خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-7] <خروج ۲۵:۱۔۹> خیمۂ اِجتماع کا تعمیری سامان جس نے ایمان کی بُنیاد رکھی

> خروج ۲۵:۱۔۹<
اور خُداوند نے مُوسیٰ کو فرمایا۔بنی اِسرائیل سے یہ کہنا کہ میرے لِئے نذر لائیں اور تُم اُن ہی سے میری نذر لینا جو اپنے دِل کی خُوشی سے دیں۔اور جِن چِیزوں کی نذر تُم کو اُن سے لینی ہے وہ یہ ہیں:- سونا اور چاندی اور پِیتل۔اور آسمانی اور ارغَوانی اور سُرخ رنگ کا کپڑا اور بارِیک کتان اور بکری کی پشم۔اور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں اور تخس کی کھالیں اور کِیکر کی لکڑی۔اور چراغ کے لِئے تیل اور مَسح کرنے کے تیل کے لِئے اور خُوشبُودار بخُور کے لِئے مصالِح۔اور سنگِ سُلیمانی اور افُود اور سِینہ بند میں جڑنے کے نگینے۔اور وہ میرے لِئے ایک مَقدِس بنائیں تاکہ مَیں اُن کے درمیان سکُونت کرُوں۔اور مسکن اور اُس کے سارے سامان کا جو نمُونہ مَیں تُجھے دِکھاؤُں ٹھیک اُسی کے مُطابِق تُم اُسے بنانا۔
 
 
 
حقیر زندگیاں
 
ایک نظم بعنوان ’زندگی کا ایک مقدس گیت،‘ میں ہینری واڈزورتھ لونگ فیلو نے لکھا، ”مجھے غمناک اعداد، میں مت بتاؤ، ’زندگی ہے لیکن ایک خالی خواب“‘!
تاہم، اگر آپ حقیقتاً اِس کے بارے میں سوچتے ہیں، بنی نوع انسان کی زندگیاں بے شک بہت حقیر ہیں۔ گو ہر کسی کی زندگی دُنیا کے اِس بیابان میں تنہائی اور ناپائیداری میں رہنے کے بعد بے فائدہ مٹی میں واپس ختم ہوتی ہوئی نظر آسکتی ہے، زمین حتمی منزل نہیں ہے۔ ہر شخص کی زندگی کا حتمی اختتام، گناہ کی وجہ سے، ہمیشہ تک رہنے والی، جہنم کی خوفناک اذیتیں ہو گا۔
پھر بھی لوگ عموماً اپنی ذاتی موت اور قبر کے بعدکی دُنیا کے لئے توجہ نہیں  کرتے  ہیں۔  جب کہ
اِس دُنیا میں رہتے ہوئے، اِس طرح لوگ کسی مقصد کے بغیررہتےہیں، یعنی جہنم کی طرف رُخ کرتے ہوئے، خُداکو ملنے کے قابل نہیں ہیں جو اُنھیں بچاچکا ہے۔ یہ زندگی ہے۔ لیکن اگر واقعی یہ سب تھا جو زندگی میں ہوتا ہےتو،ہم کتنے حقیر اور قابل ِ ترس ہوں گے؟
اَیسی زندگیوں کے لئے، مسیحا انتظار کر رہاہے۔ اگر لوگوں کو اِس کُھلی دُنیا میں بِلا مقصد صِرف گھومنے اور تاریکی میں غائب ہونے کے لئے بے احتیاطی کے ساتھ پھینکے جانا تھا، وہ بے شک قابلِ رحم اور قابلِ ترس وجودگزار رہے ہوں گے۔ ہم یہ سب محض اپنے اِردگِرد کے لوگوں کودیکھ کر پہچان سکتے ہیں۔
حال ہی میں، جب مَیں ایک کار میں تھا مَیں نے ایک بوڑھے آدمی کوجوتقریباً ساٹھ سال کے قریب تھا،سڑک کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھا۔ اپنی پُشت میری طرف کر کے چلتے ہوئے اُس کا سَر نیچے کی طرف جھُکا ہُواتھا اور اُس کے کندھے دبے ہوئے تھے، ہر طرف سے بالکل تنہا نظر آرہا تھا۔ جب مَیں نے ہارن بجایا، وہ واپس مُڑا، اور مَیں نے دیکھا کہ اُس کا چہر ہ غموں کے ساتھ بھرا ہُوا تھا۔ اِس بوڑھے آدمی کے تاثرات دیکھتے ہوئے، مَیں نے تھوڑی دیر کے لئے سوچا۔ یہ بوڑھاآدمی غالبا ً محسوس کر رہا تھا اُس کی زندگی کتنی خالی تھی۔ گِرجانے کی بربادی نے شاید اِس کھوکھلے پن کے احساس میں، اُس کی زندگی کی فضولیت کو اُسے زیادہ محسوس کراتے ہوئے حتیٰ کہ زیادہ اضافہ کِیا۔ نہ صِرف اِس آدمی کی زندگی، بلکہ ہر کسی کی زندگی، حقیقت میں،واقعی قابلِ ترس ہے۔
 وقت گزرنےکے ساتھ ،لوگ حتیٰ کہ احساس نہیں کرتے کہ وہ بوڑھے ہورہے ہیں، یہاں تک کہ وہ  اچانک اپنے ہر طرف گہری جھُریاں دریافت کرلیں۔ اُن میں سے بہت سارے اپنی زندگیوں میں بہت ساری مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں کہ حتیٰ کہ اُنہیں رُکنے، مُڑنے، اور دیکھنے کا کوئی موقع نہیں ملاکہ وہ کہاں چل رہے تھے۔ گوتمام والدین اپنے بچوں اور خاندان کے لئے زندہ رہ چکے اور سخت محنت کرچکے تھے، الفاظ اُن کی اُفسردگی بیان نہیں کر سکتے ہیں، کیونکہ جب وہ اپنے ذاتی غروب کا سامنا کر رہے ہیں، اُن کی زندگیوں میں کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔
اپنے جذبات کے تلے، وہ جَلد ہی آنسوؤں سے مغلو ب ہو جاتے ہیں۔ اِتنا سارا وقت گُزرنے کے بعد اور اِتنے سارے سالوں کے گزرنے کے بعد وہ آخر کار واپس دیکھنے کا ایک موقع رکھتے ہیں اور جب وہ اَیسا کرتے ہیں، سب جو وہ محسو س کر سکتے ہیں محض خزاں کی بربادی کا یہ منظر اُن کے ذاتی عکسوں پر کتنا پُر اِسرار لگتا ہے۔خزاں کے ساتھ، جب تمام پتے گِر چکے ہیں، اور صِرف بے لُطف سردی کا سامنا کر رہے ہیں، وہ پہچانتے ہیں کہ اُن کی زندگیاں، بھی، جلد ہی اِس طریقے سے غائب ہو جائیں گی۔ بے شک،وہ پچھتائیں گے کہ اِس کا احسا س کرنے کے لئے اُنھیں اِتنا وقت لگا۔ یہ لوگ کیا اُمید رکھیں گے، جب وہ حتیٰ کہ خُداوند کو ملنے کے بغیر تقریباً مرنے کے قریب ہیں؟ اَیسے لوگ جو مسیحا کو ملنے کے بغیر اپنے آخر تک پہنچتے ہیں ہمیشہ کے لئے قابلِ ترس ہیں۔
مَیں بذاتِ خود بھی ایک قابلِ ترس زندگی گزار چکا ہوتااگر مَیں خُداوند سے نہ مل چکا ہوتا۔ آپ کے بارے میں کیا ہے؟ اب آپ کہاں کا رُخ کر رہے ہیں، اگر آپ آیا خُداوند سے نہیں مل چُکے ہیں؟ اِس دُنیا میں بہت سارے لوگ موجو دہیں جو، کیونکہ وہ خُدا سے ملنے کے قابل نہیں تھے، اپنی ذاتی غمگینی کوذخیرہ کر چکے ہیں۔
یہ میرے دل کو توڑتی ہے جب مَیں اِن لوگوں کے بارے میں سوچتا ہوں، کہ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو اپنی ذاتی غمگینی کو ذخیرہ کر چکے ہیں۔ سب جو سُؤر کرنے کےلئے رکھتے ہیں محض اپنے آپ کو کھِلانا ہے جب تک وہ اپنے آخر کا سامنا کرتے ہیں، لیکن ہماری زندگیاں اِن سُؤروں سے مختلف ہیں، کیونکہ ہمیں یقیناً  موجود ہ سے آگے اَبدی مستقبل پر سوچ بچارکرنی اور دیکھنا چاہیے۔ بہت سارے لوگ اپنے آخری دن کے لئے پچھتاوے کے ساتھ بھرے ہوئے ملتےہیں۔ گو وہ جانتے ہیں کہ آسمان کی اَبدی بادشاہت موجود ہے، وہ پہچانتے ہیں کہ وہ اِ س میں داخل ہونے کے لئے بہت غیر موزوں ہیں، کیونکہ وہ گنہگار ہی رہ چُکے ہیں۔ یعنی بہت ساری اَیسی زندگیاں اَیسے پچھتاووں کے ساتھ بھری ہوئی صِرف مجھے اُن کی افسوسناک قسمت کے لئے غمزدہ اور ماتم زدہ بناتی ہوئی موجود ہیں۔
جب ہم اِن زندگیوں کے بار ے میں سوچتے ہیں کہ وہ خُداکی معرفت تیار کی گئی اچھی جگہ میں جانے کے لئے قابل نہیں ہیں، اور کہ اُنھیں اپنی زندگیوں کے حقیقی مقصد کو پوراکیے بغیر اِ س دُنیا سے غائب ہونا ہے، ہم صِرف اِن جانوں کے لئے ترس کھا سکتے اور اُن کی قِسمت کے لئے ماتم کر سکتے ہیں۔ یہ ہے کیوں زندگی کاموازنہ اکثر ایک ناہموار اور مشکل سمندر کے سفر کے ساتھ کِیا جاتا ہے۔ زندگی کا حوالہ دیتےہوئے، لوگ کہتے ہیں کہ یہ ایک اَیسےسمندر پر زندہ رہنے کی مانند ہے، یعنی انسانی دُنیا کی کڑواہٹ میں زندہ رہنے کے لئے کوشش کرنا، یعنی اُن کی بالکل پیدائش سے لے کر اُن کی موت تک، اُنھیں یقیناً  دُکھ اُٹھانا اور ٹھوکر کھا نا اور محض زندہ رہنے کے لئے چیخنا چلانا چاہیے۔
 جب ہم اپنے آپ کو یاد دِلاتے ہیں کہ زندگی اِسی کےبارےمیں ہے، ہم یقین کے ساتھ احساس
کرتے ہیں کہ تمام لوگوں تک خیمۂاِجتماع   کے اِس سچ کی وضاحت کرنا اور اُنھیں خُداوند سے ملنے کے لئے مدد دینا تمام بےحد اہمیت کے کام ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ قربانی کے نظام کے وسیلہ سے، خُدااِن گنہگار لوگوں کو گناہ سے اُن کی نجات اُنھیں اپنے ذاتی خُداکے گھر میں ملنے کے وسیلہ سے دیتاہے۔ خیمۂاِجتماع   بیابان میں قائم کِیا گیا خُدا کا گھر ہے۔ خُدا کے اِس گھر، خیمۂاِجتماع   میں، خُدا گنہگار سے قربانی کے نظام کی معرفت پوری کی گئی گناہ کی معافی کے فضل کے وسیلہ سے ملتا ہے، خُد اہمیں بتاتاہے، ”میَں تمہیں میرا گھر بنانے کے قابل بناؤں گا جہاں مَیں سکونت کروں گا، اور میَں اِس خیمۂاِجتماع   کے اندر، اِس کی سرپوش  میں تم سے مِلوں گا۔“ صِرف خیمۂاِجتماع  ، خُداکے گھر میں، کسی کو خُد اسے ملنے کا ایک موقع دیا جاتا ہے۔
خیمۂاِجتماع   کے سچ پر یہ ایمان اِس دُنیا میں کسی بھی دوسری چیز سے بدلا نہیں جا سکتا ہے، اور یہ قیمتی ترین ہے جو کسی بھی قیمت پر خریدا نہیں جا سکتاہے۔ مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ ہم میں سے اُن کے لئے جو مسیحی ایمان رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ مسیح کوہمارے نجات دہندہ کے طور پر مانتے ہیں، اِس خیمۂاِجتماع   کا بالکل صحیح علم اور مناسب ایمان رکھنا حتیٰ کہ بابرکت راستے پر قدم رکھنے کی ایک راہ ہے۔
 
 
ہم اپنی مبارک زندگیاں گزارتے ہیں
 
میرا دل خوشی کی سوچ کے ساتھ، حیران ہوتے ہوئے بھر جاتا ہے اگر کوئی دوسرا موجود ہے جو اَیسی مبارک زندگی گزار رہا ہے جس طرح ہم گزار رہے ہیں۔ گو زندگی ایک اَیسا قابل ِ ترس وجود ہے، بہت سارے لوگ جب کہ اپنی ذاتی قسمت سے مکمل طور پر غافل رہتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ لیکن خُدا اُنھیں پہچاننے کے قابل بنانا، اوراُن کے دِل کو توبہ کے قابل بناناچاہتا ہے کہ اُن کی زندگیاں اُس کے سامنے محض کتنی ضِدی رہ چُکی تھیں۔ دوسری طرف، وہ خوشخبری کو سُننے کے بغیر اپنی زندگیاں گزارنے کی اب تک کوشش کر رہے ہیں جو خُدا اُنھیں مُفت دے چکا ہے، اور حتیٰ کہ اپنے دِلوں میں معمولی سی جگہ کو کھولنے کے بغیر۔
خروج ہمیں دس آفات کے بار ے میں بتاتا ہے جو خُدافرعونؔ پر لایا۔ دس آفات کا ایک مجموعہ مِصر کی سرزمین پر لایا گیا۔ خُدا نے فرعونؔ کو مِصر میں رہتے ہوئے اپنے لوگوں کو جانے کی اجازت دینے کا حُکم دیا۔ اُس نے فرعونؔ کو بتایا اگر وہ اُس کی فرمانبردار ی نہیں کرے گا،  وہ اُس پر دس آفات برپا کرے گا۔ لیکن فرعونؔ نے نہ سُناجو خُدا اُسے بتا چکا تھا، ضدمیں اُس کے حکم کی مخالفت کی، اور تمام دس آفات حاصل کرتا ہُوا ختم ہو گیا جن کا خُدا وعدہ کر چکا تھا۔ فرعونؔ کی ہٹ دَھرمی غلط قدم پر تھی۔ آخر کار اُس نے اسرائیل کے لوگوں کو خُداکی تمام سزائیں حاصل کرنے کے بعدہی آزاد کِیا اِس کی وجہ یہ تھی کیونکہ وہ شیطان سے جکڑا ہوا تھا۔ یہ ہماری ذاتی غلط سرکشی کو جو ہم میں سے ہر ایک میں اور ہر کسی میں پائی جاتی ہے کو بیان کرتی ہے۔
تاہم، اَیسے لوگ پھر بھی اُس کے خیمۂاِجتماع   میں خُدا کی معرفت مقرر کی گئی گناہ کی معافی حاصل کر سکتے، اور ایمان میں اُس کے ساتھ زندہ رہ سکتے ہیں۔پھربھی یہ لوگ اتنے ہٹ دَھر م ہیں کہ وہ رَد ّ کرنااور ایک گدھے کےسے ڈھیٹ پن کے ساتھ خُدا کے سچ پر ایمان نہ رکھنے کو جاری رکھتے ہیں۔ یہ ہے کیوں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو سچائی کے خُداکو ملنے میں ناکام ہو جاتے ہیں، اپنی زندگیاں گنہگاروں کے طور پر گزار تے ہیں، اور بالآخر اپنی ذاتی تباہی کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ مجھے غم سے افسردہ کرتا ہے۔ بہت سارے لوگ خُد اکے سامنے بہت ضِدی ہونے کی راہ پر چل رہے ہیں۔
کیونکہ اَیسے لوگ کچھ دیر کے لئے جُھکتے ہیں جب وہ مصیبتوں کا سامنا کرتے ہیں، لیکن تب بالکل واپس جاتے ہیں جہاں وہ پہلے تھے خُدا کی مرضی کو رَدّ کرتے ہوئے اور ایک بار پھر اپنی سرکش راہوں کو شروع کرتے ہوئے، وہ اپنی دوسری آفت کا سامنا کریں گے۔ اِس دوسری آفت کے ساتھ، وہ تھوڑا بہت جُھکتے ہیں۔ لیکن یہ زیادہ دیر کے لئے نہیں رہے  گا، کیونکہ وہ ایک بار پھر خُدا کی فرمانبرداری نہ کرنا اور اُسے للکارنا شروع کریں گے۔ اور اِس طرح وہ اپنی تیسری آفت کا ہدف ہیں، اپنی چوتھی، پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں، اور نویں آفات کی طرف بڑھتے ہوئےجب تک وہ صِرف آخری آفت کے بعد آخر کار ہتھیارڈالتے ہیں اور تباہ ہو جاتے ہیں۔
جب آخری آفت آتی ہے، بہت سارے لوگ موجود ہوں گے جو ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے جہنم کی اذیت اُٹھائیں گے جو مسیحا اُن کے لئے کیا کر چکا تھا۔ اَیسے لوگوں کی زندگیاں کتنی احمقانہ ہیں؟ یہ ہے کیوں ہر کسی کی زندگی اتنی قابلِ ترس ہے۔
گو لوگوں کی زندگی خُدا کے سامنے صِرف قابلِ ترس ہے، آپ کو یقیناً  احساس کرنا چاہیے کہ خیمۂاِجتماع   میں خُد اکو ملنا، اور اِس احساس کے ساتھ خیمۂاِجتماع   کے کلام  پر غوروخوض کرنا  آپ  کے  لئے
ایک عظیم برکت ہے۔
 
 
قربانیاں جن کا خُد اہم سے مطالبہ کر تا ہے
 
خُدا نے مُوسیٰ کو کوہِ سینِاؔ پر آنے کا حُکم دیا اور اپنی شریعت کی ایک مکمل کڑی دی۔ سب سے پہلے، اُس نے مُوسیٰ کو دس احکام دئیے:  ” تم میرے سامنے کوئی دوسرا خُدا نہیں رکھو گے؛ نہ تم شبیہات بناؤ گے نہ اُن کے سامنے جُھکو گے؛ تم میرا نام بے فائد ہ نہیں لو گے؛ تم سبت کو یاد اور اِسے پاک رکھو گے، تم اپنے والدین کی عزت کروگے، تم خون نہیں کرو گے؛ تم زنا کاری نہیں کر وگے؛ تم چوری نہیں کر و گے، تم اپنے ہمسائے کے خلاف جھوٹی گواہی نہیں دو گے؛ اور تم لالچ نہیں کروگے۔“ مزیدبرآں، خُد ادوسرے قوانین کے بارے میں بھی اُن سے بولا جو اسرائیلیوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں قائم رکھنے تھے:وہ مجموعی طور پر خُدا کے ۶۱۳ احکامات اور قوانین تھے۔
یہ ۶۱۳قوانین اَیسے پہلوؤں کا احاطہ کرتے تھے مثلاً کیا کرنا ہے جب اسرائیلی اپنے مویشی کھو دیتے ہیں، کیا کرناہے جب کسی دوسرے کا مویشی گڑھے میں گِر جاتاہے، کہ اُنھیں زِنائےمحرم نہیں کرناچاہیے، کہ اگر وہ نوکر رکھتے تھے اُنھیں اُ ن کو ساتویں سال پر آزاد کرنا تھا، کہ اگر انہوں نے اپنی لونڈی کو اپنے واحد مَرد نوکر سے بیاہ دینے کی اجازت دی اور اُس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا تو، اُنھیں مرَد نوکر کو ساتویں سال خودہی جانے کی اجازت دینی چاہیے، اور اِس طرح اور وغیرہ وغیرہ۔ خُدا نے مُوسیٰ کو تمام اخلاقی قوانین بتائے جو اسرائیلیوں کو اپنی روز مرہ زندگی میں خُد اکی نظر میں ایمان کے وسیلہ سے قائم رکھنے تھے۔
تب خُدانے مُوسیٰ  سے پہاڑ سے نیچے جانے کے لئے، بُزرگوں کو اکٹھا کرنے کے لئے، اور اُس کے احکامات کا اعلان کرنے کے لئے کہا۔خُدا کا کلام سُن کر، اسرائیل کے تمام لوگوں نے اتفاق کِیا، اور اپنے خون کے ساتھ قسم کھائی کہ وہ اِس طرح اُس کے تمام احکامات کی فرمانبرداری کریں گے (خروج ۲۴:۱۔۴)۔
تب، خُدانے ایک بار پھر مُوسیٰ کو پہاڑ پر بُلایا، اِس بار اُسے خیمۂاِجتماع   کو تعمیر کرنے کا حُکم دیا۔
خُدا نےمُوسیٰ سے فرمایا، ” بنی اِسرائیل سے یہ کہنا کہ میرے لِئے نذر لائیں اور تُم اُن ہی سے میری نذر لینا جو اپنے دِل کی خُوشی سے دیں“(خروج ۲۵:۲)۔ تب اُس نے اُس کی نذر کی فہرست بنائی: ” اور جِن چِیزوں کی نذر تُم کو اُن سے لینی ہے وہ یہ ہیں:- سونا اور چاندی اور پِیتل۔اور آسمانی اور ارغَوانی اور سُرخ رنگ کا کپڑا اور بارِیک کتان اور بکری کی پشم۔اور مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہُوئی کھالیں اور تخس کی کھالیں اور کِیکر کی لکڑی۔اور چراغ کے لِئے تیل اور مَسح کرنے کے تیل کے لِئے اور خُوشبُودار بخُور کے لِئے مصالِح۔اور سنگِ سُلیمانی اور افُود اور سِینہ بند میں جڑنے کے نگینے“ (خروج ۲۵:۳۔۷)۔
خُدا کا اِن نذروں کو لانے کے لئے اُنھیں بتانے میں اِس کے پیچھے ایک مضبوط مقصدتھا۔ یہ مقصد اِس زمین پر خُد اکا چمکتا ہُوا گھر بنانے کا تھا، جہاں کوئی گناہ نہیں ہے اور جہاں خُدا کو سکونت کرنی ہے، تاکہ وہ وہاں اسرائیل کے لوگوں سے ملے اور اُن کے گناہوں کو مٹائے۔ تاہم، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خُدا نے اُنھیں محض آج کے گِرجا گھروں کی مانند  ایک شاندار یادگار عمارت تعمیر کرنے کے واسطے پیسے لانے کے لئے کہا۔ آج کی مسیحیت کے جھوٹے نبی اِس حوالے کو غلط لاگو کرنے کی طرف مائل ہیں جب وہ اپنی ذاتی خواہشوں کو مطمئن کرنے کے سلسلے میں اپنے گرجا گھر کی عمارتیں تعمیر کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔
اِس کے برعکس، خُدا نے اسرائیلیوں کو یہ نذریں لانے کے لئے کہا تاکہ وہ اُنھیں اپنا ذاتی گھر تعمیر کرنے کے لئے استعمال کرے اور اُنھیں وہاں کثرت سے برکت دے۔ حقیقت میں، وجہ کیوں خُدا نے یہ نذریں حاصل کیں ہمیں ہمارے گناہوں سے چھڑانا اور ہماری عدالت سے ہمیں بچانا تھا۔ یہ خُدا کے لئے بذاتِ خود ہم سے ملنا تھا، ہم جو قابلِ ترس زندگیاں گزارتے ہیں، ہمارے گناہوں کو دھونے کے لئے، ہمارے گناہوں کو غائب کرنے، اور ہمیں اُ س کے ذاتی لوگ بنانے کے لئے تھا۔
 
