خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-13] <خروج ۲۶:۳۱۔۳۳> وہ جو پاک ترین مقام میں داخل ہوسکتے ہیں

> خروج ۲۶:۳۱۔۳۳  <
اور تُو آسمانی۔ ارغوانی اور سُرخ رنگ کے کپڑوں اور بارِیک بٹے ہُوئے کتان کا ایک پردہ بنانا اور اُس میں کِسی ماہر اُستاد سے کرُّوبیوں کی صُورت کڑھوانا۔اور اُسے سونے سے منڈھے ہُوئے کِیکر کے چار سُتُونوں پر لٹکانا۔ اِن کے کُنڈے سونے کے ہوں اور چاندی کے چار خانوں پر کھڑے کِئے جائیں۔اور پردہ کو گُھنڈیوں کے نِیچے لٹکانا اور شہادت کے صندُوق کو وہیں پردہ کے اندر لے جانا اور یہ پردہ تُمہارے لِئے پاک مقام کو پاکترین مقام سے الگ کرے گا۔ 
 
 
خیمۂ اِجتماع کا سامان
 
 خیمۂ اِجتماع چار قِسم کے غلافوں کے ساتھ ڈھکا ہوا ایک چھوٹا سا تہہ ہونے والا گھر تھا۔ یہ مختلف اشیا سے بنا ہوا تھا— مثال کے طورپر، اِس کی دیوار کیکر کی لکڑی کے ۴۸تختوں سے بنی ہوئی تھی۔ ہر تختے کی اونچائی۵.۴  میٹر (۱۰ ہاتھ:۱۵ فٹ) تھی، اور چوڑائی۵.۶۷ سینٹی میٹر (۵.۱ ہاتھ: ۲.۲فٹ) تھی۔ تمام تختے سونے کے ساتھ منڈھے ہوئے تھے۔
خیمۂ اِجتماع کے غلاف مندرجہ ذیل اشیا سے بنے ہوئے تھے؛ پہلا غلاف آسما نی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے پردوں کا تھا؛ دوسرا غلاف بکریوں کی پشم سے بنا ہوا تھا؛ تیسراغلاف مینڈھوں کی سُرخ رنگی ہوئی کھال سے بنا ہوا تھا، اور چوتھا غلاف تُخس کی کھال سے بنا ہوا تھا۔
جس طرح ہم پہلے ہی معائنہ کر چکے ہیں، خیمۂ اِجتماع  کے تمام  دروازے  آسمانی،  ارغوانی،  اور
سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے تھے۔
پاک ترین مقام کے پردےکے دروازےکے لئے استعمال ہونےوالے چار دھاگوں کے  رنگ یِسُوعؔ مسیح کے کاموں کو ظاہرکرتے ہیں جو لوگوں کو گناہ سے بچا چکےہیں۔ چونکہ یہ چار رنگ سچائی کا نُور ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح ہمیں گناہ کی معافی کا تحفہ عطا کرے گا، یہ ایسی اشیا ہیں جن کے لئے ایماندار سراپا شکر گزار اور ممنون ہیں۔
 
 
پاک مقام اور پاک ترین مقام کے دروازوں کا سامان
 
پاک مقام اور پاک ترین مقام کے دروازوں کا سامان آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنے ہوئے کپڑے تھے۔ خیمۂ اِجتماع کے سارے دروازے اِن کپڑوں سے بنے ہوئے تھے۔خیمۂ اِجتماع کے دروازہ میں سے گزرنے کے بعد کوئی شخص پاک ترین مقام کےپردے کےدروازےپر پہنچے گا جو پاک مقام میں سے گزرتا تھا۔ پاک ترین مقام کا دروازہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خُداوند ہمارے گناہوں کو آسمانی، ارغوانی اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی اپنی چا ر خدمات کے ساتھ مٹا چکا ہے۔
پاک مقام اور پاک ترین مقام کے لئے استعمال ہوئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے کپڑے ظاہر کرنے والے عکس ہیں کہ مسیحا اِس زمین پر آئے گا، بپتسمہ لے گا، اپنا خون بہائے گا، اور وہ نجات کا کام مکمل کرے گا۔ اِن میں سے آسمانی دھاگہ وہ عکس ہے جو بپتسمہ کو ظاہر کرتا ہے جو یِسُوعؔ حاصل کرے گا، اور سُرخ دھاگہ قربانی کا عکس ہے جو وہ دنیا کے گناہوں کی خاطر جو اُ س نے اُٹھا لئے تھے  پیش کرے گا۔ ہمارے گناہوں کو دھونے کے لئے، ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لیا اور گناہ کی لعنت کو برداشت  کِیا۔ پاک ترین مقام کے پردہ دار دروازے سےیہی مراد  ہے۔
 
