خطبات

مضمون 11: خیمۂ اِجتماع

[11-20] <خروج ۳۰:۱۔۱۰> بخور کی قربانگاہ

> خروج ۳۰:۱۔۱۰  <
اور تُو بخُور جلانے کے لِئے کِیکر کی لکڑی کی ایک قُربان گاہ بنانا۔اُس کی لمبائی ایک ہاتھ اور چَوڑائی ایک ہاتھ ہو۔ وہ چَوکھونٹی رہے اور اُس کی اُونچائی دو ہاتھ ہو اور اُس کے سِینگ اُسی ٹُکڑے سے بنائے جائیں۔اور تُو اُس کی اُوپر کی سطح اور چاروں پہلُوؤں کو جو اُس کے گِرداگِرد ہیں اور اُس کے سِینگوں کو خالِص سونے سے منڈھنا اور اُس کے لِئے گِرداگِرد ایک زرِّین تاج بنانا۔اور تُو اُس تاج کے نِیچے اُس کے دونوں پہلُوؤں میں سونے کے دو کڑے اُس کی دونوں طرف بنانا۔ وہ اُس کے اُٹھانے کی چوبوں کے لِئے خانوں کا کام دیں گے۔اور چوبیں کِیکر کی لکڑی کی بنا کر اُن کو سونے سے منڈھنا۔اور تُو اُس کو اُس پردہ کے آگے رکھنا جو شہادت کے صندُوق کے سامنے ہے۔ وہ سرپوش کے سامنے رہے جو شہادت کے صندُوق کے اُوپر ہے جہاں مَیں تُجھ سے مِلا کرُوں گا۔اِسی پر ہارُونؔ خُوشبُودار بخُور جلایا کرے۔ ہر صُبح چراغوں کو ٹھیک کرتے وقت بخُور جلائے۔اور زوال غرُوب کے درمیان بھی جب ہارُونؔ چراغوں کو رَوشن کرے تب بخُور جلائے۔ یہ بخُور خُداوند کے حضُور تُمہاری پُشت در پُشت ہمیشہ جلایا جائے۔اور تُم اُس پر اَور طرح کا بخُور نہ جلانا نہ اُس پر سوختنی قُربانی اور نذر کی قُربانی چڑھانا اور کوئی تپاون بھی اُس پر نہ تپانا۔اور ہارُونؔ سال میں ایک بار اُس کے سِینگوں پر کفّارہ دے۔ تُمہاری پُشت در پُشت سال میں ایک بار اِس خطا کی قُربانی کے خُون سے جو کفّارہ کے لِئے ہو اُس کے واسطے کفّارہ دِیا جائے۔ یہ خُداوند کے لِئے سب سے زِیادہ پاک ہے۔
 
 
 بخور کی قربانگاہ دُعا کی جگہ تھی
 
 
بخور کی قربانگاہ کیکر کی لکڑی سے بنائی گئی تھی، اور یہ مربع شکل، دونوں اپنی لمبائی اور چوڑائی میں ایک ہاتھ (۴۵ سینٹی میٹر: ۵.۱فٹ)، اور اونچائی میں دو ہاتھ کی پیمائش رکھتی تھی۔ پاک مقام کے اندر رکھی ہوئی، بخور کی قربانگاہ پوری طرح سونے کے ساتھ منڈھی ہوئی تھی،اور گِرداگِرد ایک زرِّین تاج  رکھتی تھی۔ اِس کے تاج کے نیچے سونے کے چار کڑے اِسے اُٹھانے کے لئے استعمال ہونے والی چوبوں کو پکڑنے کے لئے ڈالے گئے تھے۔ اِس بخور کی قربانگاہ پر، کچھ بھی نہیں بلکہ صرف مسح کاپاک تیل اور خوشبودار بخور استعمال ہوتا تھا (خروج ۳۰:۲۲۔۲۵)۔
بخور کی قربانگاہ وہ جگہ تھی جہاں دُعا کا بخور خُد اکے سامنے پیش کِیا جاتاتھا۔ لیکن  بخور کی قربانگاہ پر دُعامانگنے سے پہلے، ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ آیا ہم اِس قربانگاہ پر خُدا سے دُعا مانگنے کے اہل ہیں یا نہیں۔ جو کوئی پاک خُدا سے دُعا مانگنے کے اہل ہونا چاہتا ہے اُسے پہلے یقیناً ایمان کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کو دھونے کی بدولت بے گناہ بننا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لئے،ہر کسی کو یقیناً سوختنی قربانی اور حوض کے ایمان کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے پاک ہونا چاہیے۔
خُدا گنہگاروں کی دُعائیں نہیں سُنتا (یسعیاہ ۵۹:۱۔۳)۔ کیوں؟ کیونکہ خُدا صرف اُن کو قبول کرتا ہے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے و سیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے دُھل چکے ہیں۔ کیونکہ خُداآسمانی، ارغوا نی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی سچائی کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو دھو چکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، خُد ا صرف راستبازوں کی دُعائیں سن کر خوش ہوتا ہے (زبور ۳۴:۱۵،  ۱۔پطرس ۳:۱۲)۔
 
 
تمام بنی نوع انسان کی فطرت اور حقیقت
 
جب ہم قریب سے دیکھتے ہیں،تو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام بنی نوع انسان بشمول آپ اور مَیں، بنیادی طورپرایک گنہگار بیج کے طورپر پیدا ہوئے تھے، اور اِس لئے وہ سب گناہ کرتے ہیں۔ ہر ایک اور ہر کوئی بدکار کی نسل ہے۔ کیونکہ لوگ موروثی طورپر گناہ کے ساتھ پیدا ہوتے تھے، وہ بچ نہیں سکتے بلکہ بُرے کام کرتے ہوئے اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ اپنے آپ کے بارے میں سوچیں،آپ جو کوئی بھی ہوں۔ ہم خُد اکے سامنےتسلیم کر سکتے ہیں کہ ہم بُرے لوگ تھے جو بچ نہیں سکتے تھے بلکہ جہنم میں پھینکے جاتے۔ سب سے بڑھ کر، جب ہم خُد اکے سامنے اپنے اعمال کو پرکھتے ہیں،تو ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ خُدا کی شریعت کی مطابقت میں جو گناہ کی مزدوری موت قراردیتی ہے، ہم سادگی  سے  اُس  کی  گناہ  کی راست عدالت  سے
بچ نہیں سکتے۔
کیونکہ جوکچھ بنی نوع انسان کے دلوں سے نکلتا ہےوہ محض بُرے خیالات، خون، زناکاریاں، تکبر، اور بیوقوفی اور وغیرہ وغیرہ ہیں، جب بھی اُنھیں موقع ملتا ہے وہ یہ کام کرتے ہیں (مرقس ۷:۲۱۔۲۷)۔ بنی نوع انسان کے دل، جو بنیادی طورپر بدکاروں کی نسل کے طورپر پیدا ہوئے تھے، جب کبھی حالات اجازت دیں اور مواقع پید اہوں تو گناہ کرنےکےسِوا کچھ نہیں کر سکتے  ہیں، کیسے وہ کبھی خُدا کے سامنے بِلاشرم ہو سکتے ہیں؟ یہ انسان کی ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے ناممکن ہے۔ لیکن ایک اور واحد ایمان ہے جو ہمیں خُدا کے سامنے کوئی شرم نہ رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اور یہ یہاں ہے۔ ہم سب کو یقیناً جاننا اور آسمانی، ارغوانی،ا ور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان پر مشتمل سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے، سچائی جو ہمیں اپنے تمام گناہوں سے دُھلنے اور اِس طرح بِلا شرم خُدا کے سامنے کھڑے ہونے کے قابل بناتی ہے۔ اِس طرح، ہم میں سے سب کو پانی اور روح کی خوشخبری کی بالکل ضرورت ہے۔
ہم میں سے کوئی بھی اِس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا کہ ہم سب اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق تھے بلکہ صرف اِس مقدر کو مان سکتے ہیں۔ اور اُن کے لئے جو خُدا کے سامنے پہچانتے ہیں کہ وہ جہنم کے اسیر ہیں، اِس طرح اپنے دل میں نجات پر ایمان رکھنا مشکل نہیں ہے جو خُد ا اُنھیں عنایت کرچکا ہے۔ جب ہم خُدا کا وفاداری اور خلوصیت کے ساتھ سامنا کرتے ہیں،تو ہم اپنے دلوں کو فریب دہی سے اُ س سے چھپا نہیں سکتے، اور اِس طرح ہم خُدا کی راستبازی کے انصاف کوتسلیم کرتے ہیں۔ ہرایک کو ایسی جگہ پر رکھاگیا ہے کہ وہ بچ نہیں سکتے بلکہ خُدا کی راست عدالت کی بدولت اپنے گناہوں کی سزا پاتے ہیں۔
