خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-9] <خروج ۲۷:۱۔۸> سوختنی قربانی کی قربانگاہ میں ظاہر ہونے والاایمان

>خروج ۲۷:۱۔۸<
’’ اور تُو کِیکر کی لکڑی کی قُربان گاہ پانچ ہاتھ لمبی اور پانچ ہاتھ چَوڑی بنانا۔ وہ قُربان گاہ چَوکُھونٹی اور اُس کی اُونچائی تِین ہاتھ ہو۔ اور تُو اُس کے لِئے اُس کے چاروں کونوں پر سِینگ بنانا اور وہ سِینگ اور قُربان گاہ سب ایک ہی ٹُکڑے کے ہوں اور تُو اُن کو پِیتل سے منڈھنا۔اور تُو اُس کی راکھ اُٹھانے کے لِئے دیگیں اور بیلچے اور کٹورے اور سِیخیں اور انگیٹھیاں بنانا۔ اُس کے سب ظرُوف پِیتل کے بنانا۔اور اُس کے لِئے پِیتل کی جالی کی جھنجری بنانا اور اُس جالی کے چاروں کونوں پر پِیتل کے چار کڑے لگانا۔اور اُس جھنجری کو قُربان گاہ کی چاروں طرف کے کنارے کے نِیچے اِس طرح لگانا کہ وہ اُونچائی میں قُربان گاہ کی آدھی دُور تک پُہنچے۔اور تُو قُربان گاہ کے لِئے کِیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُن کو پِیتل سے منڈھنا۔اور تُو اُن چوبوں کو کڑوں میں پہنا دینا کہ جب کبھی قُربان گاہ اُٹھائی جائے وہ چوبیں اُس کی دونوں طرف رہیں۔تختوں سے وہ قُربان گاہ بنانا اور وہ کھوکھلی ہو۔ وہ اُسے اَیسی ہی بنائیں جَیسی تُجھے پہاڑ پر دِکھائی گئی ہے۔ ‘‘
 
 
 
مَیں سو ختنی  قر بانی  کی قربانگاہ  میں ظاہر  کئے  گئے ایمان  کے بارے میں  بات  چیت  کرنا پسند  کرونگا۔ جب اسرائیل  کے لوگ  خُدا کی شریعت  کی ۶۱۳  شقوں اور  احکامات  میں سے کسی  کو توڑتے تھے جو اُ نہیں  اپنی  روزمرہ  زندگی میں  قائم رکھنے  تھے، اور  جب  وہ اپنے  گناہوں  کو پہچا نتے  تھے  ، وہ  اُس  کی معرفت  مقرر  کئے گئے  قربانی  کے نظام  کے مطابق  اپنی  بے عیب  قربانیاں  خُدا  کو پیش  کرتے تھے ۔ جگہ  جہاں  وہ یہ قر بانیاں  پیش  کرتے تھے  سو ختنی  قر بانی  کی قربانگاہ ہے۔ دوسرے  لفظوں  میں،  اسرائیل  کے لوگوں  نے قربانی  کے بے عیب  جانور  کے سَر  پر  اپنے  ہاتھوں  کو رکھنے ، اِس  کی گردن کاٹنے  اور اِس  کا خون  لینے ، اِس  خون  کو  سو ختنی  قربانی  کی قربانگاہ  کے سینگوں  پر لگانے  اور باقی  زمین  پر اُنڈیلنے، اور  قربانگاہ  پر اِس  قربانی  کے گوشت  کو جلانے 
کے وسیلہ  سے  اپنے  گناہوں  کی معافی  حاصل کی۔
 
 
سوختنی  قربانی  کی قربانگاہ  کا رُوحانی  مطلب  کیا ہے؟
  
سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ ، پیمائش  میں دونوں  لمبائی  اور چوڑائی میں ۲۵.۲ میٹر(۵.۷فٹ) اور  اُونچائی میں۳۵.۱میٹر(۵.۴فٹ) تھی، اور  پیتل  منڈھی  ہوئی  کیکر  کی لکڑی  سے بنی  ہو ئی تھی ۔جب کبھی  اسرائیلی  سو ختنی  قربانی  کی اِس  قر بانگاہ  کو دیکھتے تھے ، وہ احساس  کر تے  کہ وہ ایسے  ہیں  جو اپنی  عدالت   میں قید  ہو چکے تھے اور اپنی  سزا سے بچنے کے قابل  نہیں تھے۔ اور  بالکل  جس طرح  قر بانی  کا  جانور موت کے حوالے کِیا جاتا تھا، وہ بھی  احساس کر تے تھے کہ اُنہیں بھی ، اپنے  گناہوں کی وجہ  سے مرنا تھا۔ لیکن وہ ایمان رکھنے  کے لئے  بھی آئے کہ مسیحا اِس  زمین پر  آئے گا  اور  سزا  اُٹھانے کے  وسیلہ  سے  اور اُن  کے گناہوں  کی وجہ سے  قر بانی  کے جانور کی طرح  موت  کے حوالے کئے جانے کےوسیلہ سے اُن  کے گناہوں  کو دھوئے گا۔
سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ یِسُوعؔ   مسیح  ہمارے نجات دہندہ  کا ایک  عکس  تھی۔ جس  طرح  بے عیب  جا نور  ہاتھوں  کے رکھے  جانے اور اِس کا خون  بہانے کے ساتھ  قر بان کئے   جاتے تھے، یِسُوعؔ  مسیح  خُدا کے بیٹے  کے طور پر ہمارے  پاس  آیا اور ہمارے  تمام   گناہوں کی  سزا  اُٹھالی ۔ بالکل جس طرح  پُرانے  عہد نامہ  کے قر بانی  کے جانوروں کو ہاتھوں  کے رکھے  جا نے  اور اُن  کا خون بہانے  کے وسیلہ  سے تمام گناہوں  کو قبول  کر نا پڑتاتھا ، اُس  نے دُنیا  کے تمام  گناہوں کے  لادے  جانے کو اپنے آپ  پر یوحنا  سے بپتسمہ  لینے  کے وسیلہ  سے قبول  کِیا، اور صلیب  پر اپنا  خون  بہانے  کے وسیلہ  سے اِن گناہوں کی سزا اُٹھالی۔
اِس  طرح ،سوختنی  قربانی  کی قر بانگاہ  ہمیں دکھاتی  ہے  کہ یِسُوعؔ   مسیح  نے اپنے  بپتسمہ  کے ساتھ  اپنےآپ  پر ہمارے  تمام  گناہوں  کو اُٹھالیا، صلیب پر مرگیا ، پھر  مُردوں  میں  سے جی اُٹھا، اور  یوں  ہمیں  بچا چکا ہے۔
 
 
اپنے گناہوں سے معاف  ہو نے  کے لئے ، اسرائیلیوں کو سوختنی   قربانی  کی قر بانگاہ پر اپنے  قر بانی کے جانور دینے  پڑتے تھے
 
جب  ہم احبار  کی کتاب  کے باب ۴  کو دیکھتے  ہیں، توہم دیکھتے ہیں کہ جب کبھی  مسح  کئے  ہو  ئے کا ہن ، اسر ائیل  کےتمام  اجتماع ، کسی حکمران ، یا  عام لوگوں  میں سے کسی  نے گناہ  کِیا ، اُنہوں  نے خُدا  کے سامنے  ایک قربانی  کا جانور  لانے ، اپنے  ہاتھ  اُس کے سَر پر رکھنے، اِسے ذبح  کر نے، اِس کا خون  نکالنے  اور اِسے سو ختنی  قر بانی کی قر بانگاہ  پر لے جانے اور  خُدا کے سامنے  پیش  کر نے کے وسیلہ سے اپنے گناہ کی معافی  حاصل  کی۔
حقیقت  کے ایک  معاملہ  کے طور پر، جس  طرح  یہ سوختنی  قر بانی  کی  قر بانگاہ تھی  جہاں  اسرائیلی  ہر روز  اپنے گناہ  کی قر بانیاں  پیش  کر تے تھے، ایساکوئی دن  نہیں گزرا جب یہ مصروف  نہ ہو ۔ اسرائیلی  جو اپنے  گناہوں  سے چھٹکارہ حاصل کر نا چاہتے  تھے اُنہوں نے  بے عیب جانور کو تیار  کِیا اور  اِسے سو ختنی  قر بانی  کی  قر بانگاہ  پر  اپنے قر بانی  کے جانور  کے طور پر  خُدا کو  پیش  کِیا۔ گنہگاروں  نے اپنے  تمام  گناہ  قربانی  کے جانور  پر اِس کے سَر  پر اپنے  ہاتھوں  کو رکھنے  کے وسیلہ  سے لادے ،اور  اِن  گناہوں  کی عدالت کے طور  پر، اِس  کا گلا  کا ٹ کراِس کا  خون نکالا۔ تب  کا ہن  قر بانی کے جانور کا یہ خون  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے سینگوں پر لگاتے  تھے ، اور  اِس  کاگوشت اور چر بی  قر با نگاہ  پر جلادیتے تھے۔ یہ  ہے کیسے  اسرائیل  کے لوگوں نے اپنے  گناہوں کی معافی حاصل کی۔
اِس سے قطع نظر کہ یہ گناہ کس نے کِیا تھا ، خواہ وہ  اسرائیل  کے لوگوں کاراہنما ہو، سردار  کا ہن ، عام  کا ہن، تمام  اجتماع  یا عام  لوگوں  میں سےکو ئی بھی ، اُ نہیں  اپنے گناہ  کی معافی  قر بانی  کا ایک جانور  لانے کے وسیلہ  سے ، جیساکہ  ایک  بیل ، بکری ، یا  مینڈھا  اور  اِسے قر بانی  کے جانور  کے طور  پر خُدا کے سامنے  پیش  کر نے  کے وسیلہ  سے حاصل  کر نی  پڑتی  تھی۔
گنہگاروں یا  اُن کے نمائندوں  کو قر بانی  کے سَر پر اپنے ہاتھ  رکھنے  پڑتے ، اِسے ذبح  کر نا پڑتا ، اِس  کا خون  سو ختنی  قربانی  کی قربانگاہ  کے سینگوں  پر لگانا  پڑتا ، باقی  خون  زمین  پر اُنڈیلنا  پڑتا  تھا، اور یوں  اپنے  قر بانی  کے جانور  کی چربی  جلاتے  جو اُ نہیں اُن کے  گناہوں سے معاف  کر تی  تھی ۔ اِس لئے، بہت  سارےلوگوں کوسو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  پر اپنے  قر بانی  کے  جانور  لانے  پڑتے تھے ، قر بانیوں  کے سَر  پر اپنے  ہاتھوں  کو رکھنا ، اُن کا خون  نکالنا  اور اِسے  کا ہنوں کو دینا  پڑتا تھا۔
جب  سو ختنی  قربانی  کی قربانگاہ  پر  قربانیاں  دی جاتی  تھیں،تواِن قر بانی  کے جانور  وں کو بے عیب  ہوناتھا ۔ اور  جب  گنہگار  خُدا کوقر بانیاں  دیتے تھے ،تواُنہیں  خُدا  کے سامنے  بے  عیب  جانوروں  کو لانے  کویقینی بنانا پڑتا تھا، اور صرف  اِن  بے عیب  جانوروں  کےسرَوں  پر  اُن  کے ہاتھ  رکھنے  کے وسیلہ  سے اُن  کے گناہ اُن پر لادے  جاتے  تھے ۔اِس  طرح ، کچھ  بھی نہیں  چھوڑا جاسکتا  تھا جب  قر بانی کا جانور  پیش  کِیا جاتاتھا۔
عام طور  پر ، گناہ کرنےوالے شخص  کو اپنے  قر بانی  کے جانور  کے سرَ پر  اپنےہاتھوں کو رکھنا پڑتاتھا، لیکن  جب اسرائیل  کے تمام  اجتماع  نے گناہ  کِیا ، اِس کے  نمائندہ  بزرگ  قر بانی  کے جانور  پر  اپنے ہاتھوں  کو رکھتے  تھے( احبار ۴: ۱۵)۔  یقیناً،  قر بانی  کے جانور  کو جس  کے سَر  پر ہاتھ  رکھے  جاتے تھے اِس  کی گردن  کا ٹنے  اور اِس  کا لہو  نکالنے  کے وسیلہ  سے ذبح  ہو نا   پڑتا تھا۔ اور آخر کار، اِسے  قر بانگاہ  پر جلنا  پڑتا  تھا۔
اِس لئے  جلتے ہو ئے گوشت ، چربی  اور لکڑی  کا دُھواں  ہمیشہ سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے اِردگِرد کی جگہ  میں  بھرا رہتا تھا، اور  اِس  کے سینگ  اور اِس کے نیچے  کی زمین  سب  قر بانی کے جانوروں کے خون  کے ساتھ  بھیگی  رہتی تھی۔ سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  گناہ  کی معافی کی  جگہ  تھی  جہاں  اسرائیل  کے لوگوں کےگناہوں  کو  صاف کر نے کےلئے خُدا کو قر بانی  کے جانور  پیش  کئے جاتے تھے۔
سو ختنی  قر بانی  کی  قر بانگاہ ، جہاں  دُھواں کبھی اُٹھنا  نہ رُکا ، پیمائش  میں دونوں   لمبائی  اور چوڑائی  میں۲۵.۲ میٹر(۵.۷فٹ) مربع  نما ، اوراُونچائی میں ۳۵.۱ میٹر(۵.۴ فٹ) تھی۔ پیتل  کی جالی  کی  ایک انگیٹھی  اِس  کے درمیان  میں رکھی  گئی تھی اور دُھواں  مسلسل قربانیوں  سے اُٹھتا تھا جو  اِس  انگیٹھی  پر لکڑی  کی آگ  سے جلائی  جاتیں تھیں  ۔اِس  طرح ، وہ جگہ جہاں  قر بانیاں  جلائی  جاتیں تھیں اور خُدا کو پیش  کی جاتیں  تھیں سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  تھی ۔
 
 
سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے سارے برتن پیتل  سے بنےہوئےتھے
 
سو ختنی  قربانی  کی قر بانگاہ  کےبرتن جو راکھ  کو ہٹانے اور  اُٹھانے کے لئے استعمال  کیےجاتےتھےوہ سب پیتل  کےبنےہوئےتھے۔ سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  بذاتِ خود پیتل  سے منڈھی ہوئی کیکر  کی لکڑی  سے بنائی  گئی تھی  اور اِسی  طرح  قر بانگاہ  اور  اِس  کےبرتن سب پیتل  کےبنےہوئے  تھے۔
سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کا یہ پیتل  ایک خاص  رُوحانی  مطلب  رکھتا ہے۔  پیتل   سے مُراد خُدا  کے سامنے  گناہ  کی عدالت  ہے ۔اِس طرح ، سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ   ایک ایسی جگہ ہے  جو ہمیں  واضح  طور پر  دکھاتی ہے کہ گنہگاروں کو اُن کے گناہوں  کے لئے  یقیناًپَرکھے  جاناہے۔ خُدا بلاَ ناکامی  لوگوں  کو اُن کے  گناہوں  کے لئے یقیناً سزا  وار  ٹھہرائے گا۔وہ جگہ جہاں  قر بانی  کے جانور  فدیہِ کے طور  پر گنہگاروں  کی خاطر  جلانے  کے ذریعے  پَرکھے  جاتے  تھے  یہ سوختنی  قر با  نی  کی  قر بانگاہ  تھی ، اور قر بانگاہ  بذاتِ خود  اور اِس  کا سارےبرتن  پیتل  سے بنےتھے؛ اِس  طرح ، یہ چیزیں  ہمیں بتاتی  ہیں  کہ ہر گناہ کی بھرپور  یقین کے ساتھ اِس  کی  عدالت  لازم  ہے ۔
قربانگاہ ہمیں دکھاتی  ہے کہ  اپنے  گناہوں  کی وجہ سے  ، لوگ  ملعون  ٹھہرائے جانے  اور موت  کے حوالے  کیے  جانے  کےپابند  ہیں، لیکن  سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  پر  اپنا  قربانی  کا   جانور لانے  اور  اِسے  خُدا  کو دینے  کے وسیلہ  سے، وہ  اپنے گناہوں  سے دُھل سکتے  ہیں، گناہ  کی معافی  حاصل  کر سکتے  ہیں، اور یوں  پھر زندہ  رہ سکتے ہیں۔  یہاں  وہ قربانیاں  جو سوختنی  قر بانیوں  کی قر بانگاہ  پر چڑھائی جاتی  تھیں  سب  ہمیں  بتاتی  ہیں  کہ یِسُوعؔ   مسیح  کا  بپتسمہ ، اور  اُس کا خون  بہانا  ایمانداروں کے گناہوں  کو معاف  کر چکا ہے۔ لہٰذایہ ایمان  جس  نے سو ختنی  قر بانی کی قربانگاہ پر قر بانی  کا جانور  پیش کِیا وہ نئے  عہد  نامہ  کے دور  میں یِسُوعؔ  مسیح  کے بپتسمہ اور خون  پر ایمان  کےطور  پر جاری رہتا ہے۔
جب ہم  یِسُوعؔ   مسیح  پر اپنے  نجات  دہندہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں، ہمیں  یقیناً ہمارا ایمان خُدا کو دینا  چاہیے  جو یِسُوعؔ   کے بپتسمہ اور اُس  کے خون  پر ہمارے  گناہ  کی معافی  کے طور  پر ایمان رکھتا  ہے۔ پُرانے  عہد نامہ  میں،  یہ ایمان  اُس  ایمان سے ملتا ہے جو  آسمانی، ار غوانی ،اور سُرخ دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان سے بنُے  گئے  خیمۂاِجتماع   کے صحن  کے دروازےمیں کُھلتا اور  داخل  ہو تا ہے۔
 