 
نذروں کے پوشیدہ روحانی مطالب جو خُدا نے اُس کے لئے لانے کا حُکم دیا
 
ہمارے مزید آگے بڑھنے سے پہلے، آئیں ہم پہلے کچھ وقت اِن نذروں کے روحانی  معنوں پر سوچ
بچا ر کرنے کے لئے گزاریں جن کوخُدانے اُس کے لئے لانے کا حُکم دیا۔ اِس کے بعد، ہم ضرور اِس کی روشنی میں ہمارے ایمان کا معائنہ کریں گے۔
 
 
سونا، چاندی، اور پیتل
 
ہمیں سب سے پہلے ڈھونڈناچاہیے سونا، چاندی، اور پیتل کہاں استعمال ہوئے تھے۔ خیمۂاِجتماع   میں سونا پاک مقام، پاک ترین مقام، اور اِن میں پائے جانے والی اشیاء میں، چراغدان، نذر کی روٹیوں کی میز، بخُور کی قربانگاہ، سرپوش ، اور عہد کے صندوق کو شامل کرتے ہوئے استعمال کِیا گیا تھا۔ خُدا کے کلام میں سونا ایمان کوبیان کرتا ہے۔ او ر چاند ی نجات کے فضل کوبیان کرتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں یقیناً  وہ ایمان رکھنا چاہیے جو صِرف مسیحا کے وسیلہ سے دیئے گئے نجات کے تحفے پر ایمان رکھتا ہے، اور ایمان جو اعتقاد رکھتا ہے کہ ہمارا خُداوند ہمارے تمام گناہوں کو لے چُکاہے اورہمارے واسطے پَرکھا گیا تھا۔
مقابلے میں، پیتل خیمۂاِجتماع   کے ستونوں کے خانوں، اِس کی میخوں، حوض، اور سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے لئے استعمال کِیا گیا تھا۔ پیتل کے تمام برتنوں کو دفن ہونا یا زمین میں گاڑھے جانا تھا۔ یہ لوگوں کے گناہوں کی عدالت کوبیان کرتا ہے، اورپیتل ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ ہمیں شریعت کو قائم رکھنے میں ناکام ہونے کے لئے اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے خُدا کی معرفت ملعون ٹھہرائے جانا ہے۔
تب، سونے، چاندی، اور پیتل کے روحانی معانی کیا ہیں؟ وہ خُداکی معرفت دئیے گئے نجات کے تحفہ کو حاصل کرنے میں ایمان کی بُنیادیں تشکیل دیتے ہیں۔ کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ ہم میں سے سب گنہگار ہیں جو مکمل طور پر شریعت کو قائم نہیں رکھ سکتے ہیں، اِس لئے یعنی ہمیں ہمارے گناہوں کی وجہ سے مرنا ہے، اور کہ ہماری ذاتی موت کی بجائے خُداوند اِس زمین پر آیا اور ہمارے گناہوں کے لئے ہماری جگہ پر گناہ کی قربانی کا برّہ بننے کے وسیلہ سے جو خیمۂاِجتماع   میں دیا گیا تھا سزا اُٹھالی۔
اپنے گناہوں کا مسئلہ حل کرنے کے لئے، گنہگار خیمۂاِجتماع   میں بے عیب جانور لاتے تھے اور، قربانی کے نظام کے مطابق، اپنے گناہوں کو اُس کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے لادتے تھے؛ قربانی کا جانور جو اُن کے گناہوں کو قبول کرتا تھا تب اُس کا خون بہایا جاتا اور ذبح کِیا جاتاتھا۔ اَیسا کرنے کے وسیلہ سے، اسرائیل کے لوگ، جو جہنم جانے کے لائق تھے (پیتل)، اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے تھے (چاندی)، اور ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہ کی سزا سے بچ سکتے تھے (سونا)۔
 
 
آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان
 
 
یہاں کثر ت سے استعمال کی گئی دوسری اشیاء یہ ہیں؛ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹاہُوا کتان ۔ یہ دھاگے خیمۂاِجتماع   کے صحن کے دروازہ کے لئے، پاک مقام کے دروازہ کے لئے، او رپاک ترین مقام کے درمیان تقسیم کرنے والے پَردہ کے لئے استعمال کیے گئے تھے۔ یہ چار دھاگے ہمیں سچائی بتاتے ہیں کہ بالکل جس طرح پیدائش ۳:۱۵ میں پیشنگوئی کی گئی تھی، کہ خُداوند عورت کی نسل کے طور پر آئے گا، ہمارا خُداوند بے شک اِس زمین پر آئےگا اور بپتسمہ لینے اور مصلوب ہونے کے وسیلہ سے گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچائے گا، اور کہ خُدا ہمیں بذاتِ خود بچائے گا۔
یہ چار دھاگے نہ صِر ف خیمۂاِجتماع   کے دروازوں کے لئے،بلکہ سردار کاہن کے کپڑوں کے لئے اور خیمۂاِجتماع   کے پہلے پَردہ کے لئے بھی استعمال کیے گئے تھے۔ یہ خُداکا عہد تھا کہ یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر آئے گااور ہمیں اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ کے کام پورے کرنے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں سے بچائے گا۔ اور ہمارے خُداوند نے حقیقت میں اِ س وعدے کوقائم رکھا اور بے شک ہمیں دُنیا کے گناہوں سے بچا چُکا ہے۔
خیمۂاِجتماع   کے دروازوں کا سب سے زیادہ اہم نکتہ آسمانی دھاگہ ہے۔ کیوں یِسُوعؔ  مسیح کو، اِس زمین پر مسیحا کے طور پر آکر، صلیب پر مَرنا تھا؟ وجہ یہ ہے کیونکہ اُس  نے بپتسمہ لیا تھا۔ آسمانی دھاگہ یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کوبیان کرتا ہے، ارغوانی دھاگہ ہمیں بتا تاہے کہ یِسُوعؔ  بادشا ہ ہے، اور سُرخ دھاگہ اُس کی مصلوبیت اور خون بہانے کوبیان کرتا ہے۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے او ر بارِیک بٹا ہُوا کتان ضروری تعمیراتی سامان ہیں، جو نجات کے تحفہ کو تشکیل دیتے ہیں جو یِسُوعؔ  مسیح ہمیں اِس زمین پر مسیحا کے طورپر آنے اوراپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے دے چُکا ہے۔
اِس دُنیا میں بہت سارے لوگ صِرف زور دیتے ہیں کہ یِسُوعؔ  مسیح خُدا کا بیٹا  ہے اور کہ  وہ  بُنیاد ی
طور پر بذاتِ خود خُدا ہے۔ لیکن خُدا ہمیں خیمۂاِجتماع   کے وسیلہ سے واضح طور پر بتاتاہے کہ اَیسی تعلیمات پوری حقیقت نہیں ہو سکتی ہیں۔
پطرس رسُول نے ۱۔پطرس ۳:۲۱میں کہا، ” اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے۔ اُس سے جِسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالِص نیّت سے خُدا کا طالِب ہونا مُراد ہے۔“ 
یہ ہمیں گواہی دیتا ہے کہ یِسُوعؔ  مسیح نے اپنا نجا ت کا وعدہ پورا کِیا ہے اور اپنا بپتسمہ،یعنی مشابہ جو ہمیں بچاتا ہے حاصل کرنے کے وسیلہ سے مکمل طورپر ایمان کی بُنیاد رکھی۔ ہمارا مسیحا کون ہے؟ مسیحا کا مطلب نجات دہندہ ہے،جو ہمیں بتاتاہےکہ یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا، ہمارے تمام گناہوں اور دُنیا کے تمام گناہوں کو اپنےاوپرلینےکےلئے بپتسمہ لیا اور ، اور حقیقت میں اُن سب کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے اوپر اُٹھا لیا۔
خُد انے اسرائیلیوں کو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ساتھ اِسے بُننے کے وسیلہ سے خیمۂاِجتماع   کے صحن کا دروازہ تعمیر کرنے کے لئے کہا۔ اور ہمارے خُداوند کامقصد، جو بادشاہوں کا بادشاہ اور آسمان کا خُداوند ہے، ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آنا اِن آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے سچ کو پورا کرنا تھا۔ ہمارا خُداوند ایک انسان کے بدن میں آیا اور یوحنا ؔ، بنی نوع انسان کے نمائند ہ  سے بپتسمہ حاصل کِیا جو خُدا کی ساری راستبازی کو پورا کرے گا۔
یہ پُرانے عہد نامہ کی قربانی کی مانند تھا جو اسرائیلیوں کے گناہوں کو اِس کے سَر پر سردار کاہن کے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے قبول کرتی تھی او روہ اُن کی جگہ پر اِن گناہوں کے لئے سزا اُٹھاتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں، بالکل پُرانے عہدنامہ کی قربانی کی مانند، یِسُوعؔ  تمام گنہگاروں کے گناہوں کے لئے قربانی کے برّہ کے طور پر نئے عہد نامہ میں آیا، بپتسمہ لیا، مصلوب ہُوا، اور یوں دُنیاکے گناہوں کی سزا کو اُٹھا لیا۔ یِسُوعؔ  نے خُدا کے قربانی کے برّہ کے طور پر یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے آسمانی دھاگے کا سچ پورا کِیِا۔ اِس بپتسمہ کے ساتھ، یِسُوعؔ  نے ایک ہی مرتبہ اپنے آپ پر بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔
وجہ کیوں زیادہ تر مسیحی اِ س قِسم کے لوگوں میں بدل چُکے ہیں جو حتیٰ کہ دوسرے دُنیاوی مذاہب کے لوگوں سے زیادہ بُرے ہیں یہ ہے کیونکہ وہ اِس آسمانی دھاگے، یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کے سچ کو جاننے اور ایمان رکھنے میں ناکام ہو چُکے ہیں، اور اِس لیے ایک ہی بار اپنے گناہوں کی معافی حاصل نہیں کر چُکے ہیں۔ جب مسیحی اِس بپتسمہ کی دُرست تشریح نہیں رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ  نے اپنے آپ پر ہمارے گناہ اُٹھانے کے لئے حاصل کِیا، اُن کے ایمان کی اَصل بُنیاد شروع سے درست طور پر نہیں رکھی جا سکتی ہے۔
بالکل درست ہونے کے لئے، آسمانی دھاگہ طریقہ اور سچ ہے جس کے وسیلہ سے مسیحا اِس زمین پر آیا اور اپنے آپ پر ہمارے گناہ اُٹھا لئے۔ اور سُرخ دھاگہ یِسُوعؔ  کے خون کو بیان کرتاہے۔ وجہ کیوں یِسُوعؔ مسیح مصلوب ہوا، اپنا خون بہایا، اور صلیب پر مر گیا، یہ ہے کیونکہ ہمارے تمام گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے اُس پر لادے جا چُکے تھے۔ یہ تھا کیونکہ یِسُوعؔ  یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا چُکا تھا یعنی اِس لئے وہ صلیب پر مر سکتا تھا، اوریہ اِس حقیقت کی وجہ سے تھا کہ ہمارے لئے صلیب پر اُس کی قربانی بے فائدہ نہیں تھی۔ یہ تھا کیونکہ یِسُوعؔ  مسیح مسیحا نے اپنے بپتسمہ اور مصلوبیت کے ساتھ مکمل طور پر ہمارے گناہ کی سز ا اُٹھا لی یعنی وہ ہماری نجا ت مکمل کر سکتا تھا۔
ارغوانی دھاگے کا مطلب ہے کہ یِسُوعؔ  مسیح خُدا اور بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ اگرچہ یِسُوعؔ  بادشاہوں کا بادشاہ (ارغوانی دھاگہ) ہے، اگر اُس نے یوحناؔ اصطباغی، بنی نوع انسان کے نمائندہ سے، بپتسمہ نہیں لیا تھا، اور اگر اِس لئے اپنے آپ پر (آسمانی دھاگے) ہمارے گناہ نہیں اُٹھائے تھے، کوئی معنی نہیں رکھتا کِتنے دُکھ اور درد کے ساتھ وہ صلیب پر مَرا تھا (سُرخ دھاگہ)، اُس کی موت محض بے فائدہ ہو تی ۔ بارِیک بٹا ہُوا کتان ہمیں بتا رہا ہے کہ نبوّت کا کلام جو خُدا نے پُرانے عہد نامہ میں بولا تھاسب نئے عہد نامہ میں پورا ہُوا ہے۔
 
 
آج کی مسیحیت آسمانی دھاگے کا مطلب کھو چُکی ہے
 
اب تک آج کی مسیحیت میں ایک نمایاں رُجحان ہے کہ  چار دھاگوں کے درمیان سے آسمانی دھاگے کو نظر انداز کرنا اور کسی کا ذاتی طور پراپنی مرضی سے  خُدا کے کلام کی تشریح کرنا موجود ہےاِس عظیم گناہ کی یقیناً  سزا دی جائے گی۔
خیمۂاِجتماع   کے صحن کے دروازہ کے لئے استعمال کیے گئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے، اور
بارِیک بٹا ہُوا کتان ہمیں نجات کا سچ بتاتے ہیں، کہ ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے، یِسُوعؔ  مسیح ہمارے مسیحا کو ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آنا، اور بپتسمہ لینا اور مصلوب ہوناپڑا تھا۔ یِسُوعؔ  نے ہمارے تمام گناہ اپنے آپ پر اُٹھا لئے۔
کیسے یِسُوعؔ  نے ہمارے گناہوں کو اپنے آپ پر اُٹھایا؟ اُس نے اُنھیں بپتسمہ کے وسیلہ سے اُٹھایا جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیاتھا۔ صِرف اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے یِسُوعؔ   ہمارا سچا نجات دہندہ بن سکتا تھا۔ یہ ہے کیوں خیمۂاِجتماع   کے دروازوں کو اِن چار دھاگوں سے بُنا جانا تھا، کیونکہ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یِسُوعؔ  ، جو اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر اپنا خون بہایا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، بذاتِ خود خُدا ہے۔
اِس طرح، خیمۂاِجتماع   کے صحن کا دروازہ اِن آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا بنا ہُوا تھا۔ یِسُوعؔ  مسیح ہمیں آسمان کی بادشاہت میں لے جاتے ہوا نجات کا دروازہ ہے۔یہ دروازہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان سے بُنا ہُوا ایک دروازہ ہے۔ یِسُوعؔ  گنہگاروں کا نجات دہندہ ہے۔ یِسُوعؔ  کا بپتسمہ اور اُس کی مصلوبیت اُس کے نجات کے تحفے ہیں جو گنہگاروں کو اُن کے گناہوں سے بچا چُکے ہیں۔
یہ ہے کیونکہ آج کی مسیحیت یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کو مناسب طورپر سمجھنے میں ناکام ہو چُکی ہے یعنی یہ حقیقی خُدا سے ملنے کے قابل نہیں ہے اور اِس کی بجائے بہت سارے دُنیاوی مذاہب میں سے محض ایک میں بدلتے ہوئے ختم ہو چُکی ہے۔ اِ س لئے، جہاں تک ہمارے ایمان کا تعلق ہے، ہمیں پہلے یقیناً  ایمان کی مضبوط بُنیاد آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے سچ پر رکھنی چاہیے۔ ایمان کی یہ بُنیا د حقیقت ہے کہ ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا اور اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہوں سے آپ کو اور مجھے بچا چُکا ہے۔
یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا اور نجات کا تحفہ مکمل کر چُکا ہے جو ہمیں اُس کے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں سے بچا چُکا ہے۔ زیادہ واضح ہونے کے لئے، یِسُوعؔ  ایک انسان کے بدن میں اِ س زمین پر آیا، اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، اور اپنے صلیبی خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کا فِدیہ دیا، اور اِس طرح صلیب پر مرنے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی سزا اُٹھا لی۔ یہ یِسُوعؔ  جو اِس طرح آپ کو پانی اور خون کے وسیلہ سے بچا چُکا ہے (۱۔یوحنا ۵:۴۔۸)  بُنیادی طور پر تخلیق کا خُد اوند ہے جس نے ہمیں بنایا، اور اَصل میں وہ ہے جو ہمیں نجات کا تحفہ دے چُکا ہے جو ہمیں بچا چُکا ہے۔ یہ یِسُوعؔ  جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور سزا سے بچا چُکا ہے ہمارا سچا نجات دہندہ بن چُکا ہے۔ یہ ہے خیمۂاِجتماع   کا تعمیری سامان ہمیں کیا بتا رہا ہے۔
اِس طرح، ہمیں یقیناً  اِن اشیاء پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مضبوطی سے ہمارے ایمان کو قائم کرنا چاہیے۔ اِس یِسُوعؔ  پر ایمان رکھنے میں جو ہمارے مسیحا کے طور پر ہمارے اَصل ذاتی نجات دہند ہ کے طور پر آیا، ہمیں یقیناً  صاف طور پر اورحتمی طور پر ہمارے پورے دِلوں کے ساتھ بپتسمہ پر جو یِسُوعؔ  نے حاصل کِیا، تمام سزا پر جو اُس نے ہمارے لئے صلیب پر اُٹھائی، اور مُردوں میں سے اُس کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھنا چاہیے۔ نجات دہندہ جو ہمیں اپنے بپتسمہ اور خون جو وہ صلیب پر بہا چُکا تھا کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں سے ہمیں ہماری نجات کا تحفہ دے چُکا ہے محض ایک انسان نہ تھا، بلکہ وہ اَصل خالق تھا جس نے بنی نوع انسان اور تمام کائنات کو بنایا۔ ہمیں یقیناً  آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ہمارے ایمان کا اِقرار کرنا چاہیے۔ ایمان کے اَیسے اِقرار کے بغیر، سادگی سے یِسُوعؔ  پر نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنا غیر مستحکم ہے۔
کیا آپ کبھی باری باری خاموشی سے ایک لفظ چھپانے کا کھیل کھیل چُکے ہیں؟ یہ کھیل ایک آدمی سے شروع ہوتا ہے جسے ایک کارڈ دیا جاتاہے جس پر ایک جُملہ لِکھا ہُواہوتا ہے۔ وہ شخص پہلے خُفیہ طور پر جُملہ پڑھتا ہے، اور تب خاموشی سے جُملے کو، صِرف ہونٹوں کی حرکت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے۔ تب، اگلا جو ہونٹوں کو پڑھتا ہے تب اِسے تیسرے شخص تک منتقل کرتا ہے۔ یہ شخص تب دوسرے شخص کے ہونٹوں کوپڑھتا ہے، اور تب اِسے اُسی طریقہ سے چوتھے شخص تک منتقل کرتا ہے، جب تک یہ آخری شخص تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کھیل کا نقطہ آخری شخص کے لئے دُرست طور پر اَصل جُملے کو کہنا ہے جو پہلے منتقل کِیا گیا تھا۔ وجہ کیوں یہ کھیل تفریح ہے یہ ہے کہ اَصل جُملہ آسانی سے بگڑ جاتا ہے۔ مثال کے طورپر، اگر کھیل ایک جملے کے ساتھ شروع ہُوا تھا جس نے کہا، ”پنکھا چلا دو،“ چند لوگوں تک اِس کے باری باری جانے کے بعد، یہ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ آخر میں، آخری شخص اِس طرح کہہ سکتا ہے، ” گدھے کو بھگا دو،“  یعنی مکمل طور پر ایک مختلف جُملے کے ساتھ ختم ہوتے ہوئے۔
بالکل جس طرح یہ آخری شخص مکمل طور پر ایک مختلف جملے کے ساتھ آتا ہے، اِسی طرح آج کی
مسیحیت مکمل طور پر ایک غلط ایمان رکھتی ہے، جس طرح اگر یہ باری باری خاموشی سے لفظ چھپانے کا کھیل کھیل رہی تھی۔ یہ صورتحال کیوں ہے؟ یہ ہے کیونکہ یہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ایمان پر ایمان کی بُنیا د رکھنے میں ناکام ہو چُکی ہے۔ آج کی مسیحیت اِس آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ایمان پر اپنی مضبوط بُنیادنہیں رکھ چُکی ہے، جب ایمان کی بُنیا د لڑکھڑا رہی ہے، کوئی معنی نہیں رکھتا ہم کتنی سرگرمی سے یِسُوعؔ  پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم ہماری زندگیوں میں اُس کی تعلیمات لاگو کرنے کو کتنا زیادہ تلاش کرتے ہیں، ہم سادگی سے یہ نہیں کر سکتے ہیں۔
جب خُداوند نے بنی اسرائیل کو خیمۂاِجتماع   کو تعمیر کرنے کے لئے اُس کے واسطے اپنی نذریں لانے کو کہا، اُس نے اُنھیں پہلے سونا، چاندی، اور پیتل لانے کے لئے، اور تب آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان لانے کے لئے کہا۔ یہ تمام تعمیری اشیاء ہمیں دِکھاتی ہیں کہ یِسُوعؔ  ہمیں یوحنا ؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ، صلیب پر موت تک اپنا خون بہانے، اور اپنے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے بچا چُکا ہے۔
آسمانی دھاگہ نہ صِرف خیمۂاِجتماع   کے تمام دروازوں کے لئے، بلکہ سردار کاہن کے جُبہ اور خیمۂاِجتماع   کے پَردوں کے لئے بھی استعمال کِیا گیا تھا۔ یہ خوشخبری ہے جو ہمیں بتا رہی ہے ہمارا خُداوند اِس زمین پر کیسے آیا اور محض کتنے دُرست طور پر وہ آپ کو اور مجھے ہمارے گناہوں سے بچا چُکا ہے۔ اِس طرح، یہ ہمیں بتاتا ہے ایمان کے یہ چار بنیادی اجزاء کتنے اہم ہیںیعنی، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان حقیقی طور پر ہمارے ایمان کے لئے ہیں۔ اِس کلام کی بُنیاد پر ہم سب کو یقیناً  ہمارے ایمان کی بُنیاد رکھنی چاہیے۔ صِرف تب ہم خُدا پر ایما ن رکھ سکتے ہیں اور ہماری گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں، اُس کے خادمین بن سکتے ہیں جو اِس کے بعد یہ کلام پھیلاتے ہیں، اور، جب خُداوند واپس آئے گا، یوں ایمان کے اَیسے لوگ بن سکتے ہیں جو اِس ایمان کے ساتھ خُداکے سامنے اعتماد سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔
کوریا میں، یہ سچ ہے کہ اب تک خوشامد پرستی موجو د ہے جو کسی بھی غیرمُلکی چیز کو بہتر خیال کرتی ہے۔ یہ رُجحان اِسی طرح میرے مُلک کے عِلم الہٰیات کے ماہرین کے درمیان موجود ہے، جو مغربی علمِ ا لہٰیات کیا کہہ چُکے ہیں، اُن کے الفاظ پر حتیٰ کہ خُداکے کلام سے زیادہ انحصار کرتے ہوئے زیادہ زور دیتے ہیں۔ اُنھیں یقیناً  اِس جہالت سے آزاد ہونا چاہیے، اور اُنھیں یقیناً  حقیقتاً خُدا کے کلام  پر،  اُس  پر  اعتماد  اور  انحصار کرتے
ہوئے، ایمان رکھنا چاہیے، یعنی ہمارے خُداوند کے بپتسمہ کے سچ پر، اُس کے خون پر، اور حقیقت پر کہ وہ بذاتِ خود خُدا بُنیاد ی طور پر ہماری نجات کا دروازہ بن چُکا ہے۔
بالکل جس طرح پطرسؔ رسُول نے اِقرار کِیا، ” تُو زِندہ خُد اکا بیٹا مسیح ہے،“ (متی ۱۶:۱۶)۔  اگرآپ خُدا پر ایمان رکھتے ہیں، اور اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا وند ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے اِس زمین پر آیا، تب آپ کو یقیناً  یہ بھی جاننا اور ایمان رکھنا چاہیے کہ خُداوند اپنے بپتسمہ، صلیب پر مرنے، اور پھر مُردوں میں جی اُٹھنے کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے ہمارا  نجا ت کا سچا خُدا بن گیا۔ ہمارے خُداوند کا بپتسمہ اور صلیبی خون سچے ایمان کی بُنیادیں ہیں جو ہمیں نجات کا تحفہ حاصل کرنے کے قابل کرتی ہیں۔ اگر ہم حتیٰ کہ خُدا کے کلام کے مطابق آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ایمان پر اعتقاد نہیں رکھ سکتے ہیں، ہم کیسے کبھی اِسے سچا ایمان کہہ سکتے ہیں؟
 
