خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-12] <خروج ۲۶:۳۱۔۳۷> پاک مقام کا پردہ اورستون

>خروج ۲۶:۳۱۔۳۷  <
اور تُو آسمانی۔ ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا ایک پردہ بنانا اور اُس میں کِسی ماہر اُستاد سے کرُّوبیوں کی صُورت کڑھوانا۔اور اُسے سونے سے منڈھے ہُوئے کِیکر کے چار سُتُونوں پر لٹکانا۔ اِن کے کُنڈے سونے کے ہوں اور چاندی کے چار خانوں پر کھڑے کِئے جائیں۔اور پردہ کو گُھنڈیوں کے نِیچے لٹکانا اور شہادت کے صندُوق کو وہیں پردہ کے اندر لے جانا اور یہ پردہ تُمہارے لِئے پاک مقام کو پاکترین مقام سے الگ کرے گا۔اور تُو سرپوش کو پاکترین مقام میں شہادت کے صندُوق پر رکھنا۔اور میز کو پردہ کے باہر دھر کر شمعدان کو اُس کے مُقابل مسکن کی جنُوبی سِمت میں رکھنا یعنی میز شِمالی سِمت میں رکھنا۔اور تُو ایک پردہ خَیمہ کے دروازہ کے لِئے آسمانی ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا بنانا اور اُس پر بیل بُوٹے کڑھے ہُوئے ہوں۔اور اِس پردہ کے لِئے کِیکر کی لکڑی کے پانچ سُتُون بنانا اور اُن کو سونے سے منڈھنا اور اُن کے کُنڈے سونے کے ہوں جِن کے لِئے تُو پِیتل کے پانچ خانے ڈھال کر بنانا۔
 
 
پاک مقام
 
 
مَیں پاک مقام کے ستونوں اور اِس کے پردے کے رنگوں میں موجود روحانی معانی پر غوروخوض کرنا چاہوں گا۔ ہم یہاں جس خیمۂ اِجتماع پر غور کر رہے ہیں اِس کی لمبائی۵.۱۳  میٹر(۴۵ فٹ) اور چوڑائی۵.۴ میٹر(۱۵فٹ) تھی، اور اِسےدو کمروں میں تقسیم کِیاگیاتھاجو پاک مقام اور پاکترین مقام کہلاتے ہیں۔ پاک مقام کے اندر، ایک شمعدان، نذر کی روٹیوں کی میز، اور بخور  کی قربانگاہ  تھی، جب کہ
پاکترین مقام کے اندر، شہادت کا صندوق اورسرپوش رکھے ہوئے تھے۔
پاک مقام اور پاکترین مقام پرمشتمل، خیمۂ اِجتماع چاروں طرف سے کیکر کی لکڑی کے تختوں سے گھرا ہوا تھا جس کی پیمائش تقریباً ۷۰ سنٹی میٹر(۳.۲فٹ) چوڑی اور ۵.۴  میٹر(۱۵ فٹ) اونچی تھی۔ اور خیمۂ اِجتماع کے دروازہ پر، کیکر کی لکڑی کے پانچ ستون رکھے گئے تھےجوسونے کے ساتھ منڈھے ہوئےتھے۔ دروازہ بھی، جس کے ذریعے کوئی شخص بیرونی صحن سے خیمۂ اِجتماع میں داخل ہوتا تھا، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے بُنے ہوئے پردہ سے بنا ہُوا تھا۔
خیمۂ اِجتماع کے بیرونی صحن میں ۶۰ ستون کھڑےتھے،جن میں سےہر ایک کی اونچائی۲۵.۲ میٹر (۵.۷فٹ) تھی۔صحن کا دروازہ، جو اِس کے مشرق میں واقع تھا، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنا ہُوا تھا اور بیرونی صحن کے اِس دروازہ سے گزرکرہی کوئی بھی خیمۂ اِجتماع کے صحن میں داخل ہو سکتا تھا۔ خیمۂ اِجتماع کے اِس صحن میں سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور حوض تھا۔
اِن دو نوں سے گزرتےہوئے، کوئی شخص پھر خیمۂ اِجتماع کے دروازے پر آتا تھا، جس کی اونچائی۵.۴ میٹر (۱۵فٹ) تھی۔ خیمۂ اِجتماع کا یہ دروازہ پانچ ستون رکھتا تھا، جس کے خانے پیتل کے بنے ہوئے تھے۔ خیمۂ اِجتماع کے صحن کے دروازہ کی مانند، خیمۂ اِجتماع کا دروازہ بھی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے پردہ سے بنا  تھا اور پانچ ستونوں کے اوپر دھری ہوئی سونے کی کنڈیوں پر لٹکا ہوا تھا۔ یہ پردہ تقسیم کار تھا جو خیمۂ اِجتماع کے اندر اور باہر کو علیٰحدہ کر تاتھا۔
 
 
ہمیں سب سے پہلےجس چیز پرغور کرنا چاہیے
 وہ خیمۂ اِجتماع کے دروازےکے ستون ہیں
 
خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے پانچوں ستونوں کی اونچائی ۵.۴ میٹر (۱۵فٹ)تھی۔ اِن ستونوں پر، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ رنگوں اور باریک بٹے ہوئے کتان کے چار دھاگوں سے بُنا ہُوا ایک پردہ رکھاگیا تھا۔
سب سے پہلے، آئیں ہم اِس حقیقت پر توجہ مرکوز کریں  کہ خیمۂ اِجتماع  کے  دروازہ  کے  پانچوں
ستونوں کی اونچائی ۵.۴ میٹر (۱۵فٹ) تھی۔ اِس کا کیا مطلب ہے۔ اِس کا مطلب ہے کہ خُدا نے بذاتِ خود ہمارے گناہوں کو دھونے اور ہمیں اپنے بیٹے بنانے کے سلسلے میں قربانی کی بڑی قیمت ادا کی۔ کیونکہ آپ اور مَیں اپنے بنیادی اصولوں میں اتنے ناکافی اور کمزور  انسان ہیں، اِس لئے ہم اِس دُنیا میں بہت ساری خطائیں کرتے ہوئے زندہ رہتے ہیں۔ کیونکہ آپ اور مَیں بدترین گنہگار ہیں جو بچ نہیں سکتے بلکہ اِس دنیا میں ہر لمحہ گناہ کرتے ہیں، ہم بہت سارے عیب اور خطائیں رکھتے ہیں۔ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے یہ ستون ہمیں دکھاتے ہیں کہ ہمیں ایسے عیبوں اور دنیا کے گناہوں سے چھڑانے کے لئے، خُدا نے اپنے واحد اِکلوتے بیٹے، یِسُوعؔ مسیح کو، ہمارے ذاتی گناہوں کی قیمت کے طورپر قربان کِیا، اور یعنی وہ واقعی یوں ہمیں دنیا کے گناہوں سے چھڑا چکا ہے۔
دوسرے لفظوں میں،ہمارے عیبوں اور گناہوں کے لئے جو ہم نے اِس دُنیا میں کیے، یِسُوعؔ مسیح نے اپنے ذاتی بدن کو خُدا کے سامنے ایک قربانی کے جانور کے طورپر پیش کِیا اور ضرورت سے زیادہ دنیا کے گناہوں کی قیمت اد ا کی،اور یوں ہمیں بچا لیا۔ اگرکوئی شخص خطا سرزدکرتا، اور خُداوند کی پاک چیزوں کے حوالہ سے غیر ارادتاً گناہ کرتا، تو اُسے خطا کی قربانی کے طورپر ایک مینڈ ھا لانا پڑتا تھا، اور اُسے اِس میں پانچواں حصہ ملانا پڑتا اور اِسے کاہنوں کو دینا پڑتا تھا (احبار ۵:۱۵۔۱۶)۔اِس کا مطلب یہ ہے کہ یِسُوعؔ مسیح نے آپ کو اور مجھے ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے اپنے آپ کو دے دیا اوریوں ضرورت سے زیادہ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کر چکا ہے۔ ہمارا خُداوند اِس زمین پر ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے آیا اور اپنے آپ کو ہمارے اِن گناہوں کے لئے ہماری ذاتی خطا کی قربانی کے طورپر پیش کر دیا۔
کلامِ مقدس کی قربانیا ں،جیسے سوختنی قربانیاں، خطا کی قربانیاں، اور سلامتی کی قربانیاں،اِس لئے پیش کی جاتی تھیں تاکہ لوگ جنھوں نے گناہ کیے اپنے گناہوں کو اپنے قربانی کے جانوروں پر اپنے ہاتھ رکھنے کی بدولت مٹا سکیں اور یوں اپنے گناہ اُن پر منتقل کر سکیں۔ ایسی قربانیوں میں سے، خطا کی قربانی ایسی قربانی تھی جس سے ایک قربانی کا جانور کسی کے عیبوں کو مٹانے کے لئے چڑھایا جاتا تھا۔ یہ خطا کی قربانی،جب کوئی بے توجہی کی وجہ سے دوسرے کو نقصان پہنچاتا تھا، یعنی نقصان کا ،معاوضہ دینے اور تعلق کو بحال کرنے کے لئے پیش کی جاتی     تھی۔اور خطا کی قربانی میں جرمانے اور تلافی سمیت کل معاوضے میں بیس فیصد کااضافہ شامل تھا۔ یہ خطا کی قربانی کی بنیادی شرط تھی۔ یہ ایسی قربانی تھی جو کسی کے عیبوں کے خاص مقصد کے لئے چڑھائی جاتی تھی جب وہ کسی دوسرے کا نقصان کرتا تھا (احبار ۵:۱۴۔۶:۷)۔
کیا آپ اور مَیں گناہ سے بہت دُور  ہیں؟ کیا ہم اپنی پوری زندگیاں گناہ کرتے ہوئے نہیں گزارتے؟ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ ایسا ہی کرتے ہیں، کیونکہ آپ اور مَیں آدمؔ کی اولاد ہیں۔ ہم بذات ِخود جانتے ہیں محض کتنی ساری خامیاں ہم رکھتے ہیں، اور کیسے ہم اپنی زندگیاں اتنے سارے گناہ کرتے ہوئے گزارتے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے خلاف اور خُدا کے خلاف کتنی ساری بدیاں کر چکے ہیں؟ یہ صرف اِس وجہ سے ہے کہ ہم اِن بدیوں کو گناہوں کے طورپر پہچاننے میں بہت سُست اور ناکافی ہیں کہ ہم اپنی زندگیاں گزارتےہوئے اکثر اُن کے بارے میں بھول جاتے ہیں ۔ لیکن آپ اور مَیں خُدا کے سامنے اِس بات سے بچ نہیں سکتے بلکہ پہچانتے ہیں کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف اور خُدا کے خلاف بہت ساری خطائیں کر چکے ہیں، کہ ہم اُس کے سامنے صرف گنہگار ہیں۔
ایسے گنہگاروں کو اُن کے تمام گناہوں سے چھڑانے کے لئے، خُدانے اُن کی ذاتی خطا کی قربانی کے طورپر یِسُوعؔ مسیح کو بھیجنا چاہا۔یوں یِسُوعؔ مسیح کے اپنی قربانی کی قیمت کی بدولت ہمارے گناہوں کی سزا برداشت کرنے کے بعد، خُدا ہمیں نجات کا تحفہ عنایت کر چکا ہے۔ جب خُدا باپ نے اِ س زمین پر اپنے بیٹے کو بھیجا اور اُسے بپتسمہ دلوایا اور وہ مصلوب ہوا،وہ سب ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچانے اور اپنے ذاتی لو گ بنانےکےلئےتھا، کیسے ہم کبھی اپنے آپ کا موازنہ اِس قربانی کی قدروقیمت سے کر سکتے ہیں؟ ہم گنہگاروں کو اپنے تمام گناہوں سے بچانے کے لئے،ہمارا خُداوند گناہوں کی ساری قیمت ادا کرنے کے لئے قربان ہوا تھا، اور یوں ہمیں دنیا کے گناہوں سے بچا چکا ہے۔ یہ خُدا کے حیرت انگیز  فضل کے علاو ہ اورکُچھ کیسے ہو سکتاہے؟ خُدا کی محبت کتنی گہری، وسیع، اور اونچی ہے؟ حقیقت یہ ہےکہ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستون تقریباً ۵.۴میٹر(۱۵ فٹ) اونچے تھے ہمیں خُداوند یِسُوعؔ مسیح کی معرفت بخشی گئی ہمارے لئے خُدا کی محبت کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ہم جیسے حقیر انسانوں کو گناہ کی سزا سے چھڑانے کے لئے، ہمارا خُداوند ہمیں اپنی ذاتی قربانی کے وسیلہ سے بچا چکا ہے مَیں اِس سچائی کے لئے اُس کا شکر ادا کرتاہوں۔ جب ہم بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اپنے گناہوں کی سزا کی وجہ سے جہنم کے اسیر تھے، اور جب خُداوند نے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچانے کے لئے ہمارے واسطے اپنا ذاتی بدن پیش کِیا،تو کیسے ہم ممکنہ طورپر اُس کا شکر ادا نہیں کر سکتے؟ ہم اُس کا شکر ادا کرتے ہیں! یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ نے اپنے قیمتی بدن پر ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیبی خون کے ساتھ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کی، اور یوں ہمیں ہمارے تمام گناہوں اور سزا سے بچا چکا ہے۔ اِس لئے ہم اِس خوشخبری پر اپنے ایمان کے ساتھ صرف اُس کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔یہ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستونوں پر مشتمل نجات کا گہرا مفہوم  ہے۔
خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے پانچ ستونوں میں سے ہر ایک اونچائی۵.۴  میٹر تھی۔ کلامِ مقدس میں، عدد  ”5“ کا مطلب ”خُدا کا فضل“ ہے۔ اِس لئے، یعنی وہاں پانچ ستون تھے نجات کے تحفہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خُدا ہمیں عنایت کر چکا ہے۔ ہم سے محبت کرنے اور ہمیں اپنی نجات کی محبت سے ملبوس کرنے کے وسیلہ سے، خُدا نے ہمیں اُس کے اپنے لوگ بننے کے لئے بالکل کسی بھی چیز میں کمی نہ ہونے کے قابل بنایا۔ کلام ِ مقدس میں، سونا ایمان کو بیان کرتا ہے جو خُدا پر ایمان رکھتا ہے جو ہمیں اپنے آسمانی،ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، سونے کے وسیلہ سے کلامِ مقدس  ”ایمان“  کے بارے میں فرماتا ہے جو پورے دل سے اِس سچائی پر ایمان رکھتا ہے کہ خُدا بذاتِ خود اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لینے کے ذریعہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر مر گیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں مکمل طورپر راستباز بنا چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاک مقام کے تمام ستون سونے کے ساتھ منڈھے ہوئے تھے۔
یعنی خیمۂ اِجتماع کے دروازے کے ستونوں کے خانے پیتل کے بنے ہوئے تھے ظاہر کرتا ہے کہ خُداوند، بے رحمی سے سزابرداشت کر کے، ہمیں، جو حقیقتاً بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اپنے گناہ کی وجہ سے جہنم کے قیدی تھے، اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔کیونکہ ہم اتنے عیبوں سے بھرے ہوئے تھے، ہم حقیر انسان تھے جو واقعی بچ نہیں سکتے تھے بلکہ موت کے حوالے ہو جاتے، اور پھر بھی ہمیں اپنے ذاتی لوگ بنانے کے لئے، مطلق اور قدوس خُدا نے اپنے آ پ کو قربان کِیا، جو ہم سے کہیں زیادہ قابلِ عزت ہے، اور یوں ہمیں خُدا باپ کے بیٹے بنا چکا ہے۔ اِس لئے سونےسےمرادوہ ایمان ہےجواِس سچائی پر ایمان رکھتا ہے۔ یہ ہے کیسے ہمیں یقیناً خیمۂ اِجتماع کے دروازے کے رنگو ں کو سمجھنا چاہیے، اور ہمیں یقیناً اِس پر غوروفکر بھی کرنا چاہیے، اِس کے لئے شکر ادا کرنا چاہیے، اور اپنے دلوں کے مرکز میں اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔
  
