Search

خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-4] جان دینےتک وفادار رہیں <مُکاشفہ۲: ۸ -۱۱>

جان دینےتک وفادار رہیں
<مُکاشفہ۲: ۸ -۱۱>
 
کلیسیا کے ابتدائی دور کے دوران ، بہت سارے مسیحی زمین پر مارےمارےپھِر رہے تھے ، ایک ایسی محفوظ جگہ کی تلاش کر رہے تھے جہاں وہ رومی حکام کے ظلم و ستم سے بھاگ کر بچ سکیں۔ شہنشاہ نیرو کے انتقال کے بعد بھی ، رومی سلطنت نے ظلم و ستم کی اپنی پالیسی کو جاری رکھا ، کیوں کہ مسیحی اس کے بعدمیں آنے والے شہنشاہوں کے اختیار کابھی مقابلہ کرتے رہے۔ ابتدائی مقدسین نے رومی شہنشاہوں کے دنیوی اختیار کوپہچانا اور قبول کِیا ، لیکن اُنہوں نے اِس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا جب اُن سے یہ مطالبہ کِیا گیاکہ وہ اپنا عقیدہ ترک کردیں۔ چونکہ وہ رومی حکام کے اِس مطالبے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، ابتدائی کلیسیا کی تواریخ ظلم و ستم اور شہادتوں سے بھر گئیں۔
ہمیں خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ کیا آج کے مقدسین کے لئے مُکاشفہ کا کلام کوئی خاص مطابقت رکھتاہے؟ بہر حال ، یہ تقریباً دو ہزار سال پہلے لکھا گیا تھا ، اب نہیں ، اور آسیہ کی سات کلیسیاؤں کولکھا گیا ، ہمیں نہیں۔ یہ ہمارے ساتھ کیسے مطابقت رکھ سکتا ہے؟
یہ مطابقت رکھتاہے کیونکہ یہ خُدا کا کلام ہے جو ہمیں مستقبل میں آنے والی باتوں کےبھیدوں سے آگاہ کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم کالےگھوڑے کے دور میں جی رہے ہیں ، مُکاشفہ۶ باب میں بیان کردہ "چار گھوڑوں کے دور" میں سے تیسرا دور ۔ سفید اور لال گھوڑےکے دور کو گزرنے کے بعد ، اب ہم کالے گھوڑے کے دور میں جی رہے ہیں ، تقریباً اس کے اختتام پر۔ جسمانی اور رُوحانی ، قحط کا پوری دُنیا کو جلد ہی سامنا کرنا پڑے گا۔ دراصل ، یہ کہنا شاید ٹھیک ہے کہ قحط کا یہ دور پہلےہی آچکا ہے۔ جب کالے گھوڑے کا موجودہ دور ، قحط کا دور ، گزر جائے گا ، زرد گھوڑے کا دور آجائے گا۔
سات مُہروں کا مُکاشفہ ۶ باب میں ذکر کِیا گیا ہے کا مطلب یہ ہے کہ خُدا نے مسیح میں کُل سات ادوار کی منصوبہ بندی کی ہے جب اُس نے کائنات کو تخلیق کِیا تھا۔ پہلا دور ، سفید گھوڑے کا دور ، خوشخبری کا دور ہے؛ دوسرا دور ، لال گھوڑے کا دور ، شیطان کا دور ہے جب شیطان دُنیا میں عظیم اُلجھن کولایا ، جنگیں کروائیں ، اور خُدا کی کلیسیاکی مخالفت کرنےکوجاری رکھا۔ اِن ا دوار کے بعد کالے گھوڑے کا دور ، ایک ایسا دور ہے جس نے دُنیا کو جسمانی اور رُوحانی قحط سےغارت کِیا۔ کالے گھوڑے کا یہ دور کچھ عرصہ پہلے ہی شروع ہوچکا ہے۔
جب یہ دور ختم ہوجائے گا ، زرد گھوڑے کا دور شروع ہوجائےگا ، جس میں مخالفِ مسیح کا ظہور ہوگا ، اِسی طرح مُکاشفہ۸باب میں بیان کردہ سات نرسِنگوں کی آفتیں شروع ہوں گی۔ جب سات نرسِنگوں میں سے آخری نرسنگا پھونکا جائے گا ، مقدسین کو اُٹھالیا جائے گا ، اور اِس کے بعد سات پیالوں کی آفتیں آئیں گی۔ اِس کے بعدہوامیں اُٹھائےجانے والے مقدسین کی برّےکےساتھ شادی ہوگی ، اور جب سات پیالوں کی ساری آفتیں ختم ہوجائیں گی ، تب خُداوند ہمارے ساتھ زمین پر واپس آئے گا اور اُس کی ہزار سالہ بادشاہی کا آغاز کرے گا۔ اِس کے بعد ہزارسالہ بادشاہی کے بعد نیا آسمان اور زمین آئے گا یہ اُن مقدسین پر اُترے گا جو اپنی پہلی قیامت سے ہزار سالہ بادشاہی میں جی رہے تھے۔
چنانچہ مُکاشفہ کی کتاب کے حوالے ، جیسے " جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا ،" اور " جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا ،" یہ سب براہ راست ہم سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مُکاشفہ کا کلام ، دوسرے الفاظ میں ، اُن مسیحیوں کے لئے تنقیدی مطابقت رکھتاہے جو آج کی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اگر مُکاشفہ کا کلام ہم سےمطابقت نہیں رکھتا تو ، خُدا کے اِس سارے کلام کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
