خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-11] <یوحنا ۱۳:۱۔۱۱> ہم ہٹنے والے نہیں کہ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہلاک ہوں

> یوحنا ۱۳:۱۔۱۱  <
عِیدِ فَسح سے پہلے جب یِسُوعؔ نے جان لِیا کہ میرا وہ وقت آ پُہنچا کہ دُنیا سے رُخصت ہو کر باپ کے پاس جاؤں تو اپنے اُن لوگوں سے جو دُنیا میں تھے جَیسی مُحبّت رکھتا تھا آخِر تک مُحبّت رکھتا رہا۔اور جب اِبلِیس شمعُوؔن کے بیٹے یہُوداؔہ اِسکریُوتی کے دِل میں ڈال چُکا تھا کہ اُسے پکڑوائے تو شام کا کھانا کھاتے وقت۔یِسُوعؔ نے یہ جان کر کہ باپ نے سب چِیزیں میرے ہاتھ میں کر دی ہیں اور مَیں خُدا کے پاس سے آیا اور خُدا ہی کے پاس جاتا ہُوں۔دسترخوان سے اُٹھ کر کپڑے اُتارے اور رُومال لے کر اپنی کمر میں باندھا۔اِس کے بعد برتن میں پانی ڈال کر شاگِردوں کے پاؤں دھونے اور جو رُومال کمر میں بندھا تھا اُس سے پونچھنے شرُوع کِئے۔پِھر وہ شمعُوؔن پطرؔس تک پُہنچا۔ اُس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! کیا تُو میرے پاؤں دھوتا ہے؟ یِسُوعؔ نے جواب میں اُس سے کہا کہ جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔پطرؔس نے اُس سے کہا کہ تُو میرے پاؤں ابد تک کبھی دھونے نہ پائے گا۔یِسُوعؔ نے اُسے جواب دِیا کہ اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔شمعُوؔن پطرس نے اُس سے کہا اَے خُداوند! صِرف میرے پاؤں ہی نہیں بلکہ ہاتھ اور سر بھی دھو دے۔یِسُوعؔ نے اُس سے کہا جو نہا چُکا ہے اُس کو پاؤں کے سِوا اَور کُچھ دھونے کی حاجت نہیں بلکہ سراسر پاک ہے اور تُم پاک ہو لیکن سب کے سب نہیں۔چُونکہ وہ اپنے پکڑوانے والے کو جانتا تھا اِس لِئے اُس نے کہا تُم سب پاک نہیں ہو۔
 
 
کتابِ مقدس کا سار ا کلام جھوٹے اُستادوں کے لئے ایک بھید ہے جو ابھی نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔ا ِس لئے وہ خُدا کے کلام کی اپنے ذاتی طریقہ سے انسانی خیالات کے ساتھ تشریح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔حالانکہ، وہ بذاتِ خود مطمئن نہیں ہیں کہ وہ کیا سکھا رہے ہیں۔ نتیجہ کے طورپر، حتیٰ کہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھنےوالوں میں سے بھی بہت سارے لوگ ایسے نہیں ہیں جو اپنی نجات کا کامل یقین رکھتے ہیں۔
ایسی صورتِ حال کیوں ہے؟ ایسا ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں حتیٰ کہ گو وہ پانی اور روح کی خوشخبری کو واضح طورپر نہیں جانتے۔ ایسے مسیحی سوچتے ہیں کہ وہ تباہ نہیں ہوں گے کیونکہ وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن اُنھیں احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ جب کلام ِ مقدس کے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے، اُن کے لئے یہ واحد مکمل حقیقت ہے کہ تباہ ہو جائیں جب تک وہ پانی اور روح سے نئے سِرے سے پیدا نہ ہوں۔
عام طورپر لوگوں میں یہ سوچنے کا مضبوط عقیدہ ہے کہ اگرچہ وہ سچائی کو نہیں جانتے، کیونکہ وہ اندھا دُھند یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں، وہ کم ازکم تباہ نہیں ہوں گے۔تاہم، جیساکہ وہ صحیفائی کلام کو دُرست طورپر نہیں سمجھتے،اِس لئے وہ کلام سے یہ نہیں سمجھ سکتے کہ وہ اصل میں  غلط ایمان رکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ  وہ مناسب طور پر نجات یافتہ نہیں ہوئے ہیں۔
لہٰذااگر لوگ کتابِ مقدس کے کلام کی لفظی طورپر تشریح کرتے ہیں اور اپنے ذاتی خیالا ت پر مبنی اپنے ذاتی الہٰی نظریات گھڑتے ہیں، تب ایسے لوگ، حتیٰ کہ اگر وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہوں، گناہ کی معافی حاصل نہیں کر سکتے اور بالآخر جہنم میں اپنے گناہوں کی وجہ سے ختم ہو جائیں گے۔ اِسی طرح، کتاب ِ مقدس ایسی چیز نہیں ہے جو اپنے ذاتی طریقے سے سلجھائی جائے، بلکہ ہمیں یقیناًسچائی کے کلام کے ساتھ اپنے نئے سِرے سے پیدا ہوئے مقدسین کے وسیلہ سے اپنی ذاتی سمجھ تک لانے کے لئے خُدا کاانتظار کرنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً یہ بھی سمجھنا  چاہیے کہ خُداکے سارے کلام کی وضاحت پانی اور روح کی خوشخبری کے اندر ہوتی ہے۔
یِسُوعؔ نےفرمایا،   ” جب تک کوئی آدمی پانی اور رُوح سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی میں داخِل نہیں ہو سکتا۔“ (یوحنا ۳:۵)۔ وہ جو جانتے اور اِس حوالے پر دُرست طور پر ایمان رکھتے ہیں وہ یقیناً تمام گناہوں سے آزاد ہو سکتے ہیں اور آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یِسُوعؔ نےفرمایا کہ صرف وہ جن کے دل پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سے پاک ہو چکے ہیں آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر لوگ خُداوند کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی خوشخبری کو یعنی، خیمۂ اِجتماع کے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان  میں  ظاہر کیے  گئے سچ
کو سمجھنے کے بغیر ایمان رکھتے ہیں تب وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے برباد ہو جائیں گے۔
محض کتنی شدید خوفناک بات ہوگی اگر ہمیں اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہ ہونا تھا حتیٰ کہ گو ہم یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے تھے؟یہ سوچ کر مجھے دلی غم ہوتا ہے کہ اگرچہ اب اِس دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں جو یِسُوعؔ پراپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھتے ہیں، اُن میں سے بہت سارے اعتماد سے جواب نہیں دے سکتے جب پوچھا جائے آیا وہ واقعی مطمئن ہیں کہ وہ اپنے تمام گناہوں سے نجا ت یافتہ ہو چکے ہیں۔ یہ کہنا کوئی غلط نہیں ہے کہ تمام گنہگاروں کو، علاوہ ازیں آیا وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کا اِقرار کرتے ہیں یا نہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہ ہونا ہے۔ کتنے سارے لوگ واقعی تباہ ہو جائیں گے حتیٰ کہ گو وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں؟
متی ۷ ہمیں بتاتا ہے کہ اگرچہ بہت سارے لوگ جو خُداوند پر ایمان رکھتے ہیں یِسُوعؔ سے کہیں گے کہ اُنھوں نے نبوّت کی، بدروحوں کو نکالا، اور اُس کے نام سے بہت سارے معجزات کیے، وہ پھر بھی اُس کی معرفت چھوڑ دئیے جائیں گے۔ یِسُوعؔ نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کے سامنے اعلان کرے گا،  ” میری کبھی تُم سے واقفِیّت نہ تھی۔ اَے بدکارو میرے پاس سے چلے جاؤ۔“ (متی ۷:۲۳)۔  ہمارے خُداوند نے کہا کہ ہر کوئی جو اُس کا نام پکارتا ہے آسمان کی بادشاہی میں داخل نہ ہوگا۔ اِسی طرح، خُدا اُن کو ملامت کرے گا جو پانی اور روح کی خوشخبری کو غلط سمجھ چکے ہیں۔
مگر بہت سارے لوگ حتیٰ کہ احساس نہیں کرتے کہ وہ غلط سمجھ چکے ہیں اور یِسُوعؔ پر غلط ایمان رکھ چکے ہیں،یہ ایسی صورتِ حال ہے جو ہمارے خُداوند کے لئے انتہائی افسوسناک ہے۔ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو، حقیقت سے غافل ہیں کہ خُداونددراصل  اُنھیں اُن کے ناقص ایمان کی وجہ سے ملامت کر رہا ہے، وہ اپنی ذاتی تباہی کی طرف بڑھ رہے  ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ  ہمارے دل آج کے برائے نام مسیحیوں کے لئے ماتم کرتے ہیں۔ وہ یِسُوعؔ پر صرف مبہم طورپر ایمان رکھتے ہیں، ابھی تک واضح اورکلامِ مقدس کے مطابق جامع بات تک پہنچنے کے قابل نہیں ہیں کہ پانی او ر روح کی سچی خوشخبری کیا ہے۔ یہ ہے کیوں یہ ایسا اہم اور ہمارے لئے فوری کام ہے کہ اُن سب تک پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کریں۔
ہم سب کے لئے اِسے جاننا اور پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی پر ایمان رکھنا بے حد اہم ہے۔ تب، کیسے ہم پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی کو جان سکتے ہیں؟ بے شک، ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر مشتمل خُدا کے کلام کی تعلیمات سننے کے وسیلہ سے جان سکتے ہیں۔ ہمیں واقعی ضرور جاننا اور سچی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے اور خُدا سے اُس کے مقدسین کہلوانا چاہیے۔ یہ ایسا کرنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم ایمان کی بدولت خُد اکی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں، ایمان کی بدولت گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں، اور ایمان کی بدولت ہی اُس کے بیٹے بن سکتے ہیں۔
یہ ہے کیوں مسیحیت ایمان کی بدولت حاصل ہوئی نجات پر روشنی ڈالتی ہے۔ دنیا کے مذاہب انسان کے ذاتی اعمال کی قدر کرتے ہیں۔ لیکن اصل سچائی ہمیں بتاتی ہے کہ نجات خُداکی بخشش ہے، انسانی اعمال سے نہیں، تا کہ کوئی فخر نہ کرے (افسیوں ۲:۸۔۹)۔حقیقی مسیحیت صرف پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننے اور اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سےنجات پانے اور آسمان پر داخل ہونے کا راستہ بتاتی ہے۔
یوحنا باب۱۳سے آ ج کا خاص حوالہ پانی اور روح کی خوشخبری کے بارے میں بھی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ اُس کا صلیب پر مرنے کا وقت قریب آ چکا تھا، یِسُوعؔ نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھونے چاہے۔ یہ عیدِ فسح سے بالکل پہلے تھا۔ عیدِ فسح یہودیوں کے لئے بے حد اہمیت کی حامل ہے۔ چونکہ یہ وہ دن تھا جب بنی اسرائیل مصرؔ سے نکلے اور اپنی غلامی سے آزاد ہوئے تھے، یہ یہودیوں کے لئے ایک عظیم تہوار بن چکا تھا۔ پس اسرائیل کے لوگ پرانے عہد نامہ کی عید ِ فسح کو یاد کرتے اور اِس کی یاد میں باہم عید ِفسح کی رسومات اَداکرنے کے ذریعہ سے اِسے مناتے تھے۔