  
خیمۂ اِجتماع کا فرش
                    
خیمۂ اِجتماع صاف ریت، زمین پر بنایا گیا تھا۔ یہاں زمین سےمرادلوگوں کے دل ہیں۔خیمۂ اِجتماع کا فرش ریت اور زمین سے بنا ہوا تھا ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ اِس زمین پر ایک انسان کے بدن میں ہمارے دلوں کے گناہوں کو مٹانے کے لئے آیا تھا۔ چونکہ یِسُوعؔ نےبنی نوع انسان کی تمام کمزوریوں کا تجربہ کِیا، اُس نے بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے حاصل کِیا اور قیمتی خون کے ساتھ جو اُس نے صلیب پر بہایااُن کے سارے گناہوں کو دھو دیا۔ ہمارا خُداوند اِس زمین پر اِس دنیا میں سچائی کا نُور چمکانے کے لئے اور بنی نوع انسان کے بنیادی گناہ کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے آیا۔ یِسُوعؔ تخلیق کا خُدا ہے جس نے تمام کائنات اور اُس میں تمام اشیا کو پیدا کِیا، اور وہ نجات کا نُور ہے جو اِس زمین پر بنی نوع انسان کو اُن کی تمام لعنتوں اور گناہوں سے چھڑانے کے لئے آیا۔
 
 
پاکترین مقام کے ستون
 
پاکترین مقام کے ستون کیکر کی لکڑی کے چا ر ستونوں سے بنے ہوئے تھے۔ کلامِ مقدس میں، عدد چار کا مطلب دُکھ ہے۔ پاکترین مقام کے ستون ہم پر ظاہر کرتے ہیں کہ لوگ نجات نہیں پا سکتے جب تک وہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کیے گئے نجات کے چمکنے والے نُور پر ایما ن نہیں رکھتے۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہم اُس کے دُکھوں کے وسیلہ سے بذاتِ خود خُدا کی معرفت پوری ہوئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی بدولت نجات کے چمکدار نُور کو دریافت کر سکتے ہیں۔
جو کوئی پاکترین مقام میں داخل ہونا اور خُداکی حضوری کے سامنے کھڑا ہونا چاہتا ہے اُسے یقیناً پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری، یعنی نجات کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے جو خُدا تیار کر چکا ہے۔ لیکن وہ جو خُدا کی معرفت مقرر کی گئی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے بغیر خُدا کے پاس آتے ہیں وہ اُس کے شدیدقہر کا سامنا کریں  گے۔ اُن کو جو خُدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں یقیناًایساایمان رکھنا چاہیے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ رنگ کے دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی تابندہ سچائی پر ایمان رکھتا ہے۔ سچائی کے تابندہ نُور کے وسیلہ سے، ہم میں سے سب کو یقیناً پاکترین مقام میں آنا چاہیے جہاں خُدا سکونت کرتا ہے۔
پرانے عہد نامہ میں ظاہر کی گئی گناہ کی معافی کی خوشخبری آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی نجات کی سچائی ہے۔ نئے عہد نامہ میں ظاہر کی گئی گناہ کی معافی کی اصل خوشخبری بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا، صلیبی خون، اور اُس کے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے پوری ہوئی تھی۔ ہم پاکترین مقام میں داخل ہو سکتے ہیں صرف جب ہم وہ ایمان رکھتے ہیں جو اِس پاکترین خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے۔
 
 
ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر
کی گئی اپنی نجات پر ایمان رکھنا چاہیے
 
