خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-10] <خروج ۳۰:۱۷۔۲۱> حوض میں ظاہر کِیاگیاایمان

>خروج ۳۰:۱۷۔۲۱<
پِھر خُداوند نے مُوسیٰؔ سے کہا۔تُو دھونے کے لِئے پِیتل کا ایک حَوض اور پِیتل ہی کی اُس کی کُرسی بنانا اور اُسے خَیمۂِ اِجتماع اور قُربان گاہ کے بِیچ میں رکھ کر اُس میں پانی بھر دینا۔اور ہارُونؔ اور اُس کے بیٹے اپنے ہاتھ پاؤں اُس سے دھویا کریں۔خَیمۂِ اِجتماع میں داخِل ہوتے وقت پانی سے دھو لِیا کریں تاکہ ہلاک نہ ہوں یا جب وہ قُربان گاہ کے نزدِیک خِدمت کے واسطے یعنی خُداوند کے لِئے سوختنی قُربانی چڑھانے کو آئیں۔تو اپنے اپنے ہاتھ پاؤں دھو لیں تاکہ مَر نہ جائیں۔ یہ اُس کے اور اُس کی اَولاد کے لِئے نسل در نسل دائمی رسم ہو۔
 
 
خیمۂاِجتماع کے صحن میں حوض
 
سامان: حوض پیتل سے بنایا گیاتھا، یہ ہمیشہ پانی کے ساتھ بھرا رہتا تھا۔
روحانی مطلب: پیتل کا مطلب بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کی عدالت ہے۔ بنی نوع انسان کی سزا کو برداشت کرنے کے لئے، یِسُوعؔ  نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے آپ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اِسی طرح، حوض کا مطلب ہے کہ ہم ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں یعنی ہمارے یہ تمام گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  مسیح پرلاد دئیے گئے تھے۔
خیمۂاِجتماع  میں خدمت کرنےوالےکاہنوں نے بھی خیمۂاِجتماع  میں داخل ہونے سے پہلے حوض میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو دھویا اور یوں اپنی موت سے بچے رہے۔ پیتل تمام گناہوں کی عدالت کا حوالہ دیتا ہے، اور حوض کا پانی بپتسمہ کو بیان کرتا ہے جو یِسُوعؔ  نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اور جس کے وسیلہ سے اُس نے اپنے آپ پردُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ دوسرے لفظوں میں، حوض ہمیں بتاتاہے کہ یِسُوعؔ  نے اُس پر لادے گئے تمام گناہوں کو قبول کِیا اور اِن گناہوں کی سزا کو برداشت کِیا۔ پُرانے عہد نامہ میں، حوض میں پانی کا مطلب، خیمۂاِجتماع  کا آسمانی دھاگہ، اور نئے عہد نا مہ میں بپتسمہ ہے جو یِسُوعؔ  نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیاتھا(متی ۳:۱۵، ۱۔پطرس ۳:۲۱)۔
پس حوض یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کو بیان کرتا ہے، اور یہ جگہ ہے جہاں ہم حقیقت میں ہمارے ایمان کی تصدیق کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے ہمارے تمام گناہوں کو، ہمارے حقیقی گناہوں کو شامل کرتے ہوئے اُٹھا لیا، اور اُنھیں ایک ہی بار بپتسمہ کے وسیلہ سے دھو دیا جو اُس نے یوحناؔ اصطباغی سے  ۲۰۰۰ء سال پہلے حاصل کِیا تھا۔
اِس دُنیا میں راستباز ہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں۔ وہ اُن میں سے ہیں جو ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں یعنی اُن کے تمام گناہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان میں ظاہرکیے گئے یِسُوعؔ  کے کاموں کے وسیلہ سے معاف کیے جا چکے تھے۔ تاہم، کیونکہ حتیٰ کہ راستباز جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں اپنے بدنوں میں ناکافی ہیں، وہ بچ نہیں سکتے ہیں بلکہ ہر روز گناہ کرتے ہیں، اور اَیسے گناہ حقیقی گناہ کہلاتے ہیں۔وہ جگہ جہاں راستباز جو اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں اپنے حقیقی گناہوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے آتے ہیں اِس حوض کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ جب کبھی راستباز حقیقی گناہ سرزد کرتے ہیں، وہ خیمۂاِجتماع  کے صحن میں حوض کے پاس آتے ہیں اور اپنے ہاتھ اور پاؤں دھوتے ہیں، اور وہ یوں حقیقت کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ یِسُوعؔ  پہلے ہی خُدا کے تحریری کلام پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اُن کے تمام حقیقی گناہوں کو بھی معاف کر چکا ہے۔
کتابِ مقدس میں، پانی بعض موقعوں پر خُدا کے کلام کو بیان کرنے کے لئے بھی استعما ل ہوتا ہے، لیکن پانی کا اہم ترین مطلب یِسُوعؔ  کا بپتسمہ ہے۔ اِفسیوں ۵:۲۶ کہتا ہے،” تاکہ اُس کو کلام کے ساتھ پانی سے غُسل دے کر اور صاف کر کے مُقدّس بنائے۔ “ اور یوحنا ۱۵:۳ کہتا ہے، ” اب تُم اُس کلام کے سبب سے جو مَیں نے تُم سے کِیا پاک ہو۔  “ حوض پاک مقدسین کو جو اپنے گناہوں کی معافی کو حاصل کر چکے ہیں اُن کو ثبوت رکھنے کے قابل کر تا ہے کہ خُدا پانی کے ساتھ اُن کے تمام گناہوں کو معاف کر چکا ہے کوئی معنی نہیں رکھتا اُن کے بدن کتنے ناکافی ہو سکتے ہیں۔
۱۔پطرس ۳:۲۱ اور ۲۲ بیان کرتا ہے، ” اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے۔ اُس سے جِسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالِص نیّت سے خُدا کا طالِب ہونا مُراد ہے۔وہ آسمان پر جا کر خُدا کی دہنی طرف بَیٹھا ہے اور فرِشتے اور اِختیارات اور قُدرتیں اُس کے تابِع کی گئی ہیں۔ “ اِن آیا ت سے ذرا پہلے، پطرسؔ نوحؔ کے دنوں کے پانی کے روحانی مطلب کی وضاحت کرتا ہے۔ حتیٰ کہ گو نوحؔ گنہگاروں کو، دوسرے لفظوں میں، گناہ میں قید روحوں کو، سیلاب کے بارے میں خبر دار کر چکاتھا جو پہلی دُنیا کی تمام نجاست کو پاک کرے گا، صِرف آٹھ جانیں پانی کے وسیلہ سے بچی تھی۔ اُس وقت سیلاب کے پانی نے اُن تمام کو ہلاک کِیا جو کبھی بھی خُد اکے کلام پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ اور اب، پطرسؔ سیلاب کے حادثے سے اقتباس کرتا ہے کہ یِسُوعؔ  کا بپتسمہ اُسی پانی کا مشابہ ہے۔ اِسی طرح، حوض جگہ ہے جہاں ہم خُد اکے سامنے ایک بار پھر دونوں جب ہم نجات یافتہ ہوتے ہیں اور بعد میں ہماری نجات کی تصدیق کرتے ہیں۔
مقدسین جو ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں حوض کے پانی (یِسُوعؔ  کے بپتسمہ)،پیتل (خُدا کی تمام گناہوں کی عدالت)، پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُد اکے فضل سے مُلبس ہیں، اور کہ یِسُوعؔ  اُنھیں اُن کے گناہوں سے چھڑا چکا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ہم بہت کمزوریوں اور خامیوں سے بھرے ہوئے ہیں کہ ہم بمشکل حتیٰ کہ اپنے آپ کو راستباز کے طورپر پہچان سکتے ہیں، ہم یقیناً تصدیق کر سکتے ہیں کہ ہم  یِسُوعؔ  کے بپتسمہ(گناہوں کو برداشت کرنے، پانی) اور صلیب پر اُس کے بہائے گئے خون  پر (گناہوں کی سزا، پیتل پر) ہمارے ایمان کو دوبارہ وقف کرنے کے وسیلہ سے مکمل طور پر راستباز ہیں۔کیونکہ ہم خُدا کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم سب کو پہلے ہی ہمارے تمام گناہوں کو اور اِن گناہوں کی سزا سے بچا چکا ہے، ہم ہمیشہ راستباز بن سکتے ہیں جو بے گناہ ہیں۔ 
خُدا کا کلام جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں ہمیں بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ  نے یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، ہماری جگہ پر گناہوں کی ساری سزا برداشت کرنے کے لئے صلیب پر اپنا خون بہایا، اور یوں ہمیں ہمارے گناہوں سے مکمل طو رپر بچا چکا ہے۔ خُد انے خیمۂاِجتماع  کے صحن میں حوض کو رکھا تاکہ ہم ہمارے ایمان کے ساتھ تصدیق کریں کہ ہم، کوئی معنی نہیں رکھتا حالات کیا ہو سکتے ہیں، وہ ہیں جو ہمارے تمام گناہوں سے کامل طو رپر بچائے جا چکے ہیں۔
 
 
کیا آ پ اپنے تمام حقیقی گناہوں سے اَبدی طورپر چھڑا ئے جا چکے ہیں؟
 
آخری کھانے کے دوران، اپنے شاگردوں کے ساتھ فسح کی روٹی اور مَے بانٹنے کے بعد، یِسُوعؔ  نے، صلیب پر مرنے سے پہلے، پطرسؔ اور دوسرے شاگردوں کے  پاؤں پانی کے ساتھ دھونے چاہے۔ کیونکہ یِسُوعؔ  پہلے ہی یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے شاگردوں کے تمام گناہوں کو اُٹھا چکا تھا، اُس نے اُنھیں حوض کا سچ سکھانا چاہا۔ یِسُوعؔ  نے اُنھیں بتایا کہ بپتسمہ لینے کے بعد، وہ، فسح کے برّہ کے طور پر، ایک درخت پر لٹکائے جانے کے وسیلہ سے گناہ کی مزدوری (موت) اَدا کرے گا۔ اِس طرح، یِسُوعؔ  کے بارہ شاگرد، گو وہ اُس پر ایمان رکھنے کے بعد ناکافی ہی رہے، کبھی دوبارہ گنہگار نہ بنے۔
اِسی طرح، یہ حقیقت کہ یِسُوعؔ  نے اُن کے پاؤں دھوئےاس نے اُن کی تصدیق کہ جس کی سچائی کا  کلام گواہی دیتاہےیعنی یِسُوعؔ  پہلے ہی اُن کے دُنیاکے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے۔ یہ ہے کیسے شاگرد دُنیا کے لوگوں تک ہمیشہ منادی کر سکتے تھے کہ یِسُوعؔ  نجات دہندہ ہے اور پانی اور روح کی خوشخبری کوپھیلا سکتے تھے جو وہ پہلے ہی پوری کر چکا تھا (عبرانیوں ۱۰:۱۔۲۰)۔ اِس طرح حوض راستباز کویِسُوعؔ  کے بپتسمہ کو یاد رکھنے کی اجازت دیتاہے جو سچ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے معاف کیے جا چکے ہیں۔ یہ اُنھیں نجات کا کامل یقین بھی دیتا ہے کہ خُدابذاتِ خود اُنھیں آزاد کر چکاہے۔
 
 
کتابِ مقدس حوض کے سائز کو بیان نہیں کرتی ہے
 
جب کہ خیمۂاِجتماع میں ہر دوسری چیز کا سائز بیان کِیا گیا ہے، حوض کا سائز موجود نہیں ہے۔ یہ ہمیں حقیقت دکھاتاہے کہ یِسُوعؔ  خُد اکے بیٹے نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیاوہ لامحدود طورپر عظیم ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ  کی محبت جو ہمیں ہمارے گناہوں اور سزا سے بچا چکی ہے لامحدود ہے۔ حوض خُداکی عظیم محبت ظاہر کرتا ہے جو ناقابلِ پیمائش ہے۔ بنی نوع انسان گناہ جاری رکھنے کے پابند ہیں جب تک وہ زندہ رہتے ہیں۔ لیکن یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر دُنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھانے کی  معرفت  اور  مصلوب  ہونے  اور  صلیب پر  اپنا
خون بہانے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ  ہمیشہ کے لئے ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔
حوض اُن عورتوں کے پیتل کےآئینوں کو پگھلانے سے بنایا گیا تھا جو خیمۂاِجتماع  میں خدمت کرتی تھیں (خروج ۳۸: ۸)۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُداکا کلام گنہگارو ں پر نجات کی روشنی چمکاتاہے اور اُن کی تاریکی کو لے لیتاہے۔ ہمیں یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ خُد احوض بنا چکا ہے تاکہ وہ بذاتِ خود ہمارے گناہوں کو دھو سکے۔ سچائی کا یہ کلام لوگوں کے اُن کے دلوں کی گہرائی میں چھپے ہوئے گناہوں پر روشنی چمکا چکا ہے، ہمیشہ کے لئے اُن کے گناہوں کو دھو چکا ہے، اور اُنھیں گناہوں کی معافی دے چکا ہے، اور یوں اُنھیں راستبازوں میں بدل چکاہے۔ دوسرے لفظوں میں، حوض سچائی کی واضح طورپر گواہی دینے کا کردار اَدا کرتا ہے کہ یِسُوعؔ  مسیح خُدا کے کلام کے ساتھ مکمل طو رپر ہم گنہگاروں کو بچا چکاہے۔
 
