خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-2] <یسعیاہ ۵۲:۱۳۔۱۵،۵۳:۱۔۹> ہمارا خُدا وند جس نے ہمارے لئے دُکھ اُٹھایا

>یسعیاہ ۵۲:۱۳۔۱۵،۵۳:۱۔۹ <
دیکھو میرا خادِم اِقبال مند ہو گا۔وہ اعلیٰ و برتر اور نِہایت بُلند ہو گا۔جِس طرح بُہتیرے تُجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے) اُس کا چِہرہ ہر ایک بشر سے زائِد اور اُس کا جِسم بنی آدمؔ سے زِیادہ بِگڑ گیا تھا) ۔اُسی طرح وہ بُہت سی قَوموں کو پاک کرے گا۔اور بادشاہ اُس کے سامنے خاموش ہوں گے کیونکہ جو کُچھ اُن سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے اور جو کُچھ اُنہوں نے سُنا نہ تھا وہ سمجھیں گے۔“
”ہمارے پَیغام پر کَون اِیمان لایا؟ اور خُداوند کا بازُو کِس پر ظاہِر ہُؤا؟ پر وہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خُشک زمِین سے جڑ کی مانِند پُھوٹ نِکلا ہے۔ نہ اُس کی کوئی شکل و صُورت ہے نہ خُوب صُورتی اور جب ہم اُس پر نِگاہ کریں تو کُچھ حُسن و جمال نہیں کہ ہم اُس کے مُشتاق ہوں۔ وہ آدمِیوں میں حقِیر و مردُود۔ مَردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا۔ لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے اُس کی تحقِیر کی گئی اور ہم نے اُس کی کُچھ قدر نہ جانی۔ تَو بھی اُس نے ہماری مشقّتیں اُٹھا لِیں اور ہمارے غموں کو برداشت کِیا۔پر ہم نے اُسے خُدا کا مارا کُوٹا اور ستایا ہُؤا سمجھا۔حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔ ہم سب بھیڑوں کی مانِند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پِھرا پر خُداوند نے ہم سب کی بدکرداری اُس پر لا دی۔ وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی اور مُنہ نہ کھولا۔ جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زُبان ہے اُسی طرح وہ خاموش رہا۔ وہ ظُلم کر کے اور فتویٰ لگا کر اُسے لے گئے پر اُس کے زمانہ کے لوگوں میں سے کِس نے خیال کِیا کہ وہ زِندوں کی زمِین سے کاٹ ڈالا گیا؟ میرے لوگوں کی خطاؤں کے سبب سے اُس پر مار پڑی۔ اُس کی قبر بھی شرِیروں کے درمِیان ٹھہرائی گئی اور وہ اپنی مَوت میں دَولت مندوں کے ساتھ مُؤا حالانکہ اُس نے کِسی طرح کا ظُلم نہ کِیا اور اُس کے مُنہ میں ہرگِز چھل نہ تھا۔“
خوشخبری اب تمام دُنیا میں پھیل رہی ہے
 
 
یہ دَور بے شک آخرت کی طرف رُخ کر رہا ہے۔ سیاست سے لے کر معاشیات تک، ہر چیز آخر ت کی طرف دوڑ رہی ہے۔ خاص طورپر، جنگ کی بڑی ہَوا مُنڈلا رہی ہے، جِس طرح اعلیٰ طاقتیں اب تک باقی دُنیا پر اپنے اثرورسوخ کو پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔ میرے ذاتی گھر کے قریب ہی، شمالی کوریا نے حال ہی میں، تمام بین الاقوامی طبقے میں ایک عظیم تبدیلی کا سبب بنتے ہوئے، اعلان کیا کہ وہ نیوکلیائی ہتھیار تیار کر رہا تھا۔ بحران زدہ دُنیا کے ایک اَیسے دَور میں، مَیں صِر ف اُمید کر سکتا ہوں کہ اِن جھگڑوں میں شامل ہر کوئی حِکمت کے ساتھ، بیوقوفی سے نہیں، اپنے تمام معاملات کو حل کرنے کے قابل ہوگا، اور ایک دوسرے کے ساتھ شرائط کے لئے آئے گا تاکہ تمام مِل کر خوشحال ہوسکیں۔
 ہمیں یقیناً ہر روز دُعا مانگنی چاہیے، تاکہ خُدا ہمیں اب تک خوشخبری کو پھیلانے کے لئے زیادہ اور آگے مزید وقت دے۔ یہ اِس وجہ سے نہیں ہے کہ مَیں مرنے سے خوف زدہ ہوں۔ یہ اِس وجہ سے ہے اب تک ممالک موجودہیں جہاں اب تک سچی خوشخبری کی منادی نہیں کی جا چکی ہے، اورایسے ممالک بھی موجود ہیں جہاں اَصل خوشخبری اب کِھلنے والی ہے۔ میری خواہش اَصل خوشخبری کو حتیٰ کہ زیادہ پھیلانا جاری رکھنے کی ہے، جب یہ پھُوٹ رہی اور کھِل رہی ہے، کیونکہ خوشخبری پھر بھی اورزیادہ آگے منادی کی جانے کی ضرورت رکھتی ہے۔
بے شک، خُدا تمام چیزوں کو مل کر بہتر کام کرنے کے لئے بناتا ہے، لیکن مَیں کس کے بارے میں پریشان ہوں یہ ہے کہ بنی نوع انسان انتہائی بیوقوف ہو سکتے ہیں۔ حقیقت میں لوگ موجود ہیں جو دوسروں کی زندگی کو دھمکی دیتے ہیں حتیٰ کہ جس طرح وہ کوئی خیال نہیں رکھتے ہیں کب اور کیسے وہ بذاتِ خود اپنی ذاتی موت کا سامنا کریں گے؛ اُن میں سے بعض حتیٰ کہ ہر کسی کو قتل کرنے کے لئے پوری کوشش کرتے ہیں۔
مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ خُدا یقیناً دُنیا کے تمام راہنماؤں کے دِلوں پر حکومت کرتا ہے۔ اور مَیں یہ بھی ایمان رکھتا ہوں کہ وہ ہمیں امن دے گا۔
اِس دَور میں، اِسرائیل کے لوگ اب تک اُن سے وعدہ کیے گئے مسیحا کے لئے انتظار کر رہے ہیں۔ اُنھیں یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ اُن کا مسیحایِسُوعؔ  کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اُنھیں یقیناًیِسُوعؔ کو مسیحا کے طور پر پہچاننا چاہیے جس کے لئے وہ انتظار کر رہے ہیں، اور اِسی طرح اُس پر ایما ن رکھنا چاہیے۔ زیادہ مستقبل دُور میں نہیں، خوشخبری جو ہمارے خُداوند کو خوش کرتی ہے جلد ہی اِسرائیل میں داخل ہو گی، اِسی طرح دوسرے ممالک میں جہاں اب تک خوشخبری کادروازہ کھولا نہیں جا چکا ہے۔ حقیقت میں، خوشخبری تمام دُنیا میں اتنی اچھی طرح سے پھیلا ئی جارہی ہے کہ یہ اِس آخری دَور میں مکمل طور پر کھِل رہی ہے۔
 مجھے بتایا جا چکا ہے کہ بنگلہ دیش میں ایک الہٰیاتی سیمینری اپنے طالب علموں کے لئے اُن کی ڈِگریاں حاصل کرنے کے واسطے ہماری انگریزی کی مطبوعات کو ایک ضروری مطالعہ قرار دے چکی ہے۔ پہلی مرتبہ پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننے کے بعد، اِس سیمینری میں تمام طالب علم، حتیٰ کہ وہ حیران ہونے کے لئے ایک موقع رکھنے سے پہلے اب اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں گے۔
اِسی طرح، مَیں سب سے پہلے اُمید کرتا ہوں کہ دُنیا کے تمام علم ِ ا لہٰیات کے ماہرین پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرینگے۔ اور ہم میں سے وہ جو اُن سے پہلے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں کو یقیناًاِس کے واقع ہونےکےلئے لااختتام طور پر دُعا مانگنی چاہیے۔ نہ صِرف ہمیں یقیناً دُعا مانگنی چاہیے بلکہ ہمیں یقیناً اپنی زندگیاں ایمان کے وسیلہ سے بھی گزارنی چاہیے۔
 