ضیافت کے دوران، یِسُوعؔ نے اپنے شاگردوں کو اکٹھا کِیا اور اُنھیں بے حد اہمیت کی حامل ایک بات بتانا چاہی۔بذاتِ خود صلیب پر مرنے سے پہلے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھونے کے وسیلہ سے، وہ اُنھیں حقیقت سکھانا چاہتاتھا کہ وہ اُن کے روزمرّہ کے گناہوں کو دھو چکا تھا۔ عید ِ فسح کی آمد  کے ساتھ، یِسُوعؔ جانتاتھا کہ وہ فسح کے برّہ کے طورپر پکڑوایا جا ئے گا، مصلوب ہو گا، مرے گا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھے گا۔ پس یِسُوعؔ اپنے شاگردوں کو سکھانا چاہتا تھا کہ قربانی کے برّہ کے طورپر، وہ حتیٰ کہ اُن کے روزمرّہ کے گناہوں کو دھو چکا ہے۔مختلف نظر سے دیکھتے ہوئے، اُس نے شاگردوں کے پاؤں صلیب پر مرنے سے پہلے اُنھیں ایک انتہائی اہم تعلیم دینے کے سلسلے میں دھوئے تھے۔
 
 
وجہ کیوں خُداوند نے پطرسؔ کے پاؤں دھوئے
 
آئیں ہم دیکھیں یِسُوعؔ نے کیا کہا جب اُس نے شاگردوں کے پاؤں دھونے چاہے اور پطرسؔ نے انکار کِیا:  ” اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں“ (یوحنا ۱۳:۸)۔ کتنا تشویشناک اور ہیبت ناک یہ فرمان ہے؟ تاہم، یِسُوعؔ واقعی اپنے شاگردوں کویہ سکھانا چاہتا تھا کس قِسم کا ایمان اُن کے حقیقی گناہوں کو دھونے کے لئے درکار تھا، اور یہ دونوں اُس کے شاگردوں اور بذاتِ خود اُس کے لئے کتنا اہم تھا کہ اُسے صلیب پر مرنے سے پہلے اُن کے پاؤں دھونے چاہیے۔
چنانچہ یِسُوعؔ کھانے سے اُٹھا، اپنے کپڑے ایک طرف رکھے، ایک رومال لیا اور اپنی کمر میں باندھا، پھر ایک برتن میں پانی ڈالا اور شاگردوں کے پاؤں دھونے شروع کیے۔ تب شمعونؔ پطرس ؔکی باری آئی، لیکن پطرسؔ نے انکار کِیا۔ اُس نے یِسُوعؔ سے کہا،  ” اَے خُداوند! کیا تُو میرے پاؤں دھوتا ہے؟“ پطرسؔ حیرت زدہ تھا کہ یِسُوعؔ اُس کے پاؤں دھونا چاہتا تھا۔ کیونکہ وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھتا تھا اور اُس کی خُدا کے بیٹے کے طورپر خدمت کرتا تھا، اِس لئے  اُس کے لئے ایسی مضحکہ خیز صورتحال کو قبو ل کر نا مشکل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ  پطرسؔ نے پوچھا کیسے خُداوند اُس کے پاؤں دھو سکتا تھا،یہ سوچتے ہوئے کہ اگر کسی کو پاؤں دھونے چاہیے، تو بذاتِ خود پطرسؔ کو خُداوند کے پاؤں دھونے چاہیے، اور یہ کہ نامناسب تھا نہ ہی اُس کے لئے خُداوند کو اپنے پاؤں دھونے کی اجازت دینا تہذیب کے مطابق تھا۔ پس جسمانی طو رپر اِس وجہ سے دھچکا لگنے کے بعد، پطرس ؔ نے کہا،  ” اَے خُداوند! کیا تُو میرے پاؤں دھوتا ہے؟“ اوراپنے پاؤں دُھلوانے سے اِنکار کِیا۔
تب یِسُوعؔ نے آیت ۷ میں کہا،  ” جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔“ اِس کا مطلب تھا، ”تُو اب نہیں سمجھتا کیوں مَیں یہ کر رہا ہوں۔ لیکن صلیب پر میرے مرنے، مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور آسمان پر جانے کے بعد، تب تُو وجہ کا احساس کرے گا کیوں مَیں نے تیرے پاؤں دھوئے۔“ اور تب یِسُوعؔ نے زور دے کر کہا، ” اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔“ جب تک یِسُوعؔ پطرسؔ کے پاؤں نہ دھوتا، پطرسؔ اور یِسُوعؔ کا ایک دوسرے کے ساتھ کچھ تعلق واسطہ نہیں تھا۔ یِسُوعؔ کے ساتھ شریک نہ ہونے کا مطلب اُس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھنا تھا، اور یوں پطرسؔ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا بلکہ یِسُوعؔ کے سامنے اپنے پاؤں کو رکھ دیناتھا۔ تب یِسُوعؔ نے پطرسؔ کے پاؤں برتن میں رکھے، اُنھیں دھویا، اور تب اُس کے پاؤں رومال کے ساتھ صاف کیے۔
جب خُداوند نے پطرسؔ سے کہا،  ” اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔“ پطرسؔ کو، اِس بات سے دھچکا لگا،اور کہا، ”تب مجھے حتیٰ کہ زیادہ دھو، تاکہ مَیں تیرے ساتھ شریک ہو سکوں۔ میرے ہاتھ، میرا سر، اور میرے پورے بدن کو دھو!“ یہ سن کر، تب یِسُوعؔ نے کہا،  ”وہ جو نہا چکا ہے اُسے صرف اپنے پاؤں دھونے کی ضرورت ہے۔ وہ سراسر پاک ہے۔ تم سراسر پاک ہو، لیکن تم سب کے سب نہیں۔
یِسُوعؔ نے اکثر اِس بات کوظاہر کِیا جو لوگوں کو لمحہ بہ لمحہ اُلجھاتی اور پریشان کرتی تھی۔یِسُوعؔ نے جو فرمایا اِس کو سمجھنے کے نااہل، لوگ غلط سمجھنے، غلط ایمان رکھنے، اور کچھ عجیب و غریب  کام کرنے کا رُجحان رکھتے ہیں۔ وہ لوگ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے گناہ کی معافی حاصل نہیں کر چکے ٹھیک ٹھیک نہیں سمجھ سکتے یِسُوعؔ نے یہاں پطرسؔ سے کیافرمایا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ وہ جوروح القدس نہیں رکھتے خُدا کے کلام کا دُرست مطلب نہیں سمجھ سکتے۔
نہ ہی محض ہر کوئی کلام ِ مقدس میں ظاہر کی گئی حقیقت کا احساس کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اگر وہ حیرت انگیز دُنیاوی کارکردگی کے ساتھ ایک فطری ذہین شخص ہے۔ جب کہ ایسے لوگ واضح طورپر صحائف کے کلام کو اِس کے لفظی شعور میں سمجھتے ہیں۔ جب تک وہ پانی اور روح کی سچائی کو نہیں جانتے، وہ تمام پہیلیوں کو ایک ساتھ حل نہیں کر سکتے اور یہ معلوم نہیں کر سکتےکہ کس قِسم کے ایمان کے ساتھ وہ اپنے روزمرّہ کے گناہوں کو دھو سکتے ہیں کوئی معنی نہیں رکھتا وہ کتنی سخت کوشش کرتے ہیں۔
خُداوند نے فرمایا،  ” جو نہا چُکا ہے اُس کو پاؤں کے سِوا اَور کُچھ دھونے کی حاجت نہیں بلکہ سراسر پاک ہے اور تُم پاک ہو لیکن سب کے سب نہیں“ (یوحنا ۱۳:۱۰)۔ یہ حوالہ آج بہت سارے مسیحیوں کی سمجھ میں بے حد مشکل حوالہ ہے، کیونکہ وہ اِس حوالے کے ساتھ اپنے آپ کو مطمئن نہیں کر سکتے کہ آیا وہ پہلے ہی اپنے سارے روزمرّہ کے گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں یا نہیں۔ درحقیقت، وہ اِس حوالے کو توبہ کی دُعاؤں کےالہٰی نظریے کی بنیاد کے طورپر تھامتے ہیں، جوکہ مسیحیت کے اندر نام نہاد راسخ العقیدہ الہٰی تعلیمات میں سے ایک ہے۔
وہ اِس حوالے کی یوں تشریح کرتے ہیں:  ”ایک دفعہ ہم یِسُوعؔ پر  اپنے  نجات  دہندہ  کے  طورپر
ایمان رکھتے ہیں،تب ہم اپنے گناہوں سے بشمول موروثی گناہ سے معاف ہو جاتے ہیں۔ لیکن، کیونکہ ہم ہر روز گناہ نہ کرنے کے لئے انتہائی ناکافی ہیں، اور یوں پھر گنہگار بن جاتے ہیں، ہمیں خُدا سے اِن روزمرّہ کے گناہوں سے خلاصی حاصل کرنے کے لئے معافی مانگنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے وسیلہ سے، ہم اپنے گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں، اور اُس کے ساتھ اپنا تعلق پھر بحال کر سکتے ہیں۔
بیوقوف! کیا آپ واقعی توبہ کی دعائیں پیش کرنے کے وسیلہ سے اپنے روزمرّہ کے گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں؟ اُن گناہوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کی آپ اپنی لاپرواہی کی وجہ سے معافی مانگنے میں ناکام ہو سکتے ہیں؟ تب کیسے یہ گناہ معاف ہو سکتے ہیں؟
کلیسیا، خُدا کا بدن،درحقیقت اُن لوگوں کا اِجتماع ہے جو ہمارے خُداوند کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ جب یِسُوعؔ نے کہاکہ بدن سراسر پاک ہے، لیکن سب کے سب شاگرد پاک نہیں ہیں،تواُس نے یہ بات یہوداہؔ کے حوالے سے کہی تھی جواُس پر ایمان نہیں رکھتاتھا۔ یہ اِس لئےتھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہوداؔہ اُس پر ایمان نہیں رکھتا تھایعنی اُس نے کہا، ”تم سب کے سب پاک نہیں۔
ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ خُداوند ہمارے تمام گناہ پانی اور روح کی خوشخبری، یعنی کلامِ مقدس کی مرکزی سچائی کے ساتھ ایک ہی بار دھو چکا ہے۔ پس اگر ہم کلام کے خاص نکات جاننے میں ناکام ہو جاتے ہیں اور اپنے ذاتی طریقہ سے خُدا کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، ہم بڑے بڑے مغالطوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اب، بہت سارے لوگ، بڑے بڑے مغالطوں کا شکار ہونے کے بعد، اپنا سب کچھ ترک کر رہے ہیں اور حتیٰ کہ شہید ہو رہے ہیں جب کہ وہ یِسُوعؔ پر دُرست طورپر ایمان نہیں رکھتے، لیکن آخر میں، وہ حتمی طورپر اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہو جائیں گے۔   
 
 
یِسُوعؔ کا ہمارے پاؤں دھونے کا سبب
 
کیوں پطرس ؔ صرف یِسُوعؔ کے ساتھ کچھ واسطہ رکھ سکتا تھا اگر یِسُوعؔ اُس کے پاؤں دھوتا؟اس کی وجہ یہ تھی کہ یِسُوعؔ پطرسؔ کا حقیقی نجات دہندہ صرف اُسی صورت میں بن سکتا تھاجب وہ اُس کی پوری زندگی کے تمام گناہوں کو مٹا دیتا۔ یِسُوعؔ اِس زمین پر آیا، بپتسمہ کے وسیلہ سے بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیا، صلیب پر مرگیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں پطرس ؔ کے گناہوں اور اپنے تمام شاگردوں کے گناہوں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے دھو دیا۔ یِسُوعؔ اِس سچائی کو اُن کے ذہنوں پر نقش کرنا چاہتا تھا۔ لیکن چونکہ شاگردوں نے اُس سے اپنے پاؤں دُھلوانے کو محض ایک اخلاقی معاملہ کے طورپر سمجھا تھا،اِس لئے وہ وجہ نہیں جانتے تھے کہ یِسُوعؔ نے کیوں اُن کے پاؤں دھوئے۔