 
حوض بھی پیتل سے بنایا گیا تھا
 
کیا آپ جانتے ہیں پیتل کی کیا اہمیت ہے جو حوض بنانے کے لئے استعمال کِیا گیا تھا؟ پیتل گناہ کی سزا کے علاوہ کسی دوسری چیز کو بیان نہیں کرتا ہے جس کا ہمیں سامنا کرنا تھا۔ زیادہ مختصر کرنے کے لئے، یہ ہمیں بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ  ہمارے تمام گناہوں کو اپنے بپتسمہ کے ساتھ صلیب پرلے گیا اور ہماری جگہ پرسزابرداشت کی۔ یہ ہم تھے جو ہمارے گناہوں کی وجہ سے حقیقتاً سزا کے حقدار تھے، لیکن حوض کے پانی کے وسیلہ سے، ہم ایک بارپھر تصدیق کر سکتے ہیں کہ ہمارے تمام گناہ صاف طورپر دھوئے جا چکے ہیں۔ وہ جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں و ہ بن جاتے ہیں جو اپنے ایمان کے وسیلہ سے پَرکھے جاچکے ہیں، اور اِس لئے وہ مزید کسی اور عدالت کا سامنا نہیں کریں گے۔
پانی کے ساتھ بھراہوا حوض ہمیں بتارہا ہے، ”آسمانی، ارغوانی، اورسُر خ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  پہلے ہی ہمارے گناہوں کو دھو چکا ہے اور آپ کو آپ کے گناہوں سے مکمل طورپر بچا چکاہے۔ وہ آپ کو پاک کر چکا ہے۔“ دوسرے لفظوں میں، حوض راستبازوں کے لئے مثبت ثبوت ہے جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں کہ وہ اُن کے گناہوں سے  پاک  اور نجات  یافتہ کیے جا
چکے ہیں۔
سوختنی قربانی کی قربانگاہ کا مطلب گناہ کی عدالت ہے، جب کہ حوض، خیمۂاِجتماع  کے سامان کے درمیان آسمانی دھاگے سے تعلق رکھتا ہے،ہمیں بتاتاہے کہ یِسُوعؔ  نے نئے عہد نامہ میں اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا۔
ہم پاک مقام میں صِرف اُسی وقت داخل ہو سکتے ہیں جب ہم خیمۂاِجتماع  کے صحن کے دروازہ کو کھولتے اور داخل ہو تے ہیں، سوختنی قربانی کی قربانگاہ سے گزرتے، اور تب اِس کے بعد حوض سے گزرتےہیں۔ وہ لوگ جو خیمۂاِجتماع  میں داخل ہو سکتے ہیں جہاں خُدا سکونت کرتاہے صِرف وہ ہیں جو واضح طو رپر ایمان کے وسیلہ سے سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور حوض کے وسیلہ سے گزر چکے ہیں۔ صِرف وہ جو خیمۂاِجتماع  کے بیرونی صحن میں حوض کی سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں پاک مقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔
جب کوئی اپنی ذاتی قوت کے وسیلہ سے پاک مقام میں داخل ہونے کی کوشش کرتا ہے، پاک مقام سے آگ نکلے گی اور اِس شخص کو نگل جائے گی۔ حتیٰ کہ ہارونؔ کے بیٹے بھی اِس سے مستثنیٰ نہ تھے، اور اُن میں سے بعض، حقیقت میں، واقعی نتیجے کے طورپر مر گئے (احبار ۱۰:۱۔۲)۔ وہ لوگ جو خُد اکے گناہوں کو برداشت کرنے کی راستبازی اور عدالت سے ناواقف ہیں اور اِس سچ کو نظر انداز کرتے ہیں اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کے حوالے کیے جائیں گے۔ لوگ جو اُس کی گناہ سے انتہائی وسیع نجات پر ایمان رکھنے کی بجائے اپنے ذاتی خیالات کے مطابق ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداکی بادشاہت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں یقیناً ہی اپنے گناہوں کے لئے آگ کی عدالت کا سامنا کریں گے۔ گناہ کی ناگزیرعدالت کی وجہ سے، وہ سب جو نتیجہ کے طو رپر اُن کا انتظار کرتی ہے صِرف جہنم ہے۔
یِسُوعؔ  نے ہماری گناہ سے نجات آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ مکمل کی تاکہ ہم پاک مقام میں داخل ہونے کے قابل ہو جائیں۔ یہ اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ ہم ہمارے تمام گناہوں سے مکمل طو رپر نجات یافتہ ہیں۔ خُدا حتیٰ کہ تخلیق سے پہلے بنی نوع انسان کو گناہ سے بچانے کا اپنا منصوبہ مقرر کر چکا تھا، اور آئیں ہم کتابِ مقدس کے وسیلہ سے آسمانی دھاگے (یِسُوعؔ  کا بپتسمہ)، سُرخ دھاگے (صلیب پر یِسُوعؔ  کی موت)، اور ارغوانی دھاگے (خُدا انسا ن بن گیا)سے تفصیل کے ساتھ اُس کی مرضی کو جانیں۔ اور اِس منصوبہ کے مطابق، وہ واقعی تمام گنہگاروں کو اُن کے گناہوں اور بد کرداریوں سے اِن آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کیے گئے یِسُوعؔ  کے کاموں کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔
۱۔ یوحنا ۵:۴ کہتاہے،   ” اور وہ غلبہ جِس سے دُنیا مغلُوب ہُوئی ہے ہمارا اِیمان ہے۔“ اور اِس کی پیروی آیت ۱۰سے ہوتی ہے، جو کہتی ہے، ” جو خُدا کے بیٹے پر اِیمان رکھتا وہ اپنے آپ میں گواہی رکھتا ہے۔ “ نجات کی یہ گواہی کیا ہے؟ سچائی کی خوشخبری جو ہمیں پانی، خون، اور روح کے وسیلہ سے ہماری نجات دے چکی ہے خُدا کے بیٹے پر ہمارے ایمان کی گواہی ہے (۱۔ یوحنا ۵:۶۔۸)۔ دوسرے لفظوں میں، صِرف پانی اور روح کی خوشخبری جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں ثبوت ہے کہ خُداہم سے ہمارے گناہوں کو دھو چکا ہے اور ہمیں اپنے ذاتی لوگ بنا چکا ہے۔ ہمارے لئے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے کا،پاک مقام میں داخل ہو نے، خُدا کے وسیلہ سے دی گئی زندگی کی روٹی سے کھانے، اور اُس کے فضل میں زندہ رہنے کاواحد راستہ،پانی اور روح کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پرا یمان رکھنے کے وسیلہ سے جو ہمارے گناہوں کو پاک کرتی ہے، اب ہمیں یقیناً نجات یافتہ ہونا اور ہماری ایمان کی زندگیاں خُداکی کلیسیا کے ساتھ متحد ہونے کے وسیلہ سے گزارنی چاہیے۔
یہ پانی اور روح کی خوشخبری کے سچ پر ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اُس کی کلیسیا میں خُدا کے کلام سے کھا سکتے ہیں، اِس کے ساتھ متحد ہو سکتے ہیں، اور راستبازوں کے طورپر زندہ رہ سکتے ہیں جن کی دُعائیں خُدا سُنتا ہے۔ جب ہم اس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں، ہم راستباز بن سکتے ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کا ایمان رکھتے ہیں، اور جو اُس کی حضوری کے سامنے خُداکے فضل میں مُلبس ہوکر زندہ رہتے ہیں۔ ایمان کی زندگی جو خُدا کے لوگوں کے وسیلہ سے صِرف گزاری جا سکتی ہے تنہا پانی، خون اور روح پر ایمان کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ہم یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر ہمارے تمام گناہوں سے، اُس کے خون بہانے اور موت، اوریہ کہ یِسُوعؔ  بذاتِ خود خُد اہے پرہمارے دلوں کے ساتھ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ ایمان جو آپ کو خُد اکی کلیسیا میں زندہ رہنے کے قابل کرچکا ہے آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے اوربارِیک بٹے ہوئے کتان کا ایمان ہے۔
آج کل بہت سارے لوگ کہہ رہے ہیں، ”سب جو ہمیں کرنا ہے محض یِسُوعؔ  پر ایمان رکھنا ہے؛ کیوں اِن تمام پیچیدگیوں سے پریشان ہوں؟ آئیں ہم فضول باتوں کے ساتھ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور محض کسی بھی طریقہ سے ایمان رکھیں جو ہم مناسب سوچتے ہیں۔“ اَیسے لوگوں کے لئے، ہم شاید مسیحیت میں صِرف مصیبت برپا کرنے والے نظر آسکتے ہیں،لیکن جوبات بالکل واضح ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی یِسُوعؔ  پر گناہ کی معافی حاصل کیے بغیر ایمان رکھتا ہے، اُسے یقیناً ابدی سزا کا سامنا کرنا پڑےگا۔ پانی، خون، اور روح کی خوشخبری پر مکمل طورپر ایمان نہ رکھنا ایک جھوٹا اور ناقص ایمان ہے۔یہ در حقیقت ،یِسُوعؔ  پر نجات دہندہ کے طورپر ایمان نہ رکھنا ہے۔
اگر مجھے، کسی اجنبی کی طرفداری جیتنے کے لئے، اِس اجنبی سے اندھا دُھند ضِد کرنی تھی، ”مَیں آپ پریقین رکھتا ہوں،“ کیا یہ شخص اِس بات پر قائل ہو گا، ”اِس شخص کو حقیقتاً مجھ پر واقعی یقین رکھنا چاہیے،“ اور اِس کے بارے میں خوش ہونا چاہیے؟ اِس کے برعکس، وہ غالباً  کہہ سکتا ہے، ” کیا تم مجھے جانتے ہو؟ مجھے نہیں لگتا کہ مَیں تمہیں جانتا ہوں۔“ اگر مَیں اُسے پھر کہتا ہوں، ”لیکن مَیں پھربھی آپ پر کسی طرح یقین رکھتا ہوں،“ اور اُس کی طرف پُرخلوص آنکھوں کے ساتھ اُسے بہتر محسوس کروانے کے لئے کوشش کرتے ہوئے دیکھتا ہوں، کیا وہ تب اِس کے بارے میں خوش ہو گا؟ یہ بہت زیادہ اِس کی مانند ہے کہ وہ مجھے صِرف ایک ریڑھ کی ہڈی کے بغیر خوشامدی کے طورپر دیکھے گا، جو محض اُس کے دماغ کو پڑھنےاور اُس کااحسان اُٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
نہ ہی خُدالوگوں سے خوش ہوتا ہے جو محض اُس پراندھا دُھند ایمان رکھتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں، ”مَیں خُداپر ایمان رکھتا ہوں۔ مَیں یِسُوعؔ  پر گنہگاروں کے نجات دہندہ ہونے کے لئے ایمان رکھتا ہوں،“ تب ہمیں یقیناً جاننے اور ایمان رکھنے کے بعد اُس پر ہمارے ایمان کا اِقرار کر نا چاہیے کہ کیسے یِسُوعؔ گنہگاروں کی بد کرداریوں کی فکر کر چکا ہے۔ اگر ہم بِلاسوچے یا اندھادُھند ایمان رکھتے ہیں، گویاہماراکوئی کردارہی نہیں ہے،توہم کبھی نجات یافتہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم صِرف نجات یافتہ ہوتے ہیں جب ہم پہلے واضح طورپر جاننے کے وسیلہ سے ایمان رکھتے ہیں کہ کیسے یِسُوعؔ  ہمارے گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ہم کسی پریقین رکھتے ہیں،تو ہم اِس شخص پر اپناسچا اعتماد رکھتے ہیں کیونکہ ہم اُسے اچھی طرح جانتے ہیں اور اِس شخص کو قابلِ بھروسہ ہونے کے لئے خیال کرتے ہیں۔ کسی پر اعتماد رکھتے ہوئے جسے ہم اچھی طرح نہیں جانتے ہیں اِس کا  مطلب صِرف یہ ہو سکتا ہے کہ ہم یاتوجھوٹ بول رہے ہیں، یا ہم بیوقوف ہیں جو گمراہی کے لئے تیار ہیں۔ اِس طرح، جب ہم یِسُوعؔ  پرایمان رکھنے کا اِقرار کرتے ہیں، ہمیں یقیناً دُرست طورپر جاننا چاہیے کیسے یِسُوعؔ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکاہے۔ صِرف تب ہم ہمارے خُداوند کے وسیلہ سے آخری لمحے تک چھوڑے نہیں جا سکتے ہیں اور آسمان میں نئے سِرے سے پیدا ہوئے خُد اکے بیٹوں کے طو رپر داخل ہو سکتے ہیں۔
سچا ایمان جو ہماری آسمان تک راہنمائی کر سکتا ہے آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے پر ایمان ہے۔ دوسرے لفظوں میں، حقیقی ایمان پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے جو ہمیں پانی (یِسُوعؔ کے بپتسمہ)، خون (یِسُوعؔ  کی موت)، اور روح القدس (یِسُوعؔ  خُدا ہے) کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ ہمیں یقیناً جاننا چاہیے ہمارے خُداوند کا فضل محض کتنا عظیم ہے جو ہمیں بچا چکا ہے، اور اِس پر ایمان رکھیں، کیونکہ اِس سچائی پر ایمان رکھنا ہماری نجات تک راہنمائی کرے گا۔
کسی کا ایمان مکمل ہے یا نہیں اِس کا تعین صرف اِس بات سے ہوتا ہے کہ آیا یہ شخص سچائی کو جانتا ہے یا نہیں ۔آپ یِسُوعؔ  پراپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھ سکتے ہیں صِرف جب آپ اپنے دلوں کے ساتھ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور یِسُوعؔ  پر ہمارے نجات دہند ہ کے طورپر یہ ایمان، جو ہمیں پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے گناہ کی معافی دے چکا ہے، سچا ایمان ہے جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
 
 
حوض نجات کاثبوت ہے جو ہمارے گناہوں کو معاف کر چکاہے
 
حوض پانی سے بھرا ہوا تھا۔ یہ پاک مقام کے بالکل سامنے رکھا گیا تھا۔ حوض جگہ ہے جہاں ہم اپنے آپ کو یاد دلاتے ہیں کہ ہم گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، اور اِس کی وصولگی کی ایمان کے وسیلہ سے تصدیق کرتے ہیں۔ یہ حقیقت کا ثبوت ہے کہ خُدا ایمانداروں کے تمام گناہوں کو پاک کر چکا ہے۔ بالکل جس طرح پاک مقام میں خدمت کرنے والے کاہن حوض پر اپنے ہاتھوں اور پاؤں کودھوتے تھے جب وہ مٹی سے بھر جاتے تھے، وہ جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، جب کبھی وہ گناہ کرتے ہیں،وہ بھی اَیسے گناہوں کو اپنے آپ کو یاد دلانے اور ایک بار پھر اِقرار کرنے کے وسیلہ سے، خُدا کے کلام کی معرفت دھوتے ہیں، کہ یِسُوعؔ  بھی پہلے ہی اِن گناہوں کو مٹا چکا ہے جِنھوں نے اُن کو گندہ کِیا اور فِدیہ کے طورپرلعنتی ہونے کے وسیلہ سے اِسی طرح اُن کے لئے فِدیہ دے چکا ہے۔
ہم ناپاک ہوتے ہیں کیونکہ ہم بچ نہیں سکتے ہیں بلکہ اِس دُنیا میں زندہ رہتے ہوئے گناہ جاری رکھتے ہیں ۔پھرہمیں اِن تمام گناہوں کوکس کے ساتھ دھونا چاہیے جو تب ہمیں ناپاک کرتے ہیں؟ ہم ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اُنھیں پاک کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ  مسیح، بادشاہوں کابادشاہ،گنہگاروں کوبچانے کے لئے ایک انسان کے بدن میں تقریباً   ۲۰۰۰ء سال پہلے اِس زمین پرآیا، اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر اُن کے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پراپنا خون بہایا، اور یوں گنہگاروں کو اُن کے تمام گناہوں سے معاف کر چکا ہے۔ ہم گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں اور اِسی طرح اپنے حقیقی گناہوں کو دھوسکتے ہیں صِرف جب ہم سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے آپ پر تمام گناہوں کو اُٹھا لیا۔ دوسرے لفظوں میں، ہم اِسی طرح ہمارے حقیقی گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں صِرف جب ہم اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ خُداپہلے ہی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے ہمارے تما م گناہوں کودھو چکا ہے۔
 
 
ہمیں یقیناًوہ ایمان رکھنا چاہیے جو حوض کی سچائی کو جانتااور ایمان رکھتا ہے
 
حوض پر ایمان کے بغیر ہم کبھی پاک مقام میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں جہاں خُداسکونت کرتا ہے۔ ہمارے اعمال ہمیشہ کامل نہیں ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم خامیا ں رکھتے ہیں، ہم بہت دفعہ گنا ہ کرتے ہیں۔ لیکن نجات جو خُداہمیں دے چکا ہے وہ بہرحال  کامل ہے، کیونکہ خُد اکا کلام کامل ہے۔ کیونکہ خُد ا اپنی کامل نجات کے ساتھ ہماری خامیوں کودھو چکا ہے، ہم دلیری سے ایمان کے وسیلہ سے پاک مقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ وہ جو حوض میں سے نہیں گزرتے ہیں کبھی پاک مقام میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہم سچائی پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے پاک مقام میں داخل ہونے کے اہل بنائے گئے ہیں کہ یِسُوعؔ   ۲۰۰۰ء سال پہلے اِس زمین پرآیا اور آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے پیش کی گئی پانی، خون اور روح کی خوشخبری کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا۔ ایمان رکھنے کے بغیر کہ خُدا وند پہلے ہی ہمار ے تمام گناہوں کو مٹا چکا اور ہمیں بے گناہ بنا چکا ہے، ہم پاک مقام میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔
جس طرح ہم آسمانی، ارغوانی، اورسُر خ دھاگے پر  ایمان  رکھنے  کے  بغیر  خُدا  کے مقدس  میں
داخل نہیں ہوسکتے ہیں، اگر ہم پانی اور روح کی خوشخبر ی پرایمان نہیں رکھتے ہیں، نہ ہی ہم اُس کی کلیسیا میں اُس کے کلام پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُد اکے فضل کے تخت کے سامنے جانے کی برکت سے، اُس سے دُعا مانگنے اور اُس کا فضل حاصل کرنے، اور اُس کے خادمین اور مقدسین کے ساتھ زندہ رہنے سے لُطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ہم ہمارے ساتھی ایمانداروں کے ساتھ خُداکی کلیسیا میں ہماری زندگیاں، اُس کاکلام سُنتے اور ایمان رکھتے ہوئے اور اُس سے دُعا مانگتے ہوئے گزار سکتے ہیں، صِرف جب ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا پہلے ہی ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
حوض گناہ سے ہماری نجات کی حتمی تصدیق ہے۔ خُدانے پاک مقام کے بالکل سامنے حوض کو رکھا اور اُن کو ایمان کا ثبوت دینے کے سلسلے میں اِسے پانی کے ساتھ بھرا جو گناہ کی معافی کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں۔ یہ حوض راستبازوں کے ناپاک ضمیروں کو پاک کر تاہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
آئیں ۱۔ یوحنا ۲:۱۔۲پڑھیں۔ ” اَے میرے بچّو! یہ باتیں مَیں تُمہیں اِس لِئے لِکھتا ہُوں کہ تُم گُناہ نہ کرو اور اگر کوئی گُناہ کرے تو باپ کے پاس ہمارا ایک مددگار مَوجُود ہے یعنی یِسُوعؔ مسِیح راست باز۔اور وُہی ہمارے گُناہوں کا کفّارہ ہے اور نہ صِرف ہمارے ہی گُناہوں کا بلکہ تمام دُنیا کے گُناہوں کا بھی۔“ آمین۔
اگر ہم گناہ کرتے ہیں، ہم باپ کے پاس ایک مددگار رکھتے ہیں، یعنی یِسُوعؔ  مسیح راستباز۔ یِسُوعؔ  راستبازوں کے ناپاک دلوں کو پانی کے ساتھ پاک کرتا ہے۔ اُس کے مصلوب ہونے سے ایک دن پہلے، آخری کھانے کے دوران یِسُوعؔ  نے اپنے شاگردوں کو اکٹھا کِیا، ایک بالٹی میں پانی لیا، اور اُن کے پاؤں دھونے شروع کیے۔ ”جب مَیں نے بپتسمہ لیا مَیں نے تمھارے گناہوں کو اُٹھا لیا، حتیٰ کہ گناہوں کوشامل کرتے ہوئے جو تم بعد میں سرزد کروگے، اور مَیں ضرور صلیب پرتمھاری جگہ پر سزا برداشت کروں گا۔ مَیں نے حتیٰ کہ تمھارے مستقبل کے گناہوں کواِسی طرح اپنے آپ پر اُٹھا لیا، اور مَیں نے اُنھیں مٹا دیا۔ مَیں تمھارا نجات دہندہ بن چکا ہوں۔
یہ بتانا تھا کہ یِسُوعؔ  نے فسح کے آخری کھانے کے دوران شاگردوں کے پاؤں دھوئے۔ پطرسؔ کو جس نے یِسُوعؔ  سے اپنے پاؤں دھلوانے سے انکار کِیا، اُس نے کہا، ” جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔“(یوحنا ۱۳:۷)۔ یِسُوعؔ  اُن کا کامل نجات دہندہ بننا چاہتا تھا جو حقیقتاً پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ اُن کے  لئے جو آسمانی،  ارغوانی،  اور  سُرخ دھاگے پر
ایمان رکھتے ہیں، یِسُوعؔ  اُن کا اَبدی نجات دہندہ بن چکا ہے۔
 
