Search

خطبات

مضمون 10: مُکاشفہ(مُکاشفہ کی کتاب پر تفسیر)

[باب2-7] نِیکُلیوں کی تعلیمات کے پیروکار <مُکاشفہ۲: ۱۲- ۱۷>

نِیکُلیوں کی تعلیمات کے پیروکار
<مُکاشفہ۲: ۱۲- ۱۷>
 
بلعام کا راستہ
 
یہاں یہ کہا گیاہے کہ آسیہ کی سات کلیسیاؤں میں سے ، پرگمن کی کلیسیا کے کچھ اراکین تھے جو نِیکُلیوں کی تعلیمات پر عمل پیرا تھے۔ یہ لوگ صرف اپنی دنیاوی دولت اور شہرت کو قائم کرنے کی خواہش کے ذریعہ استعمال کیے گئے تھے ، اور اُنہیں جانیں بچانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ خاص طور پر خادمین کو بہت محتاط رہنا چاہئے تاکہ بلعام کی اِن تعلیمات کی پیروی کرتےہوئےختم نہ ہوجائیں۔ بلعام مقدسین کو دُنیا کی پرستش کروانے کے لئے اور اُن کو تباہی کی طرف لےجانے کا باعث بنا۔
خُدا نے ہمیں اپنا وعدےکا کلام دیا کہ غالب آنے والوں کو ، وہ پوشیدہ مَن اور ایک سفید پتھر دے گا۔ دوسرے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے ، اِس کا یہ بھی مطلب ہے کہ دُنیا کا پیچھا کرنے والے پادری اپنا مَن کھو تے ہوئے ختم ہو جائیں گے۔ یہاں مَن کا مطلب ہے "خُدا کا نایاب کلام،" اور پوشیدہ مَن کو کھونے کا مطلب خُدا کی مرضی کو کھو دینا ہے جو اُس کے کلام میں پوشیدہ ہے۔
جب خُدا کے نئے سرے سےپیدا ہونے والے خادمین دُنیا کے پیچھے چلتے ہیں تو ، وہ اس کے کلام کی بصارت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ یہ ایک خوفناک منظرہے۔ میں اِس کےامکان سے خوفزدہ ہوں ، اور آپ کو ،بھی ، اِس سے ڈرنا چاہئے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ غالب آنے والوں کو وہ پوشیدہ مَن اور ایک سفید پتھر دے گا ، لیکن جو لوگ دُنیا کےساتھ سمجھوتہ کرکےہار جاتےاور ہتھیار ڈال دیتےہیں تو اِس دُنیا کی دنیاوی شہرت یا خوشنودی یہ مَن نہیں دے پائے گی۔
بائبل ہمیں بتاتی ہے ، "اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ، اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔" خُدا کا کلام کتنا سچ ہے! وہ لوگ جو لادین دُنیا سے محبت کرتے ہیں وہی ہیں جو یسوع مسیح کے بپتسمہ اور صلیب پر اُس کے خون پر یقین نہ کرتے ہوئے
اپنے گناہوں سے نہیں بچائے گئے ہیں۔ یہ لوگ اِس حقیقت کو نہیں جانتے ہیں کہ مسیح نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ اُن کے سارے گناہوں کو معاف کردیا ہے۔
کچھ لوگوں کا یسوع پر ایمان صرف نظریاتی طیارے پر رہتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یسوع نے اُن کے گناہوں کو دور کِیا ، اور اِسی وجہ سے وہ راستباز بن گئے ہیں ، لیکن اُن کا ایمان خالی ہے کیونکہ اُن کے دلوں میں رُوح القدس نہیں ہے۔ یہ ایک نظریاتی ایمان ہے۔ اگرکوئی واقعی نجات پاچکا ہے ، تو اُسے دُنیا کی چیزوں سے ضرور لڑنااورغالب آنا چاہیے—دنیاوی شہرت ، عزت ، دولت ،یا طاقت ۔ دُنیا پر غالب آنے کا مطلب ہے خُدا کے کلام کوتھامے رکھنا جس نے ہمیں نئےسرےسےپیدا ہونے کی اجازت دی ہے ، اس دُنیا کے مال و وقار کا پیچھا کرنے والوں کے خلاف لڑنا اور رُوح القدس کو اپنے دلوں میں رکھنا ہے۔
خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ کتاب ِحیات میں اُن لوگوں کے نام لکھے گا جونجات پاچکےہیں، اور جن کے دلوں میں رُوح القدس سکونت کرتا ہے۔ جیسا کہ بائبل ہمیں بتاتی ہے ، "اِس لِئے اگر کوئی مسِیح میں ہے تو وہ نیا مخلُوق ہے ۔ پُرانی چِیزیں جاتی رہِیں ۔ دیکھو وہ نئی ہو گئِیں،۔" وہ جو نئےسرےسے پیدا ہوچکےہیں اور جن کے دلوں میں رُوح القدس سکونت کرتاہے وہ جانتے ہیں کہ اب وہ پہلےجیسےنہیں رہےجووہ پہلےہواکرتے تھے۔ وہ بذاتِ خود محسوس کرتے ہیں کہ یسوع مسیح کے پانی اور خون پر ایمان رکھ کر اُن کے پرانے نفوس اب نئی مخلوقات بن چکے ہیں۔ اُن کے ایمان کے ساتھ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے نام زندگی کی کتاب میں لکھے چکے ہیں۔ یہ ہے کیسے وہ خُدا کےپوشیدہ مَن کودیکھ سکتے ہیں ، اوریہ ہے کیسے اس طرح خُدا کے خادمین اورمقدسین خُدا کے کلام کی سچائی ، خدا کی نادِرآواز کوسُن سکتے ہیں۔
مَن اسرائیلیوں کو دیا گیا جب وہ کنعان وعدے کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال بیابان میں پھِرتےرہے ۔ بائبل کی تفصیل کے مطابق ، مَن سفید دھنیےکے دانےکی طرح ، گول اور چھوٹا تھا۔ جب صبح کے وقت بنی اسرائیلی بیدار ہوتے تو اُن کے اطراف کی زمین مَن سے ڈھکی ہوئی ہوتی تھی ، جیسے ساری رات برف باری ہوئی ہو۔ اس کے بعد بنی اسرائیل مَن کواکٹھاکرتے اور صبح کے وقت اُسے کھاتے۔ یہ اُن کی روز مرہ کی روٹی تھی۔ شاید وہ اِس کو بھونتے ہوں ، شاید اِسکواُبالتےہوں ، یا شاید وہ اِسکو پکاتےہوں؛ قطع نظر ، بیابان میں اُن کے چالیس سال بھٹکنے کے دوران یہ اسرائیلیوں کی بنیادی خوراک تھی۔
چونکہ دھنیےکے دانے کی طرح مَن چھوٹا تھا ، اِس لئے صرف ایک مَن رکھنے سے ہی کسی کا پیٹ نہیں بھر سکتا تھا۔ لیکن خُدا نے اُنہیں رات بھر کافی مَن عطا کیا تاکہ ہر اسرائیلی کی ضرورت اُس دن کے
لئے پوری ہوسکے — نہ ایک دن سےکم اور نہ ہی زیادہ ، کیونکہ مَن کو ذخیرہ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ لیکن چھٹے دن ، خُدا نے اُنہیں دو دن کےلئے مَن دیا ، تاکہ سبت کے دن اسرائیلیوں کو مَن اکٹھا نہ کرنا پڑے۔
 
 
زندگی کی روٹی
 
خُدا کا کلام ہمارا مَن ، ہماری زندگی کی روٹی ہے۔ خُدا کے کلام میں ہماری جانوں کے لئے روٹی ، زندگی کی روٹی ملتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ کسی خاص عبارت میں آپ کو ایک بہت بڑی روٹی مل جائےگی ، بلکہ یہ کہ خُدا کی عظیم خواہش سارےصحائف میں پائی جاتی ہے ، یہاں تک کہ اِس کے چھوٹے سےچھوٹے جُزمیں بھی۔
خُدا کے اُن خادمین اورمقدسین کو جو دُنیا کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتے تھے ، خُدا نے زندگی کی روٹی دی ۔ اور وہ ہم سب کو یہ روزانہ کی روٹی دیناجاری رکھتاہے جو ہماری جسمانی اور رُوحانی ضروریات دونوں کو پورا کرتی ہے۔
اِس مَن کی وجہ سے ، بنی اسرائیل ۴۰ سال تک بیابان میں پھرنے کے دوران کبھی بھوکے نہیں ہوتے تھے ، حالانکہ بیابان نے اُن کے کھانے کے لئے کوئی پیداوار نہیں دی تھی۔ اِسی طرح ، اُن لوگوں کے لئے جو نِیکُلیوں کے کاموں کو مسترد کرتے ہیں ، خُدا نے وعدہ کِیا ہے کہ وہ اپنا پوشیدہ مَن کھانے کے لئے دے گا۔ خُدا کےخادمین کے لئے جو دُنیا کی ایسی چیزوں کا جیسے دولت اور رُتبے کا پیچھانہیں کرتے ، خُدا اپنا نایاب کلام ،زندگی کا کلام عطا کرتا ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے ذریعہ انہیں نئےسرےسے پیدا ہونے کی اجازت دیتا ہے۔
ہمیں نِیکُلیوں کے کاموں سے نفرت اور اُن کو مسترد کرنا چاہئے جو آج کی مسیحی برادریوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ ہمیں اُن لوگوں کے ایمان پر نہیں چلنا چاہئے جو نئےسرےسے پیدا نہیں ہوئے ہیں ، اور ہمیں دُنیا کے مشابہ ہونے سے انکار کرنا چاہئے۔ اگرچہ یہ خُدا کا قانون ہے کہ ہمارا جسم جسمانی چیزوں کا پیچھا کرتا ہے اور ہماری رُوح رُوحانی چیزوں کا پیچھا کرتی ہے ، لیکن اِس کے باوجود ہمیں نِیکُلیوں کی تعلیمات کو مسترد کرنا چاہئے ، اُن تمام کاموں سے نفرت کرنا چاہئے جو دُنیا کے مشابہ ہیں ، اور اِس کے بجائے خُدا کے عطا کردہ سچائی کے کلام پر ایمان رکھ کر خُدا کے مَن سے پرورش پانی چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ہم اب راستباز بن چکے ہیں اور اب ہمارے دلوں میں رُوح القدس آباد ہے ، ہم سب کوضرور ایمان کے ساتھ زندہ رہنا چاہئے۔
نئےسرےسےپیدا ہونے والوں کو دُنیا سے لڑنا چاہئے۔ اُنہیں نِیکُلیوں سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں ، آج کے بہت سارے پادری اپنی دولت اور شہرت کا پیچھا کرتے ہیں ، خود کو سجاتے ہیں ، دُنیا کے مشابہ بنتے ہیں، اور دنیاوی طریقوں سے کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمیں اِن جھوٹے نبیوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔
ہم ،بھی ،اپنا جسم رکھتے ہیں اور اِسی طرح ہم بھی دنیاوی فوائد کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ لیکن جو لوگ اُن میں رُوح القدس رکھتے ہیں اُن کو یہ جان لینا چاہئے کہ وہ اپنے دلوں سے دُنیا کی پیروی نہیں کرسکتے ہیں ، اُنہیں ضرور دُنیا کی چیزوں سے انکار کرنا چاہئے ، اور اُنہیں صرف ایمان کے ذریعہ ہی زندہ رہنا چاہئے۔ اگر آپ کا دل اُن لوگوں کے ساتھ متحد ہے جو دُنیا کی پیروی کرتے ہیں ، اُن کے عقیدے کو منظور کرتے ہیں ، اور دُنیا کےپیچھے چلتے ہیں جس طرح وہ دُنیاکاپیچھا کرتے ہیں تو ، آپ اپنی حتمی تباہی کی طرف بڑھتے ہوئے بلعام کی راہ کی پیروی کرتےہوئےختم ہوجائیں گے۔ یہ آپ کے جسم اور رُوح دونوں کی تباہی کا راستہ ہے۔ جب آپ دُنیا کی پیروی کریں گے تو، آپ اپنا ایمان کھو دیں گے۔ خُدا نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے منہ سے تھوک دےگا؛یہ لوگ اب مزید مَن نہیں کھاپائیں گے ، اور اپنا ایمان مکمل طورپر ختم کرتےہوئےختم ہوجائیں گے۔
خُدا کےپرگمن کی کلیسیا کو سرزنش کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اُس کے ارکان بلعام کے عقیدہ پر عمل پیرا تھے۔ خُدا نے پرگمن کی کلیسیا کے خادم کی سرزنش کی کیونکہ وہ ، اگرچہ ایک نئےسرےسےپیدا ہوا خادم ، جس کے دل میں رُوح القدس سکونت کرتا تھا ، نے دُنیا سے پہچانےجانے کی تلاش کی اور اپنی کلیسیا کی خدمت اِس طرح کی جیسے وہ دنیاوی فرد ہو۔ صرف یہی نہیں ، اُس نے اپنے ریوڑمیں بھی یہی غلط عقیدہ پیدا کِیا اور انہیں گمراہ کردیا۔ ایسا خادم دنیاوی پادری سے بہتر نہیں جو نئےسرےسے پیدا نہ ہواہو۔ اِس عبارت کے ساتھ ، خُدا نے خُدا کے ان خادمین کی طرح ایک واضح اور سخت انتباہ جاری کِیا ہے جن کی واحد دلچسپی دنیاوی فوائد کوحاصل کرنےکے گرد گھومتی ہے اور کلیسیاکے خزانوں کو تقویت بخشتی ہے: "پس تَوبہ کر ۔ نہیں تو مَیں تیرے پاس جلد آ کر اپنے مُنہ کی تلوار سے اُن کے ساتھ لڑُوں گا۔ "
 
 