عبرانیوں ۱۱:۶ بیان کرتا ہے،   ” اور بغَیر اِیمان کے اُس کو پسند آنا نامُمکِن ہے۔ اِس لِئے کہ خُدا کے پاس آنے والے کو اِیمان لانا چاہئے کہ وہ مَوجُود ہے اور اپنے طالِبوں کو بدلہ دیتا ہے۔“  خُدا ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور ہمیں ابدی زندگی دینے کے لئے، وہ ہمیں یِسُوعؔ مسیح پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے گناہوں کی معافی حاصل کرنے کی برکت دے چکا ہے جو اِس زمین پر ایک انسان کے بدن میں آیا، بپتسمہ لیا، مصلوب ہوا، مرگیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارا نجات دہندہ بن چکا ہے۔ ہمارے گناہوں کی خاطر اپنی بے رحم عدالت کے ساتھ، ہماری پرانےنفس کے تمام گناہوں کو دھونے، اور ہماری جانوں کو ایمان دینے کے وسیلہ سے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے، خُداوند ہمیں اپنی کاملیت کی پاکیزگی سے مُلبس کر چکا ہے۔
ہمیں نئی زندگی سے ملبو س کرنے کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند ہمیں خُداکے سامنے جانے اور اُس سے دُعا مانگنے کے قابل کر چکا ہے۔ مزید برآں، وہ ہمیں خُدا کی حضوری میں کھڑے ہونے اور اُسے اپنا باپ کہنے کے قابل کرنے کا فضل بھی عطا کر چکا ہے۔ یہ تمام چیزیں خُدا کی بخششیں ہیں جو نجات کے وسیلہ سے مل چکی ہیں جو وہ ہمیں عنایت کرچکا ہے۔ ہمارے پاس آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ  دھاگے  کی سچائی  کی
بدولت یہ نجات لانے کی معرفت، خُدا ہمیں ایمان رکھنے کے قابل کر چکا ہے جو ہمیں نجات یافتہ ہونے اوراُس کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل کرتا ہے۔
اگر آپ اور مَیں کل مرجائیں،تو کیا ہم پُراعتماد ہیں کہ ہم سب آسمان پر جائیں گے؟ آئیں ہم ایک لمحے کے لئے یہاں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔ جب لوگ مرتے ہیں،تو وہ سب خُدا کے عدالت کے تخت کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اِس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں یقیناً اپنے تمام گناہوں کا مسئلہ حل کرنا چاہیے جو ہم نے اِس زمین پر کیےہیں—پھر، ہم اِس مسئلے کوکیسے حل کر سکتے ہیں؟ اگر ہم محض اندھا دُھند یِسُوعؔ پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھتے ہیں،تو کیا اِس کا مطلب  یہ نہیں ہے کہ ہم محض ایک مذہب پر ایمان رکھتے ہیں؟
میری زندگی میں ایک وقت تھا جب مَیں پانی اور روح کی خوشخبری سے ناواقف تھا اور اپنے گناہوں کے مسئلہ کو صر ف صلیبی خون پر اندھا دُھند ایمان رکھنے کی بدولت حل کرنے کی کوشش کرتاتھا۔ اُس وقت، میں بِلا سوچے سمجھے ایمان رکھتا تھا کہ یِسُوعؔ مصلوب ہوا اور میرے جیسے لوگوں کے لئے مرگیا، اور اُس نے گناہ کے تمام مسائل کو حل کر دیاتھا۔ لیکن اِس ایمان کے ساتھ، میں روزمرّہ کے گناہوں کا مسئلہ حل نہ کر سکا جو مَیں کرتا   تھا۔ اِس سے کہیں دُور، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی نجات پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے میری روح مکمل طورپر نئے سِرے سے پیدا ہوئی تھی۔
کیا ہمارے تمام گناہ واقعی دُھل جاتے ہیں جب ہم یِسُوعؔ پر نجات دہندہ کے طورپر اندھا دُھند ایمان رکھتے ہیں؟وہ ایمان جو ہمیں پاک خُدا کے حضورجانے کے قابل کرتا ہےوہ اُس پر اندھا دُھند ایمان رکھنے کی معرفت نہیں ملتا، بلکہ یہ سچائی کوجاننے اوراِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ملتا ہے۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کتنی شدت سے ہم یِسُوعؔ پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھ سکتے ہیں، اگر ہم سچی خوشخبری کو نہیں جانتے جو گنہگاروں کو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے ساتھ بچا چکی ہے، تب ہم محض قدوس خُدا سے  نہیں مل سکتے۔یہ تب ہی ہے جب ہم وہ ایمان رکھتے ہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے کہ ہم قدوس خُدا سے مل سکتے ہیں۔ایمان کےکون سے مواد،پھر،سچائی کو تشکیل دیتے ہیں جو ہمیں نجات یافتہ کے طورپر خُدا کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل کرتی ہیں؟ وہ کون سی خوشخبری ہے جو ہمیں ایسا ایمان رکھنے کے قابل بناتی ہے؟ یہ خوشخبری پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری ہے۔
 ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت دنیا کے گناہوں کو  اُٹھا  لیا،  مصلوب
ہوا، اپنا خون بہایا، تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہم میں سے جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لئے اپنی کامل نجات کوپورا کِیا ۔ اگر ہماری جانیں گناہ سے پاک ہونے کی خواہش رکھتی ہیں، ایسا ممکن ہوتا ہے جب ہم بپتسمہ پر جو یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل کِیا(متی ۳:۱۵) اور صلیبی خون (یوحنا۱۹:۳۰) پر ایمان رکھتے ہیں کہ ہم سچائی کی تابندہ سلطنت میں داخل ہو سکتے ہیں۔ جب تک ہم یِسُوعؔ مسیح پر ایمان نہیں رکھتے جو ہمارے نجات دہندہ کے طورپر پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری کی صورت میں آ چکا ہے، ہم کبھی ایسے دل نہیں رکھ سکتے جو اتنے صاف ہیں جتنی کہ سفید برف صاف ہوتی ہے۔
بعض اوقات، اپنے بدن کی کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے، ہم اُن پرماتم کرتے ہیں۔ لیکن اِس کےباوجود، پانی اور روح کی خوشخبری کی وجہ سے، ہم اب بھی خُدا کو اپنی شکر گزاری پیش کرنے کے لئے آتے ہیں، کیونکہ خُداوند اپنے بپتسمہ اور خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ آپ اور مَیں کبھی بھی کسی اَور طریقے سے مقدس نہیں ہو سکتےتھے، مگر پانی اور روح کی خوشخبر ی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم مقدس بن چکے   ہیں۔ ہمارا خُداوند مکمل طورپر ہمیں گناہ سے بچا چکا ہے۔ آسمانی، اور سُرخ دھاگے کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم سچائی کے شاندار نُور کو دریافت کر سکتے ہیں جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری کے ساتھ، خُداوند ہمیں مضبوط اور مقدس بنا چکا ہے۔
متی ۱۹:۲۴میں، ہمارے خُداوند نے فرمایا،  ” اُونٹ کا سُوئی کے ناکے میں سے نِکل جانا اِس سے آسان ہے کہ دَولت مند خُدا کی بادشاہی میں داخِل ہو۔“ وہ لوگ جو روح میں دولت مند ہیں نجات یافتہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ ایمان نہیں رکھتے کہ وہ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔ صرف وہ جو واقعی روح میں غریب ہیں آسمان پر داخل ہونے کی خواہش رکھتے ہیں، خُدا سے مدد مانگتے ہیں، اپنی ذاتی راستبازی کو پھینکتے ہیں اور اِس کی بجائے سوفیصد خُدا کی راستبازی پر ایمان رکھتے ہیں پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ابدی زندگی حاصل کر سکتے ہیں۔ پانی اور روح کی خوشخبری نجات کا تابندہ نُور چمکا چکی ہے تاکہ ہم پاکترین خُدا سے ملنے کے قابل ہو سکیں۔ہم اپنی ذات پرانحصار کرکے، کبھی مقدس نہیں بن سکتے، لیکن جب ہم خُداوند کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں،تو ہم واقعی مقدس بن سکتے ہیں اور سچائی کی تابندہ سلطنت میں آ سکتے ہیں۔
 
