کی طرف ایک مضبوط تحریک چل رہی ہےجو ، مختلف تجارتی تنظیموں کے ممبر ممالک میں محصولات کی دیواریں ختم کر رہی ہے۔ ایک تحفظ پسندتجارتی نظام کے ماتحت ، کسی ایک ملک کی مصنوعات کے لئےکسی دوسرے ملک میں اپنی قیمتوں کی مسابقت کوبرقرار رکھنا مشکل ہوتا تھا ، کیوں کہ برآمدات اور درآمدی عمل کے دوران عائد محصولات اِن کی قیمتوں میں اضافہ کریں گے ، قطع نظر اِس کے برآمدات کی ابتدائی قیمتیں کتنی ہی کم کیوں نہ ہوں۔
لیکن ایسےمحصولات کی دیواریں گِر رہی ہیں۔ اِس کی ایک عمدہ مثال یورپ میں مل سکتی ہے ،جہاں محصولات کو مرحلہ وار ختم کردیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ، یورپی یونین (EU) کے رکن ممالک میں ، اب کوئی محصول نہیں ہے۔ یہ آنے والی عظیم یکجہتی کا آغاز ہے ، جو سیاسی اور ثقافتی اتحاد کے عروج کا اشارہ دیتی ہے۔ یہ حیرت انگیز ترقی ہے۔ محصولات کے بغیر ، ایک ملک اپنی مصنوعات کو کسی دوسرے ملک میں فروخت کرسکتا ہے۔ یہ عالمی معاشی ماحول کی ایک اہم تبدیلی ہے۔ اگر یورپی یونین (EU)کامیابی کے ساتھ اپنی معاشی یکجہتی کو مکمل کرتی ہے تو ، عالمی معاشی یکجہتی حتیٰ کہ اور بھی تیز ہوجائے گی۔
حال ہی میں ایشیا میں ، کوریا ، چین ، اور جاپان نے مستقبل کے معاشی بحران کی صورت میں ایک دوسرے کو ہنگامی قرضوں کی فراہمی کے لئے ایک معاہدہ طےکِیا ، جیسے اِس نے ۱۹۹۷ء میں خطے کو اپنے گھیرے میں لے لیا تھا۔ ۱۹۹۷ءکے ایشیائی بحران میں ، امریکہ نےمالی مدد فراہم کی تھی۔ لیکن اِس معاہدے کے ساتھ ، اِس میں شامل تینوں ممالک نے وعدہ کِیا کہ اگر کسی دستخط کنندہ ملک کو کرنسی یا معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ایک دوسرے کو مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ اِس کا مطلب معاشی اتحاد تشکیل دینا ہے۔ جس طرح یورپی ممالک نے اپنے ممبر ممالک کی زیادہ سے زیادہ خوشحالی کے لئےیورپی یونین کے ذریعے محصولات کو ختم کردیااور معاشی یکجہتی کوجاری رکھا، اسی طرح مشرق بعید کے تین ممالک بھی اپنے وسائل کو آپس میں بانٹ رہے ہیں۔ انفرادی ممالک کی اِس طرح کی یکجہتی اور اِن کی تنظیمی ترقی بالآخر سیاسی یکجہتی کا باعث بنے گی۔
محصولات کوختم کرنےکے ذریعے معاشی اتحاد کا مطلب اصل میں انفرادی ممالک کی ایک مشترکہ وجود میں یکجہتی ہے۔ جب سات آفتوں کی قدرتی تباہیاں پوری دُنیا پربڑےپیمانےپرحملہ کریں گی اور بےترتیبی پیداکریں گی تو ، اِس طرح کے بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے نمائندے متحد ہوکر ایک مطلق رہنما کا انتخاب کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں ، وہ کوشش کریں گے کہ دُنیا کو ایک واحد سیاسی وجود میں منظم کرکے اور ایک مطلق اقتدار کے ساتھ کسی حکمران کو کھڑا کرکے انتشار زدہ دُنیا میں نظم و ضبط لائیں۔
اِس عمل کے بیچ میں عظیم ایذارسانیوں کی ہوا چلے گی۔ انفرادی حقوق کا احترام کرنے کی بجائے ، عظیم اکثریت کی خاطر چند لوگوں کے حقوق پامال کرنا نہ صرف قابل قبول ، بلکہ متوقع ہوجائے گا۔ جب زَرد گھوڑے کا دور آئے گا تو یہ ہوا چلے گی۔ اِس طرح کے واقعات کی بنیادکالےگھوڑے کے دور میں رکھی
گئی ہے، اور اِن کوحقیقی طورپرزَرد گھوڑے کےدور میں محسوس کِیاجائےگا۔
جب کوریا ۱۹۹۷ءمیں مالی بحران کا شکار ہوا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے زیرِ اثر رہا ،یہ تباہ کن معاشی آفات میں اُلجھ گیاتھا۔ زمینوں کی قیمتیں گِر گئیں ، لوگوں نے راتوں رات اپنی ملازمتیں گنوا دیں ، اور متوسط طبقے کو سڑکوں پر دھکیل دیا گیا۔ اِس طرح کی معاشی تباہی پوری دُنیا میں اتنی عام ہوگئی ہے کہ شاید ہی کوئی دن گزرا ہو کہ کسی دوسرے ملک میں کسی اور معاشی بحران کے بارے میں نہ سُناگیا ہو۔ یہ ہوا قحط کی ہوا ہے۔ ہم قحط کے اِس دور میں ہیں ، یہ ایک ایسا دور ہے جب آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے تو آپ کی زندگی بیکار ہوجاتی ہے۔ مستقبل قریب میں ، قحط کی اِس ہواکے فوراً بعد عظیم ایذارسانیوں کی تیزہواچلے گی۔
خُدا نے زمین کے چاروں کونوں کی ہواؤں کو تھوڑی دیر کے لئے تھام لیا اور بنی اسرائیل میں سے ۰۰۰,۱۴۴ پر مُہر کی۔ اُن کو کسی طرح کا نقصان پہنچانے سے بچانے کے بعد ، وہ ایذارسانیوں کی ہواکوچھوڑدےگا۔ جب ایذارسانیوں کی یہ ہوا فرشتوں کے ہاتھوں سے چھوڑی جائےگی ، تو عظیم ایذارسانیوں کی ہوا چلےگی۔ ایذارسانیوں کی ہوا دُنیا کو متحد کردے گی ، جو ،مخالفِ مسیح کے ظہور کے ساتھ ، پوری طرح سے شیطان کی سلطنت بن جائے گی، اور سات نرسنگوں کی آفتوں سے عظیم قدرتی تباہیوں کے سات سالہ دور سے گزرے گی۔ سات نرسنگوں کی اِن آفتوں کے بعدپھر سات پیالوں کی آفتیں آئیں گی۔
مخالفِ مسیح کی ظالمانہ حکمرانی کے اِس دور کے دوران اور ایمان کی آزادی کےغائب ہونےکےاِس دورمیں، قحط اور فاقہ کشی بدترین حد تک پہنچ جائے گی ، جولوگوں کو صرف حکومت کی تقسیم شدہ خوراک پر ہی زندہ رہنے پر مجبورکرے گی۔ دُنیا میں ہر ایک کو اِس دور کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مُکاشفہ کے کلام کا ۷ باب ہمیں آنے والی ایسی چیزوں کی مجموعی تصویر فراہم کرتا ہے۔
اِس دور میں ہمارا اور کیا انتظار کررہاہے؟زَرد گھوڑے کا دور بنی اسرائیل اور غیرقوموں دونوں کی ان گنت شہادتوں کانشان بھی ہوگا۔ جب عظیم ایذارسانیوں آئیں گی ، تو صرف اُمید باقی رہ جائےگی۔ آیت ۱۰ ہمیں بتاتی ہے ، "اور بڑی آواز سے چِلاّ چِلاّ کر کہتی ہے کہ نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔" دوسرے الفاظ میں ، ہماری نجات، صرف ہمارے خُدا میں مل سکتی ہے جو تخت پر بیٹھا ہے ،اور برّےمیں۔ جیسا کہ ہم باب ۴سے دیکھ سکتے ہیں ، جو ہمیں بتاتا ہے کہ یسوع مسیح کے لئے ایک تخت تیار کِیا گیا تھا ، جو تخت پر بیٹھا ہے وہ یسوع مسیح ہے ، وہ ایک کمزور کی حیثیت سے نہیں ، بلکہ خُدا کے بیٹے ، قادر مطلق خُدا ، اورسب کے منصف کی حیثیت سےتخت پر بیٹھاہے۔ خُدا باپ اب بھی اپنے تخت پر بیٹھا ہے۔ لہذا جب ہم تثلیث کےخُدا کی بات کرتے ہیں تو ، خُدا باپ ، بیٹا ، اور رُوح القدس سب ایک ہی خُدا ہیں۔ اِس طرح ہماری اصل نجات مختصر طور پر ہمارے خُدا اوربرّے —یسوع مسیح سےتعلق رکھتی ہے۔