وہ ایمان جو آپ کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے

 
اگر اِنسان خُدا کے خلاف لڑے تو کیا ہوگا؟ یہاں تک کہ آپ کو ایک لمحے کے لئے بھی سوچنے کی ضرورت نہیں ہے —یقیناً یہ تباہی کا تیز ترین راستہ ہوگا۔ "جس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے ،" اِس کا مطلب ہے کہ خُدا کا کلام ایک دو دھاری تیز تلوار ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کون ہیں؛ اگر آپ کو خُدا کے کلام نے نشانہ بنایا ہے تو آپ ضرور مرجائیں گے۔ خُدا کا کلام طاقت کی تلوار ہے جو کاٹ سکتاہے"اور جان اور رُوح اور بند بند اورگُودے کو جُدا کر کے گُذر جاتا ہے۔" (عبرانیوں ۴: ۱۲)۔ اور یہ دل کے خیالوں اور ارادوں کو جانچنےوالاہے ، تاکہ لوگ مسیح یسوع کی پانی اور خون کے ذریعہ پیش کی گئی نجات میں ملبوس ہو سکیں۔
بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو ، یسوع پر ایمان رکھتے ہوئے ، پھر بھی شریعت کے جال میں پھنس جاتے ہیں ، اور اِس کے نتیجے میں شریعت کے ہاتھوں مار کھا کر ہلاک ہوتےہوئےختم ہوجاتےہیں۔ اِس افسوس ناک انجام سے بچنے کے لئے، ہمیں دنیاوی عقیدے سے لڑنا اور اِس پر غالب آناچاہیے۔ خُدا کے کارکنوں کو جھوٹی تعلیمات پر غالب آنا چاہئے ، اور اُنہیں یہ بھی یقینی بنانا چاہئے کہ اُن کے ریوڑ کو اِس طرح کے جھوٹ کے ذریعہ گمراہ نہ کِیاجائے۔ جو بھی دُنیا سے پیار کرتا ہے اور اِس کے جال میں پھنس جاتا ہے اپناایمان ختم ہوتےہوئےدیکھےگا۔
آج کل کے بہت سے گرجا گھروں کو گرجاگھرکے طور پر نہیں بلکہ کاروبار کےطورپربیان کِیا جاتا ہے۔ یہ ایک افسوسناک بلکہ آر پارہوجانےوالا بیان ہے۔ کیوں اِس طرح کےگرجا گھرکاروبار سمجھےجانے کےطور پر ختم ہوجاتےہیں؟ کیونکہ آج کل کے گرجا گھر دُنیاکاپیچھاکرنے اور دنیاوی اقدار کی پرستش اور پیروی کرنے والے اولین ہوتےہوئے بہت مصروف ہیں۔ میں یقیناً،یہ نہیں کہہ رہا ہوں ،کہ نئےسرےسےپیدا ہونے والےجسم کی خواہش نہیں رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ نئے سرےسےپیدا ہونے والے مقدسین بھی جسم کی ہوس رکھتےہیں، لیکن ان کے ایمان سے اس ہوس کو کم کِیا جاتا ہے۔ وہ جسم کی چیزوں کو نہیں ڈھونڈتےجیسےغیرایماندار اپنے پورے دلوں کےساتھ اپنی جسمانی خواہشات کا پیچھا کرتے ہیں۔
جو نئےسرےسےپیدا نہیں ہوئے ہیں وہ اپنے معیارات مقرر کرتے ہیں ، اور اپنی زندگی ان
معیارات کی حدود میں رہتے ہوئے ہر ممکن چیز سے لطف اندوز ہوتے ہوئےگزارتےہیں۔ بت پرستی اور زناکاری اُن کے لئےمحض فطری ہے۔ اِس سے بھی بدتر ، اُن میں سے کچھ شیطان کی پرستش کرتے ہیں۔ کیا نئےسرےسےپیدا ہوا اِن میں سے کوئی کام کرسکتا ہے؟ یقیناً نہیں! وہ کبھی بھی ایسی حرکتیں نہیں کرسکتے ، کیونکہ نئےسرےسے پیدا ہونے والے جانتے ہیں یہ حرکتیں کتنی گھناؤنی اور ناپاک ہیں۔ چونکہ ہم وہ جو نئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں بنیادی طور پر ان لوگوں سے مختلف ہیں جو دُنیا کی عظمت اور اپنی ہر جسمانی خواہش کا پیچھا کرتے ہیں ، ہمیں اپنی زندگیوں کو دنیاوی فوائد کو حاصل کرنےکے جذبے کےزیرِاثرمیں نہیں جیناچاہئے ، نہ ہی ہم کبھی اِس طرح زندہ رہ سکتے ہیں۔
وہ جو نِیکُلیوں کے کاموں کا پیچھا کرتے ہیں وہ لوگ ہیں جو صرف اِس دُنیا کی دولت کا پیچھا کرتے ہیں۔ یقیناً ، روزی روٹی کمانے کی کوشش کرنے ، اور یہاں تک کہ دولت مند بننے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن جب آپ کی زندگی کا واحد مقصد دولت جمع کرناہوجاتا ہے ، اور جب آپ بت پرستی میں پڑ جاتے ہیں اور اپنے لالچ میں مبتلا ہوتے ہوئےختم ہوجاتےہیں تو ، آپ کا ایمان یقینی طورپر تباہ ہوجائے گا۔ وہ جو پیسے کے لئے خدمت ہیں اور جو دُنیا کی دولت کے لئے گرجا گھر جاتے ہیں وہ سب نِیکُلیوں کے کاموں کی پیروی کررہے ہیں۔ یہ لوگ آخر میں دُنیا سے ہار جائیں گے ، حالانکہ اگرچہ وہ خُدا پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، لیکن اُن کے دلوں کو ابھی اُن کے تمام گناہوں سے مکمل طورپرنجات یافتہ ہونا ہے۔
 
 
دل کی زمین کی چار اقسام
 
متّی کی انجیل ہمیں ایک تمثیل بتاتی ہے جس میں یسوع نے ایک بونے والے کے بارے میں بات کی جس کے بیج چار مختلف زمینوں پر گِرتے ہیں۔ پہلی زمین جس پر بیج گِرے وہ راہ کا کنارہ ہے؛ دوسری پتھر یلی زمین ہے۔ تیسری جھاڑیوں والی زمین ہے۔ اور چوتھی اچھی زمین ہے۔ آئیے اِن میں سے ہر ایک پر ایک نظر ڈالیں۔
راہ کے کنارےوالے بیج سخت دل کی علامت ہے۔ یہ شخص خُدا کے کلام کو سُنتا ہے ، لیکن چونکہ وہ جلدی سے دل میں نہیں لیتا ، پرندوں نے اسے چُگ لِیا۔ دوسرے لفظوں میں ، کیوں کہ ایسا شخص نجات کے کلام کو صرف نظریاتی طور پر دیکھتا ہے جو اسے پانی اور رُوح کے ذریعہ نئےسرےسے پیدا ہونے کی اجازت دیتا ہے ، پرندے (شیطان) اسےچُگ لیتے ہیں ، اور اس کا ایمان حتیٰ کہ بڑھنا شروع بھی نہیں
ہوتا ہے ۔
پھر ، پتھریلی زمین سے کیا مراد ہے؟ اِس سے مراد وہ لوگ ہیں جو خوشی کے ساتھ کلام کوقبول کرتے ہیں، زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرپاتے ، کیونکہ وہ اُتلی زمین میں کوئی جڑ نہیں رکھتےہیں۔ وہ جو جھاڑیوں کےدرمیان بیج لیتے ہیں ، دوسری طرف ،وہ اُن لوگوں کا حوالہ دیتا ہے جواِس دُنیا کی فکر میں رہتےہیں اور دولت کی گمراہی نے اِس کلام کودبا دیا جو اُنہوں نے شروع میں خوشی سے قبول کِیاتھا۔
آخر میں ، وہ جو اچھی زمین پر بیج لیتے ہیں وہ لوگ ہیں جو کلام الٰہی کو پوری طرح قبول کرتے ہوئے اور اِس کی پیروی کرتے ہوئے اپنے دلوں میں پھل لاتےہیں۔
اِن میں سے کون سی زمین آپ کے دل کی نمائندگی کرتی ہے؟ اگر آپ کا دل راہ کےکنارےکی زمین کی طرح ہے جو کلام کے بیج کو اُ گانے کے لئے پوری طرح تیار نہیں ہے ، تو یہ بکھر جائے گا یا پرندےاِسکوچُگ لیں گے، اس کلام کی برکت کو آپ کے لئے بالکل غیر متعلقہ بنا دے گا۔ ہمیں یہ ضرورسمجھنا چاہئے کہ کیونکہ ہم گناہ کے بیج ہیں ، اگر یہ خُدا کے کلام کے لئے نہ تھا تو ہم خُدا کےلئے غیر متعلقہ رہیں گے ۔ اگر ، دوسری طرف ، ہمارے دل پتھریلی زمین کو پسند کرتے ہیں ، تب کلام کا بیج اپنی جڑ کو پکڑنےکےقابل نہیں ہو سکے گا ، اور بارش کے طوفان ، آندھیوں یا ہواکےجھونکوں سے نہیں بچ سکے گا۔ ان لوگوں کو اپنی زمینوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اِس سے قطع نظر کہ اُنہوں نے شروع میں کتنی خوشی سے خُدا کا کلام حاصل کِیا ہو ، اگر یہ بڑھ نہیں سکتا ہے اور معمولی سی پریشانی میں مرجھا جاتا ہے تو پھر اُن کی پہلی قبولیت کا بالکل کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
ہمیں جھاڑیوں کی زمین والےدلوں پر بھی غالب آناچاہیے۔ ہمیں ضرور ان جھاڑیوں کے خلاف لڑنااورانکو کاٹ ڈالنا چاہئے جوہماری زندگیوں کوخطرے میں ڈالتی ہیں۔ اگر آپ اُنھیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں تو جھاڑیاں تھوڑے ہی وقت میں ہمیں ڈھانپ لیں گی اور ہم پر سورج کی روشنی کوروک دیں گی۔ دھوپ کےرُکنےاورجھاڑیوں تک مٹی کے غذائی اجزا کھونے سے، کلام کا یہ درخت مرجاتا ہے۔
جب ہمیں اپنی زندگیوں میں آزمائشوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہمیں دلیری کے ساتھ ان پر غالب آنا ہوگا۔ ہمیں ان جھاڑیوں سے لڑنا چاہئے جو ہمارا راستہ روک رہی ہیں اورہمارے چہروں کو اپنی پوری طاقت سے ڈھانپ رہی ہیں ، گویا ہماری زندگیاں اِسی پر منحصر ہوں۔ جب اس دُنیاکی دولت ہمیں پیچھے کی طرف دھکیلتی ہے یا جب اس کی شہرت ہمیں خطرہ میں ڈال دیتی ہے تو ہمیں ان سب سے لڑنا اور ان پر غالب آنا چاہیے۔ چونکہ دُنیا کی پریشانیاں اور اس کا لالچ رُوح کے لئے جان لیوا ہے ہمیں ضرور اُن پر فتح حاصل کرنی چاہیے۔ جب ہم فتح کی ایسی رُوحانی زندگی گزاریں گے تو ، ہمارے جسم اور روحیں خوشحال ہوں گی ، کیونکہ وہ خُدا کی طرف سے سورج کی روشنی اور پرورش پائیں گے۔
نئےسرےسے پیدا ہونے والے مقدسین اور خُدا کےخادمین کو ، دُنیا کے خلاف ہمیشہ رُوحانی جنگ لڑنی چاہئے۔ لہذا ہمیں نِیکُلیوں کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔ کہا جاتا ہے کہ نِیکُلیوں عوام کے لئے خدمات کی فراہمی میں بہت زیادہ ملوث ہوتےہیں۔ لیکن دُنیا میں عوام کی خدمت کرنا کلیسیاکا مرکزی کردار نہیں ہے۔ یہ سوچنا بہت بڑی غلطی ہوگی کہ کلیسیاکا بنیادی مقصد سماجی خدمت ہے۔
 
 
دلیری سے مستردکریں!
 
خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اِس دُنیا کے نمک ہیں۔ اِس کا کیا مطلب ہے؟ جب خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ ہم دُنیا کے نمک ہیں ، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ دُنیا کوہماری ضرورت ہے۔ نمک کا کردار گنہگاروں کومسیح کے پانی اور خون کے کلام کی منادی کرنا ہے تاکہ وہ اپنےگناہوں سے نجات پاسکیں ، خدا کے فرزند بنائے جائیں ،اور آسمان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔ جس طرح ذائقہ لانے کے لئے نمک کی ضرورت ہوتی ہے اِسی طرح دُنیا کو بھی اِس نمک کی طرح نئےسرےسےپیدا ہونے والے راستباز لوگوں کی ضرورت ہے۔ نئےسرےسے پیدا ہونے والے راستباز لوگوں کو ، دوسرے الفاظ میں ، پانی اور رُوح کے کلام کی منادی کرنی چاہئے اور لوگوں کی اُن کی نجات تک رہنمائی کرنا چاہئے۔ ہمیں نمک کے اِس کردار کو پورا کرنا چاہئے اور رُوحوں کی نئےسرےسےپیدا ہونے میں مدد کرنی چاہیے۔ ہمیں گنہگاروں کو راستباز لوگوں میں بدلنا چاہئے۔
خُدا کی حقیقی کلیسیا کیا ہے؟ خُدا کی حقیقی کلیسیا وہ جگہ ہے جہاں لوگ اُس کی پرستش کے لئے جمع ہوتے ہیں؛یہ وہ جگہ ہےجہاں خُدا کی تعریف کرتے ہیں؛ اور یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ اُس سے دُعا مانگتے ہیں۔ جب آزمائش آتی ہے تو ، خُدا کے خادمین کو اِس کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ مقدسین کو، بھی ، شیطان کی طرف سے آنے والی دُنیا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ شیطان آپ کو آزما سکتا ہے ، "اپنے ایمان کو بھول جاؤ؛ میں تمہیں دولت مند بناؤں گا! آپ کو نئےسرےسےپیدا ہونے والی کلیسیا میں جانے کی ضرورت نہیں ہے؛ میری کلیسیاؤں میں سےایک کلیسیا میں آؤ ، اور میں تمہیں یہاں تک کہ ایلڈر بناؤں گا! " لیکن چونکہ شیطان ہمیشہ راستبازلوگوں کو اُلجھانے اور اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے ، لہذا ہمیں ہمیشہ اس سے لڑنے اور اس پر غالب آنے کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ ہم آخر تک اپنے ایمان کا دفاع کرسکیں۔
وہ جو جھوٹاایمان رکھتےہیں وہ اکثر مادی چیزوں کےساتھ نجات پانے کی کوشش کرنےکاجھانسادیتےہیں۔ وہ دولت اور شہرت کا لالچ دیتے ہیں۔ شیطان ہمیں دنیاوی اقدار دکھاتا ہے اور ہمیں اپنے ایمان اور خُدا کو ترک کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہمیں ایسے وقتوں میں جو کچھ رکھنا چاہئے وہ خُداوند پر ایمان ہے کہ وہ ہماری تمام ضروریات کو پورا کرے گا ، اور اِسی ایمان کے ساتھ ہم شیطان کی آزمائشوں کو دلیری سے مسترد کرسکتےہیں اور ان پر غالب آسکتے ہیں۔
برکتوں کی جڑ خُدا میں پائی جاتی ہے۔ خُدا ہی وہ ہے جو رُوحانی اور جسمانی طور پر ہمیں برکت دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ شیطان وہ نہیں جو انسانوں کو برکت دیتا ہے ، ہم اِس کے خلاف لڑ سکتے ہیں۔ ایسے وقت بھی آتے ہیں جب ہم اپنی خواہشات کے خلاف لڑتے ہیں۔ جب لالچ اور ہوس نمُودارہونا شروع ہوجاتےہیں جیساکہ ہمارے دل اس موجودہ دُنیا کےذریعےبھٹک جاتے ہیں تو، ہمیں اپنے آپ سے لڑنا ہوگا۔ یہ کہے بغیر سمجھ جاناچاہیے کہ ہمیں ان دنیوی لوگوں کے خلاف لڑنا ہوگا جو ہمارے ایمان کی تخریب کاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ہمارامقدر تمام دنیاوی قوتوں کے خلاف رُوحانی لڑائی ہے۔
کیوں؟ کیونکہ جب کوئی مسیحی رُوحانی جنگ میں مصروف نہیں ہوتا ہے تو ، اِس کا مطلب صرف یہ ہوسکتا ہے کہ اُن کا ایمان تمام عملی مقاصد کے لئے مر گیا ہے۔ جب تک یہ دُنیا ختم نہیں ہوجاتی اور راستبازوں اور گنہگاروں کی عدالت کا دن نہیں آجاتا تب تک ہمارے ایمان کو ختم کرنے کی تدبیریں ہوتی رہیں گی۔ اِسی لئے ہمیں مستقل طور پر رُوحانی لڑائیوں میں حصہ لینا چاہئے۔ اگر ہم اُن لوگوں کو برداشت کرتےہیں جو خُدا کے خلاف کھڑےہوتے ہیں اور اپنے ایمان کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اپنی زندگیوں سمیت ہرچیز گنواتےہوئےختم ہوجائیں گے۔مضبوط ارادےکےساتھ اپنے ایمان کےعلاوہ کسی اور چیزکو اجازت نہ دیں کہ وہ آپ پر حکومت کرے، ہم نہ صرف اپنے تمام مال و دولت کو گنوا دیں گے ، بلکہ خُدا بھی ہمیں ردّکردےگا۔ ہمیں لازمی طور پر یہ جاننے کے قابل ہونا چاہئے کہ ہمارے ساتھ کون کھڑا ہے اور کون ہمارے خلاف کھڑا ہے تاکہ ہم اپنے دشمنوں سے لڑیں اور اُن غالب آسکیں۔ جب کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ فراخ دلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، ہمیں اپنے دشمنوں کے خلاف اپنے عزم پر قائم رہنا چاہئے—اِس نقطہ پرجہاں ہمارے دشمن حتیٰ کہ ہمیں کچھ کرنے کی جر ات بھی نہیں کرسکتے ہیں۔
نِیکُلیوں ہمارے لئے دشمن ہیں۔ وہ ہمارے دشمن ہیں کیونکہ وہ ایک "شیطان کی جماعت" ہیں جن کوہم نہ تو برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی اُنکےساتھ کام کرسکتے ہیں۔ ہم جواپنے گناہوں سے معاف ہوچکےہیں ہمیں نِیکُلیوں کو برداشت نہیں کرنا چاہئے جو بت پرستی میں مشغول ہیں اور صرف مادی فوائد کو حاصل کرنے کی تلاش میں ہیں ، لیکن ہمیں اِس کی بجائے خُداوند کی خدمت اور اِس زمین پر خُدا کی بادشاہی کی تعمیر کے اس راستباز کام کے لئے اپنی زندگی وقف کرنی چاہیے۔
 