 
خیمۂ اِجتماع کے ستونوں کے پیتل کے خانے
 
خیمۂ اِجتماع میں، اِس کے دروازہ کے ستونوں کے صرف خانے ہی پیتل کے بنے ہوئے تھے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اِس زمین پر آپ اور مَیں ایک دوسرے کے خلاف اور خُدا کے خلاف بہت سارے گناہ سر زد کر چکے ہیں، اور اِس لئے ہم بچ نہیں سکتے تھے بلکہ اِن گناہوں کی وجہ سے لعنتی تھے۔ اِن پیتل کے خانوں میں پوشیدہ سچائی ہمیں سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ پہلی چیز جس کا گنہگار جب وہ اِس کے دروازہ میں سے خیمۂ اِجتماع کے صحن میں داخل ہوتے تھےسامناکرتے تھے وہ سوختنی قربانی کی قربانگاہ تھی جہاں سوختنی قربانیاں چڑھائی جاتی تھی۔
لفظ  ”قربانگاہ“ یہاں  ”چڑھنے“ کا مطلب بیان کرتا ہے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ اِس سچائی کے علاوہ کسی دوسری کو بیان نہیں کرتی کہ یِسُوعؔ مسیح نے بپتسمہ لیا اور تب ہم تمام گنہگاروں کی جگہ پر بے رحمی سے صلیب پر قربان ہوگیا۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ وہ جگہ تھی جہاں قربانیاں جو ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے گناہوں کو قبول کرتی تھیں اِن گناہوں کی سزا کے طور پر موت کے حوالے کی جاتی تھیں۔ کاہن سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگوں پر اِن قربانی کے جانوروں کا خون لگاتے تھے، باقی خون کو اِس کے نیچے ریتلی زمین پر انڈیل دیتے تھے، اور اُن کےگوشت کوقربانگاہ پر آگ سے جلا دیتے تھے۔ یہ موت کا مقام تھا جہاں قربانیاں جو گناہوں کو اُٹھالیتی تھیں ذبح ہوتی تھیں۔
سوختنی قربانی کی قربانگاہ خیمۂ اِجتماع کے صحن کے دروازہ اور خیمۂ اِجتماع کے ہی درمیان میں رکھی گئی تھی۔ اِس طرح،ہر کسی کو جو خیمۂ اِجتماع میں داخل ہونا چاہتا تھا پہلے سوختنی قربانی کی اِس قربانگاہ سے گزرنا پڑتا تھا۔ اِس لئے، سوختنی قربانی کی قربانگاہ سے گزرے بغیر، خیمۂ اِجتماع میں داخل ہونے کا بالکل کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ کہے بغیرماننا پڑتا ہے کہ سوختنی قربا نی کی قربانگاہ بالکل یِسُوعؔ مسیح کے بپتسمہ اور صلیب کا عکس ہے۔ اور ہمارے خُداوند کا بپتسمہ اور صلیب وہ ہیں جو خُدا کے سامنےآنےوالے تمام گنہگاروں کی بدکرداریوں کومعاف کرتے ہیں ۔
اِس طرح، پہلے اپنے گناہوں کو لائے اور سوختنی قربانی کی قربانگاہ پر رُکےبغیر،اور یہ یاد رکھے بغیر کہ قربانی کا جانور اُنھیں اُن کے گناہوں سے ہاتھوں کے رکھے جانے اور اِس جگہ پر اپنا قربانی کا خون بہانے کے وسیلہ سے اِن گناہوں کو اُٹھانے کی معرفت، اُنھیں بچا چکا ہے، کوئی گنہگار کبھی بھی  خُدا کے سامنے نہیں جا سکتا۔ یہ ایمان خُدا کے سامنے جانے کا راستہ ہے، اور ساتھ ہی  یہ وہ ایمان ہے جو ہماری اپنی گناہ کی معافی کی برکت اور گناہ کی سزا برداشت کرنے (یعنی، گناہ کے لئے مرنے)کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
جب اسرائیل کے لوگ اپنے گناہوں کو مٹانے کے لئے قربانی پیش کرتے تھے، توسب سے پہلے اُس کے سر اپنے ہاتھ رکھنے کی بدولت جانور پر اپنے گناہوں کو منتقل کرتے، اِسے ذبح کرتے اور اُس کا قربانی کا خون نکالتے، اور تب اُس کا خون سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگوں پر لگاتے اور باقی تمام خون قربانگاہ کی بنیاد پر اُنڈیل دیتے تھے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے نیچے زمین تھی۔ زمین یہاں بنی نوع انسان کے دلوں کو بیان کرتی ہے۔ جیساکہ، یہ ہمیں بتاتی ہے کہ گنہگار اپنے دلوں میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں کہ قربانی کے جانور نے اُن کے گناہوں کو قبول کِیا اوراُن کی جگہ پر مر گیا، یہ سب نجات کی شریعت کے عین مطابق ہے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگ ہمیں گناہوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو روحانی طور پر عدالت کی کتاب میں لکھے ہوئے ہیں۔
پرانے عہد نامہ کے دَور کے گنہگار اپنے گناہوں کی معافی حقیقت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل کر سکتے تھے کہ وہ قربانی کے جانور کے سر پر اپنے ہاتھ رکھ چکے تھے اور یوں اُس پر اپنے گناہ منتقل کر چکے تھے، اور یعنی یہ قربانی تب اپنا خون بہاتی تھی اور سوختنی قربانی کی قربانگاہ پر پیش کی جاتی تھی۔ اگر ہاتھوں کا رکھا جانا اور موت اور قربانی کے جانور کا جلایا جانا نہیں ہو تا تھا، جو گنہگاروں کے لئے اُن کے گناہوں کا کفارہ دینا ممکن بناتا تھا،تو اُن کے لئے خُد اکے سامنے جانے کا راستہ مکمل طورپر بند ہو  جاتا تھا، اور وہ مزید قدوس خُد اکے سامنے جانے کے قابل نہیں ہوتے تھے۔ مختصر، اِس قربانی کے نظام کے علاوہ کوئی دوسری حقیقت نہیں تھی جس نے اُنھیں خُدا کے سامنے جانے کے قابل کِیا۔
اِس طرح، یِسُوعؔ مسیح کے بپتسمہ، اُس کی موت، اور اُس کی فِدیہ کی قربانی پر ہمارےایمان کے بغیر، ہمارے لئے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنے اور خُد اکے سامنے جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کیسے اسرائیل کے لوگ سب سے زیادہ خوبصورت، کامل، پیارا اور بے عیب برہّ اپنے کاہنوں کے پاس لا چکے تھے، اگر اُن کے ہاتھ اُس کے سر پر نہیں رکھے جا چکے تھے، اگر وہ یوں اُن کے گناہوں کو قبول نہیں کر چکا تھا اور اگر یہ خون نہیں بہا چکا تھا اور ذبح نہیں کِیاجا چکا تھا، تب یہ کسی بھی طرح کوئی اثر نہیں رکھے گا۔
جب ہمارے ایمان کی بات آتی ہے، اگر ہم یہ ایمان نہیں رکھتے کہ بپتسمہ جو یِسُوعؔ مسیح نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اور قیمتی خون جو اُس نے صلیب پر بہایا ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکے ہیں، تب ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہم گناہوں کی مکمل معافی حاصل کر چکے ہیں۔ بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور صلیب پر اُس کی موت گنہگاروں اور خُدا باپ کے درمیان واضح طور پرکھڑے ہیں، اور وہ اِس لئے ثالثی عوامل بن چکے ہیں جو گنہگاروں کو اُن کی بدکرداریوں سے بچاتے ہیں۔
سوختنی کی قربانی کی قربانگاہ ایک نمونہ ہے جو نجات کے منصوبہ پر مشتمل ہے جسے آسمان پر قادرِ مُطلق خُدا بذاتِ خود ترتیب دے چکا اور یِسُوعؔ مسیح میں پورا کر چکا تھا۔ موسیٰؔ نے خیمۂ اِجتماع کو نجات کے طریقے اور نمونے کے مطابق تعمیر کِیا جو خُدا اُسے کوہِ سیناؔ پر دکھا چکا تھا۔ جب ہم کلامِ مقدس میں دیکھتے ہیں، توہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ ہدایت بار بار دی گئی تھی۔ جیسا کہ خروج ۲۵:۴۰بیان کر تاہے،  ” اور دیکھ تُو اِن کو ٹھیک اِن کے نمُونہ کے مُطابِق جو تُجھے پہاڑ پر دِکھا گیا ہے بنانا۔
لوگ ایک صلیب بنا سکتے اور اِس پر یِسُوعؔ مسیح کو لٹکا سکتے تھے، لیکن اِس سے آگے، وہ کچھ بھی دوسرا کام نہیں کر سکتے تھے۔ وہ اُسے ہاتھوں سے باندھ سکتے اور کلوریؔ تک گھسیٹ سکتے تھے۔ اُنھوں نے اُسے مصلوب کِیا جب کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ خُدا کے سامنے کیا کر رہے تھے۔ گنہگار اِس حد  تک جا سکتے تھے کیونکہ اِن سب چیزوں کو خُدا نے پہلے سے منصوبہ کی گئی  دُور اندیشی کے مطابق پوراکرناتھا۔ تاہم، یہ یِسُوعؔ مسیح ہے جو تمام گنہگاروں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے، یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینے کی بدولت اور یوں دنیا کے گناہوں کو اُٹھانے، یعنی اُن سب کو  ایک ہی بار دھونے، اور صلیب پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔
اِس طرح، صلیب پر خُداوند یِسُوعؔ مسیح کی موت سے پہلے، یوحنا ؔ سے حاصل کِیااُس کا بپتسمہ ہماری نجات کے لئے بالکل ناگزیرترین واقعہ تھا۔ اُس کا گناہوں کو برداشت کرنا اور اُن کی سزا حتیٰ کہ تخلیق سے پیشتر خُدا کی معرفت مقرر ہوئے تھے۔ یوحنا ۳ باب میں، یِسُوعؔ نے نیکُدیمس کو بتایا کہ یہ پانی اور روح کی خوشخبری ہے۔ اِس لئے، یِسُوعؔ کا بپتسمہ اور صلیب خُدا کی دُور اندیشی ہے جس کا یِسُوعؔ مسیح میں پیشتر منصوبہ بنایا گیاتھا اوراِسے متعین کِیا گیا تھا۔
یِسُوعؔ نے بذاتِ خود فرمایا،  ” کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے “ (یوحنا ۳:۱۶)۔ اور یِسُوعؔ کے بپتسمہ پر، پطرسؔ نے بھی فرمایا،    ” اور اُسی پانی کا مُشابِہ بھی یعنی بپتِسمہ یِسُوع مسِیح کے جی اُٹھنے کے وسِیلہ سے اب تُمہیں بچاتا ہے“ (۱۔پطرس ۳:۲۱)۔ اعمال کی کتاب میں یہ بھی لکھا ہوا ہے،   ” جب وہ خُدا کے مُقرّرہ اِنتِظام اور عِلمِ سابِق کے مُوافِق پکڑوایا گیا تو تُم نے بے شرع لوگوں کے ہاتھ سے اُسے مصلُوب کروا کر مار ڈالا۔ “ (اعمال ۲:۲۳)۔ 
یِسُوعؔ نے جو بپتسمہ حاصل کِیا اور صلیبی خون یہ سب قادرِ مُطلق خُدا کے مقصد اور منصوبہ سے پورا  ہوا۔ اِس طرح، چونکہ کوئی شخص اپنے دل میں اِس سچائی کو قبول کرنے اور اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے بغیر خُدا کی بادشاہت میں داخل نہیں ہو سکتا، ہمیں یقیناً یہ سمجھنا  چاہیے کہ خُدا ہم سے ایمان کا مطالبہ کرتا ہے، اور ہمیں یقیناً اِسے رکھنا چاہیے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پریقین رکھنےوالے ایمان کے بغیرکوئی بھی نجات یافتہ نہیں ہو سکتا۔ اور اگر یِسُوعؔ نے اپنی مرضی سے، یوحنا ؔ سے بپتسمہ لینے، اپنے آپ کو گنہگاروں کے حوالے کرنے، اور صلیب پر اپنا خون بہانے کافیصلہ نہیں کِیاہوتا، تو گنہگار اُسے کبھی بھی مصلوب کرنے کے قابل نہ ہوتے۔ یِسُوعؔ دوسروں کے ہاتھوں سے کلوریؔ تک گھسیٹنے کے لئے مجبور نہیں کِیا گیاتھا، بلکہ یہ مکمل طورپر اُس کی ذاتی مرضی سے تھا کہ اُس نے بپتسمہ لینے، اپنا خون صلیب پر بہانے کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، اور یوں گنہگاروں کو اُن کے تمام گناہوں سے بچا یا۔
یسعیاہ ۵۳:۷ بیان کرتاہے،  ” وہ ستایا گیا تَو بھی اُس نے برداشت کی اور مُنہ نہ کھولا۔ جِس طرح برّہ جِسے ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں اور جِس طرح بھیڑ اپنے بال کترنے والوں کے سامنے بے زُبان ہے اُسی طرح وہ خاموش رہا۔ “ اِس لئے، خُداوند یِسُوعؔ مسیح کا بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت مکمل طورپر اُس کی ذاتی مرضی کے مطابق تھی، اور اُس نے ان کے ذریعے،ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے، اُن لوگوں کو جو اُس کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں اُن کے تمام گناہوں سے بچایا ہے ۔ خُداوند کے اِن کاموں پر، عبرانیوں کی کتاب کا مصنف بھی لکھتا ہے،  ” اب زمانوں کے آخِر میں ایک بار ظاہِر ہُؤا تاکہ اپنے آپ کو قُربان کرنے سے گُناہ کو مِٹا دے۔ “ (عبرانیوں ۹:۲۶)۔
سوختنی قربانی کی قربانگاہ میں جو ہمیں مسیح کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت کے عکس کو دکھاتی ہے، ہم واقعی آسمان کی نجات کی روحانی بخشش کی شہادت کودیکھ سکتے ہیں۔سوختنی قربانی کی قربانگا ہ پر قربانی کے جانور کی موت یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور مو ت کے علاوہ کسی دوسرے کو لاگو نہیں کرتی جو ہر کسی کے گناہوں کی وجہ سے مطلوب تھا۔ پرانے عہد نامہ میں، گنہگار اپنے قربانی کے جانوروں کی معرفت اپنی بدکرداریوں کا فِدیہ دیتے تھے جو اُن کے ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ اُن کے گناہوں کو اُٹھاتے اور اُن کی جگہ پر مرتے تھے۔ اِسی اسلوب میں، نئے عہد نامہ میں، خُدا کے بیٹے کے کلوری پر ظالموں کے ہاتھوں سے مرنے سے پیشتر، اُس نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت پہلے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، اور یہ اِس وجہ سے ہے کہ یِسُوعؔ کو مصلوب ہونا، اپنا خون اُنڈیلنا، اور مرنا تھا۔
اِس طرح،خُدا نے یِسُوعؔ پر ہاتھوں کے رکھے جانے اور مرنے کے لئے مصلوب کیےجانےکا منصوبہ بنایا اوراِسے پہلےسےمقرر کِیا، یہ سب اِن قاتلوں کے درمیان صلح کوقائم کرنے کے سلسلے میں تھا جنھوں نے اُس کے بیٹے اوراُسے قتل کِیا ۔ خُدانے نجات کی شریعت کا منصوبہ بنایا جو ہاتھوں کے رکھے جانے اور موت کے وسیلہ سے تشکیل دی گئی تھی، اور اِس شریعت کے مطابق، اُس نے اسرائیل کے لوگوں کو اُسے قربانی کے جانور پیش کرنے کے وسیلہ سے اُن کے گناہوں کی معافی حاصل کرنے کی اجازت دی۔
دوسرے لفظوں میں، خُدا خود صرف اور صرف  گنہگاروں کو بچانے کے لئے سلامتی کی قربانی بن گیا۔ خُدا کی یہ نجات کتنی ناقابل ِ پیمائش گہری، پُر حکمت اور راست ہے!  اُس کی حکمت اور سچائی حیران کن طورپر شاندار ہیں، جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ کون حتیٰ کہ ہاتھوں کے رکھے جانے اورخون بہانے کے وسیلہ سے تشکیل دی گئی اور سوختنی کی قربانی کی قربانگاہ میں ظاہر کی گئی اُس کی دُور اندیش نجات کا تصور کرنے کی جرأت کر سکتا ہے؟ پولُسؔ کی مانند، سب جو ہم کر سکتے ہیں محض ستائش ہے،  ” واہ! خُدا کی دَولت اور حِکمت اور عِلم کیا ہی عمِیق ہے! اُس کے فَیصلے کِس قدر اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں کیا ہی بے نِشان ہیں! “ (رومیوں ۱۱:۳۳)۔ پانی، خون، اور روح کی خوشخبری واحد راست خوشخبری ہے جس کے ساتھ خُدا گنہگاروں کو مکمل طورپر بچا چکا ہے۔
 