اِن سات ادوار کا منصوبہ جومُکاشفہ کی کتاب میں ظاہر ہوا ہے مسیح ہمارے خداوند میں لاگواور مکمل ہوا ہے۔ جب زرد گھوڑے کا دور آجائے گا تو ،مخالفِ مسیح اپنا ظہور کرے گا۔ ہمیں خُدا کے کلام سے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اُس وقت کے لئے ہمارے خُداوند کا کیا منصوبہ ہے۔ یہ بات بالکل تشویش ناک ہے کہ ہم سب نےمُکاشفہ کے کلام سے یہ سمجھا ہے کہ خُدا نے ہمارے لئے کس طرح اپنا سارامنصوبہ مرتب کیا ہے اور وہ اِس کو کس طرح پورا کرے گا —دُنیا پر کیا آفتیں نازل ہوں گی ، ایمانداروں کےساتھ کیا ہوگا ، کیا آفات غیر ایمانداروں کو تباہ کریں گی، اور اِسی طرح۔ آپ کو اپنے لئےمُکاشفہ کے اِس کلام کی قطعی اہمیت اور مطابقت کو قبول کرنا اور اس پرایمان رکھنا چاہئے۔
آپ کو مُکاشفہ کی کتاب کیا کہتی ہے کے بارے میں بھی اچھی طرح سمجھ ہونی چاہئے ، جیسے سات سالہ عظیم ایذارسانیاں اور مسیح کی آمدِثانی۔ آج کے بہت سے مسیحی ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائے جانے کے نظریے پر ایمان رکھتے ہیں ، جو انگلینڈ میں پہلی مرتبہ ۱۸۳۰ء میں نمودار ہوا تھا اور اِس کے بعد موڈی بائبل انسٹی ٹیوٹ میں ایک پروفیسر ،سی۔آئی سکوفیلڈ نامی عالم نےاِسے بڑے پیمانے پر مشہور کِیا تھا۔
یہ نظریہ دعویٰ کرتا ہے کہ مقدسین کا اُٹھایا جانا عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور شروع ہونے سے پہلے رونما ہوگا۔ اِس نقطہ نظر میں ، پہلے غیر یہودیوں کواُٹھایا جائے گی ، اور پھر خدا بنی اسرائیل کی نجات کے لئے اپنا کام شروع کردے گا۔یہ بھی کہ ، مقدسین کا اُٹھایاجانا مخالفِ مسیح کے ظہور اور سات پیالوں کی آفتوں دونوں سے پہلے ہوگا۔
عام طور پر ، زیادہ تر مسیحی یا تو ہزار سالہ بادشاہی کی مخالفت کرنے کے نظریےیا ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائے جانےکے اس نظریے پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن یہ محض مفروضے ہیں جو بے بنیاد علم اور بائبل کی ناکافی سمجھ کی وجہ سے تعمیرہوئے تھے۔ ایماندارمُکاشفہ کی کتاب کے بارے میں جو بہت سارے سوالات رکھتے ہیں اُن کے جواب دینے کے بجائے، ان مفروضوں نے مُکاشفہ کے کلام کے بارے میں اور بھی سوالات اور شکوک و شبہات پیدا کرکے اچھےسے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اگر ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائے جانے کا نظریہ درست تھا تو ، غیریہودی ایمانداروں کے لئے مُکاشفہ کی کتاب کیا مطابقت رکھے گی؟ عظیم ایذارسانیاں اور واقعات کا سلسلہ جنکی مُکاشفہ میں نبوت کی گئی ہے ہمارے لئے کوئی مطابقت نہیں رکھیں گے ، کیونکہ ہم سب کو پہلے ہی اُٹھا لیا جائے گا۔ یہ ہے کیوں اکثر لوگ مُکاشفہ کے کلام کو ایمان کے بجائے تجسس کامعاملہ سمجھتے ہیں۔
لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ مُکاشفہ کاکلام ہمارے لئے تنقیدی مطابقت رکھتاہے جو آج کی دُنیا میں رہ رہے ہیں۔ مجھے آپ سے یہ پوچھنے دیں: کیا آپ خُدا کے کلام پر ایمان رکھتے ہیں ، یا آپ علمائے کرام کی باتوں پر ایمان رکھتے ہیں؟ آخری وقتوں پر بہت سارے نظریات موجود ہیں ، ہزارسالہ بادشاہی کی مخالفت کے نظریےسے لیکر ہزار سالہ بادشاہی کےبعد اُٹھائےجانے کانظریہ، عظیم ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانے کا نظریہ، عظیم ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کا نظریہ،عظیم ایذارسانیوں کےدرمیان اُٹھائےجانے کا نظریہ،وغیرہ ۔ علمائے کرام کے نامزد کردہ یہ نظریات بس ایسے ہی ہیں کہ— وہ محض مفروضوں ، دعووں اور قیاس آرائیوں سے زیادہ اور کچھ نہیں ہیں۔
آپ اِن میں سے کس نظریے پر ایمان رکھتے ہیں؟ بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ وہ ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانےکے نظریے پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو وہ اپنے پادریوں سے سیکھ چکے تھے۔ لیکن میں آپ کو واضح اور قطعی طور پر بتاتا چلوں: آپ اور مَیں سات نرسنگوں کی آفتوں سے گزریں گے اور عظیم ایذارسانیوں کے درمیان تک رہیں گے۔ کیونکہ عظیم ایذارسانیوں سے گزرنا ہمارا مقدر ہے ، ہمارا ایمان اتنا سچااور مضبوط ہونا چاہئے کہ ہم اُن آزمائشوں اور
مُشکلوں پر غالب آسکیں جو ہماری منتظر ہیں۔