 
شریعت آیندہ کی اچھی چیزوں کا عکس ہے
 
خیمۂاِجتماع   کا تعمیر ی سامان ہمیں دِکھاتا ہے کہ ہمارا خُداوند اِس زمین پر ایک انسان کے بدن میں آیا، اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، اپنی مصلوبیت کے ساتھ ہمارے گناہوں کی سزا برداشت کی، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارا نجات دہندہ بن گیا۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ساتھ، ہمارے خُداوند نے پُرانے عہدنامہ میں وعدہ کِیا کہ وہ ہمیں نجات کا تحفہ دے گا۔ ایک واحد جس نے ہمیں یہ عہد دِیا یِسُوعؔ  مسیح، بادشاہوں کے بادشاہ جس نے بپتسمہ لیا اور گنہگاروں کے لئے مصلوب ہُواکے علاوہ کوئی دوسرا نہ تھا۔ دوسرے لفظوں میں، یہ خُدا ہمارے پاس ہمارے خُدا یعنی مسیحا کے طورپر آیا۔ اِس طرح، ہمیں اِس سچائی کو مکمل طور پر جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے یقیناً  ہمارے ایمان کی بُنیا د رکھنی چاہیے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہم سب کو یقیناً  نجات کا تحفہ حاصل کرنا چاہیے۔
سونا، چاندی، اور پیتل بھی خیمۂاِجتماع   کے لئے استعمال کِیا گیا سامان تھا۔ یہ سامان ہمارے ایمان کی بُنیادکو بیان کرتاہے۔ خُدا کے سامنے، ہم بچ نہیں سکتے تھے بلکہ ہمارے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینکے جا سکتے تھے۔ لیکن اَیسے لوگوں کے لئے جس طرح ہم ہیں، ہمارا خُداوند ہم میں سے اُن کو نجات کا تحفہ دے چُکا ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ تمام بنی نوع انسان کے لئے قربانی کے برّہ کے طورپر، یِسُوعؔ  مسیح نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، مصلوب ہُوا، اور یوں ہمیں مکمل طور پر ہمارے گناہوں سے بچا چُکا ہے۔ ہمارے پا س جہنم سے بچنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا، کیونکہ ہم صِرف جانتے تھے ہم اپنے گناہوں کے لئے لعنتی ہونے کے لائق تھے، اور نہیں جانتے تھے کیسے ہم ایمان رکھ سکتے ہیں جو ہمارے تمام گناہوں کو مٹاتا ہے۔ لیکن خُدا کے پاس نجات کا تحفہ موجود تھا۔ یعنی یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا، اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا، صلیب پر مر گیا، اور یوں ہمار ے گناہوں کے تمام مسائل اور سزا کو حل کر چُکا ہےیہ نجات کا تحفہ ہے۔
ہم ہمارے ایمان کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں سے نجات یافتہ ہوتے ہیں، ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ خُدا ہماری نجا ت کا اپنا کام مکمل کر چُکا ہے اور ہمیں اِس نجا ت کا تحفہ دے چُکا ہے۔ یہ ہے کیوں خُدانے اُس کے لئے سونے، چاندی، اور پیتل کے ایمان کو لانے کےلئے کہا، کیونکہ وہ مکمل طور پراُنھیں نجات کا تحفہ دینے کے وسیلہ سے اُن کو بچا چُکا ہے جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ جہنم جانے کے لائق تھے۔ یہ ہے کیونکہ ہمارا خُداوند بے شک ہمارے پاس اِس زمین پر آنے، اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے، اور ہماری تمام سزا کو برداشت کرنے کے وسیلہ سے بچا چُکا ہے یعنی ہم خُد اکے سامنے نجات کے اِس تحفہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مکمل طور پر بچائے جا چُکے ہیں۔
یِسُوعؔ  مسیح اب ہمارا کامل نجات دہندہ بن چُکا ہے۔ اِس لئے ہمیں یقیناً  اُس کے نجات کے تحفہ میں ہمارے ایمان کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہونا چاہیے، کیونکہ آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان ایمان کے تحائف ہیں۔ خُدا نہیں چاہتاکہ ہم کسی بھی چیز کو کسی طرح جانے بغیر اپنی من مانی سے اور اندھوں کے طور پر ایمان رکھیں۔
 
 
بکریوں کی پشم، مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہوئی کھالیں، اور تخس کی کھالیں
 
یہ خیمۂاِجتماع   کے پردے بنانے کے لئے استعمال کی گئی تھیں۔ پہلاپردہ آسمانی، ارغوانی،  او ر سُرخ
 دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان سےبُنا ہُوا تھا، جس پر بکری کی پشم کا دوسرا پردہ رکھا گیا تھا۔ تب یہ مینڈھوں کی سُرخ ر نگی ہوئی کھالوں سے ڈھکا ہُوا تھا، اور، آخرمیں، تخس کی کھالیں اوپر ڈالی گئی تھیں۔ اِس طریقہ سے، چار مختلف پردوں کی تہوں نے خیمۂاِجتماع   کو ڈھانپاہوا تھا۔
آخر ی پردہ جو خیمۂاِجتماع   پر ڈالا گیا تھا تخس کی کھالوں کا تھا۔ پس خیمۂاِجتماع   کے پردوں کی سطح پر کیاظاہر ہوتا تھا صِرف یہ کالی تخس کی کھالیں تھیں۔ ایک تخس ایک سمندری اُودِبلاؤ ہے۔ اِس کی کھال کا سائز تقریبا ً ایک آدمی کے سائز کے جتنا یا تھوڑا سا چھوٹا ہوتاہے، اور کھالوں میں پانی سرایت نہیں کرتا تھا۔ یہ ہے کیوں تخس کی کھالیں خیمۂاِجتماع   کی بالائی تہہ کے لئے پردےکے طور پر استعمال کی گئی تھیں۔ اِس کی وجہ سے، خیمۂاِجتماع   کی بیرونی ظاہریت کچھ غیر متاثر کن تھی، اور یہ یقیناً  دیکھنے کے لئے ایک خوشگوار منظر نہ تھا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب یِسُوعؔ ہمارے لئے اِس زمین پر آیا، وہ بے شک ایک اَیسی نیچی شکل میں آیا، اُس کی ظاہریت میں کچھ بھی قابلِ فخر نہ تھا۔
مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہوئی کھالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ یِسُوعؔ  مسیح اِس زمین پر آئے گا اور ہماری خاطر مصلوب ہو گا، جب کہ بکری کی پشم ہمیں بتاتی ہے کہ وہ ہمیں ہمارے قربانی کے برّہ کے طور پر بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اور یوں اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو قبول کرنے، اور صلیب پر قربان ہونے کے وسیلہ سے بچائے گا۔
دوسرے لفظوں میں،خیمۂاِجتماع کے اِن پردوں کا سامان، ہمارے ایمان کے بُنیادی اجزاء ہیں۔یہ سچائیاں ایمان کا تعمیری سامان ہیں جو بالکل بھی کسی طرح ضائع نہیں ہو سکتا ہے۔ ہمیں نجات کا تحفہ دینے کے لئے، یِسُوعؔ  مسیح ہمارے ذاتی قربانی کے برّہ کے طور پر اِس زمین پر آیا۔ پُرانے عہد نامہ میں، خُد ا نے اسرائیلیوں کے گناہوں کی معافی کے لئے قربانی کے نظام کو قائم کِیا: بے عیب قربانی کے جانوروں (بکروں، مینڈھوں یا بیلو ں) نے اسرائیلیوں کے ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ اُن پر منتقل کیے گئے گناہوں کو قبول کِیا، اور اُن کی جگہ ذبح کیے گئے تھے، اپنا خون بہاتے ہوئے اور جلتےہوئے، اور یوں اُنھیں اُن کے تمام گناہوں سے بچایا۔
یِسُوعؔ  مسیح قربانی کے برّہ کے طور پر اِس زمین پر آیا اور اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو قبول کِیا، یہ ہے، یعنی ہاتھوں کے رکھے جانے سے۔ بالکل جس طرح قربانی کا جانور اِس کا خون بہانے کے وسیلہ سے ذبح کِیا جاتاتھا اور ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ اسرائیلیوں کے گناہوں کو قبول کرنے کے لئے سوختنی قربانی کی قربانگا ہ پر جلایا جاتا تھا، اِسی طرح، یِسُوعؔ  مسیح نے، بھی، بپتسمہ لینے اور صلیب پر مرنے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی تمام سزا برداشت کی، اور یوں ہمیں دُنیا کے گناہوں سے بچا چُکا ہے۔
 جس طرح عدالت کی کتاب سے سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینِگوں پر قربانی کے جانور کا خون لگانے کے وسیلہ سے ناموں کو مٹایا جاتا تھا، یہ تھا کیونکہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لیا اور اپنا خون بہایا اور کہ اِس خون کے ساتھ اُس نے ہمارے اَبدی فِدیہ کو مکمل کِیا اور دُنیا کے تمام گناہوں کو مٹا چُکا ہے۔ اِسی طرح، خیمۂاِجتماع   کا تمام سامان ہم سے یِسُوعؔ  مسیح اور اُس کی خدمات کے بارے میں، ہمیں بتاتے ہوئے بولتاہے کہ اِس طرح وہ ہمیں دُنیا کے گناہوں سے بچا چُکاہے۔ پُرانے عہد نامہ سے لے کر نئے عہد نامہ تک کا کلام کہ یِسُوعؔ  ہمیں ہمارے گناہوں سے بچا چُکا ہے مکمل سچ ہے، یعنی مکمل طور پر کسی بھی غلطی سے مبّرا ہے۔
آج کے بہت سارے مسیحی ایمان نہیں رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  مسیح ہمارے قربانی کے برّہ کے طور پر اِس زمین پر آیا اور اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، لیکن وہ اِس کی بجائے غیرمشروط طور پر صِرف اُس کی صلیبی موت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اَیسا مسیحی ایمان صِرف سُرخ اور ارغوانی دھاگے سے، آسمانی دھاگے کو چھوڑتاہُوا بُنا ہُوا خیمۂاِجتماع   کے صحن کا ایک غیر قانونی دروازہ ہے۔ وہ صِرف غلط ایمان رکھتے ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان سے بُنے ہوئے پردے کی کوئی ضرورت نہیں دیکھتا ہے، اور اِس کی بجائے ایمان رکھتا ہے کہ سب جواُنھیں ضرورت ہے صِرف مینڈھوں کی رنگی ہوئی سُرخ کھالوں اور تخس کی کھالوں کے دو  پردے ہیں۔
جب ہم تمام دُنیا میں پیش کی گئی خیمۂاِجتماع   کی بہت ساری تصویروں کو دیکھتے ہیں، اُن میں سے زیادہ تر اِس طریقہ سے بنائی گئی ہیں کہ ہم آسمانی دھاگے کا حتیٰ کہ ہلکا سا نشان بھی  نہیں ڈھونڈ سکتے ہیں۔ کیونکہ لوگ جنھوں نے یہ تصویریں بنائیں پانی اور روح کی خوشخبری سے ناواقف ہیں، اُن کی تصویروں میں خیمۂاِجتماع   کے صحن کا دروازہ سب سُرخ اور سفید رنگوں سے ڈھکا ہُوا ہے۔ لیکن اَیسا ایمان خُدا کے سامنے کبھی بھی دُرست ایمان نہیں ہو سکتا ہے۔
دھاگہ جو زیادہ تر خیمۂاِجتماع   کے صحن کے دروازہ کے لئے استعمال کِیا گیا تھا آسمانی دھاگہ تھا،پھر ارغوانی دھاگے، سُرخ دھاگے، اور تب سفید دھاگے سے پیروی کی گئی تھی۔ پس جب ہم صحن کے دروازہ کو دیکھتے ہیں، تو اِن تمام چار رنگوں کو یقیناً  ایک ہی دفعہ نظر میں آنا چاہیے۔ لیکن  کیونکہ  اِس  دُنیا  میں  بہت
سارے لوگ موجود ہیں جن کا ایمان مکمل طورپر یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کے کسی بھی علم سے محروم ہے، وہ سب خیمۂاِجتماع   کے لئے استعمال کیے گئے چار رنگوں کے دھاگوں کو نظر انداز کر چُکے ہیں اور اِس کی بجائے صِرف دو دھاگوں کے ساتھ خیمۂاِجتماع   کے اپنے ہی دروازے بنا چُکے ہیں۔ 
لیکن اَیسا کرنے کے وسیلہ سے، وہ بہت سارے لوگوں کودھوکہ دے رہے ہیں، جو پہلے ہی خُداکا صِرف ایک محدود علم رکھتے ہیں اور اُس کے کلام سے بالکل ناواقف ہیں۔ یہ تمام جھوٹے نبی ہیں۔ اِن لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے، یِسُوعؔ  نے بذاتِ خود اُنھیں کڑوے دانوں کے طور پر بیان کِیا جو اِبلیس نے گندم کے درمیان میں بو دئیے (متی ۱۳:۲۵)۔ دوسرے لفظوں میں، وہ اَیسے لوگ بن چُکے ہیں جو خیمۂاِجتماع   کے صحن کے دروازہ کی اپنی تصویروں میں سے آسمانی دھاگے کوچھوڑنے کے وسیلہ سے غلط جھوٹ کو پھیلاتے ہیں۔ یہ ہے کیوں بہت سارے لوگ حتیٰ کہ جس طرح وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں گنہگار ہی رہتے ہیں، اور کیوں یِسُوعؔ  پر اپنے ایمان کے باوجود وہ اپنے تمام گناہوں کی وجہ سے اپنی تباہی کے لائق ہیں۔
ہمارے ایمان کی بُنیاد کو یقیناً  مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہیے۔آپ کی روحوں کےلئے ایک لمبےعرصےتک مذہبی زندگی گزارنے میں کیا فائدہ ہوگا جب  کہ یہ سب ایمان کی غیر قانونی بُنیا د پر قائم ہے؟ غلط ایمان ایک لمحے کےتبصرےپر ٹوٹ سکتا ہے اور ٹوٹ جائے  گا۔ کوئی معنی نہیں رکھتا ہمارا گھر کتنا خوبصورت ہے،اگر ہم اِس گھرکو ایمان کی ناقص بُنیاد پر تعمیر کرتے ہیں تو کیا فائدہ ہوگا؟ اِس سے قطع نظرکہ آپ کتنے دِل سے خُدا کی خدمت کر چکے ہیں، اگر آپ کے ایمان کی بُنیاد خراب ہے، تب آپ صِرف اپنا گھر ریت پر تعمیر کر چُکے ہیں؛ جب طوفان آتے ہیں، ہَوائیں اُٹھتی ہیں، اور سیلا ب پھوٹ پڑتے ہیں، یہ ایک ہی وقت میں ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا۔
 لیکن اُس ایمان کے بارے میں کیا ہے جس کی بُنیاد ٹھوس ہے؟ یہ کبھی نیچے نہیں گِرتا، کوئی معنی نہیں رکھتا یہ کِتنا ہلایا جاتا ہے۔ خُدا نے ہمیں بتایا کہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان سے بُنا ہُوا سچائی کی چٹان پر تعمیر کِیا گیا ایک گھر کبھی نہیں گِر ے گا۔ یہ حقیقی صورتحال ہے۔ چٹانی ایمان کیا ہے؟ یہ ایمان ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے سچ پر ایمان رکھتا ہے۔ اُن کا ایمان جو ایمان کا ایک اَیسا گھر تعمیرکر چُکے ہیں کبھی نہیں گرِے گا۔ یہ ہے کیوں ہمارے ایمان کے لئے ایک مضبوط اور ٹھوس بُنیاد رکھنا اشدضروری ہے۔ اگر ہم حقیقت میں صحیح طور پر حتیٰ کہ سمجھنے کے بغیر ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند ہمارے لئے کیا کر چکا ہے، تب ایسا ایمان جھوٹے مذہبی ایمان میں بدل جائے گا ،جوکہ خُدا کی طرف سے ناپسندیدہ ہے۔
 
