خیمۂاِجتماع کا مطالعہ

عہد کا صندوق

متعلقہ خطبات

· عہد کے صندوق میں پوشیدہ روحانی بھید <خروج ۲۵:۱۰۔۲۲>

> خروج ۲۵:۱۰۔۲۲<
اور وہ کِیکر کی لکڑی کا ایک صندُوق بنائیں جِس کی لمبائی ڈھائی ہاتھ اور چَوڑائی ڈیڑھ ہاتھ اور اُونچائی ڈیڑھ ہاتھ ہو۔اور تُو اُس کے اندر اور باہر خالِص سونا منڈھنا اور اُس کے اُوپر گِرداگِرد ایک زرِّین تاج بنانا۔اور اُس کے لِئے سونے کے چار کڑے ڈھال کر اُس کے چاروں پایوں میں لگانا۔ دو کڑے ایک طرف ہوں اور دو ہی دُوسری طرف۔اور کِیکر کی لکڑی کی چوبیں بنا کر اُن پر سونا منڈھنا۔اور اِن چوبوں کو صندُوق کے اطراف کے کڑوں میں ڈالنا کہ اُن کے سہارے صندُوق اُٹھ جائے۔چوبیں صندُوق کے کڑوں کے اندر لگی رہیں اور اُس سے الگ نہ کی جائیں۔اور تُو اُس شہادت نامہ کو جو مَیں تُجھے دُوں گا اُسی صندُوق میں رکھنا۔اور تُو کفّارہ کا سرپوش خالِص سونے کا بنانا جِس کا طُول ڈھائی ہاتھ اور عرض ڈیڑھ ہاتھ ہو۔اور سونے کے دو کرُّوبی سرپوش کے دونوں سروں پر گھڑ کر بنانا۔ایک کرُّوبی کو ایک سرے پر اور دُوسرے کرُّوبی کو دُوسرے سرے پر لگانا اور تُم سرپوش کو اور دونوں سروں کے کرُّوبیوں کو ایک ہی ٹُکڑے سے بنانا۔اور وہ کرُّوبی اِس طرح اُوپر کو اپنے پَر پَھیلائے ہُوئے ہوں کہ سرپوش کو اپنے پَروں سے ڈھانک لیں اور اُن کے مُنہ آمنے سامنے سرپوش کی طرف ہوں۔اور تُو اُس سرپوش کو اُس صندُوق کے اُوپر لگانا اور وہ عہد نامہ جو مَیں تُجھے دُوں گا اُسے اُس صندُوق کے اندر رکھنا۔وہاں مَیں تُجھ سے مِلا کرُوں گا اور اُس سرپوش کے اُوپر سے اور کرُّوبیوں کے بِیچ میں سے جو عہد نامہ کے صندُوق کے اُوپر ہوں گے اُن سب احکام کے بارے میں جو مَیں بنی اِسرائیل کے لِئے تُجھے دُوں گا تُجھ سے بات چِیت کِیا کرُوں گا۔
 
 
 
آج کا موضوع عہد کا صندوق ہے۔ عہد کا صندوق،جس کی لمبائی ۱۱۳ سینٹی میٹر(۷.۳فٹ)، چوڑائی ۶۸سینٹی میٹر(۲.۲فٹ)، اور اِس کی اونچائی ۶۸سینٹی میٹر(۲.۲فٹ) تھی، کیکر کی لکڑی سےبنا ہوا تھا اور خالص سونے کے ساتھ منڈھا ہوا تھا۔ اِس صندوق کے اندر، پتھر کی دو تختیاں تھیں جن پر دس احکام کندہ تھے اورمَنّ کا سونے کا مرتبان، اور بعدمیں، ہارونؔ کی پھوٹی ہوئی لاٹھی اُن میں شامل کی گئی تھی۔ تب، عہد کے صندوق کے اندر  رکھی گئی یہ تین چیزیں ہمیں کیا بتارہی ہیں؟ اِن چیزوں کےذریعے، مَیں یِسُوعؔ مسیح کی تین خدمات کی جامع وضاحت فراہم کرنا پسند کروں گا۔ آئیں اب ہم عہد کے صندوق کے اندر رکھی گئی اِن تین چیزوں میں ظاہر کی گئی روحانی سچائی کا جائزہ لیں۔
 
 
شریعت کے ساتھ کندہ کی گئیں پتھر کی دو تختیاں
 
 
شریعت کے ساتھ کندہ کی گئیں پتھر کی دو تختیاں جو عہد کے صندوق کے اندر رکھی گئی تھیں ہمیں بتاتی ہیں کہ خُدا شریعت کو بنانے والا ہے جو ہمیں اپنے قوانین دے چکا ہے۔ رومیوں ۸:۱۔۲ بیان کرتا ہے،  ” پس اب جو مسِیح یِسُوعؔ میں ہیں اُن پر سزا کا حُکم نہیں۔کیونکہ زِندگی کے رُوح کی شرِیعت نے مسِیح یِسُوعؔ میں مُجھے گُناہ اور مَوت کی شرِیعت سے آزاد کر دِیا۔ “ اِس حوالےسے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ خُدا ہمارے دلوں میں دو شریعتیں: زندگی کی شریعت اور موت کی شریعت قائم کر چکا ہے۔
اِن دو شریعتوں کے ساتھ، خُداوند تمام بنی نوع انسان کے لئے موت اور نجات لا چکا ہے۔ سب سے پہلے، ہم شریعت کے وسیلہ سے پہچان سکتے ہیں کہ ہم نا قابلِ بچاؤجہنم کا مقدر رکھنے والے گنہگار ہیں۔ تاہم، اُن کے لئے جو اپنی گنہگار فطرت اور تباہ ہونےوالے مقدر کو جانتے ہیں، خُدا اپنی نجا ت کی شریعت یعنی،  ”مسیح یِسُوعؔ میں زندگی کے روح کی شریعت“  عنایت کر چکا ہے۔ خُدا اُنھیں یہ دو شریعتیں دینے کے وسیلہ سے سب کا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے۔
 
 
مَنّ پر مشتمل سونے کا مرتبان
 
سونے کا مرتبان جو صندوق میں پایا جاتا تھا مَنّ رکھتا تھا۔ جب اسرائیل کے لوگوں نے بیابان میں ۴۰ سال گزارے، خُدانے اُن کے لئے آسمان سے خوراک فراہم کی، اور اسرائیلی اِس مَنّ  کو مختلف طریقوں سے پکا کر زندہ رہے۔ اور یہ سفید دھنیے کے بیج کی مانند تھا، اور اِس کا ذائقہ شہد کے ساتھ بنے ہوئے کرنچی  بسکٹ کی مانند تھا۔اِس مَنّنے جو خُدا اسرائیل کے لوگوں کو دے چکا تھا اُن کی زندگیاں کوبرقراررکھا جب تک وہ کنعانؔ کی سرزمین میں داخل نہ ہوئے۔ اِس طرح، یہ اِس کھانے کو یادگاری کے طورپر رکھنا تھا جو اِس برتن میں محفوظ کِیا گیا تھا۔
یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم، آج کے ایمانداروں کو، بھی زندگی کی روٹی کھانی چاہیے یعنی خُدا کے روحانی بیٹوں کو یقیناً جبکہ اِس دنیا میں ہیں جب تک وہ آسمان پر داخل نہیں ہوجاتے پرورش پانی چاہیے۔ لیکن ایسےوقت بھی آتے ہیں جب ہم دنیا کی روٹی کو کھانا، یعنی، خُدا کے کلام کی بجائے اِس دنیا کی تعلیمات کو لینا چاہتے ہیں۔ پھر بھی، خُدا کے بیٹوں کو یقیناً واقعی اور حقیقتاً کنعانؔ کی سرزمین میں پہنچنے سے پہلے جس چیز پر زندہ رہنا چاہیے وہ خُدا کا کلام ہے، جو حقیقی زندگی کی روحانی روٹی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے۔
کوئی شخص کبھی ابد تک حقیقی زندگی کی روٹی کھانے سے نہیں اُکتاتا۔ جتنی زیادہ ہم یہ روحانی روٹی کھاتے ہیں، اُتنی زیادہ یہ ہماری جانوں کے لئے حقیقی زندگی بنتی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم خُدا کے کلام کی بجائے دنیا کی تعلیمات کی روٹی پر پرورش پاتے ہیں،تو  ہماری جانیں بالآخرمرجائیں گی۔
خُدانے اسرائیل کے لوگوں کو مَنّ کو ایک برتن میں ڈالنے اور اِسے محفوظ رکھنے کا حکم دیا جو آسمان سے برستاتھا۔ جس طرح خروج ۱۶:۳۳ میں دکھایا گیاہے کہ، خُدا نے فرمایا،  ” ایک مرتبان لے اور ایک اومر مَنّ اُس میں بھر کر اُسے خُداوند کے آگے رکھ دے تاکہ وہ تُمہاری نسل کے لِئے رکھّا رہے۔ “  مَنّ جو آسمان سے برسا لوگوں کی جانوں کے لئے حقیقی زندگی کی روٹی تھا۔  ” اور اُس نے تُجھ کو عاجِز کِیا بھی اور تُجھ کو بُھوکا ہونے دِیا اور وہ مَنّ جِسے نہ تُو نہ تیرے باپ دادا جانتے تھے تُجھ کو کِھلایا تاکہ تُجھ کو سِکھائے کہ اِنسان صِرف روٹی ہی سے جِیتا نہیں رہتا بلکہ ہر بات سے جو خُداوند کے مُنہ سے نِکلتی ہے وہ جِیتا رہتا ہے۔ “  (استثنا ۸:۳)۔
 