کیا ہوگا اگر آپ ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے نظریہ پر ایمان رکھتے ہیں ، اپنے آپ سے سوچیں ، "مجھے عظیم ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھالیا جائے گا؛ مَیں اِس سے لا پرواہ نہیں ہوسکتا ، "اور آخری وقت کےلئےاپنے ایمان کو تیار نہیں کرتے؟ جب عظیم ایذارسانیوں کا سات سالہ دورآئےگاجیسےخُداکاکلام فرماتاہےیہ ہوگا، وہ لوگ جنہوں نے اپنے ایمان کو عظیم ایذارسانیوں کے لئےتیار نہیں کِیا وہ بڑی اُلجھن ، تکلیف ، اور یہاں تک کہ موت میں ڈوب جائیں گے— یہ کہ یسوع پراُن کابہت ایمان سب کو ہلا کر رکھ دینےوالاہوسکتاہے۔ اُن میں سے بہت سے لوگ ایذارسانیوں پر غالب آنے کے قابل نہیں ہوں گے اور اپنے ایمان کی جنگ ہارتےہوئےختم ہو جائیں گے۔
ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے کے نظریہ کے ظاہرہونےسے پہلے ، بہت سارے مسیحیوں نے حقیقت میں یہ سمجھا تھا کہ وہ عظیم ایذارسانیوں کےپورے سات سالہ دور سے گزریں گے ، اور یہ کہ اس کے خاتمے کے بعد ہی اُنکا اُٹھایاجاناہوگا جب مسیح اپنی آمدِثانی کرےگا۔ یہ سوچ کر کہ اُنہیں سات سال کی مدت کے ہر سال کو برداشت کرنا پڑےگا ، اُنہوں نے بے تابی کے ساتھ ، بلکہ بڑے خوف سے بھی اپنا ایمان تیار کِیا۔ تمام آفتوں سے گزرنا ضرور اُن کے لئے خوفناک سماں رہا ہوگا ، جیسا کہ واقعی کسی کے لئے ہونا چاہئے۔ لیکن اِس طرح کا اعتقاد صرف ایک تعلیمی نظریہ تھا ، خُدا کے کلام سے لاعلمی کی ایک پیداوار۔
پھر ایسے قدامت پسند بھی موجود ہیں جو ہزارسالہ بادشاہی کی مخالفت کے نظریے پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ ہزارسالہ بادشاہی کو علامتی طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ اِسے امن کی علامتی نمائندگی کے طور پر دیکھتے ہیں جو مسیح پرایمان رکھنے والے اپنی نجات کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایسےتعلیمی نظریات سچ تھے ، تو ہم اس بات کی پرواہ نہیں کرسکتے تھے کہ دُنیا کے ساتھ کیا ہوتا ہے ، کیوں کہ ہم سب کو ایذارسانیوں کے شروع ہونے سے پہلے ہی خُدا کےوسیلہ ہوا میں اُٹھا لیا جاتا۔
لیکن اگر وہ سچ نہیں تھے تو ،پھر کیا ہوگا؟ اپنےایمان کی تیاری کےبغیرعظیم ایذارسانیوں کا سامنا
کرتے ، ہم بےحرکت خوف کی گرفت میں آجائیں گے۔ ہم اپنے ایمان کا دفاع کرنےکےقابل نہیں ہوں گے ، آزمائشوں اور ایذارسانیوں کی لہروں کےآگےہتھیارڈالتے ، اور باقی دُنیا کی طرح اسی طرح بہتے ہوئےختم ہوجائیں گے۔ لیکن خُدا نے ہمیں بتایا ہے کہ جن کے نام کتاب حیات میں لکھے گئے ہیں—یعنی، وہ لوگ جو پانی اور رُوح کےوسیلہ نئےسرےسے پیدا ہوتے ہیں — وہ کبھی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔
خُدا اپنے مُکاشفہ کے کلام میں ہمیں بتاتا ہے کہ جو لوگ نئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں وہ ایمان کے ذریعہ عظیم ایذارسانیوں کی آزمائشوں پر غالب آئیں گے ، اور یہ کہ ایذارسانیوں کے درمیان ہی وہ اُن کو ہوا میں اوپر اُٹھالے گا۔ ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کا نظریہ بائبل کی اِس حقیقت سے الگ ہوجاتا ہے ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دعویٰ صرف انسان ساختہ مفروضہ ہے۔ یہ ، دوسرے الفاظ میں ، ایک جھوٹ ہے ، سچائی نہیں۔
پھر بھی پوری دُنیا میں بہت سارے لوگوں نے ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے کے اِس نظریہ کو قبول کِیا ہے۔ وہ لوگ جو سکوفیلڈ کے ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے نظریے کی تعلیم پر ایمان رکھتے ہیں،وہ مندرجہ ذیل پر ایمان رکھتےہیں۔
۱۔ عظیم ایذارسانیوں کا سات سالہ دور آخری وقتوں میں مخالفِ مسیح کے ظہور کے بعد شروع ہوگا۔
۲۔مخالفِ مسیح عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کےدوران پوری دُنیا پر حکومت کرے گا؛ سات سالہ دور کے پہلے نصف دورانیے میں ، وہ ایک مہربان حکمران کے طور پر حکومت کرے گا ، اور اِس کے بعد کےنصف دورانیےمیں وہ ایک شریرظالم کی طرح حکومت کرے گا۔
۳۔یروشلیم میں ہیکل دوبارہ تعمیر ہوگی اور قربانی کےجانوروں کی قربانی ایک بار پھر شروع ہوگی۔
۴۔ مخالفِ مسیح بنی اسرائیل کے ساتھ سات سالہ عہدکرے گا۔
۵۔ ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال کے بعد ، مخالفِ مسیح بنی اسرائیل کے ساتھ اِس عہد کو توڑ دے گا۔