 
کیکر کی لکڑی، تیل، اور مصالحے
 
خیمۂاِجتماع   کے ستون، سوختنی قربانی کی قربانگاہ، اور تختے اور مقدس کی اشیاء سب کیکر کی لکڑی سے بنائے گئے تھے۔ کتابِ مقدس میں لکڑی عموماً بنی نوع انسان کی طرف اشارہ کرتی ہے (قضاۃ۹: ۸۔۱۵، مرقس ۸:۲۴)۔ یہاں لکڑی ہماری انسانی فطرت میں ہمارا بھی حوالہ دیتی ہے؛ کہ یہ کیکر کی لکڑی ستونوں، سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور بذاتِ خود خیمۂاِجتماع   کے لئے استعمال کی گئی تھی ہمیں بتاتی ہے کہ بالکل جس طرح کیکر کے درخت کی جڑیں ہمیشہ زمین کے نیچے دفن رہتی ہیں، ہماری اصلیت اَیسی ہے کہ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ ہر وقت گناہ کرتے ہیں۔ سب لوگوں کو یقیناً  ماننا چاہیے کہ وہ سادگی سے بچ نہیں سکتے ہیں بلکہ بداعمال رہنا اور ہمیشہ گناہ کرنا جاری رکھتے ہیں۔
اُسی وقت، کیکر کی لکڑی یِسُوعؔ  مسیح کی انسانیت کوبھی ظاہر کرتی ہے۔ مسیحا جو ایک انسان کے بدن میں آیا نے دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اور تمام بنی نوع انسا ن کی خاطر فِدیہ کے طور پر پَرکھا گیا۔ وہ بذاتِ خود خُدا ہے، اور اِس لئے، عہد کا صندوق، نذر کی روٹیوں کی میز، بخُور کی قربانگاہ، اور خیمۂاِجتماع   کے سب تختے خالص سونے سے منڈھی ہوئی کیکر کی لکڑی سے بنائے گئے تھے۔
روشنی کے لئے تیل اور مَسح کے تیل کے لئے اور بخُور کی خوشبو کے لئے مصالحے ہمارے ایمان کوبیان کرتے ہیں جو ہم یِسُوعؔ  مسیح کو پیش کرتے ہیں۔ یِسُوعؔ  مسیح مسیحا ہے جو آپ کو اور مجھے بچاچُکاہے۔ ”یِسُوعؔ ‘‘ کے نام کا مطلب ہے ”ایک واحد جو اپنے لوگوں کو اُن کے گناہوں سے بچائے گا،“ اور ”مسیح“ کامطلب ہے ”مَسح کِیا ہوا،“ اِس لئے ہمیں بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ  مسیح بذاتِ خود خُدا اور آسمان کا سردار کاہن ہے جو ہمیں بچا چُکا ہے۔ خُدا کی مرضی کی فرمانبرداری کرتے ہوئے، ہمارا خُداوند ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، ہماری خاطر اپنے آپ کو صلیب پر قربان کِیا، اور یوں ہمیں نجات کا تحفہ دے چُکا ہے۔ یِسُوعؔ  کی معرفت اداکِیا گیا سردار کاہن کا کردار جو ہمیں ہماری نجات دے چُکا ہے بے شک خوبصورت
ترین کام تھا۔
 
 
 سردار کاہن کے ا فود اور سینہ بند میں جڑنے کے لئے  سنگِ سلیمانی اور دوسرے پتھر
 
یہاں بارہ مختلف قیمتی پتھر درج کیے گئے ہیں جو سردار کاہن کے افُود اور سینہ بند میں جڑے گئے تھے۔ سردار کاہن پہلے چوغہ پہنتا تھا، تب ایک نیلا جُبہ، اور تب جُبے پر افُود پہنتا تھا۔ تب، افُود پر سینہ بند پہنا جاتا تھا، جو قربانی کی رسم کے دوران پہنا جاتا تھا، اور اِس سینہ بند پر بارہ قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے۔ یہ ہمیں دِکھاتا ہے کہ سردار کاہن کا کردار اسرائیل کے لوگوں کےساتھ ساتھ پوری دُنیا کے دوسرے لوگوں کواپنی گود میں لینا، خُد اکے سامنے جانا، اور اُسے اپنی قربانیاں پیش کرناتھا۔
یِسُوعؔ ، آسمان کے اَبدی کاہن، نے بھی اپنی گود میں دُنیا کی تمام قوموں کو قبول کِیا، اور اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو لینے کے لئے اور ہماری جگہ پر قربان ہونے کے لئے اپنا ذاتی بدن دیا، اور یوں اپنے لوگوں کو خُدا باپ کے لئے مقدس کر چُکا ہے۔ بارہ قیمتی پتھر جو سینہ بند پر جڑے گئے تھے اِس دُنیا کی تمام قوموں کو بیان کرتے ہیں، اور سردار کاہن جس نے اُنھیں پہنا یِسُوعؔ  مسیح کو بیان کرتا ہے جو اِسی طرح بچاچُکا ہے اور دُنیا کی تمام قوموں کو اپنے سینےسےلگا چُکا ہے۔
پس یہ نذریں تھیں جو ہمارے خُدانے اسرائیلیوں کو اُس کے خیمۂاِجتماع   کو تعمیر کرنے کے لئے لانے کا حُکم دیا۔ اِس حقیقت کا ایک روحانی مطلب موجود ہے کہ خُدا نے اُنھیں خیمۂاِجتماع   کو، اُس کی سکونت کی جگہ کو، اِن نذروں کے ساتھ تعمیر کرنے کے لئے کہا۔ اسرائیل کے لوگ ہمیشہ گنہگار ہی رہے، کیونکہ وہ شریعت کو قائم نہ رکھ سکے جو خُدااُنھیں دے چُکا تھا۔ یہ ہے کیوں خُدانے اُنھیں مُوسیٰ کے وسیلہ سے خیمۂاِجتماع   کو تعمیر کرنے کے لئے کہااور اُنھیں قربانی کا نظام دیا، جس کے وسیلہ سے خیمۂاِجتماع   میں پیش کی گئی جانوروں کی قربانیوں کی معرفت گناہ کی معافی عطا کی جاتی تھی۔ دوسرے لفظوں میں، خُدانے اسرائیلیوں کے تمام گناہ اُن کی قربانیاں قبول کرنے، اپنا گھر تعمیر کرنے کے لئے یہ تمام نذریں استعمال کرنے، او رتب اُنھیں قربانی کے نظام کی شرائط کے مطابق اُسے اُن کے قربانی کے جانور دینے کا حُکم کرنے کے وسیلہ سے مٹائے۔ یہ ہے کیسے خُدا اسرائیل کے لوگوں کے ساتھ خیمۂاِجتماع   میں سکونت کر سکا۔
تاہم، اِس زمین پر بہت سارے مسیحی موجود ہیں جو محض آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ جب خُدانے اُنھیں اُس کے لئے سونا، چاندی، اور پیتل لانے کو کہا، وہ کیوں اِن نذروں کے وسیلہ سے لاگُو کیے گئے سچ پر ایمان نہیں رکھتے ہیں؟
کیا ہم سب ہمارے گناہو ں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق نہیں تھے؟ کیا آپ مسیحیت پر ایمان رکھ چُکے ہیں جس طرح اگر یہ اِس دُنیا کے بہت سارے مذاہب میں سے محض ایک تھا کیونکہ آپ کبھی بھی اپنے آپ کو جہنم جانے کے لائق تسلیم نہیں کر چُکے ہیں؟ اگر یہ ہے آپ اب تک کیسے ایمان رکھ چُکے ہیں، تب آپ کو یقیناً  توبہ کرنی چاہیے اور آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ایمان کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اور آپ کو یقیناً  خُدا کے سخت احکامات کے سامنے احساس کرنا چاہیے کہ آپ گناہوں کا ایک منبع ہیں، اور آپ اِن گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق ہیں، اور آپ کو یقیناً  پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔
اب، آپ کو یقیناً  سچائی کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے، یعنی حتیٰ کہ جس طرح آپ جہنم جانے کے لائق تھے، تاہم، ہمارا خُداوند اِس زمین پر مسیحا کے طو ر پر آیا، اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر آپ کے گناہوں کوقبول کِیا، اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور اِس پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے اپنے آپ کو قربان کِیا، اور یوں آپ کو اور مجھے ہمارے گناہوں اور ہماری سزا سے بچا چُکا ہے۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر  کی گئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے بغیر، ہم کبھی بھی ہمارے ایمان کی بُنیاد مکمل طور پر نہیں رکھ سکتے ہیں۔
 
 
ہمیں یقیناً  ہمارے ایمان کی بُنیا د کے بارے میں سوچنا چاہیے
 
خُدا ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان رکھنے کے لئے کہتا ہے؛ ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے آیا ہم بے شک آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا یہ ایمان رکھتے ہیں، یا آیا ہم آسمانی دھاگے
کو چھوڑتے ہوئے، صِرف ارغوانی اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کیے گئے سچ پر ایمان رکھتے ہیں۔
ہمیں اپنے آپ پر نظر کرنے اور دیکھنے کی ضرورت ہےکیا ہم خُدا کی طرف  غلط قِسم کا ایمان لے
جارہے ہیں یا نہیں جو صِر ف ہمارے اپنےذوق کے مطابق ہے۔ جب خُدا ہمیں اُس کے لئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے لانے کے لئے کہتا ہے، کیا ہم، کسی بھی اتفاق سے، اُسے کالے رنگ کا نائلون کا دھاگہ تو نہیں دے رہے ہیں؟  ”اَے خُدا، آپ نے جو دھاگہ مانگاہےوہ خیمۂاِجتماع   کے لئے بیکار نظر آتا ہے۔ یہ محض بارش کے ساتھ خراب ہو جائے گا۔ اور اِسے ڈھونڈنا اور اِسے ہرطرح سےیہاں لانا کافی تھکادینےوالا ہے۔ اِس کی بجائے اِس نائلون کے دھاگے کوآزمائیں۔ مَیں آپ کو اِس بات کی ضمانت دے سکتا ہوں یہ کم از کم ۵۰سال تک چلے گا، شایدحتیٰ کہ۱۰۰سال بھی اگر آپ اسے اچھی طرح سے برقراررکھیں گے۔ اور حتیٰ کہ اگر آپ اِسے زمین میں دفن کرتے ہیں، یہ ۲۰۰سال کے لئے خراب نہیں ہوگا۔ کیا یہ صرف حیران کن نہیں ہے؟
کیا یہ تونہیں ہے،جو ہم کسی بھی اتفاق سے خُدا سے کہہ رہے ہیں؟ ہمیں یقیناً  اپنے آپ پر ایک اچھی نظر ڈالنی اور سوچ بچار بھی کرنی چاہیے آیا ہم بے شک خُدا کے پاس اِس قِسم کا خودپرست اور شکی ایمان تو نہیں لے جارہے ہیں۔ اور اگر ہم اَیسا ایمان رکھتے ہیں، ہمیں یقیناً  ابھی توبہ کرنی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمیں یقیناً  رجُوع لانا چاہیے۔
ہمارے درمیان بہت سارے ہیں جو اپنے آپ میں سوچتے ہیں کہ وہ حقیقتاً اچھے مسیحی ہیں، لیکن ایک قریبی نظر پر، اُن کا علم غلط ہے اور اِسی طرح اُن کا ایمان بھی ہے۔
 
 
تصَوّف جو آج کی مسیحیت میں رائج ہے
 
تصَوف وہ ہے جس پر عام طور پر مسیحی سب سے زیادہ ایمان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ نہیں جانتےکہ خُدا کا کلام حقیقت میں کیا کہہ رہا ہے۔ کیونکہ وہ سچائی کا کلام نہیں جانتے ہیں جو مسیحا اُنھیں دے چُکا ہے، وہ اپنے ذاتی محسوسات اور جذبات کے مطابق خُداوند پر ایمان رکھتے اور پیروی کرتے ہیں۔ اور وہ مطمئن ہیں کہ اَیسے محسوسات سچے ہیں۔ کیونکہ وہ بذاتِ خود خُدا کے سامنے جوش و خروش سے دُعا مانگتے ہیں، اور اپنے ذاتی جذبات اور محسوسات کی وفاداری سے پیروی کرتے ہیں جسے وہ اپنی دُعاؤ ں میں محسوس کرتے ہیں، وہ شناخت نہیں کر سکتے ہیں خُدا پر سچا ایمان دُرست طور پر کیاہے۔
اِس طرح، کسی کا اپنے ذاتی جذبات اور محسوسات کے مطابق خُدا پر ایمان رکھنا جو کسی کے ذاتی خیالات میں کثر ت سے بدلتا رہتا ہے تصَوف کا ایمان ہے۔ لوگ جو محسوسات کی معرفت خُداپر ایمان رکھتے ہیں وہ اِسے حاصل کرتے ہیں جب وہ روزہ رکھتے ہیں، جب وہ پرستش کرتے ہیں، جب وہ ایمان رکھتے ہیں، جب وہ صبح سویرے اُٹھ کر دُعائیں مانگتے ہیں، اور جب وہ دُعا کے لئے پہاڑ پر چڑھتے ہیں، جب وہ گناہ کرتے ہیں، جب وہ توبہ کی دُعائیں مانگتے ہیں، اور وغیرہ وغیرہ یہ لوگ سب تصَوفی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، کسی کا جذباتی محسوسا ت کو پکڑتے ہوئے ایمان کی ایک زندگی گزارنا آسمانی، ارغوانی، او ر سُرخ دھاگے کا ایمان نہیں ہے جس کے بارے میں مسیحا نے کہا۔
شاید آج کے مسیحیوں میں سے ۹.۹۹%سے زیادہ تاریخی طور پر تصَوفی رہ چُکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہے کہ سوائے ابتدائی کلیسیا کے تمام مسیحیت تصَوف کی پیروی کر چُکی ہے۔ وہ جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان نہیں رکھتے ہیں یہ سوچتے ہوئے دھوکہ کھاتے ہیں کہ اُن کے ذاتی محسوسات کسی طرح بذاتِ خود ایمان ہیں۔ وہ اپنی دُعاؤں میں خُدا کو دیکھنے اور ملنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور ہمیں بتاتے ہیں وہ کتنا حیران کن محسوس کرتے ہیں جب وہ پرستش کررہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ”ہم اِس ستائشی عبادت میں اکٹھے ہوئے، اور ہم نے اپنے ہاتھ اوپر اُٹھائے اور مِل کر اپنے گناہوں سے توبہ کی۔ ہم نے صلیب کوتھام لیا اور اِس کے دامن میں کچھ رسمیں اَدا کیں، اور تب ہمارے دل تمام آگ سے بھر گئے، اور مسیح شِدت سے قابلِ محبت بن گیا۔ ہم نے ہمارے دلو ں میں خون کے لئے جو مسیح نے بہایا بہت زیادہ شکر گزاری محسوس کی۔ ہم نے حتیٰ کہ زیادہ گرمجوشی سے ایمان رکھا کہ خُداوند ہمارے تمام گناہوں کو دھو چُکا ہے، حتیٰ کہ اِس بھی زیادہ احساس کرتے ہوئے یہ ہےکیوں اُس نے اپنا خون بہایا۔ ہم نے محض پورے تجربے کوپسندکِیا۔“ لیکن جب اُن کے جذبات ایک دن عام سطح پر آجاتے ہیں، وہ کہتے ہیں، ”لیکن یہ تمام جذبہ ابھی سوکھ گیا ہے، اور ہم ہمارے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں۔“ اِس قِسم کا ایمان تصَوف کے ایمان کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔
کسی کے فرقہ یا مسلک سےقطع نظر، ہر مسیحی ایمان کی ضرورت رکھتا ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے سچ پر یقین رکھتا ہو۔ اُن سب کا ایمان جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان نہیں رکھتے ہیں جو خُدا نے بولا تصَوفی اور شکی ہے۔ یہ لوگ خُدا کو آسمانی،ا رغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان نہیں، بلکہ نائلون کے دھاگے کا ایمان دے رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں،  وہ  خُدا  کے سامنے  اپنا تصَوفی ایمان  لا
رہے ہیں کوئی چیز جو انتہائی کم ہے، ایسی چیز جسےخُداحتیٰ کہ دیکھتابھی نہیں۔
کیا آپ کبھی کشتیوں کو ستونوں سے باندھنے کے لئے استعمال کیے گئے موٹے رَسے دیکھ چُکے ہیں؟ تصَوفی خوشی سے سامان کی یہ قِسم خُدا کو پیش کریں گے۔ جب ہمار ا خُداوند ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان لانے کے لئے کہہ چُکا ہے، بعض لوگ خُد اکے پاس یہ موٹا رَسہ، اُسے یہ کہتے ہوئے لے جاتے ہیں ، ”اَے خُداوند اس ایمان کو قبول کر!“ اور بعض لوگ اُس کے پاس حتیٰ کہ بڑے جہازوں کو ایک دوسرے سے اور بندرگاہ کے ساتھ باندھنے کے لئے استعمال کی گئیں لوہے کی زنجیریں لے جاتے ہیں۔ موٹے لوہے کی اِن زنجیروں کے ایک پلَندے کو لپیٹنے کے بعد، وہ اِسے خُداوند کے قدموں میں پیش کرتے ہیں،اوراِسے قبول کرنے کے لئے کہتےہیں۔
لیکن خُداہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان لانے کے لئے کہہ چُکا ہے۔ وہ ہمیں اُس کے لئے لوہے کی زنجیریں لانے کے لئے نہیں کہہ چُکا ہے۔ پھر بھی بہت سارے لوگ اُس کی طرف لے جار ہے ہیں جو اُن کی ذاتی آنکھوں میں بہتر نظر آتا ہے یا جو اُن کو ڈھونڈنے میں زیادہ آسان ہے۔گو لوگ موجود ہیں جو خُدا کے سامنے لوہے کی زنجیریں، رَسے، نائلون کے دھاگے یا حتیٰ کہ اراروٹ کی بیلیں لے کر جاتے ہیں، خُدا حقیقت میں صِرف آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے کی نذر کو قبول کرتا ہے۔ خُدا طےکر چُکا ہے کہ صِرف ایمان جو وہ قبول کرے گا آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان ہے۔ اِس طرح، ہمیں یقیناً  یہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان خُدا کے سامنے لے جانا چاہیے۔
 