 
پھر ہمارے لئے زندگی کی حقیقی روٹی کون ہے؟
 
وہ بپتسمہ جو یِسُوعؔ مسیح نے ہمارے گناہوں کو اپنے بدن پر لینے کے لئے حاصل کِیا اوراُس کی مصلوبیت اور خون بہانا ہماری حقیقی زندگی کی روٹی ہے۔ ہمیں اپنا بدن اور خون دینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ مسیح ابدی زندگی کی روٹی بن چکا ہے۔ جس طرح یوحنا ۶:۴۸۔۵۸ ہمیں بتاتا ہے:   ” زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں۔تُمہارے باپ دادا نے بیابان میں مَنّ کھایا اور مَر گئے۔یہ وہ روٹی ہے جو آسمان سے اُترتی ہے تاکہ آدمی اُس میں سے کھائے اور نہ مَرے۔مَیں ہُوں وہ زِندگی کی روٹی جو آسمان سے اُتری۔ اگر کوئی اِس روٹی میں سے کھائے تو ابد تک زِندہ رہے گا بلکہ جو روٹی مَیں جہان کی زِندگی کے لِئے دُوں گا وہ میرا گوشت ہے۔پس یہُودی یہ کہہ کر آپس میں جھگڑنے لگے کہ یہ شخص اپنا گوشت ہمیں کیوں کر کھانے کو دے سکتا ہے؟یِسُوعؔ نے اُن سے کہا مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک تُم اِبنِ آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خُون نہ پِیو تُم میں زِندگی نہیں۔جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے ہمیشہ کی زِندگی اُس کی ہے اور مَیں اُسے آخِری دِن پِھر زِندہ کرُوں گا۔کیونکہ میرا گوشت فی الحقِیقت کھانے کی چِیز اور میرا خُون فی الحقِیقت پِینے کی چِیز ہے۔جو میرا گوشت کھاتا اور میرا خُون پِیتا ہے وہ مُجھ میں قائِم رہتا ہے اور مَیں اُس میں۔جِس طرح زِندہ باپ نے مُجھے بھیجا اور مَیں باپ کے سبب سے زِندہ ہُوں اُسی طرح وہ بھی جو مُجھے کھائے گا میرے سبب سے زِندہ رہے گا۔جو روٹی آسمان سے اُتری یِہی ہے۔ باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھایا اور مَر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زِندہ رہے گا۔
ہمارے خُداوند نے فرمایا،   ” جو روٹی آسمان سے اُتری یِہی ہے۔ باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھایا اور مَر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زِندہ رہے گا۔   ” جو روٹی آسمان سے اُتری “ کیا تھی؟ اِس کا مطلب یِسُوعؔ کا بدن اور خون تھا۔ کلامِ مقدس میں،  یِسُوعؔ کاگوشت ہمیں بتاتا ہے کہ  یِسُوعؔ مسیح نے دریائے یردنؔ پر یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کے وسیلہ سے دنیا کے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ اور یِسُوعؔ کا خون ہمیں بتاتا ہے کہ چونکہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا تھا، اِس لیے اُس نے دنیا کے گناہوں کو اُٹھایا اور مصلوب ہوکرگناہ کی سزا برداشت کی۔
مرتبان میں وہ مَنّ جو عہد کے صندوق کے اندر رکھا گیا تھا اسرائیلیوں کے لئے زندگی کی روٹی تھا جب وہ بیابان میں تھے، اور نئے عہد نامہ کے دَور میں، اِس کا روحانی مطلب یِسُوعؔ مسیح کے گوشت کو بیان کرتاہے۔ یہ سچائی ہمیں بپتسمہ کے بارے میں بتاتی ہے جس کے وسیلہ سے یِسُوعؔ مسیح نے تمام گنہگاروں کی بدکرداریاں اُٹھا لیں اور خون جو اُس نے صلیب پر بہایا۔ کیونکہ یِسُوعؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے اپنے بدن پر اِس دنیا کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا اور اپنا خون بہایااور صلیب پر مرگیا، اُس کا بپتسمہ اور خون بہانا نئی زندگی کا ابدی سرچشمہ بن چکے ہیں جو ایمانداروں کو نئے سِرے سے پیداہونے کے قابل کرتے ہیں۔           
گوشت جو یِسُوعؔ نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ گنہگاروں کی بدکرداریوں کو لینے کے لئے دیا اور خون جو اُس نے صلیب پر بہایا زندگی کی روٹی ہیں جو تمام گنہگاروں کو گناہ کی معافی حاصل کرنے کے قابل کرتےہیں۔ اس لئے ہمیں اِس وجہ کو سمجھنا  چاہیے کہ یِسُوعؔ نے کیوں فرمایا،   ” جب تک تُم اِبنِ آدمؔ کا گوشت نہ کھاؤ اور اُس کا خُون نہ پِیو تُم میں زِندگی نہیں۔“ (یوحنا ۶:۵۳)۔
 
