خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-14] < متی ۲۷:۵۰۔۵۳ > پردہ جو پھٹ گیا

> متی ۲۷:۵۰۔۵۳  <
یِسُوعؔ نے پِھر بڑی آواز سے چِلاّ کر جان دے دی۔اور مَقدِس کا پردہ اُوپر سے نِیچے تک پھٹ کر دو ٹُکڑے ہو گیا اور زمِین لرزی اور چٹانیں تڑک گئِیں۔اور قبریں کُھل گئِیں اور بُہت سے جِسم اُن مُقدّسوں کے جو سو گئے تھے جی اُٹھے۔اور اُس کے جی اُٹھنے کے بعد قبروں سے نِکل کر مُقدّس شہر میں گئے اور بُہتوں کو دِکھائی دِئے۔
 
 
پاکترین مقام وہ جگہ تھی جہاں خُدا رہتا تھا۔ اور صرف سردار کاہن ہی سال میں ایک بار، یومِ کفارہ پر، اسرائیلیوں کے گناہوں کی معافی کے لئے قربانی کے بکرے کا خون لے کر، پاکترین مقام میں داخل ہو سکتا تھا۔ وہ ایسا اِس لیےکرتا تھا کیونکہ خیمۂ اِجتماع کا پاکترین مقام، خُداکا گھر، ایک مقدس جگہ تھی جہاں وہ اُس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا تھا جب تک کہ وہ قربانی کا خون نہ لیتا، جس کے سر پر، گنہگاروں کی بدکرداریاں مٹانے کے لئے، اُس کے ہاتھ رکھے جاتے تھے۔ مختلف الفاظ میں، حتیٰ کہ سردار کاہن بھی خُدا کی سزا سے بچ نہیں سکتا تھا جب تک کہ وہ اُس کی حضوری میں داخل ہونے سے پہلے قربانی پیش کرنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل نہیں کر لیتا تھا۔
ہیکل کا پردہ کب پھٹ گیا تھا؟ یہ پردہ پھٹ گیا تھاجب یِسُوعؔ نے اپنا خون بہایا اور صلیب پر مر گیا۔ اُسے کیوں صلیب پرمرنے کے لئے اپنا خون بہانا پڑا؟ کیونکہ خُداکا بیٹایِسُوعؔ، ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آکر، دریائے یردن پر یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت گنہگاروں کی تمام بدکرداریاں اُٹھا چکا تھا۔ چونکہ یِسُوعؔ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دنیا کے سارے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا، یِسُوعؔ گناہ کی ساری لعنت کو صرف اُسی صورت میں ختم کر سکتا تھا جب وہ صلیب پر اپنا خون بہاتا اور مر جاتا۔ یہی وجہ ہےکہ وہ پردہ جو خُداکے گھر میں پاکترین مقام کو پاک مقام سے الگ کرتا تھا اوپر سے لے کر نیچے تک پھٹ گیا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کی وہ دیوار جو خُدا کو بنی نوع انسان سے جُدا کر چکی تھی ایک ہی بار ہمیشہ کےلئے گر گئی۔
دوسرے لفظوں میں، بپتسمہ کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور خون سے جو اُس نے صلیب پر بہایا، وہ تمام گناہوں کو غائب کر چکا ہے۔ یِسُوعؔ مسیح کے بپتسمہ اور خون کے ساتھ، خُد اباپ ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے اور آسمان کا راستہ کھول چکا ہے، تاکہ اب کوئی بھی یِسُوعؔ کے اِس بپتسمہ اور خون بہانے پر ایمان رکھنے کی بدولت آسمان پر داخل ہو سکے۔
جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا،تو وہاں تین گھنٹے کے لئے تاریکی چھا گئی جہاں وہ تھا۔ دریائے یردنؔ پر اپنے بپتسمہ کی بدولت دنیا کے تمام گناہوں کو کندھا دینے کے بعد، یِسُوعؔ، مصلوب ہوا اور اپنی موت کے قریب پہنچ کر، چلاکرکہا،  ” ایلی۔ ایلی۔ لَما شَبقتَنِی؟ یعنی اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟“ (متی ۲۷:۴۶)۔اِس کے بعد اُس نے اپنے آخری کلمات،   ”تمام ہوا“  کہے اور پھر مرگیا۔ اور تین دن بعدپھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، ۴۰ دن تک گواہی دیتا  رہا، اور پھر اپنے بہت سارے شاگردوں اور پیروکاروں کی آنکھوں کے سامنے آسما ن پر چڑھ گیا۔
 
 
 کیا باپ نے واقعی یِسُوعؔ کو چھوڑ دیا تھا؟
 
 درد جو یِسُوعؔ نے سہا اِتنا شدید تھا کہ اُس نے محسوس کِیا جیسےاُس کےباپ نے اُسے چھوڑ دیاہو۔ گناہ کی سزا کا دُکھ بہت زیادہ بڑا تھا۔ کیونکہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی معرفت دنیا کے گناہوں کو اپنےاوپراُٹھا لیا، یہ سچ ہے کہ جب وہ صلیب پر گناہ کی سزا برداشت کررہاتھاتوباپ نےاُسے عارضی طورپر چھوڑدیا تھا ۔ خُدا باپ کو ہر اُس شخص کو سزا دینی تھی جس نے گناہ کِیاتھا، اور چونکہ دنیا کے سارے گناہ یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے،اِس لیے یِسُوعؔ کو اُن گناہوں کی سزا کے طورپر صلیب پر چھیدے جانا اور اپنا خون بہانا تھا۔
کیونکہ یِسُوعؔ نے، جو اپنے جوہر میں خود خُدا ہے، بپتسمہ لینے کی بدولت بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اپنےاوپرلےلیا، دنیا کے گناہ اُس کےاپنے مقدس بدن پر منتقل ہو گئے تھے۔ چنانچہ یِسُوعؔ کو، دنیا کے گناہوں کو اُٹھانے کے بعد، اب خُدا باپ کی طرف سے ایک لمحے کے لئے چھوڑےجاناتھا، ہمارے تمام گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے صلیب پر موت برداشت کرنی پڑی، اور یوں تمام گناہوں سے بنی نوع انسان کو بچا لیا۔ یہی وجہ  ہےکہ یِسُوعؔ کو گناہ کی سزا کا انتہا تک دُکھ اُٹھانا پڑا تھا، اور کیوں خُدا باپ بچ نہ سکا بلکہ اپنے بیٹے سے مختصرطورپر اپنا چہرہ پھیر لیا۔
لیکن اِس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یِسُوعؔ کو باپ نے ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا تھا۔ بلکہ، اِس کا مطلب محض یہ ہے کہ یِسُوعؔ کو ہمارے گناہوں کی سخت سزا برداشت کرنی تھی، اور اِس لئے اُسے صرف عارضی طورپر باپ کی طرف سے چھوڑےجاناتھا۔ لیکن جیساکہ یِسُوعؔ اپنے درد میں چلایا،  ” اَے میرے خُدا! اَے میرے خُدا! تُو نے مُجھے کیوں چھوڑ دِیا؟ “ یہ اِس وجہ سے تھا کیونکہ یِسُوعؔ نے گناہ کی اتنی شدید اذیت  برداشت کی کہ ہم گناہ کی سزا سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔ ہم ایسے لوگ تھے جنھیں اپنے گناہوں کی وجہ سے خُدا کے ہاتھوں چھوڑے جانا تھا، لیکن یِسُوعؔ نے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، صلیب پر گناہ کی سزا کے درد کو برداشت کِیا، اور، مزیدبرآ ں، ہماری خاطر تھوڑی دیرکے لئے باپ کے ہاتھوں یہاں تک  کہ چھوڑدیا گیا۔
جیساکہ آپ پہلے ہی جانتے ہوں گے، سلیمانؔ بادشاہ کی حکومت کے دوران ہیکل کی تعمیر کے بعد، خیمۂ اِجتماع کوہیکل کے ساتھ بدل دیا گیا تھا۔ لیکن خیمۂ اِجتماع کے نظام کے بنیادی اصول اب بھی ہیکل پر اُسی طرح لاگو کیےگئے تھے جس طرح اِس کی تعمیر سے پہلے لاگو ہوتے تھے ۔ چنانچہ وہاں پر ایک پردہ بھی تھا جو پاکترین مقام کو ہیکل کے پاک مقام سےالگ کر تا تھا۔ اور اُسی خاص لمحے پر جب ہمارا خُداوند نےصلیب پر چلاکرکہا،  ” ایلی۔ ایلی۔ لَما شَبقتَنِی؟ “ توہیکل کا یہ پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھٹ گیا۔ اِس واقعہ کی معرفت فرمایا گیا سچ یہ ہےکہ کیونکہ خُداوند بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے حاصل کِیا اور خون کے ساتھ جو اُس نے صلیب پر بہایا ہمارے گناہوں کو دھو چکا ہے، اِس لیےآسمان کا دروازہ اب بالکل کھل چکا ہے، تاکہ وہ سب جو ایمان رکھتے ہیں اِس میں داخل ہو سکیں۔ اب، پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، ہم سب ایمان کے وسیلہ سے آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔
خیمۂ اِجتماع کے نظام کےمکاشفہ کے ذریعے، پرانے عہد نامہ کے لوگ بھی یِسُوعؔ کےمسیحا کے طورپر آنے پر ایمان رکھتےتھے، اور اِس طرح وہ بھی اپنے تمام گناہوں سے معافی حاصل کر کےخُد اکے بیٹے بن گئے۔ نئے عہد نامہ میں، گناہ کی معافی کے لیے خُدا کی ساری راستبازی ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے پوری ہوئی جب ہمارے خُداوندنے حقیقتاً دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لیا اور صلیب پر مر گیا۔ ہمارےشکرگزار دل رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے گناہ کی معافی کی خوشخبری کو سُنا اور اِس پر  ایمان رکھا جو خُداوند ہمیں
عطا کر چکا ہے ، ایسا ہے کیونکہ ہمارے پاس پانی اور روح کی خوشخبری ہے۔
اپنےطورپر، ہم گناہ سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے، لیکن نجات کی سچائی کی وجہ سے جو خُدا ہمیں پانی اور روح کے وسیلہ سے دے چکا ہے، ہم اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے دُھلنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ ہمیں عطا کر چکا ہے، ہمارے گناہ غائب ہو چکے ہیں اور اب ہم ایمان کے وسیلہ سے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے قابل ہوگئےہیں۔ اِسکودیکھتےہوئے، کیسے ہم خُدا کے شکر گزار نہیں ہو سکتے؟ ہم صرف اُس کا شکر اداکر سکتے ہیں، کیونکہ اب ہم جانتے ہیں کہ آسمان کا دروازہ اوپر سے لے کر نیچے تک اُسی لمحے جب ہمارا خُداوند مرگیا تھا ٹوٹ گیا۔ یہ وہ خوش کن خبر ہے جو ہمیں بتاتی ہےکہ ہمارے خُداوند نے بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے دریائے یردنؔ پر حاصل کِیا بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، اپنے صلیبی خون کے ساتھ گناہ کی سزا کو برداشت کِیا، اور یوں اُن سب کو گناہ سے چھڑا چکا ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
یہ حقیقت کہ ہیکل کا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھٹ گیا تھا جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا ہمیں سچائی سکھاتی ہے کہ اب اِس دَور میں، وہ جو پانی اور خون کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سے پاک ہو چکے ہیں سب آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔ یہ نجات کی سچائی کا جامع ثبو ت ہے جس کی خُداوند ہمیں اجازت دے چکاہے۔ کیونکہ ہم گنہگار تھے، گناہ کی ایک دیوار تھی جو ہمیں روک چکی تھی،وہ ہمیں خُدا کے پاس آنے کے نااہل کرتی تھی، لیکن اپنے بپتسمہ اور خون کے ساتھ، یِسُوع گناہ کی اِس دیوار کو ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے غائب کر چکا ہے۔یہ کہ  خُدانے ہیکل کا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھاڑ دیا ظاہر کرتا ہے کہ وہ سب جو بپتسمہ پر جس کے وسیلہ سے خُدا کے بیٹے نے گنہگاروں کی تمام بدکرداریوں کو اُٹھا لیا اور صلیبی خون پرایمان رکھتے ہیں اب اپنے گناہوں سے مکمل طورپر پاک ہو سکتے ہیں اور یوں بلاروک ٹوک آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔ خُدا اِسی طرح ہمیں گناہ سے نجات دے چکا ہے۔
یِسُوعؔ نے نجات کے اِن کاموں کے ثبوت کے طورپر ہیکل کا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھاڑ دیا جو اُس نے پورے کیے۔ اِس لئے، عبرانیوں ۱۰:۱۹۔۲۲بیان کرتا ہے،  ” پس اَے بھائِیو! چُونکہ ہمیں یِسُوع کے خُون کے سبب سے اُس نئی اور زِندہ راہ سے پاک مکان میں داخِل ہونے کی دِلیری ہے۔جو اُس نے پردہ یعنی اپنے جِسم میں سے ہو کر ہمارے واسطے مخصُوص کی ہے۔اور چُونکہ ہمارا اَیسا بڑا کاہِن ہے جو خُدا کے گھر کا مُختار ہے۔تو آؤ ہم سچّے دِل اور پُورے اِیمان کے ساتھ اور دِل کے اِلزام کو دُور کرنے کے لِئے دِلوں پر چِھینٹے لے کر اور بدن کو صاف پانی سے دُھلوا کر خُدا کے پاس چلیں۔ 
جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا،تو پاکترین مقام کا داخلہ مکمل کھل گیا تھاکیونکہ اِس کا پردہ پھٹ گیا تھا، اور یہاں پاکترین مقام کایہ کھلا دروازہ خُداکا خوشخبری کا کلام ہے جس نے آسمان کے لئے ایک نئی اور زندہ راہ کو کھو   لا۔ یہاں، کلامِ مقدس ہمیں پھر بتا تا ہے کہ ہمارے دلوں اور بدنوں کے سارے گناہ اُس کے بپتسمہ (صاف پا  نی) اور اُس کے خون کے ذریعےمٹادئیے گئے تھے، اور اِس لئے، ہم اُس کی کامل نجات پر اپنی ایمان کی مکمل یقین دہانی کے وسیلہ سے پاک ہو سکتے ہیں۔
اِس لئے، مَیں اپنا سارا شکر خُدا کے سامنے پیش کرتاہوں۔ ہم آسمان پر داخل نہیں ہو سکتے تھے کوئی معنی نہیں رکھتا ہم کتنی کوشش کرتے، لیکن ہم جیسےلوگوں کے لئے ، یِسُوعؔ ہمیں اپنے بپتسمہ اور صلیب پر اپنے خون بہانے کے اِن راست کاموں کے ساتھ ہمارے سارے گناہوں سے نجات دے چکا ہے، اور وہ آسمان کا دروازہ بالکل کھول چکا ہے، سب تاکہ صرف وہ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں آسمان پر داخل ہو سکیں۔ اب ہمارے لئے ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے پاک ہونا اور آسمان پر داخل ہونا ممکن بن چکا ہے یعنی جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتےہیں۔
کیونکہ خُداوند بپتسمہ لینے اور مصلوب ہونے کے وسیلہ سے ہمارے لئے آسمان کا دروازہ کھول چکا ہے، اب ہم اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے دُھلنے اور آسمان پر داخل ہونے کے قابل ہوگئے ہیں۔ پھرکیسے ہم خُداکا شکر ادا نہیں کر سکتے؟ ہم اُس کی قربانی کی محبت کے لئے اُس کا کافی شکر ادا نہیں کر سکتے۔ پاکترین مقا م کے پردہ کا دروازہ بپتسمہ کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ نے ہمارے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے حاصل کِیا  اور اُس کے بدن کی قربانی کے وسیلہ سے جو اُس نے ہمارے اِن گناہوں کی دردناک سزا برداشت کرنے کےلئے پیش کی پھٹ گیا۔
 