اُنھیں یہ سمجھنا تھا کہ نہ صرف اُن کے موجودہ گناہ بلکہ مستقبل کے گناہ بھی جو وہ بعد میں سرزد کریں گے اُنھیں روحانی طورپر مارنے کے لئے خوفزدہ کریں گے۔ پس اُنھیں احساس کرنا تھا کہ حتیٰ کہ گناہ جو وہ مستقبل میں سرزد کریں گے پہلے ہی ایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ پر منتقل ہو چکے تھے۔ کیونکہ پطرسؔ یِسُوعؔ کے ساتھ شریک نہیں تھا جب تک یہ صورتِ حال نہیں تھی، پطرسؔ کویِسُوعؔ کے اُسکے اِسی طرح دوسرے شاگردوں کے پاؤں دھونے کے عظیم سبق کا احساس کرنے کی ضرورت تھی۔ یِسُوعؔ کو پطرسؔ کو یہ حقیقت سکھانی تھی کہ بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، وہ اُس کی خامیوں اور کمزوریوں کی وجہ سے پطرسؔ سے سرزد ہوا ”ہر ایک اور ہر کوئی گناہ“  دھو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یِسُوعؔ کو پطرسؔ کے پاؤں دھونے تھے، اور پطرسؔ کو یِسُوعؔ کے وسیلہ سے اپنے پاؤں دُھلوانے تھے۔ پطرسؔ یِسُوعؔ کے ساتھ صرف اُسی وقت شریک ہو سکتا تھا اگر وہ ایمان رکھتا کہ اُس کی کمزوریوں اور خامیوں کی وجہ سے اُس کی زندگی کے دوران اُس سے سرزد ہوئے سارے گناہ بھی ایک ہی بار دُھل گئے تھے جب یِسُوعؔ نے یوحناؔسے بپتسمہ لیا تھا۔
ہم خُدا کا کلام سننے کے وسیلہ سے پانی اور روح کی سچائی کو سمجھ سکتے ہیں۔ یہ پانی اور روح کی خوشخبری کے کلام کو جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے جو ہمارے تمام گناہوں کو ختم کر چکی ہے کہ ہم اپنے سارے روزمرّہ کے گناہوں سے بھی پاک ہو سکتے ہیں۔ یِسُوعؔ نے فرمایا،  ”وہ جو نہا چکا ہے اُس کو صرف پاؤں دھونے کی ضرورت ہے۔“  کیونکہ یِسُوعؔ پہلے ہی ہمارے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے اور ہمیں پاک کر دیا، وہ جو اِس پر ایمان رکھتے ہیں وہ لوگ ہیں جو اپنے تمام گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔
یِسُوعؔ مسیح حقیقت میں تمام گناہوں کو دریائے یردن ؔ پر بپتسمہ لینے اور ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے وسیلہ سے دھو چکا ہے۔ اور صلیب پر جانے، مصلوب ہونے، اپنا خون بہانے، مرنے، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے، وہ ہمارا ابدی نجات دہندہ بن چکا ہے۔ بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے حاصل کِیا اور صلیبی خون کے ساتھ، خُداوند ہمارا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے۔ اِسی طرح، پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند اُن سب کو جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں ایمان کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے اُن کے تمام گناہوں سے دُھلنے کے قابل کر چکا ہے۔
وہ جو اِس سچائی کو جانتے اور اِس پر ایمان رکھتے ہیں مکمل طورپر اپنے روزمرّہ کے گناہوں سے بھی نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ خُدا کے نقطۂ نگا ہ سے دیکھاجائےتو، یہ سچ ہے کہ تمام بنی نوع انسان یِسُوعؔ کے راستباز عمل کے وسیلہ سے تمام گناہوں سے دُھل چکی ہے۔ اپنے تمام گناہوں سے حقیقتاً دُھلنے کے لئے ہم کو سب جو کرنا ہے پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مفت اِس فضل کو حاصل کرنا ہے۔ کیا یہ صورتِ حال نہیں ہے؟ بے شک یہی ہے! اپنے اُس ایمان کے وسیلہ سے جو اِس سچائی پر ایمان رکھتا ہے، ہم وہ بن چکے ہیں جو پہلے ہی نہا چکے ہیں۔
یِسُوعؔ نے کہا کہ وہ جو یوں نہا چکے ہیں اُن کو صرف اپنے پاؤں دھونے کی ضرورت ہے، کیونکہ اگرچہ ہم اپنی ذات میں ہرروز گناہ کرتے ہیں، یِسُوعؔ نے پہلے ہی تمام گناہ اُٹھا لئے جب اُس نے بپتسمہ لیا اور مکمل طورپر ہمیں بچا چکا ہے۔ بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ ہماری ساری زندگی کے کل گناہوں کو دھو چکا ہے، اور یہ ہماری طرف سے ہر روز اِس بات کی تصدیق کرنے سے ہے کہ ہم اپنے روزمرّہ کے گناہوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔
یہ حوالہ ہمیں یہی بتار ہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حتیٰ کہ وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں یعنی، یِسُوعؔ نے بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیا تمام گناہوں کو قبول کِیا، جب کہ دنیا کے گناہ کندھے پر اُٹھا کر صلیب پر مرگیا، اور پھر مُردو ں میں سے جی اُٹھا اب تک اپنی زندگیاں جبکہ گناہ کرتے ہوئے گزارتے ہیں، کیونکہ وہ بھی جسم رکھتے ہیں۔ تاہم، خُدا نے پہلے ہی حتیٰ کہ تمام روزمرّہ کے گناہوں کو اُٹھا لیا جو لوگ روز بروز یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کے بعد سرزد کرتے ہیں، کیونکہ وہ قادرِ مُطلق ہے۔
وقت سےبالاتر، ازل سے لے کر ابد تک، خُداایک ہی بار یہ کام پورا کر چکا ہے جو بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔اِس طرح، یِسُوعؔ نے بپتسمہ لینےکے بعد، یوحناؔ کے وسیلہ سے ہمارے تمام عمر بھر کے کل گناہوں کو قبول کِیا، جب کہ اِن سب کو اُٹھاتےہوئےصلیب پر مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے۔ مگر اِس کے باوجود، ہم کیسے ایمان رکھتے ہیں؟ اِس حقیقت پر ایمان رکھنے کے باوجود، ہم ہر روز اب بھی گناہوں اور اپنی خامیوں کی وجہ  سے مصیبت  اُٹھاتے
ہیں جو ہم اپنی زندگیوں میں سرزد کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں ہر روز یقیناً پھر، اپنے ایمان کے ساتھ، اِس سچائی کی تصدیق کرنی چاہیے کہ یِسُوعؔ نے اِن تمام گناہوں کو اُٹھا لیا جو ہم اِس زمین پر چلتےہوئےاپنی تما م زندگی بھر سرزد کرتے ہیں ۔ بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے دنیاکے گناہوں کو دھو چکا ہے، لیکن ہمیں یقیناً روزبروز، وقت بہ وقت اپنے ایمان کے ساتھ اِس سچائی کی تصدیق کرنی چاہیے۔
اِس طرح پطرسؔ کو، ایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ کے ساتھ متحد رہنے کے لئے، یاد رکھنا تھا کہ یِسُوعؔ اُس کے پاؤں دھو چکا تھا، ہمارے لئے اُس کی نجات کے اندر ٹھہرنے کے واسطے، ہمیں، بھی، یقیناً ہر روز سچائی کی تصدیق کرنی چاہیے کہ وہ پہلے ہی اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو مٹاچکا ہے۔ لیکن وہ جو اِس سچائی پر ایمان نہیں رکھتے ابد تک اپنے گناہوں میں سے کسی ایک سے نہیں دُھل سکتے۔ وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان نہ رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے دُھل نہیں چکے وہ لوگ ہیں جو یِسُوعؔ کے ساتھ شریک نہیں ہیں۔ گو وہ ہر روز مسلسل اپنے گناہوں کو دھونے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے گناہ نہیں دُھلتے، کیونکہ جن گناہوں کو وہ توبہ کی دُعائیں پیش کرنے کے وسیلہ سے دھونے کی کوشش کرتے ہیں ایسے ہلکے گناہ نہیں   ہیں۔ ہر گناہ کےبعد خُدا کی ہولناک عدالت ہوتی ہے۔
اِس طرح، وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر اپنے گناہوں کو دھونے کی بجائے،اپنی توبہ کی دُعاؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کو دھونے کی کوشش کرتے ہیں،وہ تجربہ کریں گے اور محسوس کریں گے کہ حتیٰ کہ ایک دھیلے کی قیمت کے برابر اُن کے گناہ نہیں دُھلے۔ کیا ہم ہر روز ایسی توبہ کی دُعائیں مانگنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے دُھل سکتے ہیں؟ حتیٰ کہ اگر ہم بذاتِ خود ایمان رکھتے ہیں کہ ہم اپنی توبہ کی دُعاؤں کے ساتھ اپنے گناہوں کو دھو چکے ہیں، یہ گناہ حقیقتاً پھر بھی اپنے پورے وجود میں قائم رہتے ہیں۔
صرف وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے پورے بدن میں نہا چکے ہیں وہ اپنی زندگیاں گزارتے ہوئے اپنے پاؤں دُھلوانے کے قابل ہیں ، اور صرف وہ ہی فضل سے ملبوس ہیں جو اُنھیں ہر روز ایمان کے ساتھ اپنے گناہوں کو دھونے کے قابل کرتا ہے اور یوں اپنی پاکیزگی ابد تک قائم رکھتے ہیں۔
بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ نے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے تما م روزمرّہ کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اِس لئے ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اپنے بپتسمہ کے ساتھ، یِسُوعؔ نے اُن تمام گناہوں کو بھی اُٹھا لیا جو ہم اپنی زندگیاں گزارتےہوئےاپنی خامیوں کی وجہ سے سرزد کرتے ہیں ، اور یہ کہ  اُس نے اُن کی ساری لعنت بھی برداشت کی۔ دوسرے لفظوں میں، یِسُوعؔ نے ہمیں بتایا کہ اپنی ذاتی کمزوریوں کا شکار ہوکر گرِنےسےٹھوکرکھانے یا مرنے جیسی کوئی چیز نہیں ہونی چاہیے۔
یِسُوعؔ کے شاگردوں کے پاؤں دھونے کے بعد، سب جو اَب اُس کے لئے باقی تھا صلیب پر مرنا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنا، اور آسمان پر چڑھنا تھا۔ یِسُوعؔ اَب مزید شاگردوں کی جانب نہیں ہوگا، بلکہ تحریری کلام کے مطابق، وہ خُدا باپ کے تخت کے دہنے ہاتھ پر ہوگا۔ اور وہ پھر واپس آئے گا۔
لیکن اگر یِسُوعؔ اپنے شاگردوں کو اِ س کے بارے میں سکھائے بغیر صلیب پر مرجاتا، توکیسے وہ اِس زمین پر باقی رہ سکتے تھے اور پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کر سکتے تھے؟ یِسُوعؔ کے شاگرد جبکہ روزمرّہ گناہ سرزد کرتے ہوئے زندہ رہتے، کیونکہ وہ کمزور اور ناکافی تھے، اور نہیں جانتے تھے کیا کرنا ہے جب اُنھوں نے حسد، حِرص یا نفرت کا گناہ کِیا، وہ ایمان کے وسیلہ سے زندہ رہنے کے قابل نہیں رہ چکے ہوتے۔ پھر وہ کیسے دوسروں تک خوشخبری پھیلا سکتے تھے؟ وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یِسُوعؔ کو یقینی طورپر اپنے شاگردوں کو بتانا تھاکہ وہ پہلے ہی اِن تمام گناہوں کو دھو چکا ہے، اور یہ ہے کیوں اُس نے اُن کے پاؤں دھوئے۔
 
 