 
کون بڑا ہے؟
 
جب ہم یوحنا ۶باب کودیکھتے ہیں،تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ اُس وقت زیادہ تر یہودی مُوسیٰ کو یِسُوعؔ سے بڑاسمجھتے تھے۔ جب یِسُوعؔ اِس زمین پر آیا،تو اُنھوں نے اُس سے پوچھا،  ” کیا تُو ہمارے باپ مُوسیٰ سے بڑا ہے؟“  درحقیقت ، وہ مُوسیٰ کو سب سے بڑا مانتےتھے۔ چونکہ یہودی یِسُوعؔ کو مسیحا کے طورپر پہچاننے میں ناکام ہو چکے تھے، اُنھوں نے اُسے بہت بُری چیز  کے طورپر دیکھا۔ پس اُنھوں نے اُسے یہ پوچھتے ہوئے للکارا،  ” کیا تُو مُوسیٰ سے بڑا ہے؟‘‘  اسرائیل کے لوگ یہوواؔہ خُدا پر ایمان رکھتے تھے، اور وہاں صرف تیس سال کی عمرکا ایک نوجوان آدمی دعویٰ کرتے ہوئے آیا،   ” باپ دادا کی طرح نہیں کہ کھایا اور مَر گئے۔ جو یہ روٹی کھائے گا وہ ابد تک زِندہ رہے گا۔“  یہی وجہ ہے کہ وہ موسیٰؔ اور یِسُوعؔ، دونوں کی قُدرت کا موازنہ کرنےآئے تھے۔
جیساکہ یِسُوعؔ نے بعد  میں  اعلان  کِیا،   ” پیشتر اِس سے کہ ابرہامؔ پیدا ہوا مَیں ہوں، “  وہ
پوری انسانی تاریخ میں کسی بھی  انسان سے بڑا ہے، کیونکہ وہ خود خالق ہے۔ محض مخلوق اپنے خالق کو چیلنج کرنے کی جرأت کیسے کر سکتی ہے؟ اِس کے باوجود، کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ یِسُوعؔ صرف ایک عظیم اُستاد،انسانی تاریخ کے عظیم دانشوروں میں سے ایک ہے۔ کیسا کفر ہے! یِسُوعؔ خُدا، بادشاہوں کا بادشاہ، اور تمام کائنات کا خالق ہے۔ وہ قادرِ مُطلق اور ہر جگہ نظر آنے والا خُدا ہے۔ مگر اُ س نے اپنے آپ کو حلیم کِیا اور آپ کو اور مجھے ہمارے تمام گناہوں اور ابدی موت سے بچانے کے لئے، ہمار احقیقی نجات دہندہ بننے کے لئے وہ ایک انسان کے بدن میں اِس زمین پر آیا۔
یِسُوعؔ مسیح نے فرمایا،  ”نبیوں کے صحیفوں میں یہ لکھا ہے کہ وہ سب خُدا سے تعلیم یافتہ ہوں گے۔ جس کسی نے باپ سے سُنا اور سیکھا ہے وہ میرے پاس آتا ہے۔ یہ نہیں کہ کسی نے باپ کو دیکھا ہے مگر جو خُدا کی طرف سے ہے اُسی نے باپ کو دیکھا ہے۔“ آخر میں، یِسُوعؔ بالآخر کہہ رہا تھا کہ وہی مسیحا ہے جس کا یہودی انتظار کر رہے تھے۔ لیکن وہ سمجھنے میں ناکام ہو گئےکہ یِسُوعؔ کیا فرما رہا تھا، نہ تواِس پر ایمان رکھنے کے قابل ہوئے نہ ہی اِسےقبول کرسکے، اور اِس کا نتیجہ ایک سنگین غلط فہمی ہوا، جیساکہ اُنہوں نے سوچا، ”کیسے تُو ہمیں اپنا گوشت کھانے کو دے گا؟ کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم حقیقتاً آپ کا گوشت کھائیں اور آپ کا خون پئیں تو ہم ابدی زندگی حاصل کریں گے ؟ کیا آپ کولگتاہےکہ ہم یہاں کسی قِسم کے آدم خور لوگ ہیں؟
لیکن وہ جو یِسُوعؔ کا گوشت کھاتے اور اُ س کا خون پیتے ہیں ابدتک زندہ رہیں گے۔ یِسُوعؔ کا گوشت زندگی کی روٹی ہے۔ مَنّ  کا اصل مادہ جو اُس مرتبان میں رکھا گیا تھا، زندگی کی روٹی، یِسُوعؔ مسیح کا گوشت اور خون ہے۔ اِس زمین پر آنے اور اپنا گوشت اور خون دینے کے وسیلہ سے، یِسُوعؔ ہمیں زندگی کی روٹی کھانے اور ابدی زندگی حاصل کرنے کے قابل کرچکا ہے۔
پھر، کیسے کوئی یِسُوعؔ کا گوشت کھا اور اُس کا خون پی سکتا ہے؟ یِسُوعؔ کا گوشت کھانے اور اُس کا خون پینے کا واحد طریقہ یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے صلیبی خون پر ایمان رکھنا ہے۔ ہمیں یقیناًایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ کا گوشت کھانا اور اُس کا خون پینا چاہیے۔ آپ کو اور مجھے گناہ کی معافی دینے اور ہمیں ابد تک آسمان کی بادشاہی میں زندہ رہنے کے قابل کرنے کے لئے، ہمارا خُداوند بپتسمہ لینے اور اپنا خون بہانے کے وسیلہ سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہوں کو مٹا چکا ہے، اور یوں وہ ہماری جانوں کے لئے خوراک بن چکا ہے۔ اب خُدا کے پانی اور روح کے کلام پر  ایمان  رکھنے  کے  وسیلہ  سے، ہمیں یقیناً  روحانی خوراک کھانی  چاہیے
اور ابدی زندگی حاصل کرنی چاہیے۔
مجھے زیادہ تفصیل سے گواہی دینے کی اجازت دیں کہ کیسے ہم یِسُوعؔ کا گوشت کھا سکتے اور اُس کا خون پی سکتے ہیں۔ جیساکہ آپ اور مَیں اچھی طرح جانتے ہیں، یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر آیا اور تیس سال کی عمر میں یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت بنی نوع انسان کے گناہوں کو اُٹھا لیا، اور پھر، اُس نے صلیب پر مر کر خون بہانے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کی ساری سزا برداشت کی۔ اِس اصل سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہی ہم اُس کا گوشت کھا سکتے ہیں اوراُس کا خون پی سکتے ہیں۔ گناہوں کا دھونا مکمل ہوا تھا کیونکہ بنی نوع انسان کے گناہ یِسُوعؔ کے بدن پر بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے حاصل کِیا منتقل ہوئے تھے۔ اُس کا خون پینے کا مطلب ہے کہ جیساکہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر اپنا خون بہایا،یہ خون جو اُس نے بہایا اِس نےہمارے گناہوں کی سزا برداشت کی۔
اِس طرح، وہ جو اپنے دلوں میں یِسُوعؔ کے خون پر ایمان رکھتے ہیں، اُن کی پیاس  بجھ جاتی ہے، کیونکہ اُن کے سارے گناہوں کی سزا صلیب کی سزا کے ساتھ مکمل طورپر ختم ہو گئی جو یِسُوعؔ نے برداشت کی۔ ہمیں یقیناً اِس سچائی کا احساس کرنا چاہیے۔ اور ہمیں یقیناً اِس پر ایمان رکھنا چاہیے۔ کیونکہ یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر آیا اور یوحنا ؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت ہمارے گناہوں کو قبول کِیا، اِس سچائی پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہم ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے تمام گناہوں سے پاک ہو چکے ہیں۔
خُد انے ہمیں ایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ کا گوشت کھانے اور اُس کا خون پینے کو کہا۔ کیونکہ یِسُوعؔ نے بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُ س نے یوحناؔ سے حاصل کِیا تمام گناہوں کو، کسی کی بدکرداری کو نہ چھوڑتے ہوئے اُٹھا لیا، اور کیونکہ اُس نے اپنا بدن صلیب کی سزا کے لئے دے دیا اور اپنا قیمتی خون بہایا، اُن کے دل جو ایمان رکھتے ہیں اب پاک اور پیاس سے آزاد ہیں، جیساکہ وہ اپنے تمام گناہ دھو چکے ہیں اور ایمان کے وسیلہ سے گناہ کی ساری سزا برداشت کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یِسُوعؔ نے فرمایا،  ” کیونکہ میرا گوشت فی الحقِیقت کھانے کی چِیز اور میرا خُون فی الحقِیقت پِینے کی چِیز ہے“  (یوحنا ۶:۵۵)۔
یقینی طورپر، یہی یِسُوعؔ واقعی نجات دہندہ، خُداکا بیٹا ہے جو ہمارے گناہوں کو دھو چکا ہے اور ہمار ے گناہوں کی سزا برداشت کر چکا ہے۔ ہمیں شریعت سے  جو گناہ کی مزدوری موت کا اعلان کرتی ہے آزاد کرنے، ہمیں ہمارے تمام گناہوں سے دھونے، اور ہمیں ہماری ساری سزا سے چھڑانے کے لئے، اِس واحد، نجات دہندہ اور خُدا کے بیٹے نے، صلیب پر اپنا ذاتی بدن دے دیا، اپنا خون بہایا، اور یوں اُن کے دلوں کو پاک کردیا
جو ایمان رکھتے اوراپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ یہ یِسُوعؔ کے گوشت اور خون کا اثر ہے۔
یِسُوعؔ نجات دہندہ ہے جس نے گناہوں اور بنی نوع انسان کی سزا کی فکر کی۔ یِسُوعؔ نجات دہندہ ہے جس نے بپتسمہ کے وسیلہ سے جو اُس نے حاصل کِیا بنی نوع انسان کے گناہوں کو قبول کِیا، وہ مصلوب ہوا اور اِن گناہوں کی سزا برداشت کرنے کے لئے اپنا خون بہایا۔ یہ اِس لیے تھا کیونکہ یِسُوعؔ ہم سے اُس پر منتقل ہوئے دنیا کے گناہوں کو قبو ل کر چکا تھا یعنی گناہ کی سزا جو اُس نے مصلوب ہونے کی بدولت برداشت کی ہمارے ذاتی گناہوں کی سزا بن سکتی تھی۔
پانی اور روح کی سچائی پر ایمان کے وسیلہ سے ہی ہم گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ سب کو یقیناً یِسُوعؔ کے بپتسمہ اور اُس کے خون بہانے پر،اپنی ذاتی گناہ کی معافی کے طورپر ایمان رکھنا چاہیے۔ یہ اِس سچی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم روحانی طورپر یِسُوعؔ کا گوشت کھا اور اُس کا خون پی سکتے   ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ یِسُوعؔ مسیح خُداکا بیٹا اِس زمین پر آیا اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، اور صلیب پر ہمارے گناہوں کی ساری سزابرداشت کی تاکہ ہم وہ لوگ بن سکیں جو اُس کا گوشت کھانے،اور اُس کا خون پینے، اور یوں ابدی زندگی حاصل کرنے کے قابل ہیں۔ بپتسمہ اور یِسُوعؔ کے خون بہانے پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے، اب ہم اُس کا گوشت کھا سکتے ہیں اوراُس کا خون پی سکتے ہیں۔ یِسُوعؔ کے بپتسمہ سے اور خون پینے کے وسیلہ سے جو اُس نے ہماری ذاتی گناہ کی معافی کی خوراک کے طورپر صلیب پر بہایا، ہم اپنے تمام گناہوں سے معا ف ہو سکتے ہیں۔ یہ اِس ایمان کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اپنے گناہوں کی معافی حاصل کرنے، خُداکے بیٹے بننے، اور خُدا کی بادشاہی میں ابد تک زندہ رہنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
 