جب غضبناک ایذارسانی آئے گی تو ،ہم کہاں سے اُمیدحاصل کرسکتے ہیں؟ جب مخالفِ مسیح عظیم ایذارسانیوں کے دوران اُٹھ کھڑا ہوگا ، تو وہ اپنے آگے ایک شبیہ بنائے گا، اور اُن تمام لوگوں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے گا جو اِس شبیہ کی پوجا کرنےسے انکار کریں گے، اور ساتھ ہی اُن تمام لوگوں کو بھی جو اپنے ہاتھوں یا پیشانیوں پر اُس کے نام کا نشان نہیں لیں گے،ہلاک کرے گا (مُکاشفہ ۱۳ باب )۔
ماحول کے لحاظ سے ، قدرتی حالات بھی بدترین حد تک پہنچ جائیں گے ، کیوں کہ آسمان سے آگ اور اولے برسیں گے ، زلزلے حملہ کریں گے، اوراِس کےبعد دیگرآفتیں آئیں گی۔ اِس زمین پرکوئی بھی جگہ آفتوں سے محفوظ نہیں رہ پائے گی۔ اس بدترین ماحولیاتی صورتحال میں ، جہاں زمین زلزلوں کے ساتھ ٹکڑوں میں کُھل جائے گی ، سورج ، چاند اور ستارے اپنی روشنی کھو دیں گے ، اور سمندراوردریاآفتوں سے مرجائیں گے ، اِس وقت کی سیاسی صورتحال بھی اس قِسم کی بدترین صورتحال ہوگی۔مخالفِ مسیح ممکنہ طور پر انتہائی ظالمانہ حکمرانی کے ساتھ حکومت کرے گا ، کیونکہ وہ مطلق طاقت کااختیاررکھےگا اور دُنیا کے دوسرے تمام رہنماؤں کواپنی سلطنت کےماتخت اپنامحکوم بنائےگا۔
 
 
مخالفِ مسیح کا ظہورکیوں ہوگا؟
 
کیوں کہ شیطان اپنی آخری خواہش پوری کرنے کی کوشش میں مخالفِ مسیح کو مختصر طور پر اپنی طاقت دے گا— یعنی،وہ اپنی خواہش کو پورا کرے گا کہ لوگوں اُسےخُدا کے نام سے پکاریں تاکہ وہ حقیقی خُدا سے اونچا ہوسکے۔ لیکن شیطان خودجانتا ہے کہ اُسکی یہ خواہش پوری نہیں ہوگی۔ پھر بھی آخری بار ، وہ بنی نوع انسان سےتمجیدحاصل کرنے کی کوشش کرے گا ، اور اُن تمام لوگوں کو ہلاک کرے گا جو اُس کی فرمانبرداری نہیں کریں گے۔ یہ تمام افسوسات میں سے بدترین صورتحال ہے جو مقدسین پر واقع ہو گی۔ اِس وقت ، مقدسین کے پاس مرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا ، کیونکہ وہ واحد جس پر وہ بھروسہ کرسکتے ہیں اور اپنی اُمید باندھ سکتے ہیں وہ ہماری نجات کا خُدا ، یسوع مسیح ہمارا خُدا ہے ، جس نے پانی اوررُوح کی خوشخبری کے ذریعہ ہمیں بچایا ہے۔ ہم صرف اُس خُدا پر بھروسہ کرسکتے ہیں ، اور صرف اُسی پر بھروسہ کرتے ہوئے ہی ہمیں اِن خوفناک آفتوں اورایذارسانیوں کے درمیان موت سے نجات مل سکتی ہے۔
ان آخری دنوں میں ، ہماری واحد اُمید " ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے"ہے۔ہمارے خُدا پر ایمان رکھنے پر، مقدسین کو شہید کر دیا جائے گا ، اور خُداپراپنے ایمان کی وجہ سے ، وہ خوفناک آفتوں اور موت سے نجات پائیں گے۔ مُکاشفہ ۷ باب اِس طرح ہمیں اُن تمام چیزوں کی وضع فراہم کرتا ہے جو عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے دوران واقع ہوں گی۔
آئیے اُن واقعات کو جاری رکھیں جو عظیم ایذارسانیوں کی ہوا لائیں گے۔ آیات ۹-۱۰، ہمیں بتاتی ہیں ، " اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ہر ایک قَوم اور قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زُبان کی ایک اَیسی بڑی بِھیڑ جِسے کوئی شُمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجُور کی ڈالِیاں اپنے ہاتھوں میں لِئے ہُوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔اور بڑی آواز سے چِلاّ چِلاّ کر کہتی ہے کہ نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بَیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے۔" جب پوچھا گیا کہ سفیدجامےپہنے تمام قبیلوں اور زبانوں کی یہ بِھیڑ کون ہیں؟ توچوبیس بزرگوں میں سے ایک نے جواب دیا ، "یہ وُہی ہیں جو اُس بڑی مُصِیبت میں سے نِکل کر آئے ہیں ۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔"
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ عظیم ایذارسانیوں کےدوران ان گنت لوگوں کو بچایا جائے گا ، جب تمام قوموں ، قبیلوں اور زبان کے لوگوں سے بےشمار شہید اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں ، اُن لوگوں کا ایک سیلاب ہوگا جوتمام ایذارسانیوں اورآفتوں میں خُدا کو اپنا واحد نجات دہندہ مانتے ہیں۔ اِس کا مطلب ، مختصر یہ ہے کہ نجات صرف تثلیث کے خُدا میں مل سکتی ہے۔
کیونکہ خُدا نے ہمیں پانی اور رُوح کی خوشخبری دی جس نے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچایا ہے ، اور اِس لئے کہ ہم اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، جب مخالفِ مسیح ظاہر ہوتا ہے اور ہم سے اُس کے سامنے ہتھیار ڈالنے اور اُسے خُدا کے نام سے پکارنے کا دھمکیوں کےساتھ مطالبہ کرتا ہے تو ہم ایسا نہیں کریں گے۔ مزید برآں ، یہاں تک کہ اگر ہم میں سے کچھ مخالفِ مسیح کے سامنے ہتھیار ڈال دیتے ہیں تو بھی ، اُن کی بقا ءکی کوئی ضمانت نہیں ہوگی ، کیوں کہ اُنہیں تباہ کن آفتوں اور شیطان کی آخری جنونی حرکت سے گزرنا پڑے
گا۔ اُس وقت کسی بھی چیز کی ضمانت نہیں ہوگی۔
اِس طرح ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے اُس خُدا پر ایمان رکھنے کے سواجس نے ہمیں بچایا ہے۔ ہم دلیری کے ساتھ خُدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی شہادت کو قبول کریں گے ، جو ہمیں اپنی ہزار سالہ بادشاہی اور نیا آسمان اور زمین عطا کرے گا ، کیونکہ وہ ہمیں مُردوں میں سے جِلائےگا ، ہمیں اُٹھالےگا ، اور ہم سب کو نئے آسمان اورزمین کاجلال اور برکت عطا کرے گا۔ یہ ہےکیوں بہت سے لوگ ہیں جو برّے کے خون میں دھوئے ہوئے سفید جامے پہنے ہوئے ہیں۔