 
حوض کا استعمال
 
 
حوض کاہنوں کی تمام گندگی دھونے کے لئے استعمال کِیا جاتا تھا جب وہ خیمۂاِجتماع  میں خُدا کو قربانیاں پیش کرتے ہوئے کام کرتے تھے۔ یہ میل دھونے کے لئے ضروری تھا جو کاہن قربانی کے جانور کو ذِبح کرنے، اِس کا خون نکالنے، اور اِس کی قربانی خُداکو پیش کرنے کے لئے اِسے ٹکڑوں میں کاٹتے ہوئے حاصل کرتے تھے جو اسرائیل کے لوگوں کے گناہوں کے لئے فِدیہ دیتی تھی۔ جب کاہن جب کہ قربانیا ں دیتے ہوئے مٹی سے بھر جاتے، اُنھیں پانی کے ساتھ صاف ہونا پڑتا تھا، اور حوض جگہ تھی جہاں یہ ساری نجاست پاک کی جاتی تھی۔
جب کبھی ہم گناہ کرتے ہیں، آیا روحانی طورپر یا بدن میں، اور جب کبھی ہم خُدا کے احکامات کو توڑنے کے وسیلہ سے ناپاک ہو جاتے ہیں،ہمیں یقیناً اِس حوض کے پانی کے ساتھ ہماری ساری نجاست کودھونا چاہیے۔ کاہنوں کو، جب کبھی اُن کے بدن کسی ناپاک یا گندی چیز سے چُھو جاتے تھے، اپنے جسم کے مٹی زدہ حِصوں کو پانی کے ساتھ دھونا پڑتا تھا، آیا وہ چاہتے تھے یا نہیں۔
اِسی طرح،جب وہ سب جو خُدا پرایمان رکھتے ہیں کسی گندی یا ناپا ک چیز سے چُھو جاتے ہیں، حوض کا پانی اَیسی تمام نجاست کو دھونے کے لئے استعمال کِیا جاتا ہے۔ مختصر، حوض کا پانی نئے سِرے پیدا ہوؤں کی نجاست دھونے کے لئے استعمال ہونے کے واسطے دیا جاتا تھا۔ اِس طرح، حوض خُدا کے فضل پرمشتمل ہے۔ حوض کامطلب کوئی اختیاری شے نہیں ہے جسے ہم ایمان رکھنے یا نہ رکھنے کے لئے چُن سکتے ہیں، بلکہ یہ اُن کے لئے حتمی طورپر انتہائی ضرور ی شے ہے جو یِسُوعؔ  پر ایمان رکھتے ہیں۔
خُدا نے خیمۂاِجتماع  میں دوسری تمام اشیاء کے لئے سائز مقرر کِیا، مخصوص کرتے ہوئے کتنے ہاتھ وہ اونچائی، لمبائی، اور چوڑائی میں ہونی چاہیے۔ لیکن اُس نے حوض کا سائز مخصوص نہیں کِیا۔ یہ خاص طورپر صِرف حوض کی خصوصیت ہے۔ یہ لااختتام محبت کو ظاہرکرتا ہے جو مسیحا ہم پر اُنڈیل چکا ہے، جو ہر روز حقیقی گناہ سرزد کرتے ہیں۔ مسیحا کی اِس محبت میں اُس کا بپتسمہ پایا جاتا تھا، ہاتھوں کے رکھے جانے کی ایک قِسم جو ہمار ے تمام گناہوں کودھوتی ہے۔ جس طرح بہت سار ا پانی استعمال کِیاجاناپڑتا تھا جب کاہن مٹی سے بھر جاتے جب وہ اپنے فرائض سرانجام دیتے، حوض کویقیناً ہمیشہ پانی سے بھرا ہوا ہونا چاہیے۔ پس حوض کا سائز اِس ضرورت پر انحصار کرتا تھا۔ چونکہ حوض پیتل سے بنایا گیا تھا، جب کبھی کاہن اِس کے پانی کے ساتھ ہاتھ پاؤں دھوتے تھے، وہ گناہ کی عدالت کے بارے میں سوچتے تھے۔
کاہنوں کو جو خیمۂاِجتماع  میں خدمت کررہے تھے اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کی ساری گندگی کو حوض کے پانی کے ساتھ دھونا پڑتاتھا۔ اگر پیتل خُد اکی عدالت کو ظاہر کرتا ہے، تب پانی گناہ کے دھونے کو ظاہر کرتا ہے۔ عبرانیوں ۱۰:۲۲کہتا ہے، ” بدن کو صاف پانی سے دُھلوا کر ،“ طِطُس ۳:۵ کہتا ہے، ” نئی پَیدایش کے غُسل اور رُوحُ القُدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسِیلہ سے۔ “ اِن حوالوں کی طرح، نئے عہد نامہ کا کلام بھی ہمیں بہت زیادہ بپتسمہ کے پانی کے ساتھ نجاست کودھونے کے بارے میں بتاتا ہے۔
اگر کاہن اُن کی زندگیوں سے حاصل ہوئی اپنی نجاست کو حوض کے پانی کے ساتھ دھوتے تھے، ہم، آج کے نئے سِرے سے پیدا ہوئے مسیحی، ہماری زندگیوں میں سرزد کیے گئے ہمارے تمام حقیقی گناہوں کو یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے دھو سکتے ہیں۔ پُرانے عہد نامہ کے حوض کا پانی ہمیں دکھاتاہے کہ مسیحا اِس زمین پر آیااور بپتسمہ کے ساتھ دُنیا کے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے جو اُس نے یوحناؔ سے حا صل کِیاتھا۔
کتابِ مقدس کے وسیلہ سے، خُدا ہمیں بتاتاہے کہ نہ صِرف اسرائیل کے لوگوں کے سرزد کیے گئے گناہ بلکہ انسان کی ساری تاریخ کے تمام لوگوں کے سرزد کیے گئے حقیقی گناہ سب بپتسمہ کے ساتھ یِسُوعؔ  پرلاد دئیے گئے تھے جو اُ س نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا۔ جب یسوع ؔ نے یوحنا ؔسے بپتسمہ لیا اُس نے متی ۳:۱۵میں کہا، ” اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ اِس پر اُس نے ہونے دِیا۔“ اپنا بپتسمہ حاصل کرنے کے وسیلہ سے ہاتھوں کے رکھے جانے کی اُسی شکل میں، یِسُوعؔ  نے یوحناؔ، بنی نوع انسان کے نمائندہ سے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اپنے ذاتی بدن پر قبول کِیا۔
اِس لئے، حقیقت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ ہمارے تمام گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  یعنی مسیحا پرلادے گئے تھے، ہم سب ہمارے دلوں کے گناہوں کی ساری گندگی سے پاک ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے پہلے ہی اِس سچائی پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  پر ہمارے تمام گناہوں کولاد دیا، جو سب ہمیں کرنا ہے محض ایمان رکھنا ہے کہ خُدا کا بیٹا صلیب تک دُنیا کے گناہوں کو لے گیا، مصلوب ہوااور اپنا خون بہایا، تما م بنی نوع انسان کے لئے قربانی کا کامل برّہ بن گیا اور یوں ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے چھڑا چکا ہے۔ کیا آپ اِس پرا پنے دلوں میں ایمان رکھتے ہیں؟وہ جو واقعی ایما ن رکھتے ہیں کہ مسیحا ہمارا ذاتی قربانی کا برّہ بن گیا تھا اَبدی طورپرنجات یافتہ ہیں۔
 
 
حقیقی گناہوں کا مسئلہ بھی یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حل کِیا جا سکتا ہے
 
کیا کتابِ مقدس ہمیں بتاتی ہے ہم کیسے ہمارے تمام حقیقی گناہ دھو سکتے ہیں؟ جس طرح کاہنوں نے پُرانے عہد نامہ میں حوض کے پانی کے ساتھ اپنی ناپاکی دھوئی، نئے عہد نامہ میں،ہم ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمارے حقیقی گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے ہیں کہ یِسُوعؔ  یوحنا ؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر دُنیا کے گناہوں کو اُٹھانے کی معرفت خُداکی راستبازی کو پورا کر چکا ہے۔آخر میں، تمام گناہ سچائی پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے دھوئے جاتے ہیں۔
 جب اسرائیل کے لوگوں نے خُداکے لئے گناہ کی قربانی دی، وہ خیمۂاِجتماع میں ایک بے عیب قربانی کا جانور ایک بھیڑیا بکری کی مانند لائے، اپنے گناہوں کااِقرار کِیا اور اُس کے سَر پر اپنے ہاتھوں کو رکھنے کے وسیلہ سے قربانی پر اُن سب کو منتقل کِیا،اور قربانی کے جانور کو ذِبح کِیا جس نے اُن کے گناہوں کو قبول کِیا۔ تب وہ اِس کی گردن کاٹتے اور اِس کا خون نکالتے، اور سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سیِنگوں پرخون لگاتے اور باقی زمین پراُنڈیل دیتے تھے (احبار۴)۔ حتیٰ کہ اُ ن کے ایک سال کے ڈھیروں گناہ ایما ن کے وسیلہ سے ایک ہی بار سب یومِ کفارہ کی گناہ کی قربانی کے وسیلہ سے معاف کردئیے جاتے تھے(احبار ۱۶)۔ آخر میں، ہم بھی پُرانے عہد نامہ کی گناہ کی قربانی کے طو رپر اُسی طریقہ کے ساتھ ہماری گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں یعنی، مسیحا کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایما ن رکھنے کے وسیلہ سے جو ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے آیاتھا۔
پُرانے عہد نامہ میں ہاتھوں کا رکھے جانا بالکل بپتسمہ کی مانند ہے جو یِسُوعؔ   نے  نئے  عہد نامہ  میں
حاصل کِیا۔ ہمارے مسیحا نے فکر کی اور یوحنا ؔ سے بپتسمہ لینے اور مصلوب ہونے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو دھو دیا۔ جب یہ مسیحا کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے کاموں کے وسیلہ سے ہے کہ خُد ا ہمیں ہمارے گناہوں سے کامل طو ر پر بچا چکا ہے، ہمیں ہمارے گناہوں سے معاف کرنے کے لئے اور کیا موجود ہے؟ ہمیں یقیناً کیا یاد رکھنا اور ایمان رکھنا چاہیے یہ ہے کہ حتیٰ کہ جب ہم ہماری زندگیوں میں ہماری کمزوریوں کی وجہ سے روز گناہ کرتے ہیں، یہ تمام گناہ بھی یِسُوعؔ  مسیح کے وسیلہ سے دھوئے جا چکے ہیں جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیا۔ حتیٰ کہ گو ہم خُد اپرایمان رکھتے ہیں، ہماری خامیوں کی وجہ سے، ہم اب تک ہماری کمزوریوں اور خطاؤں میں گِر جاتے ہیں۔ لیکن ہمارا خُدا، جو یہ سب جانتا ہے، اِس زمین پر مسیحا کو بھیجنے کے وسیلہ سے، اُسے اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر بنی نوع انسا ن کے گناہوں کو اُٹھانے اور اُسے قربان کرنے کے وسیلہ سے ہمیں بچا چکا ہے۔
خیمۂاِجتماع  کے صحن میں سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور حوض رکھنے کے وسیلہ سے، خُدا ہمیں مقدس، یعنی خُدا کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے ہمارے روز مرہ میں سرزد کیے گئے تمام حقیقی گناہوں کو دھونے کی اجازت دے چکا ہے۔ لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم روزانہ توبہ کی دُعاؤ ں کے ساتھ ہمارے حقیقی گناہوں کودھونے کے لئے خیال کیے جاتے ہیں۔ اِس کے برعکس، یہ مسیحا کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ہمارا ایمان ہے جو ہمارے تمام گناہوں کو پاک کرتا ہے۔ خُدا مقرر کر چکا ہے کہ جب راستبازیِسُوعؔ  پرایمان رکھنے کے بعد غلطیاں کرتے اور گناہ سرزد کرتے اور غلط کاریاں کرتے ہیں، وہ بپتسمہ پرجو مسیحا، حوض کے مالک نے حاصل کِیا،پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اَیسے تمام گناہوں سے دھوئے جانے چاہیے۔
بہت سارے لوگ یِسُوعؔ  کو گناہ برداشت کرنے والا خیال کرنے اور اُس کے تمام گناہوں کے لئے پَرکھے جانے کو ایک ہی چیز کے طور پر، اُن کو اندھا دُھند ایک ہی گانٹھ میں باندھنے کی کوشش کرنے کی طرف مائل ہیں۔ لیکن کیونکہ ہم حقیقی گناہ ہماری کمزوریوں کی وجہ روزمرہ کی بُنیا د پرسرزد کرتے ہیں، گناہ کا دھویا جانا اور گناہ کی عدالت یقیناً دو حصوں میں علیٰحدہ علیٰحدہ کیے جانے چاہیے۔ بپتسمہ جو یِسُوعؔ  نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا اوراُس کی صلیب پرموت ہمارے تمام گناہوں کو اپنے آپ پر برداشت کرنا تھا،یعنی اِن گناہوں کے لئے پَرکھے جانا، اور ہمیں اُ ن سے کامل طو پر بچانا تھا۔ اِس ایمان میں، ہم اِس طرح ایک ہی بار ہمارے گناہوں کی عدالت حاصل کر سکتے ہیں۔ اِسی طرح، ہمارے روزمرہ میں سرزد کیے گئے حقیقی گناہوں کے مسئلے کو یقیناً مسیحا کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حل کِیا جانا چاہیے۔ یہ اِن دو اجزاء، بپتسمہ اور صلیب کو، متحد کرنے کے وسیلہ سے ہے، کہ واحد، کامل نجات مکمل ہو گئی ہے۔ یہ گناہ کی کامل معافی کی سچائی ہے۔ جہاں تک ہمارے گناہوں کے مسئلے کا حل تعلق رکھتا ہے، ہمیں یقیناً اِسے یِسُوعؔ  کے بپتسمہ اور صلیب کو ایک دوسرے سے علیٰحدہ کرنے کے وسیلہ سے سوچنا اور ایمان رکھنا چاہیے۔
جب خیمۂاِجتماع  میں کاہن قربانی کے جانوروں کوذِبح کرتے تھے، وہ میل اور خون کے چھینٹوں سے گندے ہو جاتے تھے۔ ہم حتیٰ کہ تصور کرنا شروع نہیں کرسکتے ہیں محض وہ کتنے زیادہ گندے ہو جاتے تھے۔ کاہنوں کو یہ ساری گندگی دھونی پڑتی تھی، لیکن اگر خیمۂاِجتماع کے صحن کے حوض میں کوئی پانی نہیں تھا، وہ اَیسا کرنے کے قابل نہ ہو تے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا یہ سردار کاہن یا آیا عام کاہن تھا جو ایک سال کے ڈھیروں گناہوں سے معاف کِیا جا چکا تھا، اُس پر لگی ہوئی گندگی کو حوض کے پانی کے ساتھ اچھی طرح دھونے کے بغیر، یہ شخص بچ نہیں سکتا تھا بلکہ تب تک اُس پر گندگی کے ساتھ زندہ رہتا۔
حتیٰ کہ اگر سردار کاہن اُس پرتمام قِسم کی گندگی رکھتا تھا، کیونکہ خیمۂاِجتماع  کے صحن میں حوض موجود تھا، وہ ہمیشہ صاف ہو سکتا تھا۔ حتیٰ کہ اگر ایک کاہن مکمل طو رپر سال کے ڈھیر گناہوں سے معاف کِیا جاتا تھا، یہ پھر بھی اِس طرح روز مرہ کے گناہوں کو دھونا تھا یعنی یہ شخص پاک ہوتا تھا۔ خُد انے مقرر کِیا کہ کاہن جو اُسے قربانیاں پیش کرتے تھےاُن کو اِس طرح حوض پر اپنی ساری نجاست سے پاک ہونا پڑتا تھا۔ تب ہم احساس کر سکتے ہیں کیوں خُدا نے خیمۂاِجتماع کے صحن میں حوض کو رکھا۔ ہم یہ بھی جا ن سکتے ہیں کہ یہ حوض سوختنی قربانی کی قربانگاہ اورمقدس کے درمیان میں کیوں رکھا گیا تھا۔
 