 
ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی تھی
 
عہد کے صندوق کے اندر رکھی گئی چیزوں میں سے، ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی تھی یِسُوعؔ مسیح کو آسمان کی بادشاہی کے دائمی سردارکاہن کے طورپر بیان کرتی ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ابدی زندگی اُسی میں پائی جاتی ہے۔ اِس کے بارے میں ہماری سمجھ  کو آسان بنانے کے لئے، آئیں ہم گنتی ۱۶:۱۔۲ کی طرف رجوع کریں:  ” اور قورحؔ بِن اِضہارؔ بِن قہاتؔ بِن لاوؔی نے بنی رُوبنؔ میں سے الِیابؔ کے بیٹوں داتنؔ اور اَبِیرامؔ اور پلتؔ کے بیٹے اونؔ کے ساتھ مِل کر اَور آدمِیوں کو ساتھ لیا۔اور وہ اور بنی اِسرائیل میں سے ڈھائی سَو اَور اشخاص جو جماعت کے سردار اور چِیدہ اور مشہور آدمی تھے مُوسیٰؔ کے مُقابلہ میں اُٹھے۔ 
یہاں یہ حوالہ ہمیں بتاتا ہے کہ لاویوں میں سے، دوسو اشخاص یعنی جماعت کے مشہورراہنما باہم اکٹھے ہوئے اور مُوسیٰؔ کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ اُنھوں نے کہا،  ” تم، مُوسیٰؔ اور ہارونؔ، مصر کی سرزمین میں سے باہر نکلنے کی راہنمائی کے لئے کیا کر چکے ہو؟ کیا تم ہمیں تاکستان دے چکے ہو؟ کیا تم ہماری نخلستان تک راہنمائی کر چکے ہو؟ تم ہمارے لئے کیا کر چکے ہو؟ کیا تم ہمیں بیابان میں صرف ریگستان کی ریت پر آخر میں مرنے کے لئے نہیں لا چکےہو؟ تم کیسے اپنے آپ کو خُدا کے خادم کہہ سکتے ہو؟ کیا خُدا صرف تمہارے وسیلہ سے کام کرتا ہے؟“ دوسرے لفظوں میں، مُوسیٰؔ اورہارونؔ کی قیادت  کے خلاف بغاوت اُٹھ کھڑی ہوئی۔
اُس وقت، خُدا نے قورحؔ، داتنؔ، اونؔ، اور جماعت کے دوسرے راہنماؤں سے جنھوں نے بغاوت کی کہا،  ”اُن کے سب سرداروں سے اُن کے آبائی خاندانوں کے مطابق فی خاندان ایک لاٹھی کے حساب سے بارہ لاٹھیاں لے اور ہر سردار کا نام اُسی کی لاٹھی پر لکھ۔  اور اُن کو لے کر خیمۂ اِجتماع میں عہد کے صندوق کے سامنے جہاں میں تم سے ملاقات کرتاہوں رکھ دینا۔“ تب خُدا نے کہا،  ” اور جِس شخص کو مَیں چُنوں گا اُس کی لاٹھی سے کلِیاں پُھوٹ نِکلیں گی اور بنی اِسرائیل جو تُم پر کُڑکُڑاتے رہتے ہیں وہ کُڑکُڑانا مَیں اپنے پاس سے دفع کرُوں گا۔ “  (گنتی ۱۷:۵)۔  آیت ۸ میں، ہم دیکھتے ہیں کہ  ” ہارُون کی لاٹھی میں جو لاوؔی کے خاندان کے نام کی تھی کلِیاں پُھوٹی ہُوئی اور شگُوفے کِھلے ہُوئے اور پکّے بادام لگے ہیں۔
پھر آیت ۱۰ میں ہم دیکھتے ہیں،  ” اور خُداوند نے مُوسیٰ سے کہا کہ ہارُون کی لاٹھی شہادت کے صندُوق کے آگے دھر دے تاکہ وہ فِتنہ انگیزوں کے لِئے ایک نِشان کے طَور پر رکھّی رہے اور اِس طرح تُو اُن کی شِکایتیں جو میرے خِلاف ہوتی رہتی ہیں بند کر دے تاکہ وہ ہلاک نہ ہوں،“ اِس طرح  ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی تھی عہد کے صندوق کے اندر دھری اور رکھی گئی تھی۔
اِس سے ظاہر ہوتا  ہے کہ ہارونؔ، لاویؔ کی نسل سے، اسرائیل کے لوگوں کے سردار کاہن کے طورپر مسح کِیاگیا تھا۔ موسیٰؔ خُداکا نبی تھا اور ہارونؔ اور اُس کی نسل اسرائیل کے لوگوں کے سردار کاہن تھے۔ خُدا بذاتِ خود زمینی سردار کاہن کے فرائض ہارون ؔ کے سپرد کر چکا تھا۔ خُدا مُوسیٰ کوقربانی کا نظام دکھا چکا تھا، جہاں اسرائیل کے لوگ قربانی کے جانور لاتے اور خُدا کو پیش کرتے تھے جب کبھی وہ گناہ کرتے، اور وہ ہارونؔ کو قربانی کے نظام کی شرائط کے عین مطابق اِن جانوروں کو پیش کرنے کا نگہبان بنا چکا تھا۔
حتیٰ کہ گو خُدا نےسردار کاہن ہارونؔ کو تمام کہانتی فرائض سونپے تھے، پھر بھی ایسے لوگ موجود تھے جنھوں نے اُس کی کہانت کے خلاف چیلنج کِیا، اور یہی وجہ ہے کہ خُدا ہارونؔ کی لاٹھی کو،یہ ثابت کرتے ہوئے پھوٹنے کی نوبت تک لایا کہ اُس کی کہانت خُدا کی طرف سے تھی۔ تب اُس نے اسرائیل کے لوگوں کو اِس لاٹھی کو اِس سبق کی یاد دہانی میں عہد کے صندوق کے اندر رکھنے کا حکم دیا۔ یہ ہے کیسے شریعت کی دو تختیاں، مرتبان جو مَنّ رکھتا تھا، اور ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی تھی سب عہد کے صندوق کے اندر رکھے گئے تھے۔ یہ تینوں چیزیں روحانی طورپر کسے بیان کرتی ہیں؟ وہ ہمارے نجات دہندہ یِسُوعؔ مسیح کی خدمات کو بیان کرتی ہیں۔
 