 
ہمیں مذہبی اور نظریاتی عقیدے کو ترک کرنا چاہیے
 
یوحنا ۳:۳ میں، یِسُوعؔ نے بذاتِ خود فرمایا،  ” جب تک کوئی نئے سِرے سے پَیدا نہ ہو وہ خُدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔‘‘ اِس پر نیکُدیمس ؔ نے جواب میں پوچھا،  ” آدمی جب بُوڑھا ہو گیا تو کیوں کر پَیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخِل ہو کر پَیدا ہو سکتا ہے؟“ (یوحنا ۳:۴)۔
اُن کے لئے جو نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں، محض ایمان کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہونا ناممکن لگتا ہے۔ کبھی کبھی، اُس کے شاگردبھی اُس کے کلام کو نہیں سمجھتے تھے اور یہاں تک  کہ اِس پر شک کرتے تھے۔ یوں، ایک بار خُداوند نے اپنے شاگردوں سے فرمایا،  ” یہ آدمِیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خُدا سے سب کُچھ ہو سکتا ہے “ (متی ۱۹:۲۶)۔  بلاشبہ، اپنے مذہبی ایمان کے ساتھ خُدا کی بادشاہت میں داخل ہونا بنی نوع انسان کے لئے ناممکن ہے، لیکن اُن کے لئے پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے بادشاہت میں داخل ہونا ممکن ہے۔ اگرچہ ہم بذاتِ خود مقدس نہیں بن سکتے، وہ جو ایمان رکھتے ہیں کہ خُداوند اِس زمین پر آیا، اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے بدن پر دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، مصلوب ہوا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں نجات کا تابندہ نُور چمکا چکا ہے جو ابد تک ہمارے سب گناہوں کو مٹا چکا ہے — خُدا اُنھیں اپنی بادشاہت میں داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے۔
 خیمۂ اِجتماع کے سامان کے طورپر استعمال ہوئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہرہونے والی سچائی گہرےطورپر پانی اور روح کی خوشخبری سے تعلق رکھتی ہے جسے یِسُوعؔ نے نئے عہد نامہ میں پورا کِیا۔ دوسرے لفظوں میں، پانی اور روح کی خوشخبری، وہی سچائی ہے جیسی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہوتی ہے۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ اُس کی اصل نجات کے عکس ہیں، اور پانی اور روح کی خوشخبری اِس عکس کا حقیقی جوہر ہے۔
اِس لیے ہم پانی اور روح کی خوشخبری کے ذریعے نجات کی تابندہ سچائی دریافت کر سکتے ہیں اور اِس میں قیام کر سکتے ہیں۔ پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری میں سلامتی ہے، یہ دودھ پیتے بچے کے کھیلنے، آرام کرنے، اور سلامتی سے ماں کی بانہوں میں سونے کی مانند ہے۔ یہ خوشخبری میں پاکترین نُور کو دریافت کرنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم پاکترین خُدا سے ملنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ یہ پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم نجات پا سکتے ہیں جو خُدا ہمیں عطا کر چکا ہے۔ یہ صرف وہ لوگ ہیں جو خُدا کی معرفت بخشی گئی اِس نجات پر ایمان رکھتے ہیں جو ابدی آرام پا سکتے ہیں۔
مختصر، یہ کہ پانی اور روح کی پاکترین خوشخبری پر ایمان رکھنا ہی واحد ایمان ہے جو ہمیں پاکترین مقام میں داخل ہونے کے قابل بناتا ہے۔وہ ایمان جو پانی اور روح کی اِس تابندہ خوشخبری پر یقین رکھتا ہے ہمیں گناہ کی معافی کو اپنی کے طورپر لینے کے قابل بناتا ہے۔ ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، اور خوشخبری کی سچائی کے ساتھ اپنے بپتسمہ اور صلیب کے وسیلہ سے ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو مٹا چکا ہے۔ وہ اب وعدہ پورا کر چکا ہے جو وہ ہم سے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ کر چکا تھا۔ صرف وہ جو اپنے نجات دہندہ کے طورپر یِسُوعؔ پر اور پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں ابدی زندگی حاصل کر سکتے ہیں اور آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔
اگر پانی اور روح کی اِس سچی خوشخبری کی ۳۰  سال پہلے سےمنادی ہوچکی ہوتی،تو یہ واقعی پوری دُنیا میں پھیل چکی ہوتی۔ لیکن آخری وقت میں اِس سچائی کوپھیلانا، خُد اکی دُور اندیشی ہے۔ ہمارے خُداوند نے مُکاشفہ میں فرمایا کہ بے شمار لوگ آخری دَور میں اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہوں گے۔ وہ یہ بھی فرما چکا ہے کہ بہت سارے شہید ہوں گے، اور یہ کہ  ایذار سانیوں کے دَور کے دوران ہزاروں لوگ، خُداوند پر بھروسہ کرنے اور اپنی شہادت کو قبول کرنے کے وسیلہ سے اپنے ایمان کو ثابت کریں گے۔ دوسرے لفظوں میں، ہمارا خُداوند بہت ساری جانوں کی فصل کاٹنے کے وقت کے طورپر آخری دَور پر مُرتکز ہو چکا ہے۔ خُدا کا منصوبہ صرف اُن لوگوں کے لئے ہے جوسچائی کی اِس خوشخبری پر واقعی ایمان رکھتے ہیں تاکہ تمام گناہوں سے نجات کی بخشش حاصل کریں۔
اِس کی وجہ یہ ہے کہ آپ اب اِس دَور میں پانی اور روح کی خوشخبری سننے کے لئے کافی خوش قسمت ہیں کہ آپ اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے کے قابل ہو چکے ہیں۔ مَیں خُداکا ہمیں پانی اور روح کی یہ خوشخبری دینے کے لئے واقعی شکر گزار ہوں۔ اگر ہم نے پانی اور روح کی خوشخبری نہ سنی ہوتی تو ہم سب کے ساتھ کیا واقع ہو چکا ہوتا ؟ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اب بھی ہر کوئی پانی اور روح کی خوشخبری کو قبول نہیں کرتا ہے۔ یہ سچائی ایسی نہیں ہے جو محض ہر کسی کے دل میں اُتر سکتی ہے۔
درحقیقت ، ہم دیکھتے ہیں اگرچہ اِس دنیا میں بہت سے مسیحی ہیں، لیکن اُن میں سے بہت سارے پانی اور روح کی خوشخبری کو نہ توجانتے ہیں اور نہ ہی اِس  پر  ایمان  رکھتے  ہیں۔  پھر،  کیسے  یہ لوگ  جو سچی
خوشخبری سے ناواقف ہیں گناہ سے آزاد ہو سکتے ہیں؟ یہ ہے کیوں خُدا ہمیں مسیحی کتابوں کے وسیلہ سے سچی خوشخبری پھیلانے کی اجازت دے چکا ہے۔
دنیا بھر میں ایسے بہت سارے لوگ ہیں جو گواہی دیتے ہیں کہ وہ جان چکے ہیں کہ پانی اور روح کی خوشخبری کیا ہے، یعنی صرف وہ خوشخبری کی کتابیں پڑھنے کے بعد جو ہم تقسیم کر رہے ہیں۔ وہ سب محض پانی اور روح کی اِس خوشخبری کو جاننے سے پہلے صلیبی خون کو جانتے تھے، لیکن اب وہ پانی اور روح کی خوشخبری کی واضح سوجھ بوجھ تک پہنچنے کے قابل ہونے کے لئے خُداوند کا شکر ادا کر رہے ہیں اور اِس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اِس کےعلاوہ، بہت سارے لوگ موجود ہیں جو گواہی دیتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے تھے کہ اتنی بڑی اہمیت اِس حقیقت میں پوشیدہ تھی کہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیاتھا۔ وہ اب اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور اِس کے لئے خُد اکاجتناضروری ہے اتنا  شکر  ادا نہیں کر سکتے۔
ہم دیکھ سکتے ہیں کہ پانی اور روح کی خوشخبری کی مانند، خیمۂ اِجتماع کے صحن کا دروازہ بھی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بنا ہُوا تھا۔ یہ چار رنگ پانی اور روح کی خوشخبری کے طرح وہی ہیں۔ اور اِسی اسلوب میں، پانی اور روح کی تابندہ خوشخبری بھی پاک مقام کے دروازہ کے پردہ اور پاکترین مقام کے پردہ میں ظاہر ہوتی ہے۔ مزید برآں، خیمۂ اِجتماع کا پہلا پردہ، بھی اِنہی چار رنگوں؛ یعنی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان سے بُنا ہُوا تھا۔ یہ سچائی یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور خون کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ یہ ہے کیوں یِسُوعؔ نے خودکو آسمان کی بادشاہی کی راہ قرار دیا۔ اِس زمین پر آنے اور پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی کے ساتھ گنہگاروں کو بچانے کے وسیلہ سے، وہ اُن کو جو ایمان رکھتے ہیں بے گناہ بنا چکا ہے۔
آسمان کی بادشاہی کی راہ اُس ایمان میں پائی جاتی ہے جو یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ایمان رکھتا ہے۔ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے ساتھ، یِسُوعؔ گناہ سے مکمل طورپر نجات دے چکا ہے۔ آپ کےخیال میں آپ کو یہ سچائی کہاں سے مل  سکتی  ہے؟ اگرآپ بپتسمہ پرجو یِسُوعؔ مسیح نے حاصل کِیا اور صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں، تب آپ اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہوں گے اور ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ابدی زندگی حاصل کریں گے۔