 
مسیحا اِس زمین پر یسعیاہؔ کی نبوّت کے تقریباً ۷۰۰ سال بعد آیا
 
یسعیاہؔ ایک نبی تھا جو یِسُوعؔ مسیح کی پیدائش سے تقریبا ً ۷۰۰ سال پہلے اِس زمین پر رہتا تھا۔ گو اُس نے حقیقت میں ۷۰۰سال پہلےیِسُوعؔ مسیح کی آمد کو پیشنگوئی کی، کیونکہ وہ مسیحا کے بارے میں بہت ساری چیزیں جانتا تھا، یسعیاہ ؔ نے سب کے بارے میں پیشنگوئی کی کیسے مسیحا آئے گا اور کیسے وہ اپنا نجات کا کام کرے گا، جس طرح اگر وہ اپنی ذاتی آنکھوں کے ساتھ مسیحا کو دیکھ چکا تھا۔ یسعیاہؔ ۵۲:۱۳اور پورے ۵۳ اور ۵۴ ابواب سے، یسعیاہؔ نے تفصیل سے پیشنگوئی جاری رکھی، مسیحا کیسے بنی نوع انسان کو بچائے گا۔ یہ سادگی سے حیران کن ہے کہ وہ اِتنی دُرستگی سے پیشنگو ئی کر چکا تھا کہ یِسُوعؔ مسیح بے شک اِس زمین پر آئے گا، اپنے بپتسمہ کے ساتھ تمام گناہوں کو اُٹھائے گا، صلیب پر اپنا خون بہا ئے گا، اور یوں سب کے لئے نجات لائے گا۔ اور ۷۰۰ سال گزرنے کے بعد جب کہ یسعیاہؔ کی پیشنگوئی کی گئی تھی،یِسُوعؔ مسیح حقیقت میں اِس زمین پر آیا اور اپنے تمام کام بالکل اُسی طرح پورے کیے جس طرح یسعیاہؔ نے پیشنگوئی کی تھی۔
یسعیاہؔ نے پیشنگوئی کی کہ مسیحا اِس زمین پر آئے گااور دانائی سے عمل کرے گا۔ جس طرح یسعیاہؔ ۵۲:۱۳میں پیشنگوئی کی گئی، ”دیکھو میرا خادِم اِقبالمند ہو گا۔ وہ اعلیٰ و بر ترا ور نہایت بُلند ہو گا۔“ کیونکہ یِسُوعؔ مسیح ایک انسان کے بد ن میں اِس زمین پر آیا اور حقیقت میں اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، وہ صلیب پر اپنی زندگی دے سکا، اور یوں تمام بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کے لئے پَرکھا گیا۔ بالکل جس طرح یسعیاہ پیشنگوئی کر چکا تھا ہر ایک چیز بے شک اِقبالمندی سے پیش کی گئی۔یِسُوعؔ مسیح کی وجہ سے، بنی نوع انسان کے تمام گناہ بے شک غائب ہو چکے ہیں، اِقبالمندی سے پیش آ چکے ہیں، اور اُس کا نام حقیقت میں بہت اونچا، اعلیٰ و برتر اور نہایت بُلند ہو چکا ہے، سب اُس کی مطا بقت میں پہلے ہی پیشنگوئی کی جا چکی تھی۔ یسعیاہ مسیح کے بار ے میں جو پیشنگوئی کر چکا تھا دراَصل حقیقت بن گئی۔
تاہم، جب ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، اِسرائیل کے لوگوں نے اُسے مناسب طور پرنہ پہچانا۔ حتیٰ کہ ہمارا خُداونداِس زمین پر آیا اور حقیقتا ً دُنیاکے گناہوں کو  اسرائیلیوں کے بھی شامل کرتے ہوئے اُٹھا لیا، صلیب پر مر گیا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اسرائیل کے لوگوں نے حتیٰ کہ مسیحا کے بپتسمہ پر ایمان نہ رکھا، نہ ہی اُس کے خون پر۔ حقیقت میں، اسرائیلیوں نے نہ پہچانا کہ یہ مسیحا پہلے ہی اُ ن کی قوم میں پیدا ہوچکا تھا، اور کہ اپنے بپتسمہ اور صلیب کے ساتھ وہ نہ صِرف اسرائیلیوں کے گناہوں کی فِکر کر چکا تھا، بلکہ تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی بھی۔ اُنھوں نے احساس نہ کِیا کہ یہ یِسُوعؔ  مسیح درحقیقت خُدا کا بیٹا، اور اسرائیل کے لوگوں کا حقیقی مسیحا تھا۔اسرائیلیوں کو ا ب یقیناًمناسب طور پر احساس کرنا چاہیے کہ یِسُوعؔ بے شک مسیحا ہے جس کا وہ اِن تمام سالوں سے انتظار کر رہے ہیں۔
 
 
یِسُوعؔ کے دُکھ دُنیا کے گناہوں کو مِٹانے کے لئے تھے
 
جب یِسُوعؔ اِ س زمین پر آیا، اُس نے حقیقت میں انتہائی تذلیل میں کسی بھی بیان  سے باہردُکھ اُٹھایا۔ جس طرح یسعیاہؔ ۵۳ میں دِکھایا گیا بے شک مسیحا مردِ غمناک ہونے کے لئے نظر آیا۔ ہمارے اِتنے سارے گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے، اُس نے بُری طرح دُکھ اُٹھایااتنا زیادہ کہ کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم حتیٰ کہ روپوش ہوگئے،جس طرح،ہمارے چہرے اُس سے ہٹ گئے۔
لیکن چند ایک نے حقیقتاًیِسُوعؔ  کو مسیحا کے طور پر پہچانا۔ کیونکہ وہ اپنے دَو رکے لوگوں سے اِتنا زیادہ بے عزت کِیا جا چکا تھا، بہت سارے اُسے پہچاننے اوریِسُوعؔ مسیح مسیحا پر نجات دہندہ کے طور پر ایما ن رکھنے میں ناکام ہو گئے۔ ہمارا خُداوند بے شک اِس زمین پر  باپ کی مرضی کی فرمانبرداری کرنےآیاتاکہ بنی نوع انسان کودُنیاکےگناہوں سے بچانے کے اپنے کام کوپوراکرے، اور یہ کام کرنے کے لئے، در حقیقت اُس پر بے انتہا ظُلم ہوا۔اُس کےلئے یہ کافی نہیں تھا کہ وہ اپنی تخلیق کی اِس دُنیا میں ایک انسان کے بدن میں آئے، جِسے وہ بذاتِ خود اپنی ذاتی شبیہ پر بنا چکا تھا، بلکہ وہ حتیٰ کہ ذلیل و خوار، مضحکہ خیز، مارا کوٹاہوا، اور مظلوم تھا، اِتنا زیا دہ کہ صحیفہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم نے اُس سے اپنے چہرے چھپا لئے، کیونکہ یہ برداشت کرنے کے لئے بہت زیادہ تھا۔ اِس زمین پر مسیحا کے طور پر عزت بخشے جانے سے بہت دُور، اُس سے یوں پیش آیا گیا اور ظُلم کِیا گیا جس طرح وہ پاگل تھا، جس کی بے عزتی کو حتیٰ کہ الفاظ کے ساتھ بیان کرنا شروع نہیں کِیاجاسکتا۔ جس طرح ہم اپنے مُنہ پھیر تے ہیں جب ہم کسی کو بے انتہا بے عزت اور پریشان حال دیکھتے ہیں، مسیحا اپنی ذاتی مخلوقات کے سامنے دبایا گیا، اِتنا زیادہ کہ اُس وقت اسرائیلیوں نے اپنے چہرے اُس سے چھپا لیے۔
جب یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا، وہ کیسا نظر آتا تھا؟ جب یِسُوعؔ اِس زمین پر آیا، وہ حقیقت میں ایک نرم پودے کی مانند تھا، جس طرح خشک زمین سے ایک جڑہو۔ دوسرے لفظوں میں، اُس کی بیرونی ظاہریت میں بولنے کے لئے کچھ زیادہ نہ تھا۔ حقیقت میں، حتیٰ کہ جب ہم ہمارے خُداوند کا اپنے آپ کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، وہاں کم تھا جو خوبصورت یا اِس مسیحا میں پُرکشش تھا۔ ہمارے مسیحا کی بیرونی ظاہریت اَیسی تھی کہ حقیقتاً کوئی چیز قابل ِ فخر نہ تھی۔
جب مسیحا اِس زمین پر آیا، اُس کی ظاہریت میں بے شک کوئی خوبصور تی نہ تھی جس کی ہم خواہش کریں یا اُس کی عزت کریں۔ لیکن اِس ظاہریت کے علاوہ، ہمارے مسیحا کے طورپر، وہ اِقبالمندی سے پیش آیا، قُربانی کے نظام کے مطابق اپنے بدن پر ہمارے تمام گناہوں کو لینے کے لئے یوحنا ؔ سے ہاتھوں کے رکھے جانے کو قبول کِیا، مصلوب ہو ااور اپنا خون بہایا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا لیا۔ کیونکہ اِس مسیحا نے یوحناؔ سے حقیقتاً بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے  تمام
گناہوں کو اُٹھا لیا، وہ ہمارے لئے مصلو ب ہو سکتا اور اپنا خون بہا سکتا تھا۔
 جس طرح یسعیاہؔ ۵۳:۳ کہتا ہے، ”وہ آدمِیوں میں حقِیرومردُود۔مَردِغمناک اور رنج کا آشنا تھا۔ لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے اُسکی تحقِیر کی گئی اور ہم نے اُسکی کُچھ قدر نہ جانی۔“ کیونکہ ہمارے مسیحا کو اِس زمین پر آنا تھا اور ہاتھوں کے رکھے جانے کو حاصل کرنے اوراپنا خون بہانے کے وسیلہ سے دُنیا کے تمام گناہوں کو مِٹانا تھا، اُسے حقیقتاً اِسرائیل کے لوگوں اور رومی سپاہیوں کی معرفت اَیسے ہی طریقہ سے دبایا جانا تھا۔
 