 
مسیحا محض کوئی بھی نذر قبول نہیں کرتا ہے
  
اسرائیلیوں کو بھی خُدا کے لئے سونا، چاندی، پیتل، اور افُود اور سینہ بند میں جڑنے کے لئے بارہ قیمتی پتھر لے جانے تھے۔ پھر بھی بعض لوگ ہیں جو خُد اکے سامنے تانبا یا لوہا لے جاتے ہیں۔ کیا یِسُوعؔ دوبارہ اِستعمال میں لانے  والی چیزوں کی کچراکُنڈی چلا رہا ہے، گویا وہ ہر قِسم کی چیزوں کوقبول کرے گا؟یقیناً نہیں!
یِسُوعؔ  کوئی اَیسا نہیں ہے جو محض کسی بھی قِسم کا کوڑا کرِکٹ قبول کرتاہے۔ وہ کوئی دوبارہ  اِستعمال
میں لانے  والی چیزوں کی کچراکُنڈی نہیں چلاتا،جو کسی بھی قِسم  کی بیکارچیزیں آپ اُس کے پاس لاتے ہیں ۔ یِسُوعؔ مسیحا ہے جو ہم پر اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا فضل اُنڈیلنا چاہتاہے جو ہمارے گناہوں کو معاف کرتا ہے، اور جو ہمیں اپنی سچی محبت دینا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہےکہ یِسُوعؔ کومحبت کابادشاہ کہاجاتا ہے۔ ہمارا چرواہا واقعی محبت کا بادشا ہ ہے۔ یِسُوعؔ  واقعی ہمارا سچا مسیحا ہے۔ یہ مسیحا ایمان مقرر کر چُکا ہے جو وہ ہم سے، یقینی خصوصیات کے حتمی مطالبہ کے طور پر بیان کرتے ہوئے، چاہتا ہے۔ صِرف جب ہم اِس ایمان کے ساتھ خُدا کے سامنے جاتے ہیں،وہ ہمیں دے گا جووہ ہم سے وعدہ کر چُکا ہے۔
پھربھی ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کے درمیان جن کا مسیحا پر ایمان اُس کے بارے میں اُن کےغلط علم پر مبنی ہے، بعض موجود ہیں جن کی سرکشی بیان سے باہر ہے۔ وہ محض بدمعاش اور بدکار ہیں، جتنا کہ فرعونؔ تھا جو خُداکے سامنے اپنی اطاعت پر اِصرار کرچُکا تھا۔ جب مُوسیٰ نے اُس سے کہا، ” یہوواہ ؔ اپنے آپ کو ظاہر کر چُکا ہے؛ اُس کے لوگوں کو جانے دو،“ فرعونؔ نے مُنہ توڑ  جواب دیا، ”یہ یہوواہ ؔ کون ہے؟
جب اُس پر خُدا کے وجود کی وضاحت کی گئی تھی، اُس کے لئے جلدی سےہتھیارڈالنا یقینی طور پر زیادہ بہتر ہوتا اوروہ اپنی سرکشی کی قیمت اور فوائد کا حساب کرنے کے بعد اُس کے سامنے جُھک جاتا۔ اگر وہ اب تک حتمی طور پر ایمان نہ رکھ سکتا تھا اور اپنی ہٹ دَھرمی پر اِصرار کرنا تھا، وہ کچھ دیر کے لئے کھڑ ے رہنے کی کوشش کر سکتا تھا، لیکن ایک دو آفتوں کے بعد، اُسے چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ فرعونؔ کے لئے پھر بھی ہٹ دَھرمی اور خُد ا کے کلام کی نافرمانی میں کھڑے رہنایہ کتنی احمقانہ اور قابل ترس بات تھی۔ حتیٰ کہ جب وہ اپنی  پوری قوم کو مینڈکوں سے ڈھکنےوالی آفت سے دوچار تھا۔
 نہ صِرف مینڈک، بلکہ جوؤں نے بھی فرعونؔ کے محل پر آفت نازل کی۔ دائیں اور بائیں، جہاں کہیں کوئی مُڑتا، مِصرؔ کی تمام سرزمین ہر جگہ جوؤں سے بھر گئی، اور پھر بھی فرعونؔ نے ہتھیار نہ ڈالے۔ کیسے کوئی رہ سکتا ہے جب ہر جگہ جوؤں سے بھر ی ہوئی ہے؟ اِس صورتِ حال میں، اُسے سمجھنا چاہیےتھا، ”کیونکہ مَیں خُدا کی نافرمانی کر چُکا ہُوں، وہ مجھے دِکھا رہا ہے کہ حقیقی بادشاہ کون ہے۔ مَیں اِس زمین پر اپنی سلطنت کا ایک بادشاہ ہو سکتاہُوں، لیکن مَیں اُس کے مقابلے میں کچھ نہیں ہُوں۔ گو مَیں اِس زمین کی سطح پر عظیم ترین قوم کا بادشاہ ہُوں، اور گو میں تمام دُنیا پر اختیار رکھتا ہُوں، خُدا حتیٰ کہ مجھ سے زیادہ طاقتور ہے، اور وہ مجھ پر میری نافرمانی کی وجہ سے یہ آفات نازل کر رہا ہے۔“ اِس طرح اُسے ہتھیارڈال دینا چاہیے تھا۔
فرعونؔ کے لئے دانشمندانہ کام یہ ہوتا کہ وہ خوددیکھنے کے بعد جلدی سے ہتھیارڈال دیتا   یعنی  اُس
کی مزاحمت کی قیمت کیاہوگی۔قطع نظر اِس کے کہ فرعونؔ کتناہی طاقتور تھا، اگر وہ اِس نتیجہ پر پہنچتا کہ خُد اکے خلاف کھڑے ہونے میں اُس کے لئے کوئی راہ موجود نہیں ہے،  تو اُسےصرف اُس کے سامنےہتھیارڈالنےکی ضرورت تھی،یہ کہتے ہوئے، ”ٹھیک ہے، اَے خُدا،آپ پہلی جگہ پر ہیں؛ مَیں دوسری جگہ لُونگا۔“ لیکن کیونکہ فرعونؔ نے اِس طرح جُھکنے سے اِنکار کِیا، اُس کی تمام قوم اور لوگوں پر جوؤں کی آفت نازل ہوئی۔
اِس کی وجہ سے، کوئی مِصری بالکل بھی کچھ نہ کر سکتا تھا۔ جب ہر کوئی جوؤ ں سے بے رحمی سے تکلیف میں مُبتلا ہُوتاتھا، کیسے کوئی کچھ دوسرا کام کر سکتا تھا بلکہ جوؤں سے نجا ت حاصل کرنے کی کوشش کرتا؟ ہم سب اِن غریب مِصریوں کو مشعلوں کے ساتھ جوؤں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں اِدھر اُدھر دوڑتے ہوئے تصور کر سکتے ہیں، شاید حتیٰ کہ اِ س عمل میں اُن کے ذاتی گھربھی جل گئے ہوں اور جلتی ہوئی جوؤں کی بدبو گاؤں میں پھیل گئی ہو۔
ایسی چیزیں موجود ہیں جو انسان کر سکتا ہے، اورایسی چیزیں بھی ہیں جو انسان نہیں کر سکتا ہے۔ کیونکہ خُدا لشکروں کا خُداوند ہے، یہ خُداہے جو زندگی اور موت، خوشی اور غمی، اور برکتوں اور لعنتوں پر حکومت کرتا ہے۔ جب یہ صورتحال ہے، اپنے آپ پر اعتمادکرنے اور خُدا کے خلاف کھڑے ہونے کی کوشش کرنے کی بجائے ہم سب کو یقیناً  عقل سے سوچنا چاہیے اور اپنی ہٹ دَھرمی کو چھوڑنے کے لئے منطقی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔اپنےآپ میں، ہم شاید اپنےطریقے پر اِصرار کر سکتے ہیں اور دوسروں پر غالب آنے کی کوشش کر سکتے ہیں، لیکن جب ہم مسیحا کی بات کرتے ہیں یہ مزید قابلِ عمل نہیں ہے۔
ہمیں یقیناً  سوچنا چاہیے ہمیں حقیقتاً خُدا کے سامنے کس قِسم کاانسان ہونا چاہیے۔ ہمیں سنجیدگی سے اِس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہمیں خُد اکے خلاف کھڑے ہونا چاہیے، یا واقعی ہمارے دل نرم اور فروتن ہونےچاہئیں۔ اور ہمیں یقیناً  حتمی نتیجہ پر پہنچنا چاہیے کہ ہم سب کو یقیناً  خُدا کے سامنے فروتن ہونا چاہیے۔ آدمیوں کے سامنے، ہم ہماری سرکشی پر قائم رہ سکتے ہیں اور بعض دفعہ اِس کے نتائج کاسامنا کر سکتے ہیں، لیکن خُداکے سامنے ،ہمارے دل یقیناً  حتمی طور پر فروتن ہونے چاہیے۔
اَے خُدا مَیں غلط کر چُکا ہوں“— جولوگ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں وہی صحیح راستہ چُنتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی لعنتی زندگیوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ اُن کے لئے جو اپنے گناہوں کی وجہ سے خُدا کو چھوڑ چُکے تھے، خُدا کے بازوؤں میں قبول ہونے اور اُس کے زندگی بخش پانی پر پرورش پانے کا طریقہ پانی اور روح کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا ہے۔ ہم اپنی زندگیوں سے کبھی کیا توقع کر سکتے ہیں، جب اَیسی زندگیاں اِس دُنیا کے بیابان میں، اپنی خالی اور بنجر سرزمین پر اِدھر اُدھر تیرتے ہوئے یعنی کسی مقصد کے بغیر، صِرف مٹی کے ایک ذرا سے حِصے میں لوٹنے کے لئے بے پھل گزارتے ہیں؟
ہمارے لئے جنھیں مٹی میں لوٹنا ہے اور آگ کی جھیل میں پھینکے جانے کے لائق ہیں، نجا ت یافتہ ہونے کے لئے واحدراستہ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے اور اِس طرح ہمارے گناہوں کی معافی حاصل کرنے میں ہے۔ یہ مایوس اورنا اُمید زندگیوں کے لئے ہے جو خُدا کے خلاف کھڑے ہونے کے لئے اَبدی تباہی کا مقدر رکھتی تھیں اور اُن کے گناہوں کامعجزانہ طور پر خُدا کے سامنے اُس کی رحم کی محبت، نجات کی محبت کے وسیلہ سے پھر ہوش میں آنا تھا۔ اِس لئے ہم سب کو یقیناً  اِس نجات میں مُلبس ہونا چاہیے۔
کیسے کوئی، محض ایک فانی ہونے کے طورپر، کبھی خُد اکو للکار سکتا ہے؟ جب خُدا ہمیں فلاں اور اَیسی نذریں لانے کے لئے کہتا ہے، ہم سب کو یقیناً  اُ س کی فرمانبرداری کرنی چاہیے۔ اوپر والے مرکزی حوالہ کو دیکھتے ہوئے، جہاں خُدا ہم سے کہتا ہے ہمیں اُس کے لئے کیا نذریں لانے کی ضرورت ہے، ہم سب کو یقیناً  سمجھنا  چاہیے، ”آہ،تو یہ اِس قِسم کا ایمان ہے جو خُدا ہم سے اُس کے پاس لانےکے لئے کہہ رہا ہے۔
سردار کاہن کے سینہ بند پر، بارہ قیمتی پتھر جڑے گئے تھے۔ اورعدل کے سینہ بند میں، اُورِیمؔ اور تُمیّمؔ، جن کا لفظی مطلب روشنیاں اور کاملیتیں ہیں، اِس طرح رکھے جانے تھے کہ سردار کاہن بنی اسرائیل پر راست عدالت کی گواہی دے سکتاتھا۔
یہ اِس حقیقت کے علاوہ کسی دوسرے کو بیان نہیں کرتی ہے کہ صِرف خُداکے خادمین اپنے ایمان کے روحانی بچوں میں اُن میں سکونت کرتی ہوئی روح القدس کی روشنی بہانے اور خُد اکے کلام کے وسیلہ سے راستباز عدالت کومنتقل کر سکتے ہیں۔
اب ہم سب کو یقیناً  خُداکے سامنے احساس کرنا چاہیے، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا سچ حقیقی سچائی اور حقیقی نجات ہے۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا یہ سچ سچی نجات ہے جو ہمارے پاس زندگی لاتاہے، اور اِس سے جُدا، کوئی بھی دوسری چیز ہماری نجات کو تعمیر نہیں کرتی ہے۔ یہ تمام خُد اکے کلام پر مبنی، واضح اور سچ ہے۔
خیمۂاِجتماع   کا ساراسامان انسان کی گناہ سے نجات سے تعلق رکھتا ہے
  مگر بیوقوفی سے لوگ اب تک سرکشی سے ایمان رکھنے سے اِنکار کر تے ہیں۔ تب اُن کے ساتھ کیا واقع ہو گا؟ وہ کبھی بھی، ہمیشہ نجات یافتہ نہیں ہوں گے۔ خُد اکے سامنے، ہمیں یقیناً  ہماری بیوقوفی بھی دُور پھینکنی چاہیے۔اور ہمیں یقیناً اپنے دِلوں کو خالی کرنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً  خُد اکے سامنے ہمارے ذاتی خیالات اور ہٹ دَھرمی کو ایک طرف رکھنا چاہیے، اور اِس کی بجائے اُس کے کلام کی پیروی کرنی اور اپنے دل اُسے دینے چاہیے۔ ہمیں یقیناً  کبھی، ہمارے ذاتی سرکش راستوں پر اِصرار کرتے ہوئے خُدا کے خلا ف کھڑے نہیں ہونا چاہیے۔ ہم شاید اَیسا دوسرے لوگوں کے سامنے کر سکتے ہیں، لیکن مسیحیوں کے طور پر، ہم سادگی سے کم ازکم خُداکے سامنے، یہ نہیں کر سکتے ہیں۔ اور پھر بھی بیوقوف لوگ خُدا کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں اور صِرف دوسرے آدمیوں کے سامنے فروتن ہیں۔ یہ ہے اُن کے ساتھ کیا غلط ہے۔ ہمیں یقیناً خُدا کے سامنے اوندھےمُنہ گِرنا چاہیے اور ماننا چاہیے کہ خُد اہم سے جو بول چُکا ہے سب صحیح ہے۔
اور ہمیں یقیناً  آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے کلام پر ایمان رکھنا اور بھروسہ کرنا چاہیے۔ ایمان خُدا کے کلام پر بھروسہ کرنا ہے۔ جب ہم اپنے آپ کو خُد اکے قدموں میں ڈالتے ہیں، اُس کے سامنے ہماری تمام مصیبتوں کا اِقرار کرتے ہیں، اور اُس سے مدد مانگنے کے لئے اُس سے لپٹ جاتےہیں، توخُدا یقیناً  ہمیں جواب دے گا۔ تب ہمیں یقیناً  شکر گزاری کے ساتھ قبول کرنا چاہیے وہ ہمارے لئے کیا کر چُکا ہے۔ یہی ایمان ہے۔ پھرکیابےوقوفی اور پاگل پن میں، ہم کبھی خُدا کوآسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے علاوہ، اُس کے پاس مچھلی کے شکار کی رَسیاں یا دھاتی زنجیریں لاتے ہوئے کوئی چیز دِکھا سکتے ہیں؟ خُدا کے سامنے کچھ فضول دھاگہ لاتے ہوئے اور اُسے کہنا،”یہ میرا ذاتی ایمان ہے۔ یہ ہے مَیں کیسے بہت مضبوطی سے ایمان رکھ چُکا ہُوں۔ یہ مضبوط ایمان ہے جو مَیں خاص طور پر قائم رکھ چُکا ہُوں،“ یہ سادگی سے ایمان نہیں ہے، بلکہ کسی کا اپنے آپ کو خُدا کے سامنے بیوقوف بنانا ہے۔
کسی کو یقیناً  مسیحا کے سامنے اپنے اڑیل پن سے جُھکنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، خُداکے سامنے کسی کو یقیناً  اپنی مرضی کو جُھکانا چاہیے۔ ہم سب کو یقیناً  خُداکے سامنے اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے۔ ہمیں یقیناً  ہم کو خُدا کیا کہتا ہے کے مطابق پہچاننا چاہیے اور وہ کیسے ہمارے لیے فیصلہ کرتا ہے۔ اِس کے علاوہ کوئی دوسرامسیحیوں کا دُرست ایمان نہیں ہے۔ خُدا کے کلام کے مطابق  فرمانبردار ی کرنا  اور ایمان  رکھنا
دُرست انداز اور وفادار کا دِل ہے۔ یہ وہی ہے جوہمیں خُدا کے سامنے ذہن میں یقیناً رکھنا چاہیے۔
یقیناً،اپنےآپ میں، ہم اپنی کامیابیوں پر فخر کر سکتے ہیں، ایک دوسرے سے موازنہ کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کو للکار سکتے ہیں۔ اگر چہ یہ، بھی، ناپنا ایک فضول مشق ہے جو بنیادی طور پر خُداکے سامنے ایک جیساہے، بنی نوع انسان کے درمیان یہ اَیسی چیز ہے جو ہم انتہائی کم انتخاب رکھتے ہیں بلکہ مسلسل اِس میں مشغول رہنا ہے۔
حتیٰ کہ کتورے پہچانتے ہیں اُن کے مالک کون ہیں، اور اپنے مالکوں کی مانتے اور فرمانبرداری کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، حتیٰ کہ کتے اپنے مالکوں کی فرمانبرداری کرتے، اُن کی آوازکو پہچانتے اور صِرف اپنے مالکوں کی پیروی کرتے ہیں۔ جب کتے اپنے مالکوں سے ڈانت کھاتے ہیں، وہ اپنی غلطیوں کو پہچانتے ہیں، فرمانبرداری میں اپنے سَروں کو جُھکاتے ہیں، اور ہرطرح کے پیارےچھوٹےچھوٹےکرتب کرکےاپنےمالک کے ساتھ اچھے فضل کی طرف  واپس لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب حتیٰ کہ جانور یہ کرتے ہیں، اور پھر بھی لوگ اپنے ذاتی خیالات کے ایمان کو لینے کے وسیلہ سے خُدا کو للکارنا جاری رکھتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ خُدا سے چِمٹےرہتےہیں حتیٰ کہ وہ اپنے ذاتی راستوں اور اپنے ذاتی خیالات پر اِصرار کرتے ہیں۔
اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ساتھ، خُدا اِس طرح تمام بنی نوع انسان کے گناہوں کو مٹا چُکا ہے، اور سب جو وہ ہمیں بتا چُکا ہے ایمان رکھنا ہے جو ہمارے خُداوند کے کاموں پریقین رکھتا ہے۔پھر بھی لوگ اب تک سرکش رہتے اور خُداکو للکارتے ہیں۔
خُداوند ہمیں ہمارے تمام گناہ اُس کے پاس لانے کے لئے کہہ چُکا ہے،اور اُن سب کو آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے کے ساتھ مِٹانے کے وسیلہ سے، وہ ہمیں گناہ کی معافی دے چُکا ہے۔ جب خُدا ہمیں اُس کے لئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان لانے کے لئے کہہ چُکا ہے، لو گ اب تک اِس پر ایمان نہیں رکھتے ہیں،اور اپنے ذاتی مالک کا اِنکارکر رہے ہیں۔ یہ لوگ لعنتی ٹھہرائے جائیں گے۔
جب وہ مسیحا کے پاس ایمان نہیں لاتے ہیں جو وہ اُن سے چاہتاہے بلکہ ایمان جو وہ نہیں چاہتا ہے، وہ صِرف غضبناک ہو سکتا ہے۔ وہ خُداکے سامنے اپنی ہٹ دَھرمی کو لانا جاری رکھتے ہیں اور اُس سے کہتے ہیں، ”مَیں اپنا ایمان یہاں تک اور اِسے اچھی طرح قائم رکھ چُکا ہُوں۔ میری تعریف کریں یہ کِتنا زبردست کام ہواہے!“ کیا خُدا اُن کی تعریف کرے گا محض  کیونکہ  وہ  اپنے  ایمان کوقائم رکھ چُکے  ہیں،
جب حقیقت میں یہ ایمان اِس تمام وقت میں سادگی سے بے فائدہ رہ چُکا ہے؟
شاید مواقع موجود ہوں جب ضِد مناسب طور پر ہماری زندگیوں میں ضروری ہے۔ لیکن غلط ایمان کی ضِد خُد اکے سامنے مکمل طور پر بے فائدہ ہے۔ خُدا نے ہمارے گناہوں کو مِٹانے میں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کو استعمال کِیا۔ کتابِ مقدس نہیں کہتی ہے کہ اُس نے صِرف ارغوانی دھاگہ استعمال کِیا، نہ ہی کہ اُس نے صِرف سُرخ دھاگہ استعمال کِیا، نہ حتیٰ کہ اُس نے دھاتی زنجیریں استعمال کِیں، بالکل اِسی طرح جیسےنائلون کے دھاگے کو استعمال کرنے کا کوئی ذکرموجود نہیں ہے۔ خُدا کے گھر کے اندر، اور ہمیں دی گئی اُس کی نجات کی شریعت میں، مسیحا ہم سے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ایمان کا مطالبہ کر چُکا ہے۔
مسیحی اُن کو بیان کرتے ہیں جو یِسُوعؔ  مسیح پر ایمان رکھتے اور پیروی کرتے ہیں۔تب، ہم، بھی، مسیحی ہیں۔ تاہم، بہت سارے لوگ موجودہیں جو یِسُوعؔ  پر اپنے نجات دہند ہ کے طور پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں، جو گناہوں کی معافی حاصل نہیں کر چُکے ہیں، اور جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان نہیں رکھتے ہیں—یہ محض جہنم کا مقدر ر کھنے والےبرائے نام مسیحی ہیں، کیونکہ وہ اپنے ذاتی طریقوں کے مطابق ایمان رکھتے ہیں۔ خُدااِن لوگوں کو چھوڑ دے گا، کیونکہ وہ صِرف مذہب پرست ہیں، سچے مسیحی نہیں ہیں۔
کم ازکم خُداکے سامنے، ہم سب کو ایماندا ر ہونا چاہیے، اور اپنے آپ کو پہچاننا چاہیے جس طرح حقیقتاً ہم ہیں۔ ہر لمحہ، ہر منٹ اور سیکنڈ، پر ہمیں یقیناً  اِقرار کرناچاہیے کہ ہم ہمارے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق تھے۔ مسیحا کے سامنے، ہم سب کو یقیناً  آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان رکھنا چاہیے۔ یوں ایمان رکھنا کرنے کے لئے دُرست چیز ہے۔ اور جب کبھی ہم اِقرار کرتے ہیں، ہمیں یقیناً  اپنے آپ کو یاد دِلا نا چاہیے مسیحا ہمارے لئے کیا کر چُکا ہے، یعنی اُس نے ہمیں گناہ سے چھڑانے کے لئے بپتسمہ لیا اور اپنی مصلوبیت کے ساتھ ہمارے ذاتی گناہوں کے لئے پَرکھا گیا، اور ہماری نجات کو ہر وقت پہچاننا چاہیے۔ یہ ایمان ہے جس کا خُدا ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔
 ہم کبھی خُدا کو خوش نہیں کر سکتے ہیں جب تک ہم بالکل وُہی نہیں کرتے جو مسیحا ہم سے کروانا چاہتا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ جس طرح وہ اپنے آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے ہمارا اَبدی نجات دہندہ بن چُکا ہے، ہمیں ہر لمحے ایمان رکھنے کی ضرورت ہے خُدا ہمارے لئے کیا کر چُکا ہے۔ جس طرح آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان سچا ہے، ہمیں اِس کی حتیٰ کہ ہمارے گناہوں کی معافی کے لئے زیادہ ضرورت ہے جو ہم بذاتِ خود ہر روز سرزَد کر تے ہیں۔
 