 
سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے سینگ
 
 
خیمۂ اِجتماع کے صحن میں رکھی گئی سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے چاروں کونوں پرپیتل کے سینگ لگے ہوئے تھے۔ کلامِ مقدس میں، یہ سینگ گناہ کی عدالت کو ظاہر کرتے ہیں (یرمیاہ۱۷:۱؛ مُکاشفہ۲۰:۱۱۔۱۵)۔
یہ ظاہرکرتا ہے کہ صلیب کی خوشخبری بپتسمہ پر مبنی ہے جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا تھا۔ اِس لئے پولُسؔ رسول فرماتا ہے،  ” کیونکہ مَیں اِنجِیل سے شرماتا نہیں۔ اِس لِئے کہ وہ ہر ایک اِیمان لانے والے کے واسطے … نجات کے لِئے خُدا کی قُدرت ہے۔ “ (رومیوں ۱:۱۶)۔ نیز ۱۔کرنتھیوں ۱:۱۸میں ، یوں لکھا ہُوا ہے،  ” کیونکہ صلِیب کا پَیغام ہلاک ہونے والوں کے نزدِیک تو بیوُقُوفی ہے مگر ہم نجات پانے والوں کے نزدِیک خُدا کی قُدرت ہے۔
سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے یہ سینگ واضح طورپر اعلان کرتے ہیں کہ خُدا کی راست عدالت اور نجات مکمل طورپر اُس کے بپتسمہ، اُس کی صلیبی موت، اور اُس کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے پوری ہو چکی ہے۔
 