 
آسمان پر داخل ہونے کی ایک ہی راہ ہے
 
کیونکہ ہم یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں، ہم آسمان پر داخل ہوں گے۔ سچائی
کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کے علاوہ آسمان پر داخل ہونے کی کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ یِسُوعؔ نےہمارے لئےجوکچھ کِیا ہے اُس پر ایمان رکھنے سے ہی ہم آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں، کیونکہ خُدا اُن کے لئے ایسے کام کر چکاہے جو یِسُوعؔ کی پانی اور خون کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مسیحی اپنی ذاتی کوششوں، جذبے، یااِس طرح کی دوسری ریاکارانہ کوششوں کے وسیلہ سے آسمان پر داخل نہیں ہو سکتے۔ خُدا طے کر چکا ہے کہ صرف وہی جو بپتسمہ پر جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور اُس کے خون بہانے پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے پاک ہو چکے ہیں آسمان پر داخل ہو سکتے ہیں۔ وہ جو اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں وہ لوگ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ خُداکا بیٹا، خود خُدا، اور دائمی نجات دہندہ ہے جو اُنھیں اپنے بپتسمہ اورخون بہانے کے وسیلہ سے گناہ سے نجات دے چکا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے خُدا گناہ کو دھونے کی اجازت دے چکا ہے۔ صرف بپتسمہ کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور دُکھ جو اُس نے صلیب پر برداشت کِیا، خُدا باپ ہم میں سے اُن کو اِس قابل کر چکا ہے جو اُس پر ایمان کے وسیلہ سے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کاایمان رکھتے ہیں۔
کیا ہمیں آسمان پر داخل ہونے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے؟ اگر ایساہوتا تو، ہم اِس کی قیمت ادا کرنے کے وسیلہ سے اپنی نجات حاصل کر رہےہوتے، اور یہ وہ نجات نہیں ہو سکتی جو خُداوند کے وسیلہ سے مفت بخشی گئی ہے۔ہمیں آسمان پر داخل ہونے کے لئے، ایمان کے علاوہ کسی دوسری چیز کی ضرورت نہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری پر یقین رکھتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، آسمان پرداخل ہونے کے لئے، کوئی ادائیگی، عمل، یا ہماری اپنی کوشش کبھی بھی درکار نہیں ہے۔ آسمان پر داخل ہونے کے لئے انسانی کردار کا کوئی بھی کام ضروری نہیں ہے۔ ہمارے آسمان پر داخل ہونے کے اہل بننے کے لئے، خُدا ہم سے کسی کوشش، عمل، مرضی، معاوضے، یا بھلائی کا مطالبہ نہیں کرتاہے۔
صرف ایک چیز ہے جو ہمارے لئے آسمان پر داخل ہونے کے لئے حتمی طورپر ضروری ہے، اور یہ وہ ایمان ہے جو گناہ کے دُھلنے کے بپتسمہ پر یقین رکھتا ہے جو یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ پر حاصل کِیا تھااور قربانی پر جو اُس نے ہماری ذاتی گناہ کی معافی کے طورپر صلیب پر اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے پیش کی تھی۔اِس کےعلاوہ  کوئی دوسری راہ نہیں ہے۔ واحد چیز جس کی ہمیں ضرورت ہےوہ ایمان ہے جو یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور خون کی خوشخبری پر یقین رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے لئے گناہ کی معافی حاصل کرنے اور آسمان پر داخل ہونے کے لئے ہمیں یقیناً پانی اور روح کی خوشخبری پرایمان رکھنا چاہیے جو یِسُوعؔ  پوری
کر چکا ہے۔
یِسُوعؔ، محبت کا خُداوند، پانی اورروح کی خوشخبری کے وسیلہ سے ہماری کامل نجات پوری کر چکا ہے۔ کیونکہ یِسُوعؔ پہلے ہی گناہ کی معافی کی نجات مکمل کر چکا ہے، اگر گنہگار صرف پورے دل سے اِس خوشخبری کی سچائی پر ایمان رکھیں،تو وہ اپنے سارے گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ ہمارا خُداوند ہمارے سارے گناہ مٹا چکا ہے، چاہے ہم بہت سارے یا محض تھوڑے سے گناہ رکھتے ہیں، اور وہ ہر کسی کو آسمان پر داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے لیکن صرف ایمان کے وسیلہ سے۔
یہ کہ یِسُوعؔ آسمان کا دروازہ کھول چکا ہے، تاکہ گنہگار پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اِس میں داخل ہو سکیں، نجات کا فضل ہے جو واقعی خاص ہے۔ ”خُداوند نے میرے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا اور میری جگہ پر صلیب پر مرگیا! وہ میرے گناہوں کو دھو چکا ہے اورمیرے لئے آسمان کا دروازہ کھول چکا ہے! اُس نے مجھ سے اتنی محبت کی کہ اُس نے بپتسمہ لیا، اپنا خون بہایا، اور اِس طرح میری گناہ کی معافی مکمل کر دی!“ اِس طریقہ سے، جب آپ اِس طرح نجات کی اِس سچائی پرا یمان رکھتے ہیں،تو آپ اِس ایمان کے وسیلہ سے آسمان پر داخل ہوں گے۔
لوگوں کے لئے یِسُوعؔ پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنا مشکل نہیں ہے، بلکہ یہ،در حقیقت ، بہت آسان ہے،کیونکہ انہیں جو کچھ کرنا ہےوہ محض اِن حقائق کو اپنے دلوں میں قبول کرنا ہے جو یِسُوعؔ نے اِس زمین پر آنےکےبعدانجام دئیے تھےاور اِن پر ایمان رکھنا ہے۔ کیونکہ یِسُوعؔ ہمارےتمام گناہوں کو مٹا چکا ہے اور ہمیں دریائے یردن ؔ پر اپنے بپتسمہ کے ذریعے جو اُس نے یوحناؔ اصطباغی سے حاصل کِیا، اور خون کے ذریعے جو اُس نے صلیب پر بہایاتھا اور روح کے ذریعے،جب ہم اپنے دلوں میں اِس یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں،تو ہم سب نجات یافتہ ہو جائیں گے۔
اور سچّائی سے واقِف ہو گے اور سچّائی تُم کو آزاد کرے گی “(یوحنا ۸:۳۲) ۔چاہے ہمارے گناہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، بپتسمہ لینے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ اُن سب کو غائب کر چکا ہے۔ یہ پانی اور روح کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ سچائی سے جو ہمیں گناہ سے آزاد کرتی
ہے، ہم اپنی ابدی نجات حا صل کر سکتے ہیں اور اِس حقیقی نجات کی آزادی سے مل سکتے ہیں۔
پانی اور روح کی خوشخبری مکمل کرنے کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند آسمان کا دروازہ بالکل پورا کھول چکا ہے۔ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا، اور اِس سچائی کے اندر تین دن بعد پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، یعنی پانی اور روح کی خوشخبری ہمیں خُداکے قریب لا چکی ہے، اور یہ ہمیں مستقبل میں آسمان کو اپنا بنانے کے قابل کر چکی ہے۔ اب، اگر آپ آسمان پر داخل ہونا چاہتے ہیں، اورساتھ ہی گناہ سے آزاد ہونا اور خُدا کے بیٹے بننا چاہتے ہیں، تو آپ کو یقیناً یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنےگناہ کی معافی حاصل کرنی چاہیے۔ یہی ایمان ہے جو آپ کو گناہ کی معافی حاصل کرنے کے قابل کرے گا اور آسمان کے دروازہ کی طرف آپ کی راہنمائی کرے گا۔
ہمارا خُداوند ہمارے بارے میں سب کچھ جانتا ہے۔ وہ جانتا ہےکہ ہم کب پید ا ہوئے، اور وہ اِن تمام گناہوں کے بارے میں جانتا ہے جو ہم کر چکے ہیں اور کرنے والے ہیں۔ اور وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ چاہے ہم کتنی سخت کوشش کریں، ہم اپنی ذاتی کوشش سے اپنے گناہوں کو غائب نہیں کر سکتے۔ کیونکہ خُداوند ہمیں اتنی اچھی طرح جانتا ہے، وہ بذاتِ خود اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو مٹا چکا ہے۔
 