 
تمام قر بانیاں   جو سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  پر قربان  کی جاتی تھیں وہ یِسُوعؔ  مسیح  کو ظاہر  کر تی ہیں
 
یِسُوعؔ   مسیح  نے کیا کِیا  جب  وہ اِس  زمین پر آیا؟ ہم گنہگا ر تھے ؛ ہم خُدا  کے خلاف  گناہ   کر  چکے   تھے
اور  اُس  کی شریعت اور احکامات   کو توڑ چکے تھے۔ لیکن  ہمارے  اِن  تمام  گناہوں  کو  مٹانے کے لئے، یِسُوعؔ   مسیح   نے یوحنا  سے بپتسمہ  لیا  اور دُنیا  کے گناہوں  کو اپنے  آپ  پر اُٹھالیا، اور یوں  صلیب  پر اپنا  خون  بہایا ۔ بالکل  جس طرح  قر بانی  کا جانور  اِس  پر ہاتھوں  کے  رکھے  جا نے  کے ساتھ  لادے  گئے اسرائیلیوں  کے گناہوں  کو اُٹھاتا تھا، اور  یوں ذبح  کِیا جاتا  اور سو ختنی  قربانی  کی قر بانگاہ  پر جلایا  جاتا  تھا، کیونکہ  یِسُوعؔ  مسیح  اِس زمین  پر بے عیب قر بانی  کے برّہ  کے طور  پر آیا ، اور بپتسمہ  لیا، تب  اُس   نے صلیب  پر اپنا  قر بانی  کا خون  بہایا  اور ہماری  جگہ  اِس  پرمرگیا۔ دونوں  اپنے ہاتھوں  اور پاؤں  پر  کیل  جڑے جانے  اور  اپنا  خون  بہانے  کے وسیلہ سے، ہمارے  خُداوند  نے ہمارے  گناہوں  کی سزا  کی بجائے، ہمارے لئے تمام  گناہوں کی سزا  برداشت کی۔ اِس طرح ، وہ ہمیں  ہمارے تمام  گناہوں  اور لعنت سے بچاچکا ہے۔
یِسُوعؔ  مسیح  نے،  جو  اِس  سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کا اصل جو ہر  بن چکا ہے، جب  وہ  اِس  زمین  پر آیا کیا کِیا؟ یِسُوعؔ   مسیح  ہمیں  اپنے بپتسمہ  کے ساتھ  اپنےآپ پر ہمارے  تمام گناہ  لینے ، مصلوب  ہو نے  اور صلیب  پر مرنے  اور پھر  مُردوں  میں سے  جی اُٹھنے  کے وسیلہ  سے  بچا چکا ہے۔ ہمارا خُداوند  اِس زمین  پر آیا ، ہماری   یقینی نجات مکمل  کی، اور  پھر  آسمان  کی بادشاہت  میں  چڑھ گیا۔
 
 
ہم  جو بچ نہیں سکتے  بلکہ  ہر  روز  گناہ کر تے ہیں
  
سو ختنی قر بانی  کی قربانگاہ  کا ایک  دوسرا مطلب  بھی ہے، جو ’’ چڑھنا ‘‘ہے۔ حقیقت کے ایک  معاملہ  کے طور پر آپ  اور  مَیں ہر روز  گناہ کر تے  ہیں۔ اِس لئے ، ہمیں  ہمیشہ خُدا  کو ہمارا قر بانی  کا جانور  پیش  کر نا ہے، اور  اِس کی وجہ  سے، ہمارے  گناہوں  کی سزا کا دُھواں ہمیشہ  خُدا کی  طرف  چڑھ  رہا ہے۔ کیا  کو ئی ایسا دن  بھی  ہے  جب آپ  گناہ نہیں کر تے  بلکہ  کامل  طور  پر رہتے  ہیں؟ اسرائیل  کے لوگو ں کی قر بانیوں  کے جانور  مسلسل  دئیے جاتے  تھے یہاں تک  کہ کاہن   یہ قر بانیاں  گزراننے  سے بُری  طرح  تھک    جاتے  تھے  جو اسرا ئیلیوں  کے اَن  گنت  گناہوں  کی معاف  کر تی  تھیں اور مزید اُنہیں  نہیں  دیا  جا سکتا تھا۔ کیونکہ  اسرائیل  کے لوگوں  نے شر یعت  کو توڑا اور ہر  روز  خُدا کے خلاف  گناہ کِیا، اُ نہیں  ہر روز  اپنی  قر بانیوں  کے جانور دینے  پڑتے تھے۔
مُوسیٰ نے ، اسرائیل  کی نمائند گی  کر تے  ہوئے، اسرائیلیوں  کے سامنے  شر یعت  کی ۶۱۳  شقوں  اور  خُدا کے احکامات  کا اعلان  کِیا:’’ سو اب اگر تُم میری بات مانو اور میرے عہد پر چلو تو سب قَوموں میں سے تُم ہی میری خاص مِلکیت ٹھہرو گے کیونکہ ساری زمِین میری ہے۔اور تُم میرے لِئے کاہِنوں کی ایک مُملکت اور ایک مُقدّس قَوم ہو گے۔ ‘‘ (خروج ۱۹: ۵۔۶)۔
تب  اسرائیل  کے لوگوں  نے وعدہ  کِیا، ’’جو کُچھ خُداوند نے فرمایا ہے وہ سب ہم کریں گے ‘‘( خروج۱۹: ۸)۔چنانچہ  اسرائیل  کے لوگوں  نے پہچاننا  اور اِس  خُدا  پر ایمان  رکھنا  چاہا  جو  مُوسیٰ کے سامنے  ظاہر  ہوا  اور اُن  کے سچے خُدا  کے طور پر اُس  کے وسیلہ  سے  اُن  سے بولا  ، اور اُنہوں   نے  اِس  خُدا  سے اپنی  حفاظت  چاہی۔ جو  کچھ خُدا  نے  اُن  سےکہاتھااُسےبرقراررکھتےہوئے، وہ نہ صرف  اُس  کی خاص ملکیت  بننا چاہتےتھے ، بلکہ  کا ہنوں  کی مُملکت  اور ایک  مقدس  قوم  بھی  جو خُدا  سے تعلق رکھتی  تھی ۔اِس  طرح ، اُنہوں  نے  خُدا  کےتمام  احکامات  کو قائم  رکھنے  کی کوشش کی  جووہ  اُنہیں  دے چکا  تھا۔
کیا  خُدا پہلے  ہی جانتا  تھا کہ اسرائیلی گناہ کر یں گے؟ یقیناً  وہ جانتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ   خُدا نے  مُوسیٰ کو  کوہ ِسینا پر بُلایا، اُسے  رویا  میں  خیمۂاِجتماع  دکھایا، اِس کی  شکل تفصیل  سے واضح  کی ،اُسے تعمیرکرنےکوکہا ، اور  اِس  کےمطابق اِس کی تعمیر کروائی۔ اور  اُس  نے قر بانی  کا نظام  بھی قائم  کِیا  جس کے ذریعےاِس خیمۂاِجتماع   میں قر بانیاں  پیش  کی جاتی  تھیں ۔
جب  اسرائیل  کے  لوگوں  نے خُدا کو  گناہ  کی قر بانی  دینا  چاہی، اُنہیں  ایک بے  عیب  بیل ، بھیڑ، بکری ، قمری ، یا  کبوتر  لانا پڑتا  تھا؛  اور چند  مستثنات  کو چھوڑ کر ، اُ نہیں اپنی قر بانی  کے جانور  پر اِس کے سَر  پر اپنے  ہاتھوں  کو رکھنے  کے وسیلہ  سے  اپنے گناہوں  کو لادنے  کی یقین دہانی کر نی  پڑتی تھی ( احبار ۱:۱۔۴)۔ اور  تب  وہ اِس  کا گلا کاٹ  کر اِس  کا خون  نکالتے اور  اِس  خون  کو کاہنوں  کو دیتے۔ اُن  کے کاہن  تب  اِس  خون  کولیتے، اِسے سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے سینگوں  پر لگاتے، باقی  خون  کو  زمین  پر  اُنڈیلتے قر بانی  کے جانور 
کو ٹکڑوں میں کاٹتے، اِن ٹکڑوں  کو قر بانگاہ  پر رکھتے ، اور  اُنہیں  جلانے کے وسیلہ سے خُدا کو پیش  کر تے تھے۔
 یہ ہے کیسے  اسرائیلی اپنے  گناہوں  سے معاف  ہو سکتے تھے۔ جب  قر بانی  جلائی جاتی تھی ، اُ نہیں  نہ صرف  اِس  کا گوشت  جلانا پڑتا  تھا، بلکہ  اِس  کی کھال  کو بھی  اُتارنا  پڑتا  اور  اِس کی تمام  چربی  کو  اوجھڑی  اور  جگر
سمیت  جلانا پڑتا تھا۔ اِس  طریقہ سے،  خُدا  اسرائیلیوں  کے گناہوں  کو معاف  کر تا تھا۔
 
 
تمام گناہوں  کی معافی  حاصل  کر نے  کا واحد  طریقہ
 
جب  ہم اپنے  آپ  کو دیکھتے ہیں،ہم سب  حقیقت میں پہچان  سکتے  ہیں  کہ ہم    ہر وقت  گناہ  کر نے کےسواکچھ  نہیں سکتے ہیں۔ ہم  اپنی  زندگیاں ہمیشہ  گناہ  کر تے ہو ئے گزارتے ہیں۔ ہم  مختلف  وجوہات  کی بنا پر  اَن  گنت  گناہ  سر  زد  کر تے  ہیں، چاہےیہ اِس لئے ہے کہ   ہم کمزور  ہیں، بہت  سارے  عیب  رکھتے  ہیں، یا  بہت لالچی  ہیں، یا  بہت طاقت  رکھتے ہیں ۔ حتیٰ  کہ  اُن  کے درمیان جو یِسُوعؔ   پر اپنے  نجات  دہندہ  کے طور  پر ایمان  رکھتے ہیں ، کوئی  بھی ایسا نہیں ہے  جو گناہ نہ کرتا  ہو۔
ہمارے لئے جو ہمیشہ  اِس  طریقے سے گناہ کر تے  ہیں حتی  ٰکہ ہم خُدا  پر ایمان  رکھتے  ہیں، اِن گناہوں  سے پاک  ہو نے  اور نجات  یافتہ  ہو نے  کے لئے واحد  طریقہ  یِسُوعؔ  مسیح  کے بپتسمہ  پر ایمان  رکھناہے۔ وہ بذاتِ خود خدا ہے  جو پانی اور خون  کے وسیلہ سے  آیا( ۱۔یوحنا ۵ :۶)؛  وہ اِس زمین  پر آسمانی ، ار غوانی اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹےہوئےکتان  کے وسیلہ  سے سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے قر بانی  کے برّہ  کے طور  پر آیا۔ جب  اِس  یِسُوعؔ   نے ہمارے  گناہوں  کو بپتسمہ  لینے  کے وسیلہ  سے  اپنے آپ  پر اُٹھالیا اور صلیب  پر اپنا  خون بہانے  اور اِس پر  مرنے  کے وسیلہ  سے ہمارے  گناہوں  کی قیمت  ادا کر دی ،تو  ہم کیسے ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی معافی  حاصل  نہیں کر سکتے  ؟ ہمارے  مسیحا یِسُوعؔ   مسیح کی نجات  کی وجہ  سے، ایمان  کے وسیلہ  سے آپ اور  مَیں ایک  ہی بار  ہمیشہ کے لئے  اپنے  گناہ کی  معافی  حاصل کر سکتے ہیں۔
اگرچہ  ہم بے شک ہمیشہ  گناہ کر تے ہیں، بپتسمہ کی نجات  اور خون کی وجہ سے جو   یِسُوعؔ   مسیح  نے پوری  کی جب  وہ اِس زمین  پر آیا ، ہم  ہمارے  تمام  گناہوں  سے آزاد  ہو سکتےہیں۔ ہمارے  خُدا وند  نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ  اپنے آپ  پر ہمارے  گناہوں  کو اُٹھالیا ، دُنیا  کے گناہوں  کو صلیب  پر لےگیا اور مصلوب  ہوا ،اور یوں  ہمیں  ہمارے  گناہوں  سے مکمل  طور  پر چھڑاچکا ہے۔ ہمارے  گناہوں  کے لئے بپتسمہ لینے ، اپنی  مصلوبیت  کے ساتھ  ، ہمارے  تمام  گناہوں  کی سزا برداشت  کرنے  اور پھر  مُردوں  میں جی اُٹھنے کے وسیلہ  سے، وہ  ہمیں مکمل  طور  پر بچا چکا ہے جو اِس  سچائی پر ایمان  رکھتے ہیں۔ گو ہم  بچ  نہیں سکتے تھے  بلکہ  ہمارے  گناہوں  کے لئے لعنتی ٹھہرائے جاتے ، نجات کی محبت  اور فضل  کی وجہ سے  جو یِسُوعؔ   ہمیں  آسمانی ، ارغوانی  اور سُرخ  دھاگے کے وسیلہ  سے دے چکا ہے، آپ  اور مَیں  ایمان  کے وسیلہ  سے نجات  یافتہ  ہو چکے  ہیں۔ دوسرے لفظوں  میں ، خُدا ہمیں  ہمارے  گناہوں  سے بچا چکا  ہے۔ یہ اُس پر ایمان  رکھنے  کے وسیلہ  سے ہے  کہ ہم  ہمارے  تمام  گناہوں  سے چھڑائے جا چکے  ہیں۔ یہ ہے  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  ہمیں  کیا دکھا  رہی ہے۔
آپ  شاید  سو چ  سکتے   ہیں کہ خیمۂاِجتماع   کے اندر   ہر چیز  خوبصورت  تھی، لیکن  اگر آپ  واقعی اِس  کے صحن  میں داخل  ہو چکے  ہوتے،تو آپ ایک  غیر  متوقع او ر نا گوار منظر  کو دیکھیں  گے۔ سو ختنی  قر بانی  کی پیتل  کی قر بانگاہ ، ایک  مستطیل  نماشکل میں ، ہر وقت  دُھویں  اور  آگ  کو  اُگلتےہوئےڈرارہی  ہو گی ۔ پیتل  کی قر بانگاہ  گنہگاروں  کے لئے انتظار   کر رہی  ہو گی، اِس  کی زمین  خون  میں  بھیگی  ہو ئی ہو گی، اور کو ئی بھی احساس  کرے گا  کہ یہ گناہ  کی سزا  کی جگہ  تھی ۔ چونکہ  یہ جگہ وہ جگہ  تھی جہاں  ہر روز قر بانی  کے جانور  دئیے جاتے تھے ، آپ  جلتے ہو ئے  گوشت  اور لکڑی کی بدبوسے مغلوب  ہو جا ئیں  گے۔
سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے نیچے  خون  ایک دریا  کی مانند  بہہ رہا ہو گا۔ جب کبھی  اسرائیلیوں  نے گناہ  کِیا  وہ خیمۂاِجتماع   میں  اپنا  قر بانی کا جانور  لاتے، اِس  پر اپنے  ہاتھوں  کو رکھنے  کے وسیلہ سے اپنے گناہوں  کو لادتے ، اِس کی گردن  کا ٹتے اِس  کا خون  نکالتے اور  یہ خون  کاہنوں  کو دیتے  تھے۔ تب  کا ہن  یہ خون  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے سینگوں  پر لگاتے اور باقی زمین  پر اُنڈیل  دیتے تھے۔
تب  وہ قر بانی  کو ٹکڑوں  میں کاٹتے اور اِس  کے گُردوں  اور چربی کے ساتھ ، اِس  کا گوشت  انگیٹھی پر رکھتے  اور اُ نہیں جلاتے۔ جب  خون  نکال  لیا جاتا  ،تو یہ پہلےتو بالکل، سُرخ  رنگ  کا بہتا ہوا مائع ہے۔ لیکن  کچھ  دیر  بعد ، یہ جم جاتااور لیس دار  ہو جاتا ۔ اگر  آپ  واقعی خیمۂاِجتماع   میں داخل  ہو تے،  توآپ  اِس  ہولناک  خون  کو دیکھ  چکے  ہو تے ۔
جب بھی  اسرائیل  کے لوگوں  نے خُدا  کے احکامات  کو توڑا، سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کے ذریعے، اُنہوں  نےتسلیم  کِیا  کہ اُ نہیں  قر بانگاہ  پر اپنی  قر بانی  کے جانوروں  کی مانند  مر نا تھا ۔ کیوں؟  کیونکہ  خُدا   نےاپنا  عہد  اُن  سے خون  کے ساتھ  باندھا  تھا۔ ’’ اگر  تُم  میری  شر یعت  پر عمل  کر و، توتم  میرے  لوگ اور  کا ہنوں  کی مُملکت  بن  جاو گے، لیکن  اگر تم   اِس  پر  عمل  کر نے  میں نا کام  رہےتو  تمہیں  یقیناً  اِن  قر بانی  کے  جانوروں  کی مانند  جو مارے جاتے   ہیں مرنا  چاہیے۔‘‘ اِس طرح خُدا  نے خون  کے ساتھ  اپنا  عہد قائم  کِیا ۔اِس  طرح  ، اسرائیل  کے لوگوں  نے  اِسے  ایک دی  گئی  حقیقت کے طور  پر قبول  کِیا  کہ اگر  وہ گناہ کر تے  ہیں  اور  شر یعت  کو توڑتے  ہیں، اُنہیں اپنا  خون  بہانا تھا۔
حقیقت کے ایک  معاملہ  کے طور  پر، نہ صرف  اسرائیلی ، بلکہ  خُدا پر ایمان  رکھنےوالوں کو بھی اپنے گناہوں کے لئے  سارا قر بانی کا خون دینا چاہیے۔ یہ ہمیں  دکھاتا ہے  کہ کو ئی  بھی  جو  خُدا  کے سامنے گناہ کر تا  ہے اور  اِس لئے  اپنے  دل  میں  گناہ  رکھتا  ہے ، چاہے وہ کتناہی  چھوٹا ہویاعظیم  ، اِس کےنتیجہ کے طور  پر  اِس  گناہ کی سزا  کا سامنا  کر نا چاہیے۔ اگرچہ  شر  یعت کی عدالت یعنی گناہ کے مزدوی  موت ہے خُدا  کے حضور ہر ایک  پر لاگو ہو تی  ہے ،لیکن بہت  سارے  لوگ  ایسے  نہیں  ہیں  جو  حقیقت میں خُدا  کی عدالت  سے  خوفزدہ  ہیں  اور اِس طرح  اپنے  آپ  کو اُس  کے قر بانی  کے نظام  میں ظاہر  کی گئی  خُدا  کی نجات  کی  شر یعت کے ساتھ منسلک کر نے  کی کوشش کر تے  ہیں۔
سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  ہمیں بتاتی  ہے کہ شر یعت  کے مطابق  جو گناہ  کی مزدوری  کو موت  کے طور  پر مقرر کر تی ہے، یِسُوعؔ   مسیح ہمیں  خیمۂاِجتماع   کے صحن  کے دروازہ  میں ظاہر  کئے گئے آسمانی، ارغوانی اور   سُرخ دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان کے وسیلہ سے ہمارے  گناہوں  اور سزا  سے بچا چکا ہے۔ ہمارے  لئے، جو  ہمیشہ  گناہ  کرتے   ہیں اور ہمارے  گناہوں  کے لئے    یقیناً  لعنتی ٹھہر ایا  جا نا چاہیے، مسیح  ایک انسان  کے بدن  میں  اِس  زمین پر  آیا ، ہم بنی  نوع انسان کے  تمام  گناہوں  کو یو حنا  سے بپتسمہ  لینے  کے وسیلہ  سے  اپنے  ذاتی  بدن پر اُٹھالیا ، دُنیا کے اِن  گناہوں کو صلیب  پر لے گیا ، مصلوب  ہوا  اور اِس  پر اپنا  خون  بہایا ، شدید  اذیتیں اور  تکلیفیں برداشت  کیں، اپنے  آپ  کو قربان  کِیا،اور یوں آپ  کو اورمجھے  ہمارے  تمام گناہوں  سے بچا چکا ہے۔
یہ اِس لئےہے کہ مسیح  نے اپنا  ذاتی  بدن  قر بان کِیا اور یوں  ہمیں بچا چکا ہے یعنی آپ  اور  مَیں ایمان کے وسیلہ سے ہمارے  تمام  گناہوں  سے چھڑائے جاسکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، اُن  کی خاطر جو اپنے گناہوں  کی وجہ  سےمرنےسےبچ  نہیں  سکتے  تھے ، یِسُوعؔ  مسیح  نے  اپنے  بپتسمہ کے ساتھ  اپنے آپ  پر  اُن  کے تمام  گناہوں کو اُٹھا لیا، موت  تک  مصلوب  ہوا ، پھر  مُردوں میں   سے  جی اُٹھا اور یوں  اُ نہیں  اُن  کے سارے  گناہوں  اور  سزا  سے بچا  چکا ہے۔
جب ہم  سو ختنی  قربانی  کی اِس  قر بانگاہ  کو دیکھتے ہیں تو، ہم  یہ ایمان  رکھنے  کے لئے  آتے   ہیں۔یہ دیکھتےہوئےکہ قر بانی  کا  جا نور  ہر وقت  قر بانگاہ   پر دیا  جاتا تھا ، ہم احساس  کر سکتے اور ایمان  رکھ سکتے  ہیں  کہ حتیٰ  کہ گو یہ ہم  ہیں   جنھیں  ہمارے  روزمرہ  کے گناہوں  کی وجہ  سے  مرنا  ہے  ، خُدا  نے ہمیں  اپنے قر بانی  کے جانوروں  میں نہیں  بدلا ، بلکہ  ہماری  جگہ پر  ہمار ا  خُداوند  بذاتِ خود  اِس  زمین  پر آیا اور ہماری  نجات  پوری  کی ۔ بپتسمہ لینے  ، صلیب  پر اپنا خون  بہانے اور پھر  مُردوں   میں  سے  جی  اُٹھنے  کے وسیلہ  سے یِسُوعؔ   ہمیں  بچا چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ  خُدا  باپ  نے  اُ نہیں  گناہ  کرنے کے لئے  لعنتی ٹھہرانے  کی بجائے اسرائیلیوں  کے قر با نی کے جانور  کو قبول کِیا اور  اُن  کے تمام گناہوں  کو معاف  کِیا۔ اسرائیل  کے لوگوں  کو  اپنی قر بانی  کے جانور  پر  اِس  کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے  کے وسیلہ سے  اپنے  گناہوں  کو  لادنے  کے قابل  بنانے  کے وسیلہ  سے  ، اور اُ نہیں  اِس  کی جگہ  پر ذبح  کر نے  کے وسیلہ  سے اور اُس  کا خون ، گوشت  اور چربی  اُسے  پیش  کر نے  کے وسیلہ  سے، خُدا اسرائیلیوں  کے گناہوں کو  دھو چکا  ہے۔ یہ  خُدا کے فضل  اور   اُس کی محبت  کے علاوہ  کچھ  اورنہ تھا۔
 