 
مسیحا پرظلم کی پیشنگوئی تقریباً ۷۰۰سال پہلے کی گئی تھی
    
یعنی حقیقت میں مسیحا کو اِس زمین پر آنا، یوحناؔ سے بپتسمہ لینا، صلیب پر اپنا خون بہانا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنا تھا ،یہ پہلے ہی یسعیاہؔ نبی کی معرفت مسیح کی پیدائش سے تقریباً ۷۰۰سال پہلے پیشنگوئی کی جا چکی تھی۔ جس طرح یسعیاہؔ نبی مسیحا کی آمد کے بارے میں پیشنگوئی کر چکا تھا،یِسُوعؔ مسیح بے شک اِس زمین پر آیا بالکل جس طرح پیشنگوئی کی گئی تھی۔ یہ ہے، مسیحا سادگی سے ایک چرنی میں ایک کنواری سے پیدا ہوا، یوحناؔ اصطباغی سے اپنا بپتسمہ حاصل کرنے کے ساتھ دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر گیا، جہاں اُس نے اپنا خون بہایا اور ہماری نجا ت کے لئے مَرا، اور پھر تین دِن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا۔
بالکل جس طرح قربانی کے جانور کے سَر پر ہاتھوں کو رکھا جاتا تھا اور اِس کا خون یومِ کفارہ پر بہایا جاتا تھا (احبار ۱۶)، جب اِس طرح سال کے گناہوں کاکفارہ دیا جاتا تھا،یِسُوعؔ نے بے شک یوحناؔ سے اپنا بپتسمہ حاصل کرنے کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اپنا خون بہایا اور صلیب پر مَر گیا، یہ سب پیشنگوئی کے حقیقی کلام کے مطابق ہے۔ اپنے بپتسمہ کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو برداشت کرنے کے بعد،یِسُوعؔ نے حقیقت میں اپنی عوامی خدمت کے دوران مصیبت کے تین سالوں کا سامنا کِیا۔ وجہ کیوں یِسُوعؔ یعنی مسیحا مصلوب ہوا تھا یہ ہے کیونکہ، یوحناؔ اصطباغی سے اپنے بپتسمہ کے ساتھ، دُنیا کے تمام گناہ اُس پر لادے گئے تھے، اور یہ اِس لئے بھی ہے کیوں وہ اِس طرح حقیرو مردُود، ستایا ہواتھا، اور ہر کسی سے ظُلم سہا۔
حقیقت میں، لوگوں نے نہ صِرف انکار کِیا کہ یِسُوعؔ مسیحا تھا، بلکہ بعض یہودیوں اور  رومیوں  نے
نفرت بھی کی او رکسی بھی بیان سے باہریِسُوعؔ کو ستایا۔ وہ اُن کی معرفت ایک انتہا تک نفرت کِیا گیا اور رَدّ کِیا گیا تھا۔
 یِسُوعؔ نے حقیقت میں دریائے یردن ؔ پر یوحناؔ اصطباغی سے اپنا بپتسمہ حاصل کرنے کے وسیلہ سے ایک ہی مرتبہ بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اور تب اُس نے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ مسیحا نے یوحنا ؔ سے بپتسمہ لیا اور اپنے باپ کی مرضی کی پیروی کرنے کے لئے صلیب پر اپنا خون بہایا۔ صلیب پر اُس کو ننگا کر کے اُس کے کپڑے اُتار لئے گئے اور اُس پرتھوکا گیا ۔اُس وقت تمام اِردگرد کے لوگوں نےیِسُوعؔ کا مذاق اُڑایا، اُسے طعنہ دیتے ہوئے، ”اگر تم حقیقتاً خُدا کے بیٹے ہو، تب، نیچے اُتر آؤ اور اپنے آپ کو بچاؤ!
جب یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنی عوامی زندگی شروع کی، اُسے حقیقت میں بنی نوع انسان کی معرفت برپاّ کی گئی بہت ساری تکلیفوں میں سے گزرنا تھا۔ گویِسُوعؔ مسیح بنی نوع انسان کی خاطر اپنے بپتسمہ کے ساتھ دُنیاکے گناہوں کو حقیقتاً کندھا دے چکا تھا، اُن دِنوں کے لوگ اِسے سمجھنے سے قاصر تھے،یِسُوعؔ سے نفرت کی، جو اُن کے ذاتی مسیحا کے طور پر آیا، اُسے مسلسل ستایا، اُس پر بے انتہا تکلیفیں برپا کِیں، بُرا بھلا کہا اور اُس کی بے عزتی کی۔ حقیقت میں،یِسُوعؔ یعنی مسیحا سے اتنی زیادہ نفرت کی گئی کہ صحیفہ ہمیں بتاتا ہے کہ اُس سے جب کہ اِس زمین پر ایک کیڑے کی مانند برتاؤ کِیا گیا۔
بے شک، آپ کوئی تصور نہیں رکھتے کتنی زیادہ فریسیوں نےیِسُوعؔ سے نفرت کی۔ یہ فریسی مسیحا کو اکیلے نہیں چھوڑ سکتے تھے، جو اُن کی راہنمائی اور مقبولیت کو دھمکانے والا نظر آتا تھا۔ پس اُنھوں نے مسیحا سے نفرت کی، ہمیشہ اُس میں سے غلطیاں تلاش کرتے ہوئے، اور اُس کے خلاف ذاتی حملوں کی تمام اقسام کو آزمانے کے لئے نہ ہچکچائے، اُن کی ترکیبیں ناکام ہو گئیں۔ مسیحا تمام قِسم کی تذلیل اور بُرے بھلے سے نفرت اور بدی کے ساتھ بھرے ہوؤں کا ہدف تھا۔ اِ س طرح یسعیاہؔ پیشنگوئی کر چکا تھا محض کیسے مسیحا دبایا جائے گا۔ اِس لئے ہم تصدیق کر سکتے ہیں، یسعیاہؔ نبی کی تفصیلی پیشنگوئیوں سے جو مسیحا کے آنے سے ۷۰۰سال پہلے کی گئیں تھیں، محض کس قِسم کا سلوک یِسُوعؔ اِس دُنیا میں حاصل کرے گا۔
 
 
کیا لوگوں نےیِسُوعؔ مسیح یعنی مسیحا پر ایمان رکھاجو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا؟
 
تاہم اِس ظلم سے قطع نظر،یِسُوعؔ یعنی مسیحانے خاموشی سے کام کِیا اور اپنے کاموں کو مکمل کِیا۔ اب اسرائیل کے لوگوں اور تمام دُنیا میں سے ہر کسی کو یقیناً احساس کرنا چاہیے اور ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ مسیحایِسُوعؔ مسیح ہے۔ اسرائیلیوں کے گناہوں اور تمام دُنیا میں سے ہر کسی کے گناہوں کو مِٹانے کے لئے، مسیحانے بے شک ہاتھوں کے رکھے جانے کی شکل میں اپنا بپتسمہ حاصل کِیا، حقیقت میں مصلوب ہوا، اور اِس طرح انتہا تک اپنا سب ظُلم و تشدد برداشت کِیا اور یوں کرنے کے وسیلہ سے، وہ اپنی خدمات میں ایمانداروں کواُن کے تمام گناہوں سے کامل طور پر بچا چکا ہے، اور اِن ایمانداروں کے ایمان کو کامل کے طورپر منظور کر چکا ہے۔ حقیقت کے باوجود کہ مسیحا اپنی عاجزی کی شکل میں اِس زمین پر آیا، اور حقیقت کے باوجود کہ اُس نے بپتسمہ لیا، صلیب پر مرا، اور ہر کسی کے تمام گناہوں کو مِٹانے کے لئے پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، وہ جِنھوں نے اُس پر ایمان رکھا شمار میں صِرف چند ایک تھے۔ ہمارے زِندہ رہنے کے لئے، ہمیں یقیناًایمان رکھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ بے شک ہمارا سچا نجات دہندہ اور مسیحا ہے، یعنی وہ صِرف اسرائیلیوں کے لئے مسیحا نہیں ہے، بلکہ تمام بنی نوع انسان کے لئے بھی ہے۔
حتیٰ کہ گو یِسُوعؔ نے حقیقتاً اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے ذاتی گناہوں کو اُٹھا لیا اور ہمارے ذاتی غموں، ہماری ذاتی بیماریوں، اور ہماری ذاتی لعنتوں کو برداشت کِیا، بعض لوگ سوچ سکتے ہیں، ”اُس نے اِتنے زیادہ ظُلم و تشدد کا سامنا کرنے کے لئے کیا گناہ سرزد کِیا تھا؟“ لیکن، حقیقت  میں یِسُوعؔ خُدا کا بے گناہ بیٹا ہے۔ ہمارے تمام گناہ برداشت کرنے کے وسیلہ سے، مسیحا نے فِدیہ کے طورپر تکلیفوں، ہماری جگہ پر، تمام لعنتوں، غموں، اور ہمارے گناہوں کے ظُلم وتشدد کو برداشت کِیا۔ تمام ظُلم و تشدد کے وسیلہ سے جس کایِسُوعؔ نے اِس زمین پر آنے سے اپنی تمام ز ندگی کے ۳۳سالوں میں سامنا کِیا ، وہ ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
تب واپس،  یسعیاہؔ  نبی کی معرفت بولا گیا خُداکا کلام سُنتے ہوئے، کیا وقت کے لوگوں نےیِسُوعؔ مسیح یعنی مسیحا پر ایمان رکھا جو پانی اور روح کے وسیلہ سے آیا تھا؟ کس نے اِس پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھا جس کی اب ہم منادی کر رہے ہیں؟ حتیٰ کہ اب، بہت سارے لوگ موجود ہیں جو پانی او ر روح کی خوشخبری میں کوئی دِلچسپی نہیں رکھتے ہیں، حتیٰ کہ گو  وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یہاں،مرکزی حوالہ میں،  یسعیاہؔ نبی اب پیشنگوئی کررہا ہے کہ خُداکا بیٹا اِس زمین پر آئے گا، دانائی سے عمل کرے گا، ہمارے تمام گناہوں کواُٹھا لے گا، اُن کے لئے پَرکھا جائے گا، اور یوں ہمیں بچائے گا۔ لیکن بہت سارے سچائی کو قبو ل نہیں کر چکے ہیں جو اُس نے مکمل کی ۔تاہم، مَیں پُر یقین ہوں کہ اب سے، تمام قوموں کے تمام لوگ یِسُوعؔ مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر پہچانیں گے اور اُسے اعلیٰ و برتر مانیں گے۔ کیا آپ اب احساس کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ یعنی مسیحا اسرائیل کے لوگوں کے گناہوں کی وجہ سے، آپ کے اور میرے گناہوں کی وجہ سے، اور تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کی وجہ سے ستایا گیا؟ یسعیاہؔ نبی نے، جوچاہتاتھاکہ آپ اِسکو جانیں اور اِس پر ایمان رکھیں، یوں اِس طریقے سے مسیحا کی خدمت کی پیشنگوئی کی تھی۔
 