 
یِسُوعؔ اِس زمین پر کیوں آیا؟
 
یِسُوعؔ نام کا مطلب نجات دہندہ ہے۔ یِسُوعؔ اِس زمین پر پیدا ہواتھا کیونکہ گناہ سے ہماری نجات کسی انسان کے ذریعےقابلِ تکمیل نہیں ہوئی ہے، بلکہ یہ صرف الہٰی قُدرت کے دائرے کے اندر مکمل ہوتی ہے۔ اِس طرح، یِسُوعؔ کی پیدائش نے ایک واضح مقصد پورا کِیا۔ یہی وجہ ہے کہ بنی نوع انسان کو سب گناہوں سے بچانے کے لئے، یِسُوعؔ ایک کنواری کے بدن کے وسیلہ سے اِس زمین پر پیدا ہوا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، یِسُوعؔ گنہگاروں کی خاطرجو آدمؔ اورحواؔ کے گناہ کے باعث گناہ کےوارث تھے ایک عورت کے بدن کے ذریعے پیدا ہوا۔ نجا ت دہندہ بننے کے لئے جو اِس دُنیا کے تمام گنہگاروں کو اُن کی تمام بد کرداریوں سے بچاتا ہے، خُداوند اِس دُنیا میں آیا، خُداکی قدرت کے وسیلےایک کنواری کے بدن سے پیدا ہوا۔
ہمارا خُداوند اِ س زمین پر اپنی تخلیق کے بدن کی معرفت پیدا ہوا تاکہ وہ بذاتِ خود ہماری بے عیب قربانی بن جائے۔ اور جب وقت آیا، وہ ہمارے پاس نجات لانے کے لئے قدم بہ قدم اپنے منصوبہ میں بڑھتا گیا۔ جب ہمارا خُداوند ۳۰ سال کا ہوگیا، تواُس نے دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لیا۔ اِس زمین پر اپنی پیدائش کا مقصد حاصل کرنے کے لئے، یِسُوعؔ کو بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو قبول کرنا تھا، اور اِس طرح اِس کام کو پور ا کرنا تھاکہ اُس نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا (متی ۳:۱۳۔۱۷)۔
جب یِسُوعؔ کو اپنے بپتسمہ کے ذریعے دنیا کے گناہوں کو قبول کیےہوئےتین سال گزر چکے تھے ، تو وہ مصلوب کِیاگیا۔ یہ اِس لیے تھا کہ ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لیا تھا اوراُس نے دنیا کے گناہوں کو اُٹھالیاتھا کہ وہ ہمارے گناہوں کی خاطر بے رحمی سے لعنتی ٹھہرا۔ یوحناؔ اصطباغی سے لئے گئے بپتسمہ اور اپنے صلیبی خون کے وسیلہ سے، خُداوند تمام گناہوں کو غائب کر چکا ہے، اور یوں وہ اُن لوگوں کو اُن کے گناہوں سے نجات یافتہ ہونےکےقابل کر چکا ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔
اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ  لوگ اپنے آپ کو کس جہالت میں پاتے ہیں،وہ کن کمزوریوں میں پھنسے ہوئے ہیں، اور وہ کس طرح کے گنہگار ہو سکتے ہیں، خُدا ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے والوں کو آسمان ، خُداوند کی بادشاہی میں داخل ہونے قابل کر چکا ہے۔ یہ گناہ کی قیمت ادا کرنا تھاکہ یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لیا اور صلیب پر اپنا خون بہایا۔ اِس نجات کی وجہ سے جو یِسُوعؔ ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے اور اپنے آپ کو قربان کرنے کے وسیلہ سے پوری کر چکا ہے، ہم میں سے وہ جو ایمان رکھتے ہیں اب صرف پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلےہی اپنے گناہوں سے دُھل سکتے ہیں۔ یہ مسیحیت کی بنیادی سچائی اور گناہ کی معافی کا مرکز ہے۔
خُداوند اِس دنیا کے تمام گنہگاروں کا نجات دہندہ بننے کے لئے اِس دنیا میں آیا۔ اور خُداوند حقیقتاً ہم میں سے سب کو گناہ سے بچا چکا ہے۔ ہمارا خُداوند تمام گنہگاروں کو، چاہےوہ کوئی بھی ہوں، اُس کے کاموں پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے آسمان پر داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے۔
یہ خُداوند کی محبت ہے۔ یہ اِس لیے تھا کیونکہ ہمارے خُداوند نے ہم سے اتنی محبت کی کہ اُس نے بپتسمہ لیا اور ہمیں بچانے کے لئے اپناخون بہایا۔ ہمیں گناہ سے چھڑانے کے لئے، اُس نے ہم سے اِتنی محبت کی جتنی اپنے ذاتی بدن سے، ہمارے خُداوند نے بپتسمہ لینے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے نجات مکمل کردی۔ ہم گنہگار تھے جو مرنےکےدن تک گناہ کرتےرہیں گے۔ اپنے گناہوں سے اذیت اُٹھا کر، ہم صرف خُدا سے مزید دُور جانا جاری رکھتے۔ہم جیسے لوگوں کو بچانے کے لئے ، خُداوند کو نجات کے کام مکمل کرنے تھے جو ہمیں اُس کے ساتھ متحد ہونے کے قابل بناتے ہیں۔
ہماراخُداوند ہمیں جو گنہگار تھے  خُدا  کی  محبت  کے  ساتھ  بچا  چکا  ہے۔  ہم  گنہگاروں  کو  ہماری
بدکرداریوں سے بچانے کے لئے، وہ خُدا کی راستبازی اور محبت کو اپنا بپتسمہ حاصل کرنے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے مکمل کر چکا ہے۔ہم جو اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں کتنے شکر گزار ہیں یعنی خُداوند ہمارے لئے جوکچھ کر چکا ہے یعنی الفاظ سادگی سے ایمان کی ہماری شکر گزاری ظاہر کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں جونہی ہم اُس کے سامنے جھکتے ہیں۔ گناہ کی معافی کی سچائی جو ہمارا خُداوند ہمیں دے چکا ہے ایسی نیک اور حتمی محبت ہے کہ اِسےکوئی منطق کے الفاظ،یا کوئی شیریں الفاظ کبھی بیان نہیں کر سکتے۔
دوہزار سال پہلے، ہم میں سے کوئی بھی اُس وقت پیدا نہیں ہوا تھا۔ یہ تقریباً دوہزار سال پہلےکی بات ہے کہ زمینی ہیکل کا پردہ اور خُدا کی بادشاہی کی آسمانی ہیکل کا پردہ کھل گیا تھا۔ اُس وقت ہم حتیٰ کہ اپنی ماں کے پیٹ میں بھی نہیں تھے،لیکن ہمارا خُداوند ہمارے بارے میں پہلے ہی سب جانتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ آپ پیدا ہوں گے،اور یہ کہ آپ سب اپنی زندگیاں اپنے اپنے منفرد انداز کے مطابق گزاریں گے۔ اور خُداوندنے مجھ سے محبت کی— نہ صرف مجھ سے، بلکہ وہ آپ سے اورباقی سب سے یکساں محبت کر چکا ہے۔ خُداوند ہم سے اتنی محبت کر چکا ہے کہ وہ تمام گنہگاروں کو پانی، خون، اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو یِسُوعؔ ہمارے لئے مکمل کر چکا ہے آسمان پر داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے۔ پانی اور روح (یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اپنے صلیبی خون) کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ گناہ سے ہماری نجات کو مکمل کر چکاہے۔
ہیکل کاپردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھٹ جانا واقعی ایک حیرت انگیز واقعہ ہے۔ کیسے پاکترین مقام کا یہ پردہ پھٹ سکتا تھا، محض اِس لیے کہ یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا؟ یہ پردہ آج کے قالینوں کی مانند تھا۔ یہ بہت موٹا اور مضبوط بُنا ہوا تھا۔ فلسطینؔ میں، ہم اب بھی قالینوں کی مانند بُنے ہوئے موٹے پردے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ اِتنے مضبوطی سے بُنے جاتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ اُنھیں پھاڑنے کے لئے مخالف سمتوں میں کھینچنے والے چار گھوڑے درکار ہوتے ہیں۔ ایک گھوڑا کتنا طاقتور ہوتا ہے؟ پھربھی وہ  پردہ جو اِتنا مضبوط تھا کہ اِسے پھاڑنے کے لئے چار گھوڑوں کی ضرورت پڑتی تھی اوپر سے لے کر نیچے تک پھٹ گیا جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا۔
پردہ کیوں پھٹ گیاتھا؟ یہ پردہ پھٹ گیا کیونکہ یِسُوعؔ تمام گناہوں کو دھو چکا تھا جو بنی نوع انسان کے دلوں میں تھے۔ یہ پردہ پھٹ گیاکیونکہ یِسُوعؔ بپتسمہ لینے اور موت تک مصلوب ہونے کے وسیلہ سے اپنے سارے راست کاموں کو پورا کر چکا تھا۔ اپنے بپتسمہ اور صلیب پر لعنتی ٹھہرنے کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو قبول کرنے کی بدولت، یِسُوعؔ نے اُن کے لئے راہ کھول دی جو آسمان پر داخل ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ سب جو آپ کو اب کرنا ہے محض ایمان رکھنا ہے۔ خُداوند آسمان کا دروازہ کھول چکا ہے تاکہ آپ سب اِس پر محض ایمان رکھنے کے وسیلہ سے داخل ہو سکیں۔
 