پھر، اُس ایمان کے درمیان جو یِسُوعؔ مسیح پرکسی نہ کسی  طرح ایمان رکھتا ہے اور اُس ایمان میں جو ٹھیک ٹھیک پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے کیا فرق ہے؟ کیونکہ یہ پانی اور روح کی خوشخبری کے ساتھ ہے کہ خُداوند گنہگاروں کو اُن کی بدکرداریوں سے نجات دے چکا ہے، اِس خوشخبری پر ایمان رکھنا خُداوند پر درست طورپر ایمان رکھنا ہے۔کیونکہ خُداوند اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ساتھ گنہگاروں کو بچا چکا ہے، اُس خُداوند پر نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنا اِسی طرح  ہے جیسے گناہ سے نجات یافتہ ہونے کےلیےپانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا ہے جو وہ پوری کر چکا ہے۔ کسی نہ کسی طرح محض اُس کے نام پر ایمان رکھنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے گناہوں سے آزاد ہوں گے اور آسمان پر داخل ہو ں گے۔
بلکہ، یہ بالکل ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ یِسُوعؔ مسیح نے ہماری خاطر یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، صلیب پر اپنا خون بہایا، تمام گناہوں کی سزا برداشت کی، اور مُردوں میں سے جی اُٹھا کہ ہم اپنی گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں اور خُدا کے اپنے لو گ بن سکتے ہیں۔ خُدا صرف اُن لوگوں کو اجازت دیتا ہے جو وہ ایمان رکھتے ہیں جو آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لئے پانی اور روح کی پاکترین خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔لیکن وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پرایمان نہیں رکھتے آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ نئے سِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں۔
خیمۂ اِجتماع میں ظاہر کی گئی پانی اور روح کے تابندہ نُور کی خوشخبر ی پرا یمان رکھنے کے وسیلہ سے،ہم اِس زمین پر زندہ رہتے ہوئے پاکترین ایمان حاصل کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔حالانکہ ہمارے اعمال ناکافی ہیں،لیکن جب ہم ایسا ایمان رکھتے ہیں،تو کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ ہم راستباز نہیں بن چکے؟ جب ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے مقدس بن چکے ہیں، تو پھر بھی ہم کیسےگناہ رکھ سکتے ہیں؟ بعض لوگ حیران ہوتے ہیں کہ کیسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم بے گنا ہ ہیں جبکہ ہم ابھی بھی جسم میں ہیں جو گناہ کرنا جاری رکھتا ہے۔
لیکن یہ اُن کے اپنے جسم کے خیالات ہیں۔ وہ جو جانتے اور پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ اِس بات پرمتفق ہوتے ہیں کہ بنی نوع انسان نامکمل بدن رکھتے ہیں اور اِس لئے وہ بچ نہیں سکتے بلکہ گناہ کرتے ہیں جب تک وہ مر نہیں جاتے۔ تاہم، وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے اپنے تمام گناہوں سے، بشمول اُن گناہوں سے جو وہ مستقبل میں سرزدکریں گے، یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کی صلیب کی کامل نجات کے اندر معاف ہو چکے ہیں۔
یہ کہ آپ اور مَیں اس طرح کے روحانی ایمان کے کلام کو بانٹ سکتے  ہیں اور اِس زمین  پر  زندہ
ہوئےپاکترین ایمان رکھتے ہیں اِس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ خُداوند ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر ہوئی ہماری نجات عطا کر چکا ہے۔ یہ اِس وجہ سے ہے کیونکہ خُداوند ہمیں ایمان دے چکا ہے جو ہمیں ہمارے لئے اُس کی بخشش کے طورپر پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی پر ایمان رکھنے کے قابل بناتا ہے۔ خُداوند پر اپنے ایمان کے ساتھ، ہم ایک دوسرے کے ساتھ رفاقت رکھ سکتے ہیں اور خُداوند کی خدمت کرتےہوئےاور ایک دوسرے سے محبت کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزار سکتے ہیں — یہ وہ جگہ ہے جہاں  ہماری حقیقی خوشیاں پڑی ہوئی ہیں۔
ہم بچ نہیں سکتے بلکہ اِس خوشخبری کے لئے خُداکا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ کتنا شاندار ہے کہ مَیں پانی اور روح کی خوشخبری کو جان سکا اور اِس پر ایمان رکھتاہوں! جب مَیں یِسُوعؔ کے بپتسمہ کے بارے میں تھوڑاسابھی علم نہیں رکھتا تھا،تو سچائی کے کلام کے وسیلہ سے، خُدا نےمیرے دل کو ایمان دیاجو پانی اور روح کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم سب آسمانی برکتیں حاصل کر چکے ہیں۔
 