 
مسیحا خشک زمین سےپُھوٹنےوالی جڑ کی مانند تھا
 
یہ ہے کیسے یسعیاہؔ نبی نےیِسُوعؔ مسیح یعنی مسیحا کے آنے کی پیش گوئی کی، یعنی جب وہ اِس زمین پر آئے گا، وہ اَیسی قابلِ ترس شکل میں آئے گا۔ یسعیاہؔ نے کہا کہ مسیحا  ”پر وہ اُس کے آگے کونپل کی طرح اور خُشک زمِین سے جڑکی مانِند پُھوٹ نِکلا ہے۔“ (یسعیاہؔ ۵۳:۲)۔ جب یِسُوعؔ مسیح ایک انسان کے بد ن میں اِ س زمین پر آیا، وہ کوئی اَیسا نہ تھا جسے لوگ حقیقتاً کسی قابلِ خواہش چیز کے طور پر دیکھتے۔ وہ جسیم، لمبااور اچھے خدوخال کا، یعنی آرنلڈ شوارزنیگر یا سلویسٹر سٹالون کی مانند نہ تھا ۔حقیقت میں ، وہ اِتنا حقیر تھا کہ اگر ہم اُس کی طرف دیکھتے، ہم حقیقتاً اُس کے لئے افسوس محسوس کرتے، ترس کھاتے اور اُس کے ساتھ ہمدردی جِتاتے۔ تاہم، اُس کا کلام ایک دو دھاری تیز تلوار کی مانند تھا۔
 یِسُوعؔ یعنی مسیحا صِرف اپنی ظاہریت میں محض حقیر نظر آنے والا نہ تھا بلکہ وہ مادی طور پر بھی غریب تھا۔ یوسفؔ، اُس کا جسمانی باپ، محض ایک بڑھئی تھا۔ ایک خاندان جس کی ضروریات ایک بڑھئی کے وسیلہ سے پوری کی جاتی تھیں، تب جس طرح اب ہے، اچھی طرح نہیں تھیں،یعنی بہتات میں زندہ رہنے سے بہت دُور۔ صِرف سخت محنت کے ساتھ بڑھئی بڑی مشکل سے گزار ہ کر سکتے تھے۔
نہ مسیحا نے، اِس زمین پر آنے کے بعد، کسی سکول میں شِرکت کی۔ اور  اِس  طرح  فریسیوں  نے
اِس پر اُس کی ہنسی اُڑانے کی کوشش کی لیکن وہ اَیسا نہ کر سکے، چونکہ یہ صِرف ظاہر ہوا کہ یِسُوعؔ مسیح بے شک خُدا کا بیٹا تھا۔ یِسُوعؔ نے کبھی بھی حتیٰ کہ گملی ایلؔ کے سکول میں قدم نہیں رکھا،اُس وقت کا یہودیوں کا مشہور ترین سکول، جہاں شریعت کے عظیم ترین عالموں میں سے ایک، گملی ایلؔ، شریعت کی تعلیم دے رہا تھا۔ اِس سکول میں، طالبِ علم شریعت کے عظیم اساتذہ سے سیکھ سکتے تھے، نہ صِرف اِس دُنیا کے علم میں، بلکہ شریعت میں بذاتِ خودتربیت یافتہ تھے۔ لیکن یِسُوعؔ نے کسی اَیسے سکول میں تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ اُس نے کسی سکول میں شرِکت کی تھی۔ مگر اِس کے باوجود، پُرانے عہد نامہ کی شریعت کے بار ے میں کچھ نہ تھا جو مسیحا نہ جانتاتھا، اور جہاں پُرانے عہد نامہ نے مسیحا کے بار ے میں تعلیم دی، وہ حتیٰ کہ وسیع طور پر زیادہ صاحبِ علم تھا اور کسی سے بھی زیادہ عظیم ایمان رکھتا تھا۔ کچھ موجود نہیں تھا جو اُس نے کہا جو کبھی بھی غیر شریعی یا خُدا کی شریعت سے جُد اتھا۔
 