 
کیا یِسُوعؔ کا بپتسمہ اور خون دونوں ہماری نجات کے لئے ضروری ہیں؟
 
یہ پرانے عہد نامہ کے دَور سے بھی پہلے منصوبہ بند نجات کے طریقہ کے عین مطابق تھا کہ یسوع ؔ کے سر پر ہاتھ رکھے گئے تھے،یہ ایک  رسم ہےجو صرف قربانی کے جانوروں کے لئے مخصوص تھی۔ کیونکہ یہ نجات کی شریعت تھی جوخُدا کی طرف سےمقرر کی گئی کہ قربانی کا جانور ہاتھوں کے رکھے جانے اور مرنے کے ساتھ تمام گناہوں کو قبول کرتاتھا، یِسُوعؔ، ہمارے ذاتی قربانی کے برّہ کے طورپر ہمیں ابدتک بچانے کے لئے آنے کے بعد، صرف اپنا بپتسمہ حاصل کرنے کے وسیلہ سے، یعنی ہاتھوں کے رکھے جانے کی شکل میں ہمارے تمام گناہوں کو مٹا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکترین مقام میں داخل ہونے کے لئے، یہاں تک کہ سردار کاہن کوبھی قربانی کے جانور کا خون اپنے ساتھ لےجانےکو یقینی بنانا پڑتا تھا جو ہاتھوں کے رکھے جانے کے ساتھ گناہوں کو اُٹھا چکا ہوتا تھا۔
تب، کیوں سردار کاہن اِس جگہ پر خون کے ساتھ داخل ہوتا تھا؟ کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے، خُدا اِسے اُس کی حضوری میں آنے سے پہلے سردار کاہن کواپنی جان کا کفارہ دینے کے لئے عطا کر چکا تھا (احبار ۱۷:۱۱)۔ تمام لوگوں کو اپنے گناہوں کی خاطر مرنا پڑتاتھا، لیکن کیونکہ یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے (اُس کے بپتسمہ کے ساتھ یِسُوعؔ پر تمام گناہ منتقل ہو گئے تھے)بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اُن سب کو کندھا دیا، یِسُوعؔ مصلوب ہوا اور یوں ہمیں خون کے ساتھ جو اُس نے بہایا، یعنی اپنی ذاتی زندگی کے ساتھ بچا چکا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب گنہگار خُدا کے سامنے آتے ہیں، تواُنھیں یقینی طور پر اپنے ساتھ وہ ایمان لانا چاہیے جو پانی اور خون پر یقین رکھتا ہے۔ صرف جب ہم یِسُوعؔ کے بپتسمہ کے پانی اور خون پر جو اُس نے بہایا پورے دل سے ایمان رکھتے ہیں تب ہم اپنے گناہوں کی وجہ سے لعنتی ٹھہرنے سے بچ سکتے ہیں۔
اب، یِسُوعؔ تمام گناہوں کو دھو چکا ہے، تاکہ کسی کوبھی توبہ کی دُعاؤں، یا روزہ، یا اپنے گناہوں کی معافی کے لئے قربانیاں پیش کرنےکی ضرورت نہ پڑے۔ ہمیں توبہ کی دُعائیں مانگنے کی ضرورت نہیں،اور نہ ہی ہم اپنے گناہوں کی سزا اُٹھاتے ہیں، کیونکہ یِسُوعؔ پہلے ہی گناہ کی معافی اورسزا کی قربانی پیش کر چکا ہے۔ سب جو ہمیں کرنا ہے محض آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہونےوالی نجات پر اپنے دل کے ساتھ ایمان رکھنا ہے۔
سب جو کسی کو کرنا ہے محض اِس بپتسمہ پر ایمان رکھنا ہے جو یِسُوعؔ نے آسمانی دھاگے کے طورپر جو پرانے عہد نامہ کے خیمۂ اِجتماع کے لئے استعمال ہوا تھا حاصل کِیا، اور خون پر ایمان رکھنا ہے جو یِسُوعؔ نے اُس کے سُرخ دھاگے کے طوپرصلیب پر بہایا تھا۔ اور یہ سچائی کہ یِسُوعؔ اپنے بنیادی جوہر میں بادشاہ ہے خیمۂ اِجتماع کے لئے استعمال ہوئے ارغوانی دھاگے میں ظاہر کی گئی ہے۔ اِس طرح اگر ہم آسمانی، ارغو انی، اور سُرخ دھاگے کے طورپر ظاہر کی گئی گناہ کی معافی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں سے دُھلتے ہیں، اور ایمان رکھتے ہیں کہ ہماری ساری سزا پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، تو اب  ہم میں سے کوئی بھی آسمان کی بادشاہی میں داخل ہو سکتا ہے۔ یہ خوشخبری پانی اورروح کی اصل خوشخبری ہے۔
 
 
جب یِسُوعؔ صلیب پر مر گیاتوہیکل کا پردہ کیوں پھٹ گیا تھا ؟
آئیں ہم اِس پر ایک مرتبہ پھر غورکریں
 