خُدا کی راست شریعت جو گناہ کی مزدوری کو  موت قراردیتی ہے ایسی شریعت نہیں  ہےکہ تمام گنہگار اپنے ذاتی خیالات یا مذہبی ایمان کے ساتھ بچاؤ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ خُدا کی شریعت مفصل، درست، اور راست ہے، یہ ہر کسی کو جو اِس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق ہے۔ تمام گنہگار احساس کرتے ہیں کہ وہ اپنے چھوٹے سےچھوٹے گناہوں کےلیےبھی خُدا کی عدالت سے بچ نہیں سکتے۔
اِس لئے، ہمیں نجات دہندہ کی ضرورت ہے جو ہم سب کو گناہ سے آزاد کرتا ہے، اور ہمیں یہ جانناہے کہ یہ نجات دہندہ کون ہے۔ یہ یِسُوعؔ مسیح، تما م بنی نوع انسان کا نجات دہندہ ہے۔ وہ نجات دہندہ ہے جو اِس زمین پر آیا، جس نے دنیاکے گناہوں کو اُٹھانے کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، جس نے مصلوب ہونے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے تمام گنہگاروں کی بدکرداریوں کی سزا برداشت کی، اور جو یوں ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔
ہم سب کویہ غلط فہمی تھی کہ گناہ کی معافی حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ درحقیقت ، ہم نے سوچا تھا کہ ہم نجات یافتہ ہو سکتے ہیں صرف اگر ہم پوری جامعیت سے کلامِ مقدس کو جانتے ہیں، یا  یہ کہ ہمار ی نجات کےلیے کسی قِسم کے نیک اعمال کی ضرورت ہے۔ لیکن خُدا کی معرفت بخشی گئی نجات کی حقیقت مختلف تھی۔نجات کے اِس سچائی نے ہمارے لئے خُدا کی شریعت کے سامنے اپنے ضمیروں کا معائنہ کرنے کے وسیلہ سے، تمام گناہوں کو پہچانتے ہوئے جو ہمارے دلوں میں پائے جاتے ہیں، اور پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہوئے، اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے کی ہمارے لئے راہ کھولی اور ہمیں راہ دکھائی۔ یہ سچائی خیمۂ اِجتماع کے دروازہ میں پہلے سے عکس بین تھی۔
بنی نوع انسان کی گناہ کی معافی آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے وسیلہ سے پوری ہوئی قیمتی نجات کی سچائی سے حاصل ہوتی ہے۔ اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہی ہم سب ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے گناہ کی ابدی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے، ہر کسی کو یقیناً تسلیم کرنا چاہیے کہ وہ سب اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم جانے کے لائق ہیں اور آسمانی، ارغوانی، اورسُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی خوشخبری پر، یوں ایک ہی بار اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرتے ہوئے ایمان رکھنا چاہیے۔ خوشخبری جو خُدا ہمیں عطا کر چکا ہے وہ خوشخبری ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں گرفتہ سچی خوشخبری میں پائی جاتی ہے۔
سب کو یقیناً سچائی کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے، کیونکہ اگر وہ اِس خوشخبری میں گرفتہ سچائی پر ایمان نہیں رکھتے، تو وہ اپنے گناہوں سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ لیکن وہ جو نجات کی اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں جو خُدا پانی اورروح کی خوشخبر ی کے ساتھ پوری کر چکا ہے وہ اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہونے اور خُدا کے اپنے بیٹے بننے کے لئے بے حد معقول ہیں۔ اِس طرح وہ لوگ بننے کے لئے جو خُدا کے سامنے جا سکتے ہیں اور اُس سے دُعا مانگ سکتے ہیں، ہمیں یقیناً پہلے پانی اور روح کی سچائی پر، یعنی گناہ کی معافی کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔ جب ہم حقیقی خوشخبری کو جاننے اور اپنے حقیقی دلوں سے اِس پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہوتے ہیں، تب ہم خُدا سے دُعامانگنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ ایمان جو ہمیں خُدا سے دُعا مانگنے کے قابل کرتا ہے اپنے دلوں میں پانی اور روح کی خوشخبری، یعنی خُدا کی طرف سے خوشخبری پرایمان رکھنے کے وسیلہ سے حاصل ہوتا ہے۔
خیمۂ اِجتماع کے پردہ کے دروازہ میں ظاہرہونےوالے آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے کی سچائی کو جاننے اور اِس پر یقین رکھنے والے ایمان کےبغیر خُدا سے دُعا مانگناغلط ہے۔ ایسا ایمان کفر بکنے کا گناہ کرنے اور خُدا کا تمسخر اُڑانے کی مانند ہے۔ کیسے ہم اپنے دلوں میں خیمۂ اِجتماع میں ظاہر کی گئی سچائی پر ایمان کا انکار کرنے کے وسیلہ سے خُدا کے دشمن بن سکتے ہیں؟
جب آپ یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنے سے انکار کرتے ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی سچائی کے وسیلہ سے آیا، تو یہ آپ کے لئے خُد ا کی دشمنی کوحاصل کرنے کاایک سہل راستہ ہے۔ یہ ہولنا ک بے اعتقادی کا عمل ہے جو خُدا کے خلاف کھڑی ہوتی ہے۔ وہ جانیں جو خُدا کی قدوسیت کو حقیر جاننے کا گناہ جاری رکھتی ہیں وہ لوگ ہیں جو نجات پر ایمان نہیں رکھتے جو خُدا اُن کے لئے پوری کر چکا ہے بلکہ اپنے ذاتی خیالات اور اپنے ذاتی مرضی کے مطابق ایمان رکھتے ہیں۔ ایسی جانیں وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو انجیر کے پتوں کی پوشاک سے یعنی بنام ”ریاکاری“ سے ڈھانپتے ہوئے، خُدا کی محبت اور فضل کی تذلیل کرتے ہیں۔
لیکن آپ کو یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ گو یہ لوگ اپنے ذاتی دلوں کو دھوکہ دینے کے قابل ہو سکتے ہیں، وہ خُداکی عدالت سے بچ نہیں سکتے۔ وہ جو ایسی بے اعتقادی رکھتے ہیں خُدا کی راست شریعت کے مطابق گناہ کی خوفناک سزا پانے کے لئے لعنتی ٹھہریں گے۔ کیوں؟ کیونکہ اُنھوں نے پانی اور روح کی خوشخبری کو جاننا نہ چاہا جس کے ساتھ خُداوند اُن کے گناہوں کو مٹا چکا ہے، نہ ہی اِس خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہا۔
جب ہماری اپنی نظروں میں بھی ہمارے ضمیر گندے ہیں،تو ہم اپنے گناہوں کو کیسے قدوس خُدا سے چھپا سکتے ہیں؟یہ صرف  ناممکن ہے! جو کوئی بھی اپنے گناہوں کو چھپانا چاہتا ہےوہ خُدا کی محبت اور فضل سے محروم رہ  جائے گا۔ وہ جو اپنے ذاتی دلوں کو دھوکہ دیتے ہیں  وہ اِبلیس کے بدکار خادموں کے طور پر ختم ہو جائیں گے جو خُدا اور اپنے ساتھی بنی نوع انسان کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ یہ تصور  کہ وہ کسی طرح اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر خُدا کو دھوکہ دے سکتے ہیں ،یہ اُن کے تکبر کی عکاس ہے جو اُن کے  مغرور خیالات سے نکلتا ہے۔درحقیقت ، اپنے ذاتی خیالات پر اِنحصار کرنےوالے وہی لوگ ہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری کو چیلنج کرتے ہیں، اور جو اپنی مرضی سے شیطان کے خادم بننےکی کوشش کرتےہیں۔