خیمۂ اِجتماع میں ظاہر ہوئی گناہ کی خلاصی کی طرح
 
جب ہم خیمۂ اِجتماع کے صحن کے دروازہ کو کھولتے اور داخل ہوتے ہیں، ہم سب سے پہلے سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور پیتل کا حوض دیکھتے ہیں۔ پہلا سبق جو خیمۂ اِجتماع ہماری ایمان کی زندگیوں کے لئے مہیا کرتا ہے یہ ہے اگر ہم خُدا کے سامنے گناہ رکھتے ہیں، تو گناہ کی سزا ہمارا انتظار کرتی ہے۔ ہماری ایمان کی زندگیاں، جس طرح سوختنی قربانی کی قربانگاہ کی بدولت بھی ظاہر کِیا گیا، بنیادی طورپر گناہ کی سزا اور موت کے ساتھ شروع ہوتی ہیں۔ ہمیں اپنے گناہوں کی وجہ سے خُداکے سامنے لعنتی ٹھہرنا ہے، لیکن خُد اوند
اِس زمین پر ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے آیا۔
جس طرح پرانے عہد نامہ کا قربانی  کا  جانور  ہاتھوں  کے  رکھے  جانے  کے  ساتھ  گنہگاروں  کی
بدکرداریوں کو قبول کرتا، اُس کا خون بہایا جاتا اور وہ مرجاتا، اور اُس کا گوشت سوختنی قربانی کی قربانگاہ پر رکھا جاتا اور آگ کے ساتھ جلایا جاتا تھا، یوں آگ کی عدالت برداشت کرنے کی بدولت گنہگاروں کی بدکرداریوں کی وجہ سے ملعون ٹھہرتاتھا، اِسی طرح ہمارے لئے یہی کچھ یِسُوعؔ نے کِیا۔ ہماری موت کی بجائے، یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے ہاتھوں کا رکھا جاناحاصل کِیا، اپنا خون بہایا اور صلیب پر مر گیا، اور یوں اپنی ذاتی موت کے ساتھ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی۔
ہم ہر روز گناہ کرتے ہیں، اور ہم اپنے مرنے کے دن تک گناہ کرنا جاری رکھیں گے۔ آپ اور مَیں وہ لوگ تھے جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مرنا تھا۔ لیکن ہمارے جیسے لوگوں کو ہمارے گناہوں اور سزا سے بچانے کے لئے، خُداوند نے آسمانی جلال کا تخت چھوڑ دیا اور اِس زمین پر آیا، یوحنا ؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت اپنے ذاتی بدن پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر اپنا بدن دے دیا، مصلوب ہوا، اور اپنا قیمتی خون بہایا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے۔ موت کی شریعت کا احساس کرنا اور پہچاننا، یعنی ہمیں یقیناً ملعون ٹھہرنا اور اپنے گناہوں کی وجہ سے مرنا چاہیے، ایمان کا نقطۂ آغاز ہے۔
صرف وہ جو جانتے اور ایمان رکھتے ہیں کہ اُنھیں یقیناً اپنے گناہوں کے لئے مرنا چاہیے وہ لوگ بن سکتے ہیں جو گناہ کے دھونے کا غسل لے سکتے ہیں اور ایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ پر اپنے تمام گناہوں کو منتقل کرنے کی بدولت گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔ حقیقی ایمان ایسے عقیدہ سے شروع ہوتا ہے۔ اور ہم جو اِس عقیدہ سے شروع کر چکے ہیں اپنے ایمان کی تصدیق کرنے کی بدولت مکمل بن چکے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے جو ہم روزمرّہ کی بنیاد پر سرزد کرتے ہیں اور حتیٰ کہ اُن گناہوں کو دھو دیا جو ہمیں ابھی مستقبل میں سرزد کرنے ہیں۔
حتیٰ کہ خیمۂ اِجتماع میں ظاہر کیے گئے سردارکاہن اور اُس کے بیٹے ہر صبح اور شام کو اپنی سوختنی قربانی گزرانتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے اپنے قربانی کے جانور لاتے، اُس کے سر پر اپنے ہاتھ رکھتے، اُس کا خون نکالتے، اور اِسے خُدا کو پیش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خیمۂ اِجتماع میں کوئی کرسی نہیں تھی۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ہر وقت قربانیاں گزراننا جاری رکھتے تھے یعنی اُن کے پاس بیٹھنے اور آرام کرنے کا کوئی وقت نہیں تھا۔ اِسی طرح، ہم ایسے لوگ تھے جنھوں نے مسلسل گناہ کِیا اور اُن گناہوں کی وجہ سے اُس کی عدالت سے بچ نہیں سکتے تھے، لیکن یِسُوعؔ مسیح اپنے بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے حاصل کِیا  اور اپنے
خون بہانے کے ساتھ ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے مکمل طورپر بچا چکا ہے۔
ہمیں یقیناً ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے ایمان کو شروع کرنا چاہیے کہ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ ہمیشہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مر سکتے ہیں۔ ہم جیسے لوگوں کے لئے، یِسُوعؔ اِس زمین پر آیا اور بپتسمہ لینے کی بدولت ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا۔اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے بعد، تب یِسُوعؔ مسیح تمام گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور اپنی ذاتی زندگی دینے کے وسیلہ سے اپنے خون بہانے کے ساتھ اِن گناہوں کی قیمت ادا کی۔ اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھ کر، وہ ہمارا دائمی نجات دہندہ بن چکا ہے۔
رومیوں ۶:۲۳ بیان کرتا ہے،  ” کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُوعؔ میں ہمیشہ کی زِندگی ہے۔ “ ہم واقعی ایسے لوگ تھے جنھیں اپنے گناہوں کے لئے مرنا تھا، لیکن یِسُوعؔ مسیح ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، بپتسمہ لینے، صلیب پر مرنے، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند ہمیں گناہ کی معافی اور ابدی زندگی دے چکا ہے۔ کیا آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں؟ یہیں سے ایمان کا آغاز ہوتا ہے۔
کسی بھی موقع سے، کیا آپ نہیں سوچتے، ”مَیں اب یِسُوعؔ کی پیروی نہیں کر سکتا کیونکہ مَیں بہت نا کافی ہُوں؟“ کیا آپ شاید یہ سوچتے ہیں کہ آپ بہت بیکار اور بے حد جسمانی ہیں، اور اِسی طرح حتیٰ کہ آپ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، آپ کے لئے آگے چلنا بہت مشکل ہے؟ یہی وہ ایمان ہے جو تباہی کی جانب لوٹتا ہے۔
آئیں ہم عبرانیوں ۱۰:۳۶۔۳۹ کی طرف رجوع کرتے ہیں:  ” کیونکہ تُمہیں صبر کرنا ضرُور ہے تاکہ خُدا کی مرضی پُوری کر کے وعدہ کی ہُوئی چِیز حاصِل کرو۔اور اب بُہت ہی تھوڑی مُدّت باقی ہے کہ آنے والا آئے گا اور دیر نہ کرے گا۔اور میرا راست باز بندہ اِیمان سے جِیتا رہے گااور اگر وہ ہٹے گا تو میرا دِل اُس سے خُوش نہ ہو گا۔لیکن ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ اِیمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں۔ “ یہ کہا گیا ہے کہ ہم وہ لوگ نہیں ہیں جو ہلاک ہونے کے لئے پیچھے ہٹتے ہیں۔ وہ جو اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں بہت زیادہ  دُکھ اُٹھاتے، ظلم برداشت کرتے، اور بہت ساری مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ لیکن آسمان کی میراث، جو ابد تک ختم نہیں ہوتی، ہمارا انتظارکررہی ہے۔ آسمان پر موجودساری چیزیں ہمارا یعنی اپنے مالکوں کا انتظار کر رہی ہیں۔
عبرانیوں ۱۰:۳۴۔۳۵ فرماتا ہے،  ” چُنانچہ تُم نے قَیدِیوں کی ہمدردی بھی کی اور اپنے مال کا لُٹ جانا بھی خُوشی سے منظُور کِیا۔ یہ جان کر کہ تُمہارے پاس ایک بِہتر اور دائِمی مِلکِیّت ہے۔پس اپنی دِلیری کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ اِس لِئے کہ اُس کا بڑا اَجر ہے۔ “ یہ دُرست ہے۔ آپ کے لئے اور میرے لئے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، آسمان کی دائمی ملکیت ہماری منتظر ہے۔ خُدااُن کو آسمان اپنی میراث کی بخشش کے طورپر دے چکا ہے جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے وعدہ سے ہمارا اعتماد نہ کھونے کے لئے فرمایا۔ جانتے ہوئے کہ ہمیں اپنے ایمان کے لئے عظیم اَجر حاصل کرنا ہے، ہمیں یقیناً ہلاکت کے لئے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، بلکہ ہمیں یقیناً اپنے ایمان کو حتیٰ کہ زیادہ مضبوط بنانا چاہیے اور اپنے اعتماد کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ، حقیقی سچائی پرایمان رکھتا ہے، آخر تک اپنی روحانی جنگ لڑنی چاہیے، جانیں بچانی چاہیے اور غالب آنا چاہیے۔
ہم مقدسین کو یقیناً اِس  ایمان  کا حامل ہونا چاہیے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے۔ ہمیں یقیناً یہ ایمان رکھناچاہیے، کہ گو ہم بہت کمزور ہیں یعنی ہم ہر روز گناہ کرتے ہیں جتنی دیر تک ہم اِس زمین پر زندگی گزارتے ہیں، خُد اوند پھر بھی یوحناؔ سے بپتسمہ لینے اور ہماری خاطر صلیب پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ یہ اِس ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم عظیم اعتماد رکھ سکتے ہیں اور دنیا کے آخر تک راستی سے  اپنی زندگیاں گزار سکتے ہیں۔ہمیں یقیناً ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے سامنے آنا چاہیے، اِس سچی خوشخبری کے ساتھ ایمان کی دوڑ دوڑنی چاہیے، خوشخبری کو پھیلانا چاہیے اور خوشخبری کی خدمت کرتےہوئےاپنی زندگیاں گزارنی چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ  کلامِ مقدس ہمیں بتاتا ہے،  ” کیونکہ تُمہیں صبر کرنا ضرُور ہے تاکہ خُدا کی مرضی پُوری کر کے وعدہ کی ہُوئی چِیز حاصِل کرو۔ “ (عبرانیوں ۱۰:۳۶)۔