 
کیوں مسیحا کو اِتنا مظُلوم، بے عزت، اور حقیرو مردُو د ہونا پڑا؟
 
اِسرائیل کے لوگوں کے لئے حقیقتاً سچا مسیحا بننے کے واسطے، اور اُن کے سب گناہوں سے اُن کو بچانے اور اُنھیں خُد اکے لوگ بنانے کے لئے، ہمارا مسیحا اِس زمین پر آیا اور رَضامندی سے اپنی ساری تکلیفوں، بے عزتی، تضیحیک، اور لعن طعن کوقبول کِیا۔ تکلیف اور نفرت جس میں سے مسیحا حقیقتاً اسرائیل کے لوگوں کی خاطر گزرا انتہائی قابلِ قربانی اور پُرتشدد تھی۔ ظُلم و تشدد جو مسیحا نے ہماری خاطر برداشت کِیا ایک اَیسی عظیم تکلیف تھی کہ ہم نے اُس سے اپنے چہرے چھپا لئے۔ کیونکہ یِسُوعؔ مسیحا تھا جو ہمیں ہمارے گناہوں اور عدالت سے بچائے گا، اُس نے بے شک تمام اقسام کے لوگوں کے سامنے کسی تفصیل سے باہر ظُلم و تشدد اور بے عزت ہونے کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے گناہوں سے چھُڑا لیا۔ اِس طرح یِسُوعؔ اِس زمین پر ستایا گیا تھا۔
کیونکہ یِسُوعؔ یعنی مسیحا اِتنی بُری طرح ستایا گیا اور بے عزت کِیا گیا تھا، اُس دَور کے لوگ اُس کے اِس منظر کو برداشت نہ کر سکے۔ ہمیں یقینا ًکبھی نہیں بھولناچاہیے کہ اگرچہ یِسُوعؔ آپ کے اور میرے مسیحا کے طور پر، بے شک، تمام بنی نوع انسان کے مسیحا کے طور پر  آیا، اِس مسیحا کے کردار اور کاموں کو پورا کرنے اور مکمل کرنے کے لئے، وہ بُری طرح ستایا گیا، اور اِس طرح ہونے کے وسیلہ سے وہ ہمیں ہمارے گناہوں اور گناہ کی سزا سے آزاد کر چکا ہے۔
حتیٰ کہ جس طرح مسیحا مصلوب کِیا گیا لوگ اُس کا مذاق اُڑانے سے نہ رُکے: ”تم وہاں سے نیچے کیوں نہیں آتے؟ اگر تم حقیقتاً خُدا کے بیٹے ہو، تب ابھی صلیب سے نیچے اُتر آؤ۔ تم کیسے ممکنہ طور پرخُد اکے بیٹے ہو سکتے ہو؟ اگر تم حقیقتاً خُد اکے وہ بیٹے ہو، تب نیچے اُتر آؤاور تم سے آگے لٹکے ہوئے ڈاکو کو بچاؤ؛ مگرزیادہ بہترہے، نیچے اُتر آؤ اور اپنے آپ کو بچاؤ!“ اُنھوں نے اپنے تمسخر کے ساتھ جاری رکھا: ”آہ، ہاں، تم اِس پتھر کو روٹی میں کیوں نہیں بدلتے؟ اگرتم خُداکے بیٹے ہو، ہمیں ثبوت دو! ہمیں ثبوت دِکھاؤ تاکہ ہم ایمان لا سکیں۔ اگر تم حتیٰ کہ یہ نہیں کر سکتے ہو، تم کس قِسم کے مسیحا ہو؟ کتنا قابلِ رحم!
لوگوں نے اِس طر ح مسیحاکی بے عزتی کی، اُسے بُرا بھلا کہا اور اُس کا لااختتامی طورپر مذاق اُڑایا۔ اُنھوں نے اُس کے کپڑے اُتار کر اُسے ننگا کِیا، اُس کے چہر ے پر تھپڑ مارے، اور اُس پر تھوکا، مسیح نے بد ترین تمسخر، بے عزتی، اور تذلیل برداشت کی، جس طرح کی  پہلے کبھی نہیں دیکھی جا  چکی تھی اور نہ ہی پھرکبھی دیکھی جا ئے گی۔ اُسے صلیب کی سزا کے ساتھ لعنتی بھی ٹھہرا یا گیا، ایک سزا جو اُس وقت کے بد ترین قِسم کے مُجرموں کے لئے روا تھی۔ ہمارے مسیحا نے سپاہیوں سے کوڑے کھائے، دونوں اُس کے ہاتھوں اور پاؤں صلیب پر کیلوں سے ٹھونکے گئے، اور سارا خون بہایا گیا جو وہ اپنے بدن میں رکھتا تھا۔
 یِسُوعؔ نے حقیقتاً تمام اَیسی نفرت، درد اور ظُلم و تشدد کوبرداشت کِیا، یعنی ہماری ذات کی خاطر، اِس طرح وہ مسیحا کے طورپر اپنی خدمت کو پورا کر سکتا تھا۔ مصلوب ہونے کے وسیلہ سے، اُس نے ہمارے تمام گناہ ہماری تمام لعنتیں، ہماری تمام بیماریاں، اور ہماری گناہ کی تمام سزا اُٹھا لی۔ اُس نے ہماری جگہ پر تمام ظُلم و تشدد اُٹھا لیا جو آپ اور مَیں برداشت کرنے کے مُستحق تھے، اور ہماری خاطر اُس نے حتیٰ کہ اپنی ذاتی زندگی دے دی۔ یہ مسیحا اب ہم میں سے اُن کے لئے نجا ت دہندہ بن چکا ہے جو ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ بے شک ہمارا نجات دہندہ ہے۔ وہ رَضامندی سے ہمارا مسیحا بن گیا۔ وہ اپنے باپ کی مرضی کے مطابق اِس زمین پر آیا، اور ہماری خاطر ہمار ے گناہوں اورگناہ کی سزا کو صلیب پراُٹھالیا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا سب ہمیں بچانے کے لئےتھا!
میرے بھائیو اور بہنو، کیا آپ سوچتے ہیں اِن سارے اجنبیوں کے سامنےیِسُوعؔ کے لئے اَیسی ساری تکلیف اور بے عزتی میں سے گزرنا یہ آسان تھا؟ اگر ہم اُس کی جگہ ہوتے، اگر یہ ہم ہوتےجو اِس ساری نفرت کا سامنا کرتے،یعنی کپڑے اُتار کر ننگے ہونے کا، بے عزت ہونے کا،اذیت کا، اور مصلوب ہونے کا، نہ صِر ف ہمارے ذاتی خاندان، یا شوہروں یا بیویو ں کے سامنے، یا حتیٰ کہ ہمارے عزیزوں، بلکہ ہمارے ذاتی دُشمنوں کے سامنے، ہم مرنے سے پہلے پاگل ہو چکے ہوتے!مسیح مصلوب ہو ا، تاکہ ہر کوئی اُس کی بے عزتی دیکھ سکے، کسی تاریک کونے میں نہیں، بلکہ اونچائی پر، تاکہ سب اپنی اُنگلیاں اُٹھا سکیں اور اُس پر تھُوک سکیں۔
حتیٰ کہ زیادہ تکلیفیں، غم، اور مشکلیں اُس کی مصلوبیت سے پہلے مسیحا پر آئیں۔ صلیب پر یِسُوعؔ کے کِیل جڑنے سے پہلے، لوگوں نے یقین دہانی کی کہ وہ تمام قِسم کی تکلیفوں میں سے گُزرے۔ وہ ہجوم کے سامنے لایا گیا اور اُن کی موجود گی میں پَرکھا گیا، تھُوکا گیا، اور اُس کے چہرہ پر حتیٰ کہ سردار کاہن کے ایک نوکر نے تھپڑ مارا۔ اُس پر تُھوکا گیا!لوگوں نے اُس کے چہرے پر تھپڑ مارے، اُسے کوڑے مارے، اور اُسے پتھر مار ے!یِسُوعؔ یعنی مسیحا اِس تمام ظلم و تشدد میں سے ہماری وجہ کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں گُزرا۔
صحیفہ ہمیں بتاتا ہے کہ اُس نے کِس طرح ہمار ی خاطر ظُلم و تشدد برداشت کیا، یہ کہتے ہوئے، ”وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھائل کِیا گیا اور ہماری بد کرداری کے باعث کُچلا گیا۔“(یسعیاہ ۵۳:۵)۔ مسیحا اَیسی تکلیفوں میں سے گُزرا اِس طرح وہ تمام لوگوں کو اسرائیلیوں کو شامل کرتے ہوئے اُن کے گناہوں اور اُن کے گناہوں کی سز اسے آزاد کر سکتا تھا۔ اِس مسیحا نے یوحناؔ سے بپتسمہ حاصل کرنے کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہوں اور گناہ کی سزا کی فِکر کی، اور اپنے ذاتی لوگوں، رومی سپاہیوں، اور دوسری قوموں کے بہت سارے لوگوں کا ظُلم اُٹھانے کے وسیلہ سے مسیحا کے طور پر اپنی خدمت مکمل کی۔
خُدانے پیشنگوئی کی کہ مسیحا اِن لوگوں کوبچائے گا جو اپنے تمام گناہوں سے اُس کے خلاف کھڑے ہوئے تھے بے شک،تمام بنی نوع انسان کی معرفت کبھی بھی سَرزد کیے گئے تمام گناہوں سےاور بالکل جس طرح یہ یوں پیشنگوئی کی گئی تھی،یِسُوعؔ مسیح بے شک اِس مسیحا کے طورپر اِس زمین پر آیا، حقیقتاً اِس سارے ظُلم و تشدد سے گُزرا، اور آپ کو اور مجھے ہمارے گناہوں اور ہمارے گناہوں کی سزا سے اپنا قیمتی خون بہانے کے وسیلہ سے بچایا۔
یعنی ہم مسیحا پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ اور گناہ کی سزا سے بچائے جا چکے ہیں حقیقت میں یہ قربانی کی قیمت اَدا کرنے کے بغیر حاصل نہیں ہوا۔ یہ ہے کیونکہ یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر آیا اور اَیسے تمام ظُلم و تشدد کا سامنا کِیا یعنی اب ہم بے گناہ بن سکتے ہیں، اور یہ اِس وجہ سے ہے یہ مسیحا ہمارے تمام گناہوں کے لئے پَرکھا گیا جو ہم،محض اپنے دِلوں کے ساتھ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، نجات کا تحفہ اور گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں، اور خُداکے بیٹے بن سکتے ہیں۔ یہ ہمارے مسیحا کی وجہ سے ہے کہ ہم اَیسے خوش لوگ بن سکتے ہیں۔
ہمیں یقیناً مسیحا کا شُکر اَدا کرنا چاہیےکہ اُس نے ہمیں یہ خوشی دی اور ہمیں اپنی برکات کے ساتھ نوازا۔ نجات جو مسیحا ہمیں دے چکا ہے صِرف ہمارے ایمان کے وسیلہ سے ہمیں حاصل ہوئی، کیونکہ گو ہم اُسے اپنی ذات کی کوئی قربانی نہیں دے چکے ہیں، اُس نے بذاتِ خود خُداباپ کے سامنے اپنی انمول قربانی پیش کی۔ ہمیں یقیناًایمان رکھنا چاہیے کہ خُدا بذاتِ خو د بے شک ہمیں یہ سارا ظُلم و تشدد برداشت کرنے کے وسیلہ سے بچا چکا ہے اور ہمیں یقینا ًاِس کے لئے اُس کا شکریہ اَدا کرنا چاہیے۔
 
 
سُن، اَے اسرائیل، رجوع لاؤ اوریِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھو
 