 
خُدا ہمارے  ساتھ  صرف شر یعت  کے وسیلہ  سے  پیش   نہیں آچکا
 
اگر  خُدا نے مجھے اور  آپ  کو ،  اور اسرائیل  کے تمام  لوگوں  کو   محض  اپنی  شر یعت  کے  مطابق پرکھناتھاتو،پھرکتنےلوگ اِس زمین پر زندہ رہیں گے؟اگرخُدا ہمیں صِرف اپنی شریعت کے وسیلہ سے ناپتا اور پرکھتا ہے،توہم مَیں سے کوئی ایک دن بھی زندہ نہیں رہے گا۔ہم مَیں سے بھاری اکثریت یہاں تک کہ چوبیس گھنٹوں کے لئے بھی باقی نہیں رہے گی، بلکہ محض چند منٹوں میں مر جائے گی۔ہم مَیں سے کچھ صرف ایک گھنٹے میں مر سکتے ہیں جبکہ دوسرے شاید دس گھنٹے کے لئے زندہ رہ سکتے ہیں،لیکن فرق معمولی ہےکسی بھی طرح سے، ہم سب مرنے کے پابند ہوں گے۔لوگ۶۰،۷۰،۸۰ اور یہاں تک کہ اِس سے بھی آگے تک زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوں گے۔کچھ ہی دیر میں،ہرکوئی لعنتی ٹھہرایا جائے گا۔
سوچیں اِس صبح کیا واقع ہوا۔آپ کا بیٹا تمام رات پارٹی میں رہنے کے بعداب بھی بستر سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آپ کی بیوی اُسے جگانے کی کوشش کر رہی ہے۔نتیجتاًایک شور بُلند ہوتاہے،آپ کا بیٹا اپنی ماں پر اُسے جگانے کے لئے چلا رہا ہے،اورآپ کی بیوی آپ کے بیٹے پر اُس کے چلانے پر چیخ رہی ہےاوراِس طرح صبح سویرے جھگڑا شروع ہوتاہے۔آخرمیں،یہاں ماں اور بیٹا دونوں ہی خُدا کے حضور گُناہ کرتے ہیں،اوراِن میں سے کوئی بھی آج تک زندہ نہیں رہے گا،کیونکہ وہ دونوں اِس گُناہ کےلئےسزایافتہ ہوں گے۔
لیکن خُدا ہمارےساتھ صِرف اپنی راست شریعت کے ساتھ پیش نہیں آچکا ہے۔” اُس نے ہمارے گُناہوں کے مُوافِق ہم سے سلُوک نہیں کِیا اور ہماری بدکارِیوں کے مُطابِق ہم کو بدلہ نہیں دِیا “(زبُور۱۰۳ :۱۰)۔
ہمیں راستباز شریعت کے وسیلہ پرکھنے سے بہت دُور،خُدانےاِس کی بجائے،اِس راستباز شریعت کو پورا کرنے کے لیےقربانی کے جانور کو تیار کِیا جو ہماری جگہ لے گا۔اِس  قر بانی کے جانور  پر ہمارے  گناہوں کو اِس  پر ہمارے ہاتھوں  کے رکھے جانے  کی معرفت لادنے  کے  قابل بنا نے  کے وسیلہ سے، اور ہمیں ہماری  ذاتی  زندگی  کی بجائے  اِس قربانی کا خون اُسے دینے  کے قابل  بنا نے  کےو سیلہ  سے، خُدا  ہماری  ذاتی زندگی  کی  بجائے  قر بانی  کے جانور  کی زندگی  کو قبول  کر چکا ہے، اور  بنی  نوع  انسان  کے تمام  گناہوں کو معاف  کر چکا ہے ،بشمول ہمارے اور بنی اسرائیل کے،اورہمیں  اُن  سب  سے بچا چکا ہے اور ہمیں  پھر  زندہ  رہنے  کے قابل   کر چکا  ہے ۔ اور ایماند اروں  کو اُن  کے گناہوں سے  بچا نے  کے وسیلہ  سے،  خُدا    اُنہیں  اپنے  ذاتی  لوگ  بنا چکا ہے ۔ یہ ہے  کیسے  خُدا  نے  اسرائیل کے لوگوں کو خُدا  کی مُملکت  کے کاہن بنایا۔
یہاں  قر با نی کے برّےسےمُرادیِسُوعؔ  مسیح  کے علاوہ  کوئی دوسرانہیں ہے۔ ہمارے  گناہوں کی وجہ  سے، یِسُوعؔ   مسیح  قر بانی  کا یہ  برّہ بن گیا، اور  ہمیں  بچا نے کے لئے جو گناہ  کی سزا  کا سامنا  کر چکا  تھا، اُس  نے  اپنے بپتسمہ کے ساتھ  اپنے آپ  پر ہمارے  تمام  گناہوں  کو  اُٹھالیا، اپنا  خون  بہایا  اور صلیب  پر  مرگیا۔ ہمیں  ہمارے  گناہوں  سے بچا نے  کے لئے ، خُدا کا واحد اِکلوتا بیٹا ایک انسان  کے بدن  میں اِس  زمین  پر آیا  اور اپنے  بپتسمہ کے وسیلہ  سے قر بانی  کا برّہ  بن گیا ، یہ سب  باپ  کی مرضی کی  فرمانبرداری  میں ہے۔ یو حنا  سے  حاصل  کئے گئے اپنے  بپتسمہ کے ساتھ  اپنے آپ  پر  بنی  نوع  انسان  کے گناہوں کو اُٹھانے  کے وسیلہ  سے ، صلیب  تک  دُنیا کے اِن  گناہوں  کو  لے  جانے ، مصلوب  ہو نے  ، اپنا  خون بہانے  اور یوں اپنے آپ  کو قر بان کرنے کے وسیلہ  سے، اور  مرنے  اور پھر  مُردوں  میں   سے جی اُٹھنے کے وسیلہ  سے، یِسُوعؔ   آپ  کو  اور مجھے  مکمل  طور  پر بچاچکا ہے۔
جب  ہم نجات  کا کلام  ہمیں  یہ بتاتے ہو ئے سُنتے ہیں کہ یِسُوعؔ   نے، ہماری  جگہ پر ، بپتسمہ لیا،  مصلوب
  ہوا  اور تین  دن  بعد  پھر  مُردوں  میں  سے  جی اُٹھا ؛تو ہمارے  دل  بہت متاثرہوتے  ہیں۔ کیونکہ  وہ  جو  بے گناہ تھااُس نے ، ہماری  جگہ  پر پبتسمہ حاصل  کِیا جس  نے  اُس پر تمام  گناہوں کو لادا، اور  اِن  گناہوں  کی قیمت  کے طور پر ، اُس  نے ہرطرح  کی ایذارسائی ، ظلم ، درد، تکلیف  اور آخرکار  موت  کو برداشت  کِیا ، جوسب  پہلی جگہ  پر ہمارےساتھ  ہو نا چاہیےتھا۔ جب  یِسُوعؔ   یوں  ہمیں  ہمارے  گناہوں سے بچا چکا ہے، تواِس  سچائی پر ایمان  نہ رکھنے  سےبڑھ کر اور کوئی   بدنیتی نہیں ہو سکتی۔
 
 
ہمیں  یقیناً آسمانی ، ار غوانی  اور سُر خ  دھاگے  کے وسیلہ   سے پوری  کی گئی  نجات  پر ایمان  رکھنا چاہیے
 