اور میرا راست باز بندہ اِیمان سے جِیتا رہے گا اور اگر وہ ہٹے گاتو میرا دِل اُس سے خُوش نہ ہو گا۔لیکن ہم ہٹنے والے نہیں کہ ہلاک ہوں بلکہ اِیمان رکھنے والے ہیں کہ جان بچائیں“ (عبرانیوں ۱۰:۳۸۔۳۹)۔ ہم جو پانی اور روح کی خوشخبری پر اِس ایمان کے ساتھ زندہ رہتے ہیں،وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو بھی تمام گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔ جب یہ صورتِ حال ہے،تو اِس ایمان کے باوجود جو دوسروں کو تمام گناہوں سے بچا سکتا ہے،ہم کیسے ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹ سکتے ہیں؟ اگر ہم پانی اور روح کی خوشخبری کی طرف متوجہ نہیں رہیں گے، توہمارا ایمان گِرجائے گا اور ہم مکمل طورپر مرنے کے لئے موت کی دلدل میں پھنس کر ختم ہو جائیں گے۔ گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد، اب ہمارا کام خُدا کی مرضی کی پیروی کرتے ہوئے اپنے ایمان کے ساتھ دوڑ کو جاری رکھنا ہے، اپنی ذاتی کمزوریوں کا شکارنہیں ہوناہے، جہاں ہم ہیں وہیں کھڑے نہیں رہنا، اور مرتے ہوئے ختم نہیں ہونا ہے۔
ہم جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن میں سے نہیں ہیں جو ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹتے ہیں۔ ہم وہ لوگ ہیں جو اِس قِسم کا ایمان رکھتے ہیں جو دوسرے لوگوں کی جانوں کو بھی بچاتا ہے۔ جب ہم ایسے لوگ ہیں، کیسے ہم پیچھےمُڑ سکتے ہیں اور اپنی کمزوریوں کی وجہ سے مر سکتے ہیں؟ ہم کبھی ایسا نہیں کر سکتے۔ وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں کبھی ایسے لوگ نہیں ہیں جو ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹتے ہیں۔کوئی معنی نہیں رکھتا آپ اور مَیں کتنے ناکافی ہو سکتے ہیں، ہم راستبا زہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری پر عظیم کامل ایمان  کے ساتھ اپنی ایمان کی زندگیاں گزارتے ہیں۔
آپ کو اور مجھے یقیناً اِس بارے میں سوچنا چاہیے کہاں سے ہمارا ایمان شروع ہوا، ہلاکت سے باہر آئیں اور ایمان کے وسیلہ سے زندہ رہیں۔ بنیادی طورپر، ہم ایسے لوگ تھے جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مرنا تھا، لیکن پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے،یعنی خوشخبری جس کے وسیلہ سے ہمارا خُداوند آپ کو اور مجھے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے، ہم اپنی ابدی نجات حاصل کر چکے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں، چونکہ ہم نے سوفیصد اپنی تمام کمزوریوں، خامیوں، خالی پن، اور بدکاری کو مکمل طورپر ماننے کے وسیلہ سے اپنے ایمان کاآغاز کِیا تھا، جب ہم، گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد، اِس زمین پر جبکہ گناہ کرتے ہوئے چلتے ہیں، ہم غالب نہیں آسکیں گے جب تک ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے یِسُوعؔ مسیح پر اپنے تمام گناہوں کو منتقل نہیں کرتے اور اُس کے بپتسمہ پر ایمان کے ساتھ اُنھیں نہیں دھوتے۔ اِس لئے ہمیں یقینی طور پر جان  لینا  چاہیےکہ ہم اُن میں سے نہیں ہیں جو ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹتے ہیں، اور واقعی ایمان کے وسیلہ سے اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔
بعض اوقات، اپنے ذاتی حالات و واقعات میں گرفتار ہو کر، ہم بہت ساری آزمائشوں اور مشکلات میں گرسکتے ہیں، اور کمزور ہونےکی وجہ سے ہماری ایمان کی زندگیاں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتی ہیں،اور آگے بڑھنے سےقاصر ہو سکتی ہیں۔ لیکن ہمیں مرنا نہیں ہے۔ یہ پطرسؔ کویہ سکھانےکےلئے تھا کہ اُس نے اُ س سے فرمایا،  ” اگر مَیں تُجھے نہ دھوؤں تو تُو میرے ساتھ شرِیک نہیں۔“ یِسُوعؔ نے پطرسؔ کے تمام گناہوں کو صاف کر دیا۔ بالکل جس طرح خُداوند نے بپتسمہ لیا اور پطرس ؔ سے اُس کی تمام زندگی میں سرزد ہوئے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر مر گیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یوں اُسے بچا لیا، اِسی طرح خُداوند آپ کو اور مجھے بھی ہمارے تمام گناہوں اور سزا سے بچا چکا ہے۔
جب تک وہ ایسا نہیں کر چکا تھا، کیسے آپ اور مَیں یِسُوعؔ کے ساتھ کوئی تعلق رکھ سکتے تھے؟ اگر یہ پانی اور روح کی خوشخبری نہ ہوتی تو، کیسے ہم اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے اور دوسروں کی بھی نجات حاصل کرنے  میں راہنمائی کر سکتے تھے؟ اگر پانی اور روح کی خوشخبر ی نہ ہوتی تو ہم اِس میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ یہ سچائی وہی  ہے جو یِسُوعؔ پطرسؔ کو سکھانا چاہتاتھا۔
آپ اور مَیں اِس تعلیم کو سُن چکے اور سمجھ چکے ہیں، لیکن ہم حقیقی طورپر کیسے ہیں؟ کیا ہم اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے اکثر اپنی رُوحوں میں افسردہ نہیں ہوتے؟ پھر کیا ہم اپنی ذاتی کمزوریوں میں گرتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم بہت ناکافی اور کمزور ہیں، ہم آسانی سے خودپسندی میں گرنے کے عادی ہیں۔ آپ خود سے بات کر سکتے ہیں،  ”کیسے مَیں آخر تک یِسُوعؔ کی پیروی کر سکتا ہوں؟ اِسی موقع پر اُس کی پیروی کوترک کرنا  میرے لئے بہتر ہوگا! مَیں پُریقین ہوں خُداوند بھی میرے لئے اُس کی کلیسیا کو چھوڑنا بہتر سمجھتا ہے۔“  اگریہ بپتسمہ کی خوشخبری نہ ہوتی جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا، تواِس طرح ہم ابدی ہلاکت میں گرکر ختم ہو چکے ہوتے۔
سچائی پر ایمان رکھیں کہ، جیسا کہ آپ اورمیرے پاس بنیادی طورپر اپنے گناہوں کی وجہ سے مرنے کےسِواکوئی چارہ نہیں تھا، ہمارا خُداوند پہلے ہی ہمیں ہمارے گناہوں سے اور سزا سے چھڑا چکا ہے۔ حتیٰ کہ اگر ہمارا جسم انتہائی کمزور ہے اور ہم بچ نہیں سکتے بلکہ حتیٰ کہ معافی حاصل کرنے کے بعد پھر گناہ کرتے ہیں، ہمیں پھر بھی یقیناً یِسُوعؔ کی کامل اور ابدی نجات کو تسلیم کرنا چاہیے جو اُس کے بپتسمہ اور اُس کے خون بہانے سے مکمل ہوئی۔
آپ کو اور مجھے یقیناً اپنے ایمان کا اِقرار کرنا چاہیے،  ”بنیادی طورپر بولتے ہوئے، مَیں بچ نہیں
سکتابلکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے مروں گا۔ یہ دُرست ہے۔ لیکن کیا خُداوند میرے لئے اِس زمین پر نہیں آیا اور بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے میرے تمام گناہوں کو نہیں اُٹھا یا؟ کیا یِسُوعؔ نے میرے تمام گناہوں کو جو اُس پر اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے منتقل ہوئے تھے قبول نہیں کِیا؟ اور کیا وہ صلیب پر نہیں مُؤا؟ کیا وہ پھر مُردوں میں سے نہیں جی اُٹھا، اور کیا وہ اب زندہ نہیں ہے؟ چونکہ میرے گناہ یِسُوعؔ مسیح پر منتقل ہو گئے تھے، کوئی معنی نہیں رکھتا میں کتنا ناکافی ہوں، اور کوئی معنی نہیں رکھتا کتنی میری کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں، مَیں پھر بھی بے گناہ ہوں۔ اِس لئے مَیں اُن میں سے نہیں ہوں جو ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹتے اور مرتے ہیں۔“ یوں اِس طریقہ سے ایمان رکھنے کی بدولت، ہمیں یقیناً اپنی کمزوریاں ایک طرف پھینکنی چاہیے۔
حتیٰ کہ اگر ہم کل پھرکمزوری رکھتے ہیں ، اُس بپتسمہ پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ نے پانی اور روح کی خوشخبری میں حاصل کِیا، ہم ہمیشہ اپنی کمزوریاں ایک طرف پھینک سکتے ہیں۔ اپنے ایمان کے وسیلہ سے، ہمیں یقیناً روحانی موت اور لعنتوں کو ایک طرف رکھ دینا چاہیے جو ہمیں ہماری کمزوریوں سے ملتی ہیں۔
ہمیں اِس سچائی پر اتنا زیادہ جتنا ہم کر سکتے ہیں یہ کہتے ہوئے غور کرنا ہے، ”خُداوند مجھے بچا چکا ہے، چونکہ میرے تمام گناہ خُداوند پر منتقل ہو چکے تھے،کیا مَیں پھر بھی گناہ رکھتا ہوں؟ یقیناً  مَیں نہیں رکھتا!“  یوں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم اپنی کمزوریاں اور گناہ پھینک سکتے ہیں، ایک بار پھر پانی اور روح کی خوشخبری کی تصدیق کر سکتے ہیں، اور حقیقت کو مان سکتے ہیں کہ ہم ایمان کے وسیلہ سے مکمل طورپر نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔ یہ ہے کیسے ہم ہر روز خُدا کی جانب دوڑ سکتے ہیں۔
 
 
تمام گناہ غائب ہو گئے جب یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا
 
بھائیو اور بہنو، یہ کلام کتنا اہم تھا جو یِسُوعؔ نے پطرسؔ اور اپنے شاگردوں سے فرمایا؟ اُس نے حتیٰ کہ اپنی موت کے بعد اُنھیں پانی اور روح کی خوشخبری پر مضبوطی سے ثابت قدم رہنے  کے سلسلے میں اُن کے پاؤں دھوئے، خاص طورپر جب وہ اپنی کمزوریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ اگر یِسُوعؔ، پطرسؔ اور دوسرے شاگردوں کے پاؤں نہ دھو چکا ہوتا، توشاگردوں کے ساتھ کیا واقع ہو چکا ہوتا جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا،تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور خُدا کی بادشاہت میں چلا گیا؟ کیسے شاگرد اپنی کمزوریوں کو حل کر چکے ہوتے جب وہ ظاہر ہوتیں؟ اُنھیں ایمان کے وسیلہ سے اُنھیں حل کرنا تھا جو بپتسمہ پر ایمان رکھتا ہے یعنی جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا، اور اگر وہ اِس طرح ایمان نہیں رکھ چکے تھے، تب  اُن کے لئے اپنی کمزوریوں کو حل کرنا مشکل ہو چکا ہوتا۔