۶۔ مندرجہ ذیل ساڑھے تین سال بنی اسرائیل کے لئے عظیم ایذارسانیوں اور ظلم وستم کا وقت ہوگا۔ اِس عرصے کے دوران فضل کی خوشخبری کی بجائے ہزارسالہ بادشاہی کی خوشخبری کی منادی کی جائے گی۔
۷۔ بنی اسرائیل میں سے، ۰۰۰,۱۴۴ ایذارسانیوں سے بچ جائیں گے۔
۸۔ ایذارسانیوں کا خاتمہ ہرمجدون کی لڑائی کے ساتھ ہوگا۔
مندرجہ بالا شرائط میں عظیم ایذارسانیوں کی تعریف کرنے کے بعد ، سکوفیلڈ نےایذارسانیوں کے دوران غیر قوموں کےساتھ کیا ہوگا اِس کا کوئی ذکر نہیں کِیا۔ دوسرے الفاظ میں ، سکوفیلڈ نے یہ بحث کی کہ تمام غیرقومیں جو مسیح پر ایمان رکھتی ہیں ایذارسانیوں کے شروع ہونے سے پہلے ہی اُٹھالی جائیں گی ، اور یہ کہ اُن کے اُٹھائےجانے کے بعد ہی خدا بنی اسرائیل کے درمیان کام کرنا شروع کرے گا۔ اُس کا کام ۰۰۰,۱۴۴ اسرائیلیوں کی نجات کے ساتھ مکمل ہوگا ، اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی نجات کا کام ختم کردے گا۔ اِس کے بعد ہزارسالہ بادشاہی کا آغاز ہوگا۔
سکوفیلڈ پر اثر و رسوخ اور ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے اِسکے دعوؤں کا ماخذ جون نیلسن ڈاربی تھا ، جو اُس گروہ کا بانی تھا ، جو پلئموت برادران کے نام سے مشہور تھا ، جس نے ایک پِنتیکُوستل رہنما سے ملاقات کے بعد اِس نظریہ کی حمایت کی۔ یہ رہنما دراصل اسکاٹ لینڈ کی مارگریٹ میک ڈونلڈ نامی ایک پندرہ سالہ لڑکی تھی ، جس نے۱۸۳۰ءمیں دعویٰ کِیا تھا کہ اُس نے خدا کی طرف سے ایک رویا دیکھی جس میں اُس نے دیکھا کہ مسیحیوں کو عظیم ایذارسانیوں سے پہلے ہی اُٹھالیا گیا تھا۔ اُس لڑکی سے ملاقات کرنے کے بعد ڈاربی نے ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے نظریےکی تعلیمات دینا شروع کردیں۔
اِس کے بعد ڈاربی کی تعلیمات ایک امریکی مذہبی عالم سکوفیلڈ کے پاس پہنچ گئیں۔ سکوفیلڈ ، جس نے اپنی ساری زندگی وسیع پیمانے پر استعمال ہونےوالی اپنی سکوفیلڈ ریفرنس بائبل پر کام کرتےہوئے گزاری تھی ، اُس وقت اس سوال پر غور کررہا تھا کہ آیا اُٹھایاجانا ایذارسانیوں سے پہلے یا اِس کے بعد واقع ہوگا۔ جب سکوفیلڈنے ڈاربی کے ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کے نظریہ کے بارے میں سُنا تو ، وہ اُس میں پوری طرح ڈوب گیا ، اور اُس کے دعووں پر پوری طرح قائل ہونے کے بعد ، اُس نے اِس نئے نظریہ کو اپنی سکوفیلڈ ریفرنس بائبل میں شامل کرنےسے قبول کرلیا۔ یہ ہے کیسے سکوفیلڈ نے ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانے کے نظریے پر یقین کِیا اور اِس کےلئے بحث کی، اوراِسی طرح آج کے کتنے مسیحی بھی اِس کی پیروی کرتےہیں۔
اِس سےپہلےکہ ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانےکے نظریے کو ڈاربی اور سکوفیلڈ نے بیان کِیا
تھا، بیشتر مسیحی ایذارسانیوں کےبعداُٹھائےجانےکے نظریے پرایمان رکھتےتھے۔ لیکن سکوفیلڈ ، جو امریکہ میں موڈی بائبل انسٹی ٹیوٹ میں ایک پروفیسر تھا ، نے نظریاتی امور پر خاص طور پر سکوفیلڈ ریفرنس بائبل کے اثرات سے زبردست تاثر ڈالا۔ یہ سکوفیلڈ اور اُس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تھا کہ ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانےکے کا نظریہ پوری دُنیا میں مسیحی برادریوں میں اتنا پھیل گیا تھا۔
بدقسمتی سے ، اِس کے نتیجے میں ، آج کے بہت سے مسیحی اپنے ایمان میں گہری نیندسوئے ہوئے
ہیں۔ وہ سوئے ہوئے ہیں کیونکہ وہ غلطی سے سوچتے ہیں کہ مخالفِ مسیح کے ظہور کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔وہ کہتےہیں اُنہیں عظیم ایذارسانیوں کے دور کے لئے اپنےایمان کو تیار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ، کیوں کہ اُنہیں یقین ہے کہ اس کے شروع ہونے سے پہلے ہی اُن کو اُٹھالیاجائے گا۔ لیکن ہمارےخُداوند نے ہمیں ہمیشہ جاگنے کےلئے کہا ہے ، کیونکہ کوئی نہیں جانتا ہے کہ دولہا کب آئے گا۔ پھر بھی افسوس کی بات یہ ہے کہ ،جو لوگ خُدا کے کلام کو نظرانداز کرتے ہیں اور اِس کی بجائے ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے کی تعلیمات پر بھروسہ کرتے ہیں،گہری نیندمیں سوئے ہوئے ہیں۔