پرانے عہد نامہ میں ظاہر ہونےوالا آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگہ وہ خوشخبری ہے جو ایمان رکھنےوالوں کے لیے گناہ کی معافی اورآسمانی بادشاہی میں داخل ہونے کی برکات لاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یِسُوعؔ، بپتسمہ لےکرصلیب پر مر گیا تو ہیکل کا پردہ پھٹ گیا تھا ۔ اُن کے لئے جو یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں، یہ بذاتِ خود خُدا کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی ہے۔  ”آہ، یہ اِس لیےتھا کہ یِسُوعؔ نے میری جگہ پر یوحناؔ سے بپتسمہ لیا تھاکہ اُس نے اپنا خون بہایا اور صلیب پر مر گیا، اور یوں موت کی مزدوری، یعنی گناہ کی قیمت اد اکی۔“ صلیب پر مرتے ہوئے، یِسُوعؔ نے فرمایا،  ”تمام ہوا،“ اور یہ وہ لمحہ تھا جب اُس نے ہمارے لئے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کی راہ کو کھول دیا۔
یِسُوعؔ اِس زمین پر اُن کو بچانے کے لئے آیا تھاجو گناہوں کی دیوار کی وجہ سے خُدا سے جُد اہو گئے تھے یہ کہ  وہ بچ نہیں سکتے تھے  بلکہ تعمیر کرتے رہتے تھے۔ یہ یِسُوعؔ کی اپنی مرضی تھی، لیکن ساتھ ہی یہ خُدا باپ کا حکم اور ہمارے لئے اُس کی محبت بھی تھی۔ خُدا کی مرضی پوری کرتے ہوئے، یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا جس نے دنیا کے گناہوں کو اُس کے اپنے بدن پر منتقل کر دیا۔ یہ اِس لیےتھا کیونکہ یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو کندھا دیا کہ وہ صلیب پر گیا، مصلوب ہوا، اپنا خون بہایا اور مرگیا، تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں اپنی نجات کے کاموں کو مکمل کر دیا۔ یہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی خدمات ہیں، یعنی گناہ کی معافی جو گنہگاروں کو اُن کی بدکرداریوں سے چھڑاتی ہے، اور قربانی کے نظام کی تکمیل ہے۔
یہ اِس لیے ہے کیونکہ یِسُوعؔ نے اپنی خدمات کے ساتھ نجات کی تکمیل کی ہے کہ آسمان کا دروازہ، جس میں اب تک کوئی آدمی داخل نہیں  ہو سکتاتھا، اب کھولا جا چکا ہے۔اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجات کا دروازہ مزید ہاتھوں کے رکھے جانے او رجانور کے خون کے ساتھ نہیں کھلتا جو پرانے عہد نامہ کے قربانی کے جانور کے لئے استعمال ہوتا تھا،بلکہ اب اِس ایمان کے ساتھ کھلتا ہے جو بپتسمہ پر جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور خون پر جو اُس نے صلیب پر بہایا ایمان رکھتا ہے۔ یہ کہ پردہ پھٹ گیا تھا نجات کی تکمیل کو ظاہر کرتا ہے،کہ خُدا اب ہر کسی کو آسمان پر داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے جو جانتا اور خُداوند کی معرفت مکمل کی گئی پانی اور روح کی خوشخبری پر واقعی ایمان رکھتا ہے۔ یہ ہے کیوں ہیکل کے پردے کو پھٹنا پڑا۔
آپ کو یقیناً ایمان کے ساتھ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا چاہیے جو یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھتا ہے۔ یِسُوعؔ جو کسی بھی طرح کوئی گناہ نہیں رکھتا تھا اِس زمین پر آیا جسم میں مجسم ہوا اور ہمارے تمام گناہوں کو قبول کرنے کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا (متی ۳:۱۵)۔ مزید برآں، ہمارے خُداوند نے ہمارے گناہوں کی مزدوری کے طورپر اپنے بدن کی جان پیش کی اور فدِیہ کی دائمی قربانی بن چکا ہے جو ہمیں یقیناً اپنے ساتھ لےجانی چاہیے جب ہم خُدا کے سامنے آتے ہیں۔ اِس لئے، ہم میں سے سب کو یقیناً اِس خون پر ایمان رکھناچا ہیے جویِسُوعؔ نے ہماری نجات کے طورپر بپتسمہ لینے کے بعد بہایا تھا۔ بنی نوع انسان کو گناہ سے آزاد کرنے اور اُنھیں خُدا کے اپنے لوگ بنانے کے لئے، یِسُوعؔ نے اپنے ذاتی بدن کو پھاڑنے کی بدولت آسمان کا دروازہ کھول دیا۔
جب یِسُوعؔ کے ہمیں بچانے کی بات آتی ہے،تو ہمیں یقیناً جاننا چاہیے کہ اُس نے محض  صلیب  پر
خون نہیں بہایا۔ صلیب پر مرنے سے تین سال پہلے، وہ دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا۔ چنانچہ یِسُوعؔ نے تمام بنی نوع انسان کی خاطریوحناؔسے بپتسمہ لیا اور پھر رومی سپاہیوں کے ہاتھوں سے مصلوب ہو ا۔ آپ کے اورمیرے اِس دنیا میں پیدا ہونے سے پہلےہی، یِسُوعؔ بپتسمہ لینے اوراپنا خون بہانے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کوصاف کر چکا تھا۔
یہ کہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا نجات کا طریقہ تھا جو اُسے ہمارے گناہوں کو پیشتر ایک ہی وقت میں اُٹھانے کے سلسلے میں یقینی طور پر پورا  کرنا تھا۔ اور جوخون اُس نے بہایاوہ اُن تمام گناہوں کی قیمت کی ادائیگی تھا۔کیونکہ یِسُوعؔ خود خُدا ہے، بپتسمہ جو اُس نے حاصل کِیا اور خون جو اُس نے صلیب پر بہایا وہ یقینی طور پر ہماری گناہ سے نجات کو تشکیل دے سکتا ہے۔ یہ ہمارے خُداوند کی کامل قربانی تھی جو اُس نے تمام بنی نوع انسان کی نجات کے لئے پیش کی۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ پانی اور روح کی خوشخبری کا کلام ہمارے گناہوں کوصاف کر چکا ہے اور ہمیں ہماری سارے گناہوں اور سزا سے آزاد کر چکا ہے؟
 
 
 یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون کے ذریعے، بنی نوع انسان
کے سارے گناہ اب دُھل چکے ہیں
 
یہ بنی نوع انسان کے گناہوں کو دھونےکےلیے تھا کہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا۔ اگر ہم اُس کی عوامی زندگی میں سے یِسُوعؔ کے اِس بپتسمہ کو نکال کر یِسُوعؔ کی نجات کی خدمات پرنظرڈالتے ہیں، تب دنیا کی بنیاد سے پہلے یِسُوعؔ مسیح میں تیار کی گئی بنی نوع انسان کی نجات سب جھوٹ میں بدل جائے گی۔ دنیا کی بنیاد سے پہلےہی، یِسُوعؔ بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھانے اور اپنا خون بہانے کے لئے بپتسمہ لینے کی تیاری کر رہا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ اصطباغی، تمام بنی نوع انسان کے نمائندہ سے بپتسمہ لیا، اور یوں تمام گناہوں کو قبول کِیا (متی ۱۱:۱۱۔۱۲؛ متی۳:۱۵)۔ یِسُوعؔ کا بپتسمہ لینے کی بدولت گنہگاروں کی بدکرداریوں کو دھونا نجات کا طریقہ تھا۔ یِسُوعؔ نے گنہگاروں کی بدکرداریوں کو قبول کِیا اور اُنھیں پاک کر دیا، اور ہماری موت کی بجائے ہمارے گناہوں کے لئے، وہ ہماری جگہ پر بے رحمی سے مرگیا، اور ایسا کرنے کے وسیلہ سے وہ اُن کوجو اِس پرایمان رکھتے ہیں اُن کےتمام گناہوں اور سزا سے نجات دے چکا ہے ۔ اِس طریقہ کے وسیلہ سے (بپتسمہ لینے کے طریقہ سے)، یِسُوعؔ اپنے آپ پر بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو قبول کر سکتا تھا اور صلیب پر اپنا خون بہانے کی بدولت گناہ کی سزا برداشت کر سکتا تھا۔  ” کیونکہ ہمیں اِسی طرح ساری راست بازی پُوری کرنا مُناسِب ہے“ (متی ۳:۱۵)۔یعنی یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ میں بپتسمہ لیا اِسکا مطلب یہ ہے کہ اُس نے ہم سب گنہگاروں کے گناہوں کو قبول کِیا تھا۔