 
ہمیں کیو ں حوض کی ضرورت ہے؟
 
حوض میں سمجھایا گیا سچ یوحنا ۱۳میں ظاہر کِیا گیاہے۔ فسح کے دوران، اپنے شاگردوں کے ساتھ آخر ی کھانا کھانے کے بعد، یِسُوعؔ نےاُن کے پاؤ ں دھونے شروع کیے،اور پطرسؔ کی باری آئی۔ جب یِسُوعؔ  نے اُس کے پاؤں دھونے کی کوشش کی، اُس نے پطرسؔ کو اُس کے پاؤں آگے رکھنے کے لئے کہا تاکہ وہ اُنھیں دھو سکے۔ تاہم، پطرس ؔنے،یہ  کہتے  ہوئے  اِنکار  کِیا، ” مجھے تیرے  پاؤں  دھونے چاہیے،
کیسے آپ، اَے خُداوند، میرے پاؤ ں دھو سکتے ہیں؟
پطرسؔ نے اِنکارکِیا کیونکہ اُس نے سوچا محض ایک اُستا د کے لئے اپنے ذاتی شاگردوں کے پاؤں دھونا مناسب نہ تھا۔ ”کیسے مَیں اپنے اُستا د سے اپنے پاؤں دھونے کے لئے کہنے کی جرأت کر سکتا ہوں؟ مَیں نہیں کر سکتا۔
پطرسؔ نے یِسُوعؔ  کی خدمت کا اِنکار کرنا جاری رکھا، تب یِسُوعؔ  نے پطرسؔ سے جو کہا یہاں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔“ (یوحنا ۱۳:۷)۔ یہ ہے یِسُوعؔ  کا کیا مطلب تھا: ”تم اب نہیں سمجھ سکتے مجھے کیوں تمھارے پاؤں دھونے ہیں۔ لیکن یہ یقیناً تمھارے حقیقی گناہوں کو حل کرنے کے لئے خاص نکتہ ہو گا۔ تم اب سے آگے بہت سارے حقیقی گناہ سرزد کرو گے، لیکن مَیں پہلے ہی حتیٰ کہ مستقبل کے تمھارے حقیقی گناہوں کو اپنے آپ پر لے چکا ہوں، اور اِن گناہوں کی وجہ سے،اب مجھے یقیناً صلیب پر اپنا خون بہانا ہوگا۔ اِس لئے تمہیں یقیناً جاننا اور ایمان رکھنا چاہیے کہ مَیں مسیحا ہوں جس نے حتیٰ کہ تمھارے مستقبل کے حقیقی گناہوں کی فکر کی۔
پطرسؔ کے ذہن میں، مسیحا کے لئے اُس کے پاؤ ں دھونا محض سادگی سے غیر اخلاقی لگا، اور یہ ہے کیوں اُس نے دھوئے جانے سے اِنکار کِیا۔ لیکن یِسُوعؔ  نے پطرسؔ سے کہا، ” تُو بعد میں سمجھے گا،“ اوراُس کے پاؤں دھوئے۔
صِرف جب مَیں تمھارے پاؤں دھوتا ہوں تم میرے ساتھ تعلق رکھ سکتے ہو۔ تم اب نہیں سمجھتے مَیں تمھارے پاؤں کیوں دھو رہا ہوں۔ لیکن میرے مصلوب ہونے اور آسمان کی بادشاہت میں جانے کے بعد، تم جانوگے مَیں نے کیوں تمھارے پاؤں دھوئے۔ کیونکہ مَیں تمھارا مسیحا ہوں، مَیں نے پہلے ہی حتیٰ کہ اپنے بپتسمہ کے ساتھ تمھار ے مستقبل کے گناہوں کواُٹھا لیا، اور تمھارے گناہوں کے لئے قربانی کا برّہ بننے کے وسیلہ سے، مَیں تمھارا نجات دہندہ بن چکا ہوں۔
جیساکہ ہمارے خُداوند نے کہا، پطرسؔ اُس وقت کسی بھی طرح نہ سمجھا،لیکن خُداوند کے جی اُٹھنے کے بعد، اُس نے اِس کا احساس کِیا۔حقیقتاً، یہ واقعہ تھا جس نے حتیٰ کہ اُس کے حقیقی گناہوں کو مٹادیا۔
کیونکہ مَیں بچ نہیں سکتا بلکہ دُنیا میں حقیقی گناہ سرزد کرتا ہوں، خُداوند نے میرے پاؤں دھوئے تاکہ مَیں ایمان رکھوں کہ یِسُوعؔ  یعنی مسیحانے حتیٰ کہ یوحناؔ اصطباغی سے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر اِن حقیقی گناہوں کواُٹھا لیا! مسیحا کے بپتسمہ نے حتیٰ کہ مستقبل کے اِن حقیقی گناہوں کی فکر کی! یِسُوعؔ  نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر اِن تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، دُنیا کے گناہوں کو صلیب پر لے گیا، اور مصلوب ہونے کے وسیلہ سے تمام گناہوں کی سزا برداشت کی!اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے وہ ہمیں ہمارے گناہوں سے حقیقی طورپر اور مکمل طو رپر بچا چکا ہے!‘‘
صِرف بعد کے ایک موقع پر، حتیٰ کہ اُس کے خُداوند کا تین بار اِنکار کرنے کے بعد، پطرسؔ نے اِس کا احساس کِیا اور اِس پرایمان رکھا۔ یہ ہے کیوں اُس نے ۱۔پطرس ۳:۲۱ میں کہا، ” اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے۔ اُس سے جِسم کی نجاست کا دُور کرنا مُراد نہیں بلکہ خالِص نیّت سے خُدا کا طالِب ہونا مُراد ہے۔ “ یہاں، لفظ ’مشابہ‘ کا مطلب ہے ”ایک جو پیش عکس ہے یا ایک پیشگی علامت یا قِسم کے ساتھ شناخت کِیا گیا، نئے عہد نامہ میں ایک اَیسی شخصیت جو پُرانے عہد نامہ میں ایک ہمزاد رکھتی ہے۔“ پس، سابقہ سیاق و سباق واضح طورپر اعلان کرتاہے کہ یِسُوعؔ  کا بپتسمہ پُرانے عہد نامہ میں ’پانی‘ کا اَصل مشابہ ہے۔
پُرانے عہد نامہ میں، جب یومِ کفارہ پر گناہ کی قربانی ایک سال کے ڈھیر گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے لئے خُدا کو پیش کی جاتی تھی، سردار کاہن کو، اسرائیل کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے، قربانی کے جانور پراپنے گناہوں کو لادنے کے سلسلے میں اپنے ہاتھ رکھنے پڑتے اور گناہوں کااِقرار کرنا پڑتا تھا یعنی جو اسرائیلی سرزد کر چکے تھے۔ ہاتھوں کے رکھے جانے کا یہ طریقہ یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کی ایک ملتی جلتی شکل تھی۔ پُرانے عہد نامہ میں، قربانی کے جانور کو موت تک خون بہانا پڑتا تھا کیونکہ یہ اِس پر لادے گئے اسرائیلیوں کے تمام گناہوں کو قبول کر چکا تھا۔ اِس کی گردن کاٹی جاتی، اور یہ جلد ہی اپنا سارا خون بہا دیتا تھا۔ کاہن تب اِس کی کھال اُتارتے، اِسے ٹکڑوں میں کاٹتے، اور اِسے آگ کے ساتھ جلانے کے وسیلہ سے اِس کا گوشت خُدا کو پیش کرتے تھے۔
مسیحا، جو پُرانے عہد نامہ کی قربانی کے جانور کا اَصل جوہر ہے، اِس زمین پرآیا، ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا، صلیب پر خون بہایا، اور ہماری جگہ پر مر گیا۔ آج، اِس لئے آپ اور مَیں مکمل طور پر یِسُوعؔ  مسیح کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کی موت کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی معافی مکمل طور پر حاصل کر چکے ہیں۔ اور ہمیں یقیناً ہماری روزمرہ زندگیوں میں سرزد کیے گئے ہمار ے حقیقی گناہوں کو بھی ایمان رکھنے کے وسیلہ سے دھونا چاہیے کہ یہ گناہ پہلے ہی بپتسمہ جو ہمارے خُداوند نے حاصل کِیا اور خون جو اُس نے صلیب پر بہایا کے وسیلہ سے دھوئے جا چکے ہیں۔ ہمیں یقیناً اِس سچائی کو جاننا اور اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ ہم ہمارے تمام حقیقی گناہوں سے آزاد ہو سکتے ہیں صِرف جب ہم نے ایمان رکھا کہ یِسُوعؔ  نے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیااور اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اُن سب کو دھو دیا۔ دوسرے لفظوں میں، جب کبھی ہم حقیقی گناہ سرزد کرتے ہیں، ہمیں یقیناً پانی اور روح کی خوشخبری پر ہمارے ایمان کی تصدیق کرنی چاہیے۔ اور سچائی پر غورو خوض کرنے کے وسیلہ سے کہ حتیٰ کہ یہ حقیقی گناہ پہلے ہی اُس کے بپتسمہ اور صلیب کے ساتھ یِسُوعؔ  کے وسیلہ سے مٹائے جا چکے تھے، ہم کسی بھی صورت میں ہماری نجات نہیں کھو سکتے ہیں، اور اِسے فوراً بحال کر سکتے ہیں جب کبھی ہمار ے دلوں پر گناہ کے احساس کا حملہ ہوتا ہے۔
چونکہ یِسُوعؔ  پہلے ہی حتیٰ کہ راستبازوں کے سرزد کیے گئے روزمرہ کے گناہوں کو مٹا چکا ہے جو اپنی روز مرہ زندگیوں میں گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، خُد انے اُن کو حوض کی اجازت دی تاکہ یہ راستباز، جن کی گناہ کی معافی، پانی، خون اور روح کے وسیلہ سے حاصل ہوئی تھی، اپنے حقیقی گناہوں کو پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے دھوئیں۔
اِسی لیے خُدا نے خیمۂاِجتماع  میں خدمت کرنےوالی عورتوں کے ہاتھوں استعمال ہونےوالے آئینوں کو اکٹھا کرنے اور پگھلانے کے وسیلہ سے حوض کو بنایا تھا ، کیونکہ یہ آئینے خودی کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب کبھی ہم حقیقی گناہ سرزد کرتے ہیں اور ہماری کمزوریوں کے وجہ سے مایوسی کا شکار ہوتے ہیں، ہمیں یقیناً حوض پر جانا چاہیے اور ہمارے ہاتھ اور پاؤں دھونے چاہیے۔ حوض کا کردار ہمیں یاد دلا ناہے کہ یِسُوعؔ  مسیح نے ایک ہی باراپنے آپ پر بنی نوع انسان کے گناہوں کو جب اُس نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اُٹھا لیا تھا۔ یہ راستبازوں کوجو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں یہ سچ سکھانا تھا کہ ہمارے خُداوند نے اسرائیلیوں کو اِن عورتوں کے ہاتھوں کے آئینوں کو پگھلانے کے وسیلہ سے حوض کو بنانے، اِسے پانی سے بھرنے کے لئے کہا، اور کاہنوں کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کی ساری گندگی اِس پانی کے ساتھ دھونے کی اجازت دی۔
ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  خُدا کا بیٹا، خالق، اور بنی نوع انسان کانجات دہندہ ہے۔ اور ہمیں یقیناً یاد رکھنا چاہیے کہ مسیحا ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا اور بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے ذاتی بدن پر لادے گئے ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا جو اُس نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا یعنی، جب کبھی ہم اِس دُنیا میں حقیقی گناہ سرزد کرتے ہیں، ہماری کمزوریوں کا شکار ہوتے یا ہماری کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں، ہمیں یقیناً حتیٰ کہ زیادہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسیحا جسم میں آیا، بپتسمہ لیااور مصلوب ہوا، اور یوں پہلے ہی ہمارے تمام گناہوں کومٹا چکا ہے۔
اگر ہم یہ یاد نہیں کرتے اور اِس پر ایمان نہیں رکھتے ہیں، حتیٰ کہ گو ہم گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، ہم پھر ہمارے حقیقی گناہوں میں قید ہو جائیں گے اور ہم اپنی پُرانی، گنہگار فطرت میں لوٹ جائیں گے۔ اِس طرح، ہمیں ہرروز یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ ہماری کمزوریوں اور خامیوں کی وجہ سے سرزد کیے گئے ہمارے تمام گناہ پہلے ہی اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  پر لادے جا چکے تھے۔ ہر روز، ہمیں یقیناً یادر کھنا، پھر ایمان رکھنا، اور اعلان کرنا چاہیے کہ مسیحا نے یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کو دھو چکا ہے۔
اِس روئے زمین پر کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو یِسُوعؔ  پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرسکے،یعنی اس پر ایمان رکھے بغیر کہ اُ س نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اور حتیٰ کہ اگر لوگ گناہ کی معافی بھی حاصل کر چکے ہیں، کوئی ایک واحد شخص موجود نہیں ہے جو حقیقی گناہ سرزد نہیں کرتا ہے۔ اِسی طرح، یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے بغیر، ہر کوئی گنہگار ہو گا، اور خُداکی مرضی ہر کسی کے لئے کبھی پوری نہیں ہو چکی ہوگی۔ یہ ہے کیوں خُدا نے ہمیں اپنا بیٹا دیا، اُسے یوحناؔ سے بپتسمہ دلوایا، اور اُسے صلیب پر خون بہانے کے لئے دے دیا۔
اگر ہم یِسُوعؔ  مسیح پر ہمارے نجات دہندہ کے طو رپر ایما ن رکھتے ہیں، ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ ہمارے تمام گناہ یوحناؔ سے حاصل کیے گئے اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے اُس پر لاد دئیے گئے تھے، اور یہ کہ اُس نے ہماری تمام سزا صلیب تک دُنیا کے گناہوں کو لے جانے، مصلوب ہونے، اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے برداشت کی۔ ہم ہمارے گناہ کی معافی یِسُوعؔ  کے بپتسمہ اور اُس کے خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے تمام گناہ اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مٹائے جا چکے ہیں۔ ہم ہمارے دلوں کے ساتھ خُدا کی محبت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے راستبازی تک پہنچ چکے ہیں۔ اب ہمارے دل بے گناہ، پاک اور بے عیب ہیں۔ لیکن ہمارے بد ن میں اب بھی خامیاں موجو دہیں۔ یہ ہے کیوں ہمیں ہر روز یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کو یاد رکھنا ہے اور اپنے آپ کو ہمیشہ یہ ایمان یاد دلاناہے۔ جب کبھی ہماری خامیاں اور کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں، جب کبھی بُرے خیالات اُٹھتے ہیں اور ہم ناپاک ہو جاتے ہیں، اور جب کبھی ہمارے اعمال گمراہ ہو جاتے ہیں، ہمارا خُداوند خوش ہوتا ہے صِرف جب ہم یاد کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے یوحنا ؔ سے حاصل کیے گئے بپتسمہ کے ساتھ اِن تمام گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا اور ایک بار پھر اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمارے دلوں کو پاک کرتےہیں۔
جب کبھی ہم گناہ کرتے ہیں، ہمیں یقیناً پہلے خُدا کے سامنے ہمارے گناہوں کو قبول کرنا چاہیے۔ تب ہمیں یقیناً ایک بار پھر ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ تمام گناہ یِسُوعؔ  پر اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے پہلے ہی لاد دئیے گئے تھے۔ ہم جو یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کے کام کے وسیلہ سے پاک کیے جا چکے ہیں کو یقیناً اِس کام پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہمارے روز مرہ کے حقیقی گناہوں کو پاک کرنا چاہیے۔ یہ ہے کیوں ہمیں حتمی طو رپر یقیناً یاد رکھنا اور حقیقت پر ایمان رکھنا چاہیے کہ ہم یِسُوعؔ  مسیح کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں۔
اب ہم معائنہ کر چکے ہیں کیوں خُدا نے سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور خیمۂاِجتماع  کے درمیان میں حوض کو رکھا۔ خُدانے حوض کو سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور خیمۂاِجتماع  کے درمیان رکھا، تاکہ جب ہم اُس کے سامنے جاتے ہیں ہم پاک بدنوں اور دلوں کے ساتھ جائیں۔ حتیٰ کہ ہمارے راستباز بن جانے کے بعد جو یِسُوعؔ  کے بپتسمہ اور صلیب کے وسیلہ سے گنا ہ کی کامل معافی حاصل کر چکے ہیں، ہمارے دل پھر بھی ناپاک ہونے کی طرف مائل ہیں جب کبھی ہم، چاہےجان بوجھ کر یا بغیر جانے گناہ کرتے ہیں۔ یہ ہے کیوں ہمیں یقیناً حوض پر اِ س گندگی کو پاک کرنا چاہیے جب ہم سوختنی قربانی کی قربانگاہ سے گزرتے ہیں اور خُداکے سامنے جاتے ہیں۔ کیونکہ ہم خُداکے سامنے نہیں جاسکتے ہیں حتیٰ کہ اگر ہم تمام نجاست میں سے معمولی سی بھی رکھتے ہیں، خُد انے سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور خیمۂاِجتماع  کے درمیان میں حوض کو رکھا تاکہ ہم پاکیزگی میں، اپنے آپ کو حوض کے پانی کے ساتھ دھونے کے بعد، خُدا کی موجودگی میں داخل ہونے کے قابل کر سکیں۔
 