جب  یِسُوعؔ   مسیح  نے ہمارے  لئے  اپنے  بپتسمہ  کے وسیلہ  سے ہمارے گناہوں  اور  اِن  گناہوں  کی سزا  کو اُٹھالیا ، اور  جب  وہ آپ  کو  اور مجھے  ہماری  جگہ  پراپنے  آپ کو قر بان  کر نے کے وسیلہ  سے بچا چکا ہے ، ہم سب  کو یقیناً  اِس  قِسم  کا ایمان  رکھنا چاہیے جو کہتا ہے ، ’’ اے  خُداوند ، تیرا  شکر ہو !‘‘ اگرچہ بہت  سارے  لوگ محبت  کی کہانیوں ، زندگی  کی  کہانیوں ، یا  محض  کسی قِسم  کی دل  کو چھوجانےوالی  کہانیوں  سے آسانی  کے ساتھ متاثر  ہو جاتے ہیں،لیکن جب بات   اُن  کے دلوں میں   خُدا  کی غیر مشروط  محبت  کی طرف  آتی ہےتو، وہ برف  کی مانند  ٹھنڈے پڑجاتے  ہیں۔ جب  ہمارے  خُداوند  کا فضل  اتنا   عظیم  ہے  کہ اُس  نے بپتسمہ  لیا  اور  ہماری  خاطر  صلیب  پر مرگیا ، تب بھی ایسے درندہ صفت لوگ   موجود  ہیں  جو اِس  فضل  کا احساس  نہیں کر  سکتے ہیں  اور  اُس کا بالکل بھی شکرادا نہیں کرتے  ہیں۔
یِسُوعؔ  مسیح ، خُدا کا  بیٹا  ،    اِس  زمین  پر آیا  اور ہمارے  لئے  قر بانی  کا برّہ  بن گیا ۔ اُس  نے ہمارے  تمام گناہ  اپنے بپتسمہ کے ساتھ  اپنے ذاتی  بدن  پر قبول  کئے اور صلیب  پر اپنا  بدن  دینے  کے وسیلہ  سے اپنے  آپ  کو قر بان  کِیا۔ اُسے  تھپڑ مارے گئے، ننگا  کردیا گیا ، ستایا گیا اور  ظلم  کِیاگیا،یہ سب  ہمارے  لئے تھا۔ یہ ہے  کیسے  وہ ہمیں  بچا چکا ہے ۔ اِس سچائی  پر ایمان  رکھنے  کے وسیلہ  سے ہی ہم  خُدا  کے بیٹے  بن چکے  ہیں ، یہ سب سے عظیم  الہام  ہے، یہ دیکھ کر  مجھے  گہرادُکھ ہوتا ہے  کہ بہت  سارے  لوگ اِسے  سُننے  کے بعد  بھی ایمان نہیں  رکھتے  اوراُس  کا شکریہ ادا نہیں کر تے ہیں۔
یہ اِس لیےہے  کہ یِسُوعؔ   اِس  زمین  پر آیا ، اپنا  بپتسمہ  حاصل  کِیا  اور  اپنے آپ  کو قر بان  کِیا کہ  آپ اور  مَیں ہمارے  تمام  گناہوں سے نجات  یافتہ  ہو چکے ہیں۔ اِس لئے، یسعیاہ  ۵۳: ۵ کہتا  ہے۔’’ حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کِیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعِث کُچلا گیا۔ہماری ہی سلامتی کے لِئے اُس پر سیاست ہُوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شِفا پائیں۔ ‘‘
ہم اپنی ساری  زندگی گناہ کر تےرہتے  ہیں۔ ہمیں  بچانے کے لئے، جوہمارے  تمام  گناہوں کی سزا، تباہی اور لعنتوں  سے بچ  نہیں سکتے  تھے بلکہ  لعنتی  ہوتے ، ہمارے  خُداوند  نے آسمان کی بادشاہت  کا تخت  پیچھے  چھوڑ دیا ، اور  تمام راستے  اِس  زمین  پر آگئے۔ اُس  نے یوحنا  کے سامنے  اپنا  سَرجھکایا  اور بپتسمہ لیا ، اِن گناہوں  کو صلیب  پر لے گیا اور بُری  طرح  دُکھ  اُٹھایا، اور  اپنے دل  کا سارا خون  زمین  پر بہادیا ، پھر مُردوں  میں سے جی اُٹھا، ہمارے لئے  قر بانی  کا برّہ  بن گیا ، اور ہماری  نجات  کا  سچا خُدا  بن چکا ہے۔
کیا آپ  اِس حقیقت کے بارے  میں سوچتے  ہیں اور اِسے  اپنے دل کی گہرائیوں   میں رکھتے  ہیں؟ جب  آپ کلام  کو سنُتے ہیں،تو صرف  یہی مناسب  ہے  کہ آپ  کو ایمان  رکھنا  چاہیے  اور اپنے  دلوں  میں اچھی  طرح  متاثر  ہو ناچاہیے کہ یِسُوعؔ  مسیح  واقعی  اِس  زمین   پر ایک  آدمی  کے بدن  میں آیا،  اور  یہ کہ اُس  نے بپتسمہ لیا، موت تک مصلوب ہوا ،اور  اپنے  لوگوں  کو اُن کے  گناہوں  سے بچا نے  کے لئے  جی اُٹھا، اگر ہم احساس کر تے ہیں کہ ہم سب  جہنم  جا نے  کے لائق  تھےتو ، ہم  اپنے دل کی گہرائیوں  سے یہ محسوس  کر سکتے ہیں کہ یہ نجات کس قدر متاثر کن اور شکرگزار ہے۔ گو  ہم خُدا  پر ایمان  رکھنا  اور اُس کے  لوگ بننا چاہتے  تھے،ہمارے  پاس  اِس کو   حاصل  کر نے  کا کو ئی راستہ نہیں تھا۔ لیکن  آپ  کے   اور میرے  لئے ، جنہوں نے واقعی  اپنے گناہوں  کی معافی  کی تلاش   کی، اُس نےہم سے  سچائی  کے کلام  کے ساتھ  ملاقات کی ہے  کہ مسیح اِس  زمین  پر آیا  بپتسمہ  لیا،  صلیب  پر مرگیا،اور پھر  تین  دن  بعد  مُردوں  میں جی اُٹھا۔
اگر  یہ یِسُوعؔ   کی قر بانی  نہیں تھی ، ہم  کیسے  کبھی  ہماری  نجات  حاصل  کر سکتے  تھے؟ ہم کبھی   نہیں  کر سکتے  تھے! اگر  یہ یِسُوعؔ   کے بپتسمہ  اور صلیبی  خون  کے لئے  نہ ہوتا، اور  اگر یہ خیمۂاِجتماع   میں  ظاہر  کی گئی  آسمانی، ارغوانی  اور سُرخ دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  کی نجات  کے لئے نہ ہوتا،تو نجات  ہمارے  لئے صرف  گرمیوں  کی آدھی رات  کا کو ئی خواب  بن  چکی  ہو تی۔ اگر  اُس کی قر بانی  نہ ہوتی تو، ہم کبھی  اپنے  گناہوں  سے نہ بچ  سکتے  اور نہ  اُن  کی سزا سے  بچتے ، بلکہ  جہنم  کی ابدی  آگ  میں پھینکے جاتے  اور ابدالاآباد  اذیت  اُٹھاتے۔ مگر  مسیح ہماری  خاطر اپنے آپ  کو قر بان  کر نے  کے وسیلہ  سے ،  بالکل   پُرانے  عہد  نامہ  کے   
قر  بانی  کے برّہ  کی مانند  ہمیں  بچا چکا ہے۔
 
 
آسمانی ، ار غوانی  اور سُرخ  دھاگے  کی نجات  نئے  عہد نامہ  میں پوری  کی گئی تھی
 
میرے پیارےقارئین،آپ کو کبھی بھی خیمۂاِجتماع   کے لئے  استعمال  کئے گئے  آسمانی ، ار غوانی اور سُرخ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان کی حقیقت کو نہیں  بھولنا  چاہیے۔بارِیک بٹےہوئےکتان پُرانے  اور نئے عہد  ناموں  کا کلام ہے،وہ  کلام  جس کا خُدا  نے بہت  پہلے  وعدہ  کِیا  تھاکہ وہ  بذاتِ خود  ہمارے  ذاتی نجات  دہندہ  کے طور   پر ہمارے  پاس  آئے گا ، اور  اِس  وعدہ کی مطابق، یِسُوعؔ  مسیح  اِس زمین  پر آیا ۔ آسمانی دھاگہ ہمیں  بتاتا ہے  کہ مسیح  نے ،اِس زمین  پر آکر ، اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنےآپ  پرہمارے  تمام  گناہوں  کو اُٹھالیا، دوسرے لفظوں میں،  اُس  نے  وعدہ کے مطابق بپتسمہ لیا کہ وہ ہمیں ہمارے  گناہوں  سے بچا ئے گا  اور ہماری  سزا سے ہمیں  چھڑائے گا۔ ہمارے  گناہوں  کو  اور اِس  دُنیا  میں ہرکسی  کے گناہوں  کو اپنے آپ  پر لینے  کے لئے، اُس  نے یو حنا  سے بپتسمہ  لیا  اور  بے شک  دُنیا  کے تمام  گناہوں کو برداشت  کِیا۔ ہمیں یقیناً  اِسے  کبھی  نہیں بھولنا  چاہیے ، کیونکہ  اگر ہم  بھول  گئے کہ یِسُوعؔ   ہمارے  قر بانی  کے برّہ  کے طور  پر آیا  اور  اپنے بپتسمہ کے وسیلہ  سے اپنے آپ پر ہمارے  تمام  گناہوں  کو  اُٹھا لیا  تو کو ئی نجات  نہیں ہو گی۔
اکثروبیشتر ، ہم  اِس  دُنیا  میں اپنے  آپ  کے لئے ایک عظیم  ذاتی  اہمیت  سے منسلک  ہو تے ہو ئے جیتے ہیں۔ لوگوں  کے دل  اَیسے  ہیں کہ اگر  چہ   وہ کسی  دوسرے کی شیخی سنُنا برداشت  نہیں کر سکتے ہیں، لیکن پھربھی وہ خود شیخی مارنا پسندکر تے ہیں۔لیکن  ایک خاص وقت  آیا جب  مَیں نے  اپنی ذات  پر فخر  کر نا  نہیں ، بلکہ کسی  دوسرے  پر  فخر کر نا  شروع کِیا، اور  یہ وقت  تھا جب  مَیں یِسُوعؔ   کا ہمیں  آسمانی، ارغوانی اور سُر خ  دھاگے اور بارِیک بٹےہوئےکتان کے وسیلہ  سے بچانے کے لئے  شکرگزار ہوا۔ دوسرے لفظوں میں،  مَیں یِسُوعؔ   پر فخر  کر نے لگا۔ اب مَیں جتنی  دفعہ ہوسکے،  بتا تا ہوں  اور فخر  کرتاہوں  کہ یِسُوعؔ   اِس  زمین  پر آیاتھا ؛ کہ  ہمارے  گناہوں  کو مٹانے  کے لئے، اُس  نے بپتسمہ  لینے  کے وسیلہ  سے  اپنے آپ  پرہمارے  تمام  گناہوں کو  اُٹھالیا؛  کہ یِسُوعؔ اُس کےبپتسمہ کی وجہ سےمصلوب  ہو سکتا  تھا؛ اور یہ  کہ خُداوند  نےہمیں  اِس طرح  بچا یا ہے۔ مَیں  اِس سچائی  پر فخر  کر نے ، اِس  کی منادی  کر نے  اور خُدا   کو سارا  جلال دینے   میں کوتاہی
  نہیں کرتا۔
اِس کے باوجود بہت  سارے  لوگ  موجود  ہیں جو کہ یِسُوعؔ   پر ایمان  رکھنے  کا اقرار کر تےہوئے، اُس  کے بپتسمہ  کو  چھوڑتے ہو ئے کلام  کی منادی  کر تے ہیں، یا  صر  ف  اُس  کا  نام  لےکراپنےآپ پر فخر  کر تے ہیں۔ ایک  جھوٹا خادم  تھا  جو یہ دعویٰ کِیا کرتا تھا کہ وہ  اپنی زندگی گزارنےکے لئے  ہر مہینے  صرف ۳۰۰ ڈالر  خرچ کرتا تھا۔ گویا  یہ ایک  عظیم کارنامہ  تھا، اُس  نے اِس بات پرفخر کِیا کہ  وہ  ہر مہینےصرف ۳۰۰ ڈالر  کے ساتھ  گزارہ کرسکتا ہے،اور کہ اُسے  مزید  پیسے لینے کی ضرورت  نہیں کیونکہ جب  وہ سفر  کر رہا  ہوتو  اُس  کے پیروکار  اُس کے تمام اجراجات  ادا کر تے ہیں۔لیکن  کیا ایمانداروں  کے پیسے  کسی طرح  پیسے نہیں ہیں؟ کیا  اِس پیسے کا کسی چیز  کے لئے حساب  نہیں،  جب  کہ صرف  اُس  کے ذاتی پیسے  اہمیت رکھتے ہیں؟ اِس  مسیحی راہنما نے دعویٰ کِیا  کہ جب  بھی  اُسے  کسی چیز  کی ضرورت  ہواُسےبس دُعا ہی کرنی تھی۔’’ اے خُدا، میرے  سفری  اخراجات  کو مہیا  کر ! اے  خُداوند ، مَیں  تجھ  پر ایمان رکھتا ہوں!‘‘ اُس  نے  گواہی دی ، اِس دُعا کے ساتھ  ، کچھ مقدسین اچانک اُبھرے  اور اُسے  ایک  بھاری  رقم  دے دی۔ اَیسے  لوگوں کو دیکھ کر جو یہ  باتیں کرتے  ہیں جس طرح  یہ فخر  کر نےوالی چیز ہیں، آپ  کے ذہن  میں  کس قِسم  کے خیالات  آتے ہیں؟
متی ۳: ۱۳۔۱۷ بیان کرتا ہے، ’’ اُس وقت یِسُوعؔ گلِیل سے یَردن کے کنارے یُوحنّا کے پاس اُس سے بپتِسمہ لینے آیا۔مگر یُوحنّا یہ کہہ کر اُسے منع کرنے لگا کہ مَیں آپ تُجھ سے بپتِسمہ لینے کا مُحتاج ہُوں اور تُو میرے پاس آیا ہے؟یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دِیا۔اور یِسُوعؔ بپتِسمہ لے کر فی الفَور پانی کے پاس سے اُوپر گیا اور دیکھو اُس کے لِئے آسمان کُھل گیا اور اُس نے خُدا کے رُوح کو کبُوتر کی مانِند اُترتے اور اپنے اُوپر آتے دیکھا۔اور دیکھو آسمان سے یہ آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خُوش ہُوں۔ ‘‘ یہ حوالہ بیان  کرتا ہے کیا واقع ہوا  جب  یِسُوعؔ  نے  بپتسمہ لیا۔جب  یِسُوعؔ   نے  دریائے یردن  پر یوحنا  اصطباغی سے بپتسمہ لیا اور پانی  سے  باہر  آیا ، آسمان  کا دروازہ  کُھل  گیا اور خُدا باپ  کی آواز  سُنائی دی،’’ یہ
میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خُوش ہُوں۔ ‘‘  یو حنا  اصطباغی  اُس  وقت  حیران ہو گیا تھا۔
یو حنا  اصطباغی  اِس  دریائے یردن  پر  دو دفعہ  حیران ہو اتھا ۔ وہ پہلی  بار حیران ہوا جب  اُس نے دیکھا  کہ یِسُوعؔ   اُس کی طرف  آیا اور اُس  سے بپتسمہ لینا چاہا، اور  وہ پھر  یِسُوعؔ   کو بپتسمہ  دینے  کے بعد حیران  ہوا  جب آسمان  کا دروازہ  کُھل گیا اور یہ کہتے  ہو ئے خُدا باپ  کی آواز  سُنی ، ’’ یہ میرا پیارا بیٹا ہے جِس سے مَیں خُوش ہُوں۔ ‘‘
یِسُوعؔ   کی یوحنا  اصطباغی  سے بپتسمہ لینے  کی وجہ کیا  ہے؟ یہاں متی  ۳ :۱۵ ہمیں  جوا ب  دیتا ہے، آئیں  ہم پھر  آیت  ۱۵اور ۱۶  کو پڑھیں ؛ ’’ یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دِیا۔اور یِسُوعؔ بپتِسمہ لے کر فی الفَور پانی کے پاس سے اُوپر گیا اور دیکھو اُس کے لِئے آسمان کُھل گیا اور اُس نے خُدا کے رُوح کو کبُوتر کی مانِند اُترتے اور اپنے اُوپر آتے دیکھا۔ ‘‘
متی ۳: ۱۵ ہمیں  وجہ بتاتا ہے کہ کیوں یِسُوعؔ   نے یوحنا  اصطبا غی  سے بپتسمہ لیا۔ حتی کہ گو  یِسُوعؔ  آسمان کی بادشاہت کا سردار کاہن  اور خُدا کا اِکلوتا  بیٹا  تھا، پھربھی وہ ہمیں، اپنے لوگوں کو ، ہمارے  گناہوں سے بچا نے  کے لئے اِس  زمین  پر آیا۔ دوسرے لفظوں  میں،  یِسُوعؔ  اِس زمین  پر قر بانی  کے برّہ  کے طور  پر آیا جو اِن  گناہوں کو اپنے آپ  پر لینے اور ہماری  جگہ  پر مصلوب  ہو نے  کے وسیلہ سے ہمارے  گناہوں  کی قیمت  ادا کر تا ہے۔ یہ ہے کیوں  یِسُوعؔ  نے یوحنا  سے بپتسمہ لینا چاہا۔
لیکن  کیوں  یِسُوعؔ   نے یوحنا  اصطباغی  کے علاوہ کسی دوسرےسے بپتسمہ نہ لیا  کیونکہ  یوحنا  اصطباغی  بنی نوع  انسان کا نمائندہ تھا۔ کیونکہ  وہ عورتوں  سے  پیدا  ہونےوالوں  میں سب سے  بڑا تھا۔ متی  ۱۱:۱۱ کہتا ہے،’’ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُؤا ،‘‘ یو حنا  اصطباغی  پُرانے  عہد نامہ  کے دَور  میں ملاکی  کی کتاب  میں پیشنگوئی  کِیا گیا خُدا کا خادم  تھا:’’ دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہؔ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا‘‘( ملاکی ۴ :۵) ۔یوحنا  اصطباغی  وہی ایلیاہ  بنی  تھا جسے خُدا بھیجنے کا وعدہ  کر چکا  تھا۔
کیوں  خُدا نے  یوحنا  اصطباغی  کو ایلیاہ  کے طور  پر بُلایا ؟  ایلیاہ  ایک بنی تھا جس نےبنی  اسرائیل کے دلوں کو  خُدا کی طرف  پھیردیا۔ اُس  وقت،اسرائیل کے لوگ  بعل  کی اپنے  خُدا کے طور پر پر ستش  کر رہے تھے، لیکن  ایلیاہ  نے اُنہیں  واضح  طور پر دکھایا  حقیقی خُدا کون  ہے، آیا  وہ بعل   تھا یا  یہوواہ خُدا تھا۔ وہ نبی تھا جس نے اپنے  ایمان کے ساتھ  اور قربانی کے جانور  کے وسیلہ سے، اسرائیل  کے لوگوں پر ثابت کِیا کہ کون  حقیقی زندہ خُدا تھا، اور یوں  اُن کی  جو بُتوں  کی پوجا کر رہے تھے، واپس  سچے  خُدا کی طرف  راہنمائی کی۔ یہی وجہ ہے کہ پُرانے  عہد نامہ کے آخر  میں، خُدا نے وعدہ کِیا، ’’ مَیں ایلیّاہؔ نبی کو تُمہارے پاس بھیجُوں گا ‘‘ کیونکہ تمام بنی  نوع  انسان جو خُدا کی شبیہ پر بنائے گئے تھے ، بت پرستی  اور بدروحوں  کی پرستش  کے غلط راستے پر  تھے، خُدا نے کہا کہ وہ  اُن کے پاس  اپنے خادم  کو بھیجے گا  جو اُن کی خُدا کی طرف  راہنمائی کرے گا۔ ایک  جو اِس طرح  آئے گا  یوحنا  اصطباغی  ہے۔
متی  ۱۱ :۱۳۔۱۴ بیان  کرتا ہے،’’ کیونکہ سب نبِیوں اور تَورَیت نے یُوحنّا تک نبُوّت کی۔اور چاہو تو مانو۔ ایلیّاؔہ جو آنے والا تھا یِہی ہے۔ ‘‘ یہ ایلیاہ جو آنے والا ہےکوئی اور نہیں بلکہ  یوحنا  اصطباغی  ہے۔ آیت  ۱۱۔۱۲ میں ، یہ لکھا  ہوا ہے،’’ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُؤا لیکن جو آسمان کی بادشاہی میں چھوٹا ہے وہ اُس سے بڑا ہے۔اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے دِنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اُسے چِھین لیتے ہیں۔ ‘‘
لہٰذاجب یہاں یہ کہا گیا  ہے  کہ ’’ جو عَورتوں سے پَیدا ہُوئے ہیں اُن میں یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہُؤا ،‘‘  اِس  کا مطلب  ہے  کہ خُدا نے یوحنا  اصطباغی کو تمام بنی  نوع  انسان کے نمائندہ کے طور پر اُٹھایا ۔ خُدا نے یوحنا  اصطباغی  کو یِسُوعؔ   کی پیدا ئش  سے  ۶ ماہ  پہلے  اِس  زمین  پر پیدا  ہو نے  کے  قابل  بنا یا ۔ اور  خُدا نے  اُسے  آخری  بنی  اور پُرانے عہد  نامہ  کے کاہن  کے طور  پر تیار  کِیا۔ اِس لئے ، زمین  کے سردار  کا ہن  کے طور  پر ، یوحنا  اصطباغی  نے یِسُوعؔ   مسیح  کو بپتسمہ دیا اور یوں تمام  بنی  انسان کے گناہوں کو اُس  پر لاددیا ۔ دوسرے لفظوں  میں،  یوحنا  اصطباغی  کے  یِسُوعؔ  کو بپتسمہ   دینے کی وجہ  دُنیا  کے تمام  گناہوں کو اُس  پر منتقل کرنا تھا۔ وجہ کیوں  یِسُوعؔ  مسیح نے یوحنا  اصطباغی  سے بپتسمہ لیا اپنے بپتسمہ کے وسیلہ  سے اپنے  آپ  پر بنی  نوع  انسان کے تمام گناہوں  کو اُٹھانا تھا۔
یہ ہے  کیوں  یِسُوعؔ   نے متی  ۳: ۱۵ میں کہا، ’’ اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ ‘‘ کیونکہ ساری  راستبازی  پوری  کی جاسکتی  تھی  صرف جب  یِسُوعؔ   نے یوحنا  اصطباغی  سے دُنیا  کے تمام  گناہوں  کو قبول  کرنے  کے لئے اپنا  بپتسمہ حاصل  کِیا، یِسُوعؔ  نے کہا کہ یہ مناسب  تھا۔
 