بھائیواور بہنو، کیا آپ اِس بات پر ایمان رکھنے کے قابل نہیں کہ یِسُوعؔ تقریباً دو ہزار سال پہلے اِس زمین پرآیاتھا،کہ اُس نے ۳۰سال کےہونےپر بپتسمہ لیاتھا، اور اُس نے آپ کی خاطر اپنا خون بہایاتھا، محض اِس لیےکہ آپ نے اِسے اپنی آنکھوں کے ساتھ نہیں دیکھا؟ لیکن ہماری ساری خامیوں کے بارے میں جانتے ہوئے، خُدا دنیا کی بنیاد سے پیشترہی پانی اورخون کے ساتھ ہماری نجات کامنصوبہ بنا چکا تھا، اور یِسُوعؔ مسیح اور یوحناؔ اصطباغی کو اپنے منصوبہ کے عین مطابق اِس زمین پر بھیجنے کے وسیلہ سے، وہ ہم سب کی نجات کو مکمل کر چکا ہے۔ ہمیں اِس ساری حقیقت کوسمجھنے اور جاننےکےقابل بنانے کے لئے، خُدا نے اپنے خادموں سےاپنا کلام لکھوایا۔ اپنے تحریری کلام کے ذریعے، خُدا نجات کے منصوبے اور اِس کی تکمیل کے بارے میں پوری نوعِ انسانی پر سب کچھ ظاہر کر چکا ہے۔ اب وہ ہر کسی کو خُدا کے تحریری کلام کے وسیلہ سے سچائی کا ادراک کرنے کے قابل کر چکا ہے کہ یِسُوعؔ نے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھانے کے لئے دریائے یردن ؔپر یوحناؔ سے بپتسمہ لیا تھا۔
ہم سب کو یقیناً اب بپتسمہ پر جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور خون پر جو اُس نے صلیب پر بہایا اپنی ذاتی نجات کے طورپر ایمان رکھنا چاہیے۔ گو ہم اِسے اپنی جسمانی آنکھوں کے ساتھ نہیں دیکھ چکے،لیکن ہمیں یقیناً اپنے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے۔ سچا ایمان ہمیں تب حاصل ہوتا ہے جب ہمارا ایمان اُس کے کلام پر مبنی ہے۔ خُداوند نے توماؔ سے فرمایا،  ” مُبارک وہ ہیں جو بغَیر دیکھے اِیمان لائے “  (یوحنا ۲۰:۲۹)۔یِسُوعؔ آپ کو اور مجھے بپتسمہ کے ساتھ جو اُس نے حاصل کِیا اور خون کے ساتھ جو اُس نے
بہایا نجات دے چکا ہے۔ خُدا ہر کسی کو جو اِس پر ایمان رکھتا ہے آسمان پر داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے۔
یہ ہے کیوں خُدا نے ہیکل کا پردہ پھاڑ دیاتھا جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا۔ یِسُوعؔ نے گناہ کی دیوار کو نیچے گرادیا جو خُدا سے ہم بنی نوع انسان کا راستہ روک چکی تھی۔ یِسُوعؔ جو کر چکا تھاوہ گناہ کی پوری دیوار کو گرانے کے لئے ضرورت سے کہیں زیادہ تھا۔ وہ ہر کسی کے لئے آسمان پر داخل ہونا حتمی طورپر بِلاروک ٹوک دل میں پانی اور روح کی  خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ممکن بنا چکا ہے۔ مَیں اپنے خُداوندکا ہمیں یہ سچائی بخشنے کے لئے شکر ادا کرتاہوں، تاکہ ہم سب واقعی آسمان پر داخل ہوں اگر ہم محض اپنے دل میں ایمان رکھتے ہیں۔
یہ واقعہ کتنا عظیم ہے، کہ یِسُوعؔ اِس زمین پر گنہگاروں کو بچانے کے لئے محض ایک  مخلوق کے بدن میں پیدا ہوا تھا؟ یہ واقعی ایک قابلِ ذکر  واقعہ ہے، یہاں تک  کہ جب اُس کی تخلیق کی ہوئی دنیا  کے ساتھ موازنہ کِیا جائے۔ یہ محض معمول کی بات ہے کہ خُداوند، خالق جس نے تمام چیزیں پیدا کیں،اپنی مخلوقات کو تخلیق کرے گا، لیکن یہ کہ خالق مخلوق کی مانند بن گیا، دنیا کے گناہوں کو بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اُٹھا لیا، اور مصلوب ہوا، کوئی اوربات نہیں ہو سکتی بلکہ نجات کا عظیم واقعہ ہے۔
کیسے خالق بذاتِ خود اپنی مخلوقات میں سے ایک کی مانند بن سکتا تھا؟ مگر یِسُوعؔ، بذاتِ خود خُدا نے، اپنے آپ کو اِس حد تک پست کر دیا  کہ اُ س نے دریائے یردنؔ پر بنی نوع انسان کے نمائندہ ،یوحناؔ اصطباغی، سےبپتسمہ بھی لیا۔ یہ کیساحیرت انگیز واقعہ ہے؟ لیکن یہ اختتام نہیں ہے، کیونکہ یِسُوعؔ نے خود کو پوری طرح سے پست کِیا، اور حتیٰ کہ اپنی موت تک، صلیب پر بےشمار سفاک دُکھوں کو برداشت کرنے، اپنا خون بہانے اور مرنے تک فرمانبرداری کی۔ یہ سب چیزیں خُدا کی محبت، اُس کی رحمت اور اُس کےعظیم فضل کےسِواکچھ نہیں ہو سکتیں۔
بنی نوع انسان کے تمام گناہ مکمل طورپر خُداوند کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون کے ساتھ ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے پاک ہو گئے تھے۔ اور ہیکل کا پردہ پھٹنے کے بعد، یِسُوعؔ تین دن بعد مُردوں میں سے جی اُٹھا، اوروہ اب اُن سب سے سچائی کے اندر ملنا چاہتا ہے جو اِس سچائی پر ایما ن رکھتے ہیں۔ اِس طرح، خُداوند کا کام جو گنہگاروں کو بچا چکا ہے ایسا واقعہ ہے جو عظیم اور حتیٰ کہ اُس کی تخلیق کے کاموں سے کہیں بڑا ہے جس نے اِس کائنات اور اِس میں موجودتمام اشیا کو پیدا کِیا۔ یِسُوعؔ کی پیدائش، اُس کا بپتسمہ، صلیب پر اُس کی موت، اُس کا جی اُٹھنا، آسمان پر چڑھنا اور واپس آنا، اور یہ کہ  وہ ہمیں اپنی اولاد بنا چکاہےیہ سب خُداکی محبت کے کام ہیں۔
ہمارا خُداوند آپ کو اور مجھے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔ ہمار ا خُداوند پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے آپ کو اور مجھے ایک ہی بار دنیا کے گناہوں سے ہمیشہ کے لئے آزاد کرچکا ہے۔ اِس لئے ہم ایمان کے وسیلہ سے راستباز بن سکتے ہیں اور خُداکا شکرادا کر سکتے ہیں۔ خُدا ہم  پر  بھرپوری  سے اپنی نجات
کی برکت نازل کر چکا ہے۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟
بھائیو اور بہنو، آپ اور مَیں ایسے شخض تھے جو بچ نہ سکتے بلکہ جہنم میں پھینکے جاتے۔ ہم ایسے شخض تھے جو بچ نہ سکتے بلکہ اپنے گناہوں کی وجہ سے تباہ ہوتے اور غمگینی میں اپنی زندگیاں گزارتے، لیکن خُداوند ہمیں نجات کے ساتھ گناہ سے بچا چکا ہے جس کا وہ حتیٰ کہ دنیا کی بنیاد سے پہلے منصوبہ بنا چکا تھا۔ ہم کوئی دوسرا چارہ نہیں بلکہ اپنے گناہوں کے درمیان بیٹھنے، ماتم کرنے، پچھتانے، اور اپنی قسمت کو لعنت کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارنے کا چارہ رکھتے تھے، لیکن ہم جیسے لوگوں کو آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے قابل کرنے کے لئے، خُداوند ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے آزاد کر چکا ہے۔ یوں ہمارا خُداوند ہماری نجات کا مالک بن چکا ہے۔
یِسُوعؔ ہمیں پانی اورروح کی خوشخبری عنایت کر چکا ہے، اور وہ ہماری گناہ کی معافی کی ضمانت بھی دے چکا ہے۔ یِسُوعؔ بذاتِ خود نجات کا خُداوند بن چکاہے۔ یِسُوعؔ نے ہماری جگہ پر دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا، ہماری جگہ پر مرگیا، اور یوں ہمارا کامل نجات دہندہ بن گیاہے۔
 