 
پہلے خُدا کی بادشاہی کی تلاش کریں
 
یسوع نے ہمیں بتایا کہ "پہلے خُدا کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کریں، " ہمیں اپنے جسم کے کاموں سے پہلے خُدا کے کام کرنے کی نصیحت کرتا ہے۔ ہم جو نئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں رُوحانی خواہشات رکھتے ہیں۔ یہ جسم کی خواہشات نہیں ہیں بلکہ رُوح کی خواہشات ہیں۔یہ ہے کیسے ہم پہلے خُداکے کاموں اور اُس کی بادشاہی کی خدمت کرسکتے ہیں۔ ہم پہلے خُدا کی خدمت کرتے ہیں ، لیکن ہم جسم کے کام بھی کرتے ہیں۔ جیسا کہ بائبل ہمیں بتاتی ہے ، " آدمی صرف روٹی ہی سےجِیتانہ رہیگابلکہ ہر بات سے جو خُداکے مُنہ سےنکلتی ہے۔" ہم دوسرے لفظوں میں ، صرف ہمارے جسم کے ذریعہ نہیں ، بلکہ جسم اور رُوح دونوں کے ذریعہ زندہ رہتے ہیں۔ ہمیں ان دونوں کے مابین توازن قائم رکھنے کے قابل ہونا چاہئے۔ اگر ہم نِیکُلیوں کے کاموں کی پیروی کرتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ اِس زمین پرہی ہماری ساری خوشی کے معاملات ہیں تو ،ہم اپنی تباہی کا سامنا کرتےہوئےختم ہوجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں پہلے اپنی رُوحانی خواہشات کو تلاش کرنا ہوگا۔
جب بھی آسمان اور جہنم کا موضوع سامنے آتا ہے تو کچھ لوگ بلکہ باغی بن جاتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں ، "کیا تم جہنم میں گئے ہو؟ کیا تم نے اُسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے؟ لیکن یہ سوالات شیطان کے خیالات سے آرہے ہیں۔ نہ صرف عام لوگ اِس جیسے ہیں ، بلکہ یہاں تک کہ بیشتر پادری جنہوں نے کئی سال علم الہیات کی تعلیم حاصل کرنے میں گزارےہیں اُن کے ریوڑنئےسرےسےپیداہونے کےعلم اور آسمان کورکھنےکی یقین دہانی کے بغیرہیں۔ یہ انتہائی بدقسمت اور افسوسناک صورتحال ہے ، ایسے خادمین کے لئے جو ایسی یقین دہانی نہیں رکھتے اور یہاں تک کہ نئےسرےسے پیدا بھی نہیں ہوتے ہیں وہ کبھی بھی اُن لوگوں کی رہنمائی نہیں کرسکتے ہیں جونئےسرےسےپیدا ہونےکےلئے خُدا کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ہیں۔ جب بہت ساری جانیں شیطان کی سوچوں تک ہی محدود ہوجاتی ہیں اور خُدا کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں تو ،وہ ان پادریوں سےممکن طور پر کیا سیکھ سکتے ہیں جو نہ تو آسمان پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ ہی اپنی نجات کے قائل ہیں؟
"جہاں شیطان کی تخت گاہ ہے ،" اِس کا مطلب یہ ہے کہ اب شیطان پوری دُنیا پر راج کرتا ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں ہم رہتے ہیں ، اُس قسم کا دور جب دُنیا نِیکُلیوں سے بھری ہوئی ہے جو رات کے آسمانوں کو اپنی چمکتی ہوئی صلیبوں سے روشن کرتے ہیں اور اپنے گرجا گھروں کو چلاتے ہیں گویا وہ کوئی کاروبار چلا رہے ہیں۔ خُدا نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ اُس کی کلیسیائیں نہیں ہیں ، بلکہ "شیطان کی جماعت" ہیں۔ آج کی دُنیا اب ان گنت لوگوں سے بھری ہوئی ہے ، جو شیطان کی سوچوں سے پھنسے ہوئےہیں اور اِس دُنیا کے لالچ کی تلاش کررہے ہیں ، خادم ہونے کابہانہ کرتے ہیں ، کلیسیامیں حاضر ہوتے ہیں، اور خُداوندکےنام کوپکارتے ہیں؛ تاہم ، اُن کی رُوحوں کی دوبارہ پیدائش اور اُن کی آسمان کے لئے اُمید بہت پہلے ختم ہوگئی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جس میں اب ہم رہتے ہیں اورخُداوند کی خدمت کرتے ہیں۔
 
 

جو نئےسرےسےپیدا نہیں ہوئے اُن کے خلاف رُوحانی جنگ

 
ہم یہاں اِس زمین پر رہ رہے ہیں "جہاں شیطان کی تخت گاہ ہے۔" جب ہمیں للکارا جاتا ہے تو ہمیں محتاط رہ کراپنے ایمان کی حفاظت کر نی چاہیے اور بہادری کے ساتھ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ ہمارے خُداوند کی واپسی کے دن تک ، ہمیں احتیاط سے اپنے "سفید پتھر" —اپنےایمان، یعنی —اِس خوشخبری پرایمان رکھتےہوئےجس نے ہمیں اِسکے پانی اور خون سے نئے سرےسے پیدا ہونے کی اجازت دی کو برقرار رکھنا چاہئے اور حفاظت کرنی چاہیے۔
ہمیں خُدا کا کلام ، مَن کھا کر زندہ رہنا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے، ہمیں نِیکُلیوں کے کاموں کے خلاف لڑنا اور اِن پر غالب آنا ہوگا۔ ہمیں اُن کو مسترد کرنا چاہئے۔ ہمیں اُن لوگوں کے قریب نہیں جانا چاہئے جو صرف دولت اور دنیاوی شہرت کو تلاش کرتے ہیں۔ اگرچہ ہم ان کی کمزوریوں کو برداشت اور معاف کرسکتے ہیں ، لیکن ہم اُن لوگوں کے ساتھ روٹی نہیں توڑ سکتے جو سچائی کی مخالفت کرتے ہیں اور
صرف دولت کی ہوس رکھتے ہیں، اس طرح کے لوگوں کے ساتھ خُدا کے کام کرنا کم تر ہے۔
پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر جو نئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں اُن کے نام کہاں لکھے گئےہیں؟ وہ کتاب حیات میں لکھے گئے ہیں۔ پھر ، اُس سفید پتھر پر ایک نیا نام لکھنے سے کیا مراد ہے؟ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم خُدا کے فرزند بن گئے ہیں۔ یہ بھی لکھا ہے کہ کوئی بھی اُس نئے نام کو نہیں جانتا ہے " اُس کے پانے والے کے سِوا " اِس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اور نہیں بلکہ وہ جو پانی اور رُوح القدس کی خوشخبری پر ایمان رکھ کر نئےسرےسے پیدا ہوئے ہیں یسوع کی نجات کو جانتے ہیں۔ گنہگار نہیں جانتے کہ وہ کیسے راستباز بن سکتے ہیں— یعنی، صرف وہی جنہوں نے یسوع سے اپنےنئےنام حاصل کیے ہیں جانتے ہیں کہ کیسے اُن کے گناہوں کو مٹا دیا گیا۔
ہمیں نِیکُلیوں کے خلاف لڑنا چاہئے؛ کسی اور کے خلاف نہیں ،بلکہ نِیکُلیوں کے خلاف۔ عبارت کا بنیادی جوہر یہ ہے کہ ہمیں ضرور نِیکُلیوں کے خلاف جدوجہدکرنی چاہیے اور اُن پر غالب آناچاہیےجو ، اگرچہ وہ خُدا پرایمان رکھتے ہیں اورسچائی کے کلام کو جانتے ہیں ، پھر بھی خُدا کے کلام کی نافرمانی اور انکار کرتے ہیں اور صرف پیسے ، مادی فوائد ، دولت ، اور اُن کے جسم کے لئے شہرت کا پیچھا کرتے ہیں۔
ہمیں اپنے خلاف بھی جدوجہد کرنی ہوگی۔ اگر ہم اپنی خودنمائی یا غرورکی وجہ سے خُدا کی پیروی نہیں کرسکتے ہیں تو، ہمیں ایسے دلوں سے لڑنا ہوگا۔ اور ہمیں اُن لوگوں کے خلاف بھی رُوحانی جدوجہد میں حصہ لینا چاہئےوہ جو یسوع پر نئےسرےسے پیدا ہوئے بغیر ہی ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اِس حقیقت کے باوجود کہ ہم اُس کے جلال کےسامنے بہت کم ہیں ، خُداوند نے ہمیں اپنے پانی اور خون سے بچایا ہے۔ ہمیں ضرور اِس کلام پر ایمان رکھ کر اپنے ایمان کا دفاع کرناچاہیے اور خُدا کے خادمین کی طرح اپنی زندگیاں گزارنی چاہیے ، اِس کامل نجات کے لئےاُس کا شکر ادا کریں جو وہ ہمیں دے چکا ہے۔ ہمیں پہلے خُدا کی بادشاہی اور اُس کی راستبازی کی تلاش کرنی چاہئے۔ آئیے ہم سب وہ لوگ بنیں جوآخر تک ایمان میں لڑتےہوئے غالب آئیں۔
 