واقعتاًایسے بہت سے شہیدہوں گے جو خُدا پر ااپنےیمان کی وجہ سے مر جائیں گے۔ مقدسین اور تمام جو اُس وقت کے دوران شہید ہوچکے ہیں ، دُنیا کی ہر قوم سے ، خُدا پر ایمان کے لئے اپنی جانیں نچھاور کریں گے۔ وہ لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں جس کی ہم اب منادی کر رہے ہیں وہ خُدا پر ایمان رکھنےسےاپنی شہادت کو گلے لگائیں گے ،یعنی وہ اُنھیں اُس وقت کی تمام ہولناک ایذارسانیوں اور آفتوں سے نجات دے گا۔ صرف خُدا ہی ہمیں اُن خوفناک آفتوں سے نجات دے سکتا ہے۔
مَیں آپ کو وہ تمام اہم واقعات بتا رہا ہوں جو عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے دوران پیش آئیں گے۔ جب اِس دُنیا میں ایذارسانیوں کی ہواچلے گی تو ،اس زمین پر کوئی اُمید باقی نہیں رہے گی۔ جیسا کہ اب ہم جانتے ہیں اِس دُنیا کا اب کوئی وجود نہیں رہےگا، جب آسمان اور زمین غائب ہوجائیں گےجیسےایک مکتوب کولپیٹاگیاہو۔
خُدا تب اِس زمین پر ایک نئی زمین پیدا کرے گا ،ایمان کے شہیدوں کو اِس پر ایک ہزار سال تک راج کرنےدے گا ، اور جب یہ ہزار سال ختم ہوجائیں گے تو ، اُنہیں اپنی ابدی بادشاہی میں منتقل کرےگا۔صرف ہمارا خُدا ہی ہے جس نے ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات بخشی ہے، جو ہمیں ایذارسانیوں کی موت اور تباہی سے بچائے گا ، اور جو ہمیں اُمید دے سکتا ہے۔ جب شہادت کا وقت آئے گا ، آپ اور مَیں ، اور ساتھ ہی پوری دُنیا کے خوشخبری سُننے اوراِس پرایمان رکھنے والے ، خُدا پر ایمان لانے کے لئے بہادری سے شہیدہوجائیں گے جس نے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچایا ہے۔ہم اپنی شہادت کو اپنے دلیرایمان اور اُمید کے ساتھ گلے لگائیں گے۔ وہ جو ہمیں خوفناک ایذارسانیوں اور آفتوں سے نجات دے گا ،ہمارا خُدا ہے جو تخت پر بیٹھا ہے۔
اِسی طرح ، ہم یہ مانے بغیر شہید نہیں ہوسکتے کہ جس خُدا نے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچایا ہے
وہی خُدا ہے جو ہمیں اِن خوفناک آفتوں سے نجات دے گا۔اُس وقت کے شہیدوہ لوگ ہیں جن کے نام برّے کی کتاب کی زندگی میں لکھے گئے ہیں۔ لیکن کوئی بھی شخص جس کا نام کتاب ِحیات میں نہیں ملتا وہ شہیدنہیں ہوسکے گا۔
اِس خوشخبری کی پوری دُنیا میں یقینی طور پر منادی کی جائے گی ، اور پوری دُنیا میں ہر شخص اِسے ضرور سُنے اور جانےگا۔ چونکہ ہم اب اِس خوشخبری کو مسلسل پھیلارہے ہیں ، پانی اور رُوح کی خوشخبری کی پوری دُنیا میں گواہی دی جارہی ہے۔اِس دُنیا میں بہت ساری رُوحیں ہیں ، جو، جب عظیم ایذارسانیاں آئیں گی ، وہ صرف برّےپر ہی اپنی اُمید رکھیں گے ،حتیٰ کہ اپنی جانوں کےخطرے میں بھی خُدا پر ایمان رکھیں گے ، اور اپنی شہادت کو قبول کرنے کےلائق ہوں گے۔ اور پانی اور رُوح کی خوشخبری ، جو اپنے ایمانداروں کے نام
کتاب ِحیات میں لکھنے کے قابل بناتی ہے ، کی منادی جاری رہے گی۔
جو لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ آخری اوقات میں شہید ہوجائیں گے۔ مُکاشفہ ۱۳:۸ ہمیں بتاتا ہے ، " اور زمِین کے وہ سب رہنے والے جِن کے نام اُس برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے نہیں گئے جو بنایِ عالم کے وقت سے ذبح ہُؤا ہے اُس حَیوان کی پرستِش کریں گے۔" یہ قطعی سچائی ہے کہ ہر وہ شخص جس کا نام کتاب ِحیات میں نہیں لکھا گیا ہے وہ کسی اعتراض کے بغیر ، حیوان کے آگے ہتھیار ڈال دےگا۔
صرف یسوع مسیح اور اُس کا باپ ہی ہمیں آخری دنوں کی عظیم ایذارسانیوں سے نجات دے سکتےہیں۔ رُوح القدس اب ہمارے دلوں میں سکونت کرتا ہے۔ میراایمان ہے کہ ہم خُدا کے وسیلے نجات پا چکے ہیں ، اور یہاں تک کہ اگر ہمیں اُس کی خاطر موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا تو ،خُدا ہمیں دوبارہ مُردوں میں سے زندہ کرے گا ، ہمیں اُٹھائےجانے کے ساتھ ہوا میں اٹھالے گا ، زمین کی ہر چیز کو نیاکرے گا ، اور ہمیں اُس کی ہزار سالہ بادشاہی میں رہنے کی اجازت دے گا ۔
ایذارسانیوں کی ہوا سے تباہ شدہ زَردگھوڑے کا یہ دور تیزی سے ہمارے قریب آرہا ہے۔ کالےگھوڑے کا دور تیزی سے چل رہا ہے۔ جب یہ اپنی دوڑختم کرلے گا تو، زَردگھوڑا ظاہر ہوگا۔ تب سے ، پوری دُنیا عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور میں داخل ہوجائےگی۔یہ سات سال سے کم یازیادہ نہیں رہیں گی، عظیم ایذارسانیوں کا یہ دور یقیناًپورا ہوگا ، کیونکہ یہ خُدا کا منصوبہ ہے۔
آئیے ایک لمحے کے لئے فرض کریں کہ عظیم ایذارسانیاں واقعی شروع ہوچکیں ہیں۔ ہمارے آس پاس اور پوری دُنیا میں درخت اور گھاس جل رہے ہیں ، آسمان دھوئیں سے بھرا ہوا ہے ،یہاں تک کہ دن کے وقت بھی دُنیاکوتاریکی میں مبتلاکرتےہوئےسورج گہرےدھندلے بادلوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے ، لوگ ہر جگہ مر رہے ہیں ، اور یہاں تک کہ ہم لوگوں کی آواز بھی سُنتے ہیں جو ہمارا تعاقب کر رہے ہیں۔ ہم کس پر ایمان رکھیں گے؟ کیا آپ خُدا پر بھروسہ کریں گے ، جس نے ہمیں ہمارے سارے گناہوں سے بچایا ہے ، اور جس نے شہیدوں کو جنہوں نے مخالفِ مسیح کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے ، کو دوبارہ زندہ کرنے ، جی اُٹھنے اور ہم کو اُٹھائےجانے کے لئے اِس زمین پر دوبارہ واپس لانے ،اورہمیں اُس کےنئےآسمان اورزمین میں لےجانےکا وعدہ کِیا ہے ، یا پھرآپ اُس پر بھروسہ نہیں کریں گے؟ یقیناً ہم خُدا پر بھروسہ کریں گے! صرف خُدا ہی ہماری واحد اُمید ہے! نہ ہی مخالفِ مسیح کی چاپلُوسی اور نہ ہی خود پر انحصار ہمیں نجات دلاسکتا ہے؛ نہ غاروں میں چھپنا، نہ ہی زمین کو چھوڑ کر کسی خلائی اسٹیشن کی طرف فرار ہونا —کچھ بھی نہیں،بلکہ خُدا کے سوا کچھ بھی ہمیں کبھی نہیں بچاسکے گا!
جب اِس سیارے سےدُمدارستارے ٹکرائیں گے تو تباہ شدہ چیزوں کی باقیات زمین پر گِر پڑیں گی، اور سارے سیارے کو تباہ کردیں گی۔سب کچھ جو خُدا نے پہلے پیدا کِیاتھا وہ تباہ ہوجائے گا۔ تب سچی اُمید ہمارے دلوں میں پیداہو جائے گی۔ ایسی مایوس کن صورتحال میں ہم کس سے اپنی اُمید باندھ سکتے ہیں؟ خُدا واحد ہے جس کی طرف ہم دیکھ سکتے ہیں اور مدد مانگ سکتے ہیں ، خُدا کے سوا کسی نے نہیں ہمیں بچایا!