 
سوختنی قربانی کے قربانگاہ کے کڑوں میں رکھی گئی دو چوبیں
 
 بیابان میں تعمیر کیے گئے خیمۂ اِجتماع کی تمام برتن اُٹھائے جانے والے تھے۔یہ ایک طریقہ تھا جواسرائیل کے لوگوں کی زندگی کی خانہ بدوش فطرت کےلیےموزوں تھا۔ اُنھیں بیابان میں گھومنا پڑاجب تک کہ وہ کنعانؔ کی سرزمین میں آباد نہیں ہو گئے۔ چونکہ اُن کی زیارت کی  زندگی جار ی رہی جب وہ بیابان میں سے گزر رہے تھے، خُدا نے اُن سے سوختنی قربانی کی قربانگاہ کو پکڑنے کے لئے دو چوبیں تیار کروائیں، تاکہ جب اسرائیل کے لوگوں کو خُدا کی طرف سے آگے بڑھنے کا حکم ملتاتواُن کے کاہن قربانگاہ کو اُٹھا سکیں ۔
جس طرح خروج ۲۷:۶۔۷ بیان کرتا ہے،   ” اور تُو قُربان گاہ کے لِئے کِیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُن کو پِیتل سے منڈھنا۔اور تُو اُن چوبوں کو کڑوں میں پہنا دینا کہ جب کبھی قُربان گاہ اُٹھائی جائے وہ چوبیں اُس کی دونوں طرف رہیں۔“ چونکہ سوختنی قربانی کی قربانگاہ کے دونوں ا طراف میں پیتل کے چار کڑوں میں سے دو چوبیں ڈالی گئی تھیں،اِس لیے  لاوی اِسے اپنے کندھوں پر اُٹھا سکتے تھے اوراِسے لے جا سکتے تھے جب اسرائیل کے لوگ سفر کرتے تھے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ مسیح کے بپتسمہ اور صلیب کو ظاہر کرتی ہے۔ اِس طرح، جیسے لاوی سوختنی قربانی کی قربانگاہ کواِس کی دونوں چوبوں کے ساتھ اُٹھاتے اور اِسے بیابان میں لے جاتے تھے،اِسی طرح  اُس کے بپتسمہ اور صلیب کی خوشخبری بھی اِس دنیا کے پورے بیابان میں اُس کے خادموں کے وسیلہ سے پہنچائی جاتی ہے۔
ایک اور مسئلہ جس کا  ہمیں آگے بڑھنے سے پہلے جائزہ لینا چاہیے وہ یہ حقیقت ہے کہ وہاں  دو  چوبیں تھیں جنھوں نے اسرائیلیوں کو سوختنی قربانی کی قربانگاہ کو اُٹھانے کے قابل کِیا۔ اِسی طرح، پانی اور روح کی خوشخبری بھی دو حصوں پر مشتمل  ہے۔ ایک وہ  بپتسمہ ہے جو مسیح نے یوحناؔ سے حاصل کِیا، اور دوسراسزا ہے جو خُداوند یِسُوعؔ مسیح نے صلیب پر برداشت کی۔جب یہ دونوں مل جاتے ہیں،تو گناہ کی معافی کی نجات مکمل ہو جاتی ہے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ دو چوبیں رکھتی تھی۔ مختلف نظر سے دیکھتے ہوئے، یہ دستے رکھتی تھی۔ ایک چوب کافی نہیں تھی، کیونکہ صرف ایک چوب کے ساتھ، حرکت کرتےوقت قربانگاہ متوازن نہیں ہو سکتی تھی۔
اِسی طرح، پانی اور روح کی خوشخبری بھی دو حصوں میں تشکیل پاتی ہے۔ یہ بپتسمہ جو یِسُوعؔ مسیح نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اور صلیب پر اُس کا خون بہانا ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یِسُوعؔ کا بپتسمہ اوراُس کی صلیب پر موت باہمی طورپر حتمی عناصر ہیں جو باہم راست سچائی کو تشکیل دیتے ہیں۔یِسُوعؔ کا بپتسمہ اور خون منصفانہ طورپر گنہگاروں کی گناہ کی معافی مکمل کر چکے ہیں۔اِن دونوں (یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیبی موت)میں سے، اگر ایک کو نظر انداز کِیا جاتا ہے، تب یہ اِسی طرح دوسرے کو نظر انداز کرنے کی مترادف ہے۔ مسیح کے بپتسمہ اور اُس کے خون بہانے کے بغیر کوئی نجات ممکن نہیں ہو سکتی۔
بے شک، اُس کا جی اُٹھنا بھی اہم ہے۔ مسیح کے جی اُٹھنے کے بغیر، اُس کی موت بے فائدہ ہوگی،وہ کسی بھی طرح کوئی نتیجہ نہیں رکھے گی۔ اگر ہمیں صرف ایک مُردہ مسیح پر ایمان رکھتے، تب وہ کسی کوبھی، حتیٰ کہ اپنے آپ کو بچانے کے قابل نہیں ہوگا۔ لیکن مسیح، جس نے بپتسمہ لیا، موت تک صلیب پر خون بہایا، اور پھر زندہ ہونے کے لئے موت پر غالب آیا اُن کا حقیقی نجات بن چکا ہے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایما ن لاتے ہیں اور خُدا کے پاس آتے ہیں۔ اور وہ اُن کا ابدی نجات کا خُداوند اور محافظ بھی بن چکا ہے۔
اُس کے جی اُٹھنے کے بغیر صرف مسیح کی موت پھیلانا محض ایک تضاد اورجھوٹ ہے۔ اور مسیح کے
جی اُٹھنے کے بغیر، اُس کی صلیب محض خُدا کی ناکامی ہو گی۔ یہ یِسُوعؔ  کو ایک معمولی مجرم میں بھی بدل دے گی۔ نہ صرف یہ، بلکہ یہ خُدا کو ایک جھوٹے میں بھی بدل دے گی، جس کا نتیجہ کتابِ مقدس کے کلام کا تمسخر ہوگا۔ جیسا کہ مسیح نے یوحنا ؔ سے بپتسمہ لیا، وہ صلیب پر مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں اُن کا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے جو اُس پر ایمان رکھتے ہیں۔
وہ خوشخبری جو پوری خوشخبری میں سے یِسُوعؔ کے بپتسمہ کو باہر نکال دیتی ہے، جس کی آج کے دَور کے بہت سارے مسیحی پیروی کر رہے ہیں، خُدا کو دھوکہ دیتی  ہے، لوگوں کو دھوکہ دیتی ہے اور اُن کی جانوں کو جہنم میں لے جاتی ہے۔ اور ایسی خوشخبری پر ایمان رکھنا خُدا کی دائمی سچائی کے کلام کو نظر انداز کرنا اور ردّکرنا ہے۔ جھوٹے نبی جو صرف مسیح کی صلیب کی تعلیم دے رہے ہیں مسیحیت کو دُنیا کے بہت سارے مذاہب میں سے محض ایک میں تبدیل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جس خوشخبری کی وہ پیروی کر رہے ہیں وہ مکمل طورپر پانی اور روح کی سچی خوشخبری سے مختلف ہے۔
مسیحیت واحد مذہب ہے جو واحد خُدا اور زندہ مسیح پر ایمان رکھتا ہے۔ تاہم، اگرچہ مسیحیت دنیا کے دوسرے تمام مذاہب سے بالا تر نظر آ تی ہے اور اپنے آپ کا حقیقی سچائی کے طورپر دعویٰ کر تی ہے، اگر یہ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان کو چھوڑتےہوئے صرف اپنے واحدانیت کے عقیدہ کوبیان کرتی ہے ، تب یہ محبت اور سچائی کا ایمان نہیں ہے، بلکہ صرف خود پسندی کا مذہب ہے۔
 
 
سوختنی قربانی کی قربانگاہ کامقام
 
یہاں، آئیں ہم ایک بار پھر اِس مقام پر غور کریں جہاں خیمۂ اِجتماع کے صحن میں سوختنی قربانی کی قربانگاہ رکھی گئی تھی۔ خیمۂ اِجتماع کے سارے سامان میں سے، سوختنی قربانی کی قربانگاہ سب سے بڑی تھی۔ یہ خیمۂ اِجتماع  کے آلات میں سے سب سے پہلی بھی تھی جہاں ترتیب وار کاہن آتے تھے جب وہ عبادت کے لئے پاک مقام میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ سوختنی قربانی کی قربانگاہ خُداپر ایمان کا نقطۂ آغاز ہے، اور یہ لوگوں سے اُس تک پہنچنے کے سلسلے میں اُس کے کلیہ کی پیروی کا مطالبہ کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں،سوختنی قربانی کی قربانگاہ سچائی کو ظاہر کرتی ہے کہ لوگوں کو یقیناً اپنے تمام گناہوں کا مسئلہ غیر ایماندار بننے کی بجائے ایماندار بننے کے وسیلہ سے حل کرنا چاہیے، کیونکہ بپتسمہ پرجو یِسُوعؔ نے یوحنا ؔ سے حاصل کِیا اور صلیب پر ایمان نہ رکھنا کسی کو زندہ خُدا کے سامنے جانے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
یہ خُدا کے بیٹےکے بپتسمہ اور موت پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے نجات پا چکے ہیں،ایسا ایمان نہ رکھنے کے وسیلہ سے نہیں ہے۔ ہم اپنے گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں اور صرف بپتسمہ اور خُدا کے بیٹے کے خون بہانے پر ایمان رکھنے کی بدولت نئی زندگی حاصل کر چکے ہیں۔ کیونکہ پانی اور روح کی یہ خوشخبری بہت اہم، بنیادی، اور سب سے زیادہ کامل ہے، ہمیں یقیناً اپنے دلوں میں اِس پر بار بار غور کرنا جاری رکھنا چاہیے۔ ہمیں یقیناًاِس خوشخبری کو پہچاننا چاہیے اور اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ ہمیں یقیناً اپنے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے کہ ہم سب جہنم کے اسیر بن چکے تھے، اور ہمیں یقیناً یہ بھی ایمان رکھنا چاہیے، اِس ایمان کے ساتھ متحد ہو کر، کہ خُداوند نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور صلیب پر اپنا خون بہانے کی بدولت ہمارے گناہوں کی سزا برداشت کی۔
سوختنی قربانی کی اِس قربانگاہ کے ساتھ ، یعنی خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستونوں کے خانے پیتل کے بنے ہوئے تھے، ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں یقیناً حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم سب، اپنے عیبوں کی وجہ سے، جہنم میں پھینکے جانے کے حقدار ہیں۔ اور خُد اکی عدالت کے مطابق، جو اعلان کرتی ہے  ” گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے، “  یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم سب اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کے لائق ہیں۔
پھربھی ہم جیسے حقیرانسانوں کو بچانے کے لئے، جنھیں واقعی ہمارےتمام گناہوں کی عدالت سے، یقینی طور پر جہنم میں جانا چاہیے، ہمارا خُداوند مجسم ہوا اور اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لینے کی معرفت اپنے ذاتی بدن پر بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا، دنیا کے گناہوں کو صلیب پر لے گیا، اپنا خون بہانے کی بدولت سزا اُٹھائی، اور یوں آپ کو اور مجھے مکمل طورپر ہمارے گناہوں اور سزا سے بچا چکا ہے۔ صرف وہی جو اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کی کلیسیا میں شامل ہو سکتے ہیں اور اُس کے لوگ بن سکتے ہیں۔ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کا پردہ اور ستون ہم پر ظاہر کرتے ہیں کہ صرف وہ جو یہ ایمان رکھتے ہیں خُد اکے لوگ بن سکتے ہیں اور اُس کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں۔
 
 
ہمیں یقیناً خیمۂ اِجتماع کے پردےکے دروازےکے چار
 رنگوں میں ظاہر ہونےوالی سچائی پر ایمان رکھناچاہیے
 
 
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوندہمیں اپنی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور سفید، باریک بٹے ہوئے کتان کی خدمات کے وسیلہ سے اِس زمین پر آنے کی بدولت بچا چکا ہے؟ ارغوانی دھاگے کا مطلب ہے کہ یِسُوعؔ بذاتِ خود خُدا ہے؛ آسمانی دھاگے کا مطلب ہے کہ یِسُوعؔ، بذاتِ خود خُدا، ایک انسان بن گیا اور اِس زمین پر بپتسمہ لینے کی بدولت ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا؛ اور سُرخ دھاگے کا مطلب ہے کہ یِسُوعؔ مسیح نے، جس نے یوں ہمارے تمام گناہوں کو قبول کِیا، مصلوب ہونے کی بدولت اپنے قیمتی بدن کو قربان کر دیا۔ ہمارے لئے یہ ایمان رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ بپتسمہ لینے اور مصلوب ہونے والا یِسُوعؔ پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یوں آپ کو اور مجھے مکمل طورپر بچا چکا ہے۔
صرف وہی جو واقعی اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کی کلیسیا کےکارکن بن سکتے ہیں۔ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستون کارکنوں کی طرف اشارہ  کرتے ہیں۔ وہ ہمیں دکھاتے ہیں کہ صرف وہی جو اِس طریقے پر ایمان رکھتے ہیں خُد اکے لوگ ہیں، اور صرف ایسے ہی لوگوں کو خُدا اپنے کارکنان اور ستونوں کے طورپر استعمال کرسکتا ہے۔
سفید، باریک بٹاہوا کتان ہمیں بتاتا ہے کہ وہ جو خُدا کے لوگ،یعنی راستباز بن چکے ہیں، وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں میں بالکل واقعی کوئی گناہ نہیں رکھتے۔ راستبازلوگ وہ ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا اور بپتسمہ سے جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اور صلیبی خون کے وسیلہ سے تمام گنہگاروں کو بچا چکا ہے۔ چونکہ خُداوند اپنی ذاتی قیمتی جان  دینے کے وسیلہ سے ہمیں بچا چکا ہے، ہم بچ نہیں سکتے بلکہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں جو پانی اور خون کے وسیلہ سے آیاتھا (۱۔یوحنا ۵:۶)۔
ارغوانی دھاگہ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یِسُوعؔ بادشاہوں کا بادشاہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ خُداوند ہمیں، جو حقیر اور عیبوں سے بھرے ہوئے ہیں، اپنی قیمتی زندگی دینے کے وسیلہ سے بچا چکا ہے، اور یعنی وہ یوں ہمیں خُدا کے لوگ بنا چکا ہے۔ اب، اگر صرف ہم اپنے دلوں میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں، تب کامل نجات پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے، ہم سب ایسے راستباز بن سکتے ہیں جو بے گناہ ہیں۔ہمیں خُداکا شکر ادا کرنا چاہیےکہ اُس نے ہمیں ایمان کا یہ تحفہ عطا کِیا، تاکہ ہم ایسا ایمان حاصل کر سکیں۔
درحقیقت، یہ کہ ہم اِس سچائی پر ایمان لےآئے ہیں، بذاتِ خود، خُدا کی طرف سے ایک بخشش ہے۔ گناہ سے ہماری نجات بھی خُد اکی ایک بخشش ہے۔ کیا خُدا اپنی قیمتی زندگی، ہم سے کہیں زیادہ لازوال، ہمیں دینے کی بدولت ہمارے گناہوں سے ہمیں نہیں چھڑا چکا ہے؟ چونکہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا،صلیب پر مرگیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں نجات کا تحفہ دے چکا ہے،اِس لیے وہ تمام جو اَب اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ نجات کا یہ تحفہ حاصل کر سکتے ہیں اورخُدا کے اپنے لوگ بن سکتے ہیں۔ جب نجات کی بات آتی ہے، تو ہمارا اپنابالکل کوئی کام نہیں ہے۔ ہمارےپاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے بلکہ صرف یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنا چاہیے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی بدولت آیا۔ یہ نجات ہمارے لئے خُداکا تحفہ ہے۔
یِسُوعؔ پر ایمان کا آغاز سب سے پہلے یہ سوچنے سےہوتا ہےکہ ”آیا ہم واقعی جہنم کے لائق ہیں یا نہیں۔“  کیوں؟ کیونکہ جب ہم سب سے پہلے اپنی گنہگار حقیقی ذاتوں کوپہچانتے اورتسلیم کرتے ہیں،تو ہم بچ نہیں سکتے بلکہ سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ ہمارے گناہوں کے لئے ہماری ذاتی خطا کی قربانی بن گیا۔یہ کہ ہم نجات یافتہ ہو سکتے ہیں حتیٰ کہ جب گناہ کر رہے ہیں جوکچھ ہم کر سکتے ہیں وہ نجات کے تحفہ کی بدولت ممکن ہواہے جوخُداوند کی طرف سے دیا گیا ہے جس نے ہماری جگہ پر اپنے آپ کو قربان کِیا۔ کیا ہم محض اُس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں؟ کیا یوں ہم ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے لوگ بن چکے ہیں؟ کیا ہم واقعی ایسا ایمان رکھتے ہیں؟ کیا ہم اِقرار کر سکتے ہیں کہ ہماری نجات، ہمارے کاموں سے نہیں بلکہ خُداکی بخشش ہے؟ کیا ہم واقعی تسلیم کرتے  ہیں کہ ہم خُدا کی معرفت بخشی گئی نجات کی بخشش پر ایمان رکھنے سے پہلے سب جہنم کے قیدی بن چکے تھے؟ ہمیں یقیناً اِن موضوعات کو ایک مرتبہ پھر دیکھنا چاہیے۔
  