 
 خُدا کے سامنے کس قِسم کی نِیت خالص نیِت ہے؟
 
۱۔پطرس ۳:۲۱بھی یِسُوعؔ کے بپتسمہ کو ، ”خالص نیِت سے خُدا کا طالب ہونا  مُراد  ہے۔“
کے طور پر بیان کرتا ہے۔ یہاں، ’خالص نیِت‘ وہ ہے جو ایمان رکھتی ہے کہ یِسُوعؔ  نے بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو، روزانہ سرزد کیے گئے تمام حقیقی گناہوں کو شامل کرتے ہوئے، بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔ سے حاصل کِیا دھو دیا تھا۔ اپنے آپ پر ہمارے گناہ لینے کے لئے ہمارے خُداوندنے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا اور یوں اپنے ذاتی بدن پرہمارے گناہوں کو قبول کِیا کیونکہ یِسُوعؔ  نے اپنے بدن پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اُسے صلیب پر مرنا تھا۔ اگر ہم نظرانداز کرتے ہیں اور ایمان نہیں رکھتے ہیں اُس نے کیا کِیا، تب ہمارے دل صِرف بُرے ہو سکتے ہیں۔ یہ ہے کیوں ہمیں یقیناً اُس کے بپتسمہ پر ایمان رکھنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً خُداکے سامنے خالص نیِت رکھنی چاہیے۔  گو ہمارے بدن میں ہم شاید سو فیصد کامل طو رپر ز ندہ رہنے کے قابل نہیں ہو سکتے ہیں، کم ازکم ہماری نَیتوں میں، ہم کر سکتے ہیں اورہمیں یقیناً خُد اکی نظر کے سامنے خالص نیِت رکھنی چاہیے۔
تقریباً آدھی صَدی پہلے،جب کوریا نے کورین جنگ کی تباہی میں ہر چیز کھو دی، تومُلک میں بیرونی امداد کا ایک سیلاب اِس کی حالت کو دُرست کرنے کے لئے آیا۔ حالانکہ یتیم خانوں کو اَیسی امداد پہلے حاصل کرنی تھی، اَیسا کرنے کی بجائے، بعض بُرے لوگوں نے اُنھیں اپنی ذاتی جیبوں میں منتقل کر لیا اور اپنی ذاتی دولت کوتعمیر کِیا۔ وہ کوئی ضمیر نہ رکھتے تھے۔ جب بیرونی ممالک نے سوکھا دودھ، آٹا، کمبل، جوتے، کپڑے، اور دوسری امدادی چیزیں دیں،تو امدادیوں نے اُنہیں بھیجا تاکہ خوفناک ضروریات میں ننگے اور بُھوکے لوگ کپڑے پہنیں اور مناسب طو رپر کھائیں؛ وہ بمشکل تصور کر سکتے تھے کہ چند بُرے عوامی افسران اور دھوکے باز اِن امدادی اشیاء کو لوٹ لیں گے۔
اچھے ضمیروں والے لوگ اُنھیں ایمانداری سے غریبوں کے درمیان تقسیم کر چکے ہوتے۔ وہ لوگ جِنھوں نے، غیرمُلکی امداد کو اپنی دولت کو تعمیر کرنے کے لئے ایک موقعے میں بدلنے کی بجائے، بُھوک سے مرتے ہوئے غریب لوگوں کے درمیان اُنھیں ایمانداری سے تقسیم کِیا خُداکے سامنے شرمندہ ہونے کے لئے کچھ نہیں رکھیں گے، کیونکہ وہ اچھے ضمیر کے ساتھ زندہ رہ چکے ہیں۔ لیکن وہ جِنھوں نے اَیسا نہیں کِیا اپنے ذاتی ضمیروں کے وسیلہ سے چور ہونے کے لئے مُجرم ٹھہرائے جائیں گے۔ بلاشبہ، یہ چور اب بھی اپنے تمام گناہوں سےدھل سکتے ہیں اگر وہ رجُوع لاتے ہیں اور حتیٰ کہ اب یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پرایمان رکھتے ہیں۔
اپنے آپ پر ہمارے گناہ لینے اور ہمارے تمام حقیقی گناہوں کو مٹانے کے لئے، یِسُوعؔ  اِس زمین پر
آیااور بپتسمہ لیا۔ اس طرح یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے بعد، یِسُوعؔ  نے ایک ہی بار ہمارے گناہوں کو دھو دیا۔ مَیں غیر ایمانداروں کو اُس کے بپتسمہ پر، یہ کہتے ہوئے ملامت کرنا پسند کروُنگا، ”تب، تمہیں اِتنا مغرور ہونے کے کیا قابل بناتا ہے یعنی اُس کے بپتسمہ پر ایمان نہ رکھنے کے لئے؟ کِس اعتماد کے ساتھ تم ایمان نہیں رکھتے ہو؟ کیا تم اُس کے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے بغیر بادشاہت میں داخل ہونے کے لئے اِتنے اچھے ہو؟
اگر ہم واقعی اچھے ضمیروں کے لوگ بننا چاہتے ہیں، ہمیں یقیناً ہمارے تما م حقیقی گناہوں کو بپتسمہ کے ساتھ دھونا چاہیے جو یِسُوعؔ  نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا۔ اَیسا کرنے کے لئے، ہمیں یقیناً ہمارے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ  نے تما م گناہ اپنے آپ پر اُٹھا لیے جو ہم ہماری تمام زندگی کی مُدت میں سرزد کرتے ہیں اور اُن سب کو دھو چکا ہے۔ یہ ہے کیوں یِسُوعؔ   ہمارے مسیحا نے صلیب پر جانے سے پہلے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا تھا۔
یِسُوعؔ  نے اُس عورت سے جو زناکاری میں پکڑی گئی تھی کہا، ”میَں بھی تجھ پر اِلزام نہیں لگاتا۔نہ ہی میَں تمھاری عدالت کرتا ہوں۔“ کیوں؟ کیونکہ یِسُوعؔ پہلےہی اِس عورت کے زناکاری کے گناہ کو بھی اپنے آپ پر اُٹھا چکا تھا، اور کیونکہ یِسُوعؔ بذاتِ خود اِس گناہ کی بھی سزا اُٹھائے گا۔ اُس نے کہا، ”میَں وہ ہوں جو تمھارے گناہوں کے لئے لعنتی ٹھہرایا جاؤں گا۔ لیکن میرے بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے پاک ہوجاؤ۔ اِ س لئے، مجھ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو جاؤ۔ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی تمام سزا سے بھی نجات یافتہ ہو جاؤ، اور اپنے تمام گناہوں سے پاک ہو جاؤ۔ اپنے ضمیر کے گناہوں سے پاک ہو جاؤ اور مجھ سے پانی پیو جو پھر کبھی تمہیں پیاسا نہیں ہونے دیتا۔
آج، آپ اور مَیں ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  واحد ہے جو ہمیں ہمارے گناہوں سے بچا چکا ہے۔ کیا آپ واقعی ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے بے شک اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُ ن سب کو دھو دیا۔ ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو پاک کر دیا۔ اب ہم اچھے ضمیر میں خُدا کے پاس جا سکتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے خُداوند نے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہ اُٹھا لیے اور اُنھیں بپتسمہ لینے، اِن گناہوں کوصلیب پرلے جانے کے وسیلہ سے دھو دیا، مصلوب ہونے کے وسیلہ سے وہ ہماری جگہ پر لعنتی ٹھہرایا گیا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ بہت عرصہ پہلے، یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا، اور اپنی ۳۳سال کی زندگی کے وسیلہ سے، اُس نے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیااور اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُن سب کو دھو دیا۔
حتیٰ کہ ہمارے سب حقیقی گناہوں کو اپنے آپ پر لینے کے وسیلہ سے اور اُنھیں دھونے کے وسیلہ سے، اور یِسُوعؔ مسیح کی قربانی کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کے پَرکھے جانے کے لئے ہمارا خُداوند ہمیں خُداکے سامنے جانے اور راستباز بننے کے قابل کر چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ اِس خُداوند پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم خُدا کو ہمارے باپ کے طو ر پر بُلا سکتے ہیں اور اُس کی حضوری کی سامنے جا سکتے ہیں۔ اِس طرح، وہ جو یِسُوعؔ  کے پانی، خون اور روح کے کاموں پر ایمان رکھتے ہیں وہ ہیں جو اچھے ضمیر رکھتے ہیں۔ اِس کے برعکس، یہ یقیناً بُرا ضمیر ہے جو خُدوند کے راستباز کاموں، اُس کے بپتسمہ اور مصلوبیت پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔
 
 
آج کل، بہت سارے لوگ اپنے شکی ایمان کی وجہ سے  خُداکے کلام کو سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں
 
بہت سارے جھوٹے، خُد اکے کلام کو اِس طرح ردّ کرتے ہوئے جیسےیہ محض ایک زیورہے، صِرف یہ منادی کرتے ہیں کہ ہمیں خُدا پرہمارے ایمان کے لئے آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے واسطے اچھے کام بھی کرنے چاہیے۔ اور جب نجات کی بات آتی ہے، وہ صِر ف صلیبی خون کے بارے میں بولتے ہیں، اور غلطی سے سوچتے ہیں کہ اُنھیں  اپنے جسم کے تجربہ کے وسیلہ سے تب خُدا سے ملنے کے سلسلے میں دُعا مانگنے یا روزہ رکھنے کے لئے کسی پہاڑ پر چڑھناہے۔ اگرچہ اِس ایمان  سےزیادہ غلط کوئی چیزنہیں ہو سکتی ہے، وہ حتمی طو رپر اِس سے پُریقین ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ”مَیں نے اپنے گناہوں سے اذیت اُٹھائی، اور اِس طرح تمام رات دُعا مانگنے کے لئے ٹھہرا،  ’اَے خُدا، مَیں گناہ کر چکاہوں۔ اَے خُداوند، مَیں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔‘ اُس دن، مَیں شام تک اذیت میں رہا، لیکن ساری رات دُعا میں ٹھہرنے کے بعد، جب سورج نکلا، اچانک مَیں نے محسوس کِیا جس طرح آگ کی ایک گانٹھ مجھ میں گھس چکی تھی، اور، بالکل اُسی وقت، میرا ذہن سب صاف ہو گیا میرے دل کے تمام گناہ برف کی مانند سفید  ہو گئے۔ پس
یہ اُس وقت تھا کہ مَیں نئے سِرے سے پیدا ہو ا۔ ہیلیلویاہ!
اَیسے خیالات صِرف انسان کے بنائے ہوئے، جاہل اور احمقانہ خیالات ہیں جو خُدا کے کلام کو بے فائد کر دیتے ہیں۔ آپ کو یقیناً یاد رکھنا چاہیے کہ خُدا اُن کو، کئی گناہ سزا دے گا،جو اَیسی پُراسرار بے شعور باتیں کہتے ہیں اور یوں لوگوں کودھوکہ دیتے ہیں اور دوسروں کو جہنم کی آگ کی طرف لے جاتے ہیں۔
میرے کانوں میں بہت درد ہے لیکن مَیں نے اِس بات پر ایمان رکھاکہ خُداوند نے کیا کہا، کہ ہم شِفاء پائیں گے اگر ہم ایمان رکھتے ہیں، اور اِس طرح مَیں اپنے دَرد کے ساتھ یہ کہتے ہوئے ڈٹا رہا، ’اَے خُداوند، مَیں ایمان رکھتا ہوں! ‘جب مَیں نے اِس طرح ایمان رکھا، تب سارا دَرد ختم ہوگیا!
مَیں ایک معدے کا زخم رکھتا تھا، پس جب بھی مَیں کوئی چیز کھاتا تھا، مجھے معدے میں شدیددَردہوتی تھی۔ پس میں کھانے سے پہلے، دُعا مانگتا تھا، ’اَے خُداوند،مجھےیہاں تکلیف ہورہی ہے، لیکن تُونے فرمایا کہ تُو سُنے گا جو کچھ ہم ایمان کے ساتھ مانگتے ہیں۔ مَیں اب تک تیرے کلام پر ایمان رکھتا ہوں۔‘پوری یقین دہانی سے، مَیں کوئی ہاضمے کا مسئلہ نہیں رکھتا!    
یہ سب کیا ہیں! یہ وہ صورتیں ہیں جہاں لوگ کلام کے وسیلہ سے خُداوند سے نہیں ملے۔ یہ صورتیں اُن کے ایمان کے جھوٹے پن کو ثابت کرتی ہیں کہ وہ کلام پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ یہ کلام کے وسیلہ سے حاصل کیے گئے اُن کی دُعاؤں کے جوابات نہیں ہیں، بلکہ محض اُن کا پُراسرار ایمان ہے۔ وہ خُدا پرکلام کے وسیلہ سے نہیں، بلکہ اپنے ذاتی جذبات اور تجربات پر مبنی اپنا غلط درہم برہم ایمان رکھتے ہیں۔ اِتنی قابلِ پچھتاوا اور اُفسردہ بات جو ہے وہ یہ ہے کہ آج کے مسیحیوں کے درمیان بہت سارے تصوفی موجود ہیں۔
اِس طرح، وہ خُد اکے کلام کو ایک طرف رکھتے ہوئے اور اپنے جذبات یا تجربات پر مبنی اندھا دُھند یِسُوعؔ  پر ایمان رکھتے ہوئے صِرف ایک شکی ایمان کو جمع کرتے ہیں۔وہ لوگ جو یِسُوعؔ  پرایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں حتیٰ کہ جس طرح وہ کلام کے وسیلہ سے ایمان نہیں رکھتے ہیں اپنے آپ کا معائنہ کرنے کے لئے یہ دیکھنے کی ضرورت رکھتے ہیں آیا وہ بدروحوں کی گرفت میں ہیں یا نہیں۔ ”مَیں دُعا مانگتے ہوئے یِسُوعؔ  سے ملا۔ یِسُوعؔ  میرے خواب میں ظاہر ہو ا۔ مَیں نے گرمجوشی سے دُعا مانگی اور میری بیماری شفایاب ہوگئی۔“ کوئی بھی ایک آدھے عملی مُنہ کے ساتھ اَیسے دعوے کر سکتا ہے، لیکن جو واضح ہےوہ یہ ہے کہ
یہ خُداکی معرفت دیا گیا ایما ن نہیں ہے،بلکہ یہ شیطان کی معرفت دیا گیا جھوٹا ایمان ہے۔
آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند اپنے آپ کو ہم پر ظاہر کر چکا ہے۔ کیا آج کے دَور میں ہمارا خُداوند اپنے آپ کو ہم پر نئے اور مختلف طریقوں کے ساتھ ظاہر کرتا ہے؟ کیا وہ واقعی ہمارے سامنے ایک رویا یا ایک خواب میں ظاہر ہوتا ہے؟ وہ اپنے پاؤں میں بڑی بڑی زنجیریں کھینچ رہا ہے، ہرطرف سے خون بہہ رہا ہے، اپنے سَر پر کانٹوں کا ایک تاج رکھتا ہے،اورکہتاہے، ”تم دیکھو، یہ ہے کیسے مَیں نے تمھارے لئے اِتنا زیادہ دُکھ اُٹھایا۔اب، تم میرے لئے کیا کروگے؟“ کیا یہ ہے کیسے ہمارا خُداوند اپنے آپ کوہم پر ظاہر کرتا ہے؟ یہ سب بکواس ہے!
مگر پھر بھی لوگ موجود ہیں، جو اِس قِسم کا ایک خواب رکھنے کے بعد، خُد اکے سامنے ایک قسم کھاتے ہیں، ”اَے خُداوند، مَیں ضرور تیرا خادم بن جاؤں گا اور اپنی باقی ساری زندگی کے لئے اپنے سارے دل کے ساتھ تیری خدمت کروں گا۔ مَیں یہاں ایک دُعائیہ گھر تعمیر کروں گا۔ مَیں یہاں ایک ضرور گرجا گھر تعمیر کروں گا۔ مَیں اپنی باقی زندگی میں اپنی پیٹھ پر اپنی صلیب ضرور اُٹھاؤں گا اور تما م دُنیا میں تیری گواہی دُوں گا۔
درحقیقت ، ہم آسانی سے گلیوں یا عوامی جگہوں پر ایسے عقیدت مند مبشروں سے مل سکتے ہیں۔ کسی بھی چارے کے بغیر، وہ سب تصَوفی ہیں جو کہتے ہیں کہ اُنھوں نے یِسُوعؔ  کواپنے خواب میں دیکھنےیا دُعا کرتے ہوئے خُداوند کی آوا زسُننےکے بعد اِس طرح زندگی گزارنےکافیصلہ کِیا۔ لیکن خُداوند صِرف اپنے آپ کو اپنے کلام کے وسیلہ سے ظاہرکرتا ہے؛ وہ ہم سے ایک خواب میں یا جب ہم دُعامانگ رہے ہیں نہیں بولتاہے، خاص طور پر اِس دَور میں جب اُس کا سارا کلام بنی نوع انسان کو مکمل طورپر دیا جا چکا ہے۔ خواب محض انسان کی نیم نیند کی پیچیدہ سلطنت سے آتے ہیں۔ یہ لوگ اِس قِسم کا ایک خواب رکھتے ہیں کیونکہ اپنی بے اَجر محبت میں وہ یِسُوعؔ  کے بارے میں تمام اَقسام کے تصورات رکھتے ہیں اور محض بہت زیادہ سوچتے ہیں۔
جب آپ کا ذہن نیند میں جانے سے پہلے کسی معاملے پر گہرائی سے غوروخوض کرتاہے،توامکان ہے کہ آپ اپنے خواب میں بھی اپنےآپ کو اِسی طرح اِس معاملہ کو تھامتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اِس طرح، خواب آپ کی نیم بیدار ی سے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہے کیوں اگر ہم بہت زیادہ سوچتے ہیں، ہم تمام اَقسام کے ناقابلِ فہم خواب دیکھتے ہیں۔ اِن سب کا ایمان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں  ہے، بلکہ وہ محض جسمانی تبدیلیوں یا نیم شب بیداری کا عکس ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اگرلوگ یِسُوعؔ  کے صلیب پر خون بہانے کے بارے میں بہت زیادہ سوچتے ہیں،تو اُن کے خواب میں وہ اپنے سَر پرایک کانٹوں کے تاج کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔ اپنے آپ  میں، اَیسے کسی خواب میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اِس خواب کو انتہائی سنجیدہ لینا ایک سنگین غلطی ہے۔ کیا ہوگااگر یِسُوعؔ  اُن کے سامنے ظاہر ہوتا ہے، ہرطرف خون بہہ رہا ہے، اور حقیقتاً کہتا ہے، تم میرے لئے کیا کروگے؟ تم میرے لئے اپنی باقی زندگی ایک فقیرکے طورپر گزارو گے۔ میرے لئے، تمہیں کوئی جائیداد نہیں رکھنی ہوگی؟“ بیوقوف لوگ موجود ہیں جو حقیقت میں اپنی ساری جائیداد دے دیتے ہیں تاکہ وہ اِس طرح زندہ ر ہ سکیں۔ کیا کوئی موجود ہے جو ایک خواب کی وجہ سے خوفزدہ ہو ا تھا، جس نے اِسے سنجیدگی سے لیا، یا جس کی زندگی اِس کی وجہ سے تبدیل ہوگئی؟ یہ تصَوف پرستی کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں ہے۔
خُد اہمیں کلام کے وسیلہ سے ملتاہے۔ وہ کوئی اَیسا نہیں ہے جسے ہم ایک خواب یا ایک رویا میں ہماری دُعا میں مل سکتے ہیں۔ خُدا کا کلام پُرانے اور نئے عہد ناموں میں لکھا ہوا ہے، اور یہ ہے جب ہم ہمیں پیش کیا گیا یہ کلام سُنتے ہیں اور اِسے ہمارے دلوں میں قبول کرتے ہیں یعنی ہماری روحیں کلام کے وسیلہ سے اُ س سے مل سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں،  کلام کے ذریعے اور صِرف کلام کے ذریعےہی آپ کی روحیں خُدا سے مل سکتی ہیں۔
یہ کلام سے ہے کہ ہمیں معلوم ہوا کہ یِسُوعؔ  نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا؛ یہ اِس کلام کوسُننے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم ہمارے دلوں میں ایمان رکھنے کے لئے آچکے ہیں۔ سوال کا جواب کیوں یِسُوعؔ  کو صلیب پرمرنا پڑا تھا بھی کلام میں پایا جاتاہے۔ یہ اِس لئےہے کہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا کہ وہ صلیب پرمر گیا اور ہمیں بچا یا۔ کلام کے وسیلہ سے، ہم خُداکوپہچانتے ہیں، اور کلام کے وسیلہ سے، ہم اُس پر ایمان لاتےہیں۔ یہ کہ یِسُوعؔ  مسیح خُد اہے یہ بھی ہم صِرف کلام کے وسیلےجانتےاورایمان رکھتےہیں۔
 