 
کیا خُد اخوش ہوتا اگر ہمیں اُسے ہماری ذاتی کوششوں کی پیداوار پیش کرنی تھی؟
 
اگر ہمیں خُدا کو زمین کی چیزیں پیش کرنی تھیں، ہم نہ صِرف ہمارے اوپر خُد اکا غضب حاصل کر رہے ہوں گے، بلکہ ہم خُد اکے خلاف ایک چیلنج سوار کرنے کے وسیلہ سے ایک عظیم گناہ بھی سرزد کر رہے ہوں گے۔ اَیسا ایمان باغی ہے، کیونکہ یہ خُدا کے خلاف کھڑا ہوتاہے۔ اِس دُنیا میں کوئی چیز، کوئی معنی نہیں رکھتا یہ کتنی قیمتی اور مہنگی ہو سکتی ہے، کبھی خُد ا کو خوش نہیں کر سکتی ہے۔ اِس دُنیا کے سامان کی اَیسی چیزیں خُدا کے پاس لانا کبھی دُرست ایمان نہیں ہے جن کی خُد ا تعریف کر سکتا ہے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا وہ دُنیاوی اصطلاحوں میں کتنی اچھی ہو سکتی ہیں، خُد ااَیسی مادی اشیاء قبول نہیں کرتاہے۔ ہمیں یقیناً  ایمان رکھنا چاہیے جو خُدا حقیقتاً ہم سے چاہتا ہے، اور اُسے یہ ایمان دینا چاہیے۔
ہمارا ایمان یقیناً  وہ ہونا چاہیے جو خُد اکے کلام پر یقین رکھتا ہو جس طرح یہ ہے، ایک واحدجو دُرست نذریں لیتا ہے جو خُد اہمیں کہہ چُکا ہے۔ مجموعی طورپر، ہر گزرنے والے لمحہ کے ساتھ ہمیں یہ بھی پہچاننا چاہیے کہ خُد اہمارے لئے کیا کر چُکاہے، اور اِسی طرح ہمیں یقیناً  ہماری ذاتی کمزوریوں اور ناکافی پن کو بھی ماننا چاہیے۔ ہمیں یقیناً  بکثرت برکات کو یاد رکھنا چاہیے جو خُدا ہم پر اُنڈیل چُکا ہے، اور ہمیں یقیناً  دُرست طور پر جاننا چاہیے اور ا یمان رکھنا چاہیے وہ ہمارے لئے کیا کر چُکا ہے، یعنی وہ ہم سے رَضامندی سے مِل چُکا ہے۔
ہمیں یقیناً  تصَوف کے تمام عقائد کو دُور پھینکناچاہیے، اور ہمیں یقیناً  صِرف ایمان رکھنا چاہیے جو  خُد اکے بولے گئے کلام پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ اِس ایمان کی نذریں ہیں جو ہمیں یقیناً  خُد اکو دینی چاہیے۔ صِرف جب ہم خُد اکو دُرست ایمان کی نذریں دیتے ہیں وہ خوش ہوگا، ہم سے ملے گا، اور ہمارے ایمان کو قبول کرے گا۔ اور یہ ہے جب ہم اَیسا کرتے ہیں یعنی خُدا ہمیں ساری برکات دیتا ہے جو وہ مخصوص اور ہمارے لئے تیار کر چُکا ہے۔
جب ہم کلام پرغوروخوض کرتے ہیں، تو ہمیں یقیناً  سوچ بچار کرنی چاہیے، ” کیا ایمان ہے  جو  خُدا
ہم سے حقیقتاً چاہتا ہے؟ کس قِسم کی دُعا ہے جو وہ چاہتا ہے؟“ تب ہم احساس کرتے ہیں کہ دُعا جو خُد اہم سے چاہتا ہے ایمان سے مانگی گئی دُعا کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ ہمارا خُدا ہم سے دُعائیں چاہتا ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی نجات کے ایمان میں، ایمان جو قبول کر چُکا ہے خُدا ہمیں کیا دے چُکا ہے پیش کی جاتی ہیں۔ خُد اہم سے جو چاہتا ہے وہ ایمان میں مانگی گئی یہ شکر گزار ی کی دُعا ہے؛ وہ کبھی بھی ہماری ذاتی بنائی ہوئی کوئی چیز قبول نہیں کرے گا جو ہم اُسے دینے کی کوشش کرتے یا اُس کے قدموں پر چھوڑتے ہیں۔ ہم سب کویقیناً  احساس کرنا چاہیے کہ ہمیں کبھی بھی یہ نہیں کرنا چاہیے۔
خُد اہمیں بتارہا ہے، ”نہیں، نہیں، یہ وہ ایمان نہیں ہے جو مَیں تم سے چاہتا ہُوں۔ مَیں نے تمہارے لئے بپتسمہ لیا اور مصلوب ہُوا۔ مَیں نے تمہارے تمام گناہ مٹانے کے لئے بپتسمہ حاصل کِیا۔ یہ ہے کیونکہ مجھے تمہارے گناہوں کو اپنے آپ پر اِن گناہوں کے لئے میرے پَرکھے جانے اور صلیب پر مرنے سے پہلے لینا تھا۔ مَیں تمہارا نجا ت دہندہ ہُوں، لیکن میَں تمہارا بُنیادی طورپر خُدا بھی ہُوں۔ میَں بادشاہوں کا بادشاہ بھی ہُوں، لیکن کیونکہ میَں تمہار اخُدا بھی ہُوں، میَں اِس زمین پر آیا اور ہر چیز کوپورا کِیا۔ مَیں چاہتا ہوں کہ تم مجھ پر سچا ایمان رکھو، اوراپنے دلوں میں میرے اختیار کو پہچانو اور پورے دِل کے ساتھ اِقرار کروکہ میَں تمہارا سچا خُدا ہُو ں ۔“ یہ اِس ارادہ کے ساتھ ہے کہ خُدا ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اور بارِیک بٹا ہُوا کتان دے چُکاہے۔ اور یہ وہ ایمان ہے جس کا خُدا ہم سے مطالبہ کرتاہے۔
ہمیں یقیناً  حقیقی طور پر آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا یہ ایمان رکھنا چاہیے۔ آپ شاید اپنے آپ میں سوچ سکتے ہیں،”جی ہاں، یہ اب تک  کافی قابلِ سکونت ہے۔ مَیں اب تک بالکل ٹھیک کر رہا ہُوں، اور چیزیں ٹھیک چل رہی ہیں۔ اگر یہ ٹوٹانہیں ہے تو اِسےٹھیک کیوں کریں؟  مجھے اِس طریقے سے ایمان رکھنےکی کیوں ضرورت ہے؟چاہے مَیں اِس طریقے یا اُس طریقے سے ایمان رکھتا ہُوں، کیا وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں؟“ نہیں، وہ ایک جیسے نہیں ہیں! اگر آپ اپنے دِل میں اِس کے علاوہ کچھ دوسرا ایمان رکھتے ہیں، تب آپ حتمی طورپر بچائے نہیں جا چُکے ہیں۔ کیونکہ اَیسے دلوں میں اب تک گناہ پایا جاتا ہے، آپ کو یقیناً  اپنے دلوں کو پھیرنا چاہیے اور ایمان کی طرف لوٹنا چاہیے جو حقیقی طور پر پانی اور روح کی خوشخبری پریقین رکھتا ہے۔
اُن کے دل جو سچی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور اُ ن کے جو نہیں رکھتے ہیں بُنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ خُدا اِسے جانتا ہے، اوراِسی طرح ہم بھی جانتے ہیں، جو نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں۔ جب آپ اپنے آپ کو پہچانتےہیں تو، آپ کو ضرور رجُوع لانا چاہیے۔ ”اَ ے خُدا، واقعی مَیں گنہگار ہُوں۔ مہربانی سے مجھے بچا۔“ جب آپ اِس طرح اپنے دلوں کوپھیرتے ہیں اور اپنی نجات کو ڈھونڈتے ہیں، خُدا آپ کو اپنی سچائی کے ساتھ ملے گا۔
 
 
ہمارا خُداوند ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چُکا ہے
 
ہمارے خُداوند نے ہمارے لئے بپتسمہ لیا اور مصلوب ہُوا۔ جس طرح متی ۳باب میں لِکھا ہے، یہ وہی ہے جوخُداوندنےہمارے لئے کِیا ہے۔ ہم اِس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم اِس کے لئے اُس کا شکر اَدا کرتے ہیں۔ جب یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لیا، ہمارے تمام گناہ اُس پر لادیئے گئے۔ جب وہ مصلوب ہُوا  اِس کی وجہ یہ سے تھی کہ اُس نے ہمارے تمام گناہ اُٹھا لئے یعنی وہ اِن گناہوں کو صلیب پر لے جا سکتا تھا۔ وہ نہ صِرف ہمارے ذاتی گناہوں کے لئے، بلکہ تمام دُنیا کے سارے گناہوں کے لئے پَرکھا گیا تھا۔
جب ہمارا خُداوند ہم سے خیمۂاِجتماع   کے لئے تعمیری اشیاء کی نذریں اُس کے واسطے لانے کو کہتا ہے، یا جب کبھی وہ ہم سے کوئی چیز کہتا ہے، وہ ہمیشہ ایک ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ وہ ہمیشہ ہم سے کہتا ہے، ”میرے لئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ لاؤ۔“ آسمانی دھاگہ ہمیشہ پہلے آتاہے۔ اور وہ اِس کی پیروی بارِیک بٹے ہُوئے کتان کو اپنے ظاہر کرنے کے ساتھ، ہمیں خُدا کے کلام پر ایمان رکھنے کے لئے بتاتے ہو ئے کرتا ہے۔ صلیبی خون پر پہلے ایمان رکھنا اور تب یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر ایمان رکھنا شاید پہلی نظر میں ٹھیک نظر آسکتا ہے، لیکن یہ حقیقت میں غلط ہے۔ یہ اِس لئےتھا کہ یِسُوعؔ  نے پہلے بپتسمہ لیا یعنی صلیب پر وہ اپنا خون بہا سکتا تھا۔ مَیں آپ سے پھر کہہ رہا ہوں کہ یہ کبھی بھی پہلے صلیبی خو ن پر اور تب اُس کے بپتسمہ پرایمان رکھنا ٹھیک نہیں ہے۔ خُد اکبھی اَیسے ایمان کی اجازت نہیں دیتا ہے۔
اِس زمین پر ایک آدمی کے بدن میں آنے کے بعد، جب ہمارا خُداوند ۳۰سال کا ہو گیا، اُس نے پہلے اپنے آپ پرہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا۔ اَیسا کرنے کے بعد، وہ تب دُنیا کے اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا، اپنی مصلوبیت کے ساتھ پَرکھا گیا، اور تب، یوں ہمارا نجات دہندہ بنتے ہوئے پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اِسی طرح، ہمیں یقیناً  ہمارا خُداوند ہمارے لئے کیا کر چُکا ہے کی ترتیب کے مطابق جس سے اُس نے اپنے کاموں کو پورا کِیا ایمان رکھنا چاہیے۔ یہ ہے کیسے ہمیں یقیناً  ایمان رکھنا چاہیے۔ صِرف تب ہمارا ایمان مکمل  طور پرقائم رہ سکتا ہے، کبھی بھی اُلجھن کا شکار نہیں ہوتا، اورنہ ہی کبھی لڑکھڑاتا ہے۔ اور جب ہم دوسروں تک خوشخبری پھیلاتے ہیں، ہمیں یقیناً  یہ اِس کے مطابق کرنا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمیں یقیناً  ایمان رکھنا چاہیے خُدا کو کیا خوش کرے گا،اِس کے مطابق ہمارے لئے وہ کیسے مقرر کر چُکا ہے۔
ایمان کی کونسی نذریں خُدا آپ سے اُس کے لئے لانے کو کہہ رہا ہے؟ کیا وہ آپ سے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا ایمان لانے کے لئے نہیں کہہ رہا ہے؟ کیا آپ یہ ایمان رکھتے ہیں؟ کیا آپ، کسی بھی اتفاق سے، اُلٹ ترتیب سے ایمان رکھ رہے ہیں؟ ”چاہےمَیں اِس طریقے سے یا اُس طریقے سے ایمان رکھتا ہو ں معنی نہیں رکھتا ہے۔ مَیں اب تک ایمان رکھتا ہوں، اور بس اتنا ہی کافی ہے۔ مَیں پہلے سُرخ دھاگے پر ایمان رکھتا ہوں اور تب آسمانی دھاگے پر، اور تب ارغوانی دھاگے پر۔“ اگر یہ ہے آپ کیسے ایمان رکھتے ہیں، تب آپ کو یقیناً  دوبارہ ایمان رکھنا چاہیے۔ خُداوند کبھی بھی آپ کا یہ اُلٹ ایمان منظور نہیں کرے گا۔
ہمار ا خُداوند انصاف کا خُدااور سچائی کا خُدا ہے۔ اِس طرح، وہ غلط ایمان کو منظو ر نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ ایمان سیدھا کھڑا نہیں رہ سکتا ہے جب اِس کی ساری ترتیب گھل مل جاتی ہے، خُدا اِس ایمان کو منظور نہیں کر سکتا ہے حتیٰ کہ اگر وہ چاہتاہے۔ بالکل جس طرح ہم ایک گھر کی تعمیر ختم کرنے کے بعد اِس کی بُنیا د ڈالنے کی کوشش نہیں کر سکتے ہیں، یہ ہے کیونکہ یِسُوعؔ  اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا یعنی وہ تب مصلوب ہو سکتا تھا۔
اِس لئے ہمیں یقیناً  اِس کے مطابق ایمان رکھنا چاہیے جوخُداوند ہمیں بتا چُکا ہے۔ یہ دُرست ایمان کے لئے کونے کے سِرے کا پتھر رکھنا ہے۔ کیونکہ خُد اہمیں دُرست طورپر، راست طورپر، اورراستبازی کے طورپر بچا چُکا ہے، ہم خود سے اُس کی ترتیب نہیں بدل سکتے ہیں۔ اگر ہم پہلے صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں اور تب یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر، تب یہ ایمان سادگی سے غلط ہے۔ اور گناہ اب تک اُن کے دلوں میں پایا جاتاہے جو اس طرح ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ اُن کے گناہ اُن کے ایمان کی اُلٹ ترتیب کی وجہ سے دھوئے نہیں گئے تھے۔ یہ حقیقی طور پر شاندار ہے۔ یہ حیران کن سچ کے علاوہ کچھ دوسرا نہیں ہے۔
مسیحا کے سامنے، ہم میں سے بہت سارے صِرف یِسُوعؔ  کے صلیبی خون پر ایمان رکھا  کرتے تھے۔
ہم ایمان رکھتے تھے، ”یِسُوعؔ  نے میرے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ہے اور صلیب پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے میری تمام سزا اُٹھا لی۔ اِس لئے ہم مکمل طور پر نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔ ہماری نجات مسیح سے حاصل ہوئی جو صلیب پر ہمارے لئے مَر گیا ۔ہر کوئی جو اس پر ایمان رکھتا ہے اب نجات یافتہ ہے۔“ تب ہم نے یِسُوعؔ کے بپتسمہ کے اَصل مطلب کا احساس کِیا۔ پس ہمارے پہلے، غلط ایمان کے اوپر، ہم نے سچے ایمان کا اضافہ کِیا۔ تب کیا واقع ہُوا؟ ہمارے گناہ حقیقت میں غائب نہ ہوئے۔ کیونکہ اِس قِسم کا ایمان محض ذ  ہنی اور نظریاتی ہے، یہ ہمارے دلوں کا حقیقی او رسچا ایمان نہیں ہو سکتا ۔
اگر آپ کا ایمان اِس کی مانند ہے، آپ کو یقیناً  تیزی سے پھرنا اور اِسےتبدیل کرنا چاہیے۔ سب سے پہلے، آپ کو واضح طور پر ماننا ہے کہ آپ کا ایمان صحیح نہیں ہے۔ اور تب، آپ کو فوراً اپنے ایمان کی بُنیاد کو نیا کرنا ہے۔ سب جو آپ کو کرنا ہے دوبارہ ترتیب کو بدلنا  ہے۔ ”اِس زمین پر آنے کے بعد، جب خُداوند نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا، اُس نے میرے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ یہ ہے کیونکہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لیا یعنی دُنیا کے تمام گناہ اُس پر لاد دئیے گئے، اور چونکہ دُنیا کے تمام گنا ہ اِس طرح اُس پر لاد دئیے گئے تھے میرے تمام گنا ہ بھی یِسُوعؔ  پر لاد دئیے گئے تھے۔ اور تب، اُس نے میرے تمام گناہوں کی قیمت اَدا کرنے کے لئے صلیب پر اپنا خون بہایا۔“ یہ ہے کیسے آپ کو ایمان رکھنا چاہیے۔
کون پرواہ کرتا ہے چاہےمَیں اِس طریقے سے ایمان رکھتا ہوں یا اُس طریقے سے؟ سب سےاہم بات یہ ہے کہ مَیں خُداوند کی اِن چا ر خدمات پر ایمان رکھتا ہوں۔ کیوں اِس ترتیب پر اتنا ضِدی ہونا اور زور دینا ہے؟“ کیا آپ، کسی اتفاق سے، اب تک اِس نظریے سے چِمٹے ہوئے ہیں؟ تب آپ کو یقیناً اِس سچائی کو اپنے دل میں لینا چاہیے: یِسُوعؔ  بپتسمہ لینے کے بعد ہی صلیب پر مَرا۔ اور یہ وہ سچائی ہے جس پر آپ کو یقیناً  ایمان رکھنا چاہیے۔
رو ح القدس کبھی بے انصافی کو منظور نہیں کرتاہے۔ خُدا روح القدس ہمارے ایمان کوصرف اُس وقت منظور کرتا ہے جب ہم اِس بات پرایمان رکھتے ہیں جو مسیح نے اِس زمین پر ہمارے لئے کِیا ہے،جس طرح یہ ہے۔ روح القدس یہ نہیں کہتا ہے، ”پس تم یِسُوعؔ  کے اِن تمام چار کاموں پر ایمان رکھتے ہو۔ آمین۔ چاہےتم دُرست طور پرایمان رکھتے ہو یا ایک اُلٹ ترتیب سے، چاہےتم اِس طریقے سے ایمان رکھتے ہو یا اُس طریقے سے، یہ ٹھیک ہے اگر تم صِر ف کسی طرح بھی ایمان رکھتے ہو۔ آمین۔ بالکل ٹھیک، تب تم میرے بیٹے ہو۔
یسوع یعنی مسیحا خُداباپ کی مرضی کے مطابق اِس زمین پرآیا اور باپ کے حُکم کے مطابق کام کِیا۔ یہ ہے کیسے وہ اپنی زندگی کے ۳۳سالوں میں اِس زمین پر زندہ رہا۔ اِس زمین پرآکر، اُس نے بپتسمہ لینے، مصلوب ہونے، اور جی اُٹھنے، اور تب آسمان پر چڑھنے کے وسیلہ سے ہماری نجات کا اپنا کام مکمل کِیا۔ اور اُس نے ہمارے پاس روح القدس کو بھیجا۔
خُدا روح القدس ہم میں سے اُن کے دلوں میں سکونت کرتاہے جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، اور وہ اُن کے ایمان کو منظور کرتا ہے جو ایمان رکھتے ہیں خُداوند اُن کے لئے کیا کر چکا ہے جس طرح یہ ہے۔ یہ ہے کیوں ہم کبھی بھی ہمارے ذاتی خیالات کے مطابق ایمان نہیں رکھ سکتے ہیں۔ گو آپ اور مَیں حقیقی طور پر یِسُوعؔ  پر ایمان رکھتے ہیں، کیا آپ، کسی اتفاق سے، ایک اُلٹ ترتیب سے اوپرسےنیچے کو ایمان رکھتے ہیں؟ اگر اَیسا ہے، آپ کو یقیناً دوبارہ دُرست طور پر ایمان رکھنا چاہیے۔
جب آپ اَیسا کرتے ہیں، روح القدس آپ کے دلوں میں کام کرتا ہے۔ گو ہم خامیوں سے بھر ے ہوئے ہیں، روح القدس ہمارے دلوں کو مضبوطی سے تھامتاہے، ہمارے ساتھ ہے، اور اُس کے فضل کے ساتھ ہم پر اُنڈیلتاہے جب ہم اُس کے سامنے کم پڑ جاتے ہیں۔ روح القدس ہمیں طاقت دیتا ہے۔ وہ ہمیں قو ت دیتا ہے۔ وہ ہمیں تسکین دیتاہے۔ وہ ہمیں برکت دیتاہے۔ وہ ہم سے ایک شاندار مستقبل کا وعدہ کرتا ہے۔ اور ہم میں سے اُن کی جو ایمان رکھتے ہیں، وہ ہماری ایمان سے ایمان تک راہنمائی کرتا ہے یعنی اُس کی اَبدی بادشاہت میں داخل ہونے کی اہلیت کو نہ کھو دیں۔
یہ ہے ہمیں کیا ضرورت ہے جب ہم ایمان رکھتے ہیں خُداوند ہمارے لئے کیا کر چکا ہے، یا جب وہ ہمیں اُ س کے لئے ہماری نذریں لانے کو کہتا ہے یعنی، ہمیں یقیناً  ایمان رکھنا چاہیے وہ ہمیں پانی اور خون کے ساتھ بچا چکاہے۔ خیمۂاِجتماع   کے اندر تمام اشیاء اہم ہیں کیونکہ وہ سب مستقل طور پر ہمیں پانی او ر روح سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کے بھید کے بارے میں بتاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، خیمۂاِجتماع   کی بہت ساری اَیسی چیزوں کے وسیلہ سے، خُدا ہمیں ایک چیز کے بارے میں بتانا چاہتا ہے پانی اور روح کی خوشخبری ۔
 