 
خیمۂ اِجتماع یِسُوعؔ کا مفصل خاکہ ہے
      
خیمۂ اِجتماع میں ظاہر ہونےوالی سچائی جھوٹے نبیوں کے منہ بند کردیتی ہے۔ جب ہم خیمۂ اِجتماع کا کلام کھولتے اور اُن کے سامنے اِس کے بارے میں بات کرتے  ہیں،تو اُن کا فریب سب آشکار ہو جا تا ہے۔
خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے سب ستون سونے کے ساتھ منڈھے ہوئے تھے۔ یہ ظاہرکرتا ہے کہ خیمۂ اِجتماع میں کہیں بھی کوئی انسانی شائبہ نہیں ہے۔ خیمۂ اِجتماع کے اندر ہر چیز سونے کے ساتھ منڈھی ہوئی تھی۔ اِس کے دروازہ کے ستون سونے کے ساتھ منڈھے ہوئے تھے، اور ستونوں کے اوپرکاغلاف بھی سونے کے ساتھ منڈھا ہوا تھا۔ تاہم، ستونوں کے خانے پتیل کے بنے ہوئے تھے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارے گناہوں اور عیبوں کی وجہ سے، آپ اور مَیں سب جہنم کے لائق تھے۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ کیا واقعی یہ صورتِ حال نہیں ہے؟ کیاآپ واقعی ایمان رکھتے ہیں کہ آپ بھی ہر روز سرزد کیے گئے اپنے عیب دارگناہوں کی وجہ سے جہنم کے لائق تھے؟ یہ کہ  آپ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق تھے خُدا کی معرفت کی گئی راست عدالت ہے۔پھر کیا آپ اِس عدالت کو تسلیم ہیں؟آپ کو یقیناً ماننا چاہیے! یہ محض ایک علم نہیں ہے، بلکہ آپ کو یقیناً اِسے اِس پر ایمان رکھنے کی بدولت قبول کرنا چاہیے۔
کتابِ مقدس فرماتی ہے،  ” کیونکہ راست بازی کے لِئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لِئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے“ (رومیوں ۱۰:۱۰)۔ جب ہم اپنے دلوں میں پہچانتے ہیں کہ ہم جہنم جانے کے لائق تھے، اور جب ہم سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند ہمیں اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کیے گئے کاموں کی بدولت مکمل ہوئی نجات کی بخشش دینے کی بدولت بچا چکا ہے، تب ہم سب پاک مقام میں داخل ہو سکتے اور زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند، یعنی وہ، جو ہم سے کہیں زیادہ قیمتی ہے اِس زمین پر آیا، اُس نے بپتسمہ لینے کی بدولت ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، یہ کہ  اُس نے اپنا خون بہایا اور صلیب پر مرگیا، اور یعنی ایسا کرنے کی بدولت وہ ہمارے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے اور ہمیں ہماری سزا سے بچا چکا ہے۔ ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے بچا کر، خُداوند ہمیں راستباز بنا چکا ہے۔
ہمیں یقیناً اپنے دلوں کے مرکز میں اِس پر واقعی ایمان رکھناچا ہیے۔ صرف  وہی  لوگ  جو  اپنے
دل کےمرکز میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کے لوگ اور اُس کے کارکن بن سکتے ہیں۔ اِس سچائی کو محض انسان کے بنائے ہوئے خیالات میں سے ایک سمجھناحقیقی ایمان نہیں ہے۔ ”اوہ، تو خیمۂ اِجتماع کا یہ مطلب تھا۔ مَیں نےاکثر اپنے گرجا گھر میں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے بارے میں سُناہے،اور اِس طرح اُن کے معنی کی تشریح اِس طرح کی جا سکتی ہے!“ اگرچہ آپ اب تک اپنے خیالات میں سچائی پر ایمان رکھتےتھے، اب وہ وقت ہے جب آپ کو اپنے دلوں میں پانی اور روح کی خوشخبری پر سچے دل سے ایمان رکھناچاہیے۔
خیمۂ اِجتماع کے دروازے کے ستونوں کے خانے پیتل کے بنے ہوئے تھے۔ لیکن پیتل کے خانے صرف خیمۂ اِجتماع کے دروازے کے پانچ ستونوں کے لئے استعمال ہوئے تھے؛ اِس کے برعکس، پاک ترین مقام کے پردہ کے ستون، پیتل کے خانے نہیں رکھتے تھے، بلکہ اِن ستونوں کے چار خانے سب چاندی کے بنے ہوئے تھے۔ کلامِ مقدس میں چاندی خُداکی بخشش اور فضل کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ سونا سچے ایمان کو ظاہر کرتا ہے جو دل کے مرکز سے ایمان رکھتا ہے۔ دوسری طرف، پیتل گناہ کی عدالت کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا ہم سب اپنےگناہوں کی وجہ سے خُدا کے ہاتھوں سے عدالت میں جانے کے لائق نہیں تھے؟ ہر ایک اور آپ میں سے ہر کسی کو خُدا اور لوگوں کے سامنے اپنے گناہوں اور عیبوں کی وجہ سے پرکھے جانا تھا۔ کیا یہ صورتِ حال نہیں ہے؟ مَیں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ صرف آپ ہی ایسے تھے۔ بلکہ، مَیں خُدا کے سامنے تسلیم کرتا ہوں کہ مَیں بذاتِ خود اِسی طرح کا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، مَیں یہ صرف آپ سے نہیں پوچھتا بلکہ اپنے آپ سے بھی پوچھتا ہوں۔ اور جہاں تک میرا تعلق ہے، مَیں مکمل طورپر خُدا کے سامنے پہچانتا ہوں کہ مَیں اپنے عیبوں کی وجہ سے اُس کے ہاتھوں سے عدالت میں جانے کے لائق تھا،اور یہ کہ  اُس کی شریعت کے مطابق، مَیں اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے بھی لائق تھا۔ مَیں اِسے واضح طورپر تسلیم کرتاہوں۔
میرےجیسےانسان کے لئے خُداوند اِس زمین پرآیا۔ وہ ایک انسان کے طورپر بدن میں آیا، بپتسمہ لینے کی بدولت اپنے ذاتی بدن پر میرے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر مرنے کی بدولت میرے گناہوں کی ساری سزا کو برداشت کِیا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی بدولت میرا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے۔ یہ ہے مَیں کیا ایمان رکھتاہوں۔ اور جب مَیں نے اِس طرح ایمان رکھا،تو میری نجات جس کا خُدا تخلیق سے پیشتر ہی منصوبہ بنا چکا تھا سب مکمل ہوگئی۔ یہ مکمل ہو گئی جونہی مَیں نے اپنے دل کے مرکز میں
اِس پر ایمان رکھا۔
آپ کے دل بھی ایسے ہی ہیں۔ اِس سچائی پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے، آپ کی نجات بھی جس کا خُدا یِسُوعؔ مسیح میں حتیٰ کہ اِس دنیا کی بنیاد سے پہلے منصوبہ بنا چکا تھا آپ کے دل میں مکمل ہوتی ہے۔ آپ کو اپنے لوگ بنانےکا خُدا کا منصوبہ اُس وقت پورا ہوتا ہے جب آپ اپنے دل کے مرکز میں اِس منصوبے پر ایمان رکھتے ہیں۔ اپنے دلوں میں ایمان رکھنے سے ہی حقیقی نجات ہمارے دلوں کے مرکز میں آتی ہے۔ نجات ہمارے جسمانی کاموں سے حاصل نہیں ہوتی۔ نجات کسی الہٰیاتی تعلیم کی بدولت حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ، یہ صرف سچائی پر ایمان کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے۔
 