 
ہم کیسے خُدا پر ایمان رکھ سکتے تھے؟ کیا یہ  خُد اکے تحریری کلام کےوسیلے نہیں تھا؟
 
اگر خُدا کا کلام نہ ہوتا،تو ہم کیسے یِسُوعؔ  سے ملنے اور ایمان رکھنے کے لئے آسکتے تھے، جو ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے؟ اگر خُداکا کلام نہ ہوتا،تو ہمارا ایمان کچھ نہ ہوتا۔ ”یہ ہے مَیں کیا سوچتاہوں“ہم اپنےخیالات کو ظاہر کر  سکتے ہیں، لیکن یہ سچ نہیں ہے، اور جب ہمارے دل اِس بات سےبھر جاتے ہیں جو سچ نہیں ہے، تو حقیقی سچائی ہمارے دلوں میں داخل نہیں ہو سکتی ہے۔ کہنے کے لئے دُرست چیز یہ نہیں ہےکہ، ”یہ ہے مَیں کیا سوچتا ہوں،“ بلکہ یہ ہے، ”یہ وہی ہےجو کتابِ مقد س کہتی ہے۔“ جب ہم کتابِ مقدس کو پڑھتے ہیں، توخُداکی معرفت بولا گیا سچ ہمارے دلوں میں آتاہے، اور ہماری پچھلےخیالات کی غلطیوں کو دُرست کرتاہے۔
پانی اور روح کی خوشخبری پر آپ کا ایمان کس چیز سے بنا ہوا ہے؟ کیا یہ آپ کے ذاتی خیالات سے بنا ہوا ہے؟ یا کیا آپ کلام میں سے سُن کر اِسے جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوئے تھے؟ یہ کلام کے وسیلہ سے ہے کہ ہم ہمارے دلوں میں ایمان رکھنے اور خُداسے ملنے کے لئے آ چکے ہیں۔ یہ ہے کیوں خیمۂاِجتماع کے صحن کادروازہ آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان سے بُنا گیا تھا۔
حوض میں رکھے گئے پانی کا مطلب بپتسمہ ہے جس کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  مسیح نے ہمارے تمام گناہوں کو اپنے آپ پر اُٹھا لیا۔ ” اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔“ (متی ۳:۱۵)۔ خُداکے کلام کے وسیلہ سے، ہم بپتسمہ کو جاننے کے لئے آئے جس کے ساتھ یِسُوعؔ  نے اپنے آپ پر دُنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ کیونکہ یہ کلام کے وسیلہ سے ہے کہ ہم یِسُوعؔ  کے بپتسمہ کو جاننے کے لئے آئے جس نے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا جو آپ اور مَیں ہماری تما م زندگیوں میں سرزد کرتے ہیں، یہ کلام ہمیں ہمارے دلوں میں بپتسمہ کا ایمان رکھنے کے قابل بنا چکا ہے۔ یہ کلام کے وسیلہ سے ہے کہ ہم حوض میں ظاہر کیے سچ کو ڈھونڈنے کے لئے آتے ہیں۔
خُدا کے کلام سے، ہم یہ جان سکتے ہیں کہ حوض پیتل سے بنایا گیا تھا۔ کتابِ مقدس میں، پیتل کا مطلب عدالت ہے۔ اِس طرح، پیتل کے حوض کا مطلب ہے جب ہم شریعت کے سامنے اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، جو ایک آئینے کا کردار اَداکرتی ہے جو ہماری ذات کو منعکس کرتی ہے،توہم سب لعنتی ٹھہرائے جانے کے لائق ہیں۔ یہ ہے کیوں حوض خیمۂاِجتماع  کی خدمت گزار عورتوں کے آئینوں سے بنایا گیا تھا۔خُداوند ہمیں، جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ ہمارے گناہوں کہ وجہ سے لعنتی ٹھہرائے جا سکتے تھے، اِس زمین پرآنے، بپتسمہ لینے، اور صلیب پر مرنے کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ خُدا کے تحریری کلام کے وسیلہ سے، ہم نے جانا کہ یہ اِس لئےتھا کہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لیا کہ اُس نے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر گیا، اور گنا ہ کی سزا برداشت کی۔ اور یہ ہمارے دلوں میں قبول کرنے اور اِس سچ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم بچائے جا چکے ہیں۔ آپ کے بارے میں کیا ہے؟ آ پ کیسے بچائے جا  چکے ہیں؟
ایک مخصوص فرقہ میں جو تصَوف پرستی کی پیروی کرتے ہیں، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اِس کے ارکان کو ان کی نجات کی دُرست تاریخ معلوم ہونی چاہیے، جس مہینے اور دِن پر وہ بچائے گئے تھے۔ اور اِس فرقہ میں ایک پاسبان بہت سارے ایمانداروں کے سامنے گواہی دینے کے لئے کہا جاتا ہے کہ اُس نے یِسُوعؔ  پر ایمان رکھا اور نجات یافتہ ہوا جب وہ دُعا مانگنے کے لئے کسی پہاڑ پر چڑھا اور احساس کِیا کہ وہ کچھ نہیں تھا۔ اُس نے بڑے فخر سے دعویٰ کِیا کہ وہ  اپنے نئے سِرے سے پیداہونے کی دُرست تاریخ اور وقت کو کبھی نہیں بھولا۔ اِس کا یقیناً بارِیک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ صِرف جذباتی بات ہے، اِس پاسبان کے ایمان کاآسمانی ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اِس فرقہ کے طرف سے سکھائی گئی نجات کا خُداکے کلام سے بنی ہوئی سچی نجات کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ یہ صِرف اُن کی اپنی تخلیق سے  ہے۔
خودکوبےحس کرنادراصل ممکن ہے۔ اگر لوگ اصرار کرتے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں، اور باربارایسا سوچتے ہیں، تووہ خود ہی بےحس ہوجاتے ہیں اور خودہی بے گناہ بن جاتے ہیں۔ اگر وہ اپنے آپ سے اِس منترکو گنگنانا جاری رکھتے ہیں، تب وہ حقیقت میں محسوس کرسکتے ہیں جس طرح اگروہ واقعی بے گناہ بن گئے ہیں، لیکن اَیسے احساسات زیادہ دیر تک کبھی نہیں رہ سکتے ہیں۔ پس، کچھ ہی دیربعد، اُنھیں اپنے آپ کو پھر بےحس کرناپڑےگا،یہ گنگناتے ہوئے، ”مَیں بے گناہ ہوں۔ مَیں بے گناہ ہوں۔“ یہ کتنا خودغرض،جھوٹا،جاہل، اور توہم پرستانہ ایمان ہے!
بارِیک بٹے ہوئے کتان کا مطلب پُرانے اور نئے عہد ناموں میں خُدا کا کلام ہے۔ یعنی خیمۂاِجتماع  
کے صحن کے دروازے، پاک مقام، اورپاک ترین مقام کے سب دروازے آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے تھے ہمیں بتاتے ہیں کہ یِسُوعؔ  ہماری نجات کا دروازہ اور ہمار ا نجا ت دہندہ بن چکا ہے بالکل جس طرح پُرانے اور نئے عہد ناموں میں لکھا ہواہے۔ اِس لئے مَیں واقعی خُدا کا شکراَداکرتا ہوں، کیونکہ یہ نجات کتنی یقینی ہے جو خُداہم سے بول چکا ہے!
یہی وجہ ہے جب مَیں دُعا کرتاہوں، تومَیں جذبات کی طرف توجہ کرنے کی یا ایک دکھاوے کی کوشش نہیں کرتا ہوں۔ مَیں محض ہر چیز خُدا پرچھوڑنے اور اُس پر بھروسہ کرنے کے وسیلہ سے دُعامانگتا ہوں۔ ”اَے باپ، مہربانی سے ہماری مدد کر۔ ہمیں تمام دُنیا میں خوشخبری کی منادی کرنے کے قابل بنا۔ میرے تمام ساتھی خادمین اور مقدسین کی حفاظت کر اور قائم رکھ۔ ہمیں کارکن دے جو خوشخبری کی خدمت کر سکتے ہیں، اِس خوشخبری کو پھیلنے کی اجازت دے اور ایمانداروں کواحساس کرنے اورتیرے کلام پر ایمان رکھنے کے قابل بنا۔“ یہ سب ہے جو مَیں کہتاہوں جب مَیں دُعا مانگتاہوں؛ مَیں اپنے جذبات کو ابھارنے اور چلانے کی کوشش کرتے ہوئے دُعا نہیں مانگتاہوں، اور اِس بکواس میں سے کوئی بھی  میری دُعاؤں کاحصہ نہیں ہے۔
بعض لوگ، جب وہ محض کوئی معنی نہیں رکھتا وہ کتنی سخت کوشش کرتے ہیں اپنے جذبات کو نہیں اُبھار سکتے ہیں آنسو نکالنے اور اپنی دُعاؤں کو دوسروں سے سنجیدگی سے لئے جانے کا بہانہ کرنے کے لئے حتیٰ کہ اپنے بہت دیر سے مرے ہوئے باپ یا ماں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اَیسی ایجادی دُعائیں ایک کوڑا کرکٹ کے ڈھیر کی مانند ہیں جسے خُدا اپنےمُنہ سےنکال پھینکے گا۔ لو گ یِسُوعؔ  کی مصلوبیت کو سوچنے کے وسیلہ سے اپنے جذبات کو بھی ابھارتے ہیں اور اندھا دُھند چلانا جاری رکھتے ہیں، ”اَے خُداوند، مَیں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں!
لیکن کیا واقعی اِس کا مطلب یہ ہے کہ اَیسے لوگوں کا ایمان مضبوط ہے؟ اگر آپ اپنے گناہوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور اپنے جذبات کو یہ کہتے ہوئے ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں، ”اَے خُداوند، مَیں گناہ کر چکا ہوں۔ مجھے راستبازی سے زندگی گزارنےمیں مدد کر،“ تب یہ حقیقی طورپر اپنے آپ کو جذباتی طو رپر اُبھانا بالکل ممکن ہے۔ کیونکہ اَیسا جذباتی تجربہ اورچلانے کا ایک اچھا حصہ بہت زیادہ تناؤ کو دور کر سکتا ہے، بہت سارے لوگ، تروتازہ محسوس کرتے ہیں، سوچتےہیں کہ ایمان کا یہی مطلب ہے۔ گو اُن کی زندگیاں مصیبتوں سے بھری ہوئی ہیں، اَیسے جذ باتی تجربات کم ازکم  تھوڑی دیر کے  لئے اُنھیں  بہتر
محسوس کرنے کے قابل بناتے ہیں، اور اِس طرح وہ اپنی مذہبی زندگیاں جاری رکھتے ہیں۔
 