 
ہمارے خُداوندنے  اِس طریقےسےگنہگاروں  کو نجات دی ہے
 
یہ بپتسمہ  جو یِسُوعؔ   نے یوحنا سے حاصل  کِیا  اُسی  طرح  ہے جس طرح پُرانے  عہد  نامہ میں ہاتھوں  کارکھا  جا نا تھا۔ دوسرے لفظوں  میں،  یہ ہاتھوں  کا رکھا  جا نا  تھا جو پُرانے  عہد نامہ  کے دَور میں سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  سے پہلے  کسی  کے  گناہوں  کو  قر بانی  کے جانور  پر لادنے کے لئے کِیا جاتا  تھا۔ اِس  زمین  پر آنے  اور بپتسمہ لینے  کے وسیلہ  سے ، یِسُوعؔ   مسیح  نے ہاتھوں  کے رکھے  جانے  کا وعدہ  پورا کِیا وعدہ کِیا گیا جب کبھی  روزمرہ  کی قر بانیاں  دی جاتی  تھی  جہاں  گنہگار  اپنے گناہوں  کو اپنے  قر بانی  کے جانور  پر  اِس  کے سَر  پر اپنے  ہاتھوں  کورکھنے  کے وسیلہ سے لادتے  تھے، اور  جب کبھی  سالانہ  قر بانی ، یوم ِ کفارہ  کے دن ، ساتویں  مہینے کی دسویں  تاریخ کو دی جاتی  تھی،  جس کے وسیلہ  سے سردار  کا ہن  قر بانی  کے جانور  پر  اِس کے سَر  پر اپنے  ہاتھوں  کو رکھنے  کے وسیلہ  سےاسرائیلیوں  کے تمام  ڈھیر  سارے  سالانہ  گناہوں  کو لادتاتھا۔
پُرانے  عہد نامہ  کے ہاتھوں کے رکھے  جانے  کی طرح، کیونکہ  یِسُوعؔ   نے بپتسمہ لینے  کے وسیلہ  سے اپنے آپ  پر دُنیا  کے تمام  گناہوں  کو قبول  کِیا، اُس  نے اِن  تمام  گناہوں  کو دھودیا ، اور کیونکہ  اُس نے  بنی نوع  انسان  کے اِن  تمام  گناہوں  کو اپنے آپ  پر اُٹھالیا، اُس  نے ہماری  جگہ  پر اِن  گناہوں  کی سزا  برداشت کی  اور قربان  ہوگیا۔ یہ ہے  کیسے  یِسُوعؔ   مسیح ہمار ی نجات  کا سچا  خُدا  بن گیا۔
اِس طرح ، ہمیں   واقعی  ہی ماننا  چاہیے کہ ہمارے  گناہوں  کی وجہ  سے،  ہم اپنی  یقینی موت  اور سزا کا سامناکرنےسے بچ  نہیں سکتے تھے ۔ ہمیں  یقیناً اِسے  جاننا  اور   محسوس  کر نا چاہیے۔ اور ہمیں   یہ سمجھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ  مسیح  ہمارا نجات  دہندہ ہمیں  اِس زمین  پر آنے  اور ہماری  خاطر قر بان  ہو نے کے وسیلہ  سے بچا چکا ہے یعنی، اپنی  نجات  کے کاموں  کے وسیلہ  سے اپنے  بپتسمہ ، مصلوبیت  اور جی اُٹھنے   کے ساتھ ، یِسُوعؔ  مسیح ہمارے تمام  گناہوں  کو دھوچکا ہے  اور ہمارے  گناہوں  سے ہمیں مکمل طور پر بچا چکا ہے۔ ہمیں  یقیناً  یہ بھی  ایمان رکھنا  چاہیے کہ یِسُوعؔ ہمیں  نجات  کا تحفہ  دے چکا  ہے۔ یِسُوعؔ   مسیح  ساری  راستبازی  پوری  کر چکا ہے، تاکہ  اگر کو  ئی صرف  ایمان لائے اور  اگر    کو ئی صرف  قبول  کر ےتو، وہ یقیناً نجات  یافتہ  ہو گا۔
ہمیں  اِس بات کا احساس  دلانے  کےلئے، خیمۂاِجتماع  کے  صحن  کا دروازہ  آسمانی، ار غوانی اور سُرخ  دھاگے اور بارِیک بٹےہوئےکتان سے بنُا گیا تھا۔ یہی وجہ  ہےکہ اگر  ہم خیمۂاِجتماع   کے صحن  کے اِس  دروازہ  کو کھو لتے  اور داخل  ہو تےہیں تو ہم پہلے  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  دیکھیں گے۔ سو ختنی  قر بانیوں کی قربانگاہ پر پیش کی جانے والی قر بانیاں  بھی  نجات  کے اِس طریقے  کا پیش  خیمہ تھیں جس  کے وسیلہ  سے یِسُوعؔ   مسیح   ہمیں  بچا چکا ہے۔ سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  پر چڑھائی جانے والی قر بانیوں کو  گنہگاروں  کی بدکرداریوں کو اپنے اوپر ہاتھوں  کے رکھے  جانے  اور گنہگاروں  کی جگہ  پر موت  تک خون  بہانے سے قبول  کر نا پڑتا تھا۔ تب  قر بانیوں  کے جانوروں  کا  خون  قر بانگاہ  کے سینگوں  پر لگایا  جا تا ،اور باقی  زمین  پر چھڑکا جاتا تھا۔ تب ، وہ قربانگاہ  پر جانوروں  کا گوشت  اور چربی  سو ختنی  قر بانیوں  کے طور پر پیش  کر تے تھے۔ یہ وہ طریقہ تھا جس  کے وسیلہ  سے قر بانی  کے  جانور  خُدا کو دیئے جا تے تھے ۔ قر بانی  کے جانوروں  کی یہ تمام  خصوصیات  اُسی  طریقہ کے ساتھ  بالکل  ملتی جلتی ہیں جس کے وسیلہ سے یِسُوعؔ   مسیح ہمارا نجات  دہندہ  بن چکا ہے۔ دوسرے  لفظوں  میں، قر بانی  کے جانوروں  کے وسیلہ  سے خُدا  ہمیں دکھا چکا ہے  کہ یِسُوعؔ   مسیح  اِس  زمین  پر آئےگا  اور ہمیں  اِس طریقے سے بچائےگا۔
بغیرکسی نا کا می کے، گنہگاروں  کے  ہاتھ  سوختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ پر دیئے جا نے  والے  قر بانی  کے جانوروں  پر رکھے  جانے  پڑتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خیمۂاِجتماع   ہمیں پانی  اور روح  کی خوشخبری  بتا رہا  ہے۔ اِس  زمین  پر آکر ، یِسُوعؔ  مسیح  نے اپنے آپ  پر بنی نوع  انسان  کے گناہوں  کو لینے  کے لئے بپتسمہ لیا۔ بپتسمہ  نجات  کا مشابہ  ہے  جو یِسُوعؔ   مسیح نے خُدا باپ  کے سامنے  دُنیا  کے تمام  گنہگاروں  کے لئے قر بانی  کا برّہ بننے  کے واسطے  حاصل  کِیا۔
اِس خیمۂاِجتماع   کے ذریعے، اب  ہم واضح  ایمان  رکھ سکتے  ہیں۔بالکل جس  طرح  قر بانی  کے جانور نے یومِ کفارہ پر سردار  کاہن  کے ہاتھوں  کے رکھے  جانے کے وسیلہ  سے اسرائیل  کے لوگوں  کے گناہوں  کو قبول  کِیا ، اور  بالکل  جس طرح  اِسے  اُن کی جگہ  پر اُن کے گناہوں  کی وجہ سے  جو تب  تمام  اُس پر  لادے  جاچکے  تھےقر بان  ہو نا پڑتا  تھا ( احبار ۱۶)، یِسُوعؔ مسیح  اِس زمین  پر اپنے  آپ  پر ہمارے  گناہوں  کو  لینے  کے لئے  اور اِن  گناہوں  کے لئے  ہمارا  ذاتی  قر بانی  کا برّہ  بننے  کے واسطے، بے شک  ہمارا قر با نی  کا  برّہ بن گیا، اور یوں  ہمیں  ہمارے تمام  گناہوں اور سزا  سے بچا چکا ہے۔ اب ہم  محبت  کی اِس  نجات  پر مکمل  طور  پر ایمان  رکھ سکتے  ہیں۔ یہ اِس  سچائی  پر  ایمان  رکھنے  کے وسیلہ سے ہے  کہ ہم  شکر ادا کر سکتے  ہیں اور  اِس  محبت  کی نجات  کے لئے جو وہ ہمیں  دے چکا ہے  خُدا کو اپنا قر ض  ادا کر سکتے ہیں۔
کو ئی  معنی  نہیں  رکھتا  کو ئی  خیمۂاِجتماع   کے بارے  میں کتنا  صاحبِ علم  ہے،  اگر  وہ ایمان  نہیں  رکھتا  ہے ، تب  یہ سارا علم  بیکار  ہے ۔ اِس  طرح  ہمیں یقیناً سمجھنا  چاہیے،  اِسی   طرح   ایمان بھی   رکھنا چاہیےکہ
یِسُوعؔ   مسیح  کا بپتسمہ  واقعی ہی کتنا اہم ہے۔  خیمۂاِجتماع   تین  دروازے  رکھتا تھا، یہ سب  آسمانی ، ارغوانی  اور  سُرخ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  سے بنُے  گئے تھے ۔ لوگ    اپنی  جہالت  کی وجہ  سے خیمۂاِجتماع   کے ہر  دروازے کو مختلف  طور پر بیان کر سکتے  ہیں۔
دھاگوں  کی ترتیب  میں،سب سے  پہلے جو   بنُا   گیا تھا وہ  آسمانی  دھا گہ تھا، اِس کے بعد   ارغوانی دھاگے ، سُرخ  دھاگے، اور بارِیک بٹےہوئےکتان  کی ترتیب تھی ۔ صِرف  اِس  طرح سے دروازہ بنا نے  کے وسیلہ  سے ہی اِسےخیمۂاِجتماع   کا حقیقی دروازہ  قراردیا جا سکتا ہے، کیونکہ بالکل اِسی طرح خُدا  نےپُر انے عہد نامہ کے دُور  میں اسرائیلیوں  کو اِسے تعمیر  کر نے کا  حُکم  دیاتھا۔
اِس  طریقہ  سے دروازے بنائےجانےکی ایک  وجہ  تھی  ۔ اِس بات سے قطع نظر کہ   کیسے  یِسُوعؔ   مسیح  اِس زمین  پر  انسان  کے بدن  میں کنواری  مریم  کے بدن  کے وسیلہ  سے بنی  نوع  انسان کے نجات  دہندہ کے طور  پر پیدا  ہوا تھا ، اگر  وہ پہلی تر جیح  میں  اپنے آپ  پر  ہمارے گناہوں  کو اُٹھانے  کے لئے  بپتسمہ  نہ لے  چکا  ہو تا تو، وہ ہمارا سچا نجات  دہندہ  نہیں  بن  سکتا تھا ۔ اگر  وہ بپتسمہ  نہ لے  چکا  ہوتا تو، وہ مصلوب  نہیں ہو سکتا  تھا  اور نہ ہی صلیب  پر  مرسکتا  تھا۔ اِس  طرح ، آسمانی  دھاگہ  پہلے  بنُا جا نا  تھا، اور  اِس کی متعلقہ اہمیت  بھی  اہم  تھی۔
 