اسرائیل کے لوگوں کو یقیناً اب توبہ کرنی چاہیے اوریِسُوعؔ پر یعنی مسیحا پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنا چاہیے۔ حتیٰ کہ اب اِس انتہائی لمحے تک، اسرائیلی پھر بھی نہیں پہچانتے کہ اُن کا مسیحا پہلے ہی آچکا ہے۔ بالکل جس طرح ان سب کی یسعیاہؔ نبی کی معرفت پیشنگوئی کی جا چکی تھی کہ مسیحا، خُدا کا خادم، اِس زمین پر آئے گا، اور بالکل جس طرح پیشنگوئی کا یہ کلام ہمیں پہلے بتاتاہے کہ یہ مسیحا، اِس زمین پر آتے ہوئے، تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ لینے اور صلیب پر مصلوب ہونے کے وسیلہ سے ہم سب کو بچائے گا، یِسُوعؔ مسیح بے شک اپنی نجات کے تمام کاموں کو پورا کر چکا ہے۔ اسرائیل کے لوگوں کو یقیناً اب رجوع لانا چاہیے، اور اِس سچ کو جاننا او رایمان رکھنا چاہیے۔ اُنھیں یقینا ً گناہ کو تسلیم کرناچاہیے جو اُن کے ذاتی لوگوں نےیِسُوعؔ کو مصلوب کرنے کے وسیلہ سے سَرزد کِیاتھا۔ اور اُنھیں یقینا ًاپنی پیدائش سے گناہ کا سادگی سے ایک ڈھیر ہونے کے لئے اپنی سچی ذاتوں کو پہچاننا چاہیے، اور اب اِس مسیحا پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اُنھیں یقیناً اپنے تمام گناہوں اور گناہ کی سزا سے نجا ت یافتہ ہونا چاہیے۔
اب کوئی دوسرا مسیحا موجود نہیں ہے۔ کیونکہ یِسُوعؔ مسیح پہلے  ہی مسیحا  کے طورپر آیا، کوئی  دوسرا
مسیحا موجود نہیں ہے۔ کیسے کوئی دوسرا مسیحا حقیقتاً موجود ہو سکتا ہے؟ کیسے دوسرا نجات دہند ہ ہو سکتا ہے؟ جب اسرائیل کے لوگ حتیٰ کہ مستقبل میں زیادہ مشکلات میں سے گزریں گے، کیا وہ اُمید کریں گے کہ کسی قِسم کا ہالی ووڈ ایکشن ہیرو،جیسے سُپر مین کی مانند ،ظاہر ہو گا اور اُن کا مسیحا بن جائے گا؟
حتیٰ کہ اب سے، اسرائیلیوں کو یِسُوعؔ مسیح کو اُن کے مسیحا کے طور پر پہچاننا چاہیے۔ اُنھیں یقینا ًایمان رکھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ مسیح بے شک اُن کا ذاتی سچامسیحا ہے۔ اُن کا مسیحا پہلے ہی   ۲۰۰۰ء سال پہلے اِس زمین پر آچکا تھا، اور اُن کے گناہ اُٹھانے کے لئے اور اُنھیں ابرہام ؔ  کے حقیقی بیٹے بنانے کے لئے اُس نے بپتسمہ لیا، بالکل جس طرح اُنھیں ختنہ یافتہ ہونا پڑتا تھا، اور مصلوب ہوا، سب اِس طرح کہ وہ روحانی ختنہ حاصل کریں گے۔ مسیحا اسرائیل کے لوگوں کا یوحناؔ سے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُن کے گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے، صلیب کو اُٹھانے اور کُچلے جانے کے لئے اپنا خون بہانے، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے سچا نجات دہندہ بن گیا۔
اسرائیلیوں کو یقیناً مسیحا پر ایمان رکھنے کے لئے توبہ کرنی چاہیے۔ اُنھیں اب یقیناًیِسُوعؔ مسیح پراپنے نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اب جو سب اسرائیل کے لوگوں کے واسطے پورا ہونے کے لئے باقی ہے یِسُوعؔ مسیح پر نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھنا ہے۔ اُنھیں یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ یسعیاہؔ کی معرفت پیشتر بتایا گیا مسیحا بالکل یہی یِسُوعؔ مسیح ہے۔ اُنھیں یقیناً احساس کرنا اور ایما ن رکھنا چاہیے کہ یہ پیشتر بتایا گیا بذاتِ خود  یسوع کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ پُرانے عہدنامہ کی پیشنگوئیاں تمام یِسُوعؔ مسیح کے وسیلہ سے پو ری کی جا چکی ہیں،یعنی چھوٹے ترین خط کو نہ چھوڑتے ہوئے نہ ہی ہلکے ترین واقعہ کو۔ مرکزی حوالہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہت ساری قومیں پاک کی جائیں گی۔
یسعیاہؔ ۵۲: ۱۴۔۱۵بیان کرتا ہے، ”جس طرح بُہتیرے تُجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے (اُس کا چہر ہ ہر ایک بشر سے زائد اور اُس کا جسم بنی آدم سے زیا دہ بگڑ گیا تھا)۔اُسی طرح وہ بہت سی قوموں کو پا ک کر یگا ۔ اور با دشاہ اُس کے سامنے خا مو ش ہو نگے کیو نکہ جو کچھ اُن سے کہا نہ گیا تھا وہ دیکھیں گے اور جو کُچھ اُنہوں نے سُنا نہ تھا وہ سمجھیں گے۔
اِس زمین پر آنے کے بعدیِسُوعؔ مسیح نے تکلیفوں کا سامنا کِیا جو اُس سے کہیں زیادہ بڑی تھیں جواِس دُنیا کے کسی مُجرم کو موت کی سزا دیتی ہیں۔ اُس نے اِس دُنیا کے کسی بھی مُجر م سے زیادہ اپنے آپ پر دَرد اور ظُلم کو اُٹھانے کے وسیلہ سے، تمام بنی نوع انسان کو سب اپنے ذاتی لوگ بنانے کے سلسلے میں قربانی دی۔ وہ اپنے لوگوں کو بچا چکاہے جو اُس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کریں گے۔ یہ ہے وہ کیسے اُنھیں بچا چُکا ہے۔
لوگ حیران کن نجات کی خبریں سُنیں گے، جو وہ نہ سُن چکے تھے نہ ہی پہلے دیکھ چکے تھے۔ وہ سب جو حتیٰ کہ اب تک سُن نہیں چکے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح مسیحا تھا بے شک اِسے سُنیں گے اور آخر کار اِس پر ایمان رکھیں گے۔
 