ہمیں یقیناً ایمان کے ساتھ اپنی کمزوریوں اورروزمرّہ کے گناہوں کا مسئلہ حل کرنا چاہیے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی، یِسُوعؔ کی خدمات کی سچائی کوجانتا اور ایمان رکھتا ہے۔ اگر یِسُوعؔ اپنے شاگردوں کو بپتسمہ کی طاقت کے بارے میں نہیں سکھا چکا تھا جو اُس نے حاصل کِیا، تواُس کے شاگرد بھی مایوس ہو چکے ہوتے اوروہ روحانی طورپر مر جاتے۔وہ خوشخبری کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے کا ایمان رکھنے کی قوت، دوسروں کی جانوں کو بچانے کے لئے اپنی زندگیاں وقف کرنے کی قوت نہ رکھ چکے ہوتے، اور، آخرکار، حتیٰ کہ شہید ہونے، اور اِسی طرح بالآخروہ اپنے ایمان کا وفاع کرنے میں ناکام ہو چکے ہوتے اور مایوس ہو جاتے۔
لیکن زبانی روایت کے مطابق جو ہمیں سونپی گئی، یہ کہا جاتا ہے کہ یِسُوعؔ کے سب بارہ شاگردوں نے خوشخبری کی منادی کی اور وہ سب شہید ہوگئے۔ یِسُوعؔ کے بارہ شاگردوں میں سے جو شاگرد سب سے زیادہ شک رکھتا تھا ، اُس کا نام توماؔ تھا۔ لیکن حتیٰ کہ توماؔرسول بھی ہندوستان گیا اور وہیں شہید ہو گیا۔
پھر، یہ ایمان کہاں تھا جس نے یِسُوعؔ کے سارے شاگردوں کو شہید ہونے کے قابل کِیا؟ یہ ایمان ایک اعتماد کے ساتھ بھراہواتھا، کہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اُن کی تمام عمر بھر کے سب گناہوں کو اُٹھا لیا، کہ وہ مکمل طورپر پاک بن چکے تھے کیونکہ اُن کے سارے گناہ یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے، اور یہ کہ  وہ مکمل طورپر خُدا کے اپنے بیٹے بن چکے تھے اور بادشاہت میراث میں حاصل کریں گےیہ خاص طور پر اِس لئے تھا کیونکہ وہ یہ ایمان رکھتے تھے یعنی وہ اِس زمین پر پانی اور روح کی خوشخبری پھیلا سکتے تھے اور خُدا کے پاس جا سکتے تھے جب اُس نے اُنھیں بُلایا۔ دوسرے لفظوں میں، ہم سب بھی  اِسی ایمان کے ساتھ شہید ہو سکتے ہیں جب خُدا ایساچاہتاہے۔
جب پطرسؔ نے سردار کاہن کے احاطے میں تین بار یِسُوعؔ کا اِنکار کِیا،تو اُ سےاور بھی زیادہ گہرائی سے احساس ہوا کہ یِسُوعؔ کا کیا مطلب تھا جب اُس نے اُس سے کہا تھا،  ”اگر مَیں تجھے نہ دھوؤں، تو تُو میرے ساتھ شریک نہیں۔“  یِسُوعؔ کے آسمان پر جانے کے بعد، پطرسؔ اور یِسُوعؔ کے دوسرے شاگردوں کویہ احساس ہواکہ یِسُوعؔ نےاُن کے پاؤں کیوں دھو ئے، اور عظیم کامل یقین کے ساتھ ایمان رکھا اور پانی اور روح کی خوشخبری کی منادی کی۔
آج کے مسیحی، اگر وہ یِسُوعؔ کے بپتسمہ میں موجود اِس سچائی کو نہیں جا نتےہیں، تواُن کے لئے ایمان کی زندگیاں گزارنا بھی مشکل ہوجائے گا اور آخر کار اُس پر ایمان رکھنا ترک کر دیں گے۔ اگر ہم اپنی ذاتی کمزوریوں سے بندھے ہوئے ہیں،تو ہمارے ضمیر اِس مسئلے کو حل کرنے کی ہماری نااہلیت کی وجہ سے آلودہ ہو جائیں گے، اورہمارے آلودہ ضمیروں کی وجہ سے، ہم مزید گرجا گھر میں آنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ یہ اُس کی کلیسیا کے ہر ایک اور ہر کسی رُکن کے لئے، یہاں تک کہ ہمارے بچوں کے لئے بھی حقیقت ہے۔
بھائیو اور بہنو، اگر آپ گناہ میں بندھے ہوتےتو، کیا آپ خُداکی پرستش کرنے کے قابل ہوں گے؟ آج، حتیٰ کہ وہ جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں گرجا گھر جاتے ہیں، اپنے گناہوں کی وجہ سے توبہ کی دُعائیں مانگتے ہیں، اور خُدا کی پرستش کرتے ہیں، اور وہ ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ یِسُوعؔ پر محض ایک مذہب کے طورپر ایمان رکھتے ہیں۔
لیکن اُن لوگوں کے لئے جو پانی اور روح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں، اگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی جانیں اپنی کمزوریوں اور اُن میں قید ہونے کی وجہ سے گناہ رکھتی ہیں ،تو وہ خُداکے سامنے نہیں آسکتے اور اُس کی پرستش نہیں کرسکتے۔ ایسے اوقات میں، ہمیں یقیناً بپتسمہ کی قُدرت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنی جانوں کو پاک کرنا چاہیے جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا،یہ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کی بدولت ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا۔
وہ نام نہاد مسیحی جو پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی سے ناواقف ہیں،وہ ایمان کا راستہ، بھی، نہیں جانتے، اور یوں وہ اپنی توبہ کی دُعاؤں کے ذریعے اپنے گناہوں سے معاف ہونے کی اندھا دُھند کوشش کرتے ہیں۔ بالکل جس طرح وہ جو دنیا کے مذاہب کی پیروی کرتے ہیں اندھا دُھند اپنے دیوتاؤں کی، استدعا کرتے ہوئے منت سماجت کرتے ہیں، ”مَیں تجھ سےالتجاکرتاہوں، براہ کرم میرے گناہوں کو معاف کر اور مجھے اور میرے خاندان کوبرکت دے۔ مَیں کچھ بھی کروں گا؛ مَیں تجھے زیادہ ہدیہ پیش کروں گا، مَیں نیک عمل کروں گا؛براہ کرم میرے گناہوں کو معاف کر دے،“  ایسے نام نہادمسیحی محض اپنے ذاتی بنائے ہوئے ایک مذہب کی پیروی کر رہے ہیں۔
یِسُوعؔ نے پطرسؔ سے کہا،  ”جو مَیں اب کر رہاہوں تُو نہیں سمجھتا، لیکن تُو اِسے بعد میں سمجھے گا۔ اگرمَیں تجھے نہ دھوؤں، تو تُو میرے ساتھ شریک نہیں۔“  اگر یِسُوعؔ کے شاگرد اِس کے بعد حتیٰ کہ اِس کلام میں پوشیدہ سچائی کا احساس نہیں کر چکے تھے، تووہ یِسُوعؔ کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی اِس خوشخبری سے نئے سِرے سے پیدا نہیں ہو سکتے تھے اور وہ کام نہیں کر سکتے تھے جس نے حتیٰ کہ دوسروں کو گناہ سے بچایا۔ اگر یِسُوعؔ، جبکہ پطرسؔ کے پاؤں دھوتے ہوئے، اُس میں بپتسمہ کی قُدرت کے وسیلہ سے جو اُس نے حاصل کِیا کامل نجات کا مکمل ایمان پختہ نہیں کر چکا تھا،تو پطرسؔ شہید ہونے اورخدا کی کلیسیا کے راہنما کے طورپر اپنا کردار ادا کرنےکے قابل نہ ہوتا۔
اگر یہ پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی نہ ہوتی،تو ہم خُد اکے سامنے آنے اور اپنے گناہ کی وجہ سے،یعنی گناہوں کی وجہ سے جو ہم سرزد کرنا جاری رکھتے ہیں اُسے ایمان کی پرستش پیش کرنے کے قابل نہ ہو چکے ہوتے۔ وہ لوگ جو واضح طورپر پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں اُس کی کلیسیا میں آ سکتے ہیں۔ اور وہ جہاں کہیں بھی ہوں  ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کو دھونے کے قابل ہیں ۔ جیساکہ خُداوند نے فرمایاکہ اُن کو جن کے پورے بدن پاک ہیں  صرف اپنے پاؤں دھونے کی ضرورت ہے، جب کبھی ہم اپنی کمزوری کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں، ہمیں یقیناً یاد رکھنا اور ایمان رکھنا چاہیے کہ ہمارے ایسے گناہ بھی یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے جب اُس نے بپتسمہ لیا تھا۔
ہمارے گناہ یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے جب یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا (متی ۳:۱۵)۔ اگروہ گناہ جو ہمارے دلوں میں تھے یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے،تو کیا ہم گناہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ ہم کوئی گنا ہ نہیں رکھتے۔ کیونکہ ہمارے گناہ اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے، ہم صاف ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے گناہ ایمان کے وسیلہ سے مٹائے گئے، اورچونکہ ہم پاک ہیں، چاہےہم کتنےہی ناکافی کیوں نہ ہوں، ہم پھر بھی خُدا کے سامنے کاہن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جو پانی اور روح کی سچائی کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں تیزی سے اپنی کمزوری میں سے باہرآسکتے ہیں اور ایمان کے وسیلہ سے خُد ا کے پاس جا سکتے ہیں، ایمان کے وسیلہ سے اُس کے کام کر سکتے ہیں، نجات کے لئے اُس کا شکر ادا کر سکتے ہیں جو وہ اُنھیں عطا کر چکا ہے، اُس کی ستائش کر سکتے ہیں جو اُسے جلال دیتی ہے، اور دوسروں تک پانی اور روح کی خوشخبری بھی پھیلا سکتے ہیں۔
جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔“ کیا آپ اِس سچائی کو جانتے تھے جب آپ کو پہلی مرتبہ اپنی گناہ کی معافی ملی تھی؟ آپ شایدنہیں جانتے تھے۔ تاہم، ہم سب اِس تعلیم کو سُن چکے ہیں اور اِسے جانتے ہیں۔اگرچہ آپ اور مَیں ہر روز گناہ کرتے ہیں اور ہماری خامیاں ظاہر ہوتی ہیں، بالکل جس طرح یِسُوعؔ نے پطرسؔ کے پاؤں دھوئے تھے،اسی طرح وہ ہر روز ہمارے پاؤں بھی دھو چکا ہے۔
شروع میں، ہمیں خوشی ہوئی جب ہم نے پہلی مرتبہ ایمان رکھا کہ گناہ جو بہت پہلے سے ہمارے دلوں میں تھے اوروہ گناہ جو ہم حال ہی میں کر چکے تھے وہ سب یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے، لیکن ہم دیکھ چکے ہیں کیسے ہماری خامیاں ظاہر ہوتی ہیں اور کیسے ہم حتیٰ کہ گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد اپنی کمزوریوں کے اسیر ہیں۔ ایسے لمحات میں، یہ جاننے اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ایسے گناہوں کوبھی اُٹھا لیا کہ ہم درحقیقت وہ تمام گناہ اُس پر منتقل کر سکتے ہیں جو ہم مستقبل میں بھی سرزد کریں گے۔
تب، کیا راستبا زاِس وجہ سے آزادانہ طو رپر گناہ کرتےہیں؟ وہ ایسا کبھی نہیں کرتے۔ رومیوں ۱:۱۷فرماتاہے،   ” راست باز اِیمان سے جِیتا رہے گا۔“  کچھ لوگ پانی اور روح کی خوشخبری کے خلاف کھڑے ہو چکے تھے، اور بےتُکا یہ کہہ رہے تھے،  ” ہم کیوں بُرائی نہ کریں تاکہ بھلائی پَیدا ہو؟ ‘‘ (رومیوں ۳:۸)۔  کیا نئے سِرے سے پیدا ہوئے لوگ گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد زیادہ آزادی سے گناہ کر سکتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں!