 
ہمیں  کس پر  یقیناً ایمان  رکھنا چاہیے
 
لہٰذا، ہمیں یقیناًیِسُوعؔ مسیح  پر ایمان  رکھنا چاہیے  جوہمیں  ہمارے  گناہوں  سے بچا چکا ہے۔ ہم  حقیقی معنوں میں اُسی وقت   نئے سرے سے پیدا    ہوسکتے ہیں  جب  ہم اِس  نجات  پر ایمان  رکھتے ہیں جو خُدا  کا  یہ بیٹا ،یِسُوعؔ  مسیح ہمارا نجات  دہندہ  ہمیں نجات  دے چکا ہے۔ جب ہم  خُدا  کے بیٹے  پر ہماری  نجات  کے خُدا  کے طور  پر ایمان رکھتے ہیں، اور  جب ہم  سچائی  پر ایمان  رکھتے ہیں  کہ وہ اِس  زمین  پر آیا  ، اور ہمارے  لئے بپتسمہ لینے  کے وسیلہ  سےایک  ہی بار  اپنے  آپ  پر ہمارے  گناہوں  کو اُٹھا لیا ، اور صلیب  پر ہماری  سزا  برداشت  کی ، تب  ہم سب  اپنی حقیقی  نجات حاصل  کر سکتے ہیں۔
کیونکہ  یِسُوعؔ   مسیح ہمارے  گناہوں  کو کسی  دوسرے  طریقہ  سے  اپنے   اوپر نہیں   لے سکتا   تھا   بلکہ 
اپنے  بپتسمہ کے وسیلہ  سے ، صرف ِہمارے  گناہوں  کو اِس  دُرست طریقہ سے  برداشت  کر نے  کے وسیلہ  سے وہ صلیب پر جا سکتا  تھا، اپنا  خون بہا  سکتا  اور اِس  پر مر سکتا تھا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ   وہ کیسے  خُدا  کا بیٹا  ہے  اور وہ  کیسے  ہمارے  نجات  دہندہ کے طور  پر  اِس  زمین  پر آیا، اگر  وہ اپنے  بپتسمہ  کے وسیلہ  سے  اپنے  آپ  پر ہمار ے گناہوں  کو نہ  اُٹھا  چکا  ہو تاتو،  ہماری نجات اِس  دُنیا  میں  کبھی  نہیں مل سکتی  تھی۔
لہٰذا، آپ کے واسطے  بھرپور کامل  یقین رکھنے کے لئے تفصیل  سے کتاب  مقدس  کے شواہد  کی تصدیق  کر نا  انتہائی ضروری ہے کہ آپ  کے گناہ  پہلے  ہی مٹائے  جا چکے  ہیں۔
آئیں ایک لمحہ کے لئے فر ض  کر یں  کہ آپ  پر بھاری  قر ضہ ہے۔پھر  کو ئی آپ  سے کہتا  ہے،’’ فکر مت  کر و؛ مَیں اِسے  تمہارے لئے  ادا کرونگا۔ پریشان ہونے کی ضرورت  نہیں ہے؛ مَیں اِس مسئلے  کوحل  کر دُونگا۔‘‘ جب  کبھی  آپ  اُس  سے ملتے  ہیں، یہ شحض  ہمیں  بتا نا جا ری رکھتا  ہے،’’ کیا  مَیں نے تمہیں  نہیں بتایاکہ پر یشان  مت ہوں ؟ مَیں نے تمہیں کہاتھا کہ  مَیں  اِس  کی فکر  کر وں گا!‘‘ آئیں  ہم مزیدفر  ض  کریں  کہ وہ  شخص  حتیٰ کہ،یہ کہتےہوئےناراض ہو جاتا ہےکہ تم کیوں اِس پر یقین نہیں کرتے۔یہاں تک کہ اگر یہ شخض ہر  روز  آپ  کو  بتاتا  ہے ،’’ مَیں  نے سب  ادا کر دیا ؛  بس  مجھ  پر بھروسہ  رکھو ،’’ جب  اُس  نے حقیقت مَیں آپ  کا قر ضہ  ادا نہیں کِیا تو، کیا   آپ  واقعی  اُس  پریقین کرکے اِس  قر ض سےآزاد  ہو جا ئیں  گے؟ ہرگز نہیں!
یہ کوئی معنی نہیں رکھتا کہ   وہ  آپ کو کتنےہی  اعتماد  کےساتھ کہتا  ہے،’’ اگر تم  مجھ  پر بھروسہ  رکھتے ہوتو ، تمہارا  سارا قر ضہ  اداہوجائےگا ،’’ اگر  اُس  نے حقیقت  میں  اُسے  ادا  نہیں  کِیا ، تب  آپ  کا قر ضہ  قائم  رہتا ہے ، اور  یہ شخض  صرف آپ  کو دھوکہ  دے رہا  ہے۔ پس  آپ  اُسے  بار بار پو  چھتے  ہیں،’’ تو  کیا تم   نے میرا  قر ض  ادا کر دیا؟‘‘ تب  وہ آپ  سےباربار  کہتا ہے،’’ آپ  کیوں  اتنے  شکی  ہیں؟ بس مجھ  پر غیرمشروط  بھروسہ  رکھو ! مَیں نے  تمہیں بتایا  تھاکہ  مَیں  نے  تمہارا سارا قر ض  ادا کر دیاہے ۔ سب   جو آپ  کو کر نا  ہے  صرف مجھ  پر یقین  رکھنا  ہے ، اور  پھر  بھی تم  اتنے   شکی  ہو ! ایسے مت  بنو!‘‘ تو ، آئیں دوبارہ  فرض  کر یں ، آپ نے  اپنے پورے  دل  کے ساتھ  اُس پر  بھروسہ  کِیا ۔ لیکن  کو ئی  معنی  نہیں رکھتا  کہ آپ  نے  اُس  پر کتنا  یقین کِیاہو، اگر  اُس  نے  حقیقت میں آپ  کا قر ض  ادا نہیں کِیا ، تو  اُس  کی باتیں سب  جھوٹ ہیں۔
 
 
آج کے مسیحیوں کا ایمان اِسی طرح ہے
 
آج  کے  مسیحی کہتے  ہیں،’’ یِسُوعؔ   آپ  کو صلیب  پر اپنا  قیمتی خون  بہانے  کے وسیلہ  سے بچاچکا  ہے۔ اُس  نے وہاں  گناہ کی ساری  سزا برداشت  کی۔ یہ ہے  کیسے  وہ  آپ  کو بچا چکا  ہے۔’’ بہت  سارے  پاسبان  اِسی طرح  اپنے  اجتماعوں  میں منادی  کر تے  ہیں۔ جب  اجتماع میں  سے کو ئی  اُٹھتا  ہے  اور ا ُن سے کہتا ہے ،’’ لیکن  مَیں پھر بھی گنہگار ہوں ،‘‘ وہ  کہتے  ہیں،’’اِس کی وجہ  یہ  ہے  کہ تمہارا  ایمان  کم ہے ۔ صِرف  ایمان  رکھو!تمہاری  بے اعتقادی  کے علاوہ  تمہارا  کو ئی گناہ نہیں ہے!‘‘ ’’ مَیں بھی واقعی ایمان  رکھنا  چاہتا ہوں ،جناب۔ لیکن  مَیں نہیں  جا نتا  مَیں کیوں  ایمان نہیں رکھ سکتا ۔‘‘ مَیں نہیں  جا نتا  کہ مَیں ایمان رکھنے کے باوجود بھی کیوں  گنہگار  ہو ں  ۔ مَیں واقعی  ایمان  رکھتا  ہوں ۔‘‘ ’’  تم  کا فی  ایمان نہیں  رکھتے  ہو ۔ تمہیں  زیادہ ایمان  رکھنے  کی ضرورت  ہے۔ ایک پہاڑ پر  چڑھ  جاؤ اور  روزہ  رکھنے  کی کوشش  کر و ۔ اپنے کھانوں  کو چھوڑتے  ہو ئے ایمان  رکھو۔‘‘ ’’ کیا مَیں کھانوں  کو  چھوڑنے  کے بغیر  محض ایمان  نہیں رکھ سکتا  ہوں؟‘‘ ’’ نہیں، تمہیں  روزہ رکھتے  ہو ئے ایمان رکھنے  کی کو شش  کر نی ہوگی۔‘‘
آج کے بہت  سارے  پاسبان  آپ  کو ایمان  رکھنے  کے لئےکہتے  ہیں، مگر  وہ آپ  کے گناہوں  کا مسئلہ  حل  نہیں کر تے  ہیں، اور وہ صرف ایمان  نہ رکھنے  کے لئے  آپ  کو جھڑکتے  ہیں۔ آپ  کے طرف سے ، آپ  ایمان رکھنے  کی کو شش  کر تے  ہیں اور پھر  بھی  یہ  ایمان  رکھنا  انتہائی مشکل  ہے ، یا  آپ واقعی  اندھا  دھُند  ایمان  رکھتے  ہیں  لیکن  آپ  کے  گناہوں کامسئلہ  پھر بھی قائم  رہتا ہے ۔ یہاں  کیا غلط ہے؟ اِس  کی کیا  وضاحت  کر سکتے  ہیں؟ لوگ سچا  اور مضبوط  ایمان نہیں  رکھ سکتے  ہیں  کیونکہ  وہ نہیں جانتے  کہ یِسُوعؔ   مسیح  نے بپتسمہ لینے  کے وسیلہ  سے اُن   کے  تمام  گناہوں  کو اپنے آپ  پر  اُٹھا  لیا  ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے  کہ  وہ    فریبوں پر ایمان  رکھتے  ہیں جس  کے ساتھ  وہ اپنے  گناہوں کا مسئلہ  حل نہیں کر سکتے  ہیں خواہ وہ کتنا   ہی ایمان رکھتے ہیں۔
کیا   ایمان  صِر ف  بغیر کسی حتمی  ثبوت  کے غیر مشروط یقین کرنے سے حاصل  ہو تا ہے؟ ہرگز  نہیں ! مکمل ایمان  ایک ہی  بار حاصل  ہو تا  ہے صرف جب آپ  جا نتے  ہیں  کہ آپ  کے گناہ  کا مسئلہ  واقعی کیسے  حل کِیا گیا  اور اِس  پر ایمان  رکھتے  ہیں۔’’ گو  مَیں تجھ  پر شک  کر چکا تھا ، لیکن یہ بہت  واضح  ہے  کہ تُو پہلے  ہی میرے  گناہوں  کے مسئلے  کو حل  کر چکا ہے۔ کو ئی معنی  نہیں رکھتا  مَیں ایمان  نہ رکھنے  کی  کتنی  کو شش کر تا ہوں ، مَیں تمہاری  نجات  پر ایمان  رکھنےکےسواکچھ نہیں کرسکتا  ہوں، کیونکہ یہ نجات  بہت یقینی ہے ۔ میرے  مسئلے کو  حل  کر نے  کے لئے  آپ  کا شکر   ہو۔ ‘‘ دوسرے  لفظوں میں ، گو  ہم پہلے  شک  کر سکتے  ہیں ، کیونکہ  ہماری  نجات  کا ثبوت  اتنا   یقینی ہے  کہ ہم  مزید  کو ئی شک  نہیں کر سکتے  ۔ ہماری  نجات  کے نشان  اور  اِس کے ثبوت  کے طور  پر ، یِسُوعؔ   ہمیں  اپنی  پانی  اور روح  کی خوشخبری  کہلانے  والی  رسید  دکھا چکا ہے۔’’ مَیں  تمہارا قرض  تمہارے  لئے اِس  طریقے  سے ادا کر چکا ہوں ۔‘‘ صِرف جب  ہم اِس رسید  کو دیکھتے  ہیں جو ہمیں  دکھاتی  ہے  کہ ہمارے  تمام  قر ضے ادا کئے  جا چکے  ہیں تو  ہمارے  پاس  سچا ایمان  آسکتا ہے۔
ہم ایمان نہیں  رکھ  سکتے  ہیں  حتیٰ  کہ  جس طرح  ہم خُدا  پر ایمان  رکھنے  کا اقرار کر تے  ہیں ، کہتے  ہیں کہ  یِسُوعؔ  مسیح ، بذاتِ خود  خُدا ، ہمارا نجات  دہندہ  ہے ، اور  نجات  دہندہ  پر ایمان رکھنے  کا دعویٰ کر تے ہیں، جب  ہم ثبوت  نہیں رکھتے  ہیں کیسے  وہ ہمیں  بچا چکا ہے اور  کیسے  ہمارے  گناہ  مٹائے  گئے  تھے ۔دوسرے لفظوں میں، ہم  مضبوط  کامل  یقین نہیں  رکھ سکتے  ہیں جب  تک  ہم ہمارے گناہوں  کی قیمت  کی پوری  ادائیگی  کو دکھانےوالی رسید  نہ دیکھ لیں۔ جولوگ  اِس  رسید  کو دیکھےبغیر  ایمان رکھتے  ہیں،وہ شاید  پہلے  ایمان کا ایک  مضبوط احساس  رکھنے  کے لئے  ظاہر  ہو سکتے  ہیں لیکن  اُن کا  ایمان، حقیقت میں اندھا  ہے ۔ یہ ایک  جنونی ایمان سے زیادہ  نہیں ہے۔
 
 
کیا آپ  ایک  جنونی ایمان کو ایک  اچھے  ایمان  کے طور پر خیال  کر تے ہیں؟
  
آپ کیسے پسند  کر یں گے  اگر  ایک پاسبان جنونی  ایمان  کے ساتھ  اِسی  جنون  کا دوسروں  سے بھی  مطالبہ  کر ے،’’ ایمان رکھیں! آگ   کو حاصل  کر یں! آگ ،آگ،آگ ! روح القدس  جو آگ  کی مانند  ہے  ہمیں  آگ  کے ساتھ  بھر! مَیں ایمان  رکھتا  ہوں  کہ خُدا  آپ  سب کو برکت  دے گا! مَیں ایمان  رکھتا ہوں  کہ وہ آپ  سب کو  مالا مال  کر ے گا ! مَیں ایمان رکھتا ہوں  کہ وہ آپ کو   برکت  دے گا! مَیں  ایمان  رکھتا ہوں  کہ وہ آپ کو  شفا دے گا !‘‘  جب   اَیسا  پاسبان  اِس قِسم  کے شو کو  پیش کرتا ہےتو، سامعین  کے کان  بجنے  لگتےہیں اور اُن کے دل  اُچھلنے  لگتےہیں،  اعلیٰ ترین  معیار کے ساؤنڈ سسٹم  کےذریعے، جب  وہ چلانا  شروع  کر تا ہے،’’ آگ ، آگ ،آگ ،‘‘  سامعین  کے دل  اُس  کی شاندار آواز  پر اُچھلنےلگتےہیں۔ تب  وہ جذباتی  طور پر مغلوب  ہو جا تے  ہیں گویاواقعی  ایک مضبوط ایمان   اُن کے پاس  آچکا ہے ، اور  روتے ہیں، ’’ اے خُداوند
یِسُوعؔ ، آ! ہاں ، اے  روح القدس آ!‘‘
اُس وقت کےبارےمیں، پاسبان  پھرسا معین کے جذبات  کویہ کہہ کر مزید بھڑکاتا   ہے،  ’’ آؤ ہم دُعا مانگیں ۔ مَیں ایمان  رکھتا ہوں  کہ روح القدس  اب اُتر  رہا  ہے  اور  ہم  سب  کو بھر رہا ہے ۔‘‘بینڈ کے پُرجوش  گیت  جلدہی  اِس کی  پیروی  کر تے ہیں، اور لوگ  اپنے ہاتھوں  کو  بلُند  کر تے ہیں، جو ش  و خروش  کے ساتھ  پاگل  ہو تے  ہیں ، اور  اُن کے  جذباتی اشتعال عروج پر پہنچ  جا تےہے۔ دُرست  نکتہ  پر ، یہ وہ وقت ہے  جب  پاسبان  کہتا ہے ،’’ آئیں  ہم اپنی  نذریں پیش کر یں ۔ خاص طور پر،  اِس  شام  ، خُدا  آپ  سے ایک  خاص  نذرانہ  وصول  کر نا چاہتا ہے ۔ آئیں  ہم سب  خُدا کو یہ خاص  نذرانہ پیش  کر یں۔‘‘
اپنے  جذبات  سے مغلوب  ہو کر، لوگ  تب  اپنی  جیبیں  خالی  کر لیتے  ہیں۔ یہ  جھوٹا  پاسبان  پہلے  ہی ایک  بہت  بڑا  پلپٹ  تیار کر چکا ہے جو کہ تمام  جمع ہو ئے پیسوں  کو ا کٹھا کر نے  کے لئے  کا فی  بڑا  ہے، اور  تتلیاں  پکڑنے والی  درجنوں جا لیوں  کو ( ہدیے کی ٹوکر یوں  کو ) اِس  کے سامنے  رکھتا ہے۔ جب  بینڈ گیت  بجانا شروع  کرتا ہے  اور لوگوں  کے دل  اپنے جو ش سے مغلوب  ہو جاتے  ہیں تو، وہ  تب  تتلیاں  جمع  کر نے والوں  کو ( ہد یے کی  ٹوکر یوں کو آگے منتقل کرنے والے رضاکاروں کو ) سا معین کے درمیان بھیجتا ہے۔
یہ جھوٹ بول کر کہ  زیادہ  نذریں  دینے  کا مطلب  زیادہ  برکات  ہیں، اور لوگوں  کے جذبات  کو بھڑکاکر، اَیسے  جھوٹے  پاسبان  لوگوں  کو اپنے آنسو  بہانے  اور  بٹوے  کھولنے  پرمجبورکرتے ہیں۔  یہ ا ُ  نہیں  احساس  کئے بغیر  اُنہیں  اُن کی  عقل  اور سمجھ  سے محروم  کر نے اور اِس  کی بجائے  اُنہیں  اُن  کے جذبات  سے  مغلوب  کر نے کے وسیلہ  سے اپنے  پیسے  اُن  کے حوالے  کر ناہے۔ یہ نہ تو خُدا  کے کلام  پر مبنی ہےاور، نہ  ہی کسی  قِسم  کے خطبےپرمبنی ہے ، بلکہ  ایک  جنونی اور  اندھا  عمل  ہے جو دھوکہ دہی  پر مبنی  ہے۔ اِس  طرح ، وہ پاسبان  جن کا ایمان  جنونی ہے لوگوں کے جذبات کو اپنے مَذمُوم  مقاصد  تک  پہنچنے کے لئے بھڑکاتے ہیں۔
اگر  ہم جانتے  ہیں کہ ہمارے  خُداوند   نے اپنے بپتسمہ  کے وسیلہ  سے اپنے آپ  پرہمارے  گناہوں  کو اُٹھا لیا ، اور  اگر  ہم اِس  یِسُوعؔ   مسیح  پر ہمارے  نجات  دہندہ  کے طور پر ایمان  رکھتے  ہیں، تب  ہم نہیں  ہلتے ہیں، بلکہ  سکون  سے رہتے  ہیں۔ واحد  چیز  جو ہمیں   چپکےسے  متاثر کرتی   ہے وہ یہ ہے  کہ یِسُوعؔ   نے اپنے  بپتسمہ  کے ساتھ  ہمارے  گناہوں  کو کندھا  دیا  اور موت تک مصلوب  ہوا تھا۔ جب  ہم اِس  کے بارے  میں سوچتے  ہیں کہ یِسُوعؔ  ، بذاتِ خود  خُدا  نے، اپنے  بپتسمہ کے ساتھ  اپنے آپ  پر ہمارے  گناہوں  کو اُٹھالیا اور اِن  گناہوں  کی قیمت ادا کر نے  کے لئے  مرگیاتو، ہم  بےحد  شکرگزار ہو جاتے  ہیں، اور  ہمارے دل  ایک عظیم  خوشی  سے بھر جاتے  ہیں۔ تاہم ، ہمارے  دلوں  میں یہ پُرسکون  الہام  اِس دُنیا  میں کسی بھی  دوسری  چیز  سے زیادہ  عظیم  ہے؛  نہ محبت  کا کو ئی  رومانوی اقرار اور نہ ہی  اِس دُنیا  کےسب سے  قیمتی    ہیرے کا کوئی تحفہ    ہمیں اِس  سے زیادہ   متاثر  کر سکتا  ہے۔
اِس کے برعکس ، جنونیوں کی جذباتی تحریک زیادہ  دیر  تک قائم نہیں رہتی ہے۔ گو وہ  اِس  الہام  میں تھوڑی  دیر  کے لئے  زندہ  رہ سکتے ہیں، جب  وہ ہر روز  گناہ  کر تے  ہیں اور اَیسے  گناہوں  سے ذلیل  ہو تے  ہیں، وہ بچ  نہیں سکتے  ہیں بلکہ  اپنے  چہروں  کو شر م  سے چھپاتے ہیں۔’’ جب  یِسُوعؔ   نے ہماری  سزا برداشت کی اور ہمارے  لئے صلیب  پر مرگیا ، تب بھی مَیں ہر روز  کیوں  گناہ کر تا ہوں؟‘‘ پس  وہ اپنے  چہرے کھو   بیٹھتے ہیں  اور  جو نہی وقت  گزرتا  ہے  مزید   پرُجوش  نہیں ہو سکتے ہیں؛  اور کیا  ہے،  شرم  کی وجہ سے، وہ  خُدا کے  سامنے  بھی نہیں  جا سکتے ہیں۔
  یہ ہے  کیوں  خُدا  ہمیں  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  دکھا  چکا ہے ۔ قر بانی  کا جانور  جو قر بانی  کے نظام  کے  مطابق  سو ختنی  قر بانی  کی اِس  قر بانگاہ  پر دیا  جاتا  تھا یِسُوعؔ   مسیح ہمارے  نجات  دہندہ  کے علاوہ  کو ئی دوسرا نہیں تھا۔ اِس  طرح ، سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  ظاہر  کر تی  ہے  کہ یِسُوعؔ   اِس  زمین  پر  آیا  اور درحقیقت  آسمانی ، ارغوانی ، اور  سُر خ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  کے وسیلہ  سے ایک  ہی بار  ہمیشہ کے لئے ہمیں  بچا چکا ہے۔ خُدا  ہمیں   سو ختنی  قر بانی  کی یہ قر بانگاہ  دیکھنے  کے قابل  کر چکا ہے، اور وہ چاہتاہےکہ ہم   اِس پر  ایمان  رکھنے  کے وسیلہ  سے   نجات  یافتہ  پائیں۔
 