 
وہ جوغالب آئیں گے اُنہیں مَن دیا جائے گا
 
انسانی تاریخ میں گمشدگی کا سب سے بڑا معاملہ اُٹھایاجاناہےجو آنے والاہے۔ اِسی کے ساتھ ، یسوع کی آمدِثانی ایسا مسئلہ ہے جو مسیح پر ایمان رکھنے والے تمام لوگوں کی طرف سے زیادہ دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے ، "لوگوں کی بڑےپیمانےپرگمشدگی ہوگی جیساکہ مقدسین کااُٹھایاجاناہوگا؛ چونکہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد غائب ہوجائیں گے، جہازچلانےوالوں سے ٹرین کنڈکٹرز سے ٹیکسی چلانے والےافراد تک ، دُنیا ہر قِسم کے حادثات اور آفات میں ڈوب جائے گی ، طیارے آسمان سے گِر کر تباہ ہوں گے ، ٹرینیں پٹڑی سے اُتریں گی اور شاہراہیں ٹریفک حادثات سے بےترتیب ہوجائیں گی۔ " ماضی میں ایک کتاب جو اُٹھائےجانے (Rapture )کے عنوان سےہے ،کی کہانیاں اِسی طرح کی سطروں پر مبنی ہیں ،جو ماضی میں ایک خوب بِکنےوالی کتاب ہوا کرتی تھی۔ اُن لوگوں کا خیال تھا کہ جب مقدسین کا اُٹھایاجاناہوگا تو مقدسین پتلی ہوا میں غائب ہوجائیں گے۔ اِس طرح ، اُنہوں نے نہ صرف توبہ کی اور اپنے اُٹھائےجانے کے دن کے لئے اپنے ایمان کو تیار کِیا ، بلکہ اُن میں سے کچھ نے تو اپنے سکولوں اور ملازمتوں کو بھی چھوڑ دیا ، جو نہایت ہنسانے والا کرشمہ ہے۔
زیادہ عرصہ نہیں ہوا، ایک فرقہ جس نے ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے کے نظریے کو قبول کِیا تھا اِس کی جماعتوں نے اپنا مال ودولت گرجاگھرکے حوالے کردیا اور صرف اُٹھائےجانےکے دن کا انتظار کِیاجس کی اُنکے رہنماؤں نے پیشن گوئی کی تھی۔ یقیناً ، جس دن کی اُنھوں نے پیشن گوئی کی تھی اور اس دن کا بے حد بے تابی سے ہر دوسرے دن کی طرح ختم ہوتےانتظار کِیا تھا — سب انتظار بےفائدہ تھا! ہر وہ چیز جس پر اُنہوں نے پورے دل سے یقین کِیا اور جس کا انتظار کِیا وہ صرف جھوٹ ثابت ہوا۔
لیکن ان میں سے کچھ لوگوں نے ۱۹۹۹ءمیں ایک اور دن کوبےقابو ہوتےہوئےاُنکےاُٹھائےجانے
کا دن قرار دیا ، اور انتظار پرانتظار کِیا۔ تاہم ، پہلے کی طرح ،یہ ثابت ہوا کہ وہ سب جھوٹ کے ذریعہ دھوکہ کھا چکے تھے۔ ان کے رہنما، جنہوں نے اپنی پوری نہ ہونےوالی پیشن گوئی پر شرمندگی اُٹھائی ، فیصلہ کِیا کہ مسیح کی واپسی کا وقت پھِرکبھی نہیں مقرر کریں گے۔ ہم ان واقعات سے دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانےکی تعلیمات خُدا کے کلام کے بالکل مطابق نہیں تھیں۔
مُکاشفہ کی کتاب کا سب سے اہم نکتہ یسوع کی آمدِ ثانی اور مقدسین کااُٹھایاجانا ہے۔ تمام وفادار مسیحیوں کے لئے ، جب مسیح دُنیا میں واپس آئے گا اور اپنے ایمانداروں کو ہوا میں اُٹھائےگا ،یہ اُن کی سب سے بڑی اُمید اور انتظار ہے۔ در حقیقت ،مسیحیوں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ اپنے ایمان میں مسیح کی واپسی کا بے تابی سے انتظار کریں۔ جو واقعی یسوع پر ایمان رکھتےہیں اُنہیں بڑی اُمید اور بے تابی کے ساتھ یسوع کی آمدِثانی کا انتظار کرنا چاہئے۔
اِس قِسم کا ایمان رکھنا جو خُداوند کی آمدِ ثانی اور اُٹھائےجانے کا انتظار کرتاہے اُس شخص سےبہترہےجو بالکل اِسکا انتظار نہیں کرتا ہے۔ آخری زمانوں کے الہام بتانےوالے صحیح راہ سے ہٹ کر یہ کہ کیا ہے وہ اپنے اُٹھائےجانے کے لئےایک مخصوص دن اور وقت مقرر کرتے ہیں۔ اُن کے حساب کتاب کی بنیاد کے طور پر ، ان میں سے بہت سے لوگوں نے ستر ہفتوں کی پیشن گوئی کی غلط تشریح کی جو دانیال ۹ باب میں ظاہر ہوتی ہے ، اوراِسی طرح زکریاہ ، اور اپنی پیشن گوئی کی تاریخوں پر پہنچے۔
پولوس نے ۱ تِھسلُنیکیوں ۴باب میں کہا ہے کہ جب مسیح اِس زمین پرواپس آئے گا ، مقدسین کو اُس سے ملنے کے لئے ہوا میں اُٹھایا جائے گا۔ لہذا یہ صرف مناسب ہے کہ جو یسوع پر حقیقی طور پر ایمان رکھتے ہیں وہ اپنے اُٹھائےجانے کے دن کا انتظار کریں گے۔ لیکن اُٹھائےجانےکی ایک خاص تاریخ کا حساب کتاب لگانا اور اِس کومقرر کرنا کچھ گہری ہی غلط بات تھی ، کیونکہ یہ اُن کےفخر کی عکاسی تھی جس نے خُدا کی حکمت کو نظرانداز کِیا۔ انسان کے تخلیق کردہ ریاضی کے فارمولوں کے ذریعہ بائبل کی پیشنگوئیوں کو حل کرنے اور سمجھنے کی کوشش کرنا بہت بڑی غلطی تھی۔
تب ، پھر ، حقیقی اُٹھایاجانا کب ہوگا؟ مُکاشفہ ۶باب مقدسین کےاُٹھائےجانے کی بات کرتا ہے؛ اِس کے مطابق ، خُدا کے سات ا دوار کے چوتھے دور کے دوران—یعنی ، زرد گھوڑے کادور —مقدسین کی شہادت ہوگی ، اور اِس کے بعد اُٹھایاجاناپانچویں دور میں واقع ہوگا۔ مقدسین کےاُٹھائےجانے کو تفصیل سے بیان کِیا گیا ہے ، اور وقت آنے پر یقیناً یہ حقیقت بن جائے گا۔
خُدا نے انسانیت کے لئے سات ا دوار کا منصوبہ بنایا ہے ، اُن میں سے پہلا سفید گھوڑے کا دور ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں پانی اور رُوح کی خوشخبری شروع ہوتی ہے اور فتح پانا جاری رکھتی ہے۔ دوسرا دور لال گھوڑے کا دور ہے۔ یہ دور شیطان کے دور کا آغاز ہے۔ تیسرا دور کالے گھوڑے کا دور ہے ، جب دُنیا جسمانی اور رُوحانی قحط سے دوچار ہوگی۔ چوتھا دور زرد گھوڑے کا دورہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں مخالفِ مسیح کاظہور ہوگا اور مقدسین کو شہید کیا جائے گا۔ پانچواں دور ہے جب مقدسین کو اُن کی شہادت کے بعد زندہ کیا جائے گا اور اُٹھایا جائے گا۔ چھٹا دور پہلی مخلوق کی مکمل تباہی کا منطقی انجام ہے—اس دنیا ، یعنی —خُدا کی طرف سے،اِس کے بعد ساتواں دور ہوگا جس میں خُدا ہزارسالہ بادشاہی اور نئےآسمان اور زمین کو اپنےمقدسین کے رہنے کے لئے ابدی طورپرکھول دے گا۔ خُدا نے اِس طرح ساری انسانیت کے لئے اِن سات ادوار کو الگ الگ مرتب کِیا ہے۔ یہ صرف مناسب ہے کہ جو لوگ یسوع پر ایمان رکھتے ہیں وہ اِن ساتوں ادوار کو جانیں اور اِن پر ایمان رکھیں جو خُدا نے اُن کے لئے مقرر کیےہیں۔
صرف کوریا میں ، ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ گذشتہ صدی کے آخر میں ، ۰۰۰‚۱۰۰سے زیادہ افراد ایک طرف کھڑے ہوگئے اور اپنے مقررکیےدن اور وقت کے مطابق مسیح کی آمدِ ثانی اوراپنے اُٹھائےجانےکا انتظار کرنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ تقریباً ۱۲ ملین کورین مسیحی ہیں۔ اُن میں ، تقریباً ۰۰۰‚۱۰۰ یسوع کی واپسی اور اُن کے اُٹھائےجانے کا انتظار کر رہے تھے۔ دوسرے الفاظ میں بیان کرتے ہوئے، یہ وہ سخت گیرایماندار ہیں جو کلام الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ یہ لکھا گیا تھا اورخُداوند کی واپسی کا انتظار کر رہے تھے —۱۲ملین میں سے صرف ۰۰۰‚۱۰۰ یعنی ۱ فیصد سے بھی کم ۔
تاہم ، اُن کا مسئلہ یہ تھا کہ خُدا نے اُن کے لئے جو ادوار مقررکیے تھےاُنکے بارے میں اُن کو صحیح سمجھ نہیں تھی۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری کو بخوبی سمجھے بغیر ، کلیسیاکے ابتدائی مسیحیوں نے مسیح کی آمدِثانی اور مقدسین کے اُٹھائےجانے کے دور کے غلط فہم پر مبنی مسیح کی واپسی کی تاریخ کا حساب لگانے کی کوشش کرنے میں ایسی غلطیاں کیں۔ تو پولوس رسول نے اُنہیں خبردار کِیا " کہ کسی رُوح یا کلام یاخط سےجو گویاہماری طرف سے ہو یہ سمجھ کر کہ خُداوند کا دِن آپہنچاہےتمہاری عقل دفعتًہ پریشان نہ ہوجائےاور نہ تم گھبراؤ" (۲ -تھِسّلُنیکیوں۲: ۲)۔
تاریخی طور پربیان کرتےہوئے ، بہت سے لوگوں نے خُدا کے منصوبے سے لاعلمی کا سلسلہ جاری رکھا اور بیکار میں ایک کے بعد ایک غلط تاریخیں مقرر کرتے رہے۔ مجھے یقین ہے کہ اُن کے غلط ایمان کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اُن کی سخت سرزنش کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے—میں صرف اُنہیں ٹھیک کرنا چاہتا ہوں۔ کیوں؟ کیونکہ اُن کی ناکامی ان سات ادوارسے لاعلمی کی وجہ سے تھی جو خُدا نے بنی نوح انسان کے لئےمقرر کیے ہیں۔ اُنہوں نے یسوع کی آمدِ ثانی کی تاریخ کا غلط حساب لگایا کیونکہ وہ بائبل میں پائے جانے والے نمبروں کو غلط سمجھے اور غلط استعمال کرتے ہوئے ، انہیں صرف انسانی لحاظ سے دیکھتے ہیں۔
یہ غلطی کورین مسیحیوں تک ہی محدود نہیں رہی ، بلکہ پوری دُنیا میں یہ عام ہوگئی۔ اس زمین کے تمام مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والےگرجاگھروں کے رہنما ، جن میں سے کچھ بلکہ مشہور ہیں ، نے بھی اسی قِسم کی غلطی کی۔ میرا دِل کی خواہش ہے کہ اُن تمام لوگوں کے لئے خُدا کے منصوبے کی گواہی دوں جو اِس طرح یسوع پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنی مقررکردہ اُٹھائےجانے کی تاریخ کا انتظار کرتے ہیں ، تاکہ وہ خُدا کے منصوبے کا مناسب ، غلطی کےبغیر ، ادراک کریں۔ مَیں یہی اُمید کرتا ہوں کہ اُنہیں ،بھی، حقیقت میں خُدا کی طرف سے اُٹھائےجانےکی نعمت ملے۔
خُدا کی طرف سے حقیقی اُٹھایاجانازرد گھوڑے کے خاتمے اورمقدسین کے شہادت سے گزرنےکے بعد آئے گی۔ جب زرد گھوڑے کے اس دور میں عظیم ایذارسانیوں کا سات سالہ دور شروع ہوگا ، مخالفِ مسیح دُنیا کے سب سے طاقتور رہنما کے طور پر اُبھرے گا اور اس پر حکومت کرے گا۔
جب عظیم ایذارسانیاں شروع ہوں گی مخالفِ مسیح مقدسین پر ظلم کرنا شروع کر دے گا ، عظیم ایذارسانیوں کے پہلے نصف حصےمیں شدت سےتیزی آئے گی—یعنی ،پہلے ساڑھے تین سال — سات سالہ دور کے وسط نقطہ پرعروج کو پہنچیں گی۔ یہ ہے جب مقدسین اپنے ایمان کے دفاع کے لئے شہید ہوں گے۔ اور اِس کے بعد جلد ہی چھٹے دور کا آغاز ہوگا ، جب شہید مقدسین کو زندہ کِیا جائے گا اور اُن کو اُٹھایا جائے گا۔
جو لوگ یسوع پر ایمان رکھتے ہیں اُنہیں زمانوں کو اچھی طرح سےجانناچاہیے۔ اِس پر انحصار کرتے ہوئے کہ آیا وہ ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے پر ایمان رکھتے ہیں یا ایذارسانیوں کے وسط میں اُٹھائےجانےپر ، اُن کی ایمان کی زندگیوں کو بالکل مختلف انداز میں دِکھائےگا۔ آیا ایمانداردانشمندی کے ساتھ مناسب ایمان کے ساتھ ان کے اُٹھائےجانے کا انتظار کریں گے ، یا اپنےذہنوں کو اپنی پسند کی ایک مضحکہ خیز تاریخ پر مرکوز کرنے کی غلطی کریں گے —یہ سب اِس بات پر منحصر ہوگا کہ آیاوہ خُدا کے
کلام پر اپنے ایمان کی بنیاد رکھتے ہیں یا نہیں۔
اگر آپ مُکاشفہ کےکلام کی ان تعلیمات کے ساتھ اطمینان کے ساتھ ملتے ہیں تو ، آپ دراصل معلوم کرسکتے ہیں کہ معقول تجویزات کیا ہیں ، اور اِس طرح آپ اپنے تمام سوالات کو صحیح طریقے سے حل کرنے کےقابل ہوں گے۔ لیکن اگر آپ کو اُٹھائےجانے کے بارے میں صحیح سمجھ نہیں ہے اور اِس کا صحیح طور پر انتظار کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو آپ کا ایمان برباد ہوجائے گا۔
ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے کے نظریے کی وضاحت سکوفیلڈ ، ایک امریکی مذہبی فلاسفرنے کی ، جو اپنی سکوفیلڈ ریفرنس بائبل میں ترتیب وار اپنے نظریاتی نقطہِ نظر کو قائم کرنے والا پہلا شخص تھا۔ اِس بائبل ریفرنس کا پوری دُنیا میں وسیع پیمانے پر ترجمہ ہوا اوراسکو استعمال کِیا گیا۔سکوفیلڈ کے بائبل ریفرنس کے اثرات کی وجہ سے ہی ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانےکانظریہ اِس قدر وسیع پیمانے پر پھیل گیا۔ چونکہ سکوفیلڈ ریفرنس بائبل کو ایک طاقتور مُلک کے ایک بااثر مذہبی فلاسفر نے لکھا تھا ، اِس لئے اس کتاب کا متعدد مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا اور مسیحیوں کی ایک بڑی تعداد نے اس کوپڑھا۔
سکوفیلڈ کو خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ اُس کا ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کا دعویٰ پوری دُنیا میں پھیل جائے گا۔ اِس کا نتیجہ عملی طور پر دُنیا کے تمام مسیحیوں کے ذریعہ ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائے جانے کے نظریہ کی عام قبولیت تھا۔ لیکن سکوفیلڈ کے ایذارسانیوں سےپہلےاُٹھائےجانےکےنظریےکے ظاہر ہونے سے پہلے ، مسیحی دُنیا میں جو عقیدہ غالب آیاتھا وہ ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانےکا نظریہ تھا۔
ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانے کے نظریےکامانناہے کہ مسیح عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے اختتام کے بعد واپس آئے گا ، اور یہ کہ وہ اُس وقت مقدسین کو اُٹھائے گا۔ اِس طرح بہت سے لوگ اُٹھائےجانے سےپہلے ایذارسانیوں اور خُداوند کی آمدِثانی کا بہت خوف رکھتے تھے۔ جب مبشروں نے اپنے منبر سے مسیح کی آمدِ ثانی کے بارے میں منادی کی تو، لوگ توبہ کی طرف بھاگے ، اپنےگناہوں پر روتےاور اذیت اُٹھاتے ہوئے ، توبہ کی مستقل دعاؤں سے اپنے آپ کو غرق کرلیا۔ لہذا کون سب سے زیادہ روتا ہے اس پیمائش کے آلے کے طور پر استعمال کِیا جاتا تھا کہ کون سب سے زیادہ مبارک ہے۔ ایسے لوگ ، اگرچہ وہ یسوع پر ایمان رکھتے تھے ، بہت زیادہ آنسو بہاتے ہیں۔
لیکن ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانے کے اِس پہلے اعتقاد کو آہستہ آہستہ ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے میں بدل دیاگیا۔ یہ معاملہ کیوں تھا؟ لوگوں کو ایذارسانیوں کے بعد اُٹھائےجانے کی ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانے میں تبدیلی سےبےانتہا تسلی ملی، کیونکہ اِس تبدیلی کا مطلب تھا کہ انہیں اُن تمام آزمائشوں اور مصائب کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا بصورت دیگرانہیں اُن سب سے گزرنا پڑتا۔ یہ تھوڑی حیرت کی بات ہے کہ وہ اُن پرعظیم ایذارسانیوں کی خوفناک مشکلات آنے سے پہلے ہی اُنکے ہوا میں اُٹھائےجانےکو ترجیح دیتے ہیں ۔ اِس طرح ، ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانےکا نظریہ جھاڑی کی آگ کی طرح پھیل گیا ، کیونکہ اِس نے ایک پُرسکون ایمان کی پیش کش کی ، یہ عظیم ایذارسانیوں کی مصائب سے گزرنے کے خوفناک امکان سے کہیں زیادہ قابلِ ہضم تھا۔
جس طرح لوگ سادہ یا کڑوےپر میٹھےکو ترجیح دیتے ہیں ، اسی طرح جب ان کےعقیدے کی بات آتی ہےتو لوگ آسانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ مذہبی عالموں کے تخلیق کردہ مختلف نظریات میں سےجو اُن کو ذائقہ میں موزوں ہے اُسکا انتخاب کرنا اور اُس پر ایمان رکھنا پسندکرتے ہیں۔ یہ ہے کیسے بہت سارے لوگ ایذارسانیوں سےپہلے اُٹھائےجانے کے نظریےپر اتنی آسانی سے ایمان رکھتےہوئے ختم ہوگئے۔ ایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانے کے اس نظریہ کی حمایت کرنے والوں نے سوچا کہ انہیں اُٹھائےجانے کے لئےاپنے جسموں اور دلوں کو بےعیب رکھنا ہوگا۔ اور یوں وہ اپنی ایمان کی زندگی میں کافی پُرجوش تھے۔ لیکن ایک سنگین غلط فہمی نےایذارسانیوں سے پہلے اُٹھائےجانےپر اُن کے اعتقاد کو جوڑدیا۔ جب کہ یسوع پر اُن کا ایمان اور خُداوند کی واپسی کےلئے اُن کا انتظار سب قابل ستائش تھا ، اس کے باوجود اُنہوں نے دو سنجیدہ اور سنگین غلطیاں کیں۔
پہلی ، پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھا ، وہ خُداوند کا انتظار کرتے رہے جب کہ وہ ابھی تک اپنے دِلوں میں گناہ رکھتےتھے۔ وہ صرف صلیب کے خون کو تھامےہوئے تھے اور اس پر انحصار کرتے تھے ، لیکن توبہ کی کوئی بھی مقدار اُن تک اُن کے گناہوں کی قطعی معافی نہیں لاسکتی تھی جو وہ روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ پھر بھی دن رات ، وہ مسیح کی آمدِ ثانی کا انتظار کرتے رہے۔ وہ اپنے گرجا گھروں میں اپنے گناہوں سے توبہ کرنےکےلئےباہم اکٹھے ہوئے ،پوری رات دعائیں کرنےاورگیت گانےکےلئے اپنےاُٹھائےجانے کاانتظار کرتے ہوئے متحد ہوئے۔ اس حقیقت میں کوئی حرج نہیں تھا کہ وہ اس طرح اپنے اُٹھائےجانے کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن اُنہوں نے درست ایمان کے بغیر انتظار کرنے کی سنگین غلطی کی—یعنی ، وہ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان نہیں رکھتے ، وہ واحد ایمان جو ہمیں خُدا کے سامنے اُسکےفرزندوں کی طرح کھڑے ہونے کی اجازت دیتا ہے۔
دوسری غلطی یہ تھی کہ ان میں سے کچھ خُدا کے منصوبے کاکسی مناسب تفہیم کے بغیر یسوع کی آمدِ ثانی کی آنےوالی تاریخ کا بےقاعدہ اعلان کرتے تھے۔ اِس نے نہ صرف بہت سارے ایمانداروں کوخُداوند پر بیکارمیں انتظار کروایا، بلکہ اِس نے معاشرے میں ہر طرح کی تباہی پیدا کردی ، جس نے مسیحیت پر صرف غلط تاثرات چھوڑے اورغیرایمانداروں میں اِس کی ساکھ کو خراب کردیا۔
ان دو غلطیوں کی وجہ سے ، جب اُٹھایا جاناجس کا یہ لوگ بہت شدت سے انتظار کر رہے تھے حقیقت میں کبھی وجود میں نہیں آیا، تو اِس نےصرف بہت سے لوگوں کو اُٹھائےجانے کے بارے میں بُرا سوچنے پر مجبور کِیا ، اور انہیں حقیقت سے بھی دور رکھا۔ اب ، جب مسیح کی آمدِثانی کی بات کرنے کا صحیح وقت ہے اور جب اُس کی واپسی قریب آ رہی ہے تو ،شاید ہی کوئی اِس کے بارے میں بات کرے —سب مہربانی چند گمراہ کرنےوالوں کی شرمناک ناکامی ہے ۔ یہ عبارت جس پر ہم فی الحال گفتگو کر رہے ہیں یہ ہے کیا جو خُدا نے پرگمن کی کلیسیا کے فرشتہ کو یوحنا کے ذریعہ لکھا ۔ خُدا نے کلیسیا کے خادم اور مقدسین کی اُن کی شہادت کے ساتھ آخر تک اپنے ایمان کا دفاع کرنےکےلئےتعریف کی ۔ لیکن خُدا کی طرف سے پرگمن کی کلیسیا کی تعریف بھی کچھ سرزنشوں کے ساتھ ہوئی ، کیونکہ کلیسیا اپنے اراکین میں ایسے لوگ بھی رکھتی تھی جو دُنیا کا پیچھا کرتےتھے۔ یہی وجہ ہے کہ خُدا نے کلیسیاکو توبہ کرنے کو کہا ، اور اُس نے کیوں کہا کہ وہ بصورت دیگر جلد آکر اِسےسزا دے گا۔
ہمیں یہاں اِس بات پر دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ خُدا نے یوحنا کے ذریعےآسیہ کی تمام سات کلیسیاؤں کو مشترکہ طور پر جو کہا تھا: " جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ خُدا اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ وہ اپنی کلیسیاؤں اور اپنے خادموں کے ذریعہ مقدسین اورتمام جانوں سے اپنا سچ بولتا ہے۔ خاص طور پر ، خُدا نے پرگمن کی کلیسیا کو بتایا: "جِس کے کان ہوں وہ سُنے کہ رُوح کلِیسیاؤں سے کیا فرماتا ہے ۔ جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ۔ اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔"
مجھے اِس جملے پر زور دینےدیں ، "جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا ۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ واقعتا ًخُداوند کا انتظار کرتے ہیں اُنہیں خُدا کے دشمنوں پر غالب آنا چاہئے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں دُنیا کے پیروکاروں کے خلاف لڑنا چاہئے ، اور اُنہیں دُنیا کے ان محبت کرنے والوں سے خود کو الگ کرنا چاہئے ۔ بلعام کی پیروی کرنے والے وہی ہیں جو جھوٹے نبیوں کی پیروی کرتے ہیں۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ یہ لوگ صرف اپنے گناہ سے بھرے لالچ میں دُنیا کی دولت کی تلاش کرتے ہیں ، یہ انہیں بلعام کے عقیدہ کے پیروکار قرار دیتاہے۔
ہر کلیسیا خُدا کی کلیسیانہیں ہے۔ آج کی کلیسیا کے بہت سارے رہنما یہ مانتے ہیں کہ یسوع خُدا کا بیٹا ہے ، لیکن وہ یہ نہیں مانتے ہیں کہ وہ خُدا ہے۔ بہت سارے ایسے بھی ہیں جو یہ بھی نہیں مانتے کہ یسوع مسیح نے اِس دُنیا کو تخلیق کِیا ہے۔
اِس کے علاوہ ، بہت سارے لوگ کلیسیا میں آتے ہیں تاکہ اُن کو مادی طور پر برکت مل سکے۔ کلیسیاکے بہت سارے رہنما اپنی جماعتوں کو کہتے ہیں کہ اگر وہ کلیسیاکو زیادہ سے زیادہ رقم دیتے ہیں تو وہ برکت پائیں گے۔ ایسی غلط تعلیمات سےگمراہ ہونے کے بعد ، بہت سے ایمانداروں کا حقیقت میں یہ خیال ہے کہ اُنہوں نےکلیسیا کو کتنا ہدیہ دیا ہے، یہ اُن کے ایمان کی عکاس ہے۔ محض ہدیےدینے اور کلیسیا میں باقاعدگی سے شرکت کرنےسے ، ان میں سے بہت سے لوگوں کو وفادار ایمانداروں کی حیثیت سے قبول کرلیا جاتا ہے۔ مزید برآں ، ان میں سے کچھ کو تو صرف کلیسیا میں باقاعدگی سے شرکت اور خدمات سرانجام دینے پر، اور ان کے ہدیہ جات کی بڑے پیمانے پر جانچ پڑتال کے لئے ، کلیسیاکے اندر قیادت کے عہدے جیسے ڈیکن یا ایلڈر کی حیثیت دی جاتی ہے۔ یہ سب بلعام کے طریقے ہیں ، ایسی چیز جس سے ہم سب کو الگ ہوجانا چاہئے۔
ہمیں ضرورایسے عقیدے کے خلاف لڑنا چاہئے۔ اگر آپ واقعی پوشیدہ مَن سے پرورش پانا چاہتے ہیں تو، آپ کو پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ آیاآپ کی کلیسیا ایک ایسی کلیسیا ہے یانہیں جو واقعتا ًخُدا کے کلام کی پیروی کرتی ہے۔ اگر یہ نہیں ہے تو ، پھر آپ کو لڑنا چاہئے اور اِس پر غالب آنا چاہئے۔ صرف ایسا کرنے سے ہی آپ پانی اور رُوح کی سچائی ، خُدا کے سچے کلام سےپرورش پاسکتے ہیں۔
صرف پانی اور رُوح کے کلام ، پوشیدہ مَن سے کھا کر ، آپ نئےسرےسے پیدا ہوسکتے ہیں ، اور صرف نئےسرےسے پیدا ہوکر ہی آپ خُدا کی طرف سے دیئے گئے کلام حق سے پرورش پانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ یہ اِسی طرح ہے کہ نئےسرےسےپیدا ہونے والا اس پر گفتگو کرسکتا ہے کہ خُدا کا کلام کیا ہے ، اِسےسُن کر ، دیکھ کر اور اِس کوجماعت میں بانٹ کر اس سےپرورش پاسکتا ہے۔
اگر آپ خلوص دِل سے خُدا کے ذریعہ اُٹھائےجانے کی خواہش رکھتے ہیں ، اگر آپ حقیقی طور پر