 
ہمارے ایمان کے لئے، اِس کی بُنیاد انتہائی اہم ہے
 
اگر ہم پہلے اپنے ایمان کی بُنیاد مضبوطی سےرکھےبغیر ایمان کا گھر تعمیر کرتے ہیں، جتنا طویل عرصے تک ہم یِسُوعؔ   پر ایمان رکھتے ہیں، جتنے زیادہ ہمارےگناہ بڑھتےجاتے ہیں، اُتنی ہی توبہ کی دُعائیں ہمیں مانگنی پڑتی ہیں، اور ہم زیادہ رَیاکار گنہگار بن جاتے ہیں۔لیکن جب ہم نجات کے تحفے پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی ہمار ا خُداوند ہمیں اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ساتھ بچاچکا ہے، تب ہم سب خُد اکے کامل بیٹے بن سکتے ہیں۔ اِس لئے، ہم سب کو یقیناً  آسما نی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے سچ پرایمان رکھنا چاہیے، اور اِس طرح ہم سب کو یقیناً  خُدا کے بیٹے بننا چاہیے۔
وہ جن کے ایمان کی بُنیاد مکمل ہے ہمیشہ چمکدار روشنی میں اپنی کہانت جاری رکھ سکتے ہیں، حتیٰ کہ جب وہ بذاتِ خود خامیاں رکھ سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ کہانت کے تمام اَیسے کام پورے کر سکتے ہیں جیسے حقیقی طورپراِس دُنیا کے تمام لوگوں کو اپنے سینےسےلگانا ، خُدا سے اُن کے گناہ کی معافی کے لئے دُعا مانگنا، اور خُداکے سامنے اِس خوشخبری کی خدمت کرنا۔
مقابلے میں، وہ جن کے ایمان کی بُنیاد واضح نہیں ہے، جتنا زیادہ وقت گزرتاہے، وہ زیادہ رَیاکار بنتے جاتے ہیں۔ وہ بدکار بن جاتے ہیں۔ وہ زیادہ رَیا کار مذہب پرست بن جاتے ہیں۔ جس طرح ہمارے خُداوند نے ہمیں بتایا کہ ہم ایک درخت کو اِس کے پھل سے پہچانیں گے، اَیسے لوگوں سے پیدا ہوئے پھل سب ناقابلِ بھروسہ، گندے، اور رَیاکارانہ ہیں۔ تاہم، ہم میں سے وہ جو نئے سِرے سے پیدا ہوئے ہیں کسی طرح رَیا کار نہیں ہیں۔ وہ سب سچے ہیں۔گو وہ اپنی ذاتی خامیاں رکھتے ہیں، وہ حقیقی طور پر پُر خلوص ہیں۔ وہ اپنی ذاتی خامیوں اور غلطیوں کو پہچانتے ہیں، اور وہ ہمیشہ چمکدار روشنی کے درمیان  رہتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لیا اور ہمارے تمام گناہوں کو مٹانے کے لئے مصلوب ہوا، اور کیونکہ بے شک اس طرح وہ ہمارے تمام گناہوں کو غائب کر چکا ہے، اس سچ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہم ہمارے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ کیونکہ ہمارے ایمان کی بُنیاد ٹھوس ہے، گو ہم ناکافی ہیں، گو ہم گناہ سرزد کرتے ہیں، اور گو ہم کمزور ہیں، ہماری زندگیاں پھر بھی روشن ہیں، کیونکہ ہمارے دل ہمیشہ بے گناہ ہیں۔ ہماری  خامیوں کی وجہ سے ہم بعض اوقات گمراہ ہو سکتے ہیں، لیکن کیونکہ ہم حقیقت میں بے گناہ ہیں، ہم دوسروں کو اور اپنے آپ کو تباہی کی طرف گمراہ کرنے کے لئے راہنمائی نہیں کرتے ہیں۔ گو ہم ناکافی ہیں، تاہم ہم اُس راستے پر چلتے ہیں جو خُداکو خوش کرتا ہے، یعنی قدم بہ قدم آگے بڑھتے ہوئے اور خوشخبری کی حتیٰ کہ زیادہ خدمت کرتے ہوئے۔ یہ سب ممکن بن چکا ہے کیونکہ یِسُوعؔ  ہمیں کامل طورپر بچا چکا ہے۔
اگر یِسُوعؔ  مسیح، ہمارا مسیحا، اور ہمارا نجات دہندہ اِس طرح ہمیں چار دھاگوں کے ساتھ مکمل طور پر بچا نہیں چکا تھا، ہم کسی بھی طرح کبھی بھی نجات یافتہ نہیں ہو سکتے تھے۔ یہ ہے کیونکہ وہ ہمیں بچا چکا ہے یعنی ہم نجات یافتہ ہو گئے ہیں، اور یہ کیونکہ اِس وجہ سے ہے کہ ہم ایمان رکھتے ہیں، خوشخبری کو پھیلاتے ہیں، اور اپنے ایمان کے ساتھ خُدا کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ ہمار ے ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم خُداکا شکر اَدا کرتے ہیں، ہمارے ایمان کے وسیلہ سے کہ ہم اُس کی خدمت کرتے ہیں، اور ہمارے ایمان کے وسیلہ سے یعنی ہم اُس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ ہے اب ہم کون بن چکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، ہم وہ بن چکے ہیں جو اپنے ایمان کے ساتھ خُداکو خوش کرتے ہیں۔ ہم وہ بن چکے ہیں جن کے ایمان کی بُنیاد مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے۔
وہ جن کے ایمان کی بُنیاد مناسب طور پر نہیں رکھی گئی ہے اُنکو یقیناً  اِسے دوبارہ رکھنا چاہیے۔ یہ ہے کیوں عبرانیوں ۶:۱۔۲ کہتا ہے، ” پس آؤ مسِیح کی تعلِیم کی اِبتدائی باتیں چھوڑ کر کمال کی طرف قدم بڑھائیں اور مُردہ کاموں سے تَوبہ کرنے اور خُدا پر اِیمان لانے کی۔اور بپتِسموں اور ہاتھ رکھنے اور مُردوں کے جی اُٹھنے اور ابدی عدالت کی تعلِیم کی بُنیاد دوبارہ نہ ڈالیں۔ 
یہ حوالہ ہمیں کیا بتاتاہے؟ یہ ہمیں جاننے اور صاف طور پر تصدیق کرنے کے لئے، اور اَیسے سوالات کی مضبوطی سے بُنیاد ڈالنے کو کہتا ہے مثلاً: ”یِسُوعؔ  نے کیوں بپتسمہ لیا؟“؛ ” کیا یہ بپتسمہ پُرانے عہدنامہ کے ہاتھوں کے رکھے جانے کا مشابہ ہے؟“؛ ” کیا ہم دوبارہ زندہ ہوں گے؟“؛ اور، ”اَبدی عدالت کیا ہے؟“ یہ ہمیں مکمل ایمان اور اس کی بُنیاد کو مضبوطی کے ساتھ بالکل شروع سے رکھنے کے لئے کہتا ہے، تاکہ ہم نہ لڑکھڑائیں نہ ہی دوبارہ اِن چیزوں سے ہماری بُنیاد ڈالنے کے لئے مجبور کیے جائیں۔ ایمان جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان پر اعتقاد رکھتا ہے مکمل ایمان ہے جو ایمان رکھتا ہے کہ ہمارا خُداوند کامل طور پر ہماری نجات کو مکمل کر چکا ہے۔ ہمیں یقیناً  ایمان کی اِس بُنیا د پر مضبوطی سے کھڑے ہونا چاہیے، اور ہمیں یقیناً  وہاں سے چلنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً  ایمان کی دوڑ دوڑنی چاہیے۔
بعض لوگ عبرانیوں کے اوپر والے حوالے کی یوں کہتے ہوئے تشریح کرتے ہیں کہ ہم دوبار ہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ پر لادے گئے تھے، اور یہ حوالہ ہمیں بتا رہا ہے کہ ہمیں دوبارہ ایمان کی بُنیاد کو تعمیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کیا خُدا ہمیں یہ کہےگا کہ اگریہ دُرست طورپر پہلی جگہ پر تعمیر کی جاچکی تھی تو اپنے  ایمان کی بُنیاد کو دوبارہ تعمیر نہ کریں؟ یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ جو ایمان کی دُرست بُنیاد نہیں رکھتے ہیں اُن کو یہ بُنیا د رکھنی چاہیے، اور وہ جو ایمان کی بُنیاد دُرست طور پر رکھتے ہیں اُنہیں اِسے مزید مضبوط اور ٹھوس بناناچاہیے اور آگے بڑھنا چاہیے۔
ہمیں بچانے کے لئے، خُدا نے مُوسیٰ  کو خیمۂاِجتماع   تعمیر کرنے اور اُس کے لوگوں سے نذریں قبول کرنے کا حُکم دیا۔ اسرائیل کے لوگوں کو، اُس نے اُنھیں اُس کے لئے سونا، چاندی، اور پیتل؛ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ، بارِیک بٹاہُوا کتان ، اوربکریوں کی پشم؛ مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہوئی کھالیں، تخس کی کھالیں، اور کیکر کی لکڑی لانے کا حُکم دیا۔ بالکل جس طرح اِن اشیاء سے بُنیاد رکھی گئی، ہمار ا خُداوند بے شک ہمیں آپ کو اور مجھے دُنیا کے گناہوں سے آزاد کرنے کے وسیلہ سے نجات کا تحفہ دے چکا ہے۔ اِس طریقہ سے، خُدا حقیقت میں اسرائیلیوں کو اُس کے لئے یہ نذریں لانے، خیمۂاِجتماع   تعمیر کرنے، قربانی کا نظام مقرر کرنے کے لئے کہہ چکا تھا، اور اسرائیلیوں کے گناہوں کومعاف کِیا جو اُسے اِس قربانی کی شرائط کے مطابق اپنے قربانی کے جانور پیش کرتے تھے۔
 
 
ہمارا ایمان آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان پراعتقاد رکھنے کے وسیلہ سے کامل بنایاگیا ہے جو ہمیں یِسُوعؔ  مسیح کے وسیلہ سے ہماری نجات کی کامل  تکمیل کے بارے میں پیشتر بتاتاہے
 
اگر ہم، یِسُوعؔ  مسیح کے وسیلہ سے پورے کیے گئے کامل سچ پر ایمان رکھنے کے قابل نہیں ہیں، ایک ہی بارہمارے ایمان کی بُنیاد مضبوطی سے نہیں ڈالتے ہیں،تو ہمارا ایمان مسلسل ہل جائے گا۔ حقیقت کے علم، احساس اور ایمان کے بغیر کہ ہمارا خُداوند ہمیں مکمل طور پر بچا چکا ہے، ہم سب ضرور ہماری ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے ہماری نجات تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔ اَیسا ایمان
مکمل نہیں ہے، بلکہ یہ غلط ہے۔
آئیں ہم عبرانیوں ۱۰:۲۶۔۳۱کی طرف مُڑیں: ” کیونکہ حق کی پہچان حاصِل کرنے کے بعد اگر ہم جان بُوجھ کر گُناہ کریں تو گُناہوں کی کوئی اَور قُربانی باقی نہیں رہی۔ہاں عدالت کا ایک ہَولناک اِنتِظار اور غضب ناک آتِش باقی ہے جو مُخالِفوں کو کھا لے گی۔جب مُوسیٰ کی شرِیعت کا نہ ماننے والا دو یا تِین شخصوں کی گواہی سے بغَیر رَحم کِئے مارا جاتا ہے۔تو خیال کرو کہ وہ شخص کِس قدر زِیادہ سزا کے لائِق ٹھہرے گا جِس نے خُدا کے بیٹے کو پامال کِیا اور عہد کے خُون کو جِس سے وہ پاک ہُؤا تھا ناپاک جانا اور فضل کے رُوح کو بے عِزّت کِیا۔کیونکہ اُسے ہم جانتے ہیں جِس نے فرمایا کہ اِنتِقام لینا میرا کام ہے۔ بدلہ مَیں ہی دُوں گا اور پِھر یہ کہ خُداوند اپنی اُمّت کی عدالت کرے گا۔زِندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہَولناک بات ہے۔
 یہ حوالہ ہمیں بتاتاہے کہ اگر ہم سچائی کے علم کوحاصل کرنے کے بعد جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں، گناہ کے لئے کوئی مزید قربانی موجود نہیں، بلکہ صِرف خوفناک عدالت ہے۔ یہاں، وہ جو سچائی کا علم حاصل کرنے کے بعد جان بوجھ کر گناہ کرتے ہیں اُن کو بیان کرتا ہے جو پانی اور روح کی خوشخبری پرایمان نہیں رکھتے ہیں حتیٰ کہ جس طرح وہ اِسے جانتے ہیں۔ ہمیں یقیناً  سچائی پر ایمان رکھناچاہیے کہ خُدا ہمیں اپنے آسمانی،ا رغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ساتھ بچا چکا ہے، یعنی وہ ہمیں سونے، چاندی، اور پیتل کے ساتھ بچا چکا ہے، اور کہ اُس نے خیمۂاِجتماع   کی چھت آسمانی، ارغوانی، سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان، بکریوں کی پشم، مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہوئی کھالوں، اور تخس کی کھالوں کے سرپوشوں کے ساتھ بنائی تھی۔ ہم سب کو یقیناً  یہ چیزیں واضح طور پرجاننی چاہیے اور ہمارے ایمان کی مضبوطی سے بُنیاد رکھنی چاہیے۔
ہمارے خُداوند نے ہم سے وعدہ کِیا کہ وہ ہمیں مکمل طور پر بچائے گا، اور جب وقت آیا، اُس نے اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا، صلیب پر مر گیا، پھر مُردوں میں جی اُٹھا، اور یوں واقعی ہمیں مکمل طور پر بچا چکا ہے۔ اِس لئے ہم اِس یِسُوعؔ مسیح پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے کامل طور پربچائے جا چکے ہیں جس نے ہماری نجات کی مکمل طور پربُنیاد رکھی۔
لیکن وہ جو اِس سچائی کو جانتے ہیں اور اِس پرایمان رکھنے سے پھر بھی  انکار کرتے  ہیں  سب  یقیناً  
خُداکی غضبناک عدالت کا سامنا کریں گے جب اُن کی آخری عدالت کا دن آئے گا۔ اُن کے بد ن نہیں مر یں گے بلکہ اَبد تک اَذیت اُٹھائیں گے۔ کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے کہ اُن کے لئے صِرف آتشناک غضب موجود ہو گا، اور اُن کی جہنم کی اَذیت اتنی بڑی ہوگی کہ وہ انہیں آگ سے پکنے کے طور پر بیان کرتی ہے (مرقس ۹:۴۹)۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ صِرف عدالت کی ایک یقینی خوفناک اُمید، اور آگ کی بھٹی جو دُشمنوں کو نِگل جائے گی موجود ہوگی۔
جب محض شریعت کو قائم رکھنے میں ناکام ہونا اِس خوفناک عدالت کی طرف گامزن کرتا ہے، اُن کے لئے کتنی بڑی عدالت موجودہوگی جو خُدا کے بیٹے کی معرفت دی گئی اپنی نجات پر ایمان نہیں رکھتے ہیں؟ یہ ہے کیوں ہم سب کو یقیناً  یِسُوعؔ  مسیح پر ہمارے نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھنا چاہیے، خُداوند پر جو ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا، جس نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، جو دُنیا کے اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور اپنی مصلوبیت کے ساتھ گناہوں کی تمام سزا اُٹھا لی، جو پھر مُردوں میں جی اُٹھا، اور جو اَب زندہ ہے۔
 
 
اِس لئے ہمارے ایمان کی بُنیاد یقیناً  مضبوطی سے رکھی جانی چاہیے
 
خُدانے مُوسیٰ   کو خیمۂاِجتماع تعمیر کرنے کے لئے کیوں کہا؟ جب ہم خیمۂاِجتماع   کے لئے استعمال
کیے گئے تمام سامان کی ہر ایک چیزپر غور کرتے ہیں، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ سب سچائی کو ظاہر کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا،یوحناؔ اصطباغی سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، دُنیا کے اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور اِس پر مر گیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، آسمان پر چڑھ گیا، اور خُدا باپ کے تخت کے دہنے ہاتھ پر بیٹھا ہے، اور اب ہمارا اَبدی خُدا بن چکا ہے۔ اِس کے دروازہ سے لے کر اِس کے ستون تک اور اُن کے پیتل کے خانوں تک، خیمۂاِجتماع   کی تمام اشیاء ہمیں خوشخبری کا سچ دکھاتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، سارا پُرانا عہدنامہ ہمیں یِسُوعؔ  مسیح کے بپتسمہ، اُس کی قربانی، اُس کی شناخت، اور اُس کے نجات کے کاموں کے بارے میں بتا رہا ہے۔
پُرانے عہدنامہ سے لے کر نئے عہدنامہ تک، کیونکہ یِسُوعؔ  مسیح ہم سے پانی اور روح کی خوشخبری کے بارے میں بولتا ہے یعنی، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کی خوشخبری وہ جو اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں ہمیشہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے سچ کے بار ے میں بولتے ہیں جب کبھی اُنھیں کوئی موقع ملتا ہے۔ کیونکہ اُن کی منادی بہت کثرت سےکی جاتی اور سُنی جاتی ہے،بعض اوقات ہم حتیٰ کہ بھول سکتے ہیں کہ یہ سچائی کتنی قیمتی ہے۔ لیکن محض یہ سچ کتنا اہم ہے؟ گویا اگر ہم سلیمانؔ بادشاہ کی حکومت میں رہ رہے ہوتے جب قیمتی سونا اور چاندی اِتنی کثرت سے ہوگئے کہ وہ پتھروں کی مانند دیکھے جاتے تھے، کیونکہ ہم سچائی کا یہ کلام خُد اکی کلیسیا میں ہر روز سُنتے ہیں، ہم بعض اوقات اِس نجات کو معمولی سمجھ  سکتے ہیں۔ لیکن آپ کو یاد رکھنا ہوگا: یہ سچائی خُدا کی کلیسیا سے باہر کہیں بھی نہیں سُنی جا سکتی ہے، اور اِس نجات کے بغیر کوئی نجات یافتہ نہیں ہو سکتا ہے، نہ ہی ایمان کی بُنیاد مضبوطی سے ڈال سکتا ہے۔
ایمان جس کے ساتھ آپ اور مَیں نجات یافتہ ہو چکے ہیں حقیقت پر ایمان ہے کہ ہمارا خُداوند ہمیں مکمل طور پربچا چکا ہے اور چار دھاگوں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ساتھ مضبوطی سے ہمارے ایمان کی بُنیاد ڈال چکا ہے۔ آئیں مجھے ایک بار پھر دُہرانے کی اجازت دیں یعنی ہم سب کو یقیناً  ہمارے دلوں میں اس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ خُدا نے وعدہ کِیا، اور بالکل جس طرح اُس نے وعدہ کِیا، وہ اِس زمین پر عورت کی نسل کے طور پرآیا (پیدائش ۳:۱۵)، اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمار ے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر ہمارے گناہوں کی تمام سزا اُٹھا لی، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں کامل طور پر بچا چکا ہے۔ کیونکہ یہ ایک اَیسا سادہ سچ ہے جوبیان کرنا اور سمجھنا انتہائی آسان ہے، ہم ہر روز تمام دُنیا میں اِس خوشخبری کی منادی کر سکتے ہیں۔ بے شک، اب تک بہت سارے قابلِ ترس لوگ موجود ہیں جو اِس سچائی کو نہیں جانتے ہیں۔ تاہم، اُن سے حتیٰ کہ زیادہ قابلِ ترس جواِس سچائی کو نہیں جانتے ہیں وہ ہیں جو خُد اکی کلیسیا میں موجود رہتےہوئےبھی ایمان نہیں رکھتے ہیں۔
حتیٰ کہ گو آپ حقیقی طور پراپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں، آپ کے خیالات اب تک بُرے ہو سکتے ہیں، لیکن کم ازکم آپ کے دل انتہائی فروتن بن چکے ہیں۔ لیکن رَیاکار جو اَیسے نہیں ہیں، گو وہ اپنے آپ پر بیرونی طرف سے فروتن کے طور پررنگ کرنے کی کو شش کر سکتے ہیں، اپنی باطنی انسانیت میں اتنے بُرے ہیں کہ وہ ہر روز خُد اکو اور اَن گنت لوگوں کو دھوکہ دینا جاری رکھتے ہیں۔ آپ کو اور مجھے یقیناً  مضبوطی سے ایمان کی بُنیاد رکھنی چاہیے۔ اور اِس نجات پر جو ہمارا خُداوند ہمارے لئے اتنی مضبوطی سے قائم کرچکا ہے، ہمیں یقیناً  خُد اکے سامنے اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کھڑے ہونا چاہیے۔
 