 
یسوع مسیحا ہے، جو ایک بارآیا اور پھر آئے گا
 
آج، اب ہم آخر ی وقت تک پہنچ رہے ہیں۔ یہ ایک موت اور ایذار سانیوں کا دَور ہو گا۔ تاہم، وہ جو مسیحا پر ایمان رکھتے ہیں حقیقتاً موت کا کوئی خوف نہیں رکھتے ہیں۔ اِس کے برعکس، وہ حتیٰ کہ آسمان کی خوشی اور اپنے جی اُٹھنے کے لئے زیادہ انتظار کر رہے ہیں جو اُن کی موت کےبعدآئےگا۔ یعنی تاریکی دُنیا پر چھا رہی ہے کا مطلب نہیں ہے کہ ہم، راستباز، بھی تاریک ہیں۔ جب یہ خوشخبری یقیناً ساری پھیلائی جاتی ہے مسیحا حقیقت میں واپس آئے گا۔
یِسُوعؔ مسیح، ہمارا مسیحا، اِس دُنیا میں خُدا کے برّہ کے طور پر، قربانی کے جانور کے طورپر آیا، اور اپنے بدن کے لئے یوحناؔسے بپتسمہ لیا، اور اِسے صلیب پر دے دِیا۔ اپنے بال کترنے والے کے سامنے ایک بھیڑ کی مانند،یِسُوعؔ یعنی مسیحا نے خاموشی سے ہمارے گناہ اُٹھا لئے، صلیب پر ہماری ذاتی گناہ کی عدالت برداشت کرنے کے وسیلہ سے عظیم تکلیفوں کا سامنا کِیا، تین دِن بعد پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور اِس طرح اُن سب کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں کامل نجات دہندہ بن گیا۔
 صِر ف چند ایک جانتے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح اُس وقت مسیحا تھا۔ چند ایک موجود تھے جوجانتے تھے کہ یِسُوعؔ مسیح  ۲۰۰۰ء سال پہلے اس دُنیا میں خاموشی سے پید اہونے، اپنے بپتسمہ کے بعد تین سالو ں کے لئے بادشاہت کی خوشخبری کی گواہی دینے،صلیب پر مرنے، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے ہمارا نجا ت دہندہ بن گیا۔ چندایک، جِنھوں نے تلاش کِیا اور خُد اپر ایمان رکھا، گواہی  دی  کہ  ہمارا خُداوند
سچا مسیحا ہے جس نے خاموشی سے اپنے سارے کاموں کو پورا کِیا۔
خُدا کے وہ خادمین تمام دُنیا میں خوشخبری کو پھیلاتے ہیں کہ مسیحا اِس زمین پر آنے اور ظُلم و تشدد اُٹھانے کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچاچکا ہے۔ حقیقت میں، خُدابذاتِ خود، اشاعتی مہارتوں کو ترقی کرنے کی اجازت دینے کے وسیلہ سے دُنیا کی تاریخ کو ہِلانے کے وسیلہ سے، اور قوموں کو جو اِس خوشخبری کی منادی کرتی ہیں مضبوط اور دولت مند بنانے کے وسیلہ سے پانی اور روح کی خوشخبری کوپھیلا رہا ہے۔
یِسُوعؔ مسیحا ہے۔یِسُوعؔ مسیحا ہے۔یِسُوعؔ مسیحا ہے! اگر آپ اپنے مسیحا کے طور پریِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں، آپ نجات یافتہ ہوں گے۔یِسُوعؔ خُدا کا بیٹا ہے۔یِسُوعؔ خالق ہے جس نے تمام کائنات کو بنایا۔ وہ خُد اہے۔ وہ مسیحا ہمارا نجات دہندہ ہے۔“ خُدا کے خادمین نے لوگوں تک کہ یِسُوعؔ مسیحا ہے، اور اُس کے بپتسمہ کے بارے میں بھی، صلیب پر اُسکی موت، اور اُس کے جی اُٹھنے کی منادی کرنے کو جاری رکھا۔
 اسرائیل کے چند نوجوان احساس کر چکے تھے کہ  ۲۰۰۰ء سال پہلے، ایک نوجوان آدمی بنام یِسُوعؔ اِس زمین پر آیا اور کہ جب وہ ۳۰ سال کا ہوگیا، اُس نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اُس وقت، صِرف یِسُوعؔ کے ذاتی شاگرِد جانتے تھے کہ وہ مسیحا تھا، اور یہ عِلم صِرف چند ایک لوگوں کے ساتھ بانٹا گیا تھا جو حقیقتاً خُدا سے ڈرتے تھےباقی تمام اِس سچائی سے بے خبر رہے۔ کُل مِلا کر،اسرائیل کی اِس قوم میں صِرف تقریباً ۵۰۰ مقدسین تھے (۱۔کرنتھیوں ۱۵:۶) جو جانتے تھے کہ مسیحا  صلیب تک دُنیا کے گناہوں کو لے گیا، یعنی وہ اِس پر مَرا، اور کہ وہ پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ دوسرے سب کوئی تصورنہیں رکھتے تھے۔
 یِسُوعؔ مسیح کی موت اور اُس کے جی اُٹھنے کے ۵۰ویں دِن پر، روح القدس حقیقتاً اُس کے شاگردوں پر نازِل ہوا۔ جب یِسُوعؔ کے شاگر د بالا خانہ میں دُعا کر رہے تھے، روح القدس بے شک اُن پر نازل ہوا، اُنھیں غیر زبانوں میں بولنے کے قابل کرتے ہوئے اور گواہی دیتے ہوئے کہ یِسُوعؔ مسیح مسیحا ہے۔ تب، اُس کے شاگردوں نے، موت سے نہ ڈرتے ہوئے، دلیری سے گواہی دی، ”یِسُوعؔ مسیحا ہے۔ مسیحا ہمارا نجا ت دہندہ ہے۔ جی اُٹھایِسُوعؔ  ہمارا مسیحا ہے۔“ اِس لئے بہت سارے لوگ اس وقت ایمان رکھنے کے لئے آئے۔
یِسُوعؔ یعنی مسیحا کے وسیلہ سے، خُدابے شک آپ کو اور  مجھے  ہمارے  تمام  گناہوں  اور گناہ  کی
لعنت سے بچا چکا ہے۔ کیونکہ اُس نے اِس طرح ہمیں ہمارے گناہوں اور عدالت سے بچانے کے لئے اَیسے عظیم ظُلم و تشدد کو برداشت کِیا، ہمیں حتمی طورپر یقیناً اُس پر ایمان رکھنا چاہیے؛ وہ سب جو ایمان نہیں رکھتےاُن کو یقیناً توبہ کرنی چاہیے، رجُوع لانا چاہیے اور ایمان بھی لانا چاہیے؛ اور ہم سب کو یقیناً ایمان کے ساتھ یہ سچائی پھیلانی چاہیے۔
حقیقت میں، اسرائیل کے لوگ اب ایک انتہائی کشیدہ صورتحال میں خوفزدہ ہیں۔ اِس لئے اُنھیں یقینا ًخیمۂاِجتماع کے اِس کلام کو سُننا چاہیے جو خُد احقیقتاً اُن سےفرما چکا تھا۔ اب ہم بھی آخری وقت میں داخل ہو رہے ہیں۔ خیمۂاِجتماع کے قربانی کے نظام میں ظاہر کی گئی پانی او رروح کی خوشخبری حقیقت میں یقیناً اسرائیل کے لوگوں کے لئے اپنا راستہ بنائے گی۔ وہ، بھی، ایمان رکھنے کے لئے آئیں گے کہ یِسُوعؔ  مسیح بے شک مسیحا ہے جس کے بارے میں خُدا اُن سے فرما چکا تھا۔
خُدا اسرائیل کے لوگوں کو پہلے ہی قربانی کے نظام کے بارے میں بتا چکا تھا، اور اُنھوں نے اِس پر ایمان رکھا۔ حقیقت میں، وہ اب بھی خیمۂاِجتماع کے قربانی کے اس نظام کے مطابق خُدا کو قربانیاں پیش کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسرائیلیوں کے درمیان، اب تک بعض بنیاد پرست موجود ہیں جو بیابان میں رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ اب، یہ لوگ اِس طریقہ سے قربانیاں پیش کرتے ہوئے بیابان میں زندہ رہتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں وہ اُس قِسم کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں جو پہلے ایک مرتبہ  خیمۂاِجتماع میں پیش کی جاتی تھیں۔ شاید وہ ہارونؔ کی اولاد ہیں۔ اپنے خاندانوں کی روایات کو قائم رکھنے کے لئے، وہ شہروں کی بجائے بیابان میں زندہ رہ رہے ہیں۔ اگرچہ وہ اسرائیلی ہیں، وہ ایک خفیہ قبیلہ کی طرح زندہ رہتے ہیں، یعنی عام لوگوں سے جُدا۔ اِن لوگوں کے لئے بھی، ہمیں یقینا ًحقیقت میں  خیمۂاِجتماع  کے کلام کی منادی کرنی چاہیے کہ مسیحا پہلے ہی ہمارے پاس آچکا ہے اور ہمارے ایما ن کے مطابق ہمیں بچا چکا ہے۔
ہمیں یقیناًیِسُوعؔ کا اِس زمین پر آنے کے لئے، اِس طرح ظُلم و تشدد برداشت کرنے کے لئے، اور ہماری جگہ پر پَرکھے جانے کے لئے شکریہ اَداکرنا چاہیے، سب آپ کو اور مجھے ہمارے نجات دہندہ کے طورپر، ہمارے گناہوں او رگناہ کی لعنت سے بچانے کے سلسلے میں ہے۔
 