 
اپنے دل میں حقیقی خوشخبری کی وجہ سے، مَیں سچی شکرگزاری
 کے ساتھ اِس کی منادی کرتا ہوں
 
کلامِ مقدس کوپڑھتے ہوئے، میرے ذہن میں ایک سوال اُٹھنا شروع ہوا: یِسُوعؔ نے کیوں بپتسمہ لیا تھا؟ کیونکہ اِس سوال نے اُٹھنا جاری رکھا، مَیں نے کلامِ مقدس کے وسیلہ سے اِس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی، لیکن کوئی بھی مجھے سکھانے کے قابل نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب تک مَیں نے پانی اور روح کی خوشخبری کو نہ جانا، مَیں اِس مضمون میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا تھا ۔
مَیں اکثر متی ۳:۱۳۔ ۱۷تک یہ حوالہ پڑھتا تھا، خاص طورپر جہاں یِسُوعؔ نے بپتسمہ لینے سے پہلے یوحناؔ سے فرمایا،  ” اب تُو ہونے ہی دے کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے۔ “ لیکن مَیں کبھی اِس کا مطلب نہ سمجھ سکا۔ پس مَیں نے اکثر دوسروں سے اِس وجہ کے بارے میں پوچھا یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ میں یوحناؔ اصطباغی کے ہاتھوں سے کیوں بپتسمہ لیا تھا، لیکن مَیں نے کبھی مکمل طورپرتسلی بخش جواب نہیں سُنا۔ بہرحال، خُدا نے مجھے بپتسمہ کے مقصد کو سمجھنے کے قابل بنایا جو یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل کِیاتھا۔ یہ میرے لئے ایک روحانی انقلاب تھا، جیسےکسی نابیناکوبینائی مل گئی ہو۔ یوں، متی ۳: ۱۳۔۱۷  کا مطلب سمجھنے کے بعد ہی مَیں نے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی سچائی کا احساس کِیا جس نے مجھے میرے گناہوں سے بچا لیا۔
اِس سچائی کو سمجھنے سے پہلے، مَیں اپنی نجات کے طورپر صرف صلیبی خون پر ایمان رکھتا تھا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ مَیں اب بھی گناہ رکھتا تھا اور اِس لئے ایک گنہگار تھا۔ اُس وقت، مَیں ایمان رکھتا تھا کہ مَیں صرف یِسُوعؔ کے خون کے وسیلہ سے موروثی گناہ سے دُھل سکتا تھا، اور میرے روز مرّہ کے گناہ اب تک میرے دل میں موجودہیں۔ مَیں اُس ایمان کو نہیں جانتا تھا جو کسی شخص کو مکمل طورپر بے گناہ بناتا ہے — یعنی، مَیں مکمل طور پر بپتسمہ سے غافل تھا جو یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل کِیا۔ تاہم، خُدا نے گناہ کی معافی کے تابندہ نُور کے ساتھ میرے دل کو روشن کِیا، جس طرح تاریک کمرے میں روشنی جل اُٹھتی ہے۔ ”آہ، بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل کِیا پرانے عہد نامہ میں قربانی کے نظام کے ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے! توپانی اور روح کی خوشخبری یہی ہے!
لیکن پھر کیا؟ اپنی پہچان سے حیران ہو کر،اِس سچائی کوسمجھنےکے بعد میرے دل میں ایک بڑی کشمکش اُٹھنی شروع ہو گئی: اگرکوئی دوسری خوشخبری نہیں بلکہ پانی اور روح کی واحد خوشخبری حقیقی  ہے،تو اِس دنیا کاکیابنے گا؟ مَیں سوچ چکا تھا کہ مبشرانہ بشارت والوں  کا ایمان کتابِ مقد س کے لحاظ سے درست تھا۔ لیکن اب، بالآخرمَیں نے احساس کِیا کہ پانی اور روح کی خوشخبری کے علاوہ دوسری سب خوشخبریاں شیطان سے حاصل ہونے والی جھوٹی خوشخبریاں ہیں۔
لہٰذا، مَیں نے اُس وقت سے جو کچھ کِیا ہے وہ سب  یہ ہے کہ  ایمان رکھااور منادی کی کہ پانی اور روح کی خوشخبری کےسِواکوئی دوسری حقیقی خوشخبری نہیں ہے۔کچھ لوگ اِ س وجہ سے مجھ پر تنقید کر چکے ہیں۔ خُدا مجھ، بہت ساری خامیاں رکھنے والے انسان پر، آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہوئی نجات کی سچائی بھی ظاہر کر چکا ہے،اور وہ مجھے ایمان رکھنے اور منادی کرنے کے قابل بھی کر چکاہے کہ یہ سچائی ہی حقیقی خوشخبری ہے۔ اِس دنیا میں بہت ساری ملتی جلتی خوشخبریاں ہیں، لیکن صرف ایک واحد حقیقی خوشخبری یہی ہے۔ یہ ہے کیوں مَیں تمام دنیا میں پانی اور روح کی خوشخبری کو پھیلانے کا فیصلہ کر چکاہوں۔
جب مَیں اِس کے بارے میں سوچتاہوں کہ مَیں کیسے گناہ کی معافی کی سچائی کی منادی کرنے  کے
لئے آیا، اور مَیں نے پانی اور روح کی پاکترین خوشخبری کو کیسے جانا،اِس پر ایمان رکھا، اور پھیلایا، تو مَیں احساس کرتاہوں کہ کتنے عظیم طورپر مَیں خُدا کے ہاتھوں سے برکت یافتہ ہو چکا ہوں۔ سب جو مَیں نے کِیا محض ایمان تھا کہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا اور صلیب پر اپنا خون بہایا، اور پھر میرے سارے گناہ مٹ گئے! پانی اور روح کی خوشخبری حقیقی سچائی ہے، اور مَیں خُداوند کا مجھے یہ خوشخبری دینے کے لئے شکر ادا کرتاہوں۔ مَیں ایسا انسان ہوں جو واقعی عظیم طورپر خُدا سے برکت پا چکا   ہے۔ آپ میں سے وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ بھی ایسے ہی مبارک لوگ ہیں۔