 
اِس نجات کا تخلیق سے پیشترہی یِسُوعؔ مسیح میں منصوبہ بنایا جا چکا تھا
 
نجات ایک بخشش ہے جو ہمیں یِسُوعؔ مسیح میں اُس کے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے عطا کی جا چکی  ہے۔ یہ نجات حقیقتاً اِس زمین پر تقریباً دو ہزار سال پہلے مکمل ہوئی تھی۔ اور کوئی بھی شخص نجات کے اِس تحفہ سے خارج نہیں ہے، کیونکہ یِسُوعؔ ہر کسی کے گناہوں کو مٹانے کے لئے خُدا کے نجات کے منصوبے کو مکمل کر چکا تھا۔ اِس طرح، وہ جنھوں نے اپنے دل کے مرکز میں اِس نجا ت پر ایمان رکھا سب خُدا کے بیٹے بن چکے ہیں۔ اُن کےتمام گناہ مٹ چکے ہیں، برف کی مانند سفید، اور وہ سب مفت اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔
اِس کے باوجود، اِس دنیا میں بہت سارے لوگ ہیں جو گناہ کی معافی حاصل نہیں کر چکے۔ یہ لوگ کون ہیں؟ یہ وہ لوگ ہیں جو سچائی کو جانتے ہوئے بھی اِس پر ایمان نہیں رکھتے۔ وہ جو اپنے دل کے مرکز میں اِقرار نہیں کر چکے کہ وہ جہنم جانے کے لائق ہیں،اور وہ جو پانی، خون اور روح کی خوشخبری کو پہچان نہیں چکے ہیں ایسے لوگوں کا خُداوند کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
خُدا کی نجات صرف اُن کو بخشی جاتی ہے جو اپنی گنہگارفطرت کو جانتے ہیں اور تسلیم کرتے  ہیں کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے سزا اُٹھانے کے لائق اور جہنم میں ڈالے جانے کے مستحق ہیں۔خیمۂ اِجتماع کے پردے کے دروازہ کے پانچ ستون کہاں تھے، جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے تھے، وہ سب کہاں کھڑے تھے؟ وہ پیتل کے خانوں پر کھڑے تھے۔ آپ اور مَیں اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق تھے۔ صرف جب ہم اِس حقیقت کو مانتے ہیں تو ہماری نجات اِس پہچان پر کھڑی ہو سکتی ہے۔ ”کیونکہ خُدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی۔“ کیونکہ آپ کے لئے اور میرے لئے، خُداوند اِس زمین پر آیا، یوحنا ؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا، صلیب پر اپنا خون بہایا اور قربان ہوگیا، اور یوں ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات دے چکا ہے۔
اِس طرح، آپ کو اور مجھے واقعی اپنے دلوں کے مرکز میں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔ کم ازکم ایک بار، ہمارے دلوں کو یقیناً پہچاننا چاہیے، ”مَیں واقعی جہنم جانے کے لائق ہوں، اور پھر بھی خُداوند مجھے پانی اور روح کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔“ تب ہمیں یقیناً نجات یافتہ ہونے کے لئے اپنے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے۔ جس طرح رومیوں ۱۰:۱۰بیان کرتا ہے،  ” کیونکہ راست بازی کے لِئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لِئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے۔
ہمیں یقیناً اپنے دل کے مرکز میں اپنی نجات پر واقعی ایمان رکھنا چاہیے اور اپنے منہ کے ساتھ اِس کا اِقرار کرنا چاہیے:  ”خُداوند مجھے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ مجھے جہنم میں جانااور عذاب اُٹھانا تھا، لیکن خُداوند میری جگہ پر میرے گناہوں کو دھو چکا ہے، میرے گناہوں کو اُٹھا لیا، میری جگہ پر میری ساری سزا برداشت کی، اور یوں مجھے مکمل طورپر بچا چکا ہے۔ وہ مجھے مکمل طورپر خُداکا بیٹا بنا چکا ہے۔“ اِس طرح، ہمیں یقیناً اپنے دل کے مرکز میں ایمان رکھنا چاہیے اور اپنے منہ کے ساتھ اِقرار کرنا چاہیے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟
کیا آپ، کسی بھی حال میں، اب تک اِس حقیقت کوتسلیم نہیں کرتے کہ آپ جہنم جانے کے لائق تھے، جیساکہ آپ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی سچائی پر ایمان رکھتے ہیں، اور حتیٰ کہ آپ ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند ہمیں اِس طریقہ سے نجات دے چکا ہے؟ کلامِ مقدس فرماتا ہے،   ” اِس لِئے کہ سب نے گُناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں “  (رومیوں ۳:۲۳)۔ سچا ایمان یقین کرنا ہے کہ حتیٰ کہ سب گناہ کر چکے ہیں اور اِس لئے سب کو جہنم جانا تھا، لیکن خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں مکمل طورپر ہمیں راستباز بنا چکا ہے۔
یہ نجات کتنی حیرت انگیز  ہے؟ کیا یہ محض شاندار نہیں ہے؟ خیمۂ اِجتماع کسی بھی طرح نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ یہ خُدا کے کلام کے عین مطابق بیان کی گئی تفصیل کے ساتھ تعمیر کِیا گیا تھا۔ خیمۂ اِجتماع کے وسیلہ سے، خُدا نے ہمیں پیشتر تفصیل سے بتایا کہ وہ ہمیں اپنی قیمتی زندگی دینے کے وسیلہ سے بچائے گا۔ وہ ہمیں، خیمۂ اِجتماع کے وسیلہ سے بتاتا ہے  کہ یِسُوعؔ بپتسمہ لینے اور صلیب پر مرنے کی بدولت ہمیں قیمتی نجات عنایت کر چکا ہے، اور ہمیں یقیناً کیا کرنا چاہیےوہ یہ ہےکہ اپنے دل کے مرکز میں اِس پر ایمان رکھنا ہے۔ کون آپ کی خاطر آپ کو نجات دے سکتا ہے؟ آپ یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں جو بالکل آپ کی مانند ایک انسان کے بدن میں آیاتھا۔
اگر کسی نے آپ کے گناہ اُٹھا لئے اور آپ کی جگہ پر بے رحمی سے سزا برداشت کی، آپ اُس کے شکرگزار ہونے کی ضرورت سے زیادہ وجہ رکھیں گے، لیکن خُداوند یِسُوعؔ جو ہم سے لاکھوں گنا زیادہ شریف اور امیر ہے اُس نے ہماری خاطر اپنی قیمتی قربانی پیش کی یہ کتنی شکرگزاری کی بات ہے؟ یہ حقیقت کتنا قیمتی تحفہ ہے کہ خُدائےبزرگ و برترہمیں اپنے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ساتھ نجات عنایت کرچکا ہے؟ یہ تحفہ کتنا انمول ہے؟ کیسے ہم ممکنہ طورپر اپنے دل میں اِس پر ایمان نہیں رکھ سکتے؟
یہی وجہ ہے کہ  اُن سب کو جو اپنی گنہگاری کوتسلیم کرتے  ہیں یقیناً اِس سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے۔ وہ جو اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے اہل ہیں وہ وہ لوگ ہیں جو تسلیم کرتے ہیں کہ وہ بچ نہیں سکتے بلکہ جہنم میں پھینکے جائیں گے۔ صرف وہی لوگ جو پہچانتے ہیں کہ وہ واقعی گنہگار ہیں، اور یہ کہ  وہ یقینی طورپر جہنم جانے کے لائق ہیں، وہ خُدا کی قیمتی نجات پر ایمان رکھنے کے، اِسی طرح ایمان کے وسیلہ سے اِسے حاصل کرنے کے اہل ہیں۔ اور وہ جو اپنے دلوں میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کی کلیسیا کے کارکنان بن سکتے ہیں۔
ہم محض حقیر لوگ ہیں جن کے پاس فخر کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے، یہاں تک کہ جب ہم اپنے آپ کا موازنہ اُن لوگوں سے کرتے ہیں جواپنی معمولی صلاحیتوں کے باوجود اِس دُنیا میں مشہور ہو ئے ہیں۔ جب یہ صورتِ حال ہے،تو کیسے ہم کبھی پاک، کامل، اور قادرِ مُطلق خُدا کے سامنے اپنے آپ پر فخر کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں؟ سب جو ہم اُس کے سامنے کر سکتے ہیں وہ محض تسلیم کرنا  ہے کہ خُداوند ہمیں بچا چکا ہے کہ حتیٰ کہ ہم اپنے عیبوں کی وجہ سے مرنےسے بچ نہیں سکتے تھے ۔
کلامِ مقدس ہمیں بتاتا ہے،  ” کیونکہ گُناہ کی مزدُوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشِش ہمارے خُداوند مسِیح یِسُوعؔ میں ہمیشہ کی زِندگی ہے “ (رومیوں ۶:۲۳)۔ بے شک، ہمیں اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کی مزدوری اد ا کرنی تھی۔ لیکن کیونکہ ہمارا خُداوند ہمیں بچا چکا ہے، جو جہنم جانے کے لائق تھے، ہم اِس ایمان کے وسیلہ سے اب آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم اِس ایمان کو باہر نکالتے ہیں توہم سب سو مرتبہ جہنم جانے کے لائق ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہے؟ بے شک ایساہی ہے۔ ہم سب جہنم میں پھینکے جانے کے مستحق ہیں۔
لیکن چونکہ بُلند خُداوند بےمثال محبت کے ساتھ اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، اور اپنا خون بہایا اور صلیب پر سزا برداشت کی، اب ہم اپنی جہنم کی یقینی منزل سے بچ چکے ہیں۔ کیونکہ خُداوند ہمارے واسطے اپنی قیمتی زندگی دے چکا ہے، ہم گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ جب یہ صورتِ حال ہے، تو ہم کیسے ایمان نہیں رکھ سکتے کہ خُداوند ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمیں ہمارے گناہوں سے بچا چکا ہے، اور اِس لئے وہ ہمیں نجات کا تحفہ دے چکا ہے؟ کیسے ہم راستباز بننے سے اِنکار کر سکتے ہیں؟ کیسے آپ اِس پر ایما ن نہیں رکھ سکتے ہیں؟ جس طرح خیمۂ اِجتماع کے پردے کے دروازے کے ستون سونے کے ساتھ منڈھے ہوئے تھے، اِسی طرح ہمیں بھی یقیناً مکمل طورپر اپنے دلوں کو ایمان سے لپیٹناچاہیے۔ ہمیں یقیناً اپنے آپ کو مکمل طورپر اور پورے طور پر ایمان سے ڈھانپنا چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں کے مرکز میں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اپنے دلوں کے مرکز میں اِس سچی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے بغیر، ہم خُد ا کے سامنے نہیں جا سکتے۔
یہ ایمان ہی کے وسیلہ سے ہے کہ ہم گنہگار بن سکتےہیں یعنی حقیقی معنوں میں جہنم جانے کے لائق ہو سکتےہیں۔ ایمان ہی کے وسیلہ سے ہم خُد اکے سامنے راستباز بھی بن سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ایمان ہی کے وسیلہ سے ہے کہ گنہگار اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر سکتے ہیں — ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ خُداوند ہمیں اپنے پانی اور خون کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ اِس طرح  ہمارے خُداوند کا کلام ،  ” اور جِس طرح آدمِیوں کے لِئے ایک بار مَرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے “ (عبرانیوں ۹:۲۷)،پورا ہوتا ہے۔
جب ہم ایک بار اِس دنیا میں پیدا ہوئے تھے،تو ہمیں پہلے ہی اپنے گناہوں کی خاطر سزا برداشت کرنی تھی۔ تاہم، خُدا ہمیں ہمارے خُداوند یِسُوعؔ مسیح کے وسیلہ سے نجات کا تحفہ بخش چکا ہے۔ اپنے دلوں کے مرکز میں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، اِس لئے، ہم خُدا کے بیٹے بننے کے قابل ہو چکے ہیں۔ خُدا اپنی نجات کی غیر مشروط محبت اُن سب کو عنایت کر چکا ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن وہ اُن کی عدالت کرے گا اور سزا دے گا وہ جو اپنی بے اعتقادی کے گناہ کی وجہ سے اِس خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے (یوحنا ۳:۱۶۔۱۸)۔
 
 
ہمیں نجات کے اِن دو حقائق پر ایمان رکھناچاہیے
 
ہم گنہگار تھے جو لعنتی ہونے اور اپنے گناہوں کی وجہ سے موت کے حوالے کیے جانے کے لائق تھے، لیکن آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان  کی نجات پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جس کا خُدا منصوبہ بنا چکا اور ہمیں عنایت کر چکا ہے، ہم اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرچکے ہیں۔ درحقیقت، ہمیں یقیناً خُداکے سامنے اِقرار کرنا چاہیے،  ”مَیں واقعی جہنم جانے کے لائق ہوں،“  اور ہمیں یقیناً یہ بھی اِقرار کرنا چاہیے،  ”لیکن مَیں ایمان رکھتاہوں کہ خُداوند مجھے پانی اور روح کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔“ ہمیں یقیناً پانی، خون اور روح کی خوشخبری پر؛ یعنی، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اورباریک بٹے ہوئے کتان کی سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اپنے دلوں کے مرکز میں اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہی ہم نجات یافتہ ہو ئےہیں۔ یہ خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔
ہم پانی او ر روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔ لوگ خُدا کے اپنے لو گ بن سکتے ہیں صرف جب وہ ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند تمام بنی نوع انسان کو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے بچا چکا ہے جو جہنم جانے کے لائق تھے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟ صرف آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان پر ایمان حقیقی ایمان ہے۔
یہ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے پردہ میں ظاہر کِیا گیا روحانی مطلب ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟ جب لوگ اپنے دلوں میں سچائی پر ایمان رکھتے ہیں، وہ دُرست طورپر حقیقی ایمان کے بارے میں بات کر سکتے ہیں۔ حقیقی ایمان یہ نہیں ہےکہ دل سے ایمان نہ رکھتے ہوئے محض ہونٹوں کے ساتھ سچائی کا اِقرار کِیا جائے، بلکہ یہ کسی کا دل کے مرکز میں سچائی پر ایمان رکھتے ہوئے منہ  سے اپنے ایمان کا اِقرار کرنا ہے۔ آپ میں سے سب کو یقیناً آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے او رباریک بٹے ہوئے کتان کی نجات پر ایمان رکھنا چاہیے جو آپ کو دائمی طورپر بچا چکی ہے۔
ہم خُداکا کافی شکر ادا نہیں کر سکتے کوئی معنی نہیں رکھتا ہم اُس کی کتنی سخت خدمت کرتے ہیں۔ تب کیسے ہم اپنی نجات کے بارے میں بھول سکتے ہیں؟ کیسے ہم بھول سکتے ہیں کہ خُدا وند آپ کو اور مجھے،ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے، جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ جہنم جانے کے لائق تھے؟ کیسے ہم پانی اور روح کی خوشخبری کو بھول سکتے ہیں جب ہر روز ہماری خامیاں ظاہر ہوتی ہیں؟ کیسے ہم اِس خوشخبری کو نظر انداز کر سکتے ہیں جب کہ اِس اصل خوشخبری کے علاوہ نجات یافتہ ہونے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے؟ ہم ہمیشہ شکر گزار ہیں۔ ہم ہمیشہ شادمان ہیں۔ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ ہمیشہ اُس کی تمجید کرتے ہیں۔
وہ لوگ جو اِس حقیقت کو نہیں جانتے وہ کہتے ہیں کہ خُدا نے بنی نوع انسان کو محض کھلونا بنایا ہےاوروہ اُن کاتماشا دیکھ رہا ہے۔ خُدا کے خلاف کھڑے ہو کر، وہ کہتے ہیں کہ، ”خُدا کو بیزارہونا چاہیے۔اُس نے ہمیں اپنے کھلونوں کے طورپر بنایا اور ہمارے ساتھ کھیل رہا ہے۔وہ جانتا ہے کہ ہم گناہ کریں گے، اور پھر بھی وہ محض ہمیں گناہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے، اور اب وہ فرماتا ہے کہ وہ گنہگاروں کو بچا چکا ہے۔ کیا وہ محض  ہمارے ساتھ کھلواڑ نہیں کر رہا؟ وہ ہمیں بناتا ہے، اور تب محض ہمار ے ساتھ اس طرح کھیلتا ہے جس طرح وہ محسوس کرتا ہے۔ تب خُدا نے کیا ہمیں اپنے کھلونوں کے طورپر نہیں بنایا؟“ لوگوں کی بے شمار تعداد اِسی طرح سوچتی ہے۔ وہ یہ کہتے ہوئے خُدا کے خلاف بغض رکھتے ہیں کہ اگر اُس نے واقعی اُن سے محبت رکھی،تو اُسے اُنھیں ناکافی گنہگار بنانے کی بجائے،یقیناً کامل انسانوں کے طورپر پیدا کرنا چاہیے تھا۔ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو خُدا کے دل سے ناواقف رہتے ہیں اور اپنی اِلزام تراشی کی اُنگلیاں اُس پر اُٹھاتے ہیں۔
 