لیکن اب جاگنے کا وقت آگیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ آپ ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانےکے بارے میں اپنے غلط عقیدے کو ترک کردیں اور سچائی کےکلام پر یقین کریں۔ نہ تو ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانےکا نظریہ اور نہ ہی ایذارسانیوں کےبعد اُٹھائےجانےکانظریہ بائبل کے مطابق کوئی بنیادرکھتا ہے۔ آپ کو خُدا کے سچے کلام کی طرف لوٹنا چاہیے۔مُکاشفہ کا کلام (۶:۸) ہمیں بتاتا ہے ، "اور مَیں نے نِگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک زَرد سا گھوڑا ہے اور اُس کے سوار کا نام مَوت ہے اور عالَمِ اَرواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے اور اِن کو چَوتھائی زمِین پر یہ اِختیار دِیا گیا کہ تلوار اور کال اور وَبا اور زمِین کے درِندوں سے لوگوں کو ہلاک کریں۔"
یہاں کہا گیاہے کہ زرد گھوڑے پر بیٹھے ہوئے شخص کا نام ، مخالفِ مسیح ،موت تھا ، اور عالَمِ اَرواح اُس کے پِیچھے پِیچھے ہے ۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مخالفِ مسیح ایک قاتل ہے جو اپنے شکاروں کو جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُسے زمین کے ایک چوتھائی حصے پر تلوار سے ، بھوک سے ، موت سے اور زمین کے درندوں کے ذریعہ قتل کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ مخالفِ مسیح ، دوسرے لفظوں میں ، رومی شہنشاہوں کے جیسے ہی ظالمانہ طرزِعمل کا اِرتکاب کرےگا — صرف اس بار بھی بدتر—مسیحیوں کو مار ڈالنا ،بدسلوکی کرنا ، اور ظلم ستم کرنااوراُن کےایمان کوختم کرنا۔
آپ کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ زردگھوڑے کا دور مخالفِ مسیح کا دور ہے۔ خداوند ہمیں بتاتا ہے ، " اور صُبح کو یہ کہ آج آندھی چلے گی کیونکہ آسمان لال اور دھُندلا ہے ۔ تُم آسمان کی صُورت میں تو تمِیز کرنا جانتے ہو مگر زمانوں کی علامتوں میں تمِیز نہیں کر سکتے " (متی ۱۶: ۳)۔ جب ہم زمانوں کی علامتوں کو نہیں جان سکتے ، ہم نہیں جان سکتے کہ ہمیں کس طرح کا ایمان رکھنا چاہئے ، اور اِس طرح ہم نہ تو بیج بو سکتے ہیں اور نہ ہی پھل کاٹ سکتے ہیں— دوسرے لفظوں میں ، ہم خُداوند کے لئےکام نہیں کرسکتے ہیں۔ آج ، لال گھوڑے کا دور گزر چکا ہے ، اور ہم کالے گھوڑے کے دور میں ہیں۔ دنیا جلد ہی بڑی معاشی آفات کا شکار ہوجائے گی اور شدید قحط کے دور کا سامنا کرے گی۔ ساری دنیا میں بھوک اور فاقہ کشی روزبروزبڑھتی جائے گی۔ جب یہ ساری چیزیں وقوع پذیر ہوں گی ، تو بہت سے لوگ شدیددرد پر افسوس کریں گے۔ اُن میں سےایک مت بنیں؛ اِس کے بجائے ، اُن میں سے ایک بنیں جس کا ایمان زمانوں کی علامتوں کو سمجھ سکتا ہے۔
آج کا دور کالے گھوڑے کا دور ہے۔ جب کالےگھوڑے کا یہ دور گزرے گا ، زرد گھوڑے کا دور آجائے گا۔ اِس دور میں اُبھرنے والا مخالفِ مسیح ، مقدسین کو اندھا دھند قتل کرے گا اور ظلم و ستم کا مظاہرہ کرے گا ، اِس دور کو شہادت کا دور قرار دیاجاتاہے۔
مُکاشفہ ۱۳: ۶۔۸ کہتا ہے ، " اوراُس نے خُدا کی نِسبت کُفر بَکنے کے لِئے مُنہ کھولا کہ اُس کے نام اور اُس کے خَیمہ یعنی آسمان کے رہنے والوں کی نِسبت کُفر بَکے۔ اور اُسے یہ اِختیار دِیا گیا کہ مُقدّسوں سے لڑے اور اُن پر غالِب آئے اور اُسے ہر قبِیلہ اور اُمّت اور اہلِ زُبان اور قَوم پر اِختیار دِیا گیا۔ اور زمِین کے وہ سب رہنے والے جِن کے نام اُس برّہ کی کِتابِ حیات میں لِکھے نہیں گئے جو بنایِ عالم کے وقت سے ذبح ہُؤا ہے اُس حَیوان کی پرستِش کریں گے۔ "اُسے" یہاں مخالفِ مسیح سے مراد ہے۔ عبارت ہمیں بتاتی ہے کہ دُنیا کے ایک حکمران کو خُدا کی نسبت کفر بکنےاورمقدسین پرایذارسانی کرنے کے لئے شیطان کا اختیار دیا جائے گا۔ یہ ابلیس کا بچہ ہے ، اژدہا کی طاقت کےساتھ۔ وہ اپنی طاقت کےساتھ مقدسین سے لڑے گا اور اُن پر "غالب"آئے گا۔ لیکن غالب آنے سے ، اِس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ مقدسین کو شہید کرے گا۔ اِس سے مراد مقدسین کی صرف جسمانی موت ہے۔ مخالفِ مسیح کبھی بھی مقدسین کے ایمان کو نہیں چھین سکتا۔
سکوفیلڈ نے کیا بحث کی وہ یہ تھا کہ مقدسین کو عظیم ایذارسانیوں کابالکل سامنا نہیں کرنا پڑے