واقعی نئےسرےسےپیداہونا چاہتے ہیں ، تو پھر ایسی کلیسیا میں جانا جاری رکھنا صرف احمقانہ بات ہے جومحض ایک نام کی کلیسیاہے ۔ کسی کلیسیا میں جاکر جو خُدا سے تعلق نہیں رکھتی ہے ، آپ کبھی بھی زندگی کے سچے کلام سےپرورش پانےکےقابل نہیں ہوسکیں گے ، کوئی معنی نہیں رکھتا کہ آپ اس کلیسیا میں کتنے عرصے سے جاچکےہیں—یعنی ایک سو سال ، ایک ہزار سال یا اس سے بھی زیادہ ، کچھ بھی آپ کو اپنی نجات کی طرف صحیح راہ پر نہیں ڈالے گا۔
ایسے لوگ نہ توصرف ایمان سے نئےسرےسےپیدا ہوسکتے ہیں ، بلکہ وہ اِسکی پہلی شرط کو پورا کیے بغیر ہی اپنے اُٹھائےجانے کا انتظار کرکےبے وقوف غلطی کرتےہوئے ختم ہوجاتے ہیں۔ اِس طرح کا عقیدہ محض غلط ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ مسیح کی واپسی کا کتنی بے تابی سے انتظار کرتے ہیں ، چاہے آپ واقعی اپنے دل میں خُداوند سے پیار کریں ، چاہے آپ یسوع کے لئے اپنی جان ترک کرنے پر راضی ہوں ، یہ سب بیکار ہو گا۔ ایسے لوگ خُداوند کو نہیں مل پائیں گے۔ خُدا سے ان کی محبت صرف ایک بلاجواز محبت کے طور پر ختم ہوجائےگی۔
یہ ہے کیوں خُدا نے آسیہ کی سات کلیسیاؤں سے کہا: " جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ
میں سے دُوں گا ۔" خُدا ہمیں یہ نہیں بتاتا ہے کہ ہم بغیر کسی جدوجہد کے اِس کےسچائی کے کلام کو پاسکتے ہیں۔ اگر ہم جھوٹوں کے خلاف جنگ نہیں کرتے اور اُن پر غالب نہیں آتےہیں تو ،ہم کبھی بھی اُس کا مَن ، کلام حیات نہیں کھا سکیں گے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ نے اپنی کلیسیامیں کتنی ایمانداری سے شرکت کی ہوگی۔ اگر آپ سچائی نہیں جانتے ہیں تو ، اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اب تک جو جان چکےہیں وہ سب جھوٹ تھا۔ آپ کو سچائی کی تلاش کرنےکےلئےان جھوٹوں سےلڑنےاور ان پر غالب آناسےان جھوٹوں سے بچناچاہیے۔ایسی کلیسیا کو ڈھونڈنےکےوسیلہ سے جو خُدا کے کلام کی گواہی دیتی ہو اور پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرے صرف تب ہی آپ اس سچائی کا سامنا کریں گےاوررُوح آپ کوزندگی کا مَن کھا نےکےقابل کرے گے۔
ہم کچھ نہیں رکھتے جو ہمیں اپنے دِلوں میں پانی اور رُوح کاسچائی کا کلام قبول کرنے سے روکتاہے۔ پانی اور رُوح کے اس کلام کی منادی کرنےوالوں اور سُننے والوں کے دل ایک ہوجاتے ہیں ، اور رُوح القدس ان کے دلوں میں ایک جیسارہتا ہے۔
خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ وہ غالب آنے والوں کو اپنا پوشیدہ مَن دے گا؛ اِسی طرح ، ہمیں
شیطان کے خلاف اپنی جدوجہد میں غالب آنا چاہئے ، اور جھوٹوں سےلڑنا اور جیتنا چاہئے۔ اگر آپ ابدی زندگی چاہتے ہیں تو ، آپ کو حقیقی معنوں میں نئےسرےسے پیدا ہونا چاہئے؛ اور اگر آپ خُدا کی طرف سے اُٹھایاجانا چاہتے ہیں تو ،آپ کو صحیح ایمان رکھنا چاہئے۔ آپ کو اِس دُنیا کے بہت سے جھوٹوں کے ساتھ ساتھ مسیحی دُنیا میں پائے جانے والے جھوٹوں کے خلاف بھی جدوجہد کرنی اور ان پر غالب آناچاہیے۔
آپ کا عقیدہ دودِلی عقیدہ نہیں ہونا چاہئے ، وہ جو ایک طرف سے دوسری طرف ڈَگمگاتاہے اور وقت کے مطابق جو بھی موجودہ صورتحال ہوتی ہے اپنےآپکواُس میں ڈھال لیتا ہے۔ اگر آپ کی کلیسیاوہ کلیسیانہیں ہے جو خُدا کے کلام کی جیساکہ یہ ہے منادی کرتی ہے ، تو آپ کو ایسی کلیسیامیں شرکت کرنا چھوڑنا دیناچاہئے۔ صرف ان لوگوں کو جن کے دل سچائی سے پیار کرتے ہیں اور سچائی کاپیچھاکرتے ہیں خُدا ان کو اپنے مَن کے کلام ، پانی اور رُوح کے سچائی کے کلام کے وسیلے ملنے کے لئے آئے گا۔
جب مَیں سیمنری میں پڑھتا تھا تو میں بہت اچھا طالب علم تھا۔ میں نے کبھی ایک کلاس بھی نہیں چھوڑی، اور میرے گریڈ بہترین تھے۔ مَیں نے مستقل مزاجی اور ایمانداری سے تعلیم حاصل کی۔ اور پھر بھی بہت ساری چیزیں تھیں جو مجھے معلوم نہیں تھیں۔ چونکہ میں یسوع سے ملنے اور اُس پر ایمان رکھنے سے پہلے اپنے تمام کنبہ کے ساتھ ، ایک بُدھ مَت کا ماننےوالا تھا ، اس وقت خُداوند کے بارے میں میرا علم بہت ہی محدود تھا۔ میری کلام کے بارے میں سمجھ اس سے بھی زیادہ محدود تھی ، اور اِس لئے میں صحائف کے بارے میں جاننے کے لئے بہت بے چین تھا۔ کلام الہٰی کے علم کے پیاسے ، مَیں نے سیمنری میں بہت سے پروفیسروں سے سیکھنے کی کوشش کی ، اُن سے بہت سے سوالات پوچھے اور اُمید کی کہ اُن کے جوابات سے بائبل کےلئے میری پیاس بجھ جائے گی۔
تاہم ،ان میں سے کسی نے بھی، کبھی مجھے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ جب میں اپنے سوالات ان پروفیسروں کے پاس لایا جن کواُنکے بائبل کے علم کی وجہ سے سراھاجاتا تھا ، تو اُنہوں نے میرے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے میرےبائبل کے علم کی وجہ سے تعریف کی۔ سیمنریوں میں ، پروفیسر کلام کی منادی نہیں کرتے ہیں ، بلکہ وہ بائبل پر اپنے ہی "نظریات" پڑھاتے ہیں۔ لیکن اُن کے تمام نظریات ، پرانےعہد نامہ کے الہیات سے لے کر نئے عہد نامہ کے الہیات تک ، نظام الہیات سے لے کر مسیحیت کی تاریخ تک ، کیلونیزم سے آرمینوسیت تک ، کرسٹولوجی سے علم ارواح تک اور تعارفی مطالعات سے لے کر تفصیلی تشریح تک ، انسان کے خیالات کی ہی پیداوار ہیں۔ وہ صرف مذہبی عالموں کےمنتخب کردہ مختلف نظریات پڑھاتے ہیں،جوآپ کےاپنےکالج میں لادینیت کے شعبے میں مختلف نقطہ نظر سیکھنےکےتجربےسےمختلف نہیں ہے۔
میں ایک شخص تھا جو بائبل سے لاعلم تھا۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ میری علمی تربیت کتنی وسیع تھی ، یا کتنے لوگوں نے بائبل کے میرے وسیع علم پر تبصرہ کِیا تھا ، یا یہاں تک کہ مَیں نےبذاتِ خود کیسےاپنے خطبوں کو اِس علم پر مبنی کِیا تھا—جتنا مَیں نے بائبل اور الہیات کا مطالعہ کِیا ، مَیں اپنی راہ کے متعلق اُتنے ہی شکوک و شبہات رکھتاتھا۔ بالآخر مجھے خود سے یہ احساس ہوا کہ مَیں ایک مکمل طور پر لاعلم شخص تھا ، اوریہ کہ مجھےسب دوبارہ شروع سے کھُرچنا پڑےگا۔ اِس لئےمَیں نے ان سوالوں کو اُٹھانا شروع کِیا جو اُس وقت میری کلاس میں عجیب و غریب سوال سمجھے جاتے تھے۔ ان میں سے ایک یہ تھا: "یسوع نے بپتسمہ کیوں لیا؟" مَیں نے اِس سوال کا واضح جواب کبھی نہیں سُنا۔ کوئی بھی مجھے صحیح جواب دینے کے قابل نہیں تھا ، کہ یسوع نے اپنے جسم پرہمارے تمام تر گناہوں کولینےکےلئے یوحنااصطباغی کے ذریعہ دریائے یردن میں بپتسمہ لیاتھا۔
میرے پاس اُن معجزوں کے بارے میں بھی سوالات تھے جو یسوع نے کیے ، جیسے کہ اُن میں سے ایک یسوع نے پانچ ہزار سے زیادہ مردوں کو صرف پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں سے کھلایا۔ تو میں نے پوچھا ، "جب یسوع نے پانچ روٹیوں اور دو مچھلیوں کو برکت دی ، تو کیا وہ سب صرف ایک ہی وقت میں روٹی اور مچھلی کے ڈھیر پرٹوٹ پڑے ، یا جب ہر ایک کو کھانا تقسیم کِیا گیا تو وہ بڑھتا ہی چلاگیا؟" اکثراوقات ، مجھے اِس طرح کے سوالات اُٹھانے پر ڈانٹا اور بدنام کِیا گیا۔
یہ ہے کیسے مجھے احساس ہوا ، " یہ ہےوہ سب جو الہیات میں ہے۔ ہم وہ سیکھ رہے ہیں جوفرانسیسی کیلون نے ادیبانہ نظریے اور تشریحات میں نظام آشنا کِیا۔ ہمیں بائبل کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ "چنانچہ مَیں نے خود کو بہت سے فرقوں کی اشاعتوں کو جمع کرکے اور انکی وسیع تحقیق کرکےانکوبائبل کےساتھ جانچنے میں مشغول کرنا شروع کردیا۔ پھر بھی ، مجھے کچھ حاصل نہیں ہوا۔
وہ سب ایک ہی نتیجے پر پہنچے ، جب لوگ یسوع پرایمان رکھتے ہیں تو ، اُن کے گناہ آہستہ آہستہ ختم ہوجاتے ہیں جیسےہی وہ توبہ کی دُعائیں کرتے ہیں وہ پاک ہوتے جاتے ہیں ، اور یہ کہ اُن کی موت تک وہ بالکل بے خطا ہوجاتے ہیں اور پھر آسمان میں داخل ہوجاتے ہیں۔ فرقہ وارنہ اختلافات سے کوئی فرق نہیں پڑتا — ان سب کا ایک ہی بنیادی نتیجہ یہ تھا کہ مسیحی توبہ کی دعائیں اور رفتہ رفتہ پاکیزگی کی تعلیم کا پیچھاکریں ، جس کا کلام کےساتھ کوئی واسطہ نہیں تھا۔ یہ سارے دعوے اُس سے مرحوم ہیں جوخُدا کا کلام بیان کرچکاہے۔ تو میں خُدا کے حضورجُھکا ، اور اُس کی سچائی کی درخواست اور تلاش کی۔
یہ ہے تب خُدا نے مجھے پانی اور رُوح کی حقیقی خوشخبری سکھائی۔ اِس حقیقت نے مجھے محض حیرت میں ڈال دیا۔ اور جب مجھے معلوم ہوا کہ پانی اور رُوح کی سچائی بائبل کی ۶۶ کتابوں میں پائی جاتی ہے تو میری بند آنکھیں کُھل گئیں اور مجھے بائبل کے الفاظ صاف نظر آنے لگے۔ میں یہ جاننے کے قابل تھا کہ پراناعہد نامہ اور نیا عہد نامہ کس طرح ایک ساتھ ٹھیک ہیں ، اور جب مجھے یہ سچائی مل گئی تو رُوح القدس میرے دل میں آباد ہوگیا۔ اِس سچائی کے کلام کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد ، بہت سارے گناہ جنہوں نے میرے دل کو گھیر لیا تھا اور میں انکے بوجھ تلے دب چُکا تھا ، خُدا کی محبت اور فضل کے ایک حیرت انگیز اور خوبصورت عمل سے، مکمل طور پر غائب ہوگئے۔
جیسے ایک ساکن جھیل میں چھوٹاسا پتھر پھینکنےسے لہریں اُٹھتی ہیں، ایک پُرسکون خوشی اور روشنی میرے دل میں داخل ہو گئی۔ روشنی سے ، میرا مطلب یہ ہے کہ مجھے احساس ہوا کہ کلام کی حقیقت کیا تھی۔ پہچاننے کے اُسی لمحے ، رُوح القدس میرے دل میں داخل ہوا ، اور رُوح القدس کی وجہ سے میں بائبل کےالفاظ کو صاف طور پر دیکھنے لگا۔ اُس وقت سے ، میں ہمیشہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کی منادی کرچُکا ہوں۔
آج تک ، پانی اور رُوح کی خوشخبری نے میرے دل کو پُرسکون رکھا ، مجھے تسلی دی اور مضبوط کِیا ،
اور میرے دل کو ہمیشہ پاک رکھا۔یہ ہے کیسے مَیں نےخُدا کے کلام سے پرورش پائی۔ جب میں کلام پر بسر کرنےلگاتو، اِس کے مطلب کو سمجھنے کے ساتھ ہی مجھے پُرسکون برکتیں ملیں جنہوں نے میرے دل کو معمورکردیا ، اور اِس کے نتیجے میں ، میرا دل ، فضل کے اِس سمندر میں تیرنا شروع ہوگیا۔ جس طرح میرا دل اِس برکت سے معمورہوگیا ، جب آپ اُس کے نئےسرےسےپیدا ہونے والے نجات کے کلام پر ایمان رکھیں گے تو، خُدا کا کلام آپ کو بھی اپنا فضل اوربرکت دے گا۔
جب مَیں نے بائبل کھولی اور کلام میں ٹھہرا ، تو میری ساری پریشانیاں اور بے چین خیالات کی جگہ میرا دل خوشی اور سکون سے بھر گیا۔ جب بھی بائبل کے بارے مَیں سوال کیا جاتا تو میں ہمیشہ اس بات کا جواب دینے کے قابل تھا کہ خُدا کااُسکے کلام میں واقعی کیا مطلب ہے۔ صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جاننے اور اس پر ایمان رکھنے سے ہی کوئی خُدا کے کلام سے پرورش پا سکتا ہے ، اور صرف خُدا کے کلام سے پرورش پانے سے ہی کوئی نئےسرےسےپیدا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ نئےسرےسے پیدا ہونے والے اب اپنےدلوں میں کوئی گناہ نہیں رکھتےہیں، قطع نظر اِس سے کہ کب خُداوند اِس زمین پر لوٹ آئے ، وہ سب اپنے اُٹھائےجانے کے لئےتیار ہیں جب خُداوند آخر کار اُنھیں ہوا میں اُٹھالےگا۔
 