 
 یہ کیا ہے جو ہمیں  یقیناً اِس دَور میں کر نا  چاہیے؟
  
بہت  ساری  چیزیں  ہیں  جوہم  نئے  سروں  سے پیدا ہوؤں  کو  یقیناً اِس دَور  میں  کر نی چاہیے ۔ سب  سے پہلے،ہمیں تمام  دُنیا  میں پانی اور  روح  کی خوشخبری  کی منادی  کر نی  ہے۔ ہمیں  یقیناً اُن تک  سچائی  کو پھیلانا چاہیے  جو آسمانی ، ارغوانی  اور سُر خ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  کی اِس  سچائی سے ناواقف  ہیں، اور یوں ہمیں  یقیناً اُ نہیں جہنم  کی آگ  کی سزا  سے بچانےمیں اُن کی مددکرنی چاہیے۔ کیوں ؟ کیونکہ  بہت  سارے  لوگ  ایسے  ہیں  جویہاں تک کہ خیمۂ اِجتماع  میں ظاہر  ہونےوالی  پانی اور   روح   کی خوشخبری  کو سمجھے
اور  ایمان  رکھے  بغیر  یِسُوعؔ   کی پیروی  کر رہے ہیں۔
اِس سچائی کواُن  تک پھیلانے  کے لئے ، ہمارے  پاس  اب تک  کر نے  کے لئے بہت  سارےکام موجود  ہیں۔ ہمیں  اپنی  کتابیں  چھاپنی  ہیں  جوپوری  دُنیا  میں  بھیجی جاتی  ہیں؛اِن کتابوں کے تر جمے  ، مطالعاتی  تصدیق  اور  ایڈیٹنگ سے لے کر اِن کوچھاپنے  کے لئے،اوردُنیابھر کے ممالک میں بھیجنے کے لئے ضروری  فنڈ  کو محفوظ کر نے کے واسطے ، درحقیقت  بہت  سارے  کام  ایسے  ہیں   جنہیں  کر نے کی ضرورت ہے۔
پس  جب  ہم اپنے  ساتھی  کارکنوں  اور خادموں  کو دیکھتے  ہیں تو، ہم دیکھتے  ہیں کہ وہ سب  کتنے  مصروف  ہیں۔ کیونکہ  خُدا  کی کلیسیا کےتمام  مقدسین اور کارکنان  اِس طریقہ  سےبہت  مصروف  ہیں، وہ جسمانی  طور  پر کچھ  مشکل  وقت  میں سے گزر رہے ہیں۔ یہ کہا جاتا  ہے کہ میرا  تھن  میں دوڑنے  والے  اپنی  ۱۹۵.۴۲ کلو میٹر  دوڑ  میں ایک خاص مقام تک   پہنچ جاتے  ہیں  جب  وہ اتنے  تھک  جاتے  ہیں کہ اُنہیں یہ بھی احساس نہیں   ہوتا  کہ  وہ دوڑ رہے  ہیں  یا بالکل مختلف کو ئی   دوسری  چیز  کر رہے  ہیں۔ مختصر، یہ کہ انتہا  کی تھکاوٹ  اُ نہیں  ذہنی طور  پر خالی کر دے گی ۔ شاید  اب ہم  بھی  خوشخبری  کے لئے  اپنی  دوڑ میں اِس  مقام تک پہنچ  چکے ہیں۔ خوشخبری  کے لئے اپنی زندگیاں  گزارنا  اپنے  مقصد  کی جانب بغیر رُکے، ایک  لمبے  فا صلے  کی دوڑ دوڑنے  کی مانند  ہے  جیساکہ میرا تھن  میں دوڑنے والے  کر تے ہیں۔ کیونکہ خوشخبری  کے لئے   ہماری    دوڑ یقیناً ہمارے  خُداوند  کے آنے  کے دن  تک  جاری رہے گی،  ہم سب مشکل  کا سامنا  کر تے ہیں۔
لیکن  کیونکہ ہمارا خُداوند  ہم میں ہے ، کیونکہ  ہم پانی  اور روح  کی خوشخبری  رکھتے  ہیں، کیو نکہ  ہمارا  ایمان  یقین  رکھتا ہے  کہ خُداوند  ہمیں  آسمانی ، ارغوانی  اور سُرخ  دھاگے  اور  بارِیک بٹےہوئےکتان  کے ساتھ  بچا چکا ہے ، اور کیونکہ  ہم سب سے  یقینی  سچ  پر ایمان  رکھتے ہیں،  ہم سب  نئی قوت  حاصل  کر سکتے  ہیں۔ یہ اِس لیےہے  کہ  یِسُوعؔ   ہمیں  نجات  کا تحفہ  دے چکا ہےکہ  آپ  اور  مَیں  یہ تحفہ  حاصل  کر چکے  ہیں۔لہٰذا  ہماری جسمانی مشکلات ہمیں پریشان نہیں کرسکتیں۔ اِس کے برعکس ، یہ  جتنی زیادہ  مشکل  ہو تی جائے گی، راستباز اُتنی ہی  قوت    پاتا  ہے ۔ مَیں  واقعی  خُداوند  کا شکر ادا کر تا ہوں۔
روحانی  طور پر ، ہمارے  دلوں  میں،  ہماری  سوچوں  میں ،اور اپنےتمام  حقیقی  گردونواح  میں، ہم  نئی  قوت  محسوس  کر سکتے  ہیں جو ہمارا  خُداوند  ہمیں  دے چکا ہے، اور  کہ وہ  ہمارے ساتھ  ہے۔ کیونکہ  ہم محسوس  کر سکتے  ہیں کہ وہ ہماری  مدد کررہا  ہے اور ہمیں  سنبھال  رہا ہے،  اور  یہ کہ  وہ ہمارے  ساتھ  ہے، ہم اُس کااوربھی زیادہ  شکر اداکرتے ہیں۔ پس، پولوس  رسول  نے بھی کہا، ’’ جو مُجھے طاقت بخشتا ہے اُس میں مَیں سب کُچھ کر سکتا ہُوں ‘‘ ( فِلپّیوں  ۴ :۱۳)۔ اِس لئے  ہم  ہر  روز  اقرار کر تے  ہیں کہ اگر  خُداوند  ہمیں قوت  نہیں دیتا  ہے توہم  کچھ بھی نہیں کر سکتے  ہیں ۔ نہ صرف  یِسُوعؔ  مسیح نےہمارے  لئے بپتسمہ لیا ، بلکہ  وہ ہمارے  لئے مصلوب  ہو  کرقر بان  بھی ہوا ، اپنی  موت  کا سامنا  کِیا ، پھر  مُردوں  میں سے جی اُٹھا، اور یوں  ہمارا  حقیقی نجات  دہندہ  بن چکا ہے۔ جب  کبھی  ہم سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کو  دیکھتے  ہیں، ہم  اپنے آپ  کو اِس سچائی   کی یاد  دلانے  کے لئے آتے ہیں۔
سو ختنی قر بانی  کی قر بانگاہ  کیکر  کی لکڑی سے بنائی گئی تھی ، اوراِسےاندراور باہر  سے موٹےپیتل  کے  ساتھ  منڈھا گیا  تھا ۔ اِس  کی اُونچائی تقریباً ۳۵.۱میٹر تھی  ،اور اِس  کی انگیٹھی،پیتل  کی جا لی کو، اِس کے وسط کےقریب ، تقر یباً ۶۸ سینٹی میٹر اُونچائی پر رکھا گیا تھا۔ قر بانیوں  کا گوشت  اِس  انگیٹھی  پر رکھا  جا تا  اور جلایا  جا تا تھا۔
جب  کبھی  ہم سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کو دیکھتے ہیں،تو ہمیں  یقیناً  اپنے آپ  کو دیکھنے  کے قابل  ہو نا چاہیے  جس طرح  ہم ہیں ۔ ہمیں  یقیناً یہ بھی  دیکھنے  کے قابل  ہو نا چاہیے  کہ یِسُوعؔ   مسیح   نے اپنے  بدن  میں بپتسمہ لےکر اپنے آپ  پر ہمارے  گناہوں  کو اُٹھالیا ، اوریہ کہ   اُس  نےصلیب  پر اپنا  خون  بہانے  کے وسیلہ  سے ہمارے  گناہوں کی تمام لعنت برداشت کی۔آپ اور مَیں واقعی اپنے گناہوں اور لعنت کی وجہ سے خُدا کے سامنے مرنے سے بچ نہیں سکتے تھے۔ہمارے گناہوں اور لعنت  کی وجہ  ،آپ اور مَیں مرنے اور ہمیشہ کے لیے ملعون ہونے سے بچ نہیں سکتے تھے۔لیکن یِسُوعؔ  مسیح  کی وجہ  سے، جو  اِس  زمین  پر کفارے  کی ابدی قر بانی  کے طور پر آیا ، سب کے لئے  ،بپتسمہ  لیا،  اور مرگیا، پُرانے  عہد نامے  کے قربانی  کے جانور  کی مانند  ،ہم بچائے جاچکے ہیں۔
ایک قر بانی  کا جانورزندہ حالت میں  شاید  خوبصورت  اور پُرکشش نظر آسکتا  ہے ، لیکن  ہاتھوں  کے رکھے  جانے  کے وسیلہ  سے گناہوں  کو قبول  کر نے  کے بعد،جب اِس کا گلاکٹ جائےگاتو،یہ کتنا بھیانک ہو گا  جب  یہ موت  تک خون  بہاتا ہے ۔یہ کہ  ہم ، جو  اِس  بھیانک طریقے سے مرنے  کے  مستحق  تھے ،ہماری  سزا سے بچ  گئے ہیں ، واقعی  ایک  عظیم  برکت  ہے ۔ یہ برکت  ممکن  ہو چکی ہے  کیونکہ  خُداوند  ہمیں  نجات  کا تحفہ  دے چکا ہے ۔  بالکل جس طرح  آسمانی ،  ارغوانی  اور سُر خ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  میں ظاہر  ہوتاہے،  اسی طرح یِسُوعؔ   مسیح  ایک انسان  کے بدن  میں  اِس  زمین  پر آیا ، آپ  کو  اور مجھے  اپنے بپتسمہ  اور صلیبی  خون  کے وسیلہ  سے بچاچکا ہے، اور یوں ہمیں  نجات  کا حقیقی تحفہ دے چکا ہے۔ اِس طرح  خُدا آپ  کو  اور مجھے  نجات   کا  تحفہ  دے چکا ہے کیا  آپ  اپنے دلوں  میں اِس  پر ایمان  رکھتے  ہیں؟ کیا آپ نجات  کے اِس  تحفے  ، یِسُوعؔ   کی محبت  پر ایمان رکھتے  ہیں؟ ہم سب  کو یقیناًیہ ایمان رکھنا چاہیے۔
جب ہم  سو ختنی  قر بانی  کی قر بانگاہ  کو دیکھتے ہیں، توہمیں  یقیناً یہ سمجھنا  چاہیے کہ یِسُوعؔ  مسیح  ہمیں اِس  طریقہ  سے بچا چکا ہے ۔ وہ ہمیں  نجات  کا تحفہ  دینے کے لئے  اِس طرح  قر بان  ہوا تھا۔ جس  طر ح قر بانی  کے جانور  پر ہاتھ  رکھے  جاتے  تھے ، اور  جس طرح  یہ قر بانی  کا جانور  موت  تک خون  بہاتا تھا ،یِسُوعؔ   مسیح  ہمیں  ہماری  نجات  اِسی  طریقہ  سے دُکھ  اُٹھانے  کے وسیلہ سے دے چکا ہے۔ یہ ہے  کیسے  وہ ہمیں  ہمارے  گناہوں  سے بچاچکا ہے۔ ہمیں  یقیناً  اِس کا ا حساس  کر نا ، خُدا  کے سامنے  ہمارے  دلوں میں ایمان رکھنا  اوراپنے  پورے  دلوں کے ساتھ  اُس  کا شکرادا کر نا چاہیے۔
خُدا  چاہتا ہے  ہم ایمان  کے وسیلہ  سے نجات  کا تحفہ  اور محبت  حاصل  کر یں  جو وہ  ہمیں دے چکا ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ ہم اپنے  دلوں  میں بپتسمہ  اور صلیبی خون  کی نجات  پر ایمان رکھیں  جو اُس  نے پانی  اور روح  کے وسیلہ  سے آنے  کی معرفت  پوری کی ۔ یہ میری اُمید  ہے کہ آپ  سب  اپنے دلوں میں    ہمارے  خُداوند  کی محبت پر  ایمان  رکھیں گے اوراِن میں واقعی  اُس  کے نجات  کے تحفے کو قبول  کر یں گے ۔ کیا  آپ  واقعی اِسے  اپنے دلوں  میں قبول  کر تے  ہیں؟
 