کیونکہ ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری کے کلام پر ایمان رکھ کر نجات پا چکے ہیں ، لہذا ہم اِس نجات کے لئےخُدا کا شکر اور تعریف کرتے ہیں۔ لیکن جب عظیم ایذارسانیاں آئیں گی ، ہم خوفناک آفتوں اور موت سے نجات دینے کے لئےبھی سب چیزوں کےساتھ، خُدا کے شکرگزار اور اُس کی تعریف کریں گے ۔ صرف خُدا ہی ہمیں مخالفِ مسیح کے ہاتھوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ خُدا کے سوا کوئی نہیں ہے۔ چونکہ ہم اُس خُدا پر اپنا ایمان اور اُمید رکھتے ہیں ، اور اِس لئے کہ ہمیں یقین ہے اور اُمید ہے کہ خُدا ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا اور ہمیں ہزار بادشاہی اور نئے آسمان اور زمین میں ہمیشہ کی خوشی میں زندگی گزارنے کی اجازت دے گا ، لہذا ہم آنےوالی تمام ایذارسانیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں اور اِن پر غالب آسکتے ہیں۔
وہ وقت آئے گا جب مخالفِ مسیح ہمیں اپنی شبیہ کے سامنے گھسیٹ کر یہ مطالبہ کرے گا کہ ، "اِس شبیہ کوسجدہ کرو، اور مجھے خُدا کہو۔ یسوع خُدا نہیں ہے۔ مَیں خُدا ہوں ، اور مَیں وہی ہوں جو تم کو بچاؤں گا۔" اِس طرح جب مخالفِ مسیح ہم سے اُس کی عبادت کا مطالبہ کرتا ہے تو ،ہم گھبرا سکتے ہیں ، لیکن ہم میں سےوہ جو نئےسرےسے پیدا ہوچکےہیں کبھی بھی اُس کی شبیہ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں اُس کےنام کانشان لینے پر مجبور کرنے کے بعد ، مخالفِ مسیح ہمیں اپنے غلاموں میں بدل دے گا ، لوگوں کو مارنے کے لئے ہمیں استعمال کرے گا ، اور آخر میں ہمیں بھی مار ڈالے گا۔
وہ وقت آئے گا جب یہ مخالفِ مسیح خود کو خُدا کہلوانے کے لئے کھڑا ہوگا۔ یہ مستقبل میں زیادہ دور نہیں جب مخالفِ مسیح اپنےسامنے اپنی بہت بڑی شبیہ بنائے گا ، پوری دُنیا میں ہر ایک سے مطالبہ کرے گا کہ وہ اُسے خُدا کہیں، اور اُس کی حمدوثناءکرنےوالوں کے گروہ بنائیں۔ اگر اس وقت امن موجود ہے اور قدرتی ماحول صحت مند اور خوبصورت ہے توشاید ، کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایک نئی دُنیا کاآغازہوگیا ہے۔ لیکن جنگل جل جانے کے ساتھ ، سورج غائب ہو گیااور زمین پرتاریکی چھاگئی، لوگ چیخنے لگے جیسا کہ وہ مرتےہیں، اور کوڑا کرکٹ اور آدھی جلی ہوئی لاشیں سڑکوں پر بےترتیب پڑی ہوئی ہیں ، ہم میں سے کوئی بھی کبھی بھی مخالفِ مسیح کی شبیہ کے سامنے جھکنے اور اُس کوخُدا کےطورپر پکارنے کا حکم نہیں مان سکتا ہے۔ ہرنئےسرےسے پیدا ہونے والا ایماندار اُس وقت جانتا ہو گا ، کہ یہ خُدا کے کلام کے ذریعہ پیشن گوئی کیےجانےوالا مخالفِ مسیح ہے۔
رُوح القدس بھی ہمیں سکھاتا ہے۔ وہ ہمیں ایسے دل دیتا ہے جو کبھی نہیں ہتھیار ڈالتے۔ وہ ہمیں دلیردل دیتا ہے ، جو کہتا ہے کہ ، "اگر تم چاہو تو مجھے مار ڈالو ، لیکن اگر مَیں مرجاؤں گا تو خُداوند میری موت کا بدلہ تم سے لے گا ، اور وہ یقینی طور پر مجھے جِلائے گا!" ہمیں یقین ہے کہ جس طرح ہمارا خُداوند تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھا ، اِسی طرح ، ہمیں ،بھی ، پھر زندہ کِیا جائے گا۔ اور خُداوند ہمیں کسی بھی ناکامی کےبغیراُٹھالےگا۔
 
 
راستبازکبھی بھی مخالفِ مسیح کےآگےہتھیارنہیں ڈالیں گے
 
وہ لوگ جنہوں نے یہ وعدےکاکلام سُنا ، کہ خُدا پہلی دُنیا کو برباد کردے گا اور ہزارسالہ بادشاہی
کو اِس کی جگہ تعمیر کرے گا تاکہ راستبازاِس پر ایک ہزار سال تک حکمرانی کریں، اور اِس پر ایمان رکھ کر نئےسرےسےپیداہونےوالے ،مخالفِ مسیح کے سامنے کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ کیونکہ جیسےہی رُوح القدس اُن کے دلوں میں سکونت کرے گا تو وہ سب کچھ جان لیں گے۔لیکن جن کے پاس رُوح القدس نہیں ہے وہ اپنی جانوں کے لئےبھیک مانگیں گے اور شیطان کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے ، اِس خوف سے کہ اگر وہ پہلےسےموجود ایک مکمل نئی دُنیا کی مانند غالب دھارے کی پیروی کرنے سے انکار کردیں گے تو اُن کی جانیں ضائع ہوجائیں گی۔ جب ہر شخص اِس طرح موت سے ڈرتا ہے اور اُس کا غلام بن جاتا ہے ، تو صرف نئےسرےسےپیداہونےوالے ہی موت کے اِس خوف سے آزاد ہوں گے اوردلیری کے ساتھ اپنی شہادت کو قبول کریں گے، ایسےعمل میں جو طلوع آفتاب کی طرح روشن ہوگا۔
نئےسرےسےپیدا ہونے والےایسا کرسکتےہیں کیونکہ اُنہیں اُمید ہے کہ وہ نئےبدنوں میں جی
اُٹھیں گے۔ یہ ہےکیوں رُوح القدس رکھنے والوں کو نہ صرف موت کا خوف ہوگا ، بلکہ وہ دراصل مخالفِ مسیح کے خلاف کھڑے ہوں گے اور رُوح القدس سے رواں ہونےوالےدلیرانہ الفاظ سے اُس کاتوازن ختم کردیں گے۔ وہ اب ڈرپوک ہو سکتے ہیں ، لیکن وہ لوگ جو رُوح القدس کے ذریعہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنےسے مُہر کیےجا چکے ہیں ، رُوح القدس کے ذریعہ ، وہ الفاظ بولیں گے جسکا اُن کے دشمن بالکل بھی جواب نہیں دے سکتے ہیں۔ ہم خُدا کے اِس کلام پرایمان رکھتے ہیں۔
مخالفِ مسیح پریشان ہو جائے گا جیسےہی مقدسین اُس کو یہ کہتےہوئےاعلان کریں گے ، "تم خود کو خُدا کہنے کی کیسے ہمت کرسکتے ہو! تم کو آسمان سے باہرنکال دیا گیا تھا، اور جلد ہی تم کو زمین سے بھی نکال دیا جائے گا! اب تمہارے دن گنے جا چکے ہیں!" صرف چند ہی نہیں ، بلکہ دُنیا کی تمام قوموں میں سے ایک ان گنت جماعت بھی مخالفِ مسیح کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوگی۔ مخالفِ مسیح پھر اُن سب کو مار ڈالے گا۔ اُس وقت ، مقدسین کبھی بھی غلام نہیں بنیں گےیہاں تک کہ اُنہیں موت کی سزا دی جائے۔ جیسا کہ خُدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے ، کہ "نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بیٹھا ہے ، اور برّےکی طرف سے!،" ہم رُوح القدس سے بہتے ہوئے اپنے ایمان کی اُمید اور عظیم یقین کے ساتھ مر جائیں گے۔
جیسا کہ اعمال کی کتاب گواہی دیتی ہے ، جب ستفنس کو سنگسار کِیاگیا تو، اُس نے آسمان کی طرف دیکھا اور ایک رویامیں خُدا کا تخت دیکھا ، اور یسوع کوخُداکے دائیں ہاتھ پر کھڑےاُس کا استقبال کرتےدیکھا۔ یہاں تک کہ جب وہ مر رہا تھا ، ستفنس نے اُن لوگوں کی معافی کے لئے دُعا کی جو اُس کوسنگسار کر رہے تھے ، بالکل اِسی طرح جیسےیسوع نے اُن لوگوں کی معافی کی دُعاکی جنہوں نےاُسےمصلوب کِیا تھا۔