لوگوں کو یہ جان لینا  چاہیے کہ اگرچہ وہ اپنے دلوں کو دھوکہ دینے کے قابل ہو سکتے ہیں،لیکن وہ خُد اکو کبھی دھوکہ نہیں دے سکتے۔ اور اُنھیں یقیناًخُداکے کلام کے مطابق ایمان رکھنے کے لئے اپنے ذہنوں کو تبدیل کرنا چاہیے۔ پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے بغیرکیسےکوئی اپنے  گناہوں  کو دھو سکتا ہے؟ جیساکہ یہ لکھا ہوا ہے کہ گناہ کی مزدوری موت ہے، کوئی  بھی گنہگار جو خُدا کے سامنے اپنے دل کودھوکہ دیتا ہے خُداکی عدالت سے کبھی نہیں بچ سکتا۔ اگر ہم خُدا کی شریعت کو مانتے ہیں، تب یہ واضح ہے کہ ہم سب اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم کے لائق ہیں۔ اِس طرح، اُن سب کو جو خُد ا کے پا س آنا چاہتے ہیں یقیناً خیمۂ اِجتماع کے دروازہ میں ظاہر کی گئی خوشخبری کی سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہونا چاہیے۔
تاہم، چونکہ بہت سارے لوگ حقیقت کا احساس کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں کہ اُنھیں اپنے گناہوں کی وجہ سے لعنتی ٹھہرنا ہے، وہ اپنے دلوں میں نجات کی خوشخبری قبول کرنے میں بھی ناکام ہو چکے ہیں جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی سچائی کے وسیلہ سے حاصل ہو چکی ہے، اور نتیجہ کے طور پر، وہ سب جہنم کی طرف جا رہے ہیں۔ اِس سے قطع نظر کہ آیا وہ پہلے ہی مسیحی ہیں یا نہیں، وہ جو پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے اُسی سزا کا سامنا کریں گے۔ اِس طرح، ہمیں یقیناً اپنے خُدا کے سامنے اپنے ذاتی ضمیروں کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے، بلکہ اپنے دلوں میں پانی اور روح کی خوشخبری کوقبول کرنا چاہیے، اور ماننا اور اِس سچی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے۔
 
 
ہمیں سچائی کے کلام پرایمان رکھنے کے وسیلہ
 سے اپنے گناہوں سے پاک ہونا چاہیے
 
لو گ دو ضمیر رکھتے ہیں: ایک جسم کا ضمیر ہے، اور دوسرا سچائی کی  خوشخبری کے حوالے سے ایمان کا ضمیر ہے۔ ہمیں  اِن دونوں، دائروں کے ساتھ  ایماندار ہونا چاہیے، لیکن اِن دونوں میں سے، ہم خاص طورپر، ایمان کا ضمیر رکھنے میں ناکام نہیں ہو سکتے جو سچائی کی  خوشخبری کو پہچانتا ہے۔ ہمیں یقیناً خُد ا کے کلام کے سامنے اپنے ایمان کے ضمیر کا جائزہ لینا چاہیے؛ ایمان رکھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو قبول کِیا، صلیب پر لعنتی ٹھہرا، اور یوں ہمیں بچا چکا ہے؛ اور اِس ایمان کے وسیلہ سے، ہمارے ضمیر کے گناہوں کو دھوچکاہے۔ یہ مجھے غصہ دلاتا ہے کہ حتیٰ کہ جب یہ سچ ہے جو ممکنہ طورپر مزید محدود نہیں ہو سکتا، پھر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو سچی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے۔
 ہمارے ضمیروں کو پاک کرنے کے لئے ایمان کی ایک ترتیب ہے۔ اَوّل، ہمیں اِس حقیقت کو پہچاننا چاہیے اور اِس کی تصدیق کرنی چاہیے کہ ہم جہنم کے لائق ہیں، اور دوم، ہمیں یقیناً اپنے دلوں میں ایمان رکھنا چاہیے کہ ہمارا نجات دہندہ اِس زمین پر آیا، اور ہمارے گناہوں کے لئے یوحناؔ سے بپتسمہ لیا، صلیب پر مر گیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہم کو تمام گناہوں سے بچا چکا ہے۔ گنہگاروں کو یقیناً اپنی بدکرداریوں سے نجات یافتہ ہونا چاہیے اور پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے ابدی زندگی حاصل کرنی چاہیے جو یوں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہوئی ہے۔
اِس حقیقت کے باوجودہ کہ ہمیں یقیناً اپنے گناہوں سے نجات یافتہ ہونا چاہیے، بعض لوگ اب بھی ایمان نہیں رکھتے، حالانکہ وہ آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے پوری ہوئی گناہ کی معافی کے بارے میں جانتے ہیں۔ وہ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ یقیناً، وہ اپنی بے اعتقادی کے تمام نتائج کے ذمہ دار ہوں گے۔ اگر ہم آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی سچائی کو جان لیتےہیں لیکن ایمان نہیں رکھتے، تب ہم پھر بھی گنہگار ہوں گے، اور اگرہم اب بھی گنہگار ہیں، تو کیا ہم خُدا کی شریعت کے عین مطابق اپنے گناہوں کی عدالت کا سامنا نہیں کریں گے؟ ہم میں سے ہر ایک کو اور ہر کسی کو، مردہو یا عورت ، سب کو نجات کی اِس سچائی پر دل سے ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سے نجات یافتہ ہونا تھا جو خُدا آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے پوری کر چکا ہے۔
لوگوں کو یقیناً اِس قِسم کا ایمان رکھنا چاہیے جو اُنھیں اُن کے گناہوں سے بچاتاہے۔ اُنھیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے جو صرف پانی اورروح کی خوشخبری پرایمان رکھتا ہے۔ کیا آپ آسمانی،ارغوانی، اورسُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، یعنی خُداوند نے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور صلیب پر اپنے خون بہانے کے ساتھ ہمیں بچا چکا ہے؟ جب آپ سب سے پہلے اپنے بارے میں سوچتے ہیں،تو کیا آپ اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ  واقعی آپ  کا مقدر جہنم  تھا؟ کیا آپ احساس کرتے ہیں کہ جب ہم جہنم جانےکے لائق تھے، تو خُداوند ہمیں آسمانی،ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی سچائی کے ساتھ ہمارے گناہوں سے بچا چکا ہے؟
آپ کو یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ یہ ہمارے تمام گناہوں کی فکر کرنا تھا کہ خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، اور اپنا خون بہایا۔ آپ کے اورمیرے گناہوں کو مٹانے کے لئے ہمارا خُداوند انسان کے جسم میں مجسم ہو کر اِس دنیا میں آیا، تیس سال کی عمر میں دریائے یردنؔ پر یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے اپنے ذاتی بدن پر تما م نسلِ انسانی کے گناہوں کو ایک ہی بار قبول کِیا، اور ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے مصلوب ہونے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے گناہ کی لعنت برداشت کی۔ خُدا ایمان رکھنےوالوں کےتمام گناہوں کو معاف کرچکا ہے ۔