 
یِسُوعؔ مسیح نے ہمارے تمام گناہ مٹانے کے لئے کن خدمات کوپوراکِیا؟
 
اَوّل، اُس نے نبی کی خدمت پوری کی۔ وہ الفا اور اومیگا ہے۔ وہ آغاز اور انجام کو جانتا ہے، اور وہ ہم سب کو اَوّل اور آخر کے بارے میں سکھا چکا ہے۔ ہمارا خُداوند جانتا تھاکہ اگر ہم گنہگار ہی رہ جاتے توبنی نوع انسان کے،یعنی آپ کے اور میرے، ساتھ کیا واقع ہوتا۔
 دوم، یِسُوعؔ آسمانی بادشاہت کا ابدی سردار کاہن بن چکا ہے۔ وہ اِس زمین پر آیا کیونکہ وہ بذاتِ خودہمارا نجات دہندہ بننے کے وسیلہ سے،یعنی ہمارا مکمل طورپر آسمان کی بادشاہی کا حقیقی سردار کاہن بننےکے وسیلہ سے ہمیں گناہ سے بچانا چاہتا تھا۔
سوم، یِسُوعؔ مسیح ہمارا بادشاہ ہے۔ کلامِ مقدس اعلان کرتا ہے،   ” اور اُس کی پوشاک اور
ران پر یہ نام لِکھا ہُؤا ہے بادشاہوں کا بادشاہ اور خُداوندوں کا خُداوند “  (مکاشفہ ۱۹:۱۶)۔ وہ پوری کائنا ت کا اصل خالق ہے، اور یوں ہر چیز پر حکمرانی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ہم سب کو سمجھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ مسیح، جو ہمارا حقیقی بادشاہ، نبی ہے وہ ہمیں گناہ سے ہماری نجات کی سچائی سکھا چکا ہے، اور آسمان کا ابدی سردار کاہن ہے، اب ہمارا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے۔
ہمارا خُداوند آپ کو اور مجھے گناہ سے آزادکر چکا ہے، ہمیں خُدا کے لوگ، اُس کے بیٹے اور اُس کے کارکن بنا چکا ہے، اور وہ ہمیں اچھے کام کرنے کے قابل کر چکا ہے۔ وہ ہماری جانوں کو نئے سِرے سے پیدا ہونے کے قابل کر چکا ہے تاکہ ہم اِس زمین پربھی نئی زندگیاں گزار سکیں اور وہ ہمیں نئی زندگی عطا کر چکا ہے تاکہ جب وقت آئے، وہ ہمارے بدنوں کو زندہ کرے اور ہمیں آسمان پر اُس کے ساتھ ابد تک زندہ رہنے کے قابل کرے۔ آپ کے لئے اور میرے لئے یِسُوعؔ مسیح کون ہے؟ وہ ہمارا حقیقی نجات دہندہ ہے۔ اور یِسُوعؔ مسیح ہمارا نبی، ہمارا ابدی سردار کاہن اور ہمارا بادشاہ ہے۔
اگرچہ ہم خُدا کی مرضی کی نافرمانی نہیں  کرنا چاہتے، ہم اتنے ناکافی اور کمزور ہیں کہ ہم بچ نہیں سکتے بلکہ ہر وقت گناہ کرتے ہیں۔ اگر ہم یوں زندہ رہنا جاری رکھتے ہیں، اِسی طرح مرتے ہیں اور تب خُدا کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں،تو ہمارےلیے جانے کامناسب مقام کیا ہوگا؟ کیا یہ آسمان ہوگا یا جہنم؟ اگر ہم سب کو شریعت کے مطابق پرکھے جانا تھا جو اعلان کرتی ہے،  ” گناہ کی مزدوری موت ہے،“  تو کیا ہم سب تباہ نہیں ہوں گے؟ وہ جو ہم جیسے لوگوں کو گناہ اور تباہی سے بچا چکا ہے اور ہمارا نجات دہندہ بن چکا ہے یِسُوعؔ مسیح  ہے۔ وہ بذاتِ خود اِس زمین پر آیا، ہم سے محبت کی، اورہمارا نجات دہندہ بن چکا ہے جو، اِس طرح اپنے گلے کا اچھا چرواہابن کر ہمیں گناہ سے چھڑا چکا ہے۔
یوحنا ۳:۱۶ بیان کرتا ہے،  ” کیونکہ خُدا نے دُنیا سے اَیسی مُحبّت رکھّی کہ اُس نے اپنا اِکلَوتا بیٹا بخش دِیا تاکہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زِندگی پائے۔“ خُدا نے آپ سے اور مجھ سے اتنی محبت کی کہ وہ بذاتِ خود ہمارے لئے اِس زمین پر آگیا، دنیا کے گناہ اُٹھانے کے لئے بپتسمہ لیا، مصلوب ہوا اور صلیب پر مر گیا، پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا اور یوں ہمارا حقیقی طور پر نجات دہندہ بن چکا ہے۔ اِس لئے، یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو ہمارے دلوں میں ہمارا نجات دہندہ بن چکا ہے، ہم وہ لوگ بن چکے ہیں جو گناہ سے پاک ہیں، جو نجات کی بخشش حاصل کر چکے ہیں، جو ہمیں خُدا کے بیٹے بننے اور ابدی زندگی حاصل کرنے کے قابل کر چکا ہے۔
ایک چیز ہے جس پر ہمیں خُد اکے سامنے ایمان رکھنایقینی بنانا چاہیے۔ یہ اِس لیے ہےکہ خُدانے ہم سے محبت کی، اور ہمارے گناہوں کو مٹانے کے لئے، وہ اِس زمین پر ایک انسان کے بدن میں مجسم ہو کر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا، مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں ہمارا حقیقی نجات دہندہ بن چکا ہے۔ یہ اپنے دلوں میں ہمارے ایمان کی بدولت یِسُوعؔ کا گوشت کھانے اور اُس کا خون پینے کے وسیلہ سے ہے کہ ہمیں ابدی زندگی مل سکتی ہے۔ کیونکہ اِس حقیقت سے زیادہ واضح کوئی چیز نہیں ہو سکتی، اِس لیےہم اِس کو تسلیم کرنے اور اِس پر ایمان رکھنےکےعلاوہ کچھ نہیں کرسکتے ۔
ہمیں یقیناً ایمان کے وسیلہ سے یِسُوعؔ کا گوشت کھانا اور اُس کا خون پینا چاہیے۔ اور کوئی بھی شخص اِس واحد ایمان کو حاصل کر سکتا ہے جو پہچانتا اور یِسُوعؔ کی معرفت مکمل ہوئی پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتا ہے جس طرح یہ ہے۔ ہمارے کرنے کے لئے کچھ دوسرا نہیں بلکہ ایمان رکھنا ہے؟ ہم خُدا کے خلاف کھڑے ہونےکےعلاوہ اور کچھ نہیں کرسکتے ۔ ہم خُدا کی نافرمانی اور گناہ کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ لیکن خُدا پھر بھی آپ کو اور مجھے ہمارے تمام گناہوں سے ایک ہی بار ہمیشہ کے لئے بچا چکا ہے، کیونکہ وہ ہم سب سے محبت کرتا ہے۔
 