ستفنس کی طرح ، آخری اوقات کے شہید مقدسین، رُوح القدس سے بھر پور ہونے کی وجہ سے ، ڈگمگاتے نہیں بلکہ دلیربن جاتے ہیں۔ اگرچہ اب وہ ڈرپوک ہوسکتے ہیں اور اِن کےایمان کمزور معلوم ہوسکتے ہیں ، اب جویہ کلام سُنتےہیں جب یہ وقت آئے گا،دلیرانہ ایمان رکھیں گے۔
ڈریں مت۔ خوف کی کوئی بات نہیں ، مخالفِ مسیح کےظہور سے لے کر ایذارسانیوں کی ہوا تک یہ سب چیزیں صرف خُدا کی اجازت سے اور اُس کے منصوبے کے تحت ہی ہوں گی جیسا کہ مُکاشفہ ۶ باب میں ظاہر ہوتا ہے۔
شہادت ہماری اپنی جسمانی طاقت سے نہیں آئےگی۔ شہادت صرف رُوح القدس کی طاقت اور
سچائی پر ہمارے ایمان سے ہی ممکن ہے۔ دوسرے لفظوں میں ، خُدا پر ، اُس کے وعدے کے کلام پرایمان رکھ کر ، اور حقیقت پر کہ قادر مطلق خُدا ہمارا خُدا ہے ، ہم شہید ہو سکتے ہیں۔
اب آپ کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ خُدا نے اپنے منصوبے کے سات اَدوار میں ہمیں جس شہادت کی اجازت دی ہے وہ خُدا کی عاقبت اندیشی ہے۔ آئیے ہم اپنی شہادت کے بارے میں ، ہمارے لئے خُدا کے منصوبے کے ایک حصےکےطورپرسوچیں، اپنی خواہشوں کے مطابق نہیں سوچیں ، بلکہ اِس کی بجائے خُدا کی مرضی کے مطابق اِس پر اپنے دلوں سےایمان رکھیں۔ آئیے ہم خُدا کے کلام پر ایمان رکھیں ، کہ جب ہماری شہادت کا وقت آئے گا ، خُدا ہمیں اِس کا سامنا کرنے کے لئے ضرورت سےزیادہ طاقت عطا کرے گا۔
ہرزمانے میں ایک مطلق حکمران ہوتا ہے۔نئےسرےسےپیدا ہونے والوں پر خُدا کی حکمرانی ہوتی ہے، جبکہ وہ جو نئےسرےسے پیدا نہیں ہوئے اُن پرشیطان کی رُوح حکمرانی کرتی ہے۔ جب آخری وقت آئے گا ، نئےسرےسےپیدا ہونے والے، خُدا کی حکمرانی کے ماتحت ، تمام آزمائشوں اور ایذارسانیوں کوبرداشت کرنے کے لئے اُسی سےطاقت حاصل کریں گے۔ اِس کے برعکس ، جن لوگوں پر شیطان کا راج ہے اُن کے پاس اُس کی مرضی کی پیروی کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا ، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں، کیوں کہ وہ شیطان کے زیر اقتدار ہیں۔
لیکن واقعتاًکس کی طاقت عظیم ہے؟ آیا ہم بابرکت ہیں یا لعنت یافتہ اِس کا تعین خُدا اور شیطان کے مابین کس کی طاقت زیادہ ہےسے کِیاجاسکتاہے۔آخرکارآخری ا وقات میں کون بچایا جاتا ہے اِس کا تعین اِس بات سےہوتاہےکہ کس پرہم ایمان رکھتےاورکس کی پیروی کرتے ہیں ، کس کے الفاظ پر ہم اعتماد کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو خُدا اور اُس کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو حفاظت ، برکت ، اور اُس کی قادر ِمطلق قدرت اور اختیار کے وسیلے ابدی زندگی دی جائے گی۔ لیکن جن لوگوں نے شیطان کےالفاظ کوسُنا اور اُس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے اُن کو اُس کے ساتھ ہی جہنم میں پھینک دیا جائے گا، جو اُن کو جہنم سے نجات دینے کے لئے بے اختیار ہے۔ یہ ہےکیوں خُدا نے مُکاشفہ ۱-۷ ابواب کے ذریعے اپنا کلام دیا۔
آٹھواں باب اور اِس کے بعد کےابواب میں، مُکاشفہ تفصیل سے قلمبند کرتا ہے کہ زَرد گھوڑے کے دور میں کیا ہوگا۔ سب سے پہلے تو ، سات نرسنگوں کی آفتیں زمین پر اُتریں گی۔ اِن سات آفتوں میں سے آئیے آیت ۷ میں پائےجانے والی پہلی آفت کی طرف رجوع کریں: " اور جب پہلے نے نرسِنگا پُھونکا تو خُون مِلے ہُوئے اَولے اور آگ پَیدا ہُوئی اور زمِین پر ڈالی گئی اور تِہائی زمِین جل گئی اور تِہائی درخت جل گئے اور تمام ہری گھاس جل گئی۔" پہلے نرسنگےکی آفت کے ساتھ ، خون مِلےہُوئے اَولے اور آگ زمین پر برسے گی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہوگا جب زمین پر آگ برسے گی ، کیوں کہ سیارہ زمین متعدد مواقع پر شہاب ثاقب یا دُمدارستاروں کا نشانہ بنی ہے۔
ابھی تک ، ان میں سے کوئی بھی اتنا تباہ کن نہیں ہوسکاکہ پوری دُنیا میں تباہی لاسکے ، لیکن جب زَرد گھوڑے کا دور آجائے گا ، تو ایذارسانیوں کی تیز ہوا زمین پر چھا جائے گی۔ جب یہ ہوا طوفان کی شکل میں طلوع ہوتی ہے اور فطرت کو بہا لے جاتی ہے ، تو اِس زمین پر آگ برسے گی اور درختوں اور تمام گھاس کا ایک تہائی جلا کر رکھ دے گی ، اور ہر ایک اِس تیز آگ کو بجھانےکے لئے نکل پڑے گا۔
خُدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے کہ دُنیا کے جنگلات پہلی آفت سے جل جانے کے بعد ، آگ سے جلتا ہوا ایک بہت بڑا پہاڑ سمندر میں گر پڑے گا—غالباًیہ ایک دُمدارستارےکی طرح ہی ہوگا۔ تیسری آفت کے ساتھ اِس کی مزید وضاحت کی گئی ہے: "اور جب تِیسرے فرِشتہ نے نرسِنگا پُھونکا تو ایک بڑا سِتارہ مشعل کی طرح جلتا ہُؤا آسمان سے ٹُوٹا اور تِہائی دریاؤں اور پانی کے چشموں پر آ پڑا۔"ایک دُمدارستارہ، دوسرے لفظوں میں ، زمین سے ٹکرا جائے گا۔ جیسا کہ فلم ڈیپ امپیکٹ، جہاں ایک دُمدارستارہ سمندر میں گرتا ہے اور بہت بڑی سمندری لہریں اُٹھتی ہیں ، تیسری آفت اِسی طرح کی تباہی لائے گا۔آفت اِس فلم کی طرح شایداتنی تباہ کن نہیں ہوسکتی ہے ، لیکن زمین کے مختلف مقامات پر حملہ کرنے والے شہاب ثاقب کرہ ارض کو بامعنی نقصان پہنچائیں گے۔ سمندری لہریں سمندر میں موجود ایک تہائی جانداروں کو ہلاک کردیں گی اور ایک تہائی سمندری جہازوں کوتباہ کردیں گی۔
جب ایذارسانیوں کی ایسی ہوا چلناشروع ہوجائےگی ، تو ہم زَرد گھوڑے کے دور کی آمد کو تسلیم کریں گے۔ مستقبل میں ، جب آپ اپنے ٹی وی پر جھلکتی ہوئی بریکنگ نیوز دیکھتےہوئےیہ سُنیں گےکہ آسمان سے آگ برس رہی ہے اور یہ کہ دُنیا کے ایک تہائی جنگلات دھواں میں جل رہے ہیں ، تو آپ کو احساس ہونا چاہئے کہ جو کچھ متوقع تھا وہ آخرآ گیا ہے۔ جب حکومتیں بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہرکسی کو آگ سےبچانےکےلئے متحرک کرتی ہیں ، تو آپ کو یقینی طور پر یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ اختتام کا آغاز
آخرہوچکاہے۔
ہم میں سے جو اب پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ، نجات کی اُمید جو ہمیں اِن