مَیں ایمان رکھتا ہوں کہ یہ تمام چیزیں برکات ہیں جو خُدا ہم پر نازل کر چکا ہے۔ جس طرح پولُسؔ رسول نے اِقرار کِیا،  ” لیکن جو کُچھ ہُوں خُدا کے فضل سے ہُوں اور اُس کا فضل جو مُجھ پر ہُؤا وہ بے فائِدہ نہیں ہُؤا “ (۱۔کرنتھیوں ۱۵:۱۰)۔مَیں بچ نہیں سکتا بلکہ مجھ پر نازل کیے گئے اُس کے فضل کی تمجید کرتاہوں۔ پوری ایمانداری کےساتھ، کیا یہ خُد اکی کلیسیا میں نہیں تھا جہاں آپ نےآسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی سچی خوشخبری کو سُنا ہو گا؟ کوئی بھی جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے کلام کو سُنتا اور ایمان رکھتا ہے دل سے پاک ہو جائے گا۔ تو، وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے اِس خوشخبری کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اُن کے لئے، پانی اور روح کی سچائی صرف اُکتادینےوالی ہے۔
کیا آپ وہ ایمان رکھتے ہیں جو پاکترین مقام کے پردے کے دروازے کے آسمانی اور سُرخ دھاگے پر ایمان رکھتا ہے؟ جب آپ یہ کلام سنتے ہیں، تومحض یہ مت سوچیں کہ آپ اِسے پہلےسے جانتے ہیں، بلکہ اپنے آپ کو دیکھنے کے لئے جانچیں کہ آیا آپ کے دلوں میں سچائی پائی جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، اب آپ کو یقیناً وہ لوگ ہونا چاہیے جو صحائف کے کلام کے عین مطابق پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ خوش قسمتی اور برکت کی بات ہوگی اگر آپ خُد اکی کلیسیا میں آ سکتےہیں، خُد اکا کلام سن سکتےہیں، اور آسمان پر داخل ہونے کااعزازحاصل کر سکتے ہیں۔
لیکن اگرایسی صورتِ حال نہیں ہے، اگر آپ پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننے، سچا ایمان رکھنے، اور آسمان کی بادشاہت میں داخل ہونے کے قابل نہیں ہیں،یہ سب کچھ صرف دنیاوی اور گھٹیا انسان ساختہ کہانیاں سُننے سے ہے، تو یہ ممکنہ طورپر آپ کوکیا فائدہ پہنچا سکتی ہیں؟ اگروہ خوشخبری جس پر آپ ایمان رکھتے ہیں پانی اور روح کی خوشخبری سے مختلف ہے، توکیسے آپ کی جانیں خُداوند کے سامنے کوئی مطابقت رکھ سکتی ہیں۔ خُداکے کلام اور آپ کے ایمان کو یقیناً بالکل یکساں ہونا چاہیے،جس طرح پولُسؔ رسول کا ایمان اور ہمارا ایمان ایک جیسا ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری جس پر پطرسؔ نے ایمان رکھا وہ بھی وہی خوشخبری ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں (۱۔پطرس ۳:۲۱)۔
مَیں اِن آخری اوقات  میں پانی اور روح کی سچی خوشخبری پر ایمان رکھنے کی ہمیں اجازت دینے کے لئے خُدا کا بے حد شکر گزار ہوں۔ اور جب آپ ہماری کتابوں میں پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی کو تھامتے ہیں اوراِسے دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں تو، وہ، بھی، گناہ کی معافی حاصل کریں گے اور اپنی خوشی میں خُدا کا شکر اداکریں گے۔ ہمیں اِس بات کا  احساس ہونا چاہیے کہ خیمۂ اِجتماع کے تمام نمونے اور برتن،نجات کے خُداوند کا مفصل خاکہ ہیں جو ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے، اور ہمیں یقیناً اِس سچائی کے لئے خُدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
جب ہم پاکترین مقام کے پردےکےدروازےمیں ظاہر کی گئی سچائی پر ایمان رکھتے ہیں توہم نجات یافتہ ہونے اور آسمان پر داخل ہونے کے لئے مبارک ہیں۔ مزید برآں، خُدا ہمیں تمام دنیا میں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان پر مشتمل گناہ کی معافی کی سچائی پھیلانے کے قابل کر چکا ہے۔ خُدا اِس کام کو ہمارے سپرد کر چکاہے۔ اپنےاپنےفرائض کی جگہوں سے، ہم اُن کاموں سے وفادار ہیں جو ہم میں سے ہر ایک کے ذمے لگ چکے ہیں، اور خُدا ہمیں اِس وفاداری کی وجہ سے برکت دے رہا ہے۔
مَیں اپنی شکرگزاری خُدا کو پیش کرتاہوں۔ مَیں اپنے ایمان کے ساتھ اُسے جلال دیتا ہوں،یہ ایمان رکھتے ہوئے کہ خیمۂ اِجتماع کے صحن کے دروازےکے لئے استعمال ہوئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی پانی اور روح کی خوشخبری وہی ہے جس طرح پاکترین مقام کے پردہ میں ظاہر کیے گئے چار رنگ ہیں۔ اب، یہ میری پُرخلوص اُمید ہے کہ آپ سب وہ لوگ ہوں گے جو ایمان کے وسیلہ سے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں، جو پاکترین مقام میں داخل ہونے کے قابل ہیں جہاں خُدا ابد تک سکونت کرتا ہے۔ کیا آپ کا ایمان بھی اِس سچائی پر مضبوطی سے قائم ہے؟ *