 
کیسے خُدانے پرانے عہد نامہ کے دَور میں اپنی نجات کے بارے میں فرمایا؟
 
توپھر، خُداوند نے ہمیں کس طریقہ سے بچا یاہے؟ پرانے عہد نامہ میں، اُس نے خیمۂ اِجتماع کے دروازےپر ظاہر ہونے والے رنگوں اور سردار کاہن کے پہنےہوئے کپڑوں کے وسیلہ سے اِس نجات کے بارے میں فرمایا۔ خیمۂ اِجتماع کے دروازہ میں ظاہر کیے گئے آسمانی، ارغوانی، اور سُرخ دھاگے اور باریک بٹے ہوئے کتان کے رنگ مُکاشفہ ہیں جو ہم پر اُس کی کامل نجات کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور سردار کاہن کے کپڑوں پر، سونے کے تار کو شامل کِیا گیا تھا۔
آسمانی دھاگہ ہمیں بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر ہمارے نجات دہندہ کے طورپر آیا اوربپتسمہ لینے کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا۔ ارغوانی دھاگہ ہمیں بتاتا ہے کہ یِسُوعؔ مسیح بادشاہوں کا بادشاہ اور خُدائے خالق ہے جس نے کائنا ت کو پیدا کِیا۔ سُرخ دھاگہ ہمیں بتاتا ہے کہ چونکہ یِسُوعؔ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے وسیلہ سے ہمارے گناہوں کو اُٹھا لیا، وہ دنیا کے گناہوں کو لے گیا اور اپناخون بہانے اور مرنے کے وسیلہ سے صلیب پر اُن کے لئے لعنتی ٹھہرا، یوں ہمیں نجات دی، جو ہمیں ہمارے تمام گناہوں کی لعنت سے آزاد کر چکی  ہے۔
باریک بٹے ہوئے کتان کامطلب پرانے اور نئے عہد نامہ کا وسیع کلام ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا خُداوند اِس زمین پر آیا، بپتسمہ لیا، صلیب پر مرگیا،پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور یوں اُن کے گناہوں کو مٹا چکا ہے جو واقعی ایمان رکھتے ہیں،اور اُن کی جانوں کو برف کی مانند سفید پاک کر چکا ہے، اور اُنھیں بچا چکا ہے۔ سونے کا تاراِس ایمان کی نشاندہی  کرتاہے جواِس بات پر  ایمان رکھتا ہے کہ یِسُوعؔ مسیح ہمارے لئے کیا کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے کا تار چمکتا ہے۔ آپ اور میرےپاس فخر کرنےکےلیےکچھ نہیں ہے، لیکن جب ہم پورے دل سےاِس بات پر  ایمان رکھتے ہیں جو یِسُوعؔ مسیح، بذاتِ خود خُدا اور خُدا کا بیٹا ہمارے لئے کر چکا ہے۔ ہم واقعی خُدا کی محبت میں ملبوس  ہو سکتے ہیں، اُس کی برکات حاصل کر سکتے ہیں، اور صرف راست کاموں پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے جو وہ کر چکا ہے اُس کے وسیلہ سے پرورش پا سکتے ہیں۔ یہ ہے خُدا ہمیں خیمۂ اِجتماع کے وسیلہ سے کیا بتا رہا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا  چاہیےکہ خیمۂ اِجتماع کے اندر رکھے گئے عہد کے صندوق کی معرفت خُدا ہمیں کیا فرما رہا ہے۔ ہمیں یقیناً جاننا اور ایمان رکھنا چاہیے کہ یِسُوعؔ مسیح اِس زمین پر آیا، بنی نوع انسان کے اور ہمارے تمام گناہوں کو یوحناؔ اصطباغی سے بپتسمہ لینے کی بدولت اُٹھا لیا، صلیب پر مرنے کی بدولت ہماری گناہ کی لعنت برداشت کی، اور پھر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ عہد کے صندوق کے وسیلہ سے، خُدا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ ہمیں  واقعی اپنے ذاتی نجات دہندہ کے طورپر،اور اپنے ذاتی خُدا کے طورپر یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنا چاہیے۔ وہ جو یِسُوعؔ کے بپتسمہ پر اُن کے اپنے ذاتی گناہوں کو اُٹھانے کے طورپر، یِسُوعؔ کے صلیبی خون پر اپنے گناہوں کی موت کے طورپر، یِسُوعؔ مسیح کی موت پر اپنی ذاتی موت کے طورپر، اُس کے جی اُٹھنے پر اپنے ذاتی جی اُٹھنے کے طورپر ایمان رکھتے ہیں - وہی لوگ ہیں جنھیں خُدا نجات دے چکا ہے۔
تو پھریہ خیمۂ اِجتماع کس طرف اشارہ کرتاہے؟ یہ یِسُوعؔ مسیح کی طرف اشارہ کر تاہے۔ یہ ہمیں نجات کے طریقہ کے بارے میں بتاتا ہے جس کے ساتھ یِسُوعؔ مسیح آپ کو اور مجھے ہمارے گناہوں سے بچا چکا ہے۔ نئے عہد نامہ میں، یہ یِسُوعؔ مسیح تھا جس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مر گیا، یوں ہمارے تمام گناہوں کو مٹا ڈالا، اُن سب کو دھو دیا، ہماری ساری بدکرداریوں کے لئے لعنتی ٹھہرا، اور ہمیں ایک ہی بار ہمیشہ  کے
لئے تمام گناہوں سے بچالیا۔
پرانے عہد نامہ میں، یہ قربانی کا جانور تھا جو گنہگاروں کو اُس کے سر پر اُن کے ہاتھ رکھنے کے طورپر، اور اپنا خون بہانے اور مرنے کے وسیلہ سے اُن کی بدکرداریوں کو قبول کرنے کی بدولت بچاتا تھا۔ پرانا عہد نامہ قربانی کے جانور کی موت کو بیان کرتا ہے جو ہاتھوں کے رکھے جانے کے وسیلہ سے اُن گنہگاروں کے گناہوں کو اُٹھاتا تھا اور اُن کی جگہ پر فِدیے کی موت کے طورپر مرتاتھا۔ پرانے عہد نامہ میں ظاہر کِیا گیا فِدیے کا قربانی کا نظام، جب نئے عہد نامہ کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، تواِس سے مراد یِسُوعؔ مسیح ہے، جو پانی اور روح کی خوشخبری کی تکمیل کرنے والا ہے جو بپتسمہ اور خون کے وسیلہ سے آیاتھا۔
تو پھر، کس نے نجات کی اِس شریعت کو بنایا اور مقرر کِیا؟ خُدا ہمارے نجات دہندہ نے اِسے مقرر کِیا۔ خُدا نے نجات کی شریعت کوقائم کِیا جو گنہگاروں کو گناہ سے آزادکرتی ہے، اور وہ یہی شریعت ہمیں عطا کر چکا ہے۔ عہد کے صندوق میں شریعت کی دو تختیاں، مَنّ کا مرتبان، اور ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی موجود تھے۔ اور یہ سب چیزیں ہمیں یِسُوعؔ مسیح کی صفات اور خدمات کے بارے میں بتاتی ہیں۔
ہارونؔ کی لاٹھی جو پُھوٹ پڑی ہمیں بتاتی ہے کہ خُدا ہمیں بچاتا ہے جب ہم یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھتے ہیں جور وحانی طورپر آسمان کی بادشاہی کا سردار کاہن اور ہمارا اچھا چرواہا بن چکا ہے۔ مَنّ  کا مرتبان ہمیں یِسُوعؔ مسیح کے گوشت اور خون کے بارے میں بھی بتاتا ہے جو ہماری زندگی کی روٹی بن چکاہے۔ شریعت کی پتھر کی دو تختیاں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ خُدا شریعت کو بنانے والا ہے۔ خُدا کی معرفت قائم کی گئی شریعت گناہ اور موت کی شریعت اور گناہ کی معافی اور نجات کی شریعت ہے۔ ہمارے خُداکےطورپر، یِسُوعؔ ہم پر زندگی کی شریعت اور موت کی شریعت قائم کر چکا ہے۔