خوفناک آفتوں سے نجات دلائے گی وہ صرف قادرِمطلق خُدا میں پائی جاتی ہے۔ جب مخالفِ مسیح ہمیں مار ڈالے گا تو، ہم شہید ہوجائیں گے کیونکہ ہم اُس سے مقابلہ کرنے کےلئےکوئی دنیاوی طاقت نہیں رکھتے ہیں، لیکن اِس کے باوجود ہم بڑی خوشی سے شہید ہوجائیں گے۔ قادرِمطلق ہم میں سے اُن لوگوں کو جِلائے گا جو اِن بھیانک ایذارسانیوں کے درمیان ایمان سے شہادت قبول کرتے ہیں ، اور خُداوند ہمارا چرواہا بن جائے گا اور ہمیں زندگی کے پانی کے چشموں کی طرف لے جائے گا۔
خُدا کی بادشاہی کی تعمیر کے بعد ، جہاں ہم پھر کبھی آگ ، پیاس اور سورج کےنقصانات میں مبتلا نہیں ہوں گے ، خُدا ہمیں وہاں لے جائے گا۔ کلام ہمیں بتاتا ہے کہ خُدا ہمارے ساتھ اِس بادشاہی میں رہے گا ، ہمیں تسلی دے گا ، ہمارے آنسو پونچھے گا ، اور ہمیں ہمیشہ کے لئے جلال سے جینے کی اجازت دے گا ، تاکہ ہم دوبارہ کبھی تکلیف کا شکار نہ ہوں۔
 
 
وعدےکے کلام پرمضبوطی سے قائم رہیں
 
جب میں بائبل میں ٹھہرتا ہوں ، تو میرا دل رُوح القدس سے اُمید کے ساتھ بھر جاتا ہے ، اور مجھے احساس ہوتاہے کہ صرف خُدا ہی ہمیں اِن خوفناک آفتوں سے نجات دلا سکتا ہے۔ " خُداوند یسوع،آ!" مجھے اپنےخُداوند پر یقین ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ مجھے بھیانک ایذارسانیوں سے بچائے گا ، جس طرح اُس نے مجھے میرے تمام گناہوں سے نجات دی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ میرے ساتھی مقدسین کو بھی اِسی طرح نجات دے گا۔ مجھے یقین ہے کہ میری نجات ، حتیٰ کہ آخری دنوں میں مسیح کی آمدِثانی سے پہلے ہی ، ہمارے خُدا کی طرف سےہے جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّےکی طرف سےہے، اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی نجات ،بھی ،خُدا میں ملتی ہے۔
دُنیاجلدہی عظیم ایذارسانیوں کی آمد کے ساتھ آفتوں اور تباہیوں سے بھرجائےگی۔ لیکن اِس سے قطع نظر کہ یہ دُنیا کتنا ہی مشکل کی طرف رُخ اختیار کرتی ہے ، میراایمان ہے کہ ہمارا خُدا ہمیں اُس وقت کی آفتوں اورایذارسانیوں اور ہمارے دشمنوں کے ظلم و ستم سے نجات دے گا ، کیونکہ خُدا نے ہمیں
ہمارے تمام گناہوں سے نجات بخشی ہے ، ہمیں اُس کےفرزند بننے کا حق دیا ہے۔ اور ہمیں ایسا بنادیاہے۔
جو نئےسرےسے پیدا نہیں ہوئے ہیں وہ ہم سے کہیں زیادہ کمبخت ہیں۔ جب ہر چیز جل رہی
ہوگی اور افراتفری روزبروز بڑھ رہی ہوگی تو ،خُدا پرمطلق ایمان نہ رکھنا کتنا اذیت ناک ہوگا؟ کچھ لوگ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ بدھ مت ہو یا کوئی اورمذہب ،وہ اپنے مذہب پرمایوسی سےقائم رہیں گے ، لیکن اُنہیں اِن میں کوئی اُمید نہیں ملے گی۔ صرف مایوسی اورناکامی ہی اُن کا انتظار کرے گی۔ بہت سارے لوگ ہوں گے جواِس طرح کی مایوسی کی حالت میں اپنی موت کا سامنا کرتےہیں۔ ہمیں، بھی ،اُن لوگوں کی طرح افراتفری اور وہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن ہمارے دل اُن سے مختلف ہیں۔ ہم جو اب اپنے ایمان کی تیاری کر رہے ہیں باقیوں سے مختلف ہیں ، کیونکہ خُدا نے پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ذریعہ ہم کو بے عیب بنادیا ہے۔
یوحنا ۱: ۱۲ہمیں بتاتا ہے ، " لیکن جِتنوں نے اُسے قبُول کِیا اُس نے اُنہیں خُدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر اِیمان لاتے ہیں۔" خُدا نے دوسرے الفاظ میں ، اُس کے فرزندبننے کے حق کے ساتھ ، یہ کہتےہوئے ، ہم پر مُہر کردی ہے ، "تم میرے فرزند ہو۔" اُس نے ہمیں یہ زبردست اور عظیمُ الشان حق بخشا ہے۔ ہم خُدا کے فرزندہیں۔ جب ہم پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں تو، کیا ہمارے دلوں میں اب بھی کوئی گناہ باقی ہے؟ بالکل نہیں! ہر چیز سے ، کیا ہم خُدا کے فرزند نہیں بنے ہیں؟ یقیناًہم بنےہیں! اگر خُدا کے فرزندین کو صحیفہ کے علم کا فقدان ہے اور اُن میں بہت سی کوتاہیاں ہیں تو کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا اُن کے باپ کی طرح اُن کی حفاظت نہیں کرے گا؟یقیناً نہیں! جس طرح والدین اپنے بچوں پر زیادہ توجہ دیتےاور دیکھ بھال کرتے ہیں جوعلم کافقدان رکھتےہیں ، خُدا ہم میں سے کمزور لوگوں کوبھی زیادہ سے زیادہ طاقت اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
جب مخالفِ مسیح کے وقت کی آمد کے ساتھ افراتفری روزبروزبڑھتی ہے تو، خُدا رُوح القدس کے ذریعہ اپنے فرزندوں کو مضبوط بنائے گا ، اور اُن کو ایمان ، اُمید اور دلیری دے گا۔ کیونکہ وہ ہمیں دلیری دے گا ، ہمیں کوئی خوف نہیں ہوگا۔ ڈرنے کی کوئی بات نہیں سوائے اُس خوف کےجوہمارے دلوں میں اُبھرتا ہے۔ لوگ اِس سے دوررہ کر اپنے آس پاس ہونے والے واقعات سے بچ سکتے ہیں ، لیکن اپنے دلوں میں خوف سےکبھی نجات نہیں پاسکتے چاہے وہ کہیں بھی چلےجائیں۔ نہ ہی خوابگاہوں میں چھپ کر ، نہ تہہ خانوں میں ، نہ ہی بم سےبچانےوالی پناہ گاہوں میں ، وہ اِس خوف سے بھاگ سکتے ہیں جس نےاُن کے دلوں کو جکڑا ہوا ہے۔
مقدسین کے دلوں میں ، اِس کے برعکس ، کوئی خوف نہیں ، صرف دلیری ہے، اور وہ اِس طرح بہادری کےساتھ اپنی شہادت کا مقابلہ کرسکتے ہیں ، اپنے آپ سے کہتےہوئے ، "جو وقت آنےوالا تھا وہ آخر آ گیاہے۔ یہ خُداوند کی واپسی کا وقت ہے! وہ جلد ہی ہمیں لے جائے گا! " یہ ہے جب اُٹھایاجانا واقع ہوگا— آج کےدن کی طرح یہ حسب معمول دن نہیں ہوگا ، بلکہ دُنیا کا ایک تہائی دھواں سےجل رہاہو گا۔ لیکن اِس سے پہلے کہ ایذارسانیاں اور بھی بدتر ہوجائیں ، خُدا مقدسین کو ہوا میں اُٹھالے گا۔
کیا آپ کو اب یقین ہے کہ خُدا نے واقعی آپ کے لئے سات اَ دوار مقرر کیے ہیں؟ مُکاشفہ ۶ باب ہمیں بتاتا ہے کہ اُس نےایسا کِیا۔ جیسا کہ اُس نے مقرر کِیا ہے ، خُدا سب کچھ مقدسین کے برداشت کرنے کے لئے بالکل اُسی طرح لائے گا جیسا لکھا ہواہے۔ ایسے ہی ، جن کے گناہوں کا کفارہ دیا گیا ہے وہ بہت با برکت ہیں ، لیکن وہ لوگ جو ہچکچاتے ہیں اور خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ بدبخت ہیں ، وہ جہنم میں ختم ہوں گے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ مستقبل میں بھیانک آفتیں آئیں گی ، اور جب یہ آفتیں ختم ہوجائیں گی ، جو نئےسرےسےپیدا نہیں ہوں گے اُن کو ابدی آگ اور گندھک کی جھیل میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ ہےکیوں خُدا نے ہمیں اب ایک پُر امن دُنیا عطا کی ہے ، اورکیوں اُس نے ہمیں اتنے پُر امن وقت میں اپنی خوشخبری سونپی ہے۔