 
کیا آپ بپتسمہ پرجو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور
 خون پرجو اُس نے بہایا ایمان رکھتے ہیں؟
 
 گناہ سے ہماری رہائی بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا اور صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے پوری ہوتی ہے۔ یِسُوعؔ کو نجات دہندہ کے طورپر ماننے سے گنہگاروں کو نجات یافتہ ہونے کے لئے، اُنھیں اُس کے بپتسمہ اور صلیب کوترتیب میں رکھنا یقینی بنانا  چاہیے، اور اُنھیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ اِن دو نوں کے اتحاد ہی سے ہے کہ کامل نجات پوری ہوتی  ہے۔
کسی بھی طرح سے، کیا آپ ایمان نہیں رکھ رہے کہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مرگیا؟ کیا
آپ بپتسمہ کو نظر اندا ز نہیں کر رہے ہیں جو یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل کِیا اور اِس پر ایمان رکھنے سے انکار کر رہے ہیں؟ خُدا کی راستبازی پوری ہوگئی تھی کیونکہ بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا وہ عمل تھا جس کے وسیلہ سے اُس نے گنہگاروں کی ساری بدکرداریوں کو اُٹھا لیا، اوروہ موت جو اُس نے اپنا قیمتی خون بہانے کی بدولت برداشت کی وہ ہمارے گناہوں کی سزا تھی۔ اِس طرح، جب آپ اور مَیں یِسُوعؔ پرا یمان رکھنے کا اِقرار کرتے ہیں ،توہمیں اُس کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون دونوں پر ایک نجات کے طور پر ایمان رکھناچا ہیے۔
خُدا نے اپنے کلام میں یِسُوعؔ کے بپتسمہ کی اہمیت اور خون بہانے کو تحریر کِیا، اور اِس کے باوجود بہت سارے لوگ ابھی بھی اصرار کرتے ہیں کہ اُنھیں نجات یافتہ ہونے کے لئے صرف صلیبی خون پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر آپ اُن میں سے ایک ہیں، تو آپ کو یقیناً اپنے عقیدہ پر سنجیدگی سے دوبارہ غور کرنا چاہیے، رجوع لانا چاہیے، اور اِن دونوں ضروری عملوں پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے بلکہ صرف صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں، توپھر آپ خُداوند کی عوامی زندگی کی مقدس خدمات کو سب بیکار میں بدلتے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔ اگر آپ اتفاقاً ایسا ایمان رکھتے ہیں، تو آپ کو اِس ناقص ایمان سے باز آنا  چاہیے اوروہ سچا ایمان رکھنا چاہیے جو پورے کلامِ مقدس میں فرمایا گیا ہے۔ اُس کے بپتسمہ کے بغیر، صلیب پر اُس کی موت ہمارے لئے کیا اہمیت رکھے گی؟ اگر یِسُوعؔ یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ نہ لیتا، تواُس کی موت ہمارے گناہوں کے ساتھ کچھ تعلق واسطہ نہیں رکھے گی۔
بھائیو اور بہنو، اگر آپ کسی بل سے اپنے نام مٹادیں، تو کیا آپ کواصل میں  پیسے لانےاور قرض دہندہ کو ادائیگی کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی؟ قرض دہندگان کو یقیناً اپنے قرض کی متعلقہ رقم ادا کرنی چاہیے، اور صرف تب ہی وہ قرضے کی فہرست سے اپنا ناموں کو مٹا سکتے ہیں۔ اِس طرح، ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے، یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے ذریعےہمارےایسے گناہوں اور بدکرداریوں کو قبول کِیا اور اپنا خون بہانے کے ذریعے اُنھیں مٹا دیا۔
بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے حاصل کِیا، خُداوند نے درحقیقت ہمارے سب گناہ اُٹھا لیے، اور یہی وجہ  ہے کہ وہ اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے ہمارے سب گناہوں کے لئے سزا برداشت کر سکتا تھا۔ ایک قرض ادا کرنے کے لئے، عام فہم  یہ بتاتی ہے کہ کسی شخص کو ایک ایسی قیمت لانی چاہیے جو اِس قرض سےمطابقت رکھتی ہو۔اگر قرض دار رقم نہیں لاتے بلکہ صرف اپنے قرض کی  ادا ئیگی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے نام بل میں سے مٹانے کا مطالبہ کرتے ہیں، تو کیا واقعی اُن کے نام مٹ جائیں گے؟اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کتنی ہی سنجیدگی سے ایمان رکھتے ہیں کہ اُن کے نام مٹائے جا چکے ہیں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُن کے نام ابھی بھی بل میں موجود ہیں۔
جیسا کہ مقروض اپنے قرضوں سےصرف اسی صورت میں آزاد ہو سکتے ہیں جب  واقعی قرض ادا کردیاجائے،ہم گنہگاروں کو گناہ کی معافی حاصل کرنے کے لئے، یقیناً اپنے دلوں میں وہ ایمان رکھنا چاہیے جو یہ یقین رکھتا ہو کہ ہمارے گناہ بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے حاصل کِیا یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے۔ ہم نے بذاتِ خو د یہ بپتسمہ نہیں دیا جس نے ہمارے گناہوں کو یِسُوعؔ کے سرپر منتقل کِیا تھا۔
لیکن یوحناؔ اصطباغی نامی ایک ثالث کے ذریعے، ہم اپنے گناہوں کو یِسُوعؔ پر منتقل کرنے کے قابل ہوگئے۔ یِسُوعؔ جس نے یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لیا دنیا کے گناہوں کو کندھا دیا، صلیب پر گیا، اپنا خون بہایا اور مرگیا۔اُس کے بپتسمہ، یعنی مشابہ اور نجات کی رسید پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، جس کے وسیلہ سے یِسُوعؔ نے ہمارے گناہوں کو اُٹھالیا اور ہمیں بچا چکا ہے، ہم اپنی نجات کا ثبوت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارےخُداوندنےہمارےلیےہمارے دلوں میں جو کچھ کِیا ہے اِس پر ایمان رکھنے سے، اب ہم گناہ کی معافی حاصل کرنے کے قابل ہوگئےہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ہمیں اپنےبپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے، ہمارا خُداوند نئی زندگی دے چکاہے۔
جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا، پاکترین مقام کا پردہ دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا، زمین ہل گئی، چٹانیں تڑک گئیں، قبریں کھل گئیں، اور بہت سارے مقدسوں کے بدن جو سو چکے تھے جی اُٹھے۔ اِن واقعات کے ذریعے، خُدا نے ظاہرکِیاکہ وہ اُن کو اُٹھا کھڑا کر ے گا جنھوں نے اُس کے کلام پر ایمان رکھا، کہ یِسُوعؔ مسیح آئےگااور بنی نوع انسان کے تمام گناہوں کو مٹادےگا۔ اُس نے ظاہرکِیاکہ یِسُوعؔ واقعی  مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور وہ جو یِسُوعؔ پر ایمان رکھتے ہیں وہ واقعی  زندہ  کیے جائیں گے۔ یِسُوعؔ نہ صرف ہمیں گناہ سے بچا چکا ہے، بلکہ وہ ہمیں نئی زندگی بھی دے چکا ہے جو روحانی طورپر مُرد ہ تھے۔ یہ ہمیں نئی زندگی دینا تھا کہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا، اور پھر زندہ ہوگیا۔ خُدا ہمیں اپنے مقدس شہر میں داخل ہونے اور اِس میں ابد تک زندہ رہنے کے قابل کرچکا ہے۔ مَیں اپنے ایمان کے ساتھ اُسے اپنا حقیقی شکرپیش کرتاہوں۔
وہ جگہ جہاں گناہ کی معافی حاصل کر نے والے  زند ہ رہیں گے وہ آسمان ہے۔ پس ایمان رکھیں کہ وہ جو اِس زمین پر گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں سب آسمان پر داخل ہوں گے اور اِس میں زندہ رہیں گے۔ آسمان اُن لوگوں کا ہے جنہوں نے گناہ کی معافی حاصل کی ہے۔ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا اور نئے سِرےسے پیدا ہونا دو الگ الگ چیزیں  نہیں ہیں، بلکہ یہ دونوں ایک ہی ہیں۔
اگر کوئی پانی اور روح کی خوشخبری کے کلام پر ایمان رکھتا ہے، تو  وہ شخص اُسی لمحے نئے سِرے سے پیدا ہوتاہے جب وہ ایمان رکھتا ہے۔ جب گنہگار گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں، تووہ خُدا کے اپنے بچےبن جاتے ہیں، اور اپنے بچوں کو، خُدا آسمان بخشش کے طورپر دیتا ہے۔ گو اپنے بدن میں ہم اپنا ذاتی کوئی کام نہیں رکھتے، محض ایک چیز کودیکھتے ہوئے، ہمارا ایمان جو نجات دہندہ پر یقین رکھتا ہے، ہمارا خُداوند ہمیں گناہ کی معافی اور ہمارے لئے اپنی بخششوں کے طورپر آسمان کو عطا کرچکا ہے۔
یہ حقیقت کہ ہمارا خُداوند اِس زمین پرآیا، کہ اُس نے بپتسمہ لیا، اور یہ کہ  اُس نے اپناخون بہایا، یہ سب سچ ہے۔ جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا،تو وہ اپنے بپتسمہ کے ساتھ دنیا کے گناہوں کو اُٹھا چکا تھا۔ یِسُوعؔ کے مصلوب ہونے سے پہلے،یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے بعد، وہ پہلے ہی دنیا کے گناہوں کو اُٹھائے ہوئے تھا۔تو یہ تھا کیونکہ یِسُوعؔ نےبپتسمہ لینے کے وسیلہ سے دنیا کے سارے گناہوں کو کندھےپراُٹھالیاتھا کہ اُسے شریعت کی سزاکو برداشت کرنا پڑا جس میں گناہ کی مزدوری موت قرار دیا گیا تھا۔ یِسُوعؔ کےلیےبنی نوع انسان کو گناہ سے بچانے کے لئے،صلیب پر مرنا تھا جب وہ دنیا کے گناہوں کو اُٹھائے ہوئے تھا جو وہ اپنے بپتسمہ کے ساتھ لے چکا تھا۔
جب یِسُوعؔ کوصلیب پر چڑھایا گیا،تو وہ  لوگ جنھوں نے اُسے کیل ٹھونکے وہ یہودی نہیں تھے، بلکہ وہ رومی سپاہی تھے۔ یِسُوعؔ کوغیر قوم کے سپاہیوں نے مصلوب کِیا تھا۔ ہمارے گناہوں کی خاطر اپنا سارا خون بہاتےہوئے، یِسُوعؔ نےاپنی آخری سانس کے ساتھ چلاکرکہا،  ”تمام ہوا!“ اُسی لمحے، ہیکل کا پردہ اوپرسے لے کر نیچے تک پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا۔ مزیدبرآں، کلامِ مقدس ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ زمین پر بھونچال آیا، چٹانیں تڑک گئیں، اور قبریں کھل گئیں؛ اور یہ کہ  بہت سارے مقدسوں کے بدن جو سو گئے تھے اِسی طرح جی اُٹھے (متی ۲۷:۵۱۔۵۲)۔ جب صوبیدار اور رومی سپاہیوں نے دیکھا کہ کیا واقع ہوا جب یِسُوعؔ صلیب پر مرگیا، تو اُنھوں نے گواہی دی،  ” بیشک یہ خُدا کا بیٹا تھا۔“  (متی ۲۷:۵۴)۔ خُدا اِن غیر قوم کےسپاہیوں کے منہ سے گواہی دلوا چکا تھاکہ  ”یِسُوعؔ زندہ خُدا کا بیٹا تھا۔
اب، وہ لوگ جنہیں پوری دنیا میں سچی خوشخبری کی گواہی دینی چاہیے وہ ہمارے علاوہ، یعنی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے والوں کے علاوہ کوئی دوسرے نہیں ہیں۔ یہ پانی اور روح کی خوشخبری کے وسیلہ سے ہے کہ ہر کوئی تبدیل ہوجاتا ہے۔ جب لوگ یِسُوعؔ سے گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں،تو وہ حتیٰ کہ کوشش کیے بغیر روحانی طورپر تبدیل ہو جاتے ہیں، کیونکہ روح القدس اُن کے دلوں میں سکونت کرنے کے لئے آتا ہے۔ اور نئے سِرے سے پیدا ہوئے راستبازوں کے دل ہر روز نئے ہوتے ہیں، کیونکہ خُدا کی کلیسیا میں وہ مستقل طورپر پانی اور روح کی خوشخبری کا کلام سن سکتے ہیں۔ وہ کلام سننے،اور یِسُوعؔ کی پرستش کرنے کے لئے آتے ہیں، اور جونہی وہ پرستش کرتے ہیں، وہ تجربہ کرتے ہیں کہ یہ دُھنیں اُن کے دلوں میں نقش ہو جاتی ہیں،اور یوں ہر روز اُن کے دلوں کو نیا کرتی ہیں۔ راستباز لوگ مسلسل اپنے دلوں کو تبدیل ہوتے ہوئے پاتے ہیں، اور وہ ایسی قابلِ احساس  تبدیلیوں کو اپنے آپ میں محسوس کر سکتے ہیں۔
اور ہماری بدلی ہوئی  زندگیاں دیکھ کر، جو راستباز بن چکے ہیں، غیر ایماندار گواہی دیتے ہیں،  ”وہ واقعی نجات یافتہ ہیں۔وہ حقیقی مسیحی، خُدا کے لوگ ہیں۔“  اِس طرح، ہماری گناہ کی معافی نجات کی وہ قِسم نہیں ہے جو تنہا ہماری ذات کے ذریعہ سے ثابت ہوتی ہے۔ رومی صوبیدار اور سپاہیوں نے بھی اِس سچائی کی گواہی دی، کہ یِسُوعؔ خُدا کے بیٹے کے طورپر گنہگاروں کو دنیا کے گناہوں سے بچا چکا تھا جب وہ مصلوب ہوا تھا۔ اِس طرح، خُدا نے خود اُن کی گواہی دی جو سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ ہمیں پانی اور خون کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
 