گا۔ لیکن سات سالہ عظیم ایذارسانیوں کے بغیر ، مقدسین کے لئے کوئی ہزار سالہ بادشاہی نہیں ہوسکتی ہے۔مقدسین عظیم ایذارسانیوں سےشہیدبن کر نکل آئیں گے۔ بائبل کی یہ نبوت بالکل دُنیا کے آغاز ہی سے مسیح یسوع میں تیار کی گئی تھی۔ دُنیا کی تمام تاریخ اُن کاموں سے ختم ہوگی جو مسیح انجام دےگا۔
آپ کو ان سات ادوار کو سمجھنے کے قابل ہونا چاہئے جو خُدا نے ہمارے لئے ترتیب دیئے ہیں۔ پہلا دور سفید گھوڑے کا دور ہے ، وہ دور جس میں خداکا کلام اپنا کام شروع کرتا ہے۔ دوسرا دور ، لال گھوڑے کا دور ، شیطان کا دور ہے۔ کالے گھوڑے کا تیسرا دور جسمانی اور رُوحانی قحط کا دور ہے۔ زرد گھوڑے کا چوتھا دور مخالفِ مسیح کے اُٹھنے کا دور ہے۔ یہ سات نرسنگوں کا دور، شہادت کا دور ہے۔یہ زرد گھوڑے
کے اِس دور کو سمجھنے میں ناکامی ہے جو لوگوں کو اس قدر اُلجھن میں ڈال دیتی ہے۔
اِس دور کو جانے بغیر ، ہم نئےسرےسےپیدا ہونے والے مسیحیوں کی حیثیت سے صحیح طرح اپنی زندگی نہیں گزار سکتے ہیں۔ اگر ہم اُس چیز سے غافل رہیں جوہماری منتظرہے تو ،ہم مستقبل کے لئے کیسے تیار رہ سکتے ہیں؟ یہاں تک کہ وہ لوگ جو کاروبار چلاتے ہیں اُنھیں کامیاب ہونے کے لئے وقت کے بدلتے رجحانات کو پہلے ہی جان لینا چاہئے۔ ہم کیسے کر سکتے ہیں ، مسیح میں ایماندار ، اُس کی واپسی کے لئے کیسے تیار ہوسکتے ہیں جب ہم کوئی اشارہ نہیں رکھتے کہ کیا ہمارا منتظر ہے؟
ہمیں اِس کے لئےتیار رہنے کے لئےعظیم ایذارسانیوں کاواضح فہم ہونا چاہئے۔ مقدسین ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال تک زندہ رہیں گے ، اور اسی وقت کےدوران وہ شہید ہوں گے۔ وہ ایذارسانیوں کےپورے سات سالوں میں نہیں گزریں گے ، بلکہ صرف پہلے نصف میں سے ، اور پھر ، اُن کی شہادت کے ساتھ ہی اُن کاجی اُٹھنا اور اُٹھایاجاناہو گا۔ جب مقدسین کو اُٹھایا جاتاہے تو ، اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مسیح زمین پر اُترے گا ، بلکہ یہ کہ خُدوند ان کو بر ّے کی شادی کی ضیافت پر ہوا میں اُٹھا لے گا۔
اِس دوران ، یہ زمین سات پیالوں کے آفتوں کی گرفت میں آجائےگی۔ وہ لوگ جوآفتوں کے بعد مسیح کے ساتھ زمین پر واپس آئیں گےوہی لوگ ہیں جن کے گناہوں کو معاف کر دیا گیا ہے ، برف کی طرح سفید ، پانی اوررُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنےکےوسیلہ جوخُداوند نے ہمیں دی ہے۔یہ ہے کیوں ہمیں اِس دور اور اِس کی اہم مطابقت اور اہمیت کو سمجھ کر اپنے ایمان کو تیار کرنا چاہئے۔
ہمارے خُداوندنے سمُرنا کی کلِیسیا کے فرشتہ سے کہا ، " مَیں تیری مُصِیبت اور غرِیبی کو جانتا ہُوں (مگر تُو دَولت مند ہے) اور جو اپنے آپ کو یہُودی کہتے ہیں اور ہیں نہیں بلکہ شَیطان کی جماعت ہیں اُن کے لَعن طَعن کو بھی جانتا ہُوں۔ جو دُکھ تُجھے سہنے ہوں گے اُن سے خَوف نہ کر ۔ دیکھو اِبلِیس تُم میں سے بعض کو قَید میں ڈالنے کو ہے تاکہ تُمہاری آزمایش ہو اور دس دِن تک مُصِیبت اُٹھاؤ گے ۔ جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا۔" اِس حوالہ سے ، ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سمُرنا کی کلِیسیا کو یہودیوں نے بہت زیادہ ستایا تھا۔ لیکن خداوند نے کہا کہ یہ یہودی حقیقی یہودی نہیں تھے ، بلکہ شیطان کی جماعت تھے۔ اُس نے یہ صرف سمُرنا کی کلِیسیا سےہی نہیں کہا ، بلکہ آسیہ کی تمام سات کلیسیا سے بھی کہا۔
سمُرنا میں یہودیوں کی ایک بڑی جماعت موجود تھی ، جو، اِس حقیقت کے باوجود کہ یہودی جس خُدا کی عبادت کرتےتھےمسیح کے ماننے والےبھی اُسی خُدا کی عبادت کرتےہیں ، اِس کے باوجود بھی ، سمُرنا کی کلِیسیا کےمقدسین پر ظلم وستم کِیا گیا تھا، جس طرح رومیوں نے کِیاتھا ۔ اِس ظلم وستم کا سامنا کرنے والے مقدسین کو ، خدا نے کہا ، " جان دینے تک بھی وفادار رہ تو مَیں تُجھے زِندگی کا تاج دُوں گا ،" اور ، " جو غالِب آئے اُس کو دُوسری مَوت سے نُقصان نہ پُہنچے گا ۔" خُدا نے مقدسین سے کہا کہ اُنہیں ضرور غالب آنا چاہئے۔ اِسی طرح ، ہمیں ،بھی ، آخر تک مخالفِ مسیح کےساتھ لڑنا چاہئے اور اپنے ایمان کی جنگ میں اُس پر غالب آنا چاہیے۔ اِس کے بعد ہمارا خُداوند ہمیں زندگی کا تاج عطا کرے گا — دوسرے لفظوں میں ، وہ ہمیں، ہزار سالہ بادشاہی اور نئے آسمان اور زمین دینےاوراِس میں زندگی گزارنے کی اجازت دینےکی برکت دے گا۔