 
کیونکہ عِشق موت کی مانند زبر دست ہے اور غیر ت پاتال سی بے مرُوّت ہے
 
 یعنی ہم حقیقت میں ہمارے تمام گناہوں سے اور گناہ کی عدالت سے بچائے جا چکے ہیں ایک اتفاق کے وسیلہ سے حاصل نہیں ہوا تھا، جس طرح گویایہ ایک حادثاتی میل کی ترسیل کے وسیلہ سے حاصل ہواہو۔ ہماری نجات کسی قِسم کاسلسلہ حروف نہیں ہیں جو ہمیں بتانا جاری رکھتے ہیں کہ ہمیں اُنھیں ۲۰ لوگوں سے زیادہ آگے پہنچانا ہے ورنہ ہم برباد ہو  جائیں گے۔ نہ ہی  گناہوں کی معافی کی ہماری نجات اُن بہت سارےدستی اشتہاروں میں سے ایک کی مانندہے جو ایک کے ساتھ ایک مفت  پیزا دینے  کا کاروبا رکرتے ہیں، جہاں ہم سادگی سے ایک فون کر سکتے ہیں اور اپنے دِل کی تسلی کے مطابق اپنا معدہ بھر سکتے ہیں۔
حقیقت میں، ہماری نجات ہمارے پاس خُدا کے اپنے بیٹے کو بھیجنے کے وسیلہ سے ، اُ س پر ہمارے تمام گناہوں کو لادنے کے وسیلہ سے، اور اُس کے تکلیف اُٹھانے اور اُس کے ہمارے اِن سب گناہوں کے لئے تکلیف اُٹھانے اور ظُلم اُٹھانے کے وسیلہ سے حاصل ہوئی۔ یہ ہے کیوں آپ کو اور مجھے پورے دِل کے ساتھ اُس پرایمان رکھنا اور اُس کا شکر اَدا کرنا چاہیے۔ جانتے ہوئے کیسے ہماری نجات حاصل ہوئی، کیسے ہم میں سے کوئی کبھی اِسے ایک پھٹے ہوئے جوتوں کے جوڑے کے طورپر پھینک سکتاتھا، بالا خانہ میں بیٹھتے ہوئے، اِسے کچھ بے فائدہ ٹوٹے ہوئے اوزار کے طور پر رکھ سکتا تھا،اور اِسے نظر انداز کر سکتا تھا جس طرح اگر یہ کسی دوسرے سے تعلق رکھتی تھی؟
کیا آپ کے درمیان کوئی موجود ہے، جوخُداکی کلیسیا میں شِرکت کر رہا ہے، پھر بھی گناہ کی معافی حاصل نہیں کرچکا ہے؟ کیا کوئی موجود ہے جو حقیقتاً اب تک پانی او ر روح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھ چکا ہے؟ اگر بے شک اَیسے لوگ موجود ہیں، اُن سب کو یقیناً توبہ کرنی اور اِس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے مسیحا پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر آپ کھو جاتے ہیں، اور پُر یقین نہیں ہیں کو نسا راستہ لیناہے،تو صِرف سب اپنے دِلوں کے ساتھ سچائی کے کلام پر ایمان رکھیں۔ وہ جو ایمان نہیں رکھتے ہیں خُدا کے بیٹے کی اِس محبت کورَدّ کر رہے ہیں، محبت جس کے ساتھ اُن کی اپنی ذات کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے نہیں وہ اِن تمام تکلیفوں میں سے گزرنے کے وسیلہ سے اُنھیں بچا چکاہے۔
وہ جو اُس کی محبت کی قدر کا کم اندازہ رکھتے ہیں اور اِسے رَدّ کرتے ہیں لعنتوں کا سامنا کریں  گے۔
صحیفہ ہمیں بتاتاہے، ” کیونکہ عِشق موت کی مانند زبردست ہے اور غیر ت پاتال سی بے مرُوّت ہے“(غزلُ الغزلات ۸:۶)۔ خُداکی محبت اِتنی مضبوط اور عظیم ہے کہ یہ اُن لوگوں پر ظالم سفاک ترین سزا لاتی ہے جو اِسے آخرتک رَدّ کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی حقیقت میں جبکہ گنہگار رہتے ہوئے مَر جاتاہے، وہ بے شک قبر کی مانند جہنم کی بے رحم تکلیف کو برداشت کرے گا۔ نفرت قبرکی طرح ظالم ہے۔ جب مسیحا آپ سے اتنی زیادہ محبت کر چکا ہے، جب اُس نے یوں بپتسمہ لیا، اپنا ذاتی خون بہایا، اور ہر قِسم کا ظلم و تشدد برداشت کِیا، سب صِرف آپ کو بچانے کے لئے، اگر آپ اِس محبت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں اور اِسے رَدّ کرتے ہیں، آپ یقیناً اِس ظالم دَرد سے اَذیت اُٹھائیں گے۔ یہ جہنم کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔
اِس طرح خُد انے فرمایا، ”اور جس طرح آدمِیوں کے لیے ایک بار مَر نا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرر ہے۔“  (عبرانیوں ۹:۲۷)۔ جب ہم مرتے ہیں، ہمارا بدن ختم ہو سکتاہے، لیکن خُد اکے سامنے، یہ ہمارا اختتام نہیں ہے۔ اُن پر ظُلم کو کُچلنے کے لئے جو خُد اکی محبت کو رَد ّ کرتے ہیں، خُدا اُنھیں ابدالآباد زندہ رہنے اور کبھی نہ مرنے کے قابل بنا چکا ہے، اور بے شک اُن پر بے رحم تکلیفیں لائے گا۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اُنھیں ہمیشہ کے لئے جلتی ہوئی آگ میں حقیقتاً پھینکے گا، اور اُنھیں سب اِس دَرد میں مسلسل، بِلا اختتام، او ر ابدالآباد اور ہمیشہ کے لئے اذیت میں ڈالے گا۔ یہ ظالم تکلیف خُدا کی ظالم نفرت کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ کیا آپ سوچتے ہیں خُدا کبھی بذاتِ خود ایک اَیسی چیز برپاکرنے کے قابل نہیں ہوگا؟ مت بھولیں کہ خُدا کے لئے کو ئی چیز ناممکن نہیں ہے!
ہمارے لئے خُدا کی عظیم اور بے انتہا محبت، ہماری خاطر اُس کی ذات کے تکلیف اُٹھانے کے وسیلہ سے، ہمیں ہماری تمام لعنتوں، ہمارے تمام گناہوں، اور ہماری تمام سزا سے بچا چکی ہے۔ کیا آپ کے تمام مسائل کو حل کر سکتی ہے یہ مسیحا کی محبت ہے۔ بے شک، کچھ موجود نہیں ہے جو مسیحا کی محبت سے زیادہ عظیم ہے۔ اِس مسیحا پر ایمان کے بغیر، خُدا کی محبت ہماری نہیں ہو سکتی ہے۔ یہ محبت صِرف ہمیں اُس خُدا کے وسیلہ سے دی جاتی ہے، ایک واحد جو ہمارا مسیحا بن چکا ہے اور یہ اُس کا باپ ہے جو اُسے ہمارے پاس بھیج چکاہے۔ قادرِ مُطلق خُدائے ثالوث ہم سے اِس طرح محبت کر چکاہے، اور اِس طرح ہمیں ہمارے گناہوں اور سزا سے بچا چکا ہے۔ یہ ہے کیوں ہمیں یقیناً مسیحا پر ایمان رکھناچاہیے، کیوں ہمیں یقیناً اُس کا شکر اَدا کرنا چاہیے، کیوں ہمیں یقیناً اُسے جلال دینا چاہیے،اور کیوں ہمیں  یقیناً اِس مسیحا  پر  ہمارے ایمان  کے
ساتھ مطمئن ہونا چاہیے۔
یہ کتنی شکر گزار ی ہے کہ مسیحا ہمیں پانی اور روح کی خوشخبری دے چکا ہے؟ اگر کوئی نہیں جانتا ہے یہ محبت محض کتنی انمول ہے، کیسے یہ کبھی اِس دُنیا میں کسی بھی دوسری چیز کے لئے تبدیل نہیں کی جاسکتی ہے، اُسے یقیناً جاہل ترین اور بیوقوف لوگوں میں سے ایک ہونا چاہیے۔ کتنی خوفناک تکلیفوں اور مسائل میں سے ہمارا خُداوند ہمارے واسطے گزرا؟ کیونکہ ہم اُس کی محبت کے لئے اتنے شکر گزار ہیں، گو ہم ناکافی ہیں، ہم سب تک ہماری باقی قوت کی اِس محبت کو اُن تک جو اِس سے ناواقف ہیں پھیلانے کے لئے وقف کرتے ہیں۔
خُدا کے اَیسے کام کرنے کے لئے، ہمیں یقیناً مصیبتوں اور تکلیفوں کا سامنا بھی کرنا چاہیے۔ ہم صِرف اپنے آپ کے لئے خوشحالی کو تلاش نہیں کر سکتے ہیں۔ اگر ہم بِلا شک قربانی کی اُس کی محبت حاصل کرنے اور اِس میں مُلبس ہونے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں، ہمیں یقیناً اِس محبت کو دوسروں کے ساتھ بھی بانٹنا چاہیے۔ بالکل جس طرح یِسُوعؔ  مسیح نے ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے اپنی تمام تکلیفوں کا سامنا کِیا، نہ بدن کی محبت کے ساتھ، بلکہ اپنی سچی محبت کے ساتھ، ہمیں بھی یقیناً ایمان میں اُس کے کام کرنے چاہیے، رَضامندی سے مصیبتوں، دباؤ، نفرت، تکلیف اور تذلیل کو قبول کرتے ہوئے، اگراِن کامطلب ہے کہ دوسرے بھی اپنے گناہوں کی معافی حاصل کریں گے۔ ہمیں یقینا ًمحبت کے نام میں اَیسی نفرت کی اذیت اُٹھانی چاہیے۔ اگر آپ اور مَیں حقیقتاً گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، تب مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ اَیسی محبت بے شک ہمارے دِلوں میں پائی جاتی ہے۔
اور نئے سِرے سے پیدا ہوئے، جو حقیقتاً جانتے ہیں وہ پہلے کون تھے اوریِسُوعؔ  کی نجات کی محبت کتنی عظیم اور طاقتور ہے، پھل پیدا کرتے ہیں۔ نجات یافتہ درخت ہیں جو نجات کے پھل پیدا کرتے ہیں،  ” کیونکہ درخت پھل ہی سے پہچانا جا تا ہے“  (متی ۱۲:۳۳)۔آپ کے نجات یافتہ ہونے سے پہلے، آ پ مکمل طور پر اپنے گناہوں میں غرق تھے، اور اِس طرح حتیٰ کہ آپ شکایت نہیں کرسکتے تھے اگر آپ بِلاشک جہنم میں پھینک دئیے جاتے۔ مگر آپ نے ایمان رکھا کہ خُدا ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آنے اور آپ کی خاظر ظُلم اُٹھانے کے وسیلہ سے آپ کا نجا ت دہندہ بن چکاہے، اور کہ آپ کی جگہ پر تکلیف اُٹھانے کے وسیلہ سے وہ آپ کو آپ کے گناہوں اور عدالت سے بچاچکا ہے۔ اِس طرح ایمان رکھنے کے وسیلہ سے آپ نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔ اگر آپ بے شک یہ محبت حاصل کر چکے ہیں  تب
آپ کو اور مجھے یقیناً دِل رکھنے چاہیے جو دوسروں کے لئے زندہ رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
اگر کوئی ایک اَیسا دِل نہیں رکھتا ہے، تب وہ گناہ کی معافی حاصل نہیں کر چکا ہے۔ بالکل صحیح، یہ شخص صِرف گناہ کی معافی حاصل کرنے کے لئے بہانہ کر رہا ہے۔
بالکل جس طرح مسیح نے اپنی تکلیفوں کا سامنا کِیا اور ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور عدالت سے بچا چکا ہے کیونکہ وہ ہم سے محبت رکھ چکا ہے، اگر ہم بے شک اِس محبت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں، تب یہ محبت ہمارے ذاتی دِلوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اب مسیح ہمارے دِلوں میں رہتا ہے۔ جس طرح وہ ہماری خاطر ستایا گیا اور ہم سے محبت کر چکا ہے، ہمیں بھی یقینا ًدوسروں کے لئے اور اُن کی خاطر مصیبتوں کا سامنا کرنے کے لئے زندہ رہنا چاہیے۔ کیونکہ ہم میں سے وہ جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں ہمارے دِلوں میں کوئی مزید گناہ باقی نہیں رکھتے ہیں، ہمارے دِل سب ،یِسُوعؔ مسیح کے دِل کی مانندبنتے ہوئے تبدیل ہو چکے ہیں۔
مَیں یِسُوعؔ مسیح کا اِس زمین پر آنے کے لئے، بپتسمہ لینے اور صلیب پر اپنا خون بہانے کے لئے، ہمارے خاطر اپنی تمام تکلیفیں قبول کرنے کے لئے، اور یوں ہمارا مسیحا بننے کے لئے جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے آزاد کر چکاہے شکر اَدا کرتاہوں۔