ہم آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہونےوالی سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو سکتے ہیں۔ ہمیں یقیناً جانچ پڑتال اور تصدیق کرنی چاہیے کہ آیا ہم واقعی اِ س سچائی کے وسیلہ سے اپنے تمام گناہوں سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں یا نہیں۔ ہمیں یقیناً ایمان رکھنا چاہیے جو یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھتا ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں نجات دہندہ کے طورپر آیا۔ جس طرح کلامِ مقد س فرماتاہے،  ” کیونکہ راست بازی کے لِئے اِیمان لانا دِل سے ہوتا ہے اور نجات کے لِئے اِقرار مُنہ سے کِیا جاتا ہے“  (رومیوں ۱۰:۱۰)۔ رومیوں ۱۰: ۱۷یہ بھی اعلان کرتا ہے،   ” پس اِیمان سُننے سے پَیدا ہوتا ہے اور سُننا مسِیح کے کلام سے۔
مسیح کا یہ کلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہم آسمانی،ارغوانی، اورسُرخ دھاگے کے ساتھ مکمل ہونے والی نجات پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو تے ہیں۔ گناہ کی معافی ایسی چیز نہیں ہے جو اپنے ذاتی خیالوں کے ساتھ ایمان رکھنے کی بدولت حاصل ہوتی ہے، بلکہ یہ ایسی چیز ہے جو نجات پر اپنے دلوں میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے لی جاتی ہے جو آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے سے حاصل ہوتی ہے۔ ایمان جو واقعی ہمیں گناہ سے آزاد کرتا ہے وہ ایمان ہے جو پانی اورروح کی خوشخبری پریقین رکھتا ہے۔
کیا تب ہمیں اِس سچائی پر اپنا ایمان رکھنے کے وسیلہ سے خُدا سے دُعا مانگنی چاہیے؟ بالکل! ہمیں سچائی کے ساتھ اپنی کمر کس کر، ہمیشہ روح میں ساری دُعائیں اور منتیں مانگنی چاہیے(افسیوں ۶:۱۴، ۱۸)۔لیکن پھر، یہ سچائی کیا ہے؟
یہ وہ خوشخبری ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ ہمارا خُداوند ہمیں بچانے کے لئے اِس زمین پر آیا، تیس سال کی عمر میں یوحناؔاصطباغی سے بپتسمہ لیا، دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھالیا، دونوں اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر مصلوب ہو ا، اُس پر تھوکا  گیا، اپنا خون بہایا، اور یوں ہمارے گناہوں کو دھو چکاہے۔ ہمیں یقیناً اِقرار کرنا چاہیے کہ یہ اِس سچائی پر ہمارے ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہماری گناہ کی معافی پوری ہو چکی ہے۔ ہمارا خُداوند ہمیں اپنے بپتسمہ اور صلیبی خون کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کی خاطر لعنتی ٹھہرنے کی بدولت ہمیں ہمارے گناہوں سے نجات دے چکا ہے۔
اَے خُداوند، تُو نے مجھ سے اِتنی محبت کی کہ تُو مجھے خُداکا اپنا بیٹا بنا چکا ہے۔“ یہ ہے کیسے ہمیں یقیناً اپنے ایمان کا اِقرار کرنا چاہیے۔ جب سب جو ہم رکھتے تھے محض گناہ تھا، ہمارا خُداوند پھر بھی ہمیں اپنے بپتسمہ اور مصلوبیت کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہوں کو مٹانے کی بدولت ہمیں آسمانی بادشاہی میں داخل ہونے کی اہلیت عطا کر چکا ہے۔ ہم سب کو یقیناً اِس سچائی پر ایمان رکھنا چاہیے اور ابدی زندگی حاصل کرنی چاہیے۔
آپ کے پاس اِس سچائی پر ایمان نہ رکھنے کی کیا وجہ موجود ہے؟ جہاں تک میراتعلق ہے، میرےپاس کہنے کوکچھ بھی نہیں ہوتاحتیٰ کہ اگر خُداوند نے یوں مجھے میرے گناہوں سے بچانے کے لئے بپتسمہ نہ لیاہوتا، اور پھر بھی میری ذات کی خاطر، اُس نے درحقیقت بپتسمہ لیا، اپنا خون بہایا، اور یوں مجھے میرے گناہوں سے بچا چکا   ہے۔ اور اِسی طرح مَیں ایمان رکھتا ہوں! کوئی وجہ موجود نہیں ہےکہ ہم سب کو اِس خوشخبری پر کیوں ایمان نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ واضح ہے کہ اگر گنہگار پانی اور روح کی خوشخبری کی سچائی پر ایمان نہیں رکھتے، تو وہ یقیناً جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ لیکن مَیں چاہتاہوں کہ آپ میں سے ہرایک اب آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ سے نجات یافتہ ہوجائے۔
ایک وقت تھا جب مَیں خودبھی گنہگارہی تھا حتیٰ کہ گو مَیں یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کا اِقرار کرتاتھا۔ ایک اچھا مسیحی بننے کی خواہش کرتے ہوئے، مَیں نے آسمان کے نیچے کوئی شرم نہ رکھنے کی سخت کوشش کی۔ لیکن میری خواہشوں کےبرعکس، مَیں نے وقت بہ وقت گناہ کرنا جاری رکھا؛ واحد تسلی یہ تھی کہ جب مَیں نے دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ کِیا، مَیں نے سوچا میں کم ازکم کسی طرح اُن سے بہتر تھا۔ تاہم، میرے ضمیرنے مجھے بتانا جاری رکھا کہ مَیں پھر بھی گناہ رکھتا تھا، اور چونکہ خُدا کی شریعت کے مطابق گناہ کی مزدوری موت ہے، مَیں ایساشخص تھا جو اپنی بدکرداریوں کی وجہ سے جہنم کے لائق تھا۔
اپنی تھکی ہوئی اور شرعی زندگی کے ایک دہائی کے بعد، مَیں روحانی طورپر تقریباً مرچکا تھا۔ تاہم، خُدانے مجھے فضل سے بیدار کِیا کہ یِسُوعؔ مسیح نے میرے لئے بپتسمہ لیا اور میرے ذاتی گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اُس نے نہ صرف میرے گناہوں کو، بلکہ تمام دنیامیں ہر کسی کے کل گناہوں کو بھی اُٹھالیا۔ تب اُس نے اِن گناہوں کو صلیب پر لے جانے اور مصلوب ہونے اور اِس پر مرنے کے وسیلہ سے اِن گناہوں کی لعنت برداشت کی، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں میرا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے جو اب بھی  زندہ ہے۔ جب مجھے سچائی کی اِس خوشخبری کا علم ہوا تو، مَیں رہ نہ سکا بلکہ اِس پر ایمان رکھا۔ اور ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کہ یِسُوعؔ مسیح اپنے بپتسمہ اور صلیب پر اپنے خون بہانے کی بدولت میرا نجات کا خُدا بن چکا ہے،میرے سب گناہ دُھل چکے ہیں۔ مَیں ایمان کے وسیلہ سے اپنے دل میں گناہ کی معافی حاصل کر چکاہوں۔
یہ اِس لئےنہیں ہے کہ مَیں خُداکے پورے کلام کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا یعنی مَیں نے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کی، بلکہ مَیں اپنے گناہوں سے معاف ہوا کیونکہ مَیں اپنے ذاتی ضمیر کے گناہوں کو جانتا تھا، اِن گناہوں کو اُس کے بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ مسیح پر منتقل کِیا، اور اپنے دل میں ایمان رکھا کہ یِسُوعؔ میرے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لئے صلیب پر لعنتی ٹھہرا تھا۔ یہ اِس لیے ہے کہ مَیں گناہ کی یہ معافی حاصل کر چکاہوں یعنی اب مَیں خوشخبر ی کی منادی کرنے والی زندگی گزار رہاہوں۔ آپ اور مَیں ایک جیسے ہیں؛ حقیقت میں ہمارے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