اِس طرح، عہد کا صندوق اور اِس میں موجود ہرچیز ہم سے یِسُوعؔ مسیح کے بارے میں کلام کرتے ہیں۔ یہ یِسُوعؔ مسیح پر اپنے نجات دہندہ کے طورپر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ہے کہ ہم اپنے تمام گناہوں سے پاک ہو سکتے ہیں اور اپنی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کوئی معنی نہیں رکھتا کتنے ناکافی اور کمزور ہم ہو سکتے ہیں، اگرہم قبول کرتے اور دونوں شریعتوں کی پیروی کرتے ہیں جو یِسُوعؔ قائم کر چکا ہے، تب ہم ایک مرتبہ گنہگار بن سکتے، اور پھر ایک بار اپنے تمام گناہوں کی معافی حاصل کرنے کے وسیلہ سے راستبازبن سکتے ہیں اور یوں خُدا کے اپنے لو گ بن سکتے ہیں۔ کیا آپ ایمان رکھتے ہیں؟
اب اِس موجود ہ وقت میں، پوری دنیا میں سے تقریباً تمام مسیحی یِسُوعؔ پر بے فائدہ ایمان  رکھنے  کا
رُجحان رکھتے ہیں،کیونکہ وہ خیمۂ اِجتماع میں ظاہر ہونےوالی سچائی کو نہیں جانتے۔ وہ ایمان رکھتے ہیں کہ وہ محض یِسُوعؔ کے صلیبی خون پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے گناہ کی معافی حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، وہ ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ اُنھیں صرف صلیبی خون کے ساتھ نجات دے چکا ہے۔ لیکن کیا یِسُوعؔ حقیقت میں ہماری نجات کے لئے محض صلیب پر مر گیا تھا؟ کیا یہ سب  کچھ ہے جو اُس نے ہماری خلاصی کے لئے کِیا؟ اِس کے برعکس، کیا اُس نے یوحناؔ سے بپتسمہ لینے کی بدولت دنیا کے تمام گناہوں کو ایک ہی بارہمیشہ کے لئے نہیں اُٹھایا (متی ۳:۱۳۔۱۵؛  ۱۔پطرس ۳:۲۱؛  ۱۔یوحنا۵: ۶)؟
پھربھی آج کے مسیحی، محض آدھی گناہ کی معافی حاصل کرتے ہوئے، صرف یِسُوعؔ کے صلیبی خون پر ایمان رکھتے ہیں۔چنانچہ نجات دہندہ کے طورپر یِسُوعؔ مسیح پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے اپنے موروثی گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد، وہ اپنے روزمرہ کے گناہ خودسےدھونے کی کوشش کرتے ہوئے ہر روز توبہ کی دُعائیں مانگتے ہیں۔ یہ نجات کتنی اُلٹ پلٹ ہے؟ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایمان سے صرف اپنے آدھے گناہوں کو دھونا، اور پھراپنی ذاتی کوششوں کے وسیلہ سے باقی گناہوں کو دھونے کی کوشش کرنا۔
جب صورتِ حال ایسی ہے،تو کیسے مَیں رہ نہیں سکتا بلکہ بار بار یِسُوعؔ کے بپتسمہ اورخون کوباہم سکھاتے ہوئے منادی جاری رکھوں گا؟ اب تک، اِس دنیا کے بہت سارے مسیحی، ابتدائی کلیسیائی دَور کے مسیحیوں کےعلاوہ، آدھی کھوکھلی نجات پر ایمان رکھ چکے ہیں۔ اگرایسا نہیں ہے توکیوں لوگ اب مسیحیت پر محض ایک دنیاوی مذہب کے طورپر ایمان رکھتے ہیں؟
زیادہ عرصہ نہیں گزراکہ امریکہ سے والیریا جونز نامی ایک خاتون نے خیمۂ اِجتماع کی سیریز کی پہلی جِلد پڑھنے کے بعد گناہ کی معافی حاصل کی۔ اِس کتاب کو پڑھنے سے پہلے، وہ ہماری کئی دوسری اشاعتیں پڑھ چکی تھیں۔ اگرچہ وہ ہماری کتابوں کی باتوں سے متفق تھیں، وہ ابھی تک خود  کو پانی اور روح کی خوشخبری سے مکمل طورپر مطمئن نہ کر سکی۔ اُس نے ہمیں بتایا کہ وہ اب بھی کچھ  شکوک و شبہات رکھتی تھیں،سوچتےہوئے ”یہ درست لگتا ہے، لیکن پھر کیسے اتنے سارے لوگ اِس کی منادی نہیں کر رہے ہیں؟“ لیکن اُس نے اِقرار کِیا کہ جب اُس نے خیمۂ اِجتماع کی سیریز کی پہلی جِلد ختم کی، وہ نجات کا واضح ایمان حاصل کرنے تک پہنچی،یہ ایمان رکھتے ہوئے کہ پانی کی خوشخبری درست ہے، یعنی یہ خیمۂ اِجتماع میں ظاہر ہونےوالی اصل سچائی ہے۔
بینن سے اِسی کتاب کے ایک قاری نے بھی ہمیں لکھا، ”آپ کو یہ جان کر بہت  حیرت ہو گی کہ آپ کی کتاب پڑھنے کی بدولت گناہ کی معافی حاصل کرنے کے بعد، مَیں اب اپنا گرجا گھر چھوڑ چکا ہوں۔ کیوں مَیں نے اُس گرجا گھر کو چھوڑدیا جس میں مَیں شرکت کر رہا تھا؟ کیونکہ وہ رفتہ رفتہ پاکیزگی کی الہٰی تعلیم کی منادی کرتے تھے، ایسی چیز جو کلام ِ مقدس میں سے نہیں سکھائی جاتی۔ رفتہ رفتہ پاکیزگی کی یہ الہٰی تعلیم مکمل طورپر کلامِ مقدس کے مطابق نہیں تھی۔ جس طرح اُنھوں نے سکھانا جاری رکھا کہ مَیں یقیناً اَور راستباز ٹھہر سکتا ہوں جب کہ حقیقت میں میرا جسم کبھی پاک نہیں ہو سکتا، میرے لئے ایسے پیغاما ت میں بیٹھنا اور سننا ناقابلِ برداشت تھا۔
یہ ہے کیوں مَیں اِس کلیسیا میں سے نکل آیا اور اپنے آپ کو اِس سے الگ کر لیا۔ کیونکہ مَیں آپ کی کتاب پڑھنے کی بدولت اپنے گناہوں کی معافی حاصل کر چکاہوں، مَیں کوئی چارہ نہیں رکھتا تھا بلکہ اُس گرجا گھرکو چھوڑدینا جس میں مَیں شرکت کر رہا تھا اور اب خود  کو اِس سے الگ کرلوں۔ جیسا کہ ہم جو اِس سب میں سے گزر چکے ہیں اب ایمان کے لوگ بن چکے ہیں اور اپنے آپ کو خُدا کی کلیسیا کے ساتھ متحد کر چکے ہیں، اِس دنیا کے سب لوگ بھی بدل سکتے ہیں اگر وہ صرف سچائی کو جانیں، جس طرح کلام فرماتا ہے،   ’ اور سچّائی سے واقِف ہو گے اور سچّائی تُم کو آزاد کرے گی۔‘
خیمۂ اِجتماع کا عہد کا صندوق بھی یِسُوعؔ مسیح کو ظاہر کرتا ہے۔ عہد کا یہ صندو ق خیمۂ اِجتماع کے سب سےگہرے حصے میں رکھا گیا تھا۔ کوئی بھی اِسے صرف خیمۂ اِجتماع کے پردہ کو اُٹھاکر اور اِس میں داخل ہونے کے وسیلہ سے، اور پھر پاکترین مقام کا پردہ اُٹھانے اور اِس میں جانے کے وسیلہ سے دیکھ سکتا تھا۔ دوسرے لفظوں میں، خیمۂ اِجتماع کا دروازہ مشرق میں واقع تھا، اور صندوق خیمۂ اِجتماع کے انتہائی مغربی کونے میں رکھا گیا تھا۔
 