 
ہم خُدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں
 
پودوں اور جانوروں کی مانند، بنی نوع انسان بھی خُدا کی بنائی ہوئی مخلوق ہیں۔ لیکن خُدانے ہم بنی نوع انسان کو پودوں اور جانوروں کی مانند نہیں بنایا۔ حتیٰ  کہ اُس کے ہمیں بنانے سے پہلے، خُدا ہمیں یِسُوعؔ مسیح اپنے بیٹے میں اپنے ذاتی لوگ بنانے کا فیصلہ کر چکا تھا اور ہمیں اپنے جلال میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور اِس مقصد کےلیے خُدا نے ہمیں پیدا کِیا۔ بنی نوع انسان کو پیدا کرنے کا مقصد دوسری مخلوقات کے مقصد سے مختلف تھا۔ تب، یہ کیا مقصد تھا جس کے ساتھ خُدا نے لوگوں کو بنایا؟ یہ اُن کےلیے اُس کی بادشاہی میں ابد تک سارے جلال اور شان و شوکت میں زندہ رہنا تھا،اُن پودوں اور جانوروں کےبرعکس جو محض خُدا کی تمجید کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔خُدا کا بنی نوع انسان کی تخلیق کا مقصد اُنھیں اپنی گنہگار ذات کو جاننے، پہچاننے کے قابل کرنا تھا اور نجات دہندہ پر ایمان رکھنے کے قابل کرنا تھا جو اُنھیں تخلیق کے خُداوند کے طورپر بچا چکا ہے، اور یوں وہ مکمل بن جائیں اور مستقبل میں خُدا کی بادشاہی میں داخل ہوں۔
خُدا نے ہمیں روبوٹ یا کھلونوں کے طور پر نہیں بنایا، بلکہ اُس نے ہمیں بنایا تاکہ ہم خالق کو پہچاننے، نجات دہندہ پر ایمان رکھنے اور پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونے کی بدولت اُس کے بیٹے بن جائیں۔ اِس طرح، اپنی تخلیق کے اِس مقصد کی پیروی کرتے ہوئے، ہم جلال حاصل کریں گے اورشادمان ہوں گے۔ اگرچہ اِس زمین پر ہم خوشخبری کے ساتھ دوسری جانوں کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو قربان کرتے ہیں، خُدا کی بادشاہی میں، ہماری بھی خدمت کی جائے گی۔ آپ کےخیال میں  بنی نوع انسان کے لئے خُداکا بنیادی مقصد کیا تھا؟ یہ بنی نوع انسان کو ابد تک خُدا کی شان و شوکت اور جلال سے لطف اندوزہونے کے قابل کرنا تھا۔ بنی نوع انسان کو پیدا کرنے میں خُداکا مقصد اُنھیں اپنے لوگ بنانا اور اُس کی ذاتی شان و شوکت اور جلال میں اُنھیں حصہ لینے کے قابل کرنا تھا۔
ہم کیوں پیدا ہوئے تھے؟ زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم کہاں سے آئے، اور ہم کس طرف جار ہے ہیں؟ ایسے فلسفیانہ سوالات کا ابھی تک جواب نہیں دیاگیاہے، اور اِس طرح لوگ اب تک اِس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہوئےغم و غصے میں  ہیں۔ اپنے مستقبل کا علم نہ ہونےکی وجہ سے، کچھ لوگ تو نجومیوں اور جادوگروں کی طرف بھی رجوع کرتے  ہیں۔یہ سب بنی نوع انسان کی اصل خُداکوجس نے ہمیں پیدا کِیا پہچاننے اور نجات پر ایمان رکھنے میں ناکامی کے نتائج ہیں جو اُنھیں عطا کی جا چکی ہے۔
تاہم، ہمیں اپنے ذاتی بچے بنانے کے لئے، خُدا نے ہمیں دوسری تمام مخلوقات سے مختلف پیدا کِیا۔ اور وہ ہمیں پانی اور روح کے وسیلہ سے بچا چکا ہے، اُس نے تخلیق سے پیشتر ہی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ ہماری نجات کا منصوبہ بنایا۔ آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہونےوالی نجات کی شریعت کے ساتھ ہمیں بچانے کے وسیلہ سے، خُدا واقعی ہمارے لیے اپنا مقصد پورا کر چکا ہے۔
اِس لئے، ہمیں یقیناً اب جاننا اور یِسُوعؔ مسیح میں ہمیں نئی زندگی دینے کے خُدا کے اِس مقصد پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر ہم اِسے نہیں جانتے،تب زندگی کا بھید ہمیشہ کےلیےحل نہیں ہو پائے  گا۔ ہم اِس دنیا میں کیوں پید اہوئے تھے؟ کیوں ہمیں زندہ رہنا چاہیے؟ کیوں ہمیں کھانا چاہیے؟ کیوں ہمیں قسمت کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنی چاہیے؟ کیسے ہم زندگی اور موت، عمر اور بیماریوں کا مسئلہ حل کر سکتے ہیں؟ کیوں ہمیں اپنے گناہوں کے لئے جہنم میں جانا چاہیے؟ کیوں زندگی اتنی اَلمناک ہے؟ کیوں زندگی اتنی دردناک ہے؟ اس طرح کے تمام سوالات خُدا سے پانی اور خون کی خوشخبری کے وسیلہ سے اپنے جوابات پا سکتے ہیں جو ہمیں یِسُوعؔ مسیح میں بچا چکی ہے۔
خُد انے ہمیں اِس زمین پر پیدا ہونے کی اجازت دی اور ہماری تھکا دینے والی  اور سخت زندگیوں کے درمیان میں ہمیں آسمان کی بادشاہی کی اُمید کے قابل کر دیا، تاکہ وہ آپ کو اور مجھے، ہمارے تمام گناہوں سے بچائے، جو جہنم جانے کے لائق تھے، اور تاکہ ہم ابدی زندگی حاصل کریں۔ جب ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، زندگی کا بھید سب حل ہو جاتا ہے۔
 