 
وہ ایمان جوہمیں اُٹھائےجانےتک لےجاسکتا ہے
 
پانی اور رُوح کی خوشخبری کو جانتے اور اس پر ایمان رکھتے ہوئے ہم اپنی نجات حاصل کرنے کے بعد اُٹھائےجانے کا انتظار کرتے ہیں۔ اور جب انتظار کرتے ہیں تو ،ہمیں خُدا کے مقرر کردہ اوقات کی واضح تفہیم کے ساتھ انتظار کرنا چاہئے۔ خُدا کے مقرر کردہ ا وقات سات ادوار ہیں ، اور اِن میں شہادت کا دور زرد گھوڑے کا دور ہے۔زرد گھوڑے کا دور خُدا کے مقرر کردہ سات ادوار میں چوتھا ہے۔ دوسری طرف ، ہم جس دور میں اب رہ رہے ہیں ، وہ تیسرا، کالےگھوڑے کا دور ہے۔
جب ہم کسی اونچے پہاڑ پر چڑھتے ہیں تو، ہم نقشے پر بطور رہنماانحصارکرتے ہیں۔ لیکن اِس نقشہ کا استعمال کرکے درست اور محفوظ طور پر اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے، ہمیں پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ یہ کس مقام پر ہے۔ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ نقشہ کو پڑھنے میں کتنے اچھے ہوسکتے ہیں یا نقشہ بذاتِ خود کتنا درست ہے — اگر آپ نہیں جانتے کہ آپ کہاں ہیں تو، نقشہ بیکار ہے۔ صرف اس صورت میں جب آپ اپنے مقام کو جانتے ہیں تو، آپ محفوظ منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔
اِسی طرح ، صرف پانی اور رُوح کی خوشخبری کے وسیلےنئےسرےسے پیدا ہونے سے ہی آپ یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ آپ کااُٹھایاجاناکب ہوگا۔ اُٹھائےجانے کا بائبل کے مطابق صحیح وقت ، عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے وسط نقطہ سے تھوڑا سا آگے ہے —یعنی ،ایذارسانیوں کے پہلے ساڑھے تین سال گزرنے کے تھوڑا بعد۔ یہ ہے کیا خُدا نےیسوع مسیح میں منصوبہ بنایا جب اُس نے پیشتر اِس کائنات کو تخلیق کِیا تھا۔
یسوع مسیح میں خُدا کا نجات کا منصوبہ ، جس کے ساتھ اُس نے اپنے اِکلوتے بیٹے کو اِس زمین پر بھیجا ، اُس نے بپتسمہ لیا اور صلیب پر مارا گیا، اور اُسےمُردوں میں سے زندہ کِیا گیا، صرف یہی منصوبہ نہیں ہے ، بلکہ اُس نےکائنات کے لئےزمانے بھی مقرر کیے ہیں، اِس کی تخلیق سے آخر تک ، اپنے سات ا دوار کے ساتھ۔ یہاں تک کہ ہم اپنے گھر بنانے سے پہلے نقشہ کھینچ لیتے ہیں اور اپنے کاروبار کے لئےآگے کی منصوبہ بندی کرتے ہیں—اِس سے بھی بڑھ کر ،یہان تک کہ ہم اپنے مُنتظمین کو ترتیب دیتے ہیں کہ ہم پورے دن میں کیا کریں گے۔ تب ، کیا خُدا نے کائنات کو ،انسانوں کو ، اور آپ اور مجھ کوبغیر کسی منصوبے کےہی ، یسوع مسیح میں پیدا کِیا ہے؟ یقیناً نہیں! اُس نے ہمیں ایک منصوبہ بندی کے ساتھ پیدا کِیا!
یہ منصوبہ واضح طور پر مُکاشفہ کے کلام میں ظاہر ہوا۔ جب ہم اِس کلام کو کھولتے اور اِس پر ٹھہرتے ہیں تو ، ہم عین مطابق معلوم کرسکتے ہیں کہ خُدا کا کیا منصوبہ ہے۔ یہ کلام سچائی ہے۔ اگرچہ خُدا کا کلام کئی ہزار سال پرانا ہے ، لیکن یہ اب بھی غیر متزلزل اور غیر تبدیل شدہ سچائی ہے ، نہ تواِس میں کچھ بڑھایاگیا ہے اور نہ ہی اِس سے کم کِیا گیا ہے۔ وہ لوگ جو اِس کو نہیں جانتے اور پانی اور رُوح کے ذریعہ نئےسرےسے پیدا نہیں ہوئے ہیں اب بھی خُدا کے کلام کے ذریعہ ہم پر ظاہر ہوئی سچائی سے لاعلم رہتےہیں۔ لیکن جو لوگ کلام پر غورکرتے ہیں وہ بائبل میں ظاہر ہوئی تمام سچائیوں کو ڈھونڈنے اور ان کوسمجھنے کے قابل ہوں گے۔
اِس عبارت جس میں خُدا نے غالب آنے والوں کو اپنے مَن میں سے دینے کا وعدہ کِیا کا مطلب یہ ہے کہ خُدا اپنے کلام پر صرف اُن لوگوں کے لئے روشنی ڈالے گا جو جھوٹ کو سچائی سے پرکھ سکتےہیں اور اُس کے کلام کی سچائی کو جاننے سےجھوٹوں پر غالب آتےہیں۔وہ جو جھوٹوں سے بچ گئے اور سچائی کو پالیا اُن کو چاہئے کہ وہ اِس سچائی کی منادی کرنے سے ان جھوٹوں پر غالب آئیں۔ خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے کہ جو لوگ خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اُن کو وہ اپنے مَن میں سےکھانے کی برکت سے نوازے گا: "جو غالِب آئے مَیں اُسے پوشِیدہ مَنّ میں سے دُوں گا اور ایک سفید پتّھر دُوں گا ۔ اُس پتّھر پرایک نیا نام لِکھا ہُؤا ہو گا جِسے اُس کے پانے والے کے سِوا کوئی نہ جانے گا۔"
یہاں پوشیدہ مَن سےمراد خُدا کاکلام ہے۔ دوسری طرف ، سفید پتھر کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے نام زندگی کی کتاب میں لکھے جائیں گے۔ جب لوگ پانی اور رُوح کی خوشخبری پرجو خُدا نےاُنہیں عطا کی ایمان رکھتے ہیں تو ، اُن کے دِل بدل جاتے ہیں۔ رُوح القدس کے کلام کی معموری والے اُن کےدِلوں کےساتھ ، کلام پر ایمان رکھنے سے اُنھیں احساس ہوتا ہےکہ ، اُن کے دِلوں میں سارے گناہ ختم ہوگئے ہیں۔ پانی اور رُوح کے ذریعہ پاک ہونے کے بعد ، اُن کے نام سفید پتھر پر لکھے گئے ہیں۔
خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ کوئی بھی شخص یہ نیا نام نہیں جانتا سوائے اُس کے جو اُسے پاتاہے۔وہ جو اپنے سارے گناہوں سے معاف ہوچکےہیں اُنہیں یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنے دِلوں میں اب کوئی گناہ باقی نہیں رکھتےہیں ، اوریہ کہ اُن کے نام کتاب ِحیات میں لکھے جاچکے ہیں۔ وہ ،دوسرے الفاظ میں، جانتے ہیں کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری نے اُن کے دلوں کے سارے گناہوں کو دورکردیا ہے۔ صرف وہی جو پانی اور رُوح کے حقیقی کلام کو جاننے سے نئےسرےسےپیدا ہوتےاور اپنی نجات کو حاصل کرتےہیں وہی خُداوند اور سچائی کو جاننےکےقابل ہیں۔ جو نئےسرےسےپیدا نہیں ہوتے ہیں انھیں احساس نہیں ہوتا ہے کہ اُن کا نئےسرےسےپیدا ہونا باقی ہے۔ لیکن نئےسرےسےپیدا ہونے والے لوگ آسانی سے اُن لوگوں کو پہچان سکتے ہیں ، کہ اُنھوں نے ابھی تک خُدا کا مَن نہیں کھایا ہے ، اور اُن کے نام سفید پتھر پر نہیں لکھے گئے ہیں۔
کیا آپ واقعتاًاُٹھایاجانا چاہتے ہیں؟ اگر آپ اُٹھایاجانا چاہتے ہیں تو ، آپ کو مَن کھانے کے لائق ہونا چاہئے۔ مَن کھانے کےلائق ہونےسے ، میرا مطلب ہے کہ آپ کو پانی اور رُوح سےنئےسرےسے پیدا ہونا چاہئے۔ مَن پر پرورش پانے کے لئے، آپ کو اپنے ایمان سے جھوٹوں سے لڑنا اور اُن پر غالب آنا چاہئے۔ جھوٹے اساتذہ گنہگاروں کونجات یافتہ نہیں کرسکتے ، بلکہ محض اُن کی جانوں اور مادی املاک کا استحصال کرتے ہیں۔ ہمیں آج کی مسیحیت کی جھوٹی کلیسیاؤں ، جھوٹے نبیوں ، اور جھوٹے خادمین کے خلاف جنگ کرنی اور اُن پر غالب آنا ہوگا۔
ہمیں بائبل کی بنیادپر ، یہ جاننا چاہئے کہ ،ہوبہوکیسےیسوع نے ہمارے سارے گناہوں کو دور کِیا ، کیوں اُس نے بپتسمہ لیا ، کیوں اُس نے دُنیا کے گناہوں کواُٹھایا ، کیوں وہ صلیب پر مرا ، اور کیوں وہ دوبارہ مُردوں میں سےجی اُٹھا۔ ہمیں عین مطابق جاننا چاہئے کہ کیوں یسوع جسم میں اِس زمین پر آیا تھا اور اِن تمام کاموں کو انجام دیا، اور ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ یسوع کون ہے۔ لیکن جھوٹی کلیسیائیں، اِن سچائیوں کی تعلیم دینے کے بجائے ،کوئی بھی جو اُن میں شریک ہو اُن کو اپنے اختیار سے "ایک مقدس"کہتی ہیں۔ وہ صرف پوچھتے ہیں ، "کیا آپ یسوع پرایمان رکھتے ہیں؟ " اگر جواب یہ ہے کہ ، "ہاں ، ہم ایمان رکھتے ہیں ، " تو یہ جھوٹی کلیسیائیں فورا ًہی اُنہیں مقدسین کہہ کر بلاتی ہیں ، اُنہیں ایک سال کے عرصہ میں بپتسمہ دیتی ہیں ، اور پھر اُن سے ہر قسم کی نذرانے نکلوانا جاری رکھتی ہیں ، شکرگزاری کےچندوں سے لے کر خصوصی چندوں تک وہ اِس چمکدار ، بالکل نئی گرجاگھرکی عمارت کے لئےچندے پیش کرنےکاوعدہ لیتےہیں۔ اِن جیسے گرجا گھر ، صرف پیسوں کی زد میں ہیں اور ایک بڑی ، چمکیلی گرجاگھرکی عمارت بنانے کے لالچ میں ، یہ ساری جھوٹی کلیسیائیں ہیں۔
جب ہم مَن پر پرورش پاتے ہیں تو، ہمیں اِس طرح کے جھوٹے گرجا گھروں اور جھوٹی تعلیمات کو پھیلانے والوں کے خلاف لڑنا چاہئے۔ اگر ہم اپنی لڑائی میں ہار جاتے ہیں تو ،اِس کا مطلب صرف یہ ہوگا کہ ہم اب خُدا کے مقدسین نہیں ہیں ، بلکہ یہ بھی کہ ہم اُس کے ذریعہ اُٹھائے نہیں جائیں گے۔ خُدا کے مقدسین نہ بننا بھی خُدا کے فرزند نہ بننے کے برابرہے؛یہاں تک کہ اگر مسیح کو ۱۰۰ مرتبہ بھی لوٹنا تھا توبھی، ہم کبھی بھی نہیں اُٹھائےجائیں گے۔
متّی ۲۵ باب ہمیں دس دُلہنوں کی تمثیل بتاتا ہے ، اُن میں سے پانچ عقلمند اور پانچ بے وقوف تھیں۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ پانچ دُلہنیں کتنی بیوقوف تھیں جنہوں نے اپنی مشعلیں تولےلیں لیکن تیل نہیں لیا تھا اور دُولہا کی آمد کے اعلان کے بعد ہی اِسے خریدنے نکلیں تھیں۔ ہمیں عقل مند دُلہنیں بننا چاہیے جنہوں نے پہلے ہی تیل تیار رکھاتھا۔ تیل تیار رکھنے کے ایمان سے، میرا مطلب ہے کہ ہمیں یسوع کے سامنے مَن سے پرورش پانے کے لائق بنناچاہیے، جھوٹوں پر غالب آنا چاہیے ، اور پانی اور رُوح کے کلام سے نئےسرےسے پیدا ہونا چاہیے۔
جب ہم کوئی خطبہ سُنتے ہیں تو ،ہمیں خود سے یہ پوچھنا چاہئے کہ پادری خُدا کے کلام کی منادی کررہا ہے یا نہیں۔ ہمیں یہ بھی پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا گرجاگھراپنا پیسہ خرچ کرتا ہے ، جہاں کہ خُدا چاہتا ہے —یعنی،خُداکے کاموں پر ، خود پرنہیں۔ ہمیں دوسرے الفاظ میں ، خدا کا حقیقی گرجاگھرتلاش کرنا چاہئے۔ اُن گرجا گھروں سے اُکتاجائیں جو خُدا کے کلام اور اُس کی تعلیمات کی منادی کرنےکے لئے صرف ہونٹوں کا استعمال کرتے ہیں۔
اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وہ اپنی گفتگو اور توبہ میں کتنے اچھے ہیں ، اُن کے اعمال آپ کو
بتائیں گے کہ وہ واقعتا ًکس کے لئے کھڑے ہیں— چاہےوہ کسی بھی چیز سے زیادہ گرجاگھرکی بڑی عمارتیں بنانے میں دلچسپی رکھتے ہوں؛چاہے وہ غریبوں کی دیکھ بھال کریں یا صرف امیروں کےلئےکھانے کا بندوبست کرتےہوں؛ اور چاہے وہ کسی بھی طرح جانیں بچانے میں کوئی دلچسپی ظاہر کرتےہوں۔ خُدا نے آپ کو آنکھیں اور کان دیئے ہیں تاکہ آپ دیکھ سکیں اور خود فیصلہ کرسکیں۔ اور جب آپ اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ آپ کا گرجاگھر صحیح گرجاگھرنہیں ہے ، تو پھر فوراً اس سے باہر نکلنے میں ہچکچاہٹ نہ کریں ، کیوں کہ ایسے جھوٹےگرجاگھرمیں شریک ہونا جہنم میں جانے کی کوشش کے مترادف ہے۔ آپ اِس طرح اپنی زندگی کوبھی گنوا سکتے ہیں۔
کیا آپ کو احساس ہے کہ پانی اور رُوح کی خوشخبری کتنی اچھی ہے؟ جب آپ جانتے ہیں اور اِس سچائی ، پانی اور رُوح کی خوشخبری کو اپنے دل میں قبول کرتے ہیں تو ، آپ مکمل طورپر ایک نئے انسان بن جاتے ہیں۔ وہ جو پہلے زمین سے تھے اب آسمان سے تعلق رکھتے ہیں ، اور جن کو بدرُوحوں نے سخت عذاب میں ڈالا ہواتھا وہ اب آزاد ہوگئے ہیں۔
بدرُوحیں داخل ہوسکتی ہیں اور اُن کی رُوحوں کو سخت عذاب میں ڈال سکتی ہیں جن کے دِلوں میں گناہ ہے اور اِس طرح وہ اپنے گناہوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ لیکن خُداوند اِس زمین پر آیا اور پانی اور رُوح کی خوشخبری سے ہمارے سارے گناہوں کو مٹا دیا۔ چونکہ اُس نے ہمارے گناہوں کو پوری طرح سے دور کردیا ہے ، اِس لئے بدرُوحیں اب ہماری جانوں کو اذیت نہیں دے سکتیں اور نہ ہی چھین سکتیں ہیں۔ یہ ہے کیوں جب آپ اِس خوشخبری کو جانتے اور اِس پر ایمان رکھتےہیں تو ، بدرُوحیں باہر نکل جاتی ہیں اور آپ کی زندگی بدل جاتی ہے۔
دوسرے لفظوں میں ، وہ لوگ جو دُنیا کے خادم تھے ، اِس غلامی سے آزاد ہو گئے۔ خُدا نے گنہگاروں کو راستبازوں میں بدلنے کا ، حیرت انگیز کام کِیا ہے ، زمین کے اِن لوگوں کو آسمان کے لوگوں میں تبدیل کرنا ، اور ، جب خُداوند واپس آئے گا ، تو وہ ان کو اپنی بادشاہی کےلئےاوپراُٹھالےگا۔
ہماری زمینی زندگی ہمارا خاتمہ نہیں ہے۔ ہمیں اپنی شبیہ پربنانے کے بعد ، خُدا نے ہمیں اِس زمین پر صرف مختصر طور پر رہنے کے لئے نہیں رکھا۔ در حقیقت جسم میں زندگی بہت مختصر ہے۔ جب ہم سکول سے فارغ ہوتے ہیں ، ہم پہلے ہی ۲۰ ویں دہائی تک کےوسط میں پہنچ جاتے ہیں۔ ہم اپنی ۳۰ ویں دہائی تک کو اپنی زندگیوں کے لئے ایک بنیاد قائم کرنے کے لئے گزار دیتے ہیں، اور جب تک یہ بنیاد ہمارے تعمیر کرنے کے لئے تیار ہوجاتی ہے ، ہم پہلے ہی اپنی ۴۰ یا ۵۰ ویں دہائی تک میں ہیں۔ جب ہم آخر کار اِس مرحلے پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ہم اپنے آپ میں سوچتے ہیں کہ اب ہم تھوڑا سا آرام کرسکتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں تو ، ہماری پوری زندگی گزر چکی ہوتی ہے ، اور ہم اِس کےخاتمےکاسامناکر رہے ہیں۔ جیسے صبح پھول کھلتے ہیں اور دوپہر کے وقت تک مرجھا جاتے ہیں ، جب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آخر کار ہم نے زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، تو ہم احساس کرتےہیں کہ ہمارا وقت گزر چکا ہے ، اور ہم صرف اِس کے جلد ہی خاتمےکودیکھتےہیں۔
یہ ہے کیسےزندگی اتنی مختصر ہے۔ لیکن اِس سے بھی بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ایسے بھی ہیں جنھیں زندگی کے اِس اِختصار کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔ پھر بھی جسمانی طور پر ہماری زندگیوں کا خاتمہ ہمارا خاتمہ نہیں ہے ، کیوں کہ یہ محض ہماری رُوحوں کی رُوحانی زندگیوں کا آغاز ہے۔ کیوں؟ کیونکہ خُدا ، گویا وہ ہماری زمین کی مختصرزندگیوں کا معاوضہ دے رہا ہے ، اُس نے ہمارے لئے نہ صرف ہزار سالہ بادشاہی بلکہ نیاآسمان اور زمین بھی تیار کی ہے ، جہاں ہمیں ہمیشہ کے لئے رہنا ہے۔ یہ خُدا کی ابدی زندگی کی برکت ہے جو اُس نے صرف اُن لوگوں کو عطا کی ہے جو اُس کے پانی اور رُوح کے کلام پر ایمان رکھ کرنئےسرےسےپیدا ہوئے ہیں۔