 
ایمان جو خیمۂاِجتماع   کی اشیاء کی مانند مضبوطی سے کھڑارہتاہے
 
خُدا نے ہمیں کہا ہے کہ اَیسی نذریں لائیں اور اُس کا خیمۂاِجتماع   تعمیر کریں۔آپ کو اور مجھے سب کو یقیناً  ایمان کے لوگ بننا چاہیے جو ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  مسیح اِس زمین پر آیا اور اِس طرح ہمیں روحانی طورپر بچا چکا ہے۔ ہمیں اِس قِسم کا ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا کے سامنے مضبوطی سے یقیناً  کھڑے ہونا چاہیے جو خیمۂاِجتماع   کے لئے استعمال کیے گئے تعمیر ی سامان کی مانند ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟ کیا آپ حقیقتاً اِس قِسم کا ایمان رکھتے ہیں؟ خُد اکی کلیسیا کے وسیلہ سے، پانی اور روح کی خوشخبری کی اب تک منادی کی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ سچے ایمان کی اَصل بُنیاد ہے، مَیں اِس پر کافی طور پر زور نہیں دے سکتا ہُوں۔
اِس دُنیا کی بہت ساری کلیسیائیں اور فرقہ جات سچائی سے ناواقف ہیں کہ یِسُوعؔ  نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر تمام گناہوں کوقبول کِیا، اور اِس کی بجا ئے صِرف صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ اِن حالات میں بھی، ہمارا خُداوندہمیں اب تک سچائی تلاش کرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ وجہ کیوں یِسُوعؔ  صلیب پر کیِلوں سے جڑا گیااور چھیدا گیا یہ تھی کیونکہ وہ دریائے یردنؔ پریوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لے چکا تھا۔اِس کی وجہ  یہ تھی کیونکہ وہ اُس کے بپتسمہ کے ساتھ اُس پر لادے گئے دُنیا کے تمام گناہوں کو قبول کر چکا تھا یعنی وہ مصلوب ہوا اور صلیب پر چھیدا گیا۔
اِس طرح، اُن کا ایمان جوتنہا صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے محض گناہ کی معافی حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ایک جھوٹا ایمان ہے جو، کوئی معنی نہیں رکھتا وہ کتنےہی پُرخلوص کیوں نہ ہوں سب آخرکار ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتےہیں۔ اِس سے قطع نظر کہ  وہ یِسُوعؔ  پر ایمان رکھنے کے لئے ایک اونچی آواز میں ہجوموں کے سامنے اَن تھک طور پر کتنی منادی کرتے ہیں،اُن کا ایمان جو تنہا صلیبی خون پر یقین رکھتا ہے، صِرف توبہ کی دُعائیں پیش کرتاہے، اور حتیٰ کہ اُن کے ذاتی گناہ کا مسئلہ حل نہیں کر سکتا ہے، ایک ناقص بُنیاد پر تعمیر کِیا گیا ہے جو سادگی سے گِر جائے گی جب بارش پڑتی، ہَوائیں چلتی اور سیلاب آتے ہیں۔
مَیں بذاتِ خود تقریباً دس سالوں سے کسی تفسیر میں یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کے بارے میں نہیں سُن چکا تھا جب سے مَیں نے یِسُوعؔ  پر ایمان رکھنا شروع کِیا۔ تاہم، یِسُوعؔ  مجھے اپنے سچائی کے کلام کے ساتھ مِلا، اور مَیں پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا ہو سکا۔ اب، مَیں جانتاہوں کہ تمام دُنیا میں بہت سارے لوگ موجود ہیں جو سچائی کو تلاش کر رہے ہیں لیکن اب تک اِس تک نہیں پہنچے ہیں۔ مَیں اُن سب سے بولنا چاہتا ہوں، تاکہ وہ پانی اور روح کی سچائی کو سُن سکیں، اور اِس طرح وہ اپنے دلوں میں اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر سکیں۔
آپ کے نئے سِرے سے پیدا ہونے سے پہلے، آپ نے، بھی، اپنی مذہبی زندگیاں گزار ی ہوں گی۔ اُس وقت، آپ شاید آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے بارے میں نہیں سُن چکے تھے۔ یہی نہیں، آپ شاید پانی اور روح کی خوشخبری کے بارے میں نہیں سُن چکے تھے ،اِس سے کہیں کم کہ  ہمارے گناہ یِسُوعؔ  پر لادے گئے تھے جب اُس نے بپتسمہ لیا۔
مسیحیوں کے لئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کی سچائی کو جاننا اور  اِس پر ایمان رکھنا جس طرح یہ ہے انتہائی ضروری ہے۔ صِرف جب ایمان کی بُنیاد آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے ساتھ رکھی جاتی ہے ہم سب مضبوطی سے اور جامعیت سے ہمارے ایمان کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ اِس طرح ایمان نہیں رکھ چکے ہیں، کبھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے آپ سب کو جو کرنا ہے حتیٰ کہ ابھی ایمان رکھنا ہے۔ صِرف جب آپ اِس طرح ایمان رکھتے ہیں آپ مکمل طور پر نجات یافتہ ہو سکتے ہیں اپنے ایمان کی بُنیاد مضبوطی سے ڈال سکتے ہیں، اور اِس بُنیاد پر اپنے ایمان کو قائم کر سکتے ہیں۔
 
 
وہ جو خُدا کی کلیسیا میں ہیں اُنہیں یقیناً  اپنے ایمان کی بُنیاد بھی مضبوطی سے رکھنی چاہیے
 
متی ۲۴:۴۰فرماتا ہے، ” اُس وقت دو آدمی کھیت میں ہوں گے ایک لے لِیا جائے گا اور دُوسرا چھوڑ دِیا جائے گا۔“ جب ہم سب اُسی سچائی پر ایمان رکھنے کا اِقرار کر رہے ہیں اور اُسی خوشخبری کی مل کر خُدا کی کلیسیا میں خدمت کر رہے ہیں، اگر ہم  میں  سے بعض  بعد  میں پیچھے  رہ
جائیں تو اِس سے زیادہ افسوسناک کیا ہو سکتا ہے؟
کیونکہ خُد اکا کلام دانشور اور شائستہ ہے،اس لئے ایمان کسی پر دباؤ کے وسیلہ سے مجبور نہیں کِیا جا سکتا ہے۔ اِس طرح جب آپ کو سُنایا گیا خُد اکا کلام شائستگی سے سُنتے ہیں، آپ کو یقیناً  ایک صاف ذہن کے ساتھ اِس پر، حقیقت پر اپنے ذہن کو مرکوز کرتے ہوئے کہ آپ حقیقت میں خُدا کا کلام سُن رہے ہیں ایمان رکھنا چاہیے۔ جب اسرائیل کے لوگوں نے سُنا جومُوسیٰ  نے اُن سے کہا،تو اُنھوں نے اِسے اُس کے ذاتی الفاظ کے طور پر خیال نہ کِیا بلکہ خُداکے اَصل کلام کے طور پرسمجھا۔ اِسی طرح، جب آپ کو بتایا جاتا ہے  خُد اکا کلام کیا کہتاہے، آپ کو یہ دیکھنے کے لئے پڑتال کرنے کی ضرورت ہے آیا آپ واقعی خُداکے اِس کلام کے مطابق ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔ آپ کو کلام پرایک ٹھنڈے دماغ کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے، اور تب ایمان رکھیں یہ حقیقتاً آپ سے کیا کہتا ہے۔
کتابِ مقدس نے بیریہؔ کےایمانداروں کی اُن کے خُداکے کلام کے بارے میں منصفانہ رویےکی تعریف کی۔بیریہؔ کے ایماندار ” تھِسّلُنِیکے کے یہُودِیوں سے نیک ذات تھے کیونکہ اُنہوں نے بڑے شَوق سے کلام کو قبُول کِیا اور روز بروز کِتابِ مُقدّس میں تحقِیق کرتے تھے کہ آیا یہ باتیں اِسی طرح ہیں “ (اعمال ۱۷: ۱۱)۔مختصر، اُنھوں نے عقلمندی سے اُس کے کلام پرایمان رکھا جس طرح اُنہیں سکھایا گیا تھا۔
سچا ایمان عقلمند اور نیک ذات  دِل سے حاصل ہوتا ہے جو کلام کی تحقیق کرتا ہے۔ کیا آپ کی مرضی کے خلاف ایمان رکھنے کے لئے مجبور کرنا کوئی شعور رکھے گا؟ حتیٰ کہ اگر کوئی کسی دوسرے کوایمان رکھنے کے لئے مجبور کرتا ہےتو، یہ حقیقت میں مکمل طور پر بیکار ہوگا، کیونکہ اِس طرح کوئی جو مجبور کِیا جارہا ہے ضروری طور پر ایمان نہیں رکھے گا اُسے کیا ایمان رکھنے کے لئے کہا گیا ہے۔ خُدا کے سامنے ہر چیز کاانحصار اِس بات پر ہے کہ کوئی اپنی آزاد مرضی سے کیا ایمان رکھتا ہے۔ اگر کوئی ایمان نہیں رکھتا ہے جب اُسے وُہی کہانی باربار بتائی جا چکی ہے، تب کوئی دوسری راہ نہیں ہے بلکہ اِس شخص کے لئے جہنم میں خاتمہ ہے۔
اِس لئے، اِس ساری دُنیا میں ہر گنہگار ہمارے ترس کا مستحق ہے، لیکن اگر ہم میں سے بعض اُس کے کلام پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جیسےیہ ہے حتیٰ کہ جس طرح ہم سب خُد اکی کلیسیا کی ایک ہی چھت کے نیچے ہیں، تب حتیٰ کہ وہ زیادہ قابلِ رحم ہیں۔ ہم میں سے اُن سے زیادہ کوئی کیسے قابلِ رحم ہو سکتاہے جو جہنم میں ختم ہو جاتے ہیں، یہاں تک کہ  وہ جسمانی طور پرہمارے ساتھ خُداکی اُسی کلیسیا میں رہ چکے ہیں؟
یِسُوعؔ  بارہ شاگرد رکھتا تھا، اور اُن میں سے صِرف یہوداہؔ ایمان نہ رکھتا تھا کہ یِسُوعؔ  مسیحا اور نجات دہندہ تھا۔ چنانچہ یہوداہؔ نے یِسُوعؔ  کو ہمیشہ ایک ربی کے طورپر بلایا۔ پطرسؔ، بھی، یِسُوعؔ  کو بعض اوقات ربی کے طور پر بلایا کرتا تھا، لیکن وہ آخر کار کسی طرح ایمان رکھنے کے لئے آیا اور اِقرار کیا، ”اَے خُداوند، تُو مسیحا اور خُداکا بیٹا ہے۔ تُو خُدا کا بیٹا، نجات دہندہ ہے جو میرے گناہوں کو مٹانے کے لئے آیا۔ تُو نجات کا خُدا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، پطرسؔ کا ایمان یہوداہؔ سے مختلف تھا۔ یہوداہؔ کے یِسُوعؔ  سے برگشتہ ہونے اور اُسے بیچنے کے بعد، اُس نے پھانسی لے لی اور خودکومارڈالا۔ اگرچہ یہوداہؔ دوسرے گیارہ شاگردوں کے ساتھ رہ چکاتھا، آخر میں، وہ پہچاننے میں ناکام ہو گیا یِسُوعؔ مسیح حقیقت میں کون تھا، اور اِس طرح جہنم میں ختم ہو گیا۔ اِس کے برعکس، پطرسؔ یِسُوعؔ  مسیح کو پہچاننے اور اُس پر اپنے نجات دہند ہ کے طور پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے بچایا گیا، حقیقت کے باوجود کہ وہ بہت ساری خامیاں رکھنے والا بے صبر آدمی تھا۔
اِس طرح، نجات انحصار کرتی ہے آیا کوئی سچائی کو جانتا اور اپنے دل میں اِس پر ایمان رکھتا ہے یا نہیں۔ کوئی سچائی پر ایمان نہیں رکھ سکتا ہے جب تک وہ اِسے جانتا نہیں ہے۔ تاہم، اگرلوگ سچائی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں حتیٰ کہ وہ اِسے جانتےبھی ہیں، وہ حتیٰ کہ زیادہ بڑی سزا کا سامنا کریں گے (لوقا ۱۲:۴۸)۔ یہ ہے کیوں خُداہمیں بتا رہا ہے کہ ہمارے ایمان کی بُنیا د یقیناً  مضبوط اور سیدھی ہونی چاہیے۔
 
 
ہمارا ایمان کیسا ہے؟
 
کیا اب ہمارے ایمان کی بُنیاد مضبوط ہو چکی ہے؟ کیا یہ مضبوط ہے؟ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند نے آپ کو یقینی طور پر بچایا ہے؟ پانی اور روح کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند بنا شک ہمیں یقینی طور پربچا چکا ہے۔ یہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے جس کی صِرف ہمارا فرقہ تعلیم دے رہا ہے، بلکہ یہ وہی ہےجو خُدا نے پُرانے عہدنامہ میں  وعدہ کِیا تھااور جوکہ حقیقت میں یِسُوعؔ  نئے عہدنامہ میں  پورا کر چکا ہے یہ ہے، یعنی مسیح کیسے یقینی طورپر ہمیں بچا چکا ہے۔
یِسُوعؔ  بادشاہوں کا بادشاہ (ارغوانی دھاگہ) ہے جو ایک انسان کے بدن میں اِس زمین  پر آیا، اپنے
 بپتسمہ(آسمانی دھاگہ) کے ساتھ اپنے آپ پر دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور مصلوب ہُوا (سُرخ دھاگہ)، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں بچا چکا ہے۔ اُس نے وعدہ کِیا کہ وہ اَیسا پُرانے عہد نامہ میں کرے گا، اور وہ بے شک نئے عہد نامہ میں یہ وعدہ پورا کرنے کے وسیلہ سے ہمیں بچا چکا ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟اِس کے علاوہ کوئی بھی ایمان کی مضبوط  بُنیاد نہیں ہے۔
تمام دُنیا میں اربوں مسیحی ہیں، اور اب تک اُن میں زیادہ تر کے لئے، اُن کے ایمان کی بُنیاد کمزور ہے۔ ہم بہت ساری مسیحی کتابوں کو جو کہ اب دستیاب ہیں، کھوجنے کے وسیلہ سے  یہ جان سکتے ہیں کہ لوگ دُرست ایمان رکھتے ہیں یا نہیں ۔ اِن کتابوں کے مصنفین مسیحی طبقات کے راہنما ہونے کا رُجحا ن رکھتے ہیں، اور اُن کی کتابیں پڑھنے کے وسیلہ سے، ہم ڈھونڈ سکتے ہیں آیا وہ سچائی کا دُرست علم رکھتے ہیں یا نہیں۔اگر حتیٰ کہ اِن راہنماؤں میں سے محض ایک بھی ناواقف ہے یا سچائی پر ایمان نہیں رکھتا ہے حتیٰ کہ وہ اِسے جانتا ہے، تب اَیسے راہنما کی پیروی کرنے والے سب جہنم جانے کے لائق ہوں گے۔ اُفسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بمشکل کوئی ساری سچائی کو جانتا ہے، اِتنے کم کہ ۱۰لاکھ میں سے ایک۔ یہی وجہ ہے کہ ہم میں سے چند جو سچائی کو جانتے ہیں اُنہیں وفاداری سے تمام دُنیا میں خوشخبری کو پھیلانا ہے۔
خُد اہمارے وسیلہ سے کام کر رہا ہے۔ آپ اور مَیں بچ نہیں سکتے ہیں بلکہ خوشخبری کی منادی کر سکتے ہیں،کیونکہ پانی اور روح کی اِس خوشخبری کی تمام دُنیا میں منادی نہ کرنا خُدا کے سامنے ایک عظیم گناہ سرزد کرنے کی مانند ہے۔ حقیقت میں، اگر ہم واقعی پیروی نہیں کرتے اور ایمان میں اِس کام کی خدمت نہیں کرتے ہیں، تب ہم بے شک خُد اکے سامنے ایک عظیم گناہ سرز د کر رہے ہوں گے۔ یہ لوگوں کو جہنم میں بھیجنے کا گناہ ہے حتیٰ کہ ہم جانتے ہیں ہم اِسے روک سکتے ہیں؛ یہ محض ایک ناقابلِ معافی گناہ ہے کہ لوگ اپنی جہالت میں جہنم میں ختم ہوجائیں گے کیونکہ ہم میں سے وہ جو سچائی کو جانتے ہیں اُنہوں نے اپنے مُنہ بند  رکھے ہوئے  ہیں۔
اگر ہم ہمارے حوالے کِیا گیا کام پورا نہیں کرتے ہیں، یہ لوگ ہمارے سامنے احتجاج کریں گے، کیونکہ یہ ہمارالازمی کام ہے۔ کتابِ مقدس، ہمیں یہ کہتے ہوئے آگاہ کرتی ہے، ” پر اگر نِگہبان تلوار کو آتے دیکھے اور نرسِنگا نہ پُھونکے اور لوگ ہوشیار نہ کِئے جائیں اور تلوار آئے اور اُن کے درمِیان سے کِسی کو لے جائے تو وہ تو اپنی بدکرداری میں ہلاک ہُؤا لیکن مَیں نِگہبان سے اُس کے خُون کی بازپُرس کرُوں گا“ (حزقی ایل ۳۳: ۶)۔ ہم جو پہلے جان چکے اور پہلے ایمان رکھ چکے ہیں
کویقیناً  نگہبان کا یہ کام کرنا چاہیے۔
مَیں خُداوند کا ہمیں یہ خوشخبری دینے کے لئے اور ہمیں اِس سچ کو جاننے کے قابل کرنے کے لئے شکر اَدا کرتاہوں۔ مَیں حتیٰ کہ اُس کا زیادہ شکر اَدا کرتا ہوں جب مَیں احساس کرتا ہوں کہ ہم اِس دُنیا میں چند چُنے ہوئے ہیں جو اِس سچائی کو جانتے ہیں اور اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ ہم تما م دُنیا میں بہت سارے پاسبانوں اور دُنیاد ار ایمانداروں تک پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کر چکے ہیں، لیکن ہر روز ہم حقیقت کی تصدیق کرچکے ہیں کہ کوئی بھی موجود نہ تھا جو حقیقت میں جانتا تھا اور اِس خوشخبری پر پہلے سے ایمان رکھتا تھا۔ ہمارے وسیلہ سے، پانی اور روح کی سچائی کی خوشخبری کے مناد تمام دُنیا میں اُبھر رہے ہیں۔ ہماری طرح، وہ، بھی، ایمان کی ٹھوس بُنیاد رکھتے ہیں، اور اِس ٹھو س ایمان کو پھیلا رہے ہیں۔
اگر اَیسے بہت سارے لوگ ہیں جو خوشخبری کو پھیلا رہے ہیں،تو ہم شاید تھوڑا سکون کا سانس لے سکتے ہیں اور اپنی خوشخبری کی منادی میں تھوڑا آرام کر سکتے ہیں، لیکن، اُفسوس کی بات ہےکہ، اِس دُنیا میں اب تک اتنے لو گ نہیں ہیں جو جانتے اور اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں۔ بہت سارے دُنیا کی تاریخ میں اِصلاح کاری کی کامیابیوں کا غلط اندازہ لگا چکے ہیں۔ جب ہم اِس کا تفصیل کے ساتھ معائنہ کرتے ہیں، ہم ڈھونڈسکتے ہیں کہ اِصلاح کار اِصلاح کاری کے دوران کتابِ مقدس کے ایمان کی بُنیاد کے پہلے بٹن کو ہی غلط رکھ چکے تھے، اور اِس کے بعد آنے والی ہر  چیز کوبھی غلط جگہ پر رکھا گیا تھا۔ اِن بعد کی غلطیوں کو دُرست کرنے سےقطع نظر، پہلا بٹن اب بھی غلط  ہے، یہ اب بھی ناقص ہے؛ اِس طرح، مسیحیت کی تاریخ کویقیناً  دوبارہ لکھا جاناچاہیے۔
مَیں اُمید کرتا اور دُعا مانگتاہوں کہ آپ سب خُدا کے سامنے اپنے ایمان کی ٹھوس بُنیاد پر کھڑے ہوں گے، اوریہ کہ ایمان کی اِس بُنیاد پر، آپ سچی خوشخبری کی خدمت کی خاطراپنی زندگیاں گزاریں گے۔ جب آپ خوشخبری کے لئے زندگی گزارتے ہیں، آپ کے دل فطری طور پر خوشی کے ساتھ بھر جائیں گے۔ جب کوئی خوشخبری کے لئے زندگی گزارتا ہے، اُس کا دل ایک روحانی انسان میں بدل جاتا ہے۔ اور جیساکہ روح القدس آپ کے دلوں کوبھرتا ہے اور اُن میں کام کرتا ہے، وہ سب خوشی کے ساتھ بکثر ت بہہ رہے ہوں گے۔
لیکن اگر آپ خوشخبری کے لئے زندگی نہیں گزارتے ہیں بلکہ صِرف اپنے بدن کی خواہشات کا پیچھا کرتے ہیں حتیٰ کہ آپ گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں اور پانی اور روح کی خوشخبری کو  جان  چکے  ہیں،
تب آپ بے معنی، خالی زندگیا ں گزارتے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔
مَیں خُدا کا ہمیں یہ قیمتی خوشخبری دینے کے لئے، اور ہمیں مُفت ہماری نجات دینے کے لئے شکر اَدا کرتا ہوں۔ یہ میری دُعا اور اُمید ہے کہ آپ سب ایک بار پھر اپنے ایمان کا معائنہ کریں گے، اور آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کے وسیلہ سے کامل نجات کا تحفہ حاصل کریں گے۔