آپ کی طرح، مَیں بھی جہنم کی طرف رُخ کیے ہوئے تھا، اور آپ کی طرح، مَیں بھی اُسی پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکا ہوں۔ خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جس کے ساتھ خُداوند ہمار ے گناہوں کو مٹا چکا ہے، آپ اور مَیں دونوں یکساں ایمان کے وسیلہ سے نجات یافتہ ہو چکے ہیں۔اِس لیے مَیں اپنی شکر گزاری خُداوند کو پیش کرتاہوں۔ یہ اِس لیے ہے کہ اب ہم پانی اور روح کے وسیلہ سے گناہ کی کامل معافی حاصل کرنے کی بدولت ایمان کا ضمیر رکھتے ہیں یعنی اب ہم خُدا کے پاس جانے کے قابل ہیں اور اُس کے اپنے بچوں کے طورپر دُعا مانگنے کے قابل ہیں جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں۔
جس طرح کلامِ مقد س ہمیں بتاتا ہے کہ بخور کی قربانگاہ کی خوشبو مسح کے پاک تیل سے اور خوشبودار بخور سے بنی ہوئی تھی، یِسُوعؔ ہمیں سچائی کی پاک خوشخبر ی کے ساتھ ہمارے تمام گناہوں کو دھونے کے وسیلہ سے ہمیں پاک کر چکاہے۔ پرانے عہد نامہ کے قدیم دَور میں، اسرائیل کے لوگوں کو یہ بخور بنانا پڑتا اور اِسے قربانگاہ پر بالکل جس طرح خُدا حکم دے چکا تھا جلانا پڑتاتھا۔ پس پاک مقام کے اندر،
بخورجلایا جاتا تھا اور اِس کی خوشبوہر روز اُٹھتی تھی۔ اِس بخور کا مطلب خُدا سے دُعا مانگنا ہے۔
نئے عہد نامہ کے دَور میں، آپ کو پاک مقام میں یہ بخور جلانے کے لیے، یقیناً سچی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے اور اپنے دلوں میں گناہ کی معافی حاصل کرنی چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ سچی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ کوئی دُعا کا بخور جلا سکتا ہے۔ کیسے ہم اُسی طریقہ سے بخور جلاسکتے ہیں جس طرح یہ پرانے عہد نامہ کے دَور میں جلایا جاتا تھا؟ جب خیمۂ اِجتماع کی ایسی اشیا مثلاً سوختنی قربانی کی قربانگاہ اور بخور کی قربانگاہ ہمارے سامنے نہیں  پڑی ہیں،تو کیسے آپ اور مَیں بخور بنا سکتے ہیں اوراِسے قربانگاہ پر جلا سکتے ہیں؟ ہم ایمان کے وسیلہ سے دُعا کا بخور جلا سکتے ہیں، کیونکہ یِسُوعؔ مسیح ہمارے گناہوں کو مٹا چکا ہے اور ہمیں بچا چکا ہے۔ کیونکہ ہمارے دل ایمان کے وسیلہ سے پاک ہو چکے ہیں جب ہم نے گناہ کی معافی حاصل کی، اب ہم اپنی دلی دُعاؤں کے ساتھ خُدا کے سامنے اُٹھنے والا بخور جلا سکتے ہیں۔
ہم ایمان رکھتے ہیں کہ پانی اور روح کی خوشخبری پر ہمارے پورے دل کے ایمان کے وسیلہ سے ہمارے تمام گناہ یِسُوعؔ مسیح پر منتقل ہوئے تھے، اور یعنی یِسُوعؔ مسیح نے بے رحمی سے ہماری جگہ پر ہمارے گناہوں کی لعنت برداشت کی۔ آپ کے اور میرے دل یوں مکمل پاک ہو چکے ہیں۔ چونکہ ہمارے دلوں میں سارے گناہ یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے، ہمارے دل، ایمان کے وسیلہ سے مکمل طورپر ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے پاک بن چکے ہیں۔ اگر ہمارے تمام گناہ بپتسمہ کے وسیلہ سے یِسُوعؔ پر منتقل ہو گئے تھے جو اُس نے یوحناؔ سے حاصل کِیا، تب آپ کے تمام گناہ دُھل گئے تھے اور ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے مٹ گئے تھے یعنی آپ کے دلوں میں مزید کوئی گناہ باقی نہیں ہے۔ کیونکہ ہمارے گناہ مٹ گئے تھے اور خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے پاک ہو گئے تھے، اب ہم قدوس خُداکے سامنے جا سکتے ہیں اور اُس سے مدد مانگ سکتے ہیں۔ یعنی ہم خُداسے دُعا مانگنے کے قابل ہیں ہمارے ایمان پر انحصارکرتا ہے، یعنی ہم خوشخبری پر یقینی طورپر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں، جو اب ہمارے پُرخلوص دلوں کے پس منظر میں ہے۔
بھائیو اور بہنو، بخور کی قربانگاہ کے پاس جائیں اور مسلسل دُعا مانگیں۔ ”اَے باپ، براہ کرم میری مدد کر۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں، مَیں ہوں، اور یہ ہے مجھے کیا ضرورت ہے۔ اَے باپ،مَیں سچی خوشخبر ی پھیلانا اور راستی سے زندہ رہنا چاہتا ہوں۔ مَیں نیک زندگی گزارنا چاہتاہوں جو اِسی کے لئے مناسب جو واقعی گناہ کی معافی حاصل کر چکا ہے۔ اور مَیں راستبازی کے پھل پیداکرناچاہتاہوں۔ مجھے آپ پر ایمان بخشیں۔ مَیں آپ کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزارنا چاہتاہوں۔‘‘ اِس طرح، کسی ضرورت کومانگنا یہ ہے کہ دُعا مانگنا کیا ہے۔ یہ خُدا سے اُس کی راستبازی کے مطابق مدد مانگنے کے بارے میں ہے۔
آپ شاید مختلف جذبات اور خواہشات بھی رکھتے ہیں۔ چونکہ ہم پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے راستباز بنائے جا چکے ہیں جو ہمیں راستباز ٹھہرا چکا ہے، تو یہ اب ہمارے لئے اپنی دُعا کے ساتھ خُدا سے تمام چیزیں مانگنا ممکن بن چکا ہے۔ وہ جو اُس کی مدد کے لئے خُد ا سے دُعا مانگنے کے قابل ہیں خوش قسمت لوگ ہیں۔ اب یعنی ہم سب پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکے ہیں،اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم سب خُدا سے دُعا مانگ سکتے ہیں۔
وہ جو، خُدا اور پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے، اپنے دلوں میں گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں وہ کم ازکم قدوس خُدا کے سامنے جانے اور اُس سے مدد مانگنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ اور تمام نئے سِرے سے پیدا ہوئے ایماندار ناگزیراور فطری طورپر اپنی زندگیوں میں باپ کی مدد کے لئے دُعا مانگنے آتے  ہیں، جس طرح بچہ اپنے والدین کی مدد کے لئے پکارتا ہے جب وہ مصیبت میں ہوتاہے۔ اُن کا ایمان جو اُنھیں گناہ کی معافی دے چکا ہے محض وہ ایمان نہیں ہے جو اُنھیں خُداکو اپنے باپ کے طورپر پُکارنے کے قابل کرتا ہے، بلکہ یہ ایساایما ن بھی ہے جو اُنھیں ہروقت اُس کے ذاتی بیٹے اور بیٹیوں کے طورپر باپ کی مدد کے لئے دُعا مانگنے کے قابل کرتا ہے۔ کیونکہ خُدا واقعی ہمارے ایمان کے وسیلہ سے ہمارا ذاتی باپ بن چکا ہے، اب ہم اپنی ضروریات کے مطابق اپنی دُعا کے ذریعے اُس کی مدد مانگنے کے لئے موزوں ہیں۔