 
آپ کو یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ خُداوند ہمارے پاس آسمانی، ارغوانی،  اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے آچکاہے
 
ہمار اخُداوند ہمارے پاس کلام کے وسیلہ سے آیا۔ اِس لئے آپ کو اپنی حِسوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، بلکہ آ پ کو یقیناً سُننا چاہیے خُدا کا کلام آپ سے کیا کہتاہے۔ اہم بات یہ ہےکہ آیاآپ اپنے دلوں میں خُدا کے اِس کلام پر ایمان رکھتے ہیں یا نہیں۔ جب آپ دُعاکرتےہیں، اپنے جذبات پر توجہ کرنے کی کوشش مت کریں۔ بلکہ، آپ کو اُنھیں ایک مناسب معیار پر قابومیں رکھنا چاہیے، کیوں؟ کیونکہ اِس دُنیامیں بہت سارے جھوٹے موجود ہیں جو اُن لوگوں  تک رسائی کریں گے جو جذباتی طورپربیدارہوناپسندکرتےہیں اور اُن کے جذباتی سوراخوں سے فائدہ اُٹھاناچاہتےہیں۔ کیونکہ لوگ اکثر اپنے احساسات کا پیچھا کرنے کے وسیلہ سے دانشور حصوں کو کھو دیتے ہیں، جب بیداری کی عبادتیں ”عظیم روحانی بیداری“ کے بینر کے تحت منعقد کی جاتی ہیں،تو اکثر اِس کا مقصدصرف شمولیت کرنے والوں کے جذبات کو بھڑکاناہوتا ہے۔
تاہم، اب جب کہ مَیں نئے سِرے سے پیدا ہو چکا ہوں، مَیں ایک اَیسی بیداری کاانعقاد نہیں کرسکتاہوں خواہ مَیں کوشش کروں، کیونکہ خُد اکے کلام کی منادی کرنا دُنیا کی اِن عظیم روحانی بیداری کی عبادتوں کی مانند لوگوں کے جذبات کوبھڑکانہ نہیں ہے۔ کیونکہ مَیں سچائی کے کلام سے نئے سِرے سے پیدا ہو چکا ہوں، مَیں اپنے جذباتی پہلوکو بہت پہلے الوداع کہہ چکا ہوں جو میری روحانی زندگی میں زبردستی گھُسا کرتا تھا۔
ہم، راستباز جو خُد اکے کلام کو سُنتے ہیں، اپنی عقل کا استعمال کرتے ہیں،اوراپنےدلوں میں ایمان رکھتے ہیں،ہم کبھی بھی جذباتی طو رپر بھڑکائے جانا پسند نہیں کرتے ہیں۔ ہم سچائی پر ایمان رکھتے ہوئےجلدی سے یہ جان لیتے ہیں کہ آیا کوئی ہم سے خُد اکے کلام کے بارے میں جس طرح یہ ہے بولتا ہے یا نہیں، اور تیزی سے شناخت کرتےہیں آیا یہ شخص ہم سے حقیقتاً اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے بول رہا ہے یا نہیں ۔ کیونکہ ہم جو جانتے اور آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے سچ پرا یمان رکھتے ہیں اپنے دلوں میں روح القدس رکھتے ہیں، ہم سب جانتے ہیں کہ جذباتی گرمجوشی سچ سے بہت دُور ہے، اور ہم صِر ف ہمارے دلوں میں حقیقی سچ کو قبول کرتے ہیں۔
یِسُوعؔ  ہمارے پاس آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے آیا۔ یہ سچ کتنا شاندار ہے؟ ہمارے خُداوند کی محبت کتنی حیران کن ہے جو آپ کو بچا چکی ہے؟ خُد اکے کلام میں لکھے گئے یِسُوعؔ  کے چار رُخی کاموں کے وسیلہ سے ہم سب ایمان رکھ چکے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اپنے آپ پر آپ کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر مرگیا، اور یوں آپ کو اپنی ساری راستبازی کی تکمیل کے ساتھ بچا چکا ہے۔
کیا آپ اپنے دلوں میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں؟ وہ جو خوشخبر ی کی منادی کرتے ہیں اُن کو یقیناً اِسے بارِیک بٹے ہوئے کتان کے اندر رہ کر پھیلانا چاہیے، یعنی، خُد اکا پُرانے اور نئے عہد ناموں کا کلام ،اور اِس کے اجزاء یقیناً آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ہونے چاہیے۔ اور وہ جو اِسے سُنتے ہیں اُنکو یقیناً اپنے دلوں میں اِسے قبو ل کر نا چاہیے اور پورے دل کے ساتھ اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
 
 
حو ض کا پانی ہمارے گناہوں کو دھوتا ہے
 
اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ  نے اپنے آپ پر ہمار ے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کو دھو دیا۔ یِسُوعؔ کابپتسمہ حوض کے پانی کو بیان کرتا ہے؛ یہ ہمیں پاک کر چکا ہے، جو سب گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق تھے، اور ہمیں خُد اکے سامنے کھڑے ہونے کے قابل کر چکا ہے۔ کیونکہ یِسُوعؔ  نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا، وہ صلیب پر جا سکتا تھا اور اُنھیں موت تک مصلوب ہونے کے وسیلہ سے دھو سکتا تھا۔ دونوں یِسُوعؔ  کا بپتسمہ اور صلیب گواہی دیتے ہیں کہ یِسُوعؔ  نے ہمارے تمام گناہوں کی لعنت اُٹھالی۔ بپتسمہ او رصلیب کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ  نے ہماری ساری نجات پوری کی۔
توبہ کی دُعائیں پیش کرنا کبھی ہمار ے گناہوں کو نہیں دھو سکتاہے۔ یہ اِس لئے ہے کہ یِسُوعؔ  نے
پہلے ہی اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا ہےیعنی ہمارے تمام گناہ دھوئے جا چکے ہیں۔ یہ اِس کلام کو سُننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے یِسُوعؔ  ہمارے لئے کیا کر چکا ہے کہ ہم ہمارے گناہوں کی سزا سے آزاد ہو سکتے ہیں۔ سزا کا شکر ہو جو یِسُوعؔ  برداشت کر چکا تھا، ہم پہلے ہی اُس کے بپتسمہ پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے ہماری گناہ کی ساری سزا برداشت کر چکے ہیں۔ حقیقتاً، ہم ایمان کے وسیلہ سے بچائے جا چکے ہیں۔ ایک طرح سے، نجات بالکل آسان ہے۔ اگر ہم نجات کے تحفے اور محبت پر ایمان رکھتے ہیں، ہم نجات یافتہ ہو سکتے ہیں، لیکن اگر ہم ایمان نہیں رکھتے ہیں تب ہم نجات یافتہ نہیں ہو سکتے ہیں۔
 
 
خُدا کی طرف سے مکمل ہونےوالی نجات کےعلاوہ،نجات یافتہ  ہونے کےلئے ہم کچھ بھی نہیں کرسکتےہیں
 
ہم اپنی نجات کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتے ہیں، اگر یہ خُدا نہ کرتا۔ جیساکہ ہمارے خُد اوند نے تخلیق سے پہلے ہمیں اِس طریقے سے بچانے کا فیصلہ کِیا اور ہماری نجات پوری کی، ہر چیزانحصار کرتی ہے کہ خُدا کیسے فیصلہ کرتا ہے۔ خُدا باپ نے اپنے بیٹے اور روح القد س کے وسیلہ سے ہمیں بچانے کا فیصلہ کِیا، اور جب مقررہ وقت آیاتو، اُس نے اپنے واحد اِکلوتے بیٹے یِسُوعؔ  کو زمین پر بھیجا۔ جب یِسُوعؔ  ۳۰سال کا ہوگیا اور اُس کا نجات کے اِن کاموں کو پورا کرنے کا وقت آگیا، تب باپ نے یِسُوعؔ  کو بپتسمہ لینے اور صلیب پر مرنے، اور اُسے جی اُٹھنے کے قابل بنایا، اور یوں ہمیں بچا چکاہے۔ ہم سیکھنے اور جاننے کے وسیلہ سے ہمارا خُداوند پُرانے اور نئے عہد ناموں کے کلام سے ہمارے لئے کیا کر چکا ہے، اور ہمارے دلوں میں اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہوتے ہیں۔ ہمارے دلوں میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہونا ہمارے دلوں میں ایمان کو قبول کرنے کے علاوہ کچھ دوسرا نہیں ہے۔ 
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ کتابِ مقد س کا یہ کلام خُد اکا کلام ہے؟ اِس کتابِ مقدس کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں بذاتِ خود خُد اہے جو اِبتدا سےموجودہے، اور اُس کا کلام ہے۔ پُرانے اور نئے عہدناموں کے کلام، خُدا کے کلام کے وسیلہ سے، ہم جان سکتے ہیں اور خُداکو مل سکتے ہیں۔ اور پُرانے اور نئے عہد نامہ کے کلام کے وسیلہ سے، ہم احساس کر سکتے اور ایمان رکھ سکتے ہیں کہ وہ ہمیں آسمانی،ا رغوانی، اور سُرخ دھاگے او ر بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ کیونکہ وہ بھی، جو حقیقتاً اِس سچ پر ایمان رکھتے ہیں نجا ت یافتہ ہیں، وہ گواہی دے سکتے ہیں کہ یہ کلام یقینی قُدرت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی ذاتی تنگ نظری کے ساتھ خُد اکے کلام کو پَرکھنا اور ناپنا نہیں چاہیے، بلکہ ہمیں یقیناً اِس سے یہ سمجھنا چاہیےکہ خُدا کتنے دُرست طور پر ہمیں بچا چکا ہے۔
پُرانے اور نئے عہد نامہ سے،مَیں اُمید کرتا اور دُعا مانگتا ہوں کہ آپ سب اب آسمانی (یِسُوعؔ  کا بپتسمہ)، ارغوانی (یِسُوعؔ  بادشاہوں کا بادشاہ ہے)، اور سُرخ دھاگے (صلیب)، اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے کلام(خُدا کے پُرانے اور نئے عہد نامے کے کلام) کو سُنیں گے اور ایمان رکھیں گے۔ اگر آپ خُدا کے کلام کو ایک طرف رکھتے ہیں اور اپنی باقی زندگی کے لئے اُس کے کلام کو اپنے ذاتی پیمائش کے عصا سے پَرکھتے ہیں، آپ کبھی نجات یافتہ نہیں ہوں گے۔
اگر آپ اپنے آپ کو پہچانتے ہیں کہ آپ خُدا کا کلام اچھی طرح نہیں جانتے ہیں، تب آپ کو یقیناً احتیاط سے سُننا چاہیے کہ ایمان کے پیشرو کیا کہتے ہیں۔ خواہ  وہ پاسبان ہوں، کارکن ہوں، یا دُنیادار ، جب آپ اُن کے وسیلہ سے پیش کِیا گیا خُد اکا کلام سُنتے ہیں، اور جب وہ جو منادی کر رہے ہوں تو واقعی خُدا کے سامنے سب جو آپ کو کرنا ہے وہ یہ ہے کہ یہ بالکل دُرست ہےاور اپنے دلوں میں اِ س پر ایمان رکھیں۔
وہ لوگ جو کلام کو پھیلاتے ہیں وہ  اِسے اِس لئےنہیں پھیلاتے کہ  یہ  بہت آسان ہے، لیکن وہ اَیسا کرتے ہیں کیونکہ وہ جو منادی کر رہے ہیں خُد اکے سامنے دُرست ہے۔ یہ ہے کیوں وہ خُدا کے سامنے دُرست علم کی منادی کرتے ہیں یہ ہے، پانی اور روح کی خوشخبری،یعنی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کا سچ۔ اِس سےقطع نظر کہ ہم اِسے کس سے سُنتے ہیں، اگر یہ خُد اکا سچا کلام ہے، تب کوئی دوسری چیز نہیں ہے جو ہم کر سکتے ہیں بلکہ اِسے ایک ہاں کے ساتھ قبول کریں، کیونکہ ایک واحد شوشہ نہ ہی ایک لفظ موجود ہے جو خُدا کے کلام میں غلط ہے۔
ہمیں یقیناً خُدا کے کلام پر ایمان رکھنا چاہیے۔’ایمان رکھنا‘ کیا ہے؟ یہ قبول کرنا ہے۔ یہ بھروسہ کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کیونکہ ہمارے خُداوند نے ہمارے لئے بپتسمہ لیا، ہم ہماری ساری کمزوریاں اس کے سُپر د کرتے ہیں اور اُس پر انحصار کرتے ہیں۔  ” کیا واقعی خُداوند نے مجھے اَیسا کرنے کے وسیلہ سے بچایا؟ مَیں بھروسہ کرتا اور آپ پریقین رکھتا ہوں۔“ اِس طرح ایمان رکھنا سچا ایما ن ہے۔
اِس دُنیا کے ماہرِ علم ِ الہٰیات کے درمیان، کسی کو ڈھونڈنا انتہائی مشکل ہے جو دُرست  طو ر پر  جانتا
اور ایمان رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ حوض تک پہنچنے سے پہلے، وہ خیمۂاِجتماع  کے صحن کے دروازہ پر اٹکے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ صحن میں داخل ہونے کے قابل نہیں ہیں۔ جب وہ خیمۂاِجتماع  پر پیغامات دیتے ہیں تو وہ بڑی چالاکی سے اِس کے صحن کے دروازہ کے کوگھسیٹنےکی باضمیر کوشش کرتے ہیں، اور جب وہ خیمۂاِجتماع  پر کتابیں شائع کرتے ہیں،تووہ اَیسی تصویریں لگاتے ہیں جو بڑے دروازہ کو جو صحن کی باڑ میں۹ میٹر سے زیادہ جگہ لیتا تھا کو چھوڑ دیتے ہیں۔
کبھی کبھار، بعض موجو دہیں جو دلیری سے خیمۂاِجتماع  کے صحن کے دروازہ کے بارے میں منادی کرتے ہیں، لیکن کیونکہ وہ آسمانی دھاگے کے بُنیادی جوہر کو نہیں جانتے ہیں، وہ صِر ف کہتے ہیں، ”آسمانی آسمان کا رنگ ہے۔“ پس وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آسمانی دھاگہ آسمان کا رنگ ہے جو ظاہر کر تا ہے کہ یِسُوعؔ  بذاتِ خود خُدا ہے، اور کہ سُرخ دھاگہ خون کو بیان کرتا ہے جو یِسُوعؔ  نے صلیب پر بہایا جب وہ اِس زمین پر تھا،اور یوں بڑی چالاکی سے،خیمۂاِجتماع  کے صحن کے دروازے کی سچائی کو گھیرلیتےہیں۔ ارغوانی رنگ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ارغوانی رنگ ہمیں بتاتاہے کہ یِسُوعؔ  بادشاہوں کا بادشاہ اور بذاتِ خود خُدا ہے۔ یِسُوعؔ  کی الُوہیت پہلے ہی ارغوانی دھاگے میں کامل طو رپر برقرار ہے،تاکہ کسی دوسرے رنگ کے دھاگے کے ساتھ سچ کو دہرانے کی ضرورت  نہ رہے۔
آسمانی دھاگے کا سچ یہ ہے کہ یِسُوعؔ  اِس زمین پر آیا اور یوحنا ؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ایک ہی بار اپنے آپ پر بنی نوع انسا ن کے تمام گناہوں کو اُٹھالیا۔ لیکن اِس دُنیا کے ماہرِ علم الہٰیات، کیونکہ وہ یِسُوعؔ  کے اِس بپتسمہ کو نہیں پہچانتے ہیں، نہ اِسے جان سکتے ہیں، نہ ہی اِس کی منادی کرتے ہیں، بلکہ صِرف اپنی بیوقوفی میں بولتے ہیں۔ وہ جو یِسُوعؔ  پر ایمان نہ رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے آیا نہیں جانتے ہیں کہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے آپ پر تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن کی سزا برداشت کی۔ اِس طرح، وہ روحانی طو رپر اندھے ہو چکے ہیں اور کلام کو حل کرنے کے قابل نہیں ہیں، اور اِس لئے اُنہوں نے اپنے ذاتی خیالات پر مبنی اِس کی من مانی سے تشریح کرنے کے وسیلہ سے خُد اکے کلام کو مذہب بنا لیاہے۔ وہ سکھاتے ہیں، ”یِسُوعؔ  پر ایمان رکھو۔ تب تم نجات یافتہ ہو جاؤ گے۔ اور اب سے اچھے اور عاجز بن جاؤ۔“ وہ یِسُوعؔ  مسیح پر ایمان کو محض ایک مذہب میں بدل چکے ہیں جو صِرف اُن کے نیک اعمال پر زور دیتاہے۔
کیونکہ لو گ جانتے ہیں کہ وہ اچھے نہیں ہو سکتے ہیں کوئی  معنی  نہیں  رکھتا  وہ  کتنی  سخت  کوشش
کرتے ہیں، وہ اَیسے الفاظ سے آسانی سے دھوکہ کھا جاتے ہیں جو بنی نوع انسان کی مرضی کو اچھا بننےکی کوشش کرنے کی دعوت دیتے  ہیں۔ مذاہب اُسی پُرانے طرز کی پیروی کرتے ہیں، ”اگر آپ کوشش کریں تو آپ کر سکتے ہیں،“ یا  ”مقدس بننے کی پوری کوشش کریں۔“ تما م مذاہب  کا مشترکہ موضوع یہ ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے مہذب خیالات، کوششوں، اور ارادہ کو بہت زیادہ درجہ دیتے ہیں۔ مثال کے طورپر، بُدھ مت کے بارے میں کیا خیال ہے؟  بُدھ مت بنی نوع انسان کی لااختتام کوششوں اور ارادہ پر زور دیتا ہے اور اپنے پیروکاروں کو خودسےمقدس بننے کی کوشش کرنے کی تعلیم دیتا ہے، یہ کہتے ہوئے، ”قتل نہ کرو؛سچائی کو تلاش کرواور اچھے بنو۔“ بعض طریقوں سے، اِس کی تعلیمات مسیحی الہٰی نظریات سے کافی ملتی جلتی ہیں۔ مسیحیت اور بُدھ مت ایک دوسرے کے مخالف سرے پر  ہونے کے باوجود اِتنے قریب سے جُڑے نظر آنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں محض مذاہب ہیں۔
مذہب اور ایمان مکمل طو رپر ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ سچا ایمان اپنے دلوں میں تحفے کو پہچاننا اور قبول کرنا ہے جو ہمارا خُداوند، جو ہمیں تنہا خُد اکی راستبازی کے وسیلہ سے بچا چکا ہے، ہمیں دے چکا ہے۔ ایمان ہمارے دلوں میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرنا ہے یعنی خُداونداِس زمین پرآیا اور اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو لینے کے لئے بپتسمہ لیا، اور یہ کہ اُس نے مصلوب ہونے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی ساری سزا برداشت کی۔ ایمان رکھنا کہ خُداوند ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور سزا سے بچانے کے وسیلہ سے پانی او رروح کی معرفت چھڑا چکا ہے ایمان ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟ ہمیں یقیناً واقعی ہمارے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے۔
 