بھائیواور بہنو، جب ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتےہوئےسوچتے ہیں،کہ ہم گناہ رکھتے ہیں یا نہیں؟ بے شک ہم نہیں رکھتے! نیز، حتیٰ کہ اگر ہم خامیاں رکھتے ہیں، کیا ہم ایمان کے وسیلہ سے نامکمل یا کامل ہیں؟ ہم کامل ہیں۔ جب یِسُوعؔ نے ہمیں بتایا کہ ہمارے پورے بدن پاک ہیں، اُس کا مطلب یہ تھا کہ اپنے بپتسمہ، خون، اور جی اُٹھنے کے وسیلہ سے، وہ ہمیں مکمل طورپر صاف کر چکا ہے۔
ہم نے، بھی، یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کے بعد پانی اور روح کی خوشخبری کی طاقت کو جانا۔ اِس طرح، ہمیں یقیناً ہر روز اپنی زندگیوں پر پانی اور روح کی خوشخبری کی اِس قُدرت کو لاگو کرنا چاہیے۔ جونہی ہم ہر روز اِس ایمان کو لاگو کرتے ہیں، ہم شاید بعد میں اِس سے تھک جائیں، یہ سوچتے  ہوئے کہ ہمیں یہ کام کب تک کرنا ہے۔ لیکن، اِسی لمحے پر، کہاں ایک بار پھرہمیں یقیناً لوٹنا چاہیے؟ ہمیں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُداوند کی طرف یقیناً لوٹنا چاہیے کہ اگرچہ ہم بنیادی طورپر اپنے گناہوں کی وجہ سے صرف مر سکتے تھے، خُداوند اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھانے، صلیب پر مرنے، اور پھر مُردوں میں سے جی
اُٹھنے کے وسیلہ سے ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
یاد رکھیں کہ کاہنوں کو ہر روز خیمۂ اِجتماع کے صحن میں سوختنی قربانیاں دینی پڑتی تھیں اور اپنے ہاتھ اور پاؤں ہر وقت جب وہ اِس کے پاس سے گزرتے پیتل کے حوض میں دھونے پڑتے تھے۔ اُن کی طرح، ہمیں بھی یقیناً  خُدا وند کی پہلی محبت کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اپنے ایمان کے ساتھ اِس پر غوروفکر کرنا چاہیے۔ ہم بچ نہیں سکتے تھے بلکہ بنیادی طورپر مر جاتے، لیکن خُداوند نے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُنھیں دھو دیا، اور صلیب پر ہمارے گناہوں کے لئے لعنتی ٹھہرنے کے وسیلہ سے، وہ گناہ کی سزا کو اِس کے حتمی انجام تک پہنچا چکا ہے۔ اِس طرح، خُداوند کے بپتسمہ اور خون کے ساتھ، وہ ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور سزا سے مکمل طورپر بچا چکا ہے۔
ہر روز، ہمیں یقیناً اپنے دلوں میں اِس محبت کو کندہ کرنا چاہیے جو ہمیں مکمل طورپر بچا چکی ہے، جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ صرف مرجاتے، اورہمیں اِس ایمان کے ساتھ خُد اکے حضورحاضرہوناچاہیےجو اِس بات پر ایمان رکھتا ہے۔ ہمارےپاس مرنے کے سِوا کوئی چارہ نہیں تھا، لیکن خُداوند کی وجہ سے، ہم مکمل طورپر نجات یافتہ ہوئے اور خُدا کے کامل، راستباز بیٹے بن گئے ہیں۔ جب خُداوند ہمیں ایسا ایمان دے چکا ہے،تو کیا ہمیں یہی ایمان اپنے ساتھ ہمیشہ نہیں رکھنا چاہیے؟
ہم وہ زائرین ہیں جو اِس زمین پر صرف تھوڑی دیرکے لئے زندہ رہتے ہیں اورپھر چلے جاتے ہیں۔ لفظ  ’ زائرین‘  کا مطلب مسافرہیں۔ مسافر سےمراد وہ لوگ ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ ہم وہ مسافر ہیں جو ایک جگہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرتے ہیں اورپھروہاں سے اپنا مقصد مکمل کر کے دوسری جگہ روانہ ہوجاتے ہیں۔ ہم وہ زائرین ہیں جنھیں صرف تھوڑی دیرکے لئے اِس دنیا میں زندہ رہنے کے بعد آسمان کی بادشاہی کی جانب واپس لوٹنا ہے۔ جب ہم اِس زمین سے گزرنے اور آسمان کی بادشاہی میں جانے کےلیے زائرین کے طورپر اپنی زندگی گزار رہےہیں ، توایسےوقت بھی آتے  ہیں جب ہم اِسے چھوڑنا اورزمین پر گِرنا چاہتے ہیں۔ایسے وقت بھی  آئیں گے جب آپ، دونوں جسمانی طور پر اور روحانی طورپر نیچےگرنا،بھی،چاہیں گے۔ ایسے وقت آ سکتے ہیں کیونکہ جب آپ بذاتِ خود مکمل ہیں، آپ کے حالات اتنے مثالی نہیں ہیں، یا جب آپ کے حالات ٹھیک ہیں،مگر آپ کی جسمانی بُری سوچیں بڑھتی رہتی ہیں۔
ہمیں جو اِس طرح کے  ہیں، ہمارا خُداوند کلام دے چکا ہے جو ہمارے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ” جو مَیں کرتا ہُوں تُو اب نہیں جانتا مگر بعد میں سمجھے گا۔ “ جی ہاں، اب ہم جانتے ہیں۔ جونہی ہم اپنی زندگیاں زائرین کے طورپر گزارتے ہیں، جب کبھی ہماری بہت ساری خامیاں ظاہر ہوتی ہیں، اور جب کبھی ہم اپنی کمزوریوں میں قید ہوتے ہیں اور اپنے حالات میں پھنس جاتے ہیں،تو ہمیں یقیناً یاد رکھنا چاہیے کہ ہم یِسُوعؔ کے بپتسمہ اورصلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مکمل طورپر گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں جو اِن چیزوں کو بھی مٹا چکا ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم مکمل طورپر گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔
جب ہم خیمۂ اِجتماع کو دیکھتے  ہیں، توہمیں پتہ چلتا ہے کہ یہ کتنا واضح  ہے۔ جس طرح سوختنی قربانی کی قربانگاہ میں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے۔ کیونکہ ہم ہر روز گناہ کرتے ہیں، ہمیں اپنے اِن گناہوں کی وجہ سے ہرروز سزا یافتہ ہونا اور موت کے حوالے کیے جانا تھا۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ میں سچائی ظاہر کی گئی ہے کہ یِسُوعؔ مسیح قربانی کے برّہ کے طورپر آیا، ہاتھوں کے رکھے جانے کو قبول کِیا اور ہماری جگہ پر مر  گیا۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ سے گزر کر، پیتل کا حوض نظر آتا ہے، جہاں ہم اپنے گناہوں کو صاف کرنے کے لئے پانی اور روح کی خوشخبری پر غوروخوض کرتے ہیں جو ہم ہر روز سرزد کرتے ہیں۔ پانی اور روح کی یہ خوشخبری کامل سچائی ہے جو ہمیں ہمارے موروثی اور روز مرّہ کے گناہوں سے بچاچکی ہے۔
خُدا کی بخشش کیا ہے جو ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسیح میں ہے؟کیا یہ گناہ کی معافی اور ابدی زندگی نہیں ہے؟ خُداوند ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ وہ ہمیں مکمل طورپر، جنھیں کسی بھی وقت اپنے گناہوں کی وجہ سے مرنا تھانجات دے چکا ہے۔وہ سب گنا ہ جو ہم اپنی پوری زندگی کے وقت کے دوران کرتے ہیں پانی اور خون پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے، اور کلام کے وسیلہ سے پاک ہو چکے ہیں، یعنی خُداوند حتیٰ کہ ہمارے پاؤں دھو چکا ہے۔ کیونکہ خُداوند نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا جب اُس نے بپتسمہ لیا اور سب گناہ جو ہم اپنی پوری عمر کے دوران سرزد کرتے ہیں اُس پر منتقل ہو گئے، یِسُوعؔ مسیح، ہمارے گناہوں کو اُٹھائے ہوئے، اُن کے لئے صلیب پر سزاکامستحق ٹھہر ا اور مر گیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے۔ یہ ہے جب ہم مکمل طورپر اِس یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھتے ہیں تو ہم کامل بن جاتے ہیں۔ اور اگرچہ ہمارا جسم ناکافی ہو سکتا ہے، جیساکہ ہم کامل ایمان رکھتے ہیں، ہم روحانی طورپر بابرکت زندگیاں گزاریں گے اور خُداکی ابدی بادشاہت میں داخل ہوں گے۔
 
 
کیا آپ اب پطرسؔ کی مانند نہیں ہیں؟
 
بالکل جس طرح یِسُوعؔ،پطرسؔ کے پاؤں دھو چکا تھا، کیا وہ آپ کے پاؤں بھی نہیں دھو چکا؟ یہ دُرست ہے کہ یِسُوعؔ ہی ہرروز ہمارے پاؤں دھو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے یِسُوعؔ نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اور اِن گناہوں کے لئے، وہ ہماری جگہ پر صلیب پر مر گیا۔ اور وہ پھر تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اِس طرح، اپنے بپتسمہ، صلیب پر اپنے خون، اور اپنے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ ہمارا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے۔ ہم اِسی یِسُوعؔ مسیح پر کامل طورپر ایمان رکھتے ہیں۔
یہ ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم مکمل طورپر خُداکی پرستش کرتے ہیں، اور یہ ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم مکمل طورپر اُس کے کام کرتے ہیں۔ ہمارے اعمال کامل نہیں ہو سکتے۔ یہ ہمارا ایمان ہے جو ہمیں کامل بناتا ہے۔ یہ ہے کیوں ہمیں یقیناً پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی بدولت یِسُوعؔ کے شاگردوں کے طورپر زندہ رہنا چاہیے۔ ہم ایمان کی ہلاکت کے لئے پیچھے ہٹنے والے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ اگرچہ ہم ناکافی ہو سکتے ہیں، ہم ایمان کے وسیلہ سے دوڑ سکتے ہیں، اور ہمیں در حقیقت ایمان کے وسیلہ سےاوربھی زیادہ دوڑنا  چاہیے۔  ” راست باز اِیمان سے جِیتا رہے گا۔‘‘   ”تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرو۔“ اِس حقیقت کے پیش نظر  کہ ہم ایمان کے وسیلہ سے راست بنے  ہیں، اوریوں ایسے لوگ ہیں جو دوسرے لوگوں کی جانیں بچاتے ہیں، اگر ہم دوسروں کو بچانے کے خُداکے دئیے گئے مقصد کے لئے اپنے آپ کو وقف نہیں کرتےہیں، تو ہم ہلاکت اور مایوسی کی دلدل میں پھنس جائیں گے اوراپنے گناہوں میں مرتے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔
بے گناہ اُس کے راستباز کام کرتے ہوئے شادمان ہوتے ہیں۔ وہ خُدا کی خوشخبری پھیلانے میں شادمان ہوتے ہیں جو دوسروں کی جانیں بچاتی ہے۔ لیکن گنہگارجو درست ہےاُسے کرنےمیں شادمان نہیں ہوتے۔ اُن لوگوں کے لئے جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں،وہ کرنا جوکہ درست ہے اُن کی روحانی روٹی بن جاتاہے۔ پوری دنیا میں خوشخبری پھیلانا درست کام ہے جو دوسروں کی جانیں بچاتا ہے، لیکن ساتھ ہی  ، یہ ہماری اپنی زندگی کی روٹی بھی ہے۔ درست کام کرنے سے ، ہمارے دل روح سےمعمورہو جاتے ہیں، اور نئی قوتیں ہم میں پروان چڑھتی ہے۔جیسےجیسے ہماری روحیں بڑھتی اور پختہ ہوتی ہیں ہم زیادہ بہادر بن جاتے ہیں۔لہٰذاابرہامؔ کی مانند زندہ رہنے، خُدا سے برکت پانے اور دوسروں کے ساتھ اِن برکات کو بانٹنے کے لئے، ہمیں یقیناً راستبازی سے محبت کرنی چاہیے، جو درست ہےاُس سے محبت کرنی چاہیے، اور خوشخبری کو پھیلانے سے محبت کرنی چاہیے۔ اگرچہ ہم کمزور ہیں، جب تک ہم یہ راستباز کام کرنا جاری نہیں رکھتے، ہماری جانیں مرجائیں گی۔ ہم راستبازضرور روحانی طورپر مر جائیں گے اگرہم اُس کے راستباز مقصد کے لئے کام کرناچھوڑدیتے ہیں۔ اِسی لئے یِسُوعؔ نے فرمایا،  ” مُبارک ہیں وہ جو راست بازی کے بُھوکے اور پِیاسے ہیں کیونکہ وہ آسُودہ ہوں گے۔“ (متی ۵:۶)۔
یِسُوعؔ نے یہ بھی فرمایا،  ” مُبارک ہیں وہ جو پاک دِل ہیں کیونکہ وہ خُدا کو دیکھیں گے“ (متی۵:۸)۔ وہ جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں اور ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند مکمل طورپر ہمارے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے خُداکو دیکھیں گے۔ اور وہ خُداپر ایمان رکھنے، پیروی کرنے، اور تمام دنیا میں آسمانی برکات کوپھیلانے کے لئے آتے ہیں۔
ہم ایمان کے وسیلہ سے کامل بن چکے ہیں۔ ہم بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اپنے گناہوں کے لئے مر جاتے، لیکن خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، اور ہماری جگہ پر صلیب پر مر گیا، اور یوں ہمیں کامل طورپر بچا چکا ہے۔ یہ سچائی ہے، اور آسمان کی بادشاہی کا راستہ ہے۔ اِس کا ادراک کرنا ایمان کے راستہ کا ادراک کرناہے۔ اِس کے سِوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ ہم اپنے نیک اعمال کی بدولت آسمان پر داخل نہیں ہو سکتے۔ خُداوندنے ہمارے لئےجوکُچھ کِیا ہے اُس کو سمجھنے اور ایمان رکھنے سے ہی ہم آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔
مجموعی طورپر، اگر ہم لوگوں کو دوقِسموں میں تقسیم کریں،تو وہ لوگ بھی ہیں جو حق کے لئے استعمال ہوتے ہیں، اور وہ لوگ بھی ہیں جو بُرائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں ۔لوگ  جو  بُرائی کے لئے استعمال ہوتے ہیں وہ وہ لوگ نہیں ہیں جو ٹھیک طریقےسے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ خُداوند ہمارے لئے جو کُچھ کر چکا ہے اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم راستبازی کےہتھیار بن چکے ہیں، لیکن وہ جو گناہ کی معافی حاصل نہیں کر چکے اب تک بچ نہیں سکتے بلکہ، اپنی ذاتی مرضی سےقطع نظر،اِبلیس کے ہتھیار کے طورپر قائم ہیں۔
اِس وقت، مَیں آپ کو اعتماد سے کہتاہوں کہ خُداوند ہمیں اپنی کامل نجات، کامل ایمان، اور کامل گناہ کی معافی عطا کر چکا ہے۔ کیا آپ کے اعمال ناکافی ہیں حتیٰ کہ جب آپ اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، اور، کسی بھی موقع پر، کیا آپ کے دل اِس سے پیچھے ہٹ گئے ہیں؟ ایسا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ راستباز ایمان کے وسیلہ سے زندہ رہ سکتا ہے۔ کیا خُداوند نے، جو ممکنہ طورپر ہماری خامیوں اور کمزوریوں سے ناواقف نہیں ہو سکتا، پہلے ہی اپنے بپتسمہ کے ساتھ اِن تمام چیزوں کو نہیں اُٹھا یا؟
آئیں مجھے آپ کوایک روزمرّہ کی زندگی کی مثا ل دینے کی اجازت دیں کہ ہم کتنے ناکافی ہیں۔ ہم بعض اوقات اکٹھے فٹ بال کھیلتے ہیں۔ جب میری ٹیم مشکل میں ہوتی، جب گیند  تیزی سے ہمارے گول پوسٹ کی طرف آتی تھی،تو مَیں اکثر اِسے دُورپھینک دیتا یا اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیتا تھا۔ کیا مَیں گولچی تھا؟ ہرگز نہیں۔ مَیں صرف جیتنا چاہتا تھا۔ ایسی صورتِ حال میں ہم سب، خادمین، مقدسین، اور خُدا کے کارکنان جیتنے کی ہر ممکن کوشش کرنے میں ایک جیسے ہیں۔ آپ ہمدرد ہونے کو بھول سکتے ہیں؛ جیتنے کے لئے، ہم کھیلتے ہوئے ہر قِسم کے غلط کام کرتے ہیں۔ یہ کھیل اِس قدر شدید طور پر لڑا جاتا ہے کہ ہر کوئی محض جیتنے کے لئے ہر ممکن کام کرتا ہے، اِس قدر کہ ایسا کوئی دوسرا کھیل نہیں ہے جو فٹ بال سے زیادہ بہتراِنسانی رویے کی برہنگی،اصلی ذاتی تصویر کو ظاہر کرتا ہو۔اگر ہماری ٹیم مشکل میں ہے،تو ہم غلط حرکتیں کرنے، چالیں چلنے، اور اپنے طریقوں پر زور دینے سے نہیں ہچکچاتے۔
یہ سب چیزیں ہمارے لئے جائز ہیں، لیکن اگر دوسری ٹیم ہمارے ساتھ غلط کرتی ہے،تو ہم شکایت کرتے ہیں اور ریفری سے پیلا کارڈجاری کرنے  کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن حتیٰ کہ ریفری کےفیصلےکابھی کوئی اثر ہونےکی توقع  نہیں کی جاسکتی۔ یہ وہی ہے جو ہم  واقعی  ہیں۔ ہم ہمیشہ وہی چاہتے ہیں جو ہمارے لئے، ہماری ٹیم کے لئے، اور ہماری ذات کے لئے فائدہ مند ہو، اور ہم صرف وہی چاہتے ہیں جو ہمیں فائدہ پہنچاتا ہے۔ پھر بھی خُدا ہم جیسے لوگوں کو نجات دے چکا ہے۔اگرچہ ہم اب تک عیبوں سے بھرے ہوئے ہیں اور بدکرداری سےبھرپور ہیں، جہاں تک ہمارے ایمان کا تعلق ہے، ہم وہ لوگ بن چکے ہیں جو بےعیب نئے سِرے سے پیدا ہو چکے ہیں۔
خُداوند ہمیں مکمل طورپر ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم خُداوند کو نجات کا خُدا، اور نجات کے خُداکو خُداوند کے طورپر پکارتے ہیں۔ خُداوند ہماری نجات کا خُدا ہے۔ پطرسؔ نے اِقرار کِیا،  ” تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسِیح ہے “ (متی ۱۶:۱۶)۔  اور خُداوند نے اُس کے مبارک ایمان کو خُدا کی معرفت بخشے گئے ایمان کے طورپر منظور کِیا۔ یہاں لفظ مسیح کا مطلب وہ ہے جس نے اپنے ذاتی بدن پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کو مٹا ڈالا۔ یِسُوعؔ مسیح زندہ خُدا کا بیٹا ہے۔ خُدا کے بیٹے اور ہمارے نجات دہندہ کے طورپر، وہ ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ پس، اپنے دلوں میں  تاہم  دلیر  ہو  جائیں، چاہے
آپ خوشخبری کی خدمت کے لئے بے حد ناکافی اور کمزور محسوس کرتے ہیں۔
آپ کی جانوں، دلوں، اور بدنوں کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے اور جھکنا نہیں چاہیے؛ اِس کی بجائے، اُنھیں ایمان کے وسیلہ سے درست کریں اور بہادر بنیں،اور راستبازی کے عظیم لوگ بن جائیں جو خُدا کی معرفت بخشا گیا ایمان دُور دُور تک پھیلا رہے ہیں۔ میری طرف دیکھیں۔ مَیں اپنے جسم میں دکھانے کے لئے کچھ نہیں رکھتا، لیکن کیا مَیں پوری دنیا میں خوشخبری نہیں پھیلا رہاہوں؟ کیا آپ بھی ایسے نہیں ہیں؟ یہ مت سوچیں کہ وہ جو بظاہراً کوئی کمی نہ رکھنے والے نظر آتے ہیں واقعی کسی بھی خامیوں سےپاک ہیں۔ گنہگار صرف ریاکار ہیں۔ ریاکار، بھی، ویسے ہی انسان ہیں جس طرح آپ ہیں، اور اِس طرح کیسے اُن کا جسم اتنا اچھا، باوقار، اور پاک ہو سکتا ہے؟جوچیز ہمیشہ ہی ناکافی ہے وہ بنی نوع انسان کابدن ہے۔ آپ کوسمجھنا ہوگا کہ وہ جو اپنی پرہیز گاری دکھا رہے ہیں، خاص طورپر مسیحی فرقوں میں، وہ محض اپنی ریاکاری اور دھوکے باز فطرت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ہمارا خُدا ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ اِس لئے، ہم اپنے ایمان کے وسیلہ سے پانی اور روح کی خوشخبری کی خدمت کر سکتے ہیں جو ہمیں مکمل بنا چکی ہے،اور خُداکی اِس کامل راستبازی کے وسیلہ سے تقویت دے چکی ہے۔ ہم خُدا کا شکر اداکرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں ایمان کے وسیلہ  سے نجا ت یافتہ ہونے کے قابل بنایا، یعنی نجات کی اِس سچائی کے ذریعے جس کا وہ حتیٰ کہ دنیا کی بنیاد سے پہلے منصوبہ بنا چکا ہے۔ آپ کے سارے گناہ پہلے ہی دُھل چکے تھے جب یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر اپنا خون بہایا۔ مَیں اُمید کرتاہوں کہ آپ سب اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں۔