صرف اُس صورت میں جب آپ پوشیدہ مَن کھاتے ہیں اور آپ کا نام سفید پتھر پر لکھا گیاہے تو آپ کااُٹھایاجانا ہوسکتا ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ صرف وہی لوگ جو اُس کے مَن سےپرورش پاتے ہیں وہ عظیم ایذارسانیوں کے دوران شیطان پر غالب آسکیں گے ، اور صرف اُن لوگوں کے نام سفید پتھرپرلکھے جائیں گے جو اُس پر غالب آئے ہیں۔ وہ جو پر غالب نہیں آتےہیں ، اِس لئے،اُنھیں اُٹھائےجانے کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہئے ، اور نہ ہی وہ نئےسرےسے پیدا ہونے کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔
بیش قیمت اور گراں بہا چیز کے حصول کے لئے عظیم قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایک اچھی مثال سونا ہے؛ سونے کو ڈھونڈنے اور نکالنے میں بہت زیادہ محنت ، وقت، اور خدشہ لاحق ہوتا ہے۔ سونے کی کانوں میں بہت سے لوگوں کی موت ہوچکی ہے اِس سے پہلے کہ انھیں خام سونےکاایک ڈلا بھی ملتا۔ زرخیزمٹی سےسونا نکالنا بھی بہت ساری مشقتیں لیتا ہے۔ سارا دن مٹی کےٹرک بھرنےسے صرف ایک قلیل مقدار میں سونا حاصل ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ، یہ ہر کسی دریا میں نہیں پایاجاتا ، بلکہ آپ کو پہلے ایسے دریا کوتلاش کرنا پڑتاہےجس میں زرخیز سونا ہو۔ دوسرے لفظوں میں ، سونے کی تلاش کے لئےانتھک محنت، کبھی کبھی تو آپ کی زندگی بھی درکار ہوتی ہے۔ پھر ، لوگ سونے کی تلاش کے لئےاتنی سخت کوشش کیوں کرتے ہیں؟ وہ ایسا کرتے ہیں کیوں کہ ان کے خیال میں سونا اتنا قیمتی ہے ، جس کے لئے وہ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتےہیں۔
تاہم،جو کچھ سونےاور چاندی سے کہیں زیادہ بیش قیمتی اور گراں بہا ہے ،وہ یہ حقیقت ہے کہ ہم خُدا کے فرزند بن سکتے ہیں۔ سونا آپ کے جسم کے لئےآپ کو عارضی خوشی دے گا ، لیکن خُدا کے فرزند بننے سے آپ کو کبھی نہ ختم ہونے والی ، ہمیشہ کی خوشی ملتی ہے۔ آخری زمانوں میں اُٹھائےجانے کے لئے، ہزار سالہ بادشاہی، نئےآسمان اور زمین کی دولت ، خوشحالی ، اور وقار سے لطف اندوز ہونے، اور ابدیت کی ایسی زندگی بسر کرنے کے لئے، آپ کو اب اِس زمین کے تمام جھوٹوں سے لڑنا ہوگا ، پانی اور رُوح کی خوشخبری پرایمان رکھناہوگا ، اور اپنے ایمان کا دفاع کرنااور اپنی فتح کو محفوظ بناناہوگا۔
اِس دُنیا میں بہت سارے جھوٹے ہیں جو ہمیشہ ہمارے دِلوں کو چھیننے کے مواقع تلاش کرتے رہتے ہیں ، اور ہمارے ایمان کو مات دینے کی کوشش کر تے ہیں۔ وہ لوگ جو پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان رکھتے ہیں اور اپنے دِلوں میں سچائی رکھتے ہیں وہ جانتےہیں کہ اُن کا ایمان کتنا بیش قیمتی ہے۔ اور چونکہ وہ اِس ایمان کے انمول پَن کو جانتے ہیں ، لہذا وہ ان تمام جھوٹی تعلیمات کے خلاف لڑتے ہیں جو اُن سے اِس ایمان کو چھیننے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر ہم سمجھ لیں کہ کتنے لوگ اِس ایمان کے لئے ترس رہے ہیں اور پھر بھی اِس کو حاصل نہیں کرسکتے ہیں ، اور اگر ہمیں یہ احساس ہو کہ صرف یہ ایمان ہی ہمیں برّے کی شادی کےضیافت میں خیرمقدم کیےجانے کالباس پہناتاہے اور ہمیں اپنی ابدی زندگی کی برکت عطا کرتاہے، ہمیں اِسے مکمل طور پر اپنا بنانا چاہئے اور کسی کو بھی اِس ایمان کوہم سے دور لےجانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ یہ اُس قِسم کا ایمان ہے جو لڑتا اورغالب آتاہے۔
مَیں مُکاشفہ کےکلام کے مناسب علم اور تفہیم کی تشہیر کرنے کی ضرورت کا قائل تھا —یقینی بنانےکےلئے کہ آپ پانی اور رُوح کی قیمتی خوشخبری کا دفاع کرنے کے قابل ہوں—کیوں کہ مَیں جانتا تھا کہ بہت سے جھوٹے اساتذہ مُکاشفہ کے کلام کو نہ صرف لوگوں کو بلکہ مقدسین کو بھی دھوکہ دینے اور اُلجھانےکےلئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ ہے کیوں مَیں اپنے خطبوں اور کتابوں کے ذریعہ مُکاشفہ کے کلام کی منادی کر رہا ہوں ، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ آپ آخری زمانوں میں صحیح علم اور عقیدےکے ساتھ اپنی ایمان کی زندگی گزار سکیں۔
مُکاشفہ کی کتاب انتہائی اہم چیز پیش کرتی ہے۔ لیکن مُکاشفہ کاکلام اُن لوگوں کے لئے کچھ بھی ظاہر نہیں کرتا ہے جو خُدا کا پوشیدہ مَن نہیں کھا سکتے ہیں اور جن کے دِلوں میں رُوح القدس نہیں ہے۔ آخری زمانوں کی نشانیوں سے لے کر اُٹھائےجانے تک ، ہرمسیحی کی اُمید، نئے آسمان اور زمین تک ، مُکاشفہ کے کلام میں ایک غیر معمولی منصوبہ قلمبند کِیاگیا ہے۔ لیکن خُدا کی حکمت کی وجہ سے جو ہرکسی پر اپنےبھید ظاہر نہیں کرتا ، مُکاشفہ ایک مشکل متن بنا ہوا ہے جسے ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوئی نہیں سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے خُدا کے مَن سےپرورش پائی ہے اور جن کے نام پانی اور رُوح کے وسیلےنئےسرےسے پیدا ہونےسے اور جھوٹوں پر غالب آنے کے وسیلےسے سفید پتھر پر لکھے گئے ہیں، مُکاشفہ کےکلام کو سمجھ سکتے ہیں۔
یہ ہے کیوں ، ان کی لاعلمی میں ، وہ لوگ جو نئےسرےسے پیدا نہیں ہوئے ، ایذارسانیوں سے پہلےاُٹھائےجانےیا ایذارسانیوں سے بعداُٹھائےجانےکی بات کرتے ہیں ، اور اب ہمارے یہاں بھی کچھ لوگ موجود ہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہزارسالہ بادشاہی صرف علامتی ہے۔ خُدا کا کلام سچائی ہے ، اور یہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اُٹھایاجانا عظیم ایذارسانیوں کے بغیر نہیں ہوگا۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ اُٹھایاجاناعظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کے وسط نقطہ گزرنےسے تھوڑا سا آگےواقع ہوگا —مقدسین کی شہادت کے بعد،اور بیک وقت اُن کے جی اُٹھنےکے ساتھ۔
معمول کی روزمرہ کی زندگی گزارتےہوئےاُٹھائےجانےکاواقع ہونا — پائلٹ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور مائیں دُنیا بھر سے کھانے کی میزوں سے غائب ہو جاتی ہیں — مجھے یہ بتانے پر افسوس ہے کہ، ایسا بالکل نہیں ہوگا۔ بلکہ ، اُٹھایاجانا اُس وقت ہوگا جب دُنیا پر بڑی آفات نازل ہوں گی ، زلزلے اِسکو اجاڑ دیں گے ، ستارے آسمان سے گِریں گے، اور زمین ٹکڑوں میں تقسیم ہوجائےگی۔ دوسرے الفاظ میں ، اُٹھایاجانا ، پُرامن دن میں دن کی وسیع روشنی میں نہیں ہوگا۔
ستارے ابھی تک نہیں گِرے ہیں ، دُنیا کا ایک تہائی حصہ جل جانا باقی ہے ، اور سمندر بھی ابھی خون میں تبدیل نہیں ہوا ہے۔ اِس سے میرا کیا مطلب ہے؟ میرا مطلب ہے کہ اُٹھائےجانے کا ابھی وقت نہیں ہے۔ خُدا ہمیں بتاتا ہے کہ وہ ہمیں یہ نشانیاں دے گا کہ اُٹھائےجانے کے آنے سے پہلے ہم سبھی پہچان سکیں۔ یہ نشانیاں تباہیاں ہیں جو اِس دُنیا کوگھیرلیں گی— ایک تہائی سمندر اور دریا خون میں بدل جاتے ہیں ، ایک تہائی جنگلات جل جاتے ہیں ، گِرتے ہوئے ستارے ، آلودہ پانی، وغیرہ۔
جب دُنیا اِس طرح عظیم آفات میں گھری ہوئی ہوگی ، تو مخالفِ مسیح حکم دینے کے لئےاُبھرےگا۔ پہلے ایک قابل ِذکر عالمی رہنما کے طور پر اُبھرتے ہوئے ، وہ بالآخر ایک ظالم حکمران میں بدل جائے گا جو اپنی پوری طاقت سے دُنیا پر راج کرے گا۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ یہ اُس وقت ہے ، جب مخالفِ مسیح کی پوری دُنیا پر ظالم حکومت قائم ہوگی، خُداوند اپنے مقدسین کو لینے کے لئے زمین پر لوٹ آئے گا۔ اُٹھایاجانا اس وقت نہیں ہوگا جب عظیم قدرتی آفات ہونے کو ابھی باقی ہیں اور مخالفِ مسیح کا
اُبھرنا باقی ہے۔
یہ غلط ہے ، دوسرے الفاظ میں ، کسی کے لئے بھی اپنا کام چھوڑنا ، سکول جانا چھوڑدینا ، اوراپنی زندگیوں میں اردگرد کے کاموں کو مکمل طور پر روک دینا،یہ سوچتے ہوئے کہ وہ اُٹھائےجانےوالے ہیں ، جب حقیقت میں وہ نشانیاں جنکا خُدا نے ہم سے وعدہ کِیا ہے ، ابھی تک عملی جامہ نہیں پہناہے۔ آپ کو اِس طرح سے گمراہ نہیں ہونا چاہئے ، کیونکہ یہ شیطان کے جھوٹوں کے جال میں پھنسنا ہے۔
ہمیں ان سب کے خلاف لڑنا چاہئے اور ان پر غالب آنا چاہئے کہ اس طرح کی جھوٹی تعلیمات ہمیں پھنسانے کے لئے قائم کی گئی ہیں۔ پانی اور رُوح کی خوشخبری پر ایمان ہی جھوٹی تعلیمات پر فتح پانے والا واحد ایمان ہے۔ صرف وہی لوگ جو یسوع کے بپتسمہ پرایمان رکھتے ہیں جس نے اُن کے تمام گناہوں کو اُٹھا لیا ہے ، اِن گناہوں کی زنجیروں سے پوری طرح آزاد ہو گئے ہیں۔ چونکہ یسوع نے اپنے بپتسمہ کے ساتھ ہمارے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا ، اور چونکہ اُس نے ہمیں اپنے خون کے ساتھ خرید لیاجس نے ہمارے گناہوں کو پاک کردیا ہے ، لہذا ہم ان سب کاموں پر ایمان رکھ کر اُس کی کامل نجات پا چکے ہیں جو خُداوند نے ہمارے لئے کیے ہیں—صرف ایمان اور ایمان کے وسیلےسے۔ جو لوگ اِس کلام پر ایمان رکھتے ہیں وہ اب خُدا کے فرزند بن گئے ہیں ، اور وہ اُن تمام منصوبوں پر فتح پائیں گے جو خُدا نے اُن کے لئے مقررکیےہیں۔
دوسری طرف ، صرف ایک ہی چیز ان جھوٹوں کی منتظر ہے جو یسوع پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور پھر بھی اپنے دلوں میں گناہ رکھتے ہیں ، اور جو خُداوند کی خدمت میں صرف اپنے ہی لالچ کی تلاش میں ہیں ، وہ سزا ہے جسکا وہ شیطان کے ساتھ مل کر سامنا کریں گے۔یہ ہے کیوں پانی اور رُوح کی خوشخبری اتنی قیمتی ہے۔ صرف وہی لوگ جو اِس کو جانتے ہیں اور جو سچی اور جھوٹی خوشخبریوں کے درمیان پہچان کرسکتے ہیں وہ خُدا کا پوشیدہ مَن کھا سکتے ہیں ، آخر میں تمام جھوٹوں پر غالب آسکتے ہیں اور ہزارسالہ بادشاہی اور نئےاور زمین میں داخل ہو سکتے ہیں۔ کلام پڑھیں اور خود ہی دیکھیں کہ اصل سچائی کیا ہے جو آپ کو بچا سکتی ہے ، آپ کو اُمید فراہم کرسکتی ہے ، اور آپ کو ابدی زندگی بخش سکتی ہے۔ اِس کا ادراک کریں ، اور اِس پر یقین کریں۔ یہ فتح کا ایمان ہے۔
فتح ہماری رُوحانی جنگ میں ہمارے لئے بے حد اہم ہے کیونکہ اِس جنگ سے ہارنےکا مطلب محض ایک معمولی نقصان نہیں ہے ، بلکہ اِس کا مطلب جہنم کاپابند ہوناہے۔ دوسری لڑائیوں میں ہم کسی نقصان سے بحال ہو سکتے ہیں ، لیکن اِس ایمان کی جنگ میں بحالی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لہذا آپ کو سچائی کیا ہے اور آپ کے اپنے خیالات کیا ہیں ، آپ کے جسم کی ہوس ،اورجھوٹے اساتذہ کے جھوٹوں کی پہچان کے قابل ہونا چاہئے ، اور آپ کو کلام کی روشنی کے ساتھ اس کے زمانوں کے بارے میں صحیح علم کو سمجھنے کے لئے اپنے ایمان کوآخر تک تیار کرنا چاہیے۔
خُدا نے سات نرسنگوں اور سات پیالوں کی آفتوں کو تیار کِیا ہے ، اور اُس نے ہم پر عظیم ایذارسانیوں کی اجازت دی ہے۔ جب دُنیا غیرمعمولی قدرتی آفات کی لپیٹ میں آجائے گی— زبردست آگ بربادی پیداکرے گی ، ستارے گِریں گے ، سمندر ، دریا ، اور چشمے خون میں بدل جائیں گے — تو مخالفِ مسیح کا ظہورہو گا ، اور آپ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ عظیم ایذارسانیوں کے سات سالہ دور کی شروعات کے اشارےہیں۔ مقدسین کی شہادت ، جی اُٹھنا اور اُٹھایاجانا سات نرسنگوں کی آفتوں کے اختتام پر ہوگا ، جب آخری نرسنگا پھونکا جائےگا ، لیکن اِس سے پہلے کہ سات پیالوں کی آفتیں جاری ہوں۔
جب خُدا کی چوتھی مُہر ختم ہوجائے گی ، مخالفِ مسیح مقدسین سےایمان سے پھِرجانےکا مطالبہ کرے گا۔ اُس وقت ، جن کے نام کتاب حیات میں لکھے گئے ہیں—یعنی ،نئےسرےسےپیدا ہونے والے مقدسین جنہوں نے مَن کھایا ہے اور جن کے نام سفید پتھر پر لکھے گئےہیں— بہادری سے شہید ہوجائیں گے۔ یہ آخری اور عظیم ترین ایمان ہے جو ساراجلال خُداوند کو دیتا ہے۔ یہ اُن لوگوں کا دلیرانہ ایمان ہے جو پانی اور رُوح کی خوشخبری کے مطابق ایمان رکھتےہیں اور زندگی گزارتے ہیں۔ مختصر طور پر ، یہ، وہ ایمان ہے جس کی مدد سے ہم اپنی رُوحانی جنگ میں فاتح بن سکتے ہیں۔
ہمیں ہر قیمت پر اپنے مخالفوں پر غالب آنا چاہئے۔ نئےسرےسے پیدا ہونے کے بعد ، ہمیں جھوٹوں کے خلاف لڑنا اور اُن پر غالب آنا جاری رکھنا چاہئے۔ ایسا کرنے کے لئے، ہمیں لازمی طور پر ایسی زندگی گزارنی چاہئے جو خُدا کے مَن سےپرورش پاتی ہے اور اپنے خُداوند کے کلام کی منادی آخری دم تک کرتی ہے۔ غالب آنے والوں کے لئے ، خُدا نے اپنے جلال اور برکتوں کو دینے کاوعدہ کِیا ہے۔ وہ ایمان جو خُدا کے ذریعہ ہوا میں اُٹھائےجانے کا مستحق ہے ، مقدسین کے لئے سب سے بڑی اُمید ، اور ہزار سال کی بادشاہی اور نئےآسمان اور زمین کے لئے راسخ عقیدہ — اِن سب چیزوں کی اجازت صرف اُن لوگوں کو ہوگی جنہوں نے خُدا کے کلام پر ایمان کے ساتھ سارے جھوٹوں پر غالب آ کر خُدا کا پوشیدہ مَن حاصل کِیا
ہے۔
جو لوگ جانتے ہیں واقعی کیاقیمتی ہے وہ اِسے حاصل کرنے کے لئے سب کچھ بیچ دیتے ہیں اور اِسے برقرار رکھنے کے لئے بڑی قربانیوں کا سامناکرتے ہیں۔ کیونکہ اِس طرح کی قربانیاں ہمارے لئے درد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک بڑی خوشی کی حیثیت سے آئیں گی ، اور کیونکہ یہ واقعی انمول خزانہ ہے جو ہمیں آخر میں سب کچھ دے گا ،ہمارے لئے ہر ممکن ہےکہ ہم اِسکا دفاع کرنے کے لئے ہر چیز قربان کردیں۔
میری اُمید اور دُعا ہے کہ آپ ہزارسالہ بادشاہی اور نئےآسمان اور زمین کی اُمید کرتے رہیں گے ، اِس اُمید کے ساتھ تمام مخالفوں پر غالب آئیں گے ، اور آخر میں بڑی خوشی اور مسرت کےساتھ فاتح بن کر اُبھریں گے۔