خُدا ایک انسان کے جسم میں لگ بھگ ۲۰۰۰ء سال قبل اِس زمین پر آیا۔ ہماری خاطر ، اُس نے ہمارے تمام گناہوں کو قبول کرنے کے لئے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مرگیا، ہمیں دُنیا کے تمام گناہوں سے نجات دلائی۔ ہمارے نجات دہندہ کی حیثیت سے ، اُس نے ہمیں بچایا۔ اُس نے ہمیں اپنی برکت سے نوازا جس نے ہمیں خُدا اور اُس کی نجات پرایمان رکھ کر بچائے جانے کی اجازت دی۔ یہ خُدا کافضل ہے۔ یہ خوشخبری ہے جس نے ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور خُدا کی عدالت سے نجات دی، خُدا کے اکلوتے بیٹے کو ہمارے پاس بھیج کر ، ہمارے تمام گناہوں کو اُسی پر منتقل کر دیا، اور ہماری جگہ اپنےہی بیٹےکی عدالت کی۔ اب اِس پر ایمان رکھ کر ، ہم خُدا کے فضل سےملبوس ہو جاتے ہیں ،اور اُس کی طرف سے ابدی زندگی حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ ہم اِس پر ایمان رکھتے ہیں ، ہم خُدا کے فرزند بن گئے ہیں ، اور چونکہ اب ہم خُدا کے فرزند بن گئے ہیں ، جب آخری دنوں کی ایذارسانیاں اپنے سب سے سخت مرحلے میں بدل جائیں گی تو وہ ہمیں اوپربلائے گا اور ہماری حفاظت کرے گا۔
اُس وقت ، خُدا کے فرزند اور شیطان کے فرزند ایک دوسرے سے واضح طور پر الگ ہوں گے۔
اِن کے واضح اختلافات صاف طور پر نمایاں ہوں گے۔ اِس پر مزید تفصیل کے ساتھ مباحثہ بعد میں کِیاجائےگا۔ آپ کو ابھی تک جو چیز یاد رکھنی چاہئے وہ یہ ہے کہ جب ہمارے پاس عظیم ایذارسانیاں آئیں گی اور ہم شہید ہوجائیں گے ، تب ہم خُدا کے سامنے جی اُٹھیں گے اور اُٹھائےجائیں گے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کوئی اِس پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں؛اِس سے قطع نظر یہ ہو گا ، کیونکہ خُدا نے کہا ہے کہ وہ ہواؤں کو اُٹھائے گا اور اِسی طرح اِن تمام چیزوں کو انجام دے گا۔
آیت ۱ ہمیں بتاتی ہے ، " اِس کے بعد مَیں نے زمِین کے چاروں کونوں پر چار فرِشتے کھڑے دیکھے ۔ وہ زمِین کی چاروں ہواؤں کو تھامے ہُوئے تھے تاکہ زمِین یا سمُندر یا کِسی درخت پر ہوا نہ چلے۔" خُدا اِن ہواؤں کو تھامتا ہے تاکہ وہ ابھی نہ چلیں۔ دوسرےلفظوں میں بیان کرتےہوئے ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب خُدا اجازت دیتا ہے ، تو یہ ہوائیں زمین کے چاروں کونوں سے چلیں گی۔ جب خُدا کے ذریعہ اجازت دی جائے گی، تو خُدا کے فرشتے ان ہواؤں کو چھوڑیں گے اور زَردگھوڑے کے دور کی راہنمائی کرنےوالےہوں گے۔ جب اِس طرح عظیم ایذارسانیوں کی ہوا چلے گی تو، دُنیامیں ہر جگہ قدرتی آفات اور جنگیں لائیں گی ، ہر شخص پوری تباہی کے ٹھیک درمیان ہوگا۔ لیکن اب تک ، خُدا نے اِن ہواؤں کو مضبوطی سےتھام رکھا ہے۔
دُنیا بھر کے ممالک اسلحے کی پیداواری میں بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ وہ وقت آسکتا ہے جب عظیم طاقتیں اپنی جی این پی کا ۳۰ فیصدتک بھی فوجی اخراجات پر صرف کردیں گی۔ حتیٰ کہ ابھی بھی ، بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانےوالےنئے ، زیادہ مہلک ہتھیاروں کو تیار کرنے کی کوشش میں،فوجی اخراجات کےلئےوسائل کی ایک بڑی رقم کامنصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ جب بھی معیشت بحال ہوجاتی ہے تو ، اِس کی زائد رقم فوجی اخراجات کو بڑھانے میں صرف کردی جاتی ہے۔
مثال کے طور پر ، امریکہ،اب میزائل دفاعی نظام تیار کرنے پر زور دے رہا ہے جسے "سٹار وار پلان" کہا جاتا ہے۔ جب یہ نظام مکمل طور پر تیار ہوجائے گاتو ، نہ صرف زمین پر ، بلکہ خلامیں بھی ، جنگ لڑی جائے گی ، مسلح مصنوعی سیارے فضامیں اُڑنے والے بیلسٹک میزائلوں کو اپنے میزائلوں سے فضا سے باہر گرا ئیں گے۔ اِس کے بعد فضائی جنگ کا ایک بالکل نیا مطلب ہوگا۔ اِس طرح اب یہ سوال اُٹھایا جارہا ہے کہ بالائےفضائی ہتھیاروں کو تیار کرنے اور فوجی استعمال کے لئے فضا پر غلبہ حاصل کرنے میں پہل کون کرےگا؟
اِس طرح کی پیشرفتوں کو دیکھ کر ، ہم یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ جب خُدا اجازت دےگا ، اور جب خوفناک آفتیں زمین پر اُتریں گی تو ، پیشنگوئی کیےجانےوالا حکمران مطلق طاقت کے ساتھ جلد ہی ظاہرہو گا۔
تاہم ، یہ سب چیزیں تب ہی واقع ہوسکتی ہیں جب خُدا نے اِن کی اجازت دی۔ اِس سے قطع نظر کہ دُنیا کتنی ہی مشکل کی طرف رُخ اختیار کر لے ، ہمیں یقین ہے کہ خُدا ہمارا چرواہا بن جائے گا ، زندگی کےپانی کے چشموں کی طرف ہماری رہنمائی کرے گا ، اور ہماری آنکھوں سے سب آنسو پونچھ دےگا۔ یہ ہےکیوں نجات پانے والے بہت زیادہ بابرکت ہیں۔
جب آپ یسوع پر ایمان رکھتے ہیں تو ، آپ اُس پر اِس طریقےسےایمان نہیں رکھ سکتے ،کہ آپ کس طرح محسوس کرتے ہیں۔حقیقی ایمان اُن لوگوں کا ایمان ہے جو خُدا کے کلام پرایمان رکھتے ہیں۔
مُکاشفہ ۷:۱۴ہمیں بتاتا ہے ، " مَیں نے اُس سے کہا کہ اَے میرے خُداوند ! تُو ہی جانتا ہے ۔ اُس نے مُجھ سے کہا یہ وُہی ہیں جو اُس بڑی مُصِیبت میں سے نِکل کر آئے ہیں ۔ اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔ '' " اِنہوں نے اپنے جامے برّہ کے خُون سے دھو کر سفید کِئے ہیں۔" کا مطلب یہ ہے کہ وہ خُداوند پراپنے ایمان کے لئے شہید ہوئے تھے۔ اِس آیت کی تشریح میں محتاط رہیں؛ یہ صرف صلیب کے خون پرایمان رکھ کر نجات پانے کی طرف اشارہ نہیں کرتاہے۔
بلکہ ، جو چیز آپ کو محسوس کرنی چاہئے وہ یہ ہے کہ جن کے دلوں میں رُوح القدس سکونت نہیں کرتا ہےوہ خُدا کے فرزند نہیں ہیں ، اور جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان نہیں رکھتے وہی لوگ ہیں جو بالکل بھی خوشخبری پرایمان نہیں رکھتے ہیں۔صرف وہی لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنی شہادت کو قبول کر سکتے ہیں ،ایذارسانیوں پرغالب آسکتے ہیں ، اور اِس طرح خُداوند کو عظیم جلال دےسکتے ہیں۔