کیا آپ شہیدہونے کی ہمت رکھتےہیں؟ اب آپ کےلئےوقت ہے کہ آپ اپنی شہادت کے عقیدے کو تیار کریں۔ اور ایسا کرنے کے لئے، آپ کو چھٹکارےکا ایمان رکھناچاہئے جو پوری طرح سے آپ کو خداوند کے سامنے کھڑا ہونے کے قابل بناتا ہے — وہ ایمان جو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے شہادت کو قبول کرسکتا ہے۔
ہمیں اب یہ ایمان تیار کرنا چاہئے۔ ہمارےخُداوند نےہرکسی کو بتایا ہے کہ کوئی بھی پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھے بغیر خُدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی اِسے دیکھ سکتا ہے۔ اُس نے ہمیں بتایا ہے کہ اِس خوشخبری پر ایمان آخری وقتوں میں شہادت کا ایمان ہے۔
اگر لوگوں کے دلوں میں گناہ ہے تو ،وہ کیسے شہید ہوسکتے ہیں؟ شہید ہونے سے دور ، یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو حیوان کا نشان حاصل کرنے کی رہنمائی کریں گے! پانی اور رُوح کی خوشخبری کے سوا کچھ نہیں ہمارے گناہوں کو مٹا سکتا ہے۔ حتیٰ کہ آپ کی توبہ کی دعائیں جو آپ باقاعدگی سے اور رسمی طور پر پیش کرتے ہیں وہ آپ کے گناہوں کو پاک نہیں کرسکتی ہے۔ توبہ کی دُعاؤں سے اپنے گناہوں کو پاک کرنے کی کوشش کرنا صرف وقت اور کوشش کا ضیاع ہے۔
جو لوگ ایسا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہ خُدا کا کلام اُنہیں کیا بتاتاہے کی نسبت مذہبی عالموں نے اُن سےجوکچھ کہاپرزیادہ یقین کرتے ہیں۔ کیا حقیقت یہ نہیں ہے کہ علمائے کرام ، وہ لوگ ہیں جن پربہت سارے مسیحی ایمان رکھتے ہیں ، بحث کرتے ہیں اور ہزارسالہ بادشاہی کی مخالفت کےنظریےپر ایمان رکھتے ہیں یہ صرف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ صحیفاتی ماہرین سمجھے جانے والے بائبل سے کتنے لاعلم ہیں؟ اِن ہزار سالہ بادشاہی کی مخالفت کرنےوالوں کے مطابق ، عظیم ایذارسانیوں میں نہ تو ہزارسالہ بادشاہی ہوگی اور نہ ہی مقدسین کی شہادت۔ اُن لوگوں کے لئےجو ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائے جانے کے نظریے یا ہزار سالہ بادشاہی کی مخالفت کے نظریےپرایمان رکھتے ہیں،مُکاشفہ کی کتاب اُن کےلئےبالکل کوئی معنی نہیں رکھےگی!
مُکاشفہ کاکلام خُدا کا کلام ہے۔ یہ خُدا کا کلام ہے جو یوحنارسول نےقلمبندکِیا ، مسیح کا سب سے پیارا شاگرد ۔ اِس سے کوئی انکار نہیں کرسکتاہے۔
مَیں مذہبی تعلیمات کے قائم کردہ نظریات اور تعلیمات پر بلا وجہ تنقید نہیں کر رہا ہوں ، بلکہ مَیں آپ کے ایمان کو تیار کرنے کے لئے کرتا ہوں تاکہ آپ جان دینےتک خُداوند کے وفادار رہنےکےقابل ہوں۔ یہ آپ کو پاک کلام کی تعلیم دینے کے لئے سیکھاناہے تاکہ آپ اپنی شہادت کو قبول کرنے کے لئے پُر عزم تیاری کے ساتھ عظیم ایذارسانیوں کے ظلم و ستم کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
ایسا کرنے کے لئے، آپ کو پانی اور رُوح کی خوشخبری سے اب اپنے ایمان کو تیار کرنا چاہئے۔ دوسری طرف، وہ لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ہیں وہ شیطان کے آگے ہتھیارڈالتے ہوئےاور خُدا کے دشمن بنتےہوئےختم ہوجائیں گے ، کیونکہ جن کے نام زندگی کی کتاب میں نہیں لکھے گئے ہیں وہ شیطان کی عبادت کریں گے۔ یہ ہے کیاخُدا کا کلام ہمیں بتاتا ہے۔
خُدامقدسین کو عظیم ایذارسانیوں کے وسط میں شہید کرےگا۔ جب عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے پہلے ساڑھے تین سال گزر جائیں گےتو ،وہ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں وہ شہید ہوجائیں گے۔ اُن کی شہادت کے فوراً بعد ہی اُن کاجی اُٹھنا اور اُٹھایاجاناہوگا۔ یہ مُکاشفہ کی کتاب کا مجموعی خلاصہ ہے ، اور اِسی وجہ سے میں اِس کے اہم نکات کوبارباردُہرا رہا ہوں۔
آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب مخالفِ مسیح کا دور آئے گا ، بہت سے لوگ ہوں گے ، جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھنے کے لئے شہید ہونے کے فوراً بعد ہی زندہ ہوں گے اور بیک وقت اُٹھالئےجائیں گے۔ جب زرد گھوڑے کا دور آئے گا ، اُن کی شہادت سے ایمان کے پھول کھلیں گے۔ سچاایمان ، جب صحیح وقت آتا ہے ، سچا پھل لاتا ہےاور خوبصورت پھولوں کےساتھ کھلتاہے۔