 
کو ن اِس طریقہ سے آپ  کے لئے  قر بان ہوا تھا
 
مَیں نے  ایک دفعہ  گواہی  دینے والا  کتابچہ دیکھا  جس میں لکھاتھا، ’’آپ  کے لئے  کو ن مرے گا؟ آج  آپ  کس سے  ملے  جس نے  آپ  کو تسلی  دی ؟ یِسُوعؔ   مسیح  آپ  کے لئے مصلوب  ہوا ۔ کیا  آپ  کا دل  اِس  سے تسلی نہیں  پاتا؟‘‘ کو ن  واقعی  آپ   کے گناہوں  کو بپتسمہ  لینے  سے برداشت  کر ےگا اور آپ  کے گناہوں  کو مٹانے  کے لئےآپ  کی جگہ  پر صلیب  پر مرےگا؟ کو ن  اپنا  سارا خون  بہائے گا  اور آپ  پر اپنی  محبت  اُنڈیلنے  کے لئے  مرے گا؟ کو ن  کبھی  آپ  کے لئے  اِس قر بانی  کا سامنا  کر  نے کے لئے رضامند  ہو گا ؟ کیا  یہ آپ  کے رشتے  دار ہیں؟ آپ  کے بچے ؟ آپ  کے والدین ؟
اُن  میں  سے  کو ئی بھی نہیں ! یہ خُدا بذاتِ خود  ہے جس  نے آپ  کو بنایا ۔ آپ کو  آپ   کے گناہوں 
سے بچانے کے لئے ، یہ  خُدا  ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا، آپ  کے گناہوں  کو  اپنے او پر لینے  کے لئے بپتسمہ لیا، مصلوب ہوا،  اور آپ  کے گناہوں  کی سزا برداشت کر نے کے لئے اپنا خون  بہایا ، آپ  کا حقیقی نجات  دہندہ  بن چکا ہے ، پھر   مُردوں  میں جی اُٹھا ، جس  طرح  اب زندہ  ہے  ، اور  آپ  کو اپنی  نجات  اور محبت  ایک تحفے کے طور  پر دے چکا  ہے۔ کیا آپ واقعی  محبت  کی اِس نجات  کو  اپنے دلوں  میں قبول  کر نا چاہتے  ہیں؟ کیا  آپ  واقعی اپنے دلوں  میں ایمان  رکھتے ہیں؟
جو کوئی  ایمان رکھتا  ہے  خُداوند  کو حاصل  کر ے گا ، اور  جو کو ئی اُسے  حاصل  کرتا ہے  نجا ت  یا فتہ ہو گا۔ اُسے  حاصل  کر نے  کا مطلب نجات  اور محبت  کو  قبول  کر نا ہے  جو  مسیح  آپ  کو دے چکا ہے۔ اِس  محبت،گناہوں  کی معافی ، گناہوں  کو برداشت  کر نے، اور گناہوں  کی اِس سزا  پراپنے دلوں  میں ایمان رکھنے  سےہی ہم نجات  یافتہ ہوتے  ہیں۔ یہ وہ ایمان ہے  جو نجات  کے تحفے  کو حاصل کر تا ہے۔
خیمۂاِجتماع   کی ہر چیز  یِسُوعؔ  مسیح  کو ظاہر کر تی  ہے۔ خُدا  ہم سے  کسی  قر بانی  کا  مطالبہ  نہیں  کر تا  ہے ۔ سب  جو وہ  ہم  سے چاہتاہے  یہ ہے کہ ہم  نجات  کے تحفے  پر ایمان رکھیں  جو وہ  ہمارے  دلوں  میں ہمیں  دے چکا ہے۔’’ آپ  کو نجات  کا تحفہ  دینے  کے لئے ، مَیں اِس زمین  پر آیا۔پُرانے  عہد نامہ  کے  قر بانی  کے برّہ  کی مانند مَیں  نے ہاتھوں  کے رکھے جا نے  کے وسیلہ سے مجھ پر  لادے گئے تمہارے گناہوں کو قبول کِیا، اور  قر بانی  کے  اِس  جانور  کی مانند ، مَیں  نے تمہارے  گناہوں  کی بھیانک سزا  برداشت کی ۔ یہ ہے  کیسے  مَیں  تمہیں  بچا چکا ہوں ۔‘‘یہ ہے  خُدا  ہمیں  خیمۂاِجتماع   کے وسیلہ  سے  کیا  بتارہا ہے۔
کو ئی  معنی  نہیں رکھتا  اِس طرح  خُدا  کیسے  ہمیں بچا چکا ہے ، ہم  سے یوں اتنی  محبت  کر چکا ہے ، اور  اِس طریقہ سے ہمیں کامل  نجات  کا تحفہ  دے چکا ہے ، اگر  ہم ایمان  نہیں  رکھتے  ہیں ، تو سب کچھ بیکارہے۔ آپ کی الماری  میں موجود نمک  کواِس کا ذائقہ نمکین بنانےکےلیے  پہلے  اِسے یقیناًسوپ میں ڈالے جا نا چاہیے؛ اِسی  طرح ، اگر  آپ  اور  مَیں اپنے دلوں  میں ایمان نہیں رکھتے  ہیں ، یہاں تک کہ   اُس  کی کامل  نجات  بھی بالکل بیکار ہو جاتی   ہے۔ اگر ہم  اپنے  دلوں  میں پانی  اور روح  کی خوشخبری  کے لئے  شکر ادا نہیں کرتے  ہیں اور اِسے  اپنے   دلوں  میں قبول  نہیں کر تے  ہیں،یِسُوعؔ   کی قر بانی  بے فائدہ ہو  جاتی  ہے۔
نجات  آپ  کی ہوسکتی  ہے  صرف جب  آپ  جا نتے ہیں  کہ یِسُوعؔ  ، خُدا  نجات  دہندہ آپ کو کیا قر بانی  اور محبت  دے چکا ہے ، اُ نہیں  اپنے  دلوں میں قبول  کر یں  اور اُن  کے لئے  اُس  کا شکر ادا کریں۔ اگر  آپ  اپنے دلوں  میں مسیح  کی کامل  نجات  کا تحفہ قبول  نہیں کر تے  ہیں بلکہ  صرف  اِسے  اپنے سروں میں سمجھتے  ہیں، تو  یہ
مکمل  طور پر بیکارہے۔
 
 
سب  جو  آ پ  کو کر نا ہے  محض سچائی  کو پکڑنا ہے
 
اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ  آپ  کا سوپ  چولہے  پر کتنی  دیر  سے  اُبل رہا ہے ؛  اگر  آپ صرف  اپنےآپ میں  سو چتے ہیں کہ آپ  نمک  ڈالنےجا  رہے  ہیں اور پھربھی  حقیقت میں اَیسا  نہیں کرتے  ہیں،تو  آپ  کاسوپ  کبھی  نمکین  نہیں ہو سکتا  ہے ۔ آپ  تب ہی نجات  یافتہ  ہو سکتے ہیں جب  آپ  اپنے  دلوں  میں  قبول  کر تے  اور ایمان رکھتےہیں  کہ ہمارا  خُداوند  آپ  کوآپ  کے گناہوں  سے بپتسمہ لینے  اور ہمارے  لئے قر بان ہو نے کے وسیلہ  سے بچا چکا ہے ، بالکل  جس طرح  قر بانی  کا جانور  جو سو ختنی  قربانی  کی قر بانگاہ  پر قر بان  کِیا جا تا تھا۔ جب  خُدا  آپ کو  نجات  کا تحفہ  دے رہا  ہے ،تواِسےصِرف  شکرگزاری  سے قبول  کریں ۔ جب  ہمارا خداوند  ہمیں بتارہا ہے  کہ وہ ہمیں  مکمل  طور پر بچا چکا ہے ، ہمارے  کر نے  کے لئے  درست کام  یہ ہے  کہ ہم صرف اِس پر  ایمان  رکھیں۔
کیا خُدا کی محبت  جو وہ  آپ  کو دے چکا ہے  صر ف نیم دل  کی ہے؟ ہرگز  نہیں! ہمارے  خُداوند  کی محبت  کامل ہے۔ دوسرے لفظوں  میں، ہمارا خُداوند  آپ کو  اور مجھے  مکمل  طور پر اور کامل  طور پر بچا چکا ہے۔ کیونکہ  اُس نے  ہمارے  گناہوں  کو اپنے آپ  پر اپنے  بپتسمہ  کے ساتھ  کامل  طور  پر اُٹھا لیا  اور یقیناً  صلیب  پر مرگیا ، ہم  اِس  محبت  کے بارے  میں کو ئی  شک  نہیں رکھ سکتے ہیں۔ وہ ہمیں  یوں  کامل طور پر بچاچکا ہے  اور ہمیں  نجات  کا تحفہ  دے  چکا ہے۔ ہم سب  کو یقیناً  نجات  کےاِس  تحفے کو قبول  کر نا چاہیے  جو خُدا  ہمیں دے چکا ہے۔
آئیں  ہم  ایک لمحہ کے لئے  فر ض  کر یں  کہ میرے  ہاتھ  میں انتہائی  قیمتی  پتھروں  سے  بنےہوئے  گراں بہازیور ات ہیں۔اگر  مَیں  اِسے  آپ  کو  تحفے  کے طور پر دیتا ہوں تو،آپ  کوبس اتنا  کر نا ہے  کہ اِسے  فطری  طور پر قبول  کر نا ہے۔ کیا  یہ صورتحال  نہیں ہے؟ آپ  کے لئے  اِسے  اپنا  بنا نا  کتنا  سادہ  اور آسان  ہے؟ اِس  زیور  کو اپنا  بنانے کے لئے ، آپکوبس اتنا کر نا ہے  کہ اِس تک پہنچیں اور اِسے  پکڑلیں۔ یہی ہے۔
اگر  آپ  صرف  اپنے  دلوں  کو کھولیں گے  اور اُس  کے بپتسمہ کے وسیلہ  سے یِسُوعؔ    پر   اپنے   تمام 
گناہوں کو لادیں   گے ،تو آپ  سب آسانی  سے  اپنے  گناہوں  کی معافی  حاصل  کر سکتے ہیں اور اپنے خالی  دلوں کو سچائی کے ساتھ  بھر سکتے  ہیں۔اِس طرح  خُداوند  نے کہا  کہ وہ  ہمیں ایک مفت  تحفے  کے طور  پر  نجات  دے گا ۔ نجات  محض   اِس تک پہنچنے اور  اِسےپکڑنے  کے وسیلہ  سے آپ  کی ہو سکتی ہے۔
ہم اپنی  نجات  کو ایک  تحفے کے طور  پر ،  اِس  کے لئے  ایک پیسہ  بھی    ادا کئے بغیر  حاصل  کر چکے ہیں۔ اور  کیونکہ خُدا  وہ ہے  جو  یہ تحفہ اُس کو   دے کر  خوش  ہو تا ہے  جو اِسے  حاصل  کر نا چاہتاہے، مبارک  ہیں  وہ لوگ جو  اِسے  شکر گزاری  سے حاصل  کر چکے ہیں۔ وہ  جو   خوشی  سے خُدا  کی محبت  کو قبول  کر تے ہیں اُس  کی محبت  سے ملبس  ہیں ، اور وہ  اُن  میں سے  ہیں  جو اِس  دینے والے  سے محبت  کر تے ہیں، کیونکہ  اِسے  قبول  کر نے کے وسیلہ  سے ، وہ  اُس  کے دل  کو خوش کر چکے  ہیں۔ اِس  تحفے  کو قبول   کرنا کر نے  کے لئے  درست  کام ہے۔ یہ ہے  صرف  جب  آپ  کامل  نجات  کے تحفے کو  قبول  کر تے ہیں جو خُدا  آپ  کو دے چکا ہے  یعنی  نجات  کا یہ حقیقی تحفہ  آپ  کا ہوسکتا  ہے۔  اگر  آپ  اِسے  اپنے دلوں  میں قبول نہیں کر تے  ہیں تب  نجات  کا تحفہ  کبھی  آپ  کا نہیں ہوسکتا  ہے ،چاہے  آپ  کتنی ہی سخت کوشش کیوں نہ کریں۔
مَیں بھی، نجات  کا یہ تحفہ قبول  کرچکا ہوں ۔’’آہ! خُداوند   نے میرے  لئے  اِس طریقے  سے بپتسمہ  لیا۔ اِس طرح  بپتسمہ  لینے  کے وسیلہ  سے،  اُس  نے میرے  تمام  گناہوں  کی سزا  برداشت  کی ۔ اُس   نے بالآخر میری  ذات  کی خاطر بپتسمہ لیا تھا ۔ اے  خُداوند ، تیرا  شکر ہو! “ یہ ہے  مَیں کیا   ایمان  رکھنے  کے لئے آیا ۔ اِس لئے ، اب  مَیں بے گناہ ہوں ۔ مَیں  گناہ کی  کامل  معافی  حاصل  کر چکا ہوں ۔ اگر  آپ  بھی گناہ کی یہ معافی  حاصل  کر ناچاہتےہیں  اور نجات  یافتہ  ہو نا چاہتےہیں تو ، اِسے  ابھی  قبول  کریں۔
مَیں تب  سے ہر  وقت  نجات کے اِس  تحفے کے بارے  میں  سو چ  چکا  ہوں ۔  حتی  ٰکہ اب  ، جب  مَیں  اِس  کے بارے  میں دوبارہ  سو چتاہوں ، مَیں احساس  کر تا ہوں  کہ مَیں اپنی  نجات  کےلیے خُداوند  کا شکر  اداکرنےکےعلاوہ اور کچھ نہیں کر سکتا ہوں ۔  کیونکہ نجات  کی یہ محبت  میرے  دل  میں ہے ، مَیں اِسے کبھی نہیں بھول سکتا ہوں ۔ جب  مَیں  نے پہلی بار  آسمانی،  ار غوانی  اور سُرخ  دھاگے  اور بارِیک بٹےہوئےکتان  میں ظاہر  ہونےوالے  سچ  سے ، پانی اور  روح کی  خوشخبری  کوقبول  کر نے  اور ایمان  رکھنے  کے وسیلہ  سے اپنی  گناہ کی معافی  حاصل  کی ، مَیں خُدا  کا بےحدشکر گزار  تھا۔ اور اب بھی ، کئی  سال گزرجانےکے  بعدبھی ، مَیں  اب تک  وہی شکرگزار دل رکھتا ہوں، اور  روز نیا ہو تا ہوں۔
یِسُوعؔ  یقیناً  مجھے  بچانے  کے لئے  اِس زمین  پر آیا، میرے  تمام  گناہوں کو اپنے  اوپرلینے   کے  لئے
بپتسمہ لیا، اور میرے  گناہوں کی سزا کو برداشت  کر نے کے لئے صلیب  پر مر گیا ۔ جب  مَیں نے  احساس  کِیا  کہ   یہ تمام  چیزیں میرے  لئے  کی گئی  تھیں، مَیں نے  فوراً ا ُ نہیں  قبول  کِیا  اور اُنہیں اپنا بنالیا ۔ مَیں ہر وقت  احساس  کر تا ہوں کہ یہ  بہترین چیز  تھی  جو مَیں  کبھی  ا پنی تمام  زندگی  میں کر چکا ہوں ، یہ سب  سےدانشمندانہ  اور خوبصورت عمل  ہے۔ اِس لئے مَیں ایمان رکھتا ہوں  کہ خُداوند  واقعی  مجھ  سے  محبت  کر تا ہے  اور  میری دیکھ  بھال  کرتا ہے ، اور  مَیں یہ بھی  ایمان  رکھتا  اور اقرار  کر تا ہوں  کہ اُس  نے یہ سب کچھ اِس لیے کِیا کیونکہ  اُس نے مجھ سے محبت  کی۔’’ اے خُداوند ، مَیں اپنی ساری  شکرگزاری  تجھے  دیتا ہوں ۔ جس طرح  تُو  مجھ سے محبت  کر چکا ہے ، مَیں بھی  تجھ  سے محبت  کر تا ہوں ۔‘‘  اِس طرح  اقرار کر نا  نئے  سرےسے پیدا  ہونےوالوں کے لئے  ایک عظیم  خوشی  ہے۔
ہمارے  خُداوند  کی محبت  ابدالآباد لاتبدیل  ہے ۔ بالکل جس طرح  ہمارے لئے  اُس کی محبت  ابدلآباد  نہیں بدلتی  ہے،اِسی طرح   اُس  کے لئے  ہماری محبت  بھی ابدلآباد  نہیں بدل سکتی  ہے۔ بعض  اوقات ، جب  ہم دُکھ  اُٹھاتے  اور مشکلات  کا سامنا  کر تے ہیں تو، ہمارے  دل  بھٹک سکتے ہیں اور ہم    حتیٰ  کہ اِس  محبت  کو بھولنے  اور چھورنے  کی خواہش  کر سکتے ہیں۔ لیکن  یہاں تک  کہ  جب ہم  اپنے  دَرد  سے مغلوب  ہوجاتےہیں اور ہماراشعورہمیں  ناکام  کر دیتا ہے ، اور یہاں تک کہ   جب  ہم سب  جوسوچ  سکتے  ہیں  وہ ہمارا ذاتی  درد  ہے، پھر  بھی  خُدا  ہمیں  وفاداری  سے سنبھالتا ہے تاکہ  ہمارے  دل اُس  کی محبت  کو کبھی   نہ بھولیں ۔
خُدا ہم سے ہمیشہ محبت  کرتا ہے ۔ کہ  ہمارا خُداوند  اِس  زمین  پر ہماری  خاطر  ایک مخلوق  کے  طور  پر  آیا  کیونکہ  اُس نے  اپنی  موت  تک  ہم سے محبت ر کھی ۔ اب ،  مَیں آپ  سےالتجاکرتاہوں کہ  آپ  اپنےآپ کے لئے    خُدا  کی اِس محبت  پر ایمان  رکھیں ۔ اوراِسے  اپنے دلوں  میں قبول کر یں ۔ کیا  آپ  اب ایمان  رکھتے ہیں؟
مَیں  خُداوند  کا ہمیں  اِس محبت  کے ساتھ  ہمارے  گناہوں  سے کامل  طور پر  بچا نے  کے لئے شکر ادا کر تا ہوں ۔