بے شک، مَیں نہیں جانتا، آپ کی شخصی دُعائیں کیا رہی ہیں یا وہ آپ کے گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد خُدا کی معرفت کیسے پوری ہو چکی ہیں۔ لیکن جومَیں جانتاہوں  وہ یہ ہے کہ جب ہم خُدا سے دُعا مانگتے ہیں کہ وہ ہمیں اُس کی کلیسیا کے ساتھ متحد ہونے اور خوشخبری پھیلانے کے قابل  بنائے، تووہ یقیناً ہماری دُعا کا جواب دیتا ہے۔ یہ اِس عمل میں ہے کہ ہم دوسروں کے لئے دُعا مانگتے ہیں۔سب سے پہلے ، ہر کوئی صرف اپنی جسمانی ضروریات کے لئے دُعا مانگتاہے۔لیکن روح القدس کے کاموں کے وسیلہ سے، ہم احساس کرتے ہیں کہ ہم دوسروں کے لئے دُعاؤں کی اشد  ضرورت رکھتے ہیں، اور اِس طرح ہم دوسری جانوں کی نجات کے لئے دُعا مانگنے کے واسطے اور تمام دنیا میں پانی اورروح کی خوشخبری کو پھیلانے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ نئے سِرے سے پیدا ہوئے مقدسین کی دُعائیں روح القد س کے وسیلہ سے راہنمائی پاتی ہیں۔ خُداوند ہمیں بتا چکا ہے،  ” بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی اور اُس کی راست بازی کی تلاش کرو“  (متی ۶:۳۳)۔
لیکن نئے سِرے سے پیدا ہونےوالوں میں سے، وہ جو ابھی تک روحانی طورپر غیر پختہ ہیں  وہ صحیح چیزوں کے لئے دُعا مانگنانہیں جانتے، کیونکہ وہ اپنی دُعاؤں کے لئے خُداکے جواب کا ابھی تک تجربہ نہیں کر چکے ہیں۔اِس کی وجہ  یہ ہے کیونکہ وہ ابھی تک نہیں جانتےکہ خُداکی راستبازی پر ایمان کتنا طاقتور ہے۔ کم ایمان والے نہ صرف یہ نہیں جانتے کہ اُن کی دُعائیں قبول ہوں گی یا نہیں، بلکہ مزید برآں وہ شکوک و شہبات  کا شکار ہوتے ہیں۔
اِس طرح، اُنھیں یقیناً اُن کے ساتھ مل کر دُعا مانگنی چاہیے جنھوں نے اُن سے پہلے ایمان رکھا۔ وہ جن کا ایمان چھوٹاہےوہ خُدا سے دُعا مانگنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اور جب وہ دُعا مانگتے ہیں،تو وہ صرف  وہی مانگتے ہیں جووہ چاہتے ہیں ’’مجھے دے، مجھے دے، مجھے دے۔“ لیکن اگرچھوٹے ایمان والے کلیسیا کے ساتھ حتیٰ کہ خُدا پر کسی بڑے ایمان کے بغیر متحد ہوتے ہیں، وہ اب بھی  سیکھ سکتے ہیں  کہ حقیقی دُعا کیا ہے، کیونکہ کلیسیا میں اُن کے ایمان کے پیش رو خُدا کی راستبازی کے لئے دُعا مانگ رہے ہیں۔ اِس کے علاوہ، کیونکہ روح القدس اُن کو دُعا کا ایمان بخشتاہے جو کلیسیا کے ساتھ متحد ہیں، وہ آہستہ آہستہ خُدا کی راستبازی کے لئے دُعا مانگتے ہیں۔  ” راست باز کی دُعا کے اثر سے بُہت کُچھ ہو سکتا ہے “  (یعقوب ۵:۱۶)۔
نئے سِرے سے پیدا ہونےوالوں کی وفادار دُعائیں جو خُدا کے سامنے دُعا مانگنے کا حق رکھتے ہیں بہت زیادہ فائدہ پہنچاتی ہیں۔ خُدا پر ایمان رکھنےوالوں کی دُعائیں درحقیقت اُس کی طرف سے قبول ہوتی ہیں۔ جب لو گ خُدا سے دُعا مانگتے ہیں، کہ اُن کی دُعاؤں کا باپ کے وسیلہ سے جواب ملے، اُنھیں یقیناً پہلے ایمان رکھنا چاہیے کہ خُدا اُن کا اپنا باپ ہے، اور یہ کہ  وہ اُن کے ایمان کے مطابق اُن کی دُعاؤں کا جواب دیتا ہے۔ اِس طرح، جب ایمان کے پیش رو باہم متحد ہوتے ہیں اور اُن کے لئے دُعا مانگتے ہیں جو اُن کے قدموں کی پیروی کررہے ہیں اور خوشخبری کے پھیلانے کے راست کام کے لئے، وہ بڑے کاموں کا تجربہ کرنے تک پہنچتے ہیں۔ اگر آپ اپنے ایما ن کے پیش رو ؤں کے ساتھ کھڑے ہیں جو خُدا پر ایمان رکھتے ہیں،تو آپ اپنے ایمان میں بڑی مدد پائیں گے۔ کیونکہ خُدا جانتا ہے کہ ہم زیادہ مدد کی ضرورت رکھتے ہیں نہ صرف نجات کے فضل کے لئے بلکہ زندگی کے دوسرے پہلوؤں میں بھی، وہ ہماری دُعاؤں کا جواب دیتاہے۔ یہ ہے کیوں ہم سب کواُس ایمان کی ضرورت ہے جو خُدا کی کلیسیا کے ساتھ متحد ہو۔
جب ہم اُن چیزوں کے لئے دُعا مانگتے ہیں جو خُدا کو خوش کرتی ہیں، ہمارا ایمان خوشی سے دلیر ہو جاتا ہے۔ جس طرح روحانی بچے دُعا کی تقلیدکرتے ہوئے آخر کار ایسی دُعاؤں کو اپنی ذاتی پختگی کے طورپر لینے کے لئے آتے ہیں، ہم بھی خُدا باپ سے بعد میں اپنے ذاتی مسائل کے لئے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ وہ جو ایسا کرنےکے وسیلہ سے واقعی خُدا پر ایمان رکھتے ہیں تب حقیقی سچائی کی پیروی کرنے والے راستہ پر ایمان کے ساتھ چلتے ہیں۔ جس طرح کلامِ مقدس فرماتا ہے کہ راستباز صر ف ایمان کے وسیلہ سے زندہ رہیں گے، وہ صرف اپنے آپ کے زندہ رہنے کے لئے نہیں، بلکہ دوسری جانوں کی نجات کے لئے زندہ رہتے ہیں۔
کیسے ہم خُدا سے دُعا مانگنے کی اہلیت حاصل کر سکتے ہیں؟ہم نے اِسے خُدا کی معرفت بخشی گئی پانی اور روح کی خوشخبری پر اپنا ایمان رکھنے کے وسیلہ سے نئے سِرے پیدا ہونے کی بدولت حاصل کِیا۔ یہ صرف اُن کے لئے ہے جو پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں کہ ایمان کی دلیر ی ایک شخص کو خُدا باپ سے دُعا مانگنے کے قابل کرتے ہوئے عطا ہوتی ہے۔ ایمان خُدا کی طرف سے بخشش ہے۔ دُعا مانگنے کی قابلیت حاصل کرنا خُدا کی طرف سے ایمان کی عظیم برکت حاصل کرنا ہے۔
اِس کرہ ارض پر بہت سارے مسیحی ایماندار وں کے درمیان،آپ کے خیال میں اُن میں سے کتنے ایسے ایمان کے ساتھ دُعا مانگنے کے اہل ہیں؟ بہت سارے نہیں! خُدا کی طرف سے مبارک ترین بخششوں میں سے ایک ، سب سے پہلے، یہ ہے کہ ہم ایمان رکھنے کے لئے آ چکے ہیں جو ہمیں ہمارے گناہوں سے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہرکی گئی سچائی کے ساتھ بچا چکا ہے۔ اور دوسری یہ ہے کہ ہم اُس کے ذاتی بچوں کے طورپر خُدا سے دُعا مانگنے کی طاقت اور اہلیت حاصل کر چکے ہیں؛ اور تیسری، یہ کہ ہمارے پاس وہ ایمان ہے جو ہمیں خُدا کے کارکنوں کے طورپر زندہ رہنے کی اجاز ت دیتا ہے۔
 
 
خُدا گنہگاروں کی دُعاؤں کا جواب نہیں دیتا
 
کچھ گنہگار،حتیٰ کہ وہ یِسُوعؔ پر ایمان رکھنے کا اِقرار کرتے ہیں، کچھ پہاڑوں پر چڑھنے اور خُداوند کا نام مسلسل پکارنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کو مٹانے کے لئے خُدا سے دُعا مانگتے ہیں۔حتیٰ کہ سردی اور سرد ہواؤں کی راتوں میں، وہ پھر بھی، اپنے بدنوں کو پلاسٹک کی چادروں کے ساتھ لپیٹتے ہوئے، پہاڑپر چڑھتے ہیں، اوراگرچہ وہ لوگ اکثر خوفزدہ ہیں، پھر بھی وہ اپنے سارے خلوص کے ساتھ کثر ت سے دُعا مانگتے ہیں۔ لیکن اُن کی دُعائیں صرف خالی خلامیں کھوکھلے دائرے بناتی ہیں۔
اگرچہ وہ سار ی رات دُعائیں کرتےہیں،لیکن وہ کوئی ایمان نہیں رکھتےہیں کہ  خُدا  واقعی اُن کی دُعاؤں کا جواب دے گا۔ وجہ کیوں وہ ایمان کی اِس کمی کے باوجود اتنی خلوصیت سے دُعا مانگتے ہیں یہ ہے کیونکہ وہ دوسروں کو دکھانے کے لئے، محض ایک نمائش کے طورپر دُعامانگتے ہیں۔ اُن کی دُعائیں ناقابل قبول دُعائیں ہیں۔در حقیقت ، وہ اپنے ضمیر میں جانتے ہیں کہ اُن کی دُعائیں خُدا تک نہیں پہنچ رہی ہیں، کیونکہ وہ اب تک اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں۔ کیونکہ اُنھیں ابھی تک اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنی ہے، اُن کی بہت ساری دُعاؤں کا کوئی جواب نہیں ملتا،خواہ وہ کتنی ہی دُعائیں کرتے، چلاتے، اور فریاد کرتے،اور اپنے پھیپھڑوں کے پورے زورسے چیختے ہیں،اور خُدا سے مانگنے کے لئے ہر قِسم کے کام کرتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔
اُنھیں جس چیز کا احساس کرنے کی ضرورت ہے  وہ یہ ہے کہ خُداسے دُعا مانگنے کی شرط صرف اُس وقت پوری ہوتی ہے جب وہ پہلے گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں۔لیکن کیونکہ بہت سارے گنہگار کوئی متبادل نہیں رکھتے جب تک وہ پانی اور روح کی خوشخبری کو نہیں جانتے، وہ بچ نہیں سکتے بلکہ اپنی ایمان کی زندگیاں گنہگاروں کے طورپر گزارنا جاری رکھتے ہیں۔ جب لوگ اپنے دلوں میں خُداوند کی معرفت بخشی گئی پانی او رروح کی خوشخبری پر ایمان ر کھنے کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے پا ک نہیں ہوتے، تو درحقیقت اُن کی دُعائیں سب بیکار ہیں۔ جب کبھی گنہگار خُدا سے دُعا مانگنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے ضمیر چلاتے ہیں،  ”تم سوچتے ہو تمہاری دُعائیں خُدا تک پہنچیں گی؟ خواب دیکھو! وہ سب بیکارہیں!“ پس حتیٰ کہ جس طرح وہ خُدا سے دُعا مانگنا جاری رکھتے ہیں، ”مجھے یہ دے، مجھے وہ دے،“ اُن کی دُعائیں درحقیقت بیکار ہیں۔
مجھ سے دُعا مانگنے سے پہلے، تم پہلے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرو۔“ یہ خُدا کی مرضی ہے۔ جب وہ جو گناہ کی معافی حاصل نہیں کر چکے خُدا سے دُعامانگتے ہیں، وہ اپنے تجربے سے احساس کرتے ہیں کہ اُن کے ضمیر اُنکی وجہ سے متفق نہیں ہیں۔ جب گنہگار دُعا مانگتے ہیں،تو وہ کہنا جاری رکھتے ہیں،  ”اَے خُداوند، مجھے یہ دے، اور مجھے وہ بھی دے،“ لیکن اُن کی دُعاؤں کا کوئی جواب نہیں ملتا۔ اِس سے کہیں دُور، اُن کے ضمیر صرف اُنھیں بتاتے ہیں، ”کوئی راہ نہیں! تمہاری دُعائیں ردّ ہوجائیں گی، کیونکہ تم گنہگار ہو!“ جب گنہگار حتیٰ کہ اُن کے ذاتی ضمیر میں بھی اپنے ایمان کو برداشت نہیں کر سکتے، توکیسے وہ ممکنہ طورپر خُدا کو دھوکہ دے سکتے ہیں، کیسے وہ اُس کی معرفت منظور ہو سکتے ہیں، کیسے اُن کی دُعاؤں کا جواب مل سکتا ہے؟ گنہگار سادگی سے خُد ا سے دُعا مانگنے کے اہل نہیں ہیں۔ اِ س سے کہیں دُور، حتیٰ کہ اُن کے ذاتی دل اپنی دُعاؤں پر بھروسہ نہیں کرتے۔
 
 
ہماری دُعاؤں کا جواب ملنا شروع ہوتا ہے جب
ہم ایمان کے وسیلہ سے راستباز بن جاتے ہیں
 
لیکن بہت سےلوگوں کی دُعاؤں کا جو پہلے گنہگار رہ چکے تھے فوراً جواب ملنا شروع ہوتاہے جب وہ خیمۂ اِجتماع کے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے میں ظاہر ہونےوالی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایما ن رکھنے کے وسیلہ سے اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرتے ہیں۔ وہ جو اپنے دلوں کے مرکز میں پانی اورروح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اپنی ذات میں ناکافی ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ایمان کے وسیلہ سے خُدا کے پاس جا سکتے ہیں، اور ایمان کے وسیلہ سے وہ دلیری سے، اُس سے اپنی ضروریات مانگتے ہوئے، دُعا مانگ سکتے ہیں۔ جب وہ جو ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں اُس کی مرضی کے مطابق خُدا سے دُعا مانگتے ہیں، تو وہ دلیری سے دُعا مانگنے کے لئے آتے ہیں۔
لیکن جب وہ اپنے ذاتی جسم کے لئے دُعا مانگ رہےہوتے ہیں،تو وہ بعض اوقات اپنے آپ کو غیر موزوں محسوس کرتے ہیں۔ ہم راستباز لوگ سب سےخوش قسمت ہیں جب ہم دوسروں کی جانوں کے واسطے، پانی اورروح کی خوشخبری کو پھیلانے کے لئے دُعامانگتے ہیں۔ جب ہم خوشخبری کی دھماکہ خیز بشارت کے لئے دُعا مانگتے ہیں جسم کی کسی رکاوٹ میں نہیں پھنستے، تب ہم ایمان کی دُعاؤں کے وسیلہ سے اپنی محدود رکاوٹوں پر غالب آ سکتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات، ہم مایوسی کاشکارہوجاتے ہیں جب ہم ایمان کے وسیلہ سے ایسی رکاوٹوں پر غالب آنے کے قابل نہیں ہیں۔ اِس طرح کے اوقات میں، جو ہم سب کر سکتے ہیں  وہ دُعا ہے، اور ایمان رکھیں کہ خُدا آخر کا رجواب دے گا۔ اور یقینی طور پر، وقت کے  ساتھ  ہم گواہی  دیتے
ہیں کہ اِس دُعا کاجواب واقعی خُدا نے دیا ہے۔
ہمیں یقیناً کیا کرنا ہے دُعا اور تب انتظارکرنا ہے، بے صبری میں حیران نہ ہوں کہ ہماری دُعائیں فوراً قبول کیوں نہیں ہوتیں۔ خُدا چاہتاہے کہ ہم ایمان کے ساتھ دُعا کریں، اور ہم ایمان رکھتے ہیں کہ اگر ہماری دُعائیں خُدا کی مرضی کےمطابق ہیں، تو  وہ وقت آنے پر اُن کا جواب دے گا۔ اور جب ہم ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرتے ہیں، اور جب ہم اپنی زندگیوں میں ایمان کے وسیلہ سے دُعا مانگتے ہیں تو ہم پہلےہی تجربے میں دیکھیں گے کہ ہماری بہت سی دُعائیں واقعی قبول ہوگئیں ہیں۔
لیکن کیا آپ نے اِ س طرح ایمان سے زندگی گزاری ہے؟ اگر ایسا ہے، تو آپ واقعی خُدا سے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ جب ہم ایک بارپھراپنے آپ کا جائزہ لیتے ہیں، توہم احساس کرتے ہیں کہ ہم جہنم جانے کے لائق ہیں، اور ہم ایک مرتبہ پھر یہ بھی احساس کرتےہیں کہ ہم پانی اورروح کی خوشخبری پر اپنے ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کرنے کی بدولت ہی  دُعا مانگنے کے اہل ہو سکتے ہیں۔ اس طرح ہمیں یقینی طور پر  یاد رکھنا چاہیے کہ وہ لوگ جودُعا مانگ سکتے ہیں وہ ہیں جو ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں کہ خُداوند اُن کی پوری زندگی کے تمام گناہ پانی اور روح کی خوشخبری کے ساتھ مٹا چکا ہے۔
اُن کے درمیان جو ابھی تک نئےسِرے سے پیدا نہیں ہوئے ہیں، بہت سارے لوگ ہیں جو اپنے آپ  پر بہت فخر کرتے ہیں۔ آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ کےپاس فخر کرنے کے لئے کچھ ہے؟ کیا آپ کے بازوطاقتور ہیں؟ کیا آپ کی ٹانگیں طاقتور ہیں؟ ہمارے بدن  چاہےکتنےہی طاقتور کیوں نہ ہوں، وہ سرد ی کے عام وائرس کا  مقابلہ بھی نہیں کر سکتے،اور نہ ہی وہ اپنی حقیقی کمزوری کو جھٹلاتے ہوئے کسی بھی معمولی  مضبوط  جسمانی قوت کا زیادہ دیر تک مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کیا آپ کو احساس ہے کہ بنی نوع انسان کتنے کمزور ہیں؟ ہم ایک مچھر کے کاٹنے سے مر سکتے ہیں، یا چلتے چلتے گرتےہوئے  پتھرسے ٹکر ا کر  مر سکتے ہیں۔ ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک  جملہ بھی کہہ دے جس سے ہمارےفخر کو ٹھیس لگتی ہے، توہمارے دلوں کو  اتنی تکلیف پہنچتی ہے کہ ہم ادھ موئے ہو جاتے ہیں۔ کیا ایسانہیں ہے؟ یقیناًایساہی ہے!