صحرا میں کچھ پودے ایسےہوتے ہیں جو صرف ایک ہفتہ کے وقت میں پھوٹتے ، کھلتے اور پھل لاتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے آپ کوصحرائی حالات کے مطابق ڈھال لیا ہے ، جہاں بارش بہت دیرسےہوتی ہے اور پانی کی قلت ہے۔ اُنہیں تیزی سےپھوٹنا، کھلنااور پھل لانا ہے کیونکہ پانی کی قلت کی فراہمی صرف اتنی دیر ہی چل سکتی ہے۔
اُن لوگوں کا ایمان جو عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دورانیے میں پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں اُن پودوں کی طرح ہیں۔ اُن کےلئےہمارے ساتھ اس خوشخبری پر ایمان ، پیروی ، اور شہید ہونے کے لئے ، صرف ایک مختصر وقت ہی کافی ہوگا۔مخالفِ مسیح کا پاگل پن عظیم ایذارسانیوں کےدرمیان میں، اِس کے آغاز سے ساڑھے تین سال ، اپنے عروج کو پہنچے گا۔
یہ ہےجب مقدسین کی شہادت واقع ہوگی۔ یہاں تک کہ وہ لوگ ، جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے بارے میں پہلے ہی سُن چکے ہیں ، ابھی بھی اِسے اپنے دلوں میں قبول کر سکتے ہیں ، وہ ابھی بھی حقیقی ایمان رکھنے اور شہادت میں ہمارے ساتھ شامل ہونےکےقابل ہوسکیں گے ، اگر وہ عظیم ایذارسانیوں کے وقت کے دوران، اِس کے اختصارکے باوجود ، اِس خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ساری دُنیا میں مسیحیوں کو اُن کی روحانی نیند سے بیدار کرنے کے لئے خوشخبری کو پھیلارہے ہیں۔ ہم اپنی شہادت تک دُنیا کے آخر تک پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کریں گے۔ اگر کوئی شہادت نہ ہوتی ، تو یہ خوشخبری کیا بہتر ہوگی جو ہم اب پھیلا رہے ہیں،خدمت کرتے؟ جو لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھتے ہیں وہ آخری وقت میں شہید ہوسکتے ہیں۔ ہمیں اب اِس کے لئے اپنا ایمان تیار کرنا چاہئے۔
اگر ہم اب پانی اور رُوح کی خوشخبری کے دفاع کے لئے اپنے ایمان کو شہادت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں کرتے ہیں ، جب ہم خُدا کے حضور سکون رکھتے ہیں تو ، ہمیں بعد میں صرف اس پر افسوس ہوگا۔ جب آخری وقت آئے گا ، تو ہم خودسے ہی مصروف ہوجائیں گے ، کہتے ہوئے ، "خُداوند ، میں ابھی بہت مصروف ہوں۔ میرے لئے تھوڑا سا اور انتظار کریں؛میں اب توبہ کر رہا ہوں۔" اگر یہ اسی طرح کا عقیدہ ہے جو ہم آخر تک برقرار رکھے ہوئے ہیں ، تو خُداوند ہمیں بتائے گا ، "تم بذاتِ خود آگ کی جھیل میں چھلانگ کیوں نہیں لگاتے؟ تم اِس سےبھی زیادہ کے اہل ہو! "جولوگ اب گناہ رکھتے ہیں اُنہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ آخر میں وہ اِسی طرح ختم ہوجائیں گے۔ یہ ہے کیوں خُدا نے کہا ، " جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔"
مقدسین کے شہید ہونےکےوقت تک ، دُنیا کا قدرتی ماحول مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہوگا۔ جنگلات جل چکے ہوں گے؛ سمندر ، دریا ، اور چشمے سڑتے ہوئے خون میں بدل جائیں گے؛ اور سورج ، چاند اور ستارے اپنی روشنی کھو دیں گے ، پوری دُنیا تاریکی کی لپیٹ میں آجائے گی۔ اِس کے باشندے ، جو شیطانی رُوحوں کے زیر ِاقتدار ہیں ، اپنی عقل کھو دیں گے ، اُن کا رویہ وحشی طور پر سنگین ہوجائےگا ، اور اُن کا واحد مقصد خُدا کے تمام فرزندوں کو فنااورقتل کرنا بن جائےگا جو وہ ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یہ ہے کیوں آپ کو مُکاشفہ
کے کلام کو سمجھنا اور اس پر ایمان رکھنا چاہئے۔
آج کی کلیسیاؤں کو صرف درازقامت، بڑے اور اونچے گرجا گھروں کی تعمیر کا جنون ہے۔ وہ اپنے گرجا گھروں کی تعمیر کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں ، اور پھر بھی اُن کے دلوں میں صرف گناہ پایا جاتا ہے ، نہ کہ وہ ایمان جو یسوع کے لئے شہادت قبول کرسکتا ہے۔ اُن لوگوں کو پہلے اپنے دلوں کو اپنے گناہوں سے پاک کرنا ہوگا۔
دُنیا جلد ہی ایذارسانیوں کے دور ، زرد گھوڑے کےدور میں داخل ہوگی۔ مَیں اُمید کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ آپ اِس قِسم کا ایمان رکھیں گے جو شہادت کو قبول کرسکتا ہے اور جان دینےتک مسیح کا وفادار رہ سکتا ہے۔ ہمیں شوق سے سچائی کی تحقیق کرنے والی رُوح کےساتھ سنجیدگی سے جانچ پڑتال کرنےکے بعدمُکاشفہ کے کلام پر ایمان رکھناہوگا۔