 
خُدا آپ کو اور مجھے پہلے ہی ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکاہے
 
اِس طرح، ہمیں صرف یہ کرنا ہےکہ اپنے دلوں میں اِس پر ایمان رکھنا اور اِسے قبول کرنا ہے۔ یہ وہی ہے جوخُدا کے حقیقی فرمانبردار بیٹوں کو اُس کے سامنے کرنا ہے، اور باقی سب کچھ اِتنا اہم نہیں ہے۔ کیونکہ خُد انےآپ سے محبت کی ہے، اُ س نے اِس زمین پر اپنے واحد اِکلوتے بیٹے کو بھیجا، اُسے بپتسمہ دِلوانے کے وسیلہ سے اُسے اپنے آپ پر آپ کے گناہوں کو اُٹھانے کے قابل بنایا، وہ مصلوب ہوا اور خون بہایا، اور اُسے سزا دینے کے وسیلہ سے موت کے حوالے کِیا، اُسے زندہ کِیا، اور یوں آپ کو آپ کے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
تب، اگر آپ اِس سچائی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں توخُدا کیسا محسوس کرے گا؟ حتیٰ کہ اب بھی، اگر آپ اُس کے فرمانبردار بیٹے اور بیٹیاں بننا چاہتے ہیں جو اُس کے دل کو خوش کر سکتے ہیں، تب آپ کو یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ خُد ااپنے بیٹے کے وسیلہ سے، آپ کے تمام گناہوں کومٹا چکا ہے اور آپ کو اُن سے بچا چکا ہے۔ اگر آپ اپنے دلوں میں اور شکر گزاری سے ایمان رکھتے ہیں، تب آپ کو یقیناً اپنے مُنہ کے ساتھ اِقرار کرنا چاہیے۔ کیا آپ بھی اُس پر ایمان رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ایسا لگتا ہے کہ آپ کے لئے اپنے دل سے ایمان رکھنا انتہائی مشکل ہے؟ تب، واضح طو رپر اپنے مُنہ کے ساتھ اپنے ایمان کا اِقرار کرنے کی کوشش کریں۔ اِس طرح جب آپ اِقرار کرتے ہیں کہ آپ ایمان رکھتے ہیں، تب ایمان بویا جائے گا اور آہستہ آہستہ بڑھے گا۔ ایمان اُن سے تعلق رکھتا ہے جو اِسے بہادری سے لیتے ہیں۔
آئیں ایک لمحہ کے لئے فرض کریں کہ میرے پاس ایک اصلی ہیرے کی انگوٹھی ہے۔ آئیں مزید فرض کریں کہ مَیں اِسے آپ کو دُوں گا، لیکن آپ مَیں سے کوئی اِسے یہ کہتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کرتا ہے کہ وہ یقین نہیں کر سکتا ہے کہ انگوٹھی اصلی  ہیرے سے بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ انگوٹھی ایک اصلی ہیرے کی انگوٹھی ہے، کیونکہ اِس شخص نے یقین نہیں کِیا، یہ اُس کے لئے ہیرا نہیں ہے، اور اِس طرح اب وہ ایک اصلی ہیرے کی انگوٹھی حاصل کرنے کا موقع کھو چکا ہے۔ 
ایمان اِسی طرح ہے۔ اگر ایک بااختیار جوہری نے اپنے تحریری بیان کے ساتھ لوگوں کو ثابت کردیا کہ انگوٹھی اصلی ہیرے سے بنی ہوئی ہے،تو وہ اِس پر یقین کر لیں گے۔ خُدا اپنے تحریری کلام کے وسیلہ سے تفصیل سے ہمیں بتا چکا ہے کہ نجات جو وہ ہمیں دے چکا ہے سچی ہے۔ اور وہ جو اُس کی نجات پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ اُس کا کلام اِس طرح گواہی دیتا ہے ایمان کے لوگ ہیں۔ ”یہ میرے لئے ایمان رکھنا مشکل ہے کہ یہ واقعی سچ ہے، لیکن چونکہ آپ جو واحد حتمی ا ختیار والے ہیں کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے، مَیں اِس پر ایمان رکھتا ہوں۔“ جب لوگ اِس طرح ایمان رکھتے ہیں، تب وہ ایمان کے لوگ بن سکتے ہیں، اور وعدہ کے مطابق قیمتی ترین تحفہ اُن کا بن جاتا ہے۔
دوسری طرف، ایک مختلف قِسم کا ایمان بھی موجود ہے۔ آئیں تصور کریں کہ ایک دھوکے باز نے ہیرے کی انگوٹھی کی نقل بنائی، اوریہ کہ کسی نے اِس کے شاندا ر رنگوں سے مخمور ہو کر اِسے خریدا، اِس یقین کے ساتھ  کہ یہ ایک اَصلی انگوٹھی تھی۔ یہ شخص مکمل طورپر مطمئن ہے کہ اُس نے ایک عقلمند انتخا ب کِیا۔ لیکن حقیقت میں، وہ دھوکہ کھا چکا ہے۔ جب لوگ جھوٹی گواہیوں پر ایمان رکھتے ہیں جو دعویٰ کرتی ہیں کہ انگوٹھی ہیرے کی بنی ہوئی ہے جب کہ یہ نہیں ہے، تویہ نقلی ہیرا اِن لوگوں کے لئے اَصلی ہیرے جیساہی ہے، کیونکہ وہ اندھا دُھند ایمان رکھتے ہیں کہ انگوٹھی ہیرے سے بنی ہوئی ہے۔ لیکن جو کچھ اُن کے پاس ہے، وہ یقیناً نقلی ہے۔ اِسی طرح، لوگ موجود ہیں جو جھوٹا ایمان رکھتے ہیں۔ حتیٰ کہ گو وہ اپنے ایمان سے مطمئن ہیں، یہ ایمان جھوٹا، بے بُنیاد، اور تصَوفی ہے، کیونکہ یہ خُدا کے کلام سے حاصل نہیں ہوا۔
خُد انےفرمایا،  ” میرے سوا دوسرے معبودوں کی پرستش نہ کرو۔“ خُد اکا کلام بذاتِ خود خُدا ہے، اور کلام ہمیں بتاتاہے کہ جب تک ہم پانی اور روح سے پید انہیں ہوتے ہیں، ہم خُداکی بادشاہت کو دیکھ نہیں سکتے ہیں (یوحنا ۳:۵)۔ خُد اہمیں بتا رہا ہے کہ پہلے خیمۂاِجتماع  کے صحن کے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے بُنے ہوئے دروازے میں سے گُزرنے کے بغیر، ہم خیمۂاِجتماع  کے صحن میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں، اوریہ کہ وہ جو پہلے حوض میں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو صاف نہیں کرتے ہیں خیمۂاِجتماع  میں داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جیساکہ صِرف یہ کلام سچاہے، اِس کے علاوہ جوکچھ ہے وہ سب جھوٹ ہے۔
صِرف سچائی پر ایمان ہی حقیقی ایمان ہے، اور کسی دوسری چیزپر ایمان سب جعلی ہے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کتنی گرمجوشی سے لوگ ایمان رکھ سکتے ہیں، جو خُدا کا کلام نہیں ہے وہ بالکل آخر تک خُد اکا کلام نہیں ہے۔ جب یِسُوعؔ  آپ کو بتاتا ہے کہ وہ اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ساتھ آپ کے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے، سب جو آپ کو کرنا ہے محض ایمان رکھنا ہے۔ چونکہ واحد جو کہتا ہے کہ وہ اَیسا کر چکا ہے خُد اہے، اُس کے کلام پر یہ ایمان حقیقی ہے۔ اگر ہماراخُداوند واقعی یہ نہیں کر چکا ہے، تب یہ اُس کا ظلم ہے، اور آپ کا ایمان بھی غلط نہیں ہے۔ دوسری طرف، اگر خُداوند حتمی طو ر پر اَیسا کر چکا ہے، اور آپ نے اب تک ایمان نہیں رکھا اور اِس لئے نجات یافتہ نہیں ہوئے، تب یہ واضح طور پر ساری آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ اِس لئے ہمیں جو کرنا ہے وہ ایمان رکھنا ہے۔ ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے خُدا اپنی کلیسیا کے وسیلہ سے ہم سے کیا کہتا ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟
کلیسیا کے وسیلہ سے بولا گیا کلام کیا ہے؟ یہ یِسُوعؔ  مسیح کا کلام ہے جو ہمارے پاس آسمانی، ارغوانی،
اور سُرخ دھاگے اور بارِیک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے آیا۔ کلیسیا خُدا کا سارا کلا م پھیلاتی ہے کہ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے آپ پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، کہ یِسُوعؔ  بذاتِ خود خُدا ہے، اور کہ اُ س نے صلیب پر ہمارے تمام گناہوں کی سزا برداشت کی۔ اِس سچائی پر ایمان، کہ یِسُوعؔ  اِس طرح ہمیں بچا چکا ہے، حقیقی ہیرے کا ایمان ہےجس کی خُد انے ضمانت دی ہے۔
جب ہم سب سےپہلے خُد اکی مرضی اور خیمۂاِجتماع  میں ظاہر ہونےوالے روحانی معانی کوجانتے ہیں اورپھر اُن کے بارے میں بولتے ہیں، تو یہ آسان ہے۔ لیکن اگر، ہم اُن کو جاننے کے قابل نہیں ہیں، اورصِرف خیمۂاِجتماع  کی بیرونی تشکیل کے بارے میں سطحی علم، اِ س کے لئے اَصل عبرانی لفظ، یا اِس کے تاریخی پس منظرکی طرف ہمیں راغب کِیا جانا تھا، توہمیں کوئی فائد ہ نہیں ہوگابلکہ یہ صِرف سردرد کے ساتھ ختم ہوگا۔
یِسُوعؔ  کے بپتسمہ پر ایمان رکھیں۔ یِسُوعؔ  نے بپتسمہ حاصل کِیا جو تمام تاریک، گندے گناہوں کو پاک کرتا ہے جو حتیٰ کہ ہمارے دلوں میں ہیں۔ بپتسمہ کا مطلب گناہ کو دھونا، لادنا، دفن کرنا، منتقل کرنا، اور ڈھانپنا ہے۔ یہ اِس لئےہے کہ یِسُوعؔ  نے اَیسا بپتسمہ حاصل کِیا کہ اُس نے ہمارے تمام گناہوں کو اپنے آپ پر اُٹھا لیا۔ وہ جو اِس طرح ایمان نہیں رکھتے ہیں اب سب موت کے حوالے کیے جائیں گے اور جہنم میں پھینکے جائیں گے۔  ” تُو دھونے کے لِئے پِیتل کا ایک حَوض اور پِیتل ہی کی اُس کی کُرسی بنانا ... تو اپنے اپنے ہاتھ پاؤں دھو لیں تاکہ مَر نہ جائیں۔ یہ اُس کے اور اُس کی اَولاد کے لِئے نسل در نسل دائمی رسم ہو۔ “ (خروج ۳۰:۱۸،۲۱)۔ ایمان نہ رکھنا لعنتی ہونا ہے۔ ایمان نہ رکھنا جہنم میں پھینکے جانا ہے۔ اگر آپ ایمان نہیں رکھتے ہیں، یہوواہؔ کی لعنت اور تباہی آپ پر نازل ہوگی، اور آپ اَبدی آگ میں پھینکے جائیں گے۔
تو اپنے اپنے ہاتھ پاؤں دھو لیں تاکہ مَر نہ جائیں۔ “ خُدا نے سردار کاہن سے یہ کہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک دائمی قانون ہے کہ اُس کو اور اُس کی نسل کو اپنی تمام نسلوں تک یقیناً اِس کے پابند رہنا چاہیے۔ کوئی بھی جو یِسُوعؔ  پر اپنے نجات دہندہ کے طو رپر ایمان رکھنا چاہتا ہےاُس کو یقیناً اُس کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھنا چاہیے۔ ایمان اُن سے تعلق رکھتا ہے جو اِسے بہادری سے لیتے ہیں۔ نجات آپ کی بن جاتی ہے جب آپ اِسے ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے دلوں میں قبول کرتے ہیں۔ سچ ہمارے لئے فائدہ مند ہو سکتا ہے صِرف جب ہم اِس پرایمان رکھتے ہیں۔ ہمیں یقیناً  ایمان  رکھنا  چاہیے خُدا ہمیں  کیا
بتا چکاہے۔ ایسےدل  میں کوئی رکاوٹ نہیں ہےجو بے ایمانی سے عظیم ہو۔
خُد انے کہا کہ جب کاہن اُس کے سامنے آئیں، اُنھیں یقیناً پہلے پیتل کے حوض پر اپنے ہاتھ اور پاؤں دھونے چاہئیں، اور پھربھی بہت سارے لوگ موجود ہیں جو حوض کے پانی کے ساتھ اپنے ہاتھوں اور پاؤں کو دھونے کا ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ ہر ایک جو حوض میں ظاہر کِیا گیایہ ایمان نہیں رکھتا ہے سب خُد ا کے سامنے موت کے حوالے کیے جائیں گے۔ اپنے دلوں میں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھیں اور پاک ہو جائیں، اور یوں خُد اکے سامنے جائیں، اپنی موت سے بچیں، اور اُس کی بادشاہت کو اپنے تحفہ کے طو رپر قبول کریں۔ اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ خُدا کے سامنے کتنی ہی بحث کرتے اور ضِد کرتے ہیں، آپ کویقینی طور پر ایمان نہ رکھنے کے لئے لعنتی ٹھہرایاجائےگا جب کہ آپ کو ایک موقع دیا گیا تھا۔ مَیں اُمید کرتا اور دُعا مانگتاہوں کہ آپ میں سے کسی کو بھی سچائی پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے موت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اگر آپ نجات کی سچائی پر ایمان نہیں رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ  کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے ساتھ آپ کے گناہوں کو مٹا چکی ہے، توآپ بُری طرح نقصان اُٹھائیں گے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟ ہمیں یقیناً حوض کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں اور سزا سے ہمیں بچانے کے لئے خُدا کا شکر اَدا کرنا چاہیے۔
خیمۂاِجتماع  کے بقیہ حِصےپر اِس کتاب کےدوسرے حِصوں میں بحث کی جائے گا۔ مجھے اُمید ہےکہ آپ سب کو اِن کتابوں کے پیغامات کے ذریعے، خُد اکے بیٹے بننے کا شرف حاصل ہوگا۔