 
چوبیں صندوق سے الگ نہ کی جائیں
 
خروج ۲۵:۱۴۔۱۵فرماتا ہے،  ” اور اِن چوبوں کو صندُوق کے اطراف کے کڑوں میں ڈالنا کہ اُن کے سہارے صندُوق اُٹھ جائے۔چوبیں صندُوق کے کڑوں کے اندر لگی رہیں اور اُس سے الگ نہ کی جائیں۔ “  اِن آیات کا کیا مطلب ہے؟ اِن آیات کے ساتھ، خُدا ہمیں بتارہا ہے کہ ہمیں اپنے آپ کواُس کے لئے وقف کرنے کے وسیلہ سے پانی اور روح کی خوشخبری کی خدمت کرنی چاہیے۔ خوشخبری پھیلتی ہے صرف جب ہم اُس کے کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتے ہیں۔ خوشخبری کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنے کی بدولت خُداوند کی خدمت کرنا صلیب کی راہ کی پیروی کرنا ہے جس پر ہمارا خُداوند ہم سے پہلے چل چکا تھا۔ اِسی لیے  اُس نے اپنے شاگردوں سے فرمایا،  ” اگر کوئی میرے پِیچھے آنا چاہے تو اپنی خُودی سے اِنکار کرے اور اپنی صلِیب اُٹھائے اور میرے پِیچھے ہو لے۔  “  (مرقس ۸:۳۴)۔
حقیقی خوشخبری کو پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے، عظیم قربانی، کوشش اور دُکھ درکار ہیں۔ ہم اِس حوالہ کو دیکھنے کی بدولت معلوم کر سکتے ہیں کہ پولُسؔ رسول نے پانی اور روح کی خوشخبری کے لئے کتنی تکلیفیں برداشت کیں: ” کیا وُہی مسِیح کے خادِم ہیں؟ (میرا یہ کہنا دِیوانگی ہے) مَیں زِیادہ تر ہُوں۔ مِحنتوں میں زِیادہ۔ قَید میں زِیادہ۔ کوڑے کھانے میں حَد سے زِیادہ۔ بارہا مَوت کے خطروں میں رہا ہُوں۔مَیں نے یہُودِیوں سے پانچ بار ایک کم چالِیس چالِیس کوڑے کھائے۔تِین بار بیَنت لگے۔ ایک بار سنگسار کِیا گیا۔ تِین مرتبہ جہاز ٹُوٹنے کی بَلا میں پڑا۔ ایک رات دِن سمُندر میں کاٹا۔مَیں بارہا سفر میں۔ دریاؤں کے خطروں میں۔ ڈاکُوؤں کے خطروں میں۔ اپنی قَوم سے خطروں میں۔ غَیر قَوموں سے خطروں میں۔ شہر کے خطروں میں۔ بیابان کے خطروں میں۔ سمُندر کے خطروں میں۔ جُھوٹے بھائِیوں کے خطروں میں۔مِحنت اور مشقّت میں۔ بارہا بیداری کی حالت میں۔ بُھوک اور پِیاس کی مُصِیبت میں۔ بارہا فاقہ کشی میں۔ سردی اور ننگے پَن کی حالت میں رہا ہُوں۔اَور باتوں کے عِلاوہ جِن کا مَیں ذِکر نہیں کرتا سب کلِیسیاؤں کی فِکر مُجھے ہر روز آ دَباتی ہے “  (۲۔کرنتھیوں ۱۱:۲۳۔۲۸)۔
تاہم، وہ لوگ  جو خُداوند سے زیادہ اپنے آپ سےمحبت کرتے ہیں جس نے ساری سزا سے اُنھیں چھڑانے کے واسطے اپنے آپ کو دے دیا وہ خُدا کی بادشاہی کے لئےاپنےآپ کو  قربان نہیں کرسکتے۔ پانی اور روح کی خوشخبری کی خدمت کرنا کوئی آسان راستہ نہیں ہے۔ کیسے کوئی کسان بغیر پسینے کے اچھی فصل کی توقع کر سکتا ہے؟
اِسی طرح، عہد کا صندوق بھی ہماری قربانیوں کے وسیلہ سے اُٹھا یا جانا چاہیے۔ ایک مرتبہ داؤدؔ بادشاہ نے عہد کے صندوق کو بیلوں سے کھینچےجانے والی ایک نئی گاڑی سےلانے کی کوشش کی،بجائے اِس کےکہ اِس کےآدمی اِسے چوبوں کے ساتھ لےجائیں جس طرح اِسےلےجانے کو کہا گیا تھا۔ راستہ میں، بیل ٹکرا گئے، اور ایک عُزہؔ نام شخص نے خُدا کے صندوق پر اپنے ہاتھ لگائے اور اِسے تھاما۔ تب خُداوند کا غضب عُزہؔ کے خلاف بھڑکا،اور خُدا نے اُس کی غلطی کی وجہ سے اُسے وہیں ماردیا۔ عُزہؔ وہاں اُس کے صندوق کےپاس مرگیا(۲۔سموئیل ۶:۱۔۷)۔ پس داؤدؔ، اِس سے لرزہ اور اُس دن خُداوند سے ڈرا، اورعہد کے صندوق کو جاتی عوبیدؔ ادوم کے گھر میں لے گیا۔ یہ صندوق اپنے آدمیوں کے کندھوں پر اُٹھانے کے وسیلہ سے ہی تھا کہ وہ اِسے تین مہینے بعد اپنے قلعہ میں واپس لا سکا۔ جس طرح یہ بیان واضح کرتا ہے، ہمیں یقیناً عہد کا صندوق ٹھیک اُسی طرح اُٹھانا چاہیے جس طرح خُدا ہمیں، اپنے پسینے اور خون کے ساتھ، اپنی قربانیوں کے ساتھ، اُس کی خوشخبری کے لئے اپنے نہ ختم ہونے والے خلوص کے ساتھ اُٹھانے کے لئے دے چکا ہے۔
وہ جو واقعی بڑی شکر گزاری کے ساتھ گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں اپنے آپ کو خُداوند کے لئے وقف کرکے زیادہ خوش ہیں جو ہمارے لئے خود کو وقف کر چکا ہے۔ ہم باربار خُداوند، اپنے نجات دہندہ اور خُد اکا شکر ادا کرتے ہیں۔ ہم ہمیں اِس زمین پر خوشخبری کی خدمت کرنے کے لئے اُس کی پیروی کے واسطے، اُس کا شکر ادا کرتے ہیں۔
ہم سب اِس خواب کی مانند حقیقت سے حیران اوربہت خوش ہیں، کہ خُداوند ہمیں سچی خوشخبری کی خدمت کرنے، اُس کی پیروی کرنے اور زندگی کی وہ قِسم گزارنے کے لئے جو اُسے خوش کرتی ہے چُن چکا ہے۔ ہمیں صرف نجات کی سچائی کوجاننے کی اجازت دینا  ہی ہمیں خوشی کے ساتھ مغلوب کرنے کے لئے کافی ہوگا، اور پھر بھی خُداوند نےہمیں اِس خوشخبری کی خدمت کرنے  کی اجازت  بھی  دی ہے۔ ایسی عظیم برکتیں دینے کے بعد، کیسے ہم ممکنہ طورپر اُس کا شکر ادا نہیں کر سکتے؟ ہم خُدا کو اپنا سار ا شکر پیش کرتے ہیں۔ اِسی لیے ہم سچی خوشخبری پھیلانے کے لئے اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں،ہم اِس عالمگیر منادی کے مقدس کام کے لئے کسی وقت، کوشش، یا اپنی جائیداد کو بچانے کی پرواہ نہیں کرتے۔
کہ ہم گناہ کی معافی حاصل کر چکے ہیں،در حقیقت، اپنےآپ میں ایک  ایسی چیز ہے جس کے لئے ہم بےحد شکر گزار ہیں۔ لیکن خُدا یہاں روک نہیں چکا، بلکہ مزید وہ ہمیں پانی اور  روح  کی  سچی  خوشخبری
سےملنے اورپھیلانے کے قابل کر چکا ہے— یہ ہمارے لئےایک عظیم برکت کےسِواکیاہے؟
اور کون ہےجوپانی اور روح کی اِس خوشخبری کی خدمت کرنےکی ہمت کر سکتا ہے؟ محض کوئی بھی اِس خوشخبری کی خدمت نہیں کر سکتا۔ کیا سیاستدان اِس کی  خدمت کر سکتے ہیں؟ میئرز؟ صدور؟ بادشاہ؟ کوئی معنی نہیں رکھتاکہ ایسے لوگوں کے سماجی عہدے  کتنے ہی اونچے ہوں، اگر وہ پانی اور روح کی خوشخبر ی کونہیں جانتے اور اِس پر  ایمان نہیں رکھتے، تووہ کبھی بھی حقیقی خوشخبری کی خدمت نہیں کر سکتے۔ مگر خُدا ہمیں ایسا غیر مستحق موقع عطا کرچکا ہے اور حقیقتاً ہمیں اِس خوشخبری کی خدمت کے قابل کر چکا ہے۔ یہ کتنی عظیم برکت ہے؟
مَیں اِس  فضل کے لئےخُداکا شکر اداکرتاہوں جس نے ہمیں بچایا ہے، کیونکہ وہ ہم سے محبت کرچکا ہے۔ بھائیو اور بہنو، ہم ایمان رکھتے ہیں کہ یِسُوعؔ مسیح ہمارا خُدا اور نجات دہندہ ہے۔ ہم خُدا کےوہ لوگ ہیں جو یِسُوعؔ کا گوشت کھاتے اور اپنے روحانی ایمان کے ذریعے اُس کا خون پیتے ہیں۔ کلامِ مقدس فرماتاہے کہ یِسُوعؔ مُردوں کا خُدا نہیں، بلکہ زندوں کا خُدا ہے (لوقا ۲۰:۳۸)، اور زندہ یہاں اُن کے علاوہ کوئی دوسرے نہیں ہیں جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے وسیلہ سے ابدی زندگی حاصل کر چکے ہیں۔ جو کوئی اِس خوشخبری کی سچائی پر ایمان نہیں رکھتا وہ روحانی طورپر مُردہ ہے، اور جو کوئی اِس پر ایمان رکھتا ہے وہ روحانی طورپر زندہ ہے۔ خُدا درحقیقت اُن کا خُدا ہے جو پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔
بھائیو اور بہنو، یِسُوعؔ بذاتِ خود ہمیں اپنے بدن اور خون کے وسیلہ سے گناہ کی معافی عطا کر چکا ہے۔ آپ کو یقیناً احساس کرنا چاہیے کہ اگر آپ اِس سچائی پر ایمان نہیں رکھتے، تو آپ  کایِسُوعؔ کے ساتھ کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوگا۔ یِسُوعؔ مسیح آپ کو آسمانی برکات، ابدی زندگی، اور آپ کے گناہوں کی معافی بخشتا ہے۔وہ کون ہےجو اچھا چرواہا بن چکا ہے جو آپ کو دائمی برکات سےنوازتاہے، جوآپ کی  راہنمائی کرتاہے اور آپ کی حفاظت کرتا ہے؟ یہ یِسُوعؔ مسیح ہےجو پانی اور روح کی خوشخبری کو مکمل کرنے والا ہے۔ یہی یِسُوعؔ خُدا ہے۔ مَیں اُمید کرتا اور دُعا مانگتاہوں کہ آپ میں سے ہر ایک اور ہر کوئی اِس یِسُوعؔ پر اپنے خُدا کے طورپر ایمان رکھے گا۔
جہاں تک میراتعلق ہے،مَیں نہ صرف اِس سچائی پر ایمان رکھتا اور اب خُدا کی خدمت کرتاہوں، بلکہ مَیں مستقبل میں بھی ہمیشہ ایسا کرنا جاری رکھوں گا۔ لیکن آپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا آپ پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں؟ اور کیا آپ ایمان رکھتے ہیں کہ آپ کو اپنے ایمان سے خُداکی کلیسیا اور مسیح کی محبت میں سکونت کرنی چاہیے؟ آئیں ہم سب پانی اور روح کی خوشخبری پر ایمان رکھتےہوئےاُس دن تک اپنی زندگیاں گزاریں جب تک ہم اپنے خُدا وند سے نہ مل لیں ۔