 
خُدا آپ کے لئے اور میرے لئے ایک عظیم اور شاندار منصوبہ رکھتا تھا
 
جیساکہ خُدا نے منصوبہ بنایا،اُس نے اپنے بیٹے یِسُوعؔ مسیح کو اِس زمین پر بھیجا، اُسے بپتسمہ دلوانے کے ذریعہ سے اُس کے قیمتی بدن پر ہمارے تمام گناہوں کو منتقل کِیا، سزا دی اور اُسے ہماری خاطر موت کے حوالے کِیا، اور یوں ہمیں بچا چکا ہے، جو اپنے تمام گناہوں، سزا ؤں، اور لعنتوں کے باعث، ابدی تباہی کا سامنا کر رہے تھے۔ اب، ہمیں یقیناً اِس سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے، اور ہمیں خُدا کے بیٹے کی بادشاہی کی خاطر تباہی کی ناقابلِ بچاؤ قسمت سے ہمیں بچانے کے لئے، اور ہمیں ابدی زندگی سے شادمان ہونے کے قابل کرنے کے لئے خُدا کے سامنے اپنی شکر گزاری پیش کرنی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، خُدا کی طرف سے نجات کا سچ پانی اور روح کی خوشخبری ہے، جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ  دھاگے اور باریک  بٹے
ہوئے کتان سے بُنے ہوئے پردہ میں، اور خیمۂ اِجتماع کے دروازو ں پر لٹکے ہوئے پردہ میں ظاہر کی گئی ہے۔
خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستونوں کے پیتل کے خانے ہمیں ہماری بنیادی گنہگارفطرت دکھاتے ہیں، اور یوں ہمیں پانی اور یِسُوعؔ کے خون کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے قابل کرتے ہیں۔ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ کے ستون اور آسمانی،ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنا ہوا کپڑا خُدا کے رحم کو ظاہر کرتا ہے جو ہمیں، جو جہنم جانے کے لائق تھے، یعنی ہماری سزا سے یِسُوعؔ مسیح کی قیمتی قربانی کے وسیلہ سے بچا چکا ہے۔ یوں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، مَیں اپنے تمام گناہوں سے بچ چکا ہوں۔ کیا آپ بھی اِسی طرح ایمان رکھتے ہیں؟
کیا آپ خیمۂ اِجتماع میں ظاہر کیے گئے سچ پر ایمان رکھتے ہیں؟ آپ اور مَیں سب خوش قسمت ہیں۔ یہ واقعی عظیم برکت ہے، کیونکہ حتیٰ کہ بہت سارے لوگ موجود ہیں جو سیدھے جہنم کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہم سچائی پا چکے ہیں اور اب یِسُوعؔ مسیح میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم واقعی اِس دُنیا میں حقیر اور بے وقعت تھے، جہاں، اِس میں پیدا ہو کر، ہم بچ نہیں سکتے بلکہ صرف گناہ کرتے ہیں اور جہنم جانے کے لائق ہیں، اور بزدل زندگیاں گزارنے اور جہنم میں پھینکے جانے کے لائق ہیں۔ لیکن حتیٰ کہ اِس طرح، ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یوں ابد تک ہمیں ہمارے گناہوں سے بچا چکا ہے۔ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ حقیقت پر حیران ہوتے ہیں کہ نہ صرف ہمیں اب مزید جہنم کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھنا ہے، بلکہ ہم لازوال، مفید، او رراست کام کرنے کے قابل بھی ہو چکے ہیں۔
وہ جو پاک مقام میں داخل ہو سکتے ہیں وہ لو گ ہیں جو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارے خُداوند نے نہ صرف ہمارے ماضی کے گناہوں کو مٹایا، بلکہ بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے، اُس نے ہماری پوری زندگی کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اور صلیب پر مرنے کے وسیلہ سے، وہ ابد تک ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ اِس لئے، صرف وہ جو بالکل ایک ہی بار پوری ہوئی ایسی نجات پر ایمان رکھتے ہیں وہ لوگ ہیں جو کاہنوں کا ایمان رکھتے ہیں، اور صرف ایسے لوگ ہی پاک مقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔
سختی سے بولتے ہوئے، خیمۂ اِجتماع کے نظام کے مطابق، عام کاہن پاک ترین مقام میں داخل نہیں ہو سکتے تھے، بلکہ صرف سردار کاہن ہی داخل ہو سکتا تھا۔ اور ابدی سردار کاہن،یِسُوعؔ مسیح کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔ صرف وہی جو ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح یوں ہمیں بچا چکا ہے، خُدا کے گھر  میں،
حتیٰ کہ یِسُوعؔ مسیح کے ساتھ پاک ترین مقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اور جب اِن کی مُعافی ہو گئی ہے تو پِھر گُناہ کی قُربانی نہیں رہی۔پس اَے بھائِیو! چُونکہ ہمیں یِسُوع کے خُون کے سبب سے اُس نئی اور زِندہ راہ سے پاک مکان میں داخِل ہونے کی دِلیری ہے۔جو اُس نے پردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہو کر ہمارے واسطے مخصُوص کی ہے۔اور چُونکہ ہمارا اَیسا بڑا کاہِن ہے جو خُدا کے گھر کا مُختار ہے۔تو آؤ ہم سچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چِھینٹے لے کر اور بدن کو صاف پانی سے دُھلوا کر خُدا کے پاس چلیں “  (عبرانیو ں ۱۰:۱۸۔۲۲)۔وہ جو اپنے آپ کو بدکار کے طورپر پہچانتے ہیں جو جہنم کے لئے مقرر ہیں اور  صاف پانی سے(یِسُوعؔ کے بپتسمہ)  اور یِسُوعؔ کے خون کے ساتھ دُھلنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں کی معافی حاصل کرتے ہیں خُدا کی بادشاہی میں اُس کے ساتھ ابد تک زندہ رہنے کے لئے داخل ہو سکتے ہیں۔
ایسا اِس وجہ سے نہیں ہے کیونکہ ہم روزانہ اپنے گناہوں سے توبہ کر چکے ہیں کہ ہمارے گناہ دُھل چکے ہیں، بلکہ اِس وجہ سے ہے کہ خُداوند اِس زمین پر آیا، ہمارے دنیا کے گناہوں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے بپتسمہ لینے کی بدولت اُٹھا لیا، صلیب پر لعنتی ٹھہرا یعنی وہ ابد تک ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔
کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راستبازی پوری کرنا مناسب ہے۔“  یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا اور بنی نوع انسان کے گناہوں کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے اُٹھا لیا، دنیا کے گناہوں کو صلیب پر لے گیا اور اِس پر مرگیا، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھ کر اور یوں ہمیں ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے بچا چکا ہے۔ صرف وہی جو اپنے دل کے مرکز میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں پاک مقام میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ہم اپنے گناہوں کی معافی ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل کرتے ہیں کہ ہمارا خُدا وند ہمیں ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے بچا چکا ہے، اور یعنی اُس نے ہماری پوری عمر بھر کے اور پوری کائنات کے کل گناہوں کی فکر کی۔
کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا؟ اور کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ اُس نے دنیا کے گناہوں کو اپنےکندھوں پر اُٹھایا، صلیب پر مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ایک ہی بار ہمارا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے؟ اپنی ۳۳ سال کی  زندگی میں، ہمارا خُداوند ہمیشہ کے لیے اِس دنیا کے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ وہ اُن سب کو غائب کر چکا ہے، حتیٰ کہ ایک واحد دھبے کوبھی باقی نہیں چھوڑا۔ مَیں اِس پر اپنے دل کے مرکز میں ایمان رکھتا ہوں۔ مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ جب اُس نے بپتسمہ لیا، اُس نے ایک ہی بار ہمیشہ کے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، یہ کہ اُس نے صلیب پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے میرے تمام گناہوں کی سزا برداشت کی، اور یہ کہ  وہ مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے اور ابد تک زندہ رہنے سے میرا کامل نجات دہندہ بن چکا ہے۔ یہ اِس ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ مَیں اپنے سارے گناہوں سے نجات یافتہ ہوچکا ہوں۔
اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم سب آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتے ہیں، اور جب ہم اِس زمین پر رہ رہے ہیں، ہمیں یقیناً اِس ایمان پر ہر روز غور کرنا چاہیے۔کیوں؟ کیونکہ خُداوند نے حتیٰ کہ اُن گناہوں کو اُٹھا لیا جو ہمیں ابھی سرزد کرنے ہیں۔ لیکن جب بھی  ہم گناہ کرتے ہیں ہمیں یقیناً اِقرار کرنا چاہیے۔ اور ہمیں یقیناً اپنے دل کے مرکز میں ایمان رکھنا چاہیے کہ خُدا وند نے اُن گناہوں کو بھی  اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُٹھا لیا۔ہمیں یقیناً ایک بار پھر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے پہچاننا چاہیے کہ خُداوند نے دنیاکے گناہوں کی فکر کی۔ کیوں؟ کیونکہ اگر ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر بار بار غوروفکر نہیں کرتے ہیں،تو ہمارے دل ناپاک ہو جائیں       گے۔کیونکہ خُداوند نے اُن گناہوں کوبھی اُٹھا لیا جو ہم ابھی تک نہیں کر چکے ہیں، جب بھی ہماری کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں، ہمیں یقیناً اُس کی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی خدمات میں اپنے ایمان کے ساتھ اُس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
ہم سب کو یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ خُداوند اِس زمین پر آیا اور ایک ہی بار ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے، ہمارے تمام گناہ یِسُوعؔ مسیح پر منتقل ہو گئے تھے، کیونکہ اُس نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دنیا کے تمام گناہوں کو قبول کِیا۔ جیساکہ یِسُوعؔ مسیح ہمیں بپتسمہ لینے اور صلیب پر مرنے کی بدولت ابدی نجات عنایت کر چکا ہے، ہمیں یقیناً مضبوطی سے اور دلیری سے اِس سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے۔ ہمارا خُداوند یِسُوعؔ فرماتا ہے کہ ہم اُس کے بپتسمہ پر جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اپنے مضبوط عقیدہ کے ساتھ خُدا کی بادشاہت حاصل کر سکتے ہیں۔ یِسُوعؔ نے فرمایا،  ” اور یُوحنّا بپتِسمہ دینے والے کے دِنوں سے اب تک آسمان کی بادشاہی پر زور ہوتا رہا ہے اور زورآور اُسے چِھین لیتے ہیں۔‘‘ (متی ۱۱:۱۲)۔ یہ اِس ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اپنے بدنوں، خیالوں، ذہنوں، اور جسم کے عیبوں کے تمام گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں۔یہ ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ ہمارے خُداوند نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اِن تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور گناہوں کی ساری سزا برداشت کی، ہمیں یقیناً خُدا کی بادشاہی لینے کے لئے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونا چاہیے۔
کوئی معنی نہیں رکھتا کتنے ناکافی آپ ہو سکتے ہیں، اگر آپ یہ ایمان رکھتے ہیں، تو آپ ایمان کے لوگ ہیں۔ گو آپ ناکافی ہیں، خُداوند آپ کو مکمل طورپر بچا چکا ہے، اور اِس لئے آپ کو یقیناً اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ جس طرح ہمارا خُداوند ابد تک زندہ رہتا ہے، اُسی طرح ہماری نجات ابد تک کامل ہے۔ سب جو ہم کرتے ہیں محض اپنی نجات پر ایمان رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ مسیح ہمیں عطا کر چکا ہے۔ یہ درست ہے! ہم اپنے دلوں میں اُس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔
کیونکہ خُداوند ہمارا کامل نجات دہندہ ہے، وہ ہمارے گناہوں کے سارے مسائل حل کر چکا ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لیا، صلیب پر اپنا خون بہایا، ایک بار مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یوں ہمیں ابدی نجات عطا کر چکا ہے؟ کتنی شاندار یہ نجات ہے؟ اگرچہ ہم اپنے اعمال میں ناکافی ہیں، ہم پھر بھی اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا کی بادشاہی میں د اخل ہو سکتے ہیں۔ یہ ایمان ہی کے وسیلہ سے ہے کہ ہم خُد اکی بادشاہی میں د اخل ہونے کے قابل ہوں گے اور شاندار جاہ و جلال اور خُد اکی شان و شوکت سے لطف اندوز ہوں گے۔ وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن سے لطف اندوز ہونے کے اہل ہیں۔ لیکن اِس ایمان کے بغیر، کوئی شخص حتیٰ کہ خُدا کی بادشاہت میں قدم بھی نہیں رکھ سکتا۔
وہ سچائی جو ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے بچا چکی ہے خُدا کی معرفت یِسُوعؔ مسیح میں حتیٰ کہ تخلیق سے پہلے ترتیب پا چکی تھی۔ جس طرح خُدانے ہمیں بچانے کا ارادہ کِیا، وہ اِس دنیا میں آیا، بپتسمہ لیا، اور ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر دنیا کے گناہوں کو لے گیا اور ایک ہی بار لعنتی ٹھہرا، ایک ہی بار مرگیا، ایک ہی بار مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمیں ابدی نجات عنایت کر چکا ہے۔ یہ اُس کی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اورباریک بٹے ہوئے کتان کی خدمات سے بنی ہوئی ہماری نجات ہے، اور ہمیں یقیناً اِس نجات پر ایمان رکھنا چاہیے۔ صرف تب ہم ایمان کے وسیلہ سے مکمل طورپر خُدا کے لوگ بنتے ہیں۔ صرف تب ہی ہم ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے کارکن بنتے ہیں۔ ہم خُدا کی کامل بادشاہت میں داخل ہوں گے اور ابد تک زندہ رہیں گے۔
کامل خُدا ہمیں مکمل طورپر بچا چکا ہے، لیکن ہم اب بھی ہرروز ناکافی ہیں، کیونکہ ہمارا جسم ناکافی ہے۔ لیکن یہ کیسے ہے؟ جب خُداوند نے مکمل طور پر بپتسمہ لیا، کیا اُس نے حقیقتاً ہمارے گناہوں کو اُٹھالیا تھا یا نہیں؟ بے شک اُس نے اُٹھا لیاتھا! کیونکہ ہمارے خُداوند نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، ہم پہچانتے ہیں کہ ہمارے سب گناہ واقعی اُس کے بپتسمہ کے ساتھ اُس پر منتقل ہو گئے تھے۔ کیا آپ پہچانتے ہیں کہ آپ کے گناہ واقعی یِسُوعؔ پر منتقل ہوئے تھے؟ یوں کرنے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ ہمارے گناہوں کو اور دنیا کے گناہوں کو صلیب پر لے گیا، مصلوب ہوا، اور یوں مکمل طورپر خُدا کی نجات کا منصوبہ پورا کِیا۔ اگرچہ ہم ناکافی ہیں، ہم ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا کی بادشاہت میں داخل ہو سکتے ہیں۔کس چیز  پر ایمان رکھنے سے؟ ہم خُدا کی بادشاہت میں اُس کی آسمانی، ارغوانی، اور سُر خ دھاگے اورباریک بٹے ہوئے کتان کی خدمات پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے داخل ہو سکتے ہیں۔
گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد، یہ ناکافی لوگ ہیں جو اچھا ایمان رکھتے ہیں اور کلیسیا میں اچھا کام کر رہے ہیں۔ خُداکی کلیسیاایسی جگہ نہیں ہے جہاں زور آور حکومت کرتے ہیں، بلکہ یہ ایسی جگہ ہے جہاں ناکافی لوگ ایمان کے وسیلہ سے حکومت کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ خُدا کی کلیسیا میں، ہم ابھی بھی ایمان کے وسیلہ سے خُداوند کی پیروی کر سکتے ہیں جب ہم جانتے ہیں کہ ہم ناکافی ہیں۔ یہ زخموں کو ٹھیک کرنے اور شفا دینے کی جگہ ہے۔ جس طرح آسمان ایک ایسی جگہ ہے جہاں دودھ پیتا بچہ  ”افعی کے بِل میں ہاتھ“ (یسعیاہ ۱۱:۸) ڈال سکتا ہے اوراِسے کاٹا نہیں جائے گا، اِس زمین پر فردوس خُدا کی کلیسیا کے علاوہ کوئی دوسری نہیں ہے۔ یہ خُدا کی کلیسیا کا حیرت انگیز بھید ہے۔
ایمان ہی سے ہم خُدا کی بادشاہت میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ مضبوط ایمان کا زور ہے جو آسمان کی بادشاہت لے لیتا ہے۔ کیا آپ اپنے دل میں اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں؟مَیں، بھی، ایمان رکھتا ہوں، اور اِسی لیے  مَیں اپنی شکر گزاری خُد اکے سامنے پیش کرتاہوں۔
اور یہ اِس لیے ہے کہ مَیں خُداکا شکرگزارہوں کہ مَیں اِس خوشخبری کی خدمت کر رہا ہوں۔ مَیں اِس سچائی کے لئے جیتاہوں اور خوشخبری کی خدمت کرتاہوں، کیونکہ اب بھی بہت سارے لوگ ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی سچائی کو نہیں جانتے۔ لیکن ابھی، اِس سوال کو ایک طرف رکھتے ہوئے چاہےدوسرے اِس خوشخبری کی خدمت کرتے ہیں یا نہیں، آپ کو پہلے خود اِس پر ایمان لانے کی  ضرورت ہے ۔
مَیں اُمید کرتا اور دُعا مانگتاہوں کہ آپ سب اِس سچائی پر ایمان رکھیں گے کہ یِسُوعؔ آپ کو آپ کے گناہوں سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے بچا چکا ہے، اور یوں اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہوں گے۔  *