کتنے لوگ ۶۰ سال کے ہونے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں؟ایسے بے شمار لوگ ہیں جو ۳۰ سال تک پہنچنے سے پہلے ہی مرجاتے ہیں۔ ایسے کمزور انسان بنی نوع انسان کے علاوہ کوئی دوسرے نہیں ہیں۔ بنی نوع انسان کی دائمی قوت کہیں نہیں ملتی۔تو کیا ایسے کمزور انسانوں کو، تب، صر ف اپنے دلوں میں سخت ہونا اور اپنے دلوں کے مرکز میں خُدا کے کلام پر ایمان نہیں رکھنا چاہیے؟ جس پر فخر کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے،اور نہ ہی مضبوط ہونے کا دکھاوا کرناہے یہ وہی  ہے جو انسان ہیں۔
اِسی طرح، ہمیں یقیناً اپنی ذاتی کمزوریوں کا احساس کرنا چاہیے، اپنی خامیوں اور گناہوں کو پہچاننا چاہیے، اپنے دلوں میں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے کے وسیلہ سے پوری ہوئی سچی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے، اور یوں خُدا سے دُعامانگنے کی اہلیت حاصل کرنی چاہیے۔ ہمیں یقیناً خُدا پر ایمان رکھنا چاہیے۔ اپنے دل کے مرکز میں ایسا ایمان رکھنے کے لئے جو خُدا کو خوش کرتاہے، لوگوں کو یقیناً پانی او رروح کی خوشخبری پر ایمان رکھنا چاہیے لیکن بہت سارے لوگ موجود ہیں جو اب تک اِس پر ایمان نہیں رکھتے۔ کیا آپ اِس پانی او ر روح کی خوشخبری کے علاوہ کسی دوسری خوشخبری سے خُدا سے دُعا مانگنے کا حق حاصل کر چکے ہیں؟ کیا آپ کے گناہ دُھل سکتےتھے، اگر یِسُوعؔ نے اِس زمین پر آنے، اور آپ کی جگہ پر بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے آپ کے گناہوں کو نہیں اُٹھایا؟ کیا آپ اپنے دل کے گناہوں کو یِسُوعؔ پر منتقل کر سکتےتھے اور بپتسمہ جو یِسُوعؔ نے حاصل کِیا پر ایمان رکھنے کے بغیر اُنھیں دھو سکتےتھے؟
جوابات ہیں نہیں، نہیں،اور بالکل نہیں ! یہ اِس لیے ہے کیونکہ یِسُوعؔ نے یوحناؔ سے حاصل ہوئے بپتسمہ کے ساتھ دنیا کے گناہوں کو کندھا دیا کہ وہ مصلوب ہوا اور اپنے ذاتی خون کے ساتھ تمام گناہو ں کی سزا برداشت  کی۔ کیا آپ پھر یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور صلیب کے بغیر نجا ت یافتہ ہو سکتےتھے؟ ہرگز نہیں! یِسُوعؔ کا بپتسمہ ایک ہی بار اور ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو اُٹھا نے اور اُنھیں دھونے کے لیے،ہمارے گناہوں کو صاف کرنےکےلیےتھا۔اور یہ کہ وہ ہمارے گناہوں کی سزا بھگتنےکےلیےمصلوب ہوا تھا۔ یہ پانی او ر روح کی خوشخبری کی اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہی ہے کہ ہم اپنے تمام گناہوں سے معاف ہو چکے ہیں۔
اِس طرح، ہم کسی بھی وقت خُدا کے پاس جا سکتے ہیں اور دلیری سے اِقرار کر سکتے ہیں، ”اَے خُداوند، مَیں اتنا ناکافی ہوں، لیکن چونکہ تُو مجھے اپنے پانی اور خون کے ساتھ نجات دے چکا ہے، اب مَیں بے گناہ ہوں۔ تُوا ِ س زمین پر آیا، ایک ہی بار بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا، دنیا کے اِن گناہوں کو صلیب پر لے گیا، اُن کے لئے سزا اُٹھائی، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اور ایساکرنے کے وسیلہ سے، اَےخُداوند تُو واقعی میری نجات کا خُدا بن چکا ہے۔ یہ اِس سچائی پر میرے ایمان کے ساتھ  ہی ہے کہ مَیں تجھ پر ایمان رکھتا ہوں۔“ دوسرے لفظوں میں، جب ہم اپنا ایمان قائم رکھتے ہیں، ہم اپنی کمیوں کے باوجود خُدا کے پاس ہمیشہ جا سکتے ہیں اور اُس سے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ ہم اُس کی بادشاہت کی وسعت کے لئے دُعا مانگ سکتے ہیں۔ ہم اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لئے دُعا مانگ سکتے ہیں، اور ہم اُن دوسری جانوں کے لئے دُعا مانگ سکتے ہیں جنھیں ابھی گنا ہ کی معافی حاصل کرنی ہے۔
یہ تب ہی ہے جب لوگ پانی او رروح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ آسمان کے نیچے کسی شرم کے بغیرزندہ رہ سکتے ہیں۔ لیکن پانی اور روح کی خوشخبری پریہ ایما ن نہ رکھتے ہوئے، بعض لوگ کسی دوسری چیز کے ساتھ خلا کو پُر کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں آپ کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ایسی کوششیں مکمل طورپر بیکار ہیں۔ یہی وجہ  ہے کہ اُ ن کے دل ، اُن کی زندگیوں کو ناقابلِ برداشت میں بدلتے ہوئے غمگین ہوتے اور عذاب اُٹھا تے ہیں۔ آیا سچائی پر یا جھوٹ پر، ہر کوئی کسی نہ کسی چیز پر ایمان رکھنا چاہتا ہے۔ اپنے آپ پر غور کریں۔
اپنے آپ کو جانچیں کہ آیا آپ واقعی اِس ایمان کے ساتھ خُداوند پر یقین رکھتے ہیں جو پانی اور روح کی خوشخبر ی پر ایمان رکھتا ہے، یا کیا آپ پانی اور روح کی اِس خوشخبری پر ایما ن نہیں رکھتے۔ خُداوند آپ کے گناہوں کو پانی اورخون کے ساتھ مٹا چکا ہے اگر آپ اِس پر ایمان رکھتے ہیں،تو کیا آپ کے دلوں میں اب بھی گناہ باقی رہیں گے؟ اگر آپ واقعی اپنے دلوں اور روحوں کی تہوں میں، پانی اور روح کی اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں، تو یقیناً وہاں بالکل کوئی گناہ نہیں ہے۔ اِس سچائی پر اپنے پورے دل سے ایمان کے ساتھ، ابھی اپنے گناہوں کی حقیقی معافی حاصل کریں۔
کیونکہ خُدا ہمیں آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان میں ظاہر کی گئی سچائی کے وسیلہ سے گناہ کی معافی عطا کر چکا ہے، اب ہم گناہ کی اِس دائمی معافی کو حاصل کر چکے ہیں۔ اور اِس وجہ سے، وہ جو اِس سچائی پر ایمان رکھتے ہیں خُدا کے اپنےبچےبن چکے ہیں،اُس فضل سے مُلبس ہو چکے ہیں جو اُنھیں اُس کے سامنے آنے کے قابل بناتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنی ہے، ایک دوسرے کی کمیوں کو سمجھنا ہے، آخر تک خُدا کے کاموں کی خدمت کرنی ہے، اور پھر اُس کے پاس جانا اور اُس کی حضوری میں کھڑے ہونا ہے۔ 
وہ جو گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں تمام گنہگاروں سے محبت کرتے ہیں۔ راستبازوں کے دل ہر گنہگارکے لئے آسمانی، ارغوانی،اور سُرخ دھاگے میں ظاہر کی گئی سچائی کو جاننے اور نئے سِرے سے پیدا ہونے کی خواہش کرتے ہیں۔ لیکن لوگوں کی ایک خاص قِسم موجود ہے جو حقیقتاً لوگوں سے محبت نہیں کر سکتے۔ یہ ضدی گنہگارہیں مسیحی جو ایمان کے اپنے ضمیروں کو دھوکہ دیتے ہیں اور اپنے آپ کو یہ سوچتے ہوئے فریب دیتے ہیں کہ وہ خُدا پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ اب  بھی گنہگار ہی ہیں۔
پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے اور اپنے دلوں میں گناہ کی معافی حاصل کرنے کے وسیلہ سے، ہم سب کو یقیناً اپنے ایمان کے ضمیروں کا دفاع کرنا چاہیے۔ آئیں ہم اپنی دوڑ کو آخر تک اچھی طرح دوڑائیں، اپنے ایمان کے ضمیروں کو قائم رکھیں اوراپنے ایمان سے محروم  نہ  ہوں۔ اورجب کوئی روحانی طورپر کسی مشکل وقت میں سے گزرتا ہوا نظر آتا ہے، تب ایک دوسرے کی مدد کریں اور ایک دوسرے کو مضبوطی سے تھامیں۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہےکہ کچھ بھی ہو، راستبازوں کو کلیسیا کو نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر راستباز خُد اکی کلیسیا کو چھوڑتے ہیں، تووہ فوراً مرجائیں گے۔ خُدا کی کلیسیا کو چھوڑنا اپنا ذاتی گھر کھونے کی مانند ہے۔ اپنا گھر کھونا اپنی پناہ گاہ کو کھونا ہے، اور اِس طرح آپ کے دل نہ آرام پائیں گے نہ ہی کہیں سکون پائیں گے،اور آپ آخر کار مر جائیں گے۔
خُدا کی کلیسیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں اُس کی بھیڑ یں خوراک کھاتی اور آرام اور سکون پاتی ہیں۔ اِس طرح، جب بھیڑیں اپنی قوت کو کھودیتی اور بہت تھک جاتی ہیں،تو خُدا کی کلیسیا اُن کے دلوں کی کلام سننے کے وسیلہ سے مضبو ط ہونے میں مدد کرتی ہے۔ جب آپ اپنے دلوں میں ایمان رکھنے کے وسیلہ سے کلام کو قبول کرتے ہیں، تب آپ میں روح القدس خوشی منائے گا، آپ کے دل بھی مضبو ط ہو جائیں گے، اور، حتمی نتیجہ کے طورپر، آپ ابدی زندگی حاصل کریں گے۔
ہم سب راستباز خُدا کو اپنی شکر گزاری پیش کرتے ہیں، ہم خُداوند کا، ہمیں دُعا مانگنے کےقابل بنانےکےلیے، شکر اداکرتے ہیں، یعنی وہ ہمیں پانی اور روح کی خوشخبری عطا کرچکا ہے۔ہیلیلویاہ! مَیں زندہ خُدا سے دُعا مانگتاہوں کہ وہ ہمیں اُس پر بھروسہ کرنے اور ایمان کے ساتھ زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