 
پانی اورروح کی خوشخبری جس کے آگے ابلیس بھی ہتھیار ڈال چُکا ہے
 
 پانی اور روح کی خوشخبری وہ نجات ہے جس کے آگے اِبلیس بھی ہتھیار ڈال  چکا  ہے۔ جب یِسُوعؔ نے اپنی موت پر،  ”تما م ہوا“ کہا، تو اِبلیس نے کہاہوگا،  ”آہ، یہ تکلیف دہ  ہے، لیکن مَیں اِس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا! وہ حق بجانب ہے۔ اب اِس دنیا میں مزید کوئی گناہ نہیں ہے۔ ہر کوئی بِلا مستثنیٰ مکمل طورپر گناہ کے بغیر ہے! یہ میرے دل کو کھانے والی بات ہے، لیکن مَیں اِس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتا “!
دوسرے لفظوں میں، اِبلیس بذاتِ خودبچ نہیں سکتا تھا بلکہ اِس نجات کو تسلیم بھی کِیا جو یِسُوعؔ نے مکمل کی۔ لیکن وہ پھر بھی اُن لوگوں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے جواپنی ایمان کی زندگیاں گزارنے سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔ اِس طرح وہ جو یِسُوعؔ کی معرفت مکمل ہوئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں خُداکے بیٹے ہیں، وہ اُس کے لئے زندہ رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اِبلیس کے لئے، اِس کا مطلب صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اُ س کے بہت کم  خادم ہوں گے جو گناہ کے غلام ہوں گے، اور اِس لیےوہ خُدا کے خادموں کو پوری دنیا میں اِس سچائی کو پھیلانے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے۔
اگر وہ لوگ جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں پانی او ر روح کی خوشخبری کو پھیلانا جاری رکھتے ہیں، توپھر گناہ سے چھٹکارہ پانےوالےاَوربھی زیادہ لوگ ہوں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان لوگوں کی کمزوریوں میں اپنے دانت دھنساتاہے اور اُنہیں جانے نہیں دیتا، اُن میں رکاوٹ ڈالتا ہے تاکہ صرف ایک اور شخص بھی یِسُوعؔ کی پیروی کرنے سے ناکام ہوجائے۔
اُنھیں یوں کہنے کی بدولت لوگوں کے دلوں کو بھڑکایا کہ ”یِسُوعؔ کو مار دو!“، اِبلیس نے اُسے مرنے کے لئے مصلوب ہونے کے حوالہ کِیا۔ لیکن جب اِبلیس نے سوچا کہ اِس کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جائےگا،یِسُوعؔ، مصلوب ہوا اور مرتے ہوئے، بُلند آواز سے چلاکرکہا، ”تمام ہوا۔‘‘ شیطان کو اِس سے دھچکا لگا۔ناکام ہونے  سے کہیں دُور، دریائے یردنؔ پر اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے سب گناہوں کو اُٹھانے اور صلیب پر مرنے کی بدولت، یِسُوعؔ راستبازی سے نجات کو مکمل کر چکا تھا جو بنی نوع انسان کو گناہ اور سزا سے آزاد کرتی ہے۔ اِبلیس خُد اکی اِس حکمت سے بے بہرہ تھا۔ وہ سوچ چکا تھا کہ ہر چیز ختم ہو جائے گی اگر وہ محض یِسُوعؔ کو صلیب پر مار دے گا، لیکن یہ اصل صورتِ حال نہیں تھی۔ اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو اُٹھانے کے بعد، یِسُوعؔ نے گنہگاروں کی گناہ کی معافی صلیب پر اپنا بدن دینے اور مرنے کے وسیلہ سے مکمل کر دی۔
اپنے بدن کی موت کے ساتھ، یِسُوعؔ پہلے ہی گناہ کی ساری مزدوری ادا کر چکا ہے۔ اِس طرح، گناہ اب لوگوں میں نہیں پایا جا سکتا۔ کیوں؟ کیونکہ گناہ کی مزدوری کوموت قراردینے والی شریعت کے مطابق، یِسُوعؔ پہلے ہی گنہگاروں کی جگہ پر مر گیا تھا۔ ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے کہ یہ اِس لیے ہوا کیونکہ یِسُوعؔ دریائے یردنؔ پر تمام گنہگاروں کی بدکرداریاں اُٹھا چکا تھا کہ وہ گنہگاروں کی جگہ پر بے رحمی سے مر سکتا تھا۔
تمام ہوا۔“ یہ ہےجو یِسُوعؔ نےاپنی آخری سانس کے ساتھ صلیب پر چلاکرکہا۔ کیونکہ یِسُوعؔ مرگیا، اِبلیس اب ہم سے یہ نہیں کہہ سکتا، ”تم گناہ رکھتے ہو، کیا تم نہیں رکھتے؟“ یِسُوعؔ مسیح کی پیدائش، اُس کے بپتسمہ، صلیب پر اُس کی موت، اور اُس کے خون اور جی اُٹھنے کی وجہ سے، اِبلیس نے یِسُوعؔ کے سامنے ہولناک شکست برداشت کی۔اگرچہ اِبلیس ہر وقت ہم سے گناہ کروانے کی وجہ سے خُدا کے ساتھ ہمارے تعلقات کو منقطع کر چکا تھا، آخر کار، خُدا کے بیٹے،یِسُوعؔ کی حکمت کی وجہ سے، اُس کے گناہ کو دھونے اور سزا کو برداشت کرنے سے، وہ بالآخر بچ نہیں سکتا تھا بلکہ مکمل طورپر شکست کھاگیا۔
جب آپ یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں، کیا آپ پھر بھی گناہ رکھتے ہیں؟ ہرگز نہیں! یہ کہنا کہ ہم کوئی گناہ نہیں رکھتے ایسی بات ہے جو صرف انسانی ضمیر کے ساتھ بالکل نہیں کہی جا سکتی۔ لیکن یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، اب ہم دلیری سےیہ اعلان کرنے کے قابل ہیں کہ ہم بے گناہ ہیں۔ کیا آپ سچائی پر ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ نے دریائے یردنؔ پر بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمار ے گناہوں کو اُٹھا لیا، ہمار ی جگہ پر صلیب پر مر گیا، او ریوں ہمیں بچا چکا ہے؟ اِس سچائی پر ہمارے ایمان کی بدولت، اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم کوئی گناہ نہیں رکھتے۔ اوردر حقیقت ، بالکل ہمارے دل میں کوئی گناہ نہیں ہو سکتا، ایک پیسے کےبرابربھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا کے سامنے ہمارے شکر گزار دل، ایمان کے ساتھ اپنی شکر گزاری پیش کرتے ہوئے اُبھرتے ہیں۔
اَے خُدا، میرا ایمان بڑا نہیں ہو سکتا، لیکن رائی کے دانےکےبرابرچھوٹےایمان کے باوجود، مَیں آپ کا  شکریہ  ادا کرتاہوں۔ مَیں وہ شخض تھا جو حتیٰ کہ تیری عظیم محبت کو پانے کے قابل نہیں ہو سکتاتھا، لیکن تُو پھر بھی میرے دل میں آیا، اور اِس طرح میرے ایمان کے ساتھ جو پانی اور روح کی خوشخبری پر یقین رکھتا ہے، مَیں اب اپنے دل میں تیری محبت رکھتا ہوں۔ میرا دل ہر روز تیرا شکر گزار ہے، کیونکہ خُداوند تو میرے دل میں رہتا ہے اور میرے ساتھ ہے۔ایسا دل دینے کے لئے، مَیں اپنی ساری شکر گزاری تجھے پیش کرتاہوں۔“ اِس طرح، ہمارا خُداوند ہمیں شکر گزار دل عنایت کر چکا ہے۔ اور ہمارا خُداوند ہمیں ہر روز برکت دیتا ہے۔
پس نہ صرف مَیں، بلکہ ہر وہ شخص جو اُس کی کامل نجات کی سچائی کو سنتا اوراِس پر ایمان رکھتا ہے، ہم سب واضح طورپر اپنے دل میں بالکل کوئی گناہ نہیں رکھتے۔ کیونکہ ہم پانی اور روح کی سچائی پر ایمان رکھتے ہیں، ہمیں نجات کی برکت، خُد اکے اپنے بچےبننے کی برکت ملی ہے۔ اور خُدا پورے دل سے چاہتاہےکہ سب یہ جان لیں کہ اُن کے پاس یِسُوعؔ کی پیدائش اور اُس کے بپتسمہ اور خون، پر ایمان رکھنے کے بغیر اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونےاور اُس کی طرف لوٹنے اور اِس سچائی پر ایمان رکھنے کی  کوئی راہ نہیں ہے۔
اعمال ۴: ۱۲اعلان کرتا ہے،  ” اور کِسی دُوسرے کے وسِیلہ سے  نجات  نہیں  کیونکہ
آسمان کے تَلے آدمِیوں کو کوئی دُوسرا نام نہیں بخشا گیا جِس کے وسِیلہ سے ہم نجات پا سکیں۔ “  ہم یِسُوعؔ پر اپنے نجات دہندہ کے طورپرایمان رکھتے ہیں۔ جولوگ اِس پر ایمان رکھتے ہیں، اُن میں شکر گزار دل پھوٹتے ہیں۔ اِس لئے ہم ایسے دل رکھتے ہیں جو خُداوند کے شکر گزار ہیں۔ ہمارا خُداوند ہمیں نجات دے چکا ہے، اور وہ ہمیں شکرگزار دل بھی عطا کر چکا ہے۔ خُداوند ہمیں ابدی زندگی عنایت کر چکا ہے۔ ہم رہ نہیں سکتے بلکہ یہ تمام کثرت کی برکات ہمیں دینے کے لئے اپنی شکر گزاری کے ساتھ خُداوند کو جلال دیتے ہیں۔
یہاں تک کہ اگر ہمارا ایمان رائی کے دا نے جتنا چھوٹا ہے، اگر ہم پھر بھی اِس پر ایمان رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ ہمارے لئے ہمارے دلوں میں کر چکا ہے،تو ہم سب نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ مَیں آپ سب سے یہ سمجھنے  کی درخواست کرتاہوں کہ کچھ دوسرا موجود نہیں ہے جو ہم اپنی نجات کے لئے کر سکتے ہیں بلکہ صرف ایمان رکھنا ہے، اِس نجات کو جاننا جو خُدا مفت ہمیں دے چکا ہے، اور اِس پر ایمان رکھنا ہے۔یہ اِس لیےہے کیونکہ گناہ کی معافی ہماری ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے حاصل نہیں ہو سکتی کہ خُدا یکطرفہ طور پر ہمارے تمام گناہ اپنے  طور  پر مٹا چکا ہے اور ہم میں سے جو ایمان رکھتے ہیں اُن سب کو اپنی نجات دے چکا ہے ۔اب، ہمارے لئے بس ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی یہ معافی حاصل کرنا  باقی ہے۔
کوریا میں ایک کہاوت ہے کہ،  ”اگر آپ کومفت چیزیں بہت زیادہ پسند ہیں، تو آپ گنجے ہو جائیں گے۔“  انگریزی بول چال  میں، یہ اِس کے  مساوی ہو سکتی ہے،   ”مفت کھانے جیسی کوئی چیز نہیں  ہے۔“ یہ یقینی طور پر  سچ ہے؛ زندگی میں ہمیں کچھ بھی مفت حاصل نہیں ہوتا۔ اور ہم اُن لوگوں کا مذاق اُڑانے کے لئے موزوں ہیں جو بدلے میں کچھ دئیے  بغیر تحائف وصول کرنے کی توقع  کرتے ہیں۔ بہرحال، نجات یافتہ ہونا اور آسمان پر جانا پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل ہوتا ہے، یہ سب مفت ہے۔ بہت زیادہ مفت حاصل کرنے سے گنجا پن جسمانی طور پر بدصورت ہو  سکتا ہے، لیکن خُدا کے تحفے کو حاصل کرنے کےلیے روحانی گنجا پن خُدا کے سامنے ایک برکت ہے۔مَیں دُعاکرتاہوں کہ آپ سب  یہ احساس کریں گے کہ خُدا ہمارے بے گناہ دلوں کو  دیکھ کر خوش ہوتا ہے، اور یہ دیکھ کر ، وہ ہمیں اپنے بانہوں میں لےلیتاہے۔
ہم خُدا کے مفت فضل کے مشتاق ہیں۔ اور ہم رہ نہیں سکتے بلکہ خُداوند کا شکر کرتے ہیں: ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، پانی کے ساتھ اپنا بپتسمہ حاصل کِیا، صلیب پراپنا خون بہایا، اور یوں آسمان کا دروازہ کھول چکا  ہے۔ پاکترین مقام کا پردہ اوپر سے لے کر نیچے تک پھاڑنے کی بدولت، وہ ہر کسی کو جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے سے پیدا ہوتا ہے آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے قابل کر چکا ہے۔ آپ کو، بھی، یقیناً اپنے دلوں میں پانی او ر روح کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے آسمان پر داخل ہونا چاہیے۔
مَیں ہمارے خُداوند کا بپتسمہ لینے، اپنا خون بہانے،مُردوں میں سے جی اُٹھنے، اور فضل کے لئے جو یوں ہمارے لئے گناہ کی معافی کا دروازہ کھول چکا ہے شکر ادا کرتاہوں۔