کیونکہ ہم خُدا پر بھروسہ کرتے ہیں ، جب عظیم مشکلات اور دُکھوں کا وقت آئےگاتو، ہم اپنا ایمان نہیں کھوئیں گے ، اور نہ ہی شیطان کے سامنے ہتھیار ڈالیں گے ، بلکہ خُدا کی طرف سے حاصل ہونے والی طاقت کے ساتھ دلیری سے اپنی شہادت کو قبول کرلیں گے۔ اِس کے بعد ہم خُداوند کے وسیلے زندہ کیےجائیں گے اور اُس کی حفاظت میں ہوں گے۔ برّہ ہمارا چرواہا بن جائے گا اور ہماری آنکھوں سے تمام آنسو پونچھ دے گا ، اور ہم نہ تو بھوک محسوس کریں گے ، نہ پیاسےہوں گے، نہ گرمی سے نقصان پہنچے گا ،اور نہ ہی کسی اور چیز سے دُکھ اُٹھائیں گے۔ کیوں؟ کیونکہ خُدا مصائب کو ہمیشہ کے لئے ختم کردے گا ، جیسا کہ ہم پہلے ہی عظیم ایذارسانیوں میں سے گزر چکے ہوں گے۔ خُدا کی دُنیا جسے آسمان کہا جاتا ہے یہ کتنی حیرت انگیز ہے۔ چونکہ یہ بہت ہی عمدہ مقام ہے ، لوگ اِس کو فردوس یا آسمان کہتے ہیں ، جیسےاِس سب کا
لُب لباب اچھاہے۔
فردوس لامحدود مسرت کا مقام ہے۔ بُدھ مت میں،فردوس صرف اُن لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو دیوتا ، بُدھابن گئے ہوں۔ لیکن کیا واقعی میں کوئی ہے جو بُدھا میں بدل سکتا ہے ، جو کوئی دیوتا بن سکتا ہے؟یقیناً نہیں! سدھارتھا نےبذاتِ خود اپنے بسترمرگ پر کہا ، "دیوتا بن جاؤ؛صرف دیوتا بن کر ہی آپ دُنیا کی تمام وحشتوں سے بچ سکتے ہیں۔" لیکن کسی کے لئے بھی گناہ سے بچنا اور خود اپنی ہمت سے اِس کے مہلک خوف پر غالب آناسادگی سےناممکن ہے۔ سدھارتھا خود بھی اِس سےبچنے میں ناکام رہا ، اور باقی سب بھی اِس سے نہیں بچ سکتے۔ جیسا کہ کلام ہمیں بتاتاہے ، " اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تَلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔" (اعمال ۴: ۱۲)۔ ہمیں نجات صرف خُدا ، یسوع مسیح نے دی ہے جس نے کائنات اور ہمیں پیدا کِیا۔ یہ سچائی ، کہ یسوع مسیح نجات دہندہ ہے جو ہمیں بھیانک خوفناک آفتوں سے نجات دے گا ،یہ ہے جو خُدا پاک رُوح کےوسیلے ہمیں سکھا رہا ہے۔
آسمان سب سے حیرت انگیز جگہ ہے۔ کیا آپ عزت اور جلال میں ہمیشہ خوش رہنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ گِراں قدرطور پر پہچانے جانا چاہتے ہیں اور ابدی خوشی میں رہنا چاہتے ہیں؟ کیا آپ کاملیت اور فراوانی کے ساتھ جینا چاہتے ہیں ، جہاں آپ کو کسی چیز کی کمی نہ ہو؟ وہ جگہ جس میں خُدا ہمیں رہنے کے لئے بلائے گا،ایسی ہی ہوگی۔ یہ آسمان ہے۔ اِس میں کچھ بھی کمی نہیں ہے ، اورنہ ہی کبھی بھی کوئی افلاس پایاجا سکتاہے۔ آپ پھر کبھی بیمار نہیں ہوں گے ، نہ ہی گرمی سے ستائے گی ، اور نہ ہی مزید آنسو بہانےپڑیں گے۔
جب یسوع کو مصلوب کِیا گیا تھا، اُس نے اُس ڈاکو سےکہا جو اُس کےساتھ مصلوب ہوا تھا ، "آج ہی تومیرے ساتھ فردوس میں ہو گا۔" "فردوس" کا لفظی طور پرمطلب مسرت کا باغ ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر کوئی خوشی اورمسرت سےشادرہ سکتا ہے۔ جو چیز ہمیں اِس زمین پر خوشی اور مسرت بخشتی ہے یہ جگہ اُس سب سےلبریزہوگی، جہاں خُدا ہمیں رہنے کےلئےبلائےگا۔ اِس پر ایمان رکھیں، اور اِس آسمان کو ، اِس فردوس کواور ، خُدا کی بادشاہی کو اپنا بنائیں۔ خُدا کی بادشاہی کامل اور اچھی ہے ، کیوں کہ اِس زمین کی بادشاہیوں کی طرح کوئی بھی نامکمل چیز اُس میں نہیں پائی جاتی ہے۔
چونکہ خُداقادرِ مطلق ہے ، لہذا وہ ہمیں یہ بادشاہی عطا کرے گا۔ کیونکہ ہمارا خُداوندقادر ِمطلق خُدا ہے ، وہ اپنے لوگوں کو نجات دے گا اور اُن کی آنکھوں کےسب آنسوؤں کو پونچھ دےگا ،اور نہ ہی وہ پھرکبھی کسی تکلیف میں مبتلا ہوں گے۔ وہ ہمیں زندگی کےپانی کے چشموں کی طرف لے جائے گا۔ وہ ہمیں ابدی زندگی ، ابدی خوشی اور ابدی مسرت کے بیچ رہنے کی رہنمائی کرے گا۔ مجھے یقین ہے ، یہ ساری چیزیں ممکن ہیں ، کیوں کہ اُس کی قدرت قادرِمطلق ہے۔
اگر خُدا جس نے ہمیں بچایا ہے بے اختیار تھاتو، پھر ہم بھی بے اختیار ہوتے۔ لیکن خُدا جس نے ہمیں نجات بخشی ہے وہ قطعی، قادر مطلق طاقت رکھتاہے۔ اُس نے ہمیں اپنی مطلق طاقت سے بے گناہ بنادیا ہے ، اور اِس طرح ہم اُس کے مقدسین کہلاتے ہیں۔
اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہم اِس زمین پر کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کیونکہ ہم خُدا کے فرزند ہیں اور بادشاہوں کے بادشاہ کی طاقت رکھتے ہیں ، یہاں تک کہ اگر ہماری زندگیاں اُن لوگوں سے بدترہیں جو ابھی تک نئےسرےسےپیدا نہیں ہوئے ،مگر جب زَردگھوڑے کا دور آئے گا اور خُداوند واپس آجائے گا ، وہ یقیناًہمیں اوپربلائے گااوراُس کے فردوس میں رہنے کی اجازت دےگا۔ ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی اور پوری طاقت کے ساتھ حکمرانی کریں گے ، یہاں تک کہ فرشتے بھی ہمارے خادمین ہوں گے۔ مقدسین ہمیشہ بُلند مَنصب اور وقار کے ساتھ رہیں گے۔
مقدسین کبھی بھی ہمیشہ کے لئے نہیں مریں گے۔ یہ ہے جس کا تمام مذاہب خواب دیکھتے ہیں—ابدی طور پر زندہ رہنے، حکمرانی کرنے اور آسمان میں داخل ہونے کا خواب۔یہ برکت صرف میرے لئے ہی نہیں ہے ، بلکہ خُدا نے آپ کو بھی اُسی برکت سےنوازا ہے۔
جب وقت آئےگا تو ، مجھے یقین ہے ، خُدا ایذارسانیوں کی ہوا اُٹھائے گا ، اور جب ایذارسانیوں کی یہ ہوا چلےگی تو ، وہ ہمیں شیطان کے خلاف کھڑا ہونے کے لئے مضبوط بنائے گا ، اور بالآخر ہمیں دور لے جائے گا۔ اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ وہ ہمیں ابدی طور پر خوشی میں رہنے دے گا۔
کیا خُدا نے اِن سب چیزوں کا وعدہ نہیں کِیا؟ یقیناًاُس نےکِیا ہے! اُس نے ہمیں بتایا ہے، " تُمہارا دِل نہ گھبرائے ۔ تُم خُدا پر اِیمان رکھتے ہو مُجھ پر بھی اِیمان رکھّو۔میرے باپ کے گھر میں بُہت سے مکان ہیں ۔ اگر نہ ہوتے تو مَیں تُم سے کہہ دیتا کیونکہ مَیں جاتا ہُوں تاکہ تُمہارے لِئے جگہ تیّار کرُوں۔اور اگر مَیں جا کر تُمہارے لِئے جگہ تیّار کرُوں تو پِھر آ کر تُمہیں اپنے ساتھ لے لُوں گا تاکہ جہاں مَیں ہُوں تُم بھی ہو۔" (یوحنا ۱۴:۱-۳)۔ یہ ہے جس کاہمارےخُداوند نےہم سے وعدہ کِیا ہے۔ مُکاشفہ ۲۰-۲۲میں خُدا کا سارا کلام ہمارے لئے اُس کےوعدوں کاکلام ہے۔
ہیلیلویاہ! مَیں پورےدل سے خُدا کا شکر ادا کرتا ہوں۔